Thursday, July 9, 2015

Jul2015: Impossible possible

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ناممکن‘ ممکن!
مقام شکر اور خوش آئند تو ہے کہ ۔۔۔’خیبرپختونخوا میں دہشت گرد واقعات میں ’غیرمعمولی کمی‘ تو آئی ہے لیکن کیا شمال مغربی سرحدی صوبے کے رہنے والے سکھ کی نیند اور بے فکری کی معاشرت کر رہے ہیں؟‘ اگر ہم محکمۂ پولیس کے اعدادوشمار پر بھروسہ کریں تو رواں برس کے پہلے چھ کا موازنہ سال 2014ء کے ابتدائی چھ ماہ سے کیا گیا ہے اور اس میں بہتری واضح آثار دکھائی دے رہیں ہیں۔ محکمۂ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے مرتب کردہ نتائج کے مطابق ’’ماہ جنوری سے جون کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے کل 131 واقعات پیش آئے جن میں کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے اور اِن میں 23 پولیس اہلکار شامل تھے۔‘‘ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ’’دہشت گرد واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں 70فیصد کمی آئی ہے۔‘‘ رواں برس تیس جون تک دہشت گردی کے واقعات میں 156 لوگ زخمی ہوئے جبکہ سال گذشتہ میں 590 اور اس سے قبل 2013 میں 1077 افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ کمی تناسب کے لحاظ سے 74فیصد بنتی ہے۔ غیرقانونی طورپر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف کاروائیوں میں بھی پولیس کو خاطرخواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اور مذکورہ چھ ماہ کے دوران 10 ہزار 175 افغان باشندوں کو قانونی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے۔ اسی طرح 2 ہزار 648 ایسے پاکستانی باشندوں کو بھی حراست میں لیا گیا جنہوں نے افغان مہاجرین کی شناختی دستاویزات کی تصدیق کی تھی جو بعدازاں قومی شناختی کارڈز حاصل کرنے کے استعمال کی گئی۔

خیبرپختونخوا میں پولیس کو ’غیرسیاسی‘ کرنے کے اقدامات نمائشی ہی نہیں بلکہ اِن میں صداقت بھی ہے اور یہی سبب ہے کہ کچھ شعبوں میں مثبت نتائج دیکھے جا سکتے ہیں‘ لیکن کیا اسی پر اکتفا کر لیا جائے؟ کیا بہتری کی گنجائش موجود نہیں؟ کیا ایسے اہلکار اب بھی انتظامی عہدوں پر فائز نہیں جن کے نام ماضی میں مالی بدعنوانیوں حتی کہ پولیس کے لئے سازوسامان اور اسلحہ جیسی خریداری میں ہوئی خردبرد سے جڑے دکھائی دیئے!؟ اگر دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے ہیں تو اس کی بڑی وجہ پشاور سے متصل قبائلی علاقہ جات میں ہوئی پے در پے فوجی کاروائیاں ہیں‘ جس کے لئے پاک فوج کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں اور پشاور میں اُن کی ایک یادگار قائم ہونی چاہئے کیونکہ اگر فوج نہ ہوتی تو عسکریت پسندوں کی طاقت کے مراکز تباہ اور اُن کی طاقت یوں منتشر نہ ہوتی۔ اب کوئی خود کو فخریہ طور پر عسکریت پسند اور دہشت گرد نہیں کہہ سکتا جبکہ ایک وقت تھا کہ پشاور کی گلی کوچوں اور منبر سے عسکریت پسندوں کی حمایت میں تقاریر کی جاتی تھیں۔ خیبرپختونخوا پولیس کو دہشت گرد واقعات میں کمی کا سہرا اپنے سر نہیں سجانا چاہئے کیونکہ اب بھی پولیس ایسے علاقوں میں جانے سے کتراتی ہے‘ جہاں کے روائتی و غیرروائتی راستے قریبی قبائلی علاقوں سے جا ملتے ہیں! دہشت گردی کے واقعات میں کمی کا ذکر کرنے والے مسرور ایک اعلیٰ انتظامی عہدے پر فائز پولیس اہلکار سے جب اس بارے رائے پوچھی گئی کہ ’’چونکہ عسکریت پسندوں کے پاس وقت کی کمی نہیں ہوتی۔ وہ سہ ماہی‘ شش ماہی اور سالانہ رپورٹیں بھی مرتب نہیں کرتے اور نہ ہی اعدادوشمار کی بنیادپر کاروائیوں پر فیصلہ کرتے ہیں تو کہیں ایسا تو نہیں کہ موجودہ وقفہ میں کسی زیادہ بڑے حملے کی منصوبہ بندی جاری ہو؟ خیبرپختونخوا کے پولیس سربراہ ناصر درانی آن دی ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ ’جرائم میں 55 فیصد کمی آئی ہے۔‘ تو کیا اِس بیان کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ عسکریت پسندوں کی تعداد میں بھی اتنی یا کم از کم پچاس فیصد کمی آئی ہے؟‘‘ جواب صرف خاموشی ملا۔

توجہ طلب ہے کہ دہشت گرد جن اکا دکا اہداف کو آج بھی نشانہ بنا رہے ہیں وہ معمولی عسکری تربیت کاروں کا کام نہیں۔ ماضی کی طرح آج بھی دہشت گردی یا منظم جرائم پیشہ گروہوں کا نشانہ ببنے والوں کے بارے میں معلومات جمع کی جاتی ہیں جو موبائل فون نمبر‘ لینڈ لائن فون نمبر‘ بینک اکاونٹس‘ زیراستعمال گاڑیوں کی رجسٹریشن سے حاصل کردہ کوائف یا زیرتعلیم اہل خانہ کے علاؤہ روزمرہ معلومات کی بنیاد پر جمع کی جاتی ہیں۔ کمپیوٹرائزیشن کی خوشی میں سرکاری محکموں میں دھرا دھر ڈیجیٹل ڈیٹابیسیز بنائی جانے لگی ہیں لیکن اِس نجی ڈیٹا (امور معلومہ) کی حفاظت کرنے کا خاطرخواہ انتظام یا اس بارے حکمت عملی مرتب نہیں کی گئی۔ صرف ایک موبائل فون ہی کی مدد سے کسی صارف کے چوبیس گھنٹوں میں ہر ایک منٹ کی نقل و حرکت اور رابطوں کا ریکارڈ حاصل کرنا بالکل اسی طرح بظاہر ناممکن لیکن ممکن ہے جس طرح ’ڈی این اے‘ تجزئیات کے لئے ارسال کئے جانے والے نمونوں کے نتائج میں ردوبدل کا امکان ہوتا ہے۔

آخر کیوں خیبرپختونخوا کی اپنی ڈی این اے (Deoxyribo Nucleic Acid) لیبارٹری کا قیام تعطل کا شکار ہے؟ اور جب اِس سلسلے میں متعلقہ فیصلہ سازوں سے بات کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ جب تک ’مالیکیولر بائیولوجسٹ‘ کے عہدے پر کسی تجربہ کار شخص کو بھرتی نہیں کیا جاتا اُس وقت تک ‘ڈی این اے‘ لیبارٹری کا قیام ممکن نہیں! یہ بات تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے علم میں بھی لائی جا چکی ہے تو کیا یہ امر باعث تشویش نہیں ہونا چاہئے کہ طب کے ایک تدریسی حکومتی کالج میں امریکہ سے جدید ترین آلات خرید کر نصب کئے جا چکے ہیں۔ عمارت اور دیگر انفراسٹکچر کی ضروریات بھی پوری کر دی گئی ہیں لیکن ستمبر 2014ء سے صرف اور صرف ’مولیکیولر بائیولوجسٹ‘ کی عدم موجودگی کے سبب ’ڈی این اے لیب‘ فعال نہیں ہوسکی ہے! 4 کروڑ پچاس لاکھ (45ملین) روپے کے آلات کی خریداری کے بعد اُس کا ضمانتی عرصہ (وارنٹی پیریڈ) بھی آلات کے بناء استعمال ہی گزر چکا ہے۔ یاد رہے کہ سال 2013ء میں حکومت نے ’ڈی این اے‘ لیبارٹری کے قیام کی منظوری اور مالی وسائل فراہم کئے تھے‘ مالی وسائل تو پوری توجہ و انہماک سے خرچ کر دیئے گئے لیکن ’ڈی این اے لیب‘ فعال نہیں ہو سکی کیونکہ اس میں فیصلہ سازوں کو ذاتی طور پر کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا اور بلاوجہ تو نیکی بھی نہیں کی جاتی!

جنگ چاہے جرائم پیشہ منظم و غیرمنظم گروہوں کے خلاف ہو یا تخریبی ذہنیت رکھنے والوں سے معاملہ ہو‘ یقینی کامیابی کے لئے نہ صرف ہمیں صارفین کی نجی معلومات پر مبنی ڈیٹا کی کماحقہ حفاظت کرنا ہوگی بلکہ ’ڈی این اے‘ تجزیہ گاہ کو بھی جلد اَز جلد فعال کرنا ہوگا‘ جس کی مدد سے سماج دشمنوں کے مراکز تک رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اِداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سنگین جرائم کے رونما ہونے سے قبل اُن کی ’روک تھام‘ اُور ایسے منظم گروہوں کے خلاف بھی کاروائی کریں جو ماضی کی طرح آج بھی سہولت کار کا کردار اَدا کر رہے ہیں۔

Wednesday, July 8, 2015

Jul2015: Misconceptions about Right to Information

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
تاریکیاں!
چھ جولائی کو اُن ’توقعات‘ کے بارے عرض کیا گیا کہ کس طرح دنیا کا بہترین قانون بنا لینا کافی نہیں بلکہ ’معلومات تک رسائی‘ پر آمادگی کے ساتھ اِس پر کماحقہ عمل درآمد ضروری ہے اُور کوئی ایک بھی حکومتی ادارہ‘ شخصیات یا سرکاری اہلکار قانون سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہئے۔ علاؤہ ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین و ایوان کی کارکردگی سے متعلق بھی اگر کوئی بھی عام یا خاص کچھ بھی جاننا چاہے تو اُسے اِس بات کا حق ہونا چاہئے۔ اگلے روز یعنی سات جولائی کو ’اپنا گریباں چاک‘ کے زیرعنواں اُن چند تکنیکی نہیں بلکہ مصلحتوں بھرے روئیوں اور رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا جو وفاقی حکومت کی سطح پر ’معلومات تک رسائی‘ سے متعلق قانون سازی کی راہ میں حائل ہیں۔ یہ ایک نازک مرحلۂ فکر ہے جو قانون سازی سے اطلاق تک کے مراحل میں نہ صرف سنجیدہ توجہ چاہتا ہے بلکہ اِس میں ’شفافیت‘ کے عنصر کو غالب و ترجیح (قبلہ) بنانا بھی ضروری ہے۔

توجہ کیجئے کہ خیبرپختونخوا میں ’معلومات تک رسائی‘ کے عمل کی نگرانی کے لئے قائم ہونے والے نئے سرکاری محکمے میں گریڈ گیارہ سے سترہ تک کی بھرتیاں رواں برس ماہ مارچ میں مشتہر کی گئیں جس کے لئے درخواستوں کی وصولی کی حتمی تاریخ سولہ مارچ مقرر کی گئی تھی۔ اِس اشتہار کے بعد کمیشن کو حسب توقع سینکڑوں کی تعداد میں درخواستیں بذریعہ ڈاک و دیگر ذرائع سے موصول ہوئیں۔ درخواستوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ انہیں اہلیت کی بنیاد پر ترتیب دینے میں مزید چند ماہ کا وقت لگ گیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ بھرتیوں میں شفافیت کے لئے صوبائی حکومت کے ادارے ’ایجوکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ایولوایشن ایجنسی (ایٹا)‘ کی وساطت سے ایک تحریری امتحان لیا جائے جس کی بنیاد پر بھرتیاں کی جائیں۔

یہ ایک درست فیصلہ تھا لیکن ہوا یہ کہ جب ’ایٹا‘ کو تحریری امتحان کے انعقاد کی ذمہ داری سونپی گئی تو اُنہوں ٹیسٹ کے لئے 14جون کی تاریخ مقرر کی اور جنہیں ٹیسٹ کے لئے مدعو کیا گیا اُنہیں بذریعہ موبائل فون ’ایس ایم ایس‘ پیغامات 12جون کو مطلع کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ محض دو دن کا یہ وقت کافی نہیں تھا اور بہت سے اُمیدواروں کو ’ایس ایم ایس‘ پیغامات اِس لئے نہیں مل سکے کہ اُن کے فون آف تھے یا کوئی دیگر تکنیکی مسئلہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جن اُمیدواروں کو انٹرویو کے لئے طلب کیا گیا اُن میں سے صرف 45فیصد ہی امتحان دینے کے لئے وقت مقررہ پر حاضر ہو سکے۔ یہ عجیب منطق تھی کہ جس تحریری امتحان کے لئے اُمیدواروں کو ہنگامی بنیادوں پر طلب کیا گیا اُن کی اکثریت کا تعلق دور دراز علاقوں سے تھا اور اگر پشاور سے بھی ہوتا تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ دو دن کے بعد اچانک امتحان کے لئے طلب کیا جائے؟

کیا فیصلہ ساز خود بھی ایسے ہی شارٹ نوٹس اور اہلیت کی سخت جانچ کے بعد سرکاری ملازم ہوئے تھے؟ المیہ ہے کہ ہم اپنی ذات کے لئے جو سہولیات و مراعات چاہتے ہیں وہ دوسروں کو مرحمت فرمانا نہیں چاہتے۔ بہرکیف ہنگامی بنیادوں پر طلبی کے سبب قانونی مشیر کے لئے درخواست گزاروں میں سے صرف ایک ہی اُمیدوار آ سکا اور ظاہر ہے کہ اُسے ہی نوکری ملنی تھی! بعدازاں ایک تجویز یہ دی گئی کہ مذکورہ ’ایٹا‘ امتحان منسوخ کرکے دوبارہ سے ملازمتیں مشتہر کی جائیں اور درخواستیں طلب کی جائیں اور اِمتحان کا انعقاد پھر سے کیا جائے۔ ایک شکایت یہ بھی موصول ہوئی کہ جن درخواست گزاروں کو ’شارٹ لسٹ‘ کیا گیا اُن میں ایسے بھی تھے جنہیں باوجود موبائل فون کے ’ایکٹو کنکشن‘ بھی ’ایٹا‘ کی جانب سے ’ایس ایم ایس‘ موصول نہیں ہوا۔ یاد رہے کہ بذریعہ ’ایٹا‘ بھرتی کا یہ طریقۂ کار اِس طرح ہے کہ 8 فیصد نمبر اِنٹرویو جبکہ باقی تحریری ٹیسٹ کے ہوتے ہیں اور اَصولی طریقۂ کار یہ ہے کہ نوکری کے اِس امتحان کے لئے اُمیدواروں کو ’کال لیٹرز‘ مقررہ تاریخ سے دو ہفتے قبل جاری کئے جاتے ہیں تاکہ ایک تو وہ تیاری کر لیں اور دوسرا دور دراز علاقوں سے آنے والے اپنی سفر کے بارے میں منصوبہ بندی کر لیں۔

کیا ہم نہیں جانتے کہ خیبرپختونخوا میں کئی ایک ایسے علاقے ہیں جہاں موبائل فون کے سگنلز کام نہیں کرتے۔ حال ہی میں مجھے خود ہری پور کے قریب بھیڑ نامی گاؤں جانے کا اتفاق ہوا‘ جہاں کے رہنے والے موبائل فون پر بات کرنے کے لئے ایک قریبی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر جاتے دیکھے گئے اور یوں وہ بیرون ملک عزیز و اقارب کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں! صوبائی دارالحکومت پشاور کے آرام دہ‘ پرتعیش کمروں میں بیٹھ کر فیصلہ سازوں کو احساس تک نہیں کہ جنوبی اور ہزارہ ڈویژن کے بالائی علاقوں کی صورتحال کیا ہے! کون جاننا پسند کرے گا کہ مرکزی شہروں سے دور رہنے والوں کی زندگی میں کتنے سکھ ہیں اور وہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے غربت و کسمپرسی کی حالت میں شب روز بسر کرنے والوں پر کیا گزر رہی ہے!

خیبرپختونخوا میں ’معلومات تک رسائی‘ کا قانون پہلے ہی خطرے میں ہے جس کا مفصل بیان چھ جولائی کے کالم میں ہو چکا لیکن اگر اِس انتظامی طریقۂ کار میں بہتری کے لئے دانستہ کوششیں کرتے ہوئے وہ تحفظات دور نہیں کئے جاتے‘ جس کی وجہ سے یہ ’انقلابی قانون سازی‘ اپنی روح و مقصد سے فاصلے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے تو اِس صورتحال میں تبدیلی کے لئے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو دلچسپی لینا ہوگی بصورت دیگر اندھیرا ہی اندھیرا ہے‘ جس میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے اور ہاتھوں سے ٹٹول کر صرف ٹھوکریں لگتی رہیں گے اور اگرچہ سفر طے ہوگا لیکن منزل سے دوری اور راستے کا تعین نہیں ہو سکے گا۔ تاریکیوں کو بدلنے کے لئے دانستہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ ’سوچ کے آلاؤ‘ روشن کرنا ہوں گے۔