Showing posts with label PPPP. Show all posts
Showing posts with label PPPP. Show all posts

Sunday, December 1, 2019

TRANSLATION: The debt bomb by Dr Farrukh Saleem

The debt bomb
قرضوں کا بوجھ
پاکستان کے قومی قرضوں کا بوجھ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا براہ راست تعلق ملک میں مہنگائی اُور شرح سود سے ہے۔ قیام پاکستان یعنی سال 1947ءسے 2008ء کے 61 سالہ عرصے میں ملک کے 4 گورنر جنرلز‘ 9 صدور اُور 23 وزرائے اعظم گزرے اُور اِن سبھی نے مجموعی طور پر 6 کھرب روپے کا قرض لیا۔ سال2008ءتک ہر پاکستانی (قومی قرضوں کی وجہ سے) 36 ہزار روپے کا مقروض تھا۔

سال 2008ءسے 2013ء کے درمیانی عرصے (پانچ برس) میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ پاکستان نے آصف علی زرداری کی صدارت اُور 2 وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی و راجہ پرویز اشرف کی وزارت عظمیٰ کے ادوار دیکھے۔ اِن تین کرداروں (زرداری‘ گیلانی اُور راجہ) نے پاکستان نے قومی قرض کو 6 کھرب ڈالر سے 16 کھرب ڈالر تک پہنچا دیا یعنی 5 سال کے عرصے میں پاکستان کے قومی قرض میں 10 کھرب (10-trillion) روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اگر اوسط معلوم کی جائے تو پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت (2008-13) کے دوران پاکستان کے قومی قرضے میں ہر دن (یومیہ) ”5.5 ارب روپے“ کا اضافہ کیا جاتا رہا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے مذکورہ 5 سالہ دور حکومت کے اختتام پر ہر پاکستانی اوسطاً 36 ہزار روپے سے 88 ہزار روپے کا مقروض ہو گیا یعنی پانچ سال کے دوران ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ دوگنے سے بھی زیادہ ہو گیا۔

سال 2013ءسے 2018ءکے 5 سالہ دور میں پاکستان نے ممنون حسین بطور صدر اُور 2 وزرائے اعظم میاں نواز شریف و شاہد خاقان عباسی دیکھے۔ اِن تینوں کا تعلق ایک ہی سیاسی جماعت یعنی ’پاکستان مسلم لیگ (نواز)‘ سے تھا۔ نواز لیگ حکومت کے دوران (دوہزار تیرہ سے دوہزار اٹھارہ) پاکستان کے قومی قرضوں کو 16 کھرب روپے سے بڑھا کر 30 کھرب روپے جیسی بلند سطح پر پہنچا دیا گیا یعنی پانچ سال میں 14 کھرب روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اگر نواز لیگ کے آخری دور حکومت کے دوران ہر دن لئے گئے قرض کا تناسب معلوم کیا جائے تو یہ 7.5 ارب روپے یومیہ بنتا ہے۔ لیگی حکومت نے پانچ سال تک ہر دن ساڑھے سات ارب روپے قومی قرض میں اضافہ کیا۔ یوں پانچ سال کے عرصے میں ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ جو کہ پہلے ’88 ہزار روپے‘ تھا بڑھ کر ’1لاکھ 44 ہزار روپے‘ ہو گیا۔

سال 2018ءسے 2019ئ‘ صدر مملکت عارف علوی اُور وزیراعظم عمران خان ہیں۔ اِن دونوں کا تعلق ’پاکستان تحریک انصاف‘ سے ہے۔ موجودہ حکومت کے 2 سال کی مالیاتی کارکردگی کا ایک رُخ یہ ہے کہ جولائی دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے بعد ’تحریک انصاف‘ کے برسراقتدار آنے کے وقت پاکستان کے قومی قرضوں کا کل حجم 30 کھرب روپے تھا اُور ماضی کی طرح موجودہ حکومت نے بھی قرض لینے کا سلسلہ جاری رکھا اُور قومی قرض کو 41 کھرب روپے پر پہنچا دیا یعنی اب تک (ایک سال کے عرصے میں) ’11 کھرب روپے‘ قرض لیا جا چکا ہے‘ جس کی اگر یومیہ اوسط نکالی جائے تو پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں ہر دن ’30 ارب روپے‘ قرض لیا گیا ہے۔ حکومت کی مالیاتی کارکردگی‘ ترجیحات اُور منصوبہ بندی کا اندازہ اِس اَمر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ 71 سال کے دوران پاکستان نے 30 کھرب روپے قرض لیا جبکہ تحریک انصاف نے ’1 سال‘ کے دوران ’11 ارب روپے‘ لیا ہے۔ تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے قبل ہر پاکستانی ’ایک لاکھ 44 ہزار روپے‘ کا مقروض تھا لیکن اب ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ ’1 لاکھ 87 ہزار روپے‘ ہو چکا ہے۔

لمحہ فکریہ ہے کہ قیام پاکستان سے 71 سال کے سفر میں قومی قرض میں ’73 فیصد‘ جبکہ ایک سال میں ’27فیصد‘ اضافہ ہوا ہے۔ تحریک انصاف کے مالیاتی مشیر اُور حساب دانوں کا دعویٰ ہے کہ اُنہوں نے قومی قرض کے حجم میں اضافہ نہیں کیا بلکہ تحریک انصاف نے ماضی میں لئے گئے قرض واپس کئے ہیں اُور قومی مالیاتی ذمہ داریوں کے بوجھ کو کم کیا ہے لیکن برسرزمین حقائق مختلف ہیں۔ اگر تحریک انصاف نے قرض نہ لیا ہوتا اُور قومی قرضوں کی واپسی کی ہوتی تو پھر پاکستان کی واجب الاداءمالی ذمہ داریوں میں ایک سال کے دوران ”11 کھرب روپے“ کا اضافہ نہ ہوا ہوتا۔ آخر یہ کیسے ہو گیا کہ تحریک انصاف نے قرض نہیں لیا اُور واجب الاداءقرضوں کی واپسی بھی کی لیکن پھر بھی پاکستان پر قرض بڑھ گیا ہے؟

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن تحریک انصاف نے ایک سال کے دوران ’گیارہ کھرب روپے‘ قرض لیا ہے۔ اِس قرض میں روپے کی قدر میں کمی سے ہونے والا اضافہ بھی شامل ہے لیکن یہ اضافہ ماضی میں لئے گئے قرضہ جات میں بھی شمار کیا گیا ہے کیونکہ روپے کی قدر میں کمی بیشی تب بھی ہوا کرتی تھی۔ اِس لئے کسی بھی دور حکومت کے دوران لئے گئے مجموعی قومی قرض کا موازنہ دوسرے حکومتی دور میں لئے گئے مجموعی قومی قرضوں ہی سے کیا جائے گا۔
سال 1971ءمیں ہر پاکستان فرد (مرد‘ عورت یا بچے) کے ذمے 500 روپے قومی قرض تھا اُور 48 برس میں ہر پاکستانی فرد ”1 لاکھ 87 ہزار روپے“ کا مقروض ہو چکا ہے۔

قرض وقتی طور پر راحت کا باعث ضرور ہوتے ہیں لیکن جب ایک خاص حد سے زیادہ قومی قرضوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اِس کی وجہ سے ’ملکی شرح سود‘ میں اضافہ کرنا پڑتا ہے اُور معیشت قرضوں کی عادی ہونے لگتی ہے کیونکہ مصنوعی طریقے سے معیشت کو چلانے میں اِس کی ناکامی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ جہاں خسارے (قومی معاشی ناکامی) کے امکانات زیادہ ہوں‘ وہاں یا تو سرمایہ کاری نہیں ہوتی یا سرمایہ کار احتیاط سے کام لیتے ہوئے زیادہ مراعات اُور منافع کا تقاضہ کرتے ہیں اُور اِن دونوں روئیوں (حکمت عملیوں) کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومی اقتصادی ترقی یا تو بالکل رُک جاتی ہے یا پھر اِس کی شرح نمو میں اضافہ نہیں ہوتا۔

حد سے زیادہ قومی قرضہ جات میں اضافے کی مثال ایک ایسی گاڑی میں سفر سے دی جا سکتی ہے جو اپنی جگہ پر کھڑی ہو لیکن اُس کے اندر بیٹھے ہوئے افراد سمجھ رہے ہوں کہ سفر جاری ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Friday, January 19, 2018

Jan 2018: Trendy protest as solution!

مہمان کالم
اِحتجاج بر اِحتجاج!
آخر اِحتجاج کے لئے ’شاہراۂ عام‘ بند کرنا ہی کیوں ضروری ہوتا ہے؟ 
یہ ایک ایسا بنیادی سوال ہے جس کا تعلق طرزحکمرانی سے زیادہ اُن معاشرتی روئیوں سے ہے‘ جس میں ہمیں اپنی غلطیاں نظر نہیں آتیں لیکن ہم دوسروں پر تنقید کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سڑکیں بند کرنے میں پاکستان کی سبھی سیاسی و مذہبی جماعتیں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں بلکہ مخالفین پر اپنی طاقت اور عوامی مقبولیت کا رعب ڈالنے کے سڑکیں بند کرنے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے اور ایسا کرنے میں صرف سیاسی و مذہبی جماعتوں ہی قصوروار نہیں بلکہ ’معاشرتی حیثیت‘ کا تعین بھی اِس بات سے ہوتا ہے کہ کون کتنی بڑی اور اہم شاہراہ بند کرسکتا ہے۔ 

عمومی طور پر دیکھنے میں آتا ہے کہ شادی بیاہ‘ خوشی و غم کے تہواروں کے موقع پر شاہرائیں اور مصروف و معروف گلی کوچوں کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے بند کر دیا جاتا ہے اور ہونا تو یہ چاہئے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اِس رجحان کی حوصلہ شکنی کریں لیکن وہ سڑکیں بند کرکے پہرہ دے رہے ہوتے ہیں کہ خلاف ورزی یا سڑک احتجاج کرنے پر احتجاج کرنے والوں سے نمٹا جائے۔ افسوس کہ ہم اپنی خوشی‘ غم اور احتجاج کے موقع پر حواس کھو دیتے ہیں ورنہ کئی ایسے طریقے (حل) بھی ڈھونڈے جا سکتے ہیں‘ جن کے ذریعے سانپ بھی مر سکتا ہے اور لاٹھی بھی بچ سکتی ہے! اپنے پاؤں پر اپنی ہی کلہاڑی مارنا کہاں کی دانشمندی ہے اور اپنے ہی لوگوں کو پریشانی سے دوچار کرنے سے سوائے نفرت اور کیا حاصل ہوسکتا ہے‘ اِس بارے سوچنا بھی تو معمول بنایا جا سکتا ہے۔ جس معاشرے سے سوچنے اور اِس معاشرتی خرابیوں کا پائیدار حل تلاش کرنے کے لئے غوروخوض کا عمل اٹھ جائے وہاں کے مسائل ہر گزرتے دن بڑھتے چلے جاتے ہیں‘ جیسا کہ ہم اپنے اردگرد مشاہدہ کرتے ہیں۔ سڑکیں بند نہ ہوں‘ راستے بہرحال کھلے رہیں اور معمولات زندگی متاثر کرنے والوں سے بلاامتیاز قانون کے مطابق معاملہ کیا جائے تو اِس سلسلے میں سب سے زیادہ تعاون اور قربانی اُن سیاسی جماعتوں کو دینا ہوگی جن کی قانون ساز ایوانوں میں نمائندگی موجود ہے کیونکہ جب تک قانون کا احترام قانون سازوں کی جانب سے دیکھنے میں نہیں آئے گا‘ عام آدمی (ہم عوام) اِس جانب متوجہ نہیں ہوں گے۔ رہنمائی کے لئے سپرئم کورٹ آف پاکستان (عدالت عظمیٰ) کے چیف جسٹس کی ایک رولنگ آن دی ریکارڈ ہے کہ ’’سڑک بند کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘‘

لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے سترہ جنوری کو ’مال روڈ لاہور‘ پر احتجاجی جلسۂ عام کے انعقاد کی مشروط اجازت دی تو یہ مصلحت تھی کیونکہ ایک سے زیادہ سیاسی جماعتوں کے مشترکہ احتجاج کے لئے پہلے ہی سے سڑک بند کی جا چکی تھی اور تصادم سے بچنے کے لئے عدالت کو ایک ایسا فیصلہ کرنا پڑا‘ جس سے سب کو اُن کی دلی مراد مل جائیں۔ ’پاکستان عوامی تحریک‘ کے مال روڈ پر مذکورہ احتجاجی جلسے میں پاکستان پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت شریک ہوئی جو انوکھی بات تھی۔ اس موقع پر لاہور میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان پوسٹرز اور بینرز لگانے کے حوالے سے مقابلہ بھی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا۔ یہ (غیرترقیاتی) اخراجات اگر اِن جماعتوں نے خود سے کئے ہیں تو بڑے دل گردے کی بات ہے۔ 

مذکورہ احتجاج انتہائی افسوسناک ’’سانحۂ ماڈل ٹاؤن‘‘ کے چودہ شہداء کے لئے انصاف کی پکار ہے مگر اِس سانحے پر آنسو بہانے والے برقی قمقموں اور رنگ برنگی روشنیوں جلا کر احتجاج کیوں کرتے ہیں؟ احتجاج میں موسیقی (ترانے اور نغمے) کیوں بجائے جاتے ہیں اور احتجاج کے شرکاء کا لہو گرمانے کے لئے بلند ترین آواز میں جدید ساؤنڈ سسٹم کا استعمال کیوں کیا جاتا ہے!؟

لاہور ہائی کورٹ سال دوہزارگیارہ میں شاہراۂ قائداعظم پر مفاد عامہ کے تحت جلسوں جلوسوں پر پابندی عائد کرچکی ہے لیکن اِس عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرانے کی بجائے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا گیا جس سے آئین و قانون پر عملداری کا تاثر پختہ نہیں ہوا‘ بلکہ ثابت ہوا ہے کہ پاکستان میں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ہے! پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج میں تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی قابل ذکر اور بڑی جماعتیں شامل ہوئیں‘ اُن کے آپسی نظریات میں سیاسی یکسانیت نہیں پائی جاتی ہے۔ 

سیاست میں پیپلزپارٹی‘ تحریک انصاف اور نواز لیگ ایک دوسرے کے لئے عدم برداشت کی ایک تکون بنی ہوئی ہے اور سیاسی اختلافات ذاتیات اور دشمنی تک پہنچے ہوئے ہیں لیکن لاہور میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے مل کر احتجاج میں شرکت کی‘ جبکہ عین اسی موقع پر بدین میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری‘ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو للکار رہے تھے!

پاکستان کی سیاست تضادات کا مجموعہ ہے۔ 
سیاست دان ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں لیکن درپردہ اُن کے مفادات اور مقصد ’اقتدار کا حصول‘ ہے‘ جس پر اُنہیں کوئی ندامت یا شرمندگی بھی نہیں۔ کیا پاکستان کا عام آدمی (ہم عوام) خاموش تماشائی بن کر قومی وسائل کی تباہی و بربادی کا نظارہ یونہی کرتا رہے گا؟ کیا ہمیں اِس ’’طرزِ اِحتجاج‘‘ پر ’’اِحتجاج‘‘ نہیں کرنا چاہئے‘ جس سے مسائل حل نہیں بلکہ اُن کی شدت بڑھ رہی ہے۔ حب الوطنی کے تقاضے عملی اِظہار چاہتے ہیں۔ سیاسی اشرافیہ سے توقع ہے کہ پاکستان میں انصاف کی ’’بلاامتیاز‘‘ فراہمی‘ قانون کے ’’بلاامتیاز‘‘ نفاذ اور ’’بلاامتیاز‘‘ تعمیروترقی کے ذریعے ملک سنوارنے جیسے اہداف بھی پیش نظر رکھیں۔
۔

Thursday, January 18, 2018

Jan 2018: Ever changing political ideas!

مہمان کالم
نت نئے سیاسی تصورات!
گردش زندگی کی علامت ہے اور سیاست کا محور مفادات ہوتے ہیں! 

پاکستان عوامی تحریک کے شانہ بشانہ کھڑی پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی نظریں صوبہ پنجاب کے طول و عرض میں اُس ’بریلوی ووٹ بینک‘ پر جمی ہیں‘ جو رواں برس متوقع عام انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتا ہے۔ اب تک کے ضمنی انتخابی نتائج سے بھی یہی ثابت ہوا ہے کہ اگر مذہبی اور سیاسی جماعتیں اتحاد کر لیں تو ’بریلوی ووٹ بینک‘ کسی بھی انتخابی مقابلے کے نتائج اُلٹ پلٹ سکتا ہے۔ 

غیرفطری انتخابی اتحاد میں پاکستان کے لئے ’’اچھی خبر‘‘ تلاش کرنے والے عام آدمی (ہم عوام) کو آئندہ عام انتخابات سے بھی مایوسی ہی ہاتھ آئے گی کیونکہ موجودہ انتخابی و پارلیمانی نظام سے اُمیدیں وابستہ کرنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ موجودہ سیاسی منظرنامے اور نت نئے سیاسی تصورات سے کوئی اِتفاق کرے یا نہ کرے لیکن آصف علی زرداری سمجھتے ہیں کہ اُن میں ’بھٹو‘ کی روح منتقل ہو چکی ہے اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا یہ دعویٰ غیرمعمولی ہے گویا بھٹو کی ’روح‘ وہ آخری ’قیمتی چیز‘ تھی جس کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا مگر اب اُس پر بھی آصف علی زرداری کی دعویداری سامنے آگئی ہے اور ایک طبقے کا خیال ہے کہ ’’بھٹو کی جائیداد اور خاندان کی طرح اُن کی روح پر بھی قبضہ ہوگیا ہے۔‘‘ اِس سے پہلے بھٹو کی سیاست‘ ملک گیر بڑی سیاسی جماعت‘ آبائی ملکیت و جائیداد‘ بھٹو کی ذات‘ نعرے‘ بھٹو کے شیدائی‘ حتیٰ کہ جیالے بھی زرداری کے قابو آچکے ہیں!

بھٹو کی روح کسی انسان میں آنے سے کئی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔ کیا پتہ اِسی روح کی بدولت مستقبل قریب میں ’آصف علی بھٹو زرداری‘ جیسا نام سننے کو ملے۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ چند ہفتوں‘ مہینوں یا ایک دو سال روح کی سینیارٹی دیکھ کر آصف علی زرداری خود کو پورے کا پورے ذوالفقار بھٹو ہی سمجھ بیٹھیں اور کسی دن اسٹیج سے اعلان ہوکہ ہم نہ کہتے تھے کہ ’’بھٹو زندہ ہے‘‘ لو جی میں وہی بھٹو ہوں جو آپ کے سامنے زندہ کھڑا ہے!

آصف علی زرداری کو پاکستان کے ’’نیلسن منڈیلا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ خودساختہ اعزاز اُن کے وسیع مطالعے کا نچوڑ ہے۔ جنوبی افریقہ کے لوگ ’منڈیلا‘ کو ادب سے ’مادیبا (معزز بزرگ)‘ پکارتے ہیں۔‘ پچانوے برس کی عمر میں ’5 دسمبر 2013ء‘ کے روز فوت ہونے والے ’سیاہ فام مادیبا‘ کی تدفین آبائی گاؤں ’’کونو (Qunu)‘‘ میں کی گئی جبکہ شہید ذوالفقار بھٹو گڑھی خدا بخش میں مدفون ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ جب زرداری (پاکستانی مادیبا) بھٹو کی روح سے متعلق اِعلان کر رہے تھے تو جنوبی اَفریقہ کے مادیبا اُور گڑھی خدا بخش کی قبروں میں زیادہ بھونچال کہاں آیا ہوگا!

کسی سیاست دان میں سیاستدان ہی کی روح کا سرائت کرنا نئی بات نہیں‘ کچھ اِس کا اعلان کردیتے ہیں اور کچھ اپنے اعمال سے ظاہر کردیتے ہیں مثلاً میاں نواز شریف میں کس کی روح ہے؟ جی بالکل آپ کا جواب درست ہے لیکن میاں صاحب اب اِس روح سے جان چھڑانے کے چکر میں ہیں‘ جسے ’’چودھری نثار‘‘ نے مرشد بنا رکھا ہے۔ اِس تناظر میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی روحیں بھی تحقیق چاہتی ہیں‘ جن کا سیاسی سفر نظریاتی تضادات کا مجموعہ ہے! سچ تو یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو جس نے سیاست کو پیروں کی گدیوں‘ وڈیروں کی خوابگاہوں‘ نوابوں کے ڈیروں‘ سرداروں کے بنگلوں اُور بڑے بڑے ڈرائنگ رومز سے نکال کر گلی کوچوں میں عام کردیا۔ وہ بھٹو جس نے عوام کو زبان دی‘ ووٹ کا حق دیا‘ پاکستان کو آج بھی اُس بھٹو کی ضرورت محسوس کرنے والوں نے جس جسم کا اِنتخاب کیا ہے وہ عوامی سیاست کو پھر سے ڈرائنگ روم کی زینت بنا دے گا۔ 

بھٹو کی محنت اور قربانیوں کا یہ صلہ ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ہم اُنہیں کسی ایسے شخص کے روپ میں دیکھیں جو پانچ سال تک صدر ہونے کی وجہ سے استثنیٰ کی چھتری تلے چھپا رہا اور اندرون و بیرون ملک اثاثہ جات اور وسائل سے بڑھ کر مالی حیثیت کے مالک ہیں۔ بھٹو وہ عظیم سیاسی کردار تھا‘ جس پر لفظ سیاست دان کا پورا اطلاق ہوتا تھا۔ اُنہوں نے ’اقتدار اور کرسی کو لات مار کر‘ عوام کو طاقت کا سرچشمہ قرار دیا لیکن اُن کی ذات اور روح کی ترجمانی کے دعویدار ایوانِ صدر میں پانچ برس تک عوام سے روپوش رہے۔ اِس ’مرحلۂ فکر‘ پر جس ’بے چین وجود‘ کی بات ہو رہی ہے‘ اُس نے پیپلز پارٹی کو ’کراچی سے کشمیر‘ تک پھیلانے کے بعد سمندر کوزے میں بند کردیا ہے اور اب پیپلز پارٹی کی حالت سب کے سامنے ہے‘ جسے طاہرالقادری جیسے کندھے کی ضرورت پڑ گئی ہے!

’بھٹو کا نعرہ‘ گونج رہا ہے‘ روح بھی آ گئی ہے لیکن وہ منشور‘ فکر‘ پروگرام اُور دانش کہاں چلی گئی‘ جس سے عام آدمی (ہم عوام) کا مفاد اور اُمیدیں وابستہ ہیں!؟ 

سیاست کی سیڑھی ہے‘ جھوٹے وعدے ہیں‘ جھانسے اور تمام راستوں کا اختتام ایوانِ اقتدار پر ہوتا ہے۔ اِس کے لئے اقدار‘ اصول سب کچھ پیچھے رہ گیا۔ اب تو پیپلز پارٹی پر ایسا وقت آگیا ہے کہ بھٹو کی روح کے دعویدار کے سامنے طاہر القادری بھی اِس دور کے نوابزادہ نصراللہ بن چکے ہیں‘ یہ وہ تیسری روح ہے جو اِن دنوں تڑپ اُٹھی ہوگی۔ طاہر القادری کسی تعارف کے محتاج نہیں جنہیں ماڈل ٹاؤن سانحے کی صورت ایک نادر موقع ہاتھ آ گیا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ آصف علی زرداری تو خود اپنا جسم عطیہ کرچکے ہیں‘ تو اُن کی رحلت کے بعد بھٹو کی روح کا کیا بنے گا؟
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2018-01-18

Sunday, November 26, 2017

Nov 2017: The kingdom led "Islamic Military Alliance" declared as 'suicide mission', would Pakistan like to be part of another conflict?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
تیر نیم کش!
’پندرہ دسمبر دوہزار پندرہ‘ میں ’اِکتالیس اسلامی ممالک (افغانستان‘ بحرین‘ بنگلہ دیش‘ بینن‘ برونائی‘ برکینا فاسو‘ چاڈ‘ کومورس‘ کوتے ڈی لوویر‘ جبوتی‘ مصر‘ گابون‘ گمبیا‘ گونیا‘ کونیا باسو‘ اردن‘ کویت‘ لبنان‘ لیبیا‘ ملائشیا‘ مالدیپ‘ مالی‘ مارتنیا‘ مراکش‘ نائجیر‘ نائیجیریا‘ عمان‘ پاکستان‘ فلسطین‘ قطر‘ سعودی عرب‘ سینیگال‘ سری لیون‘ صومالیہ‘ سوڈان‘ توگو‘ تیونسیا‘ ترکی‘ یوگینڈا‘ متحدہ عرب امارات اُور یمن) کی جانب سے ’عسکری اِتحاد‘ کے قیام پر اتفاق ہوا‘ جس کی قیادت ’پاک فوج‘ کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کو سپرد کی گئی تو اِس پاکستان نے اپنے لئے اعزاز قرار دیا۔ آج (چھبیس نومبر) کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض (Riyadh) میں ’عسکری اِتحاد‘ کے رکن ممالک بشمول پاکستان سے وزیردفاع کی سربراہی میں نمائندہ وفود شریک ہو رہے ہیں تاکہ مستقبل قریب میں اِس اتحاد سے کام لیا جا سکے جو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خرید کر مسلح ہو چکا ہے۔ 

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ مشرق وسطیٰ نے مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد ’نیٹو (NATO)‘ کی طرز پر تنظیم قائم کی ہے لیکن اِس کے اہداف اور مقاصد ابھی تک واضح نہیں ہو سکے ہیں۔ 

اسلامی ممالک کے اِس عسکری اتحاد کے قیام کا بنیادی مقصد ہم خیال ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مشترکات کی تلاش ہے تاکہ کسی مشترک دشمن و ہدف (دہشت گردی) کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جا سکے۔ اِس مقصد کے لئے رکن ممالک کو ایک دوسرے سے نہ صرف خفیہ معلومات کا تبادلہ کرنے پر رضامند ہونا پڑے گا بلکہ سعودی عرب کے بادشاہ کی بلاشرکت غیرے قیادت بھی تسلیم کرنا پڑے گی اور سعودی عرب کی نظر میں جو بھی دہشت گرد ہوگا‘ وہی اکتالیس رکن ممالک کی نظر میں بھی ممکنہ اور موجود خطرے کی علامت (مشترکہ ہدف) سمجھا جائے گا۔ مذکورہ عسکری اتحاد کی جانب سے وضاحت میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں دہشت گردی کے خلاف دیگر اتحادوں کی طرح یہ بھی ایک قسم کا فوجی اتحاد ہی ہے‘ اِس بیان کادرپردہ مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ مغربی دنیا بالخصوص اسرائیل کو یقین دلایا جائے کہ وہ چاہے کسی بھی مسلم ملک پر فوج کشی کریں یا الزامات لگانے میں جس انتہاء تک بھی جائیں‘ اِس اتحاد کے اسلحے کا رخ اُن کی جانب نہیں ہوگا۔ 

اکتالیس اسلامی ممالک کا اتحاد درحقیقت بادشاہتوں اور اقتدار پر قابض شاہی خاندانوں کے تسلط کو برقرار رکھنا اُور مستقبل میں اگر بالخصوص عرب ممالک کے عوام شاہی اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو اُنہیں دہشت گرد قرار دے کر کچلنے کا جواز فراہم کرے گا۔ توقع ہے کہ عسکری اتحاد کے پہلے اجلاس میں وہ لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جائے گا جس کا پوری دنیا کو انتظار ہے۔ علاؤہ ازیں اِس عسکری اتحاد آپریشن کمانڈ‘ فعالیت اور ممالک کی حصہ داری بارے حساس معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنے کی راہ میں کوئی اختلافی نکتہ (رکاوٹ بظاہر) حائل نہیں! مذکورہ عسکری اتحاد کے رکن ممالک کے تحفظات موجود ہیں کیونکہ تشکیل سے لیکر اِس دوسال کے دوران اِن ممالک کو خود بھی علم نہیں کہ اِس پوری کوشش کا اصل (درپردہ) مقصد کیا ہے۔ 

’’میرسپاہ ناسزا‘ لشکریاں شکستہ صف ۔۔۔ 
آہ! وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف (علامہ اقبالؒ )‘‘

سعودی عرب میں طلب کئے گئے ’اِسلامی اِنسداد دہشت گردی فوجی اِتحاد‘ کے سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کی تقرری‘ پاکستان کی پارلیمانی سیاسی جماعتوں بالخصوص پیپلزپارٹی کے لئے ناقابل ہضم ہے کہ وہ پاکستان کا نام کسی ایسے دفاعی اِتحاد سے منسلک دیکھے جو ایک خاص اسلامی ملک کی خاص نظریاتی تعلیمات کے تابع ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے پہلے ایسے کسی اِتحاد میں شمولیت سے معذرت کرتے ہوئے اِنکار کیا‘ پھر اقرار کیا اور ایک مرتبہ پھر اِنکار کرتے ہوئے ’ہاں میں ہاں‘ ملا دی ہے۔ 

جنرل راحیل شریف اِس بارے میں کہہ چکے ہیں کہ ’’میں پوری دیانتداری سے اِس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ‘ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حکمت عملی کے کئی پہلو دنیا بھر میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں آزمائے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ ممالک جو عملی طور پر دہشت گردی کے خلاف نبردآزما ہیں۔ میں یہ بات واضح کرناچاہتا ہوں کہ اِتحاد اِنسداد دہشت گردی کے لئے ہے اور یہ کسی ملک‘ فرقے یا مذہب کے خلاف نہیں۔‘‘ لیکن یہ ’’معلوم تعریف‘‘ اُور تعارف کم سے کم پیپلزپارٹی کے لئے قابل قبول نہیں۔ 

چوبیس نومبر کو ایوان بالا (سینیٹ) اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ’سینیٹر فرحت اللہ بابر‘ نے کہا کہ ’’اِس فوجی اتحاد کے دائرہ کار اور مستقبل کے منصوبوں پر کئی سوالات ہنوز جواب طلب ہیں۔ اِس لئے (سعودی عرب فوجی اتحاد کے پہلے اجلاس میں شرکت کے لئے جانے والے) پاکستانی وزیردفاع سعودی عرب سے کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے پہلے اِس قانون ساز ایوان (سینیٹ کو ’’ضرور بالضرور‘‘ اعتماد میں لیں۔ فرحت اللہ بابر کا سینیٹ سے خطاب قومی نشریاتی رابطے کے ذریعے براہ راست دیکھا گیا اور یوں محسوس ہوا‘ جیسے ’ذوالفقار علی بھٹو‘ بول رہے ہوں۔ وہ گرجدار آواز میں اسپیکر (رضا ربانی) کی آنکھوں میں آنکھوں ڈال کر کہہ رہے تھے اور بارہا تائید میں اسپیکر کی گردن ہلنے کے مناظر بھی دنیا نے دیکھے کہ اِس منطقی دلیل اور حقیقت حال سے اختلاف آسان نہیں۔ 

افغان جنگ کے بعد پاکستان کسی بھی ایسی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا جو اُس پر مسلط کی جائے۔ 

فرحت اللہ بابر نے کہا جو لفظ بہ لفظ کچھ یوں تھے کہ ’’مذکورہ اسلامی اتحاد کے نتائج انتہائی دور رس ہیں‘ کیونکہ اب اِس اتحاد کی حکمت عملی طے ہوگی؟ فیصلوں کااختیار کسے ہوگا؟ اس عسکری اتحاد منجملہ سرگرمیاں اور مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ جناب چیئرمین‘ اِس (معزز) ایوان کی جانب سے یہ بات اُن (سعودی حکمرانوں اُور اتحاد میں شریک ممالک) تک جانی چاہئے کہ جب ہمارا ’وزیردفاع‘ وہاں جائے اور اتنے (اہم) بنیادی مسائل کی وہاں بات ہو رہی ہو تو (پاکستان کی جانب سے تعاون کی کسی بھی یقین دہانی) کمٹمنٹ سے قبل وہ ’پلان‘ جو اِس ایوان کے سامنے رکھا جائے تاکہ بعد میں مشکلات نہ ہوں۔ سعودی عرب ہمارا دوست برادر ملک ہے لیکن جہاں تک (سعودی عرب کے) نظریات کا تعلق ہے‘ جناب چیئرمین‘ میں اِس پر بات کرنا نہیں چاہتا‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ (سعودی عرب کی) آئیڈیالوجی سے بھی اُور دہشت گردی کی ’مالی سرپرستی‘ کرنے سے متعلق بھی بڑے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔‘‘ 

فرحت اللہ بابر جس باریک نکتے کی جانب سینیٹ اِیوان‘ حکومت اُور پاکستانی قوم کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اُس جانب علامہ اقبالؒ اشارہ کر گئے ہیں‘ صرف غور کرنے اور سمجھنے کی دیر ہے۔ ’’مثل کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی: 
اب بھی درخت طور سے آتی ہے بانگ لاتخف۔۔۔ 
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ: 
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف!‘‘
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-11-26

Thursday, October 26, 2017

Oct 2017: ByElection & wonders of NA 04, Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ضمنی انتخاب: این اے فور!
عام انتخابی عمل میں ’دھاندلی‘ کا ’جامع تصور‘ تین مراحل میں تکمیل پاتا ہے۔ 1: قبل از انتخابی قواعد کی خلاف ورزیاں بشمول حکمراں جماعت کی جانب سے ترقیاتی کام اُور اہم عہدوں پر منظورنظر افراد کی تعیناتیاں‘ 2: رائے دہی (پولنگ) کے مرحلے میں طاقت‘ دھونس اور سرمائے کا (کھلم کھلا) استعمال اور 3: انتخابی اُمیدواروں کی اکثریت بعداَز اِنتخابات (پوسٹ الیکشن) نتائج پر اثرانداز ہونے کی حتی الوسع کوشش کرتی ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ ’این اے فور‘ پر ’ضمنی انتخاب‘ کی روداد بھی زیادہ مختلف نہیں‘ جہاں بڑی سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کے لئے سرتوڑ اور جوڑتوڑ کوششوں کا منطقی انجام آج (چھبیس اکتوبر) دن ڈھلنے واضح ہو جائے گا لیکن صوبائی دارالحکومت پشاور کے بیشتر دیہی علاقوں پر مشتمل اِس ضمنی انتخاب کی وساطت سے مستقبل کا ’انتخابی منظرنامہ‘ بڑی حد تک معلوم ہو چکا ہے کیونکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان بننے اور بگڑنے والے ’انتخابی اتحاد (قربتیں اُور فاصلے)‘ ہی خیبرپختونخوا کے دیگر حصوں بالخصوص پشاور کی سطح پر ’مستقبل قریب‘ میں ہونے جا رہے انتخابی مراحل پر اثرانداز ہوں گے۔

عام انتخابی مرحلے میں کسی ایک اُمیدوار کی ’جیت‘ کا یہ مطلب قطعی نہیں ہوتا کہ مدمقابل دیگر اُمیدواروں کو شکست ہوئی ہے بلکہ انتخابات کے ذریعے جمہوریت پر یقین اور اعتماد کا عملی اظہار اِس عمل کی اساس و اثاثہ ہے۔ افسوس کہ سیاسی جماعتیں عمومی طور پر انتخابی اتحاد کی صورت اپنے حامیوں کے جذبات کا احساس نہیں کرتیں۔ جمہوریت کی روح اور انتخاب کا مقصد اُسی وقت فوت ہو جاتا ہے جب مختلف النظریات سیاسی جماعتیں انتخابی اتحاد کرتی ہیں۔ پشاور کی سطح پر اِس قسم کے اتحاد پہلی مرتبہ ’این اے فور‘ پر دیکھنے میں نہیں آئے بلکہ اگست دوہزار تیرہ کے آخری ہفتے جب ’این اے ون‘ کے ضمنی انتخاب پر تحریک انصاف کے مقابلے عوامی نیشنل پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی تب تحریک انصاف کے مقابلے چھ سیاسی جماعتوں نے اتحاد کیا تھا جبکہ مئی دوہزار تیرہ میں تحریک انصاف کے مخالفین کا ’ووٹ بینک‘ منتشر تھا۔ اُس وقت رہی سہی کسر ’تحریک انصاف‘ کے داخلی اختلافات نے پوری کر دی اور یوں بھاری اکثریت سے جیتی ہوئی نشست چند ہزار ووٹوں کے فرق سے ’پی ٹی آئی مخالف اتحاد‘ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جس سے باردیگر ثابت ہوا کہ عام انتخابات صرف اور صرف حساب و کتاب (شمار) پر منحصر ہوتے ہیں جو اُمیدوار اپنے اور مخالفین کے ’ووٹ بینک‘ کا درست اندازہ لگائیں وہی دلی مراد پاتے ہیں۔ 

سیاسی جماعتیں جس پھرتی‘ اتحادواتفاق اور ووٹروں سے رابطوں کا اہتمام عام انتخابات کے موقع پر کرتی ہیں لیکن اگر یہی سلسلہ بعدازانتخابات بھی جاری رہے تو جمہوریت کے ثمرات و اثرات زیادہ اُبھر کر سامنے آئیں۔ عمومی طور پر ملک کے ہر انتخابی حلقے میں ووٹروں کی اکثریت اِس احساس محرومی کا شکار ہے کہ اُن سے ووٹ لینے والے بعدازاں انتخابی حلقوں کا رُخ نہیں کرتے۔ قانون ساز ایوانوں کی رکنیت رکھنے والوں کے پاس ’ترقیاتی فنڈز‘ ہونے کی وجہ سے انتخابی حلقوں کو اُن کی ضرورت رہتی ہے لیکن عام آدمی (ہم عوام) کو اِس ’’خوش فہمی کے مرض‘‘ کا علاج کرنا چاہئے کہ (تین سطحی) انتخابی عمل میں کروڑوں روپے اور اپنے بیش قیمت وقت کی سرمایہ کاری کرنے والے ’’خدا واسطے سیاست‘‘ کر رہے ہیں۔ ’این فور‘ پر ہوئے ’’انتخابی اتحاد اور رائے دہندگان کو قائل کرنے کی مہمات‘‘ سے اہل پشاور نے کیا سیکھا؟ کیا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے مقرر کئے جانے والے زیادہ سے زیادہ اخراجات سے متعلق قواعد ایک مرتبہ پھر پائمال ہوئے؟ اُور اِس پورے عمل سے کیا (مردم شماری کے تین بلاکس) ’’اُڑمر (چارج ٹو)‘ بڈھ بیر (چارج فور) اور ہزارخوانی (چارج چودہ)‘‘ کے دیہی علاقوں کی قسمت بدلنے والی ہے؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ’ایم این اے‘ گلزار خان کی وفات سے خالی ہونے والی ’’اِین اَے فور‘‘ کی نشست کے لئے ’’3 لاکھ 97 ہزار 904 ووٹرز‘‘ ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے اہل ہیں‘ جنہیں ’’15اُمیدواروں‘‘ میں سے کسی موزوں شخص کا انتخاب کرنا ہوگا۔ بطور اُمیدوار حصہ لینے والوں میں امان اللہ خان آفریدی (آزاد)‘ ارباب عامر ایوب (تحریک انصاف)‘ اسد گلزار خان (پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین)‘ الحاج لیاقت علی خان (آزاد)‘ خوشدل خان (اے این پی)‘ ڈاکٹر مبشر خان (آزاد)‘ سمیع اللہ (آزاد)‘ شوکت خان مہمند (آزاد)‘ ضیاء الرحمن (آزاد)‘ علامہ ڈاکٹر محمد شفیق ایمنی (تحریک لبیک (یارسول اللہ) پاکستان)‘ فرحان قدیر (آزاد)‘ محمد تنویر (آزاد)‘ مولانا وحید عالم (آزاد)‘ ناصر خان موسیٰ زئی (پاکستان مسلم لیگ نواز) اور واصل فاروق جان ایڈوکیٹ (جماعت اسلامی) شامل ہیں۔ اِس حلقے میں ’’ایک لاکھ باسٹھ ہزار سات سو چالیس‘‘ خواتین ووٹرز کی تعداد تعجب خیز ہے کہ کس طرح خواتین ووٹرز کی تعداد مرد ووٹرز کے تناسب ’’72 ہزار 424‘‘ کم ہو سکتی ہے جس کا مطلب ہے کہ دیگر دیہی علاقوں کی طرح یہاں بھی خواتین کے ووٹ حسب تعداد اندراج (رجسٹرڈ) نہیں ہوئے اور نہ ہی پولنگ میں اُن کی پچاس فیصد تعداد ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کر پائے گی۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخاب میں ’این اے فور‘ پر ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب 40.34 فیصد رہا جبکہ 12مدمقابل اُمیدواروں کے مقابلے کامیاب قرار پانے والے ’تحریک انصاف‘ کے نامزد گلزار خان نے 55ہزار 134 ووٹ حاصل کئے تھے۔

پشاور کا مضافاتی ’این فور‘ کا انتخابی حلقہ ’امن و امان‘ کے لحاظ سے آج بھی غیریقینی کی صورتحال سے دوچار رہا ہے جہاں ملحقہ قبائلی پٹی سے در آنے والے عسکریت پسندوں اور منظم جرائم پیشہ عناصر کا تین مقامی قبائل مقابلہ کر رہے ہیں لیکن اِس ضمنی انتخاب نے ماضی کے اِس اہم اتحاد کو نقصان پہنچایا ہے اور آج یہ تینوں مقامی قبائلی گروہ (حاجی عبدالمالک‘ دلاور خان اور حاجی عباس گروپ) الگ الگ اُمیدواروں کی حمایت کر رہے ہیں۔ اگرچہ ماضی میں بھی ایک مرتبہ ملک اور خان گروپ ایک دوسرے کے مدمقابل سیاسی مخالف اُمیدواروں کے حامی تھے لیکن اِس مرتبہ اختلافات اس حد تک زیادہ ہیں کہ مسلح تصادم کے امکانات بھی ہیں! یہی وجہ ہے کہ فوج طلب کر لی گئی ہے جو انتخابی مراکز کی حفاظت کرے گی۔ سیاسی جماعتیں کس طرح مسلح گروہوں کی سرپرستی کرتی ہیں اور کس طرح عسکریت پسندوں کے خلاف مسلح گروہوں کی سرپرستی کی گئی‘ اِس کی کہانی اور اثرات (انجام) ’این اے فور‘ میں بخوبی ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ 

انتخابی فتح کبھی بھی ’حرف آخر‘ نہیں ہوتی لیکن اِسے نسلی‘ لسانی اور عزت و آبرو کا مسئلہ بنا کر پیش کرنے سے پیدا ہونے والی بدمزگی عمومی سماجی تعلقات پر منفی اثرانداز ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کی مخالفت میں حد سے گزرنے والوں کو پشاور اور خیبرپختونخوا کے مفادات کا بھی خیال (پاس) کرنا چاہئے۔ اُمید اور دُعا ہے کہ ضمنی انتخاب کا یہ مرحلہ حسب توقع‘ خوش اسلوبی سے مکمل ہوگا‘ جس میں حصہ لینے والے سبھی اُمیدوار اگر جمہوری روئیوں اور تقاضوں کو سمجھتے ہوئے برداشت سے کام لیں گے تو اپنی اپنی حیثیت میں صرف ’کامیاب‘ نہیں بلکہ ’کامران‘ بھی قرار پائیں گے۔

Friday, September 22, 2017

TRANSLATION: Farhat Ullah Babar - A man of ideals

A MAN OF IDEALS
نظریاتی سیاست کا علمبردار!

اُنیس سو چھیانوے کی بات ہے جب پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی اہلیہ ’شفیقہ ضیاء‘ اپنی آنکھ کے علاج (جراحت) کے لئے برطانیہ گئیں۔ اُن کے اِس دورے سے متعلق افواہیں زیرگردش تھیں کہ یہ دورہ ریاست وسائل سے کیا گیا۔ اِس بارے میں پشاور سے شائع ہونے والے (انگریزی زبان کے روزنامہ) فرنٹیئر پوسٹ کے اِدارتی کارٹونسٹ ’فیقا (Feica)‘ نے ایک خاکہ تیار کیا‘ جس میں ایک بھاری بھرکم (فربہ) خاتون کو دکھایا گیا تھا جو تحائف سے لدھے ہوئے ایک گدھے کو کھینچ کر لا رہی تھی۔ فرحت اللہ بابر اُس وقت اخبار کے منیجنگ ایڈیٹر تھے۔ انہوں نے فیقا سے کہا کہ اِس کارٹون کے نیچے اِس جملے کا اضافہ کردو۔ ’’ایک آنکھ کے اشارے سے قافلے راہ بدل دیتے ہیں۔‘‘ اِس کارٹون کی اشاعت آمر کے مزاج پر بجلی بن کر گری اور اُن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ جنرل ضیاء نے مرحوم مجید نظامی کو طلب کیا جو اُس وقت دائیں بازو کے صحافی تھے اور لاہور سے نوائے وقت نامی روزنامے کے ایڈیٹر ہونے کے علاؤہ ’کونسل آف پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹر‘ کے صدر بھی رہے۔ جنرل ضیاء نے نظامی سے کہا کہ وہ ’فرنٹیئرپوسٹ‘ کی (بیباک صحافتی) تنقید کو ہمیشہ ہی برداشت کرتے آئے ہیں لیکن اب مجھے (جنرل ضیاء) کو فرنیٹئرپوسٹ کے دفاع میں مزید کچھ بھی سننے کا روادار نہیں پائیں گے۔‘‘

روزنامہ ’فرنٹیئر پوسٹ‘ کی افغانستان میں جہاد کے نام پر مہم جوئی کے بارے میں مخالف ادارتی پالیسی اور پاکستان میں مارشل لاء کے نفاذ کی مخالفت نے اِسے پاکستان کی صحافتی تاریخ و تحریک کا علمبردار بنا دیا تھا۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافی شمیم شاہد اُس دور کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’1980ء کے اوائل کی بات ہے جب ’دی مسلم‘ نامی اَخبار جمہوریت پسندوں میں مقبول ہوا کرتا تھا لیکن جب پشاور سے (روزنامہ) ’فرنیٹئر پوسٹ‘ نے اشاعت شروع کی تو اُس سیاسی و اقتصادی مشکلات بھرے دور میں کسی نئے اخبار کے پنپنے کے امکانات کم تھے لیکن (روزنامہ) فرنیٹئر پوسٹ کی بناء تعصب‘ جمہوریت نواز اور غیرمتزلزل آزاد ادارتی پالیسی کے خالق اِس کے ایڈیٹرز عزیز صدیقی اور فرحت اللہ بابر نے (روزنامہ) فرنیٹئر پوسٹ کو کامیاب اور مزاحمتی جمہوری تحریک کا علامتی اشاعتی ادارہ بنا دیا‘ جس کا ذکر پاکستان اور عالمی صحافتی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے الفاظ میں تحریر کیا جاتا رہے گا۔‘‘

فرحت اللہ بابر‘ فرنٹیئرپوسٹ کی پہچان تھے جو بطور ادارے کے نمائندہ غیرملکی سفارتکاروں‘ نامہ نگاروں اور دیگر سرکاری حکام سے ملاقاتیں کرتے کیونکہ یہ وہ وقت تھا جب افغانستان میں مبینہ جہاد جاری تھا اُور (روزنامہ) فرنیٹئرپوسٹ ایسا واحد مقامی روزنامہ تھا جو ایک طرف افغان جنگ اور افغان سرزمین و سیاست میں تبدیلیوں پر نظریں گاڑھے ہوئے تھا تو دوسری طرف اُس کا پاکستان اور افغانستان میں صحافتی اثرورسوخ میں ہر گزرتے دن اضافہ ہو رہا تھا۔ فرحت اللہ بابر اُن دنوں کی یاد میں کہتے ہیں کہ ’’افغانستان میں سوویت یونین (روس) کے اثرورسوخ کو کم کرنے کے لئے مغربی ممالک نے ’مدارس‘ کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور دینی مدارس کے نصاب میں ایسے اسباق شامل کئے جن سے نوجوان طلبہ میں نفرت کی کاشت کی جا سکے۔ الف سے اللہ۔ ب سے بندوق۔ ت سے تلوار۔ جیم سے جنت۔ ک سے کافر اُور کلاشنکوف جیسی ابجد مرتب کی گئی اور پھر یہی اسباق مدارس میں پڑھائے جانے لگے۔ یہ وہ دور تھا جب ہمارے اَخبار (فرنٹیئرپوسٹ) کی ’اِدارتی پالیسی‘ ریاستی پالیسی برائے افغانستان (افغان جنگ) سے مختلف (متضاد) ہوا کرتی تھی۔ ہم افغانستان میں جہاد کے نام سے ہونے والی خونریزی کے مخالف تھے اور یہی وجہ تھی کہ (روزنامہ) فرنٹیئرپوسٹ پر کیمونسٹ (لادین) اور ’روس نواز‘ ہونے کے الزام لگایا گیا۔ ہمارا مؤقف تھا کہ افغانستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ کسی بھی طرح جہاد کے اسلامی و اصطلاحی مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتا اور اسے جہاد نہیں بلکہ فساد کہنا چاہئے۔‘‘ لیکن (روزنامہ) فرنیٹئر پوسٹ پر آمر حکمراں ضیاء الحق کے عتاب کا سبب ’مارشل لاء‘ کی مخالفت پر مبنی ادارتی پالیسی تھی جس میں مقامی مسائل اور سیاست کے حوالے سے پختون قوم پرستی کے عنصر کو بھی غالب کردیا گیا جس نے جلتی پر تیل جیسا کام کیا۔ صوبائی حقوق و خودمختاری کی حمایت اور کالا باغ ڈیم منصوبے کی مخالفت کو ہوا دی گئی جو جنرل ضیاء الحق بنانا چاہتا تھا۔

فرحت اللہ بابر کی (روزنامہ) فرنٹیئر پوسٹ سے وابستگی اُن کی کئی لحاظ سے وطن واپسی جیسی تھی جس کے وہ ایک لمبے عرصے سے متمنی تھے۔ امر واقعہ یہ تھا کہ 1981ء میں جب وہ وزارت اطلاعات (انفارمیشن منسٹری) کا حصہ تھے تو اُنہیں کوئی بھی اہم ذمہ داری نہیں سونپی گئی اور ایک مرتبہ جب وہ ترکی میں ’پریس اتاشی‘ کے طور پر تعینات ہونے کے قریب پہنچے تو یہ موقع بھی اُن سے چھین لیا گیا۔ انہوں نے دل برداشتہ ہو کر چھٹی لی اور سعودی عرب چلے گئے جہاں اُنہیں ایک ’ٹائپسٹ‘ کی نوکری ملی لیکن کچھ ہی عرصہ بعد وہ ’’دالہ ایوکو (Dallah Avco)‘‘ نامی شہری ہوابازی (سول ایوی ایشن) کی ایک کمپنی سے بطور انجنیئر وابستہ ہوگئے۔ چند ہی ماہ میں انہیں ’رائل سعودی ائرفورس‘ کی اُن ہوائی پٹیوں (ائر بیسیس) کا منیجر لگا دیا گیا جو اُن کی سعودی کمپنی ’’دالہ ایوکو‘‘ کی زیرنگرانی تھیں۔ اُنہیں ایک خصوصی جیٹ طیارہ دیا گیا‘ جس میں وہ مختلف ائربیسیس کا دورہ کیا کرتے تھے لیکن جلد ہی اُن کے سعودی حکمرانوں سے اختلافات پیدا ہوگئے جن کے بارے میں فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ ’’سعودی عرب بنیاد پرستی‘ فرقہ واریت کے فروغ و سرپرستی اور جمہوری اسلامی ایران کو دہشت گرد ملک قرار دے کر تنہا کرنے جیسی پالیسیاں پر عمل پیرا تھا۔‘‘ سعودی عرب کی وضع کردہ پالیسی پاکستان نے (بناء سوچے سمجھے من و عن) اپناتے ہوئے ایران سے براہ راست ٹکراؤ اختیار کیا۔ مسلم دنیا کے اتحاد‘ فرقہ واریت‘ اسلامی بنیاد پرستی کو ہوا دینے اور بالخصوص سعودی عرب اور ایران سے متعلق فرحت اللہ بابر کے خیالات وقعت کے حامل ہیں۔ 4 جون 2017ء کو شائع ہونے والے اخبار ’ڈان (Dawn)‘ نے اپنے اداریئے میں فرحت اللہ بابر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’پارلیمینٹ میں توانا (دلیرانہ) آوازیں‘ جیسا کہ فرحت اللہ بابر نے خطرات کی نشاندہی کی ہے اور اِس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کو فرقہ ورانہ نظریات سے بناء سوچے سمجھے جوڑ دیا گیا (تاہم اِس قومی پالیسی سے رجوع ہونا چاہئے۔)‘‘

فرحت اللہ بابر خود کو سعودی عرب کا مشکور و ممنون بھی پاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ سعودی عرب جانے کا ایک محرک ’معاشی ہجرت‘ بھی تھا۔ پاکستان میں میرا ماہانہ مشاعرہ تین ہزار روپے تھا جبکہ سعودی عرب میں ماہانہ پانچ ہزار ڈالر کمانے کا موقع ملا۔ جس سے گھر اور گاڑی خریدنے کے علاؤہ میرے سیروساحت کے شوق کی تسکین کا سامان بھی ممکن ہوا۔ سعودی عرب سے واپسی کے بعد فرحت اللہ بابر نے ’وزارت اطلاعات (انفارمیشن منسٹری)‘ کی نوکری کو خیرباد کہا اور انہوں نے ’(روزنامہ) فرنٹیئر پوسٹ‘ سے وابستہ ہونے کو ترجیح دی اور پھر اپنے اِس فیصلے کو درست ثابت کرنے کے لئے انہوں نے کبھی بھی اپنی ذات مفادات کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی راہ میں حائل ہونے نہیں دیا۔ پیشہ ور (تجربہ کار) ایڈیٹر صدیقی (مرحوم) کے ساتھ کام کرنے اور ملک کے داخلی و خارجی نامساعد حالات میں انہوں نے جس انداز میں صحافت کے علم کو اٹھایا وہ قطعی آسان نہیں تھا۔ جہاں صحافتی اصولوں کی بات آئی‘ یاروں کے یار فرحت اللہ بابر یکسر مختلف ثابت ہوئے۔ اُن دنوں موٹرگاڑیوں کی ’گولڈن (دو نمبروں ڈیجٹس)‘ پر مبنی رجسٹریشن مقبول تھی اور اِسے معاشرے میں حیثیت اور اثرورسوخ کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ (روزنامہ) فرنٹیئرپوسٹ نے اِس بارے ایک تحقیقی رپورٹ ہمراہ فہرست شائع کی جس میں فرحت اللہ بابر کے اپنے عزیز ’شاہد اللہ بابر‘ کا نام بھی درج تھا۔

صحافی اکرام ہوتی اُن دنوں کی یاد کرتے ہوئے ’فرحت اللہ بابر‘ کی بندہ پروری اور حوصلہ افزائی سے متعلق ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ جب (روزنامہ) فرنٹیئر پوسٹ کے فوٹوگرافر زبیر میر (مرحوم) اور شمیم شاہد افغانستان سے اپنے ساتھ جنگ کی تصاویری یاداشتیں واپس لائے تو زبیر میر (مرحوم) کی ایک تصویر میں جنگجو کو دکھایا گیا تھا جو خوست کے علاقے میں امریکی سٹنگر (Stinger) دور مار میزائل کو روس کی ایجاد کردہ کلاشنکوف (خودکار بندوق) سے نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اِس تصویر پر فرحت اللہ بابر نے زبیرمیر (مرحوم) کو پانچ سو روپے کے انعام دیا‘ جو زبیرمیر (مرحوم) کو ملنے والا ایسا پہلا اعزاز تھا اور ایسا بہت کم ہوتا ہے جب کسی اخبار کے فوٹوگرافر کی مہارت اور محنت کو اُس کا اپنا ہی ایڈیٹر خراج تحسین پیش کرے۔ اکرام ہوتی کے لئے یہ موازنہ کرنا مشکل تھا جب اُن سے پوچھا گیا کہ (روزنامہ) فرنٹیئر پوسٹ کو عروج اور ملک میں جمہوری تبدیلی لانے کے لئے رہنما کردار کس نے دیا‘ فرحت اللہ بابر نے یا عزیز صدیقی (مرحوم) نے؟ اکرام ہوتی نے یہ کہتے ہوئے گویا سمندر کو کوزے ہی میں بند کردیا کہ ’’صدیقی (مرحوم) ایک پیشہ ور ایڈیٹر تھے جو صحافیانہ اقدار و اخلاقیات اور اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اصولی مؤقف کو بیان کی جرأت بھی رکھتے تھے اور اُنہیں اظہار پر ملکہ بھی حاصل تھا جبکہ (روزنامہ) فرنٹیئرپوسٹ کے لئے (فرحت اللہ) بابر کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی تھی۔‘‘ اکرام ہوتی کی نظر میں فرحت اللہ بابر کے ایسے ’کامل قلم‘ شخصیت کے مالک ہیں جن میں ’(نت نئے) خیالات سے ابھرنے والی تخلیقی قوت اور رہنما اصولوں کی پیروی کا ’متوازن امتراج‘ پایا جاتاہے۔

(روزنامہ) فرنٹیئرپوسٹ سے اپنی عملی صحافتی زندگی کو اظہار کے نئے اسلوب سے روشناس کرانے والے فرحت اللہ بابر حکومتی عتاب کا شکار بنے۔ اُن پر سیاسی ہونے کی چھاپ لگی اور اِسی انتہاء درجے کی مخالفت نے اُنہیں سیاسی کارکن بنا دیا۔ اُن کی (روزنامہ) فرنٹیئر پوسٹ سے الگ ہونے کا فیصلہ بھی اُس حکومتی دباؤ کے جواب میں تھا جب جون 1988ء میں افغان حکام نے پاکستانی فوجیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا اور یہ خبر فرنٹیئرپوسٹ نے شائع کی تو اُس وقت پاکستانی خفیہ ادارے انٹرسروسیز انٹلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ جنرل حمید گل نے اخبار کے مالک پر دباؤ ڈالا کہ وہ چند صحافیوں کو ملازمتوں سے نکال دیں جن میں فرحت اللہ بابر کا نام بھی شامل تھا اور انہوں نے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا‘ جس کے بعد وہ اپنے ساتھ اُن صحافتی اقدار کو بھی لے گئے‘ جس نے (روزنامہ) فرنٹیئر پوسٹ کو ایک منفرد ’مقام بلند‘ تک پہنچایا تھا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما ’فرحت اللہ بابر‘ نے نہ تو سیاسی مشکلات اور نامساعد حالات سے ہار مانی ہے اور نہ ہی زندگی کی 73 بہاریں دیکھنے کے بعد بھی اُن کی عملی جدوجہد اور محنت سے لگن میں کمی آئی ہے۔ اُن کی زندگی مقصدیت کے محور سے بندھی دکھائی دیتی ہے جس پر روزمرہ سیاسی مصروفیات کا اثر اِس وجہ سے بھی نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنی زندگی کے شعوری سفر میں منزل کا تعین کرنے کے بعد اُس سے خود کو وابستہ رکھے ہوئے ہیں اور اِسی سے اُن کی فہم و دانش اور سیاسی بصیرت کا چمن بھی ہمیشہ گل و گلزار اور تروتازہ رہتا ہے۔ فرحت اللہ بابر کی عملی زندگی محتاط فیصلوں سے عبارت ہے جسے اُن کی خوش قسمت بھی قرار دیا جاسکتا ہے کہ اُنہیں درست وقت میں درست فیصلے کرنے کا موقع ملا اور اِس امر کو وہ ’خوش قسمتی‘ قرار دیتے ہیں‘ تاہم جو بھی ہو لیکن انہوں نے اپنے لئے ایک پیشے کا انتخاب کیا جس سے اُن کی جذباتی وابستگی تھی اور یہی وہ پیشہ ہے جس سے وہ تادم حیات وابستہ رہنا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ کل وقت سیاست دان اور ذاتی زندگی میں بھی سیاست ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔

فرحت اللہ بابر کی شخصیت کا کوئی ایک رخ نہیں۔ وہ ہمہ جہت ہیں۔ جمہوریت اور جمہوری قدروں پر یقین کرنے والا ایک پارلیمینٹرین۔ ایک اصلاح پسند سیاست دان‘ ایک تجربہ کار صحافی‘ انسانی حقوق کا رکھوالا اور انسانیت کی عظمت و خدمت کا احساس رکھنے والا ایک مجاہد اور ایک باریک بیں ’میڈیا منیجر‘ جو وقت کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے متغیر کردار پر گہری نگاہ اور عبور رکھتے ہیں۔ فرحت اللہ بابر زندگی کے جس کردار میں نظر آئیں وہ سیاست کے طالبعلم اور سیاست کے ذریعے معاشرے کی اصلاح و اِرتقاء کے لئے کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔ قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) میں ہوں تو فرحت اللہ بابر بیک وقت ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیوں پر گہری نگاہ رکھتے ہوئے حکومت اور دیگر قانون سازوں کی رہنمائی کرتے دکھائی دیں گے۔ اُن کے ہاں موضوعات کا تنوع ہے۔ وہ پاکستان کے سعودی عرب سے (خارجہ) تعلقات سے لیکر خواجہ سرا (Transgender) کے قتل پر حکومت سے وضاحت طلب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ قانون ساز ایوان ہوں یا دانشوروں کو حالات حاضرہ کے نئے پہلوؤں سے روشناس کرانے کی کوئی نشست فرحت اللہ بابر کے خیالات ’تازہ ہوا کا جھونکا‘ ثابت ہوتے ہیں۔ انہیں ’نیشنل پریس کلب (وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پریس کلب)‘ میں سننے والوں کو وفاقی حکمراں جماعت کی سیاسی قلع بازیوں (volte-face) جیسے موضوع سے لیکر وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات (FATA) بارے اصلاحات کے بارے میں مزید جاننے کا موقع ملتا ہے۔ وہ قبائلی علاقہ جات کے رہنے والوں کو اپنے حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھنے اور آواز اٹھانے کی ترغیب دلاتے ہیں کہ حقوق دیئے نہیں حاصل کئے جاتے ہیں۔ بیک وقت مختلف کرداروں میں نظر آنے والا ’فرحت اللہ بابر‘ پاکستان پیپلزپارٹی کے ’میڈیا منیجر‘ ہیں جو اپنا مدعا وضاحت اور بناء کسی تامل بیان اور ضبط تحریر کرنے میں ثانی نہیں رکھتے۔ قبائلی علاقہ جات کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُن کے آواز میں غیرمعمولی توانائی بھر جاتی ہے جو اُن کے چہرے پر فرط جذبات سے بھی عیاں دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک گرم دوپہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’قبائلی علاقہ جات پر صدر اور سیاسی و عسکری حکمراں قیادت کا حکم چلتا ہے جنہیں زمینی حقائق کا بذات خود قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع نہیں ملتا اور یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر قبائلی علاقے کی روایات‘ ثقافت اور حالات کی گہرائی کو کماحقہ سمجھ نہیں پاتے جس کی وجہ سے فیصلہ سازی میں کوتاہیاں سرزد ہوتی ہیں اور مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ قانونی و انتظامی اختیار قانون ساز ایوان کو سونپ دیا جائے۔ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے کی سیاست میں شامل کیا جائے اور قبائلی علاقوں سے متعلق فیصلہ سازی پارلیمینٹ کی اجتماعی دانش کے زیرسایہ سرانجام پائے۔‘‘ صحافیوں سے ملاقات کے بعد وہ ’لاپتہ افراد (missing persons)‘ کے بارے میں ایک سیمینار میں شریک ہوئے۔ ایوان بالا (سینیٹ) میں وہ اکثر ’لاپتہ افراد‘ کا معاملہ اٹھاتے ہیں اور اُن کے احتجاجی و اصولی نکتۂ نظر سے پوری قوم آگاہ ہے۔ لاپتہ افراد سے متعلق اُن کے اصولی مؤقف میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ’’معاشرے کی تمام اکائیوں کو ’لاپتہ اَفراد‘ کے بارے میں آواز اٹھانی چاہئے کیونکہ آج اگر ہم دوسروں کے ’لاپتہ‘ ہونے پر آواز نہیں اٹھاتے تو کل ہمارے ’لاپتہ‘ ہونے پر بھی کوئی آواز نہیں اٹھائے گا لہٰذا یہ انفرادی نہیں بلکہ ایک اجتماعی و حساس مسئلہ ہے‘ جس کی سنگینی کا سنجیدگی سے ہر سطح پر احساس ہونا چاہئے۔‘‘ 

فرحت اللہ بابر عوامی و اجتماعی قومی مفاد کے آواز اٹھانے والے ایک ایسے سیاست دان ہیں جن کے ہاں ’موقع پرستی‘ کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اُن کے اصولی سیاسی مؤقف کے باعث مقتدر حلقوں میں اُن کی تنقید کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہوگا۔ اُن سے متعلق اسلام آباد کے ایک سینیئر صحافی ’’عون ساہی‘‘ کی رائے ہے کہ وہ ’’مصلحت شناس سیاست دان سے زیادہ سماجی کارکن کا کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔وہ ایک مفکر ہیں جو اپنے قول وفعل میں فلسفیانہ اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ لاپتہ افراد کا معاملہ ہو یا مقتدر عسکری حلقوں (اسٹیبلشمنٹ) کے خلاف سماجی رابطہ کاری کے ذریعے کھل کر اظہار خیال کرنے والے بلاگرز کی پراسرار گمشدگی کے واقعات یا پھر پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے ’غیرعسکری معاملات متعلق‘ جاری ہونے والا ’ٹوئٹر پیغام‘ کی مذمت‘ فرحت اللہ بابر اپنے اصولی مؤقف کا پوری طاقت سے اظہار کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ پر زیادہ دکھائی نہیں دیتے کیونکہ سرکاری و نجی الیکٹرانک میڈیا پر ایک مخصوص سوچ کے تابع مؤقف رکھنے والوں کو اظہار خیال کے لئے مدعو کیا جاتا ہے۔‘‘ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو فرحت اللہ بابر کو ’ضابطہ پرست (Bureaucratic)‘ سمجھتا ہے کیونکہ وہ صحافیوں سے صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کے مقررہ اوقات کے بعد میل جول نہیں رکھتے اور اُن کی سماجی سرگرمیاں بھی لامحدود نہیں بلکہ وہ اپنے وقت کا مصرف احتیاط سے کرتے ہیں۔ جب اُن کی مصروفیات طے شدہ نہیں ہوتیں تو وہ اپنا بیشتر وقت مطالعے کی نذر کرتے ہیں یا پھر حالات حاضرہ سے متعلق موضوعات کا مطالعہ کرتے ہوئے سینیٹ اجلاس کی تیاری کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اُن کے ’کامیاب سیاسی سفر‘ کا راز بھی یہی ہے کہ وہ مطالعہ کرتے ہیں اور متعلقہ معلومات سے خود کو باخبر رکھتے ہیں اور معلومات کی ہرممکنہ کوشش اور اِن کی صحت کے لئے کھوج و جامعیت میں کڑی محنت کو غیرضروری نہیں سمجھتے۔

فرحت اللہ بابر جب کبھی بھی عملی سیاست سے دستبردار (ریٹائر) ہونے کا فیصلہ کریں گے تو اُن کی ترجیح ہوگی کہ وہ اپنی یاداشتوں‘ سیاسی واقعات کے بیان سے متعلق یاداشتوں پر مبنی کتاب لکھنا پسند کریں گے جو اُن کی ایک دیرینہ خواہش ہے۔ چونکہ وہ پاکستان کی تغیرپذیر (طوفانی) سیاست کے عینی شاہد بھی ہیں تو اُن کے قلم سے تحریر ہونے والی ’پاکستان کی سیاسی تاریخ‘ کے رنگوں میں قوس قزح جیسی خوبصورتی اور ہر رنگ کی چاشنی و انفرادی حیثیت بھی اپنی جگہ اہم و منتخب اہمیت کی حامل ہوگی کہ اِس کے بغیر موضوع کا بیان اَدھورہ محسوس ہو چونکہ وہ فطرتاً شرمیلے اور خودنمائی کو پسند نہیں کرتے اِس لئے اپنی خدمات کے تذکرے پر مبنی ’آپ بیتی‘ کی بجائے اُن کی کتاب کا موضوع ’پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ اور بیان‘ ہوگا۔ وہ شاید اِس بات کو ترجیح دیں کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے بانی چیئرمین (عالم طبیعات) منیر اَحمد خان کے بارے میں کتاب تحریر کریں جو ’ری ایکٹر خان (Reactor Khan)‘ کے نام سے بھی معروف ہیں اور اِس وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ ’انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی‘ کے شعبۂ ’ری ایکٹر‘ کے سربراہ تھے جب اُن کی ملاقات اُس وقت کے پاکستانی وزیرخارجہ ’ذوالفقار علی بھٹو‘ سے ہوئی۔ یہ سال 1965ء کی بات ہے جب آسٹریا کے دارالسطنت ویانہ (Vienna) میں ہوئی ملاقات کے دوران انہوں نے بھارت کے جوہری مقاصد کے بارے میں ’ذوالفقار علی بھٹو‘ کو مطلع کیا۔ جب بھٹو پاکستان کے صدر بنے تو ’ری ایکٹر خان‘ کو 1972ء میں پاکستان لائے اور یوں 1976ء میں پاکستان کے ’جوہری پروگرام‘ کا ہنگامی بنیادوں پر رازداری سے آغاز کیا گیا۔ منیر احمد خان ’پاکستان اٹامک انرجی کمیشن‘ کے سربراہ تھے تب انہوں نے ایک ایسے معاون کی خدمات طلب کیں جنہیں سائنسی علوم وامور سے آگاہی بھی ہو اور وہ اطلاعات و نشریات کے تقاضوں اور اصولوں سے بھی آگاہ ہوں۔ فرحت اللہ بابر نے 1970ء میں ’پریس انفارمیشن سروسیز‘ میں شمولیت اختیار کی جبکہ وہ سندیافتہ انجنیئر تھے اور انجنیئرنگ کی تعلیم مکمل کر چکے تھے۔ منیر احمد خان کو ’انفارمیشن اسسٹنٹ‘ کے لئے جس قسم کے فرد کی ضرورت تھی‘ فرحت اللہ بابر اُس پر پورا اُترتے تھے بلکہ یوں لگتا تھا کہ جیسے قدرت نے اُن اِسی منصب کے لئے اُن کی تشکیل کی ہو۔ آپ منیراحمد خان کے ساتھ 1973ء سے 1976ء کے درمیان بطور ’انفارمیشن اسسٹنٹ‘ تعینات رہے اور بعدازں 1979ء سے 1981ء کے دوران بھی اُن کی خدمات منیر احمد خان ہی کے سپرد (وقف) رہیں اور یہی وہ عرصہ تھا کہ جب اُنہوں نے پاکستان کی جوہری صلاحیت کے خدوخال اُور قومی سیاست جیسے موضوعات سے صرف حادثاتی تعلق ہی استوار نہیں کیا بلکہ اِن پر عبور بھی حاصل کرتے چلے گئے۔ یادش بخیر اُس عرصے کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’میں یہ بات قدرے وثوق (یقین) سے کہہ سکتے ہوں کہ اُن دنوں جو کچھ بھی رونما ہو رہا تھا وہ سب کچھ کارخانۂ قدرت میں کسی طے شدہ منصوبے کی جزئیات تھیں۔‘‘ اور اگر ذوالفقار علی بھٹو ہی کے الفاظ میں اُس وقت کے پاکستان کو سمجھنے کی کوشش کریں تو اُنہوں نے کہا تھا کہ ’’پاکستان مکمل جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی دہلیز پر کھڑا ہے۔‘‘

فرحت اللہ بابر کی پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے دو مرتبہ وابستگیوں کے ادوار نے اُن کی باقی ماندہ زندگی‘ نظریات اور تصورات کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا۔ ضیاء الحق کی موت کے بعد اُنہوں نے ’پاکستان پیپلزپارٹی‘ میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کے بارے میں امریکہ کے عزائم زیادہ دوستانہ نہیں تھے اور ’پریسلر ترمیم‘ کے ذریعے امریکہ کے صدر کو یہ اختیار حاصل تھا کہ اگر پاکستان اپنے جوہری ہتھیار بنانے سے متعلق عزائم سے باز نہیں آتا تو امریکی امداد روک دی جائے۔ امریکی عقابی نگاہ کے نیچے پاکستان تیزی سے اپنی جوہری صلاحیت کے حصول کرتا رہا اور بالآخر مئی 1988ء میں متعدد جوہری تجربات کئے۔

فرحت اللہ بابر پاکستان کو ایک ایسی جوہری صلاحیت کے طور پر دیکھنے کے متمنی اور وکیل رہے ہیں جو ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کرتی ہے۔ قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن ہونے کی حیثیت سے وہ اِس بات کا مسلسل مطالبہ کرتے رہے کہ اِن الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ ’’جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستان اِیران اُور شمالی کوریا کو ’جوہری ٹیکنالوجی‘ منتقل کرنے کے لئے ذمہ دار ہے۔‘‘ بعدازاں اِس بارے میں جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں اعتراف لکھا ہے۔ فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ ’’میرا ہمیشہ سے اَصولی مؤقف رہا ہے کہ جوہری ہتھیار دفاعی ضرورت کی تکمیل ہیں اور ایک نہایت ہی طاقتور ہیں جن کے بارے میں ذمہ دارانہ رویہ ’احساس ذمہ داری‘ کے ساتھ اختیار کرنا چاہئے۔‘‘ جب فرحت اللہ بابر یہ بات کہہ رہے تھے تو وہ اُن کا یقین آنکھوں میں جھانک کر دیکھا جاسکتا تھا جو بیشتر پاکستانی سیاست دانوں کے ہاں نہیں ملتا بالخصوص جب وہ پاکستان کی جوہری صلاحیت یا ہتھیاروں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہیں ملک کے ناقابل تسخیر دفاع اور ترقی کا ضامن قرار دیتے ہیں۔ ہم بھول چکے ہیں کہ سوویت یونین کے پاس جوہری ہتھیاروں کا اس قدر بڑا ذخیرہ تھا کہ اُنہیں رکھنے کے لئے جگہ کم پڑ گئی تھی لیکن اِس مضبوط دفاعی صلاحیت کے باوجود بھی ملک ٹکڑے‘ ٹکڑے ہونے سے نہیں بچ سکا کیونکہ کسی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا پیمانہ ہتھیار یا دفاعی صلاحیت نہیں ہوتی بلکہ ترقی کا انحصار اقتصادی دباؤ و سیاسی مسائل کے برداشت اور حل سے مشروط ہوتا ہے اُور جہاں کہیں اور جس کسی کو بھی بڑی طاقت ملتی ہے تو اِس کے ساتھ بڑی ذمہ داریاں بھی جڑی رہتیں ہیں۔

فرحت اللہ بابر کے ڈارئنگ روم میں محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ اُن کی ایک تصویر آویزاں ہے جس پر محترمہ کے دستخط اور اُن سے متعلق یہ تاثرات ثبت ہیں کہ ’’فرحت اللہ بابر کے نام‘ جو اپنے کام کو لگن‘ نظم و ضبط اور ذہانت سے سرانجام دیتے ہیں۔ یہ کمال بہت کم لوگوں کی اہلیت کا حصہ ہوتا ہے اور (بردبار تحمل مزاجی یہ ہے کہ) یہ کبھی بھی اپنے صبر کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔‘‘ 1986ء میں جب محترمہ بینظیربھٹو خودساختہ جلاوطنی ترک کرکے پاکستان واپس آئیں اور اُنہیں علم تھا کہ جلاوطنی اور سیاسی جدوجہد میں (روزنامہ) فرنٹیئرپوسٹ اُن کے ساتھ کھڑا رہا تب اُنہوں نے دورۂ پشاور کے دوران ’فرنٹیئرپوسٹ‘ کو انٹرویو دینے کی خواہش ظاہر کی۔ فرحت اللہ بابر کے لئے یہ ایک ایسا موقع تھا جس کا شاید انہوں نے انتظار بھی کیا ہو۔ انٹرویو تمام ہونے کے بعد‘ محترمہ نے بابر کو اپنی شادی میں شرکت کے لئے مدعو کیا جو دسمبر 1987ء میں کراچی میں سرانجام پائی۔

فرنٹیئرپوسٹ سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد فرحت اللہ بابر نے مختلف اخبارات (دی مسلم‘ پاکستان آبزرور اور ہفتہ وار دی فرائڈے ٹائمز) کے لئے ادارتی صفحات کے لئے مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔ سال 1988ء کی بات ہے جب ایک دن انہیں وزیراعظم سیکرٹریٹ (اسلام آباد) سے فون کال آئی جس میں اُن سے دریافت کیا گیا کہ کیا وہ وزیراعظم کے لئے تقریر لکھ سکیں گے؟ فرحت اللہ بابر نے جواب دیا ہاں میں لکھ سکتا ہوں اور پھر پوچھا کہ کس موضوع پر لکھنی ہے اور کب تک ارسال کرنا ہے؟ فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ اُن کے لئے وزیراعظم کی تقریر لکھنے کا موقع پرمسرت بھی تھا اور وہ اِس بھاری ذمہ داری کے احساس سے قدرے مضطرب بھی تھے۔ کہتے ہیں۔ ’’فری لانس صحافی‘ جس کی کوئی نوکری نہیں تھی جس کا کوئی باقاعدہ دفتر بھی نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میں جانتا تھا کہ اِس ذمہ داری کی احسن ادائیگی میرے لئے کتنی اہمیت کی حامل ہے۔ میں نے تقاریر پر ایک نظر ڈالی اور دنیا کی چند بہترین تقاریر کا مطالعہ کیا۔ وہ تقریر محترمہ بینظیر بھٹو نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے کی تھی۔ جس میں انہوں نے پاکستان کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے ایک پرامن جمہوری جدوجہد کو کامیاب بناتے ہوئے عام انتخابات کا انعقاد ممکن بنایا جس میں ایک عورت کو منتخب ہونے اور اسلامی دنیا کی پہلی وزیراعظم خاتون ہونے کا اعزاز ملا۔ اُس تقریر کے بعد جلد ہی مجھے ایک اور تقریر لکھنے کی ذمہ داری ملی اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔ محترمہ قبل ازیں بہت سے دیگر صحافیوں کو بطور ’تقریر نویس‘ آزما چکی تھیں جب انہوں نے فرحت اللہ بابر کو 1989ء میں اپنا سرکاری تقریر نویس مقرر کیا۔ جب فرحت اللہ بابر سے یہ پوچھا گیا کہ اُن کی تقاریر میں ایسا کیا جادو تھا جو محترمہ کو راغب کرگیا تو اُنہوں نے کمال انکساری سے کام لیتے ہوئے کہا کہ ’’میری تحریروں میں ایسا کچھ بھی غیرمعمولی نہیں ہوتا تھا لیکن میں جب بھی کسی موضوع پر تقریر لکھتا تھا تو اُس موضوع سے متعلق بہت سی تحقیق ضرور کر لیا کرتا تھا اور لکھتے ہوئے یہ تصور بھی ذہن میں رکھتا تھا کہ جیسے یہ میں اپنے آپ کے لئے لکھ رہا ہوں۔‘‘

محترمہ ہر کام کو پوری سنجیدگی اور ذمہ داری سے کرنے کی قائل تھیں۔ ایک مرتبہ اُن کے لئے اُردو کی تقریر میں ’’تاہم‘‘ کے لفظ کی ادائیگی مشکل ہو رہی تھی۔ انہوں نے تقریر زور سے پٹکتے ہوئے کہا کہ ’’اِس لفظ (تاہم) سے عاجز آ چکی ہوں۔‘‘ اُن کے اِس ردعمل سے مجھے لگا کہ گویا سب کچھ ختم ہوگیا لیکن اگلے روز مجھے وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے آیا ایک ڈبہ ملا جس میں چاندی کا ایک پیالہ ہمراہ ایک تحریر بند تھا کہ ’’وزیراعظم کی جانب سے احترام کے ساتھ۔‘‘

وزیراعظم پاکستان کی تقریر لکھنے کی ذمہ داری ملنے سے متعلق اکثر ناقدین کہتے ہیں کہ اُس وقت ’بھٹو ازم‘ سے لگاؤ رکھنے والے صحافیوں کو نوازنے کے لئے ایسی ذمہ داریوں کے لئے منتخب کیا جاتا تھا لیکن فرحت اللہ بابر کا مؤقف ہے کہ اُن کی بطور وزیراعظم کے لئے ’تقریرنویس‘ تقرری کے درپردہ دیگر محرکات بھی تھے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’بینظیر بھٹو ایک طویل عرصہ جلاوطنی کا بسر کرکے وطن واپس آئیں تھیں۔ اُنہیں ملک کے داخلی سیاسی حالات کی گہرائی اور زمینی حقائق کی زیادہ تفصیلات معلوم نہیں تھیں اور بالخصوص ایک طویل آمرانہ دور حکومت سے پیدا ہونے والی ہر سطح پر انتظامی خرابیوں سے وہ آگاہ نہیں تھیں۔ اسی طرح اُن کے لئے سول ایڈمنسٹریشن اور سرکاری کام کاج ایک نیا مضمون تھا۔ اِن سبھی امور کے بارے میں فرحت اللہ بابر کی رائے اُن کے لئے بہت اہم تھی کیونکہ فرحت اللہ بابر خود بھی افسرشاہی (بیوروکریسی) کا حصہ رہ چکے تھے۔ محترمہ کی حکومت 1990ء میں ختم ہوئی لیکن فرحت اللہ بابر کا اُن سے تعلق باقی رہا اور اُن کے لئے تقاریر اور ادارتی مضامین تحریر کرتے رہے جو اندرون ملک اور عالمی اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔ فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ ’’میں محترمہ کے لئے تقاریر اور مضامین لکھا کرتا تھا لیکن یہ کہنا سوفیصد درست نہیں ہوگا کہ میں ایسا واحد شخص تھا جو اُن کی تقریر یا مضمون لکھتا تھا بلکہ اُن تحریروں کی جامعیت میں خود محترمہ اضافہ کرتی تھیں جو اُن کے مخصوص و منفرد طرز بیان و خطابت سے مطابقت رکھتا تھا۔

سال 1996ء میں جب محترمہ بینظیر کا بھائی میرمرتضیٰ بھٹو کو کراچی میں قتل کیا گیا تو محترمہ نے فرحت اللہ بابر کو بھیجا تاکہ وہ اُن کی علیل والدہ کو لیکر آئیں۔ نصرت بھٹو کو بیرون ملک سے لایا گیا تھا۔ فرحت اللہ بابر اُن واقعات کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’کراچی ائرپورٹ پر نصرت بھٹو جہاز سے اُتریں۔ میں نے اُنہیں مرتضیٰ کے قتل کی خبر سے آگاہ کیا تو اُنہوں نے کہا کہ ’’بابر‘ میں نے تمہارے لئے کچھ اچار بنایا تھا لیکن بینظیر وہ سب کھا گئی ہے لیکن فکر نہ کرو میں تمہارے لئے مزید بنا دوں گی۔‘‘ یاد رہے کہ نصرت بھٹو اُن دنوں یاداشت کو کمزور کرنے والی بیماری عتاہٹ (Dementia) میں مبتلا تھیں اور بیماری کی شدید حالت سے گزر رہی تھیں۔

مبصرین کی رائے میں فرحت اللہ بابر کی بھٹو خاندان سے قربت کا ایک تعلق (وسیلہ) نصیراللہ بابر بھی تھے۔ جنرل بابر (مرحوم) 1988ء سے 1990ء کے عرصے میں محترمہ بینظیر کے مشیر رہے۔ یہ محترمہ بینظیر کے پہلے اقتدار کا وقت تھا۔ بعدازاں 1993ء سے 1996ء کے عرصے میں جوکہ بینظیربھٹو کا دوسرا دور اقتدار تھا جنرل بابر وزیرداخلہ تھے۔ یہ دونوں افراد درحقیقت ایک ہی تھے اور دونوں کا تعلق بھی اُس ایک ہی افغان قبیلے سے ہے جس کی شاخیں خیبرپختونخوا اُور بلوچستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں۔ دونوں ہی کا تعلق پشاور کے نواحی دیہی علاقے پیرپیائی سے ہے جو ضلع نوشہرہ کی حدود میں واقع ہے اور اِس زرخیز و شاداب گاؤں کی مخصوص قدیمی طرزتعمیر اور صفائی کی وجہ سے اِسے عرفاً ’چھوٹا ولائت (صغیر برطانیہ)‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ملک کے بہت سے معروف‘ علمی و ادبی شخصیات کے علاؤہ اعلیٰ سول و فوجی اہلکاروں کا آبائی تعلق اِسی ’پیرپیائی‘ سے ہے۔

فرحت اللہ بابر کی پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو سے پہلی ملاقات 1977ء میں اُس وقت ہوئی جب وہ گورنرہاؤس پشاور میں مقیم تھے۔ اُس وقت فرحت اللہ بابر ’شمال مغربی سرحدی صوبے (بعدازاں صوبہ خیبرپختونخوا) کے ڈائریکٹر انفارمیشن تھے۔ کسی جونیئر اہلکار کا ملک کے وزیراعظم سے ملنا ایک غیرمعمولی امر تھا۔ بھٹو نے اُن سے مقامی صحافیوں کے بارے استفسار کیا اُور انہیں ایک فہرست مرتب کرنے کے لئے دی تاکہ وہ صحافیوں کا نام لکھ سکیں۔ اُس وقت سرکاری حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ ایک صحافی افغان صدر سردار محمد داؤد خان سے قربت رکھتا ہے۔ جب اِس بارے بھٹو نے مجھ سے استفسار کیا تو میں نے کہا کہ ہاں ایسا ہے لیکن وہ صحافی جاسوس نہیں بلکہ محب وطن ہے۔ بعدازاں اسی صحافی کی مدد سے کابل اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں مدد ملی اور اُس کی خدمات کا اعتراف خود بھٹو نے بھی کیا۔ دوسری مرتبہ بھٹو اور فرحت اللہ بابر کی ملاقات میں اُنہیں خاتون اول نصرت بھٹو کو پشتو زبان سکھانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ نصرت بھٹو اُن دنوں صوبائی اسمبلی اجلاسوں کا دورہ کرنے اکثر آیا کرتی تھیں اور انہیں پشتو زبان کے بنیادی قواعد اور جملے سکھائے گئے تھے۔ فرحت اللہ بابر بیگم نصرت بھٹو کی شخصیت سے متاثر تھے۔ وہ ایک انمول انسان تھیں جن سے ملاقاتوں کے دوران اُن کے بارے میں بہت جاننے کا موقع ملا اور اُن سے کی گئی بات چیت کی ریکارڈنگز بھی میرے ساتھ تھیں جنہیں قلم بند کرنا دیگر مصروفیات میں کہیں گم ہوگیا اور اِس ایک بات کا مجھے ہمیشہ سے افسوس رہا ہے کہ یہی ایک کام مجھے کرنا تھا جو نہیں ہوسکا۔ محترمہ بینظیر نے بھی 1990ء میں مجھے وہ یاداشتیں تحریر کرنے کی یاددہانی کرائی تھی۔ فرحت اللہ بابر کو بیگم نصرت بھٹو کے وہ الفاظ یاد ہیں جنہیں بیان کرتے ہوئے وہ انتہائی افسردہ دکھائی دیں لیکن اُنہیں غصہ نہیں تھا۔ بیگم نصرت بھٹو نے کہا ’’فرحت‘ میں بیان نہیں کر سکتی کہ اُس شام (ذوالفقار) بھٹو کتنا خوش (مطمئن) تھا جب اُس نے مجھے کہا کہ اُس نے (جنرل) ضیاء (الحق) کو پاک فوج کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے اور یہ وہی فوج کا سربراہ تھا جس نے بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا۔

اگر فرحت اللہ بابر بھٹو کو مشورہ دیتے تو وہ اُن کی دانست میں یہی ہوتا کہ وہ دائیں بازو کے کرداروں کو اپنے قریب آنے نہ دیں کیونکہ یہ (احسان فراموش) کردار اپنی حیثیت سے زیادہ مانگنے اور مطالبات منوانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ اور جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ آپ محترمہ بینظیر کو کیا مشورہ دیتے؟ کچھ دیر سوچنے کے بعد اُنہوں نے کہا کہ کسی ماتحت کا مثالی (حسب حیثیت عملی) کردار یہی ہونا چاہئے کہ وہ صرف اُس وقت کلام کرے جبکہ کوئی سراپا گوش (متمنی) ہو۔‘‘

پاکستان پیپلزپارٹی کے اسلام آباد دفتر‘ مساوات بلڈنگ (زیرو پوائنٹ) میں اِن دنوں خاموشیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ جب محترمہ بینظیر بھٹو مشرف اقتدار کے دور میں جلاوطن تھیں تو یہی دفتر پارٹی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ یہ دفتر ایک ایسی عمارت کا حصہ ہے جس میں ذرائع ابلاغ کے کئی ایک دفاتر ہیں جن میں سرکاری خبررساں ادارے کے دفاتر بھی شامل ہیں اور اِس کی مرکزی حیثیت پریس کلب جیسی ہی ہے جہاں صحافی اور سیاسی کارکن چائے سے تواضع اور کچھ دیر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ جب فرحت اللہ بابر سینیٹ اجلاس یا کسی پیپلزپارٹی سیکرٹریٹ میں کسی مصروفیت کا حصہ نہیں ہوتے تو وہ اپنا بیشتر وقت یہیں صرف کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔


سال 1996ء میں جب محترمہ بینظیر بھٹو کا دوسری مرتبہ اقتدار آئینی مدت کی تکمیل سے قبل ختم کیا گیا تو محترمہ نے اُنہیں پیپلزپارٹی کے میڈیا معاملات (امور) کو چلانے (دیکھنے) کی ذمہ داری سونپی اور یہی وہ وقت تھا جب آپ محترمہ کے مشیر اور ترجمان مقرر ہوئے۔

پشاور کے علاقے ’نشترآباد‘ میں دو کمروں پرمشتمل ایک مکان میں آٹھ دیگر بہن بھائیوں کے ہمراہ پرورش پانے والے فرحت اللہ بابر زندگی ہر مفہوم و معانی سے آگاہ ہیں۔ اُن کے والد سکول ٹیچر (معلم) تھے۔ 1950ء میں اُن کے والد کی کل آمدنی 225روپے ماہانہ ہوا کرتی تھی۔ کم آمدنی والے اِس گھرانے کے بچوں کو معلوم تھا کہ اگر وہ امتحان پاس نہیں کریں گے تو اُن کے تعلیم کا سلسلہ رک جائے گا اور یہی وجہ تھی کہ ہر ایک اپنی تعلیم کو سنجیدگی سے اہمیت دیتا تھا۔ فرحت اللہ بابر کو یاد ہے کہ جب 1961ء میں وہ فوج میں بھرتی ہونے کے لئے گئے اور اُنہیں منتخب (سلیکٹ) بھی کر لیا گیا لیکن چونکہ انہیں یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور میں داخلہ مل گیا تھا اِس لئے انہوں نے فوج میں بھرتی ہونے کا ارادہ ترک کردیا۔

متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے فرحت اللہ بابر کی شخصیت میں محنت کشوں کا حسن کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ وہ اپنی گاڑی خود چلاتے (ڈرائیو کرتے) ہیں۔ گھر کے لئے اشیائے ضروریہ کی خریداری بھی بذات خود کرتے ہیں اور انہیں کوئی بھی چھوٹی بڑی ذمہ داری سونپ دی جائے تو ہنسی خوشی قبول کر لیں گے۔ اسلام آباد یس تعلق رکھنے والے ایک سیاسی تجزیہ کار جو ایک عرصے سے فرحت اللہ بابر کو جانتے ہیں ازرائے مذاق کہتے ہیں کہ ’’آپ کی عملی زندگی کا خلاصہ یہ ہے کہ سول انجنیئرنگ (تعمیراتی امور کی مہارت) سے سیاست اور سماجی انجنیئرنگ (انسانی ترقی‘ فلاح و بہبود) کا مقصد لئے محو سفر ہیں۔‘‘ لیکن فرحت اللہ بابر اپنے لئے انتخابی حلقہ تخلیق نہیں کر پائے جس کی وجہ سے وہ پارٹی قیادت کی محتاج (رحم وکرم پر) ہیں کہ انہیں کسی منتخب یا حکومتی عہدے پر تعینات کر دیں۔ فرحت اللہ بابر کی پارٹی قیادت سے غیرمعمولی تعلقات ہیں اور دونوں کے درمیان ایک دوسرے پر اعتماد و اخلاص کا رشتہ قائم ہے جو سیاست اور سیاسی جماعتوں کے داخلی نظم ونسق میں فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

فرحت اللہ بابر قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) کی رکنیت مخصوص نشست برائے ٹیکنوکریٹ (تکنیکی امور آشنا) کے ذریعے حاصل کئے ہوئے ہیں لیکن وہ خود کو ’ٹیکنوکریٹ‘ کی اصطلاحی تعریف پر پورا اُترنے کا اہل نہیں سمجھتے۔ کہتے ہیں ’’میں کوئی ماہر نہیں جیسا کہ سابق نگران وزیراعظم پاکستان معین قریشی تھے لیکن میں سینیٹ کے روبرو پیش ہونے یا سینیٹ کے روبرو پیش کرنے لئے سیاسی و غیرسیاسی معاملات کا باریک بینی اور تکنیکی زوائیوں سے جائزہ ضرور لیتا ہوں اور بحیثیت سینیٹر اپنی فرض کی بجاآوری سنجیدگی سے کرتا ہوں۔‘‘ فرحت اللہ بابر کی سینیٹ میں کارکردگی سے عیاں ہے کہ وہ انواع و اقسام کے مختلف موضوعات پر نہ صرف بحث میں حصہ لیتے ہیں بلکہ ایوان بالا کے اراکین کی رہنمائی بھی کرتے ہیں اور اُن میں کام کی لگن بالکل اُس طالبعلم جیسی ہے جو اپنے مقصد کو پا لینے کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کے لئے آمادہ ہو اور اُس کی طبیعت (مزاج) میں باغی ہونے کا ایک عنصر (خصوصیت) بھی پائی جاتی ہو۔

فرحت اللہ بابر جب پہلی مرتبہ سینیٹر بنے تو سال 2003ء کے اُن ایام میں پیپلزپارٹی ایوان بالا میں بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے جن مسائل پر زور دے رہی تھی اُن کا تعلق کارگل جنگ کی وجوہات بارے تحقیقات‘ سیاسی اور عسکری قیادتوں میں پائی جانے والی بداعتمادی جس کی وجہ سے منتخب حکومتوں کو قبل از وقت گھر بھیج دیا جاتا ہے لیکن جب ایسے بہت سے سوالات کا جواب عسکری قیادت کی طرف سے نہیں دیا جاتا تب پیپلزپارٹی کی جانب سے ایک تحریر (پمفلٹ) بعنوان ’’Killed in the Chamber"مشتہر کی جاتی ہے جس کے مصنف فرحت اللہ بابر بیک وقت کئی سوالات اٹھاتے ہیں جن میں شامل ہوتا ہے کہ دیگر سرکاری ملازمین کی طرح کیا فوجی اہلکار بھی اپنے اثاثہ جات کی تفصیلات ظاہر کرتے ہیں؟ کیا خفیہ ادارہ ’آئی ایس آئی‘ تابع قانون کام کرتاہے؟ کیا کارگل جنگ کے بارے میں تحقیقات کی گئیں؟ ایسے بہت سے سوالات کے جواب ہنوز نہیں مل سکے اور انہیں حساس معلومات کے زمرے میں شمار کرکے اِن کا تبادلہ قانون ساز ایوانوں سے نہیں کیا جاتا اور یہی وجہ ہے کہ یہ سوالات پوچھے گئے اور جیسا کہ پمفلٹ کے عنوان میں کہا گیا کہ ایوان کے اندر ہی دم توڑ گئے۔

پاکستان کی سیاست سوالات کا مجموعہ ہے۔ خود پیپلزپارٹی کے دور اقتدار سال 2008ء سے 2013ء کے دوران اِس سوال کا جواب نہ مل سکا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کا قتل کس نے کیا؟ فرحت اللہ بابر کے بقول ’’محترمہ بینظیر کے قاتل تک نہ پہنچنے کی بنیادی وجہ خفیہ اداروں کی مداخلت ہے اور یہ مداخلت اِس حد تک ہے کہ چاہے جو کوئی بھی برسراقتدار ہو لیکن حکومتیں حقائق کی تلاش میں خود کو معذور پاتی ہیں۔ فرحت اللہ بابر یاد کرتے ہیں جب ایک مرتبہ اُنہیں محترمہ بینظیر نے ’اسٹیبلشمنٹ‘ کے حوالے سے کہا تھا کہ ’’اِن کے منہ کو خون لگا ہوا ہے۔‘‘ محترمہ سمجھتی تھیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے اختیارات واپس لینے کی ایک ہی صورت ہے کہ جمہوری طاقتیں نظام کو مضبوط (طرزحکمرانی کی اصلاح) کرنے کے لئے اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کی قربانی دیں۔‘‘

فرحت اللہ بابر جیسے نظریاتی کارکن کے لئے وہ لمحات بوجھل ہوتے ہیں جب پارٹی کی قیادت یا پارٹی کا اجتماعی فیصلہ عوام کے (اجتماعی) مفاد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جیسا کہ پیپلزپارٹی پر کڑی تنقید ہوئی کہ یہ جماعت ایک طرف کو جمہوریت اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کی بات کرتی ہے اور کہتی ہے کہ جمہوری سسٹم (طرزحکمرانی) کو متواتر رہنا چاہئے لیکن دوسری طرف یہی جماعت خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کی اجازت بھی دے دیتی ہے۔ اِس اعتراض کو فرحت اللہ بابر کے سامنے رکھنے پر معلوم ہوا کہ وہ بھی بسا اوقات خود کو دکھی (بے بس) محسوس کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’سیاست کا حسن یہ ہے کہ اِس میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔‘‘ مثال کے طور پر پیپلزپارٹی خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کو تو نہیں روک سکی لیکن اس نے اِن عدالتوں پر کچھ ایسی قدغنیں ضرور عائد کردی۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے جب کرکٹ کھیلتے ہوئے ایک بچے کا گیند ہمسائے کی چھت پر جا گرا۔ نوجوان فرحت اللہ بابر نے ہمسائے کے دروازے پر ایک تحریر چسپاں کی کہ آپ کی چھت پر پڑی ہوئی گیند ’صدر پاکستان‘ کی ملکیت ہے (لہٰذا واپس کی جائے۔) فرحت اللہ بابر کا یہ خواب اُس وقت اپنی حقیقت کے قریب ترین تھا جب وہ صدارتی ترجمان مقرر ہوئے اور یہ آصف علی زرداری کے بطور صدر پاکستان اور پیپلزپارٹی کے اقتدار کا دور تھا جو آئینی مدت مکمل کر کے دوہزار تیرہ میں اختتام پذیر ہوا۔ وہ عرصۂ اقتدار کسی بھی طرح آسان نہیں جب پیپلزپارٹی کی قیادت اور حکومت پر ہر سمت سے نشانے پر تھی۔ عدالتوں نے زرداری پر پابندی عائد کی کہ وہ سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو مختصر عدالتی سزا دے کر نااہل قرار دے دیا گیا۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے جس کی بنیادی وجہ پاک امریکہ تعلقات تھے۔ حزب اختلاف کے اپنے تحفظات تھے۔ ذرائع ابلاغ کی وجہ سے نہ حکومت کی اقتصادی ترقی کی حکمت عملیاں عوام میں غیرمقبول تھیں بلکہ ذرائع ابلاغ کی تنقید بھی مسلسل جاری تھی اور ان سب سے بالا بدعنوانی کے الزامات بھی عائد ہو رہے تھے اور یہ وہ دور تھا کہ جب بُری خبر اور ہر ناکام حکمت عملی کو صدر زرداری سے منسوب کیا جاتا تھا حتیٰ کہ پیپلزپارٹی اور بالخصوص صدر زرداری پر تنقید کے اُس دور میں خودپیپلزپارٹی کے حلقے بھی فرحت اللہ بابر کی کارکردگی سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے تھے لیکن یہی وہ وقت تھا جب صدارتی میڈیا آفس کی کارکردگی اور حکمت عملی کے باعث پیپلزپارٹی کی ساکھ برقرار رہی جس کا تجزیہ کار اعتراف بھی کرتے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے دیرینہ ساتھیوں کی طرح ایک مرتبہ فرحت اللہ بابر نے بھی صدر زرداری کے اثرورسوخ اور ساکھ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے عمومی تاثر کو پارٹی کے سامنے پیش کیا۔ شاید یہ اُن کا اندیشہ تھا کہ زرداری کی قیادت میں پیپلزپارٹی تبدیل ہو جائے گی اور یہی سبب تھا کہ انہوں نے محترمہ بینظیر کی ہلاکت کے فوری بعد اپنا استعفیٰ دے دیا تھا لیکن صدر زرداری نے اُن کا استعفیٰ منظور نہیں کیا اور 2006ء میں جبکہ وہ سینیٹ انتخاب جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے لیکن زرداری نے انہیں 2009ء میں دوبارہ سینیٹ کا رکن منتخب کروا دیا۔ فرحت اللہ بابر شاید کبھی بھی زرداری کا شخصی مکمل دفاع کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زرداری پر بدعنوانی کے الزامات کا شمار ممکن نہیں لیکن کا دفاع کامیابی سے ایک ایسا شخص کرتا رہا جس کے دامن پر ایسا کوئی الزام نہیں تھا۔ فرحت اللہ بابر کے دوست‘ اہل خانہ اور سیاسی مبصر بھی اِس بات پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہیں کہ ’اصولی سیاست‘ کرنے والا ایک شخص بھلا کیسے ملک کے سب سے غیرمعروف سیاست دان کا کامیابی سے دفاع کرتا رہا۔ کیا یہ فرحت اللہ بابر کی شخصیت میں پائے جانے والے تضاد کا بیان نہیں کہ وہ ایک ایسے شخص کے ترجمان رہے جو خود اُن کے اپنے اصولوں پر پورا نہیں اُترتا۔ شاید یہ زرداری کی ضرورت تھی فرحت اللہ بابر کی نہیں کہ وہ بابر جیسا شخص اُن کا سیاسی ہمسفر رہتا۔ ایک تجزیہ کار کے بقول ’’زرداری جانتا تھا کہ جس دن اُس نے فرحت اللہ بابر‘ رضا ربانی اور تاج حیدر میں سے کسی کھویا‘ وہ سب کچھ کھو دے گا۔‘‘ سردست زرداری پیپلزپارٹی کے انتظامی معاملات کو چلا رہے ہیں لیکن وہ نہ تو پیپلزپارٹی کی روح رواں ہیں اور نہ ہی اس کا چہرہ اور نظریاتی علامت۔ یہی وجہ ہے کہ زرداری جب کبھی بھی اپنے دوستوں جیسا کہ رحمان ملک یا ڈاکٹر عاصم حسین کو پارٹی میں کوئی عہدہ یا اہم ذمہ داری سونپتے ہیں تو اُن پر تنقید کی جاتی ہے لیکن جب وہ فرحت اللہ بابر‘ اعتزاز احسن اور شیری رحمان جیسی معروف شخصیت کو چنتے ہیں تو اُن کے قائدانہ کردار کی تعریف سننے کو ملتی ہے۔

فرحت اللہ بابر کا بطور ’ترجمان‘ انتخاب صدر زرداری کو اِس لئے بھی موافق ہے کیونکہ وہ سب کچھ جو صدر زرداری کی ذات میں نہیں ملتا‘ وہ کمی فرحت اللہ بابر پوری کر دیتا ہے۔ وہ ایک مستند اور صاحب کردار شخص ہیں۔ قومی معاملات پر اُن کے خیالات اور اصولی مؤقف پیپلزپارٹی کے نظریات کے مطابق ہے اُور زرداری ایسی کسی بیوقوفی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ فرحت اللہ بابر جیسے اثاثے سے گنوائیں گے۔ فرحت اللہ بابر سمجھتے ہیں کہ ’’زرداری اس قدر بُرا بھی نہیں جس قدر اُس کے بارے میں تاثر عام ہے۔‘‘

پاکستان پیپلزپارٹی 1967ء سے اب تک تین آمروں اور سیاسی سازشوں کا سامنا کرنے کے باوجود اپنی ملک گیر مقبولیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی لیکن زرداری پر اِس لئے بھی تنقید کی جاتی ہے کہ اِس نے پیپلزپارٹی کو سندھ کی حد تک محدود کر دیا ہے۔ چند مبصر سوال اٹھاتے ہیں کہ فرحت اللہ بابر اپنے پیچھے ایسی کونسی روایات چھوڑ جائیں گے جو اُن کے بعد پیپلزپارٹی کے لئے انہی کی طرح کارآمد (مفید) ثابت ہو؟ کیا ہوگا اگر وہ اچانک سیاست سے الگ ہو جائیں؟ کیا پیپلزپارٹی فرحت اللہ بابر کی جدائی سے پیدا ہونے والے خلاء کو پُر کر پائے گی؟ کیا فرحت اللہ بابر نے پیپلزپارٹی میں جس جرأت مندی سے اختلافی نکتۂ نظر پیش کرنے کی گنجائش پیدا کی وہ برقرار رہ پائے گی؟ اِس بارے میں فرحت اللہ بابر کا جواب اعتدال پسندانہ (عاجزانہ) ہے کہ ’’افراد حقیقت میں اہمیت نہیں رکھتے۔‘‘ اور یہی دانش شعور اور بصیرت کا ادراک آج کی پیپلزپارٹی کو بھی کرنا ہے کہ افراد کے گرد فیصلے اور سیاسی جماعت کا مستقبل طواف نہ کرے۔ پیپلزپارٹی کی ایک درخشاں سیاسی تاریخ اور سیاسی سفر رہا ہے جس کی راہیں جانی و مالی قربانیوں سے روشن ہیں۔ فرحت اللہ بابر کو پیپلزپارٹی کے خلقیہ (اخلاقی) روایات پر اعتماد (یقین) ہے کہ (خدانخواستہ) اگر اور جب کبھی یہ جماعت اپنے نظریاتی محور (اصل اصول) سے منحرف ہوئی تو ایسی کسی صورت میں پیپلزپارٹی کا قبلہ درست کرنے کے لئے رہنمائی (عطاء) کرنے والے خاموش (لاتعلق) نہیں بیٹھیں (رہیں) گے۔

(یہ مضمون اَنگریزی ماہنامہ ’ہیرالڈ‘ کی ماہ ستمبر دوہزار سترہ کی اشاعت کا حصہ ہے‘ جو سینئر صحافی ’اُورنگ زیب خان‘ کی محنت اور صحافتی تجربے کا نچوڑ ہے۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین امام)
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=19&date=2017-09-22

Sunday, June 18, 2017

TRANSLATION: Power Play by Dr Farrukh Saleem

Power play
سیاست‘ کھیل اور سیاست!
پاکستان کی تاریخ کا اہم (گھمسان کا) ’مقابلہ (میچ)‘ ہو رہا ہے جس کا حصہ سیاسی ٹیم کے کھلاڑیوں میں مسلم لیگ (نواز)‘ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی جبکہ غیرسیاسی ٹیم میں سپرئم کورٹ آف پاکستان اُور پاک فوج کا ادارہ (جی ایچ کیو) ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں! سردست صورتحال یہ ہے کہ نواز لیگ مشکل میں پھنسی ہوئی ہے لیکن ایسا پہلی مرتبہ رونما نہیں ہو رہا کہ مسلم لیگ کو ’غیرمساعد حالات‘ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو بلکہ اِس سے قبل 1997ء میں جب اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو ’توہین عدالت‘ کے حوالے سے ایک پیشی کا سامنا تھا‘ جب 2014 ء میں تحریک انصاف نے پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا تھا‘ یا پھر 2016-17ء میں جب ’ڈان لیکس‘ کی صورت انکشافات سامنے آئے تھے اور رواں مشکل بیرون ملک اثاثہ جات‘ مشکوک آمدنی اور سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کے حوالے سے جاری ’پانامہ کیس‘ کی سماعت ہے‘ جس پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں کہ ’نواز لیگ‘ اِس مشکل صورتحال سے خود کو کس طرح بچا پاتی ہے!
ملک میں جاری اِس سیاسی کھیل کا ایک تاریخی پس منظر بھی ہے۔ قریب چالیس برس قبل آئین پاکستان تخلیق کرتے ہوئے ’ریاست‘ کے اختیارات کو تین اداروں پر مشتمل ایک نظام میں تقسیم کر دیا گیا۔ قانون ساز اِدارے‘ عدلیہ اُور اَیگزیکٹوز (نوکرشاہی)۔ اگر ہم گزشتہ چھتیس برس کے دوران ریاست کے اِن تینوں ستونوں (اکائیوں) کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ افسرشاہی نے اختیارات اپنے پاس مرکوز کر لئے ہیں اور نوکرشاہی (سرکاری ملازمین) چاہے یونیفارم پہنے ہوں یا نہ ہوں سیاسی حکمرانوں کے تابع سمجھے جا رہے ہیں جنہوں نے زیادہ سے زیادہ اختیارات پر اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اُور سمجھتی ہے کہ عدلیہ اور افسرشاہی اُن کے ماتحت ادارے ہیں۔

ماضی میں جھانکتے ہیں‘ جب 1997ء میں سپرئم کورٹ آف پاکستان ’توہین عدالت‘ کے ایک مقدمے کی سماعت کر رہا تھا۔ اُس وقت کے وزیراعظم8 نواز شریف کو طلب کیا گیا جنہوں نے عدلیہ پر فتح پائی کیونکہ اُس وقت پیپلزپارٹی اور فوج کا اِدارہ سپرئم کورٹ کی مدد و حمایت کے لئے آگے نہیں آئے اور ’نواز لیگ‘ باآسانی سپرئم کورٹ کو اندرونی طور پر تقسیم کرنے میں کامیاب ہو گئی!

سال دوہزار چودہ میں تحریک انصاف کے احتجاجی دھرنے کا مقابلہ بھی نوازلیگ اِس لئے کامیابی سے کر پائی کیونکہ دیگر ریاستی کردار اُس کی حمایت کر رہے تھے اور اگر ہم ’جی ایچ کیو‘ کی بات کریں تو وہ اس نے اپنے آپ کو اِس معاملے معاملے سے بظاہر لاتعلق رکھا۔ اِس دھرنے کے دوران ’نوازلیگ‘ داخلی طور پر متحد رہی۔

سال 2016-17ء میں ڈان لیکس منظرعام پر آئیں۔ یہ کھیل (میچ) نواز لیگ اور فوج کے ادارے (جی ایچ کیو) کے درمیان تھا۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے اِس صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششیں کیں لیکن نوازلیگ مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہوگئی اور ’جی ایچ کیو‘ اپنے اصولی مؤقف سے ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔

پاناما کیس کا کھیل شروع ہوا تو اِس مرتبہ عدلیہ کا سامنا کرنے والی ’نواز لیگ‘ کو مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس مرتبہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی اپنے اپنے سیاسی مفادات کے لئے سپرئم کورٹ کے شانہ بشانہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ عدالت کا فیصلہ کسی حد تک واضح ہے لیکن کیا اِس موقع پر ’جی ایچ کیو‘ بھی سپرئم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ اِس بات کے امکانات معدوم ہیں کہ جی ایچ کیو ’نواز لیگ‘ کے ساتھ کھڑی ہو۔

سیاسی حالات تبدیل ہیں۔ پانامہ کیس بھی تحریک انصاف کے دھرنے سے مختلف ہے اور چاہے یہ بات تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن نواز لیگ سیاسی طور پر تنہا ہے اور داخلی سطح پر اِس کی صفوں میں انتشار اور دراڑیں دکھائی دیتی ہیں۔

پاکستان کا موجودہ سیاسی منظرنامہ ماضی سے بڑی حد تک مختلف ہے اور یہی وجہ ہے کہ ’نواز لیگ‘ کو نتائج بھی ماضی کے مقابلے مختلف جھیلنے پڑیں گے۔ سردست ’نواز لیگ‘ کی مرکزی قیادت ’شریف خاندان‘ کو مشکل درپیش ہے کہ وہ ’سپرئم کورٹ‘کو کس طرح اطمینان دلائیں اور پانامہ کیس سے سرخرو قرار پائیں لیکن اگر وہ ایسا نہ کرپائے تو اِس مرتبہ وزیراعظم نوازشریف کے لئے اپنے عہدے‘ ساکھ اور پارٹی بچانا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ کھیل ’خطرناک دور (ریڈ زون)‘ میں داخل ہو چکا ہے۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیر حسین امام)

Thursday, December 24, 2015

Dec2015: Death of nation!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ضمیر کی موت!
توجہ طلب ہے کہ فلم سازی اُور اَداکاری جیسے شعبوں میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے عامر خان نے ایک ایسے مداح (فین) کی جانب سے ملاقات کی خواہش پوری کی ہے جو ’’پروجیریا (قبل از وقت بڑھاپا طاری ہونے)‘‘ کی بیماری (Progeria) میں مبتلا ہے۔ چودہ سالہ نہال نامی بچے نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ پر اپنے پیغام میں عامر خان سے ملاقات اور اُن کے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

فیس بک کا یہ پیغام کروڑوں مداحوں سے ہوتا ہوا‘ عامر خان تک بھی پہنچا تو انہوں نے ’’نہال‘‘ کی دلی خواہش بصدشکریہ پوری کردی۔ جس کے بعد نہال نے اپنے پیغام (فیس بک پوسٹ) میں کہا کہ ’’عامر انکل میرا خواب پورا کرنے کے لئے آپ کا شکریہ۔ آپ کی فلم ’’تارے زمین پر‘‘ نے مجھے بہت متاثر کیا اور مجھے یقین تھا کہ ایک دن میں آپ سے ضرور ملوں گا۔‘‘ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ عامر خان کی فلم ’’تارے زمین پر‘‘ کی کہانی ’ایشان‘ نامی ایک ایسے بچے سے متعلق تھی‘ جسے لکھنے بولنے اور سمجھنے میں دقت رہتی ہے۔ آٹیزم (Autism) نامی بیماری سے متاثرہ بچے معاشرے میں تنہائی کا شکار رہتے ہیں‘ جنہیں دیگر بچوں سے زیادہ اور خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بھارت کی فلمی صنعت عشقیہ (رومانس پر مبنی) فلموں سے بھری پڑی ہے‘ عامر خان نے ’دستاویزی اور فیچر فلم‘ کے امتزاج کو اِس خوبی سے پیش کیا کہ آٹیزم سے متاثرہ بچے جنہیں اُن کی پیدائشی کمزوریوں کی وجہ سے معاشرہ سمجھنے سے قاصر چلا آ رہا تھا‘ اُن کے بارے میں بھارت و پاکستان اور جہاں جہاں اُردو بولنے اور سمجھنے والے لوگ بستے ہیں اور انہیں ’تارے زمین پر‘ نامی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ تو وہ جان گئے کہ خصوصی بچوں کا کتنا اور کس طرح و کس قدر خیال رکھنا چاہئے۔ قبل از وقت بڑھاپا طاری ہونے کے مرض میں مبتلا ’’نہال‘‘ کا عامر خان سے ملنے کے بعد یہ بھی کہنا تھا کہ ’’اُس کے اَندر جینے کی نئی اُمید پیدا ہوئی ہے۔‘‘ عامر خان نے فیس بک پر نہال کے ساتھ اپنی تصویر شائع (شئیر) کی اُور انہیں صحت یابی کی دعاؤں کے ساتھ انسانیت دوستی کا ایک ایسا ’’اَن کہا پیغام‘‘ دیا ہے‘ جس کے مطالب و معانی اور پہلوؤں پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ عامر خان بھارت کی انتہائی اہم شخصیات (وی وی آئی پیز) کی فہرست میں شامل ہیں لیکن اُنہوں نے اپنی سماجی و مالی حیثیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس طرح ایک مداح کی خواہش پوری کی ہے‘ اُس سے ظاہر ہوگیا ہے کہ انسانیت پر یقین رکھنے والا کوئی بھی ہوسکتا ہے‘ اُس کا بظاہر مذہبی ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی اُس کے لباس و رہن سہن سے یہ تاثر ملنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کسی مذہب و عقیدے کے تابع سمجھتا ہے۔ کسی ارب پتی‘ معروف فلمی اداکار کا یوں اپنے ایک مداح اور وہ بھی ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے بیمار بچے کی عیادت کرنا‘ اُس کی دلی خواہش پوری کرنے کا عمل کتنی اہمیت رکھتا ہے اس بات کو سمجھنے کے لئے اِس مرحلۂ فکر پر رک کر ایک ہی روز یعنی 23 دسمبر کو ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والے اِن دو واقعات کا موازنہ کیجئے۔

 بھارت میں عامر خان ایک بیمار بچے کی عیادت کرنے گئے اور پاکستان میں خناق سے متاثرہ 10ماہ کی بیمار بچی بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کے باعث دم توڑ گئی! کراچی شہر کی غریب بستی لیاری کی رہنے والی بسمہ کی سانسیں اکھڑنے لگیں تو والد اُسے موٹرسائیکل پر ’سول ہسپتال‘ لیجانے کے لئے نکلا لیکن جگہ جگہ راستے بند تھے۔ ہسپتال کا شعبہ ہنگامی علاج معالجے کا گیٹ بھی بند پایا گیا۔ سیکورٹی کے فرائض سرانجام دینے والے ٹریفک اور پولیس اہلکاروں کو تشویش و پریشانی سے بھرے چہرے والے موٹرسائیکل سوار کی حالت پر رحم نہ آیا۔ وہ بچی کو ہاتھوں پر اٹھائے ہسپتال کے ایک گیٹ سے دوسرے گیٹ تک چکر لگاتا رہا اور پھر جب کسی طرح بھاگتے بھاگتے ہسپتال میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اُس کی بیٹی مر چکی ہے لیکن اگر وہ دس پندرہ منٹ پہلے اُسے طبی امداد دینے کے لئے ہسپتال لے آتا تو اُس معصوم کی زندگی بچائی جا سکتی تھی! ہاتھوں پر بچی کی لاش اُٹھائے فیصل نامی باپ زاروقطار رو رہا تھا اور یہ تماشا دوپہر سے رات گئے تک پوری پاکستانی قوم اور دنیا نجی ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات میں تمام دن دیکھتی رہی۔ ذرائع ابلاغ واویلا کرتے رہے کہ کس طرح ’اہم شخصیات‘ کی سیکورٹی کے نام پر ہسپتال کے اطراف میں شاہراہیں بند کی جاتیں ہیں۔ کس طرح ’اہم شخصیات‘ کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں لیکن بنیادی نکتہ یہ تھا کہ کیا یہ المیہ قوم کے لئے کافی ہوگا کہ دس ماہ کی بچی کی لاش ہاتھوں پراُٹھائے ایک باپ کہہ رہا تھا ’’میری بچی کی حیثیت دو کوڑیوں جیسی (معمولی) ہے۔ اہم تو بلاول زرداری ہے!‘‘ یاد رہے کہ عوام سے وصول کئے گئے ٹیکسوں (محصولات) سے سول ہسپتال کراچی میں ’ٹراما سنٹر‘ بنایا گیا‘ جسے بے نظیر بھٹو کے نام سے منسوب کرنے کے بعد 23دسمبر کے روز اُن کے صاحبزادے بلاول زرداری سے افتتاح کرانے والے سبھی کردار بسمہ کی موت کے لئے ذمہ دار ہیں کیونکہ نام نہاد اہم شخصیات کی حفاظت کے پیش نظر ہسپتال کے اطراف میں راستے بند کئے گئے تھے اور یہ بات سبھی کو معلوم تھی!

کیا بسمہ کی موت کے بعد ’اہم شخصیات‘ عوام کے لئے زحمت بننے کی روش ترک کریں گے؟ کیا قانون ساز ایوانوں میں ’وی آئی پی کلچر‘ ختم کرنے کے لئے غوروخوض ہوگا؟ کیا بسمہ کی موت کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سپرئم کورٹ‘ ہائی کورٹ یا سول سوسائٹی اپنی موجودگی کا احساس دلائے گی؟ کیا 10ماہ کی معصوم بچی کی ہلاکت کو قتل تصور کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا؟ تیئس دسمبر ہی کی شب وزیراعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ نے مشیر نادیہ گبول کی رہائشگاہ پر غمزدہ باپ سے ملاقات کے دوران اُسے سرکاری ملازمت دینے کی پیشکش اور معاملہ رفع دفع کرنے پر ’رضامند‘ کر لیا لیکن کیا اِس مک مکا سے ’پیپلزپارٹی‘ کی مرکزی قیادت اور سندھ کی صوبائی حکومت کے دامن پر خون کے چھینٹے دھل سکیں گے؟ فرضی و تصوراتی کرداروں کے ذریعے ’انسانیت کے احترام‘ کا سبق دینے والا عامر خان نام نہاد رہنماؤں سے لاکھوں درجے بہتر ہے‘ جسے دوسروں کی دکھ‘ تکلیف اور جذبات کا احساس ہے۔

اتنی اداکاری تو اب فلموں میں بھی نہیں ہوتی‘ جتنی ہمارے سیاستدان کے قول و فعل سے چھلک رہی ہے! 23دسمبر کو بسمہ نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے ضمیر کو دفن کیا گیا ہے‘ لعنت ہو جمہوریت کو غلام بنانے والے ایسے نام نہاد رہنماؤں پر اور ایسے استحصالی نظام پر جس میں عام لوگ (ہم عوام) کیڑے مکوڑوں کی طرح روندے اور کوڑیوں کے مول خریدے جا رہے ہوں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, December 2, 2015

Dec2015: The PPP downfall

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پیپلزپارٹی: حسب حال توقعات!
پاکستان پیپلزپارٹی کے لئے ’خیبرپختونخوا‘ کی اہمیت کم ترین سطح پر اگر نہ ہوتی تو یہاں کے معاملات کو بہتر بنانے کے لئے مرکزی قیادت کی جانب سے بہت پہلے ٹھوس عملی اقدامات دیکھنے کو ملتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پارٹی کے دیرینہ کارکنوں (جیالوں) میں مایوسی پائی جاتی ہے اور ’بھٹو ازم‘ سے روحانی وابستگی و تعلق رکھنے والے اپنے جذبات بصورت وراثت آنے والی نسلوں کو منتقل نہیں کر سکتے۔ صورتحال اِنتہائی مایوس کن ہے کہ ’بھٹو کے سپاہی‘ جب خود کو یہ باور نہیں کراسکتے کہ وہ ’پیپلزپارٹی‘ کا حصہ ہیں تو بھلا دوسروں کو کیسے ’روٹی کپڑے اور مکان‘ کے وعدوں کی جانب راغب کر سکیں گے! المیہ ہے کہ ایک وقت تھا جب دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے پیپلزپارٹی کا عام کارکن سب سے زیادہ مطمئن و خوشحال ہوتا تھا لیکن اب ایکویشن تبدیل ہو چکی ہے۔ جنہوں نے پارٹی کو منظم کرنے کے لئے قربانیاں دیں۔ جیلیں کاٹیں اور جانی و مالی قربانیاں دیں لیکن انہیں ’گھاس تک ڈالنے کی زحمت گوارہ نہیں کی گئی۔‘ اس سلسلے میں سب سے زیادہ مایوسی ’شعبۂ خواتین‘ سے تعلق رکھنے والی اُن کارکنوں میں پائی جاتی ہے جو متوسط و غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور اتنے وسائل نہیں رکھتیں کہ اپنی جیب سے پارٹی کے تنظیمی اجلاس منعقد کر سکیں۔

پیپلزپارٹی کے دیرینہ کارکن گلہ مند ہیں کہ جن افراد نے وزیر و مشیر اور سینیٹرز بن کر نیک نامی اُور مالی وسائل کمائے وہ اِس بات کو ضروری ہی نہیں سمجھتے کہ ایک فیصد بھی پارٹی کی تنظیم کے خرچ کر سکیں۔ پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے صوبائی صدارت جن سرمایہ داروں کے حوالے کرنے کے متعدد تجربے کئے گئے وہ بھی ناکام ہی رہے تو صورتحال یہ ہے کہ ’پیپلزپارٹی کی تنظیم سازی بشمول رکنیت سازی میں سرمایہ کاری‘ کرنے والا کوئی نہیں‘ تو اِس کی بنیادی وجوہات میں تحریک انصاف بھی شامل ہے جس نے ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ قدم جمائے ہیں اور ابتدأ میں تحریک انصاف سے توقع یہ تھی کہ بے رحم احتساب اور بدعنوانی کے خلاف واضح مؤقف رکھنے والی جماعت روائتی و لچک دار سیاست کا مظاہرہ نہیں کرے گی لیکن جس انداز میں حکومت بنانے اور بچانے کے لئے تحریک انصاف نے پارلیمانی اتحاد کئے‘ اُسے دیکھتے ہوئے ماضی کے مصلحت شناسوں کی یاد آ جاتی ہے۔ بہرکیف صوبائی اسمبلی کی داخلی سیاست ہو یا ضمنی و بلدیاتی انتخابات کے مراحل ایسے ایسے اتحاد بھی کئے گئے جو تعجب خیز تھے۔ اگر تحریک انصاف کو کسی چیز سے خطرہ ہے تو وہ داخلی انتشار و بے چینی ہے دوسری کسی سیاسی جماعت میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ اسے نقصان پہنچا سکے۔ البتہ آئندہ عام انتخابات سے قبل اگر پیپلزپارٹی خیبرپختونخوا کی سطح پر ’تنظیم سازی‘ کا عمل شروع نہیں کرتی تو سب سے زیادہ متوقع خسارہ سندھ کی حد تک پہلے ہی سکڑ کر رہ جانے والی جماعت کو ہوگا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پیپلزپارٹی نے رکنیت سازی کے لئے جو ’آن لائن‘ طریقۂ کار متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا‘ اُسے بھی فی الوقت روک دیا گیا ہے جو غیرمنطقی اقدام ہے۔ پیپلزپارٹی کے پاس گنوانے کے لئے اگر کسی ایک جنس کی کمی ہے تو وہ وقت ہے۔ پارٹی کے دیرینہ کارکن نئی تنظیم سازی میں عہدہ لینے سے گھبرا رہے ہیں اور اگر کوئی سامنے نہیں آ رہا تو اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اعلیٰ سطح پر پیپلزپارٹی دو واضح گروہوں میں تقسیم ہے اور رواں ہفتے اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا کہ ’آرگنائزر کمیٹی‘ بنائی جائے جس سے ماضی کے ’تجربہ کاروں‘ کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور سوائے خانزادہ خان کسی کو شریک نہ کرنے کا فیصلہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کو بچانا مقصود ہے تو اس کے لئے ’نوجوان قیادت‘ کو سامنے لانا ہوگا۔ بصورت دیگر بچت کی کوئی صورت نہیں۔

پیپلزپارٹی خیبرپختونخوا کی تنظیم سازی کا تجربہ رکھنے والے ایک سے زیادہ عہدیدار ’آن لائن رکنیت سازی‘ کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں اور کہتے ہیں اس طرح ’من پسند افراد‘ بڑی تعداد میں پارٹی فیصلوں پر مسلط ہو جائیں گے جو کہ پارٹی کے لئے ایک نئے بحران کا سبب بنے گی۔ دوسرا اعتراض اضلاع کی سطح پر پارٹی کے انتخابات مرحلہ وار انداز میں کرانے سے متعلق ہے۔ بہت سے رہنما چاہتے ہیں کہ انتخابات ایک ہی مرحلے میں ہوں اور بیک وقت ہوں۔ یاد رہے کہ ستمبر 2015ء میں پیپلزپارٹی کی ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں سینیٹر فرحت اللہ بابر‘ پروفیسر این ڈی خان اور اورنگزیب برکی شامل تھے‘ جنہیں تین ہفتوں میں پالیسی مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی لیکن یہ تین ہفتے گزرے مزید کئی ہفتے گزر گئے ہیں۔ ساری کی ساری اُمیدیں بلاول بھٹو زرداری سے ہیں جنہیں پشاور میں مستقل ڈیرے ڈالنا ہوں گے اور ’خوشامد‘ کے ماہر رہنماؤں سے خود کو الگ رکھنا ہوگا۔ حال ہی میں انہوں نے پشاور کا دورہ کیا لیکن زحمت ہی نہیں کی کہ تنظیم سازی کے بارے میں ایک عدد اجلاس ہی طلب کر لیتے! بیرسٹر مسعود کوثر کے گھر پر بلاول کی آمد سے قبل جو اجلاس ہوا بھی تو اس میں سبھی مدعو نہیں تھے یا پھر ایک بڑی تعداد نے شرکت کو ضروری نہیں سمجھا! کیا پیپلزپارٹی سے مفادات وابستہ کرنے والوں کو مزید کچھ حاصل ہونے کی توقع نہیں رہی؟ آئندہ دو ماہ نہایت ہی اہم ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آرگنائزر کمیٹی کی تشکیل میں کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور اس کے تحت تنظیم سازی و انٹراپارٹی الیکشنز کے لئے حکمت عملی وضع کرتے ہوئے ماضی کو غلطیوں سے کتنا سبق سیکھا جاتا ہے۔ ناراض کارکنوں کو منانے اور پارٹی میں جان ڈالنے کے لئے ایک فعال ’صوبائی شعبۂ نشرواشاعت‘ ازحد ضروری ہے‘ اگر پیپلزپارٹی قانون ساز اسمبلی میں خاطرخواہ حزب اختلاف کا کردار ادا نہیں کرسکتی اور ایوان کے باہر مظاہرے کرنے کی افرادی قوت بھی نہیں رکھتی تو کم سے کم ذرائع ابلاغ (پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا) کی پیالی میں تو طوفان برپا کر سکتی ہے!

Sunday, October 4, 2015

Oct2015: TRANSLATION: Rs8,500,000,000,000

Rs8,500,000,000,000
ساڑھے آٹھ کھرب روپے!
پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں خردبرد کئے جانے والے سرکاری مالی وسائل کا حجم ساڑھے آٹھ کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ یہ اندازہ کم سے کم مالی بدعنوانی جاننے کے لئے ایک عالمی فارمولے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اِس فارمولے کے خالق ڈاکٹر رابرٹ کلٹگارڈ (Dr. Robert Klitgaad) ہیں جس کے مطابق اختیارات کے عوض برسرحکومت سیاسی شخصیات فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ ڈاکٹر رابرٹ دنیا بھر میں مالی بدعنوانیوں کی کھوج لگانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اُن کے وضع کردہ طریقۂ کار سائنسی اعتبار سے مستند تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی منتخب عوامی نمائندے یا چنیدہ افراد کو فیصلہ سازی یا حکومت کا منصب دیا جاتا ہے اور اُنہیں صوابدیدی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں تو اس کا نتیجہ بدعنوانی کی صورت ہی برآمد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ یہ نظریہ بھی پیش کرتے ہیں کہ جہاں کہیں احتساب کا ادارہ تو موجود ہو لیکن اس کے ذریعے احتساب کا عمل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کیا جائے وہاں مالی بدعنوانیاں کرنے والے ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ طاقتور اور حکومتی معاملات پر حاوی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس عالمی درجہ بندی میں امریکہ‘ جاپان‘ جنوبی کوریا اُور پاکستان کا شمار کیا گیا ہے جہاں اختیارات کے ذریعے سیاسی و غیرسیاسی حکمران اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ اور ذاتی مالی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہیں! نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک اور عوام کی اکثریت غریب جبکہ گنتی کے چند خاندان امیر ہو جاتے ہیں!

پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان میں کل 100کھرب روپے کے مساوی پیداوار ہوئی اور اگر اِس کا صرف 8.5 فیصد ہی کے حصے میں خردبرد کی گئی تو یہ کم سے کم اور محتاط اندازے کے مطابق 8.5کھرب روپے کی بدعنوانی بنتی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے آٹھ کھرب سے زیادہ کی مالی بدعنوانی کیسے کی ہو گی لیکن پانچ برس کا عرصہ اور کم سے کم ساڑھے آٹھ فیصد کے تناسب سے اوسط بدعنوانی کی گئی ہے۔ اِس ساڑھے آٹھ کھرب روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کو مزید آسان بنا کر بھی سمجھایا جاسکتا ہے اور وہ کچھ یوں ہے کہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی مردوعورت‘ بوڑھے و جوان اور بچے سے 50 ہزار روپے چھینے گئے۔ اعدادوشمار کو مزید آسان کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ ہر پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی خاندان سے 3لاکھ 50 ہزار روپے جیسی خطیر رقم لوٹی گئی ہے!

پاکستان میں نہ تو انسداد بدعنوانی اور احتساب کے قوانین و قواعد کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لئے مخصوص ادارے ہی تعداد میں کم ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک بڑا ادارہ موجود ہے لیکن اگر آپ اِن اداروں کی سالانہ کارکردگی پر نظر ڈالیں تو مایوسی ہوگی کہ انہوں نے نہایت ہی کم شرح سے مالی بدعنوانوں کو انجام تک پہنچایا ہے اور لوٹا ہوا سرکاری مال واپس خزانے میں جمع کرایا ہے۔ ہمارے سامنے مغربی ممالک کی کئی ایک ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے احتساب و انسداد بدعنوانی کے سخت قوانین بنانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد بھی کیا گیا جس کے نتائج اُن کی ترقی کی صورت پوری دنیا دیکھ بھی رہی ہے اور اُن معاشروں میں ہونے والی علمی و فکری ترقی سے فائدہ بھی اُٹھا رہی ہے۔

سال 2014ء کے دوران پاکستان کے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو مالی بدعنوانیوں کی 18 ہزار 818 شکایات موصول ہوئیں جن کی جانچ کے بعد 887 درخواستوں پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور سال 2014ء میں نیب نے بدعنوانوں کے خلاف 819 مقدمات درج کرائے جن میں سے صرف 44 مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف بدعنوانی کا جرم ثابت کیا جاسکا! اگر ہم سنگاپور کی مثال لیں تو وہاں کا ’نیب‘ ہر سال موصول ہونے والی شکایات پر کاروائی کرتا ہے اور 95فیصد کی شرح سے ملوث ملزمان کو سزائیں ہوتی ہیں۔ ہانگ کانگ میں یہی شرح 85فیصد ہے۔ ملائیشیا میں 80فیصد جبکہ بھارت کی ایک ریاست مہاراشٹر میں نیب حکام نے مالی بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں سالانہ 30فیصد کے تناسب سے کامیابی حاصل کی ہے!

میرے یہ الفاظ یاد رکھئے گا کہ ہمارے ہاں انسداد بدعنوانی اور قومی احتساب بیورو سمیت جملہ انتظامی ڈھانچہ ’بدعنوان عناصر‘ کو ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اُنہیں تحفظ دینے کے لئے تشکیل و مرتب کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈاکٹر عاصم حسین سے بھی کچھ حاصل وصول ہونے کی توقع نہیں!

سال 2008ء میں جب آصف علی زرداری کا دورِ اقتدار شروع ہوا تو اُس وقت حکومت کا قرض 6 کھرب روپے تھا۔ 2013ء میں جب اُن کا دور حکومت ختم ہوا تو حکومت کا قرض 8 کھرب روپے یعنی اس میں 2 کھرب روپے کا اضافہ ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مالی نظم و ضبط اور احتساب و انسداد بدعنوانی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں قرض لیکر پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو کھڑا رکھنا پڑتا ہے۔ اگر مالی نظم و ضبط نافذ ہو جائے‘ مالی بدعنوانی کے امکانات تک باقی نہ ہوں اور بدعنوانوں کو قرار واقعی سزائیں دے کر نشان عبرت بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے ہی وسائل کو ترقی کے ذریعے اقتصادی طور پر مستحکم ہوتا چلا جائے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں سال بہ سال اضافے کی بجائے کمی ہوتی چلی جائے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)Rs8,500,000,000,000
ساڑھے آٹھ کھرب روپے!

پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں خردبرد کئے جانے والے سرکاری مالی وسائل کا حجم ساڑھے آٹھ کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ یہ اندازہ کم سے کم مالی بدعنوانی جاننے کے لئے ایک عالمی فارمولے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اِس فارمولے کے خالق ڈاکٹر رابرٹ کلٹگارڈ (Dr. Robert Klitgaad) ہیں جس کے مطابق اختیارات کے عوض برسرحکومت سیاسی شخصیات فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ ڈاکٹر رابرٹ دنیا بھر میں مالی بدعنوانیوں کی کھوج لگانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اُن کے وضع کردہ طریقۂ کار سائنسی اعتبار سے مستند تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی منتخب عوامی نمائندے یا چنیدہ افراد کو فیصلہ سازی یا حکومت کا منصب دیا جاتا ہے اور اُنہیں صوابدیدی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں تو اس کا نتیجہ بدعنوانی کی صورت ہی برآمد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ یہ نظریہ بھی پیش کرتے ہیں کہ جہاں کہیں احتساب کا ادارہ تو موجود ہو لیکن اس کے ذریعے احتساب کا عمل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کیا جائے وہاں مالی بدعنوانیاں کرنے والے ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ طاقتور اور حکومتی معاملات پر حاوی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس عالمی درجہ بندی میں امریکہ‘ جاپان‘ جنوبی کوریا اُور پاکستان کا شمار کیا گیا ہے جہاں اختیارات کے ذریعے سیاسی و غیرسیاسی حکمران اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ اور ذاتی مالی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہیں! نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک اور عوام کی اکثریت غریب جبکہ گنتی کے چند خاندان امیر ہو جاتے ہیں!

پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان میں کل 100کھرب روپے کے مساوی پیداوار ہوئی اور اگر اِس کا صرف 8.5 فیصد ہی کے حصے میں خردبرد کی گئی تو یہ کم سے کم اور محتاط اندازے کے مطابق 8.5کھرب روپے کی بدعنوانی بنتی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے آٹھ کھرب سے زیادہ کی مالی بدعنوانی کیسے کی ہو گی لیکن پانچ برس کا عرصہ اور کم سے کم ساڑھے آٹھ فیصد کے تناسب سے اوسط بدعنوانی کی گئی ہے۔ اِس ساڑھے آٹھ کھرب روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کو مزید آسان بنا کر بھی سمجھایا جاسکتا ہے اور وہ کچھ یوں ہے کہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی مردوعورت‘ بوڑھے و جوان اور بچے سے 50 ہزار روپے چھینے گئے۔ اعدادوشمار کو مزید آسان کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ ہر پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی خاندان سے 3لاکھ 50 ہزار روپے جیسی خطیر رقم لوٹی گئی ہے!
پاکستان میں نہ تو انسداد بدعنوانی اور احتساب کے قوانین و قواعد کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لئے مخصوص ادارے ہی تعداد میں کم ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک بڑا ادارہ موجود ہے لیکن اگر آپ اِن اداروں کی سالانہ کارکردگی پر نظر ڈالیں تو مایوسی ہوگی کہ انہوں نے نہایت ہی کم شرح سے مالی بدعنوانوں کو انجام تک پہنچایا ہے اور لوٹا ہوا سرکاری مال واپس خزانے میں جمع کرایا ہے۔ ہمارے سامنے مغربی ممالک کی کئی ایک ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے احتساب و انسداد بدعنوانی کے سخت قوانین بنانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد بھی کیا گیا جس کے نتائج اُن کی ترقی کی صورت پوری دنیا دیکھ بھی رہی ہے اور اُن معاشروں میں ہونے والی علمی و فکری ترقی سے فائدہ بھی اُٹھا رہی ہے۔

سال 2014ء کے دوران پاکستان کے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو مالی بدعنوانیوں کی 18 ہزار 818 شکایات موصول ہوئیں جن کی جانچ کے بعد 887 درخواستوں پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور سال 2014ء میں نیب نے بدعنوانوں کے خلاف 819 مقدمات درج کرائے جن میں سے صرف 44 مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف بدعنوانی کا جرم ثابت کیا جاسکا! اگر ہم سنگاپور کی مثال لیں تو وہاں کا ’نیب‘ ہر سال موصول ہونے والی شکایات پر کاروائی کرتا ہے اور 95فیصد کی شرح سے ملوث ملزمان کو سزائیں ہوتی ہیں۔ ہانگ کانگ میں یہی شرح 85فیصد ہے۔ ملائیشیا میں 80فیصد جبکہ بھارت کی ایک ریاست مہاراشٹر میں نیب حکام نے مالی بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں سالانہ 30فیصد کے تناسب سے کامیابی حاصل کی ہے!

میرے یہ الفاظ یاد رکھئے گا کہ ہمارے ہاں انسداد بدعنوانی اور قومی احتساب بیورو سمیت جملہ انتظامی ڈھانچہ ’بدعنوان عناصر‘ کو ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اُنہیں تحفظ دینے کے لئے تشکیل و مرتب کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈاکٹر عاصم حسین سے بھی کچھ حاصل وصول ہونے کی توقع نہیں!

سال 2008ء میں جب آصف علی زرداری کا دورِ اقتدار شروع ہوا تو اُس وقت حکومت کا قرض 6 کھرب روپے تھا۔ 2013ء میں جب اُن کا دور حکومت ختم ہوا تو حکومت کا قرض 8 کھرب روپے یعنی اس میں 2 کھرب روپے کا اضافہ ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مالی نظم و ضبط اور احتساب و انسداد بدعنوانی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں قرض لیکر پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو کھڑا رکھنا پڑتا ہے۔ اگر مالی نظم و ضبط نافذ ہو جائے‘ مالی بدعنوانی کے امکانات تک باقی نہ ہوں اور بدعنوانوں کو قرار واقعی سزائیں دے کر نشان عبرت بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے ہی وسائل کو ترقی کے ذریعے اقتصادی طور پر مستحکم ہوتا چلا جائے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں سال بہ سال اضافے کی بجائے کمی ہوتی چلی جائے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین  اِمام)