Showing posts with label The News. Show all posts
Showing posts with label The News. Show all posts

Sunday, December 29, 2019

Chasing shadows by Dr. Farrukh Saleem

Chasing shadows
سراب اُور حقائق

پہلا سراب: پاکستان سے لوٹے ہوئے 200 ارب ڈالر سوئزرلینڈ کے بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ 18 اگست 2018ءکے دن‘ عمران خان نے ’وزیراعظم پاکستان‘ کے عہدے کا حلف لیا۔ 19 اگست کے روز مراد سعید کو وفاقی وزیر برائے مواصلات اُور پوسٹل سروسیز کے عہدے پر فائز کیا جنہوں نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر جاری کئے اپنے پیغام میں کہا کہ ”وزیرخزانہ نے پارلیمنٹ کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ سوئزرلینڈ کی بینکوں میں پاکستان سے چوری شدہ 200ارب ڈالر موجود ہیں۔“ وفاقی حکومت اگست سے وسط اکتوبر تک اِن 200 ارب ڈالر کا پیچھا کرتی رہی اُور اِسی اُمید پر کہ پاکستان کے خزانے میں 200 ارب ڈالر آ جائیں گے اقتصادی حکمت عملیاں بنائی جاتی رہیں لیکن چونکہ حقائق سے زیادہ سراب پر توجہ مرکوز رکھی گئی تھی‘ اِس لئے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

سوئزر لینڈ کے مرکزی قومی بینک نے سال 2018ءسے متعلق اعدادوشمار جاری کئے جن میں شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ”سوئس بینکوں میں پاکستانی شہریت رکھنے والوں کے 388.58 ملین (38 کروڑ سے زائد) ڈالر پڑے ہوئے ہیں۔‘

دوسرا سراب: ستمبر 2018ءمیں حکومت نے مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی درست کرنے کے لئے ’ٹاسک فورسز‘ بنائیں۔ قریب 3 درجن خصوصی اختیارات رکھنے والے فیصلہ سازوں میں توانائی‘ پولیس‘ سرکاری ملازمین‘ کم خرچ طرز حکمرانی‘ قومی امور میں بچت‘ بدعنوانی سے حاصل کردہ قومی دولت کی وصولی‘ شجرکاری اُور اقتصادی راہداری سے متعلق کمیٹیاں شامل تھیں۔

اگست 2018ءمیں مذکورہ ’ٹاسک فورسیز‘ کے بنائے جانے سے قبل ’توانائی کے شعبے کا گردشی قرض 1100 ارب روپے تھا جو بڑھ کر 1700 ارب روپے ہو چکا ہے۔ موجودہ حکومت کے ابتدائی 16ماہ کے دور میں صوبہ پنجاب میں 5واں انسپکٹر جنرل پولیس تعینات کیا گیا ہے۔ اِس طرح کسی پولیس سربراہ کی تعیناتی اوسطاً تین ماہ کے لئے کی گئی۔ اِسی طرح پنجاب میں تین چیف سیکرٹریوں کو بھی یکے بعد دیگرے تبدیل کیا گیا۔ 6 ایجوکیشن سیکرٹری بھی اِسی عرصے میں تبدیل کئے گئے۔ حال ہی میں 31 ڈی سی اُوز‘ 20 ایڈیشنل آئی جیز‘ 19 سیکرٹریوں اُور 5 کمشنروں کے تبادلے کئے گئے ہیں۔
وزیراعظم کی بنائی ہوئی ایک کمیٹی قومی اثاثہ جات کی وصولی (Asset Recovery) کے لئے بنائی گئی تھی لیکن 16ماہ گزرنے کے باوجود بھی اِس کمیٹی کا پہلا اجلاس تک نہیں ہو سکا ہے۔

تیسرا سراب: نیا پاکستان ہاو ¿سنگ اسکیم کے نام سے حکمت عملی وضع کی گئی جس کا مقصد یہ تھا کہ کم آمدنی رکھنے والے طبقات کو ذاتی مکان دیا جائے۔ اکتوبر اُور نومبر اِس سلسلے میں کافی ہنگامہ خیز تھے جس کے بعد اِس منصوبے پر عمل درآمد کس مرحلے میں ہے‘ کوئی نہیں جانتا۔

چوتھا سراب: دسمبر 2018ءکے دوران حکومت نے مرغی اُور انڈے کے ذریعے غربت میں کمی اُور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی حکمت عملی کا آغاز کیا۔ جس کے تحت صرف ضلع روالپنڈی میں 25لاکھ افراد میں کو چار مرغیاں اُور ایک ایک مرغ دیا گیا۔ اِن مرغیوں کی عمر 85 دن تھی اُور یہ انڈے دینے کے لئے تیار تھیں لیکن اِس حکمت عملی کی موجودہ صورتحال کیا‘ اُور اِس سے کیا نتائج حاصل ہوئے‘ یہ معلوم نہیں ہے۔

پانچواں سراب: فروری 2019ءمیں سعودی شہزادے کی پاکستان آمد ہوئی۔ اِس آمد کا خوب چرچا کیا گیا اُور حسب شان استقبال ہوا۔ اِس دورے سے متعلق کہا گیا کہ سعودی عرب پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا لیکن کیا یہ سرمایہ کاری ہوئی اُور کب ہوگی اِس بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں ہے۔

چھٹا سراب: مارچ سے اپریل دوہزاراُنیس کے دوران پاکستانیوں کو یہ خوشخبری سنائی گئی کہ دنیا میں پیٹرولیم مصنوعات کا کاروبار کرنے والی ایک بڑی کمپنی ’ایکسزون (ExxonMobil)‘ پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گی اُور تیل و گیس کے تلاش کے ایک منصوبے پر کام کا آغاز کرے گی۔ اِس اُمید کا بھی اظہار کیا گیا کہ پاکستان میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہونے کے قریب ہیں اُور بہت جلد پاکستان کی قسمت سنورنے اُور بدلنے والی ہے لیکن یہ دعویٰ بھی حقیقت کا روپ اختیار نہ کر سکا۔

ساتواں سراب: جون کے اختتام تک پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض حاصل کیا‘ جس نے صورتحال کو کافی حد تک سنبھال لیا لیکن ایسی مالیاتی اصلاحات نہیں کی جا سکی ہیں جن سے حکومت کے جاری اخراجات میں کمی آئے اُور آئندہ قرض لینے کی ضرورت (حاجت) محسوس نہ ہو۔

پاکستان کو چار شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
1: سرکاری اداروں کے لئے خریداری کے طریقہ ¿ کار کی اصلاح کی جائے اُور اِس نظام کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے جوڑ دیا جائے۔ یاد رہے کہ حکومتی ادارے ہر سال 6 کھرب روپے کی اشیاءخریدتے ہیں اُور محتاط اندازہ یہ ہے کہ اِس چھ کھرب روپے کا کم سے کم پچیس فیصد حصہ (یعنی ڈیڑھ کھرب روپے) خردبرد ہو جاتا ہے۔ یہ رقم اِس قدر بڑی ہے کہ اگر حکومت صرف خریداری کے نظام کی اصلاح کرلے تو اُس سے حاصل ہونے والی بچت کی وجہ سے اُسے ’آئی ایم ایف‘ سے قرض لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

2: سرکاری ادارے قومی خزانے پر بوجھ ہیں اگست 2018ءیعنی تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے سے قبل سرکاری ادارے ہر سال 1300 ارب روپے کا خسارہ کرتے تھے جو بڑھ کر 2100 ارب روپے سالانہ ہو چکا ہے۔ اِن سرکاری اداروں کا قومی خزانے پر سے بوجھ کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

3: پاکستان میں بجلی کا پیداواری اُور ترسیلی شعبہ خرابیوں کا مجموعہ ہے۔ اگست 2018ءیعنی تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے سے قبل پاکستان میں سالانہ 1100ارب روپے مالیت کی بجلی چوری ہوتی تھی جو بڑھ کر 1700 ارب روپے ہو چکی ہے۔

4: گیس کی تقسیم کے شعبے کی کارکردگی بھی مثالی نہیں ہے اُور پاکستان میں ہرسال 2 ارب ڈالر کے مساوی گیس چوری ہو رہی ہے۔ حکومت سے درخواست اُور اُمید ہے کہ وہ مذکورہ چار اصلاحات (سرکاری اداروں کے لئے خریداری‘ سرکاری اداروں کی کارکردگی‘ بجلی اُور گیس کی چوری) پر توجہ دے اُور خسارے کا سبب بننے والے اِن بنیادی اُور بڑے شعبوں کی بہتری کے لئے اقدامات کرے گی۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, December 8, 2019

TRANSLATION: The real indicator by Dr. Farrukh Saleem

The real indicator
حقیقی اِشارہ
کسی ملک کی اقتصادی صورتحال پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ’مودیز‘ کی جانب سے پاکستان کے بارے میں تجزیہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق پاکستان جو درجہ بندی کے لحاظ سے پہلے ’منفی (B-Negative)‘ تھا اُسے ’مستحکم (B3-Stable)‘ قرار دیا گیا ہے۔ کیا یہ کوئی ایسی بات ہے کہ جس پر اظہار مسرت اُور خوشیاں منانی چاہیئں؟ حقیقت یہ ہے کہ درجہ بندی میں ’بی تھری (B-3)‘ وہ آخری سیڑھی ہے جس کے بعد کسی ملک کی معیشت دیوالیہ ہونے کے پہلے پائیدان پر قدم رکھتی ہے۔ ’بی تھری‘ کے بعد درجہ ’سی (C)‘ شروع ہوتا ہے اُور اِس درجے میں شامل ممالک جزوی دیوالیہ ہونے کے بعد زوال پذیر معیشت کے ساتھ سفر کر رہے ہوتے ہیں۔

پاکستان کے جیسے طاقتور ملک کے لئے ’بی تھری‘ میں رہنا اپنی شرم کا مقام ہے کیونکہ ماضی میں کئی ایسے ادوار گزرے ہیں جبکہ پاکستان سے متعلق ’مودیز درجہ بندی‘ کافی بہتر تھی۔ 1994ءمیں جب محترمہ بینظیر بھٹو برسراقتدار تھیں تب پاکستان ’بی تھری‘ تھا۔ 2006ءمیں جب صدر پرویز مشرف کی حکومت تھی تب پاکستان ’بی ون (B-1)‘ کے درجے میں تھا۔ کیا مودیز درجہ بندی حقیقت میں قابل بھروسہ بھی ہیں اُور کیا اِن کے ذریعے کسی ملک کی معیشت اُور وہاں ہونے والی اقتصادی سرگرمیاں اُور اصلاحات کو سمجھا جا سکتا ہے؟ کیا یہ درجہ بندی کچھ مطلب بھی رکھتی ہے؟

کرنٹ اکاونٹ: 
پاکستان کے جاری اخراجات (کرنٹ اکاو ¿نٹ) جو کہ گزشتہ برس 19.9 ارب ڈالر تھا کم ہو کر 12.75 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ کیا کرنٹ اکاونٹ میں ہونے والے قومی اخراجات میں یہ کمی خوش آئند ہے؟ حقیقت حال یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی کرنسی (روپے) کی قدر میں 47 فیصد جیسی غیرمعمولی کمی کی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں کچھ (4.8فیصد) بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی کل خام آمدنی (جی ڈی پی) کی شرح نمو کم ہوئی ہے جو پہلے 5.5 فیصد سالانہ تھی‘ کم ہو کر 3 فیصد پر آ گئی ہے۔ لب لباب یہ ہے کہ جاری اَخراجات (کرنٹ اِکاونٹ) کا خسارہ کم کرنے کے لئے حکومت نے اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر دیا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ معاشی صورتحال سے واقفان حال اِس پر اظہار اطمینان نہیں کر رہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی درآمدات 19 ارب ڈالر سے کم ہو کر 14.65 ارب ڈالر ہوئی ہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے جاری اخراجات (کرنٹ اِکاو ¿نٹ) خسارہ کم ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں سست ہوئی ہیں اُور برآمدات میں غیرمعمولی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جس پر جشن منایا جانا چاہئے؟

پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے قرض حاصل کر رکھا ہے اُور پاکستان کی اقتصادیات پر ’آئی ایم ایف‘ کی نگرانی جاری ہے۔ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر یقینا ’آئی ایم ایف‘ کے فیصلہ ساز اُور سبھی عالمی اِدارے اظہار اطمینان کر رہے ہوں گے جنہیں صرف مالیاتی حکمت عملیوں سے مطلب ہے۔ اُنہیں اپنے دیئے گئے قرض کی کم سے کم وقت میں واپسی سے غرض ہے۔ حکمرانوں نے عالمی اداروں کو خوش کرنے کے لئے پاکستان کی معاشی و اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر دیا ہے اُور اِس بات پر کسی بھی صورت اِظہار اِطمینان نہیں کیا جاسکتا۔

مرکزی مالیاتی ادارے (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے نومبر 2019ءکے درمیان سرمایہ کاروں نے 1.097 ارب ڈالر مالیت کے ’ٹی بلز‘ خریدے ہیں۔ کیا یہ اچھی بات ہے؟ یقینا یہ اچھی بات ہے کہ غیرملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ اُن کی سرمایہ کاری پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر اعتماد کی عکاس ہے بلکہ وہ ’بلند ترین شرح سود (کم وقت میں زیادہ منافع)‘ حاصل کرنے کے لئے پاکستان کے ’ٹی بلز‘ خریدتے ہیں۔ اِس طرح قومی خزانے میں ڈالر تو آ جاتے ہیں لیکن وہ اپنے ساتھ زیادہ مقدار میں ڈالر لے بھی جائیں گے اُور تاریخ گواہ ہے کہ اِس طرح کی سرمایہ کاری سے پاکستان کو فائدے سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ اِسی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کاری کی یہ صورت باعث اطمینان نہیں ہے۔ تصور کیجئے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے 1.9 کھرب روپے سود کی مد میں ادا کئے تھے لیکن موجودہ برس یہ رقم بڑھ کر 2.9 کھرب روپے ہو چکی ہے۔ حکومت نے 1.097ارب ڈالر حاصل کئے جس کی وجہ سے اضافی 6.5 ارب ڈالر سود ادا کرنا پڑا۔ کیا ملک کی اقتصادیات کا چلانے کا یہ درست طریقہ ہے؟

پاکستان پر ایسے قرضہ جات کا بوجھ 800 ارب روپے تک جا پہنچا ہے‘ جن کی ادائیگیاں (واپسی) نہیں ہو رہی تو کیا یہ امر باعث اطمینان ہے؟

جی ڈی پی میں اضافہ:
گذشتہ برس پاکستان کی اقتصادی ترقی 5.5 فیصد کے تناسب سے ہوئی جبکہ اِس سال ملک کی خام پیداواری ترقی 3.3 فیصد پر ہے اُور یہ اعدادوشمار وفاقی ادارہ شماریات نے جاری کئے ہیں۔ قومی پیداوار میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ 900 ارب روپے کانقصان ہوا ہے جو قطعی معمولی نہیں۔ قریب 1.2 ارب پاکستانی اپنی نوکریوں سے محروم ہوئے ہیں جبکہ قریب 90 لاکھ پاکستانی ایسے ہیں جنہیں ملک کے اقتصادی حالات نے خط غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے پیشنگوئی کی ہے کہ آئندہ برس پاکستان کی قومی پیداوار میں مزید کمی ہوگی اُور یہ 3.3 فیصد سے 2.8فیصد پر آ جائے گی جس کا مطلب ہے کہ مزید پاکستانی بیروزگار ہوں گے تو جس ملک میں روزگار کے مواقع ہر سال کم ہو رہے ہوں‘ وہاں کے حکمرانوں کی جانب سے معاشی و اقتصادی ترقی کے دعووں پر یقین (اظہار اطمینان) کرنا چاہئے؟

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, November 17, 2019

TRANSLATION: The gap by Dr Farrukh Saleem

The gap
فرق و تضاد

حکومت کی ترجیحات اُور عوام کی توقعات کے درمیان ’زمین آسمان کا فرق‘ نمایاں ہے۔ مثال کے طور پر زمین پر جب ٹماٹروں کی فی کلوگرام قیمت 320 روپے تھی تب حکومت کے اہم رکن نے کہا کہ یہ 17 روپے فی کلوگرام ہیں۔ اِسی طرح جب زمین پر موسمی سبزی مٹر کی فی کلوگرام قیمت 100 روپے تھی تو حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ یہ 5 روپے فی کلوگرام ہے۔ اِسی طرح اہل زمین کو عام گاڑی سے سفر کرنے میں جتنی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے حکومت کی نظر میں ہیلی کاپٹر سے فی کلومیٹر 55 روپے میں سفر ہوتا ہے۔ یہ سبھی مثالیں اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ برسراقتدار طبقے اُور عوام کو مختلف قسم کے حالات درپیش ہیں اُور دونوں ہی کے لئے حالات سے نمٹنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

حکومت کے لئے پاکستان کی معاشی واقتصادی نظام کو درست کرنا ایک ضرورت اُور مشکل ہے جس کے لئے اُس نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے بھاری سود اُور سخت مالیاتی نظم و ضبط لاگو کرنے جیسی شرائط پر قرض حاصل کیا ہے جبکہ عام آدمی کی مشکل یہ ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط کے نام پر کئے گئے اقدامات سے سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں۔ ملک میں بیروزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے۔ حکومت خوش ہے کہ اُس نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کر دی ہیں اُور عوام فکرمند ہے کہ اُن کا معاشی مستقبل پہلے سے زیادہ غیرمحفوظ ہو چکا ہے۔ ملک میں غربت بڑھ رہی ہے۔ روزگار کو تحفظ حاصل نہیں جبکہ مہنگائی کی شرح اِس کے علاو ¿ہ اضافی بوجھ ہے۔ خلاو ¿ں میں رہنے والوں پر زمین کی سطح پر پائی جانے والی ’کشش ثقل‘ کا اثر نہیں ہوتا یا بہت کم ہوتا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ وفاقی کابینہ کے اراکین جب چھانگ مارتے ہیں تو وہ زیادہ بلندی تک ہوا میں اُڑتے ہیں اُور سمجھتے ہیں کہ اہل زمین (ہم عوام) بھی ایسی ہی صورتحال سے محظوظ ہو رہے ہوں گے۔ حکومت کے لئے بجلی و گیس کے بلوں میں اضافہ معمولی سی بات ہے اُور یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں گیس کے بلوں میں ڈھائی سے چھ روپے فی یونٹ اضافہ کر دیا گیا کیونکہ کابینہ کے کسی رکن کے لئے ڈھائی سے چھ روپے اضافہ معمولی سی بات ہے لیکن ایک ایسا شخص جس کی یومیہ آمدنی ہر دن کم ہو رہی ہے اُور اُسے ایک بڑے کنبے کی کفالت کرنی ہے لیکن اُس کی مالی ذمہ داریوں میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے!

خلاوں میں رہنے والوں کے لئے موسمیاتی تبدیلی‘ فضائی آلودگی اُور آب و ہوا کی خرابی کوئی مسئلہ نہیں لیکن زمین پر رہنے والوں کو آلودہ ہوا میں سانس لینے کی وجہ سے بیماریاں لاحق ہو رہی ہیں۔ زراعت و کاشتکاری کو الگ سے خطرات لاحق ہیں جبکہ پاکستان کے کئی شہروں کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شمار کر لیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں سیاحت کی ترقی کیونکر ممکن ہو گی جبکہ پاکستان کے مرکزی شہروں کی فضا آلودہ ترین ہیں!؟

1700 کے اواخر کی بات ہے جب ملکہ ماری (Queen Marie Antoinette) سے کہا گیا کہ عوام روٹی نہ ملنے کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں تو اُنہوں نے کہا تھا کہ وہ کیک کیوں نہیں کھا لیتے؟ فرانس کے حکمرانوں کا یہ رویہ اُنہیں لے ڈوبا تھا اُور 14جولائی 1789ءکو ’فرانسیسی انقلاب‘ میں شریک عوام نے بادشاہت کا تختہ اُلٹا۔ یاد رہے کہ فرانسیسی انقلاب 1789ءمیں شروع ہوا تھا۔

پاکستان میں مہنگائی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اُور اِس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہوئے کوئی حل نکالنا چاہئے۔ حال ہی میں ہوئے گیلپ و گیلانی سروے (Gallup & Gilani Poll) سے معلوم ہوا کہ 53فیصد پاکستانیوں کے لئے مہنگائی 23 فیصد کے لئے بیروزگاری جبکہ صرف 4فیصد کے لئے بدعنوانی بڑا مسئلہ ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کا ایک تعلق بجلی و گیس اُور پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر حکومت کم سے کم بجلی و گیس کی قیمتوں میں آئے روز اضافے سے گریز کرے تو اِس سے مارکیٹ میں ایک طرح کا استحکام دیکھنے میں آئے گا۔ حکومت قریب 2 کھرب روپے بجلی و گیس کی قیمت میں اضافے اُور اضافی ٹیکسوں سے حاصل کر رہی ہے‘ جس کی وجہ سے عام آدمی کی قوت خرید میں مسلسل کمی کا رجحان ہے اُور جب قوت خرید کم ہوتی ہے تو پیداواری اداروں کو اپنی پیداوار کم کرنا پڑتی ہے جس کے لئے مزدوروں کی تعداد گھٹانا پڑتی ہے اُور یوں معیشت زوال پذیر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ مہنگائی کے محرکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے عوام سے متعلق فیصلہ سازی اُسی سطح پر کی جائے جہاں عوام رہتے ہیں۔ اِس کے لئے فیصلہ ساز کو زمین پر اُترنا ہوگا جہاں پاکستان کے معاشی حالات اُن کی سوچ سے زیادہ مختلف اُور گھمبیر ہیں۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)


Sunday, November 10, 2019

TRANSLATION Wrong focus by Dr Farrukh Saleem

Wrong focus
غلط ترجیحات
پہلی ترجیح‘ ٹیکس وصولی: اِصطلاحی طور پر ٹیکس وصولی ایک ایسی اقتصادی سرگرمی کا نام ہے جس کی وجہ سے اقتصادی ترقی ہو اُور اِس ترقی کے نتیجے میں ٹیکس وصول ہونے کی شرح میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جائے۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ کسی ملک میں اقتصادی سرگرمیاں تو سکڑ رہی ہوں لیکن وہاں کی حکومت ٹیکس وصولی کے زیادہ بڑے اہداف مقرر کر کے بیٹھی ہو۔ پاکستان حکومت بھی ایک ایسا ہی غلط گمان کئے بیٹھی ہے کہ اِسے اقتصادی بحران کے حالات میں عوام اُور کاروباری طبقات سے زیادہ ٹیکس وصول کرنا چاہئے۔ فیصلہ سازوں کو غور کرنا چاہئے کہ اصل ضرورت ’اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے‘ کی ہے‘ جس سے ٹیکس وصولی کی شرح میں خودبخود اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس لاگو کرنے سے پہلے آمدن کے لحاظ سے طبقات کو تقسیم کرنے کا ہے۔ فیصلہ سازوں کو تین سوالات کے جوابات تلاش کرنے ہیں۔
1: ٹیکس کون ادا کرے گا؟
2: ٹیکس کتنا ادا کرے گا اُور
3: ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کے کتنے فیصد حصے کا حکومت اپنے اخراجات کے لئے استعمال کر سکتی ہے؟

مساوات اُور انصاف یہ ہے کہ ٹیکس مالی حیثیت کے مطابق نافذ ہو یعنی ملک کے سرمایہ دار طبقات کو نسبتاً زیادہ اُور کم آمدنی یا کم مالی حیثیت رکھنے والوں پر اِسی شرح سے ٹیکسوں کا کم بوجھ لادا جائے۔ پاکستان میں ٹیکس وصولی کے اہداف اُور ٹیکسوں سے متعلق حکومت کی پالیسی کا جائزہ لیں تو صورتحال بالکل متضاد اُور مختلف نظر آتی ہے۔ ہمارے ہاں طرزحکمرانی عوام دوست نہیں بلکہ اِس میں خواص کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ زیادہ آمدنی اُور زیادہ مالی حیثیت رکھنے والوں کی نسبت کم آمدنی اُور کم مالی حیثیت رکھنے والے طبقات سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
دوسری ترجیح‘ ماضی کی غلامی: پاکستان کی حکومت آگے (مستقبل) کی جانب دیکھنے کی بجائے پیچھے (ماضی) کی جانب دیکھتے ہوئے سفر کر رہی ہے۔ ایسا سفر حادثات کا باعث بن سکتا ہے۔ حکومت کی ساری کوشش یہ جاننے میں لگی ہوئی ہے کہ ماضی کے حکمرانوں میں شامل کرداروں میں سے کس نے کتنے قومی وسائل ذاتی اثاثوں میں منتقل کئے۔ اگر یہ طرزعمل جاری رہا کہ حکومت آگے کی بجائے پیچھے کی جانب دیکھتی رہی تو اِس کا انجام یا تو یہ ہوگا کہ آگے کی جانب سفر رک جائے یا اگر سفر جاری رہا تو یہ حادثے کا سبب بنے گا۔ حکمراں جماعت کو انسداد بدعنوانی اُور اقتصادی حکمت عملی میں تمیز کرنا ہوگی۔ پاکستان کی ضرورت ایک ایسے تربیت یافتہ‘ اہل ادارے کی ہے جو ملک میں ’انسداد بدعنوانی‘ جیسے انتظامات کر سکے۔ قومی احتساب بیورو یہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے کیونکہ اِس کی خاطرخواہ تربیت نہیں۔ اِس کی خاطرخواہ صلاحیت نہیں اُور اِسے خاطرخواہ آزادی حاصل نہیں۔

تیسری ترجیح‘ غیرملکی سرمایہ کار: پاکستان کی نظریں غیرملکی سرمایہ کاروں پر لگی ہوئی ہیں اُور اِس ماحول میں انہیں ملکی سرمایہ کار دکھائی نہیں دے رہے جو سالانہ قریب 5000 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرتے ہیں اُور یہ سرمایہ کاری بیرونی سرمایہ کاری سے زیادہ ہے۔ اِس لئے حکومت کو بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے مواقع اور مراعات کی تشکیل سے زیادہ ملکی و مقامی سرمایہ کاروں کے بارے میں سوچنا چاہئے اُور اُنہیں ایسا ماحول دینا چاہئے کہ جس میں وہ حکومت پر اعتماد کرتے ہوئے پہلے کی نسبت زیادہ سرمایہ کاری کریں۔

چوتھی ترجیح‘ شرح سود: حکومت نے آمدن بڑھانے کے لئے شرح سود میں اضافہ کیا ہے جو فی الوقت دس فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔ اِس کا نقصان یہ ہے کہ کم وقت کے لئے سرمایہ کاری کرنے والے زیادہ منافع کما کر چلتے بنیں گے اُور ملک کے اقتصادی مسائل جوں کے توں برقرار رہیں گے اُور دوسرا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ملک میں کاروبار کرنے کی لاگت بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے نئے روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے اُور اِس کا نتیجہ یہ بھی نکل رہا ہے کہ بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پانچویں ترجیح‘ درآمدات میں کمی: حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان کی درآمدات میں کمی ہو۔ اِس مقصد کے لئے اب تک کئے گئے اقدامات میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ اصولاً درآمدات میں کمی سے زیادہ برآمدات میں اضافے پر توجہ دینی چاہئے۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان پیٹرولیم مصنوعات (تیل‘ کوئلہ‘ مائع گیس اُور مشینری) درآمد کرنے پر سالانہ 30ارب ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ ضروری اشیائے خوردونوش کی درآمد پر سالانہ 4 ارب ڈالر اُور لوہے (iron) و سٹیل (steel) کی درآمدات پر سالانہ 3 ارب روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔

برآمدات میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔ کم و بیش ’5 برس‘ قبل بنگلہ دیش اُور پاکستان ایک جیسی مالیت کی برآمدات کرتا تھا یعنی بنگلہ دیشی اُور پاکستانی برآمدی حجم 25 ارب ڈالر تھا لیکن پانچ برس بعد کی صورتحال یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی برآمدات سالانہ 25 ارب ڈالر سے بڑھ کر سالانہ 40 ارب ڈالر ہو چکی ہیں جبکہ پاکستان کی برآمدات 25 ارب ڈالر سے کم ہیں! اگر پاکستان 40 ارب ڈالر کی برآمدات کرے اُور اِسے ترسیلات زر سے 24 ارب ڈالر ملیں تو اِس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ کم ہو گا اُور ملک کی اقتصادی صورتحال ایک ایسے توازن پر آن کھڑی ہو گی‘ جس کی ضرورت ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
............

Sunday, October 27, 2019

Maulana, please reconsider by Dr. Farrukh Saleem

Maulana, please reconsider
تخریب نہیں تعمیر!

بیرونی طاقتیں پاکستان میں انتشار چاہتی ہیں۔ سیاسی عدم استحکام سے پاکستان کی معاشی ترقی اور اصلاحات کا جاری عمل رک جائے گا جبکہ اِس سے قومی ادارے بشمول پاک فوج کا ادارہ بھی کمزور ہوگا اُور اگر پاکستان عدم استحکام سے دوچار ہوتا ہے تو اِس کی وجہ سے متاثر ہونے والوں میں سرفہرست پاک فوج ہی ہوگی‘ جس کی دہشت گردی و انتہاءپسندی کے خلاف جاری کوششیں ڈھکی چھپی نہیں۔

پاکستان کے طول و عرض میں‘ اِن دنوں‘ ہر کوئی جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ روزمرہ معمولات سرانجام دیتے ہوئے جس کسی سے بھی بات چیت کا موقع ملتا ہے اُس کی کوشش ہوتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار اُور ستائیس اکتوبر سے شروع ہونے والے ’آزادی مارچ‘ کے بارے میں اپنے محتاط یا غیرمحتاط خدشات کا اظہار کرے۔ متوقع ہے کہ ’آزادی مارچ‘ اکتیس اکتوبر کے روز ’اسلام آباد‘ سے ٹکرائے گا۔ ہر جگہ اُور ہر سطح پر ’آزادی مارچ‘ کی دھوم ہے۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ پاکستان کے 98فیصد بالغ لوگ اپنے اپنے پیشوں سے وابستہ مزدوری کرنے والے محنت کش ہیں جبکہ باقی 2 فیصد لوگ وہ ہیں جنہیں تشہیر چاہئے یعنی وہ ہر حال اُور بہرصورت خبروں‘ اخبارات اُور ذرائع ابلاغ کی زینت رہنے (خودنمائی) کے شوق (لت) میں مبتلا ہیں!

صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ’آزادی مارچ‘ کے عنوان سے جو کچھ بھی ہونے جا رہا ہے اُس سے حکومتی امور اُور عوام کے معمولات زندگی بُری طرح متاثر ہوں گے۔ یہ خلل کس قدر پاکستان کے حق میں ہے‘ اِس بارے میں بہت کم بات کی جاتی ہے اُور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی‘ معاشی و اقتصادی‘ دفاعی اور داخلی صورتحال اُس مقام پر کھڑی ہے‘ جہاں ایسا کوئی بھی خلل‘ ایسا کوئی بھی اقدام ’تعمیر‘ کی بجائے ’تخریب‘ کا باعث بنے گا اُور یقینا سیاسی و مذہبی جماعتوں کا قطعی مقصود نہیں ہوگا کہ وہ حب الوطنوں کی طرح کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ اُن کے کسی اقدام‘ فعل یا کلام سے ’پاکستان کا نقصان ہو۔‘

پاکستان میں اِن دنوں کیا ہو رہا ہے‘ آیئے اُن پر ایک نظر کرتے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) چاہتا ہے کہ وہ ملک میں بجلی و گیس کی فروخت کو اپنے ہاتھ میں لے۔ اگر ایسا ہوگیا تو تصور محال ہے کہ اِس کے بعد کیا ہوگا۔ ’2 نومبر‘ کے روز ’تحریک لبیک پاکستان‘ کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کا اعلان سامنے آ چکا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ اِس تحریک کی جانب سے نامزد اُمیدواروں نے 2018ءکے عام انتخابات میں مجموعی طور پر 22 لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے۔ ’3 نومبر‘ کے روز ’تبلیغی جماعت‘ سے وابستہ لوگ رائیونڈ اجتماع میں ہونے دعا میں شریک ہوں گے۔ اندازہ ہے کہ اِس موقع پر 20 لاکھ جمع ہوتے ہیں۔ نومبر ہی کے مہینے میں پاکستان کو لئے ہوئے قرض کی ایک ارب ڈالر قسط ادا کرنی ہے۔ قومی خزانے پر ایسے قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے جن کا استعمال غیرترقیاتی کاموں پر ہو رہا ہے یعنی قرض لیکر قومی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ اِسی طرح پاکستان میں بیروزگاری بھی بڑھ رہی ہے اُور ’ایف اے ٹی ایف (FATF)‘ کی تلوار الگ سے لٹک رہی ہے‘ جس سے بچنے کے لئے پاکستان کو صرف چار مہینوں کا وقت دیا گیا ہے۔ اِن سبھی واقعات اُور پہلوو ¿ں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ایسا کوئی بھی عمل ہوتا ہے جس سے ملک عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو یہ قطعی طور پر پاکستان کے حق میں مفید نہیں ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن دور اندیش‘ سیاسی بصیرت سے مالا مال اُور ایک منظم انسان ہیں‘ جنہوں نے جمعیت کو ملک کے تین صوبوں (خیبرپختونخوا‘ بلوچستان اُور سندھ) میں تنظیم سازی اُور اثرورسوخ کا لوہا منوایا ہے۔ عام انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام کل ڈالے گئے ووٹوں کا صرف 2 فیصد حاصل کرتی ہے لیکن جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) خود کو 2 فیصد نہیں بلکہ ملک کے زیادہ بڑے طبقے کی رائے کی ترجمان قرار دیتی ہے جو یقینا اِس کے قد کاٹھ سے زیادہ بڑا دعویٰ ہے۔

اگر ہم جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کی سیاست کا جائزہ لیں تو 1985ءسے برسراقتدار آنے والے گذشتہ 5 حکومت کے ادوار میں یہ کسی نہ کسی صورت حکومت کا حصہ رہی ہے۔ اِس جماعت سے تعلق رکھنے والے غیرمعمولی طور پر مالی عطیات دینے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے اُور یہ اَمر بھی ذہن نشین رہے کہ جب تحریک انصاف نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو مولانا فضل الرحمن اُس کے مخالفین میں پیش پیش تھے۔

مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ’جمعیت علمائے اسلام‘ کا تعلق ’دیوبندی‘ مسلک سے ہے‘ جو اسلامی عقائد میں ’سنی حنفی (اہلسنت والجماعت)‘ نظریہ فکر کے احیاءکی علمی تحریک ہے۔ دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے دنیا کے مختلف حصوں کی نسبت پاکستان‘ بھارت‘ افغانستان‘ بنگلہ دیش‘ برطانیہ اُور جنوبی افریقہ میں زیادہ بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں 2 کروڑ دیوبندی ہیں۔ ملک کے کل 35 ہزار مدارس میں سے 23 ہزار مدارس کا تعلق دیوبند سے ملنے والی اسلامی فکر و اعمال سے ہے۔ ذہن نشین رہے کہ قیام پاکستان کے وقت (1947ءمیں) ملک میں مدارس کی کل تعداد 189 تھی۔ فی الوقت پاکستان میں 20لاکھ بچے مدارس میں زیرتعلیم ہیں جن میں سے 13 لاکھ کا تعلق دیوبند سے ہے۔

پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔
بیرونی ملک دشمن طاقتیں پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتی ہیں اُور اِس مرحلے پر ملک کی سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات اُور ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہیئں۔ مولانا فضل الرحمن سے درخواست کے ساتھ اُمید ہے کہ وہ ’آزادی مارچ‘ کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں گے اُور ایسی کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے‘ جس سے پاکستان کمزور ہو اُور جس میں ملک دشمن داخلی و خارجی طاقتیں اُن کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
............

Sunday, October 6, 2019

TRANSLATION: The happy mind by Dr Farrukh Saleem

The happy mind
مسرت و اطمینان !
انسانی ذہن میں سمجھ بوجھ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو سمجھنے اُور سمجھانے والے معروف مصنف ’کیوین ہارسلے (Kevin Horsley)‘ کی ایک اُور مصنف سے مشترک تحریر کردہ کتاب ’دی ہیپی مائنڈ (The happy mind)‘ لائق مطالعہ ہے‘ جس کے مطالعے سے کم سے کم چار باتیں سیکھی جا سکتی ہیں۔ پہلی بات: خوشی اُور لذت دو الگ الگ جذباتی رجحانات ہیں۔ دوسری بات: ضروری نہیں کہ خوشی کا تعلق ہمیشہ بیرونی محرکات پر ہی ہو بلکہ یہ داخلی طور پر بھی اطمینان سے حاصل ہو سکتی ہے۔ تیسری بات: خوشی کا تعلق ہمارے حال سے مستقبل سے نہیں۔ پرآسائش مصنوعات بنانے والے اِس مغالطے کی تشہیر کرتے ہیں کہ اگر صارف اُن کی تیارکردہ اشیاءاستعمال کریں تو اُن کی آنے والی زندگی میں خوشیاں بھر جائیں گی۔ چوتھی بات: خوشی دوسروں سے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ ہمارے اندر موجود نہ ہو۔

زندگی میں اطمینان نہ تو مال و زر سے حاصل ہو سکتا ہے اُور نہ ہی اشیاءکی بھرمار سے۔ عمومی غلطی یہ سرزد ہوتی ہے کہ خوشی کو متفرق اَشیاءجیسا کہ گاڑی یا کسی پسندیدہ مقام کے سفر یا کسی ذاتی کارکردگی سے جوڑ دیا جاتا ہے کہ اِن کے ذریعے اطمینان و مسرت حاصل ہوگی۔ مصنف لکھتے ہیں اشیاءمثلاً گاڑیوں‘ آلات اُور دیگر ایسی تمام چیزیں کہ جنہیں خریدا جا سکے وہ ہمیں وقتی طور پر مسرت (خوشی کا جزوی احساس) دلاتی ہیں اُور یہیں سے غلطی کی ابتدا ¿ ہوتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اطمینان پانے کے لئے بیرونی ذرائع کی جانب زیادہ توجہ مبذول کرتے ہیں جبکہ اُن داخلی محرکات کو فراموش کر دیتے ہیں‘ جن سے حاصل ہونے والا اطمینان اُور خوشی ہی حقیقی اُور دائمی ہوتی ہیں۔

سوال: اطمینان و مسرت کی تلاش کہاں کی جائے؟
جواب: انسانی زندگی کو نت نئے تجربات کے ذریعے جس اطمینان و مسرت کی تلاش رہتی ہے اُس کا تعلق صرف اُور صرف ہمارے ’حال (Present)‘ سے ہے لیکن غلطی یہ ہوتی ہے کہ ہم اِسے ماضی (Past) یا مستقبل (Future) میں تلاش کرنے میں اپنی تمام تر صلاحیتیں‘ وسائل اُور وقت سے سرمایہ کاری کرتے رہتے ہیں لیکن اپنے حال (Present) پر توجہ نہیں دیتے جو زیادہ اہم (ضروری) ہے۔ ایک خوشحال زندگی کی ضامن سوچ گزشتہ کل یا آنے والے کل سے نہیں بلکہ آج سے متعلق ہوتی ہے اُور آج ہی پر مبنی ہونی چاہئے۔

خوشی (Happiness) و مسرت (pleasure) الگ الگ محسوسات ہیں اُور یہ ایک ہی چیز کے دو نام نہیں۔ مسرت کا تعلق ہمارے احساسات سے ہے جبکہ خوشی ایک حالت ہے۔ مسرت وقتی اور مختصر ہوتی ہے۔ خوشی طویل العمیادی ہوتی ہے۔ مسرت کا تعلق جذبات سے ہے۔ خوشی کا تعلق داخلی اطمینان (inner-peace) سے ہے۔ اطمینان حواص خمسہ کی سرگرمی سے حاصل ہوتی ہے۔ خوشی داخلی اطمینان کا نتیجہ ہے۔ مسرت کسی بیرونی ذریعے سے حاصل کی جا سکتی ہے لیکن خوشی کے لئے ایسا ممکن نہیں جب تک کہ یہ ہمارے اندر سے ظہور نہ کرے۔

مصنف کیوین ہارسلے نے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ہمیں خوشی (اطمینان) اور مسرت میں تمیز کرنی چاہئے اُور اِن دونوں کے درمیان میں فرق کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی زندگیوں (سرگرمیوں) کا جائزہ لینا چاہئے تاکہ حقیقی خوشی اور حقیقی مسرت سے لطف اندوز اور مستفید ہوسکیں۔

انسانی زندگی خیالات اُور اعمال کا مجموعہ ہوتی ہے جو ہنوز سربستہ راز ہے۔ گذشتہ پچاس برس سے معروف ماہر نفسیات و ذہنی صحت سے متعلق طبی علوم کے ماہر (neuro-scientist) رچرڈ ڈیوڈسن (Richard Davidson) کا ماننا ہے کہ ”خوشی کا تعلق اردگرد پھیلی‘ متعلقہ و غیرمتعلقہ اشیاءکے انباروں سے نہیں بلکہ داخلی طور پر اِس اطمینان سے ہے جس پر قناعت کا عنصر غالب ہو۔“

دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمیں اپنے اردگرد ایسے لوگ ملتے ہیں جو اپنی حالت میں محدود اُور کم مالی و مادی وسائل رکھنے کے باوجود بہت مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ وہ قدرت کی خوبصورتیوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ اُن کی زندگیوں میں کھلتے ہوئے پھول اور طلوع و غروب ہوتا سورج خوشیاں بھر دیتا ہے۔ وہ اپنی صحت اور تندرستی کو لیکر شکرگزار دکھائی دیتے ہیں۔ وہ زندگی کی مشکلات کو خود پر حاوی ہونے نہیں دیتے بلکہ حالات کا مثبت سوچ سے مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کو معاف کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے دوستوں کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ وہ دوستوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ وہ زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ اُنہیں دوسروں کی خوشیوں میں اپنی خوشیاں پنہاں دکھائی دیتی ہیں۔ وہ مل جل کر رہتے ہیں۔ وہ دوسروں کو تبدیل کرنا نہیں چاہتے اور نہ ہی دوسروں پر اپنی مرضی ٹھونستے ہیں۔ وہ اپنی زندگیوں کو سادگی سے بھر دیتے ہیں۔ اپنی خواہشات پر قابو رکھتے ہیں اُور جو کچھ اُن کے پاس ہوتا ہے اُسے ہی کافی سمجھتے ہیں۔

انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کتنا خوش (مکمل) اُور کتنا مشکل (نامکمل) سمجھے کیونکہ خوشی و مسرت یعنی زندگی کے اطمینان کا تعلق بیرونی ذرائع سے نہیں بلکہ داخلی حالت سے ہے۔ کسی عاقل کا قول ہے کہ میں کبھی بھی اِس بات میں دو رائے کا شکار نہیں ہوا کہ بہتر کارکردگی اُور بہتر نتائج جیسے دونوں امور میری ذمہ داری ہیں۔ سوچ سمجھ کر امور زندگی کی انجام دہی (excellence) اختیار کرنا میرا کام ہے جبکہ اِس کی تکمیل و نتائج (perfection) کا انحصار خالق کائنات کے ہاتھ میں ہے (جو عمل کی سزا و جزا کو نیت سے بدل دیتا ہے۔) 

.... (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, September 29, 2019

TRANSLATION: Cut Corporate Tax by Dr. Farrukh Saleem

Cut corporate tax
کاروباری ٹیکس اور معیشت!

سوال: کیا وزیراعظم عمران خان پاکستان کی معاشی اِصلاح کر سکیں گے؟ جواب: عمران خان میں یہ صلاحیت بدرجہ¿ اتم موجود ہے کہ وہ جس چیز کا وعدہ کریں اُسے عملاً کر بھی دکھائیں۔ ایسا کیوں نہ ہو آخر یہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان کے ایسے پہلے وزیراعظم ہیں‘ جن کے ذاتی و سیاسی اہداف اور قومی اہداف ایک دکھائی دیتے ہیں۔ اِس سلسلے میں وضاحت پیش ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور سرفہرست دشمن ’بیروزگاری‘ ہے جس کے کئی محرکات ہیں۔
گاڑیاں: اگست 2018ء میں 15 ہزار 389 نئی گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں جبکہ اگست 2019ءمیں 9 ہزار 126 نئی گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ یوں ایک سال کے عرصے میں گاڑیوں کی فروخت میں 40 فیصد جیسی غیرمعمولی کمی آئی ہے۔ کرولا (ٹیوٹا) گاڑیوں کی فروخت میں 58فیصد‘ ہونڈا (سوک) گاڑیوں کی فروخت میں 68 فیصد اُور سوزوکی (ویگنور) کی فروخت میں 71 فیصد کمی آئی ہے۔ ہنڈا‘ انڈس اُور سوزوکی نامی موٹر ساز صنعتیں 10 ہزار ملازمتیں فراہم کرتی ہیں اور ایسی ہر براہ راست ملازمت کے ساتھ 8 دیگر ملازمتیں جڑی ہوتی ہیں یعنی کاروباری سرگرمیوں سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اگر ہم پاکستان میں گاڑیاں بنانے والے اداروں کی بات کریں تو مجموعی طور پر اِس صنعت سے 80 ہزار افراد ملازمتیں وابستہ ہیں اور یوں 5 لاکھ 36 ہزار افراد کی کفالت ہو رہی ہے کیونکہ 80 ہزار افراد 6.7 افراد فی خاندان کے تناسب سے اوسط خاندان تشکیل دیتے ہیں۔

ٹرک: جولائی اگست 2018ءمیں 1 ہزار 199 نئے ٹرک فروخت ہوئے۔ جولائی اگست 2019ءمیں 648 نئے ٹرک فروخت ہوئے اور یوں ٹرکوں کی فروخت میں ایک سال کے دوران 46فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ یہی صورتحال بسوں کی بھی ہے کہ جولائی اگست 2018ءمیں کل217 نئی بسیں فروخت ہوئیں جبکہ جولائی اگست 2019ءکے دوران 160 بسیں فروخت ہوئیں اور یوں 26فیصد کم بسیں فروخت ہوئی ہیں۔

ٹریکٹرز: جولائی اگست 2018ءکے دوران 7 ہزار 831 ٹریکٹر فروخت ہوئے۔ جولائی اگست 2019ءمیں 5 ہزار 592 نئے ٹریکٹر فروخت ہوئے جو ٹریکٹروں کی فروخت میں 29فیصد کمی کا اشارہ ہے۔ مالی سال 2018ءکے مقابلے 2019ءمیں موٹرسائیکلوں کی فروخت میں بھی 13فیصد کمی آئی ہے۔ سال 2019ءکے دوران 24 لاکھ موٹرسائیکل فروخت ہوئے اُور سیلز میں اِس کمی کی وجہ سے 15فیصد مزدوروں کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ اُمید ہے کہ حکومت اِن اُور دیگر صنعتوں کو مشکلات سے نکالنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کرے گی۔

فیصل آباد میں کپڑوں پر نقش و نگار بنانے کی صنعت جسے ایمبریڈیری (embroidery) کہا جاتا ہے مشکل دور سے گزر رہی ہے اور قریب المرگ ہے اُور اگر حکومت نے خاطرخواہ توجہ نہ دی تو اندیشہ ہے کہ اِس صنعت سے وابستہ 2 لاکھ افراد بیروزگار ہو جائیں گے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی مانگ میں بھی کمی آئی ہے۔ جولائی اگست 2018ءکے درمیان 17 لاکھ ٹن تیل درآمد ہوا جبکہ جولائی اگست 2019ءمیں 9 لاکھ ٹن تیل درآمد ہوا ہے جو 46فیصد کمی ہے۔ اِس کے علاوہ بہت کچھ ایسا بھی ہو رہا ہے جو قبل ازیں دیکھنے میں نہیں آیا۔ جیسا کہ قائداعظم یونیورسٹی‘ سندھ یونیورسٹی اور سندھ ایگری کلچر یونیورسٹی نے بینکوں سے قرض لیکر ملازمین بشمول اساتذہ کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات ادا کئے ہیں۔

جولائی اگست 2018ءمیں پاکستان نے 2.2 ارب ڈالر کی برآمدات کیں جبکہ جولائی 2019ءمیں 2.3 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔ اِس سلسلے میں دو اچھی خبریں یہ ہیں کہ پاکستانی سے ٹیکسٹائل برآمدات میں 2.3 فیصد اضافہ ہوا ہے اور کرنٹ اکاونٹ کے خسارے میں کمی آئی ہے۔

پاکستان کی معیشت سے متعلق سب سے بڑی اور بُری خبر یہ ہے کہ سینکڑوں ہزار کی تعداد میں ملازمتیں کم ہوئی ہیں اُور صرف ایک ہی برس میں لاکھوں افراد کا بیروزگار ہونا نیک شگون نہیں۔ اس کے علاو¿ہ تحریک انصاف حکومت کے دور میں پچاس لاکھ افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔

اِس صورتحال میں حکومت کو کیا کرنا چاہئے؟
بھارت نے کاروباری و صنعتی اداروں پر ٹیکس کی شرح میں 10فیصد کمی کی تاکہ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ نہ ہو۔ پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے تاکہ معاشی تنگدستی کے موجودہ حالات سے نکل سکے۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان میں کاروباری و صنعتی اداروں پر عائد ٹیکس کی شرح دنیا کی بلند ترین ہے۔ اِس کے علاو¿ہ حکومت کو شرح سود میں بھی کمی لانی چاہئے تاکہ سرمایہ کاروبار‘ تجارت اور صنعتوں میں لگایا جائے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ پاکستان حکومت کی سب سے بڑی اور پہلی ترجیح روزگار کے مواقعوں کا تحفظ اور روزگار کے مواقعوں (امکانات) میں اضافہ ہونا چاہئے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, September 22, 2019

TRANSLATION: Incidents by Dr. Farrukh Saleem

Incidents
واقعات
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اُور بنیادی ضروریات سے متعلق دیگر اخراجات نے متوسط طبقات کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے سراپا فریاد ہیں کہ اُن کی آمدن میں ہر دن کمی لیکن اُن کے اخراجات (مالی بوجھ) میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے۔ اِس سلسلے میں ذاتی تجربے اور چند انفرادی مثالوں سے صورتحال کو سمجھا جا سکتا ہے۔

پہلا واقعہ: خشک میوہ جات فروخت کرنے والے ایک دکاندار نے یہ کہہ کر مجھے حیران کر دیا کہ ماضی قریب (آٹھ ماہ قبل) میں اُس کی یومیہ فروخت کا حجم 2 لاکھ روپے تھا جو کم ہو کر 70 ہزار روپے ہو چکا ہے اُور یہ کمی 65فیصد ہے۔

دوسرا واقعہ: پانچ ستارہ ہوٹل میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا جہاں کے ایک ملازم نے توجہ دلائی کہ اُس کے گھر کا بجلی بل 6 ہزار روپے آیا ہے جبکہ اُسے تنخواہ کے علاو ¿ہ بخشش کے طور پر جو رقم ملا کرتی تھی اُس میں انتہائی تباہ کن (غیرمعمولی) کمی آئی ہے‘ جس کی وجہ سے اُسے آئندہ ماہ بچے کی سکول فیس یا بجلی کے بل میں سے کسی ایک ذمہ داری کی ادائیگی کا انتخاب کرنا ہوگا۔

تیسرا واقعہ: ہوٹل سے نکلتے ہوئے ایک اُور ملازم نے اپنی روداد سے آگاہ کیا کہ اُس کی ماہانہ تنخواہ 22 ہزار روپے ہے جبکہ اُس کے گھر کا بل 5ہزار 900 روپے آیا ہے۔ میں نے استفسار کیا کہ یقینا تمہارے گھر برقی آلات زیادہ ہوں گے تو اُس نے کہا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں۔ گھر میں صرف دو پنکھے‘ ایک فریج اُور چند ٹیوب لائٹس ہیں۔ میں گھر والوں کو ہفتے میں صرف دو دن بجلی کی استری استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہوں۔ اِس شخص کی آمدنی اور بجلی کے بل کو مدنظر رکھتے ہوئے سوال یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی کل آمدنی کا 25فیصد کس طرح بجلی کی قیمت ادا کرنے کے لئے دے سکتا ہے؟

چوتھا واقعہ: حجام سے ہوئی بات چیت سے معلوم ہوا کہ اُس کا کاروبار مندی کا شکار ہے جبکہ اُس کے بجلی کا ماہانہ بل 9 ہزار روپے آیا ہے۔ میں پوچھا کہ کیا لوگوں نے بال کٹوانے چھوڑ دیئے ہیں‘ جس پر اُس نے کہا کہ نہیں لیکن اب وہ زیادہ وقفہ کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص ہر چار یا پانچ ہفتے (ایک ماہ) میں بال کٹواتا تھا تو اب اُس نے ہیرکٹ آٹھ سے دس ہفتے (دو ماہ) بعد کروانا شروع کر دیا ہے‘ جس کی وجہ سے اکثر حجاموں کے کاروبار میں 50فیصد کمی آئی ہے جبکہ دوسری طرف بجلی کے بل 100 فیصد بڑھ گئے ہیں۔ آمدن میں کمی اُور یوٹیلٹی بلز و مہنگائی کا مسئلہ اُن کاروباری و ملازمت پیشہ افراد کے لئے زیادہ سنگین ہے‘ جو مشترک خاندان (جائنٹ فیملی سسٹم) کی صورت رہتے ہیں۔

پانچواں واقعہ: گاڑیاں دھلوانے والے (سروس اسٹیشن) اُور گاڑیوں کی مرمت کرنے والے (کار مکینک) نے بھی اپنی کاروباری آمدنی میں کمی اُور اخراجات میں اضافے کی جانب یہ کہتے ہوئے توجہ دلائی کہ ماضی کے مقابلے اب ہر روز اوسطاً 3 سے 4 گاڑیاں دھلائی (سروس) کے لئے آتی ہے‘ جو نہایت ہی کم تعداد ہے اُور اِتنی کم تعداد میں گاڑیوں کی سروس کرنے سے حاصل ہونے والی کل آمدنی سے اخراجات پورے نہیں ہو پا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے کاروباری حضرات نے اپنے ملازمین کی تعداد کم کرنا شروع کر دی ہے۔

چھٹا واقعہ: فوٹوکاپی (Photo-copy) کرنے والا ایک دکاندار جو عرصہ دس برس سے اپنا کاروبار کامیابی سے چلا رہا ہے‘ تعلیمی لحاظ سے اکاونٹنٹ ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ کاروبار میں 50فیصد کمی آئی ہے جس کی وجہ سے اُس نے اپنے سات میں سے چار ملازمین کو فارغ کردیا ہے لیکن اِس کے باوجود بھی آمدن و اخراجات میں توازن برقرار نہیں رکھ پا رہا۔

ساتواں واقعہ: شہر کی ایک سرمایہ دار بستی میں ایک گوشت فروخت کرنے والے (قصاب) نے بھی اپنے کاروبار میں کمی کی داستان مختلف انداز میں سنائی کہ گوشت کے خریدار اب بھی آتے ہیں لیکن اُنہوں نے گوشت کی کم مقدار خریدنا شروع کر دی ہے۔

لب لباب یہ ہے کہ پاکستان میں معاشی سرگرمیاں زوال پذیر ہیں۔ آمدن و اخراجات میں توازن برقرار رکھنا ہر دن مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ چھوٹے بڑے کاروباری اداروں اُور انفرادی طور پر بزنس کرنے والوں کے منافع میں غیرمعمولی شرح سے کمی آئی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری میں کمی لانے کے لئے حکومت کو خاطرخواہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, September 15, 2019

Ten questions by Dr. Farrukh Saleem

Ten questions
دس سوالات

پہلا سوال: گزشتہ چالیس برس میں بلند ترین ’بجٹ خسارے‘ پر قابو پانے کے لئے حکومت کس قدر سادگی اختیار کرنے کے لئے تیار ہے؟ بہت سے ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ ’بجٹ خسارہ‘ ہی پاکستان کی مالیاتی مشکلات کی بنیادی جڑ ہے۔
آخر ایسا کیا ہو گیا ہے کہ پاکستان کی کل خام پیداوار (آمدنی) کے تناسب سے بجٹ خسارہ 8.9 فیصد جیسی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے؟ آخر ہم اِس حالت پر کس طرح پہنچے ہیں کہ حکومت کا خرچ اِس کی آمدنی سے 3.4 کھرب روپے زیادہ ہو چکا ہے؟ ذہن نشین رہے کہ قومی آمدنی کے مقابلے بنگلہ دیش کا بجٹ خسارہ 5 فیصد جبکہ بھارت کا 3.4 فیصد جبکہ پاکستان کا 8.9 فیصد ہے!

دوسرا سوال: کم آمدنی کے باوجود اخراجات میں خاطرخواہ کمی نہ کرنے کی وجہ سے حکومت کو قرض لینے پڑتے ہیں تو قرض لینے کا بظاہر سادہ و آسان طریقہ پاکستان کی قومی خزانے اُور یہاں کی تعمیروترقی کو لے ڈوبا ہے۔ فی الوقت پاکستان کا قومی قرض اِس کی کل قومی آمدنی سے زیادہ ہے یعنی 104 فیصد تک پہنچ چکا ہے یعنی پاکستان کی آمدنی تو 100 روپے ہے لیکن اِسے 104 روپے قرضوں اُور اُن پر سود کی ادائیگی کے لئے درکار ہوتے ہیں۔ کیا حکومت کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ 100 روپے آمدنی میں سے 104 روپے واجب الاداءمالیاتی ذمہ داریاں اَدا کرے؟

پاکستان تحریک انصاف نے اگست 2018ءمیں وفاقی حکومت بنائی‘ جس کے ایک ماہ بعد (ستمبر 2018ئ) میں پاکستان کی مجموعی قومی آمدنی کے تناسب سے قرضوں کا حجم 80فیصد تھا لیکن پھر تحریک اِنصاف نے قرض لئے اُور صرف 9 ماہ میں یہ شرح بڑھ کر 104 فیصد تک پہنچ گئی۔ آخر یہ کس قسم کا مالیاتی نظم و ضبط اُور دانشوری ہے کہ آمدنی سے زائد مالیاتی ذمہ داریاں بڑھا لی گئی ہیں!

تیسرا سوال: تحریک انصاف کی وفاقی حکومت ادارہ جاتی اصلاحات کرنے میں کتنی سنجیدہ ہے اِس بات کا اندازہ سرکاری اداروں کے خسارے کو دیکھتے ہوئے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو سالانہ 2.1 کھرب روپے جیسی بلند سطح کو چھو رہا ہے۔ سرکاری اداروں (پبلک سیکٹر انٹرپرائزیز) کے مالی نظم و ضبط کی اصلاح وقت کی ضرورت ہے اُور اِس میں معلوم خرابیوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرنا چاہئے۔ یہ اَمر بھی لائق توجہ ہے کہ آخر سرکاری محکمے 2 کھرب روپے سالانہ کے حساب سے قومی خزانے پر بوجھ کیوں ہیں؟ ستمبر 2018ءمیں‘ جب تحریک انصاف کو حکومت میں آئے ایک ماہ کا عرصہ گزرا تھا‘ سرکاری اداروں کا سالانہ خسارہ 1.359 کھرب روپے تھا جو ملک کی مجموعی قومی آمدنی کا 3.5 فیصد بنتا تھا یعنی پاکستان اپنی قومی آمدنی کا ساڑھے تین فیصد حصہ سرکاری اداروں کے خسارے کی نذر کر رہا تھا لیکن اِس میں ایک سال کے دوران کمی کی بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اب سرکاری محکموں کا خسارہ 2.1 کھرب روپے یعنی مجموعی قومی آمدنی کا 5.5 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ماضی کے مقابلے موجودہ حکومت کے دور میں سرکاری محکموں کا خسارہ بڑھا ہے!

چوتھا سوال: پاکستان کا قومی قرض (واجب الاداءمالیاتی ذمہ داریاں) 40 کھرب روپے تک جا پہنچی ہیں‘ جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے 5 سالہ دور (2008ءسے 2013ئ) کے دوران حکومت نے 10کھرب روپے کے قرض لئے اُور ملک پر قرضوں کے حجم 6 کھرب روپے کو 16 کھرب روپے پر پہنچا دیا۔ اِس کے بعد پاکستان مسلم لیگ (نواز) کا دور حکومت (2013ءسے 2018ئ) کے دوران 14 کھرب روپے کے قرض لئے گئے جس سے قومی قرضوں کا حجم 16 کھرب روپے سے 30کھرب روپے ہو گیا۔ تحریک انصاف نے ایک سال کے دوران قومی قرضوں میں 10 کھرب روپے کا اضافہ کیا جبکہ پیپلزپارٹی کو یہ کام کرنے میں پانچ سال لگے تھے!

پانچواں سوال: موجودہ حکومت نے پاکستان میں تیار یا پیدا ہونے والی مصنوعات سے متعلق سالانہ برآمدی ہدف 28 ارب ڈالر رکھا تھا لیکن یہ ہدف 20فیصد کم حاصل ہوا ہے۔ کیا ہدف کا تعین کرنے میں غلطی کی گئی یا ہدف کے حصول سے متعلق حکمت عملی خاطرخواہ کامیاب نہیں رہی؟

چھٹا سوال: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی مانگ میں 25فیصد کمی آنے کی وجہ کیا ہے؟

ساتواں سوال: پاکستان میں سیمینٹ کی مانگ میں 50فیصد کمی کی وجہ کیا ہے؟

آٹھواں سوال: موجودہ حکومت کی ایک سالہ مدت کے دوران پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت 50فیصد کم کیوں ہوئی ہے؟
نواں سوال: نجی شعبہ (صنعتیں اور کاروباری طبقات) بینکوں سے قرض کیوں نہیں لے رہے۔ گذشتہ 2 ماہ کے دوران بینکوں سے قرض لینے میں 85 ارب روپے کی کمی دیکھنے میں کیوں آئی ہے؟

دسواں سوال: حکومت مہنگائی کو ضبط (کنٹرول) کرنے کے لئے کیا اقدامات کر رہی ہے؟

وزیراعظم عمران خان مضبوط قوت ارادی کے مالک ہیں۔ یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ عمران خان جب کسی کام کا ارادہ کر لیتے ہیں تو اُسے ضرور پورا کرتے ہیں لیکن اب تک تحریک انصاف کے تمام فیصلوں‘ ارادوں اُور بیانات کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عمران خان کے ایسے ساتھی (ٹیم) نہیں مل رہی جو اُن کی رفتار سے سوچے اُور اُن کے جیسے اصلاحاتی عمل کو تیزی سے آگے بڑھائے۔ کسی ٹیم کے کپتان کے لئے تن تنہا ہر محاذ پر مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہوتا لیکن جب تک اُس کے ساتھی (ٹیم کے دیگر اراکین) اُس جیسا قربانی اور جنون پر مبنی جذبے کا عملی مظاہرہ نہ کریں۔ اگر ٹیم کے اراکین بشمول کپتان کے ارادے مضبوط ہیں لیکن اُن میں ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت کم ہے تو اِس سے بھی پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے جن کی شدت میں ہر دن ’غیرمعمولی اضافہ‘ ہو رہا ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, August 25, 2019

TRANSLATION: Continuity by Dr. Farrukh Saleem

Continuity
تسلسل
اقتصادی مارکیٹ کا انحصار اور خوشحالی ’تسلسل‘ میں ہوتا ہے۔ معاشی حالات ایک ڈگر پر چلنے کے تسلسل سے مراد یہ ہے کہ عوام کی قوت خرید کسی ایک سطح پر برقرار رہے اُور اِس میں کمی تو ہرگز نہیں ہونی چاہئے لیکن پاکستان میں سرمایہ کاری اُور عوام کی قوت خرید دونوں ہی کم ہو رہے ہیں جس کی ایک جھلک کراچی سٹاک ایکسچینج میں بہتری کے آثار سے سمجھا جا سکتا ہے اُور اگر ملک کی اقتصادی صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کے فیصلے کو دیکھا جائے تو اِس فیصلے کے پس پردہ محرکات کی بخوبی سمجھ آ جائے گی۔ فی الوقت کراچی کی حصص مارکیٹ (KSE-100) انڈکس میں 2585 پوائنٹس کا اضافہ ہوا‘ جس کا مطلب ہے کہ 500 ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ تصور کیجئے کہ حصص مارکیٹ میں کسی بھی ایک ہفتے کے دوران ہونے والی یہ بلند ترین سرمایہ کاری ہے۔

اگست 2018ءمیں جب تحریک انصاف حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اُس وقت حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج ’کرنٹ اکاونٹ خسارہ‘ تھا یعنی حکومت کی آمدنی کم اور جاری اخراجات آمدنی سے زیادہ تھے۔ جولائی 2018ءکی بات ہے یعنی تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے ایک ماہ قبل ’کرنٹ اکاونٹ ماہانہ خسارہ‘ 2130 ملین ڈالر تھا۔ جولائی 2019ء(تحریک انصاف حکومت کے پہلے سال) کے دوران یہ خسارہ کم ہو کر 579 ملین ڈالر ہو چکا ہے‘ جو قریب ایک سال میں ’73 فیصد‘ بہتری ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ 1: ڈالر پر منحصر پاکستان کی اقتصادیات پر حکومت کا کنٹرول پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ 2: ایک سال قبل پاکستانی روپے پر جو دباو تھا اُس میں کمی آئی ہے اُور 3: ملک چلانے کے لئے ڈالروں کی ضرورت ماضی کے مقابلے کم ہوئی ہے۔ یہ سبھی اشارے حکومت کی اقتصادی حکمت عملیوں کی کامیابی کے اشارے ہیں۔

پاکستان کی داخلی صورتحال کے تناظر میں اگر ’جنرل باجوہ کے نظریات (Bajwa Doctrine)‘ کا جائزہ لیا جائے تو یہ7 ستونوں پر استوار دکھائی دیتا ہے۔ 1: ایک ایسا طرزحکمرانی جو عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ہاتھ میں ہو۔ 2: ایک ایسی حکومت کا قیام جو آزاد و شفاف انتخابات کے ذریعے منتخب ہوئے ہوں۔ 3: قومی وسائل کی لوٹ مار پر مبنی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ 4: جمہوری حقوق کو مقدم سمجھتے ہوئے اِن کا بہرصورت تحفظ ہونا چاہئے۔ 5: قومی اداروں میں سیاست کا عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔ 6: پاکستان کی ریاست کا اِس کے 7 لاکھ 96 ہزار 95 مربع کلومیٹر رقبے کے ہر حصے پر کنٹرول ہونا چاہئے اُور خوف و دہشت پھیلانے والے چاہے وہ کسی بھی لبادے اور کسی بھی نام سے ہوں انہیں تخریب کاری کی کھلی چھوٹ نہیں ہونی چاہئے اُور 7: وفاق پاکستان کو مضبوط بنایا جائے۔

جنرل باجوہ نظریات کو مشرق میں بھارت کا سامنا ہے‘ جہاں ہندو انتہاءپسند جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ برسراقتدار ہے۔ مغربی محاذ پر جنرل باجوہ نظریات کی کامیابی کے مغربی و امریکی ممالک بھی معترف ہیں۔ پانچ ستمبر کو بنکاک اُور پھر پیرس میں 18 سے 23 اکتوبر ’FATF‘ اجلاس بڑے چیلنجز ہیں۔ دنیا پاکستان کی پالیسیوں میں تسلسل کو سراہا رہی ہے۔
پاکستان کی داخلی اقتصادیات کی بات کی جائے تو یہ غیرمتوقع طور پر سست روی کا شکار ہے۔ چند ہفتے قبل مہنگائی کے اعدادوشمار کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتری سے متعلق جو پیشنگوئیاں کی گئی تھیں‘ وہ سب کی سب غلط ثابت ہوئی ہیں۔ روٹی کی قیمت میں اضافہ کسی بھی صورت اچھی خبر نہیں۔ روپے پر انحصار کرنے والی معیشت کو پانچ مشکلات کا سامنا ہے۔ 1.7 کھرب روپے کا گردشی قرضہ‘ 1.6 کھرب روپے سرکاری اداروں کا سالانہ خسارہ‘ سرکاری خریداریوں میں سالانہ ایک کھرب روپے کی بدعنوانیاں‘ گیس کے شعبے میں دو ارب ڈالر کا سالانہ خسارہ اُور حکومتی ضروریات کے لئے 734 ارب روپے کا قرض۔ اِن پانچ شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور اِنہی پانچ شعبوں کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے پاکستان کا قرض 40 کھرب روپے جیسی بلند سطح تک پہنچ گیا ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ حکومت ایک تسلسل کے ساتھ اپنی حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہے‘ جس کی وجہ سے اُمید ہو چلی ہے کہ اگر یہ تسلسل برقرار رہتا ہے تو اِس سے اقتصادی بہتری آئے گی۔ پاکستان کے دشمنوں کی کوشش ہے کہ وہ پاکستان کو اقتصادی طور پر اتنا کمزور کر دیں کہ وہ جنگ کے بارے میں سوچنے سے بھی گھبرائے۔ اگر حکومت مذکورہ پانچ شعبوں کو اصلاحاتی ترجیحات کا حصہ بناتی ہے تو اِس سے نہ صرف داخلی و خارجی محاذ پر پاکستان کی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ تعمیروترقی کے نئے دور اور نئے پاکستان کی تخلیق بھی عملاً ممکن ہو جائے گی۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, August 4, 2019

TRANSLATION: Economic Slowdown by Dr. Farrukh Saleem

Economic slowdown
اِقتصادی سست روی
پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو سمجھنے کے لئے اِسے 2 حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا۔ پہلا درجہ وہ اقتصادیات ہے جس میں امریکی ڈالر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور دوسرا درجے میں پاکستانی روپے لین دین کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اگست 2018ءمیں جب تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تھی تو اُس وقت امریکی ڈالر قومی اقتصادیات پر حاوی تھا اُور قومی ضروریات قریب 28 ارب ڈالر تھیں جبکہ جاری اخراجات کا خسارہ 20 ارب ڈالر اُور قرضہ جات کی ادائیگی جیسی مالی ذمہ داری 8 ارب ڈالر تھی۔
تحریک اِنصاف حکومت کا ایک سال مکمل ہو چکا ہے اُور اِس عرصے کے دوران 2 کلیدی پیشرفتیں ہوئی ہیں جن سے بالخصوص ڈالر پر منحصر اقتصادی نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سب سے پہلا حاصل یہ ہے کہ جاری اخراجات کا خسارہ جو پہلے 20 ارب ڈالر تھا‘ اُسے کم کرتے ہوئے 13 ارب ڈالر تک لے آیا گیا ہے۔ دوسرا ’عالمی مالیاتی اِدارے (آئی ایم ایف)‘ نے پاکستان کے لئے 6 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی‘ جس کی وجہ سے قرضوں اور سود کی ادائیگی سمیت خزانے پر بوجھ میں وقتی کمی آئی جو کہ مہلت ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ اِس مہلت سے کس قدر فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اِن دونوں اقدامات کی بدولت ڈالر پر منحصر اقتصادی صورتحال درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے جس سے استحکام آئے گا۔
روپے پر منحصر اقتصادیات کو مزید درجات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ جن میں حکومتی شعبہ‘ کاروباری شعبہ اُور نجی شعبہ یعنی ایسے طبقات آتے ہیں جنہیں گھریلو صارفین کہا جاتا ہے۔ حکومتی سطح پر اصلاح کے لئے احتساب کا عمل پورے زور و شور سے جاری ہے‘ جو ایک خوش آئند پیشرفت ہے لیکن حکومتی اخراجات میں خاطرخواہ کمی نہیں آ رہی‘ جو نہایت ہی ضروری ہے۔ اگر ہم حکومتی اصلاحات کا مشاہدہ کریں تو بجلی کا پیداواری شعبہ اُور سرکاری محکموں کے اخراجات و خسارے کی اصلاح نظرانداز کر دی گئی ہے جو قطعی اچھی خبر نہیں۔

حکومت کی اصلاحاتی کوششیں اپنی جگہ اہم لیکن کاروباری شعبہ سست روی کا شکار ہے۔ ہنڈا اٹلس نامی موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنی نے اپنی پیداوار میں 35فیصد کمی کا اعلان کیا ہے جو اچھا شگون نہیں۔ پاکستان میں حصص کا کاروبار بھی مندی کا شکار ہے‘ جہاں کی جانے والی سرمایہ کاری میں 100 ارب ڈالر جیسی غیرمعمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

گھریلو صارفین کو دیکھیں تو اُن کی قوت خرید بھی کم ہو رہی ہے۔ بیروزگاری بڑھ رہی ہے جو کہ ایک قومی مسئلہ ہے۔ بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے سے گھریلو صارفین پریشان ہیں! کم آمدنی والوں کے لئے روزمرہ گھریلو اخراجات جن سے صرف بنیادی ضروریات ہی پوری ہوتی ہیں‘ کا توازن رکھنا ممکن نہیں رہا۔ الغرض زندگی کے ہر شعبے پر مہنگائی اور مالیاتی پالیسیوں کے منفی اثرات نمایاں سے نمایاں تر ہو رہے ہیں۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 57 لاکھ افراد کو ہر تین ماہ بعد 5000 روپے دیئے جاتے تھے۔ موجودہ حکومت نے اِس مالی مدد کو 5500 روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ احسن اقدام ہے۔ بُری خبر یہ ہے کہ حکومت پیشہ ورانہ تعلیم پر خاطرخواہ توجہ نہیں دے رہی جس سے خودروزگاری بڑھے۔ اگر مالی طور پر کمزور خاندانوں کو ہنرمند بنا دیا جائے تو وہ اپنی گزربسر کے لئے کسی حکومتی امداد کے محتاج نہیں رہیں گے اُور ایسا کرنے سے اُن کی عزت نفس کے ساتھ سماجی خدمات کا دائرہ بھی وسیع ہوگا۔ بہتر یہی ہو گا کہ مچھلی تحفے میں دینے کی بجائے مچھلی پکڑنا سکھائی جائے۔

حکمرانوں کو توجہ دینی چاہئے کہ سرکاری ادارے (پبلک سیکٹر انٹرپرائزیز) سالانہ 1.1 کھرب روپے کا نقصان کرتے ہیں اُور یہ نقصان موجودہ حکومت کے دور میں بھی جاری ہے۔ کیا قومی خزانے پر سرکاری اداروں کا بوجھ کم نہیں ہونا چاہئے؟

خسارے میں چلنے والے اداروں کی اصلاح کون کرے گا؟

بجلی کا پیداواری شعبہ ہر دن 2 ارب روپے کا نقصان کر رہے ہیں اور یہ نقصان سارا سال جاری رہتا ہے یعنی سال کے ہر دن 2 ارب روپے نقصان ہوتا ہے لیکن اِس خسارے کو بھی ختم کرنے میں اب تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ حکومت کے لئے سالانہ کھربوں روپے کی خریداری ہوتی ہے جن میں کئی کھرب کی خردبرد ہو رہی ہے لیکن اِسے بھی ختم کرنے کی کوئی تدبیر دکھائی نہیں دیتی۔ حکومت کو اہداف کا تعین کرنا ہوگا‘ جن کی روشنی میں حکمت عملی مرتب کرکے اِن اہداف کے حصول کے لئے کوششیں کرنا ہوں گی۔



(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, June 30, 2019

Six questions by Dr. Farrukh Saleem

Six questions
چھ سوالات

پہلی حقیقت: مئی 2018ء میں پاکستانی کرنسی کے مقابلے فی امریکی ڈالر کی قدر 115 روپے تھی۔ مئی 2019ء میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہوئی اُور یہ ’157 روپے (29 جون کے روز 163روپے)‘ تک جا پہنچا‘ جو روپے کی قدر میں ’35 فیصد‘ کمی ہے۔ 

دوسری حقیقت: مئی 2018ء پاکستانی برآمدات کا مجموعی حجم 2.139 ارب ڈالر تھا جو مئی2019ءمیں کم ہو کر 2.102 ارب ڈالر رہ گیا اُور یہ کمی 1.7فیصد بنتی ہے۔ جب ہم مئی (دوہزاراٹھارہ) سے مئی (دوہزاراُنیس) کا جائزہ لیتے ہیں تو پاکستانی روپے کی قدر میں 35فیصد اُور برآمدات میں 1.7فیصد کمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ 

پہلا سوال: اگر ہم پاکستانی روپے کی قدر مزید کم کر کے اِسے 200 روپے فی ڈالر تک نیچے لے آئیں تو کیا اِس سے پاکستانی برآمدات میں اِضافہ ہوگا؟

تیسری حقیقت: جون 2018‘ کراچی انٹربینک آفرڈ ریٹ (KIBOR) 8.35 فیصد تھا‘ جو ایک سال کے دوران 13.60 رہا۔ 

چوتھی حقیقت: بجٹ 2018-19ءمیں قرضوں کی ادائیگی کے لئے 1.6 کھرب روپے مختص کئے گئے جو 2019-20ءکے بجٹ میں 2.9 کھرب جیسی بلند سطح تک جا پہنچے یعنی ملک کو ٹیکسوں سے وصول ہونے والی آمدنی کا قریب 50 فیصد قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جائے گا۔

دوسرا سوال: کیا پاکستان کو اپنے سود کی شرح 20 فیصد تک بلند کر دینا چاہئے تاکہ جو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے کر لے؟ 

تیسرا سوال: جب شرح سود بڑھتی ہے تو حکومت کو قرضوں کے لئے کتنے مالی وسائل مختص کرنا ہوتے ہیں؟ 

چوتھا سوال: اگر پاکستان میں شرح سود 20فیصد تک بڑھا دی گئی تو کیا ہماری صنعتیں فعال رہ پائیں گی؟

پانچویں حقیقت: پاکستان میں گذشتہ برس بجلی کی قیمت 11 سینٹ (cent) فی یونٹ تھی‘ جو خطے میں بجلی کی بلند ترین قیمت تھی۔ تب بھارت میں 9 سینٹ‘ چین میں 8.3 سینٹ‘ بنگلہ دیش میں 3.7 سینٹ اُور ویتنام میں 7سینٹ تھی۔ پانچواں سوال: پاکستان میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کتنا اضافہ ہو تو یہ صنعتوں کے لئے ناقابل برداشت ہوگی اُور وہ اپنی پیداوار کی قیمتوں کا عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کر پائیں گی؟

پہلا واقعہ: 
موٹر گاڑیاں ٹھیک کرنے والے ایک مکینک (ہنرمند) نے مجھے بتایا کہ وہ پہلے معمول کے مطابق ہر روز پانچ سے سات گاڑیاں مرمت کرتا تھا۔ اب بمشکل دو گاڑیاں بھی تمام دن نہیں آتیں۔ مذکورہ مکینک کے پاس پانچ افراد ملازمت کرتے ہیں‘ جن میں سے تین کو اُس نے ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ اُس کی دکان سے متصل ایک اُور مکینک نے اپنی دکان ہی ختم کر دی کیونکہ وہ ماہانہ تنخواہیں اور دیگر اخراجات (مالی ذمہ داریاں) ادا نہیں کر پاتا تھا۔

دوسرا واقعہ: 
کاروباری سرگرمیاں اِس حد تک ماند پڑ گئی ہیں کہ لاہور کے بڑے شاپنگ مالز میں دکانداروں کی کثیر تعداد گزشتہ کئی ماہ سے کرایہ ادا نہیں کر پا رہی لیکن اِن شاپنگ مالز کے مالکان اپنی دکانیں خالی نہیں کروا رہے۔

تیسرا واقعہ: 
میرے ایک دور پار کے رشتہ دار جو گزشتہ 30 برس سے پائپ بنانے کی فیکٹری چلا رہے تھے اُنہوں نے 500 ملازمین کو فارغ کر کے فیکٹری بند کر دی کیونکہ اُنہیں ٹیکس کا محکمہ ایسا کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔
اقتصادیات کے اصولوں میں شامل ہے کہ ٹیکس وہاں وصول ہونا چاہئے جہاں اقتصادی سرگرمی ہو۔ اگر کسی ملک میں اقتصادی سرگرمی ختم کر دی جائے تو وہاں ٹیکس وصولی بھی خودبخود کم ہوتی چلی جائے گی۔ کیا یہ اقتصادی واقعی اِس حد تک پیچیدہ ہے کہ اِسے سمجھا نہ جا سکے؟ 

حکومت کو چاہئے کہ وہ ٹیکسوں کی بجائے اقتصادی ترقی اُور زیادہ سے زیادہ اقتصادی ترقی پر توجہ دے!

چھٹی حقیقت: پاکستان حکومت کے موجودہ اخراجات سال 2008ءمیں 1.5 کھرب روپے تھے جو 10 برس میں بڑھ کر قریب 7.2 کھرب روپے ہو گئے ہیں۔

چھٹا سوال: کیا دنیا کا کوئی دوسرا ملک ایسا ہے جہاں کے حکمرانوں کے اخراجات 10 برس میں 500فیصد بڑھے ہوں؟

سب سے بڑی حقیقت: 
تمام پاکستانی ٹیکس چور نہیں۔ پاکستانیوں کی اکثریت اپنی مالی حیثیت سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہی ہے۔ یہ پاکستانی ہی ہیں جو ہر سال قومی خزانہ بھرتے ہیں اور یہ پاکستانی رہنما ہی ہیں جو ہر سال قومی خزانہ خالی کرتے ہیں! پاکستان میں طرزحکمرانی کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ ٹیکس نہیں دے رہے بلکہ حکومت کے ضرورت سے زیادہ اخراجات ہیں! حکمرانوں سے درخواست ہے کہ وہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرکے اقتصادی سرگرمیوں کا خاتمہ نہ کریں۔ اقتصادی ترقی کا ہدف‘ ٹیکس اُور مزید ٹیکس لاگو کرنے سے کبھی بھی اُور کسی بھی صورت حاصل نہیں ہو گا!

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, June 16, 2019

TRANSLATION: Happy chemicals by Dr. Farrukh Saleem

Happy chemicals
خوشی: طبی و کیمیائی وجوہات!
ضروری نہیں کہ ہر شخص کے لئے ’خوشی‘ کا مطلب و مفہوم ایک جیسا ہو۔ سائنسی و طبی اِصطلاحات (علوم) کی روشنی میں اگر خوشی کا جائزہ لیا جائے تو اِس کے پس پردہ ’4 کیمیائی مادے‘ ہوتے ہیں جنہیں ڈوپامین (Dopamine)‘ اِینڈروفینز (Endrophins)‘ اُوکسٹوسین (Oxytocin) اُور سیروٹونین (Serotonin) کہا جاتا ہے اُور جب انسانی دماغ اِن کیمیائی مادوں کو خارج کرتا ہے یا اِن میں ردوبدل آتا ہے تو اِس سے خوشی (پرمسرت) جذبات حاصل ہوتے ہیں۔ یہی 4 کیمیائی مادے 
اِنسانی زندگی میں خوشی (کے جذبات) لاتے ہیں۔

مذکورہ چاروں کیمیائی مادوں کے انسانی دماغ میں الگ الگ کام ہیں اُور اِن میں تغیر کی وجہ سے پیدا ہونے والے جذبات سے ’خوشی‘ کا احساس دیگر اُجاگر ہوتا ہے۔ ڈوپامین کے زیادہ ہونے سے اِحساس تحفظ‘ مسرت اُور توجہ بڑھتی ہے۔ ڈوپامین کے انسانی دماغ میں بڑھنے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ ہم چینی اور کیفین (caffeine) والی اشیاءکا کم استعمال کریں۔

اینڈورفینز کے ذریعے درد سے نجات حاصل ہوتی ہے۔ یہ ایک قدرتی طور پر پایا جانا والا کیمیائی مادہ ہے‘ جس میں اِضافے کی وجہ سے کوئی بھی اِنسان زیادہ جسمانی مشقت کر سکتا ہے اُور جب کوئی فرد زیادہ کام کی وجہ سے بھی تھکاوٹ کا شکار نہ ہو تو اُس کے جسم میں اینڈروفینز کی مقدر قدرتی طور پر نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اینڈروفینز کی مقدار کم ہو تو ایسا شخص ذہنی پریشانی (dipression) کا شکار ہو جاتا ہے۔ اینڈروفینز ایسے دیگر کیمیائی مادے بھی جاری کرتے ہیں‘ جن سے ذہنی آسودگی حاصل ہو۔ امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ جس کا صدر دفتر میری لینڈ (Maryland) میں ہے نے انسانی جسم میں اینڈروفینز کی مقدار بڑھانے میں مدد کا ایک پروگرام شروع کیا۔ اینڈروفینز میں اضافے کے کئی دیگر اسباب بھی ہیں جیسا کہ نماز پڑھنا‘ ڈارک رنگ کی چاکلیٹ کھانا‘ مرچ مصالحوں والی غذائیں‘ کوئی مزاحیہ پروگرام یا فلم دیکھنا‘ حسب ذوق کتابیں پڑھنا اور سماجی رابطہ کاری کے وسائل جیسا کہ واٹس ایپ استعمال کرتے ہوئے دوستوں رشتہ داروں سے اچھے پیغامات کا تبادلہ کرنا۔ انسان ایک سماجی جانور ہے جسے دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے میں ذہنی آسودگی حاصل ہوتی ہے۔ تنہائی کا احساس اِس کے مزاج کا حصہ نہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص خود کو تنہا محسوس کر رہا ہوتا ہے تو درحقیقت وہ اپنے ذہن میں ہونے والے کیمیائی مادوں کے زیراثر ہوتا ہے۔

اوکسیٹوسین (Oxytocin) کو پیار کا ہارمون (کیمیائی مادہ) بھی کہا جاتا ہے۔ اِس کے ذریعے کوئی بھی انسان اپنے گردوپیش میں دوسروں سے جڑا رہتا ہے اُور اِسی کی بنیاد پر وہ رشتے اور رشتے داریاں نبھاتا ہے۔ اِسی کیمیائی مادے کی وجہ سے وہ دوسروں پر بھروسہ اُور اعتماد بھی کرتا ہے۔ اگر آپ کے لئے یہ بات تعجب خیز ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور تعلق کو گہرا کیسے رکھتے ہیں تو اِس کی بنیادی وجہ ’اوکسیٹوسین‘ نامی کیمیائی مادہ ہی ہے۔ جب آپ کسی من پسند شخص سے گلے ملتے ہیں تو یہی ’اوکسیٹوسین‘ نامی کیمیائی مادہ خارج ہوتا ہے۔ ہنسنے اُور خوش رہنے سے بھی ’اوکسیٹوسین‘ زیادہ مقدار میں خارج ہوتا ہے۔ اِسی طرح من پسند موسیقی سننے اُور گہری سانسیں لینے سے بھی انسانی جسم میں ’اوکسیٹوسین‘ کا اخراج ہوتا ہے۔ اگر کسی شخص کو تحفہ ملے اُور اِس سے اُسے خوشی حاصل ہو تو انسانی دماغ میں اِس عمل کے ذریعے ’اوکسیٹوسین‘ کا اخراج اُس کے اعصاب پر موجود بوجھ میں کمی لاتا ہے۔

سیروٹونین (Serotonin) ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے جو تفکرات نہ کرنے اور خوش رہنے کی جانب مائل کرتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اِنسانی معمولات میں سکون اور پسند کی وجہ سے بھی سیروٹونین کا مادہ زیادہ خارج ہوتا ہے تاہم ایک تحقیق سے بھی معلوم ہوا ہے کہ سیروٹونین ہی کی کم مقدار اعصابی تناو ¿ اُور بے خوابی کا سبب بنتی ہے۔ جب کسی شخص کا اِس بات کا احساس ہو کہ وہ اہم ہے تو اُس کے ذہن میں سیروٹونین کی مقدار بڑھ جاتی ہے اُور اُس کا نظام ہضم بہتر ہو جاتا ہے۔ قدرتی طور پر میٹھے آلو‘ سیب‘ گاجر اُور بلو بیریز یا ہائی ’کاربوہائیڈریٹز (carbohydrates)‘ سے سیروٹونین کی مقدار ذہن میں بڑھ جاتی ہے۔

زندگی کو پرمسرت بنانے کا تعلق کیمیائی مادوں سے ہے اُور اِس مختصر تعارف سے یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر ہم اپنے کھانے پینے کی عادات اور دیگر معمولات کو قدرتی اجزاءسے تقویت و سہارا دیں۔ اگر ہم دوسروں کو معاف کریں اور اُن کے ساتھ اخلاق کے ساتھ پیش آئیں تو اِس سے نہ صرف ہمارا دماغ خوش رہنے والے کیمیائی مادے خارج کرے گا بلکہ اِس سے دوسروں کی زندگیاں بھی خوشیوں سے بھر جائیں گی۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)

Sunday, June 9, 2019

TRANSLATION: Dear prime minister by Dr. Farrukh Saleem

Dear prime minister
بنام ’وزیر اعظم‘

جناب عالیٰ‘ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ آپ پاکستان کے ایسے پہلے وزیراعظم ہیں‘ جس نے ’انسداد بدعنوانی‘ اُور ’غربت کے خاتمے‘ کو اپنی ذاتی و سیاسی ترجیحات کا محور و مرکز بنا رکھا ہے اُور حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ہر قسم کی بدعنوانی اُور ہر قسم کی غربت و پسماندگی سے نجات کی اشد ضرورت ہے۔ عوام کی اکثریت بھی یہی چاہتی ہے جنہوں نے حالیہ عام انتخابات (جولائی 2018ئ) میں تحریک انصاف کو ملک کے چاروں صوبوں میں منتخب کیا اُور اِس وقت تحریک انصاف ملک کی واحد قومی سیاسی جماعت دکھائی دیتی ہے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد آپ کے اقدامات اُور حکمت عملیاں عوام میں خاطرخواہ مقبول نہیں رہیں!

اقتدار کے ساتھ جڑے چند حقائق آپ کے پیش نظر رہنے چاہیئں کہ صاحبان اقتدار کو خوشامدی اور مفاد پرست ٹولے گھیر لیتے ہیں‘ جن کی اپنی ترجیحات اور اہداف ہوتے ہیں اُور وہ ذاتی مفادات کے لئے حکمرانوں کو گمراہ کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ یہی تاثر ’تحریک انصاف‘ سے تعلق رکھنے والے جملہ حکمرانوں بشمول وزارت عظمیٰ جیسے منصب سے متعلق بھی ہے کہ اِنہیں برسرزمین حالات کی جو تصویر دکھائی جاتی ہے‘ وہ گمراہ کن حد تک غلط ہے۔

جناب عالی‘ ہر پاکستانی مرد و عورت اُور بچہ سالانہ اوسطاً ”13 ہزار روپے“ مختلف ٹیکسوں کی مد میں ادا کرتا ہے‘ جن میں سیلز ٹیکس‘ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ڈیوٹیاں اُور کسٹم ڈیوٹی شامل ہے لیکن آمدنی کے لحاظ سے کم حیثیت رکھنے والوں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کی بجائے ہر سال بڑھ رہا ہے اُور شنید ہے کہ آنے والے بجٹ میں ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرتے ہوئے ’1.4 کھرب روپے‘ مالیت کے اضافی ٹیکس وصول کئے جائیں گے۔ اِس اضافے سے ہر پاکستانی خاندان کو سالانہ اوسطاً ”47 ہزار روپے“ اَدا کرنا پڑیں گے۔ آپ کو یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہئے کہ ہر ایک فیصد ٹیکس بڑھانے سے ملک کی اقتصادی ترقی 1.68فیصد کم ہو جاتی ہے۔ یہ بات ایک حالیہ تحقیق میں سامنے آئی ہے جس کا عنوان ہے ”An empirical analysis of Pakistan“ اُور اِسے شہزاد احمد‘ مقبول سیال اُور ناصر احمد نے ’پاکستان جرنل آف اپلائیڈ اکنامکس‘ کے شمارے (Vol.28 No.1 Summer 2018) کے لئے تحریر کیا تھا۔ اگر ٹیکسوں کی بڑھائی گئی تو اِس سے فی کس آمدنی میں مستقلاً کمی واقع ہوگی اُور یہ بات ایک اُور تحقیق سے ثابت کی گئی جو احتشام الحق اُور نعیم اکرم نے پیش کی ہے۔ اقتصادیات کے ماہرین کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ ٹیکسوں میں اضافے کی بجائے پیداوار میں اضافہ ہونا چاہئے تاکہ زیادہ پیداوار سے زیادہ ٹیکس حاصل ہوں۔ اگر بناءپیداوار میں اضافے ٹیکس کی شرح بڑھائی جاتی رہے گی تو عوام یہ ٹیکس کہاں سے اَدا کریں گے جو پہلے ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوں گے اُور جن کے پاس روزگار نہیں ہوگا تو وہ بنیادی ضرورت کی اشیائے ضروریہ مہنگے داموں خریدنے کی سکت کہاں سے لائیں گے اُور کب تک اِس حال میں گزربسر کر سکیں گے۔ جناب وزیراعظم صاحب‘ اگر آپ کو اِس بات پر یقین نہ ہو تو جنوبی افریقہ کی مثال برائے مطالعہ موجود ہے‘ جہاں ٹیکس عائد کرنے کے سبب اقتصادی نشوونما متاثر ہوئی۔ دوسروں کی غلطیوں سے سبق سیکھنا عقلمندوں کی نشانی ہوتا ہے۔

جناب عالیٰ‘ ترقی یافتہ ممالک کی اکثریت ٹیکسوں کی بجائے ایسا مالیاتی ماحول فراہم کرتی ہیں‘ جن میں کاروباری سرگرمیاں نشوونما پائیں۔ عوام کی آمدن بڑھے لیکن پاکستان میں اِس کے برعکس (اُلٹ) صورتحال ہے کہ ایک طرف پیداوار کم ہونے کی وجہ سے آمدنی کم ہے اُور دوسری طرف حکومت کے عائد ٹیکسوں کی شرح میں ہر سال اضافہ کر دیا جاتا ہے۔
جناب عالیٰ‘ پاکستان میں صنعتوں اُور کاروبار پر عائد (کارپوریٹ) ٹیکس کی شرح دنیا میں بلند ترین ہے‘ جو دنیا کی تیسری بلند شرح بتائی جاتی ہے۔ پاکستان کے سیاست دانوں کی اِس لحاظ سے مثال نہیں ملتی کہ یہ دنیا کو باور کرواتے ہیں کہ اُن کے ہم وطن ٹیکس چور ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ’مالی امداد‘ اُور ’قرض‘ دینے والوں کی خواہش پر کیا جاتا ہے اُور اگر پاکستان کے زمینی حقائق یعنی عوام کی غربت اور پیداواری کمی کو خاطر میں نہ لایا گیا تو ٹیکس وصولی میں کمی ہوتی چلی جائے گی۔

جناب عالیٰ‘ پاکستان مالیاتی بحران کا شکار ہے لیکن اِس بحران سے کا حل ٹیکسوں کی شرح میں ”اِضافہ در اِضافہ“ نہیں۔ حکومت کو اپنی آمدن میں اضافے کے لئے دو ہی طریقے اِختیار کرنا پڑتے ہیں‘ ایک تو ٹیکسوں میں اِضافہ کرے اُور دوسرا اپنے اَخراجات میں کمی لائے۔ گزشتہ 37 برس میں دنیا کے 21 ممالک نے مالیاتی اصلاحات کیں اُور اپنی آمدنی میں 85فیصد کمی پر قابو پانے کے لئے ٹیکسوں میں اضافہ نہیں کیا بلکہ اُنہوں نے اپنے اخراجات میں غیرمعمولی کمی کے ذریعے مالیاتی اصلاحات جیسے اہداف حاصل کئے۔ جناب عالیٰ‘ پاکستان حکومت کا مسئلہ ٹیکسوں کی کم شرح نہیں بلکہ حکومتی آمدن کے مقابلے حد سے زیادہ (غیرترقیاتی) اخراجات ہیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)

Sunday, June 2, 2019

TRANSLATION: A weaponised space by Dr Farrukh Saleem

A weaponised space
مسلط جنگ: پرخطر محاذ!

دنیا میں ’انٹرنیٹ‘ سے استفادہ کرنے والے صارفین کی تعداد ’4.5 ارب‘ ہے جن میں 10 صارف فی سکینڈ کی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا تیزی سے مقبول ہونے کے ساتھ سماجی و انفرادی روئیوں پر اثرانداز ہو رہا ہے اُور عمومی سطح دیکھا جائے تو سوشل میڈیا کی وجہ سے برداشت ختم ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا کیا ہے؟ یہ اظہار کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو بناءکسی بڑی لاگت‘ بناءکسی نگرانی اُور کم وقت میں زیادہ سے زیادہ اثر کرنے والا ہتھیار ہے۔ ریاستی اور غیرریاستی عناصر سوشل میڈیا کا استعمال مختلف اہداف کو ذہن میں رکھتے ہوئے کرتے ہیں‘ جن میں فرضی معلومات‘ جھوٹ پر مبنی اطلاعات اُور افواہیں پھیلانا بھی شامل ہے۔

پاکستان پر جنگ مسلط ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے‘ جس کے آغاز کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا اُور نہ ہی اِس کے لئے باقاعدہ فوج کشی کی گئی ہے۔ اِس جنگ میں عوام کے نکتہ ¿ نظر اُور اُن کے نظریات و روئیوں پر اثرانداز ہوا جا رہا ہے۔ اِس جنگ کی کوئی سرحد اور جغرافیائی علاقہ (حدود) بھی معین نہیں جبکہ اِس جنگ میں ریاستی و غیرریاستی عناصر جسمانی طور پر حصہ لینے کی بجائے ’سوشل میڈیا آلات‘ کے ذریعے وار (حملہ) اُور جوابی وار (دفاع) کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کا استعمال پاکستان پر حملہ آور ہونے والوں نے کیا ہے‘ جس کے ذریعے اقدار‘ عقائد‘ تاثرات‘ جذبات‘ تحریکی خیالات‘ دلائل اُور روئیے نشانے پر ہیں اُور اِس کے ذریعے وہ سبھی اہداف‘ ایک ایک کر کے‘ حاصل کئے جا رہے ہیں جو کسی ملک پر باقاعدہ فوج کشی کی صورت میں پیش نظر رکھے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا پہلا وار ’دانستہ طور پر‘ غلط خبریں پھیلانا ہوتا ہے اُور ایسی افواہیں بھی جن کے ذریعے عوام میں مایوسی پھیلے۔ اُنہیں اپنا اُور ریاست کا مستقبل تاریک نظر آنے لگے۔ اُن میں مایوسی اور نااُمیدی جیسے جذبات پیدا ہوں اُور وہ بہتری کے لئے کوشش یا اصلاحات کے لئے حکومتی اقدامات کا اعتبار نہ کریں۔ اِس طرح معاشرے میں نفرت‘ بداعتمادی اور انتشار پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ اگر ہم سوشل میڈیا کے ایک مقبول ذریعے ’ٹوئیٹر (twitter)‘ کی بات کریں تو اِس کے ذریعے ہزاروں کی تعداد میں فرضی ناموں سے صارفین کے اکاو ¿نٹس کی مدد سے ’گمراہ کن حقائق اُور اعدادوشمار‘ پر مبنی اطلاعات کو اِس قدر بڑے پیمانے پر پھیلایا جا رہا ہے کہ جھوٹ پر سچ کا گمان ہونے لگے۔ ہر طرف سے ’غلط اطلاعات و معلومات‘ کے بم برسائے جا رہے ہیں۔ اگر کوئی صارف درست خبر‘ ایک ’نئے موضوع (Hashtag)‘ سے جاری کرتا ہے تو اُس ’ہیش ٹیگ‘ کو استعمال کرتے ہوئے یلغار کر دی جاتی ہے‘ جس سے اصل بات‘ موضوع اور حقائق دب کر رہ جاتے ہیں یا کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ اِس قسم کی کاروائیاں خودکار انداز میں کمپیوٹر پروگراموں کے ذریعے سے بھی کئے جاتے ہیں‘ جنہیں ’بوٹس (bots)‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ’بوٹس‘ کسی اِنسان کی طرح سوشل میڈیا پر ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں اُور جب اِن کو دیئے گئے عنوانات یا موضوعات سے متعلق کوئی صارف کچھ لکھتا ہے‘ تو اُس کے ٹوئیٹر پیغام کو دیگر صارفین تک پہنچنے نہ دینے کے لئے اُس پر ہونے والی بحث کو کسی دوسری سمت میں موڑ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک نہایت ہی تکنیکی قسم کی چال ہے‘ اُور سوشل میڈیا کے بارے میں عمومی یا سطحی معلومات رکھنے والے صارف کی سمجھ میں یہ بات (طریقہ واردات) باآسانی نہیں آتی!

پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ”سوشل میڈیا وسائل“ سے استفادہ کرتی ہے‘ جن میں معروف سائٹس ’فیس بک (facebook)‘ ٹوئیٹر (Twitter)‘ یو ٹیوب (You Tube)‘ اُور انسٹا گرام (Instagram)‘ شامل ہیں اُور انہی کے ذریعے دل کا حال (خبروں یا معلومات) کا دنیا سے تبادلہ کیا جاتا ہے لیکن پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین کی اکثریت کو اُس جنگ کے بارے میں قطعی کوئی اندازہ ہی نہیں جو مسلط ہے‘ اُور جس میں صارفین کی ’آن لائن سرگرمیوں‘ پر بھی نظر رکھی جاتی ہے‘ تاکہ اُنہیں ’ہدف (ٹارگٹ)‘ بنایا جا سکے۔ القصہ مختصر سوشل میڈیا ایک ایسا غیر فوجی جنگی ہتھیار ہے جس سے جنگی مقاصد
و اہداف حاصل کئے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا ’تباہ کن‘ اُور ’باعث ہلاکت‘ اثرات رکھتا ہے۔ اِس میں اِنسانوں کے خیالات اُور اُن کے عقائد و نظریات کو تبدیل یا الجھایا جا رہا ہے اُور عجیب (زیادہ پریشان کن) بات یہ ہے کہ جن سوشل میڈیا صارفین پر جنگ مسلط ہے‘ اُنہیں اِس بات کا احساس بھی نہیں۔ ہدف صرف ایک ہے کہ پاکستان کو کمزور بنایا جائے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت‘ سیاسی حکمرانوں اُور ریاست کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کئے جائیں۔

پاکستان کو کمزور اُور ناتواں یا ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کیا جائے‘ جو (خدانخواستہ) ناکام ہونے جا رہی ہے اُور جس کا کوئی (روشن) مستقبل نہیں! سوشل میڈیا وسائل سے استفادہ کرنے والوں کو اِن حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی اپنی ’آن لائن سرگرمیوں‘ میں پہلے سے زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ سوشل میڈیا کی شرانگیزیاں توجہ طلب ہیں۔ ہر اطلاع اور ہر خبر درست نہیں ہوتی بالکل اِسی طرح سوشل میڈیا پر زیرگردش (وائرل اُور مقبول عام) ہر تصور اُور تصویر بھی حقائق کے برخلاف ’دروغ گوئی یا جعل سازی‘ کا مجموعہ ہو سکتی ہے! 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Sunday, May 19, 2019

US Coup Manual by Dr Farrukh Saleem

US 'coup manual'
اَمریکہ: غیرروائتی جنگی ہتھیار!

اکتوبر 2016: جویلین آسانج نے ویکی لیکس (WikiLeaks) نامی غیرسرکاری تنظیم کی بنیاد رکھی‘ جس کے قیام کامقصد یہ تھا کہ دنیا کے وسائل پر تسلط رکھنے والی قوتوں کے استحصال اُور حکمت عملیوں سے متعلق ’خفیہ دستاویزات (classified media)‘ یعنی ایسے ناقابل تردید ثبوت ہر خاص و عام کے لئے شائع کئے جائیں‘ جو نامعلوم ذرائع سے حاصل ہوں۔ 29 جنوری2019ءکے روز ’ویکی لیکس‘ نے امریکہ کی ’حربی حکمت عملی سے متعلق نصابی ہدایات نامہ (Coup Manual) شائع کیا‘ جس کا دستاویزی نمبر FM3-05.130 تھا اُور یہ امریکہ کی خصوصی فوجی کاروائیاں کرنے والے دستوں (ARSOF) کے لئے مرتب کیا گیا تھا جو ’غیرروائتی جنگوں‘ سے متعلق ’خاص حکمت عملی‘ ہے۔ مذکورہ دستاویز کے ایک حصے (Appendix A) میں لکھا تھا ”(کسی ملک کے خلاف) امریکی سیاسی مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے ورلڈ بینک‘ آئی ایم ایف اُور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن سے استفادہ کیا جائے گا۔“

غیرروائتی حربی حکمت عملی کے دوسرے باب میں اقتصادی جنگ کی تفصیلی وضاحت موجود ہے جس کے مطابق ”امریکہ ایسی صورت میں اپنی مالیاتی طاقت کا استعمال بطور ہتھیار کرے گا جبکہ روائتی انداز میں جنگ ختم ہونے کا نام نہ لے رہی ہو۔ اقتصادی سرگرمیوں کی طرح اِس حکمت عملی کو لاگو کرنے میں معمول اور پرامن انداز سے کام کیا جائے گا۔

امریکہ اپنی اقتصادی طاقت کے ذریعے دنیا کے کئی ممالک میں مالیاتی نظم و ضبط اور سرگرمیوں پر اثرانداز ہو رہا ہے اُور اِس کے لئے اُس نے ورلڈ بینک‘ عالمی مالیاتی فنڈ‘ آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ اُور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس قائم کر رکھے ہیں۔ یہ سبھی ادارے امریکہ کے سفارتکاروں کی حسب ضرورت مدد کرتے ہیں تاکہ وہ امریکی مفادات اور سیاسی اہداف حسب خواہش حاصل کر سکیں۔
امریکی غیر روائتی جنگی حکمت عملی کے کئی پہلو ہیں‘ جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے کئی الگ الگ اِدارے مل کر کام کر رہے ہوتے ہیں۔

خفیہ دستاویزات کے مطالعے سے یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ مالیاتی اِداروں کے ذریعے کسی قوم کی اقتصادی آزادی اُور فیصلوں پر نہ صرف اثرانداز ہوا جاتا ہے بلکہ غیرمحسوس انداز میں یہ فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لئے جاتے ہیں۔ بظاہر حکومت کسی اُور کی ہوتی ہے لیکن فیصلے امریکہ کی مرضی سے ہو رہے ہوتے ہیں! اِس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے جب ہم ورلڈ بینک اُور آئی ایم ایف کی پاکستان میں اہمیت اُور اِن پر انحصار دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے خلاف غیرروائتی جنگ کا آغاز کر رکھا ہے اور وہ اِس جنگ میں اقتصادیات کو غیرروائتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

ویکی لیکس کے ذریعے دنیا کو امریکہ کے غیرروائتی جنگی عزائم سے آگاہی ہوئی‘ تو یہ بات بہت سی اقوام کے لئے ’نئی خبر‘ نہ تھی بلکہ اُن کے فیصلہ ساز کسی نہ کسی سطح پر محسوس کر رہے تھے کہ وہ امریکہ کے اقتصادی جال میں بُری طرح پھنس چکے ہیں۔ مذکورہ دستاویز کے فرضی یا جعلی ہونے سے متعلق امریکہ نے آج تک ایک لفظ نہیں کہا لیکن اُس نے ’ویکی لیکس‘ کے بانی کو گرفتار ضرور کر لیا ہے‘ جن پر قومی راز افشاءکرنے اور امریکہ کی قومی سلامتی خطرے میں ڈالنے جیسے الزامات کے علاو ¿ہ اُن کی نجی زندگی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

29 جولائی 2018ءامریکہ کے سیکرٹری اسٹیٹ ’مائیک پمپیو (Mike Pompeo) نے ’سی این بی سی (CNBC)‘ نامی معروف نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ”بناءکوئی غلطی کئے‘ ہم (امریکہ) اِس بات پر نظر رکھتے ہیں کہ ’آئی ایم ایف‘ کیا کر رہا ہے۔ امریکہ کبھی بھی نہیں چاہے کہ عوام کے ٹیکسوں کا وہ پیسہ جس سے ’آئی ایم ایف‘ کو چلایا جاتا ہے وہ امریکی مفادات کے خلاف استعمال ہو۔“ اِس موقع پر اُنہوں نے بطور خاص چین کی مثال دی‘ جس پر حال ہی میں امریکہ نے تجارتی پابندیاں عائد کی ہیں اُور ’مائیک پمپیو‘ کے بقول وہ ایسا کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ ’آئی ایم ایف‘ چین کو اقتصادی مشکلات سے نکلنے میں مدد فراہم کرنے میں امریکی عوام کے دیئے گئے پیسے کا استعمال کرے۔

آج کی دنیا کو جس طرح جوہری ہتھیاروں سے خطرہ ہے بالکل اِسی طرح اقتصادی غیرروائتی ہتھیار بھی یکساں تباہ کن ہیں۔ یہ ہتھیار اگرچہ امریکہ کی جنگی حکمت عملی کا حصہ نہیں لیکن بہرحال اِن کے ذریعے امریکی مفادات کا تحفظ اور دفاع کیا جا رہا ہے۔ جس طرح کسی جنگ میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذریعے دشمن ملک پر حملہ کیا جاتا ہے بالکل اِسی طرح غیرروائتی جنگ میں اقتصادی ہتھیار برسائے جاتے ہیں اُور یہ عمل مسلسل برسائے جانے والے بموں (carpet bombing) جیسا ہی اثر رکھتا ہے جسے امریکی فوج نے دو دہائیاں قبل متعارف کروایا تھا اُور اِس کا استعمال نائن الیون کے بعد افغانستان میں بڑے پیمانے پر دیکھنے میں آیا تھا۔

دنیا بدل رہی ہے۔ جنگی‘ دفاعی اُور اقتصادی حکمت عملیاں روائتی اور غیرروائتی طریقوں میں تقسیم کر دی گئی ہیں لیکن اِن سب کا آپس میںتعلق قائم ہے۔ اگر امریکہ بیک وقت مختلف محاذوں پر حملہ آور ہے اور وہ اقتصادی ہتھیار کو بھی استعمال کرنے سے دریغ نہیں کر رہا تو پاکستان جیسے ملک کے فیصلہ سازوں کو سب سے پہلے تو اِس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہئے کہ امریکہ نے پاکستان کے خلاف غیرروائتی جنگ کا آغاز کر رکھا ہے اور دوسرا حملے کو ناکام بنانے کے لئے اُن غیرروائتی جنگی چالوں سے خود کو بچانا ہوگا‘ جو مالیاتی امداد کے نام پر مسلط کی جاتی ہیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, May 12, 2019

Weaponized finance by Dr. Farrukh Saleem

Weaponized finance
اِقتصادی ہتھیار: مسلط جنگ!
یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اَمریکہ کا محکمہ ¿ خزانہ دنیا بھر میں ایک خاص حکمت عملی کے تحت کام کرتے ہوئے عالمی سطح پر امریکی دفاعی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔ اقتصادی امور کے ماہر اُور ’ایرایشیاءگروپ‘ کے بانی اِیان بریمر (Ian Bremmer) نے اِس حقیقت کو آشکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”امریکہ ممالک کے ساتھ روائتی جنگ میں الجھنے کی بجائے اُن کے اقتصادی فیصلوں اور معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور پھر اِس اقتصادی حملے کے نتیجے میں کسی ہدف ملک کی اقتصادیات کو تباہ کر دیتا ہے۔“ ”یاہو فنانس (Yahoo Finance)“ نامی ویب سائٹ سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ”آج کی دنیا میں حقیقت یہ ہے کہ ڈالر (امریکی کرنسی) کسی بھی جوہری بم سے زیادہ خطرناک ہتھیار ہے۔ مختلف ادوار میں امریکی حکمت عملیاں مختلف رہی ہیں جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں امریکی صدر جارج واشنگٹن (George Washington) اور فرینکلن روزویلٹ (Franklin Roosevelt) کے ادوار میں عالمی سطح پر امریکی مفادات کا تحفظ کرنے اور امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل و حصول کے لئے مختلف حکمت عملیاں اختیار کی گئیں جبکہ موجودہ دور میں ’اقتصادیات سے بطور ہتھیار‘ کام لیا جا رہا ہے!“
امریکہ کے 76ویں وزیر خزانہ نے اقتصادیات اُور قومی مفادات کے حوالے سے منعقدہ ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اقتصادی طور پر کسی ملک پر گرفت کرنے کی حکمت عملی سے ایک نیا میدان جنگ معرض وجود میں آیا ہے۔ اب امریکہ کے فوجیوں کی جانیں خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے تاریخ کی نظروں میں مجرم بننے کی ضرورت رہی ہے۔“
اقتصادی جنگ مسلط کرنے کی اصطلاح سے مراد یہ ہوتی ہے کہ کسی ملک کے اقتصادی فیصلوں کو اِس حد تک اپنے ہاتھ میں لے لیا جائے کہ اُس کے تمام فیصلے بشمول دفاع بھی مفلوج ہو کر رہ جائے۔ دنیا میں اِس قسم کی جنگ صرف امریکہ ہی نہیں مسلط کر رہا بلکہ مالی طور پر مستحکم ممالک اپنے اپنے توسیع پسندانہ عزائم اور اپنی قومی سلامتی کو ممکن بنانے کے لئے ’اقتصادی ہتھیاروں‘ ہی کا استعمال کر رہی ہیں۔ اِس سلسلے میں کئی دستاویزات اور خود امریکی حکام کے بیانات ’آن دی ریکارڈ‘ موجود ہیں‘ جنہوں نے کہیں اشارے کنائیوں تو کہیں واضح الفاظ میں اِس حقیقت کا اعتراف کیا کہ اقتصادی ہتھیار کے استعمال سے دنیا میں جغرافیائی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں جو ایک غیرروائتی ہتھیار ہے اُور یہ روائتی ہتھیاروں سے زیادہ کارگر ثابت ہوا ہے۔ 29 جنوری کے روز ’ویکی لیکس (WikiLeaks)‘ نامی ویب سائٹ نے امریکی فوج کی چند خفیہ دستاویزات منظرعام پر لائیں۔ اِن دستاویزات میں ایک دستاویز جس کا نمبر FM3-05-130 تھا‘ وہ ’غیرروائتی جنگی حکمت عملی‘ سے متعلق تھی اُور اِس میں تحریر تھا کہ .... ”امریکہ کی فوج ’عالمی مالیاتی ادارے (IMF)‘ اُور ’ورلڈ بینک (World Bank)‘ کو غیرروائتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔“ اِس خفیہ حکمت عملی کے عیاں ہو جانے یعنی بھانڈا پھوٹ جانے کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دنیا اُور بالخصوص مسلمان ممالک بشمول پاکستان خود کو ’آئی ایم ایف‘ اُور ’ورلڈ بینک‘ کے چنگل میں مزید پھنسنے کی بجائے اِس سے جلد از جلد چھٹکارہ پانے کی کوشش کرتے۔ اقتصادیات کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے متعلق امریکی فوجی حکمت عملی ظاہر ہونے کے بعد بھی اگر دنیا ہوش کے ناخن نہیں لے رہی تو یہ دانشمندانہ طرزعمل نہیں۔
امریکہ کی وزارت خزانہ اُور مرکزی خفیہ ادارہ (CIA) بظاہر دو الگ الگ حکومتی محکمے ہیں لیکن یہ ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی قریب رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ امریکہ کے وزیر خزانہ رہے ’ڈیوڈ کوہن (David Cohen)‘ کے عہدے کی مدت مکمل ہونے کے فوراً بعد اُنہیں ڈپٹی ڈائریکٹر ’سی آئی اے‘ تعینات کر دیا تھا‘ جس سے امریکی محکمہ ¿ خزانہ اُور خفیہ ادارے کے درمیان قربت (ایک جیسی حکمت عملی) کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
وہ زمانہ اب نہیں رہا جب کسی ملک پر بم برسائے جاتے ہیں۔ وہاں فوجیں اُتاری جاتی تھیں یا اُن پر زمینی فوجی دستے حملہ آور ہوتے تھے۔ آج کی دنیا میں امریکہ اقتصادی ہتھیار کو فتوحات کے لئے کامیابی سے استعمال کر رہا ہے‘ جس کے لئے اختیار کی جانے والی حکمت عملی انٹرنیٹ پر منحصر ’ڈیجیٹل‘ اسلوب بھی رکھتی ہے اور یہ کسی معیشت کو روائتی (قدیمی) طریقے سے چلانے والے نظام کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ اِس جدید ہتھیار سے جنگ میں دشمن ملک کا دفاع کرنے والوں کے جانی نقصانات نہیں ہوتے بلکہ مالی نقصانات اُور معاشی نظام پر دسترس حاصل کرکے کامیابی اپنے نام کی جاتی ہے۔
اقتصادی ہتھیاروں سے مسلط جنگ کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی میں کسی ریاست کے سبھی حصہ داروں پوری عوام‘ پوری سیاسی قیادت‘ فوجی قیادت‘ اقتصادی امور کے نگران فیصلہ سازوں اُور ہر سطح پر کاروباری طبقات کو مل جل کر حکمت عملی بنانا ہوگی کیونکہ اِس جنگ میں قومی وسائل اور افرادی قوت کی ترقی کو محدود جبکہ معیشت کو آسان فیصلوں سے بیرونی وسائل (عیاشیوں) کا عادی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے‘ اِس لئے اقتصادی طور پر مسلط جنگ کے ہر محاذ پر مقابلہ کرنے کے لئے الگ الگ دفاعی حکمت عملیاں وقت کی ضرورت اُور پاکستان کے محفوظ مستقبل کے ناگزیر ہو چکی ہیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)

Sunday, April 28, 2019

Black economy by Dr Farrukh Saleem

Black economy
سیاہ اقتصادیات!

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو عالمی طور پر رائج ’سیاہ اِقتصادیات‘ نامی اصطلاح کے مطالب و معانی کا اطلاق ہمارے ہاں کی غیرقانونی طرز اقتصادیات پر نہیں ہوتا۔ عمومی اور اصطلاحی طور پر ’بلیک اکانامی‘ اُس آمدن اور طرز کاروبار کو کہا جاتا ہے‘ جو نشہ آور منشیات کا دھندا یا پھر منظم جرائم پیشہ عناصر کرتے ہیں۔ پاکستان میں اِس کا مطلب ایسی کاروباری سرگرمیاں جس میں حکومت کے مقرر کردہ قواعد و ضوابط کا احترام نہ کیا جائے اُسے ’بے ضابطہ اقتصادیات‘ کہا جائے گا اُور یہی بے ضابطہ اقتصادی سرگرمیاں پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت (مرکزی حیثیت) رکھتی ہے۔

آخر ایسا کیوں ہے کہ پاکستان میں چھوٹے بڑے کاروباری طبقات غیرقانونی ذرائع کو اختیار کرنا زیادہ مفید سمجھتے ہیں؟ اِس بظاہر سیدھے سادے سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے کاروبار کا عمومی طریقہ سمجھنا ہوگا۔ پہلی بات: پاکستان میں کم سے کم 73فیصد ملازمتیں ملک کی ’بناءضابطہ اقتصادی حکمت عملی‘ سے وابستہ ہیں۔ دوسری بات: پاکستان کی بناءضابطہ اقتصادی حکمت عملی کا تعلق اشیاءکی تیاری اور خدمات کی فراہمی کے شعبے سے ہے۔

معلوم (ناقابل تردید) حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کی حکومت ہر دور میں خسارے کا شکار رہتی ہے۔ حکومت کے ادارے (پبلک سیکٹر انٹرپرائزیز) سالانہ مجموعی طور پر ’1100 ارب روپے‘ کا خسارہ کرتے ہیں۔ ملک کا گردشی قرضہ ’1600 ارب روپے‘ جیسی بلند سطح پر پہنچ چکا ہے۔ گیس کی فراہمی کے نظام میں 2 ارب ڈالر سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ سرکاری اداروں کے لئے کی جانے والی خریداریوں میں ہونے والی بے قاعدگیوں کو وجہ سے قومی خزانے کو ہرسال کھربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

اصل طرز حکمرانی کا ہے۔ اگر عوام سالانہ ’10 کھرب روپے‘ بھی ٹیکس ادا کریں پھر بھی حکومت کے بجٹ کا خسارہ (آمدن و اخراجات میں عدم توازن) برقرار رہے گا۔ جس کی وجہ بڑے پیمانے پر جاری ’بناءضابطہ اقتصادی سرگرمیاں‘ نہیں بلکہ حکومت کرنے کا انداز ہے‘ جس میں ہر حکومتی ادارہ مالی وانتظامی بدعنوانیوں کی تصویر بنا ہوا ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر زیادہ بڑی تعداد میں عوام ٹیکس دیں تو پاکستان ترقی کر سکتا ہے تو وہ خام خیالی میں مبتلا ہیں۔ درحقیقت سارا مسئلہ حکومتی اداروں کی ناقص کارکردگی ہے‘ جس کے باعث قومی خزانے کو مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے۔ اِس تناظر اور منظرنامے کو ذہن میں رکھتے ہوئے جب ہم ’تحریک انصاف حکومت‘ کی اقتصادی حکمت عملی کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فیصلہ سازی کے مراحل میں بیماری کو تشخیص کئے بغیر اُس کے علاج کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تحریک انصاف نے ’خرید و فروخت اور لین دین (transactions) کے نظام‘ کو ختم کر دیا ہے۔ معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر نعیم الحق کہتے ہیں کہ ”اگر لین دین اُور خریدوفروخت کا نظام باقی نہ رہے تو اِس سے اقتصادی ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ مارکیٹیں سازوسامان اور اجناس سے بھری پڑی ہوتی ہیں لیکن خریدار کم ہو جاتے ہیں۔ کاروباری طبقات کا خسارہ اُن کی برداشت سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ نجی شعبے میں ملازمتیں کم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ نئی سرمایہ کاری نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ملازمتوں کے نئے مواقع تخلیق نہیں پاتے۔ حکومت نے نئے ٹیکس عائد کرنے جیسی سہل پسندی کا انتخاب کیا‘ جس سے کاروباری سرگرمیوں بُری طرح متاثر ہوئیں ہیں۔

پاکستان کے نئے وزیرخزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے کہ اُنہیں پاکستان کی بے ضابطہ
 اقتصادیات کو ایسا ماحول فراہم کرنا ہے کہ وہ پھر سے رواں دواں ہو سکے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے مالی امور کو کاروباری طبقات کے اعتماد کو بحال کرنا ہے اُور اِس کے فوراً بعد اُنہیں ’عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)‘ سے قرض کا حصول کرنا ہے۔ حکومتی اقدامات میں اصلاحات لانا ہے‘ جن سے سرکاری خریداریوں کے طریقہ ¿ کار میں جاری بے قاعدگیوں کا خاتمہ ہو۔ توانائی یعنی بجلی و گیس کے پیداوار اور تقسیم کاری کے عمل میں موجود خرابیاں دور ہوں۔

’آئی ایم ایف‘ چاہتی ہے کہ بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے ضرور ایسی کوئی حکمت عملی تشکیل دی ہوگی جس سے ملک کی کم آمدنی والے طبقات پر مالی بوجھ کم سے کم منتقل ہو۔ ’آئی ایم ایف‘ چاہتا ہے کہ 600 ارب روپے مالیات کے ٹیکس بوجھ کا اضافہ کیا جائے اور ڈاکٹر حفیظ شیخ نے یقینا ایسی حکمت عملی سوچ رکھی ہوگی جس سے کم آمدنی رکھنے والے خاندانوں پر کم سے کم سے ٹیکس کا دباو بڑھے۔

دنیا کے ہر ملک میں کسی نہ کسی طور پر ’بے ضابطہ اقتصادی سرگرمیاں‘ ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ محنت (انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن) کے بقول امریکہ میں ’بناءضابطہ اکانامی‘ سے 40فیصد روزگار وابستہ ہے۔ پاکستان میں بے ضابطہ اقتصادیات ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت رکھتی ہے‘ جس پر نصف ملکی پیداوار حاصل ہو رہی ہے۔ ذہن نشین رہے کہ 4 کروڑ 50 لاکھ پاکستانی محنت کش اُور اُن کے خاندانوں کا دارومدار ’بے ضابطہ اقتصادی شعبے‘ سے وابستہ ہے۔ حکومت کو نہیں چاہئے کہ وہ ساڑھے چار کروڑ پاکستانیوں اُور اُن کے خاندانوں کا روزگار (معاشی مستقبل) خطرے میں ڈالے۔ التجا ہے کہ ایسے فیصلوں سے گریز کیا جائے‘ جس کی وجہ سے ’بے ضابطہ کاروباری اور اقتصادی سرگرمیاں‘ متاثر ہوں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)
............