Showing posts with label ByElection. Show all posts
Showing posts with label ByElection. Show all posts

Tuesday, August 16, 2022

Byelections or Referendum?

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

ضمنی انتخاب یا ریفرنڈم؟

بیس ستمبر 2020ء: پاکستان پیپلزپارٹی کی میزبانی میں ’کل جماعتی کانفرنس‘ میں 26 نکاتی قرارداد منظور کرتے ہوئے حزب اختلاف اتحاد ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM)‘ کا قیام عمل میں آیا اُور اِس ’موومنٹ‘ کے زیراہتمام ’سولہ اکتوبر 2020ء‘ کے روز گوجرانوالہ میں پہلے جلسۂ عام کا انعقاد کیا گیا۔ اِبتدا میں ’پی ڈی ایم‘ گیارہ سیاسی جماعتوں (عوامی نیشنل پارٹی‘ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل‘ جمعیت اہل حدیث‘ جمعیت علمائے اسلام (فضل)‘ جمعیت علمائے پاکستان (نورانی)‘ نیشنل پارٹی (بزنجو)‘ مسلم لیگ (نواز)‘ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (محمود اچکزئی)‘ قومی وطن پارٹی اُور جمہوری وطن پارٹی) پر مشتمل تھی جبکہ بعدازاں 3 دیگر سیاسی جماعتوں (بلوچستان عوامی پارٹی‘ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اُور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ) نے ’پی ڈیم ایم‘ میں شمولیت کر لی۔

دس اپریل 2022ء: تحریک انصاف کے سربراہ (چیئرمین) عمران خان کے خلاف ’پی ڈی ایم‘ کی تحریک ِعدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد اُور شہباز شریف کے بطور وزیراعظم حلف اُٹھانے (گیارہ اپریل) سے قبل تحریک انصاف سے قومی اسمبلی سے کنارہ کشی کر لی اُور تحریک سے تعلق رکھنے والے 123 قومی اسمبلی اراکین نے اپنی اپنی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے سے اسپیکر قومی اسمبلی کو مطلع کر دیا۔ ’گیارہ اپریل‘ کے روز قومی اسمبلی کی جانب سے مستعفی ہونے والے اراکین کے ارسال کردہ خطوط میں کہا گیا کہ وہ اجتماعی استعفوں کی فرداً فرداً تصدیق کے لئے اسپیکر سے رابطہ کریں لیکن مقررہ تاریخوں (6 سے 10جون) کے درمیان تحریک انصاف کے کسی بھی رکن قومی اسمبلی نے اسپیکر کے سامنے پیش ہو کر مستعفی ہونے کی تصدیق یا انکار کو ضروری نہیں سمجھا۔

اٹھائیس جولائی 2022ء: تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے اجتماعی استعفوں کے 109 دن بعد‘ تحریک کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کا اعلان قومی اسمبلی کے ٹوئیٹر اکاونٹ (@NAofPakistan) سے کیا گیا۔ مذکورہ اعلان کے مطابق اسپیکر راجہ پرویز اشرف (@RPAPP) نے 2 خواتین سمیت 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے آئین پاکستان کی شق 64(1) اُور قومی اسمبلی قواعد و ضوابط 2007ء کے تحت منظور کئے تاہم مذکورہ اعلان میں یہ نہیں کہا گیا کہ مرحلہ وار استعفے کیوں منظور ہوئے‘ سب استعفے اکٹھے منظور کیوں نہیں کئے گئے اُور جن گیارہ اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہوئے ہیں اُس کے لئے کس ضابطے یا اصول کو پیش نظر (بنیاد) رکھا گیا ہے۔ یہ سُوال بھی اپنی جگہ جواب طلب اُور حیرت کا باعث رہا کہ تحریک انصاف کے باقی 120 اراکین قومی اسمبلی کی قسمت کا فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا اُور اِن کے استعفے مستقبل قریب میں قبول کئے جائیں گے یا نہیں؟

پانچ اگست 2022ء: الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی 9 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لئے اُمیدواروں سے کاغذات نامزدگی طلب جبکہ پولنگ کے لئے اتوار (25 ستمبر 2022ء) کا دن مقرر کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے جنرل نشستوں پر 9 جبکہ خواتین کے لئے مختص نشستوں پر 2 اراکین کے استعفے قبول کرنے کے بعد اُن کے نام (30 جولائی 2022ء کے روز) قومی اسمبلی اراکین کی فہرست سے خارج (ڈی نوٹیفائی) کر دیئے گئے۔

چھ اگست 2022ء: تحریک انصاف نے ’اسلام آباد ہائی کورٹ‘ سے الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کے خلاف رجوع کیا اُور عدالت سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ”ضمنی انتخابات کا جاری کردہ شیڈول معطل کیا جائے کیونکہ عدالت پہلے ہی تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری سے متعلق مقدمے کی سماعت کر رہی ہے اُور اِس سلسلے میں 4 اگست کی سماعت کے بعد فریقین کو نوٹسیز جاری ہو چکے ہیں‘ جن کے بارے میں باخبر ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول جاری کیا ہے اِس لئے ’پانچ اگست‘ کا شیڈول معطل کیا جائے۔“ دوسری طرف ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے چند گھنٹے بعد (پانچ اگست شام 7 بج کر 3 منٹ پر) ’عمران خان‘ نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ (@ImranKhanPTI) سے اعلان کیا کہ تمام (9) نشستوں پر وہ بذات خود بطور اُمیدوار انتخابی مقابلے میں حصہ لیں گے یوں یہ ضمنی انتخابات بنیادی طور پر …… 1 (عمران خان) بمقابلہ 14 سیاسی جماعتیں (پی ڈی ایم) …… پاکستان کی سیاسی تاریخ کا انتہائی غیرمعمولی انتخابی معرکہ ثابت ہوگا جس میں حصہ لینے کے لئے دونوں فریقین نے آستینیں اُوپر کر لی ہیں اُور امر واقعہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اِس سے قبل کبھی بھی ضمنی انتخابات اِس قدر اہم اُور قابل ذکر و زیربحث نہیں رہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ (چیئرمین) عمران خان نے ضمنی انتخاب کی آخری تاریخ ختم ہونے سے قبل ’حسب ِاعلان‘ 9 انتخابی حلقوں (کراچی کے تین (این اے 246این اے 237 این اے 239)‘ مردان (این اے 22)‘ چارسدہ (این اے 24)‘ پشاور (این اے 31)‘ کرم (این اے 45)‘ فیصل آباد (این اے 108) اُور ننکانہ (این اے 118) کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ خاص نکتہ یہ بھی ہے کہ تحریک ِانصاف کو انتخابی کامیابی اِس حد تک یقینی دکھائی دے رہی ہے کہ اِس نے خواتین کی مختص نشستوں پر 2 کی بجائے 3 خواتین (شندانہ گلزار‘ روہیلہ حامد اُور مہوش علی) کو نامزد کیا ہے۔ 

بنیادی بات یہ ہے کہ تحریک ِانصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے ضمنی انتخاب کی ہر نشست پر تن تنہا بطور اُمیدوار انتخاب لڑنے کے فیصلے نے ’ضمنی انتخاب‘ کو ’ریفرنڈم‘ میں تبدیل کر دیا ہے جس کا نتیجہ (پولنگ ڈے‘ پچیس ستمبر) اگر ’تحریک انصاف کے حق میں آیا تو اِس سے ملک میں ’صدراتی نظام‘ کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ صدراتی نظام حکومت میں قومی فیصلے فرد واحد (صدر مملکت) کے حکمنامے سے اُور فوری نافذ العمل ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کے ’3 سال 7ماہ 23 دن‘ پر محیط دور ِحکومت (18 اگست 2018ء سے 10 اپریل 2022ء) کے دوران ”صدارتی طرزحکمرانی“ کے حوالے سے قومی سطح پر بحث و مباحثہ متعارف کروایا گیا جس سے اتفاق کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کاروں‘ شریک ِاقتدار قوتوں اُور عوامی حلقوں کی اکثریت نے اِسے پاکستان کے مسائل کا واحد‘ صائب‘ دیرپا اُور قابل عمل حل قرار دیا تھا اُور اِس حوالے سے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی خاصی سنجیدہ کوشش دیکھنے میں آئی تھی لیکن بعدازاں چند تکنیکی و آئینی پیچیدگیوں اُور معاشی و سیاسی حالات کی وجہ سے اِس تصور (آئیڈیا) پر عملاً پیشرفت نہ ہو سکی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 25 ستمبر 2022ء کے روز صرف 9 انتخابی حلقوں کے رائے دہندگان ہی نہیں بلکہ اِن معرکوں پر نظر رکھنے والے کس قسم کے ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اُور بالخصوص مذکورہ ضمنی انتخابات پاکستان میں طرزحکمرانی کے مستقبل کے بارے میں کس سمت کا تعین کرتے ہیں‘ جسے تحریک کے قائدین پہلے ہی ’یقینی کامیابی کی صورت حقیقی آزادی‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اِن ضمنی انتخابات سے تحریک انصاف کا مستقبل اُور لائحہ عمل بھی بڑی حد تک واضح ہو جائے گا جس کی ’نئے پاکستان‘ کی تخلیق و تعمیر اُور تعبیر کے لئے بائیس سالہ سیاسی جدوجہد نہ صرف نئی تصوراتی بلندی کو چھو لے گی بلکہ یہ پاکستان میں سیاست کا رخ بھی شاید ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بدل کر کے رکھ دے۔ ”میں پیروی اہل سیاست نہیں کرتا …… اِک راستہ اِن سب سے جدا چاہئے مجھ کو (عرش صدیقی)۔“

Thursday, October 26, 2017

Oct 2017: ByElection & wonders of NA 04, Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ضمنی انتخاب: این اے فور!
عام انتخابی عمل میں ’دھاندلی‘ کا ’جامع تصور‘ تین مراحل میں تکمیل پاتا ہے۔ 1: قبل از انتخابی قواعد کی خلاف ورزیاں بشمول حکمراں جماعت کی جانب سے ترقیاتی کام اُور اہم عہدوں پر منظورنظر افراد کی تعیناتیاں‘ 2: رائے دہی (پولنگ) کے مرحلے میں طاقت‘ دھونس اور سرمائے کا (کھلم کھلا) استعمال اور 3: انتخابی اُمیدواروں کی اکثریت بعداَز اِنتخابات (پوسٹ الیکشن) نتائج پر اثرانداز ہونے کی حتی الوسع کوشش کرتی ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ ’این اے فور‘ پر ’ضمنی انتخاب‘ کی روداد بھی زیادہ مختلف نہیں‘ جہاں بڑی سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کے لئے سرتوڑ اور جوڑتوڑ کوششوں کا منطقی انجام آج (چھبیس اکتوبر) دن ڈھلنے واضح ہو جائے گا لیکن صوبائی دارالحکومت پشاور کے بیشتر دیہی علاقوں پر مشتمل اِس ضمنی انتخاب کی وساطت سے مستقبل کا ’انتخابی منظرنامہ‘ بڑی حد تک معلوم ہو چکا ہے کیونکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان بننے اور بگڑنے والے ’انتخابی اتحاد (قربتیں اُور فاصلے)‘ ہی خیبرپختونخوا کے دیگر حصوں بالخصوص پشاور کی سطح پر ’مستقبل قریب‘ میں ہونے جا رہے انتخابی مراحل پر اثرانداز ہوں گے۔

عام انتخابی مرحلے میں کسی ایک اُمیدوار کی ’جیت‘ کا یہ مطلب قطعی نہیں ہوتا کہ مدمقابل دیگر اُمیدواروں کو شکست ہوئی ہے بلکہ انتخابات کے ذریعے جمہوریت پر یقین اور اعتماد کا عملی اظہار اِس عمل کی اساس و اثاثہ ہے۔ افسوس کہ سیاسی جماعتیں عمومی طور پر انتخابی اتحاد کی صورت اپنے حامیوں کے جذبات کا احساس نہیں کرتیں۔ جمہوریت کی روح اور انتخاب کا مقصد اُسی وقت فوت ہو جاتا ہے جب مختلف النظریات سیاسی جماعتیں انتخابی اتحاد کرتی ہیں۔ پشاور کی سطح پر اِس قسم کے اتحاد پہلی مرتبہ ’این اے فور‘ پر دیکھنے میں نہیں آئے بلکہ اگست دوہزار تیرہ کے آخری ہفتے جب ’این اے ون‘ کے ضمنی انتخاب پر تحریک انصاف کے مقابلے عوامی نیشنل پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی تب تحریک انصاف کے مقابلے چھ سیاسی جماعتوں نے اتحاد کیا تھا جبکہ مئی دوہزار تیرہ میں تحریک انصاف کے مخالفین کا ’ووٹ بینک‘ منتشر تھا۔ اُس وقت رہی سہی کسر ’تحریک انصاف‘ کے داخلی اختلافات نے پوری کر دی اور یوں بھاری اکثریت سے جیتی ہوئی نشست چند ہزار ووٹوں کے فرق سے ’پی ٹی آئی مخالف اتحاد‘ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جس سے باردیگر ثابت ہوا کہ عام انتخابات صرف اور صرف حساب و کتاب (شمار) پر منحصر ہوتے ہیں جو اُمیدوار اپنے اور مخالفین کے ’ووٹ بینک‘ کا درست اندازہ لگائیں وہی دلی مراد پاتے ہیں۔ 

سیاسی جماعتیں جس پھرتی‘ اتحادواتفاق اور ووٹروں سے رابطوں کا اہتمام عام انتخابات کے موقع پر کرتی ہیں لیکن اگر یہی سلسلہ بعدازانتخابات بھی جاری رہے تو جمہوریت کے ثمرات و اثرات زیادہ اُبھر کر سامنے آئیں۔ عمومی طور پر ملک کے ہر انتخابی حلقے میں ووٹروں کی اکثریت اِس احساس محرومی کا شکار ہے کہ اُن سے ووٹ لینے والے بعدازاں انتخابی حلقوں کا رُخ نہیں کرتے۔ قانون ساز ایوانوں کی رکنیت رکھنے والوں کے پاس ’ترقیاتی فنڈز‘ ہونے کی وجہ سے انتخابی حلقوں کو اُن کی ضرورت رہتی ہے لیکن عام آدمی (ہم عوام) کو اِس ’’خوش فہمی کے مرض‘‘ کا علاج کرنا چاہئے کہ (تین سطحی) انتخابی عمل میں کروڑوں روپے اور اپنے بیش قیمت وقت کی سرمایہ کاری کرنے والے ’’خدا واسطے سیاست‘‘ کر رہے ہیں۔ ’این فور‘ پر ہوئے ’’انتخابی اتحاد اور رائے دہندگان کو قائل کرنے کی مہمات‘‘ سے اہل پشاور نے کیا سیکھا؟ کیا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے مقرر کئے جانے والے زیادہ سے زیادہ اخراجات سے متعلق قواعد ایک مرتبہ پھر پائمال ہوئے؟ اُور اِس پورے عمل سے کیا (مردم شماری کے تین بلاکس) ’’اُڑمر (چارج ٹو)‘ بڈھ بیر (چارج فور) اور ہزارخوانی (چارج چودہ)‘‘ کے دیہی علاقوں کی قسمت بدلنے والی ہے؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ’ایم این اے‘ گلزار خان کی وفات سے خالی ہونے والی ’’اِین اَے فور‘‘ کی نشست کے لئے ’’3 لاکھ 97 ہزار 904 ووٹرز‘‘ ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے اہل ہیں‘ جنہیں ’’15اُمیدواروں‘‘ میں سے کسی موزوں شخص کا انتخاب کرنا ہوگا۔ بطور اُمیدوار حصہ لینے والوں میں امان اللہ خان آفریدی (آزاد)‘ ارباب عامر ایوب (تحریک انصاف)‘ اسد گلزار خان (پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین)‘ الحاج لیاقت علی خان (آزاد)‘ خوشدل خان (اے این پی)‘ ڈاکٹر مبشر خان (آزاد)‘ سمیع اللہ (آزاد)‘ شوکت خان مہمند (آزاد)‘ ضیاء الرحمن (آزاد)‘ علامہ ڈاکٹر محمد شفیق ایمنی (تحریک لبیک (یارسول اللہ) پاکستان)‘ فرحان قدیر (آزاد)‘ محمد تنویر (آزاد)‘ مولانا وحید عالم (آزاد)‘ ناصر خان موسیٰ زئی (پاکستان مسلم لیگ نواز) اور واصل فاروق جان ایڈوکیٹ (جماعت اسلامی) شامل ہیں۔ اِس حلقے میں ’’ایک لاکھ باسٹھ ہزار سات سو چالیس‘‘ خواتین ووٹرز کی تعداد تعجب خیز ہے کہ کس طرح خواتین ووٹرز کی تعداد مرد ووٹرز کے تناسب ’’72 ہزار 424‘‘ کم ہو سکتی ہے جس کا مطلب ہے کہ دیگر دیہی علاقوں کی طرح یہاں بھی خواتین کے ووٹ حسب تعداد اندراج (رجسٹرڈ) نہیں ہوئے اور نہ ہی پولنگ میں اُن کی پچاس فیصد تعداد ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کر پائے گی۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخاب میں ’این اے فور‘ پر ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب 40.34 فیصد رہا جبکہ 12مدمقابل اُمیدواروں کے مقابلے کامیاب قرار پانے والے ’تحریک انصاف‘ کے نامزد گلزار خان نے 55ہزار 134 ووٹ حاصل کئے تھے۔

پشاور کا مضافاتی ’این فور‘ کا انتخابی حلقہ ’امن و امان‘ کے لحاظ سے آج بھی غیریقینی کی صورتحال سے دوچار رہا ہے جہاں ملحقہ قبائلی پٹی سے در آنے والے عسکریت پسندوں اور منظم جرائم پیشہ عناصر کا تین مقامی قبائل مقابلہ کر رہے ہیں لیکن اِس ضمنی انتخاب نے ماضی کے اِس اہم اتحاد کو نقصان پہنچایا ہے اور آج یہ تینوں مقامی قبائلی گروہ (حاجی عبدالمالک‘ دلاور خان اور حاجی عباس گروپ) الگ الگ اُمیدواروں کی حمایت کر رہے ہیں۔ اگرچہ ماضی میں بھی ایک مرتبہ ملک اور خان گروپ ایک دوسرے کے مدمقابل سیاسی مخالف اُمیدواروں کے حامی تھے لیکن اِس مرتبہ اختلافات اس حد تک زیادہ ہیں کہ مسلح تصادم کے امکانات بھی ہیں! یہی وجہ ہے کہ فوج طلب کر لی گئی ہے جو انتخابی مراکز کی حفاظت کرے گی۔ سیاسی جماعتیں کس طرح مسلح گروہوں کی سرپرستی کرتی ہیں اور کس طرح عسکریت پسندوں کے خلاف مسلح گروہوں کی سرپرستی کی گئی‘ اِس کی کہانی اور اثرات (انجام) ’این اے فور‘ میں بخوبی ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ 

انتخابی فتح کبھی بھی ’حرف آخر‘ نہیں ہوتی لیکن اِسے نسلی‘ لسانی اور عزت و آبرو کا مسئلہ بنا کر پیش کرنے سے پیدا ہونے والی بدمزگی عمومی سماجی تعلقات پر منفی اثرانداز ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کی مخالفت میں حد سے گزرنے والوں کو پشاور اور خیبرپختونخوا کے مفادات کا بھی خیال (پاس) کرنا چاہئے۔ اُمید اور دُعا ہے کہ ضمنی انتخاب کا یہ مرحلہ حسب توقع‘ خوش اسلوبی سے مکمل ہوگا‘ جس میں حصہ لینے والے سبھی اُمیدوار اگر جمہوری روئیوں اور تقاضوں کو سمجھتے ہوئے برداشت سے کام لیں گے تو اپنی اپنی حیثیت میں صرف ’کامیاب‘ نہیں بلکہ ’کامران‘ بھی قرار پائیں گے۔

Tuesday, August 18, 2015

Aug2015: Political Revenge

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
انتقام!
وہ دن گئے جب ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بانٹ دی جاتی تھیں۔ قومی و صوبائی سیاست پر اجارے داری کا دور آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے اور یہ بات سولہ اگست کے روز حلقہ این اے اُنیس‘ ہری پور کے لئے ہوئے ضمنی انتخاب کے موقع پر پھر سے ثابت ہوئی ہے کہ ’عام آدمی بطور ووٹر‘ خاموش تو ہے لیکن وہ اپنے ووٹ سے انتقام لینے کے موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا! ہری پور کے ضمنی انتخاب میں جو کچھ بھی ہوا‘ وہ نہ تو جنون تھا اور نہ ہی انقلاب جیسا اندھا دھند کوئی نظریہ‘ رائے دہندگان (ووٹرز) کی اکثریت نے اپنے علاقے کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹ دے کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ایک ایسی تاریخ جو کسی کے حق میں نہیں۔ اگرچہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے بابر نواز خان کو ملک کے سب سے کم عمر ’رکن قومی اسمبلی‘ ہونے کا اِعزاز ملا ہے لیکن اُن کا چناؤ ایک متبادل قیادت (آپشن) کے طور پر ہوا ہے اور یہی بات سمجھنے لائق ہے کہ جہاں کہیں عام آدمی (ہم عوام) کو متبادل کے طور پر ووٹ دینے کا موقع میسر آتا ہے‘ وہاں فیصلہ سیاسی تجزیہ کاروں سے مختلف ہوتا ہے۔

سولہ اگست کی ابرآلود الصبح ہری پور میں دن کا آغاز سست روی سے ہوا۔ ہفتہ وار عام تعطیل کی وجہ سے گلیاں اور بازار سنسان تھے لیکن پولنگ کا وقت شروع ہوتے ہی پولنگ اسٹیشنوں کے آس پاس گہماگہمی شروع ہوئی اور جب فیصلہ آیا تو متوسط قد‘ مضبوط جسم اور بھاری بھرکم چپلی پہننے والے نوجوان نے ’فتح‘ کے ساتھ پورے خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا اِعزاز اَپنے نام کر لیا تھا۔ ہری پور کی سیاست خاندانوں میں بٹی ہوئی ہے اُور یہاں کی دوستیوں سے زیادہ دشمنیاں مشہور ہیں۔ بابر نواز خان کے مدمقابل اُن کے اپنے ہی خاندان کے ایک فرد کو حفظ ماتقدم کے طور پر گھر میں نظربند کر دیا گیا لیکن بعدازاں الیکٹرانک میڈیا کی مداخلت پر بکتر بند گاڑی فراہم کی گئی جس میں بیٹھ کر اُنہوں نے کھلابٹ ٹاؤن شپ میں اپنی رہائش گاہ سے چند سو میٹر کے فاصلے پر جاکر ووٹ کاسٹ کیا۔ ہری پور پر راجہ (راجگان) اُور ترین خاندانوں کا اثر واضح دیکھا جاسکتا ہے اور ملک کی سبھی بڑی جماعتیں ہری پور سے انتخاب کرتے ہوئے انہی 2 خاندانوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتی ہیں۔ چونکہ سیاست پیسے کا کھیل ہے اُور عام آدمی کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ محض مخلص اور سیاست کو خدمت و عبادت سمجھ کر انتخابات میں حصہ لے‘ اِس لئے سیاسی خوش قسمتی ہمیشہ اُنہیں کے دروازے کھٹکھٹاتی ہے‘ جن کی سیاسی وابستگیوں سے زیادہ مالی حیثیت مضبوط ہو۔ ہری پور کی سیاست میں بھی مالی وسائل کی طاقت نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق بابر نواز نے ایک لاکھ سینتیس ہزار دو سو اُنیس ووٹ حاصل کئے اور اُن کے مقابلے میں ڈاکٹر راجہ عامر زمان نے 90ہزار 698 ووٹ لئے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے نامزد اُمیدوار طاہر قریشی نے 1 ہزار 396 ووٹ لئے۔ 41.2فیصد کے تناسب سے ہوئی ووٹنگ میں سب سے زیادہ مایوسی تحریک انصاف کو ہوئی‘ جنہیں اُمید تھی کہ بھابھی (چیئرمین عمران خان کی اہلیہ ریحام خان) کا دورہ طلسماتی ثابت ہوگا لیکن 28سالہ بابر نواز کی حمایت کرنے والے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی وضع کردہ ترقیاتی حکمت عملی زیادہ کامیاب ثابت ہوئی۔ حقیقت یہی ہے کہ تحریک انصاف سے زیادہ نواز لیگ نے این اے اُنیس کے ضمنی انتخاب کو زیادہ سنجیدگی سے لیا۔

ہری پور کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ کا تناسب معلوم کرتے ہوئے جب نصف دن کے قریب تحریک انصاف کے ایک رہنما کی رہائشگاہ پہنچے تو جدید طرز کے حجرے میں چارپائیوں کو چند افراد کے درمیان رہنما تشریف فرما تھے اور جب اُن سے پوچھا گیا کہ صورتحال کیا تو کہنے لگے میں تو ابھی اپنا ووٹ ڈالنے بھی نہیں گیا۔ آپ بتائیں باہر کیا ہو رہا ہے! اگر ہری پور کے ووٹروں کے ترقیاتی کاموں کو ووٹ دیا ہے تو ساتھ ہی اُنہوں نے دو ایسے خاندانوں سے بھی بدلہ لیا ہے‘ جو یکے بعد دیگرے یہاں سے منتخب ہوتی رہی ہیں۔ تحریک انصاف کو چاہئے کہ وہ ’این اے 19‘ پر شکست کے حوالے سے ایک محرکات و اسباب کا جائزہ لینے کے لئے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیں۔ پارٹی کے جن عہدیداروں نے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور جنہوں نے دوغلی پالیسی اختیار کی‘ اُن موقع پرستوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا یہی بہترین موقع ہے۔ ضلع ہری پور کو مثال بنا کر ملک کے دیگر اضلاع میں مغرور افراد کو پیغام دیا جاسکتا ہے کہ اگر اُن کی ذاتی ترجیحات ہیں تو پارٹی ڈسپلن کے تحت اُنہیں پس پشت ڈالنا ہوگا۔ ہری پور میں سب سے زیادہ مایوسی تحریک انصاف کے کارکنوں کو ہوئی ہے‘ جو خود کو ’یتیم‘ سمجھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کو اب تو سمجھ ہی لینا چاہئے کہ اُن کے لئے زیادہ اہم انتخابات میں سرمایہ کاری کرنے والے نہیں بلکہ ووٹ ڈالنے والے ہوتے ہیں۔
Clipping from Daily Aaj of Aug 20, 2015. Both PTI and PMLN are not happy with their workers attitude during NA19 ByElections held on Aug16
 مشتری ہوشیار باش صوبائی سطح پر تحریک انصاف کی تنظیم نو کے مرحلے پر فیصلہ سازی کسی ایسے کردار کو نہیں سونپی جانی چاہئے جس نے ہری پور میں منفی یا خاطرخواہ کردار ادا نہ کیا ہو۔ غلطی پر غلطی اور توقع پر توقع سے نہیں بلکہ ہزارہ میں تحریک انصاف کو کمزور ہونے سے بچانے کے لئے اراکین صوبائی اسمبلیوں کو تاکید کرنا ہوگی کہ وہ اپنے ہی ہم جماعتی قومی اسمبلی کے اراکین کو اعتماد میں لیں اور بنی گالہ حکم دے کہ ہر ضلع کی سطح پر کم ازکم مہینہ وار اجلاس ہونے چاہیءں جس میں تحریک سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندے اور کارکنوں کو آپس میں بات کرنے کی سہولت میسر آئے۔ مسئلہ اُس اجنبیت‘ بے حسی اور لاتعلقی کو ختم کرنے کا ہے‘ جو تحریک انصاف کی صفوں میں بے چینی کی صورت پھیل چکی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اِس عالم میں تحریک کسی دوسرے مقام پر ووٹروں کے انتقام کا نشانہ بن جائے!
Political revenge by the voters of NA19, Haripur. The ByElection result shocked many but thinking only few