Monday, December 21, 2020

Strategy regarding Zoo and wildlife

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

چڑیا گھر

شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا لیکن شوق ظلم‘ اذیت اُور باعث آزار بھی نہیں ہونا چاہئے۔ پشاور کے پہلے اُور ملک کے سب سے بڑے چڑیا گھر کا افتتاح ’12فروری 2018ئ‘ کے روز ہوا۔ 29 ایکڑ پر مشتمل اِس چڑیا گھر کا منتظم ادارہ جنگلات‘ ماحولیات اُور جنگلی حیات ہے‘ جس نے چڑیا گھر کے قیام اُور دیکھ بھال سے متعلق صوبائی حکمت عملی کو نافذ کیا اُور اِسی کی حدود (پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ) میں چڑیاگھر بنایا گیا جس کی افتتاحی تقریب میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اُور (اُس وقت کے) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک شریک ہوئے تھے۔ ابتدا میں لاہور کے چڑیا گھر اُور ڈھوڈیال‘ مالاکنڈ‘ نتھیاگلی سے جانور پشاور لائے گئے جبکہ جون 2018ءمیں جنوبی افریقہ سے دو بنگالی چیتے اُور زرافہ جبکہ سانپ گھر کا اضافہ کیا گیا۔ نومبر 2018ءمیں متحدہ عرب امارات سے جانور لائے گئے لیکن وقت کے ساتھ چڑیا گھر کی آبادی بڑھنے کی بجائے کم ہوتی رہی‘ وجہ یہ تھی کہ جانوروں کی خوراک اُور اُن کے علاج معالجے (صحت) پر بہت کم توجہ دی جاتی تھی۔ کچھ پشاور کی گرمی نے بھی ستم ڈھایا اُور چڑیا گھر کا افتتاح ہونے سے قبل ہی کئی جانور مر گئے لیکن چونکہ یہ ایک اعلیٰ سطح پر کیا گیا فیصلہ تھا اِس لئے جانوروں کی زندگی‘ صحت‘ خوراک اُور پشاور کی گرمی و سردی جیسی شدید موسمی صورتحال جیسے خطرات یکسر نظرانداز کر دیئے گئے۔ جانوروں کو دیکھ کر لطف اندوز ہونے والوں اُور تفریح کا یہ ’ظالمانہ انداز‘ فراہم کرنے والوں کو ’ہم زمین مخلوقات‘ کی فطرت اُور موافق حالات کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے کہ اگر صوبائی حکومت کے پاس انسانوں ہی کی بنیادی ضروریات جیسا کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے خاطرخواہ مالی وسائل دستیاب نہیں تو وہ کس طرح ’چڑیا گھر‘ جیسی آسائش فراہم کر سکتی ہے جبکہ چڑیا گھر جیسے تفریحی ذریعے کی فراہمی ’آئینی ذمہ داری‘ بھی نہیں اُور پینے کا صاف پانی‘ صفائی‘ علاج و معیاری تعلیم کی فراہمی آئین میں لکھی ہوئی ایسی ذمہ داریاں ہیں‘جن سے غفلت کے باعث وفاقی اُور صوبائی فیصلہ ساز اُور سرکاری اہلکار ’جرم‘ کا ارتکاب کر رہے ہیں!

چڑیا گھر بند کیا جائے۔ پندرہ دسمبر کے روز ’اسلام آباد ہائی کورٹ‘ نے وفاقی دارالحکومت کے چڑیا گھر سے متعلق ایک مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ مذکورہ فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 2 ریچھوں کی اردن منتقلی سے متعلق توہین عدالت کی درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ چڑیا گھر حراستی کیمپس ہیں اور جانوروں کو ان کے غیر فطری ماحول میں رکھنا تکلیف دہ ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریچھوں کی اردن منتقلی کے انکار کے حوالے سے بیان پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی اور کہا کہ وزیر اعظم کی جانوروں کے ساتھ تصاویر اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قبل ازیں 2 شیروں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے لیکن عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا جبکہ غلط تاثر دیا گیا کہ اس میں عدالت کا کوئی مفاد ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ماہرین کی رائے پر ایک بار پھر وائلڈ لائف بورڈ نے فیصلہ کیا ہے‘ جولائی دوہزاراُنیس سے اب تک جانوروں کی تکلیف کا کون ذمہ دار ہے؟وزارت موسمیاتی تبدیلی کو چڑیاگھر کا چارج اس لئے دیا گیا تھا کہ چڑیا گھر کے معاملے پر سیاست ہو رہی تھی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وزارت موسمیاتی تبدیلی نے اپنی ذمہ داری نبھائی؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کی واحد دلچسپی صرف بے زبان جانوروں کی فلاح ہے‘ ہمیں اپنے اس فیصلے پر فخر ہونا چاہئے۔ دنیا کو پاکستان کے اس فیصلے کی پیروی کرنی چاہئے کیونکہ جانوروں کے لئے بہتر یہی ہے کہ اُنہیں اُن کے قدرتی ماحول (آبائی علاقوں) ہی میں رہنا چاہئے۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ چاہتی ہے کہ لوگ جانوروں سے متعلق اپنے روئیوں‘ سوچ اُور نظرئیوں کو تبدیل کریں۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ جانوروں کو بھوک پیاس‘ گرمی سردی‘ نہیں لگتی۔ اُن کے جذبات نہیں ہوتے۔ اُنہیں تکلیف‘ صدمہ اُور خوف نہیں ہوتا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں بلکہ جانور انسانوں سے زیادہ حساس اُور جذبانی و نفسیاتی اعتبار سے نازک ہوتے ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت اُور صوبائی افسرشاہی سمیت ہر خاص و عام کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چھ صفحات پر مشتمل فیصلہ حرف حرف پڑھنا چاہئے اُور اِس نکتہ نظر سے دیکھنا چاہئے کہ کس طرح ہم انسان اپنے ہی ہم زمین مخلوقات کے لئے ظالم بنے ہوئے ہیں! مذکورہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ”انسانوں کی تفریح طبع کے لئے جانوروں کو اُن کے قدرتی ماحول سے محروم کرنا ”غیر انسانی سلوک (ظلم)“ تھا۔ ریچھوں کو ایک دہائی سے زائد عرصہ چڑیا گھر کے پنجروں میں قید رکھا گیا۔ چڑیا گھر میں کتنی ہی بہتر سہولیات کیوں نہ ہوں وہ جانوروں کے لئے حراستی کیمپ سے کم نہیں ہوتے۔ قید کے دوران جانوروں کا غیر فطری رویہ ناقابل تصور اور تکلیف کا عکاس ہے! اِس عدالتی فیصلے کے بعد اسلام آباد کا چڑیا گھر عوام اور عملے کے لئے بند کردیا گیا ہے اُور دونوں ریچھوں کو اردن جبکہ دیگر جانوروں کو متعلقہ محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا جس کے لئے فور پوز انٹرنیشنل نامی تنظیم سے مدد لی گئی ہے۔ ذہن نشین رہے کہ اِسی تنظیم نے کاون نامی ہاتھی کی اسلام آباد سے محفوظ منتقلی کے تکنیکی اخراجات بھی برداشت کئے تھے اُور تنظیم کی سربراہ معروف آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ و گلوکارہ ہیں جو پہلے ہاتھی کی روانگی کے لئے پاکستان آئیں اور پھر کمبوڈیا پہنچنے پر وہاں اُس کا استقبال کیا۔ ایک غیرمسلم اُور غیرملکی خاتون کی اسلام آباد کے چڑیا گھر میں 35سال سے قید اُور تنہائی کی زندگی بسر کرنے والے ہاتھی کی مدد کو آنا‘ ہمارے فیصلہ سازوں کی بے حسی کا بیان ہے۔ یہی وجہ تھی کہ مئی (دوہزاربیس) میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے چڑیا گھر کے تمام جانوروں کی منتقلی کا حکم دیا اُور افسوسناک بات یہ رہی کہ جانوروں کی منتقلی کے دوران دو شیر اور ایک شتر مرغ انتظامی غفلت کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ اسلام آباد کا چڑیا گھر 1978ءمیں 10ہیکٹر رقبے پر قائم کیا گیا تھا جہاں قیمتی و نایاب جانوروں کی اقسام رکھی گئیں جسے چڑیا گھر سے ”جنگلی حیات کے تحفظ کا مرکز“ بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ 

پشاور کے چڑیا گھر کو بھی ”جنگلی حیات کے تحفظ کا مرکز“ بنانے پر غور ہونا چاہئے کیونکہ جانوروں کی حفاظت و بہبود کے لئے قوانین اُور خاطرخواہ مالی وسائل نہ ہونے کے باعث پاکستان بھر میں چڑیا گھروں کی صورتحال انتہائی خراب ہے! اگر ایسا نہ ہوتا دوہزاراٹھارہ میں پشاور چڑیا گھر کھلنے کے چند ماہ کے اندر ہی قریب 30جانور ہلاک نہ ہوتے جن میں نایاب نسل کے برفانی چیتے کے تین بچے بھی شامل تھے۔

....



Saturday, December 19, 2020

Peshawar : The city of crimes!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

جرائم کا شہر

سال دوہزار بیس کے دوران صوبائی دارالحکومت پشاور میں جرائم کی شرح غیرمعمولی طور پر کم رہی جبکہ اِس عرصے کے دوران گلی کوچوں میں رونما ہونے والی جرائم (سٹریٹ کرائمز) بدستور نہ صرف جاری رہے بلکہ گزشتہ سال کے مقابلے سٹریٹ کرائمز میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ پشاور پولیس کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق دسمبر دوہزاربیس کے دوسرے ہفتے تک راہزنی کے واقعات میں 31فیصد کمی‘ چوری 31.20فیصد کمی‘ ڈکیتی قریب 8فیصد کمی‘ سرقہ بالجبر جرائم میں 16فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔ 2019ءسے موازنہ کرنے پر سٹریٹ کرائمز اُور اربن کرائمز کے حوالے سے صورتحال حوصلہ بخش ہے اُور صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پولیس کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔ بنیادی طور پر جرائم دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو حادثاتی طور پر سرزد ہوں اُور دوسرے وہ کہ جنہیں منصوبہ بندی کے تحت کیا جائے اُور اِس میں ملوث جرائم پیشہ عناصر انفرادی یا گروہی صورت میں وارداتیں کریں۔ حادثاتی یا مخصوص حالات کی وجہ سے رونما ہونے والے جرائم جیسا کہ قتل‘ اقدام قتل‘ خودکشی‘ ضرر رسانی یا ڈکیتی کی وارداتیں قبل اَز وقت روکنا ممکن نہیں ہوتا اُور ایسے جرائم پولیس کی تفتیشی صلاحیت کا اِمتحان ہوتے ہیں جبکہ گلی کوچوں میں جرائم موثر (موبائل) پولیسنگ نہ ہونے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ صوبائی حکومت اگر پشاور پولیس کے گشتی وسائل میں اضافہ کرے تو بالخصوص اندرون شہر سٹریٹ کرائمز کی شرح میں نمایاں کمی کی جا سکتی ہے۔ اِس سلسلے میں اگر پشاور شہر سے تعلق رکھنے والے مقامی نوجوانوں کو بھرتی کرتے ہوئے ’سٹی پولیس سکواڈ‘ کی تشکیل اُور کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تو عمومی و خصوصی جرائم میں کمی جیسے اہداف زیادہ تیزی سے حاصل کئے جا سکیں گے۔

جرائم کے روائتی اُور غیرروائتی اسلوب بھی توجہ طلب ہیں۔ کئی ایسے جرائم بھی ہیں جو اِس قدر عام اُور جن کا ارتکاب بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے کہ اب اُنہیں جرم سمجھا ہی نہیں جاتا اُور اِن میں سرفہرست تجاوزات ہیں۔ پشاور شہر کے اندرونی علاقوں میں منشیات کے سرعام استعمال اُور خریدوفروخت کے مراکز بھی توجہ طلب ہیں اُور یہی سٹریٹ کرائمز کا سب سے بڑا سبب ہیں کیونکہ جب نشے کے عادی افراد کو مالی وسائل میسر نہیں آتے تو نالے نالیوں پر لگے لوہے کے جنگلے‘ سرکاری املاک سے آہنی سلاخیں حتیٰ کہ ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تختیاں تک اکھاڑ لیجاتے ہیں! پولیس کی آنکھوں کے سامنے اُور ناک کے نیچے جاری لاقانونیت (منشیات کا دھندا) لمحہ فکریہ ہے جبکہ پشاور میں تجاوزات کے بارے میں اِس سے زیادہ کیا لکھا اُور کہا جائے کہ اِس سے قبرستان تک محفوظ نہیں رہے! موثر پولیسنگ تو بہت دور کی بات اگر صرف پولیسنگ ہی ہو رہی ہوتی تو کسی کی جرات نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ پشاور شہر کے اثاثوں اُور یہاں کے آباواجداد کی آخری نشانیوں کو مٹاتا۔ جرائم کے شہر کی جرائم کہانیاں لاتعداد ہیں اُور اِن بیشمار واقعات کے بارے میں نہ تو اعدادوشمار مرتب کئے جاتے ہیں اُور نہ ہی تھانہ جات کی کارکردگی و گرفت کا اندازہ غیرروائتی طریقے سے کیا جاتا ہے۔

پشاور پولیس کے دفاتر میں سال 2020ءکے دوران ہوئے جرائم کے اعدادوشمار کو مرتب اُور خوشنما بنا کر پیش کرنے کے لئے تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن اگر اہل پشاور سے پوچھا جائے تو پولیس اُور تھانہ کلچر میں خاطرخواہ تبدیلی کا وعدہ کماحقہ پورا نہیں ہوا۔

فیصلہ سازوں کو غور کرنا چاہئے کہ 92 یونین کونسلوں پر مشتمل پشاور اُور اِن میں چودہ یونین کونسلوں پر مبنی اندرون شہر میں رونما ہونے والے جرائم متقاضی ہیں کہ یہاں تھانہ جات اُور پولیس نفری میں اضافہ کیا جائے۔ پولیسنگ جادو نہیں کہ بنا دکھائی دیئے اپنا اثر دکھائے بلکہ پولیس کی موجودگی اُور کسی جرم کی صورت فوری ردعمل ’فائر بریگیڈ‘ جیسا ہونا چاہئے جو چوبیس گھنٹے مستعد رہتے ہوئے‘ مشکل سے مشکل جگہوں اُور اوقات میں آتشزدگی کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد حرکت میں آ جاتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں موثر پولیسنگ کے لئے اب تک کئے گئے 4 خصوصی اقدامات (ایس اُو ایس کال سروس‘ آن لائن ایف آئی آر‘ الیکٹرانک روزنامچہ اُور الیکٹرانک (اِی) ایف آئی آر) میں موجود سقم دور کرنے کے لئے غوروخوض اُور مشاورت کا عمل بھی کہیں نہ کہیں سے شروع کرتے ہوئے اِس میں مختلف شعبوں کے ماہرین کی شمولیت ہونی چاہئے کیونکہ صرف خوش رنگ و خوش نما حکمت عملیاں بنانا ہی کافی نہیں بلکہ اُن کے عملی اطلاق میں پیش آنے والی مشکلات و شکایات کی روشنی میں اصلاح کا عمل بھی ہمہ وقت جاری رہنا چاہئے اُور اِسی سے نتائج اخذ ہوتے ہیں۔ توجہ طلب ہے کہ پولیس کے فیصلہ سازوں کی ساری توجہ مرکزی شہر پشاور پر مرکوز ہے جبکہ دور دراز اضلاع اُور ڈویژنز کی سطح پر پولیس کا نظام افرادی و تکنیکی وسائل سے محروم نظر آتا ہے۔ پشاور خوش قسمت ہے کہ یہاں کی پولیس کے پاس ڈیجیٹل مواصلاتی نظام (واکی ٹاکیز) موجود ہے جس کے ذریعے محفوظ بات چیت ممکن ہے لیکن اضلاع میں پرانا مواصلاتی نظام باآسانی دسترس (Bug) کیا جا سکتا ہے۔ دوسری اہم بات پولیس اُور عوام کے درمیان روابط کا فقدان ہے کہ سٹیزن لائزن کمیٹیاں تو موجود ہیں جن کی فعالیت ضروری ہے۔ جرائم کا خاتمہ صرف پولیسنگ کے ذریعے نہیں بلکہ جرائم کی نفسیات‘ محرکات اُور طریقوں پر غور کرنے سے بھی ممکن ہے اُور وہ سب کچھ ممکن ہے جو بظاہر ناممکن دکھائی دے رہا لیکن اگر اِس بارے نمائشی نہیں بلکہ سنجیدہ عملی اقدامات کئے جائیں۔

....

Clipping from Editorial Page  Daily Aaj - December 19, 2020

Editorial Page  Daily Aaj - Saturday December 19, 2020

Published version clipping from Editorial Page  Daily Aaj - December 19, 2020