Showing posts with label Translation. Show all posts
Showing posts with label Translation. Show all posts

Saturday, July 15, 2023

Gandhara dreams by Dr Ramesh Kumar Vankwani

 Gandhara dreams

گندھارا تہذیب: خواب اُور حقیقت

پاکستان میں گندھارا تہذیب کے آثار اُور منسوب مقامات کی سیر کے لئے دنیا بھر سے سیاح آ رہے ہیں۔ حال ہی میں اِس سلسلے میں ایک ’عالمی کانفرنس‘ کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں بالخصوص بدھ مت کے پجاری اُور اُن ممالک کے نمائندہ وفود نے شرکت کی جہاں ’بدھ مت‘ سرکاری مذہب کے طور پر رائج ہے۔ گندھارا تہذیب کو مقدس اُور تاریخی اہمیت کی حامل سمجھنے والے جو ممالک دلچسپی لے رہے ہیں اُن میں تھائی لینڈ‘ نیپال‘ ویت نام‘ چین‘ ملائیشیا‘ کوریا‘ سری لنکا‘ میانمار‘ کمبوڈیا‘ انڈونیشیا اور دیگر بودھی اکثریتی ممالک شامل ہیں۔ حال ہی میں معزز بودھی بھکشو نے پاکستان کا دورہ کیا اُور چند دنوں روز یہاں مقیم رہے۔ اِن کی پاکستان یاترا (آمد) کا مقصد وزیر اعظم کی ’خصوصی ٹاسک فورس برائے گندھارا ٹورازم‘ اُور ہم خیال ’تھنک ٹینک نجی اداروں‘ کے تعاون سے منعقد ہونے والے پہلے بین الاقوامی گندھارا سمپوزیم میں شرکت تھی جس کے لئے وفود اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ پر اُترے اُور اُنہوں نے مذکورہ سمپوزیم میں شرکت کے علاؤہ گندھارا تہذیب کے مقامات پر حاضری بھی کی اُور وہاں عبادت و مختصر قیام کے دوران تاریخ کے اُن رشتوں کو زندہ بھی کیا جن پر دہائیوں سے مٹی پڑی ہوئی ہے۔

بین الاقوامی بودھی راہبوں کے ہمراہ تخت باہی مردان کے قدیم گندھارا مقام کا دورہ کرتے ہوئے راقم الحروف کو ایسا لگا کہ جیسے کوئی شخص جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھ رہا ہو اور جب آنکھیں کھلیں گی تو یہ ویران کھنڈرات اپنے شاندار ماضی پر ماتم کرتے نظر آئیں گے۔ بین الاقوامی برادری کے سامنے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے لئے ’مذہبی سیاحت‘ کو فروغ دینے کا خواب بالآخر حقیقت بن رہا ہے۔ اِس سمپوزیم سے قبل‘ بدھ بھکشوؤں‘ مختلف ممالک کے سفیروں اور ذرائع ابلاغ کے وفود کے ہمراہ جدید ٹیکسلا اور گندھارا دور کے عظیم تعلیمی مرکز‘ تکششیلا (Takshashila)کے قدیم شہر میں واقع قدیم دھرم راجیکا (Dharmarajika) عبادتگاہ (سٹوپا) کا دورہ کیا۔ معلوم انسانی تاریخ کی یہ پہلی یونیورسٹی تھی اور اِس جامعہ میں عظیم فلسفی کوٹلیہ چانکیہ ڈھائی ہزار سال پہلے حکمت پڑھاتے تھے۔ ’ارتھ شاستر‘ اور ’چانکیہ نیتی‘ کے عنوان سے اُن کی کتابیں اکیسویں صدی میں بھی یکساں مقبول ہیں۔ قدیم شہر ٹیکسلا کی اہمیت کے پیش نظر گندھارا ٹورازم سے متعلق وزیراعظم پاکستان کی بنائی ہوئی ’ٹاسک فورس‘ نے ایک اعلامیہ بھی تیار کیا ہے جسے کانفرنس کے مندوبین اور سفیروں کے ساتھ شیئر کیا گیا۔ راقم الحروف کو یقین ہے کہ اِس عاجزانہ کوشش کو تاریخ میں ’تکششیلا اعلامیہ‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

بین الاقوامی مندوبین نے ٹیکسلا اور پشاور کے عجائب گھروں کا دورہ بھی کیا۔ اِس موقع پر راہبوں سے ہوئی بات چیت میں اِس بات کا خصوصی طور پر اظہار کیا گیا کہ گندھارا کے بارے میں بہت کچھ پڑھنے اُور سننے والوں کو جب اِس سے متعلقہ مقامات اُور آثار کو قریب سے دیکھنے کا پہلا اُور نادر موقع خاص اہمیت کا حامل ہے۔ وہ اپنے آبائی ممالک واپس جانے کے بعد پاکستان اور پاکستان کے عوام کے بارے میں اچھی باتیں اُور یادیں بطور سوغات لیکر جائیں گے۔ ذہن نشین رہے کہ گندھارا سیاحت کے فروغ کے لئے جب وزیر اعظم کی ٹاسک فورس نے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا اُور بدھ مت زائرین نے تخت بھائی کا دورہ کیا تو راقم الحروف نے اُس وفد کی قیادت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اُور اُس وقت یہ بالکل ناممکن دکھائی دے رہا تھا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے بدھ بھکشو پاکستان کا دورہ کر سکیں گے تاہم جہاں ارادہ موجود ہو اُور جہاں نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو راستے نکل ہی آتے ہیں۔ ذاتی طور پر راقم الحروف کا ماننا ہے کہ ہر قوم اور ملک کا کوئی نہ کوئی خواب ہوتا ہے کہ وہ آگے بڑھے۔ امریکہ کے 16ویں صدر ’ابراہم لنکن‘ نے اپنی قوم کو سپر پاور بننے کا خواب دیا۔ اسی طرح چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی اپنی قوم کو عالمی سطح پر متعارف کرایا اُور چین کی صنعتی و سفارتی طاقت کو منوایا۔ 

ہمارے بزرگوں نے بھی ایک خودمختار اور آزاد ریاست کا خواب دیکھا تھا جو بانیئ پاکستان قائد اعظم کی دور اندیش قیادت میں پورا ہوا۔ جناح صاحب نے ’11 اگست 1947ء‘ کے روز اپنی تقریر میں اِس خواب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”وہ پاکستان کو ’مثالی رول ماڈل ریاست‘ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر کسی کو مسجد یا مندر یا کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کی آزادی ہو۔“ ایک محب وطن پاکستانی شہری ہونے کے ناطے راقم الحروف کا بھی خواب ہے کہ پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہو اُور پاکستان کا تعارف ترقی یافتہ‘ پرامن اُور خوشحال ملک کے طور پر کیا جائے۔ ’گندھارا ڈریم‘ کے ساتھ پاکستان نے مذہبی سیاحت کے فروغ سے متعلق ’واضح اہداف‘ مقرر کئے ہیں اُور اِس کوشش میں بڑی کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ سینکڑوں سال پہلے ہماری سرزمین پر پھلنے پھولنے والی عظیم گندھارا تہذیب دنیا کی ’اَنوکھی قدیم‘ تہذیب ہے۔ اِس تہذیب کے باقی ماندہ آثار میں ہر پتھر‘ ہر کھنڈر‘ ہر کونا کوئی نہ کوئی کہانی بیان کر رہا ہے۔ 

گندھارا ورثہ پراسرار ہے اُور اِس کی پراسراریت جدید دور میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ گندھارا کے مقدس مقامات کی زیارت دنیا کے ہر بدھ مت پیروکار کا خواب ہے لہٰذا ہمیں اِس جانب راغب کرنے کے لئے غیرملکی سیاحوں کے لئے سہولیات کی فراہمی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ 

(مضمون نگار رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔ بشکریہ: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)


Wednesday, August 19, 2020

TRANSLATION: Let’s make Pakistan by Aimal Wali Khan

 Let's make Pakistan

قومی تعمیروترقی 

پاکستان کے قیام کو 73 برس گزر چکے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم ابھی تک اِسی بحث اُور ضرورت سے آگے نہیں بڑھ سکے کہ ”قومی تعمیروترقی ہونی چاہئے۔“ دوسرا اَفسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم برداشت عروج پر رہی ہے اُور اِس کا نشانہ بالخصوص ’عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)‘ رہی ہے جسے ایک ٹولہ شروع دن سے غدار قرار دینے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ تاریخ کی درستگی کے لئے عرض ہے کہ پاکستان کی تعمیروترقی کا تصور باچا خان نے پہلے قانون ساز ایوان سے اپنے خطاب میں دیا تھا اُور اُن کی جانب سے سبھی جماعتوں کو غیرمشروط تعاون کی پیشکش کی گئی تھی لیکن اِس پیشکش کو قبول کرنے کی بجائے اُس وقت کے فیصلہ سازوں نے نہتے پختونوں پر ’بابڑا‘ کے مقام پر گولیاں برسائیں اُور یوں خدائی خدمتگار کہلانے والے سینکڑوں محب وطن پاکستانیوں کا خون بہایا گیا۔ مذکورہ سانحے کے بعد باچا خان اُور ولی خان کو عرصہ 6 برس تک زیرحراست رکھا گیا۔ باچا خان قید رہے اُور کئی برس قید میں رہنے کے بعد رہا بھی کر دیئے گئے لیکن اُن پر ملک سے غداری جیسا الزام ثابت نہ کیا جا سکا۔ بعدازاں ولی خان پر مقدمہ چلایا گیا کیونکہ وہ ’پاکستان کو ایک ایسے وقت میں بچانا چاہتے تھے‘ جب سقوط ڈھاکہ ہوا تھا اُور پھر ولی خان نے بطور قانون ساز اُور حزب اختلاف کے رہنما پاکستان کا آئین بنانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا لیکن ریاست کی سوچ اُور عمل میں تبدیلی نہیں آئی اُور نہ صرف ولی خان بلکہ اِن کے صاحبزادے اسفندیار ولی خان کو بھی ایک ہی وقت میں قید کر دیا گیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اِس قسم کی مثال شاید ہی کوئی دوسری ملے کہ جب ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والی تین نسلیں سیاسی قیدی بنا کر رکھی گئی ہوں۔ پختون قوم کے حقوق کی حفاظت کرنے والے رہنماو¿ں نے جرات اُور بہادری کے ساتھ مظالم و مشکلات کا سامنا کیا اُور ہر مرحلے پر استقامت کا مظاہرہ کرتے رہے لیکن اُنہوں نے اپنی قوم پرست سیاست کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اُور نہ ہی اپنے اصولی مو¿قف سے کبھی دستبردار ہوئے۔

سقوط ڈھاکہ 1971ءمیں پیش آیا۔ اُس وقت کوئی سیاسی رہنما یہ جرا¿ت نہیں کرسکتا تھا کہ وہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) جاتا اُور وہاں جا کر سیاسی بات چیت کرتا لیکن یہ ولی خان ہی تھے جنہوں نے مشرقی پاکستان کا دورہ کیا اُور وہاں کی قیادت سے بات چیت کی تاکہ کسی صورت پاکستان کو متحد کیا جا سکے۔ اُن کی کوشش رہی کہ پاکستان کے ایک حصے کا سقوط نہ ہو لیکن ولی خان کی کوششوں کو غلط تناظر میں سمجھا گیا اُور اُن پر ملک سے غداری اُور غیرملکی قوتوں کے آلہ¿ کار (ایجنٹ) ہونے جیسا الزام لگایا گیا۔ اُن کی کردار کشی کی گئی اُور اُنہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ 1973ءمیں جب پاکستان کے آئین کا ایک مجوزہ مسودہ تیار کیا گیا تو اُس وقت ولی خان قائد حزب اختلاف تھے۔ اگر وہ نہ چاہتے تو پاکستان کا آئین کبھی بھی منظور نہ ہوسکتا جبکہ حزب اختلاف کا کردار انتہائی ذمہ داری اُور حب الوطنی سے ادا کرتے ہوئے اُنہوں نے اِس بات کو عملاً ممکن بنایا کہ پاکستان کا آئین بنا کسی رکن کی مخالفت متفقہ طور پر منظور ہوا کیونکہ وہ پاکستان میں سیاسی استحکام چاہتے تھے۔ ولی خان کے اِس مثبت و ذمہ دارانہ آئینی کردار ادا کرنے پر اُنہیں پختون قوم سے تعلق رکھنے والے چند طبقات نے طعنے بھی دیئے لیکن وہ پاکستان کے لئے ہر الزام برداشت کرتے چلے گئے۔

عوامی نیشنل پارٹی کا ماضی و حال شفاف اُور حب الوطنی سے بھرپور ہے۔ خان عبدالولی خان کی طرح اُن کے خلف رشید اسفندیار ولی خان نے بھی اپنے آباواجداد کے نقش قدم پر چلنے کو ترجیح دی اُور نامساعد حالات کے باوجود بھی پاکستان کے سیاسی استحکام اُور ترقی کے عمل میں شانہ بشانہ شریک رہے۔ پاکستان کی تاریخ پر نگاہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ جب 1990ءکی دہائی میں ریاست نے دہشت گردی اُور انتہاءپسندی کو بڑھاوا دیا تب اسفندیار ولی خان ایسے واحد رہنما تھے جنہوں نے قانون ساز ایوان سے اپنے خطاب میں ریاست کی مذکورہ حکمت عملیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اُور انتہاءپسندی اُور دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے سے متعلق ریاستی پالیسی پر تنقید کی لیکن بدقسمتی سے اُن کی تنقید میں چھپے تعمیری پہلووں کو نظرانداز کر دیا گیا اُور اُن کے الفاظ کو سنجیدگی سے نہیں سنا لیکن اگر ایسا کیا جاتا تو پاکستان انتہاءپسندی اُور دہشت گردی کی دلدل میں دھنستا نہ چلا جاتا۔ ریاستی پالیسی صرف وقتی ہی نہیں بلکہ مستقبل کا بھی تعین کرتی ہیں اُور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے کئی مواقع دیکھنے میں آئے جب ریاست کے غلط فیصلوں کے منفی اثرات مستقبل پر پڑے۔ 

نائن الیون کے نام سے معروف دہشت گرد حملے کے دکھ اُور غم سے نڈھال امریکہ نے عالمی سطح پر نئے اتحاد تشکیل دیئے۔ تب پاکستان کی افغانستان کے بارے میں قومی حکمت عملی (خارجہ پالیسی) میں بھی اچانک تبدیلی آئی اُور یہ تبدیلی اِس قدر غیرمعمولی تھی کہ اِسے 180 ڈگری (مکمل طور پر اُلٹ) پالیسی کہا جا سکتا ہے اُور امریکہ کی دنیا پر مسلط کی جانے والی جنگ میں پاکستان (بنا سوچے سمجھے اُور قومی سیاسی مشاورت کے بنا) صف اول کا اتحادی بن گیا۔ ایک مو¿قف یہ ہے کہ اگر اُس وقت پاکستان میں سیاسی حکومت ہوتی اُور جمہوری ادارے فعال ہوتے تو دہشت گردی کی عالمی جنگ کا حصہ بننے سے متعلق پاکستان کے قومی فیصلے مختلف ہوتے اُور 2001ء سے 2008ء کے درمیان پاکستان نے جو بھاری قیمت ادا کی‘ اُس سے بچا جا سکتا تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت اُور کارکن ملک میں پھیلی انتہاءپسندی اُور دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہوئے لیکن انہوں نے دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ شکست تسلیم نہیں کی بلکہ قربانیوں کی طویل تاریخ اپنے خون سے رقم کرتے چلے گئے اُور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ’اے این پی‘ ایک طرف انتہاءپسندی اُور دہشت گردی کے نشانے پر تھی اُور اِس کا مختلف محاذوںپر مقابلہ کر رہی تھی تو دوسری طرف ’اے این پی‘ کی قیادت اپنے صوبے اُور پختون قوم کے حقوق کا تحفظ کرنے جیسی ذمہ داری کو بھی پیش نظر رکھے ہوئے تھی اُور پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ انتہاءپسندی اُور دہشت گردی کے خلاف اگر کسی واحد سیاسی جماعت نے ایک لمبے عرصے سے جدوجہد کی ہے تو وہ ’اے این پی‘ کے علاوہ کوئی دوسری جماعت نہیں۔ جس کے قائدین نے اپنی مٹی اُور اپنے ملک کو نہیں چھوڑا بلکہ ہر مشکل کا جوانمردی سے مقابلہ کیا‘ سرخرو ہوئے اُور فاتح ہیں۔

آج ہمیں پرامن پاکستان چاہئے جس کے لئے ضروری ہے کہ قومی فیصلہ سازی اُور حکمت عملیوں میں غیرریاستی اداروںکے کردار (عمل دخل) کی گنجائش نہ ہو۔ پاکستان کو جنگ کی بجائے تعلیم‘ صحت‘ عوام کی بہبود اُور وفاق کی اکائیوں (صوبوں) کے حقوق ادا کرنے میں سرمایہ کاری کرنی چاہئے۔ وقت ہے کہ پاکستان کے قیام (تحریک آزادی) میں حصہ لینے والے رہنماوں کے کردار اُور خدمات کا بنا تعصب اظہار اُور اُنہیں تسلیم کرتے ہوئے اِسے نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ خدائی خدمتگار تحریک کے بانی باچا خان کا ’خانوادہ سیاست‘ ایک مرتبہ پھر پاکستان کی قومی تعمیروترقی کے لئے اپنا غیرمشروط تعاون پیش کرتا ہے۔ آیئے پاکستان کو مضبوط بنائیں۔ آئیے مل کر پاکستان کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں۔ 

مضمون نگار ’عوامی نیشنل پارٹی‘کے صدر اُور خدائی خدمتگار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کے پوتے ہیں۔ 

بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ایمل ولی خان۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام

Monday, June 22, 2020

TRANSLATION: Covid Budget by Taimour Saleem Jhagra

Covid budget
خیبرپختونخوا: کورونا بجٹ
کورونا وبا کی صورتحال میں شروع دن سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی کوشش رہی کہ وہ ایک تو عوام کو وبا کے بارے باخبر (مطلع) رکھیں۔ غیر ضروری رازداری کی بجائے عوام کو اعتماد میں لیا جائے اُور دوسرا اہم پیشرفت اِس بارے میں تھی کہ صحت کی سہولیات میں حسب ضرورت اضافہ کیا جاتا تھا تاکہ آنے والے دنوں میں درپیش حالات کا مقابلہ کرنے کی پیشگی تیاری رہے۔ یہ ایک ایماندارانہ اُور پرخلوص کوشش تھی‘ جس میں بڑی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اُور بالخصوص وزیراعظم عمران خان کے اُس عزم کو عملی جامہ پہنایا جس میں وہ عوام کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولیات دیکھنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ خیبرپختونخوا کے بجٹ کی تیاری اُور منظوری کے مراحل میں ’عوام دوست بجٹ‘ جیسی ترجیح کو بہرصورت پیش نظر رکھا گیا۔

خیبرپختونخوا میں کورونا وبا کے تناظر میں تیار ہونے والے بجٹ کی تیاری و منظوری کے مراحل میں پانچ امور کا بطور خاص خیال رکھا گیا اُور اگر اِن پانچ ترجیحات کی اہمیت اُور حکمت کو سمجھ لیا جائے تو صوبائی آمدن و اخراجات کے میزانیئے برائے مالی سال 2020-21ءکو سمجھنا بڑی حد تک آسان (سہل) ہو جائے گا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ آئندہ مالی سال کے لئے ’کورونا بجٹ (Covid-19 budget)‘ پیش کیا گیا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ سرمایہ سرکاری علاج معالجے کی سہولیات کے لئے مختص کی گئی ہے۔ جس میں خیبرپختونخوا کی تاریخ میں صحت کے شعبے کے لئے سب زیادہ مالی وسائل مختص کئے گئے ہیں اُور صرف یہی نہیں کہ تمام مالی وسائل علاج معالجے کی سہولیات کے مطابق مختص ہوئے ہیں بلکہ کورونا وبا کے بارے میں عوامی شعور اُجاگر کرنے اُور عوام کو اِس مرض سے بچانے کے لئے ہر قسم کی ضروریات و سہولیات کی فراہمی کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے جبکہ مستقبل میں اِس وبا کے دوبارہ پھوٹ پڑنے کو روکنے کے لئے بھی اقدامات پیش نظر رہے ہیں۔ 

خیبرپختونخوا میں عالمی معیار کے مطابق وباو ں سے بچاو  کے لئے ادویات فراہم کی جائیں گی اُور اِس ویکسینیشن پروگرام کی وجہ سے خیبرپختونخوا پاکستان کا واحد ایسا صوبہ ہوگا‘ جہاں عوام کو وباو ¿ں سے بچانے کے لئے اِس قدر بڑے پیمانے پر ادویات (ویکسینیشن) فراہم کی جائے گی۔

بجٹ میں 15 ارب روپے ’کورونا وبا سے پیدا ہونے والے ہنگامی حالات‘ سے نمٹنے کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ یہ پندرہ ارب روپے ایک ہنگامی پروگرام کے تحت ہیں جبکہ صحت کا بجٹ اِس کے علاو ¿ہ ہے۔ صحت کے شعبے کے لئے عمومی و خصوصی مدوں میں مختص بجٹ کا ایک بڑا حصہ صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے طبی و معاون طبی عملے کی حفاظت کے لئے مختص کیا جائے گا۔ علاج گاہوں میں بستروں کی تعداد‘ آکسیجن کی سہولیات میں اضافہ اُور مصنوعی آلات تنفس (وینٹی لیٹرز) پر مشتمل خصوصی نگہداشت کے مراکز (وارڈز) قائم کئے جائیں گے۔ خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں ایک وسیع و مضبوط بنیادوں پر صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی جو پہلے ہی زیرتوجہ ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا نے کورونا وبا کی تشخیص و تصدیق کے لئے تجزئیات (ٹیسٹنگ) کی سہولیات میں غیرمعمولی اضافہ کیا ہے اُور اِس ٹیسٹنگ صلاحیت کو مزید بھی بڑھایا جائے گا۔

خیبرپختونخوا بجٹ کا تیسرا نمایاں پہلو یہ رہا کہ اِس میں روائتی اخراجات کے لئے روائتی انداز سے مالی وسائل مختص نہیں کئے گئے اُور یہیں سے مشکل فیصلوں کی ابتدا ہوتی ہے۔ ترقیاتی بجٹ کو حالات کے مطابق دانشمندی سے استعمال کرنے کا فیصلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی بصیرت کا مظہر ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لئے 318 ارب روپے مختص کرنا اپنی جگہ اہم ہے کیونکہ یہ رقم صوبہ سندھ کے مختص کردہ ترقیاتی حجم سے زیادہ ہے جبکہ آبادی کے لئے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے تقریباً مساوی ہے۔ حکمت عملی یہ ہے کہ ترقیاتی عمل کو جاری و ساری رکھنے کے لئے محدود مالی وسائل کی کمی کو آڑے نہ آنے دیا جائے اُور دیگر ذرائع سے مالی وسائل حاصل کر کے خیبرپختونخوا کی معیشت و معاشرت کے آگے بڑھنے کے عمل کو جاری رکھا جائے۔ صوبائی بجٹ چوتھی اہم بات یہ تھی کہ اِس میں چند محصولات (ٹیکسوں) کی شرح میں کمی بھی کی گئی۔ کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا اُور نہ ہی کسی ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا۔ اِس حکمت عملی کو اُس وسیع منظرنامے اُور کوششوں کے تناظر میں دیکھنا چاہئے جس میں حکومت ٹیکس کلچر کے فروغ اُور ٹیکس اصلاحات کے ذریعے معیشت کو راہ راست پر لانا چاہتی ہے۔ ایسے ٹیکسوں کو بھی آپس میں ضم کیا گیا ہے جو کسی ایک شعبے پر زیادہ مرتبہ لاگو تھے۔ اِسی طرح خدمات (سروسز) کے شعبے پر 27 مختلف درجات میں سیلز ٹیکس کی شرح کم کی گئی ہے اُور یہ سبھی اقدامات اِس لئے کئے گئے ہیں تاکہ معیشت کا پہیہ چل سکے۔ روزگار کے مواقع پیدا اُور برقرار رہیں اُور کورونا وبا کی وجہ سے جو خصوصی حالات پیدا ہوئے ہیں اُن سے خاطرخواہ انداز میں نمٹا جا سکے۔ مقامی حکومتوں (لوکل گورنمنٹ) کے محکمے نے پہلے ہی 200 چھوٹے کاروباروں پر عائد ٹیکس ختم یا کم کیا ہے۔ اِسی طرح ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے بھی کئی صوبائی محصولات کو ختم کیا ہے اُور جہاں ایک سے زیادہ ٹیکس مختلف ناموں سے لاگو تھے اُنہیں ضم کیا ہے۔ یہ ٹیکس اصلاحات کے سلسلے میں اہم ترین عملی کوشش ہے۔ 

قابل ذکر ہے کہ اب ہوٹلوں پر منفی ٹیکس کو بالکل ختم کر دیا گیا ہے جبکہ 18 درجات میں پیشہ ور ٹیکسوں کو بھی ختم کیا گیا ہے اگر وہ ادارے اپنے آپ کو کیپرا (KPRA) کے ساتھ رجسٹرڈ کر لیں۔ تفریح (انٹرٹینمنٹ) پر عائد ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اُور موٹر گاڑیوں کی رجسٹریشن کو مفت کر دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا بجٹ کا پانچواں قابل ذکر پہلو نوجوانوں کی بہبود اُور ضروریات کو مدنظر رکھنا ہے اُور اِس سلسلے میں محدود مالی وسائل کے باوجود نوجوانوں کی ترقی کے لئے اُن سبھی منصوبوں کے لئے فراخدلی سے مالی وسائل مختص کئے گئے ہیں‘ جن کی ضرورت تھی۔ اِس بات کا مطلب یہ ہے کہ بجٹ میں اصلاحات پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ حکومت نے اخراجات میں کمی‘ بچت کے امکانات کی نشاندہی اُور اِن سے حاصل ہونے والے مالی وسائل کی سرمایہ کاری جیسی حکمت عملی مرتب کی ہے اُور اِسی پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے حوالے کی گئی اصلاحات کی بدولت حکومت کو سال بھر میں 20 ارب روپے جیسی غیرمعمولی بچت ہوگی اُور یہی رقم کورونا وبا سے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے نمٹنے کے لئے کافی ہے۔ حکومتی محکموں کے اخراجات کم کرنے کے لئے بھی اقدامات (اصلاحات) متعارف کی گئیں ہیں اُور اِس سلسلے میں تنخواہوں کے علاو ¿ہ دیگر غیرترقیاتی اخراجات جیسا کہ پیٹرول وغیرہ کی مد میں ہونے والے اخراجات کم کئے گئے ہیں۔ اِسی طرح سرکاری ملازمین کے سفر کی صورت قیام و طعام (TA/DA) اُور دیگر غیرضروری اخراجات کی مد میں کٹوتیاں کی گئی ہیں یقینا کوئی بھی بجٹ اپنی ساخت میں مکمل دستاویز نہیں ہوتا بلکہ اِس میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ 

خیبرپختونخوا حکومت کی خواہش تھی کہ وہ بہت سے شعبوں کے لئے زیادہ مالی وسائل مختص کرتی لیکن کورونا وبا کی موجودہ صورتحال میں عوام کی صحت اُور معاشی سرگرمیاں حکومتی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔ اِس سلسلے میں عوام الناس اُور ماہرین کے مشوروں اُور مثبت تنقید کا خیرمقدم کیا جائے گا تاکہ نہ صرف آئندہ مالی سال کے لئے صوبائی آمدن و اخراجات کے سالانہ میزانئے پر عمل درآمد اُور حکیمانہ اقدامات کے ثمرات ظاہر ہوں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود اُور ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں اگر کہیں کمی بیشی رہ گئی ہے تو اُسے بھی پورا کیا جا سکے۔ 

(مضمون نگار خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ و صحت ہیں۔ بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: تیمور سلیم جھگڑا۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
............

Clipping from Daily Aaj Editorial Page June 22, 2020  Monday
Editorial Page of Daily Aaj - June 22, 2020  Monday
Clipping - Daily Aaj - 22 June 2020 Monday

Sunday, December 29, 2019

Chasing shadows by Dr. Farrukh Saleem

Chasing shadows
سراب اُور حقائق

پہلا سراب: پاکستان سے لوٹے ہوئے 200 ارب ڈالر سوئزرلینڈ کے بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ 18 اگست 2018ءکے دن‘ عمران خان نے ’وزیراعظم پاکستان‘ کے عہدے کا حلف لیا۔ 19 اگست کے روز مراد سعید کو وفاقی وزیر برائے مواصلات اُور پوسٹل سروسیز کے عہدے پر فائز کیا جنہوں نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر جاری کئے اپنے پیغام میں کہا کہ ”وزیرخزانہ نے پارلیمنٹ کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ سوئزرلینڈ کی بینکوں میں پاکستان سے چوری شدہ 200ارب ڈالر موجود ہیں۔“ وفاقی حکومت اگست سے وسط اکتوبر تک اِن 200 ارب ڈالر کا پیچھا کرتی رہی اُور اِسی اُمید پر کہ پاکستان کے خزانے میں 200 ارب ڈالر آ جائیں گے اقتصادی حکمت عملیاں بنائی جاتی رہیں لیکن چونکہ حقائق سے زیادہ سراب پر توجہ مرکوز رکھی گئی تھی‘ اِس لئے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

سوئزر لینڈ کے مرکزی قومی بینک نے سال 2018ءسے متعلق اعدادوشمار جاری کئے جن میں شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ”سوئس بینکوں میں پاکستانی شہریت رکھنے والوں کے 388.58 ملین (38 کروڑ سے زائد) ڈالر پڑے ہوئے ہیں۔‘

دوسرا سراب: ستمبر 2018ءمیں حکومت نے مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی درست کرنے کے لئے ’ٹاسک فورسز‘ بنائیں۔ قریب 3 درجن خصوصی اختیارات رکھنے والے فیصلہ سازوں میں توانائی‘ پولیس‘ سرکاری ملازمین‘ کم خرچ طرز حکمرانی‘ قومی امور میں بچت‘ بدعنوانی سے حاصل کردہ قومی دولت کی وصولی‘ شجرکاری اُور اقتصادی راہداری سے متعلق کمیٹیاں شامل تھیں۔

اگست 2018ءمیں مذکورہ ’ٹاسک فورسیز‘ کے بنائے جانے سے قبل ’توانائی کے شعبے کا گردشی قرض 1100 ارب روپے تھا جو بڑھ کر 1700 ارب روپے ہو چکا ہے۔ موجودہ حکومت کے ابتدائی 16ماہ کے دور میں صوبہ پنجاب میں 5واں انسپکٹر جنرل پولیس تعینات کیا گیا ہے۔ اِس طرح کسی پولیس سربراہ کی تعیناتی اوسطاً تین ماہ کے لئے کی گئی۔ اِسی طرح پنجاب میں تین چیف سیکرٹریوں کو بھی یکے بعد دیگرے تبدیل کیا گیا۔ 6 ایجوکیشن سیکرٹری بھی اِسی عرصے میں تبدیل کئے گئے۔ حال ہی میں 31 ڈی سی اُوز‘ 20 ایڈیشنل آئی جیز‘ 19 سیکرٹریوں اُور 5 کمشنروں کے تبادلے کئے گئے ہیں۔
وزیراعظم کی بنائی ہوئی ایک کمیٹی قومی اثاثہ جات کی وصولی (Asset Recovery) کے لئے بنائی گئی تھی لیکن 16ماہ گزرنے کے باوجود بھی اِس کمیٹی کا پہلا اجلاس تک نہیں ہو سکا ہے۔

تیسرا سراب: نیا پاکستان ہاو ¿سنگ اسکیم کے نام سے حکمت عملی وضع کی گئی جس کا مقصد یہ تھا کہ کم آمدنی رکھنے والے طبقات کو ذاتی مکان دیا جائے۔ اکتوبر اُور نومبر اِس سلسلے میں کافی ہنگامہ خیز تھے جس کے بعد اِس منصوبے پر عمل درآمد کس مرحلے میں ہے‘ کوئی نہیں جانتا۔

چوتھا سراب: دسمبر 2018ءکے دوران حکومت نے مرغی اُور انڈے کے ذریعے غربت میں کمی اُور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی حکمت عملی کا آغاز کیا۔ جس کے تحت صرف ضلع روالپنڈی میں 25لاکھ افراد میں کو چار مرغیاں اُور ایک ایک مرغ دیا گیا۔ اِن مرغیوں کی عمر 85 دن تھی اُور یہ انڈے دینے کے لئے تیار تھیں لیکن اِس حکمت عملی کی موجودہ صورتحال کیا‘ اُور اِس سے کیا نتائج حاصل ہوئے‘ یہ معلوم نہیں ہے۔

پانچواں سراب: فروری 2019ءمیں سعودی شہزادے کی پاکستان آمد ہوئی۔ اِس آمد کا خوب چرچا کیا گیا اُور حسب شان استقبال ہوا۔ اِس دورے سے متعلق کہا گیا کہ سعودی عرب پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا لیکن کیا یہ سرمایہ کاری ہوئی اُور کب ہوگی اِس بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں ہے۔

چھٹا سراب: مارچ سے اپریل دوہزاراُنیس کے دوران پاکستانیوں کو یہ خوشخبری سنائی گئی کہ دنیا میں پیٹرولیم مصنوعات کا کاروبار کرنے والی ایک بڑی کمپنی ’ایکسزون (ExxonMobil)‘ پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گی اُور تیل و گیس کے تلاش کے ایک منصوبے پر کام کا آغاز کرے گی۔ اِس اُمید کا بھی اظہار کیا گیا کہ پاکستان میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہونے کے قریب ہیں اُور بہت جلد پاکستان کی قسمت سنورنے اُور بدلنے والی ہے لیکن یہ دعویٰ بھی حقیقت کا روپ اختیار نہ کر سکا۔

ساتواں سراب: جون کے اختتام تک پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض حاصل کیا‘ جس نے صورتحال کو کافی حد تک سنبھال لیا لیکن ایسی مالیاتی اصلاحات نہیں کی جا سکی ہیں جن سے حکومت کے جاری اخراجات میں کمی آئے اُور آئندہ قرض لینے کی ضرورت (حاجت) محسوس نہ ہو۔

پاکستان کو چار شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
1: سرکاری اداروں کے لئے خریداری کے طریقہ ¿ کار کی اصلاح کی جائے اُور اِس نظام کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے جوڑ دیا جائے۔ یاد رہے کہ حکومتی ادارے ہر سال 6 کھرب روپے کی اشیاءخریدتے ہیں اُور محتاط اندازہ یہ ہے کہ اِس چھ کھرب روپے کا کم سے کم پچیس فیصد حصہ (یعنی ڈیڑھ کھرب روپے) خردبرد ہو جاتا ہے۔ یہ رقم اِس قدر بڑی ہے کہ اگر حکومت صرف خریداری کے نظام کی اصلاح کرلے تو اُس سے حاصل ہونے والی بچت کی وجہ سے اُسے ’آئی ایم ایف‘ سے قرض لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

2: سرکاری ادارے قومی خزانے پر بوجھ ہیں اگست 2018ءیعنی تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے سے قبل سرکاری ادارے ہر سال 1300 ارب روپے کا خسارہ کرتے تھے جو بڑھ کر 2100 ارب روپے سالانہ ہو چکا ہے۔ اِن سرکاری اداروں کا قومی خزانے پر سے بوجھ کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

3: پاکستان میں بجلی کا پیداواری اُور ترسیلی شعبہ خرابیوں کا مجموعہ ہے۔ اگست 2018ءیعنی تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے سے قبل پاکستان میں سالانہ 1100ارب روپے مالیت کی بجلی چوری ہوتی تھی جو بڑھ کر 1700 ارب روپے ہو چکی ہے۔

4: گیس کی تقسیم کے شعبے کی کارکردگی بھی مثالی نہیں ہے اُور پاکستان میں ہرسال 2 ارب ڈالر کے مساوی گیس چوری ہو رہی ہے۔ حکومت سے درخواست اُور اُمید ہے کہ وہ مذکورہ چار اصلاحات (سرکاری اداروں کے لئے خریداری‘ سرکاری اداروں کی کارکردگی‘ بجلی اُور گیس کی چوری) پر توجہ دے اُور خسارے کا سبب بننے والے اِن بنیادی اُور بڑے شعبوں کی بہتری کے لئے اقدامات کرے گی۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, December 8, 2019

TRANSLATION: The real indicator by Dr. Farrukh Saleem

The real indicator
حقیقی اِشارہ
کسی ملک کی اقتصادی صورتحال پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ’مودیز‘ کی جانب سے پاکستان کے بارے میں تجزیہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق پاکستان جو درجہ بندی کے لحاظ سے پہلے ’منفی (B-Negative)‘ تھا اُسے ’مستحکم (B3-Stable)‘ قرار دیا گیا ہے۔ کیا یہ کوئی ایسی بات ہے کہ جس پر اظہار مسرت اُور خوشیاں منانی چاہیئں؟ حقیقت یہ ہے کہ درجہ بندی میں ’بی تھری (B-3)‘ وہ آخری سیڑھی ہے جس کے بعد کسی ملک کی معیشت دیوالیہ ہونے کے پہلے پائیدان پر قدم رکھتی ہے۔ ’بی تھری‘ کے بعد درجہ ’سی (C)‘ شروع ہوتا ہے اُور اِس درجے میں شامل ممالک جزوی دیوالیہ ہونے کے بعد زوال پذیر معیشت کے ساتھ سفر کر رہے ہوتے ہیں۔

پاکستان کے جیسے طاقتور ملک کے لئے ’بی تھری‘ میں رہنا اپنی شرم کا مقام ہے کیونکہ ماضی میں کئی ایسے ادوار گزرے ہیں جبکہ پاکستان سے متعلق ’مودیز درجہ بندی‘ کافی بہتر تھی۔ 1994ءمیں جب محترمہ بینظیر بھٹو برسراقتدار تھیں تب پاکستان ’بی تھری‘ تھا۔ 2006ءمیں جب صدر پرویز مشرف کی حکومت تھی تب پاکستان ’بی ون (B-1)‘ کے درجے میں تھا۔ کیا مودیز درجہ بندی حقیقت میں قابل بھروسہ بھی ہیں اُور کیا اِن کے ذریعے کسی ملک کی معیشت اُور وہاں ہونے والی اقتصادی سرگرمیاں اُور اصلاحات کو سمجھا جا سکتا ہے؟ کیا یہ درجہ بندی کچھ مطلب بھی رکھتی ہے؟

کرنٹ اکاونٹ: 
پاکستان کے جاری اخراجات (کرنٹ اکاو ¿نٹ) جو کہ گزشتہ برس 19.9 ارب ڈالر تھا کم ہو کر 12.75 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ کیا کرنٹ اکاونٹ میں ہونے والے قومی اخراجات میں یہ کمی خوش آئند ہے؟ حقیقت حال یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی کرنسی (روپے) کی قدر میں 47 فیصد جیسی غیرمعمولی کمی کی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں کچھ (4.8فیصد) بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی کل خام آمدنی (جی ڈی پی) کی شرح نمو کم ہوئی ہے جو پہلے 5.5 فیصد سالانہ تھی‘ کم ہو کر 3 فیصد پر آ گئی ہے۔ لب لباب یہ ہے کہ جاری اَخراجات (کرنٹ اِکاونٹ) کا خسارہ کم کرنے کے لئے حکومت نے اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر دیا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ معاشی صورتحال سے واقفان حال اِس پر اظہار اطمینان نہیں کر رہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی درآمدات 19 ارب ڈالر سے کم ہو کر 14.65 ارب ڈالر ہوئی ہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے جاری اخراجات (کرنٹ اِکاو ¿نٹ) خسارہ کم ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں سست ہوئی ہیں اُور برآمدات میں غیرمعمولی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جس پر جشن منایا جانا چاہئے؟

پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے قرض حاصل کر رکھا ہے اُور پاکستان کی اقتصادیات پر ’آئی ایم ایف‘ کی نگرانی جاری ہے۔ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر یقینا ’آئی ایم ایف‘ کے فیصلہ ساز اُور سبھی عالمی اِدارے اظہار اطمینان کر رہے ہوں گے جنہیں صرف مالیاتی حکمت عملیوں سے مطلب ہے۔ اُنہیں اپنے دیئے گئے قرض کی کم سے کم وقت میں واپسی سے غرض ہے۔ حکمرانوں نے عالمی اداروں کو خوش کرنے کے لئے پاکستان کی معاشی و اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر دیا ہے اُور اِس بات پر کسی بھی صورت اِظہار اِطمینان نہیں کیا جاسکتا۔

مرکزی مالیاتی ادارے (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے نومبر 2019ءکے درمیان سرمایہ کاروں نے 1.097 ارب ڈالر مالیت کے ’ٹی بلز‘ خریدے ہیں۔ کیا یہ اچھی بات ہے؟ یقینا یہ اچھی بات ہے کہ غیرملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ اُن کی سرمایہ کاری پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر اعتماد کی عکاس ہے بلکہ وہ ’بلند ترین شرح سود (کم وقت میں زیادہ منافع)‘ حاصل کرنے کے لئے پاکستان کے ’ٹی بلز‘ خریدتے ہیں۔ اِس طرح قومی خزانے میں ڈالر تو آ جاتے ہیں لیکن وہ اپنے ساتھ زیادہ مقدار میں ڈالر لے بھی جائیں گے اُور تاریخ گواہ ہے کہ اِس طرح کی سرمایہ کاری سے پاکستان کو فائدے سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ اِسی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کاری کی یہ صورت باعث اطمینان نہیں ہے۔ تصور کیجئے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے 1.9 کھرب روپے سود کی مد میں ادا کئے تھے لیکن موجودہ برس یہ رقم بڑھ کر 2.9 کھرب روپے ہو چکی ہے۔ حکومت نے 1.097ارب ڈالر حاصل کئے جس کی وجہ سے اضافی 6.5 ارب ڈالر سود ادا کرنا پڑا۔ کیا ملک کی اقتصادیات کا چلانے کا یہ درست طریقہ ہے؟

پاکستان پر ایسے قرضہ جات کا بوجھ 800 ارب روپے تک جا پہنچا ہے‘ جن کی ادائیگیاں (واپسی) نہیں ہو رہی تو کیا یہ امر باعث اطمینان ہے؟

جی ڈی پی میں اضافہ:
گذشتہ برس پاکستان کی اقتصادی ترقی 5.5 فیصد کے تناسب سے ہوئی جبکہ اِس سال ملک کی خام پیداواری ترقی 3.3 فیصد پر ہے اُور یہ اعدادوشمار وفاقی ادارہ شماریات نے جاری کئے ہیں۔ قومی پیداوار میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ 900 ارب روپے کانقصان ہوا ہے جو قطعی معمولی نہیں۔ قریب 1.2 ارب پاکستانی اپنی نوکریوں سے محروم ہوئے ہیں جبکہ قریب 90 لاکھ پاکستانی ایسے ہیں جنہیں ملک کے اقتصادی حالات نے خط غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے پیشنگوئی کی ہے کہ آئندہ برس پاکستان کی قومی پیداوار میں مزید کمی ہوگی اُور یہ 3.3 فیصد سے 2.8فیصد پر آ جائے گی جس کا مطلب ہے کہ مزید پاکستانی بیروزگار ہوں گے تو جس ملک میں روزگار کے مواقع ہر سال کم ہو رہے ہوں‘ وہاں کے حکمرانوں کی جانب سے معاشی و اقتصادی ترقی کے دعووں پر یقین (اظہار اطمینان) کرنا چاہئے؟

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, December 1, 2019

TRANSLATION: The debt bomb by Dr Farrukh Saleem

The debt bomb
قرضوں کا بوجھ
پاکستان کے قومی قرضوں کا بوجھ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا براہ راست تعلق ملک میں مہنگائی اُور شرح سود سے ہے۔ قیام پاکستان یعنی سال 1947ءسے 2008ء کے 61 سالہ عرصے میں ملک کے 4 گورنر جنرلز‘ 9 صدور اُور 23 وزرائے اعظم گزرے اُور اِن سبھی نے مجموعی طور پر 6 کھرب روپے کا قرض لیا۔ سال2008ءتک ہر پاکستانی (قومی قرضوں کی وجہ سے) 36 ہزار روپے کا مقروض تھا۔

سال 2008ءسے 2013ء کے درمیانی عرصے (پانچ برس) میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ پاکستان نے آصف علی زرداری کی صدارت اُور 2 وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی و راجہ پرویز اشرف کی وزارت عظمیٰ کے ادوار دیکھے۔ اِن تین کرداروں (زرداری‘ گیلانی اُور راجہ) نے پاکستان نے قومی قرض کو 6 کھرب ڈالر سے 16 کھرب ڈالر تک پہنچا دیا یعنی 5 سال کے عرصے میں پاکستان کے قومی قرض میں 10 کھرب (10-trillion) روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اگر اوسط معلوم کی جائے تو پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت (2008-13) کے دوران پاکستان کے قومی قرضے میں ہر دن (یومیہ) ”5.5 ارب روپے“ کا اضافہ کیا جاتا رہا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے مذکورہ 5 سالہ دور حکومت کے اختتام پر ہر پاکستانی اوسطاً 36 ہزار روپے سے 88 ہزار روپے کا مقروض ہو گیا یعنی پانچ سال کے دوران ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ دوگنے سے بھی زیادہ ہو گیا۔

سال 2013ءسے 2018ءکے 5 سالہ دور میں پاکستان نے ممنون حسین بطور صدر اُور 2 وزرائے اعظم میاں نواز شریف و شاہد خاقان عباسی دیکھے۔ اِن تینوں کا تعلق ایک ہی سیاسی جماعت یعنی ’پاکستان مسلم لیگ (نواز)‘ سے تھا۔ نواز لیگ حکومت کے دوران (دوہزار تیرہ سے دوہزار اٹھارہ) پاکستان کے قومی قرضوں کو 16 کھرب روپے سے بڑھا کر 30 کھرب روپے جیسی بلند سطح پر پہنچا دیا گیا یعنی پانچ سال میں 14 کھرب روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اگر نواز لیگ کے آخری دور حکومت کے دوران ہر دن لئے گئے قرض کا تناسب معلوم کیا جائے تو یہ 7.5 ارب روپے یومیہ بنتا ہے۔ لیگی حکومت نے پانچ سال تک ہر دن ساڑھے سات ارب روپے قومی قرض میں اضافہ کیا۔ یوں پانچ سال کے عرصے میں ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ جو کہ پہلے ’88 ہزار روپے‘ تھا بڑھ کر ’1لاکھ 44 ہزار روپے‘ ہو گیا۔

سال 2018ءسے 2019ئ‘ صدر مملکت عارف علوی اُور وزیراعظم عمران خان ہیں۔ اِن دونوں کا تعلق ’پاکستان تحریک انصاف‘ سے ہے۔ موجودہ حکومت کے 2 سال کی مالیاتی کارکردگی کا ایک رُخ یہ ہے کہ جولائی دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے بعد ’تحریک انصاف‘ کے برسراقتدار آنے کے وقت پاکستان کے قومی قرضوں کا کل حجم 30 کھرب روپے تھا اُور ماضی کی طرح موجودہ حکومت نے بھی قرض لینے کا سلسلہ جاری رکھا اُور قومی قرض کو 41 کھرب روپے پر پہنچا دیا یعنی اب تک (ایک سال کے عرصے میں) ’11 کھرب روپے‘ قرض لیا جا چکا ہے‘ جس کی اگر یومیہ اوسط نکالی جائے تو پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں ہر دن ’30 ارب روپے‘ قرض لیا گیا ہے۔ حکومت کی مالیاتی کارکردگی‘ ترجیحات اُور منصوبہ بندی کا اندازہ اِس اَمر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ 71 سال کے دوران پاکستان نے 30 کھرب روپے قرض لیا جبکہ تحریک انصاف نے ’1 سال‘ کے دوران ’11 ارب روپے‘ لیا ہے۔ تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے قبل ہر پاکستانی ’ایک لاکھ 44 ہزار روپے‘ کا مقروض تھا لیکن اب ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ ’1 لاکھ 87 ہزار روپے‘ ہو چکا ہے۔

لمحہ فکریہ ہے کہ قیام پاکستان سے 71 سال کے سفر میں قومی قرض میں ’73 فیصد‘ جبکہ ایک سال میں ’27فیصد‘ اضافہ ہوا ہے۔ تحریک انصاف کے مالیاتی مشیر اُور حساب دانوں کا دعویٰ ہے کہ اُنہوں نے قومی قرض کے حجم میں اضافہ نہیں کیا بلکہ تحریک انصاف نے ماضی میں لئے گئے قرض واپس کئے ہیں اُور قومی مالیاتی ذمہ داریوں کے بوجھ کو کم کیا ہے لیکن برسرزمین حقائق مختلف ہیں۔ اگر تحریک انصاف نے قرض نہ لیا ہوتا اُور قومی قرضوں کی واپسی کی ہوتی تو پھر پاکستان کی واجب الاداءمالی ذمہ داریوں میں ایک سال کے دوران ”11 کھرب روپے“ کا اضافہ نہ ہوا ہوتا۔ آخر یہ کیسے ہو گیا کہ تحریک انصاف نے قرض نہیں لیا اُور واجب الاداءقرضوں کی واپسی بھی کی لیکن پھر بھی پاکستان پر قرض بڑھ گیا ہے؟

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن تحریک انصاف نے ایک سال کے دوران ’گیارہ کھرب روپے‘ قرض لیا ہے۔ اِس قرض میں روپے کی قدر میں کمی سے ہونے والا اضافہ بھی شامل ہے لیکن یہ اضافہ ماضی میں لئے گئے قرضہ جات میں بھی شمار کیا گیا ہے کیونکہ روپے کی قدر میں کمی بیشی تب بھی ہوا کرتی تھی۔ اِس لئے کسی بھی دور حکومت کے دوران لئے گئے مجموعی قومی قرض کا موازنہ دوسرے حکومتی دور میں لئے گئے مجموعی قومی قرضوں ہی سے کیا جائے گا۔
سال 1971ءمیں ہر پاکستان فرد (مرد‘ عورت یا بچے) کے ذمے 500 روپے قومی قرض تھا اُور 48 برس میں ہر پاکستانی فرد ”1 لاکھ 87 ہزار روپے“ کا مقروض ہو چکا ہے۔

قرض وقتی طور پر راحت کا باعث ضرور ہوتے ہیں لیکن جب ایک خاص حد سے زیادہ قومی قرضوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اِس کی وجہ سے ’ملکی شرح سود‘ میں اضافہ کرنا پڑتا ہے اُور معیشت قرضوں کی عادی ہونے لگتی ہے کیونکہ مصنوعی طریقے سے معیشت کو چلانے میں اِس کی ناکامی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ جہاں خسارے (قومی معاشی ناکامی) کے امکانات زیادہ ہوں‘ وہاں یا تو سرمایہ کاری نہیں ہوتی یا سرمایہ کار احتیاط سے کام لیتے ہوئے زیادہ مراعات اُور منافع کا تقاضہ کرتے ہیں اُور اِن دونوں روئیوں (حکمت عملیوں) کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومی اقتصادی ترقی یا تو بالکل رُک جاتی ہے یا پھر اِس کی شرح نمو میں اضافہ نہیں ہوتا۔

حد سے زیادہ قومی قرضہ جات میں اضافے کی مثال ایک ایسی گاڑی میں سفر سے دی جا سکتی ہے جو اپنی جگہ پر کھڑی ہو لیکن اُس کے اندر بیٹھے ہوئے افراد سمجھ رہے ہوں کہ سفر جاری ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, November 17, 2019

TRANSLATION: The gap by Dr Farrukh Saleem

The gap
فرق و تضاد

حکومت کی ترجیحات اُور عوام کی توقعات کے درمیان ’زمین آسمان کا فرق‘ نمایاں ہے۔ مثال کے طور پر زمین پر جب ٹماٹروں کی فی کلوگرام قیمت 320 روپے تھی تب حکومت کے اہم رکن نے کہا کہ یہ 17 روپے فی کلوگرام ہیں۔ اِسی طرح جب زمین پر موسمی سبزی مٹر کی فی کلوگرام قیمت 100 روپے تھی تو حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ یہ 5 روپے فی کلوگرام ہے۔ اِسی طرح اہل زمین کو عام گاڑی سے سفر کرنے میں جتنی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے حکومت کی نظر میں ہیلی کاپٹر سے فی کلومیٹر 55 روپے میں سفر ہوتا ہے۔ یہ سبھی مثالیں اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ برسراقتدار طبقے اُور عوام کو مختلف قسم کے حالات درپیش ہیں اُور دونوں ہی کے لئے حالات سے نمٹنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

حکومت کے لئے پاکستان کی معاشی واقتصادی نظام کو درست کرنا ایک ضرورت اُور مشکل ہے جس کے لئے اُس نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے بھاری سود اُور سخت مالیاتی نظم و ضبط لاگو کرنے جیسی شرائط پر قرض حاصل کیا ہے جبکہ عام آدمی کی مشکل یہ ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط کے نام پر کئے گئے اقدامات سے سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں۔ ملک میں بیروزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے۔ حکومت خوش ہے کہ اُس نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کر دی ہیں اُور عوام فکرمند ہے کہ اُن کا معاشی مستقبل پہلے سے زیادہ غیرمحفوظ ہو چکا ہے۔ ملک میں غربت بڑھ رہی ہے۔ روزگار کو تحفظ حاصل نہیں جبکہ مہنگائی کی شرح اِس کے علاو ¿ہ اضافی بوجھ ہے۔ خلاو ¿ں میں رہنے والوں پر زمین کی سطح پر پائی جانے والی ’کشش ثقل‘ کا اثر نہیں ہوتا یا بہت کم ہوتا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ وفاقی کابینہ کے اراکین جب چھانگ مارتے ہیں تو وہ زیادہ بلندی تک ہوا میں اُڑتے ہیں اُور سمجھتے ہیں کہ اہل زمین (ہم عوام) بھی ایسی ہی صورتحال سے محظوظ ہو رہے ہوں گے۔ حکومت کے لئے بجلی و گیس کے بلوں میں اضافہ معمولی سی بات ہے اُور یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں گیس کے بلوں میں ڈھائی سے چھ روپے فی یونٹ اضافہ کر دیا گیا کیونکہ کابینہ کے کسی رکن کے لئے ڈھائی سے چھ روپے اضافہ معمولی سی بات ہے لیکن ایک ایسا شخص جس کی یومیہ آمدنی ہر دن کم ہو رہی ہے اُور اُسے ایک بڑے کنبے کی کفالت کرنی ہے لیکن اُس کی مالی ذمہ داریوں میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے!

خلاوں میں رہنے والوں کے لئے موسمیاتی تبدیلی‘ فضائی آلودگی اُور آب و ہوا کی خرابی کوئی مسئلہ نہیں لیکن زمین پر رہنے والوں کو آلودہ ہوا میں سانس لینے کی وجہ سے بیماریاں لاحق ہو رہی ہیں۔ زراعت و کاشتکاری کو الگ سے خطرات لاحق ہیں جبکہ پاکستان کے کئی شہروں کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شمار کر لیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں سیاحت کی ترقی کیونکر ممکن ہو گی جبکہ پاکستان کے مرکزی شہروں کی فضا آلودہ ترین ہیں!؟

1700 کے اواخر کی بات ہے جب ملکہ ماری (Queen Marie Antoinette) سے کہا گیا کہ عوام روٹی نہ ملنے کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں تو اُنہوں نے کہا تھا کہ وہ کیک کیوں نہیں کھا لیتے؟ فرانس کے حکمرانوں کا یہ رویہ اُنہیں لے ڈوبا تھا اُور 14جولائی 1789ءکو ’فرانسیسی انقلاب‘ میں شریک عوام نے بادشاہت کا تختہ اُلٹا۔ یاد رہے کہ فرانسیسی انقلاب 1789ءمیں شروع ہوا تھا۔

پاکستان میں مہنگائی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اُور اِس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہوئے کوئی حل نکالنا چاہئے۔ حال ہی میں ہوئے گیلپ و گیلانی سروے (Gallup & Gilani Poll) سے معلوم ہوا کہ 53فیصد پاکستانیوں کے لئے مہنگائی 23 فیصد کے لئے بیروزگاری جبکہ صرف 4فیصد کے لئے بدعنوانی بڑا مسئلہ ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کا ایک تعلق بجلی و گیس اُور پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر حکومت کم سے کم بجلی و گیس کی قیمتوں میں آئے روز اضافے سے گریز کرے تو اِس سے مارکیٹ میں ایک طرح کا استحکام دیکھنے میں آئے گا۔ حکومت قریب 2 کھرب روپے بجلی و گیس کی قیمت میں اضافے اُور اضافی ٹیکسوں سے حاصل کر رہی ہے‘ جس کی وجہ سے عام آدمی کی قوت خرید میں مسلسل کمی کا رجحان ہے اُور جب قوت خرید کم ہوتی ہے تو پیداواری اداروں کو اپنی پیداوار کم کرنا پڑتی ہے جس کے لئے مزدوروں کی تعداد گھٹانا پڑتی ہے اُور یوں معیشت زوال پذیر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ مہنگائی کے محرکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے عوام سے متعلق فیصلہ سازی اُسی سطح پر کی جائے جہاں عوام رہتے ہیں۔ اِس کے لئے فیصلہ ساز کو زمین پر اُترنا ہوگا جہاں پاکستان کے معاشی حالات اُن کی سوچ سے زیادہ مختلف اُور گھمبیر ہیں۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)


Sunday, November 10, 2019

TRANSLATION Wrong focus by Dr Farrukh Saleem

Wrong focus
غلط ترجیحات
پہلی ترجیح‘ ٹیکس وصولی: اِصطلاحی طور پر ٹیکس وصولی ایک ایسی اقتصادی سرگرمی کا نام ہے جس کی وجہ سے اقتصادی ترقی ہو اُور اِس ترقی کے نتیجے میں ٹیکس وصول ہونے کی شرح میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جائے۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ کسی ملک میں اقتصادی سرگرمیاں تو سکڑ رہی ہوں لیکن وہاں کی حکومت ٹیکس وصولی کے زیادہ بڑے اہداف مقرر کر کے بیٹھی ہو۔ پاکستان حکومت بھی ایک ایسا ہی غلط گمان کئے بیٹھی ہے کہ اِسے اقتصادی بحران کے حالات میں عوام اُور کاروباری طبقات سے زیادہ ٹیکس وصول کرنا چاہئے۔ فیصلہ سازوں کو غور کرنا چاہئے کہ اصل ضرورت ’اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے‘ کی ہے‘ جس سے ٹیکس وصولی کی شرح میں خودبخود اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس لاگو کرنے سے پہلے آمدن کے لحاظ سے طبقات کو تقسیم کرنے کا ہے۔ فیصلہ سازوں کو تین سوالات کے جوابات تلاش کرنے ہیں۔
1: ٹیکس کون ادا کرے گا؟
2: ٹیکس کتنا ادا کرے گا اُور
3: ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کے کتنے فیصد حصے کا حکومت اپنے اخراجات کے لئے استعمال کر سکتی ہے؟

مساوات اُور انصاف یہ ہے کہ ٹیکس مالی حیثیت کے مطابق نافذ ہو یعنی ملک کے سرمایہ دار طبقات کو نسبتاً زیادہ اُور کم آمدنی یا کم مالی حیثیت رکھنے والوں پر اِسی شرح سے ٹیکسوں کا کم بوجھ لادا جائے۔ پاکستان میں ٹیکس وصولی کے اہداف اُور ٹیکسوں سے متعلق حکومت کی پالیسی کا جائزہ لیں تو صورتحال بالکل متضاد اُور مختلف نظر آتی ہے۔ ہمارے ہاں طرزحکمرانی عوام دوست نہیں بلکہ اِس میں خواص کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ زیادہ آمدنی اُور زیادہ مالی حیثیت رکھنے والوں کی نسبت کم آمدنی اُور کم مالی حیثیت رکھنے والے طبقات سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
دوسری ترجیح‘ ماضی کی غلامی: پاکستان کی حکومت آگے (مستقبل) کی جانب دیکھنے کی بجائے پیچھے (ماضی) کی جانب دیکھتے ہوئے سفر کر رہی ہے۔ ایسا سفر حادثات کا باعث بن سکتا ہے۔ حکومت کی ساری کوشش یہ جاننے میں لگی ہوئی ہے کہ ماضی کے حکمرانوں میں شامل کرداروں میں سے کس نے کتنے قومی وسائل ذاتی اثاثوں میں منتقل کئے۔ اگر یہ طرزعمل جاری رہا کہ حکومت آگے کی بجائے پیچھے کی جانب دیکھتی رہی تو اِس کا انجام یا تو یہ ہوگا کہ آگے کی جانب سفر رک جائے یا اگر سفر جاری رہا تو یہ حادثے کا سبب بنے گا۔ حکمراں جماعت کو انسداد بدعنوانی اُور اقتصادی حکمت عملی میں تمیز کرنا ہوگی۔ پاکستان کی ضرورت ایک ایسے تربیت یافتہ‘ اہل ادارے کی ہے جو ملک میں ’انسداد بدعنوانی‘ جیسے انتظامات کر سکے۔ قومی احتساب بیورو یہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے کیونکہ اِس کی خاطرخواہ تربیت نہیں۔ اِس کی خاطرخواہ صلاحیت نہیں اُور اِسے خاطرخواہ آزادی حاصل نہیں۔

تیسری ترجیح‘ غیرملکی سرمایہ کار: پاکستان کی نظریں غیرملکی سرمایہ کاروں پر لگی ہوئی ہیں اُور اِس ماحول میں انہیں ملکی سرمایہ کار دکھائی نہیں دے رہے جو سالانہ قریب 5000 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرتے ہیں اُور یہ سرمایہ کاری بیرونی سرمایہ کاری سے زیادہ ہے۔ اِس لئے حکومت کو بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے مواقع اور مراعات کی تشکیل سے زیادہ ملکی و مقامی سرمایہ کاروں کے بارے میں سوچنا چاہئے اُور اُنہیں ایسا ماحول دینا چاہئے کہ جس میں وہ حکومت پر اعتماد کرتے ہوئے پہلے کی نسبت زیادہ سرمایہ کاری کریں۔

چوتھی ترجیح‘ شرح سود: حکومت نے آمدن بڑھانے کے لئے شرح سود میں اضافہ کیا ہے جو فی الوقت دس فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔ اِس کا نقصان یہ ہے کہ کم وقت کے لئے سرمایہ کاری کرنے والے زیادہ منافع کما کر چلتے بنیں گے اُور ملک کے اقتصادی مسائل جوں کے توں برقرار رہیں گے اُور دوسرا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ملک میں کاروبار کرنے کی لاگت بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے نئے روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے اُور اِس کا نتیجہ یہ بھی نکل رہا ہے کہ بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پانچویں ترجیح‘ درآمدات میں کمی: حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان کی درآمدات میں کمی ہو۔ اِس مقصد کے لئے اب تک کئے گئے اقدامات میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ اصولاً درآمدات میں کمی سے زیادہ برآمدات میں اضافے پر توجہ دینی چاہئے۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان پیٹرولیم مصنوعات (تیل‘ کوئلہ‘ مائع گیس اُور مشینری) درآمد کرنے پر سالانہ 30ارب ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ ضروری اشیائے خوردونوش کی درآمد پر سالانہ 4 ارب ڈالر اُور لوہے (iron) و سٹیل (steel) کی درآمدات پر سالانہ 3 ارب روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔

برآمدات میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔ کم و بیش ’5 برس‘ قبل بنگلہ دیش اُور پاکستان ایک جیسی مالیت کی برآمدات کرتا تھا یعنی بنگلہ دیشی اُور پاکستانی برآمدی حجم 25 ارب ڈالر تھا لیکن پانچ برس بعد کی صورتحال یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی برآمدات سالانہ 25 ارب ڈالر سے بڑھ کر سالانہ 40 ارب ڈالر ہو چکی ہیں جبکہ پاکستان کی برآمدات 25 ارب ڈالر سے کم ہیں! اگر پاکستان 40 ارب ڈالر کی برآمدات کرے اُور اِسے ترسیلات زر سے 24 ارب ڈالر ملیں تو اِس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ کم ہو گا اُور ملک کی اقتصادی صورتحال ایک ایسے توازن پر آن کھڑی ہو گی‘ جس کی ضرورت ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
............

Sunday, October 27, 2019

Maulana, please reconsider by Dr. Farrukh Saleem

Maulana, please reconsider
تخریب نہیں تعمیر!

بیرونی طاقتیں پاکستان میں انتشار چاہتی ہیں۔ سیاسی عدم استحکام سے پاکستان کی معاشی ترقی اور اصلاحات کا جاری عمل رک جائے گا جبکہ اِس سے قومی ادارے بشمول پاک فوج کا ادارہ بھی کمزور ہوگا اُور اگر پاکستان عدم استحکام سے دوچار ہوتا ہے تو اِس کی وجہ سے متاثر ہونے والوں میں سرفہرست پاک فوج ہی ہوگی‘ جس کی دہشت گردی و انتہاءپسندی کے خلاف جاری کوششیں ڈھکی چھپی نہیں۔

پاکستان کے طول و عرض میں‘ اِن دنوں‘ ہر کوئی جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ روزمرہ معمولات سرانجام دیتے ہوئے جس کسی سے بھی بات چیت کا موقع ملتا ہے اُس کی کوشش ہوتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار اُور ستائیس اکتوبر سے شروع ہونے والے ’آزادی مارچ‘ کے بارے میں اپنے محتاط یا غیرمحتاط خدشات کا اظہار کرے۔ متوقع ہے کہ ’آزادی مارچ‘ اکتیس اکتوبر کے روز ’اسلام آباد‘ سے ٹکرائے گا۔ ہر جگہ اُور ہر سطح پر ’آزادی مارچ‘ کی دھوم ہے۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ پاکستان کے 98فیصد بالغ لوگ اپنے اپنے پیشوں سے وابستہ مزدوری کرنے والے محنت کش ہیں جبکہ باقی 2 فیصد لوگ وہ ہیں جنہیں تشہیر چاہئے یعنی وہ ہر حال اُور بہرصورت خبروں‘ اخبارات اُور ذرائع ابلاغ کی زینت رہنے (خودنمائی) کے شوق (لت) میں مبتلا ہیں!

صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ’آزادی مارچ‘ کے عنوان سے جو کچھ بھی ہونے جا رہا ہے اُس سے حکومتی امور اُور عوام کے معمولات زندگی بُری طرح متاثر ہوں گے۔ یہ خلل کس قدر پاکستان کے حق میں ہے‘ اِس بارے میں بہت کم بات کی جاتی ہے اُور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی‘ معاشی و اقتصادی‘ دفاعی اور داخلی صورتحال اُس مقام پر کھڑی ہے‘ جہاں ایسا کوئی بھی خلل‘ ایسا کوئی بھی اقدام ’تعمیر‘ کی بجائے ’تخریب‘ کا باعث بنے گا اُور یقینا سیاسی و مذہبی جماعتوں کا قطعی مقصود نہیں ہوگا کہ وہ حب الوطنوں کی طرح کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ اُن کے کسی اقدام‘ فعل یا کلام سے ’پاکستان کا نقصان ہو۔‘

پاکستان میں اِن دنوں کیا ہو رہا ہے‘ آیئے اُن پر ایک نظر کرتے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) چاہتا ہے کہ وہ ملک میں بجلی و گیس کی فروخت کو اپنے ہاتھ میں لے۔ اگر ایسا ہوگیا تو تصور محال ہے کہ اِس کے بعد کیا ہوگا۔ ’2 نومبر‘ کے روز ’تحریک لبیک پاکستان‘ کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کا اعلان سامنے آ چکا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ اِس تحریک کی جانب سے نامزد اُمیدواروں نے 2018ءکے عام انتخابات میں مجموعی طور پر 22 لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے۔ ’3 نومبر‘ کے روز ’تبلیغی جماعت‘ سے وابستہ لوگ رائیونڈ اجتماع میں ہونے دعا میں شریک ہوں گے۔ اندازہ ہے کہ اِس موقع پر 20 لاکھ جمع ہوتے ہیں۔ نومبر ہی کے مہینے میں پاکستان کو لئے ہوئے قرض کی ایک ارب ڈالر قسط ادا کرنی ہے۔ قومی خزانے پر ایسے قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے جن کا استعمال غیرترقیاتی کاموں پر ہو رہا ہے یعنی قرض لیکر قومی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ اِسی طرح پاکستان میں بیروزگاری بھی بڑھ رہی ہے اُور ’ایف اے ٹی ایف (FATF)‘ کی تلوار الگ سے لٹک رہی ہے‘ جس سے بچنے کے لئے پاکستان کو صرف چار مہینوں کا وقت دیا گیا ہے۔ اِن سبھی واقعات اُور پہلوو ¿ں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ایسا کوئی بھی عمل ہوتا ہے جس سے ملک عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو یہ قطعی طور پر پاکستان کے حق میں مفید نہیں ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن دور اندیش‘ سیاسی بصیرت سے مالا مال اُور ایک منظم انسان ہیں‘ جنہوں نے جمعیت کو ملک کے تین صوبوں (خیبرپختونخوا‘ بلوچستان اُور سندھ) میں تنظیم سازی اُور اثرورسوخ کا لوہا منوایا ہے۔ عام انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام کل ڈالے گئے ووٹوں کا صرف 2 فیصد حاصل کرتی ہے لیکن جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) خود کو 2 فیصد نہیں بلکہ ملک کے زیادہ بڑے طبقے کی رائے کی ترجمان قرار دیتی ہے جو یقینا اِس کے قد کاٹھ سے زیادہ بڑا دعویٰ ہے۔

اگر ہم جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کی سیاست کا جائزہ لیں تو 1985ءسے برسراقتدار آنے والے گذشتہ 5 حکومت کے ادوار میں یہ کسی نہ کسی صورت حکومت کا حصہ رہی ہے۔ اِس جماعت سے تعلق رکھنے والے غیرمعمولی طور پر مالی عطیات دینے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے اُور یہ اَمر بھی ذہن نشین رہے کہ جب تحریک انصاف نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو مولانا فضل الرحمن اُس کے مخالفین میں پیش پیش تھے۔

مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ’جمعیت علمائے اسلام‘ کا تعلق ’دیوبندی‘ مسلک سے ہے‘ جو اسلامی عقائد میں ’سنی حنفی (اہلسنت والجماعت)‘ نظریہ فکر کے احیاءکی علمی تحریک ہے۔ دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے دنیا کے مختلف حصوں کی نسبت پاکستان‘ بھارت‘ افغانستان‘ بنگلہ دیش‘ برطانیہ اُور جنوبی افریقہ میں زیادہ بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں 2 کروڑ دیوبندی ہیں۔ ملک کے کل 35 ہزار مدارس میں سے 23 ہزار مدارس کا تعلق دیوبند سے ملنے والی اسلامی فکر و اعمال سے ہے۔ ذہن نشین رہے کہ قیام پاکستان کے وقت (1947ءمیں) ملک میں مدارس کی کل تعداد 189 تھی۔ فی الوقت پاکستان میں 20لاکھ بچے مدارس میں زیرتعلیم ہیں جن میں سے 13 لاکھ کا تعلق دیوبند سے ہے۔

پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔
بیرونی ملک دشمن طاقتیں پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتی ہیں اُور اِس مرحلے پر ملک کی سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات اُور ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہیئں۔ مولانا فضل الرحمن سے درخواست کے ساتھ اُمید ہے کہ وہ ’آزادی مارچ‘ کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں گے اُور ایسی کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے‘ جس سے پاکستان کمزور ہو اُور جس میں ملک دشمن داخلی و خارجی طاقتیں اُن کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
............

Sunday, October 6, 2019

TRANSLATION: The happy mind by Dr Farrukh Saleem

The happy mind
مسرت و اطمینان !
انسانی ذہن میں سمجھ بوجھ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو سمجھنے اُور سمجھانے والے معروف مصنف ’کیوین ہارسلے (Kevin Horsley)‘ کی ایک اُور مصنف سے مشترک تحریر کردہ کتاب ’دی ہیپی مائنڈ (The happy mind)‘ لائق مطالعہ ہے‘ جس کے مطالعے سے کم سے کم چار باتیں سیکھی جا سکتی ہیں۔ پہلی بات: خوشی اُور لذت دو الگ الگ جذباتی رجحانات ہیں۔ دوسری بات: ضروری نہیں کہ خوشی کا تعلق ہمیشہ بیرونی محرکات پر ہی ہو بلکہ یہ داخلی طور پر بھی اطمینان سے حاصل ہو سکتی ہے۔ تیسری بات: خوشی کا تعلق ہمارے حال سے مستقبل سے نہیں۔ پرآسائش مصنوعات بنانے والے اِس مغالطے کی تشہیر کرتے ہیں کہ اگر صارف اُن کی تیارکردہ اشیاءاستعمال کریں تو اُن کی آنے والی زندگی میں خوشیاں بھر جائیں گی۔ چوتھی بات: خوشی دوسروں سے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ ہمارے اندر موجود نہ ہو۔

زندگی میں اطمینان نہ تو مال و زر سے حاصل ہو سکتا ہے اُور نہ ہی اشیاءکی بھرمار سے۔ عمومی غلطی یہ سرزد ہوتی ہے کہ خوشی کو متفرق اَشیاءجیسا کہ گاڑی یا کسی پسندیدہ مقام کے سفر یا کسی ذاتی کارکردگی سے جوڑ دیا جاتا ہے کہ اِن کے ذریعے اطمینان و مسرت حاصل ہوگی۔ مصنف لکھتے ہیں اشیاءمثلاً گاڑیوں‘ آلات اُور دیگر ایسی تمام چیزیں کہ جنہیں خریدا جا سکے وہ ہمیں وقتی طور پر مسرت (خوشی کا جزوی احساس) دلاتی ہیں اُور یہیں سے غلطی کی ابتدا ¿ ہوتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اطمینان پانے کے لئے بیرونی ذرائع کی جانب زیادہ توجہ مبذول کرتے ہیں جبکہ اُن داخلی محرکات کو فراموش کر دیتے ہیں‘ جن سے حاصل ہونے والا اطمینان اُور خوشی ہی حقیقی اُور دائمی ہوتی ہیں۔

سوال: اطمینان و مسرت کی تلاش کہاں کی جائے؟
جواب: انسانی زندگی کو نت نئے تجربات کے ذریعے جس اطمینان و مسرت کی تلاش رہتی ہے اُس کا تعلق صرف اُور صرف ہمارے ’حال (Present)‘ سے ہے لیکن غلطی یہ ہوتی ہے کہ ہم اِسے ماضی (Past) یا مستقبل (Future) میں تلاش کرنے میں اپنی تمام تر صلاحیتیں‘ وسائل اُور وقت سے سرمایہ کاری کرتے رہتے ہیں لیکن اپنے حال (Present) پر توجہ نہیں دیتے جو زیادہ اہم (ضروری) ہے۔ ایک خوشحال زندگی کی ضامن سوچ گزشتہ کل یا آنے والے کل سے نہیں بلکہ آج سے متعلق ہوتی ہے اُور آج ہی پر مبنی ہونی چاہئے۔

خوشی (Happiness) و مسرت (pleasure) الگ الگ محسوسات ہیں اُور یہ ایک ہی چیز کے دو نام نہیں۔ مسرت کا تعلق ہمارے احساسات سے ہے جبکہ خوشی ایک حالت ہے۔ مسرت وقتی اور مختصر ہوتی ہے۔ خوشی طویل العمیادی ہوتی ہے۔ مسرت کا تعلق جذبات سے ہے۔ خوشی کا تعلق داخلی اطمینان (inner-peace) سے ہے۔ اطمینان حواص خمسہ کی سرگرمی سے حاصل ہوتی ہے۔ خوشی داخلی اطمینان کا نتیجہ ہے۔ مسرت کسی بیرونی ذریعے سے حاصل کی جا سکتی ہے لیکن خوشی کے لئے ایسا ممکن نہیں جب تک کہ یہ ہمارے اندر سے ظہور نہ کرے۔

مصنف کیوین ہارسلے نے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ہمیں خوشی (اطمینان) اور مسرت میں تمیز کرنی چاہئے اُور اِن دونوں کے درمیان میں فرق کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی زندگیوں (سرگرمیوں) کا جائزہ لینا چاہئے تاکہ حقیقی خوشی اور حقیقی مسرت سے لطف اندوز اور مستفید ہوسکیں۔

انسانی زندگی خیالات اُور اعمال کا مجموعہ ہوتی ہے جو ہنوز سربستہ راز ہے۔ گذشتہ پچاس برس سے معروف ماہر نفسیات و ذہنی صحت سے متعلق طبی علوم کے ماہر (neuro-scientist) رچرڈ ڈیوڈسن (Richard Davidson) کا ماننا ہے کہ ”خوشی کا تعلق اردگرد پھیلی‘ متعلقہ و غیرمتعلقہ اشیاءکے انباروں سے نہیں بلکہ داخلی طور پر اِس اطمینان سے ہے جس پر قناعت کا عنصر غالب ہو۔“

دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمیں اپنے اردگرد ایسے لوگ ملتے ہیں جو اپنی حالت میں محدود اُور کم مالی و مادی وسائل رکھنے کے باوجود بہت مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ وہ قدرت کی خوبصورتیوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ اُن کی زندگیوں میں کھلتے ہوئے پھول اور طلوع و غروب ہوتا سورج خوشیاں بھر دیتا ہے۔ وہ اپنی صحت اور تندرستی کو لیکر شکرگزار دکھائی دیتے ہیں۔ وہ زندگی کی مشکلات کو خود پر حاوی ہونے نہیں دیتے بلکہ حالات کا مثبت سوچ سے مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کو معاف کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے دوستوں کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ وہ دوستوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ وہ زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ اُنہیں دوسروں کی خوشیوں میں اپنی خوشیاں پنہاں دکھائی دیتی ہیں۔ وہ مل جل کر رہتے ہیں۔ وہ دوسروں کو تبدیل کرنا نہیں چاہتے اور نہ ہی دوسروں پر اپنی مرضی ٹھونستے ہیں۔ وہ اپنی زندگیوں کو سادگی سے بھر دیتے ہیں۔ اپنی خواہشات پر قابو رکھتے ہیں اُور جو کچھ اُن کے پاس ہوتا ہے اُسے ہی کافی سمجھتے ہیں۔

انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کتنا خوش (مکمل) اُور کتنا مشکل (نامکمل) سمجھے کیونکہ خوشی و مسرت یعنی زندگی کے اطمینان کا تعلق بیرونی ذرائع سے نہیں بلکہ داخلی حالت سے ہے۔ کسی عاقل کا قول ہے کہ میں کبھی بھی اِس بات میں دو رائے کا شکار نہیں ہوا کہ بہتر کارکردگی اُور بہتر نتائج جیسے دونوں امور میری ذمہ داری ہیں۔ سوچ سمجھ کر امور زندگی کی انجام دہی (excellence) اختیار کرنا میرا کام ہے جبکہ اِس کی تکمیل و نتائج (perfection) کا انحصار خالق کائنات کے ہاتھ میں ہے (جو عمل کی سزا و جزا کو نیت سے بدل دیتا ہے۔) 

.... (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, September 29, 2019

TRANSLATION: Cut Corporate Tax by Dr. Farrukh Saleem

Cut corporate tax
کاروباری ٹیکس اور معیشت!

سوال: کیا وزیراعظم عمران خان پاکستان کی معاشی اِصلاح کر سکیں گے؟ جواب: عمران خان میں یہ صلاحیت بدرجہ¿ اتم موجود ہے کہ وہ جس چیز کا وعدہ کریں اُسے عملاً کر بھی دکھائیں۔ ایسا کیوں نہ ہو آخر یہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان کے ایسے پہلے وزیراعظم ہیں‘ جن کے ذاتی و سیاسی اہداف اور قومی اہداف ایک دکھائی دیتے ہیں۔ اِس سلسلے میں وضاحت پیش ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور سرفہرست دشمن ’بیروزگاری‘ ہے جس کے کئی محرکات ہیں۔
گاڑیاں: اگست 2018ء میں 15 ہزار 389 نئی گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں جبکہ اگست 2019ءمیں 9 ہزار 126 نئی گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ یوں ایک سال کے عرصے میں گاڑیوں کی فروخت میں 40 فیصد جیسی غیرمعمولی کمی آئی ہے۔ کرولا (ٹیوٹا) گاڑیوں کی فروخت میں 58فیصد‘ ہونڈا (سوک) گاڑیوں کی فروخت میں 68 فیصد اُور سوزوکی (ویگنور) کی فروخت میں 71 فیصد کمی آئی ہے۔ ہنڈا‘ انڈس اُور سوزوکی نامی موٹر ساز صنعتیں 10 ہزار ملازمتیں فراہم کرتی ہیں اور ایسی ہر براہ راست ملازمت کے ساتھ 8 دیگر ملازمتیں جڑی ہوتی ہیں یعنی کاروباری سرگرمیوں سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اگر ہم پاکستان میں گاڑیاں بنانے والے اداروں کی بات کریں تو مجموعی طور پر اِس صنعت سے 80 ہزار افراد ملازمتیں وابستہ ہیں اور یوں 5 لاکھ 36 ہزار افراد کی کفالت ہو رہی ہے کیونکہ 80 ہزار افراد 6.7 افراد فی خاندان کے تناسب سے اوسط خاندان تشکیل دیتے ہیں۔

ٹرک: جولائی اگست 2018ءمیں 1 ہزار 199 نئے ٹرک فروخت ہوئے۔ جولائی اگست 2019ءمیں 648 نئے ٹرک فروخت ہوئے اور یوں ٹرکوں کی فروخت میں ایک سال کے دوران 46فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ یہی صورتحال بسوں کی بھی ہے کہ جولائی اگست 2018ءمیں کل217 نئی بسیں فروخت ہوئیں جبکہ جولائی اگست 2019ءکے دوران 160 بسیں فروخت ہوئیں اور یوں 26فیصد کم بسیں فروخت ہوئی ہیں۔

ٹریکٹرز: جولائی اگست 2018ءکے دوران 7 ہزار 831 ٹریکٹر فروخت ہوئے۔ جولائی اگست 2019ءمیں 5 ہزار 592 نئے ٹریکٹر فروخت ہوئے جو ٹریکٹروں کی فروخت میں 29فیصد کمی کا اشارہ ہے۔ مالی سال 2018ءکے مقابلے 2019ءمیں موٹرسائیکلوں کی فروخت میں بھی 13فیصد کمی آئی ہے۔ سال 2019ءکے دوران 24 لاکھ موٹرسائیکل فروخت ہوئے اُور سیلز میں اِس کمی کی وجہ سے 15فیصد مزدوروں کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ اُمید ہے کہ حکومت اِن اُور دیگر صنعتوں کو مشکلات سے نکالنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کرے گی۔

فیصل آباد میں کپڑوں پر نقش و نگار بنانے کی صنعت جسے ایمبریڈیری (embroidery) کہا جاتا ہے مشکل دور سے گزر رہی ہے اور قریب المرگ ہے اُور اگر حکومت نے خاطرخواہ توجہ نہ دی تو اندیشہ ہے کہ اِس صنعت سے وابستہ 2 لاکھ افراد بیروزگار ہو جائیں گے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی مانگ میں بھی کمی آئی ہے۔ جولائی اگست 2018ءکے درمیان 17 لاکھ ٹن تیل درآمد ہوا جبکہ جولائی اگست 2019ءمیں 9 لاکھ ٹن تیل درآمد ہوا ہے جو 46فیصد کمی ہے۔ اِس کے علاوہ بہت کچھ ایسا بھی ہو رہا ہے جو قبل ازیں دیکھنے میں نہیں آیا۔ جیسا کہ قائداعظم یونیورسٹی‘ سندھ یونیورسٹی اور سندھ ایگری کلچر یونیورسٹی نے بینکوں سے قرض لیکر ملازمین بشمول اساتذہ کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات ادا کئے ہیں۔

جولائی اگست 2018ءمیں پاکستان نے 2.2 ارب ڈالر کی برآمدات کیں جبکہ جولائی 2019ءمیں 2.3 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔ اِس سلسلے میں دو اچھی خبریں یہ ہیں کہ پاکستانی سے ٹیکسٹائل برآمدات میں 2.3 فیصد اضافہ ہوا ہے اور کرنٹ اکاونٹ کے خسارے میں کمی آئی ہے۔

پاکستان کی معیشت سے متعلق سب سے بڑی اور بُری خبر یہ ہے کہ سینکڑوں ہزار کی تعداد میں ملازمتیں کم ہوئی ہیں اُور صرف ایک ہی برس میں لاکھوں افراد کا بیروزگار ہونا نیک شگون نہیں۔ اس کے علاو¿ہ تحریک انصاف حکومت کے دور میں پچاس لاکھ افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔

اِس صورتحال میں حکومت کو کیا کرنا چاہئے؟
بھارت نے کاروباری و صنعتی اداروں پر ٹیکس کی شرح میں 10فیصد کمی کی تاکہ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ نہ ہو۔ پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے تاکہ معاشی تنگدستی کے موجودہ حالات سے نکل سکے۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان میں کاروباری و صنعتی اداروں پر عائد ٹیکس کی شرح دنیا کی بلند ترین ہے۔ اِس کے علاو¿ہ حکومت کو شرح سود میں بھی کمی لانی چاہئے تاکہ سرمایہ کاروبار‘ تجارت اور صنعتوں میں لگایا جائے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ پاکستان حکومت کی سب سے بڑی اور پہلی ترجیح روزگار کے مواقعوں کا تحفظ اور روزگار کے مواقعوں (امکانات) میں اضافہ ہونا چاہئے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, September 22, 2019

TRANSLATION: Incidents by Dr. Farrukh Saleem

Incidents
واقعات
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اُور بنیادی ضروریات سے متعلق دیگر اخراجات نے متوسط طبقات کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے سراپا فریاد ہیں کہ اُن کی آمدن میں ہر دن کمی لیکن اُن کے اخراجات (مالی بوجھ) میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے۔ اِس سلسلے میں ذاتی تجربے اور چند انفرادی مثالوں سے صورتحال کو سمجھا جا سکتا ہے۔

پہلا واقعہ: خشک میوہ جات فروخت کرنے والے ایک دکاندار نے یہ کہہ کر مجھے حیران کر دیا کہ ماضی قریب (آٹھ ماہ قبل) میں اُس کی یومیہ فروخت کا حجم 2 لاکھ روپے تھا جو کم ہو کر 70 ہزار روپے ہو چکا ہے اُور یہ کمی 65فیصد ہے۔

دوسرا واقعہ: پانچ ستارہ ہوٹل میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا جہاں کے ایک ملازم نے توجہ دلائی کہ اُس کے گھر کا بجلی بل 6 ہزار روپے آیا ہے جبکہ اُسے تنخواہ کے علاو ¿ہ بخشش کے طور پر جو رقم ملا کرتی تھی اُس میں انتہائی تباہ کن (غیرمعمولی) کمی آئی ہے‘ جس کی وجہ سے اُسے آئندہ ماہ بچے کی سکول فیس یا بجلی کے بل میں سے کسی ایک ذمہ داری کی ادائیگی کا انتخاب کرنا ہوگا۔

تیسرا واقعہ: ہوٹل سے نکلتے ہوئے ایک اُور ملازم نے اپنی روداد سے آگاہ کیا کہ اُس کی ماہانہ تنخواہ 22 ہزار روپے ہے جبکہ اُس کے گھر کا بل 5ہزار 900 روپے آیا ہے۔ میں نے استفسار کیا کہ یقینا تمہارے گھر برقی آلات زیادہ ہوں گے تو اُس نے کہا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں۔ گھر میں صرف دو پنکھے‘ ایک فریج اُور چند ٹیوب لائٹس ہیں۔ میں گھر والوں کو ہفتے میں صرف دو دن بجلی کی استری استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہوں۔ اِس شخص کی آمدنی اور بجلی کے بل کو مدنظر رکھتے ہوئے سوال یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی کل آمدنی کا 25فیصد کس طرح بجلی کی قیمت ادا کرنے کے لئے دے سکتا ہے؟

چوتھا واقعہ: حجام سے ہوئی بات چیت سے معلوم ہوا کہ اُس کا کاروبار مندی کا شکار ہے جبکہ اُس کے بجلی کا ماہانہ بل 9 ہزار روپے آیا ہے۔ میں پوچھا کہ کیا لوگوں نے بال کٹوانے چھوڑ دیئے ہیں‘ جس پر اُس نے کہا کہ نہیں لیکن اب وہ زیادہ وقفہ کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص ہر چار یا پانچ ہفتے (ایک ماہ) میں بال کٹواتا تھا تو اب اُس نے ہیرکٹ آٹھ سے دس ہفتے (دو ماہ) بعد کروانا شروع کر دیا ہے‘ جس کی وجہ سے اکثر حجاموں کے کاروبار میں 50فیصد کمی آئی ہے جبکہ دوسری طرف بجلی کے بل 100 فیصد بڑھ گئے ہیں۔ آمدن میں کمی اُور یوٹیلٹی بلز و مہنگائی کا مسئلہ اُن کاروباری و ملازمت پیشہ افراد کے لئے زیادہ سنگین ہے‘ جو مشترک خاندان (جائنٹ فیملی سسٹم) کی صورت رہتے ہیں۔

پانچواں واقعہ: گاڑیاں دھلوانے والے (سروس اسٹیشن) اُور گاڑیوں کی مرمت کرنے والے (کار مکینک) نے بھی اپنی کاروباری آمدنی میں کمی اُور اخراجات میں اضافے کی جانب یہ کہتے ہوئے توجہ دلائی کہ ماضی کے مقابلے اب ہر روز اوسطاً 3 سے 4 گاڑیاں دھلائی (سروس) کے لئے آتی ہے‘ جو نہایت ہی کم تعداد ہے اُور اِتنی کم تعداد میں گاڑیوں کی سروس کرنے سے حاصل ہونے والی کل آمدنی سے اخراجات پورے نہیں ہو پا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے کاروباری حضرات نے اپنے ملازمین کی تعداد کم کرنا شروع کر دی ہے۔

چھٹا واقعہ: فوٹوکاپی (Photo-copy) کرنے والا ایک دکاندار جو عرصہ دس برس سے اپنا کاروبار کامیابی سے چلا رہا ہے‘ تعلیمی لحاظ سے اکاونٹنٹ ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ کاروبار میں 50فیصد کمی آئی ہے جس کی وجہ سے اُس نے اپنے سات میں سے چار ملازمین کو فارغ کردیا ہے لیکن اِس کے باوجود بھی آمدن و اخراجات میں توازن برقرار نہیں رکھ پا رہا۔

ساتواں واقعہ: شہر کی ایک سرمایہ دار بستی میں ایک گوشت فروخت کرنے والے (قصاب) نے بھی اپنے کاروبار میں کمی کی داستان مختلف انداز میں سنائی کہ گوشت کے خریدار اب بھی آتے ہیں لیکن اُنہوں نے گوشت کی کم مقدار خریدنا شروع کر دی ہے۔

لب لباب یہ ہے کہ پاکستان میں معاشی سرگرمیاں زوال پذیر ہیں۔ آمدن و اخراجات میں توازن برقرار رکھنا ہر دن مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ چھوٹے بڑے کاروباری اداروں اُور انفرادی طور پر بزنس کرنے والوں کے منافع میں غیرمعمولی شرح سے کمی آئی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری میں کمی لانے کے لئے حکومت کو خاطرخواہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, September 15, 2019

Ten questions by Dr. Farrukh Saleem

Ten questions
دس سوالات

پہلا سوال: گزشتہ چالیس برس میں بلند ترین ’بجٹ خسارے‘ پر قابو پانے کے لئے حکومت کس قدر سادگی اختیار کرنے کے لئے تیار ہے؟ بہت سے ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ ’بجٹ خسارہ‘ ہی پاکستان کی مالیاتی مشکلات کی بنیادی جڑ ہے۔
آخر ایسا کیا ہو گیا ہے کہ پاکستان کی کل خام پیداوار (آمدنی) کے تناسب سے بجٹ خسارہ 8.9 فیصد جیسی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے؟ آخر ہم اِس حالت پر کس طرح پہنچے ہیں کہ حکومت کا خرچ اِس کی آمدنی سے 3.4 کھرب روپے زیادہ ہو چکا ہے؟ ذہن نشین رہے کہ قومی آمدنی کے مقابلے بنگلہ دیش کا بجٹ خسارہ 5 فیصد جبکہ بھارت کا 3.4 فیصد جبکہ پاکستان کا 8.9 فیصد ہے!

دوسرا سوال: کم آمدنی کے باوجود اخراجات میں خاطرخواہ کمی نہ کرنے کی وجہ سے حکومت کو قرض لینے پڑتے ہیں تو قرض لینے کا بظاہر سادہ و آسان طریقہ پاکستان کی قومی خزانے اُور یہاں کی تعمیروترقی کو لے ڈوبا ہے۔ فی الوقت پاکستان کا قومی قرض اِس کی کل قومی آمدنی سے زیادہ ہے یعنی 104 فیصد تک پہنچ چکا ہے یعنی پاکستان کی آمدنی تو 100 روپے ہے لیکن اِسے 104 روپے قرضوں اُور اُن پر سود کی ادائیگی کے لئے درکار ہوتے ہیں۔ کیا حکومت کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ 100 روپے آمدنی میں سے 104 روپے واجب الاداءمالیاتی ذمہ داریاں اَدا کرے؟

پاکستان تحریک انصاف نے اگست 2018ءمیں وفاقی حکومت بنائی‘ جس کے ایک ماہ بعد (ستمبر 2018ئ) میں پاکستان کی مجموعی قومی آمدنی کے تناسب سے قرضوں کا حجم 80فیصد تھا لیکن پھر تحریک اِنصاف نے قرض لئے اُور صرف 9 ماہ میں یہ شرح بڑھ کر 104 فیصد تک پہنچ گئی۔ آخر یہ کس قسم کا مالیاتی نظم و ضبط اُور دانشوری ہے کہ آمدنی سے زائد مالیاتی ذمہ داریاں بڑھا لی گئی ہیں!

تیسرا سوال: تحریک انصاف کی وفاقی حکومت ادارہ جاتی اصلاحات کرنے میں کتنی سنجیدہ ہے اِس بات کا اندازہ سرکاری اداروں کے خسارے کو دیکھتے ہوئے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو سالانہ 2.1 کھرب روپے جیسی بلند سطح کو چھو رہا ہے۔ سرکاری اداروں (پبلک سیکٹر انٹرپرائزیز) کے مالی نظم و ضبط کی اصلاح وقت کی ضرورت ہے اُور اِس میں معلوم خرابیوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرنا چاہئے۔ یہ اَمر بھی لائق توجہ ہے کہ آخر سرکاری محکمے 2 کھرب روپے سالانہ کے حساب سے قومی خزانے پر بوجھ کیوں ہیں؟ ستمبر 2018ءمیں‘ جب تحریک انصاف کو حکومت میں آئے ایک ماہ کا عرصہ گزرا تھا‘ سرکاری اداروں کا سالانہ خسارہ 1.359 کھرب روپے تھا جو ملک کی مجموعی قومی آمدنی کا 3.5 فیصد بنتا تھا یعنی پاکستان اپنی قومی آمدنی کا ساڑھے تین فیصد حصہ سرکاری اداروں کے خسارے کی نذر کر رہا تھا لیکن اِس میں ایک سال کے دوران کمی کی بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اب سرکاری محکموں کا خسارہ 2.1 کھرب روپے یعنی مجموعی قومی آمدنی کا 5.5 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ماضی کے مقابلے موجودہ حکومت کے دور میں سرکاری محکموں کا خسارہ بڑھا ہے!

چوتھا سوال: پاکستان کا قومی قرض (واجب الاداءمالیاتی ذمہ داریاں) 40 کھرب روپے تک جا پہنچی ہیں‘ جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے 5 سالہ دور (2008ءسے 2013ئ) کے دوران حکومت نے 10کھرب روپے کے قرض لئے اُور ملک پر قرضوں کے حجم 6 کھرب روپے کو 16 کھرب روپے پر پہنچا دیا۔ اِس کے بعد پاکستان مسلم لیگ (نواز) کا دور حکومت (2013ءسے 2018ئ) کے دوران 14 کھرب روپے کے قرض لئے گئے جس سے قومی قرضوں کا حجم 16 کھرب روپے سے 30کھرب روپے ہو گیا۔ تحریک انصاف نے ایک سال کے دوران قومی قرضوں میں 10 کھرب روپے کا اضافہ کیا جبکہ پیپلزپارٹی کو یہ کام کرنے میں پانچ سال لگے تھے!

پانچواں سوال: موجودہ حکومت نے پاکستان میں تیار یا پیدا ہونے والی مصنوعات سے متعلق سالانہ برآمدی ہدف 28 ارب ڈالر رکھا تھا لیکن یہ ہدف 20فیصد کم حاصل ہوا ہے۔ کیا ہدف کا تعین کرنے میں غلطی کی گئی یا ہدف کے حصول سے متعلق حکمت عملی خاطرخواہ کامیاب نہیں رہی؟

چھٹا سوال: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی مانگ میں 25فیصد کمی آنے کی وجہ کیا ہے؟

ساتواں سوال: پاکستان میں سیمینٹ کی مانگ میں 50فیصد کمی کی وجہ کیا ہے؟

آٹھواں سوال: موجودہ حکومت کی ایک سالہ مدت کے دوران پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت 50فیصد کم کیوں ہوئی ہے؟
نواں سوال: نجی شعبہ (صنعتیں اور کاروباری طبقات) بینکوں سے قرض کیوں نہیں لے رہے۔ گذشتہ 2 ماہ کے دوران بینکوں سے قرض لینے میں 85 ارب روپے کی کمی دیکھنے میں کیوں آئی ہے؟

دسواں سوال: حکومت مہنگائی کو ضبط (کنٹرول) کرنے کے لئے کیا اقدامات کر رہی ہے؟

وزیراعظم عمران خان مضبوط قوت ارادی کے مالک ہیں۔ یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ عمران خان جب کسی کام کا ارادہ کر لیتے ہیں تو اُسے ضرور پورا کرتے ہیں لیکن اب تک تحریک انصاف کے تمام فیصلوں‘ ارادوں اُور بیانات کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عمران خان کے ایسے ساتھی (ٹیم) نہیں مل رہی جو اُن کی رفتار سے سوچے اُور اُن کے جیسے اصلاحاتی عمل کو تیزی سے آگے بڑھائے۔ کسی ٹیم کے کپتان کے لئے تن تنہا ہر محاذ پر مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہوتا لیکن جب تک اُس کے ساتھی (ٹیم کے دیگر اراکین) اُس جیسا قربانی اور جنون پر مبنی جذبے کا عملی مظاہرہ نہ کریں۔ اگر ٹیم کے اراکین بشمول کپتان کے ارادے مضبوط ہیں لیکن اُن میں ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت کم ہے تو اِس سے بھی پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے جن کی شدت میں ہر دن ’غیرمعمولی اضافہ‘ ہو رہا ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, September 1, 2019

TRANSLATION: Electrocuted in Karachi by Dr Farrukh Saleem

Electrocuted in Karachi
بجلی‘ کرنٹ اُور کراچی!

دنیا میں ایسے شہروں کی تعداد 4 ہزار 416 ہے‘ جن کی آبادی ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ سوال: دنیا کا ایسا شہر کونسا ہے کہ جہاں بارش کے بعد بجلی کے کھمبوں میں کرنٹ کی وجہ سے درجنوں لوگ ہر سال ہلاک ہو جاتے ہیں؟ اِس سوال کا جواب تلاش کرنے والوں کے لئے چند اشارے یہ ہیں کہ وہ شہر افریقہ یا جنوبی امریکہ کا نہیں بلکہ براعظم ایشیاءسے تعلق رکھتا ہے۔ جواب ہے کراچی۔ جی ہاں کراچی دنیا کا ایسا واحد شہر ہے جہاں ہر سال بارشوں کے موسم میں درجنوں ہلاکتیں صرف اِس وجہ سے ہوتی ہیں کیونکہ بجلی کا ترسیلی نظام خرابیوں کا مجموعہ ہے۔

کراچی میں اوسط 6.8 انچ بارش ہوتی ہے۔ کولمبیا کا شہر کیبوڈو (Quibdo) میں سالانہ 288 انچ بارش ہوتی ہے۔ جنوبی افریقہ کے ملک لائبریا (Liberia) کے شہر مون روویا (Monrovia) جس کی آبادی مشکل دس لاکھ ہے وہاں سالانہ 182 انچ بارش ہوتی ہے لیکن اِن شہروں میں ایک بھی ہلاکت بجلی کا کرنٹ لگنے (electrocution) کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ اِسی طرح ہوائی (Hawaii) کے شہر ہیلو (Hilo) میں سالانہ 127 انچ بارش ہوتی ہے اور یہ سلسلہ سال 272 دن جاری رہتا ہے لیکن وہاں بھی کوئی ایک ہلاکت بجلی کا کرنٹ لگنے سے نہیں ہوتی۔ ایسے بہت سے شہروں کی فہرست پیش کی جاسکتی ہے جہاں کراچی سے زیادہ بارش ہوتی ہے لیکن تصور کیجئے کہ 6.8 انچ بارش ہونے پر بھی کراچی میں درجنوں ہلاکتیں ہونا کس قدر تشویشناک اور افسوسناک امر ہے۔ دنیا پاکستان کے بارے میں کیا سوچتی ہو گی کہ یہاں کس قسم کے فیصلہ ساز بستے ہیں‘ جن کی تعلیمی اسناد پلندوں میں پڑی دکھائی دیتی ہے لیکن اُن کی منصوبہ بندیاں اُور برسرزمین کارکردگی انتہائی ناقص و مایوس کن ہے۔

کراچی میں بارش سے ہونے والی درجنوں ہلاکتیں مجرمانہ غفلت کا شاخسانہ ہیں‘ جن کے لئے کیا ’نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA)‘ کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہئے؟ کاروباری اخلاقیات بھی کیا کوئی چیز ہوتے ہیں؟ ایک ایسا شہر‘ جہاں کی شرح خواندگی 20فیصد ہو۔ کیا یہ ادویہ ساز ادارے (فارماسوٹیکل کمپنیوں) کو جائز ہے کہ وہ کراچی کی 80فیصد آبادی کو زائد المعیاد ادویات فروخت کریں؟ اِسی طرح اموات بجلی کے کرنٹ لگنے سے ہوتی ہیں اور درجنوں لوگ مر چکے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ ہمارے فیصلہ ساز کہاں ہیں اُور کیا کر رہے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ بجلی کی تاریں جن کھمبوں سے باندھی جاتی ہیں لیکن اُنہیں محفوظ نہیں بنایا جاتا کہ کرنٹ بارش کے پانی کے ساتھ نہ پھیلے اُور نہ ہی اِن کھمبوں (بجلی کے ترسیلی نظام) پر باقاعدگی سے نظر رکھی جاتی ہے تاکہ اِن سے قیمتی انسانی جانوں کا نقصان نہ ہو۔

سال 2012ءمیں انجنیئر ارشد عباسی نے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی (KESC) کی نجکاری کے بعد کی کارکردگی کے بارے میں ایک تحقیق کی۔ جس میں نجکاری کے عمل کا بھی جائزہ شامل تھا۔ سوال یہ تھا کہ آخر حکومت کو اِس بات کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ وہ بجلی کی ترسیلی کمپنی کی نجکاری کر دے؟ اِس کا جواب یہ تھا کہ کراچی میں بجلی کی فراہمی پر حکومت کو بھاری رعایت (سبسڈیز) دینا پڑ رہی تھیں۔ جب حکومت بجلی کی ترسیلی کمپنی چلا رہی تھی تو اِسے سالانہ 9 ارب روپے کی سبسڈی دینا پڑتی تھی جس کا بوجھ ختم کرنے کے لئے نجکاری کی گئی لیکن سبسڈی دینے کا سلسلہ ختم نہ ہوا بلکہ بڑھ گیا۔ سال 2013ءمیں حکومت نے 76 ارب روپے کی سبسڈی دی تھی۔ تلخ حقیقت ہے کہ کراچی میں بجلی کی ترسیلی کمپنی (K-Electric) کو نجکاری کے بعد سے ”400 ارب روپے“ سبسڈی دی جا چکی ہے۔

کیا ’نیپرا‘ نے کبھی ’کے الیکٹرک‘ سے پوچھا ہے کہ اُسے اب تک جو 400 ارب روپے سبسڈی دی گئی ہے تو اِس کا استعمال کہاں اور کیسے کیا گیا ہے؟ حکومت ’کے الیکٹرک‘ کو 600 میگاواٹ بجلی کم نرخوں پر دیتی ہے جسے مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔ رواں برس اپریل میں سیکرٹری پاور عرفان علی نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ ”کے الیکٹرک نے مختلف محکموں کے 125 ارب روپے دینے ہیں۔ اِس اجب الاداء رقم میں 90 ارب سوئی سدرن گیس کمنی اور 35 ارب ’این ٹی ڈی سی‘ کے بقایا جات ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر سبسڈی کا بوجھ اُتارنے کے لئے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کی گئی تھی اُور نجکاری کے بعد بھی سبسڈی دینے کا سلسلہ جاری ہے بلکہ اِس سبسڈی (قومی خزانے کو پہنچنے والے خسارے) میں اضافہ ہو رہا ہے تو ایسی نجکاری کا فائدہ ہی کیا ہے؟ دوسری طرف ’کے الیکٹرک‘ کا مو ¿قف ہے کہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین بلوں کی ادائیگی نہیں کر رہے اُور اُس کے عوام کے ذمے واجب الاداءبل کی مجموعی مالیت 158.8 ارب روپے ہیں! 

اعدادوشمار کے اِس گورکھ دھندے میں ’کے الیکٹرک‘ میں سرمایہ کاری کرنے والے مستفید ہو رہے ہیں‘ قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہے اُور کراچی کے عوام کرنٹ لگنے سے مر رہے ہیں! 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, August 25, 2019

TRANSLATION: Continuity by Dr. Farrukh Saleem

Continuity
تسلسل
اقتصادی مارکیٹ کا انحصار اور خوشحالی ’تسلسل‘ میں ہوتا ہے۔ معاشی حالات ایک ڈگر پر چلنے کے تسلسل سے مراد یہ ہے کہ عوام کی قوت خرید کسی ایک سطح پر برقرار رہے اُور اِس میں کمی تو ہرگز نہیں ہونی چاہئے لیکن پاکستان میں سرمایہ کاری اُور عوام کی قوت خرید دونوں ہی کم ہو رہے ہیں جس کی ایک جھلک کراچی سٹاک ایکسچینج میں بہتری کے آثار سے سمجھا جا سکتا ہے اُور اگر ملک کی اقتصادی صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کے فیصلے کو دیکھا جائے تو اِس فیصلے کے پس پردہ محرکات کی بخوبی سمجھ آ جائے گی۔ فی الوقت کراچی کی حصص مارکیٹ (KSE-100) انڈکس میں 2585 پوائنٹس کا اضافہ ہوا‘ جس کا مطلب ہے کہ 500 ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ تصور کیجئے کہ حصص مارکیٹ میں کسی بھی ایک ہفتے کے دوران ہونے والی یہ بلند ترین سرمایہ کاری ہے۔

اگست 2018ءمیں جب تحریک انصاف حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اُس وقت حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج ’کرنٹ اکاونٹ خسارہ‘ تھا یعنی حکومت کی آمدنی کم اور جاری اخراجات آمدنی سے زیادہ تھے۔ جولائی 2018ءکی بات ہے یعنی تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے ایک ماہ قبل ’کرنٹ اکاونٹ ماہانہ خسارہ‘ 2130 ملین ڈالر تھا۔ جولائی 2019ء(تحریک انصاف حکومت کے پہلے سال) کے دوران یہ خسارہ کم ہو کر 579 ملین ڈالر ہو چکا ہے‘ جو قریب ایک سال میں ’73 فیصد‘ بہتری ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ 1: ڈالر پر منحصر پاکستان کی اقتصادیات پر حکومت کا کنٹرول پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ 2: ایک سال قبل پاکستانی روپے پر جو دباو تھا اُس میں کمی آئی ہے اُور 3: ملک چلانے کے لئے ڈالروں کی ضرورت ماضی کے مقابلے کم ہوئی ہے۔ یہ سبھی اشارے حکومت کی اقتصادی حکمت عملیوں کی کامیابی کے اشارے ہیں۔

پاکستان کی داخلی صورتحال کے تناظر میں اگر ’جنرل باجوہ کے نظریات (Bajwa Doctrine)‘ کا جائزہ لیا جائے تو یہ7 ستونوں پر استوار دکھائی دیتا ہے۔ 1: ایک ایسا طرزحکمرانی جو عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ہاتھ میں ہو۔ 2: ایک ایسی حکومت کا قیام جو آزاد و شفاف انتخابات کے ذریعے منتخب ہوئے ہوں۔ 3: قومی وسائل کی لوٹ مار پر مبنی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ 4: جمہوری حقوق کو مقدم سمجھتے ہوئے اِن کا بہرصورت تحفظ ہونا چاہئے۔ 5: قومی اداروں میں سیاست کا عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔ 6: پاکستان کی ریاست کا اِس کے 7 لاکھ 96 ہزار 95 مربع کلومیٹر رقبے کے ہر حصے پر کنٹرول ہونا چاہئے اُور خوف و دہشت پھیلانے والے چاہے وہ کسی بھی لبادے اور کسی بھی نام سے ہوں انہیں تخریب کاری کی کھلی چھوٹ نہیں ہونی چاہئے اُور 7: وفاق پاکستان کو مضبوط بنایا جائے۔

جنرل باجوہ نظریات کو مشرق میں بھارت کا سامنا ہے‘ جہاں ہندو انتہاءپسند جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ برسراقتدار ہے۔ مغربی محاذ پر جنرل باجوہ نظریات کی کامیابی کے مغربی و امریکی ممالک بھی معترف ہیں۔ پانچ ستمبر کو بنکاک اُور پھر پیرس میں 18 سے 23 اکتوبر ’FATF‘ اجلاس بڑے چیلنجز ہیں۔ دنیا پاکستان کی پالیسیوں میں تسلسل کو سراہا رہی ہے۔
پاکستان کی داخلی اقتصادیات کی بات کی جائے تو یہ غیرمتوقع طور پر سست روی کا شکار ہے۔ چند ہفتے قبل مہنگائی کے اعدادوشمار کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتری سے متعلق جو پیشنگوئیاں کی گئی تھیں‘ وہ سب کی سب غلط ثابت ہوئی ہیں۔ روٹی کی قیمت میں اضافہ کسی بھی صورت اچھی خبر نہیں۔ روپے پر انحصار کرنے والی معیشت کو پانچ مشکلات کا سامنا ہے۔ 1.7 کھرب روپے کا گردشی قرضہ‘ 1.6 کھرب روپے سرکاری اداروں کا سالانہ خسارہ‘ سرکاری خریداریوں میں سالانہ ایک کھرب روپے کی بدعنوانیاں‘ گیس کے شعبے میں دو ارب ڈالر کا سالانہ خسارہ اُور حکومتی ضروریات کے لئے 734 ارب روپے کا قرض۔ اِن پانچ شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور اِنہی پانچ شعبوں کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے پاکستان کا قرض 40 کھرب روپے جیسی بلند سطح تک پہنچ گیا ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ حکومت ایک تسلسل کے ساتھ اپنی حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہے‘ جس کی وجہ سے اُمید ہو چلی ہے کہ اگر یہ تسلسل برقرار رہتا ہے تو اِس سے اقتصادی بہتری آئے گی۔ پاکستان کے دشمنوں کی کوشش ہے کہ وہ پاکستان کو اقتصادی طور پر اتنا کمزور کر دیں کہ وہ جنگ کے بارے میں سوچنے سے بھی گھبرائے۔ اگر حکومت مذکورہ پانچ شعبوں کو اصلاحاتی ترجیحات کا حصہ بناتی ہے تو اِس سے نہ صرف داخلی و خارجی محاذ پر پاکستان کی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ تعمیروترقی کے نئے دور اور نئے پاکستان کی تخلیق بھی عملاً ممکن ہو جائے گی۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, August 4, 2019

TRANSLATION: Economic Slowdown by Dr. Farrukh Saleem

Economic slowdown
اِقتصادی سست روی
پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو سمجھنے کے لئے اِسے 2 حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا۔ پہلا درجہ وہ اقتصادیات ہے جس میں امریکی ڈالر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور دوسرا درجے میں پاکستانی روپے لین دین کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اگست 2018ءمیں جب تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تھی تو اُس وقت امریکی ڈالر قومی اقتصادیات پر حاوی تھا اُور قومی ضروریات قریب 28 ارب ڈالر تھیں جبکہ جاری اخراجات کا خسارہ 20 ارب ڈالر اُور قرضہ جات کی ادائیگی جیسی مالی ذمہ داری 8 ارب ڈالر تھی۔
تحریک اِنصاف حکومت کا ایک سال مکمل ہو چکا ہے اُور اِس عرصے کے دوران 2 کلیدی پیشرفتیں ہوئی ہیں جن سے بالخصوص ڈالر پر منحصر اقتصادی نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سب سے پہلا حاصل یہ ہے کہ جاری اخراجات کا خسارہ جو پہلے 20 ارب ڈالر تھا‘ اُسے کم کرتے ہوئے 13 ارب ڈالر تک لے آیا گیا ہے۔ دوسرا ’عالمی مالیاتی اِدارے (آئی ایم ایف)‘ نے پاکستان کے لئے 6 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی‘ جس کی وجہ سے قرضوں اور سود کی ادائیگی سمیت خزانے پر بوجھ میں وقتی کمی آئی جو کہ مہلت ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ اِس مہلت سے کس قدر فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اِن دونوں اقدامات کی بدولت ڈالر پر منحصر اقتصادی صورتحال درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے جس سے استحکام آئے گا۔
روپے پر منحصر اقتصادیات کو مزید درجات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ جن میں حکومتی شعبہ‘ کاروباری شعبہ اُور نجی شعبہ یعنی ایسے طبقات آتے ہیں جنہیں گھریلو صارفین کہا جاتا ہے۔ حکومتی سطح پر اصلاح کے لئے احتساب کا عمل پورے زور و شور سے جاری ہے‘ جو ایک خوش آئند پیشرفت ہے لیکن حکومتی اخراجات میں خاطرخواہ کمی نہیں آ رہی‘ جو نہایت ہی ضروری ہے۔ اگر ہم حکومتی اصلاحات کا مشاہدہ کریں تو بجلی کا پیداواری شعبہ اُور سرکاری محکموں کے اخراجات و خسارے کی اصلاح نظرانداز کر دی گئی ہے جو قطعی اچھی خبر نہیں۔

حکومت کی اصلاحاتی کوششیں اپنی جگہ اہم لیکن کاروباری شعبہ سست روی کا شکار ہے۔ ہنڈا اٹلس نامی موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنی نے اپنی پیداوار میں 35فیصد کمی کا اعلان کیا ہے جو اچھا شگون نہیں۔ پاکستان میں حصص کا کاروبار بھی مندی کا شکار ہے‘ جہاں کی جانے والی سرمایہ کاری میں 100 ارب ڈالر جیسی غیرمعمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

گھریلو صارفین کو دیکھیں تو اُن کی قوت خرید بھی کم ہو رہی ہے۔ بیروزگاری بڑھ رہی ہے جو کہ ایک قومی مسئلہ ہے۔ بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے سے گھریلو صارفین پریشان ہیں! کم آمدنی والوں کے لئے روزمرہ گھریلو اخراجات جن سے صرف بنیادی ضروریات ہی پوری ہوتی ہیں‘ کا توازن رکھنا ممکن نہیں رہا۔ الغرض زندگی کے ہر شعبے پر مہنگائی اور مالیاتی پالیسیوں کے منفی اثرات نمایاں سے نمایاں تر ہو رہے ہیں۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 57 لاکھ افراد کو ہر تین ماہ بعد 5000 روپے دیئے جاتے تھے۔ موجودہ حکومت نے اِس مالی مدد کو 5500 روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ احسن اقدام ہے۔ بُری خبر یہ ہے کہ حکومت پیشہ ورانہ تعلیم پر خاطرخواہ توجہ نہیں دے رہی جس سے خودروزگاری بڑھے۔ اگر مالی طور پر کمزور خاندانوں کو ہنرمند بنا دیا جائے تو وہ اپنی گزربسر کے لئے کسی حکومتی امداد کے محتاج نہیں رہیں گے اُور ایسا کرنے سے اُن کی عزت نفس کے ساتھ سماجی خدمات کا دائرہ بھی وسیع ہوگا۔ بہتر یہی ہو گا کہ مچھلی تحفے میں دینے کی بجائے مچھلی پکڑنا سکھائی جائے۔

حکمرانوں کو توجہ دینی چاہئے کہ سرکاری ادارے (پبلک سیکٹر انٹرپرائزیز) سالانہ 1.1 کھرب روپے کا نقصان کرتے ہیں اُور یہ نقصان موجودہ حکومت کے دور میں بھی جاری ہے۔ کیا قومی خزانے پر سرکاری اداروں کا بوجھ کم نہیں ہونا چاہئے؟

خسارے میں چلنے والے اداروں کی اصلاح کون کرے گا؟

بجلی کا پیداواری شعبہ ہر دن 2 ارب روپے کا نقصان کر رہے ہیں اور یہ نقصان سارا سال جاری رہتا ہے یعنی سال کے ہر دن 2 ارب روپے نقصان ہوتا ہے لیکن اِس خسارے کو بھی ختم کرنے میں اب تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ حکومت کے لئے سالانہ کھربوں روپے کی خریداری ہوتی ہے جن میں کئی کھرب کی خردبرد ہو رہی ہے لیکن اِسے بھی ختم کرنے کی کوئی تدبیر دکھائی نہیں دیتی۔ حکومت کو اہداف کا تعین کرنا ہوگا‘ جن کی روشنی میں حکمت عملی مرتب کرکے اِن اہداف کے حصول کے لئے کوششیں کرنا ہوں گی۔



(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, June 30, 2019

Six questions by Dr. Farrukh Saleem

Six questions
چھ سوالات

پہلی حقیقت: مئی 2018ء میں پاکستانی کرنسی کے مقابلے فی امریکی ڈالر کی قدر 115 روپے تھی۔ مئی 2019ء میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہوئی اُور یہ ’157 روپے (29 جون کے روز 163روپے)‘ تک جا پہنچا‘ جو روپے کی قدر میں ’35 فیصد‘ کمی ہے۔ 

دوسری حقیقت: مئی 2018ء پاکستانی برآمدات کا مجموعی حجم 2.139 ارب ڈالر تھا جو مئی2019ءمیں کم ہو کر 2.102 ارب ڈالر رہ گیا اُور یہ کمی 1.7فیصد بنتی ہے۔ جب ہم مئی (دوہزاراٹھارہ) سے مئی (دوہزاراُنیس) کا جائزہ لیتے ہیں تو پاکستانی روپے کی قدر میں 35فیصد اُور برآمدات میں 1.7فیصد کمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ 

پہلا سوال: اگر ہم پاکستانی روپے کی قدر مزید کم کر کے اِسے 200 روپے فی ڈالر تک نیچے لے آئیں تو کیا اِس سے پاکستانی برآمدات میں اِضافہ ہوگا؟

تیسری حقیقت: جون 2018‘ کراچی انٹربینک آفرڈ ریٹ (KIBOR) 8.35 فیصد تھا‘ جو ایک سال کے دوران 13.60 رہا۔ 

چوتھی حقیقت: بجٹ 2018-19ءمیں قرضوں کی ادائیگی کے لئے 1.6 کھرب روپے مختص کئے گئے جو 2019-20ءکے بجٹ میں 2.9 کھرب جیسی بلند سطح تک جا پہنچے یعنی ملک کو ٹیکسوں سے وصول ہونے والی آمدنی کا قریب 50 فیصد قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جائے گا۔

دوسرا سوال: کیا پاکستان کو اپنے سود کی شرح 20 فیصد تک بلند کر دینا چاہئے تاکہ جو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے کر لے؟ 

تیسرا سوال: جب شرح سود بڑھتی ہے تو حکومت کو قرضوں کے لئے کتنے مالی وسائل مختص کرنا ہوتے ہیں؟ 

چوتھا سوال: اگر پاکستان میں شرح سود 20فیصد تک بڑھا دی گئی تو کیا ہماری صنعتیں فعال رہ پائیں گی؟

پانچویں حقیقت: پاکستان میں گذشتہ برس بجلی کی قیمت 11 سینٹ (cent) فی یونٹ تھی‘ جو خطے میں بجلی کی بلند ترین قیمت تھی۔ تب بھارت میں 9 سینٹ‘ چین میں 8.3 سینٹ‘ بنگلہ دیش میں 3.7 سینٹ اُور ویتنام میں 7سینٹ تھی۔ پانچواں سوال: پاکستان میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کتنا اضافہ ہو تو یہ صنعتوں کے لئے ناقابل برداشت ہوگی اُور وہ اپنی پیداوار کی قیمتوں کا عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کر پائیں گی؟

پہلا واقعہ: 
موٹر گاڑیاں ٹھیک کرنے والے ایک مکینک (ہنرمند) نے مجھے بتایا کہ وہ پہلے معمول کے مطابق ہر روز پانچ سے سات گاڑیاں مرمت کرتا تھا۔ اب بمشکل دو گاڑیاں بھی تمام دن نہیں آتیں۔ مذکورہ مکینک کے پاس پانچ افراد ملازمت کرتے ہیں‘ جن میں سے تین کو اُس نے ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ اُس کی دکان سے متصل ایک اُور مکینک نے اپنی دکان ہی ختم کر دی کیونکہ وہ ماہانہ تنخواہیں اور دیگر اخراجات (مالی ذمہ داریاں) ادا نہیں کر پاتا تھا۔

دوسرا واقعہ: 
کاروباری سرگرمیاں اِس حد تک ماند پڑ گئی ہیں کہ لاہور کے بڑے شاپنگ مالز میں دکانداروں کی کثیر تعداد گزشتہ کئی ماہ سے کرایہ ادا نہیں کر پا رہی لیکن اِن شاپنگ مالز کے مالکان اپنی دکانیں خالی نہیں کروا رہے۔

تیسرا واقعہ: 
میرے ایک دور پار کے رشتہ دار جو گزشتہ 30 برس سے پائپ بنانے کی فیکٹری چلا رہے تھے اُنہوں نے 500 ملازمین کو فارغ کر کے فیکٹری بند کر دی کیونکہ اُنہیں ٹیکس کا محکمہ ایسا کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔
اقتصادیات کے اصولوں میں شامل ہے کہ ٹیکس وہاں وصول ہونا چاہئے جہاں اقتصادی سرگرمی ہو۔ اگر کسی ملک میں اقتصادی سرگرمی ختم کر دی جائے تو وہاں ٹیکس وصولی بھی خودبخود کم ہوتی چلی جائے گی۔ کیا یہ اقتصادی واقعی اِس حد تک پیچیدہ ہے کہ اِسے سمجھا نہ جا سکے؟ 

حکومت کو چاہئے کہ وہ ٹیکسوں کی بجائے اقتصادی ترقی اُور زیادہ سے زیادہ اقتصادی ترقی پر توجہ دے!

چھٹی حقیقت: پاکستان حکومت کے موجودہ اخراجات سال 2008ءمیں 1.5 کھرب روپے تھے جو 10 برس میں بڑھ کر قریب 7.2 کھرب روپے ہو گئے ہیں۔

چھٹا سوال: کیا دنیا کا کوئی دوسرا ملک ایسا ہے جہاں کے حکمرانوں کے اخراجات 10 برس میں 500فیصد بڑھے ہوں؟

سب سے بڑی حقیقت: 
تمام پاکستانی ٹیکس چور نہیں۔ پاکستانیوں کی اکثریت اپنی مالی حیثیت سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہی ہے۔ یہ پاکستانی ہی ہیں جو ہر سال قومی خزانہ بھرتے ہیں اور یہ پاکستانی رہنما ہی ہیں جو ہر سال قومی خزانہ خالی کرتے ہیں! پاکستان میں طرزحکمرانی کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ ٹیکس نہیں دے رہے بلکہ حکومت کے ضرورت سے زیادہ اخراجات ہیں! حکمرانوں سے درخواست ہے کہ وہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرکے اقتصادی سرگرمیوں کا خاتمہ نہ کریں۔ اقتصادی ترقی کا ہدف‘ ٹیکس اُور مزید ٹیکس لاگو کرنے سے کبھی بھی اُور کسی بھی صورت حاصل نہیں ہو گا!

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)