Showing posts with label Police. Show all posts
Showing posts with label Police. Show all posts

Saturday, December 19, 2020

Peshawar : The city of crimes!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

جرائم کا شہر

سال دوہزار بیس کے دوران صوبائی دارالحکومت پشاور میں جرائم کی شرح غیرمعمولی طور پر کم رہی جبکہ اِس عرصے کے دوران گلی کوچوں میں رونما ہونے والی جرائم (سٹریٹ کرائمز) بدستور نہ صرف جاری رہے بلکہ گزشتہ سال کے مقابلے سٹریٹ کرائمز میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ پشاور پولیس کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق دسمبر دوہزاربیس کے دوسرے ہفتے تک راہزنی کے واقعات میں 31فیصد کمی‘ چوری 31.20فیصد کمی‘ ڈکیتی قریب 8فیصد کمی‘ سرقہ بالجبر جرائم میں 16فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔ 2019ءسے موازنہ کرنے پر سٹریٹ کرائمز اُور اربن کرائمز کے حوالے سے صورتحال حوصلہ بخش ہے اُور صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پولیس کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔ بنیادی طور پر جرائم دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو حادثاتی طور پر سرزد ہوں اُور دوسرے وہ کہ جنہیں منصوبہ بندی کے تحت کیا جائے اُور اِس میں ملوث جرائم پیشہ عناصر انفرادی یا گروہی صورت میں وارداتیں کریں۔ حادثاتی یا مخصوص حالات کی وجہ سے رونما ہونے والے جرائم جیسا کہ قتل‘ اقدام قتل‘ خودکشی‘ ضرر رسانی یا ڈکیتی کی وارداتیں قبل اَز وقت روکنا ممکن نہیں ہوتا اُور ایسے جرائم پولیس کی تفتیشی صلاحیت کا اِمتحان ہوتے ہیں جبکہ گلی کوچوں میں جرائم موثر (موبائل) پولیسنگ نہ ہونے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ صوبائی حکومت اگر پشاور پولیس کے گشتی وسائل میں اضافہ کرے تو بالخصوص اندرون شہر سٹریٹ کرائمز کی شرح میں نمایاں کمی کی جا سکتی ہے۔ اِس سلسلے میں اگر پشاور شہر سے تعلق رکھنے والے مقامی نوجوانوں کو بھرتی کرتے ہوئے ’سٹی پولیس سکواڈ‘ کی تشکیل اُور کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تو عمومی و خصوصی جرائم میں کمی جیسے اہداف زیادہ تیزی سے حاصل کئے جا سکیں گے۔

جرائم کے روائتی اُور غیرروائتی اسلوب بھی توجہ طلب ہیں۔ کئی ایسے جرائم بھی ہیں جو اِس قدر عام اُور جن کا ارتکاب بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے کہ اب اُنہیں جرم سمجھا ہی نہیں جاتا اُور اِن میں سرفہرست تجاوزات ہیں۔ پشاور شہر کے اندرونی علاقوں میں منشیات کے سرعام استعمال اُور خریدوفروخت کے مراکز بھی توجہ طلب ہیں اُور یہی سٹریٹ کرائمز کا سب سے بڑا سبب ہیں کیونکہ جب نشے کے عادی افراد کو مالی وسائل میسر نہیں آتے تو نالے نالیوں پر لگے لوہے کے جنگلے‘ سرکاری املاک سے آہنی سلاخیں حتیٰ کہ ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تختیاں تک اکھاڑ لیجاتے ہیں! پولیس کی آنکھوں کے سامنے اُور ناک کے نیچے جاری لاقانونیت (منشیات کا دھندا) لمحہ فکریہ ہے جبکہ پشاور میں تجاوزات کے بارے میں اِس سے زیادہ کیا لکھا اُور کہا جائے کہ اِس سے قبرستان تک محفوظ نہیں رہے! موثر پولیسنگ تو بہت دور کی بات اگر صرف پولیسنگ ہی ہو رہی ہوتی تو کسی کی جرات نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ پشاور شہر کے اثاثوں اُور یہاں کے آباواجداد کی آخری نشانیوں کو مٹاتا۔ جرائم کے شہر کی جرائم کہانیاں لاتعداد ہیں اُور اِن بیشمار واقعات کے بارے میں نہ تو اعدادوشمار مرتب کئے جاتے ہیں اُور نہ ہی تھانہ جات کی کارکردگی و گرفت کا اندازہ غیرروائتی طریقے سے کیا جاتا ہے۔

پشاور پولیس کے دفاتر میں سال 2020ءکے دوران ہوئے جرائم کے اعدادوشمار کو مرتب اُور خوشنما بنا کر پیش کرنے کے لئے تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن اگر اہل پشاور سے پوچھا جائے تو پولیس اُور تھانہ کلچر میں خاطرخواہ تبدیلی کا وعدہ کماحقہ پورا نہیں ہوا۔

فیصلہ سازوں کو غور کرنا چاہئے کہ 92 یونین کونسلوں پر مشتمل پشاور اُور اِن میں چودہ یونین کونسلوں پر مبنی اندرون شہر میں رونما ہونے والے جرائم متقاضی ہیں کہ یہاں تھانہ جات اُور پولیس نفری میں اضافہ کیا جائے۔ پولیسنگ جادو نہیں کہ بنا دکھائی دیئے اپنا اثر دکھائے بلکہ پولیس کی موجودگی اُور کسی جرم کی صورت فوری ردعمل ’فائر بریگیڈ‘ جیسا ہونا چاہئے جو چوبیس گھنٹے مستعد رہتے ہوئے‘ مشکل سے مشکل جگہوں اُور اوقات میں آتشزدگی کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد حرکت میں آ جاتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں موثر پولیسنگ کے لئے اب تک کئے گئے 4 خصوصی اقدامات (ایس اُو ایس کال سروس‘ آن لائن ایف آئی آر‘ الیکٹرانک روزنامچہ اُور الیکٹرانک (اِی) ایف آئی آر) میں موجود سقم دور کرنے کے لئے غوروخوض اُور مشاورت کا عمل بھی کہیں نہ کہیں سے شروع کرتے ہوئے اِس میں مختلف شعبوں کے ماہرین کی شمولیت ہونی چاہئے کیونکہ صرف خوش رنگ و خوش نما حکمت عملیاں بنانا ہی کافی نہیں بلکہ اُن کے عملی اطلاق میں پیش آنے والی مشکلات و شکایات کی روشنی میں اصلاح کا عمل بھی ہمہ وقت جاری رہنا چاہئے اُور اِسی سے نتائج اخذ ہوتے ہیں۔ توجہ طلب ہے کہ پولیس کے فیصلہ سازوں کی ساری توجہ مرکزی شہر پشاور پر مرکوز ہے جبکہ دور دراز اضلاع اُور ڈویژنز کی سطح پر پولیس کا نظام افرادی و تکنیکی وسائل سے محروم نظر آتا ہے۔ پشاور خوش قسمت ہے کہ یہاں کی پولیس کے پاس ڈیجیٹل مواصلاتی نظام (واکی ٹاکیز) موجود ہے جس کے ذریعے محفوظ بات چیت ممکن ہے لیکن اضلاع میں پرانا مواصلاتی نظام باآسانی دسترس (Bug) کیا جا سکتا ہے۔ دوسری اہم بات پولیس اُور عوام کے درمیان روابط کا فقدان ہے کہ سٹیزن لائزن کمیٹیاں تو موجود ہیں جن کی فعالیت ضروری ہے۔ جرائم کا خاتمہ صرف پولیسنگ کے ذریعے نہیں بلکہ جرائم کی نفسیات‘ محرکات اُور طریقوں پر غور کرنے سے بھی ممکن ہے اُور وہ سب کچھ ممکن ہے جو بظاہر ناممکن دکھائی دے رہا لیکن اگر اِس بارے نمائشی نہیں بلکہ سنجیدہ عملی اقدامات کئے جائیں۔

....

Clipping from Editorial Page  Daily Aaj - December 19, 2020

Editorial Page  Daily Aaj - Saturday December 19, 2020

Published version clipping from Editorial Page  Daily Aaj - December 19, 2020


Sunday, March 11, 2018

Mar 2018: Save the graveyards of Peshawar, please!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پشاور کی خبریں!
’روزنامہ آج‘ کی اشاعت میں شامل ’’پشاور کی خبریں‘‘ مستقل و مسلسل اُور مربوط سلسلہ ہے‘ جو نہ صرف ’اپنے شہر‘ سے آگاہی کا ’(مستند) وسیلہ ہے بلکہ مقامی اور غیرمقامی اہل پشاور یا ایک جیسی دلچسپی رکھنے والے قارئین آپس میں جڑے رہتے ہیں تاہم ’صفحہ 2‘ کے ذریعے ’پشاور شناسی‘ میں اضافہ ہونے کے امکان بارے ادارتی فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ صحافت ایک مشن بھی تو ہوسکتا ہے۔ 

نہایت ہی شدت سے کمی اِس بات کی بھی محسوس ہو رہی ہے کہ پشاور سے متعلق درپیش مسئلے مسائل کی بابت عام آدمی (ہم عوام) کی آراء خصوصیت اور تواتر سے شائع ہوں۔ فی الوقت پشاور کے لئے مختص جگہ (space) کا بڑا حصہ اعلامیوں (احکامات)‘ روائتی سیاسی و غیرسیاسی بیانات اور اُن واقعات کی خبروں نے لے رکھی ہے‘ جن کا اِرتکاب بصورت معمول یا جرائم ہوتا ہے۔ تین مارچ کی اشاعت میں چار کالم شہ سرخی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ ’’(پشاور:) قبرستان پر قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی‘ اُوقاف سے رابطہ۔‘‘ اِس خبر کو صفحے کے بالائی حصے میں نمایاں کرکے شائع کرنے کا مقصد یہی ہوگا کہ ’صوبائی اور ضلعی حکومتوں‘ کی جانب سے ’فوری توجہ (نوٹس)‘ لیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ اب تو یہ بات پشاور سے شائع ہونے والے اور پشاور کی محبت کا دم بھرنے والے بہت سے اخباروں کے لئے خبر بھی نہیں رہی کہ ’’قبرستانوں کی اراضی قبضہ ہو رہی ہے اور صوبائی حکومت کی ناک کے نیچے قبضہ مافیا کی کاروائیاں جاری ہیں۔‘‘ عجب ہے کہ نہ تو خبر کا اثر ہو رہا ہے اور نہ ہی قانون کا خوف محسوس کرنے والوں کی کمی ہے! 

سیاسی پشت پناہی رکھنے والے اِیسے عناصر معلوم ہیں‘ جن کے لئے ’انٹرپول‘ یا ڈرون طیاروں کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اِن ’دیدہ دلیر قانون شکنوں‘ نے کسی ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جس سے متعلق قانون کی کتابیں خاموش ہیں اور معلوم ہی نہیں ہو رہا کہ کن دفعات کا اطلاق کیا جائے! 

صد افسوس کہ ماضی کی طرح ’تبدیلی کی علمبردار‘ موجودہ صوبائی و ضلعی حکومتیں بھی مصلحتوں کا شکار ہیں‘ جن کے لئے ذرائع ابلاغ کی طرف سے ’’نشاندہی اور رہنمائی‘‘ کی خاطرخواہ اہمیت نہیں تو اِس (تجاہل عارفانہ پر مبنی) طرزِعمل سے ’صحافت یا اہل صحافت‘ کا نہیں بلکہ ’اہل سیاست‘ اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ المیہ ہے کہ خبروں کی قدر و اِہمیت تو باقی ہے لیکن چونکہ متعقلہ حکام اِن کے بارے میں ’حساس‘ نہیں رہے تو خبریں خبروں کے بوجھ تلے دب کر دم توڑ رہی ہیں!

تین مارچ کو شائع ہوا کہ ’’(پشاور کے) زاہد آباد علاقے میں سرکاری قبرستان کی کھدائی جاری ہے۔ کچھ لوگ قبضہ کرنا چاہتے ہیں لیکن آغا میرجانی شاہ پولیس نے (بروقت کاروائی کرتے ہوئے) ملوث افراد کو غیرقانونی اقدام سے روک دیا۔‘‘ لمحۂ فکریہ ہے کہ پولیس نے ’غیرقانونی اقدام‘ میں ملوث افراد کو روکا لیکن اُن کے خلاف کاروائی نہیں کی اور یہی وجہ رہی کہ نہ صرف زاہد آباد بلکہ دیگر قبرستانوں کی اراضی پر قبضہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی نہیں ہوئی۔ حال تو یہ ہے کہ قبرستانوں کی اراضی ہڑپ کرنا نہ تو اخلاقی اور نہ ہی قانونی جرم تصور ہو رہا ہے اور اگرچہ یہ معاملہ پشاور ہائی کورٹ تک جا پہنچا ہے جہاں صوبائی حکومت نے دو ماہ کی مہلت لے رکھی ہے لیکن قبرستان محفوظ نہیں کئے جاسکے۔ یوں لگتا ہے کہ دو ماہ کی مہلت باقی ماندہ قبرستانوں کی اراضی مل بانٹ کر تقسیم کرنے کے لئے لی گئی ہے! 

9 مارچ کو (دو کالم) شائع ہونے والی اِس دوسری خبر کی سرخی تھی ۔۔۔ ’’اخون بابا قبرستان پر قبضہ مافیا کے خلاف احتجاج‘‘ رنگ روڈ بلاک (جبکہ) بیری باغ میں 80 مرلے اراضی پر دوبارہ قبضہ کر لیا گیا‘ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ’انتظامیہ نوٹس لے۔‘‘ منظرنامہ ملاحظہ کیجئے کہ ۔۔۔ ایک طرف قانون شکن ہیں جن کے سامنے پولیس بے بس ہے تو اُن کے مدمقابل مقامی افراد (اپنی مدد آپ کے تحت) قبرستانوں کی اراضی بچانے کے لئے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر پولیس اپنی حقیقی موجودگی کو ثابت کرتی ہے تو صوبائی دارالحکومت کے علاقہ ہزار خوانی کے مکینوں کو احتجاج کی نوبت نہ آتی۔ ٹاؤن ون کی حدود ’اَخون بابا‘ اور ’بیڑی باغ‘ قبرستانوں پر قبضہ نہ تو راتوں رات ہوا‘ اُور نہ ہی یہ واردات جادوئی تھی کہ کسی کو کانوں کان اور نظروں نظر خبر ہی نہ ہو سکتی لیکن چونکہ پشاور دل و جاں کا حصہ نہیں اِس لئے عوام کے منتخب کردہ ’ضلعی نمائندے‘ صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ پولیس اسٹیشنوں کی پولیس کا رویہ عملاً ’پشاور دوست‘ بھی نہیں! 

تیسری خبر‘ تین کالم سائز میں ’10 مارچ‘ کے روز ’صحفہ دو‘ کی زینت بنی‘ جس کی ’شہ سرخی‘ میں ڈیزائن کی خوبیاں کے ساتھ ’عوام الناس‘ کو مطلع کیا گیا کہ ’’بیری باغ قبرستان میں قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن‘ کارِ سرکار میں مداخلت پر جھڑپیں۔‘‘ ماضی میں بھی ’بیڑی باغ‘ کے مقام پر ضلعی اِہلکاروں اُور اِحتجاج کرنے والے مقامی اَفراد کے درمیان اِسی قسم کی جھڑپیں ہو چکی ہیں لیکن قانون شکن عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی نہیں کی گئی! ضلعی حکومت پشاور کے طول و عرض میں تجاوزات کے خلاف ’گرینڈ آپریشن (بڑی کاروائیاں)‘ کرنے کی (زبانی) دعویدار تو ہے لیکن شہرخموشاں (قبرستانوں) سے لیکر ’عالم طلسم‘ تک برسرزمین صورتحال میں تبدیلی نہیں آ رہی۔ 

پشاور کے رہنے والوں کے لئے اِس سے زیادہ صدمہ اُور کیا ہو سکتا ہے کہ ہر چند ہفتوں بعد اُن کے آباؤ و اجداد کی قبریں مسمار کرنے والے ہاتھ کر جاتے ہیں جبکہ صاحبان اِختیار (حکومتیں) خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ یہی وہ مقام فکر و بیان ہے کہ جہاں ’پشاور کو لاوراث‘ قرار دیا جاتا ہے کہ اِس شہر کی فیصلہ سازی پر ایسے لوگ مسلط (حاوی) ہو گئے ہیں جن کی پشاور میں نہیں بلکہ اِس کے وسائل اور اراضی میں زیادہ دلچسپی ہے۔ آئندہ عام انتخابات (دوہزار اٹھارہ) کے موقع پر اگر اہل پشاور (ہندکووانوں) نے ایک مرتبہ پھر ماضی کی غلطیاں دُہرائیاں اُور اپنا ووٹ ’جانے پہچانے اَنجانوں‘ کے حق میں استعمال کیا تو پھر اُنہیں قبرستانوں اور بازاروں میں تجاوزات کے خلاف بولنے یا احتجاج کرنے کا بھی حق نہیں‘ پھر بنیادی سہولیات کی محرومی کا رونا بھی نہیں بنے گا۔ 

عام اِنتخابات کے موقع پر ۔۔۔ پشاور کے عام آدمی (ہم عوام) کو اپنی سوچ اُور عمل کی اصلاح کے ساتھ خوداحتسابی جیسے شعوری سفر کی منازل طے کرنی ہیں کیونکہ فیصلے کی گھڑی‘ ہر گھڑی قریب آ رہی ہے۔ 

’’عالم طلسم شہرخموشاں ہے سر بسر
یا میں غریب کشور گفت و شنود تھا (مرزا غالب)۔‘‘
۔
Three news items picked from Page 2 also known as City Page regarding encroachments in Graveyards of Peshawar

Layout of the editorial page of Daily Aaj - Mar 11, 2018 Sunday

Sunday, December 31, 2017

Dec 2017: The injustices & security in Khyber Pukhtunkhwa!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سرِعام ظلم!
سردست صورتحال یہ ہے کہ ہر معاملے میں عدالت کو ملوث کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن سرکاری اِداروں نے اپنے قواعدوضوابط پر عمل درآمد کرنے کی بجائے زیادہ آسان حل یہ تلاش کر لیا ہے کہ مقدمات کی آڑ لیں اور یہ سارا معاملہ ’’خالص بدنیتی‘‘ کا ہے۔ جہاں کسی ادارے کو کاروائی کرنا ہوتی ہے تو وہاں اخبار میں شائع ہونے والی ایک ’سنگل کالم‘ کی خبر پر ایکشن لے لیا جاتا ہے لیکن جہاں معاملہ عام آدمی (ہم عوام) کے مفادات کا تحفظ ہو‘ وہاں معاملے کو حل کرنے کی بجائے طول دیا جاتا ہے بالکل اُس ہندکو محاورے کی طرح کہ ’’دل حرامی تے حُجتاں بہت۔‘‘

’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کے قواعد کی رُو سے جس کسی ایک اِنتخابی حلقے میں اگر خواتین کی شرح پولنگ (ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب) ’10فیصد‘ سے کم سامنے آئے گی‘ تو اُس حلقے میں ہونے والے عام انتخابات کالعدم تصور ہوں گے اور دوبارہ پولنگ (ووٹنگ) کرائی جائے گی۔ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیمیں اُور سول سوسائٹی کے نمائندے 10فیصد کے اِس پیمانے پر بھی اعتراض کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ پچاس فیصد یا کم سے کم پچیس فیصد ہونا چاہئے کیونکہ خواتین کی سماجی و معاشرتی حصہ داری اُور آبادی پچاس فیصد سے زیادہ ہے تو اُن کی رائے کا احترام بھی اُسی تناسب سے ہونا چاہئے لیکن یہاں بات منطق اَصول یا حفظ مراتب کی نہیں ہو رہی بلکہ ایک ایسے معاشرے کی ہو رہی ہے‘ جس سے متعلق فیصلہ سازی خالصتاً ایک خاص طبقے اور سوچ کی غلام بن گئی ہے۔ 

اُنتیس دسمبر کے روز پشاور ہائی کورٹ کے یک رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر دیر ’شاہی خیل‘ میں خواتین کے پولنگ میں حصہ نہ لینے سے متعلق دائر مقدمے کی سماعت میں جہاں الیکشن کمیشن ‘ متعلقہ ریٹرنگ آفیسر‘ صوبائی وزیر مظفر سید اور کامیاب اُمیدوار گل حکیم خان کو حکم دیا کہ وہ خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کے حوالے سے اپنا اپنا مؤقف تحریری طور پر عدالت میں جمع کروائیں وہیں عدالت عالیہ نے اِس بات پر حیرت کا اظہار بھی کیا کہ جب الیکشن کمیشن کے قواعد میں یہ بات واضح طور پر تحریر ہے کہ جس کسی بھی حلقے میں خواتین کی پولنگ ’10فیصد‘ سے کم ہوگی‘ وہاں عام اِنتخاب کے سلسلے میں پولنگ دوبارہ کروائی جائے گی تو ایسا کرنے میں کیا اَمر مانع ہے اور کیوں؟ عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ درخواست بھی مسترد کر دی کہ مذکورہ حلقے میں انتخاب اَزسرنو منعقد نہ کرنے کا حکم دیا جائے۔ باعث حیرت ہے کہ الیکشن کمیشن خود نہیں چاہتا اُور سمجھتا ہے کہ اگر دوبارہ بھی پولنگ ہوئی تو وہاں کی خواتین حصہ نہیں لیں گی۔ 

سرعام ظلم نہیں تو کیا ہے کہ خواتین کو اُن کے حق سے محروم رکھنے کے لئے سیاسی و غیرسیاسی جماعتیں حتیٰ کہ الیکشن کمیشن کی رائے بھی ایک جیسی ہے!

خیبرپختونخوا میں صرف وفاقی حکومت کے اِدارے ہی غلطیوں کا دانستہ ارتکاب نہیں کر رہے بلکہ ’تحریک انصاف‘ کی قیادت میں صوبائی حکومت بھی ’مجرمانہ غلفت‘ کی مرتکب ہو رہی ہے اُور ایک عرصے سے ’مالاکنڈ‘ میں پولیس کی عمل داری بحال کرنے جیسی اہم ضرورت اِلتوأ (سردخانے) کی نذر ہے۔ 

مالاکنڈ کی انتظامی حیثیت ’بی ڈسٹرکٹ‘ کی ہے‘ جہاں خیبرپختونخوا کے دیگر حصوں کی طرح ’پولیس ایکٹ‘ کا اطلاق نہیں ہوتا اور وہاں ’لیویز اہلکار‘ پولیس کے متبادل کے طور پر قانون کا اطلاق کر رہے ہیں لیکن اِس سے پیدا ہونے والی کئی ایسی آئینی‘ قانونی اور مالی بے قاعدگیاں‘ بے ضابطگیاں اور پیچیدگیاں ہیں جو فوری حل طلب ہیں۔ اگر ہم قبائلی علاقوں کی امتیازی حیثیت کا رونا روتے ہیں تو قبائلی علاقوں کی طرح ہم نے بندوبستی علاقوں کو بھی امتیازی حیثیت دے رکھی ہے‘ آخر کیوں؟ 

مالاکنڈ میں امن و امان کے حالات ماضی کے مقابلے معمول پر آ چکے ہیں تو وہاں پولیس کی عملداری بحال ہونی چاہئے۔ سب سے پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ جب وہاں عدالتی نظام موجود ہے تو مالاکنڈ کو ’اے ڈویژن‘ کی حیثیت دی جانی چاہئے۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ ’لیویز‘ کو پولیس میں ضم کردیا جائے اور لیویز اہلکاروں کو پولیس تربیتی مراکز بھیجا جائے جہاں وہ پولیس کے نظام اور بالخصوص تفتیشی طریقۂ کار کو سیکھ سکیں۔ سردست صورتحال یہ ہے کہ جب لیویز کے اہلکار کسی ’ایف آئی آر‘ پر اَنگوٹھا لگا کر تفتیش مکمل کرتے ہیں تو عدالت میں ایسے مقدمات چند سماعتوں کے بعد ہی خارج ہو جاتے ہیں۔ مالاکنڈ میں سیشن جج‘ ایڈیشنل سیشن جج‘ سینئر سول جج اُور ڈپٹی و اسسٹنٹ کمشنر موجود ہیں لیکن پولیس فورس کی عدم موجودگی کے باعث گوناگوں مسائل موجود ہیں۔ 

ضرورت اِس امر کی ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر حصوں کی طرح مالاکنڈ میں پولیس فورس بحال کی جائے۔ فی الوقت کم و بیش ’تین ہزار لیویز اہلکار‘ ڈپٹی کمشنر کے زیرکنٹرول ہیں‘ جو سیاہ و سفید کا مالک بنا ہوا ہے۔ صوبائی حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ ’’افسرشاہی (بیوروکریسی) اپنے اختیارات اُور شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ برقرار رکھنے کے لئے انتظامی اصلاحات کی راہ میں حائل سب سے بڑی (بنیادی) رکاوٹ ہے اور یہ رکاوٹ دور ہونی چاہئے۔ تجویز ہے کہ تین ہزار اِہلکاروں پر مشتمل ’مالاکنڈ لیویز‘ کو پولیس فورس میں ضم کیا جائے اور اِن کے لئے خصوصی تربیت کا انتظام کیا جائے۔ خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں ’لیویز اہلکاروں‘ کی ایک تعداد موجود ضرور ہوتی ہے لیکن اُن کی موجودگی تھانہ جات پر حاوی یا پولیس فورس کے نظام میں مداخلت نہیں ہوتی۔ عام آدمی (ہم عوام) کے مفادات بارے سوچا جائے کہ اُس پر کیا گزر رہی ہے۔ مالاکنڈ میں موجودہ لیویز کے بیس یا پچیس فیصد جوانوں کو ’ڈپٹی کمشنر‘ کے اختیار میں دیا جا سکتا ہے جس سے صاحب بہادر کی تسکین ہوتی رہے کیونکہ ’پولیس ایکٹ‘ لاگو نہ ہونے سے درپیش مشکلات عمومی نہیں۔ 

کیا صوبائی حکمران نہیں جانتے کہ مالاکنڈ میں منفرد انتظامی معاملات کی وجہ سے ملحقہ مالاکنڈ‘ مردان‘ چارسدہ اور پشاور ڈویژنوں پر کس قسم کا دباؤ ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کس طرح اِس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مالاکنڈ میں پناہ لے لیتے ہیں جہاں پولیس کی عملداری نہیں۔ 

معاملہ بالکل پشاور سے ملحقہ ’درہ آدم خیل‘ جیسے علاقے کا ہے کہ جہاں کی ایک پٹی سے پولیس گزر تو سکتی ہے لیکن وہ وہاں امن وامان کے لئے خطرہ بننے والے عناصر کے خلاف کاروائی نہیں کرسکتی! ہمارے حکمرانوں کو اَمیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا یہ قول اَزبر ہے کہ ’’حکومتی نظام کفر سے تو چل سکتا ہے ظلم سے نہیں‘‘ لیکن وہ گردوپیش پر نگاہ نہیں کرتے جہاں ’ظلم سرعام ہے۔‘ اگرچہ مالاکنڈ میں پولیس فورس کی عملداری بحال کرنا اِس بات کی ضمانت نہیں ہوگی کہ راتوں رات انصاف ہونے لگے گا لیکن کم سے کم خیبرپختونخوا میں ’یکساں پولیسنگ‘ ممکن ہو جائے گی۔ 

صوبائی حکومت کو سخت مزاجی اور اپنے اختیارات کا سختی سے استعمال کرتے ہوئے دامن پر لگے اِس داغ کو دھونا ہوگا کیونکہ ضروری نہیں کہ سارے داغ اچھے ہی ہوں!
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-12-31
http://epaper.dailyaaj.com.pk/epaper/pages/1514648118_201712308658.gif

Sunday, December 3, 2017

Dec 2017: Security lapses are damaging!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
غفلت کا انجام!
خیبرپختونخوا میں زراعت سے متعلق (ڈپلومہ) تعلیم و تربیت فراہم کرنے والے اِدارے ’ایگری کلچر انسٹی ٹیوٹ‘ پر یکم دسمبر (بارہ ربیع الاوّل) کی صبح (قریب پونے نو بجے) ہوئے دہشت گرد حملے میں اگرچہ جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں لیکن اگر پشاور پولیس کا ’ردعمل (ریسپانس ٹائم)‘ صرف ’چار منٹ‘ نہ ہوتا تو دہشت گرد زیادہ بڑے پیمانے پر خون خرابہ کرنے کی منصوبہ بندی کئے ہوئے تھے جس کا ثبوت اُن کے قبضے سے برآمد ہونے والی (خودکش) بارودی جیکٹس‘ دستی بم (ہینڈگرنیڈ) اور خودکار اسلحہ کی بڑی مقدار ہے‘ جسے استعمال کرنے کی اُنہیں مہلت نہ مل سکی! 

دہشت گرد دوہزار چودہ میں ’آرمی پبلک سکول‘ پر ہوئے حملے کی تاریخ دہرانا چاہتے تھے اور اِس مرتبہ اُنہوں نے نسبتاً کمزور سیکورٹی انتظامات رکھنے والے ’زرعی تربیتی مرکز‘ کا انتخاب کیا‘ جہاں ہاسٹل میں قیام پذیر سینکڑوں طلباء کی سیکورٹی پر صرف ایک چوکیدار تعینات تھا۔ اِس حملے نے جہاں سیکورٹی اداروں کی مستعدی اور پشاور پولیس کی مہارت کو ثابت کیا ہے وہیں دہشت گردوں کی منصوبہ بندی بھی خوفناک حد تک جامع دکھائی دی‘ جنہوں نے نہ صرف مقامی فیشن کے مطابق (سفید رنگ کے شٹل کاک) برقعوں کا استعمال کیا بلکہ آٹو رکشا جیسی ایک عمومی سواری کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچے اور دوران سفر سیکورٹی اداروں کی نظروں سے اوجھل رہے۔ اگر ’زرعی تربیتی مرکز‘ پر ہوئے حملے کی وجوہات کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ ’’نا مناسب سیکیورٹی انتظامات‘‘ تھے اور صرف ’زرعی تربیتی مرکز‘ ہی نہیں بلکہ پشاور یونیورسٹی اُور دیگر ملحقہ جامعات سمیت جہاں کہیں بھی طلباء و طالبات کو رہائشی (ہاسٹل) سہولیات فراہم کی جاتی ہیں‘ وہاں سیکورٹی کے خاطرخواہ انتظامات دیکھنے میں نہیں آتے۔ دہشت گردوں نے دوسری مرتبہ تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانے کی بڑی کوشش کی ہے تو اِسے سنجیدگی سے لیتے ہوئے آخری کوشش بنا دینا چاہئے۔

’زرعی تربیتی مرکز‘ ایک آسان ہدف تھا‘ لیکن دہشت گردوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ پشاور سے کامرہ اور کراچی تک ہوائی پٹیوں (ائربیسیس)‘ ہوائی اڈوں جیسی حساس تنصیبات‘ حتیٰ کہ فوج کے صدر دفتر (جی ایچ کیو) انتہائی سیکورٹی رکھنے والے مشکل اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں اور اِن سبھی اہداف کے پیچھے ’سہولت کار‘ ہوتے ہیں‘ جو اہداف کے انتخاب سے حملے کی منصوبہ بندی کے بارے میں ’ہوم ورک‘ مکمل کرتے ہیں۔ ’زرعی تربیتی مرکز‘ پشاور کا حملہ بھی سہولت کاروں کی کامیابی ہے جو تاحال پکڑے نہیں جا سکے لیکن یہ معلوم ہوچکا ہے کہ حملہ آور افغانستان میں مسلسل ’ویڈیو رابطہ‘ قائم رکھے ہوئے تھے۔ پشاور پولیس کا مؤقف ہے کہ حملہ آور برقع پوش تھے لیکن اگر وہ برقعہ پوش نہ بھی ہوتے تو اُن کے لئے ’زرعی تربیتی مرکز‘ میں داخل ہونا مشکل نہیں تھا کیونکہ وہ ’خودکش مشن‘ پر تھے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے خفیہ ادارے کہاں ہیں اور انہیں کیوں اِس قسم کے حملے کی پیشگی اطلاع نہیں ہوسکی۔ 

’زرعی تربیتی مرکز‘ پر ہوئے حملے سے نمٹنے میں پشاور پولیس کے اعلیٰ و ادنیٰ اہلکاروں نے اپنی جان لگا دی اور فوج کی کمک آنے سے قبل انہوں نے دہشت گردوں کو اِس حد تک مصروف رکھا کہ وہ باوجود خواہش بھی کامیاب نہ ہو سکے لیکن جس انداز میں دہشت گرد واقعات پے در پے رونما ہو رہے ہیں بالخصوص کچھ عرصے سے بلوچستان ہدف بنا ہوا ہے اُسے مدنظر رکھتے ہوئے سہولت کاروں کے خلاف کاروائی کرنے کے ساتھ ایک سے زیادہ خفیہ اداروں (انٹلی جنس) اہلکاروں کو باہم مربوط اُور اُن کے کارکردگی بہتر بنانے کے لئے ’پورے نظام پر نظرثانی‘ کرنا ہوگی کیونکہ اِس ایک (انٹلی جنس) شعبے میں غفلت کے مسلسل ارتکاب کی وجہ سے دہشت گردوں کو وار کرنے کا ہر بار موقع مل رہا ہے۔

پاک فوج کی جانب سے ’زرعی تربیتی مرکز‘ پشاور میں ہوئے حملہ آوروں کی کمان کرنے والوں سے متعلق معلومات کا تبادلہ افغانستان سے کرنا اپنی جگہ اہم و ضروری ہے لیکن جب تک پاک فوج سرحد پار افغانستان میں موجودہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو فوری نشانہ بنانے جیسے ردعمل کا مظاہرہ نہیں کرے گی اور اِس سلسلے میں ’ڈرون حملہ آور اور ڈرون جاسوس طیاروں‘ کو پاک افغان سرحدی اور بالخصوص افغانستان کے اُن علاقوں میں کاروائی (ایکشن) کرنے جیسا اختیار نہیں دیا جائے گا‘ اُس وقت تک دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری رہنے پر تعجب کا اظہار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ دہشت گرد مستقل ٹھکانوں کا استعمال نہیں کرتے اِس لئے موبائل فون لوکیشن پر اگر فوری رسپانس نہ کیا جائے تو بعدازاں حملہ آوروں کے ’کمان مرکز‘ تک رسائی ممکن نہیں رہتی! فی الوقت افغانستان میں صرف تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ہی نہیں بلکہ جماعت الاحرار‘ داعش اور ساتھ ہی بلوچ عکسریت پسند بھی موجود ہیں اور یقیناًمزید کئی حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہوں گے یا کئے بیٹھے ہوں گے جبکہ افغانستان خود بھی اِس حقیقت کو تسلیم کر چکا ہے کہ دہشت گرد افغان علاقوں میں موجود ہیں لیکن اُن تک افغان حکومت یا افغان سیکورٹی اداروں کی رسائی نہیں! 

افغانستان میں حالیہ چند مہینوں میں ہوئے ڈرون حملے لائق توجہ ہیں‘ جن سے بچنے کے لئے عین ممکن ہے کہ دہشت گرد پاکستان کے قبائلی علاقوں کا رُخ کریں اور ایسی صورتحال زیادہ تشویشناک ہو سکتی ہے کیونکہ قبائلی علاقوں کی جداگانہ امتیازی حیثیت تاحال حل طلب ہے جسے باوجود ضرورت کے بھی ملک کی سیاسی و عسکری قیادت تبدیل کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی۔ افغان مہاجرین کی واپسی‘ انہیں پاک افغان سرحدی علاقوں میں کیمپوں تک محدود رکھنے اور پاکستان میں صرف اور صرف ’پری پیڈ‘ موبائل فون کنکشنز کے بناء کوئی دوسرا پائیدار حل نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں مل کر دہشت گردی سے نمٹنے کا مؤثر حل نکال سکتے ہیں لیکن اِن دو‘ برادر‘ ہمسایہ‘ مسلمان ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے اور افغان سرزمین اور وہاں کے وسائل پاکستان کے خلاف استعمال کرنے والی طاقتوں میں بھارت پیش پیش ہے‘ تو مزید غفلت اور خاموش تماشائی بننے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

پاکستان کی داخلی سیکورٹی بالخصوص خیبرپختونخوا کے صدر مقام پشاور کے لئے ’سیف سٹی پراجیکٹ‘ اور اِسے محفوظ بنانے کے لئے سیکورٹی اداروں کی افرادی قوت اور جدید تکنیکی وسائل میں اضافہ بھی اَشد ضروری ہے۔ آدھی شاباش کی مستحق پشاور پولیس نے اپنے حصے کا ایک کام تو پورا کردیا لیکن ابھی آدھا کام تو باقی ہے!
۔

Friday, September 22, 2017

Sept 2017: Muharram associated with security concerns, why?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام

اِستقبال محرم الحرام!


ماضی کی طرح رواں برس بھی خیبرپختونخوا میں ’نئے اسلامی سال‘ کا آغاز (استقبال) اَمن و امان کو لاحق خطرات سے نمٹنے‘ دہشت گردی کے خوف کو کم کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لئے غیرمعمولی ’حفاظتی انتظامات‘ کے ذریعے کیا جارہا ہے لیکن اُس ایک مسئلے (دردسر) کا ’مستقل حل (علاج)‘ تلاش نہیں کیا جاتا‘ جس کی وجہ سے ہر سال قومی خزانے سے کروڑوں روپے ’بنام عارضی سیکورٹی‘ پر خرچ کئے جاتے ہیں! خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے رواں سال ’’محرم الحرام 1439ہجری‘‘ کی مناسبت سے مجالس عزاء‘ ماتمی جلوسوں اُور مذہبی اجتماعات کی ’براہ راست نگرانی‘ کے لئے ’کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن نشریاتی الیکٹرانک آلات‘ نصب کئے جائیں گے۔ یہ بیش قیمت آلات دہشت گردی یا فرقہ واریت اور انتہاء پسندی پر قابو پانے میں کس حد تک معاون ثابت ہوں گے یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے لیکن محرم الحرام کی سیکورٹی کے نام پر کروڑوں روپے نت نئے آلات کی خریداری کی نذر ضرور ہو جائیں گے۔ سوال یہ بھی ہے کہ گذشتہ برس نگرانی کے لئے جو کیمرے (نگران آلات) نصب کئے گئے وہ اِس مرتبہ کتنے کارآمد ہیں اور رواں برس نئے آلات کی تنصیب کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے جبکہ محرم الحرام کی مناسبت سے جملہ سرگرمیاں روائتی ہیں اور ان کے اوقات و راستے پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ کسی بھی نئے جلوس یا اجتماع کے انعقاد کی باوجود درخواست بھی اجازت نہیں دی جاتی اور کسی مخصوص علاقے میں چھوٹے بڑے اجتماعات کے انعقاد کے باقاعدہ لائسینس (اجازت نامے) جاری کئے جاتے ہیں جن کے بغیر کسی بھی قسم کا چھوٹا بڑا‘ اجتماع یا تقریب منعقد نہیں کئے جا سکتے۔

نیشنل کاونٹر ٹریرازم اتھارٹی (نیکٹا) کی ویب سائٹ (nacta.gov.pk) پر دستیاب 20 نکاتی ’اِنسداد دہشت گردی‘ سے متعلق پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی متفقہ قومی حکمت عملی ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ جنوری دوہزارپندرہ سے توجہ کا طالب ہے‘ جس پر عمل درآمد وفاقی حکومت سے زیادہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری تھی لیکن اِس جامع پلان کے کسی ایک نکتے پر بھی ’سو فیصد‘ عمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات اور اس سے قبل و بعدازاں ہر انتخابی معرکے میں کالعدم تنظیموں کے نامزد اُمیدواروں کی کسی نہ کسی صورت نمائندگی ہوتی ہے لیکن اِنتہاء پسندی اور فرقہ وارانہ جذبات کو اُبھارنے والوں کے خلاف خاطرخواہ کاروائی نہیں کی جاتی تو پھر ہمیں غیروں (امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ) کی الزام تراشیوں پر سیخ پا نہیں ہونا چاہئے۔ صدر ٹرمپ نے 21 اگست کو جنوب ایشیاء کے لئے نئی امریکی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کو ’’دہشت گردوں کی پناہ گاہ‘‘ قرار دیا تھا اور اُن کے اِس بیان کی حمایت میں 4 ستمبر کو عالمی تعاون تنظیم برکس (برازیل‘ روس‘ بھارت‘ چین اور جنوبی افریقہ)‘ کے اجلاس میں جہاں شمالی کوریا کے جوہری تجربے اور میزائل ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کی مذمت کی گئی وہیں پاکستان کو خطے اور عالمی امن کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’’دنیا کی چند انتہائی خطرناک دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں اپنے مراکز رکھتی ہیں۔‘‘ اگرچہ مذکورہ ’مشترکہ اعلامیے‘ میں اِس الزام سے متعلق زیادہ تفصیل سے بات نہیں کی گئی لیکن مغربی تجزیہ کار پاکستان کی اُس حکمت عملی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں‘ جس میں پاکستان کو ’غیرریاستی کرداروں‘ کی ’ریاستی پشت پناہی‘ کرنے ’’اچھے اور بُرے عسکریت پسندوں (طالبان)‘‘ کے ذریعے خطے میں جنگی مہمات کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ ’دہشت گردی‘ سے پریشان حال پاکستان پر ’دہشت گردی‘ کی سرپرستی کرنے کا الزام لگانے عائد کرنے والوں میں ہمارا سب سے اچھا دوست ’چین‘ بھی ہم آواز ہو چکا ہے لیکن اِس کے باوجود ہمارے سیاسی و عسکری فیصلہ سازوں ایک ایسی حقیقت کا مسلسل (مستقل) انکار کر رہے ہیں‘ جس پر (سوائے ہمارے) پوری دنیا یقین کئے بیٹھی ہے لیکن چاہے دنیا ہمارا اعتبار کرے یا نہ کرے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’اِنسداد دہشت گردی‘ کی کوششیں اگر بیانات کی حد تک محدود رہیں تو اِن کی کامیابی کے خاطرخواہ امکانات نہیں ہوں گی۔ جب تک پاکستان یہ بات ’عمل‘ سے ثابت نہیں کر دیتا کہ ملک کے طول و عرض میں مذہب کے نام پر‘ اَمن کے لئے خطرہ بننے والے عناصر بالخصوص دہشت گرد ہی نہیں بلکہ اِنتہاء پسند‘ فروعی اِختلافات اور فرقہ واریت پھیلانے والی کالعدم تنظیموں کے علاؤہ اِن کے سہولت کاروں کے لئے سیاسی و عسکری قیادت (اسٹیبلشمنٹ) کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں‘ اُس وقت تک پاکستان داخلی خطرات سے دوچار اور بے یقینی کا شکار ہی رہے گا۔




حسب سابق اِس مرتبہ بھی محرم الحرام کے پہلے عشرے کے دوران ’سیکورٹی کے نام پر غیراعلانیہ کرفیو‘ کا نفاذ ہونے جا رہا ہے۔ ماتمی جلوسوں یا اجتماعات سے متصل لیکن غیرمتعلقہ مرکزی شاہراہیں بند کی جائیں گی۔ نویں اور دسویں محرم الحرام کے روز موبائل فون اور موبائل انٹرنیٹ (ڈیٹا) سروسیز معطل ہونے سے خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح پشاور کے اندرون شہری و دیہی علاقوں میں رہنے والوں کو آمدورفت اور مواصلاتی رابطوں میں پریشانی کا سامنا رہے گا اُور عام آدمی (ہم عوام) کی اکثریت گھروں میں محصور ہو کر رہ جائے گی۔ 

خیبرپختونخوا حکومت اور پولیس پشاور کا فرض بنتا ہے کہ وہ صرف محرم الحرام کے آغاز سے اِیام عزاء کے اختتام (دو ماہ آٹھ دن کی مدت) کے لئے مستعدی کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں اُس مذہبی راواداری‘ برداشت اور مثالی (شیعہ سنی) بھائی چارے کو بحال کرنے کے لئے بھی عملی کوشش کریں‘ جو کبھی یہاں کے معمولات و معاشرت کا حسن ہوا کرتا تھا۔ ہر سال روائتی سیکورٹی پلان ’خان رازق شہید‘ کی تیار کردہ دستاویز پر تاریخیں اُور نام بدلنے سے امن و امان کو لاحق خطرات دور (ختم) نہیں ہوں گے۔ 

مسلمہ ہے کہ محرم الحرام کے پہلے عشرہ (دس روز) کو بالخصوص ہر فرقے اور مذہب کے ماننے والے محترم تصور کرتے ہیں۔ اِن ایام میں کثرت سے روزے رکھنا اور نفلی عبادات بھی معمول سے زیادہ کی جاتی ہیں کیونکہ کربلا توحید کی سربلندی اور اِس کے بقاء کے لئے جانی و مالی قربانیاں دینے کا عہد (اِستعارہ) ہے۔ محرم الحرام ایک نسبت بھی ہے جس میں خصوصیت کے ساتھ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے اور اُن کے جانثاروں کی میدان کربلا میں قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے والوں کی اکثریت اِس واقعے کو ’حق و باطل کا معرکہ‘ قرار دیتی ہے اُور بقول علامہ اقبالؒ ’’پیغام ملا تھا جو حسینؓ اِبن علیؓ کو ۔۔۔ خوش ہوں وہی پیغامِ قضاء میرے لئے ہے۔‘‘ 



Monday, August 21, 2017

Aug 2017: The goal of effective policing with expensive management wouldn't work!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پولیسنگ: اَندھی آنکھیں!
تیس مارچ (دوہزارسترہ) کے روز وزیراعظم کے حکم سے ’صلاح الدین خان محسود‘ کو خیبرپختونخوا کا ’’پولیس سربراہ (انسپکٹر جنرل پولیس)‘‘ مقرر کیاگیا‘ جس کے بعد سے پولیس کی کارکردگی اور اِحتساب سے متعلق بیانات داغنے کا سلسلہ جاری ہے۔ 

ماضی کی طرح ’انسپکٹر جنرل‘ کی آنکھوں میں سلیوٹ مار مار کر دھول جھونکنے والا چاق و چوبند ٹولہ بھی سرگرم دکھائی دیتا ہے اور پھر ایسا کون ہوگا جسے ’خوشامد‘ پسند نہ ہو!؟ صدافسوس کہ ’مؤثر پولیسنگ‘ کے حصول کے لئے ’بنیادی ذمہ داری کی بجاآوری‘ کی بجائے ثانوی‘ سطحی اور نمائشی اقدامات پر زیادہ توانائیاں اور مالی وسائل خرچ ہو رہے ہیں! خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو ’انگریزی زبان‘ میں بول چال اور پڑھنے لکھنے کی تربیت کا مقصد اگر خدمت خلق‘ فرض شناسی اُور جاں نثاری کے ساتھ‘ خوش اخلاقی کا حصول ہے تو یہ اہداف کسی ’خارجی زبان‘ کی کم یا زیادہ سمجھ بوجھ سے مشروط نہیں۔ دنیا کے کئی ایسے ممالک ہیں جہاں پولیس اہلکاروں کو انگریزی زبان نہیں آتی لیکن وہ معاشرے کے لئے عمومی و خصوصی طور پر اگر مفید ہیں تو اُنہوں نے ادارہ جاتی فرائض و مقاصد کو سوفیصد حکمرانوں یا ذاتی مفادات کے تابع نہیں کر رکھا۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ اہم شخصیات کی اردگرد حفاظتی حصار بنائے رکھنے والی ’پولیس فورس‘ کے اہلکاروں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ حکمرانوں کے غلام نہیں اور نہ ہی اُن کے ذاتی محافظ (باڈی گارڈز) ہیں بلکہ وہ ریاست کی خدمت کا عہد کئے مسلح‘ باوردی اور ایک ایسی طاقت (فورس) کا حصہ ہیں جنہیں قانون کی حکمرانی اور اِس کا رعب و دبدبے کا عملاً قیام ممکن بنانا ہے۔ عجیب صورتحال حال یہ ہے کہ معاشرے میں شریف اُسے سمجھا جاتا ہے جو پولیس سے کسی بھی قسم کا واسطہ نہ رکھتے ہوئے تھانے کچہری کے معاملات سے کوسوں دور رہیں یا پھر وہ عمائدین اور شرفاء کہلاتے ہیں جو ’پولیس فورس‘ کو اپنی لونڈی بنائے رکھیں۔


خیبرپختونخوا کے پولیس سربراہ ’انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی)‘ ایبٹ آباد تشریف لائے اور شہری مرکز سے دور پہاڑ کی چوٹی پر تعمیر خیبرپختونخوا (کے پی) ہاؤس میں عشایئے پر عمائدین شہر کو مدعو کیا جن میں اکثریت ایسے افراد پر مشتمل تھی جو پولیس کے محکمے کو ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے‘ اِسے بدعنوان اور غیرفعال کرنے کی خاص مہارت رکھتے ہیں۔ مہمانوں کی فہرست میں ذرائع ابلاغ کے ہم نوالہ ہم پیالہ نمائندے بھی شامل تھے‘ جن کی پرتکلف تواضع کے لئے درجنوں اقسام کے کھانوں کی خوشبو پوری وادی میں پھیلی ہوئی تھی! ذائقے دار ٹھنڈے اور گرم مشروبات کا شمار الگ سے ممکن نہیں تھا۔ بہرحال اٹھارہ اگست بروز جمعۃ المبارک کی شب ’’جنگل میں اِس منگل‘‘ اور تاحد نظر اسراف ہی اسراف دیکھتے ہوئے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ خیبرپختونخوا کسی ایسے محکمے کی تقریب ہے‘ جو حالت جنگ میں ہونے کے باوجود بھی نہ تو خاطرخواہ افرادی وسائل رکھتی ہے اور نہ ہی جدید اسلحے سے لیس ہے۔ تھانہ جات کے پاس گشتی گاڑیاں کی مرمت اور ایندھن کے علاؤہ ٹیلی فون بلوں کی بروقت ادائیگی کے لئے اکثر پیسے نہیں ہوتے۔ ڈیوٹی کے دوران شہید ہونے والوں کو پورے اعزاز سے دفن کرنے کے بعد اُن کے لواحقین و پسماندگان کو گلہ رہتا ہے کہ حسب اعلانات حقوق کی کماحقہ ادائیگی نہیں کی جاتی۔ 

مدعوین کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت سے زیادہ بلکہ زیادہ سے بھی زیادہ مقدار میں مرغن کھانے چن دینے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں تھی جبکہ شرکاء کی بڑی تعداد زندگی کی چالیس اور پچاس بہاریں دیکھنے کے بعد عمر کے اُس حصے میں داخل تھی‘ جہاں ڈاکٹر بالخصوص گھی‘ چینی‘ میٹھے اُور مرغن غذاؤں سے پرہیز تجویز کرتے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ اِس اسراف کی شکایت اپنے آپ کے علاؤہ کس سے کی جائے؟ ہر طرف مسرور و مطمئن چہرے اور اُن پر لگی ’اَندھی آنکھیں‘ تھیں! ماضی کی طرح موجودہ انسپکٹر جنرل پولیس ایسے ماتحتوں کے نرغے میں نظر آئے‘ جو اُن کی ہر مسکراہٹ پر قربان اور ہر اشارے پر تعمیل کے منتظر تھے۔ اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کی خصوصی عزت افزائی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تحائف کا تبادلہ ہوا۔ سروں پر پگڑیاں اور چادریں ڈالی گئیں۔ قہقہے گونجتے رہے۔ جیسے پولیس کی کارکردگی اُس حد تک ’اطمینان بخش‘ ہو چکی ہے کہ اب عام آدمی (ہم عوام) کی عزت و آبرو اور چادروچاردیواری کا تحفظ ممکن ہو چکا ہے!

اٹھارہ اگست کی رات گئے تک ’کے پی ہاؤس‘ میں ہونے والے استقبالیے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن اگر نئے انسپکٹر جنرل کی مختلف مکاتب فکر سے تعارفی نشست‘ ضلعی حالات و واقعات کے بارے میں تبادلۂ خیال کے لئے بامقصد نشست مقصود ہوتی‘ تو اِس کا انعقاد مغرب سے عشاء کے درمیان ’ڈسٹرکٹ اسمبلی کے ٹاؤن ہال‘ میں بھی ہوسکتا تھا جو شہر کے وسطی حصے میں واقع ہے‘ جس تک پہنچنے کے لئے سرکاری و نجی وسائل سے لاکھوں روپے کا ایندھن الگ سے ضائع کرنے کی بھی ضرورت پیش نہ آتی۔ سادگی میں بڑی حکمت ہے اور سادگی اختیار کرنے ہی میں عافیت ہے کیونکہ خیبرپختونخوا پولیس کے پاس مالی وسائل لامحدود نہیں۔ کیا یہ مطالبہ ناجائز ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے پیسے کی ہر ایک پائی سوچ سمجھ کر اور دردمندی کے ساتھ خرچ ہونی چاہئے؟ 


انسپکٹر جنرل صاحب بہادر اپنے ڈیپارٹمنٹ میں ’کالی بھیڑوں‘ کی موجودگی سے انکار نہیں کرتے اور یہی وجہ تھی کہ اٹھارہ اگست کی شب اُنہوں نے ایک ایسے حیران کن ’تجرباتی اقدام‘ کا اعلان کیا‘ جو پہلے ہی ایک سے زیادہ قوانین و قواعد میں موجود ہے یعنی پولیس کی کارکردگی پر نظر عوام کے منتخب بلدیاتی نمائندے اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے رکھی جائے گی۔ لطیفہ نہیں تو کیا ہے لیکن صاحب بہادر کا بیان سرآنکھوں پر کہ ’’پولیس ایکٹ 2017ء کی منظوری اور نفاذ کے بعد ممکن ہو جائے گا کہ عام آدمی (ہم عوام) پولیس کا احتساب کر سکیں گے!‘‘ جس محکمے کا احتساب خود اُس کے اپنے فیصلہ ساز نہ چاہتے ہوں‘ وہاں عام آدمی (ہم عوام) کی جرأت ہی کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ ٹرانسپورٹرز‘ ہوٹل و گیسٹ ہاؤس مالکان‘ جائیدادوں کی خریدوفروخت کے بڑے حصہ داروں اور سب سے بڑھ کر سیاسی شخصیات کے منظورنظر‘ پولیس اہلکاروں سے اُن کی مالی حیثیت کے بارے پوچھ سکیں!؟

 آئی جی پی کے لئے عشایئے میں ایک ایسے رکن قومی اسمبلی بھی موجود تھے‘ جن پر 29 دسمبر 2016ء کے روز‘ جلال بابا آڈیٹوریم ایبٹ آباد میں منظم (coordinated) حملہ ہوا جس میں پولیس‘ صحافی اور فوج کے ایک ریٹائرڈ اہلکار نے سیاسی و خاندانی مخالفت کی آڑ میں وار کیا۔ خیبرپختونخوا میں پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کے لئے نادر موقع تھا کہ وہ اختیارات و قانونی مہارت کا غلط استعمال کرنے والے کو پولیس اہلکاروں ہی کو بے نقاب کرتے‘ جن کے ناقابل تردید ثبوت بصورت ’ٹیلی فون ریکارڈ (سی ڈی آر ڈیٹا)‘ موجود تھا۔ مذکورہ حملے کی ادنیٰ و اعلیٰ سطحی تحقیقات در تحقیقات میں سات ماہ (تیس ہفتوں) سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن کسی ایک بھی کردار کو تاحال سزا نہیں ہوئی یعنی احتساب نہیں ہوا۔ وہی پولیس کے اختیارات‘ سادگی‘ مستعدی کا مظاہرہ جس میں فرسودہ نظام کے ذریعے معاملہ ’دفعات کے حوالے‘ کر دیا گیا ہے۔ بھلا جس حکومت میں خود اپنی ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک رکن قومی اسمبلی کو انصاف نہ مل سکا ہو‘ وہ ’تحریک انصاف‘ کیسے ہو سکتی ہے اور اُس کی حکمرانی میں تھانہ و کچہری کلچر (نظام) سے وابستہ ’عام آدمی (ہم عوام)‘ کی توقعات کیونکر پوری ہوسکتی ہیں!؟

Monday, June 19, 2017

June2017: Security of VVIPs challenged, costing us too much!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خیر کی توقعات؟
خیبرپختونخوا میں اَمن و امان کی صورتحال میں غیرمعمولی بہتر (تبدیلی) کا دعویٰ کرنے والوں کا عمل ’’قول وفعل میں تضادات کا مجموعہ‘‘ ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ’اہم شخصیات (وی آئی پیز اُور وی وی آئی پیز) کی ذاتی حفاظت کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد یوں تعینات نہ ہوتی۔ اِس بیک وقت تشویشناک‘ مضحکہ خیز اور خودغرضی پر مبنی طرز عمل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے معروف وکیل ’محمد خورشید خان‘ نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے تاکہ صوبائی حکومت اور بالخصوص محکمۂ داخلہ‘ پولیس اُور قانون نافذ کرنے والے اِداروں کے دیگر فیصلہ سازوں سے جواب طلبی کی جاسکے کہ آخر کیا جواز (ضرورت) ہے کہ ’خیبرپختونخوا میں قریب ’پانچ ہزار پانچ سو‘ پولیس اہلکار صرف اور صرف گنتی کے اہم شخصیات کے حوالے کر دیئے گئے ہیں جو اُن کی سیکورٹی کے نام پر شخصی ملازم (غلام) بنے ہوئے ہیں جو اپنے آقاؤں کی جان و مال کے محافظ بناتے اجتماعی عوامی مفادات کی قربانی دے دی گئی ہے۔‘‘

منطقی مؤقف ہے کہ پولیس اہلکاروں کی بھرتیوں اُور تعیناتیوں کا ’اَصل (مرکزی و بنیادی) مقصد‘ عام آدمی کی جان و مال کی حفاظت اور قانون نافذ کرنا ہوتا ہے لیکن پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد سے غیرضروری اِستفادے سے نہ صرف اِس اہم فورس کے اہلکار ایک بے معنی کام (ایکسرسائز) میں مصروف (کا حصہ) ہیں اُور دوسرا سرکاری خزانے سے اَدا ہونے والی تنخواہوں اُور مراعات کے عوض بااثر سیاسی و غیرسیاسی شخصیات کو اہم قرار دیتے ہوئے اِس قدر بیجا مصرف کہاں کا انصاف ہے؟ اپنی نوعیت کے اِس انوکھے مقدمے کے پیش ہوتے ہی پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اُور جسٹس عبدالشکور پر مبنی عدالت نے متعلقہ فریقین (بوساطت چیف سیکرٹری صوبائی حکومت) کو طلب کرلیا کہ وہ ڈویژنل بینچ (عدالت) کے روبرو حاضر ہو کر اپنا مؤقف (جواز) پیش کریں۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ’اہم شخصیات‘ کو کسی بھی وجہ سے ’حفاظت (سیکورٹی)‘ کی ضرورت ہے تو چونکہ اِن اہم شخصیات کا تعلق معاشرے کے غریب غرباء سے نہیں اور عجیب حسن اتفاق ہے کہ ہمارے اردگرد کوئی ایک بھی ’اہم شخص (وی وی آئی پی)‘ ایسا نہیں جس کی (معلوم) مالی حیثیت مشکوک نہ ہو۔ عوام کے دکھ درد کا رونا رونے اور مگرمچھ کے آنسو (ٹسوے) بہانے والوں کی مہارت ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح نہایت خاموشی و رازداری سے ایک دوسرے کو نوازتے ہیں! اِن صاحبان ثروت کے اردگرد درجنوں کی تعداد میں اُن کے ذاتی ملازمین منڈلاتے تابع فرمان رہتے ہیں تو ایسی صورت میں ’اضافی سیکورٹی‘ کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے؟ اُور اگر ضرورت ہے تو پھر ’وی وی آئی پیز‘ کو اپنے ہی مالی وسائل سے اِس کا بندوبست کرنا چاہئے۔

لائق توجہ امر یہ بھی ہے کہ اگر فیصلہ سازی کے منصب پر فائز کرداروں نے ’وی وی آئی پیز‘ کا تشخص برقرار رکھنا ہی ہے تو پھر ایک الگ سیکورٹی فورس کیوں تشکیل نہیں دی جاتی جو صرف اُور صرف اِن ’نام نہاد (خودساختہ)‘ وی وی آئی پیز کے لئے مخصوص ہو۔

عوام کے نام پر بھرتی کئے جانے والے پولیس اہلکاروں اور قومی وسائل کی بندربانٹ کسی بھی صورت ’امانت و دیانت‘ کے اصولوں (کسوٹی) پر پورا نہیں اُترتی۔ اِسی مقدمے کی ذیل میں اگر ’پشاور ہائی کورٹ‘ یہ جواب بھی طلب کرے کہ صوبائی وسائل سے کن کن اور جن جن اراکین قومی اسمبلی کو ’سیکورٹی‘ فراہم کی جا رہی ہے اور شخصی سیکورٹی کے علاؤہ وہ کون کون سے ’وی وی آئی پیز‘ ہیں کہ جن کی رہائشگاہوں پر مستقل پولیس اہلکار تعینات ہیں تو مزید دلچسپ حقائق اور حیران کن اعدادوشمار سامنے آئیں گے۔ تحریک انصاف نے مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل خیبرپختونخوا کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ماضی کی روائتی سیاسی جماعتوں کی مالی و انتظامی بدعنوانیوں کا باب ہمیشہ کے لئے بند کر دے گی لیکن عرصہ چار سال (مئی دوہزار تیرہ سے جون دوہزار سترہ تک) ایسا کچھ بھی عملاً دیکھنے کو نہیں ملا!

کوئی یقین کرے یا نہ کرے لیکن تحریک انصاف کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ چار سال میں جادوئی طور پر ’خیبرپختونخوا پولیس کو غیرسیاسی‘ کر دیا گیا ہے لیکن عام آدمی (ہم عوام) کے نکتۂ نظر سے تبدیلی صرف اور صرف بیانات کی حد تک محدود ہے وگرنہ تھانہ کلچر اور پولیس کے اعلیٰ و ادنیٰ اہلکاروں کا مزاج و کارکردگی ’جوں کی توں‘ برقرار ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ چار سال کا وقت ضائع کر دیا گیا جس دوران پولیس کی صفوں (بھیس) میں کالی بھیڑوں کا صفایا سزا و جزأ کے ذریعے ممکن تھا اور اگر اختیارات و خودمختاری کے ساتھ‘ محکمانہ سطح پر احتساب بھی متعارف کرا دیا جاتا کہ ہر پولیس اہلکار کی مجموعی تنخواہوں اور برسرزمین مالی حیثیت (اثاثوں) کے بارے چھان بین کا عمل شروع ہوتا تو کیا ہی بات ہوتی!

کھلی حقیقت ہے کہ اضلاع میں دہائیوں سے تعینات پولیس اہلکاروں نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے کاروباری و ذاتی مفادات کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے اور یہ ’پیٹی بند‘ اتنے ’طاقتور و متحد‘ ہیں کہ عام آدمی اُن کے سامنے آج بھی بے بس و لاچار دکھائی دیتا ہے!

ترجیحات اور خیر اندیشی ملاحظہ کیجئے کہ صوبائی دارالحکومت کے لئے پولیس اہلکاروں کی کل تعداد 6 ہزار 200 ہے جن میں سے 1 ہزار 529 اہم شخصیات کے حوالے ہیں! عجیب منطق ہے کہ اِسی ضلع پشاور میں صرف 25 ’وی وی آئی پیز‘ کے ہمراہ 178 پولیس اہلکار ’شاہانہ مزاج‘ کی تسکین کا سامان ہیں جبکہ ایک ہزار پانچ اہلکار اہم شخصیات کی رہائشگاہوں یا حکومتی دفاتر پر الگ سے تعینات ہیں۔ لب لباب یہ ہے کہ پشاور کے لئے 6200 پولیس اہلکاروں میں سے صرف 3 ہزار ہی باقی بچتے ہیں جن کے کندھوں پر ذمہ داری ہے کہ قریب ستر لاکھ کی آبادی کے شہر کو ہرقسم کے داخلی و خارجی خطرات سے محفوظ رکھیں!

پشاور میں حسب آبادی تھانہ جات اور پولیس اہلکاروں کی افرادی تعداد کون بڑھائے گا؟ اعدادوشمار چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا پولیس کے وسائل و افرادی قوت سے خاطرخواہ استفادہ نہیں ہو رہا۔ ملاکنڈ میں 271‘ مردان میں 172‘ ڈیرہ اسماعیل خان میں 52‘ ایبٹ آباد میں 59‘ کوہاٹ میں 38‘ ہنگو میں 10‘ لوئر دیر میں 101 اور کرک میں 9 پولیس اہلکاروں کا کام صرف اور صرف ’اہم شخصیات‘ کی حفاظت ہے! علاؤہ اَزیں ڈھیروں ڈھیر ’اہم شخصیات‘ کی حفاظت کرنے والے ہزاروں پولیس اہلکار اِس بات کو ’اِستحقاق‘ سمجھتے ہیں کہ وہ ’خانصاحب بہادروں‘ کی آمدورفت کے موقع پر سڑکیں بند کر دیں‘ جس سے عام آدمی (ہم عوام) کے لئے غیرمعمولی مشکلات پیدا ہوتی ہیں! کیا ’پشاور ہائی کورٹ‘ ایک ایسی گھتی سلجھا پائے گی‘ جس کا بنیادی تعلق ’احساس اور ضمیر‘ سے ہے اور اِن جیسے بہت سے لطیف محسوسات کی نجانے کب سے موت ہو چکی ہے!

Sunday, March 5, 2017

Mar2017: Effective way, the e-policing!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
اِی پولیسنگ!
ٹیکنالوجی (اِی گورننس) پر اِعتماد و اِنحصار کرنے والے ممالک نے ’ترقی کا سفر‘ بتدریج طے کیا کیونکہ اُن کے ہاں اِدارہ جاتی نظم و ضبط قائم کرنے میں مصلحتیں آڑے نہیں آئیں۔ بدعنوانی اور کام چوری کے امکانات بتدریج کم ہوتے چلے گئے اور بناء امتیاز و تعصب سرکاری وسائل سے ہر خاص و عام کو استفادہ کرنے کے مواقع میسر آ رہے ہیں لیکن صرف یہی رکاوٹیں ہمارے ہاں حائل نہیں بلکہ فیصلہ سازوں کی ٹیکنالوجی سے ناخواندگی شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے جو ایک ایسی بڑی رکاوٹ (اسپیڈ بریکر) ہے‘ جس کی وجہ سے ’اِی گورننس‘ مکمل طور پر رائج نہیں ہو پارہی لیکن ایسی چند لائق تقلید مثالیں بھی موجود ہیں‘ جو پاکستان کے اپنے سافٹ وئر انجنیئرز کی صلاحیتوں اور سوچ بچار کا منہ بولتا شاہکار ہیں جیسا کہ پنجاب پولیس کا متعارف کردہ سافٹ وئر ’’ہوٹل آئی(Hotel Eye)‘‘ جس کی مدد سے چودہ ماہ کے دوران صوبے بھر سے قریب ڈھائی ہزار مشتبہ افراد و ملزمان اور مجرموں کا سراغ لگایا گیا‘ جن میں درجن بھر فورتھ شیڈولرز بھی شامل تھے اور اگر ’ہوٹل آئی‘ نہ ہوتا تو ایسے افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ممکن نہ ہوتی!
پنجاب حکومت نے شعبۂ تعلیم کے ساتھ انتظامی امور میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو متعارف کرایا تو ابتدأ میں اِس مہنگے نظام سے حاصل ہونے والے نتائج زیادہ متاثر کن نہیں تھے لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اور ڈیٹابیس میں موجود کوائف کا حجم بڑھ رہا ہے‘ ویسے ویسے شناخت سے آگے کے مراحل تیزی سے طے ہو رہے ہیں یعنی ٹیکنالوجی پر مبنی نظام نے اپنا پھل دینا شروع کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ ’ہوٹل آئی‘ کہ جسے ابتدائی طور پر صرف لاہور کی حد تک لاگو کیا گیا‘ کامیابی کے بعد اسے صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ 

پنجاب پولیس کی ویب سائٹ پر موجود اعدادوشمار کے مطابق ’ہوٹل آئی‘ کی مدد سے صوبے بھر سے چار لاکھ ستر ہزار سے زائد افراد کے کوائف کی جانچ پڑتال کی جا چکی ہے جن میں سے ایک ہزار چار سو سے زائد افراد پولیس کو مطلوب پائے گئے۔ درحقیقت پنجاب میں موجود ’کریمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم‘ کی بدولت جرائم اور ملزمان و مجرموں کے کوائف ایک مرکزی ڈیٹابیس میں جمع کئے جاتے ہیں‘ جہاں سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اِن سے حسب ضرورت استفادہ کرتے ہیں۔ پولیس حکام گرفتار ملزمان کا ریکارڈ بشمول فنگرپرنٹس‘ تصاویر‘ شناختی کارڈ نمبرز‘ ایڈریسز‘ موبائل فون نمبرز اور فیملی ہسٹری سمیت تمام ڈیٹا ’کریمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم‘ میں اَپ ڈیٹ کرتے ہیں لیکن ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن میں جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ رعایت کرتے ہوئے اُن کے ریکارڈ ڈیٹابیس کا حصہ (اَپ ڈیٹ) نہیں کئے گئے۔

صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ ملک کے ہر صوبے میں ’گلوبٹ‘ پائے جاتے ہیں جن کا تعارف یہ ہے کہ وہ کسی انتخابی حلقے یا علاقے میں سیاسی جماعتوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اُور کا سیاسی اثرورسوخ اور تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے بھی نہیں ہوتے جنہیں پولیس حکام نظرانداز نہیں کرسکتے۔ خیبرپختونخوا میں پولیس کا نظام غیرسیاسی کرنے کا دعویٰ اُس تک مکمل نہیں ہوگا جب تک ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس کی کارکردگی کو شفاف اور بناء امتیاز مؤثرپولیسنگ لاگو نہیں کی جاتی۔ چونکہ ٹیکنالوجی کے احساسات و جذبات‘ وابستگی یا پسند و ناپسند نہیں ہوتی اور اِس سے وہی کچھ (نتائج) حاصل ہوتے ہیں‘ جن کی آرزو (منصوبہ بندی) کی گئی ہوتی ہے۔ اِس لئے ٹیکنالوجی ہی واحد آسرا ہے کہ اِس کی مدد سے جرائم اور سیاست کے درمیان تعلق کا راز فاش کیا جا سکے اور اس کا مثبت اثرات شفاف عام انتخابات کی صورت بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی سطح پر ’ہوٹل آئی‘ طرز کا ضمنی اُور بنیادی ’کریمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم‘ متعارف کرانے کی اَشد ضرورت ہے جس سے نہ صرف تھانہ جات کا ریکارڈ مرحلہ وار انداز میں ڈیجیٹائز کیا جا سکتا ہے بلکہ ’ڈیجیٹل ریکارڈ کیپنگ‘ سے مستقبل میں جرائم کی شرح کم کرنے میں مدد بھی مل سکتی ہے۔ 

خیبرپختونخوا میں صوبہ پنجاب سے زیادہ ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف شفاف طرزحکمرانی اور ادارہ جاتی فعالیت کے اہداف حاصل ہوں گے بلکہ قبائلی علاقہ جات کے ضم ہونے یعنی چالیس سے پچاس لاکھ افراد کے صوبے میں شامل ہونے کے عمل کو شروع دن سے اگر ڈیجیٹل خطوط پر استوار کیا جائے تو اِس سے قبائلی و بندوبستی افراد کے آپسی تعلق میں بھی بہتری آئے گی اور مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ہر کس و ناکس کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر باآسانی نظر رکھی جا سکے گی۔ خیبرپختونخوا میں پولیس کے وسائل پر پہلے ہی بوجھ ہے‘ جسے ٹیکنالوجی جیسے سلیقے کی مدد سے بڑی حد تک کم بھی کیا جا سکتا ہے اور اِس سے اُن جرائم پیشہ عناصر کی تلاش یا جرائم کا شکار ہونے والوں کی مدد بھی ممکن بنائی جا سکتی ہے‘ جنہیں تھانہ کچہری سے رجوع کرنے میں خوف آتا ہے لیکن ’آن لائن‘ وسائل کی مدد سے وہ گھر بیٹھے پولیس حکام سے اپنے مسائل کے بارے تبادلہ خیال کر سکیں گے۔ 

خیبرپختونخوا میں تبدیلی بذریعہ ٹیکنالوجی رائج کرنے سے مستقبل میں ترقی کی سمت کا تعین ممکن ہے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ (کڑوا گھونٹ) تو ہے لیکن ناممکن نہیں کیونکہ اگر پاکستان کی کل آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ پنجاب ’کریمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم‘ سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے تو خیبرپختونخوا کیوں نہیں؟

Thursday, March 2, 2017

Mar2017: Effective Policing Examples!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مستعد جواب!
آپریشن ’ردّالفساد‘ کے آغاز سے ایک روز قبل ’اکیس فروری‘ کی صبح ’تحصیل تنگی‘ کی عدالتوں پر تین خودکش حملہ آوروں کو اپنے ٹارگٹ پر جانے سے پہلے ہی انجام تک پہنچا دیا گیا جو نہ صرف خیبرپختونخوا پولیس بلکہ پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک ایسا انوکھا واقعہ ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی مستعدی نے بڑے پیمانے پر ناقابل تلافی جانی نقصانات ہونے سے بچائے اور یہی وجہ تھی کہ خیبرپختونخوا پولیس کے سربراہ نے ڈی آئی جی مردان ریجن اعجاز احمد خان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف بھی کیا اور موقع پر تعینات اہلکاروں کو بطور حوصلہ افزائی ’اعزازت‘ سے بھی نوازہ۔ تنگی کچہری حملے کے بارے خفیہ اطلاعات پہلے ہی سے موجود تھیں اور ایسی اطلاعات عموماً موجود ہوتی ہیں جنہیں خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ مذکورہ مثال اِس لئے انوکھی ہے کیونکہ ڈی آئی جی مردان ریجن نے ذمہ داری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خفیہ اطلاعات کو نظرانداز نہیں کیا۔ اگر انتظامی عہدوں پر فائز دیگر اہلکار بھی اِسی قسم کی حساسیت کا مظاہرہ کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ بہت سی قیمتی جانیں اور املاک کے نقصانات کم کئے جا سکیں۔ جس کے لئے پہلے ہی سے تیاری مکمل تھی۔ تنگ گلی سے نکلتے ہی حملہ آوروں نے گیٹ پر موجود پولیس اہلکاروں پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی اور ہینڈ گرینڈ پھینکے‘ اِس اچانک حملے سے پولیس کے چار جوان زخمی ہوئے لیکن حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو حملہ آوروں کو داخل ہونے سے قبل ہی ہلاک کردیا جبکہ تیسرے نے خود کو اُڑا دیا۔ یاد رہے کہ اِس حملے کے وقت مذکورہ چاردیواری کے اندر جج صاحبان اور وکلاء سمیت سینکڑوں افراد موجود تھے! 

تنگی تحصیل حملے میں اہم تنصیب تو محفوظ رہی لیکن سڑک سے گزرنے والے پانچ افراد‘ زد میں آ کر شہید جبکہ دس زخمی ہوئے‘ جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ پولیس کی اِس بروقت کاروائی پر وفاقی و صوبائی حکومتوں اور پاک فوج کے سربراہ نے ’’شاباش‘‘ دی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر پولیس اہلکار ذہنی طور پر حاضر نہ ہوتے تو زیادہ بڑے پیمانے پر نقصان ہوتا۔ خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیاں ڈھکی چھپی نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں سرخرو اُور کامران پولیس کی کارکردگی کا روشن پہلو یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس کو غیرسیاسی کرنے کے ثمرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ اگست دوہزار سولہ سے ’ڈی آئی جی مردان ریجن‘ اعجاز اَحمد خان قبل ازیں پشاور پولیس کے سربراہ (سی سی پی اُو) بھی تعینات رہے اور اِس عرصے کے دوران بھی اُن کی خدمات نمایاں رہیں بالخصوص انسداد پولیو کے حوالے سے انتظامات کی تعریف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی کی اور اِسی کارکردگی کی بنیاد پر وہ پشاور جیسے مرکزی اور اہم شہر کے پولیس سربراہ رہے۔

تنگی حملے کو ناکام بنانے میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی لائق مطالعہ اور حاصل مطالعہ ہے۔ ماضی کے مقابلے اگر خیبرپختونخوا پولیس کی کارکردگی کا معیار بلند ہوا ہے تو اِس بہتری کی بڑی وجہ ’پولیس کا غیرسیاسی‘ ہونا ہے۔ انسداد دہشت گردی کے لئے خفیہ معلومات کی اہمیت سے انکار نہیں کیونکہ ایک مرتبہ سفر اختیار کرنے والے خودکش فدائیوں کو روکنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ 

مغربی ممالک کی مثالیں تو اپنی جگہ عرب ممالک میں بھی خفیہ معلومات ہی کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کاروائیاں کرتے ہیں۔ اُمید ہے کہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں بھی خفیہ اِطلاعات جمع کرنے کے ’نیٹ ورک‘ کو اِسی طرح مضبوط اور قابل بھروسہ سمجھا جائے گا۔ دہشت گردوں سے زیادہ اُن کے سہولت کار اور انتہاء پسندی کو فروغ دینے والے عناصر پر نظر رکھنا ضروری ہے جو نہ صرف افرادی قوت اور مالی وسائل فراہم کرتے ہیں بلکہ اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے منصوبہ بندی کا حصہ بھی ہوتے ہیں اور اگر مقامی افراد کی رہنمائی و تعاون شامل نہ ہو تو افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کو اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں اس قدر سہولت نہ رہے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ منظم جرائم اور بھتہ خوری کے تانے بانے بھی انہی گروہوں سے جاملتے ہیں‘ جن کے کالعدم تنظیموں سے روابط ڈھکی چھپی بات نہیں۔ خوش آئند ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان باہمی تعلق اور مربوط کارکردگی کی وجہ سے اب تک ’مردان ریجن‘ میں کئی اہم کاروائیاں مکمل کی گئیں ہیں جن میں کئی انتہائی مطلوب دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ پاک فوج‘ نیم فوجی دستوں اور پولیس کی شبانہ روز محنت سے ایک ایسے خواب کی تعبیر ممکن ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس میں پاکستان خوف و دہشت سے نجات حاصل کر لے گا۔ بس ضرورت انتھک محنت اور فرض شناس اہلکاروں کی ہے جو ملک و قوم کی خدمت سے جذبے سے سرشار ہوں۔

Tuesday, February 21, 2017

Feb2017: Peace in Karachi, at any cost.

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
امن: بہرقیمت!
کراچی میں امن و امان کی صورتحال مثالی نہیں لیکن اگر اِس کا موازنہ گزشتہ چند دہائیوں سے کیا جائے تو غیرمعمولی بہتری آئی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے‘ بے ہنگم آبادی کے اِس امیر شہر کو دہائیوں تک نظرانداز کرنے کے سبب مسائل بڑھتے بڑھتے بحرانوں کی شکل اختیار کرتے رہے‘ جن میں نسلی اُور لسانی بنیادوں پر سیاسی مفادات کے لئے منظم جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی‘ فرقہ واریت‘ سبقت و مقبولیت کے لئے غیرصحت مند مقابلے کا رجحان‘ اسلحے‘ منشیات کی خریدوفروخت اُور کالا دھن کمانے‘ بیرون ملک منتقلی اُور سرکاری محکموں میں حد سے زیادہ سیاسی مداخلت کی ایک سے بڑھ کر ایک مثال موجود ہے مقامی افراد کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ’’اِن منفی رجحانات میں اگرچہ بڑی حد تک کمی آئی ہے لیکن صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں ہی کو تن تنہا ’امن کی بحالی‘ کے لئے ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ سیاسی حکمرانوں کو بھی اپنی ترجیحات اور فیصلوں میں کراچی کو اہمیت و ترجیح دینا ہوگی۔
روشنیوں کے شہر کراچی میں خطرات اور امن کی بحالی کے امکانات (توقعات اُمیدیں اور وسائل پر انحصار) کم نہیں لیکن زندگی کی رونقیں جس تیزی (رفتار) سے بحال ہو رہی ہیں‘ اُس سے عام آدمی کا اعتماد بڑھا ہے۔ پاکستان رینجرز سندھ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل محمد سعید پُرامید ہیں کہ قانون شکن اور دہشت و انتہاء پسندی پھیلانے والے عناصر کے خلاف جاری کاروائیوں (آپریشن) میں توقعات سے بڑھ کر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں‘ جن کا ثبوت یہ ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 91فیصد جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں 72 فیصد کمی آئی ہے! کراچی آپریشن میں اب تک پندرہ سو تیرہ دہشت گرد گرفتار ہوئے ہیں۔ نو ہزار سے زائد چھاپوں کی داستان میں دس ہزار سات سو سولہ کی تعداد میں ہتھیار (اسلحہ) بھی برآمد کرنے کا دعویٰ ہم جیسے صحافیوں کے لئے یقین کرنے کا ’’کافی جواز‘‘ تو ہو سکتا ہے لیکن کراچی کے عام آدمی کی نظر میں داخلی طاقتوں سے نمٹنے کے لئے جس طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ کچھ ضرورت سے زیادہ ہے اُور اگر قانون نافذ کرنے والے ’خفیہ اُور ظاہری معلومات‘ کی بنیاد پر ’آپریشنز‘ کئے جائیں تو مطلوبہ اہداف اور نتائج کم وقت میں حاصل ہو جائیں گے۔ رینجرز کا دعویٰ زمینی حقائق کی تصدیق کرتا ہے کہ بھتہ خوری اور اغوأ برائے تاوان کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہیجن کی شرح بتدریخ 93فیصد اور 86فیصد کم ہونا قطعی معمولی بات ہے! اب کراچی میں ’علاقہ غیر (نوگو ایریاز)‘ نہیں رہے۔‘‘ وفاق کے زیرکنٹرول کم و بیش ایک لاکھ افرادی قوت پر مبنی نیم فوجی دستے ’پاکستان رینجرز‘ کی دو الگ الگ شاخیں پنجاب اور سندھ میں فعال ہیں‘ جن کی ذمہ داریوں کا احاطہ ’پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959ء‘ میں کیا گیا ہے۔ واہگہ بارڈر لاہور پر قومی پرچم سرنگوں کرنے کی دلچسپ موسیقیت بھری تقریب دیکھنے کا اتفاق جس کسی کو بھی ہوا‘ وہ ’پنجاب رینجرز‘ کی سرحدی و جغرافیائی حفاظت سے جڑی ذمہ داریوں اور کارکردگی کے پہلوؤں سے آگاہ ہے لیکن رینجرز کا بنیادی مقصد بھارت کے ساتھ صوبہ سندھ و پنجاب میں بالترتیب 912 اور 1200 کلومیٹرز طویل جنوبی سرحد کی حفاظت کرنے تک محدود نہیں رہا لیکن سندھ کے صدر مقام کراچی میں صدر دفتر (ہیڈکواٹر) رکھنے والی رینجرز کو اِس شہر میں امن و امان کی بحالی کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی جسے احسن طورپر ادا کرنے کی عملی مثالیں یہاں وہاں دکھائی دیتی ہیں کہ کراچی کی رونقیں ایک ایک کر کے واپس لوٹ رہی ہیں!
پاکستان میں نہ تو قوانین کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین کے اطلاق کے لئے سیکورٹی فورسز یا اداروں کی تعداد ہی کم ہے۔ وفاق کے زیرانتظام 12 جبکہ صوبوں کے زیرانتظام 13الگ الگ ناموں سے ’سیکورٹی ایجنسیز‘ ہیں جن کا بنیادی کام ایک ہی ہے لیکن قوانین کے اطلاق میں اُس قومی پالیسی کو پیش نظر رکھا جاتا ہے‘ جس کے تخلیق صرف داخلی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے خطے میں مفادات بھی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں سیکورٹی کا مکمل کنٹرول کبھی بھی منتخب سیاسی حکومتوں کے پاس نہیں رہا بلکہ قانون نافذ کرنے کے نام پر مسلح دستے ہی کبھی زیادہ تو کبھی کم بااختیار رہے۔ اِن اداروں کے سربراہوں کی تقرری کی حد تک سیاسی حکومتوں کا عمل دخل نظر آتا ہے لیکن اپنے فیصلوں اور احکامات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ترجیحات و لائحہ عمل اختیار کرنے میں یہ سیکورٹی ادارے بڑی حد تک نہیں بلکہ مکمل خودمختار ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و انتظامی حکمرانی کا یہی پہلو سب سے زیادہ اِصلاح طلب ہے جس میں ادارے قومی مفاد سے زیادہ اپنی ذات اور ساخت میں خود کو محدود کئے ہوئے ہیں جس سے نفسانفسی کا ماحول غالب ہے اور قومی وسائل کا ضیاع الگ سے ہو رہا ہے۔ ملک کے کسی بھی حصے کو داخلی خطرات و خارجی سازشوں کے بچانے کے لئے اگر پولیس کی بجائے نیم فوجی دستے (رینجرز) سے محفوظ بنانا اِس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس کا قبلہ درست کرنے اور اِس کی صفوں سے کالی بھیڑوں کو نکال باہر کرنے جیسے مشکل فیصلے کی بجائے عارضی و آسان فیصلوں کو ترجیح دی گئی ہے‘ جس کی بوجھ قومی خزانے پر بھی ہے اور قومی ضمیر پر بھی کیونکہ طاقت کے انتہائی استعمال سے اِس بات کا امکان بھی موجود رہتا ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کچلے جائیں اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ عام لوگوں کو ناکردہ گناہوں کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے۔ امن بہرصورت اور بہرقیمت بحال ہونا چاہئے لیکن اِس کا بوجھ ’قومی قوت برداشت یا اعصاب‘ پر حاوی نہیں بلکہ اُس کی تقویت کا باعث ہونا چاہئے۔ انتظامی امور کے ساتھ قانون کی حکمرانی بھی قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہونی چاہئے۔ شفافیت اُور اِنسانی جان کی قیمت و اِحترام بھی بطور اصل ترجیح یکساں ضروری ہے کیونکہ جیل جیسا ’امن اور خوف‘ نہیں بلکہ شہروں اور دیہی علاقوں میں زندگی خوبصورت نظر آنی چاہئے اور چھوٹی بڑی خوبیاں رائیگاں نہ جائیں تو اِس متعلق بھی ہر اقدام سے پہلے‘ سوچنا اور مقامی لوگوں کے ساتھ مشاورت بھی یکساں ضروری ہے۔

Monday, January 16, 2017

Jan2017: Reforming the Police in KP - Last Chance!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پولیس اصلاحات: آخری موقع!
معقولیت‘ اِعتماد اُور حسن زن پر اِعتقاد کے ذریعے بہتری کی اُمید رکھنے والے بناء توجہ دلائے بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں ’پولیس اِصلاحات‘ سے جڑی جملہ توقعات پوری نہیں ہوئیں! لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پولیس کی اِصلاح کے اِس پورے عمل میں صرف تین برس سے زائد کا قیمتی عرصہ ہی نہیں بلکہ ایک ’’نادر موقع‘‘ بھی ضائع کر دیا گیا‘ جو زیادہ قیمتی تھا۔ خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ناصر خان دُرانی نے ایبٹ آباد (این اے سترہ) سے رکن قومی اسمبلی اُور خیبرپختونخوا کی حکمراں جماعت کے رہنما ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون پر ہوئے حملے کی اَزسرنو تفتیش اور یہ عمل سات روز میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے اُن اعلیٰ و ادنی پولیس اہلکاروں کو تاحکم ثانی معطل کر دیا ہے‘ جو ’اُنتیس دسمبر دوہزار سولہ‘ کے روز ’جلال بابا آڈیٹوریم‘ ایبٹ آباد میں تعینات (موجود) تھے اور جن کی آنکھوں کے سامنے‘ چار وزراء‘ رکن صوبائی اسمبلی اور درجنوں افراد کی موجودگی میں (دن دیہاڑے) نہ صرف رکن قومی اسمبلی پر حملہ ہوا بلکہ دست درازی کرنے والے حملہ آور نے پولیس کی موجودگی میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے نہایت ہی غلیظ القابات کا استعمال کیا اور باریک بینی سے مرتب کی گئی سازش کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حملہ آور نے تفتیش کا رخ موڑنے کے لئے ایک ایسے خاندانی تنازع کا حوالہ دیا‘ جس سے اُس کا نہ تو کوئی خاندانی‘ سماجی‘ سیاسی و غیرسیاسی یا جذباتی تعلق تھا اُور وہ نہ ہی وہ اُس انتخابی حلقے کا رہائشی ہے‘ جہاں ’دوہزار تیرہ‘ کے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے تین دہائیوں کے سیاسی تعصبات کو شکست دی ہے! توجہ مرکوز رہے کہ ۔۔۔ رکن قومی اسمبلی پر حملے کے حقائق پوشیدہ کرنے کے لئے جس ’گمراہ کن بیان‘ کا سہارا لیکر تفتیشی رُخ موڑنے کی کوشش کی گئی‘ اُسے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ اور چند اخبارات کے ذریعے مشتہر کرنا بھی سازش کا حصہ تھا جس کے لئے ’سوشل میڈیا‘ کا استعمال تاحال جاری ہے! 


سُوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں اگر پولیس کو ’غیرسیاسی‘ کرتے ہوئے ’تحریک انصاف‘ نے زیادہ اختیارات دیئے تو کیا یہ تجربہ کامیاب ثابت ہوا؟ کیا تھانہ کلچر میں تبدیلی آئی؟ کیا عام آدمی (ہم عوام) بشمول خواص کو خیبرپختونخوا پولیس پر اعتماد ہے؟ اگر اِن سُوالات کے جواب مثبت ہوتے تو انسپکٹر جنرل پولیس کو ازسرنو تفتیش کے احکامات جاری کرنے کی زحمت اُور رکن قومی اسمبلی سے ملاقات کے دوران اُنہیں انصاف دلانے کی یقین دہانی کرانی نہ پڑتی۔ بھلا جس سیاسی جماعت کے اپنے دور حکومت میں خود اُس کے اپنے ہم جماعتی ’رکن قومی اسمبلی‘ پر حملے کی منصوبہ بندی میں پولیس اہلکار اور ذرائع ابلاغ کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہو کہ وہ ملوث ہیں تو پھر ایسی صورتحال میں ’سیاسی مداخلت‘ ناگزیر حد تک ضروری ہو جاتی ہے کیونکہ جب تک پولیس کی صفوں سے ’کالی بھیڑوں‘ کو نکال باہر نہیں کیا جاتا‘ اُس وقت تک نہ تو ’تھانہ کلچر‘ تبدیل ہوگا اور نہ ہی پولیس کی مجموعی کارکردگی (ساکھ) بہتر ہو پائے گی۔

رکن قومی اسمبلی پر حملہ ایک ’’نادر و آخری موقع‘‘ ہے کہ اِس کے ذریعے پولیس کی صفوں میں گھسنے والے جرائم پیشہ عناصر کا تہہ در تہہ (درجہ بہ درجہ) صفایا کیا جائے۔ رکن قومی اسمبلی پر حملے کو ’خاندانی تنازع‘ کی آڑ میں ’رفع دفع‘ کرنے کی سازش میں شامل جملہ عناصر بشمول ذرائع ابلاغ کے چند نمائندوں اور ایسے محرکات کو منظرعام پر لانا اِس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اِس سے پولیس کے تفتیشی عمل اور اِس پر اَثر انداز ہونے والوں کی نشاندہی ممکن ہے۔ 

خیبرپختونخوا میں ذرائع ابلاغ بشمول ’سوشل میڈیا‘ پر ضابطۂ اخلاق اور سائبر کرائمز کے قانون کی شقیں لاگو تو ہوتی ہیں لیکن اُن پر کماحقہ عمل درآمد کیوں نہیں کیا جاتا اور اگر اِس موقع پر بھی گرفت نہیں کی جائے گی تو پھر ایسے قوانین کی ’’محض موجودگی‘‘ کیا معنی رکھتی ہے!؟ اِس نازک موقع پر بھی اگر درگزر‘ یا ایک اُور موقع دینے جیسی ’روائتی رعایت‘ (عمومی روش) سے کام لیا گیا تو پولیس میں تطہیر کا عمل پھر کبھی بھی مکمل نہیں کیا جاسکے گا۔ ایبٹ آباد میں بھتے کی پرچیاں اور اغوأ برائے تاوان جیسے جرائم ابھی متعارف نہیں ہوئے لیکن اگر ایبٹ آباد پولیس اہلکاروں کے اثاثوں کی چھان بین‘ اُن کی آمدنی کے ذرائع‘ اُن کے شاہانہ رہن سہن‘ سرمایہ کاری‘ جرائم پیشہ عناصر سے تعلقات اُور ظاہری و خفیہ آمدنی کے ذرائع بارے وسیع و جامع تحقیقات نہیں کی جاتیں اور پولیس میں ’سزا و جزا‘ کے تحت احتساب نہیں ہوتا تو ایسے حملوں کا سلسلہ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ ایبٹ آباد کی طرح خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں پولیس اہلکاروں کو یہ پیغام منتقل بھی نہیں ہوگا کہ ’’تبدیلی‘‘ کی اصطلاح کا غلط مطلب اَخذ نہ کیا جائے اُور نہ ہی پولیس کو غیرسیاسی کرنے کے عمل کو تحریک انصاف کی کمزوری سمجھا جائے۔ دیدہ دلیری ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح دن دیہاڑے کم وبیش ایک لاکھ ووٹ لیکر منتخب ہونے والے عوامی نمائندے اور صوبائی حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی پر حملے کی منصوبہ بندی (سازش)‘ حملے اُور بعدازاں جانبداری کا مظاہرہ کیا گیا اور پھر پولیس کے اختیارات اُور وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اصل حملہ آور کو بچانے کی کوشش کی گئی۔ تحریک انصاف کے کارکنوں میں اِس بات کو لیکر غم و غصہ سے زیادہ اِس بارے میں سوالیہ تشویش پائی جاتی ہے کہ رکن قومی اسمبلی پر حملے اُور ضلع ایبٹ آباد کی ’’مثالی پُراَمن سرزمین‘‘ پر جرائم و عدم برداشت کی پھلتی پھولتی کونپلیں اور پولیس گردی‘ کا نوٹس لینے کا یہ آخری موقع بھی کہیں ضائع تو نہیں کردیا جائے گا!؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Sunday, January 1, 2017

Jan2017: Politics & Tolerance

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
۔۔۔ سب کچھ داؤ پر!
ایک دفعہ کا ذکر ہے جب خیبرپختونخوا کا ’ایبٹ آباد‘ صحت مند آب و ہوا کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا لیکن آج سطح سمندر سے ’چارہزار ایک سو بیس فٹ‘ بلند بیس لاکھ سے زائد دیہی وشہری علاقوں پر مشتمل یہاں کی آبادی کو جہاں ماحولیاتی عدم توازن کی وجہ سے موسمی تغیرات کا سامنا ہے وہیں قبائلی شناخت‘ لسانی تشخص‘ روایات اور ثقافت کو درپیش چیلنجز یہاں کے فہم و فراست رکھنے والے دانشور طبقات کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ 

مختلف وجوہات کی بناء پر اَیبٹ آباد کے میدانی و پہاڑی علاقوں کی جانب نقل مکانی کے رجحان کی وجہ سے دستیاب وسائل اور شہری و دیہی علاقوں میں فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کا ڈھانچہ بھی یکساں متاثر دکھائی دیتا ہے۔ اگر درست وقت پر درست ترجیحات کا متعلقہ شعبوں کے تکنیکی ماہرین سے مشاورت کے ذریعے تعین کر لیا جاتا تو آج ایبٹ آباد کے ہر رہنے والے کے لئے ’’کم سے کم‘‘ پینے کا صاف پانی ہی دستیاب ہوتا۔ ماضی میں ایبٹ آباد کو محروم اور یہاں کے رہنے والوں کی سوچ کو اگر محکوم رکھا گیا تو اِس کے درپردہ محرکات سیاسی بھی تھے اور فیصلہ سازوں کے پیش نظر ذاتی مفادات بھی یکساں کارفرما رہے جنہیں دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں شکست دینے کے باوجود ’سیاست برائے ذاتی منفعت‘ کرنے والوں نے تاحال ’’ہار نہیں مانی۔‘‘ سازشی ذہنیت آج بھی وجود رکھتی ہے اُور یہی وجہ ہے کہ ضلع ایبٹ آباد میں طرز حکمرانی کی اصلاح اُور بلدیاتی نظام کی فعالیت کے خلاف جاری سازشیں کسی سے ڈھکا چھپا موضوع نہیں! اَیبٹ آباد کے لئے ’سال دوہزار سولہ‘ کسی سے بھی طرح ماضی سے مختلف نہیں رہا اُور اِس دوران ضلع بھر میں اِنتظامی اِصلاحات اُور ترقیاتی اَمور کی راہ میں رکاوٹیں ’بدستور‘ حائل رہیں لیکن ہجری سال کا میزانیہ جاتے جاتے ایک ایسی بدمزگی چھوڑ گیا‘ جس کی ایبٹ آباد کی تاریخ و ثقافت اور ادب و احترام سے جڑی سیاسی روایات سے مطابقت نہیں رکھتی۔



اُنتیس دسمبر کی صبح ’صحت انصاف کارڈ‘ کی تقسیم کے موقع پر ’جلال بابا آڈیٹوریم‘ مدعو کئے گئے خاص مہمانوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ اسٹیج پر پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیرصحت‘ صوبائی وزیر خوراک‘ وزیراعلیٰ کے خصوصی مشیر اُور ایک رکن صوبائی اسمبلی کے شانہ بشانہ رکن قومی اسمبلی (این اے سترہ) ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون کے علاؤہ محکمۂ صحت و انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکار تشریف فرما تھے‘ جن کی حفاظت کے لئے سفید کپڑوں میں ملبوس اسٹیج کے اطراف میں یقیناًموجود ہوں گے۔ 

تقریب کی باقاعدہ کاروائی شروع ہوئے ابھی کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ ایک نوجوان خراما خراما اسٹیج پر بیٹھے رکن قومی اسمبلی کے پاس پہنچتا ہے اور پشت سے حملہ کرکے اُنہیں زدوکوب کرنے کی کوشش میں بدتہذیبی کی انتہاء کرتے ہوئے باآواز بلند ایسے الفاظ سے اُنہیں مخاطب کرتا ہے جو بھری تقریب تو کیا تنہائی میں بھی بات چیت کے دوران کسی معزز و بزرگ شخص کے لئے استعمال نہیں کئے جا سکتے۔ 

یہ منظر نہایت ہی اَفسوسناک تھا‘ جسے تقریب میں موجود خواتین اُور بچوں سمیت چھ سو سے زائد افراد نے دیکھا اُور سر جھکا لئے! 

اَیبٹ آباد کی سیاست میں اِس قدر ’عدم برداشت کا عنصر‘ اُور ’خاندانی جھگڑوں‘ کی بنیاد پر سرعام لعن طعن کے پے در پے واقعات اَگر جاری رہتے ہیں تو پھر کوئی بھی سر اُور کوئی بھی پگڑی محفوظ نہیں رہے گی! ڈاکٹر اظہر پر ہوئے حملے کی تفتیش کئی پہلوؤں سے ہونی چاہئے تھی۔ 1: تقریب کے لئے حفاظتی انتظامات ناکافی کیوں تھے اور غفلت کے ذمے داروں کا تعین ہونا چاہئے۔ 2: حملہ آور اگر مسلح یا خودکش ہوتا تو بیک وقت خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے پانچ اراکین اسمبلی کو جانی نقصان پہنچا سکتا تھا‘ اِس لئے دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے پس پردہ کرداروں کو منظرعام پر لایا جائے۔ 3: رکن قومی اسمبلی پر حملہ جس خاندانی جھگڑے کو بظاہر بنیاد بنا کر کیا گیا‘ اُس کا تصفیہ اور صلح صفائی علاقائی روایات کے مطابق بذریعہ جرگہ (بات چیت) ہونا ضروری ہے کیونکہ کوئی تیسرا فریق خاندانی جھگڑے کی آڑ میں فائدہ اُٹھانے کی باردیگر کوشش کر سکتا ہے۔ 4: خیبرپختونخوا میں محکمۂ پولیس کو ’غیرسیاسی‘ کرنے کے عمل کو ’تحریک انصاف‘ کی کمزوری نہیں بلکہ اِس کی طاقت سمجھا جانا چاہئے۔ ماضی میں اگر کسی ’رکن قومی اسمبلی‘ پر حملہ صوبائی وزراء کی موجودگی میں ہوتا تو حملہ آور اُور اُس کے سہولت کاروں کا نام و نشان صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہوتا اُور ساتھ ہی ضلعی پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے ہو چکے ہوتے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر‘ ڈی آئی جی‘ ڈی ایس پی‘ ایس ایچ اُوز لائن حاضر اور ضلع بدر ہو چکے ہوتے لیکن یہاں اگر ایسا نہیں ہوا تو پولیس حکام کو اپنے اختیارات‘ حاصل آزادی اور کارکردگی کا ازخود احتساب کرنا چاہئے۔ پشاور میں بیٹھے پولیس کے اعلیٰ حکام کو ڈاکٹر اظہر جدون پر حملے میں نچلے درجے کے پولیس اہلکاروں کے ’منفی کردار‘ پر غور کرنا چاہئے‘ جو صرف قابل افسوس و مذمت ہی نہیں بلکہ لمحۂ فکریہ بھی ہے کیونکہ ’پولیس کے اختیارات میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہر خاص و عام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اُور دوئم پولیس بناء دباؤ قانون کی بالادستی عملاً ممکن بنائے۔ کیا ایسا ہی ہو رہا ہے؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کے رُکن قومی اسمبلی کو اپنی ہی جماعت کی صوبائی حکومت کے دور میں اِنصاف مل پاتا ہے یا نہیں!؟ 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اِن دنوں بیرون ملک دورے پر ہیں‘ جن کی واپسی پر توقع ہے کہ وہ پہلی فرصت سے بھی پہلے ’ڈاکٹر اظہر جدون‘ پر ہوئے حملے اور اِس سلسلے میں پولیس کی ’جانبدار تفتیشی کارکردگی‘ کا نوٹس لیں گے کیونکہ اِس سے نہ صرف پارٹی کارکنوں میں ’بے چینی و تشویش‘ پائی جاتی ہے بلکہ ضلع ایبٹ آباد میں تحریک اِنصاف کی سیاسی ساکھ‘ سماجی اَدب و اِحترام پر مبنی ثقافت‘ جدون اُور غیرجدون قبائل (جنبوں) کا باہمی تعلق و سلوک اُور سیاسی برداشت جیسے اثاثے بھی داؤ پر لگے ہوئے ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, October 6, 2016

Oct2016: Public Safety Commission

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پولیس سیفٹی کمیشن

محکمۂ پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے اُن تمام قواعد و ضوابط کی ہر ایک شق پر بیک وقت اور بیک رفتار عمل درآمد کرنا ہوگا‘ جسے ’بلند و بانگ دعوؤں‘ میں انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیا جاتا ہے۔ صوبائی فیصلہ سازوں کو سمجھنا ہوگا کہ صرف تکنیکی الفاظ پر مبنی اچھے قوانین تخلیق کرنا ہی کمال نہیں یا ضرورت پوری نہیں کر سکتے جب تک کہ اِن پر عملاً عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ بڑھتی ہوئی آبادی اُور جرائم کے تیزی سے بدلتے ہوئے اَنداز کا مقابلہ کرنے کے لئے ’پولیس فورس‘ کتنی تیار اُور آمادہ ہے‘ اِس بات کو کھول کر بیان کرنے کی قطعی کوئی حاجت یا ضرورت نہیں کیونکہ تنقیدی اسلوب و بیان کی وجہ سے ’’صاحب (بہادر) ناراض بھی ہو سکتا ہے!‘‘

پولیس آرڈر 2002ء‘ کے تحت ہر ضلع میں ’’پبلک سیفٹی کمیشن‘‘ بنانا وقت کی ضرورت ہے اُور سب جانتے ہیں کہ یہ بات ’’پولیس آرڈر 2002ء‘‘ کا جز بھی ہے۔ اَب سوال یہ ہے کہ مذکورہ کمیشن کے لئے جن اَفراد کا انتخاب کرنا ہے تو اُن میں کیا خصوصیات ہونی چاہیءں کیونکہ قانون تو صرف عہدیداروں کا تعین کرتا ہے‘ اُس کے پاس ایسی کوئی کسوٹی نہیں جس پر نیت اور دل کی تہہ میں چھپی باتیں جانچنے کی اہلیت ہو؟ کیا ہم موقع پرستوں اور سیاست دانوں کے اردگرد منڈلانے والوں کو ہی موقع دیں گے‘ جیسا کہ دیگر صوبائی اداروں ساتھ ہوا‘ اور سوائے راکھ کچھ ہاتھ نہیں یا پھر دوران ملازمت اچھی ساکھ اور تعلیم یافتہ لوگوں کو انتخاب کیا جائے گا؟ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ’پبلک سیفٹی کمیشن‘ کو اُس کی ظاہری و باطنی (روح اور کارکردگی) کے لحاظ سے معنوی وجود جیسی حقیقت ہونا چاہئے۔ کمیشن کا اپنا الگ سیکرٹریٹ (مرکز) ضروری ہے‘ تاکہ جو کاروائی بھی ہو وہ باقاعدہ دستاویزی اور نظم و ضبط کی پابند رہے۔ 

کمیشن کی بنیادی ذمہ داری یہ ہو کہ ہر مہینے (بلاناغہ) میٹنگ (غوروخوض کی نشست) کرے جس میں ’ڈی پی اُو‘ سے متعلقہ ضلع کی لاء اینڈ آرڈر (جرائم نامہ)‘ محکمے کی کارکردگی بشمول جن مقدمات میں تفتیش جاری ہے اُن کی ’پراگریس رپورٹ (کارکردگی کی تفصیلات)‘ طلب کی جائے اور پھر اِس ’پراگریس رپورٹ (کارکردگی کے معیار پر مبنی تفصیلات)‘ پر غور کرنے کے بعد اصلاحات تجویز کی جائیں۔ کمیشن کے اراکین کی جانب سے اصلاحات بطور تجاویز مرتب کرنے کے عمل میں ذرائع ابلاغ اُور دیگر دانشور طبقات سے بھی رہنمائی لی جاسکتی ہے۔ اِصلاحات پر اتفاق کرنے کے بعد پولیس نگران (کسی ضلع کے ’ڈی پی اُو‘) کو پابند ہونا چاہئے کہ وہ اِن اصلاحات کو عملی طور پر نافذ کرے گا جبکہ عوام کے منتخب بلدیاتی نمائندے اِس پر نظر رکھ سکیں۔ علاؤہ ازیں ’’پبلک سیفٹی کمیشن‘‘ میں ایک ’’کمپلینٹ سیل (شکایت کے اِندارج کا مرکز)‘‘ بھی ہونا چاہئے جس سے عوام و خواص رجوع کر سکیں اُور پولیس کی کارکردگی یا دھونس دھاندلی‘ اختیارات کے غلط استعمال یا اِمتیازی برتاؤ سے متعلق اپنی شکایات یا تجاویز کا اندارج کرسکیں۔ تصور کیجئے کہ پولیس کی کارکردگی کا کوئی بھی معیار کس طرح مقرر یا اخذ کیا جاسکتا ہے جبکہ عوام کی شکایات اور رائے کو خاطر خواہ اہمیت نہ دی گئی ہو!؟ 

پولیس کی کارکردگی پر ’کراس چیک (مستقل نظر رکھنا)‘ ضروری ہے۔ ’’پبلک سیفٹی کمیشن‘‘ کے پلیٹ فارم پر صرف پولیس کا محکمہ ہی نہیں بلکہ ضلعی انتظامیہ اور دیگر محکموں کہ جن کی عوام سے براہ راست رابطہ کاری (ڈیلنگ) رہتی ہے اُنہیں بھی کمیشن کے سامنے جوابدہ بنایا جائے تو بات بنے گی۔ اسی طرح ڈویژن کی سطح پر بھی پبلک سیفٹی کمیشن کے نمائندے ہونے چاہیءں‘ جن کے سامنے کمشنر‘ ڈی آئی جی اور دیگر ڈویژنل سطح کے اعلیٰ اہلکاروں کو جوابدہ ہونا چاہئے۔ 

صوبائی سطح پر ’’پبلک سیفٹی کمیشن‘‘ جیسی اتھارٹی (بااختیار ادارے) تہہ در تہہ احتساب کو عملاً ممکن بنا سکتے ہیں لیکن یہ ’’ہدف (گول)‘‘ تب ہی حاصل ہوگا جبکہ پبلک سیٖفٹی کمیشن کے لئے اہل اراکین کا انتخاب کیا جائے اُور اِسے کمشنر کی صوابدید پر چھوڑ کر رسمی خانہ پُری کرنے پر اکتفا (بھروسہ) نہ کیا جائے۔ کمیشن ایک آزاد ادارہ ہونا چاہئے۔ پولیس آرڈر کی من پسند شقوں پر عمل درآمد کرنے کی بجائے اِس پوری دستاویز پر پڑی ہوئی گرد جھاڑنے کی بہرحال ضرورت ہے۔ پولیس اَفسروں کو پابند بنایا جا سکتا ہے کہ وہ متعلقہ اضلاع کی ڈسٹرکٹ (ضلعی) اسمبلیوں کو اپنی کارکردگی کے بارے باقاعدگی سے مطلع کریں۔ کسی متعلقہ ضلع کے ناظم کی بھی بطور خاص ’ذمہ داری‘ بنتی ہے کہ وہ خود تک پہنچنے والی پولیس سے متعلق عوامی شکایات یا اپنا مشاہدہ یا دیگر بلدیاتی منتخب اَراکین کی آراء سے وقتاً فوقتاً ضلعی پولیس سربراہ کو آگاہ کریں۔ 

کارکردگی پولیس کی ہو یا کسی دوسرے ادارے کی بہتری و اصلاح کے لئے ہر اِکائی کو اپنے حصے کی ذمہ داریاں اَدا کرنے کے لئے ’خلوص نیت‘ سے عملی کوششیں کرنا ہوں گی اُور بجائے شاہی مزاج رکھنے والے افسران اعلیٰ سے اصلاح کی ’بلندوبالا توقعات‘ وابستہ کرنے‘ حسب قواعد اُن تمام اداروں کا قیام عملاً ممکن بنایا جاسکتا ہے‘ جس میں موجودہ انتظامی ڈھانچے کے برعکس ’کم سے کم اختیارات‘ اُور ’زیادہ سے زیادہ ذمہ داریاں‘ مقرر (متعین) کی جائیں۔ اداروں‘ افراد اُور نظام کی کارکردگی (آؤٹ پٹ) کا احتساب ہو کیونکہ بناء احتساب اور بناء جوابدہی کوئی بھی نظام (سسٹم) چاہے سماعتوں یا نمائشی مقاصد کے لئے کتنا ہی اچھا (جامع) دکھائی و سنائی دے‘ لیکن کافی نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, October 5, 2016

Oct2016: Constable-Voice for the rights!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پولیس فورس: حق تلفی کا اَزالہ!

شاعر مصطفی زیدی کا کلام حسب حال ہے ’’کیسے سمجھاؤں کہ اُلفت ہی نہیں حاصل عمر: حاصل عمر اِس الفت کا مداوا بھی تو ہے۔۔۔ زندگی حسرت خس خانہ و برفاب سہی: کچھ ’دہکتے ہوئے شعلوں کی تمنا‘ بھی تو ہے!‘‘ دہکتے ہوئے شعلوں کی تمنا کرنے والی کانسٹیبل ’’رافیعہ قسیم بیگ‘‘ پشاور پولیس کا اِفتخار ہیں‘ جنہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کو آڑے نہیں آنے دیا اور بجائے سفارش اہلیت کے بل بوتے پر بطور سپاہی ’پولیس فورس‘ میں ملازمت اختیار کی لیکن اُن کی خواہش اور کوشش ہے کہ پولیس کے ملازمتی ڈھانچے میں اصلاحات کی جائیں‘ پڑھے لکھے‘ ذہین اور قربانی و خدمت کے جذبے سے سرشار نوجوان لڑکے لڑکیوں کو پولیس فورس کا حصہ بنایا جائے اور انفرادی طور پر اُنہیں حسب تعلیم و قابلیت کم سے کم ’سترہ گریڈ‘ کے عہدے پر تعینات کیا جائے۔ 

یاد رہے کہ پولیس کا ملازمتی ڈھانچہ سپاہی (کانسٹیبل) سے شروع ہوتا ہے۔ جس کے بعد ہیڈ کانسٹیبل‘ اے ایس آئی‘ سب انسپکٹر‘ انسپکٹر‘ اے ایس پی / ڈی ایس پی‘ ایس پی‘ ایس ایس پی / اے آئی جی‘ ڈی آئی جی‘ ایڈیشنل آئی جی اور پھر انسپکٹر جنرل (آئی جی) کے درجات طے کرنے والوں کے لئے ’تعلیم‘ کی اہمیت و ضرورت سے زیادہ تجربہ اور تعلقات کام آتے ہیں اور عجب یہ بھی ہے کہ پولیس کا ملازمتی ڈھانچہ کچھ اِس انداز میں مرتب کیا گیا ہے کہ اِس میں عمومی طور پر اعلیٰ حکام کو بھی ’’مداخلت‘‘ کا اختیار نہیں کہ وہ جب چاہیں کسی اہلکار کو اُس کی تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر‘ اُس کے حق کے مطابق محکمانہ ملازمتی ترقی دے سکیں۔ 


محترمہ رافیعہ حال ہی میں پانچ روزہ تربیتی کورس میں شرکت کے لئے ایبٹ آباد تشریف لائیں تو ہزارہ ڈویژن کے صدر مقام کے موسم اُور قدرتی حسن سے مالا مال وادیوں کی تعریف کئے بناء نہ رہ سکیں! ایبٹ آباد اُنہیں جرائم میں ملوث کم عمر بچوں کے حقوق و تحفظ (چائلڈ پروٹیکشن) سے متعلق قوانین و قواعد کے بارے ایک تربیتی کورس میں شرکت کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ کورس کے پچیس شرکاء میں رافیعہ کم عمر اور واحد خاتون تھیں تاہم اُن کے انتخاب کی بنیادی وجہ یہ (بدنیتی) تھی کہ ’’سہالہ میں پاسنگ آؤٹ کے لئے اُنہیں مدعو کیا گیا جہاں ’خوش شکل‘ خوش گفتار‘ ذہین (سمارٹ) اُور اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ رافیعہ کو خیبرپختونخوا کی نمائندگی کرنا تھی لیکن یہ بات اُن کی ایسی سینیئرز کو گوارہ نہیں تھی جو انگریزی میں اپنا نام لکھنے کے بھی قابل نہیں! اور تبھی یہ ترکیب نکالی گئی کہ رافیعہ کو تربیتی کورس کے بہانے ایبٹ آباد بھیج دیا جائے۔ بہرکیف اُس نے کورس نمایاں اعزاز کے ساتھ مکمل کیا اور چونکہ وہ اِن دنوں ’وکالت‘ کر بھی رہی ہے تو یہ اُس کے لئے مزید علم حاصل کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ وہ ایک ’فاسٹ لرنر‘ ہے‘ جس نے سرکاری تعلیمی اداروں سے استفادہ کیا۔ کبھی ٹیوشن نہیں لی اور نمایاں نمبروں کے ساتھ سال 2010ء میں پشاور یونیورسٹی سے ’انٹرنیشنل ریلیشنز (آئی آر)‘ میں ماسٹرز کرنے کے بعد سال 2014ء میں ’ایم اے‘ اکنامکس مکمل کیا۔ سپاہی رافیعہ اِن دنوں وکالت (ایل ایل بی) کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں! وہ 17دسمبر 2009ء کو بطور ’کانسٹیبل‘ پولیس فورس کا حصہ بنیں اُور سات برس بعد پچیس ہزار روپے ماہوار تنخواہ کے عوض ’سپاہی‘ کے عہدے پر ہی برقرار ہیں! صرف پشاور پولیس ہی نہیں بلکہ رافیعہ ’خیبرپختونخوا‘ کی سطح پر فورس کے لئے وقتاً فوقتاً کارآمد ثابت ہوئی ہیں لیکن اُنہیں زیادہ تر بطور ’شو پیس (نمائش)‘ ہی کے لئے ’’اِستعمال‘‘ کیا جاتا رہا ہے۔ 

غیرملکی وفود کے سامنے فر فر (روانی سے) انگریزی زبان میں بات چیت کرنی ہو یا پولیس کی کارکردگی سے متعلق تلخ و شریں سوالات کے تحمل سے جوابات دینا ہوں‘ رافیعہ کی خوداعتمادی ہر جگہ مشکلات کا حل ثابت ہوئی لیکن اُس کی مشکلات کا کسی کو احساس نہیں۔ رافیعہ کا پولیس میں مستقبل کیا ہوگا اور کیا وہ حسب خواہش و اہلیت ’17گریڈ‘ کا عہدہ حاصل کر پائیں گی؟‘ یہ ایک مشکل سوال ضرور ہے لیکن جواب چاہتا ہے۔ یقیناًاگر حکام چاہیں تو اُنہیں ’پولیس کا معاون ترجمان(اسسٹنٹ پی آر اُو)‘ کے عہدے پر ترقی دی جاسکتی ہے جو سترہ گریڈ کا عہدہ ہے۔ ماضی میں اِس طرح کی مثالیں موجود ہیں جب ڈی ایس پی کے عہدے پر براہ راست بھرتی کی گئی اور اگر کوئی کام ایک مرتبہ ہو سکتا ہے تو دوسری مرتبہ کیوں نہیں؟ اندرون پشاور کے علاقے ’سرد چاہ (ٹھنڈی کھوئی)‘ سے تعلق رکھنے والی رافیعہ (سن پیدائش 24 جنوری 1987ء) کو حسب تعلیم و قابلیت ’اہمیت و مقام‘ ملنا چاہئے جس کے لئے وہ پراُمید ہیں اور اگر ایسا کیا جاتا ہے تو اِس سے مزید تعلیم یافتہ خواتین کو بھی ’پولیس فورس‘ جوائن کرنے کی ترغیب ملے گی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اُور پولیس فورس کے صوبائی سربراہ سے توقعات ہیں کہ وہ محکمہ پولیس کے ’سافٹ امیج‘ اُبھارنے کے ساتھ ایک خاتون کو اُس کا (جائز) حق دلانے کے لئے ملازمتی قوانین و قواعد میں موجود گنجائش کھوج نکالیں گے۔ 

تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت کو بھی سمجھنا ہوگا کہ ’تھانہ کلچر‘ تبدیل کرنے کے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ’’تعلیم یافتہ‘ روشن خیال اُور رافیعہ کی طرح فرض شناس‘‘ افرادی قوت کی اشد ضرورت ہے جس سے پولیس فورس کا ’’عملی آؤٹ پٹ‘‘ مثالی و صنفی طور پر متوازن بنانے کے ساتھ‘ خوداحتسابی متعارف کرانے اور پولیس فورس کے بارے عمومی منفی تاثر زائل کرنے کے علاؤہ اِس اہم ادارے کی کارکردگی میں ’’نکھار‘‘ لایا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔