Showing posts with label Islam. Show all posts
Showing posts with label Islam. Show all posts

Monday, January 24, 2022

Think before you speak

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

کفریہ کلمات

پیپل منڈی پشاور کے معروف تاجر اُور اندرون شہر کے محلہ شیخ الاسلام (گنج) کی سیاسی‘ سماجی اُور مذہبی شخصیت ایاز خان نے بظاہر معمولی لیکن درحقیقت ایک نہایت ہی اہم بات کی جانب توجہ دلائی ہے جو روزمرہ بول چال میں پائی جانے والی ’عمومی بے احتیاطی‘ سے متعلق ہے۔ مشاہدہ ہے کہ اکثر لوگ ہنسی مذاق یا بے توجہی (لاعلمی) کے باعث ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو بسا اُوقات کفر کی حد تک جا پہنچتی ہیں اُور یقینا عمومی معاشرت سے متعلق یہ صرف اہم نہیں بلکہ سنگین مسئلہ بھی ہے‘ جس پر خاطرخواہ گہرائی سے غور و فکر اُور اِن کفریہ کلمات کی ادائیگی سے محفوظ رہتے ہوئے دوسروں کو بھی اِس سے کنارہ کشی کی تلقین عام ہونی چاہئے۔ سوشل میڈیا (انٹرنیٹ) کے زمانے میں جب شہروں اُور دیہات میں رہنے والوں کے درمیان صرف مواصلاتی رابطے ہی پہلے سے زیادہ فعال اُور کم قیمت نہیں ہوئے بلکہ اِس کے ساتھ ہر قسم کی تصدیق شدہ (درست) اُور غیرتصدیق شدہ (اغلاط کا مجموعہ) معلومات کی گردش بھی باآسانی ہو رہی ہے تو ضرورت اِس اَمر ہے کہ نیت کرتے ہوئے اِسی ’سوشل میڈیا‘ جیسے ”خیر ِمحض“ وسیلے‘ ذریعے اُور طریقے کا استعمال کرتے ہوئے اپنی اُور دوسروں کی عمومی و خصوصی غلطیوں کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے (اِن شا اللہ عزوجل)۔

دعوت اِسلامی‘ نامی غیرسیاسی مذہبی تحریک کے بانی اُور سربراہ مولانا الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ نے ”کفریہ کلمات“ سے متعلق تین کتابیں لکھی ہیں۔ پہلی کتاب ’19 صفحات‘ پر مشتمل اگرچہ مختصر لیکن اِس موضوع پر انتہائی جامع تعارف ہے اُور اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دعوت اسلامی کے عمومی اشاعتی سلسلے اُور بالخصوص کفریہ کلمات کے حوالے سے اِس پوری کاوش (کار ِخیر) کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ سوچ سمجھ کر بولنے کی تعلیم دی جائے اُور کردار کے ساتھ گفتار میں بھی حد درجہ احتیاط اختیار کرنے کی جانب توجہ دلائی جائے کیونکہ اپنی اُور دوسروں کی بول چال کی اصلاح بھی نیکی کی ترغیب (دعوت) دینے ہی کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔

 مذکورہ تینوں کتابیں (اٹھائیس کلمات کفریہ (19صفحات)‘ گانوں کے پینتیس کفریہ اشعار (35صفحات) اُور کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب (710 صفحات) اُردو کے علاؤہ اَنگریزی‘ بنگلہ‘ گجراتی‘ کناڈا‘ رومن اُردو‘ ہندی اُور ڈینش زبانوں میں آن لائن دستیاب ہیں اُور دعوت اسلامی کی ویب سائٹ (DawatIslami.net) سے کسی بھی وقت بلاقیمت (مفت) حاصل کی جا سکتی ہیں۔ دعوت ِاسلامی کی جانب سے کفریہ کلمات کی جانب توجہ اگرچہ شروع دن سے ہو رہا ہے لیکن اِس اصلاح احوال کے سلسلے میں باقاعدہ مہم کی صورت کوشش کا آغاز جولائی 2008ءمیں شائع ہونے والی کتاب ”گانوں کے 35 کفریہ اَشعار“ سے سامنے آئی اُور تب لوگوں نے سمجھا کہ جو ملکی و غیرملکی گانے یا شاعرانہ کلام وہ بنا سوچے سمجھے اُٹھتے بیٹھے دہرا رہے ہوتے ہیں درحقیقت وہ اُن کے ایمان کے لئے خطرہ ہیں! 

مذکورہ تینوں کتابیں ’اصلاح معاشرے‘ کے حوالے سے ایک اہم ضرورت پوری کر رہی ہیں تاہم وقت کے ساتھ اِن کتابوں میں اضافے کی بھی ضرورت ہے چونکہ مہنگائی کے زمانے کتابوں کی اشاعت اُور اِنہیں خریدنے کی سکت کم ہو رہی ہے اِس لئے اگر ’اِی بک (e-book)‘ کی صورت اگر اشاعتوں کا الگ سے سلسلہ شروع کیا جائے اُور دعوت اسلامی کے واٹس ایپ گروپوں کی مناسب تشہیر کی جائے تو چراغ سے چراغ جلتا چلا جائے گا اُور آن لائن قارئین کی بڑی تعداد مستفید ہو سکے گی۔

 توجہ طلب ہے کہ صرف عمومی بول چال اُور فلمی شاعری ہی نہیں بلکہ دیگر شاعرانہ اُور نثری مضامین میں بھی اکثر ایسے الفاظ‘ جملے‘ اشارے یا استعارے استعمال کئے جاتے ہیں یا ہو جاتے ہیں‘ جو بطور مسلمان اُور ادب و احترام کی تلقین پر مبنی اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ بول چال میں جس درجہ احتیاط کا مظاہرہ ہونا چاہئے وہ دیکھنے میں نہیں آ رہا اُور یہی مرحلہ فکر اُن طبقات کے لئے پریشانی و تشویش کا باعث ہے جو اِس بڑھتے ہوئے سماجی مرض سے خود بھی محفوظ رہنے کی کوشش کرتے ہیں اُور دوسروں کی شفایابی کے بھی متمنی (خیرخواہ) ہیں۔ کفریہ کلمات اُور اِس جیسے دیگر سماجی مسائل کے بارے میں عوام الناس کی تعلیم و تربیت کی کوشش میں ”مسجد“ کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے جہاں ہر عمر اُور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہفتہ وار نماز جمعہ کے اجتماع میں بااہتمام شریک ہوتے ہیں لیکن اکثریت ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی نماز جمعہ کے لئے دی جانے والی دوسری آذان سے قبل مسجد کا رخ نہیں کرتی اُور یہی وجہ سے جمعة المبارک جیسے جلیل القدر دن کی مقصدیت و معنویت حاصل نہیں ہو رہی کیونکہ منبر سے واعظ و نصیحت سننے کا مختصر دورانیہ بھی اکثریت کے لئے قابل برداشت نہیں رہا!

فتاویٰ شامی کے مطابق ”حرام الفاظ اُور کفریہ کلمات کے متعلق علم سیکھنا فرض ہے۔‘ تو جہاں علم سیکھنا بھی فرض شمار ہو وہاں فرض عبادات کے بعد سب سے اچھا عمل یہ ہے کہ اپنے آپ کو خدا کے ذکر میں زیادہ سے زیادہ مشغول رکھا جائے اُور صرف یہی ایک راستہ‘ طریقہ‘ شعار‘ طرز فکروعمل ہے کہ جس کے ذریعے کوئی بھی شخص (عالم یا اچھی اخرت کا طلب گار) کفریہ کلمات کی ادائیگی جیسے گناہ سے بچ سکتا ہے۔ مختلف لوگوں اور اُن کی مصروفیات اور مشاغل الگ الگ ہوتے ہیں لیکن ”اللہ کا ذکر“ ہر حال میں‘ دل ہی دل یا زبان سے کرتے رہنے سے متعلق اتفاق رائے پائی جاتی ہے کہ عمل یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر کا التزام ہی درحقیقت بہترین مشغلہ ہے جس میں مصروف رہنے کا اجروثواب بھی ہے اُور آخرت میں انعام و اکرام بھی ملے گا۔ 

صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ”اللہ کے ذکر“ کی اہمیت واضح کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا (ترجمہ) ”مفردون سبقت لے گئے۔“ عرض کیا گیا کہ یہ ”مفردون کون ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں۔“ ایک اُور حدیث مبارکہ حضرت ابوالدردا¿ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (ترجمہ) ”کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمہارے سارے اعمال میں بہتر اور تمہارے (حقیقی) مالک (اللہ تعالیٰ) کی نگاہ میں پاکیزہ تر ہے اور تمہارے (دنیاوی و اخروی) درجات کو تمام اعمال سے زیادہ بلند کرنے والا ہے اور راہ خدا میں سونا چاندی (فراخدلی سے) خرچ کرنے سے بھی زیادہ تمہارے حق میں خیر و برکت کا باعث ہے اور تمہارے لئے اس میں جہاد سے بھی زیادہ خیر پوشیدہ ہے‘ جس میں تم اپنے دشمنوں اور خدا کے دشمنوں کو موت کے گھاٹ اُتارو اور وہ تمہیں شہید کریں؟“ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عرض کیا ”ہاں‘ یارسول اللہ (ایسا قیمتی عمل ضرور بتایئے)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ عمل ”اللہ کا ذکر“ ہے (بحوالہ ابوداؤد‘ ترمذی‘ ابن ماجہ)۔“

....

Editorial Page Daily Aaj 24 January 2022 Monday

Clipping from Editorial Page of Daily Aaj 24 January 2022


Saturday, May 9, 2020

Fitrana this year?

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
پیشگی صدقہ فطر؟
کورونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والی غیرمعمولی معاشی مشکلات اُور سماجی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے ’پیشگی فطرانہ ادائیگی مہم‘ چلائی جا رہی ہے‘ جس کا خلاصہ یہ ہے 1: سرمایہ دار اِس مرتبہ اپنی زکوة‘فطرانہ اُور صدقات کی شرح میں اضافہ کریں اُور 2: فطرانہ اَدا کرنے کے لئے آخری روزے (ماہ رمضان المبارک) کی تکمیل کا انتظار نہ کیا جائے۔“ اِس سماجی مطالبے کے دونوں پہلووں کے بارے میں مختلف مسالک کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے چونکہ فطرانے کو فطر (یکم شوال یعنی عید کے دن) سے منسوب کیا گیا ہے‘ اِس لئے عید الفطر کا دن ہی فطرانہ کی ادائیگی کا وقت ہے جیساکہ رمضان المبارک کے کسی دن کا روزہ اُس کے افطار پر مکمل ہوتا ہے اِس جواز پر فقہاءکے ایک طبقے کا موقف غیرلچکدار ہے جو ”ماہ رمضان المبارک کے آخری یوم کا سورج غروب ہونے سے قبل فطرانہ ادا کرنے کو جائز قرار نہیں سمجھتے اُور اِس قدر رعایت دیتے ہیں کہ عیدالفطر سے 1یا 2 دن قبل فطرانہ ادا کر دیا ہے کیونکہ فطرانہ کی ادائیگی کا حقیقی وقت رمضان المبارک کے آخری روزے کا سورج غروب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے‘ اِس لئے افضل یہی ہے اُور اگر ممکن ہو تو عیدالفطر کی صبح فطرانہ اَدا کیا جائے۔“

اِس مسئلے کا ایک اِنسانی پہلو بھی ہے اُور وہ یہ کہ فطرانہ وقت سے پہلے ادا کرنے سے فطرانہ وصول کرنے والے (مستحقین) عید کی تیاریوں میں زیادہ بہتر انداز سے شامل ہو سکیں۔ ہر عبادت کی ایک روح (مقصدیت) بھی ہوتی ہے تو 3 پہلووں (انسانی ضرورت‘ مقصدیت اُور خصوصی حالات) کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر اِس سال فطرانہ کی دس پندرہ روز قبل ادائیگی جائز قرار دی جائے تو یہ زیادہ مفید عمل ہوگا یقینا اِس سلسلے میں علمائے کرام بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں۔

اسلام صرف عبادات (حقوق اللہ) کی حد تک محدود نہیں بلکہ اِس میں دنیاوی حقوق کی ادائیگی پر بھی زور دیا گیا ہے اُور اِسی لئے وجوب اُور عدم وجوب کے لحاظ سے 2 قسم کے صدقات (صدقہ واجبہ اُور صدقہ نافلہ) کا حکم ہے۔ واجبہ سے مراد ہر صاحب نصاب بالغ مرد یا عورت پر فرض (لازم) صدقات ہیں‘ اِن میں زکوة‘ صدقہ فطر اُور عشر وغیرہ شامل ہیں۔ بالخصوص صدقہ فطر ہر مسلمان غلام اُور آزاد‘ مرد و عورت‘ بچے اُور بوڑھے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو واجب ٹھہرایا گیا ہے۔ زکوة کی ادائیگی کے لئے سال بھر ایک خاص نصاب کا باقی رہنا شرط ہے لیکن صدقہ فطر میں نصاب پر سال کا گزرنا شرط نہیں بلکہ اگر کسی شخص کے پاس عیدالفطر کے دن کہیں سے اِس قدر رقم آ جائے جو زکوة کے نصاب کے برابر ہو اُور اُس کی حاجات اصلیہ سے زائد بھی ہو تو اُس پر صدقہ فطر کی ادائیگی واجب (لازم) ہو جاتی ہے۔ ”صدقہ نافلہ“ کے تحت کوئی بھی شخص (مرد یا عورت) اپنی ضرورت سے زائد مال غریبوں‘ مسکینوں‘ محتاجوں اُور فقیروں میں تقسیم یا اُن پر خرچ کرتا ہے۔ صدقات واجبہ اُور نافلہ کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے والوں کے روز قیامت درجات اُتنے ہی بلند ہوں گے۔ 

قرآن کریم کی 35ویں سورہ¿ مبارکہ فاطر کی 29ویں آیت میں ”اللہ تعالیٰ سے تجارت“ کرنے کے ایک طریقے کی جانب اشارہ کیا گیا ہے (ترجمہ): ”جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اُور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اُور جو کچھ اُنہیں عطا کیا گیا اُس میں سے پوشیدہ اُور ظاہراً خرچ کرتے ہیں تو (درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کی جانے والی) ایسی تجارت (لین دین) ہے جس میں خسارہ نہیں۔“ سورہ¿ مبارکہ بقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُن کی مثال اُس دانے (اناج) جیسی ہے‘ جس میں سات بالیاں نکلیں اُور ہر بالی میں 100 دانے ہوں‘ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر اجر دے‘ وہ کشادگی اُور علم والا ہے۔“

صدقہ فطر مالی انفاق ہے جسے ادا کرنے کا حکم زکوٰة کی فرضیت سے قبل اُس برس دیا گیا جب ماہ¿ رمضان المبارک کے روزہ فرض ہوئے تھے۔ ذہن نشین رہے کہ روزے کی فرضیت کا حکم سن 2 ہجری میں تحویل قبلہ سے کم و بیش دس پندرہ روز بعد نازل ہوا اُور روزے سے متعلق دوسرے سورہ¿ مبارک البقرہ کی 185ویں آیت شعبان المعظم میں نازل ہوئی تھی۔ صدقہ فطر صاحب نصاب لوگوں کی جانب سے غریبوں کو دیا جاتا ہے اُور اِس صدقے کو عرف عام میں ”فطرانہ“ کہتے ہیں‘ عمومی طور پر ہر زکوة ادا کرنے والے پر فطرانہ فرض ہے اُور بنیادی مقصد یہ ہے کہ عیدالفطر کے تہوار میں معاشرے کے غریب‘ مسکین‘ نادار (مالی طور پر کمزور طبقات) بھی شریک ہو سکیں۔ علاوہ ازیں ماہ رمضان المبارک میں روزے اُور دیگر عبادات کی قبولیت کو ”صدقہ فطر“ سے مشروط کر دیا گیا ہے‘ جس سے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حکمت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ فطر کو اِس لئے فرض قرار دیا تاکہ روزے (فرض عبادت) کے خاطرخواہ احترام میں رہ جانے والی دانستہ و غیردانستہ کمی بیشی (غلطی‘ کوتاہی یا بے ادبی) کا اَزالہ ہو سکے۔

فطرانے کے حوالے سے مختلف مسالک کی جانب سے نصاب کا اعلان کر رکھا ہے۔ جامعة العلوم الاسلامیہ‘ بنوری ٹاون کراچی (دیوبند مسلک) دارالافتاءکے مطابق رواں برس (سال دوہزاربیس) کے لئے فطرانہ کی رقم مختلف اناج کے حساب سے طے کی گئی ہے‘ جس میں گندم کی قیمت کے تناسب سے 100‘ جو کے لئے 250‘ کھجور کے لئے 1100 اُور کشمش کے لئے 1700 روپے مقرر کی گئی ہے لیکن یہ کم سے کم فطرانہ ہے‘ اگر کوئی صاحب ثروت اِس سے زیادہ‘ اُور جس قدر زیادہ فطرانہ اَدا کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ پشاور کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی (مسجد قاسم علی خان) نے فطرانہ کی رقم 115 روپے مقرر کرتے ہوئے اعلان میں کہا ہے کہ 1: مستحقین زکوة ہی مستحقین صدقہ فطر ہیں۔ 2: فطرانہ نماز عید سے قبل ادا کرنے میں فضیلت اُور زیادہ اجروثواب ہے۔ 3: گندم 115‘ کھجور 880‘ جو 180‘ کشمش 1200 اُور پنیر کے مطابق 2800 روپے فطرانہ مقرر کیا گیا ہے۔ 

مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن کے فتوی (بریلوی مسلک) کے مطابق اِس سال کے لئے صدقہ فطر 125 روپے ہے جو گزشتہ برس (2019) کے لئے 100 روپے تھا۔ اِس سلسلے میں صدقہ فطر اور فدیہ مقرر کرنے کے لئے 2کلوگرام چکی کے آٹا پر فی کس صدقہ فطر متعین کیا گیا ہے۔ دیگر اجناس میں جو کے نصاب سے فطرہ 320‘ کھجور کے نصاب سے 1600‘ کشمش (خشک میوہ) کے نصاب سے 1920 اور پنیر کے نصاب 3540 روپے بتایا گیا ہے۔ فتوے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اہلِ ثروت اپنی مالی حیثیت کے مطابق فطرہ و فدیہ ادا کریں اُور جو لوگ کسی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے وہ 30 روزوں کا فدیہ بالترتیب چکی کا آٹا 3750‘ جو 9600‘ کھجور 48 ہزار‘ کشمش 57ہزار 600‘ اور پنیر 1 لاکھ 6200 روپے کے تناسب سے اَدا کریں۔

فقہ جعفریہ (اہل تشیع اثنائے عشریہ) کی جانب سے گذشتہ برس صدقہ فطر 150 روپے جبکہ اِس سال (2020) کے لئے 175 روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ احتیاط کے طور پر فی کس کم سے کم فطرانہ 200 روپے ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ 

لب لباب یہ ہے کہ تمام مسالک کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ کم سے کم کے چکر پڑنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ فطرانہ ادا کرنے میں حرج نہیں البتہ صدقہ فطر کی ابتدائی حد معلوم ہونی چاہئے کہ اُس سے کم شرح سے دیا گیا صدقہ فطر ادا نہیں ہوگا۔ صدقہ فطر عید (یکم شوال المکرم) سے چند روز قبل بھی ادا کیا جا سکتا ہے اُور اِس سلسلے میں بخاری شریف کے باب صدقہ فطر میں امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اِس معمول کا ذکر محفوظ ہے کہ آپ عید الفطر سے ایک دو روز قبل اپنا فطرانہ ادا کر دیا کرتے تھے۔ فطرانہ کی ادائیگی نماز عید الفطر کے بعد تک موخر کرنا مکروہ جبکہ بعض فقہاءکے نزدیک حرام اُور ایسا کرنے کی صورت میں قضاءواجب (لازم) ہوگی۔
........
Clipping from Daily Aaj May 09 2020  Saturday 


Wednesday, November 20, 2019

Dua_e_Kumail

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ
...
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بنام خدائے رحمن و رحیم

اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،
وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ
خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے

بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،
وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،
وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ
اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے

بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ،
وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ
جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے

شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،
اور اس سلطنت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے سے بلند تر ھے۔اس ذات کے واسطہ سے ھے جو ھر شے کی فنا کے بعد بھی باقی رھنے والی ھے

وَبِاٴَسْمٰائِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ اَرْکٰانَ کُلِّ شَيْءٍ،
وَبِعِلْمِکَ الَّذي اٴَحٰاطَ بِکُلِّ شَيْءٍ،
اور ان اسماء مبارکہ کے واسطہ سے ھے جن سے ھر شے کے ارکان معمور ھیں ۔اس علم کے واسطہ سے ھے جو ھر شے کا احاطہ کئے ھوئے ھے

وَبِنُورِ وَجْھِکَ الَّذي اٴَضٰاءَ لَہُ کُلُّ شَيْءٍ،
یٰا نُورُ یٰا قُدُّوسُ،یٰا اٴَوَّلَ الْاٴَوَّلینَ،
 اور اس نور ذات کے واسطہ سے ھے جس سے ھر شے روشن ھے۔اے نور ،اے پاکیزہ صفات،اے اوّلین سے اوّل اور آخرین سے آخر۔

وَیٰا آخِرَالْآخِرینَ۔ اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَھْتِکُ الْعِصَمَ ۔
اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ النِّقَمَ۔
خدایا میرے گناھوں کو بخش دے جو ناموس کو بٹہ لگادیتے ھیں۔ان گناھوں کو بخش دے جو نزول عذاب کا باعث ھوتے ھیں۔

اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُغَیِّرُالنِّعَمَ۔
اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَحْبِسُ
ان گناھوں کو بخش دے جو نعمتوں کو متغیر کر دیا کرتے ھیں ۔ان گناھوں کو بخش دے جو دعاوٴں کو تیری بارگاہ تک پھنچنے سے روک دیتے ھیں ۔

الدُّعٰآءَ۔اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ الْبَلآٰءَ۔
اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلي کُلَّ ذَنْبٍ اٴَذْنَبْتُہُ، وَکُلَّ خَطٓیئَةٍ اٴَخْطٰاٴْتُھٰا۔
ان گناھوں کو بخش دے جو امیدوں کو منقطع کر دیتے ھیں۔ان گناھوں کو بخش دے جو نزول بلاء کا سبب ھوتے ھیں۔ خدایا میرے تمام گناھوں اور میری تمام خطاوٴں کو بخش دے۔

اٴَللّٰھُمَّ إِنِّي اٴَتَقَرَّبُ إِلَیْکَ بِذِکْرِکَ،
وَاٴَسْتَشْفِعُ بِکَ إِلٰی نَفْسِکَ،وَاٴَسْاٴَلُکَ
خدایامیں تیری یاد کے ذریعہ تجھ سے قریب ھو رھاھوں اور تیری ذات ھی کو تیری بارگاہ میں شفیع بنا رھا ھوں تیرے کرم کے سھارے میرا سوال ھے

بِجُودِکَ اٴَنْ تُدْنِیَني مِنْ قُرْبِکَ،
وَاَنْ تُوزِعَنِي شُکْرَکَ،وَاَنْ تُلْھِمَنِي ذِکْرَکَ،اٴَللّٰھُمَّ إِنّي اٴَسْاٴَلُکَ
کہ مجھے اپنے سے قریب بنالے اور اپنے شکر کی توفیق عطا فرما اور اپنے ذکر کا الھام کرامت فرما۔خدایامیں نھایت درجہ

سُوٴٰالَ خٰاضِعٍ مُتَذَلِّلٍ خٰاشِعٍ اٴَنْ تُسٰامِحَنيوَ
تَرْحَمَنِي وَتَجْعَلَنِي بِقِسْمِکَ رٰاضِیاً
خشوع ،خضوع اور ذلت کے ساتھ یہ سوال کرر ھاھوں کہ میرے ساتھ مھربانی فرما۔مجھ پر رحم کر اور جو کچھ مقدر میں ھے مجھے

قٰانِعاً،وَفي جَمیعِ الْاٴَحْوٰالِ مُتَوٰاضِعاً۔
اسی پر قانع بنادے۔ مجھے ھر حال میں تواضع اور فروتنی کی توفیق عطا فرما۔

اٴَللّٰھُمَّ وَاٴَسْاٴَ لُکَ سُوٴٰالَ مَنِ اشْتَدَّتْ فٰاقَتُہُ،وَاٴَنْزَلَ بِکَ عِنْدَ الشَّدٰائِدِ
خدایا میرا سوال اس بے نوا جیسا ھے جس کے فاقے شدید ھوں اور جس نے اپنی حاجتیں تیرے سامنے رکھ دی ھوں

حٰاجَتَہُ،وَعَظُمَ فیمٰا عِنْدَکَ رَغْبَتُہُ۔
اٴَللّٰھُمَّ عَظُمَ سُلْطٰانُکَ،وَعَلٰا مَکٰانُکَ،وَخَفِيَ
اور جس کی رغبت تیری بارگاہ میں عظیم ھو۔خدایا تیری سلطنت عظیم۔ تیری منزلت بلند۔تیری تدبیر مخفی ۔

مَکْرُکَ،وَظَہَرَ اٴَمْرُکَ،وَغَلَبَ قَہْرُکَ،
وَجَرَتْ قُدْرَتُکَ،وَلٰا یُمْکِنُ الْفِرٰارُمِنْ حُکُومَتِکَ۔
تیرا امر ظاھر۔تیرا قھر غالب اور تیری قدرت نافذ ھے اور تیری حکومت سے فرار ناممکن ھے۔

اٴَللّٰھُمَّ لاٰاٴَجِدُ لِذُنِوبيغٰافِراً،
وَلاٰ لِقَبٰائِحيسٰاتِراً،
وَلاٰلِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِيَ الْقَبیحِ
خدایا میرے گناھوں کے لئے بخشنے والا۔میرے عیوب کے لئے پردہ پوشی کرنے والا،میرے قبیح اعمال

بِالْحَسَنِ مُبَدِّلاً غَیْرَکَ،
لاٰإِلٰہَ إِلاَّ اٴَنْتَ سُبْحٰانَکَ وَبِحَمْدِکَ،ظَلَمْتُ نَفْسِي،ُ
کو نیکیوں میں تبدیل کرنے والا تیرے علاوہ کوئی نھیں ھے۔ تو وحدہ لا شریک، پاکیزہ صفات اور قابل حمد ھے۔ خدایا میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ھے۔

وَتَجَرَّاٴْت بِجَھْلي،
وَسَکَنْتُ إِلٰی قَدِیمِ ذِکْرِکَ لي،وَمَنِّکَ عَلَيَّ
۔
اپنی جھالت سے جسارت کی ھے اور اس بات پر مطمئن بیٹھا ھوں کہ تونے مجھے ھمیشہ یا د رکھا ھے اور ھمیشہ احسان فرمایا ھے۔

اٴَللّٰھُمَّ مَوْلاٰيَ کَمْ مِنْ قَبیحٍ سَتَرْتَہُ،
وَکَمْ مِنْ فٰادِحٍ مِنَ الْبَلآٰءِ اٴَقَلْتَہُ،وَکَمْ مِنْ
خدایا میرے کتنے ھی عیب ھیںجنھیں تونے چھپا دیا ھے اور کتنی ھی عظیم بلائیں ھیں جن سے تونے بچایا ھے۔ کتنی ٹھوکریں ھیں

عِثٰارٍوَقَیْتَہُ،وَکَمْ مِنْ مَکْرُوہٍ دَفَعْتَہُ،
وَکَمْ مِنْ ثَنٰاءٍ جَمیلٍ لَسْتُ اٴَھْلاً لَہُ نَشَرْتَہُ
۔
جن سے تونے سنبھالا ھے اور کتنی برائیاں ھیں جنھیں تونے ٹالا ھے۔کتنی ھی اچھی تعریفیں ھیں جن کا میں اھل نھیں تھا اور تونے میرے بارے میں انھیں نشر کیا ھے ۔

اٴَللّٰھُمَّ عَظُمَ بَلاٰئِي،وَاٴَفْرَطَ بيسُوٓءُ حٰالي،
وَقَصُرَتْ بياٴَعْمٰالِي،وَقَعَدَتْ
خدایا میری مصیبت عظیم ھے ۔میری بدحالی حد سے آگے بڑھی ھوئی ھے ۔میرے اعمال میں کوتاھی ھے۔ مجھے کمزوریوں

بِياٴَغْلاٰلِي،وَحَبَسَنِي عَنْ نَفْعِي بُعْدُ اٴَمَلِي
وَخَدَعَتْنِي الدُّنِّیٰا بِغُرُورِھٰاوَنَفْسي بِجِنٰایَتِھٰا
کی زنجیروں نے جکڑکر بٹھا دیا ھے اور مجھے دور دراز امیدوں نے فوائد سے روک دیا ھے،دنیا نے دھوکہ میں مبتلا رکھا ھے اور نفس نے خیانت اور ٹال مٹول میں مبتلا رکھا ھے ۔

 وَمِطٰالي یٰاسَیِّدِي،فَاٴَسْاٴَلُکَ بِعِزَّتِکَ اٴَنْ لاٰیَحْجُبَ عَنْکَ دُعٰائِي سُوٓءُ عَمَلِي و َفِعٰالِي،
میرے آقا و مولا! تجھے تیری عزت کا واسطہ ۔میری دعاوٴں کو میری بد اعمالیاں روکنے نہ پائیں اور میں

وَلاٰتَفْضَحْنِي بِخَفِيِّ مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْہِ مِنْ سِرِّي،وَلاٰ تُعٰاجِلْني بِالْعُقُوبَةِ عَلٰی مٰا عَمِلْتُہُ
اپنے مخفی عیوب کی بنا پر بر سر عام رسوانہ ھونے پاوٴں۔میں نے تنھا ئیوں میں جو غلطیاں کی ھیں ان کی سزا فی الفور نہ

فيخَلَوٰاتي مِنْ سُوٓءِ فِعْلِي وَإِسٰائَتِي،وَدَوٰامِ تَفْریطي وَجَھٰالَتِي، وَکَثْرَةِ شَھَوٰاتي وَ غَفْلَتِي۔
ملنے پائے، چاھے وہ غلطیاں بد عملی کی شکل میں ھو ں یا بے ادبی کی شکل میں،مسلسل کوتاھی ھو یا جھالت یا کثرت خواھشات و غفلت۔

وَکْنِ اللّٰھُمَّ بِعِزَّتِکَ لي فی کُلِّ الْاٴَحْوٰالِ رَؤُوفاً،وَعَلَيَّ في جَمیعِ الْاُمُورِ
خدایا مجھ پرھر حال میں مھربانی فرما اور میرے اوپر تمام معاملات میں کرم فرما۔خدایا۔پروردگار۔میرے پاس

عَطُوفاً،إِلٰھيوَرَبّيمَنْ لي غَیْرُکَ،اٴَسْاٴَلُہُ کَشْفَ ضُرّي، وَالنَّظَرَ فياٴَمْرِي۔
تیرے علاوہ کون ھے جو میرے نقصانات کو دور کر سکے اور میرے معاملات پر توجہ فرماسکے۔

إِلٰھي وَمَوْلاٰيَ اٴَجْرَیْتَ عَلَيّحُکْماً اتَّبَعْتُ فیہِ ھَویٰ نَفْسي،وَلَمْ اٴَحْتَرِسْ فیہِ مِنْ
خدایا مولایا۔تونے مجھ پر احکام نافذ کئے اور میں نے خواھش نفس کا اتباع کیا اور اس با ت کی پرواہ نہ کی کہ دشمن

تَزْیینِ عَدُوِّي،فَغَرَّنِي بِمٰااٴَھْویٰ وَاٴَسْعَدَہُ عَلٰی ذٰلِکَ الْقَضٰٓاءُ فَتَجٰاوَزْتُ بِمٰاجَریٰ عَلَيَّ مِنْ
(شیطان) مجھے فریب دے رھا ھے۔
نتیجہ یہ ھوا کہ اس نے خواھش کے سھارے مجھے دھوکہ دیا اور میرے مقدر نے بھی اس کا سا تھ دے دیا

ذٰلِکَ بَعْضَ حُدُودِکَ،وَخٰالَفْتُ بَعْضَ اٴَوٰامِرِکَ۔
اور میں نے تیرے احکام کے معاملہ میں حدود سے تجاوز کیا اور تیرے بہت سے احکام کی خلاف ورزی کر بیٹھا ۔

فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَيَّ فيجَمیعِ ذٰلِکَ،وَلاٰحُجَّةَ لِي فِیمٰاجَریٰ عَلَيَّ فیہِ قَضٰاوُٴکَ،
بھر حال اس معاملہ میں میرے ذمہ تیری حمد بجالانا ضروری ھے اور اب تیری حجت ھر مسئلہ میں میرے اوپر تمام ھے اور میرے پاس

وَاٴَلْزَمَنِيحُکْمُکَ وَبَلٰاوٴُکَ،وَقَدْ اٴَتَیْتُکَ یٰاإِلٰھِي بَعْدَ تَقْصیرِي وَإِسْرٰافِيعَلٰی نَفْسِي،
تیرے فیصلہ کے مقابلہ میں اور تیرے حکم و آزمائش کے سامنے کوئی حجت و دلیل نھیں ھے۔اب میں ان تمام کوتاھیوں اور اپنے نفس پر تمام زیادتیوں

مُعْتَذِراًنٰادِماً مُنْکَسِراًمُسْتِقیلًا مُسْتَغْفِراً
مُنیباًمُقِرّاً مُذْعِناًمُعْتَرِفاً، لاٰ اٴَجِدُ مَفَرّاًمِمّٰا کٰانَ مِنّي
،
کے بعد تیری بارگاہ میں ندامت انکسار، استغفار، انابت، اقرار، اذعان، اعتراف کے ساتھ حاضر ھو رھاھوں کہ میرے پاس ان گناھوں سے بھاگنے کے لئے کوئی

وَلاٰمَفْزَعاًاٴَتَوَجَّہُ إِلَیْہِ فياٴَمْرِي
غَیْرَ قَبُولِکَ عُذْرِي،وَإِدخٰالِکَ إِیّٰايَ في سَعَةِ رَحْمَتِکَ
۔
جائے فرار نھیں ھے اور تیری قبولیت معذرت کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نھیں ھے۔صرف ایک ھی راستہ ھے کہ تواپنی رحمت کاملہ میں داخل کر لے۔

اٴَللّٰھُمَّ فَاقْبَلْ عُذْري،
وَارْحَمْ شِدَّةَ ضُرِّي،وَفُکَّنِيمِنْ شَدِّ وَثٰاقِي،یٰارَبِّ ارْحَمْ ضَعْفَ بَدَنِي
،
لہٰذا پروردگار میرے عذر کو قبول فرما ۔میری شدت مصیبت پر رحم فرما۔مجھے شدید قید وبند سے نجات عطا فرما۔پروردگار میرے بدن کی کمزوری،

وَرِقَّةَ جِلْدي،
وَدِقَّةَ عَظْمي،
یٰامَنْ بَدَاٴَخَلْقِي وَذِکْرِي وَتَرْبِیَتِي وَبِرِّي وَتَغْذِیَتي ھَبْني لِابْتِدٰاءِ
میری جلد کی نرمی اور میرے استخواں کی باریکی پر رحم فرما۔اے میرے پیداکرنے والے ۔اے میرے تربیت دینے والے۔

کَرَمِکَ وَسٰالِفِ بِرِّکَ بي۔
اے نیکی کرنے والے! اپنے سابقہ کرم اور گذشتہ احسانات کی بنا پر مجھے معاف فرمادے۔

یٰاإِلٰھِيوَسَیِّدِي وَرَبِّي،
اٴَتُرٰاکَ مُعَذِّبِي بِنٰارِکَ بَعْدَ تَوْحیدِکَ،وَبَعْدَمَاانْطَویٰ
پروردگار!
کیا یہ ممکن ھے کہ میرے عقیدہٴ توحید کے بعد بھی تو مجھ پر عذاب نازل کرے، یا میرے

عَلَیْہِ قَلْبِيمِنْ مَعْرِفَتِکَ،
وَلَھِجَ بِہِ لِسٰانِيمِنْ ذِکْرِکَ،وَاعْتَقَدَہُ ضَمیرِي مِنْ
دل میں اپنے معرفت کے باوجود مجھے مورد عذاب قرار دے کہ میری زبان پر مسلسل تیرا ذکر اور میرے دل میں برابراسے برباد بھی کردے ،

حُبِّکَ،وَبَعْدَصِدْقِ اعْتِرٰافِيوَدُعٰائِيخٰاضِعاً لِرُبُوبِیَّتِکَ،ھَیْھٰاتَ،
اٴَنْتَ اٴَکْرَمُ مِنْ اٴَنْ تُضَیِّعَ
تیری محبت جاگزیں رھی ھے۔میں صدق دل سے تیری ربوبیت کے سامنے خاضع ھوں۔اب بھلا یہ کیسے ممکن ھے کہ جسے تونے پالا ھے

مَنْ رَبَّیْتَہُ،اٴَوْ تُبْعِدَ مَنْ اٴَدْنَیْتَہُ،
اٴَوْتُشَرِّدَ مَنْ آوَیْتَہُ،اٴَوْتُسَلِّمَ إِلَی الْبَلاٰءِ مَنْ کَفَیْتَہُ وَرَحِمْتَہُ
۔
جسے تونے قریب کیا ھے اسے دور کردے۔جسے تونے پناہ دی ھے اسے راندہٴ درگاہ بنادے اور جس پر تونے مھربانی کی ھے اسے بلاوٴں کے حوالے کردے۔

وَلَیْتَ شِعْري یٰاسَیِّدي وَإِلٰھي
وَمَوْلٰايَاٴَتُسَلِّطُ النّٰارَعَلٰی وُجُوہٍ خَرَّتْ لِعَظَمَتِکَ
میرے سردار۔ میرے خدامیرے مولا! کاش میں یہ سوچ بھی سکتا کہ جو چھرے تیرے سامنے سجدہ ریز رھے ھیں ان پر بھی توآگ کو مسلط کردے گا

سٰاجِدَةً،وَعَلٰی اٴَلْسُنٍ نَطَقَتْ بِتَوْحیدِکَ صٰادِقَةً،
وَبِشُکْرِکَ مٰادِحَةً،وَعَلٰی قُلُوبٍ
اور جو زبانیں صداقت کے ساتھ حرف توحید کو جاری کرتی رھی ھیں اور تیری حمد وثنا کرتی رھی ھیں یا جن دلوں کو تحقیق کے ساتھ تیری خدائی

اعْتَرَفَتْ بِإِلٰھِیَّتِکَ مُحَقِّقَةً،
وَعَلٰی ضَمٰائِرَحَوَتْ مِنَ الْعِلْمِ بِکَ حَتّٰی صٰارَتْ خٰاشِعَةً،وَ
کا اقرار ھے یا جو ضمیر تیرے علم سے اس طرح معمور ھیں کہ تیرے سامنے خاضع وخاشع ھیں یا جواعضاء و جوارح تیر ے مراکز

عَلٰی جَوٰارِحَ سَعَتْ إِلٰی اٴَوْطٰانِ تَعَبُّدِکَ طٰائِعَةً،
وَاٴَشٰارَتْ بِاسْتِغْفٰارِکَ مُذْعِنَةً
۔
عبادت کی طرف ھنسی خوشی سبقت کرنے والے ھیں اور تیرے استغفا ر کو یقین کے ساتھ اختیار کرنے والے ھیں ؛ان پر بھی تو عذاب کرے گا۔

مٰاھٰکَذَا الظَّنُّ بِکَ،
وَلاٰاُخْبِرْنٰابِفَضْلِکَ عَنْکَ یٰاکَریمُ یٰارَبِّ،وَاٴَنْتَ تَعْلَمُ
ھر گز تیرے بارے میں ایسا خیال بھی نھیں ھے اور نہ تیرے فضل وکرم کے بارے میں ایسی کو ئی اطلاع ملی ھے ۔

ضَعْفيعَنْ قَلیلٍ مِنْ بَلاٰءِ الدُّنْیٰا وَ عُقُوبٰاتِھٰا،
وَمٰا یَجْرِي فیھٰامِنَ الْمَکٰارِہِ عَلٰی اٴَھْلِھٰا،
پروردگار اتو جانتا ھے کہ میں دنیا کی معمولی بلا اور ادنیٰ سی سختی کو برداشت نھیں کر سکتا اور میرے لئے اس کی ناگواریاں

عَلٰی اٴَنَّ ذٰلِکَ بَلاٰءٌ وَمَکْرُوہٌ قَلیلٌمَکْثُہُ،
یَسیرٌ بَقٰائُہُ، قَصِیرٌ مُدَّتُہُ، فَکَیْفَ احْتِمٰالِي لِبَلاٰءِ الْآخِرَةِ،
قابل تحمل ھیں جب کہ یہ بلائیں قلیل اور ان کی مدت مختصر ھے۔تو میں ان آخرت کی بلاوٴں کو کس طرح برداشت کروں گا

وَجَلیلِ وُقُوعِ الْمَکٰارِہِ فیھٰا،
وَھُوَبَلاٰءٌ تَطُولُ مُدَّتُہُ،وَیَدُومُ مَقٰامَہُ،وَلاٰیُخَفَّفُ عَنْ
جن کی سختیاں عظیم،جن کی مدت طویل اور جن کا قیام دائمی ھے۔جن میں تخفیف کا بھی کوئی امکان نھیں ھے اس لئے کہ یہ بلائیں

اٴَھْلِہِ،لِاٴَنَّہُ لاٰیَکُونُ إِلاّٰ عَنْ غَضَبِکَ وَانْتِقٰامِکَ وَسَخَطِکَ،وَھٰذٰا مٰالاٰتَقُومُ لَہُ السَّمٰاوٰاتُ
تیرے غضب اور انتقام کا نتیجہ ھیں اور ان کی تاب زمین وآسمان نھیں لاسکتے ،تو میں ایک بندہٴ ضعیف و ذلیل

وَالْاَرْضُ، یا سَیِّدِي،فَکَیْفَ لِي وَاٴَنٰاعَبْدُکَ الضَّعیفُ الذَّلیلُ الْحَقیرُ الْمِسْکینُ الْمُسْتَکینُ۔
و حقیر ومسکین وبے چارہ کیا حیثیت رکھتا ھوں؟!

یٰاإِلٰھي وَرَبّي وَسَیِّدِي وَمَوْلاٰيَ،لِاٴَيِّ الْاُمُورِإِلَیْکَ اٴَشْکُو،وَلِمٰامِنْھٰااٴَضِجُّ
خدایا۔ پروردگارا۔
میرے سردا۔ میرے مولا!
میں کس کس بات کی فریاد کروں اور کس کس کام کے لئے آہ وزاری اور

وَاٴَبْکي،لِاٴَلیمِ الْعَذٰابِ وَشِدَّتِہِ،اٴَمْ لِطُولِ الْبَلاٰءِ وَ مُدَّتِہِ،فَلَئِنْ صَیَّرْتَنيلِلْعُقُوبٰاتِ مَعَ
گریہ وبکا کروں ،قیامت کے دردناک عذاب اور اس کی شدت کے لئے یا اس کی طویل مصیبت اور دراز مدت کے لئے کہ اگر تو نے

اٴَعْدَائِکَ،وَجَمَعْتَ بَیْني وَ بَیْنَ اٴَہْلِ بَلاٰئِکَ،وَفَرَّقْتَ بَیْنِي وَبَیْنَ اٴَحِبّٰائِکَ
ان سزاوٴں میں مجھے اپنے دشمنوں کے ساتھ ملادیا اور مجھے اھل معصیت کے ساتھ جمع کردیا اور میرے اوراپنے احباء اور

وَاٴَوْلِیٰائِکَ،فَھَبْنِِي یٰاإِلٰھي وَسَیِّدِي وَمَوْلاٰيَ وَرَبِّي،صَبَرْتُ عَلٰی عَذٰابِکَ فَکَیْفَ
ولیاء کے درمیان جدائی ڈال دی ۔تو اے میرے خدا۔میرے پروردگار ۔میرے آقا۔میرے سردار! پھر یہ بھی طے ھے کہ اگر میں

اٴَصْبِرُعَلٰی فِرٰاقِکَ،وَھَبْنِي صَبَرْتُ عَلٰی حَرِّ نٰارِکَ فَکَیْفَ اٴَصْبِرُ عَنِ النَّظَرِإِلٰی
تیرے عذاب پر صبر بھی کر لوں تو تیرے فراق پر صبر نھیںکر سکتا۔اگر آتش جھنم کی گرمی برداشت بھی کر لوں تو تیری کرامت نہ دیکھنے کو

کَرٰامَتِکَ،اٴَمْ کَیْفَ اٴَسْکُنُ فِی النّٰارِ وَرَجٰائِي عَفْوُکَ۔
برداشت نھیں کر سکتا ۔بھلا یہ کیسے ممکن ھے کہ میں تیری معافی کی امید رکھوں اور پھر میں آتش جھنم میں جلادیا جاوٴں ۔

فَبِعِزَّتِکَ یٰا سَیِّدي وَمَوْلٰايَ اُقْسِمُ صٰادِقاًلَئِنْ تَرَکْتَنينٰاطِقاً،لَاٴَضِجَّنَّ إِلَیْکَ بَیْنَ
 تیری عزت و عظمت کی قسم اے آقاو مولا! اگر تونے میری گویائی کو باقی رکھا تو میں اھل جھنم کے درمیان بھی

اٴَھْلِھٰا ضَجیجَ الْآمِلینَ،وَلَاٴَصْرُخَنَّ إِلَیْکَ صُرٰاخَ الْمُسْتَصْرِخینَ،وَلَاٴَبْکِیَنَّ عَلَیْکَ بُکٰاءَ
امیدواروں کی طرح فریاد کروں گا۔اور فریادیوں کی طرح نالہ و شیون کروں گااور ”عزیز گم کردہ “کی طرح تیری دوری

الْفٰاقِدینَ،وَلَاُنٰادِیَنَّکَ اٴَیْنَ کُنْتَ یٰاوَلِيَّ الْمُوْٴمِنینَ،یٰاغٰایَةَ آمٰالِ الْعٰارِفینَ،یٰا غِیٰاثَ
پر آہ وبکا کروں گا اور تو جھاں بھی ھوگا تجھے آوازدوں گا کہ تو مومنین کا سرپرست، عارفین کا مرکز امید،فریادیوں کا فریادرس۔

الْمُسْتَغیثینَ،یٰاحَبیبَ قُلُوبِ الصّٰادِقینَ،وَیٰا إِلٰہَ الْعٰالَمینَ۔
صادقین کا محبوب اور عالمین کا معبود ھے۔

اٴَفَتُرٰاکَ سُبْحٰانَکَ یٰاإِلٰھي وَ بِحَمْدِکَ تَسْمَعُ فیھٰاصَوْتَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ سُجِنَ فیھٰا
اے میرے پاکیزہ صفات ،قابل حمد وثنا پروردگار کیا یہ ممکن ھے کہ تواپنے بندہٴ مسلمان کو اس کی مخالفت کی بنا پر جھنم میں

بِمُخٰالَفَتِہِ،وَذٰاقَ طَعْمَ عَذٰابِھٰا بِمَعْصِیَتِہِ ،وَحُبِسَ بَیْنَ اٴَطْبٰاقِھٰا بِجُرْمِہِ وَجَریرَتِہِ وَھُوَ یَضِجُّ
گرفتار اور معصیت کی بنا پر عذاب کا مزہ چکھنے والااور جرم و خطا کی بنا پر جھنم کے طبقات کے درمیان کروٹیں بدلنے والا بنادے

إِلَیْکَ ضَجیجَ مُوٴَمِّلٍ لِرَحْمَتِکَ،وَیُنٰادیکَ بِلِسٰانِ اٴَھْلِ تَوْحیدِکَ،وَ یَتَوَسَّلُ
اور پھر یہ دیکھے کہ وہ امید وار ِرحمت کی طرح فریاد کناں اور اھل توحید کی طرح پکارنے والا ،ربوبیت کے وسیلہ سے التماس کرنے والا ھے اور تو اس کی آواز

إِلَیْکَ بِرُبُوبِیَّتِکَ۔
نھیں سنتا ھے۔

یٰامَوْلاٰيَ،فَکَیْفَ یَبْقٰی فِي الْعَذٰابِ وَھُوَیَرْجُوْمٰاسَلَفَ مِنْ حِلْمِکَ،اٴَمْ کَیْفَ تُوْٴلِمُہُ
خدایا تیرے حلم و تحمل سے آس لگانے والا کس طرح عذاب میں رھے گا اور تیرے فضل وکرم سے امیدیں وابستہ

النّٰارُوَھُوَیَاٴْمُلُ فَضْلَکَ وَرَحْمَتَکَ،
اٴَمْ کَیْفَ یُحْرِقُہُ لَھیبُھٰاوَاٴَنْتَ تَسْمَعُ صَوْتَہُ وَتَرٰی
کرنے والا کس طرح جھنم کے الم و رنج کا شکار ھوگا۔ جھنم کی آگ اسے کس طرح جلائے گی جب کہ تو اس کی آواز کو سن رھا ھو

مَکٰانَہُ،اٴَمْ کَیْفَ یَشْتَمِلُ عَلَیْہِ زَفیرُھٰاوَاٴَنْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَہُ،
اٴَمْ کَیْفَ یَتَقَلْقَلُ بَیْنَ اٴَطْبٰاقِھٰا
اور اس کی منزل کو دیکھ رھا ھو،جھنم کے شعلے اسے کس طرح اپنے لپیٹ میں لیں گے جب کہ تو اس کی کمزوری کو دیکھ رھا ھوگا۔

وَاٴَنْتَ تَعْلَمُ صِدْقَہُ،
اٴَمْ کَیْفَ تَزْجُرُہُ زَبٰانِیَتُھٰاوَھُوَ یُنٰادیکَ یٰارَبَّہُ،اٴَمْ کَیْفَ یَرْجُوفَضْلَکَ
وہ جھنم کے طبقات میں کس طرح کروٹیں بدلے گا جب کہ تو اس کی صداقت کو جانتا ھے ۔ جھنم کے فرشتے اسے کس طرح جھڑکیں گے

فيعِتْقِہِ مِنْھٰافَتَتْرُکُہُ فیھٰا،ھَیْھَاتَ مَاذٰلِکَ الظَّنُّ بِکَ،وَلاَالْمَعْرُوفُ مِنْ
جبکہ وہ تجھے آواز دے رھا ھوگا اور تو اسے جھنم میں کس طرح چھوڑ دے گا جب کہ وہ تیرے فضل و کرم کا امیدوار ھوگا ،ھرگز تیرے بارے

فَضْلِکَ،وَلامُشْبِہٌ لِمٰاعٰامَلْتَ بِہِ الْمُوَحِّدینَ مِنْ بِرِّکَ وَاٴِحْسٰانِکَ۔
میں یہ خیال اور تیرے احسانات کا یہ انداز نھیں ھے ۔ تو نے جس طرح اھل توحید کے ساتھ نیک برتاوٴ کیا ھے اس کی کوئی مثال نھیں ھے۔

فَبِا لْیَقینِ اٴَقْطَعُ لَوْلاٰمٰاحَکَمْتَ بِہِ مِنْ تَعْذیبِ جٰاحِدیکَ،وَقَضَیْتَ بِہِ مِنْ إِخْلاٰدِ
میں تو یقین کے ساتھ کہتا ھوں کہ تو نے اپنے منکروں کے حق میں عذاب کا فیصلہ نہ کردیا ھوتا اور اپنے دشمنوں کو ھمیشہ جھنم

مُعٰانِدیکَ لَجَعَلْتَ النّٰارَکُلَّھٰابَرْداًوَ سَلاٰماً،وَمٰاکٰانَ لِاٴَحَدٍ فیھٰا مَقَرّاً وَلاٰ مُقٰاماً، لٰکِنَّکَ
میں رکھنے کا حکم نہ دے دیا ھوتا تو ساری آتش جھنم کو سرد اور سلامتی بنا دیتا اور اس میں کسی کا ٹھکانا اور مقام نہ ھوتا۔

تَقَدَّسَتْ اٴَسْمٰاوٴُکَ اٴَقْسَمْتَ اٴَنْ تَمْلَاٴَھٰا مِنَ الْکٰافِرینَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنّٰاسِ اٴَجْمَعینَ،وَ اٴَنْ
لیکن تو نے اپنے پاکیزہ اسماء کی قسم کھائی ھے کہ جھنم کو انسان و جنات کے کافروں سے پُر کرے گا  اور معاندین کو اس میں

تُخَلِّدَ فیھٰاالْمُعٰانِدینَ،وَاٴَنْتَ جَلَّ ثَنٰاوٴُکَ قُلْتَ مُبْتَدِئاً،وَتَطَوَّلْتَ بِالْإِنْعٰامِ مُتَکَرِّماً،اٴَفَمَنْ
ھمیشہ ھمیشہ رکھے گا۔اور تونے ابتداھی سے یہ کہہ دیا ھے اور اپنے لطف و کرم سے یہ اعلان کر دیا ھے کہ ”مومن

کٰانَ مُوٴْمِناًکَمَنْ کٰانَ فٰاسِقاً لاٰیَسْتَوُوْنَ۔
اور فاسق برابر نھیں ھو سکتے“۔

إِلٰھي وَسَیِّدِي،
فَاٴَسْاٴَلُکَ بِالْقُدْرَةِ الَّتي قَدَّرْتَھٰا، وَ بِالْقَضِیَّةِ الَّتي
تو خدایا ۔مولایا۔ میں تیری مقدر کردہ قدرت اور تیری حتمی حکمت و قضاوت اور ھر محفل نفاذ پر غالب آنے والی عظمت کا حوالہ دے کر

حَتَمْتَھٰا وَ حَکَمْتَھٰا، وَغَلَبْتَ مَنْ عَلَیْہِ اٴَجْرَیْتَھٰا،اٴَنْ تَھَبَ لِي فِي ھٰذِہِ اللَّیْلَةِ وَفي ھٰذِہِ السّٰاعَةِ
تجھ سے سوال کرتاھوں کہ مجھے اِسی رات میں اور اِسی وقت معاف کردے ۔میرے سارے جرائم،سارے گناہ اور ساری

کُلَّ جُرْمٍ اٴَجْرَمْتُہُ،وَکُلَّ ذَنْبٍ اٴَذْنَبْتُہُ،وَکُلَّ قَبیحٍ اٴَسْرَرْتُہُ،وَکُلَّ جَھَلٍ عَمِلْتُہُ،کَتَمْتُہُ
ظاھری اور باطنی برائیاں اور ساری جھالتیں جن پر میں نے خفیہ طریقہ سے یا علی الاعلان ،چھپا کر یا ظاھر کر کے عمل کیا ھے اور میری

اٴَوْاٴَعْلَنْتُہُ،اٴَخْفَیْتُہُ اٴَوْ اٴَظْھَرْتُہُ،وَکُلَّ سَیِّئَةٍ اٴَمَرْتَ بِإِثْبٰاتِھاَ الْکِرٰامَ الْکٰاتِبینَ،اَلَّذینَ وَکَّلْتَھُمْ
تمام خرابیاں جنھیں تونے درج کر نے کا حکم کراماً کاتبین کو دیا ھے جن کواعمال کے محفوظ کرنے کے لئے معین کیا ھے اور میرے

بِحِفْظِ مٰایَکُونُ مِنِّي،وَجَعَلْتَھُمْ شُھُوداًعَلَيَّمَعَ جَوٰارِحِي،
وَکُنْتَ اٴَنْتَ الرَّقیبَ عَلَيَّ
اعضاء و جوارح کے ساتھ ان کو میرے اعمال کا گواہ قرار دیا ھے اور پھر تو خود بھی ان سب کی نگرانی کررھا ھے

Monday, November 18, 2019

From Cricketer to Preacher, 'Saeed Anwar' emphasized on education!

شبیرحسین اِمام

دعوت و تبلیغ!
دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کسی انسان کی پیدائش (جنم) صرف ایک ہی مرتبہ ہوتا ہے لیکن تاریخ کے حافظے میں ایسی کئی عہد ساز شخصیات کا تذکرہ محفوظ ہے‘ جنہوں نے اپنے حال کو کچھ اِس اَنداز سے بدلا کہ وہ ایک بالکل نئے انسان کی صورت میں جلوہ گر ہوئے اُور یہی وہ مقام ہے جہاں اِنسان اپنی خلقت کے مقصد کو پا لیتا ہے۔ کرکٹر سعید انور کا شمار بھی عصر حاضر کی اُن چند گرامی قدر شخصیات میں ہوتا ہے‘ جنہوں نے اپنے ماضی پر نازاں رہنے کی بجائے اپنے حال اور مستقبل کی بہتری کے لئے سوچا‘ عمل کیا اُور وہ کر دکھایا جو بظاہر ناممکن ہے! یہی وجہ ہے کہ اُن سے ملاقات‘ اُن کی معیت و صحبت ’باعث شرف و فخر‘ سمجھی جانے لگی ہے۔

سعید انور کون ہیں؟
پاکستان کی ’ٹیسٹ‘ اُور ’ون ڈے‘ کرکٹ ٹیموں کے سابق کپتان سعید انور (پیدائش 6 ستمبر1968) نے 1989ءسے 2003ءکے درمیان جس شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا‘ وہ صرف شائقین کرکٹ ہی کے لئے نہیں بلکہ کرکٹ کے کھیل میں انقلاب ثابت ہوا۔ اُنہوں نے ون ڈے میں 20 مرتبہ 100 سے زیادہ رنز بنائے۔ یہ ریکارڈ پاکستان کا کوئی بھی کھلاڑی آج تک نہیں توڑ سکا ہے۔ اُنہوں نے 55 ٹیسٹ میچ کھیلے{‘ جن میں 4052 رنز اُور 11 سنچریاں 45.52 رنز کی اوسط سے سکور کیں جبکہ ’ون ڈے کرکٹُ میں انہوں نے مجموعی طور پر 8824 رنز 39.21 کی اوسط سے بنائے۔ اُن کے نام کئی اعزازات ہیں تاہم ایک اعزاز ایسا بھی ہے جو کرکٹ کا کوئی بھی کھلاڑی حاصل نہیں کرنا چاہے گا اُور وہ یہ کہ 1991ءمیں ویسٹ انڈیز کے خلاف فیصل آباد میں ہوئے ٹیسٹ میچ کے دوران سعید انور دونوں اننگز میں ’صفر‘ پر آو ¿ٹ ہوئے‘ جسے ’پیئر ایٹ دی ٹیسٹ ڈیبیو‘ کہا جاتا ہے اُور 14 مئی 2018ءسے اب تک 44 بیٹسمین اِس طرح آو ¿ٹ ہو چکے ہیں‘ جن میں پاکستان کے صرف سعید انور کا نام شامل ہے لیکن شائقین کرکٹ بالخصوص پاکستانیوں کے لئے ’سعید انور‘ آج بھی ”ہیرو“ ہیں جنہوں نے 1997ءمیں بھارت کے کھلاڑیوں کو بھارت ہی کے ایک میدان (ہوم کراوڈ اُور ہوم گراونڈ) پر ناکوں چنے چبوائے۔ چینئی میں ہوئے مذکورہ ’ون ڈے مقابلے‘ میں اُنہوں نے 146 گیندوں پر 194 رنز بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا اُور اِسی بہترین کارکردگی کی وجہ سے پاکستان وہ مقابلہ 35 رنز سے جیتا تھا۔ سعید انور کا یہ ریکارڈ 12برس تک برقرار رہا جسے 16 اگست 2009ئ‘ زمبابوے کے کھلاڑی ’چارلیس کوونٹری (Charles Coventry)‘ نے بنگلہ دیش کے خلاف جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے برابر کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سعید انور اِس عالمی اعزاز میں کسی دوسرے کھلاڑی کے شریک ہونے پر بھی رب کے ہاں یہ کہتے ہوئے شکرگزار پائے گئے کہ ”دنیا کی کوئی بھی کامیابی رب تعالیٰ کے حضور فرمانبرداری سے زیادہ قابل وقعت اعزاز نہیں ہوسکتی۔“

سعید انور کیا ہیں؟
اکیاون سالہ ’سعید انور‘ آج ایک بالکل مختلف انسان ہیں۔ اُنہوں نے اسلام کو سمجھا اُور اِس گہرائی سے سمجھا کہ دنیا اُن کی سمجھ بوجھ اُور بیان و کلام سے استفادہ کر رہی ہیں اُور کیا یہ اعزاز کم ہے کہ سعید انور کئی مردہ دل زندہ کر چکے ہیں! خود کو اسلام (دعوت و تبلیغ) کے لئے وقف کرنے جیسا شرف اُور سعادت اپنی جگہ ’ورلڈ ریکارڈ‘ ہے کہ اُن کے ہاتھ پر کئی غیرمسلموں نے اسلام قبول کیا‘ جن میں پاکستان کے مایہ ناز اُور معروف کرکٹر محمد یوسف (سابقہ نام یوسف یوحنا) بھی شامل ہیں۔ 18 نومبر کے روز‘ ایبٹ آباد (نواں شہر) کے ’ویمن میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج‘ میں سعید انور بطور مہمان مدعو کئے گئے‘ جہاں اُنہوں نے قریب ایک ہزار اساتذہ‘ طالبات اُور ملازمین کے سامنے کرکٹ کے کھیل (اپنے ماضی کے تجربات) پر نہیں بلکہ اسلام کے بنیادی اصولوں پر بات کی۔ طب کی تعلیم حاصل کرنے والی طالبات سمیت اِس موقع پر موجود ہر شخص اِس بات کو اپنے لئے اعزاز سمجھ رہا تھا کہ وہ پاکستان کے ایک ہیرو کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے‘ جو انتہائی سادہ لباس اُور عاجزی کی تصویر بنے اُن کے سامنے تشریف فرما یہ سمجھا رہے تھے کہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ کے کچھ حصے کو دین کے لئے وقف کرنے سے ابتداءکرنی چاہئے! ایک گھنٹے سے زائد دورانیئے کے خطاب میں سعید انور نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق‘ تربیت اُور اسلام کے عقائد و عبادات کو منطقی (حکیمانہ) لیکن قابل فہم انداز میں اِس قدر سادہ الفاظ اُور مثالوں سے مزین کر کے پیش کیا کہ شاید ہی اُن کا کہا ہوا کوئی ایک لفظ بھی ضائع گیا ہو۔ اسلام کی اِس سے زیادہ مختصر اُور جامع تعریف کوئی دوسری ممکن ہی نہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو 40 برس کی عمر میں اسلام متعارف کرنے کا حکم ملا تو اُنہوں نے ابتدائی 23 برس ’ایمانیات اُور یقین‘ کے بیج بوئے۔ عملی زندگی میں امانت و دیانت سے خود کو ایسی مثال بنایا کہ مشرک بھی اُن کی تعریف و توصیف کرتے تھے اُور پھر اِسی نیک نامی کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے معاشرے میں توحید پر مبنی عقائد کا نظام متعارف کروایا۔ جب 62 برس کی عمر میں ہجرت کی تو مدنی زندگی کے 10 برس (دنیا سے پردہ فرمانے تک) اپنے قول و فعل سے عبادات اُور امربالمعروف و نہی عن المنکر کی تعلیم کرتے رہے اُور یہی طریق آپ کے بعد آنے والے اہل بیت اطہار‘ اُمہات المومنین‘ حضرات صحابہ کرام‘ تابعین‘ تبع تابعین اُور بزرگان دین رضوان اللہ اجمعین کا رہا کہ اُنہوں خالص دین کو پورے خلوص کے ساتھ منتقل کرتے ہوئے اصول دیا کہ دین کی دعوت و تبلیغ میں نرمی اُور سلوک پر مبنی ’درمیانی راستہ‘ اختیار کیا جائے۔

سعید انور نے کیا کہا؟
نظر کی حفاظت اُور بدنظری سے بچنے کے ساتھ سعید انور نے بچوں کے تربیتی مراحل (عمر کے ابتدائی 13 برس) کے دوران اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے اُور اُنہیں اپنے عمل سے دین پر کاربند رہنے کا عادی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ”دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح دین میں بھی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اُور اِس کے لئے صرف زبانی کلامی باتیں ہی کافی نہیں بلکہ دنیاوی وسائل کے ساتھ بروئے کار ’دعوت و تبلیغ‘ کے لئے وقت مختص کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ ”حقیقی کامیابی“ زیادہ سے زیادہ دنیاوی وسائل (مال و دولت) اپنے نام کرنا نہیں بلکہ دنیا کو امن و محبت پر مبنی اسلام کا پیغام دینا ہے‘ تاکہ غیبت‘ بُڑائی‘ نسلی‘ لسانی‘ گروہی‘ مسلکی تفرقے اُور سیاسی و غیرسیاسی اختلافات کی گنجائش نہ رہے۔ تعلیم کے ساتھ بچوں کی تربیت کا بھی خاص اہتمام ہونا چاہئے کیونکہ بچے جو کچھ بھی سیکھ رہے ہوتے ہیں اُس میں اُن کے مشاہدے کا زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔
.....



Sunday, October 27, 2019

Maulana, please reconsider by Dr. Farrukh Saleem

Maulana, please reconsider
تخریب نہیں تعمیر!

بیرونی طاقتیں پاکستان میں انتشار چاہتی ہیں۔ سیاسی عدم استحکام سے پاکستان کی معاشی ترقی اور اصلاحات کا جاری عمل رک جائے گا جبکہ اِس سے قومی ادارے بشمول پاک فوج کا ادارہ بھی کمزور ہوگا اُور اگر پاکستان عدم استحکام سے دوچار ہوتا ہے تو اِس کی وجہ سے متاثر ہونے والوں میں سرفہرست پاک فوج ہی ہوگی‘ جس کی دہشت گردی و انتہاءپسندی کے خلاف جاری کوششیں ڈھکی چھپی نہیں۔

پاکستان کے طول و عرض میں‘ اِن دنوں‘ ہر کوئی جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ روزمرہ معمولات سرانجام دیتے ہوئے جس کسی سے بھی بات چیت کا موقع ملتا ہے اُس کی کوشش ہوتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار اُور ستائیس اکتوبر سے شروع ہونے والے ’آزادی مارچ‘ کے بارے میں اپنے محتاط یا غیرمحتاط خدشات کا اظہار کرے۔ متوقع ہے کہ ’آزادی مارچ‘ اکتیس اکتوبر کے روز ’اسلام آباد‘ سے ٹکرائے گا۔ ہر جگہ اُور ہر سطح پر ’آزادی مارچ‘ کی دھوم ہے۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ پاکستان کے 98فیصد بالغ لوگ اپنے اپنے پیشوں سے وابستہ مزدوری کرنے والے محنت کش ہیں جبکہ باقی 2 فیصد لوگ وہ ہیں جنہیں تشہیر چاہئے یعنی وہ ہر حال اُور بہرصورت خبروں‘ اخبارات اُور ذرائع ابلاغ کی زینت رہنے (خودنمائی) کے شوق (لت) میں مبتلا ہیں!

صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ’آزادی مارچ‘ کے عنوان سے جو کچھ بھی ہونے جا رہا ہے اُس سے حکومتی امور اُور عوام کے معمولات زندگی بُری طرح متاثر ہوں گے۔ یہ خلل کس قدر پاکستان کے حق میں ہے‘ اِس بارے میں بہت کم بات کی جاتی ہے اُور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی‘ معاشی و اقتصادی‘ دفاعی اور داخلی صورتحال اُس مقام پر کھڑی ہے‘ جہاں ایسا کوئی بھی خلل‘ ایسا کوئی بھی اقدام ’تعمیر‘ کی بجائے ’تخریب‘ کا باعث بنے گا اُور یقینا سیاسی و مذہبی جماعتوں کا قطعی مقصود نہیں ہوگا کہ وہ حب الوطنوں کی طرح کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ اُن کے کسی اقدام‘ فعل یا کلام سے ’پاکستان کا نقصان ہو۔‘

پاکستان میں اِن دنوں کیا ہو رہا ہے‘ آیئے اُن پر ایک نظر کرتے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) چاہتا ہے کہ وہ ملک میں بجلی و گیس کی فروخت کو اپنے ہاتھ میں لے۔ اگر ایسا ہوگیا تو تصور محال ہے کہ اِس کے بعد کیا ہوگا۔ ’2 نومبر‘ کے روز ’تحریک لبیک پاکستان‘ کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کا اعلان سامنے آ چکا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ اِس تحریک کی جانب سے نامزد اُمیدواروں نے 2018ءکے عام انتخابات میں مجموعی طور پر 22 لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے۔ ’3 نومبر‘ کے روز ’تبلیغی جماعت‘ سے وابستہ لوگ رائیونڈ اجتماع میں ہونے دعا میں شریک ہوں گے۔ اندازہ ہے کہ اِس موقع پر 20 لاکھ جمع ہوتے ہیں۔ نومبر ہی کے مہینے میں پاکستان کو لئے ہوئے قرض کی ایک ارب ڈالر قسط ادا کرنی ہے۔ قومی خزانے پر ایسے قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے جن کا استعمال غیرترقیاتی کاموں پر ہو رہا ہے یعنی قرض لیکر قومی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ اِسی طرح پاکستان میں بیروزگاری بھی بڑھ رہی ہے اُور ’ایف اے ٹی ایف (FATF)‘ کی تلوار الگ سے لٹک رہی ہے‘ جس سے بچنے کے لئے پاکستان کو صرف چار مہینوں کا وقت دیا گیا ہے۔ اِن سبھی واقعات اُور پہلوو ¿ں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ایسا کوئی بھی عمل ہوتا ہے جس سے ملک عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو یہ قطعی طور پر پاکستان کے حق میں مفید نہیں ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن دور اندیش‘ سیاسی بصیرت سے مالا مال اُور ایک منظم انسان ہیں‘ جنہوں نے جمعیت کو ملک کے تین صوبوں (خیبرپختونخوا‘ بلوچستان اُور سندھ) میں تنظیم سازی اُور اثرورسوخ کا لوہا منوایا ہے۔ عام انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام کل ڈالے گئے ووٹوں کا صرف 2 فیصد حاصل کرتی ہے لیکن جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) خود کو 2 فیصد نہیں بلکہ ملک کے زیادہ بڑے طبقے کی رائے کی ترجمان قرار دیتی ہے جو یقینا اِس کے قد کاٹھ سے زیادہ بڑا دعویٰ ہے۔

اگر ہم جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کی سیاست کا جائزہ لیں تو 1985ءسے برسراقتدار آنے والے گذشتہ 5 حکومت کے ادوار میں یہ کسی نہ کسی صورت حکومت کا حصہ رہی ہے۔ اِس جماعت سے تعلق رکھنے والے غیرمعمولی طور پر مالی عطیات دینے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے اُور یہ اَمر بھی ذہن نشین رہے کہ جب تحریک انصاف نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو مولانا فضل الرحمن اُس کے مخالفین میں پیش پیش تھے۔

مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ’جمعیت علمائے اسلام‘ کا تعلق ’دیوبندی‘ مسلک سے ہے‘ جو اسلامی عقائد میں ’سنی حنفی (اہلسنت والجماعت)‘ نظریہ فکر کے احیاءکی علمی تحریک ہے۔ دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے دنیا کے مختلف حصوں کی نسبت پاکستان‘ بھارت‘ افغانستان‘ بنگلہ دیش‘ برطانیہ اُور جنوبی افریقہ میں زیادہ بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں 2 کروڑ دیوبندی ہیں۔ ملک کے کل 35 ہزار مدارس میں سے 23 ہزار مدارس کا تعلق دیوبند سے ملنے والی اسلامی فکر و اعمال سے ہے۔ ذہن نشین رہے کہ قیام پاکستان کے وقت (1947ءمیں) ملک میں مدارس کی کل تعداد 189 تھی۔ فی الوقت پاکستان میں 20لاکھ بچے مدارس میں زیرتعلیم ہیں جن میں سے 13 لاکھ کا تعلق دیوبند سے ہے۔

پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔
بیرونی ملک دشمن طاقتیں پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتی ہیں اُور اِس مرحلے پر ملک کی سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات اُور ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہیئں۔ مولانا فضل الرحمن سے درخواست کے ساتھ اُمید ہے کہ وہ ’آزادی مارچ‘ کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں گے اُور ایسی کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے‘ جس سے پاکستان کمزور ہو اُور جس میں ملک دشمن داخلی و خارجی طاقتیں اُن کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
............

Tuesday, May 29, 2018

May 2018: Remembering Molvee Gee on 13th Ramazan!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
مولوی جیؒ : ایک مجاہد
پیرطریقت‘ سیّد محمد اَمیر شاہ قادری گیلانی اَلمعروف مولوی جی رحمۃ اللہ علیہ (1920ء - 2004ء) کا ’عرس مبارک‘ ہر سال ’تیرہ رمضان المبارک‘ منایا جاتا ہے‘ اِس دن کی مناسبت سے ’آستانہ عالیہ قادریہ حسنیہ‘ کوچہ آقا پیر جان‘ اَندرون یکہ توت شریف اُور آپ کے مزار پُراَنوار سیّد حسن بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ کوہاٹ روڈ پر ختم قرآن کریم‘ محافل حمد و نعت‘ منقبت اُور دعائیہ تقاریب کی صورت پہلی برسی (دوہزارپانچ) سے انعقاد ایک معمول ہے‘ جن میں ’سلسلہ قادریہ حسنیہ‘ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں ہزاروں مرید اور عقیدت مند اندرون و بیرون ملک سے بطور خاص شریک ہو کر تصوف کے اِس سرتاج گھرانے سے اظہار وابستگی اور اپنے عہد کی تجدید کرتے ہیں۔ پشاور کا یہ روحانی اُور علمی گھرانہ اُس سلسلۂ نور (نسب) کی ایک کڑی ہے‘ جو پیران پیر حضرت شیخ محی الدین اَبو محمد عبدالقادر گیلانی رحمۃ اللہ علیہ (1077ء سے 1166ء)‘ سے ہوتا ہوا‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم (خانوادہ رسالت اہلبیت اَطہار علیہم السلام) تک مسلسل ہے۔

علمی‘ اَدبی‘ صحافتی اُور سیاسی و سماجی خدمات کے علاؤہ مولوی جیؒ نے اپنے گھرانے کی اُن ’روشن روایات‘ کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی‘ جن کا مرکزی نکتہ ’’مسلکِ اہلسنت والجماعت کے فقہ حنفی عقیدے کا تحفظ اور اِس کی روشنی میں تربیت و رہنمائی‘‘ تھا۔ مولوی جیؒ پشاور کی پہچان اُور سرتاج شخصیت تھے۔ رویت ہلال کمیٹی کی رکنیت سے لیکر اندرون پشاور کی سیاست میں اُن کا کردار آج بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے اور قومی و صوبائی اسمبلی کے لئے عام انتخابات ہوں یا بلدیاتی نمائندوں کا انتخاب‘ آستانہ عالیہ کے حمایت یافتگان کی کامیابی یقینی رہتی ہے۔ 

مولوی جیؒ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو، اُن کے ہاں پایا جانے والا تحریر و تحقیق کا ذوق اور شوق تھا۔ بناء فروعی اختلافات میں الجھے اُنہوں نے اسلامی تعلیمات کو عصری مسائل اور حالات کی روشنی میں بیان کیا۔ سب سے بڑھ کر یہ بات کہ پشاور کو مولوی جیؒ اور مولوی جیؒ کو پشاور پر اعتماد تھا اور اِس اعتماد و بھروسے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جبکہ مولوی جیؒ کے فرزند ارجمند سیّد نورالحسنین گیلانی المعروف سلطان آغا جی خاندان عالیہ کی روایات کے محافظ بھی ہیں اور انہیں آگے بڑھانے کے لئے خود کو وقف بھی کئے ہوئے ہیں۔ سلطان آغا جی ہی کی زیرنگرانی اور کوششوں سے مولوی جیؒ کی تحریر کردہ ’40کتب‘ دروس قرآن و حدیث کی آڈیو ویڈیو اور خدمات کے حوالے سے کوششوں کا احوال ویب سائٹ http://alameer.org پر محفوظ کر دیا گیا ہے۔ جس کے جاری کرنے کا بنیادی مقصد ’اُمت مسلمہ‘ میں اُس اخوت و اتحاد کے پیغام کو فروغ دینا ہے‘ جس کے لئے مولوی جیؒ تمام زندگی اپنے قول و فعل سے جہاد کرتے رہے۔ آپ کی محافل میں علم کے موتی (اللہ کی رحمت) تقسیم ہوتی اور طالب علموں کو اُس کی استعداد کے ’سخی کے دربار‘ سے مطابق رہنمائی ملتی۔

مولوی جیؒ ہندکو زبان و ثقافت کے بھی محافظ رہے۔ آپ کی رہنمائی‘ دعا اور سربراہی میں ’گندھارا ہندکو بورڈ‘ قائم ہوا‘ جس کی ترقی یافتہ شکل ’گندھارا ہندکو اکیڈمی‘ اندرون و بیرون ملک ’ہندکووانوں‘ کا ترجمان اِدارہ ہے۔

مولوی جیؒ کی بہ طور خاص اکثر اِس بات پر زور دیا کرتے کہ ’’اسلام لانے کے بعد سب سے زیادہ قیمتی شے ’عقیدہ‘ ہے جسے درست رکھنے اُور جس کی حفاظت ازحد ضروری ہے۔‘‘ نرم و شائستہ انداز بیان و کلام کے ذریعے سرزمین پشاور اور شمال مغربی سرحدی صوبے (خیبرپختونخوا) میں اصول فقہ اور تصوف کے بیج بوئے‘ جو آج سایہ دار اور پھل دار شجر ہیں۔ مولوی جیؒ کا اِس بات پر زور رہا کہ تمام اِنسانی مشکلات کا حل ’تزکیۂ نفس‘ میں مضمر ہے اُور یہ ہدف (تزکیۂ نفس) اُس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ انسان اپنے کے اندر سے لالچ و خودغرضی کی صفائی نہیں کر لیتا۔ اپنی ذات میں در آنے والی اِن الائشوں (آمیزشوں) سے چھٹکارہ نہیں پا لیتا۔ مولوی جیؒ کا پیغام عمل ’اپنی ذات اور نفس پر غور تھا کیونکہ جب تک اِنسان (مرد و عورت) اپنے نفس کے ساتھ اُلجھے رہیں گے یعنی اپنے آپ اور اپنی ذات میں مگن رہیں گے‘ اِن کے روحانی درجات کی بلندی و ترقی ممکن نہیں ہوگی۔ مولوی جیؒ جدید عصری و دنیاوی علوم کے مخالف نہ تھے‘ وہ علم کو مومن کی گمشدہ میراث قرار دیتے لیکن وہ علم کے ساتھ اغیار کی ثقافت اپنانے سے گریز کی تلقین کرتے۔ اُن کی آنکھوں میں ہمیشہ خاک مدینہ و نجف کا سرمہ رہا اُور وہ دوسروں کو بھی اِس بات کی تلقین کرتے رہے کہ ’’جلوۂ دانش فرنگ‘‘ سے خیرہ ہونے کی بجائے اپنے نفس اور اسلام کے حقیقت آشنا ہو جائیں جیسا کہ علامہ اقبالؒ نے چاہتے تھے کہ ’’مثل کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی ۔۔۔ اب بھی درخت طور سے آتی ہے بانگ لاتخف۔‘‘ 

بنیادی نکتہ ’’تزکیۂ نفس‘‘ہے جس کے بغیر اخلاقی اقدار کی سربلندی و تقویت ممکن نہیں۔ ذمہ داری اور احساس ذمہ داری کے بیدار ہونے کا بھی امکان بناء ’تزکیۂ نفس‘ ممکن نہیں۔ رب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا تو بہت دور کی بات بناء تزکیہ و احتیاط خالق کائنات کی ذات و صفات پر کامل یقین اور فرائض و احکامات کی بجاآوری باعث نجات و فلاح نہیں ہوسکتی۔ 

مولوی جیؒ انسانی زندگی کا خلاصہ اور ترقی کا دارومدار ’تزکیۂ نفس‘ پر قرار دیتے اور یہی اُن کی کامیابی تھی کہ آج سلسلۂ قادریہ حسنیہ کا پشاور میں آستانہ سدا بہار‘ شاد و آباد دکھائی دیتا ہے۔ تصوف کی کتب میں معروف صوفی بزرگ کا واقعہ درج ہے کہ وہ اپنے مریدوں کے ہمراہ کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک آبی گزرگاہ آئی‘ جسے عبور کرنے سے اُن گھوڑے نے انکار کر دیا۔ کوشوں کے باوجود بھی کوئی جتن کارگر ثابت نہیں ہو رہا تھا اُور یہ بات ہمراہ مریدوں کے لئے تعجب خیز بھی تھی کہ گھوڑے نے نہایت ہی کم گہرے اور معمول سے رواں صاف و شفاف پانی میں اُترنے سے انکار کردیا تھا۔ جس پر شیخ نے حکم دیا کہ ’’پانی کو گدلا (میلا) کر دو۔‘‘ مریدوں نے پانی میں اُتر کر ہاتھ مارے‘ جس سے پانی کی رنگت تبدیل ہو گئی تو اب دیکھتے ہی دیکھتے گھوڑا پانی میں چلتا چلا گیا۔ مریدوں کے اِستفسار پر شیخ نے کہا کہ ’’جب تک اِس گھوڑے کو پانی میں اپنا عکس نظر آ رہا تھا‘ وہ اِس میں اُترنے سے گریزاں تھا۔‘‘ بس یہی مثال اِنسان کی ہے کہ جب تک یہ اپنا عکس اپنے نفس (کے آئینے) میں دیکھتا رہے گا‘ اِس کی روحانی ترقی اور درجات کی بلندی ممکن نہیں ہو گی۔
---
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2018-05-29

Tuesday, February 20, 2018

Feb 2018: Controversial pics, solution is unity of Muslim Ummah

مہمان کالم
متنازعہ تصاویر!
اِسلام کے مقدس ترین شہروں میں سرفہرست ’مکہ مکرمہ‘ اُور ’مدینہ منورہ‘ میں ’غیرمسلموں‘ کے داخل ہونے کی ’شرعی پابندی‘ پر پوری اُمت مسلمہ کا اتفاق ہے بلکہ ایک سوچ تو اِن شرعی احکامات کی تشریح زیادہ سخت گیر انداز میں کرتے ہوئے پورے ’جزیرۃ العرب‘ پر غیرمسلموں کے داخلے کی مخالفت کرتی ہے‘ اِس سلسلے میں القاعدہ تنظیم کے سربراہ ’اُسامہ بن لادن‘ کی تقاریر اُور بیانات ’آن دی ریکارڈ‘ موجود ہیں‘ جن میں اُنہوں نے سعودی عرب میں امریکی تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ۔۔۔ ’’غیرمسلموں کا جزیرۃ العرب پر ناپاک وجود ناقابل قبول ہے۔‘‘

مسلم دنیا میں اِس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت کی طرف سے مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں داخلے کی ممانعت کے بارے میں اعلانات بھی آویزاں کئے گئے ہیں‘ جو حج و عمرہ کے زائرین کی اکثریت نے دیکھے (نوٹس کئے) ہوں گے لیکن نومبر دوہزار سترہ کی بات ہے جب روسی نژاد اکتیس سالہ یہودی ’بین سیون‘ نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس پر ’مسجد نبوی‘ کی ایسی تصاویر جاری کیں‘ جس میں وہ مقامی افراد کے ساتھ بھی کھڑا ہے اور اُس کے گلے میں آویزاں بستے پر عبرانی زبان کے الفاظ بھی تحریر ہیں۔ عبرانی اسرائیل کی سرکاری زبان ہے اور روسی نژاد ’بین سیون‘ اسرائیل کی شہریت رکھتا تھا۔ بہرحال مسجد نبوی کی صفوں پر کھڑے ہو کر لی جانے والی تصاویر اسرائیلی اخبارات میں شائع ہوئیں تو اِس گستاخی پر مسلم دنیا کے ذرائع ابلاغ اور مسلمان سوشل میڈیا صارفین نے شدید احتجاج کیا لیکن سعودی حکومت خاموش رہی اُور اُمید تھی کہ اِس گستاخی کے بعد سعودی حکام سیکورٹی انتظامات میں رہ جانے والی اُن خامیوں کا تدارک کریں گے جس کی وجہ سے ایک یہودی کو مسجد نبوی کے اندر تک رسائی مل گئی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ مذکورہ یہودی شخص نے اپنی مذہبی حیثیت پوشیدہ نہیں رکھی بلکہ وہ ہر ملنے والے سے کہتا رہا کہ وہ یہودی ہے اور یروشلیم سے آیا ہے لیکن کسی بھی عربی و عجمی نے اُس کی اِس بات کا نوٹس نہ لیا۔ رواں ہفتے (فروری دوہزار اٹھارہ کے تیسرے ہفتے) سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ ’مسجد نبوی‘ کی ایک ایسی تصویر شائع کی گئی ہے‘ جس سے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں اور اُنہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ مسجد نبوی کے تقدس کا خیال رکھنے کا مطالبہ کس سے کریں کیونکہ ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کی بادشاہت مسجد نبوی کی اِس بے حرمتی پر خاموش ہے۔

تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ مسجد نبوی کے صحن میں چار برقع پوش خواتین چادر بچھا کر پورے اطمینان و اہتمام سے بیٹھی ہیں اور وہ تاش کے پتے ہاتھوں میں لئے ایک ایسے مغربی کھیل میں مشغول ہے‘ جس کا تعلق جوئے سے بھی ہے‘ اور اسلامی دنیا میں اِس سمیت کسی بھی کھیل کے لئے مسجد کے استعمال کو ناپسندیدگی (گناہ) کی نظر سے دیکھا جاتا ہے بلکہ مسجد میں دنیاوی باتیں‘ ہنسی مذاق اور اونچی آواز میں بات چیت کی ممانعت کا ذکر بھی احادیث میں کثرت سے ملتا ہے۔ بہرحال چار برقعہ پوش خواتین‘ جن کی شناخت تصویر سے ظاہر نہیں ہو رہی‘ تاش کے کھیل میں مگن ہیں اور اُن کے آس پاس کئی لوگ احرام پہنے دکھائی دے رہے ہیں۔ چونکہ مسجد الحرام (مکہ مکرمہ) اور مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کے فن تعمیر میں ایک خاص قسم کی مماثلت پائی جاتی ہے‘ اِس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ تصویر اِن دونوں مقامات میں سے کہاں لی گئی ہے تاہم یہ بات طے ہے کہ تصویر کسی مسجد کے صحن ہی کی ہے‘ جسے ٹوئٹر (twitter) پر @RassdNewsN نامی عربی زبان کے نشریاتی ادارے کی جانب سے ’اٹھارہ فروری‘ کے روز جاری کیا گیا اور تصویر کے ساتھ تفصیل (کیپشن) میں لکھا گیا کہ خواتین بادشاہ فہد کے نام سے منسوب مسجد کے دروازے سامنے تاش کھیل رہی ہیں۔‘‘

بائیس لاکھ ستر ہزار سے زائد صارفین رکھنے والے ٹوئٹر اکاونٹ پر مذکورہ تصویر کو قریب ’ڈھائی سو‘ ٹوئٹر صارفین نے پسند کیا جبکہ اِس پر تبصرہ کرنے والے 159 افراد کی اکثریت نے خواتین کے اِس عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ بحث چل نکلی کہ سعودی حکمرانوں نے سنگ مرمر کے چمکتے دمکتے فرش اور روشنیوں سے منور مسجدیں تو بنا دی ہیں لیکن مسجد کا احترام کرنے والے افراد کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔‘‘ کسی یہودی کے مسجد نبوی میں پہنچنے پر ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’’سعودی عرب وہ مقام ہے‘ جہاں حکومت کی رائے سے مسلکی بنیادوں پر اختلاف رکھنے والے علمائے کرام جیلوں میں بند ہیں جبکہ یہودی آزاد ہیں!‘‘

تاش یا اِس جیسا کوئی کھیل کھیلنے میں مشغول تین خواتین جواں سال جبکہ ایک ادھیڑ عمر کی دکھائی دیتی ہیں‘ جنہیں نماز کی ادائیگی کے لئے کرسی کی ضرورت پڑتی ہے اور اِس قسم کی طے ہو جانے والی (فولڈنگ) کرسیاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مارکیٹوں میں عام مل جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جن مساجد کے ہر ستون کے ساتھ نگران (سی سی ٹی وی) کیمرے نصب ہیں‘ وہاں اِس قسم کے واقعات کیونکر رونما ہو سکتے ہیں‘ جبکہ مساجد کی انتظامیہ‘ مقامی پولیس اور افراد اِس سے بے خبر رہیں؟چار خواتین کی تصویر رات کے کسی پہر میں بنائی گئی کیونکہ تصویر میں صحن کی روشنیاں دیکھی جا سکتی ہیں جبکہ عام لوگوں کی آمدورفت بھی معمول کے مطابق (پس منظر میں) جاری ہے‘ جن میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں کہ جنہوں نے خاص لباس قسم کا لباس (احرام) پہن رکھا ہے۔

پشاور کی سرتاج روحانی شخصیت‘ پیرطریقت سیّد محمد امیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی رحمۃ اللہ علیہ سورۂ مبارکہ ’’الشعراء‘‘ کی آیات (دوسو ایک سے دو سو سات) کا ترجمہ اُور تشریح کئی روز تک کرتے رہے تاکہ دنیاوی ترقی کی حقیقت اور رب تعالیٰ کی نافرمانی کے مضامین سمجھ میں آ سکیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ (ترجمہ): ’’وہ (نافرمان) جب تک درد دینے والا عذاب (اپنی اوپر نازل ہوتا) نہیں دیکھیں گے‘ یقین نہیں کریں گے۔ (اُن گستاخوں کو خبر دے دو کہ) وہ (عذاب) اُن پر ناگہاں (اچانک) نازل ہوگا اور انہیں (باوجود جدید ترین آلات بھی پیشگی) خبر نہیں ہو سکے گی۔ (پھر جب اللہ کا عذاب اُن منکرین پر نازل ہوگا تو) اُس وقت (وہ) کہیں گے (کہ) کیا ہمیں مہلت ملے گی؟ تو کیا (ایسا نہیں کہ) یہ (نافرمان) ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں؟ بھلا دیکھو تو اگر ہم اِن کو (دنیاوی علوم میں غوروفکر کے) برسوں فائدے دیتے رہے۔ پھر اِن (اللہ کے غیض و غضب کو آواز دینے والوں) پر وہ (عذاب) نازل ہو‘ جس کا تم سے (یہاں) وعدہ کیا جا رہا ہے۔ تو (دنیاوی مال و اسباب اور مادی ترقی سے) جو فائدے (آسائشیں) یہ اُٹھاتے رہے‘ اِن کے کس کام آئیں گی؟‘‘

کسی یہودی کی مسجد نبوی میں گھس کر ’’گستاخانہ جرأت‘‘ کا مظاہرہ کرنا ہو یا برقعہ پوش خواتین کا مسجد میں تاش کھیلنا‘ یہ دونوں اعمال کسی بھی عبادت گاہ کے احاطے میں بلاتفریق مذہب و مسلک ناپسندیدہ ہیں‘ تو کیا اِس قسم کی تصاویر کو مسلمانوں کی دل آزاری جیسی مذموم کوشش کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے جیسا کہ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخانہ خاکے تیار کئے گئے تھے یا اُن کے بارے میں گستاخانہ مضامین کتابی صورت میں شائع کئے گئے یا قرآن کریم کے نسخے شہید کئے گئے۔ مسلمانوں پر اِس قسم کے مظالم اُس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وہ ’اُمت واحدہ (متحدہ)‘ نہیں بن جاتے اور تب تک جذبات کے اظہار پر کنٹرول کرنا ہوگا۔ اُمت کے اتحاد کی دعائیں کرنا ہوں گی اور سمجھنا ہوگا کہ مذکورہ سازشیں درحقیقت مقدس مقامات‘ بعداز خدا بزرگ ہستیوں اور مساجد کے تقدس کو کم کرنے کی سوچی سمجھی (دانستہ) کوشش (منظم سازش) ہیں۔
۔
اس تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بین سیون نے روایتی عرب لباس پہن رکھا ہے، جو اس کے بقول وہ یروشلم سے لے کر آیا تھا اور وہ ایک بیگ میں لکھے اپنے نام کی جانب اشارہ کررہا ہے جو کہ عبرانی زبان میں تحریر ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ تصویر میں دیگر افراد کو احرام میں آتے جاتے دیکھا جاسکتا ہے، تاہم تاش کے پتے کھیلنے والی خواتین آرام سے اپنے کھیل میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ تصویر میں دیگر نقاب اور برقع پوش خواتین و احرام میں ملبوس مرد حضرات کو بھی فرش پر بیٹھا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔

Friday, December 1, 2017

Dec 01: The footpath of the prophet (PBUH), need to be follow too.

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سیرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سلسلۂ عالیہ قادریہ حسنیہ کے سرتاج خانوادہ سے تعلق رکھنے والی پشاور کی معروف روحانی‘ علمی اور سیاسی شخصیت‘ پیرطریقت سیّد محمد امیر شاہ قادری گیلانی (مولوی جی) رحمۃ اللہ علیہ بالعموم اور ماہ ’ربیع الاوّل‘ کے دوران بالخصوص ’رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘ کی سیرت کے اُن پہلوؤں کے بارے میں وعظ فرماتے جن کا تعلق روزمرہ معمولات سے ہوتا۔ خلاصۂ درس و تلقین یہی رہتا کہ کسی طرح خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ عشق کے اصول اور عملی تقاضوں کی یاد دہانی کی جائے۔ یاداشت پر بھروسہ کرتے ہوئے مولوی جیؒ (1920ء سے 2004ء) سے تحصیل شدہ ’سیرت‘ کے اُن واقعات کا اقتباس پیش ہے جنہیں اگر عملاً مدنظر رکھا جائے تو زندگی و آخرت میں سرخروی اور کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

شعب ابی طالب میں تین سالہ محصوری کے دوران قریش کی کوشش رہی کہ مسلمانوں تک کھانے پینے کی کوئی چیز نہ پہنچے۔ 

مکہ میں غلہ (اشیائے خوردونوش) یمامہ سے آتا تھا۔ یمامہ کے رئیس ’’ثمامہ بن اثال (بنی حنیفہ)‘‘ نے ایسا انتظام کیا کہ یمامہ کے غلے کا ایک دانہ بھی شعب ابی طالب (مسلمانوں) تک نہ پہنچ سکے۔ ہجرت کے بعد ثمامہ گرفتار ہوا‘ اُور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیاگیا۔ (بحوالہ صحیح بخاری کتاب المغازی سترواں باب حدیث نمبر 4372) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے ایک ستون سے باندھ دیا جائے۔ ثمامہ نے بڑی لجاجت سے کہا: ’’اگر مجھے قتل کیا جائے گا تو یہ غلط نہیں ہوگا‘ بلاشبہ میں اِسی سزا کا مستحق ہوں۔ اگر احسان کیا جائے تو یہ ایک شکر گزار پر احسان ہوگا اُور فدیہ کے بدلے میری رہائی ہوسکتی ہے‘ تو میں فدیہ اَداکرنے کے لئے بھی تیار ہوں۔‘‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور آپ مسجد نبوی تشریف لے گئے۔ دوسرے دن بھی زیرحراست ثمامہ نے پھر یہی بات کی لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکوت اختیار فرمایا۔ تیسرے دن التجا پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ ’’اسے آزاد کردو۔‘‘ ثمامہ کو اپنی اسلام دشمنی‘ ظلم اورزیادتی کا اچھی طرح علم تھا۔ اسے بڑی سخت سزا کا اندیشہ تھا لیکن خلاف توقع رہائی سے اسے حیرت ہوئی اور وہ اس لطف وکرم اورعفو ودرگزر سے بڑا متاثر ہوا۔ اُس نے اسلام قبول کیا اورگریہ کناں ہوکر حضور علیہ الصلوۃ التسلیم کی خدمت میں عرض کی ’’یا رسول اللہ! آج سے پہلے مجھ سے بڑھ کرآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دشمن کوئی نہیں تھا لیکن اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر مجھے کوئی اورمحبوب نہیں ہے۔ اسلام کو میں بدترین مذہب سمجھتا تھا لیکن آج یہ میرے نزدیک بہترین دین ہے۔ مجھے مدینہ سے سخت نفرت تھی لیکن آج اس سے زیادہ پسندیدہ شہر میرے نزدیک کوئی اور نہیں ہے۔‘‘ 

اِسلام قبول کرنے کے بعدحضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ مکہ معظمہ گئے تو قریش نے انہیں لعن طعن کیا اورکہا: ’’شاید تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔‘‘ ثمامہ نے یہ سنا تو بڑے غضب ناک ہوئے اُورکہا اچھا یہ بات ہے تو سنو! خدا کی قسم‘ اب رسول اللہ کی اجازت کے بغیر غلہ کا ایک دانہ بھی یمامہ سے یہاں نہیں آئے گا۔ انہوں نے مکہ والوں کو غلہ کی ترسیل روک دی جس سے مکہ میں غلے کا کال پڑگیا۔ اہل قریش نے ایک وفد سرکار دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا‘ اُور گزارش کی کہ سب مرد و زن‘ بچے بوڑھے دانے دانے کو ترس گئے ہیں۔ آپ مہربانی فرمائیں اُور ثمامہ کوغلے کی حسب سابق ترسیل کا حکم دیں۔ حضور رحمت عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اِن کی درخواست قبول فرمالی اورثمامہ کو بندش اٹھانے کا حکم دیا۔‘‘ 

پہلی بات کیا آج ہم اپنے کردار سے دوسروں کو اسلام کی دعوت دے سکتے ہیں؟ 

دوسری بات مسلمان ملک و معاشرہ کسی غیرمسلم ملک کی کسی ایسی درخواست کو قبول کرسکتا ہے‘ جس کی وجہ سے غیرمسلم بچے بوڑھے اور خواتین متاثر ہو رہے ہوں؟ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ عملی پہلو کہ جس میں ایک دشمن سے سلوک کا ذکر ہے‘ تو کیا ہم اپنی عملی زندگیوں میں دوسروں کے لئے کم سے کم اِس قدر ’رحم‘ محسوس کرتے ہیں کہ اُن کی غلطیوں کو معاف کریں؟ 

آج (بارہ ربیع الاوّل) کی مبارک ’سعد ساعتوں‘ میں خود سے عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ سیرت کے اُن واقعات کا بھی اپنی زندگی پر اطلاق کریں گے‘ جو رہتی دنیا تک زندہ حقیقت ہیں۔ ’’پھر گڈریوں کو لعل دے‘ جاں پتھروں میں ڈال دے ۔۔۔ حاوی ہوں مستقبل پہ ہم: ماضی سا ہم کو حال دے ۔۔۔ دعویٰ ہے تیری چاہ کا: اِس اُمت گمراہ کا ۔۔۔ تیرے سوا کوئی نہیں یا رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ مظفروارثی۔
۔

Monday, October 2, 2017

Oct 2017: Yum e Ashur Holiday.

NOTE:
Yum e Ashur یوم عاشور observed in Pakistan on Oct 01, 2017. Newspaper not published due to public holiday on Oct 01, that's why no column on Oct 02.

یاداشت
دس محرم الحرام کی سرکاری ملک گیر تعطیل کے باعث اخبارات اور دو اکتوبر کے روز کالم شائع نہیں ہوا۔

Sunday, October 1, 2017

Oct 2017: Karbala - forever!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
کربلا: تااَبد قائم رہے گی!
اسلامی تاریخ کو کسی اور واقعہ نے اس قدر اور اس طرح متاثر نہیں کیا جیسے سانحہ کربلا نے کیا۔ آنحضور اور خلفائے راشدین نے جو اسلامی حکومت قائم کی اس کی بنیاد انسانی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالٰی کی حاکمیت کے اصول پر رکھی گئی۔ اس نظام کی روح شورائیت میں پنہاں تھی۔ 

اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کو شخصی غلامی سے نکال کر خداپرستی‘ حریت فکر‘ انسان دوستی‘ مساوات اور اخوت و محبت کا درس دینا تھا۔ خلفائے راشدین کے دور تک اسلامی حکومت کی یہ حیثیت برقرار رہی۔ یزید کی حکومت چونکہ ان اصولوں سے ہٹ کر شخصی بادشاہت کے تصور پر قائم کی گئی تھی لٰہذا جمہور مسلمان اس تبدیلی کو اسلامی نظام شریعت پر ایک کاری ضرب سمجھتے تھے اس لئے حضرت امام حسین علیہ السلام محض ان اسلامی اصولوں اور قدروں کی بقاء و بحالی کے لئے میدانِ عمل میں اترے‘ راہِ حق پر چلنے والوں پر جو کچھ میدانِ کربلا میں گزری وہ جور و جفا‘ بے رحمی اور استبداد کی بدترین مثال ہے۔ یہ تصور کہ اسلام کے نام لیواؤں پر یہ ظلم خود اُن لوگوں نے کیا جو خود کو مسلمان کہتے تھے بڑا روح فرسا ہے۔ مزید براں‘ حضرت امام حسینؓ کا جو تعلق آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تھا اسے بھی ظالموں نے نگاہ میں نہ رکھا۔ نواسہ رسول کو میدانِ کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر جس بے دردی سے قتل کرکے ان کے جسم اور سر کی بے حرمتی کی گئی۔ یہ اخلاقی لحاظ سے بھی تاریخ اسلام میں اولین اور بدترین مثال ہے۔ اس جرم کی سنگینی میں مزید اضافہ اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ حضرت امام حسینؓ نے آخری لمحات میں جو انتہائی معقول تجاویز پیش کیں‘ انہیں سرے سے درخورِ اعتنا ہی نہ سمجھا گیا۔ اس سے یزید کی آمرانہ ذہنیت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ یہاں یہ نقطہ قابلِ غور ہے کہ جب شخصی اور ذاتی مصالح‘ ملی‘ اخلاقی اور مذہبی مصلحتوں پر حاوی ہو جاتے ہیں تو انسان درندگی کی بدترین مثالیں بھی پیش کرنے پرقادر ہے اور ایسی مثالوں سے تو یورپ کی ساری تاریخ بھری پڑی ہے لٰہذا اِن حقائق کی روشنی میں سانحہ کربلا کا جائزہ لیا جائے تو یہ واقعہ اسلام کے نام پر سیاہ دھبہ ہے کیونکہ اس سے اسلامی نظامِ حکومت میں ایسی خرابی کا آغاز ہوا جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جا رہے ہیں لیکن اگر ہم اس سانحہ کو اسلام کے نام پر ایک سیاہ دھبہ بھی قرار دیں تو یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہوگا کیونکہ جہاں تک حق و انصاف‘ حریت و آزادی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لئے جدوجہد کا تعلق ہے یہ کہنا درست ہوگا کہ: سانحۂ کربلا تاریخ اسلام کا ایک شاندار اور زریں باب بھی ہے جہاں تک اسلامی تعلیمات کا تعلق ہے اس میں شخصی حکومتوں یا بادشاہت کا کوئی تصور موجود نہیں۔ یزید کی نامزدگی اسلام کے نظامِ شورائیت کی نفی تھی ۔ 

امام حسینؓ نے جس پامردی اور صبر سے کربلا کے میدان میں مصائب و مشکلات کو برداشت کیا وہ حریت‘ جرأت اور صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے۔ باطل کی قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کر آپ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی‘ حریت فکر اور خدا کی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی۔ امام حسینؓ کا ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو رہروان منزل شوق و محبت اور حریت پسندوں کے لئے اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ 

سانحۂ کربلا آزادی کی اس جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے جو اسلامی اصولوں کی بقا اور احیاء کے لئے تاریخِ اسلام میں پہلی بار شروع کی گئی۔ 

’’جبین وقت پر لکھی ہوئی سچائیاں روشن رہی ہیں: 
تا ابد روشن رہیں گی: 
خدا شاہد ہے اور وہ ذات شاہد ہے کہ جو وجہ اساس ’انفس و آفاق‘ ہے: 
اور خیر کی تاریخ کا وہ باب اوّل ہے: 
ابد تک جس کا فیضان کرم جاری رہے گا: 
یقیں کے آگہی کے روشنی کے قافلے ہر دور میں آتے رہے ہیں: 
تا ابد آتے رہیں گے: ابوطالب کے بیٹے حفظ ناموس رسالت کی روایت کے امیں تھے: 
جان دینا جانتے تھے: 
وہ مسلمؓ ہوں کہ وہ عباسؓ ہوں‘ عونؓ و محمدؓ ہوں‘ علی اکبرؓ ہوں‘ قاسمؓ ہوں‘ علی اصغرؓ ہوں: 
حق پہچانتے تھے: 
لشکر باطل کو کب گردانتے تھے: 
ابوطالب کے بیٹے سر بُریدہ ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیں: 
اَبوطالب کے بیٹے‘ پا بجولاں ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیں: 
ابوطالب کے بیٹے‘ صرف زنداں ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیں: 
مدینہ ہو نجف ہو کربلا ہو کاظمین و سامرہ ہو مشہد و بغداد ہو: 
آل ابوطالب کے قدموں کے نشاں ‘اِنسانیت کو اُس کی منزل کا پتہ دیتے رہے ہیں تا ابد دیتے رہیں گے: 
ابوطالب کے بیٹوں اور غلامان علی ابن ابی طالب میں اِک نسبت رہی ہے: 
محبت کی یہ نسبت عمر بھر قائم رہے گی: تا اَبد قائم رہے گی۔ (اِفتخار عارف)‘‘
۔۔

Tuesday, September 5, 2017

Sept 2017: Remembering Molvee Gee - 2 events as guideline for success-life!

عیدالاضحی: یادش بخیر!
اِنسان کا اِختیار یہ ہے کہ اِسے اپنے اِختیار پر بھی اِختیار نہیں۔ مسلسل سفر کے پراؤ بدلتے ہیں لیکن سفر نہیں۔ حالت سکون بھی سفر ہے‘ اگر زاد راہ ’خود شناسی‘ شامل حال رہے اور یہی وہ آگہی ہے جو انسان کو ’مظہرالعجائب‘ کے منصب پر فائز کر دیتی ہے کہ یہ خود منزل بن جاتا اُور نشان منزل بھی۔ ایک ہی ذات میں راہ‘ راہی‘ اور ’راہ نما‘ جیسی خصوصیات کا ظہور صرف اُسی صورت ہوتا ہے‘ جبکہ رہنمائی میسر آ جائے۔ اِنسان کی تکمیل اِس کی شعوری (بامقصد) زندگی اُور علمی و عملی سفر ایک ’خاص تعلق‘ شروع سے ہوتا ہے جو بقول علامہ نصیرالدین نصیر گولڑوی (14نومبر1949ء: 13 فروری 2009ء) ’’اِک سلسلۂ نور ہے ہر سانس کا رشتہ۔‘‘ تصوف کے تابکار خانوادۂ ’قادریہ حسنیہ‘ کے ’فقیر‘ لقب بزرگوار حضرت سیّد محمد اَمیر شاہ قادری گیلانی العمروف ’مولوی جی‘ رحمۃ اللہ علیہ ’دُرویش‘ تھے لیکن شاید ہی کوئی ایسا ذی شعور ہوگا‘ جس نے اُن سے صحبت و تعلق کے باوجود بھی اپنے ظرف کے مطابق فیض نہ پایا ہو اور اُن کی رحلت (سال دوہزار چار عیسوی) کے بعد سے ہر دن خود کو زیادہ ’محروم‘ محسوس نہ کر رہا ہو۔ مولوی جیؒ کی کمی کبھی پوری نہیں ہوگی لیکن عطائے مسلسل جاری و ساری ہے۔ علم و حکمت کے لعل و جواہر آج بھی تقسیم ہو رہے ہیں بس متوجہ (طلبگار) ہونے کی ضرورت ہے۔

اندرون یکہ توت (شریف) کوچہ آقا پیر جان‘ پشاور کی وہ نامی گرامی خانقاء ہے جہاں وقت گزرنے کا احساس نہیں رہتا۔ اے کاش لکڑی کے شہ تیروں اور سہاروں سے کھڑی چھت‘ مٹی سے چنی ہوئی دیواریں اور چونے و گاڑھے کی آمیزش سے مزین دیواروں کی سادگی سے تعلق اِس زندگی میں نہ ٹوٹتا۔ میراث کی تقسیم میں گھر کے اُن وارثوں کی ’حصہ داری‘ کا خیال نہیں رکھا گیا‘ جو اِس کی ساخت کے ہر ذرے کو عقیدت سے چومتے اور سرآنکھوں پر سجاتے رہے۔

مولوی جیؒ کے بعد اجتہاد کا دروازہ کھل گیا۔ راتوں رات قدیم عمارت کی جگہ اینٹ‘ ریت اور سیمنٹ نے لے لی اور اِس ’اجتہاد‘ پر خاموشی (سکوت) اور یہ خیال ہی بہتر ہے کہ ’’تبدیلی انسانی زندگی کا مستقل جز ہے۔‘‘ مرید کہیں بھی ہو لیکن ایسا ممکن ہی نہیں کہ عیدالاضحی (یا کسی بھی تہوار) کے موقع پر سراپا شفقت ’مولوی جیؒ ‘ کی یاد گرامی نہ آئے۔ اُس روحانی معالج (گدی نشینی) سے علمی‘ اَدبی اور سیاسی موضوعات کا احاطہ کسی ایک مضمون میں ممکن نہیں بس 2 واقعات اسفار (کتابوں) کا نچوڑ ہیں۔

پہلا واقعہ: عمومی نشست میں پنجم اِمام حضرت محمد ابن علی باقر (ولادت یکم رجب المرجب 57 ہجری۔ شہادت 7 ذی الحجہ 114ہجری) کا ذکرِخیر اُن کے قول سے ہوا جس میں ’کووّں (Corvus)‘ سے 3 باتیں سیکھنے کی نصیحت فرمائی گئی ہے۔ 1: الصبح جاگنا اُور محنت: کوا (Crow) پرندوں میں سب سے پہلے جاگتا (اُڑتا) ہے اُور رزق تلاش کرنے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ کسی کے شکار کا اِنتظار نہیں کرتا۔ کسی کے آسرے پر نہیں رہتا۔ 2: خبردار رہنا: کوا‘ اپنے کسی دشمن کو کمزور نہیں سمجھتا۔ ہر وقت خود کو خطرے میں محسوس کرتا ہے۔ سبق آموز ہے کہ اِنسان کا کھلا دشمن شیطان ہے‘ جس کے وار سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔ 3: عزت نفس: کوا خوددار ہوتا ہے اور اپنی نجی زندگی کی مصروفیات ظاہر نہیں کرتا۔ بے حیاء نہیں ہوتا۔

دوسرا واقعہ: سردیوں کی شب پیپلزپارٹی کے بانی رکن‘ 1967ء سے تادم شہادت سیاسی کارکن رہنے والے صوبائی وزیر سیّد قمر عباس (وفات سات مئی دوہزار سات عیسوی) اچانک آستانہ عالیہ پر آئے (اندرون پشاور ’مدینۃ الفاضلہ‘ تو کبھی نہیں رہا لیکن امن وامان کی صورتحال مثالی ضرور تھی کہ لوگ گھروں کے دروازے اور بالخصوص آستانہ عالیہ کا واحد داخلی دروازہ بند نہیں کیا جاتا تھا)۔ قمر عباس نے مولوی جیؒ سے ملنے کی خواہش کا اِظہار کیا۔ مولوی جیؒ کے صاحبزادے (جانشین) سیّد نورالحسنین گیلانی (سلطان آغا) کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ نصف شب کے قریب کس طرح مولوی جیؒ کو مطلع کیا جائے جبکہ وہ اپنی قیام گاہ ’شہ نشین‘ تشریف لے جا چکے تھے اور بالخصوص شب کے اِس پہر کوئی اُن کی عبادت میں مخل ہونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا حتیٰ کے اہل خانہ باتیں بھی دھیمی آواز میں کرتے۔ ابھی رسمی جملوں کا تبادلہ جاری تھا کہ مولوی جیؒ موٹا کمبل (لوئی) اُوڑھے برآمد ہوئے حالانکہ اُنہیں کسی نے مطلع نہیں کیا تھا اور نہ ہی اُن دنوں موبائل فونز عام ہوا کرتے تھے۔ آپؒ تشریف لائے اور پوچھا کون کون ہے؟ مقصد تھا کہ مہمان کون آیاہے؟ اِس دوران قمرعباس آگے بڑھے‘ ہاتھ چوما اور اُنہوں نے مسکراتے ہوئے گلے لگا لیا۔ پھر مولوی جیؒ اپنی گدی (عمومی نشست) پر تشریف فرما ہونے کی بجائے قمر عباس کے ساتھ اَلگ سے بیٹھ گئے۔ دونوں کے درمیان چند لمحے گفت گو ہوئی اور پُرتکلف قہوہ سے تواضع کے بعد وہ جس تیزی سے آئے‘ اُسی تیزی سے رخصت ہو گئے۔ چند روز بعد موقع ملا تو قدم بوسی کے بعد مولوی جیؒ سے اُس نشست کے بارے میں پوچھا‘ آپؒ نے کہا کہ ’’وہ (قمرعباس) اپنا ایک مسئلہ لیکر آیا تھا اور میں نے اُسے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے شعر سے جواب دے کر مطمئن کردیا۔ پھر کچھ دیر خاموش رہے اور جوش سے عربی زبان کا یہ شعر پڑھا ’’رضینا قسمتہ الجبار فینا: لنا علم وللجھال مال ۔۔۔ لان المال یفنی عن قریب: وان العلم لیس لہ زوال (ترجمہ): میں (امام علیؓ) اپنے رب کی اِس تقسیم پر راضی ہوں کہ اُس نے مجھے علم اُور (میرے دشمنوں) جاہلوں کو مال سے نوازہ۔ عطیۂ علم ہمیشہ باقی رہنے والا ہے جبکہ مال و دولت زوال پذیر ہیں۔)

مولوی جیؒ کے بقول محنت اُور ’اعتماد برنفس‘ کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ ’رزق کی طلب‘ کے لئے محنت اِس یقین کے ساتھ ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ پر بھروسہ برقرار (غیرمتزلزل‘ مسلسل) رہے‘ اِس کا حاصل سیلف کانفیڈنس (اِعتماد برنفس) ہوگا‘ جو ترقی کے زینے پر چڑھنے (ارتقاء) کے لئے ضروری ہے۔ کوشش قابل فخر نہیں بلکہ محنت پر ناز (زور) ہونا چاہئے۔ اگر کامیابی خواہش (مطلوب و مقصود) ہے تو صرف دعائیں کافی نہیں‘ لیکن ’’بغیرِ دُعا‘‘ بھی عملی زندگی میں کامیابی نہیں مل سکتی۔ دُعا اِنسانی زندگی بیلنس (ضرورت پوری) کرتی ہے اُس منزل پر جہاں تسکین اُور تسلی درکار ہو کہ اِنسان سے جو کچھ بھی سرزد رہا ہے وہ ’درست سمت‘ میں ہے اُور یہ سفر اپنی اور مستجاب الدعاء ہستیوں سے تعلق و دعاؤں کے زیرسایہ جاری ہے۔’’جلتا ہر شب ہے آسماں پہ چراغ۔۔۔جام یزداں ہے منتظر کس کا۔‘‘
۔۔۔
Remembering Molvee Gee on Eid with 2 events