Showing posts with label Abbottabad. Show all posts
Showing posts with label Abbottabad. Show all posts

Tuesday, May 10, 2022

CENSORED: Silence Revolution in Pakistan

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

(دس مئی دوہزاربائیس کے لئے لکھا گیا یہ ادارتی مضمون "ناقابل اشاعت" قرار دیا گیا)

خاموش انقلاب (ناقابل اشاعت)

تحریک انصاف کے سربراہ (چیئرمین) عمران خان نے ایبٹ آباد میں جلسہ عام (آٹھ مئی دوہزاربائیس) سے 35 منٹ (سہ پہر چار بجکر چونتیس منٹ سے پانچ بجکر نو منٹ تک) خطاب کے دوران ایک نہایت ہی بنیادی سوال اُٹھایا اُور اگر اِس ایک سوال کے تناظر میں صورتحال کو دیکھا‘ سوچا اُور سمجھا جائے تو اِس میں ’تحریک انصاف‘ کا عروج و زوال سمٹا دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ کامیابی کی سیڑھی تھی جسے اختیار کر کے تحریک انصاف اقتدار میں آئی اُور اِسی ہتھیار سے ہنستی بستی تحریک ِانصاف حکومت کو شکار بھی کیا گیا۔

دنیا سوشل میڈیا اُور مین سٹریم میڈیا (جملہ ذرائع ابلاغ) کے حصار میں ہے اُور آج کی حقیقت یہ ہے کہ ’میڈیا مینجمنٹ‘ کے ذریعے کسی بھی سیاسی و غیرسیاسی شخصیت اُور جماعت کی کارکردگی کو اُجاگر یا اُس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ تحریک ِانصاف کے خلاف ذرائع ابلاغ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ”مہنگائی کو اُچھالا گیا“ اُور اِس مہنگائی کے لئے تحریک انصاف کو کچھ اِس منظم انداز سے ”تن تنہا ذمہ دار“ ٹھہرایا گیا کہ جیسے 1: مہنگائی عالمی نہیں بلکہ قومی مسئلہ ہے اُور اِس کا ماسوائے تحریک انصاف کوئی دوسرا محرک نہیں اُور 2: پہلی مرتبہ وفاقی حکومت میں آنے اُور انتظامی امور کی ناتجربہ کاری کے باعث ’تحریک انصاف‘ مہنگائی کے لئے تن تنہا ذمہ دار ہے اُور اِس بیانیئے نے اِس قدر مقبولیت حاصل کی کہ خود ’تحریک انصاف‘ کے کارکن بھی یقین کرنے لگے کہ اگر ’مہنگائی‘ بے قابو نہ ہونے دی جاتی تو تحریک سے زیادہ حکمرانی کا حقدار اُور متبادل کوئی دوسری سیاسی جماعت نہیں۔ یہی وہ مغالطہ (غلط فہمی) ہے جس میں مہنگائی کو پاکستان کے اندر اُٹھتے اُور پاکستان کے عوام کو اِس سے متاثر ہوتے دیکھا اُور دکھایا گیا جبکہ کورونا وبا سے معاشی‘ کاروباری و تجارتی سرگرمیوں میں کمی‘ تجارتی خسارہ‘ حکومت کی آمدنی کم اُور زیادہ اخراجات کے باعث (بجٹ خسارہ) جبکہ روس یوکرائن جنگ کی وجہ سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے اُور عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہوا اُور قابل ذکر تھا کہ تحریک انصاف اُن سماجی رفاہی اقدامات کا ذکر کرتی‘ جس کی وجہ سے کم آمدنی رکھنے والے طبقات کی کئی صورتوں سے مدد کی گئی اُور اِس میں نہ صرف علاج معالجے کی مفت سہولیات شامل تھیں بلکہ رعایتی نرخوں پر خوردنی اشیا کی فراہمی اُور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لئے غریب طبقات کو دی جانے والی نقد امداد بھی شامل تھی اُور یہ سارا کام تین سال جیسے مختصر عرصے میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے ممکن ہوا جو ’کورونا وبا‘ سے نمٹنے کی ”قابل ذکر“ قومی حکمت ِعملی کے علاؤہ ہے جس میں گھر گھر جا کر مفت ویکسینشن تک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عمومی وسائل سے خصوصی استفادہ کرتے ہوئے ’کوووڈ ویکسی نیشن‘ کے لئے ’آن لائن ممکنات‘ کا بھرپور اِستعمال کیا گیا‘ جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ تحریک ِانصاف سے قبل حکومت کی جانب سے مستحق طبقات کے لئے ہر سال اربوں روپے غیرمستحق افراد میں تقسیم کئے جا رہے تھے کیونکہ کسی پاکستانی کی مالی حیثیت سے متعلق کوائف (ڈیٹا) کا خاطرخواہ استعمال نہیں کیا جا رہا تھا بالخصوص نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)‘ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اُور پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے پاس الگ الگ صورتوں میں محفوظ تھا۔

 تحریک انصاف نے نہ صرف ہر پاکستانی کے بارے میں اِن کوائف کو ایک جگہ جمع (مربوط) کیا بلکہ ’گھر گھر سروے‘ کے ذریعے مستحق طبقات کی درست نشاندہی کرتے ہوئے اُن کی درجہ بندی اُور اِس درجہ بندی کو مستقل (حتمی) نہیں رکھا بلکہ وقتاً فوقتاً تبدیلیوں پر خودکار ٹیکنالوجی (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے مستقل نظر رکھی گئی اُور یوں نہ صرف حکومت کو اربوں روپے کی بچت ہوئی بلکہ مستحق افراد کی درست نشاندہی بھی ممکن ہوئی اُور بالخصوص وہ افراد و طبقات بھی گنتی میں شمار ہوئے جن کا سیاسی اثرورسوخ نہیں تھا اُور جو کسی رکن قومی یا صوبائی اسمبلی اُور سینیٹر کے حلقہ انتخاب و تعلق سے جڑے ہوئے نہیں تھے لیکن صحت بیمہ سے اُن خاندانوں کو بھی مفت طبی سہولیات فراہم کی گئیں‘ جو اِس کے مستحق نہیں تھے اُور یوں ایک طرف جو سینکڑوں ارب روپے غیرمستحق افراد بشمول سرکاری ملازمین کے کھاتوں میں منتقل ہونے سے بچائے گئے تو دوسری طرف ’صحت بیمہ‘ کی صورت آمدنی کے لحاظ سے مستحکم مالی حیثیت رکھنے والے خاندانوں میں تقسیم کر دیئے گئے جن کی نشاندہی ذرائع ابلاغ کرتے کرتے تھک گئے لیکن تحریک انصاف کے مرکزی اُور صوبائی فیصلہ سازوں نے سُنی اَن سُنی کر دی۔ مجموعی طور پر تحریک انصاف کی کوشش تھی کہ ہر کس و ناکس (مستحق اُور غیرمستحق) فرد کو ’مہنگائی کی تپش‘ سے بچائے رکھا جائے لیکن اِس نیک نیتی پر مبنی کوشش کا آج بھی دور دور تک تذکرہ اُور حوالہ نہیں اُور کہا جا رہا ہے کہ عمران خان ’پے در پے‘ جلسوں میں حکومت پر تنقید تو کر رہے ہیں لیکن اپنی حکومتی کارکردگی کا ذکر نہیں کر رہے!

تحریک انصاف کی کارکردگی کا ایک رخ کثیرالمعیادی حکمت عملیوں پر مبنی ہے اُور اِن میں صرف ایک پہلو کا ذکر کیا جا رہا ہے‘ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے کس طرح ایک ایسے نئے پاکستان کی تشکیل کے لئے بنیاد رکھی گئی جو ’خودکفالت اُور خودانحصاری‘ کی جانب پیشقدمی ہے۔

سال 2013ء کے عام انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا موقع ملا اُور سال 2014ء میں ”10 ارب درخت (ٹین بلین ٹری سونامی)“ نامی شجرکاری مہم (حکمت عملی) کا اعلان کیا جو پاکستان میں ”خاموش انقلاب“ قرار دیا جا سکتا ہے اُور اِس سے سینکڑوں ہزاروں ایکڑ پر زیتون کی کاشت عمل میں آئی جو پہلے تجرباتی بنیادوں پر چاردیواریوں کے اندر ہوتی تھی اُور ایک موقع پر جب خیبرپختونخوا ’زیتون کی کاشتکاری‘ کے ثمرات سے مستفید ہونے ہی والا تھا کہ 8 اپریل 2010ء کے روز اٹھارہویں آئینی ترمیم منظور کی گئی جس سے زرعی شعبہ مرکز سے صوبوں کو منتقل کر دیا گیا اُور زیتون کی کاشت کے تجربات جہاں تھے وہیں رک گئے۔ حکومت کو دی گئی اراضی اُور حکومتی اراضی بمعہ زیتون کے درخت بااثر افراد نے لوٹ لی اُور زیتون کی کاشت و تیل کشید کرنے والے سبھی تجربہ کار سرکاری ملازمین کو غیرمتعلقہ محکموں میں کھپا کر ضائع کر دیا گیا۔

تحریک انصاف نے زیتون کی کاشت کاری پر توجہ دی اُور دنیا میں زیتون کی پیداوار کرنیو الے ممالک کی تنظیم (انٹرنیشنل اولیو کونسل) کا 19واں رکن بن چکا ہے اُور پاکستان زیتون تیل کی سالانہ 1500 ٹن (ڈیڑھ لاکھ کلوگرام) پیداوار کر رہا ہے علاؤہ ازیں تحریک انصاف کی شجرکاری پر توجہ سے کاشتکار موسمی اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل بھی بنے۔ زمین کی زرخیزی اُور زمین کا کٹاؤ روکا گیا۔ کیا یہ کارکردگی نہیں کہ پاکستان سالانہ 2.1 ارب ڈالر مالیت کا ’خوردنی تیل (کوکنگ آئل)‘ درآمد کرتا ہے اُور یہ کوکنگ آئل درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے پاکستان سے زیادہ بھارت (5.1 ارب ڈالر) اُور چین (4.1 ارب ڈالر) مالیت کا تیل درآمد کرتا ہے اور جب پاکستان میں تیلدار اجناس کی پیداوار بڑھے گی تو اِس سے خوردنی تیل کی درآمد میں ہر سال کمی آتی رہے اُور زیتون کا تیل جو نسبتاً مہنگا اُور اِس کا استعمال صحت کے لئے مفید ہوتا ہے اگر مقامی پیداوار کے طور پر سستے داموں پاکستان کو میسر آئے گا تو اِس سے قومی صحت کا معیار بھی بلند ہوگا۔ کیا مستقبل کی فکرمندی اُور زرعی خودکفالت و غذائی خودانحصاری سے زیادہ بہتر کوئی دوسری کارکردگی ہو سکتی ہے؟

……

Friday, January 21, 2022

Teacher woe(s) and right(s)

 تحریک .... آل یاسین

اساتذہ مسائل: زندہ رہنے کا حق

درس و تدریس کے عمل کو معیاری اُور یکساں نصاب کا حامل بنانے کے ساتھ فیصلہ سازوں کو اساتذہ کے ’حسب ِاطمینان‘ اقدامات و انتظامات کرنا ہوں گے تاکہ جملہ فریقین کی ذہنی آمادگی و شرکت سے ایک باسہولت نظم و نسق لاگو ہو۔ خیبرپختونخوا میں تحریک اِنصاف کی حکمرانی کا پہلا دورانیہ (دو ہزار تیرہ سے دوہزار اٹھارہ) اُور اگست دوہزار اٹھارہ سے جاری دوسرے دور حکومت میں کئی قابل ذکر (مثالی) اصلاحات ہیں اُور اِن میں بطور خاص ’ایجوکیشن سیکٹر ریفارم یونٹ (ESRU)‘ کے ذریعے تعلیم کے شعبے کی مجموعی اُور باریک بینی سے کارکردگی پر بھی نظر رکھی گئی۔ ذہن نشین رہے کہ ’ایجوکیشن سیکٹر پلان (ESP)‘ جو کہ استعداد کی بہتری سے متعلق حکمت عملی ہے وہ تعلیمی شعبے کے معیار اُور کارکردگی کے بارے میں سوچ بچار کا مجموعہ ہے‘ جس کے لئے برطانیہ‘ یورپی کمیشن‘ امریکی امدادی ادارہ (یو ایس ایڈ) اُور جرمن حکومت مجموعی طور پر 55 ہزار 338 ملین روپے فراہم کر چکی ہے لیکن یہ ساری کوششیں اُس وقت تک بارآور ثابت نہیں ہوں گی جب تک اساتذہ کی بھرتی میں اہلیت کے بعد اُنہیں اِس مقصد کے حصول کے لئے بھی قائل نہیں کر لیا جاتا کہ شعبہ¿ تعلیم صرف ملازمتوں کی فراہمی کا ذریعہ نہیں بلکہ اِس کی ایک معنویت اُور مقصدیت بھی ہے‘ جس کے اہداف حاصل کرنے میں منصوبہ سازوں سے زیادہ اساتذہ کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اساتذہ پر مبنی افرادی قوت کے جائز مسائل کا حل‘ امتیازات کا خاتمہ اُور اساتذہ کے حقوق بارے بھی کماحقہ غوروخوض اِس لئے بھی ضروری ہے تاکہ اساتذہ اطمینان قلب اُور توجہ سے اپنی تدریسی خدمات سرانجام دے سکیں۔ اساتذہ کی اکثریت کو تبادلوں اُور تعیناتیوں جیسے امور اُور اِن سے متعلق فیصلہ سازوں کے امتیازی روئیوں (جنہیں وہ فرعونیت سے تعیبر کرتے ہیں) کی شکایات رہتی ہیں اُور وہ چاہتے ہیں محکمے کے سبھی ملازمین کے لئے یکساں سلوک ہونا چاہئے۔ سیاسی اثرورسوخ‘ رشوت یا تعلقات کی بنا پر نہیں بلکہ ”میرٹ (حقیقی اہلیت)“ کے مطابق فیصلے ہونے چاہیئں۔

 محکمانہ قواعد و ضوابط پر خاطرخواہ انصاف کے ساتھ عمل درآمد دیکھنے کی ایک ایسی ہی خواہشمند معلمہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور سے ہے جہاں بطور پرائمری ٹیچر محترمہ زاوش فدا تعینات ہیں اُور چاہتی ہیں کہ اُنہیں مضافاتی دیہی علاقے کے پرائمری سکول شوراگ سے ضلع ایبٹ آباد کے شہری علاقے کے کسی تعلیمی ادارے میں تعینات کیا جائے۔

سال دوہزاراٹھارہ سےڈیسیز کوٹے (Deceased Quota)  پر بطور ”مستقل ملازمت“ پرائمری ٹیچر تدریسی خدمات سرانجام دینے والی محترمہ زاوش آبائی طور پر (خیبرپختونخوا کے) ضلع ہری پور سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اُن کی شادی ملحقہ ضلع ایبٹ آباد میں ہوئی‘ جہاں سے شوراگ گاؤں کے پرائمری سکول کا یک طرفہ فاصلہ چالیس کلومیٹر سے زیادہ ہے اُور اِس مسافت کے لئے اُنہیں ہر روز دو سے ڈھائی گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے چونکہ ضلع ہری پور کا شمار میدانی اضلاع جبکہ ضلع ایبٹ آباد کا شمار بالائی اضلاع میں ہوتا ہے اِس لئے موسم کے اثرات کی وجہ سے سکول کے آغاز و اختتام اُور تعطیلات کے دورانیئے بھی الگ الگ ہوتے ہیں اُور یوں شدید بارش حتیٰ کہ برفباری کی صورت بھی اُنہیں اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر منہ اندھیرے سکول کی راہ لینا ہوتی ہے جو شدید موسمی یا ہنگامی حالات کی صورت کبھی کبھار ممکن بھی نہیں ہو پاتا۔ تین سال چار ماہ کا صبرآزما عرصہ ،مشکل ترین حالات میں تدریسی خدمات سرانجام دینے اُور تبادلوں و تعیناتیوں پر سے پابندی اُٹھانے کی دعائیں مانگتے جیسے تیسے گزر ہی گیا اُور اب جبکہ صوبائی حکومت نے اساتذہ کے بین اضلاعی تبادلوں اُور تعیناتیوں پر سے پابندی اُٹھا دی ہے تو ضلع ہری پور کا منتظم دفتر (ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اُور اِن کا ماتحت عملہ) محترمہ زاوش فدا کی خدمات کسی دوسرے ضلع منتقل کرنے کا اجازت نامہ (NOC) جاری نہیں کر رہا جسے وہ اپنا قانونی حق قرار دیتی ہیں اُور چاہتی ہیں کہ انہیں بلاتاخیر تبادلے و تعیناتی کے لئے درکار محکمانہ اجازت نامہ جاری کیا جائے کیونکہ وہ (مبینہ طوسر پر) دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک  چکی ہے جبکہ اُنہیں متعلقہ دفتری عملے کے تضحیک آمیز رویئے سے بھی شکایت ہے۔

 یہ مسئلہ کئی ایسی معلمات کا ہے جو خاصی پریشان کن صورتحال ہے کیونکہ تبادلوں اُور تعیناتیوں پر پابندی کا اطلاق دوبارہ ہو سکتا ہے اُور اگر اِس موقع پر بھی انہیں اپنا حق نہ ملا تو مزید تین سے پانچ سال یا اِس سے بھی زیادہ عرصہ انتظار کرنا پڑ جائے گا۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اُور سوشل میڈیا پر اپنے تبادلے کے جائز قانونی حق کے لئے آواز اُٹھانے والی ’پرائمری ٹیچر‘ نے صوبائی وزیرتعلیم اُور دیگر متعلقہ فیصلہ سازوں سے درخواست کی ہے کہ اُسے دیگر ہم عصر اساتذہ کی طرح ملازمتی مقام تبدیل کرنے کی اجازت دی جائے۔

تدریسی عملے کے گوناگوں مسائل میں بالخصوص خواتین اساتذہ زیادہ متاثر دکھائی دیتی ہیں‘ جن کے لئے باسہولت اُور باعزت پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے دور دراز دیہی علاقوں میں خدمات سرانجام دینا کسی ایسے امتحان (چیلنج) سے کم نہیں جس کا اِنہیں ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ ہر روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لمحہ فکریہ اُور انتہا ہے کہ جس معاشرے میں تدریسی عملے کو انصاف نہ مل رہا ہو‘ وہاں تعلیم‘ تربیت‘ شعور نظم و ضبط اُور خواندگی میں اضافے جیسے بنیادی اہداف کا حصول بھلا کیوں کر عملاً ممکن ہو سکتا ہے؟

کیا ہم کھلی آنکھوں (جاگتے ہوئے) خواب دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں!؟

شاید موضوع اساتذہ ہی ہوں جن کی مشکلات و مسائل اُور سخت حالات کار کے بارے میں شاعر سرفراز زاہد نے کہا تھا کہ 

زندہ رہنے کا حق ملے گا اُسے
 جس میں مرنے کا حوصلہ ہوگا

....

Tuesday, November 16, 2021

Burn Hall: Parents Day vs Appreciation Day

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
مقصد تعلیم: قوت اخوت عوام

پاکستان میں بہت ہی کم ”نجی تعلیمی“ اِدارے ایسے ہیں جہاں تعلیم میں پنہاں ”قومی خدمت“ جیسے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے ’درس و تدریس‘ میں بہتری کے کم سے کم معیار کو حاصل کرنے کا بیانیہ (عہد) بھی ملتا ہے اُور روائتی تدریسی عمل کے ساتھ طلاب کو تحصیل ِعلم کے ساتھ نظم و ضبط سے روشناس کرایا جاتا ہے تاکہ وہ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں اپنے قومی ترانے میں دیئے گئے اِس تصور کی منہ بولتی تصویر کے طور پر ”قوت ِاخوت ِعوام“ کا مظاہرہ کریں۔ ایسے ہی ’نیک نام‘ اُور ’معروف‘ اداروں میں ایبٹ آباد کا ’آرمی برن ہال‘ بھی شامل ہے‘ جس کا قیام مسیحی خدمتگاروں (مشنریوں) نے 1943ء(78 برس قبل) کیا تھا اُور اُن کا بنیادی مقصد ’تعلیم بصورت خدمت و عبادت‘ تھی۔

 قیام پاکستان کے بعد ’برن ہال‘ نامی تعلیمی ادارے کے بانی اراکین فادر برمن تھجیسن (Fr. Herman Thijssen)‘ فادر جارج شانکس (Fr.George Shanks) اُور فادر فرانسیس اسکینین (Fr. Francis Scanion) نے ہند سے نقل مکانی کرکے ایبٹ آباد کا انتخاب کیا۔ برن (Burn) اسکاٹش اُور انگریزی زبان کا لفظ ہے‘ جس کا مطلب کسی دریا کی چھوٹی شاخ جبکہ ہال Hall کا مطلب کسی وسیع و پرسکون احاطے میں بنے گھر کے ہیں۔ یوں برن ہال سے مراد ’فیض کا چشمہ‘ ہے جس کا مقصد و نصب العین بھی اِسی سوچ کا مظہر ہے اُور یہی انسان کو ’اشرف المخلوقات‘ کے مقصد سے قریب کرتا ہے جہاں اِنسان امتیازات و تعصبات سے بالاتر ہو کر انسانیت کو بلندیوں سے روشناس کرانے میں خدا کا فضل مقصود رہے۔ قیام پاکستان کے بعد برن ہال کے بانی جو پہلے ”سینٹ جوزف مشنری سوسائٹی مل ہل“ کے نام تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھ چکے تھے اُنہوں نے ادارے کا نام ’سینئر کیمبرج سکول‘ اُور بعدازاں ’برن ہال‘ رکھا لیکن چونکہ پاکستان آنے کے بعد اُنہوں نے حکومت سے زمین اجارے (لیز) پر حاصل کی تھی جس کا اجارہ ختم ہونے کے بعد 1977ءمیں ’برن ہال‘ کا تعلیمی بندوبست اُور جملہ وسائل (ترقی یافتہ شکل میں) ایجوکیشن کور کے تحت ’آرمی برن ہال‘ کا حصہ (اثاثہ) بن گئے اُور یوں برن ہال کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوا‘ جو کامیاب کاروباری حکمت ِعملی کے ساتھ جاری ہے اُور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوب ایشیا میں اشرافیہ کے لئے مخصوص تعلیمی اداروں میں ’برن ہال‘ کا نام معروف ہے۔ حکومت ِپاکستان نے ’آرمی برن ہال‘ کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری ٹکٹ بھی جاری کر رکھا ہے۔ ’مارچ 2018ئ‘ میں جاری ہونے والے اِس ڈاک ٹکٹ پر برن ہال کالجر برائے طلبہ شاخ کی عمارت اُور ادارے کا نصب العین (Moto) شائع کیا گیا جس پر لاطینی زبان کا جملہ ’Quo non ascendam‘ درج ہے جس کا مطلب ہے کہ ”وہ کونسی بلندی ہے جسے حاصل نہیں کیا جا سکتا؟“ یقینا جب انسان پرعزم ہو جائے اُور اُسے رہنما و رہنمائی میسر آئیں تو وہ کونسی بلندی ہے جسے یہ حاصل نہیں کر سکتا! بقول علامہ اقبالؒ ”زد بانگ کہ شاہینم و کارم بہ زمیں چیست .... صحرا است کہ دریاست تہ بال و پر ماست (ترجمہ: شاہین نے بلندی سے آواز دی کہ میرا زمیں پر کیا کام .... صحرا ہو یا دریا میں سب سے بلند ہوں۔)

قیام پاکستان سے قبل ’برن ہال‘ کا نصب العین لاطینی زبان و ادب سے لیا گیا اُور سکول کی نئی انتظامیہ کے چالیس سال بعد بھی یہی لاطینی نصب العین مقرر ہے حالانکہ برن ہال میں لاطینی زبان نہیں پڑھائی جاتی اُور نہ ہی یہاں وفاقی امتحانی بورڈ اُور برطانوی تعلیمی ادارے ’آکسفورڈ یونیورسٹی پریس‘ کی شائع کردہ نصابی کتب میں شامل زبانوں کے علاؤہ دیگر خارجی زبانوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایبٹ آباد میں خیبرپختونخوا کا تعلیمی امتحانی بورڈ موجود ہے لیکن برن ہال کا الحاق وفاقی امتحانی بورڈ سے ہے‘ جسے ایبٹ آباد اُور خیبرپختونخوا کے تعلیمی بندوبست کا پابند کرنے کے لئے صوبائی فیصلہ سازوں کو ’ایجوکیشن کور‘ سے بات کرنی چاہئے کیونکہ طلاب کی اکثریت کو وفاقی بورڈ سے اسناد کی تصدیق‘ حصول اُور ثانوی امتحانات یا دیگر معاملات میں رجوع کرنے کے لئے پریشانی کا سامنا رہتا ہے۔ جب مقامی طور پر امتحانی بورڈ موجود ہے تو اِس کی سہولت سے اُن عمومی طلاب کا فائدہ اُٹھانے کا موقع کیوں فراہم نہیں ہونا چاہئے جو آمدورفت کے اضافی اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ تعلیم کو کم خرچ بالا نشیں بنانے کے لئے سوچ بچار اُور بات چیت کیوں نہیں ہونی چاہئے؟ 

برن ہال حال کے زیراہتمام حال ہی محدود سطح پر چینی زبان کی کلاسیز شروع کی گئیں لیکن اُن کے معمولات بھی اِس طرح رکھے گئے ہیں کہ یہ بوائز اُور گرلز الگ الگ شاخوں میں یکساں نہیں اُور جہاں چینی زبان سیکھنے کی سہولت ہے تو وہ بھی اِس قدر سطحی ہے کہ اِن پر بنیادی تدریسی سرگرمیاں (نصابی دورانیہ) حاوی ہے۔ فیصلہ ساز متوجہ ہوں کہ دنیا کے ’گلوبل ویلیج‘ بننے اُور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں خارجی زبانوں کی اہمیت روائتی اسلوب سے بڑھ گئی ہے اُور اِس سلسلے میں مغربی یا افریقیائی ترقی یافتہ ممالک کے تصورات ِتعلیم کو دیکھنا چاہئے جہاں بچوں کو تعلیم کے ابتدائی برس میں قومی زبان کے علاؤہ کم سے کم تین دیگر زبانیں پڑھائی جاتی ہیں اُور تعلیمی اداروں (سکول‘ کالج یا جامعات) کو اِن کی چاردیواری تک محدود نہیں سمجھا جاتا بلکہ خارجی زبانیں سیکھنے والوں کو سالانہ تعطیلات کے دوران اُن ممالک کے سہ ماہی دورے کروائے جاتے ہیں جن زبانوں میں طلاب نے مہارت حاصل کی ہوتی ہے تاکہ وہ اُن زبانوں سے جڑی ثقافت‘ رہن سہن اُور معاشرتی بودوباش کو قریب سے مشاہدہ (محسوس) کر سکیں اُور اِس طرح حاصل ہونے والے شعوری علم سے نہ صرف عالمی دوستوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ طلاب اپنے تعلیمی اُور پیشہ ورانہ مستقبل کا تعین کرنے میں بھی سوچ کی محدودیت (خول) سے باہر جھانک کر دیکھنے کے صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔

بنیادی بات یہ ہے کہ بچوں کو اُس کنویں سے باہر نکالا جائے جس کے باہر تعلیمی اداروں کے ناموں کے بورڈ نصب ہیں۔ تعلیم کے حقیقی مقاصد اُور درپیش عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے جس قسم کی سرمایہ کاری درکار ہے اُس کے بیشتر حصے کا تعلق سوچ بچار (فیصلہ سازی) سے ہے۔ توجہ طلب ہے کہ درس و تدریس کو روایت سے ایک درجہ بلند کرنے کے لئے تجربات صرف ترقی یافتہ یعنی مالی وسائل رکھنے والے ممالک ہی میں نہیں ہو رہے بلکہ سری لنکا جیسے ترقی پذیر اُور پاکستان سے زیادہ پسماندہ ملک میں بھی تعلیم اُور نوجوانوں میں سرمایہ کاری پاکستان کے مقابلے کہیں گنا بہتر بلکہ بہترین دکھائی دیتی ہے۔

برائے طالبات‘ آرمی برن ہال (سکول و) کالج میں ”یوم والدین“ کی پروقار تقریب کے موقع پر ’پاکستان ملٹری اکیڈمی (کاکول)‘ کے کمانڈنٹ میجر جنرل عمر بخاری مہمان خصوصی تھے جنہوں نے پرنسپل بریگیڈئر ڈاکٹر نوید کے ہمراہ اساتذہ اُور طلبہ کو حالیہ میٹرک اُور انٹرمیڈیٹ درجات کے بورڈ امتحانات میں ’سو فیصدی نتائج‘ پر مبارکباد دی۔ ذہن نشین رہے کہ برن ہال کی 57 طالبات نے ’اے پلس گریڈ‘ جبکہ 32 طالبات1000 سے زیادہ نمبر حاصل کئے ہیں۔ یوم والدین کے موقع پر سکول و کالج میں زیرتعلیم طلبہ کے تمام والدین کو مدعو نہیں کیا گیا جبکہ مساوی فیسیں اُور واجبات (تعلیمی اخراجات) ادا کرنے والے والدین بھی اِس عزت افزائی کے مستحق تھے۔ برن ہال انتظامیہ اگر تعلیم کے ذریعے‘ اب بھی‘ امتیازات اُور تعصبات ختم کرنے کا عزم رکھتی ہے تو ’یوم والدین‘ اُور ’یوم ستائش‘ کا الگ الگ اہتمام کرنا ہوگا۔

 ’یوم والدین‘ ایک ایسا حق ہے جس کے ذریعے سال میں صرف ایک مرتبہ والدین کی اساتذہ اُور سکول انتظامیہ سے براہ راست سال ملاقات ممکن ہوتی ہے اُور اِس موقع پر نہ صرف بچوں کی ایک سالہ کارکردگی پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے بلکہ ایک ہی درجے میں زیرتعلیم بچوں کے والدین کو ایک دوسرے سے ملنے اُور بچوں کے سکول میں روئیوں و کارکردگی کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے اُور جن تقاریب کے اخراجات والدین سے وصول کئے جاتے ہیں لیکن اگر والدین اُن میں شریک نہیں تو یہ خوش ذائقہ پکوان نہیں۔ ”اے اہل نظر‘ ذوق ِنظر خوب ہے لیکن .... جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ ہنر کیا (علامہ اقبالؒ)۔“

.... 

Clipping from Daily Aaj Peshawar / Abbottabad dated Nov 16, 2021




Tuesday, October 5, 2021

Environmental friendly development needed

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

تذکرۂ سود و زیاں

’گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ اپنے انتظامی فیصلوں میں ’خود مختار‘ اِدارہ ہے‘ جس کے سالانہ اخراجات 35 کروڑ (350ملین) روپے میں ملازمین کی تنخواہیں شامل ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ اِس ادارے کو مالی طور پر خودمختار ہونا چاہئے اُور اِس کی آمدنی کے مستقل ذرائع میں اِس حد تک اضافہ کیا جائے کہ اِسے تعمیر و ترقیاتی امور میں دقت پیش نہ آئے۔ اِس سلسلے میں وضع کردہ حکمت عملی پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کی دو برس میں تکمیل سے اُمید ہے کہ سال 2023ءتک گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی سالانہ آمدنی ڈھائی ارب روپے تک جا پہنچے گی جبکہ رواں برس 55 کروڑ (550ملین) روپے کا منافع متوقع ہے۔ ذہن نشین رہے کہ سال 2019ءمیں اتھارٹی کی آمدنی 36 کروڑ روپے تھی جسے مالی سال 2020ءمیں بڑھاتے ہوئے 90 کروڑ روپے تک لیجایا گیا ہے۔ اتھارٹی کی آمدنی میں دو برس کے دوران 200 فیصد سے زائد اضافہ کیسے ہوگا‘ یہ بات سمجھنے کے لئے اُن 2 ترقیاتی منصوبوں کو دیکھنا ہوگا جو سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی کے نام پر کئے جا رہے ہیں۔ پہلا منصوبہ نتھیاگلی میں عالمی معیار کے مطابق جدید ترین سہولیات و آسائشوں سے مزین قیام و طعام کا بندوبست (فائیو سٹار ہوٹل) ہوگا جبکہ دوسرا منصوبہ ایویبہ کے مقام پر نئی چیئرلفٹ کی تنصیب ہوگی۔ مذکورہ دونوں منصوبے غیرملکی سرمایہ کاری سے مکمل ہوں گے۔ ذہن نشین رہے کہ خیبرپختونخوا کا شاید پہلا ’فائیو سٹار ہوٹل‘ نتھیاگلی میں بننے جا رہا ہے اُور وہ بھی کسی شہر میں نہیں بلکہ جنگل کے بیچوں بیچ اُور ظاہر سی بات (یقینی امر) ہے کہ جب جنگل میں مور ناچے گا تو اُسے دیکھنے کا خاطرخواہ بندوبست بھی کیا جائے گا‘ جس سے گلیات کی جنت نظیر وادیوں کی خاموشی‘ سکون اُور وہاں کے مقامی لوگوں سمیت جنگلی حیات کا آرام و سکون (حقوق) پائمال ہوں گے۔

 ”ازل سے کر رہی ہے زندگانی تجربے لیکن .... زمانہ آج تک سمجھا نہیں سود و زیاں اپنا (قابل اجمیری)۔“

نتھیاگلی میں پنج ستارہ (فائیوسٹار) ہوٹل کے قیام کے لئے بات چیت (مذاکرات) کا عمل 2012ءسے جاری تھا اُور بتایا جا رہا ہے کہ اِس منصوبے کی منظوری 8 سالہ غوروخوض کے بعد دی گئی ہے۔ عجیب و غریب مرحلہ¿ فکر ہے کہ آٹھ سال کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی اُور نہ ہی اُن ماحولیاتی و ارضیاتی ماہرین کے بارے میں علم ہو سکا کہ وہ کون تھے جنہوں نے جنگل کے بیچوں بیچ‘ فائیوسٹار ہوٹل بنانے کو جائز قرار دیا جبکہ کسی سیاحتی مقام پر اگر بنیادی نوعیت کی قیام و طعام کی سہولیات بھی اگر مہیا کر دی جائیں تو یہ بھی کافی ہوتا ہے کیونکہ اِن جنت نظیر وادیوں اُور فطرت کا قریب سے مشاہدہ کرنے والوں کے لئے چند روزہ قیام کے دوران سہولیات معنی نہیں رکھتیں بلکہ وہ قدرت سے لطف ہونے آتے ہیں اُور کسی ایسے سیاحتی مقام پر ’فائیو سٹار آسائشوں‘ کا مطلب قطعی مختلف ہوتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر سال 2012ءسے نتھیاگلی کے ایک حصے میں درخت کاٹ کر عالمی معیار کا ہوٹل بنانے پر غوروخوض ہو رہا تھا تو اِس سے سیاسی و بلدیاتی منتخب نمائندوں کیوں بے خبر رہے!؟

نتھیاگلی میں فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر کا معاہدہ جس سرمایہ کار کمپنی (Baron Group) سے کیا گیا ہے وہ اتھارٹی کو زمین کے اجارے (لیز) کی مد میں قریب 85 کروڑ (850 ملین) روپے ادا کریں گے اُور یہ ادائیگی 10 سال کی مدت میں ہوگی جبکہ ہوٹل تعمیر ہونے کے بعد اتھارٹی کو سالانہ 1 ارب روپے کی آمدنی ہونے لگے گی۔ اِسی طرح ایویبہ کے مقام پر نئی (آسٹریلوی ساختہ) چیئرلفٹ لگانے کا ٹھیکہ جس سرمایہ کار کمپنی (Manal Group) کو دیا گیا ہے۔ چیئرلفٹ کی فعالیت کے بعد اتھارٹی کو سالانہ 94 کروڑ روپے آمدنی ہوگی جبکہ چیئرلفٹ کا موجودہ ٹھیکیدار 5 کروڑ روپے سالانہ ادا کر رہا ہے اُور اُس نے 58 سال قبل نصب ہونے والی چیئرلفٹ بند کرنے کے خلاف عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے جس کی سماعت (4 اکتوبر 2021ئ) کے روز سول جج شاہد زمان نے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ’توہین ِعدالت‘ کا نوٹس جاری کیا کیونکہ چیئر لفٹ کے ٹھیکیدار (ایاز خان) نے لفٹ کو بند کرنے سے فیصلے کے خلاف مذکورہ ایبٹ آباد سول جج ون کی عدالت سے رجوع کیا تھا اُور عدالت نے اتھارٹی کو اِس بارے تفصیلی رپورٹ جاری کرنے تک چیئرلفٹ کو جاری رکھنے کے احکامات صادر کئے تھے۔ مقدمے کی اگلی سماعت کے لئے 20 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ دریں اثنا اتھارٹی نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے تحریری رابطہ کرتے ہوئے ایوبیہ چیئرلفٹ کے ٹھیکیدار اُور اِس کی حمایت کرنے والے مقامی فلاحی تنظیم ”گلیات تحفظ مو¿ومنٹ“ کے چیئرمین (سردار صابر) اُور وائس چیئرمین (سردار افتخار) کے خلاف ابتدائی تفتیشی رپورٹ (FIR) درج کرنے کا کہا گیا جن کا جرم یہ ہے کہ اُنہوں نے اتھارٹی کی جانب سے بند کی جانے والی چیئرلفٹ کے دروازے زبردستی کھول کر قانون کو ہاتھ میں لیا ہے۔ گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے فیصلہ سازوں کو سوشل میڈیا صارفین سے بھی شکایات ہیں کہ وہ اتھارٹی کے خلاف بے بنیاد تبصروں کی تشہیر کرتے ہیں۔ گلیات کے رہنے والوں کو ایک تعداد ایسی بھی ہے جسے پینے کا پانی نہیں ملتا۔ خستہ حال سڑکوں کی وجہ سے آمدورفت باسہولت نہیں اُور گرمی ہو یا سردی موسمی اثرات کی وجہ سے یہاں کے رہنے والوں کو انواع و اقسام کی مشکلات درپیش رہتی ہیں جن میں ماحول دوست ایندھن کی عدم دستیابی بھی شامل ہے۔ لمحہ¿ فکریہ ہے کہ آمدن میں اِضافے‘ سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ اُور ماحولیاتی تحفظ کے تقاضے مربوط نہیں۔ زیادہ سے زیادہ آمدنی کے چکر میں اگر ماحولیاتی تنوع (eco system) کا لحاظ نہ رکھا گیا تو اِس سے حاصل ہونے والی بظاہر آمدنی درحقیقت ایک ایسا خسارہ ہوگا‘ جس کی بعدازاں ازالہ اُور غلطی کی تلافی ممکن نہیں رہے گی۔ ”اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو .... پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام (قتیل شفائی)۔“

....


Saturday, October 2, 2021

Afghan Refugees: Road to Hazara

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

سیکورٹی خطرات و خدشات

افغان مہاجرین کی ہزارہ ڈویژن آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں آنے والے یہ مہاجرین مانسہرہ پہنچ رہے ہیں جہاں ایک لاکھ سے زائد مہاجرین شنکیاری‘ خاکی‘ اچھڑیاں‘ گڑھی حبیب اللہ‘ اُوگی‘ مانسہرہ شہر‘ بٹ دریاں اُور شیخ آباد کیمپ پہنچ رہے ہیں لیکن اِن کی رجسٹریشن نہیں ہو رہی۔ پولیس حکام اپنی جگہ حیران اُور تشویش میں مبتلا ہیں اُور ایک اعلیٰ پولیس اہلکار کے بقول مہاجرین کی آڑ میں جرائم پیشہ یا دہشت گرد عناصر کے ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ پولیس کے پاس نہ تو افرادی و تکنیکی وسائل اُور نہ ہی احکامات موجود ہیں کہ نئے آنے والے مہاجرین کی رجسٹریشن کرے۔ اصولاً سرحد میں داخل ہونے کے وقت مہاجرین کے کوائف رجسٹر کرنے کے بعد اُنہیں رجسٹریشن دستاویزات جاری ہونی چاہیئں‘ جنہیں اِس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنی نقل و حرکت سے متعلقہ تھانے کو آگاہ کریں گے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی افغان مہاجر خاندان مانسہرہ میں پہلے سے موجود عزیزواقارب کے پاس یا مقررہ مقامات (مہاجر خیمہ بستیوں) میں قیام کرنا چاہتا ہے تو اپنی رجسٹریشن کی سند کا متعلقہ (قریبی) تھانے میں اندراج کرے جہاں مہاجرین کے کوائف سے متعلق ایک الگ رجسٹر ہونا چاہئے۔ حکومت کی جانب سے رجسٹرڈ مہاجرین کو پاکستان میں موبائل فون کنکشن خریدنے کی سہولت دی گئی ہے لیکن اِس کے کوائف متعلقہ پولیس تھانے کو فراہم نہیں کئے جاتے۔ رجسٹریشن کے بعد اُور بنا رجسٹریشن مہاجرین کو نقل و حرکت کی آزادی ہوتی ہے اُور چونکہ سرکاری اِدارے آپس میں مربوط نہیں‘ اِس لئے مہاجرین انتظامی خامیوں کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔

ہزارہ ڈویژن میں جرائم کی صورتحال پہلے ہی غیرمعمولی ہے۔ گاڑیاں اُور موٹرسائیکل چوری کی وارداتیں جو ماضی میں نہ ہونے کے برابر تھیں لیکن اب اِن کی شرح میں اضافہ ہو چکا ہے۔ سٹریٹ کرائمز بھی تواتر سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ رواں ہفتے ایبٹ آباد سے چوری شدہ 31 موٹرسائیکل برآمد کئے گئے اُور اِس کارہائے نمایاں کو مزید نمایاں کرنے کے لئے ’تھانہ سٹی‘ میں تیس ستمبر کے روز اعلیٰ پولیس حکام (ایڈیشنل ایس پی‘ ایس پی انوسٹی گیشن‘ اے ایس پی‘ ڈی ایس پیز اُور ایس ایچ اُو) نے پریس کانفرنس کی۔ مذکورہ موٹرسائیکل ضلع ایبٹ آباد کے مختلف تھانہ جات سے چوری کئے گئے تھے اُور بیشتر وارداتوں میں ’کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن کیمروں (CCTV)‘ کی مدد سے موٹرسائیکل چوروں کا سراغ لگایا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ ضلعی ولیس سربراہ ظہور بابر آفریدی نے چوری شدہ موٹرسائیکل برآمد کرنے کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں ڈی ایس پی کینٹ راجہ محبوب اُور ایس ایچ اُو سٹی سردار واجد شامل تھے اُور اِس اقدام کے نتیجے میں ایبٹ آباد سے موٹرسائیکل چوری کرنے والا 4 رکنی گروہ گرفتار کیا جن کے قبضے سے 31 موٹرسائیکل برآمد ہوئے اُور اِن میں سے 9 موٹرسائیکلوں کو اُن کے مالکان کے حوالے کر دیا گیا۔ بنیادی ضرورت آبادی کے تناسب سے تھانہ جات اُور پولیس کی افرادی قوت میں اضافہ کرنے کی ہے‘ جس کی جانب بہت کم توجہ دی جا رہی ہے۔ 1969 مربع کلومیٹر پر پھیلا ’ایبٹ آباد‘ ہزارہ ڈویژن کا صدر مقام ہے۔ اِدارہ¿ شماریات (pbs.gov.pk) کی ویب سائٹ پر دستیاب چھٹی مردم شماری (2017ئ) کے نتائج کے مطابق ایبٹ آباد تحصیل کی کل آبادی 9 لاکھ 81 ہزار 590 افراد (7 لاکھ مرد اُور قریب ڈھائی لاکھ خواتین) پر مشتمل ہے جن میں شہری علاقے میں 2 لاکھ 44 ہزار اُور دیہی علاقوں میں 7 لاکھ 36 ہزار سے زیادہ لوگ رہتے ہیں اُور یہ ایک ٹاو¿ن اُور پینتیس یونین کونسلوں کا مجموعہ ہے۔ عجیب و غریب صورتحال یہ ہے کہ ایبٹ آباد شہر چاروں اَطراف میں پھیل رہا ہے۔ نئی بستیاں آباد ہو رہی ہیں اُور دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی جانب نقل مکانی کا رجحان اپنی جگہ موجود ہے۔ مزید مہاجرین کی آمد کا ایک منفی اثر یہ دیکھا گیا ہے کہ مکانوں کے کرائے بڑھ جاتے ہیں۔ مہاجر خاندان کسی ایک گھر کو مل بانٹ کر استعمال کرتے ہیں اُور یوں دو یا تین خاندان کرایہ تقسیم کر لیتے ہیں جبکہ مقامی افراد کی اکثریت ایک گھر یا گھر کے ایک حصے (پورشن) میں رہتی ہے۔

مہاجرین کی آمد کے ساتھ کرائے کے مکانات کی مانگ بڑھ گئی ہے جن سے متعلق اگرچہ قانون موجود ہے کہ کوئی بھی مالک مکان اپنے ہاں ٹھہرنے والے کرایہ داروں کے کوائف سے متعلقہ تھانے کو مطلع کرتا ہے لیکن ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک سے زیادہ خاندانوں کے بارے میں تھانے کو آگاہ نہیں کیا جاتا اُور یوں بنا کوائف معلوم ہوئے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد شہری علاقوں میں روپوش رہتی ہے‘ جن کی کھوج کا عمل اگرچہ جاری رہتا ہے لیکن یہ ایک مستقل خطرہ ہے۔

طالبان کے اَفغان دارالحکومت میں داخل ہونے (پندرہ اگست دوہزاراکیس) سے پہلے پاکستان کی جانب افغانوں کے سفر کا سلسلہ جاری تھا جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوا تاہم طالبان نے طورخم اُور چمن پر جمع پہلے سے موجود ہزاروں خاندانوں میں مزید اضافہ نہیں ہونے دیا۔ افغانستان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق طالبان پاکستان اُور ایران کی جانب صرف اُنہی افراد کو سفر کی اجازت دیتے ہیں‘ جن کے پاس سفری دستاویزات (پاسپورٹ اُور ویزا) ہوں چونکہ افغانستان میں پاکستانی سفارتخانے فعال ہیں جہاں سے علاج معالجے یا تجارت جیسے مقاصد کے لئے زیادہ ویزے جاری کئے جاتے ہیں‘ اِس لئے افغان بطور مہمان داخل ہوتے ہیں‘ جس کے بعد وہ اپنی حیثیت مہاجرت میں تبدیل کر لیتے ہیں۔

عالمی قوانین کے مطابق ایسے افراد کی سہولت کاری کے لئے اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ یو این ایچ سی کے دفاتر اُور گشتی مراکز موجود ہیں‘ جہاں افغانوں سے بات چیت کر کے اُور اُن کی بیان کردہ مجبوری یا درپیش خطرے سے متعلق مو¿قف کو درست تسلیم ہونے کی صورت مہاجر ہونے کی سند (رجسٹریشن کارڈ) جاری کیا جاتا ہے لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ایران کی طرح مہاجرین کے لئے خیمہ بستیوں تک محدود رہنے کی پابندی نہیں اُور وہ رجسٹرڈ ہونے کے بعد پاکستان کے کسی بھی حصے میں بودوباش اختیار کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی داخلی سیکورٹی (امن و امان کی صورتحال) کو درپیش مسائل و مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ مہاجرین کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے اُور مزید افغان مہاجرین کی آمد کے جاری سلسلے کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتی ادارے مربوط حکمت عملی تشکیل دیں کیونکہ خطرہ بڑا ہے اُور انسانی ہمدردی کی آڑ میں ملک دشمن عناصر یا جرائم پیشہ گروہوں کے پاکستان میں داخل ہونا خارج از امکان نہیں ہے۔

....


Wednesday, September 29, 2021

Abbottabad: Examples of bad governance!

 ژرف ِ نگاہ .... شبیرحسین اِمام

.... چاک دامانی سے اپنی پاک دامانی ہوئی!

ایبٹ آباد کی ضلعی انتظامیہ نے تجاوزات کے خلاف جاری مہم کو معطل کرتے ہوئے تاجروں کو 3 دن کی مہلت دی ہے۔ ستائیس ستمبر (دوہزاراکیس) کے روز دی جانے والی اِس مہلت کا پس پردہ محرک ”سیاسی دباؤ“ ہے اُور افسوس کہ یہ حربہ اِس مرتبہ بھی ”کارگر“ ثابت ہوا ہے۔ تاجروں‘ دکانداروں‘ ہتھ ریڑھی بانوں اُور تہہ بازاری کرنے والوں کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ .... ”اُنہیں پیشگی اطلاع دیئے بغیر انسداد تجاوزات مہم شروع کی گئی۔“ تو کیا تاجروں نے تجاوزات قائم کرنے سے 3 دن پہلے ضلعی انتظامیہ کو مطلع کیا تھا اُور کیا تجاوزات قائم کرنے والوں نے اُن تمام شہری قواعد و قوانین کا اِحترام کیا‘ جن کا حوالہ دے کر رعایت حاصل کی گئی ہے؟ تعجب خیز ہے کہ ضلعی اِنتظامیہ نے قریب ایک ماہ سے جاری تجاوزات کے خلاف مہم کے دوران ضبط کیا جانے والا سازوسامان بھی تاجروں کو واپس کر دیا ہے اُور ساتھ ہی اُن سے یہ اُمید بھی ہے کہ وہ ازخود 3 دن کے اندر باقی ماندہ تجاوزات ختم کر دیں گے۔ خودفریبی کی اِنتہا ہے کہ جب تاجروں کو تجاوزات کا باعث سازوسامان بھی واپس کر دیا گیا ہے تو اِس بات کا امکان ہی کیا رہ گیا ہے کہ اُن کا ضمیر جاگ اُٹھے گا اُور وہ اپنی مدد آپ کے تحت تجاوزات ختم کر دیں گے جبکہ واپس کیا گیا سازوسامان اپنے گھروں کے ڈرائینگ رومز میں سجائیں گے یا ایبٹ آباد میں ’تجاوزات کا عجائب گھر‘ بنا کر اُس میں نمائش کے لئے رکھا جائے گا؟

درد اُور دردمندی کا فقدان ہے۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ایبٹ آباد کے ضلعی فیصلہ سازوں کو تجاوزات سے پیدا ہونے والے مسائل کی گہرائی‘ شدت اُور اِس کے جملہ پہلوؤں کے بارے میں خاطرخواہ آگاہی بھی نہیں‘ جس کی ایک وجہ فیصلہ سازوں اُور عوام کے معمولات ِزندگی اُور طرز ِزندگی میں پایا جانے والا زمین آسمان کا فرق ہے! ہر سطح پر فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ اِن تجاوزات کی وجہ سے عام آدمی (ہم عوام) کو درپیش مشکلات اُور ذلت کا مشاہدہ اُور محسوس کرنے کی کوشش کریں کہ کس طرح تجاوزات کے باعث مرکزی بازاروں میں پیدل آمدورفت آسان نہیں رہی! تجاوزات باعث ِآزار ہیں‘ اِن کی وجہ سے زیادہ مشکلات خواتین‘ بزرگوں اُور طالب علموں کو رہتی ہیں‘ جن کے لئے سڑک کے وسط میں بھیڑ سے بچتے بچاتے گزرنا ممکن نہیں ہوتا اُور اِس بارے میں بارہا (بار بار) شکایات کے باوجود بھی (تجاوزات کی صورت پھیلی) لاقانونیت کے خلاف فیصلہ کن کاروائی نہیں کی جاتی‘ آخر یہ طرزِحکمرانی کہ جس نے مصلحت کا لبادہ اُوڑھ رکھا ہے کب تبدیل ہو گی؟ نیا دن کب طلوع ہوگا؟ تبدیلی کب آئے گی؟ ”نیا چار دن بھی پُرانا ہوا .... یہی سب ہوا تو نیا کیا ہوا (عبید حارث)۔“

ایبٹ آباد میں تجاوزات کے خلاف کاروائی یہاں آنے والے ’بدترین سیلاب‘ کے بعد شروع ہوئی جو 11 جولائی 2021ءکی شب ہوئی بارش کا نتیجہ تھا اُور خاص بات یہ تھی کہ اِس مرتبہ شہر کے صرف نشیبی ہی نہیں بلکہ بالائی علاقے بھی طغیانی کی زد میں آئے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ برساتی نالوں پر تجاوزات قائم ہیں‘ جس کی وجہ سے بارش کا پانی بہنے (flash) کی بجائے ایبٹ آباد کے گلی کوچوں میں گھر گھر سے ٹکراتا رہا اُور یہ سلسلہ کم سے کم دو دن تک اُن علاقوں میں بھی جاری رہا‘ جن کا شمار ایبٹ آباد کے مہنگے ترین (posh) حصوں میں ہوتا ہے جبکہ وہاں کے رہنے والے سیاسی طور پر اثر و رسوخ بھی رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مذکورہ بارش اُور طوفان کی گونج قومی و صوبائی اسمبلیوں میں سنی گئی اُور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے بھی بیان جاری ہوا حالانکہ اِس سے کئی گنا زیادہ بڑی اُور قدرتی آفات یا حادثے رونما ہونا ہزارہ ڈویژن میں موسموں کی تبدیلیوں کے ساتھ رونما ہونے والے معمولات کا حصہ ہوتی ہیں اُور یہاں کے رہنے والے ایسی سختیوں کے عادی ہو چکے ہیں لیکن یہ بات ہر کس و ناکس کے لئے ناقابل قبول تھی کہ بارش کا پانی کسی بلند مقام (ایبٹ آباد شہر) میں یوں دندناتا پھرے گا اُور سب بے بسی سے اُس کا تماشا دیکھیں گے۔ قانون ساز اسمبلیوں میں ایبٹ آباد کی تجاوزات سے متعلق گونج اُور اخباری بیانات سن کر یقین ہو چلا تھا کہ تجاوزات کے خلاف اب فیصلہ کن کاروائی ہوگی لیکن وہ ”وعدہ ہی کیا جو پورا ہو!“ ماہ جولائی کے دوسرے ہفتے میں برساتی نالوں سے تجاوزات ختم کرنے کا سلسلہ ہلکی اُور بھاری مشینری کے علاؤہ خصوصی طور پر مدعو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی موجودگی میں شروع ہوا‘ تصاویر اُور ویڈیوز بنائی گئیں تاکہ پشاور اُور اسلام آباد میں تشریف فرما فیصلہ سازوں کو یقین (اطمینان) دلایا جا سکے تاہم جس سیاسی دباؤ پر یہ مہم شروع کی گئی تھی اُسی کی مداخلت سے روک دی گئی اُور چند ایک مقامات پر نالوں کی گہرائی میں اضافے اُور نالوں میں پھینکے گئے کوڑا کرکٹ یا تعمیراتی ملبے کی صفائی سے زیادہ کچھ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اگر ایبٹ آباد شہر سے گزرنے والے صرف 3 برساتی نالوں (جب پل‘ کالا پل‘ پائن ویو روڈ نالہ) کو آغاز سے اختتام تک تجاوزات سے پاک کر دیا جاتا تو آج صورتحال قطعی مختلف یعنی بہتر ہوتی اُور اِس سے ایبٹ آباد میں ٹریفک کے مسائل بھی کمی آتی کیونکہ برساتی نالوں کے ساتھ ذیلی شاہراؤں کو ہلکی ٹریفک کے لئے ترقی دینے سے مرکزی ’شاہراہ قراقرم‘ پر ٹریفک کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ 170 کلومیٹر دور پشاور میں بیٹھے ایبٹ آباد سے متعلق فیصلہ سازی کرنے والے اگر متوجہ ہوں تو برساتی نالوں پر تجاوزات کا مکمل خاتمہ ممکن ہے لیکن اِس کے لئے پہلے سے زیادہ ”پختہ ارادے“ کی ضرورت ہے‘ ایک ایسا ارادہ جس میں دباؤ جھیلنے (برداشت) کی صلاحیت ہو اُور جو اِس قدر عالی ظرف ہو کہ اِس میں ایبٹ آباد کے اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھا جائے۔

ایبٹ آباد میں تجاوزات کے خلاف جاری مہم کی معطلی (عملاً روکنے) میں تاجروں کے حوصلے بلند جبکہ ضلعی انتظامیہ اُور اہلکاروں کے حوصلے پست ہوئے ہیں۔ تاجر اپنی اِس کوشش میں کامیاب رہے کہ اِنہوں نے ضلعی انتظامیہ کے خلاف ’منظم محاذ آرائی‘ کے لئے سوشل میڈیا اُور ذرائع ابلاغ کا استعمال کیا۔ ضلعی انتظامیہ (کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر اُور اسسٹنٹ کمشنرز) ناکام رہے کیونکہ اِن کا مؤقف درست ہونے کے باوجود بھی یہ کامیاب نہ ہو سکے۔ ہرگز توقع نہیں تھی کہ ضلعی انتظامیہ یوں تجاوزات قائم کرنے والوں کے سامنے ہتھیار ڈال دے گی۔

تاجروں کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کی کردار کشی کے علاؤہ اُنہیں تبادلہ کروانے کی دھمکیاں دی گئیں اُور یہ سبھی باتیں ’آن دی ریکارڈ‘ ہیں۔ اصولاً ایبٹ آباد شہر سے منتخب ہونے والے اَراکین قومی و صوبائی اِسمبلیوں کو ’عوام کے ساتھ‘ کھڑا ہوتے ہوئے شہر کے اِجتماعی مفاد کو مدنظر رکھنا چاہئے تھا۔ اِیبٹ آباد ہزارہ ڈویژن اُور شمالی علاقہ جات کے سیاحتی مقامات کا ’گیٹ وے‘ بھی ہے یہاں کے بازاروں میں تجاوزات کی بھرمار کے خلاف پہلے سے زیادہ مصمم اِرادے اُور زیادہ سخت گیر کاروائی ہونی چاہئے اُور دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب ’اِنسداد ِتجاوزات مہم‘ کسی بھی وجہ سے شروع کر ہی دی گئی تھی تو اِسے معطل کرنے کی بجائے بہرصورت منطقی انجام تک پہنچایا جانا ضروری تھا جو موقع گنوا دیا گیا ہے وہ سنہرا تھا جس کے بعد عارضی و مستقل تجاوزات پہلے سے زیادہ پھیلنے پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ ”کر گئی دیوانگی ہم کو بَری ہر جرم سے .... چاک دامانی سے اپنی پاک دامانی ہوئی (جلیل مانک پوری)۔“

....





Wednesday, September 15, 2021

CEO for WSSCA - Abbottabad

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

روزنامہ آج پشاور / ایبٹ آباد

ایبٹ آباد: مسائل سے مسائل تک

خیبرپختونخوا کے صوبائی فیصلہ سازوں پر مشتمل کابینہ اجلاس (تیرہ ستمبر دوہزاراکیس) میں دیگر امور کے علاؤہ ”واٹر اینڈ سینٹی ٹیشن سروسیز ایبٹ آباد (WSSCA)“ کے لئے نئے سربراہ (چیف ایگزیکٹو) کی منظوری دی گئی ہے‘ جس کا ایبٹ آباد کے رہائشی ایک عرصے سے منتظر (چشم براہ) تھے اُور اُنہیں توقع تھی کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ نکاسی آب اُور کوڑا کرکٹ اکٹھا اُور اِسے تلف کرنے (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) جیسے 3 بنیادی کاموں کے لئے قائم ہونے والے اِس ادارے کے اخراجات اُور کارکردگی کا ”سخت گیر احتساب“ کرتے ہوئے ایک ایسا سربراہ مقرر کیا جائے گا‘ جسے ایبٹ آباد کے جغرافیئے اُور یہاں کے مسائل و پھیلتی ہوئی آبادی سے متعلق کتابی نہیں بلکہ زمینی حقائق سے متعلق علم ہوگا۔ جس کے علم و دانش کی بنیاد اُس کی اپنی ذات پر ہونے والی واردات کا نتیجہ ہوگی اُور جس کے لئے ’ایبٹ آباد‘ پُرکشش و مراعات یافتہ ملازمت کا ذریعہ نہیں بلکہ اُس کے ذات کا حصہ ہوگا۔ ذہن نشین رہے کہ کسی بھی مرحلے مقامی فیصلہ کا حتمی اختیار جب مقامی افراد کو سونپا جاتا ہے تو اِس سے ’سنی سنائی باتوں‘ کی بنیاد پر ترقیاتی ترجیحات کا تعین نہیں ہوتا بلکہ شہری مسائل (عارضوں) کا حل (علاج) بنیاد سے ہوتا ہے اُور یوں اخذ ہونے والی ترقیاتی سوچ اُور عمل پائیدار نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔

واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز ایبٹ آباد کے لئے نومنتخب انتظامی سربراہ (چیف ایگزیکٹو آفیسر) کا تعلق آبائی طور پر ملتان (صوبہ پنجاب) سے ہے۔ ذہن نشین رہے کہ ایبٹ آباد (سطح سمندر سے بلندی 1256 میٹر) اُور ملتان (سطح سمندر سے بلندی 122 میٹر) کی آب و ہوا میں زمین آسمان جیسا فرق ہے اُور اِن دونوں شہروں کا تعلق صرف 2 الگ الگ صوبوں (مخالف سمت شہروں) ہی سے نہیں کہ ملتان پنجاب کے انتہائی جنوب جبکہ ایبٹ آباد خیبرپختونخوا کے مشرق میں واقع ہے بلکہ اِن کا زمینی فاصلہ بھی ساڑھے چھ سو کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ غیرمقامی افراد کو اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز کرنے کا ایک بہت بڑا تجربہ اُور اُس کا بہت ہی بُرا نتیجہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں کی رونقیں دفاتر کی تعطیلات کی صورت معدوم ہو جاتی ہیں کیونکہ سبھی غیرمقامی افراد سرکاری تعطیلات سے ایک دو دن پہلے ہی اپنے اپنے آبائی علاقوں کو چلے جاتے ہیں اُور یوں شہری سہولیات اُور خدمات کی فراہمی کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ اِس صورتحال سے نمٹنے کے لئے صوبائی سطح پر قاعدہ موجود ہے کہ کسی ضلع میں اُس کے مقامی افراد ہی کو بھرتی کیا جائے لیکن اِس پر بہت کم عمل درآمد دیکھنے میں آتا ہے اُور طرزحکمرانی کی اِس بہت بڑی خامی کو دور کرنے کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے۔ 

ایبٹ آباد کے باسیوں کے لئے نوید ہے کہ واٹراینڈ سینٹی ٹیشن سروسیز کی سربراہی کے لئے موزوں شخص کا انتخاب کر لیا گیا ہے جو اِس سے قبل بطور ’چیف فنانشیل آفیسر‘ 3 سال 7 ماہ ادارے کی آمدن و اخراجات (اکا ؤنٹس) کا حساب کتاب رکھتے تھے اُور اِس سے قبل سعودی عرب میں پانچ سال سے زیادہ جبکہ مقامی صنعت میں 9 سال سے زائد عرصہ اکاؤنٹس (فنانس) ہی کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں یعنی اُن کا تمام تر تعلیمی عرصہ‘ مہارت اُور تجربہ مالیاتی امور سے رہا ہے۔ سال 2000ءمیں بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان سے ’بی کام (کامرس)‘ مکمل کرنے کے بعد اُنہوں نے 2011ءمیں ’چارٹرڈ فنانشیل اینالسٹ انسٹی ٹیوٹ‘ سے اُور قبل ازیں انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹس آف پاکستان سے ’اے سی ایم اے‘ کی اسناد حاصل کر رکھی ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ایبٹ آباد کا نام ”واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز“ نامی ادارے کا حصہ ہے لیکن یہ صرف گنتی کی چند یونین کونسلوں میں خدمات سرانجام دیتی ہے۔ اصولاً تو اُنہی چار ساڑھے چار یونین کونسلوں کے نام سے اِس کا تعارف ہونا چاہئے جیسا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر چار یونین کونسلوں (ملک پورہ‘ کہیال‘ اربن سٹی اُور نواں شہر) میں چالیس مقامات پر ’ڈبلیو ایس ایس سی اے‘ نے مقامات مقرر کئے تھے اُور وہیں جمع ہونے والی قربانی کے جانوروں کی آلائشیں اُور گندگی اُٹھائی گئیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ایبٹ آباد کی آبادی اُور اِس آبادی کی ضروریات سے متعلق موجود ’اعدادوشمار‘ درست نہیں اُور ظاہر ہے کہ جہاں بنیادی پیمانہ ہی درست نہیں وہاں ناپ تول کیسے ممکن ہوگی۔ سال 2017ءمیں (پندرہ مارچ سے پچیس مئی) ہوئی ملک کی چھٹی مردم و خانہ شماری اُنیس سال کے وقفے سے ہوئی جسے 22 دسمبر 2020ءکے روز وفاقی حکومت نے منظور کر لیا تاہم اِس کے نتائج متنازعہ رہے اُور یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے آئندہ عام انتخابات سے قبل مردم شماری کروانے اُور اِس مردم شماری کی بنیاد پر انتخابی حلقوں کی ازسرنو تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ مردم شماری اُور خانہ شماری کے نتائج ممکنہ حد تک درست ہونے کی ضرورت بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے اِنتہائی اَہم ہوتی ہے اُور جس کی عدم موجودگی میں سماعتوں کو خوشگوار لگنے والی حکمت ِعملی کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔

پشاور میں بیٹھے (170کلومیٹردور) فیصلہ سازوں (صوبائی کابینہ) نے ایبٹ آباد میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ صفائی اُور کوڑا کرکٹ تلف کرنے کے لئے جس ادارے کے لئے نئے سربراہ کی منظوری دی ہے سب سے پہلی ضرورت تو اُس ادارے کو کم سے کم ایبٹ آباد کے شہری علاقوں کی ہی یونین کونسلوں تک پھیلایا جائے۔ ایبٹ آباد کی کل 51 یونین کونسلوں تین تحصیلوں میں تقسیم ہیں اُور اُن میں شہری علاقے کی صرف چار یونین کونسلوں میں رہنے والوں کو کسی نہ کسی صورت (ناکافی مقدار و بنیادی معیار کے مطابق) شہری سہولیات میسر ہیں تو یہ ایک ایسے شہر سے قطعاً انصاف نہیں جو نہ صرف ’چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا گیٹ وے ہے بلکہ اِسے تعلیمی اداروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے اُور ہزارہ ڈویژن کے صدر مقام ہونے کے ساتھ یہی بالائی علاقوں بشمول شمالی علاقہ جات اُور چین تک جانے والے سیاحوں کا پہلا پڑاؤ بھی ہے۔ ایبٹ آباد کو انصاف چاہئے اُور ایبٹ آباد سے انصاف کی توقع ہے۔ ”کرم کی توقع تو کیا تم سے ہوگی .... ستم بھی کرو گے تو احسان ہوگا۔(نامعلوم)“

....

Clipping

Editorial Page of Daily Aaj dated 15 Sep 2021

Published version from Daily Aaj Peshawar / Abbottabad dated 15 Sep 2021 Wed


 

Tuesday, February 16, 2021

PTI's Senate Nominations & Hazara Reservation

 شبیرحسین اِمام

ہزارہ در سینیٹ: حقیقی نمائندگی سے محروم

تحریک انصاف کو سینیٹ محاذ پر نیا اِمتحان درپیش ہے جہاں زیرغور معاملہ (قضیہ) ”واجبی نمائندگی“ کا نہیں بلکہ ”حقیقی نمائندگی“کا ہے۔ سینیٹ اِنتخابات (3 مارچ) کے لئے پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی جانب سے نامزدگیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے جن میں خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی سے سب سے زیادہ تعداد میں یعنی 10سینیٹرز کا انتخاب ہونا ہے چونکہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا اسمبلی کی اکثریتی جماعت ہے اِس لئے سب کی نظریں اُس انصاف کی جانب مبذول تھیں کہ اِس مرتبہ صوبے کے 35 اَضلاع پر مشتمل 7 ڈویژنز (مالاکنڈ‘ ہزارہ‘ مردان‘ پشاور‘ کوہاٹ‘ بنوں اُور ڈیرہ اسماعیل خان) سے کتنا اِنصاف کیا جاتا ہے بالخصوص تحریک اِنصاف کے دیرینہ کارکن سینیٹ نامزدگیوں سے متعلق فیصلوں سے کس قدر اتفاق کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے 13 فروری کی شام سینیٹ کے لئے نامزد اراکین کی فہرست جاری کی گئی جس کے مطابق جنرل نشستوں پر شبلی فراز‘ محسن عزیز‘ ذیشان خانزادہ‘ فیصل سلیم اُور نجی اللہ خٹک۔ ٹیکنوکریٹ نشستوں پر دوست محمد محسود اُور ڈاکٹر ہمایوں مہمند۔ خواتین کی نشستوں پر ثانیہ نشتر اُور فلک ناز چترالی جبکہ اقلیتی نشست پر گردیپ سنگھ نامزد ہوئے ہیں اُور 15 فروری (کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ) تک اِن ناموں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی حالانکہ خیبرپختونخوا کے مختلف ڈویژنوں سے تحریک انصاف کے کارکنوں کا احتجاج (تیرہ فروری کی شام ہوئے اعلان سے) جاری ہے۔

سینیٹ کے لئے نامزدگیوں کے حوالے سے سوشل میڈیا (فیس بک اُور ٹوئیٹر) کے علاوہ واٹس ایپ گروپوں میں تحریک انصاف ہزارہ ڈویژن کے کارکن شدید ردعمل (ناپسندیدگی) کا اظہار کر رہے ہیں۔ فیس بک کے ایسے ہی ایک پیغام (پوسٹ) میں کہا گیا ہے کہ ”سینیٹ نامزدگیاں کرتے ہوئے تحریک ِانصاف نے ہزارہ ڈویژن کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا اُور ہزارہ سے قریب دو درجن اراکین اسمبلیوں کے باوجود بھی سینیٹ کے لئے نئے (تازہ دم) رکن پر نگاہ نہیں کی گئی جبکہ ضلع مردان سے 2 افراد کو سینیٹ کے لئے نامزد کرنے کو اہل ہزارہ اپنی حق تلفی سمجھتے ہیں۔“ کارکنوں کی جانب سے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے سخت تبصرے بھی کئے گئے ہیں اُور قیام پاکستان کی تحریک میں ہزارہ ڈویژن کے تاریخی کردار‘ واقعات و کارکردگی کے حوالے دیئے گئے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ سوشل میڈیا کے اسلوب سے ’کلام نرم و نازک‘ اُس قیادت پر ’اثر‘ نہیں کرے گا جو اِس وقت اقتدار میں ہے اُور اقتدار کی سب سے بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ اِس میں پاوں زمین پر نہیں رہتے۔ پاکستان کے سیاسی کلچر میں کارکنوں کی بے قدری کی یہ پہلی مثال نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنے اپنے ظرف کے مطابق اُس جمہور کی رائے اُور جذبات کا احترام نہیں کرتیں جن سے جمہوریت تخلیق پاتی ہے۔

دریائے سندھ کے مشرقی کنارے سرسبز پہاڑی (بالائی) اُور زرخیز میدانی (زریں) علاقوں پر مشتمل ہزارہ ڈویژن میں اِیبٹ آباد‘ بٹ گرام‘ ہری پور‘ لوئر کوہستان‘ مانسہرہ‘ تورغر‘ کولائی پلاس اُور اَپر کوہستان نامی اضلاع شامل ہیں‘ جن کی سینیٹ میں ہزارہ ڈویژن کی نمائندگی سینیٹر اعظم سواتی 2006ءسے کر رہے ہیں لیکن یہ نمائندگی سیاسی و نظریاتی نہیں بلکہ وہ اپنے ذاتی اثرورسوخ اُور کاروباری مفادات و معاملات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں جبکہ تقاضا یہ ہو رہا ہے کہ ’سینیٹ میں ہزارہ ڈویژن کو نمائندگی ملنی چاہئے‘ جو (برائے نام) نمائندگی ہونے کے باوجود بھی محروم ہے!“ سمجھ سے بالاتر ہے کہ کسی ایک ڈویژن کو سینیٹ میں 2 لیکن دوسرے ڈویژن کو سینیٹ میں ”حقیقی نمائندگی“ نہ دی جائے جس سے دور افتادہ اُور بیشتر غربت زدہ اضلاع میں پائے جانے والے ’احساس محرومی‘ میں اضافہ منطقی ردعمل ہے اُور سیاسی شعور رکھنے والوں کے علاوہ عوامی حلقے بھی اِس امتیازی سلوک کی مذمت کر رہے ہیں۔

  شخصیات کے ذاتی مفادات نہ ہوتے تو سیدھا سادا حساب تھا کہ تحریک ِانصاف نے خیبرپختونخوا کے 7 ڈویژنز سے 10 سینیٹ نامزدگیاں کرنا تھیں اُور یہ قطعی مشکل نہ تھا کہ ہر ڈویژن کو نمائندگی دی جاتی۔ اگر مردان سے دو سینیٹرز کا اضافہ ہو سکتا ہے تو ہزارہ ڈویژن سے کیوں نہیں؟ لیکن ایسا نہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ بھی ہے اُور وہ یہ کہ خیبرپختونخوا میں تحریک ِانصاف کسی بھی ضلع یا ڈویژن میں منظم نہیں اُور جماعتی فیصلے اُنہی رہنماوں کے ہاتھ میں ہیں اُور یہی کردار صوبے یا وفاق میں بیٹھ کر سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔
 
خیبرپختونخوا میں تحریک ِانصاف کا پہلا دور (مئی دوہزارتیرہ سے جون دوہزار اٹھارہ) اُور دوسرا دور (جولائی دوہزار اٹھارہ سے) تاحال جاری ہے۔ اِس دوران اگر سب سے کم توجہ کسی ایک شعبے پر دی گئی ہے تو وہ ”تنظیم سازی“ ہے جبکہ خیبرپختونخوا کی برسرزمین صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کسی بھی ڈویژن‘ ضلع‘ تحصیل حتیٰ کہ یونین کونسل کی سطح پر بھی منظم نہیں اُور اِس کا تنظیمی ڈھانچہ برائے نام موجود ہے۔ المیہ ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جو اپنی ذات میں جمہوری ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن اُن کی تنظیم سازی کو کمزور رکھا گیا ہے جس سے کارکنوں کی خاطرخواہ اہمیت نہیں رہی اُور اب کارکنوں کی ضرورت صرف اُور صرف عام اِنتخابات تک محدود ہو گئی ہے۔ جہاں سیاسی تنظیم سازی نہ ہو‘ وہاں سیاسی کارکنوں (عوام) کی رائے کو بھی توجہ نہیں دی جاتی اُور سینیٹ کے لئے نامزدگیاں کرتے ہوئے یہی ہوا کہ تحریک ِانصاف نے نہ صرف خیبرپختونخوا کے سات اضلاع پر مشتمل ہزارہ ڈویژن کی جغرافیائی و سیاسی اہمیت کو نظرانداز کیا بلکہ یہاں کے سیاسی کارکنوں کو بھی ”صفر سے ضرب دی۔“ یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ ہزارہ ڈویژن وہی ہے جس نے ایک ارب شجرکاری مہم (بلین ٹری سونامی) سے لیکر سیاحتی ترقی کے ذریعے تحریک انصاف کے ویژن کو عملی جامہ پہنایا اُور پوری دنیا میں تحریک انصاف کو پذیرائی ملی۔ وقت گزر جائے گا لیکن سوشل میڈیا پر کارکنوں کے تبصرے موجود رہیں گے جن پر نظر رکھے مورخین تحریک انصاف کی غلطیوں کو شمار کر رہے ہیں کہ وہ ملک کے لئے متبادل قیادت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی لیکن طاقت کے سرچشمے عوام کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دی۔ ”اے دل خود ناشناس ایسا بھی کیا .... آئینہ اُور اِس قدر اندھا بھی کیا (اُمید فاضلی)۔

مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ہزارہ ڈویژن کے اضلاع میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 23 لاکھ 41 ہزار 782 (مرد ووٹرز 13 لاکھ 31ہزار 518 اُور خواتین ووٹرز 10لاکھ 10ہزار 264) تھی جبکہ جولائی 2018ءکے عام اِنتخابات کے موقع پر جہاں ملک گیر سطح پر رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں 2013ءکے عام انتخابات کے مقابلے میں 23 فیصد اضافہ ہوا‘ وہیں ہزارہ ڈویژن کے ووٹرز کی تعداد 35 لاکھ تک جا پہنچی۔ اِن اعدادوشمار کو ذہن میں رکھتے ہوئے جب ہم یہ بات کرتے ہیں کہ ہزارہ ڈویژن سینیٹ میں حقیقی نمائندگی نہیں رکھتی تو درحقیقت اِس سے مراد 35 لاکھ سے زائد ووٹرز کی آواز ہوتی ہے جن کے نمائندے قومی و صوبائی اسمبلیوں اُور سینیٹ میں تو موجود ہیں لیکن 3 مارچ کے بعد قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) میں ہزارہ ڈویژن کی ”حقیقی و معنوی نمائندگی“ نہیں ہوگی۔


Monday, November 18, 2019

From Cricketer to Preacher, 'Saeed Anwar' emphasized on education!

شبیرحسین اِمام

دعوت و تبلیغ!
دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کسی انسان کی پیدائش (جنم) صرف ایک ہی مرتبہ ہوتا ہے لیکن تاریخ کے حافظے میں ایسی کئی عہد ساز شخصیات کا تذکرہ محفوظ ہے‘ جنہوں نے اپنے حال کو کچھ اِس اَنداز سے بدلا کہ وہ ایک بالکل نئے انسان کی صورت میں جلوہ گر ہوئے اُور یہی وہ مقام ہے جہاں اِنسان اپنی خلقت کے مقصد کو پا لیتا ہے۔ کرکٹر سعید انور کا شمار بھی عصر حاضر کی اُن چند گرامی قدر شخصیات میں ہوتا ہے‘ جنہوں نے اپنے ماضی پر نازاں رہنے کی بجائے اپنے حال اور مستقبل کی بہتری کے لئے سوچا‘ عمل کیا اُور وہ کر دکھایا جو بظاہر ناممکن ہے! یہی وجہ ہے کہ اُن سے ملاقات‘ اُن کی معیت و صحبت ’باعث شرف و فخر‘ سمجھی جانے لگی ہے۔

سعید انور کون ہیں؟
پاکستان کی ’ٹیسٹ‘ اُور ’ون ڈے‘ کرکٹ ٹیموں کے سابق کپتان سعید انور (پیدائش 6 ستمبر1968) نے 1989ءسے 2003ءکے درمیان جس شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا‘ وہ صرف شائقین کرکٹ ہی کے لئے نہیں بلکہ کرکٹ کے کھیل میں انقلاب ثابت ہوا۔ اُنہوں نے ون ڈے میں 20 مرتبہ 100 سے زیادہ رنز بنائے۔ یہ ریکارڈ پاکستان کا کوئی بھی کھلاڑی آج تک نہیں توڑ سکا ہے۔ اُنہوں نے 55 ٹیسٹ میچ کھیلے{‘ جن میں 4052 رنز اُور 11 سنچریاں 45.52 رنز کی اوسط سے سکور کیں جبکہ ’ون ڈے کرکٹُ میں انہوں نے مجموعی طور پر 8824 رنز 39.21 کی اوسط سے بنائے۔ اُن کے نام کئی اعزازات ہیں تاہم ایک اعزاز ایسا بھی ہے جو کرکٹ کا کوئی بھی کھلاڑی حاصل نہیں کرنا چاہے گا اُور وہ یہ کہ 1991ءمیں ویسٹ انڈیز کے خلاف فیصل آباد میں ہوئے ٹیسٹ میچ کے دوران سعید انور دونوں اننگز میں ’صفر‘ پر آو ¿ٹ ہوئے‘ جسے ’پیئر ایٹ دی ٹیسٹ ڈیبیو‘ کہا جاتا ہے اُور 14 مئی 2018ءسے اب تک 44 بیٹسمین اِس طرح آو ¿ٹ ہو چکے ہیں‘ جن میں پاکستان کے صرف سعید انور کا نام شامل ہے لیکن شائقین کرکٹ بالخصوص پاکستانیوں کے لئے ’سعید انور‘ آج بھی ”ہیرو“ ہیں جنہوں نے 1997ءمیں بھارت کے کھلاڑیوں کو بھارت ہی کے ایک میدان (ہوم کراوڈ اُور ہوم گراونڈ) پر ناکوں چنے چبوائے۔ چینئی میں ہوئے مذکورہ ’ون ڈے مقابلے‘ میں اُنہوں نے 146 گیندوں پر 194 رنز بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا اُور اِسی بہترین کارکردگی کی وجہ سے پاکستان وہ مقابلہ 35 رنز سے جیتا تھا۔ سعید انور کا یہ ریکارڈ 12برس تک برقرار رہا جسے 16 اگست 2009ئ‘ زمبابوے کے کھلاڑی ’چارلیس کوونٹری (Charles Coventry)‘ نے بنگلہ دیش کے خلاف جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے برابر کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سعید انور اِس عالمی اعزاز میں کسی دوسرے کھلاڑی کے شریک ہونے پر بھی رب کے ہاں یہ کہتے ہوئے شکرگزار پائے گئے کہ ”دنیا کی کوئی بھی کامیابی رب تعالیٰ کے حضور فرمانبرداری سے زیادہ قابل وقعت اعزاز نہیں ہوسکتی۔“

سعید انور کیا ہیں؟
اکیاون سالہ ’سعید انور‘ آج ایک بالکل مختلف انسان ہیں۔ اُنہوں نے اسلام کو سمجھا اُور اِس گہرائی سے سمجھا کہ دنیا اُن کی سمجھ بوجھ اُور بیان و کلام سے استفادہ کر رہی ہیں اُور کیا یہ اعزاز کم ہے کہ سعید انور کئی مردہ دل زندہ کر چکے ہیں! خود کو اسلام (دعوت و تبلیغ) کے لئے وقف کرنے جیسا شرف اُور سعادت اپنی جگہ ’ورلڈ ریکارڈ‘ ہے کہ اُن کے ہاتھ پر کئی غیرمسلموں نے اسلام قبول کیا‘ جن میں پاکستان کے مایہ ناز اُور معروف کرکٹر محمد یوسف (سابقہ نام یوسف یوحنا) بھی شامل ہیں۔ 18 نومبر کے روز‘ ایبٹ آباد (نواں شہر) کے ’ویمن میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج‘ میں سعید انور بطور مہمان مدعو کئے گئے‘ جہاں اُنہوں نے قریب ایک ہزار اساتذہ‘ طالبات اُور ملازمین کے سامنے کرکٹ کے کھیل (اپنے ماضی کے تجربات) پر نہیں بلکہ اسلام کے بنیادی اصولوں پر بات کی۔ طب کی تعلیم حاصل کرنے والی طالبات سمیت اِس موقع پر موجود ہر شخص اِس بات کو اپنے لئے اعزاز سمجھ رہا تھا کہ وہ پاکستان کے ایک ہیرو کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے‘ جو انتہائی سادہ لباس اُور عاجزی کی تصویر بنے اُن کے سامنے تشریف فرما یہ سمجھا رہے تھے کہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ کے کچھ حصے کو دین کے لئے وقف کرنے سے ابتداءکرنی چاہئے! ایک گھنٹے سے زائد دورانیئے کے خطاب میں سعید انور نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق‘ تربیت اُور اسلام کے عقائد و عبادات کو منطقی (حکیمانہ) لیکن قابل فہم انداز میں اِس قدر سادہ الفاظ اُور مثالوں سے مزین کر کے پیش کیا کہ شاید ہی اُن کا کہا ہوا کوئی ایک لفظ بھی ضائع گیا ہو۔ اسلام کی اِس سے زیادہ مختصر اُور جامع تعریف کوئی دوسری ممکن ہی نہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو 40 برس کی عمر میں اسلام متعارف کرنے کا حکم ملا تو اُنہوں نے ابتدائی 23 برس ’ایمانیات اُور یقین‘ کے بیج بوئے۔ عملی زندگی میں امانت و دیانت سے خود کو ایسی مثال بنایا کہ مشرک بھی اُن کی تعریف و توصیف کرتے تھے اُور پھر اِسی نیک نامی کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے معاشرے میں توحید پر مبنی عقائد کا نظام متعارف کروایا۔ جب 62 برس کی عمر میں ہجرت کی تو مدنی زندگی کے 10 برس (دنیا سے پردہ فرمانے تک) اپنے قول و فعل سے عبادات اُور امربالمعروف و نہی عن المنکر کی تعلیم کرتے رہے اُور یہی طریق آپ کے بعد آنے والے اہل بیت اطہار‘ اُمہات المومنین‘ حضرات صحابہ کرام‘ تابعین‘ تبع تابعین اُور بزرگان دین رضوان اللہ اجمعین کا رہا کہ اُنہوں خالص دین کو پورے خلوص کے ساتھ منتقل کرتے ہوئے اصول دیا کہ دین کی دعوت و تبلیغ میں نرمی اُور سلوک پر مبنی ’درمیانی راستہ‘ اختیار کیا جائے۔

سعید انور نے کیا کہا؟
نظر کی حفاظت اُور بدنظری سے بچنے کے ساتھ سعید انور نے بچوں کے تربیتی مراحل (عمر کے ابتدائی 13 برس) کے دوران اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے اُور اُنہیں اپنے عمل سے دین پر کاربند رہنے کا عادی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ”دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح دین میں بھی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اُور اِس کے لئے صرف زبانی کلامی باتیں ہی کافی نہیں بلکہ دنیاوی وسائل کے ساتھ بروئے کار ’دعوت و تبلیغ‘ کے لئے وقت مختص کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ ”حقیقی کامیابی“ زیادہ سے زیادہ دنیاوی وسائل (مال و دولت) اپنے نام کرنا نہیں بلکہ دنیا کو امن و محبت پر مبنی اسلام کا پیغام دینا ہے‘ تاکہ غیبت‘ بُڑائی‘ نسلی‘ لسانی‘ گروہی‘ مسلکی تفرقے اُور سیاسی و غیرسیاسی اختلافات کی گنجائش نہ رہے۔ تعلیم کے ساتھ بچوں کی تربیت کا بھی خاص اہتمام ہونا چاہئے کیونکہ بچے جو کچھ بھی سیکھ رہے ہوتے ہیں اُس میں اُن کے مشاہدے کا زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔
.....



Friday, August 30, 2019

Plantation from the heart

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
شجرکاری: دل سے!؟
پاکستان دنیا کے اُن ’10 ممالک‘ کی فہرست میں ’7ویں‘ نمبر پر ہے جو ’عالمی موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change)‘ کی وجہ سے ’بُری طرح متاثر‘ ہو رہے ہیں۔ اِس صورتحال اُور درپیش چیلنجز کا اِدراک کرتے ہوئے وفاقی حکومت نے 4 اگست 2017ءکو ’کلائمنٹ چینج‘ نامی خصوصی وزارت قائم کی اُور اُس دور کی حکمراں سیاسی جماعت مسلم لیگ (نواز) نے ہنگامی بنیادوں پر ’10 کروڑ‘ درخت لگانے کا اعلان کیا۔ وہ درخت کہاں لگے یا لگنے کے بعد کہاں چلے گئے یہ موضوع الگ سے تحقیق چاہتا ہے لیکن اِس پوری کوشش سے جو ایک بات عیاں ہوئی وہ یہ تھی کہ شجرکاری سے متعلق حکومتی عزم اُور حکمت عملیاں‘ کہیں نمود و نمائش کی نذر ہو جاتی ہیں اور کہیں تسلسل نہ ہونے اُور عدم دلچسپی کی وجہ سے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتیں۔ یہی اَسباب ہیں کہ وقت کے ساتھ پاکستان میں جنگلات کے رقبے بڑھنے کی بجائے سکڑتے گئے اور اِن میں حسب اعلانات و دوڑ دھوپ (سرگرمیاں) خاطرخواہ اِضافہ نہیں ہوا۔

جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے بعد تحریک اِنصاف کو قومی فیصلہ سازی کا اِختیار ملا‘ تو پہلا کام (5 اکتوبر 2018) یہ کیا گیا کہ 34 سالہ محترمہ زرتاج گل (رکن قومی اسمبلی) کو ’کلائمنٹ چینج‘ کی وزارت دی گئی اُور دوسرا کام یہ ہوا کہ مذکورہ وزارت نے ’8 اکتوبر 2018‘ سے ’کلین گرین پاکستان موومنٹ‘ نامی حکمت عملی بوساطت ’وزیراعظم پاکستان‘ عمران خان کا اعلان کیا‘ جس پر باقاعدہ عمل درآمد کا آغاز 13 اکتوبر 2018ء سے جاری ہے۔ وفاقی وزارت ’کلائمنٹ چینج‘ نے درختوں کی اہمیت کے بارے میں قومی شعور کی سطح بلند کرنے کا بیڑا اُٹھا رکھا ہے اُور اِسی کے تحت ملک گیر شجرکاری مہمات کی سرپرستی و نگرانی کی جا رہی ہے۔ مجموعی طور پر ’کلین گرین پاکستان‘ کے تحت ’10 ارب‘ درخت لگائے جائیں گے! عالمی پیمانہ یہ ہے کہ کسی ملک کے کل رقبے کے 20فیصد حصے پر جنگلات ہونے چاہیئں جبکہ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ 5 فیصد سے کم ہے!

درخت ہاتھوں سے نہیں دل سے لگائے جاتے ہیں۔ بس یہی ایک باریک نکتہ (نتیجہ ¿ خیال) ماضی کی طرح حال کے حکمرانوں کی سمجھ میں بھی نہیں آ رہا‘ جو بناءموسم اِس اُمید سے درخت لگائے جا رہے ہیں کہ یہ پھلیں پھولیں گے لیکن اکثر درخت شاید اِس اُمید پر پورا نہ پائیں کیونکہ اُن کے لئے فراہم کردہ حالات موافق نہیں اُور دوسری بات یہ ہے کہ جن سرکاری ملازمین کو درخت لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے‘ حکومت اُن کے حقوق اَدا نہیں کر رہی اُور یہ دونوں محرکات ہی کسی بھی ’گرین کلین پاکستان‘ نامی حکمت عملی کو ناکام بنانے کے لئے کافی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کی صورتحال بطور مثال ملاحظہ کیجئے۔ صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح یہاں بھی ’کلین گرین پاکستان‘ کے لئے محکمہ زراعت کے افرادی و تکنیکی وسائل سے استفادہ کیا جا رہا ہے لیکن محکمہ زراعت (توسیعی) کے کل ملازمین کا ’25 فیصد‘ سے بھی کم عملہ ’فیلڈ سٹاف (field-staff)‘ پر مشتمل ہے۔ اصطلاحاً ’فیلڈ سٹاف‘ اُن اہلکاروں کو کہا جاتا ہے جو آرام دہ دفتروں کی بجائے متعلقہ دور دراز علاقوں میں زراعت کی ترقی و توسیع کے لئے کاشتکاروں یا عوام سے مستقل رابطے میں رہیں۔ کسی ’فیلڈ اسسٹنٹ‘ کی بنیادی تعلیم میٹرک یا ’ایف ایس سی‘ مقرر ہے‘ جو 3 سالہ ڈپلومہ کرنے کے بعد 9ویں اسکیل میں بھرتی ہوتا اُور سروس اسٹرکچر (ملازمتی ڈھانچے) کی خامیوں کے باعث‘ پچیس سے تیس سال یا اِس سے بھی زائد ملازمتی عرصہ گزارنے کے بعد بناءکسی محکمانہ ترقی ’9ویں اسکیل‘ ہی میں ریٹائر ہو جاتا ہے۔ چونکہ پورے ملک میں سب سے زیادہ جنگلات خیبرپختونخوا میں ہیں اُور یہیں کی آب و ہوا کی وجہ سے جنگلات کے رقبے میں اضافہ بھی ممکن ہے تو وفاقی و صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ محکمہ زراعت کی تمام ذیلی شاخوں (ایگری کلچر توسیعی‘ ایگری کلچر تحقیقی‘ لائیو سٹاک‘ واٹر مینجمنٹ‘ سائل کنزرویشن‘ فشریز اُور ایگری کلچر انجنیئرنگ) کے افرادی و تکنیکی وسائل میں اضافہ کرے۔ فیلڈ میں کام کرنے والے عملے کی تعداد دفتری ملازمین سے زیادہ ہونی چاہئے اُور سب سے زیادہ ضروری ’ملازمتی ڈھانچے (سروس اسٹرکچر)‘ پر نظرثانی کی ہے کیونکہ خیبرپختونخوا کے کسی بھی ضلع کی صورتحال مثالی نہیں اُور زرعی عملے (فیلڈ اسسٹنٹس) کی تعداد وہاں کی یونین کونسلوں کے مطابق نہیں۔

شہری و دیہی علاقوں میں پھلدار اُور سایہ دار درختوں کی تعداد میں اضافہ کرنا محکمہ ¿ زراعت کی ذمہ داریوں میں ہونے والا ”نیا اضافہ“ نہیں بلکہ مذکورہ محکمہ برس ہا برس سے بلاناغہ (پھلدار) باغات لگانے کے لئے ہر قسم کی رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ مضحکہ خیز صورتحال (بھیڑچال) یہ ہے کہ ’کلین گرین پاکستان‘ کے تحت خیبرپختونخوا میں ’شجر کاری مہم‘ ماہ ستمبر کے دوران جاری ہے جبکہ یہ موسم درخت لگانے کا نہیں۔ اصولی طور پر مون سون سیزن (جون‘ جولائی) میں شجرکاری ہونی چاہئے یا پھر ماہ دسمبر میں کھڈے کھود کر ایک سے ڈیڑھ ماہ زمین کو درخت لگانے کے لئے تیار کیا جائے اُور ماہ فروری میں کسی علاقے کی آب و ہوا کو مدنظر رکھتے ہوئے درختوں کا انتخاب پر مبنی شجرکاری کی جائے۔ بے موسم شجرکاری کے 2 نقصانات ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ پودا کہ جو مون سون بارشوں کے موسم میں زیادہ سے زیادہ 100 روپے میں باآسانی دستیاب ہوتا ہے‘ بعد میں ’ایک ہزار‘ سے ’بارہ سو روپے‘ میں بھی بمشکل مل پاتا ہے اُور دوسرا بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے لگائے جانے والے درختوں کے پھلنے پھولنے کے امکانات ’ساٹھ سے ستر فیصد‘ کم ہوتے ہیں۔ اگست کے اختتام اُور ماہ ستمبر کے آغاز پر نمائشی شجرکاری مہم خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں جاری ہے اُور ہر ضلع کا صاحب بہادر (کمشنر اُور ڈپٹی کمشنرز) اپنے ناموں کی تختیوں کے ساتھ پودے لگا رہا ہے۔ ماتحت ملازمین کی دوڑیں لگی ہوئی ہیں۔ دفتری امور ٹھپ پڑے ہیں!

مہنگے داموں خریدے گئے پودے یہاں وہاں‘ جہاں کہیں کیمرہ اُور استقبالیہ دکھائی دے زمین میں ٹھونسے جا رہے ہیں اُور اِس پوری نمائشی کوشش سے اُمید یہ ہے کہ اِس طرح درختوں کے رقبے میں اضافہ ہوگا۔ زراعت جہالت کی کیاریوں میں پروان نہیں چڑھتی بلکہ اِس کے لئے محنت و لگن کی کھاد‘ پانی اُور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ زرعی علوم سائنس کا درجہ رکھتے ہیں اُور یہ بات بار بار دہرانے لائق ہے کہ درخت ہاتھوں سے نہیں دل سے لگائے جاتے ہیں! اِن کی دل سے قدر (حفاظت) کی جائے تو یہ پھل بھی دیتے ہیں اور سایہ بھی!

دیکھا نہ جائے‘ دھوپ میں جلتا ہوا کوئی
میرا جو بس چلے‘ کروں سایہ درخت پر (عباس تابش)۔“
............



Wednesday, February 21, 2018

Feb 2018: Insulting attitude, the management of SNGPL, Abbottabad!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سالگرہ مبارک!
خوش قسمت ہیں کہ جنہیں ’(سوئی) گیس یا بجلی کے کنکشنز‘ وراثت میں ملے‘ باقی ماندہ گھریلو اور صنعتی صارفین کے لئے مذکورہ وفاقی حکومت کے اِداروں سے رجوع کرنا ’ناخوشگوار تجربہ‘ ثابت ہوتا ہے۔ 

بیس فروری کے روز ریجنل گیس دفتر ایبٹ آباد جانے کا اتفاق ہوا‘ جہاں دو ہفتہ وار تعطیلات کے بعد صارفین کا غیرمعمولی رش کی بنیادی وجہ رہنمائی کے خاطرخواہ انتظام نہ ہونا تھا۔ ’مین گیٹ‘ سے داخل ہونے کے بعد دائیں ہاتھ پر ’کسٹمرز کاونٹر‘ اِس پوری عمارت کا سب سے چھوٹا اور تنگ و تاریک کمرہ تھا‘ جہاں مرد و خواتین (محرم و نامحرم) ایک دوسرے سے ٹکرانے کی لاکھ کوشش کریں تب بھی ممکن نہیں ہوتا کہ جسم کا کوئی نہ کوئی حصہ ایک دوسرے سے مس نہ ہو۔

نجی اِداروں بالخصوص بینکوں کی مثال موجود ہے جہاں صارفین کی رہنمائی اور انہیں متعلقہ شعبوں تک رسائی کے لئے خودکار نمبروں کے اجرأ اور آرام دہ انتظار گاہیں فراہم کی جاتی ہیں لیکن ایبٹ آباد گیس کے مرکزی دفتر میں صارفین کے لئے انتظار گاہ کا انتظام موجود نہیں۔ دفتر کے ملازمین آرام دہ کرسیوں پر بیٹھے جبکہ صارفین جانوروں کی طرح اُچھل اُچھل کر یا اپنے قد کو اونچا کرنے اور چیخنے پر مجبور تھے۔ اتنا شور تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی! کمرے کے کونے میں ’خصوصی کاونٹر‘ دیکھ کر حیرت ہوئی‘ جہاں فارغ بیٹھے خوش شکل‘ خوش لباس و گفتار اہلکار سے ’گیس میٹر کی ملکیت تبدیل کروانے کا طریقۂ کار پوچھا تو موصوف نے کھڑکی سے نظر آنے والی کثیرالمنزلہ عمارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بس اتنا کہا کہ ’’سیلز ڈیپارٹمنٹ چلے جاؤ۔‘‘ 

اصولی طور پر ’کسٹمرز کاونٹر‘ ہی پر طریقۂ کار ہی بتا دینا چاہئے بہرحال درجن بھر سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے عمارت کے اندر داخل ہونے پر پتہ چلا کہ کسی بھی جگہ سیلز ڈیپارٹمنٹ تک پہنچنے کے لئے رہنمائی نہیں دی گئی اور نہ ہی اِس عمارت کے اندر باوردی سیکورٹی اہلکار تعینات تھے‘ کہ جن سے پوچھا جاسکتا۔ دو ایک ’راہ گیروں‘ سے پوچھنے پر بھی پتہ نہ چلا تو واپس داخلی گیٹ پر آنا پڑا جہاں محافظ نے بتایا کہ دائیں ہاتھ کا آخری کمرہ‘ جہاں پہنچ کر گرد آلود میزیں‘ الماریوں سے اُمنڈتی ہوئی فائلوں اُور کتابچوں نے استقبال کیا جو چیخ چیخ کر متعلقہ شعبے کی کارکردگی کا احوال سنا رہی تھیں! ایک اہلکار سے مدعا بیان کیا تو معلوم ہوا کہ کمرے کے آخر میں بیٹھے صاحب سے رجوع کریں‘ جنہوں نے عمارت کے تہہ خانے میں نجی فوٹو اسٹیٹ مشین والے کا پتہ بتایا کہ آپ کا ’’مطلوبہ دو عدد فارم‘‘ وہاں سے ملیں گے۔ بیس سڑھیاں اُتر کر کیفے ٹیریا کے ایک کونے میں دو عدد فوٹواسٹیٹ مشینیں لگائے شخص نے باری آنے پر ’’دس روپے‘‘ کے عوض مطلوبہ فارم فراہم کئے‘ جس کی ادارے کی جانب سے نہ تو کوئی قیمت مقرر ہے اور نہ گیس میٹر کی ملکیت تبدیل کرنے کے لئے کوئی فارم ہی تخلیق کیا گیا ہے۔ ادارے کے بنائے گئے ’فارمیٹ‘ کو اگر ’مروجہ فارم‘ تسلیم کر لیا جائے تب بھی اِس کی قیمت ادارے ہی کو مقرر اور وصول کرنی چاہئے تھی۔ جس ادارے میں دس روپے جیسی چھوٹی بدعنوانی کا امکان بھی نہ چھوڑا جائے‘ وہاں کے انتظامی و مالی امور کے بارے کچھ نہ ہی کہا جائے تو عافیت ہے۔ 

سرکاری عمارت کے احاطے میں نجی فوٹو اسٹیٹ کا مقصد صارفین کی سہولت ہے یا بدعنوانی کا ذریعہ؟ وہ فوٹو اسٹیٹ جو بازار میں دو روپے کے عوض ہوتی ہے یہاں اُس کے سرعام پانچ روپے وصول کیوں کئے جا رہے تھے؟ یہ دھندا بناء انتظامی نگران کی آشیرباد سے چلنا ممکن ہی نہیں‘ جن کی کھوج کرنے پر معلوم ہوا کہ ’’ریجنل منیجر (صاحب بہادر)‘‘ اِسی دفتر کی بالائی منزل پر تشریف رکھتے ہیں۔ چالیس سیڑھیاں چڑھنے کے بعد اُن کے سیکرٹری نے ملاقات سے قبل شناخت مانگی‘ جو صاحب کو بھیج دی گئی اُور انہوں نے طلب کرلیا۔ ہاتھ میں فائل‘ چہرے پر تھکاوٹ اور بیزاری کے آثار دیکھتے ہی بناء سلام کا جواب دیئے کہا ’’لاؤ فائل‘ کیا کام ہے؟‘‘ جی کوئی کام نہیں‘ صرف آپ کی توجہ چاہئے۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ وسیع و عریض اور پوری عمارت کا سب سے زیادہ روشن اور صاف ستھرا کمرہ جگمگا رہا تھا۔ 

پہلا سوال: اگر میں آپ سے کوئی سوال پوچھوں تو کیا آپ اُس کا ’آن دی ریکارڈ‘ جواب دیں گے؟ 
کرخت لہجے میں جواب ملا: کام بتاؤ کام؟ 

کیا آپ کو معلوم ہے کہ میٹر کی ملکیت تبدیل کرنے سمیت دیگر خدمات کے فارمز دستیاب نہیں اور صارفین کو قیمت ادا کر کے خریدنے پڑتے ہیں؟ 
آس پاس بیٹھے ماتحت اہلکاروں نے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ’’سر اِس بارے میں تحقیقات ہونی چاہئیں۔‘‘ 

صاحب کا مزاج بگڑ چکا تھا‘ اُن کے چہرے پر رعونت سے لگ رہا تھا کہ پٹائی ہونے والی ہے! اٹھتے اُٹھتے اور معافی چاہتے ہوئے سوالات کی بوچھاڑ کر دی کہ صاحب کیا ایسا ممکن ہے کہ تمام مطلوبہ فارم ’کسٹمرز کاونٹر‘ پر ہی مہیا کر دیئے جائیں؟ صارفین کو کسی بھی تہہ خانے (انڈر گراونڈ) اور ’انڈر ٹیبل‘ قیمت ادا ہی نہ کرنی پڑے؟ کیا یہ بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے کہ ایسے فارم اور ہدایات آن لائن حاصل (ڈانلوڈ) کئے جا سکیں؟ کیا عمارت کے باقی حصوں کی صفائی بھی آپ کے دفتر کی طرح ممکن ہے؟ صاحب نے ڈیسک فون اٹھا لیا جیسے اُنہیں کوئی ضروری بات یاد آ گئی ہو!

’سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمٹیڈ‘ ایبٹ آباد کے ’ریجنل منیجر‘ جیسے باصلاحیت‘ تعلیم یافتہ اُور ذمہ دار سینیئر ترین اہلکار کا رویہ اگر ایک عام صارف سے ایسا تھا‘ تو وہ اُن کے ماتحت عملے کے روئیوں کا گلہ نہیں کرنا چاہئے۔ 

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم عوام جن لوگوں کو منتخب کر کے فیصلہ اور قانون سازی کے منصب پر فائز کرتے ہیں‘ یہ انتظامی نگران اُنہیں خوش رکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اگر ایبٹ آباد سے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون‘ رکن صوبائی اسمبلی (پی کے پینتالیس) مشتاق احمد غنی‘ پاکستان تحریک انصاف کا نامزد ضلعی ناظم علی خان جدون اُور تحصیل ناظم محمد اسحاق عوامی حقوق کے محافظ ہوتے تو کسی اعلیٰ و ادنی سرکاری ملازم کی جرأت ہی نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ اُس عام آدمی پر ’غیض و غضب‘ کا بے خوف اظہار‘ کرتا‘ جبکہ اُس کے ادا کردہ ٹیکسوں پر وہ اُور اُس کے اہل و عیال مراعات یافتہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ 

عام آدمی (ہم عوام) کی بے توقیری کا یہ ذاتی (تلخ) تجربہ اور مشاہدہ ایک ایسے موقع پر پیش آیا‘ جب زندگی کے ’پچاس سال‘ مکمل کرنے پر شمار (حساب کتاب) سے پتہ چلا کہ چند تعلیمی و تعریفی اسناد‘ ذہن نشین رزق حلال کی اہمیت‘ محنت میں عظمت کے اسباق کی کوئی وقعت نہیں اور ’ذلت و بے توقیری‘ کے علاؤہ کوئی جنس بھی ہاتھ نہیں!
۔
Tale of a visit to SNGPL Abbottabad Office on Feb 20, 2018.
It was worth to worst experience that no one out there to protect the rights of ordinary citizen, the Hum Awaam
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2018-02-21

Wednesday, January 3, 2018

Jan 2018: Directionless development, example of Abbottabad!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
بے سمت ترقی !
کرداروں کے نام بدل گئے لیکن ’کہانی‘ نہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا کے دیگر اَضلاع کی طرح ’اَیبٹ آباد‘ کے رہنے والوں نے اِس بیانیئے پر یقین کر لیا کہ ’’طرزحکمرانی (نظام) نہیں‘‘ بلکہ ذاتی‘ سیاسی و اِنتخابی ترجیحات رکھنے والے ’بددیانت حکمراں‘ اُن کی جملہ محرومیوں کے لئے ذمہ دار ہیں‘ جن سے نجات اُور جن کی مالی و انتظامی کارکردگی کا ’’بے رحم اِحتساب‘‘ ہونا چاہئے۔ 

مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کا مرحلہ درپیش تھا‘ ہر طرف جنون‘ تبدیلی اُور انقلاب کے نعرے سریلی آوازوں میں موسیقی کے ساتھ گونج رہے تھے۔ حد سے زیادہ توقعات وابستہ کرنا بھی بسا اُوقات ’خرابئ بسیار‘ اُور ’دل ٹوٹنے‘ کا سبب بنتا ہے۔ توقع تھی کہ بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی۔ صحت و تعلیم کے شعبوں میں عام آدمی (ہم عوام) کو خدمات فراہم کرنے والے سرکاری اِداروں کی کارکردگی بہتر ہو گی۔ پینے کا صاف پانی‘ نکاسئ آب اُور شاہراؤں کی تعمیرومرمت و توسیع جیسی ضروریات کے لئے اراکین اسمبلی کی محتاجی نہیں رہے گی۔ طرزحکمرانی کا ایک ایسا شفاف و فعال نظام بنایا جائے گا‘ جس میں زمینی حقائق کے مطابق حسب ضرورت ترجیحات طے کی جائیں گی اور یہی محرک تھا جس کے پیش نظر ’’تبدیلی کے وعدے‘‘ پر ووٹ دیئے گئے لیکن خیبرپختونخوا کے طول و عرض کی طرح ایبٹ آباد میں بھی ’ترقیاتی عمل‘ انتخابی حلقوں اور سیاست کی نذر رہا۔ 

ساڑھے چار سال کی روداد یہ ہے کہ یونین کونسل میرپور (خیبرپختونخوا‘ اسمبلی کا انتخابی حلقہ پی کے 44) میں صوبائی خزانے سے 20 کروڑ روپے جیسی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود بھی اگر مسائل کی شدت اور نوعیت جوں کی توں برقرار ہے تو یہ مالی وسائل کا دانستہ ضیاع اور مجرمانہ غلطی ہے۔
ایبٹ آباد کے رہائشی و تجارتی مراکز میں تمیز کرنا ممکن نہیں رہا۔ بے سمت ترقی اُور نقل مکانی کے رجحانات کی وجہ سے وسائل پر دباؤ میں ہر گزرتے دن اِضافہ ہو رہا ہے۔ 

’ایوب میڈیکل کالج و ٹیچنگ (کمپلیکس) ہسپتال‘ کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ زرعی تحقیقاتی مرکز‘ کامرس کالج برائے خواتین اُور عسکری ڈیری فارم جیسی اہم تنصیبات پر مشتمل ’آفیسرزکالونی‘ (میرپور) ایبٹ آباد کا شہری علاقہ اُن 9 یونین کونسلوں کا مجموعہ ہے‘ جو ’پی کے 45‘ کا حصہ ہیں‘ جہاں ترقی کے نام پر صوبائی خزانے سے اب تک قریب ’بیس کروڑ‘ خرچ ہو چکے ہیں۔ محل وقوع کے حساب سے مذکورہ یونین کونسل کا بڑا حصہ قدیم بستیوں پر مشتمل ہے جو کاکول اور چھاؤنی (کینٹ) کی یونین کونسلوں سے جا ملتا ہے جبکہ اِس کا نسبتاً جدید علاقہ ’سول آفیسرز کالونی‘ نئی رہائشی بستیوں کا مرکز ہے۔ شاید ہی سول آفیسرز کالونی سے متصل علاقوں میں کوئی ایک بھی گلی ایسی ہوگی جہاں نجی تعمیرات کا سلسلہ جاری نہ ہوں۔ 

موٹر وے کے ایبٹ آباد سیکشن کی تعمیر اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی تکمیل کے بعد یہ علاقہ جو فی الوقت ایبٹ آباد کا آخری حصہ ہے‘ آمدروفت کے لحاظ سے شروع میں آ جائے گا اور ایبٹ آباد آمد یا اخراج کرنے والوں کا استقبال ’میرپور‘ ہی کرے گی۔ اِن دنوں ’سول آفیسر کالونی‘ کے شاہراہ قراقرم سے داخلی راستے کی تعمیر صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے 44‘ کے ترقیاتی فنڈز سے ہو رہی ہے۔ سڑک‘ فٹ پاتھ اور نکاسئ آب کے نالے کی تعمیر کے لئے 94 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں اور گذشتہ پانچ برس میں دوسری مرتبہ اِس سڑک کی تعمیر ہو رہی ہے!

ترقیاتی کاموں کے لئے مختص مالی وسائل ضائع ہونے کا بڑا سبب منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ سول آفیسر کالونی اُور ملحقہ علاقہ جات پر مشتمل درجنوں بستیوں کی مرکزی شاہراہ کے ساتھ نکاسئ آب کا نالہ نہایت ضروری ہے‘ جو ماضی میں بھی تعمیر کیا گیا لیکن کم گہرائی کے سبب معمولی بارش کے بعد بھی ’اُوور فلو‘ ہو جاتا جس کے بعد پانی کا اکثر حصوں سے سڑک بہا لے گیا۔ رہی سہی کسر تعمیراتی سازوسامان لانے لیجانے والی ہیوی ٹریفک نے پوری کر دی۔ مذکورہ شاہراہ کے ایک طرف نکاسئ آب کا نالہ اور دوسری طرف ’ٹف ٹائیلز‘ سے فٹ پاتھ کی تعمیر ہونی چاہئے۔ 

ملٹری ڈیری فارم سے گندے پانی کی نکاسی کے لئے اِسی شاہراہ کا انتخاب کیا گیا ہے تاہم ٹھوس گندگی بہانے سے سول آفیسرز کالونی کی سبھی نالیاں بند رہتی ہیں اور اگر ’سی اینڈ ڈبلیو‘ فوجی حکام کو اِس بات پر قائل نہیں کرتے کہ بناء تطہیر (ٹریٹمنٹ) ٹھوس گندگی ملا پانی نہ بہایا جائے تو یہ مسئلے کا کسی بھی صورت پائیدار حل نہیں ہوگا بلکہ چند ہفتوں بعد ہی تعفن اور بدبو پھیلنے کا سبب بننے والا گندا پانی جابجا چھوٹے بڑے تالابوں کی صورت کھڑا دکھائی دے گا‘ جو موسم گرما میں مچھروں اور مکھیوں کی افزائش کا سبب بھی بنتا ہے۔ اگر کسی سول علاقے کا گندا پانی اور ٹھوس گندگی کسی چھاؤنی کی طرف بہا دی جاتی تو کیا فوجی حکام سویلین کی اِس غلطی کو معاف کرتے اور درگزر سے کام لیتے؟ اِن امور سے متعلق توجہ دلانے پر ’ورکس اینڈ کیمونیکشن ڈیپارٹمنٹ (سی اینڈ ڈبلیو)‘ کے اعلیٰ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ عسکری حکام سے بات چیت کریں گے اور ڈیری فارم سے بہائی جانے والی ٹھوس گندگی کا ٹھوس (مستقل) حل نکالا جائے گا۔ تاہم اب یہ بات متعلقہ رکن صوبائی اسمبلی کی دلچسپی و نگرانی پر منحصر ہے‘ جنہیں اگر فرصت نہیں تو اپنے ماتحت عملے یا علاقے سے منتخب ہونے والے بلدیاتی نمائندوں کو اِس کام کی نگرانی سونپ دینی چاہئے۔ 

کوئی بھی ایسا ترقیاتی منصوبہ جس کی مالیت پچاس لاکھ سے زیادہ ہو‘ اُس کی نگرانی کے لئے ’اہل علاقہ‘ یا جہاں منتخب بلدیاتی نمائندے میسر ہوں کی کم سے کم تین رکنی کمیٹی بنائی جائے‘ جو منظورشدہ منصوبے پر تعمیراتی کام کے تکمیلی مراحل کی نگرانی کرنے کا ذمہ دار ہو۔ طرزحکمرانی کی اصلاح اور شفاف طرز حکمرانی کے قیام پر مبنی نظام وضع کئے بناء کروڑوں اور اربوں روپے کے ترقیاتی کام بھی پائیدار ثابت نہیں ہوتے جس کی عملی مثالیں ہمارے اردگرد پھیلی ہیں‘ لیکن اگر ہم دیکھنا اُور غور کرنا چاہیں۔
۔

Tuesday, December 19, 2017

Dec 2017: Snowfall and lack of facilities in Galliyat

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
برفباری اور سرد مہری!
’’سر میں سموم سروری‘ رُخ پہ رقوم دلبری‘ دل میں ہجوم قاہری‘ لب پہ نجوم ابتسام‘‘ جیسا رنگارنگ منظر پیش کرنے والے ’خیبرپختونخوا کے بالائی علاقے‘ بالخصوص ہزارہ ڈویژن کے معروف سیاحتی مقامات ’گلیات‘ نے موسم سرما کی ’پہلی برف باری‘ کے بعد سفید چادر اُوڑھ لی ہے‘ جنہیں دیکھنے اور برف پوش وادیوں میں پھیلی خوبصورتی اور موسم سے محظوظ ہونے کے لئے ملکی و غیرملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اُمڈ آئی ہے‘ جو خلاف توقع نہیں۔ 

گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے مطابق ماہ دسمبر کے پہلے ہفتے ہوئی برفباری دیکھنے کے لئے تین لاکھ سے زائد سیاح آ چکے ہیں یہ بھی خلاف توقع نہیں جبکہ اکیس مارچ تک جاری رہنے والے برفباری کے متوقع ’سیزن‘ کے دوران یہ تعداد مجموعی طور پر دس لاکھ سے تجاوز کر جائے گی لیکن یہ تعداد بڑھنے کی توقع ہے۔ موسم سرما ہو یا گرما‘ گلیات کی کشش لاکھوں سیاحوں کو کھینچ لاتی ہے لیکن خیبرپختونخوا حکومت کے بلندبانگ دعوؤں کے باوجود گلیات (ضلع ایبٹ آباد کے بالائی بیشتر دیہیعلاقوں) میں بنیادی سہولیات کی سارا سال ہی فقدان رہتا ہے۔ قیام و طعام جیسی نجی خدمات فراہم کرنے والے سیاحوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے اور گراں فروشی کی انتہاء کر دیتے ہیں‘ جبکہ برف ہٹانے‘ بہتر و معیاری سہولیات اور سیاحوں کی رہنمائی اور شکایات کے لئے مربوط نظام کا مطالبہ ایک عرصے سے اِنہی سطور کے ذریعے بار ہا دہرایا جا رہا ہے‘ لیکن مجال ہے جو فیصلہ سازوں میں سے کسی ایک کے کان پر بھی جوں رینگے۔ ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی برفباری اور نظاروں سے محظوظ ہونے کے لئے آنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ گلیات (آٹھ یونین کونسلوں پر مشتمل ’سرکل بکوٹ‘) میں رہنے والے مقامی اَفراد کی زندگیاں بھی آسان نہیں ہوئی‘ جنہیں عمومی و اجتماعی طور پر برفباری سے راستوں اور بجلی کی بندش سے پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کا گویا تجربہ ہو چکا ہے۔

حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں لیکن گلیات کی قسمت وہی کی وہی ہے۔ رواں ماہ ہوئی چند روزہ برفباری کے بعد سے ایبٹ آباد مری روڈ (مرکزی شاہراہ) کئی مقامات پر بند رہنے سے سیاح پھنسے رہے۔ نتھیاگلی‘ ڈونگا گلی اور ایویبہ کی سیر کے لئے آنے والوں پاس گاڑیوں کا ایندھن نہ رہا حتیٰ کہ موبائل فون کی بیٹریوں نے بھی کام چھوڑ دیا‘ جو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بذریعہ سماجی رابطہ کاری اکاونٹس صورتحال سے مطلع کرتے رہے لیکن اس دوران متعلقہ حکام کی سردمہری و بے حسی کا سورج سوا نیزے پر چمکتا رہا۔ ’جی ڈی اے‘ حکام نے ’خیبرپختونخوا ہائی وے اتھارٹی‘ کی درخواست پر باڑہ گلی سے نتھیاگلی اور ایویبہ تک کے راستوں کی صفائی کی تو اِس کا خوب چرچا کیا گیا لیکن محدود پیمانے پر ہونے والی اِن کوششوں اور جاری برفباری زیادہ بڑے پیمانے پر انتظامات کی متقاضی تھی۔ کیا متعلقہ حکام کو علم نہیں ہوتا کہ ہر سال گلیات میں برف پڑنے کے بعد‘ ذرائع ابلاغ پر برفباری کی خبریں نشر ہونے کے ساتھ ہی سیاحوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے لیکن نہ تو صوبائی حکومت کے ادارے اور نہ ہی ضلعی حکومتیں سیاحوں کی رہنمائی اور اُن کی شکایات کے ازالے کے لئے صف بستہ ہوتے ہیں۔ 

ایک عرصے سے گلیات کے لئے ’ٹورازم ایف ایم ریڈیو‘ اور سیاحوں کی گلیات میں داخلے کے موقع پر رجسٹریشن کی تجاویز دی جا رہی ہیں جو متعلقہ حکام کے سامنے زیرغور بھی ہیں لیکن چونکہ سہولیات کی فراہمی سے متعلق ایک جیسی ذمہ داری کے لئے ایک سے زیادہ ادارے فعال ہیں اِس لئے کوئی ایک حکومتی ادارہ اِسے اپنی ذمہ داری قرار نہیں دیتا۔ سیاحت کے فروغ کا ادارہ‘ گلیات کی ترقی کا ادارہ‘ شاہراؤں کی تعمیر و مرمت‘ توسیع اور اُنہیں سارا سال قابل استعمال رکھنے والا ادارہ اُور ضلعی حکومتیں اپنی اپنی جگہ موجود تو ہیں‘ ملازمین کی فوج ظفرموج بھی ہے اور ’’مراعات کی تقسیم‘‘ کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے لیکن اِس افرادی قوت اور وسائل کا عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات کم سے تعلق نہیں! پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نتھیاگلی سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں اور موسم گرما میں اُن کے لئے گوشۂ سکون یہی مقامات رہے حتی کہ اپنے صاحبزادوں کو سیروتفریح کروانے کے لئے بھی وہ گلیات اور شمالی علاقہ جات کا رخ کرتے ہیں جبکہ اِن علاقوں میں سیاحوں کے لئے فراہم کردہ سہولیات (مقدار و معیار کے لحاظ سے) اُنہیں دکھائی نہیں دیتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان باریک بین نہیں وہ سرسری طور پر بڑے بڑے فیصلے اور حکم صادر کرنے میں اپنا ایک خاص مزاج کی بدولت جس کسی چیز کے بارے میں ایک مرتبہ رائے قائم کر لیں تو اُس سے رجوع نہیں کرتے اور نہ ہی مڑ کر دیکھتے ہیں! اُن کی سماعتوں کو بھلے لگنے والے اعدادوشمار بھی ’ذہنی تفریح و تسکین‘ کا ذریعہ ہیں اور ساڑھے چار سال کی حکومت میں افسرشاہی جان چکی ہے کہ ’خان صاحب‘ کو کس طرح مطمئن کیا جا سکتا ہے۔

حالیہ برفباری کے دوران‘ خوش قسمتی رہی کہ گلیات میں کوئی بڑا ٹریفک حادثہ نہیں ہوا۔ چند ایک مقامات پر درجنوں گاڑیاں پھسلن کے باعث آپس میں ٹکرائیں جس سے مالی نقصانات ہوئے اور اگر شاہراہیں صاف کرنے کے بڑے پیمانے پر اور بروقت انتظامات کئے جاتے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ برفباری دیکھنے کے لئے آنے والوں کو زیادہ لطف آتا اور اُن کے ساتھ اچھی یادیں واپس جاتیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی اُو) ایبٹ آباد ’اشفاق انور‘ کے مطابق پولیس کی اضافی نفری اور ٹریفک پولیس کے حکام تعینات کر دیئے گئے تھے‘‘ جس کا فائدہ یقیناًہوا لیکن سیاحوں کے ساتھ مقامی افراد اور گلیات سے جڑی رابطہ شاہراؤں (لنک روڈز) کئی مقامات پر تاحال بند ہیں‘ جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ صوبائی حکومت نے انقلابی اقدام کرتے ہوئے سرکل بکوٹ کی آٹھ یونین کونسلوں کو ’گلیات‘ میں شامل کر دیا ہے تاہم رابطہ شاہراؤں میں توسیع اور انہیں قابل استعمال رکھنے سے متعلق اعلانات (انتخابی وعدے) ہنوز پورے نہیں کئے جاسکے اور اگر تحریک انصاف سرکل بکوٹ پر مشتمل علاقوں کو الگ تحصیل کا درجہ دینے کا وعدہ پورا نہیں کرتی تو اِس کے نامزد انتخابی اُمیدواروں کو آئندہ عام انتخابات میں عوام کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘ جو گلیات کے چند علاقوں پر نظرکرم سے نالاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسی بنیادی ضرورت ہی کم سے کم فراہم کر دی جائے۔ 

عجب ہے کہ برطانوی راج کے ایک معاہدے کے تحت گلیات (خیبرپختونخوا) سے پینے کا پانی مری (پنجاب) کو فراہم (سپلائی) ہوتا ہے لیکن مقامی افراد اِس آب زلال سے محروم تھے‘ آج بھی محروم ہیں!
۔

Saturday, November 18, 2017

Nov 2017: Glossy picture of PUBLIC TRANSPORT not so glossy!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
چوری: سینہ زوری!
’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے جڑے دکھوں (مشکلات) میں یہ بات بھی شامل ہے کہ صرف اُور صرف ’تھکی ہوئی مسافر گاڑیوں میں سوار عام آدمی (ہم عوام) کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے کہ اِنہی میں دہشت گردوں سے لیکر منشیات فروشوں اور غیرقانونی طور پر اشیاء کی نقل و حمل کرنے والے پائے جاتے ہیں۔ 

مرغیوں کی طرح ڈبوں میں بند‘ کسی گاڑی کی گنجائش (seating capacity) سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنا ایک الگ سا معمول بن گیا ہے۔ بین الاضلائی راستوں (روٹس) پر پبلک ٹرانسپورٹ سے جڑی شکایات کو پانچ بنیادی درجات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ 1: ریجنل ٹرانسپورٹ اٹھارٹی کی جانب سے مقررہ کئے گئے (شرح) کرائے سے زیادہ وصولی کی جاتی ہے۔ 2: گاڑی کی ظاہری اور انجن کی حالت (fitness) لمبے سفر کے قابل نہ ہونے کے باوجود ایسی گاڑیوں کا استعمال عام ہو رہا ہے جو ’ماحول دوست‘ نہیں اور جن میں مسافروں کو دی جانے والی نشستیں نہ تو آرام دہ ہیں اور نہ ہی خواتین‘ بچوں اور ضعیف العمر افراد کے لئے زیادہ موزوں ہیں۔ 3: ڈیزل ایندھن کے تناسب سے مقررہ کرائے وصول کرنے والی گاڑیوں کو سستے ایندھن (سی این جی) سے چلانے کے باوجود بھی زیادہ کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ ایسی ’سی این جی‘ گاڑیوں میں لمبی مسافت طے کرنے کے لئے ایک سے زیادہ گیس ٹینک نصب ہوتے ہیں۔ یوں مسافر کم یا زیادہ فاصلے کے سفر میں مستقل خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔ 4: پبلک ٹرانسپورٹرز مسافروں سے صرف زائد کرایہ ہی وصول نہیں کرتے بلکہ اُن کا رویہ اِنتہاء درجے کا مغرور اور ہتک آمیز بھی ہوتا ہے۔ مسافروں سے اُن کے دستی سامان کا الگ سے کرایہ وصول کرنا بھی ایک معمول ہے‘ جن پر بالخصوص تہواروں یا خصوصی ایام میں باقاعدگی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ 5: پبلک ٹرانسپورٹ سے استفادہ کرنے والوں کے پاس چونکہ کوئی متبادل (option) ہی نہیں اِس لئے وہ ’نجی ٹرانسپورٹرز‘ کی کسی بھی ’جارحانہ اَدا (روئیوں)‘ کا (قطعی) بُرا نہیں مناتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ شکایت کریں گے تو کس سے اُور اگر انصاف چاہیں گے تو کون ہے جو عام آدمی (ہم عوام) کی فریاد جانب توجہ فرمائے۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ بین الاضلاعی و صوبائی روٹس پر ’’حاجی کیمپ‘ پشاور بس ٹرمینل‘ چارسدہ روڈ اور کوہاٹ روڈ جیسے بڑے ’بس اَڈوں‘ کے اصل حاکم کون ہیں؟ حکومتی اِدارے ’نجی ٹرانسپورٹرز‘ کے مفادات کا تحفظ کرنے میں فعال لیکن عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات اور درپیش مسائل کے بارے فکرمند کون ہے؟

خیبرپختونخوا کے کل ’’سات ڈویژنز (مالاکنڈ‘ ہزارہ‘ مردان‘ پشاور‘ کوہاٹ‘ بنوں اُور ڈی آئی خان)‘‘ میں شامل تین اضلاع (چارسدہ‘ نوشہرہ اور پشاور) پر مشتمل ’’پشاور ڈویژن‘‘ سے مقامی اور بین الاضلاعی و بین الصوبائی روٹس پر چلنے والی مسافر گاڑیوں (پبلک ٹرانسپورٹ) کی کل تعداد ’’پندرہ سے سولہ ہزار‘‘ بتائی جاتی ہے (اس سلسلے میں درست اعدادوشمار کیوں موجود نہیں‘ یہ سوال اپنی جگہ لمحۂ فکریہ ہے)۔ 

پبلک ٹرانسپورٹ کے مذکورہ نظام کو قواعد و ضوابط کا پابند رکھنے کے لئے پشاور میں ’’23 چھوٹے بڑے اَڈے‘‘ بنائے گئے ہیں جن میں سے صرف ایک (پشاور بس ٹرمینل) ’ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسپورٹ‘ جبکہ باقی ماندہ کا نظم و نسق اور جملہ انتظامات (مینجمنٹ) ہر ضلع کی طرح پشاور کی ’مقامی (بلدیاتی) حکومت‘ کے پاس ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے بظاہر سیدھے سادے لیکن اِس ’پیچیدہ نظام‘ کا ایک اُور اعلیٰ و بالا نگران ادارہ ’ٹرانسپورٹ اتھارٹی‘ ہے جس کے مذکورہ سات ڈویژنز میں الگ الگ دفاتر ہیں اُور اِنہیں ’’ریجنل ٹرانسپورٹ اٹھارٹیز (آر ٹی اے)‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’آرٹی اے‘ پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے راستوں (روٹس) کے انتخاب‘ اِن راستوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کے اجازت ناموں (روٹس پرمٹ) کے اجرأ‘ اُور فی مسافر (فی نشست) شرح کرائے کا تعین کرتی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی کسی بھی گاڑی کو ’روٹ پرمٹ‘ جاری کرنے کے لئے بنیادی طور پر ’چار روٹس‘ بھی تشکیل دیئے گئے ہیں جن کی درجہ بندی انگریزی حروف تہجی ’اے‘ بی اُور سی‘ سے کرتے ہوئے ’اے‘ نامی ’’روٹ پرمٹ‘‘ اُن گاڑیوں کو دیئے جاتے ہیں جن کی رجسٹریشن کی تاریخ 9 سال تک ہو۔ ’بی‘ نامی روٹ پرمٹ 11 سال تک کی رجسٹریشن رکھنے والی گاڑیوں جبکہ ’سی‘ نامی کٹیگری کے لئے ’عمر کی کوئی قید نہیں‘ بس گاڑی کا فٹ (fit) ہونا ضروری ہے اور یہ روٹ پرمٹ عموماً دیہی علاقوں کے درمیان چلنے والی گاڑیوں کو جاری کئے جاتے ہیں! 

’آر ٹی اے‘ افرادی قوت اور مالی وسائل نہیں رکھتی اُور اُسے زیادہ کرائے وصول کرنے اور گنجائش سے زیادہ مسافروں جیسی شکایت سے نمٹنے کے لئے ٹریفک پولیس کے تعاون ضرورت پڑتی ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی ایک بھی ایسا محکمہ نہیں کہ جسے ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے جڑے مسائل کے لئے ذمہ دار (قصوروار) قرار دیا جائے! جس سے بات کرو‘ وہ خود کو ’’بری الذمہ‘‘ قرار دیتا ہے! 

پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے شکایات کے بارے میں ’ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی پشاور‘ کے ذمہ دار (سیکرٹری محمد ندیم اختر) کہتے ہیں کہ ’’اُن کے پاس قانون و قواعد کے اطلاق کے لئے درکار افرادی قوت اور مالی وسائل کی کمی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے ناموں کی جانچ پڑتال کے لئے تین افراد پر مشتمل ٹیم دفتری اوقات مخصوص ہے جس کی 23 مقامات پر بیک وقت موجودگی ممکن نہیں۔ ’آر ٹی اَے‘ حکام ’ٹریفک پولیس‘ کے محتاج رہتے ہیں‘ جن کی افرادی قوت کے ساتھ مل کر گشتی ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں۔ (اِکا دُکا) گاڑیوں کو روک کر مسافروں سے استفسار کیا جاتا ہے اور زائد کرایہ وصول کرنے والے ڈرائیوروں کو جرمانہ کرنے کے علاؤہ اضافی کرایہ واپس دلایا جاتا ہے۔‘‘ 

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن بس اڈوں میں کھلے عام اضافی کرایہ وصول کیا جاتا ہے اور جہاں سے ’لوڈ‘ ہو کر گاڑیاں نکلتی ہیں وہاں ’آرٹی اے‘ حکام کی موجودگی دکھائی نہیں دیتی‘ حالانکہ سڑکوں کی خاک چھان کی بجائے کرائے ناموں پر حسب شرح کا اطلاق اور عملاً قواعد پر باآسانی عمل درآمد بس ٹرمینلز میں ممکن ہے! یہ امر قطعی تعجب خیز نہیں ہوگا کہ پشاور سمیت ہر ضلع میں ’آر ٹی اے‘ اہلکار اور نجی ٹرانسپورٹرز کی ملی بھگت سے عام آدمی (ہم عوام) کو لوٹنے کا سلسلہ تحریک انصاف کے موجودہ دور حکومت میں بھی پوری ’سینہ زوری‘ سے جاری ہے۔ 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک سے درخواست ہے کہ وہ مقامی‘ بین الاضلاعی اور بین الصوبائی روٹس پر ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے متعلقہ عام آدمی (ہم عوام) کے مسائل و مشکلات جاننے کے لئے ’ہیلپ لائن‘ قائم کریں‘ جس میں فون کال‘ واٹس ایپ اُور ٹوئٹر کے ذریعے شکایت درج کرنے کی سہولت ہونی چاہئے۔ فوری طور پر ’بس ٹرمینلز‘ میں کمپیوٹرائزڈ ٹکٹوں کے اجرأ (ٹکٹ گھروں کے قیام) کا حکم دیں اور ہر روٹ پر مسافر گاڑیوں کی فرنٹ سکرین پر ایسے اسٹکرز چسپاں کروائیں جن میں گاڑی کی کٹیگری‘ روٹ کی نشاندہی‘ فی نشست کرایہ اور زیادہ سے زیادہ مسافروں کی تعداد (حسب گنجائش) جیسی تفصیلات (معلومات) درج ہو۔
۔
Issues regarding Public Transport on inter-district & inter-provincial routes
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-11-18