Showing posts with label PMLN. Show all posts
Showing posts with label PMLN. Show all posts

Sunday, December 1, 2019

TRANSLATION: The debt bomb by Dr Farrukh Saleem

The debt bomb
قرضوں کا بوجھ
پاکستان کے قومی قرضوں کا بوجھ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا براہ راست تعلق ملک میں مہنگائی اُور شرح سود سے ہے۔ قیام پاکستان یعنی سال 1947ءسے 2008ء کے 61 سالہ عرصے میں ملک کے 4 گورنر جنرلز‘ 9 صدور اُور 23 وزرائے اعظم گزرے اُور اِن سبھی نے مجموعی طور پر 6 کھرب روپے کا قرض لیا۔ سال2008ءتک ہر پاکستانی (قومی قرضوں کی وجہ سے) 36 ہزار روپے کا مقروض تھا۔

سال 2008ءسے 2013ء کے درمیانی عرصے (پانچ برس) میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ پاکستان نے آصف علی زرداری کی صدارت اُور 2 وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی و راجہ پرویز اشرف کی وزارت عظمیٰ کے ادوار دیکھے۔ اِن تین کرداروں (زرداری‘ گیلانی اُور راجہ) نے پاکستان نے قومی قرض کو 6 کھرب ڈالر سے 16 کھرب ڈالر تک پہنچا دیا یعنی 5 سال کے عرصے میں پاکستان کے قومی قرض میں 10 کھرب (10-trillion) روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اگر اوسط معلوم کی جائے تو پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت (2008-13) کے دوران پاکستان کے قومی قرضے میں ہر دن (یومیہ) ”5.5 ارب روپے“ کا اضافہ کیا جاتا رہا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے مذکورہ 5 سالہ دور حکومت کے اختتام پر ہر پاکستانی اوسطاً 36 ہزار روپے سے 88 ہزار روپے کا مقروض ہو گیا یعنی پانچ سال کے دوران ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ دوگنے سے بھی زیادہ ہو گیا۔

سال 2013ءسے 2018ءکے 5 سالہ دور میں پاکستان نے ممنون حسین بطور صدر اُور 2 وزرائے اعظم میاں نواز شریف و شاہد خاقان عباسی دیکھے۔ اِن تینوں کا تعلق ایک ہی سیاسی جماعت یعنی ’پاکستان مسلم لیگ (نواز)‘ سے تھا۔ نواز لیگ حکومت کے دوران (دوہزار تیرہ سے دوہزار اٹھارہ) پاکستان کے قومی قرضوں کو 16 کھرب روپے سے بڑھا کر 30 کھرب روپے جیسی بلند سطح پر پہنچا دیا گیا یعنی پانچ سال میں 14 کھرب روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اگر نواز لیگ کے آخری دور حکومت کے دوران ہر دن لئے گئے قرض کا تناسب معلوم کیا جائے تو یہ 7.5 ارب روپے یومیہ بنتا ہے۔ لیگی حکومت نے پانچ سال تک ہر دن ساڑھے سات ارب روپے قومی قرض میں اضافہ کیا۔ یوں پانچ سال کے عرصے میں ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ جو کہ پہلے ’88 ہزار روپے‘ تھا بڑھ کر ’1لاکھ 44 ہزار روپے‘ ہو گیا۔

سال 2018ءسے 2019ئ‘ صدر مملکت عارف علوی اُور وزیراعظم عمران خان ہیں۔ اِن دونوں کا تعلق ’پاکستان تحریک انصاف‘ سے ہے۔ موجودہ حکومت کے 2 سال کی مالیاتی کارکردگی کا ایک رُخ یہ ہے کہ جولائی دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے بعد ’تحریک انصاف‘ کے برسراقتدار آنے کے وقت پاکستان کے قومی قرضوں کا کل حجم 30 کھرب روپے تھا اُور ماضی کی طرح موجودہ حکومت نے بھی قرض لینے کا سلسلہ جاری رکھا اُور قومی قرض کو 41 کھرب روپے پر پہنچا دیا یعنی اب تک (ایک سال کے عرصے میں) ’11 کھرب روپے‘ قرض لیا جا چکا ہے‘ جس کی اگر یومیہ اوسط نکالی جائے تو پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں ہر دن ’30 ارب روپے‘ قرض لیا گیا ہے۔ حکومت کی مالیاتی کارکردگی‘ ترجیحات اُور منصوبہ بندی کا اندازہ اِس اَمر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ 71 سال کے دوران پاکستان نے 30 کھرب روپے قرض لیا جبکہ تحریک انصاف نے ’1 سال‘ کے دوران ’11 ارب روپے‘ لیا ہے۔ تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے قبل ہر پاکستانی ’ایک لاکھ 44 ہزار روپے‘ کا مقروض تھا لیکن اب ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ ’1 لاکھ 87 ہزار روپے‘ ہو چکا ہے۔

لمحہ فکریہ ہے کہ قیام پاکستان سے 71 سال کے سفر میں قومی قرض میں ’73 فیصد‘ جبکہ ایک سال میں ’27فیصد‘ اضافہ ہوا ہے۔ تحریک انصاف کے مالیاتی مشیر اُور حساب دانوں کا دعویٰ ہے کہ اُنہوں نے قومی قرض کے حجم میں اضافہ نہیں کیا بلکہ تحریک انصاف نے ماضی میں لئے گئے قرض واپس کئے ہیں اُور قومی مالیاتی ذمہ داریوں کے بوجھ کو کم کیا ہے لیکن برسرزمین حقائق مختلف ہیں۔ اگر تحریک انصاف نے قرض نہ لیا ہوتا اُور قومی قرضوں کی واپسی کی ہوتی تو پھر پاکستان کی واجب الاداءمالی ذمہ داریوں میں ایک سال کے دوران ”11 کھرب روپے“ کا اضافہ نہ ہوا ہوتا۔ آخر یہ کیسے ہو گیا کہ تحریک انصاف نے قرض نہیں لیا اُور واجب الاداءقرضوں کی واپسی بھی کی لیکن پھر بھی پاکستان پر قرض بڑھ گیا ہے؟

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن تحریک انصاف نے ایک سال کے دوران ’گیارہ کھرب روپے‘ قرض لیا ہے۔ اِس قرض میں روپے کی قدر میں کمی سے ہونے والا اضافہ بھی شامل ہے لیکن یہ اضافہ ماضی میں لئے گئے قرضہ جات میں بھی شمار کیا گیا ہے کیونکہ روپے کی قدر میں کمی بیشی تب بھی ہوا کرتی تھی۔ اِس لئے کسی بھی دور حکومت کے دوران لئے گئے مجموعی قومی قرض کا موازنہ دوسرے حکومتی دور میں لئے گئے مجموعی قومی قرضوں ہی سے کیا جائے گا۔
سال 1971ءمیں ہر پاکستان فرد (مرد‘ عورت یا بچے) کے ذمے 500 روپے قومی قرض تھا اُور 48 برس میں ہر پاکستانی فرد ”1 لاکھ 87 ہزار روپے“ کا مقروض ہو چکا ہے۔

قرض وقتی طور پر راحت کا باعث ضرور ہوتے ہیں لیکن جب ایک خاص حد سے زیادہ قومی قرضوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اِس کی وجہ سے ’ملکی شرح سود‘ میں اضافہ کرنا پڑتا ہے اُور معیشت قرضوں کی عادی ہونے لگتی ہے کیونکہ مصنوعی طریقے سے معیشت کو چلانے میں اِس کی ناکامی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ جہاں خسارے (قومی معاشی ناکامی) کے امکانات زیادہ ہوں‘ وہاں یا تو سرمایہ کاری نہیں ہوتی یا سرمایہ کار احتیاط سے کام لیتے ہوئے زیادہ مراعات اُور منافع کا تقاضہ کرتے ہیں اُور اِن دونوں روئیوں (حکمت عملیوں) کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومی اقتصادی ترقی یا تو بالکل رُک جاتی ہے یا پھر اِس کی شرح نمو میں اضافہ نہیں ہوتا۔

حد سے زیادہ قومی قرضہ جات میں اضافے کی مثال ایک ایسی گاڑی میں سفر سے دی جا سکتی ہے جو اپنی جگہ پر کھڑی ہو لیکن اُس کے اندر بیٹھے ہوئے افراد سمجھ رہے ہوں کہ سفر جاری ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Thursday, July 12, 2018

July 2018: Reham Khan by Rehman Khan : BOOK REVIEW!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
کتاب: ریحام خان!
پاکستان تحریک اِنصاف کے سربراہ عمران خان کی دوسری شادی ’برطانوی شہریت‘ رکھنے والی خاتون ’ریحام خان‘ سے اُس ملاقات کا نتیجہ تھی‘ جو ایک پارٹی کے سربراہ اور صحافی کے درمیان (پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے لئے‘ طے شدہ مقام اور مقررہ وقت پر) ہوئی لیکن رسمی سوال و جواب کی نشست برخاست ہونے کے بعد دونوں نے ’غیررسمی طور پر‘ ایک دوسرے کے بارے میں سوچنا شروع کیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ انہیں تو ایک دوسرے کا ’شریک حیات‘ ہونا چاہئے۔ ریحام 2012ء میں پاکستان آئیں اور عمران خان سے اُن کی ملاقاتوں کا سلسلہ (نتیجہ) 2015ء میں شادی کی صورت سامنے آیا لیکن یہ شادی 2015ء ہی میں انجام (طلاق) کو پہنچی‘ جو شادی ہی کی طرح غیرمتوقع بات تھی۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان کی جانب سے ریحام کو ’8 کروڑ روپے‘ ادا کئے گئے۔ یہ رقم اقساط میں ادا کی گئی اور عمران خان کے قریبی دوست ذوالفقار العمروف زلفی بخاری جو کہ برطانیہ میں کاروبار رکھتے ہیں اُنہوں نے ادائیگیاں کیں‘ البتہ ریحام نے ایسی کسی بھی ’لین دین (ادائیگی یا وصولی)‘ سے انکار کیا اور پہلی مرتبہ ’8 نومبر 2015ء‘ کے روز باضابطہ طور پر اعتراف کیا کہ اُن کے اور عمران خان کے درمیان طلاق واقع ہو چکی ہے۔‘ عمران خان کی جانب سے یہ اعلان اِس سے پہلے ہی کردیا گیا تھا۔

ریحام خان کی طلاق کے محرکات کیا تھے؟ باشعور اور تعلیم یافتہ جوڑے کی پسند سے ہونے والی ایک ایسی شادی جس کا جشن پورے پاکستان اور دنیا بھر میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے منایا‘ وہ چند ماہ میں کیسے ختم ہوئی؟ عمران خان کی نجی معمولات کیا ہیں؟ یہ سب اور بہت کچھ مزید جاننے کا تجسس رکھنے والوں میں ایک بڑی تعداد تحریک انصاف کے کارکنوں کی بھی ہے‘ جنہیں عمران خان کی سماجی و سیاسی خدمات اور عزائم کا تو علم ہے‘ وہ یقین بھی رکھتے ہیں لیکن عمران خان کے ’پراسرار معمولات زندگی‘ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی اکثریت کو عمران خان کی نجی زندگی اور ریحام خان کی کتاب سے قطعی کوئی دلچسپی نہیں بلکہ وہ اِس کتاب کو ’دل آزاری اُور سیاست میں الزام تراشیوں کے نئے باب کا اضافہ‘ قرار دیتے ہیں۔

پاکستان کے سبھی سیاست دان اپنی نجی زندگی کو سیاسی زندگی سے الگ کئے ہوئے ہیں اور اُن کے بارے میں عام آدمی (ہم عوام) کی معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سیاست دانوں کو اُن کی سیاسی زندگی‘ بیانات اور مخالف سیاسی جماعتوں پر تنقید کرنے کے حوالے سے دیکھا اور سمجھا (پرکھا) جاتا ہے لیکن بطور انسان اُن کی شخصیت کے کتنے ظاہری اور کتنے پوشیدہ پہلو ایسے بھی ہوں گے‘ کہ جنہیں سامنے رکھتے ہوئے اُن کی مستقل مزاجی اور بصیرت و کردار کو سمجھا جا سکے۔ 

مغربی معاشروں میں اگر جمہوریت مضبوط دکھائی دیتی ہے تو اُس کی بنیاد ’سچ‘ پر ہے جبکہ ہمارے ہاں کی جمہوریت میں سیاسی رہنما بالخصوص سیاسی جماعتوں کے قائدین ’سچ‘ صرف اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں بولنا اُور سننا پسند کرتے ہیں۔ اِس تناظر (پس منظر) کو ذہن میں رکھتے ہوئے ’محترمہ ریحام خان‘ کی تحریر کردہ ’آپ بیتی (کتاب)‘ خاص اہمیت کی حامل ہے‘ جس میں لکھی ہوئی اگر ہر بات سچ نہیں ہو سکتی تو ہر بات کا انکار بھی ممکن نہیں۔ یہ الگ بحث ہے کہ ریحام خان کو یہ سب باتیں کتابی صورت میں مرتب کرنی چاہیئں تھیں یا نہیں۔ بیوی کی حیثیت یا اُس سے قبل ایک دوست کی حیثیت سے اُن کا جتنا بھی وقت عمران خان کی قربت میں گزرا‘ کیا اُس کے بارے میں لکھتے ہوئے پاکستانی معاشرے میں پردے اور اخلاقیات کے پیمانے‘ شرعی رشتے کی باریکیوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے تھا بالخصوص جہاں کہیں عمران خان کے علاؤہ دیگر افراد کے نام آئیں۔ مثال کے طور پر کتاب میں پلاسٹک کی 2 تھیلیوں کی ایک تصویر شائع کی گئی ہے‘ جن میں بھرے سفید رنگ کے پوڈر (powder) کو دیکھا جاسکتا ہے اور اِس کے نیچے تفصیل (کیپشن) میں لکھا ہے کہ یہ ’کوکین (نشہ آور مادہ)‘ عمران خان کی جیب میں موجود پائی گئی تھی لیکن یہ بات کس طرح ثابت کی جائے گی کہ یہ دونوں تھیلیاں عمران خان کے زیراستعمال تھیں؟ کیا ریحام خان کی بنی گالہ میں موجودگی بطور جاسوس تھی جو وہ عمران خان کی جیبوں کی تلاشی لینے اور اُن میں موجود اشیاء کے تصویری شواہد (ثبوت) جمع کرتی رہیں؟ کیا مزید ایسی تصاویر کا ذخیرہ بھی اُن کے پاس ہے جن کے مطالعے (مشاہدے) سے عمران خان کی نہایت ہی خلوت میں بسر ہونے والی زندگی کے بارے حقائق معلوم ہوسکیں؟ کیا ریحام خان اپنی ’آپ بیتی‘ کی دوسری اشاعت (نئے ایڈیشن) میں مزید تصاویر اور تفصیلات کو وضاحت سے بیان کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں؟

عمران خان کی نجی زندگی سے متعلق ریحام خان کی کتاب 365 صفحات پر مشتمل ہے‘ جو 30 ابواب پر مشتمل ہے۔ صفحہ 311 سے 365 تک کا حصہ تصاویر پر مشتمل ہے جو تحریری ابواب میں اضافہ ہے۔ یہ کتاب الیکٹرانک طور پر ایمازون (Amazon) نامی ادارے کے ذریعے فروخت کے لئے پیش کی گئی ہے جس کی قیمت قریب 10 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی بارہ یا تیرہ سو روپے بنتی ہے۔ برطانیہ میں اِسے کتابی شکل (Hard Copy) میں بھی جاری کیا گیا ہے لیکن اِس کتاب نے پاکستانی سیاست میں جس قدر ہنگامہ برپا کرنا تھا‘ وہ نہیں کر سکی یعنی کتاب کی اشاعت سے جو مقصد حاصل ہونا تھا وہ نہیں ہوسکا کیونکہ 12جولائی کو ’آن لائن (منظرعام)‘ پر آنے والی اِس کتاب پر ’نواز شریف اور مریم نواز‘ کی وطن واپسی اور گرفتاری جیسے موضوعات حاوی ہیں۔ 

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریحام خان (مصنفہ) کی ’’ریحام خان‘‘ نامی کتاب تحریر کرنے اور اِسے عام انتخابات سے قبل شائع کرنے میں مسلم لیگ (نواز) کی دلچسپی و سرپرستی ’شامل حال‘ رہی ہے‘ جو اِن الزامات حتی کہ اپنی طلاق (عمران خان سے علیحدگی) کے عوض 8 کروڑ روپے کی وصولی سے بھی انکار کر چکی ہیں۔ 

کتاب کی سب سے خاص بات عمران خان کے بارے میں ریحام خان کے تجزیئے ہیں بلکہ پے در پے اور غیرمحتاط تجزئیات پریشان کن حد تک یک طرفہ ہیں۔ مثال کے طور پر ’’عمران خان ایک ایسا شخص ہے جس سے ہر کوئی (اپنے مقاصد کے لئے) استعمال کر چکا ہے۔ (صفحہ 294)‘‘ اِسی صفحے پر مزید لکھا ہے کہ ’’عمران خان وزیراعظم بننے کی حوص میں اندھا ہو چکا ہے۔‘‘ اور یہ کہنا کہ ’’عمران خان کی عادت ہے کہ وہ سنجیدہ نوعیت کی باتیں بھی اپنے ذاتی ٹیلی فون نمبر کے ذریعے کرتا ہے اور بار بار میرے سمجھانے کے باوجود بھی اپنی اِس عادت سے باز نہیں آتا۔‘‘ تو اِس کا جواب ’تحریک انصاف‘ کی جانب سے یہی آ سکتا ہے کہ عمران خان کوئی جاسوس نہیں اور نہ ہی اپنی نجی اور سیاسی زندگی میں کچھ بھی پوشیدہ رکھنے کی اُسے (دروغ گوئی کی) ضرورت ہے۔ یقینی بات ہے کہ عمران خان کا ماضی جو بھی تھا‘ اُس کا حال اُور مستقبل مختلف دکھائی دے رہے ہیں لیکن اِس پوری کہانی (کتاب و انتساب) کے بعد ریحام خان کہاں کھڑی ہے؟ ریحام خان نے عمران خان پر اُنگلیاں اٹھانے کی کوشش (شوق) میں اپنے آپ کو ہی مشکوک بنا دیا ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, May 20, 2018

TRANSLATION: The PML-N manifesto by Dr. Farrukh Saleem

The PML-N manifesto
نواز لیگ (اِنتخابی) منشور
پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے ’مئی دوہزار تیرہ‘ کے عام انتخابات کے لئے ’’7 مارچ 2013ء‘‘ کے روز اپنا انتخابی منشور جاری کیا تھا جس کے بنیادی اور اہم نکات پر نظر کرنے سے ’نواز لیگ‘ کی پانچ سالہ کارکردگی کو سمجھا جا سکتا ہے۔

پہلا انتخابی وعدہ: بجلی کے پیداواری اور ترسیلی نظام کو کم سے کم اِس حد تک بہتر بنایا جائے گا کہ اِن عوامل میں ضائع ہونے والی بجلی کی شرح 10 فیصد کی سطح پر لائی جائے۔ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) کی جانب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی کی 37.9فیصد‘ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کی 32.6 فیصد اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی سالانہ 30.6فیصد بجلی ضائع یا چوری ہو جاتی ہے! حقیقت یہ ہے کہ سال 2018ء کے آغاز پر بجلی کے پیداواری اور تقسیم کار نظام میں پائی جانے والی خرابیوں کی وجہ سے حکومت کا خسارہ 360 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا‘ جس میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسرا انتخابی وعدہ: ہم گردشی قرضے کا مسئلہ حل کریں گے اور اُن محرکات کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کیا جائے گا‘ جن کی وجہ سے گردشی قرضے کا بوجھ پیدا ہوتا ہے لیکن پانچ سال کی حکومت کے بعد حقیقت یہ رہی کہ بقول وفاقی سیکرٹری برائے پانی و بجلی (واپڈا) یوسف نسیم کھوکھر گردشی قرضے کا حجم ایک کھرب روپے تک جا پہنچا ہے۔

تیسرا انتخابی وعدہ: قومی اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کی جائے گی۔

چوتھا انتخابی وعدہ: اہلیت اور متعلقہ شعبوں کے تجربہ کار اور اچھی ساکھ رکھنے والوں کو قومی خودمختار اداروں کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ سال 2013ء میں پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن (پی آئی اے) کا کل خسارہ 192 ارب روپے سالانہ تھا جو گذشتہ پانچ سال میں بڑھ کر 360 ارب روپے سالانہ ہو چکا ہے۔ اِسی طرح قومی اداروں میں جو سربراہ تعینات کئے گئے اُن کی وجہ سے قومی خزانے کو ’پانچ سال‘ میں 3.7 کھرب روپے خسارہ ہوا۔

پانچواں انتخابی وعدہ: پولیس کو غیرسیاسی کیا جائے گا۔

چھٹا انتخابی وعدہ: تعلیم کے فروغ کے لئے قومی سطح پر ہنگامی حالات (نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی) کا نفاذ کیا جائے گا۔ برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں کیا گیا۔

ساتواں انتخابی وعدہ: انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیزرفتار بنانے کے لئے منصفوں (ججوں) کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا بھی نہیں کیا گیا۔

آٹھواں انتخابی وعدہ: عدالتی نظام انصاف کی اصلاح کرتے ہوئے ’پاکستان پینل کوڈ‘ پر نظرثانی کی جائے گی۔ حقیقت یہ رہی کہ پانچ سال میں یہ کام بھی نہ ہوسکا۔

نواں انتخابی وعدہ: عدالتی کاروائیوں سے متعلق کوائف (کورٹ ریکارڈ) کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا۔ حقیقت یہ رہی کہ پانچ سال میں ایسا نہ کیا جاسکا۔

دسواں انتخابی وعدہ: عدالتوں میں دعویداری اور بذریعہ عدالتی کاروائی کسی نتیجے پر پہنچنے کے عمل کو تیزرفتار بنایا جائے گا لیکن اِس سلسلے میں عملی کوششیں بالکل نہیں کی گئیں۔

گیارہواں انتخابی وعدہ: پاکستان میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کا احتساب کیا جائے گا۔ حقیقت یہ رہی کہ نواز لیگ حکومت کی پانچ سالہ مدت (دورانیئے) کے آخری 6 ماہ کے دوران سپرئم کورٹ (عدالت عظمی) اُور احتساب کے قومی ادارے ’نیشنل اکاونٹی بیلٹی بیورو (نیب)‘ نے یہی کام کرنے کی کوشش کی۔

بارہواں انتخابی وعدہ: قومی سطح پر احتساب کے ادارے کو زیادہ فعال بنانے کے لئے خودمختار اور حکومتی عمل دخل سے آزاد کیا جائے گا۔ حقیقت یہ رہی کہ نوازلیگ کے پانچ سالہ دور اقتدار کے آخری چھ ماہ میں ’نیب‘ اپنے طور پر خود کو آزاد اور خودمختار سمجھتے ہوئے قومی وسائل لوٹنے والوں کے احتساب کی کوشش کر رہا ہے۔

تیرہواں انتخابی وعدہ: محتسب کے کردار کو مضبوط کیا جائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا عملاً نہیں کیا گیا۔
چودہواں انتخابی وعدہ: توانائی اور قدرتی وسائل کی ایک نئی وزارت تخلیق (تشکیل) کی جائے گی۔ حقیقت یہ رہی کہ یہ کام نہ ہوسکا۔

پندرہواں انتخابی وعدہ: ملک کی مجموعی خام پیداوار (جی ڈی پی) اور محصولات (ٹیکسوں) سے حاصل ہونے والی آمدنی کا باہم تناسب پندرہ فیصد پر لایا جائے گا۔ ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافے سے متعلق یہ وعدہ بھی پورا نہیں کیا جاسکا اور حقیقت حال یہ ہے کہ ’فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک کی مجموعی آمدنی میں ٹیکس ادا کرنے والوں کی شرح 11.2فیصد (بارہ فیصد سے کم) ہے۔ اگرچہ نوازلیگ کے پانچ سالہ دور اقتدار میں وفاقی حکومت ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کرنے میں کسی حد تک کامیاب ضرور ہوئی ہے اور یہ اپنے مقرر کردہ ہدف (پندرہ فیصد) سے اب بھی 3.8 فیصد کم ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں یہ ایک وعدہ جزوی طور پر پورا کیا گیا ہے۔

سولہواں انتخابی وعدہ: ملک کے چاروں صوبوں میں جائیداد (اراضی کی ملکیت) کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کی جائے گی۔ حقیقت یہ رہی کہ یہ وعدہ بھی پورا نہیں کیا جاسکا۔ اصولی طور پر یہ کام ہر صوبائی حکومت کو کرنا چاہئے تھا اور یہ صوبائی ذمہ داری ہی قرار دی جاسکتی ہے۔

سترہواں انتخابی وعدہ: اہلیت (میرٹ) کی بنیاد پر نظام تشکیل دیا جائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں کیا جاسکا۔

اٹھارہواں انتخابی وعدہ: ایسے نئے قوانین متعارف کروائے جائیں گے جو 2002ء میں متعارف ہوئے بلدیاتی نظام کی جگہ لے سکے۔ (بلدیاتی نظام کو ملک گیر سطح پر مضبوط بنایا جائے گا)۔ یہ وعدہ پورا کیا گیا۔

اُنیسواں انتخابی وعدہ: حکومت میں آنے کے ’چھ ماہ‘ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔ اگرچہ بلدیاتی انتخابات فوری طور پر نہیں کروائے جا سکے لیکن اِس وعدے کی تکمیل بڑی حد تک کی گئی۔

بیسواں انتخابی وعدہ: کوئلے اور مائع گیس (ایل این جی) کی درآمد و ترسیل (ٹرانسپورٹیشن) کے لئے نظام وضع کیا جائے گا اور یہ وعدہ بھی پورا کیا گیا۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹرفرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Monday, December 18, 2017

Dec 2017: Verdict embedded with lessons

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
(سبق آموز) عدالتی فیصلے!
پانامہ کیس فیصلے (اَٹھائیس جولائی) کے بعد سے ’عدالت عظمیٰ (سپرئم کورٹ آف پاکستان)‘ کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کا سلسلہ ’’منظم تحریک‘‘ کی صورت جاری ہے جس کی قیادت و سرپرستی وفاقی حکمراں جماعت کے سربراہ نواز شریف کر رہے ہیں۔ سولہ دسمبر کی شام برطانیہ سے پاکستان کے لئے روانہ ہونے سے قبل اور سترہ دسمبر کی صبح پاکستان پہنچنے پر اُنہوں نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے عدالتی فیصلوں پر ایک مرتبہ پھر ’عدم اطمینان‘ کا اظہار کیا جو یقیناًبناء سوچے سمجھے نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستان میں انصاف کی فراہمی کے واحد ذریعے پر ’تنقیدی نشتر‘ چلانے اور شکوک و شبہات پیدا کرنے کی مہم (کوشش) کا درپردہ مقصد عام آدمی (ہم عوام) کی زندگیوں میں غربت‘ جہالت اور محرومیوں کے بعد مایوسی بھرنا ہو اور یہ باطل یقین دلانا مقصود ہو کہ ’’پاکستان میں انصاف نہیں مل رہا؟‘‘ برسرزمین حقائق اِس کے اُلٹ ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ جن سیاسی رہنماؤں نے اپنے بچوں اور اثاثہ جات بیرون ملک (متحدہ عرب امارات و برطانیہ سمیت پانچ براعظوں میں) پھیلا رکھا ہے‘ اُن کی جانب سے پاکستان میں انصاف کی مبینہ عدم دستیابی پر بے چینی کے اظہار کا مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ انہیں ایک مرتبہ پھر پاکستان کے وسائل کی لوٹ مار کرنے کی کھلی چھوٹ دی جائے۔

افسوس کا مقام ہے لیکن اچھا ہی ہوا کہ پاکستان میں ’انصاف اور عدالت کا دفاع‘ کرنے کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار بذات خود میدان میں اُترے۔ سولہ دسمبر کے روز‘ وکلاء کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جس گرمجوشی سے اپنا مؤقف اور عدالتی فیصلوں سے متعلق وضاحت پیش کی اُس کے بعد صرف اِس ایک بات کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ وہ عدالت پر معترضین کے ساتھ مناظرہ ’ٹیلی ویژن‘ پر براہ راست نشر کیا جائے۔ علاؤہ ازیں مستقبل میں بدعنوانیوں (کرپشن) سے متعلق تمام مقدمات کی سماعتیں ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کرنے سے بھی ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی اور انہیں اخلاقی شکست دی جاسکتی ہے جو عدالت میں ’’بھیگی بلی‘‘ اُور بعدازاں ’’شیر‘‘ بن کر دھاڑتے دکھائی دیتے ہیں!

چیف جسٹس کے بیان کا ہر ایک لفظ قابل غور اور لائق توجہ ہے جس کی روشنی میں مستقبل کے اُس پاکستان کا منظرنامہ زیادہ واضح دکھائی دینے لگا ہے جہاں بدعنوانی اور بدعنوان عناصر کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ چیف جسٹس نے جو کچھ کہا اُس کے بعد مزید کہنے یا اُس میں اِضافہ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ چیف جسٹس نے پاکستان کی اکثریت کے جذبات کی ترجمانی کی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا ۔۔۔ ’’ریاستی اَمور ایماندار اُور صادق لوگوں کی جانب سے نہیں چلائے جارہے‘ جس کی وجہ سے عوام پریشانی کا شکار ہیں اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہیں لہٰذا یہ انتہائی ضروری ہے کہ ریاست کے انفراسٹرکچر ایمانداری کے مقصد (اَصول مدنظر رکھتے ہوئے) سے بنایا جائے۔‘‘ اُنہوں نے ’پاکستان تحریک اِنصاف‘ کے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کیس سے متعلق ’اَسی صفحات‘ پر مشتمل فیصلے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ۔۔۔ ’’لوگوں یہ اندازہ کرنا چاہئے کہ اقتدار میں رہنے والے اور خاص طور پر عوام کے نمائندے منتخب ہونے والے ایماندار ہونے چاہئیں کیونکہ ایمانداری کسی بھی شخصیت کی فضیلت میں ایک (اہم جز) ہے۔‘‘

چیف جسٹس ’انفرادی فضیلت‘ ایمانداری کے پیمانے اُور اہلیت کی جس ’کسوٹی‘ کا ذکر کر رہے تھے اُس کا تعلق ریاستی آئین اُور اِدارہ جاتی قواعد و ضوابط ہی سے نہیں بلکہ خوداحتسابی سے ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کسی ایک بھی سیاسی جماعت کا سربراہ اُور نائبیئن ’امانت و صداقت‘ کے اُس (کم سے کم) معیار پر پورا نہیں اُترتے جو مصلح اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قول اور عمل سے مقرر فرمایا اُور اَب قیامت تک اُس میں ردوبدل ممکن نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کا بیک وقت ’’اسلامی‘‘ اُور ’’جمہوری‘‘ ملک ہونا اپنی ذات میں گمراہ کن تصور ہے۔ اسلام اور جمہوریت ایک نہیں بلکہ دو الگ الگ تصورات (نظریئے) ہیں اور اِن کو اکٹھا کر کے ایک نیا نظام تشکیل دینا تو ممکن ہے لیکن اِن دونوں سے بیک وقت استفادہ اور فلاح کا حصول بذات خود سراب ہے! عدالت عظمیٰ نے عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس کے فیصلے میں جس غیرجانبداری کا مظاہرہ کیا‘ اور جو ضمنی تصورات کھول کر بیان کئے‘ اُس سے عدالت کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہی نہیں بلکہ اِس میں ایک نئی جان پڑ گئی ہے۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ’’ریاست کی پالیسیوں کو دیکھنے کے لئے سپرئم کورٹ سب سے بڑا ادارہ ہے جس کے علاؤہ ریاست کا دوسرا نگران و بااختیار ادارہ بھی اسی سے ماخوذ ہوسکتا ہے‘ اگرچہ (عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل) پارلیمان‘ قانون سازی کے عمل اُور انتظامیہ کے ایگزیٹو اقدامات کی توثیق کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتا ہے تاہم ان اقدار کو آئین کی حدود میں رہ کر قانون کے مختلف اَصولوں اورعدالتوں کی تشریح کے مطابق استعمال کیا جانا چاہئے۔‘‘ حالانکہ اِس کی قطعی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن جذباتی حدوں کو چھوتے فیصلے میں اِس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ ’’عدالتی حکم نامے کو ایسے لوگوں کے ہاتھ کا آلہ نہیں بننے دیں گے جو عدالتوں میں بدنیتی کے ساتھ آتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو سر پر تلوار رکھ کر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘ یہ لوگ آئین کے ’’آرٹیکل دو اے‘‘ کے تحت عوام کے منتخب کردہ نمائندے ہیں۔ ریاست کو اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے اپنی طاقت اور اختیارات کا استعمال کرنا چاہئے۔ اس کے علاؤہ ارکان پارلیمان کو بدنام کرنے‘ دھمکی دینے اور غیر معمولی ہراساں کرنے کی دوبارہ اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘ 

تحریک انصاف کے رہنماؤں (عمران خان اور جہانگیر ترین) کے خلاف فیصلے میں بہت کچھ ایسا بھی تحریر ہے جن کا تعلق اِس مقدمے سے ضمنی طور پر تو ہے لیکن فیصلے کے ذریعے دیگر سیاسی جماعتوں کو ’عدالت کے مزاج‘ اُور ’توقعات‘ سے آگاہ (متنبہ) کر دیا گیا ہے‘ اب دیکھنا یہ ہے کہ اشارے کنائیوں کی زبان کس کس کی سمجھ میں آتی ہے اور وہ کون کون ہے جو دوسروں کی غلطیوں یا دوسروں سے متعلق سبق آموز عدالتی فیصلوں سے عبرت حاصل کرتا ہے۔
۔

Sunday, November 5, 2017

TRANSLATION: Potpourri by Dr. Farrukh Saleem

Potpourri
کشکول
پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے تین وزرائے اعظم اِس وقت میدان میں ہیں۔ سب سے پہلے نوازشریف ہیں جنہیں اب بھی وزیراعظم سمجھا اور پکارا جاتا ہے۔ دوسرے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہیں جنہیں بالحاظ عہدہ وزیراعظم پاکستان منتخب کیا جاچکا ہے اور وزارت عظمی کے لئے تیسرے متمنی اُمیدوار شہباز شریف ہیں جن کے نام اور حوالے کے ساتھ وزیراعظم کا لقب لگایا جاتا ہے اور نواز لیگ میں ایک خاص طبقہ ایسا ہے جو اُنہیں پارٹی کی مرکزی قیادت اور وزارت عظمیٰ پر فائزدیکھنے کا خواہشمند ہے۔ اِس پورے معاملے سے ایک دلچسپ صورتحال نے جنم لیا ہے۔ سردست بلحاظ عہدہ شاہدخاقان عباسی اور متمنی وزیراعظم شہباز شریف نے مل بیٹھ کر ایک حکمت عملی بنائی ہے جسے ’’لاہور پلان‘‘ کہا جاتا ہے اور اِس حکمت عملی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ قومی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی بجائے مفاہمت کی راہ اختیار کی جائے تاکہ نہ صرف نوازلیگ کا شیرازہ بکھرنے سے بچایا جائے بلکہ پارٹی کو ملنے والی موجودہ اور آئندہ عام انتخابات میں پہلے سے بہتر پارٹی کارکردگی کو ممکن بنایا جا سکے۔ نواز لیگ میں سیاسی مفاہمت کا تصور رکھنے والے گروپ کے مقابلے سابق وزیراعظم نوازشریف اُور اُن کی صاحبزادی نے بھی ایک حکمت عملی بنائی ہے جسے ’’لندن پلان‘‘ کہا جاتا ہے جو ’’لاہور پلان‘‘ کے بالکل متضاد چاہتاہے کہ اداروں کے ساتھ اُس حد تک محاذ آرائی کی جائے جس حد تک اُنہیں اکسایا جائے اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں ’’لندن پلان‘‘ ٹکراؤ کی راہ پر آگے بڑھتا اور نوازلیگ کا موجودہ لائحہ عمل دکھائی دیتا ہے۔

قانون ساز قومی اسمبلی میں حکمراں جماعت ’نوازلیگ‘ سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی کی تعداد 188 ہے جن میں 8 ’لندن پلان‘ کی حمایت کر رہے ہیں اور باقی ماندہ 180 ’لاہور پلان‘ یعنی مفاہمت کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔

مفاہمت کی سیاست دانشمندی ہے جس میں طرزحکمرانی کارکردگی اور اداروں کی بہتری‘ فعالیت اور اُن کی مضبوطی پر استوار ہوگی جبکہ ٹکراؤ کی سیاست کا نظریہ شخصیت کے گرد گھومتی سوچ کا نام ہے۔ مفاہمت مثبت اور ٹکراؤ کو منفی سیاست بھی کہا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے موجودہ بلحاظ عہدہ وزیراعظم برطانیہ کے دورے پر ایک عام شخص کی طرح جاتے ہیں۔ اُن کے ساتھ پروٹوکول نہیں ہوتا۔ وہ کسی عام مسافر کی طرح طیارے میں سفر کرتے ہوئے لندن پہنچتے ہیں جہاں سرکاری گاڑیاں اُن کی منتظر نہیں ہوتیں اور وہ ٹیکسی کے ذریعے ائرپورٹ سے قیام گاہ (ہوٹل) جاتے ہیں۔ وہ اپنے قیام و طعام کے اخراجات اپنے کریڈٹ کارڈ سے اداکرتے ہیں۔ یہ سبھی باتیں مثبت سیاست کی نشانی ہیں جن میں پاکستان کے وسائل کا استعمال نہ کرکے ایک عمدہ و اچھی مثال قائم کی گئی ہے۔

نواز شریف ہمیں ’جارحانہ موڈ‘ میں دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنی پسند و ناپسند سے کام لیتے ہیں جس سے نظام تہہ و بالا ہونے کا اُنہیں کوئی اندیشہ اور تفکر نہیں۔ نواز شریف سہولیات (اقتدار) کے متمنی ہیں اور وہ بھی صرف اور صرف اپنی ذات کے لئے۔ اسی طرح ہمیں نوازلیگ کی اولین ترجیح یہی دکھائی دیتی ہے کہ وہ ’نوازلیگ‘ کو اکٹھا رکھ سکیں اور اُن کی جانب سے پارٹی کے منتخب اراکین کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ نواز لیگ پر چھائے ہوئے سیاہ بادل چھٹ رہے ہیں لیکن جب ہم احتساب عدالتوں میں مقدمات کی نوعیت اور اِن پر سماعت کے حوالے سے پیشرفت دیکھتے ہیں تو صورتحال اُلٹ دکھائی دیتی ہے کہ بجائے بادل چھٹنے کے ہمیں سیاہ بادلوں میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یقیناًآنے والے دنوں میں نواز لیگ کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
شاہد خاقان عباسی اور اُن کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے اِس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ پاکستان کو ایک مثالی طرزحکمرانی دینا چاہتے ہیں یا پھر اُن کے اقتدار کا مقصد صرف اور صرف نواز شریف اور اُن کے اہل خانہ کا دفاع ہے۔ سردست ریاست بنام نواز شریف مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں اور ریاست نوازشریف کی جانب واضح جھکاؤ رکھتی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کو ثابت اور فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ ہیں یا نوازشریف کے ساتھ جبکہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔

پاکستان کی سیاست اُس مقام پر آکھڑی ہوئی ہے جہاں شخصی مفادات قومی مفادات پر حاوی دکھائی دیتے ہیں۔ ریاست خود ریاستی اداروں سے ٹکراؤ جیسی کیفیت سے دوچار ہے۔ ہمیں تین قسم کے مفادات آپس میں متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ نوازشریف اور اُن کے اہل خانہ کے مفادات‘ نوازلیگ کے بطور ایک سیاسی جماعت مفادات اور تیسرا قومی مفادات۔ اِسی طرح ہمیں نواز شریف کے سامنے چار آپشنز دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کے آئین میں ایسی ترامیم لائی جائیں جن سے اُن کے خلاف ہونے والی عدالتی کاروائیوں کو روکا جا سکے۔ اپنے خلاف کام کرنے والے ادارے اور شخصیات کے اختیارات بذریعہ قانون سازی کم کئے جائیں تاکہ وہ انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں۔ ماڈل ٹاؤن کیس اور حدیبیہ کیس سر پر لٹکنے والی تلواریں ہیں جن کے ممکنہ خطرات سے خود کو بچایا جائے اور جب وہ یہ سب کرتے ہیں تو ہمارے سامنے بطور وزیراعظم ایک نئے کردار یعنی شہباز شریف کا نام آتا ہے۔

بغور دیکھا جائے تو پاکستان کی جمہوریت ’اشرافیہ (elite)‘ کے گرد حکومتی ہے جس میں ملک کے کم و بیش 21 کروڑ پاکستانیوں کے لئے کچھ نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ہمیں حکومت کی بجائے اصلاح اور اقتصادی بہتری کے اعشاریئے ملتے جن سے 21کروڑ پاکستانیوں کی زندگی میں بہتری لانے کی کوششیں کی جاتیں۔ سردست موروثی (exlusionary) سیاست قابل عمل سمجھی جا رہی ہے جبکہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ شخصیات کے گرد گھومتی ہوئی ’موروثی سیاست‘ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دیا جائے اور اُس طرزحکمرانی کو دفن کر دیا جائے جس میں پاکستان کے قومی مفادات اور اِس کے 21کروڑ عوام کے لئے کوئی نوید نہیں۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین امام)

Thursday, October 26, 2017

Oct 2017: ByElection & wonders of NA 04, Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ضمنی انتخاب: این اے فور!
عام انتخابی عمل میں ’دھاندلی‘ کا ’جامع تصور‘ تین مراحل میں تکمیل پاتا ہے۔ 1: قبل از انتخابی قواعد کی خلاف ورزیاں بشمول حکمراں جماعت کی جانب سے ترقیاتی کام اُور اہم عہدوں پر منظورنظر افراد کی تعیناتیاں‘ 2: رائے دہی (پولنگ) کے مرحلے میں طاقت‘ دھونس اور سرمائے کا (کھلم کھلا) استعمال اور 3: انتخابی اُمیدواروں کی اکثریت بعداَز اِنتخابات (پوسٹ الیکشن) نتائج پر اثرانداز ہونے کی حتی الوسع کوشش کرتی ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ ’این اے فور‘ پر ’ضمنی انتخاب‘ کی روداد بھی زیادہ مختلف نہیں‘ جہاں بڑی سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کے لئے سرتوڑ اور جوڑتوڑ کوششوں کا منطقی انجام آج (چھبیس اکتوبر) دن ڈھلنے واضح ہو جائے گا لیکن صوبائی دارالحکومت پشاور کے بیشتر دیہی علاقوں پر مشتمل اِس ضمنی انتخاب کی وساطت سے مستقبل کا ’انتخابی منظرنامہ‘ بڑی حد تک معلوم ہو چکا ہے کیونکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان بننے اور بگڑنے والے ’انتخابی اتحاد (قربتیں اُور فاصلے)‘ ہی خیبرپختونخوا کے دیگر حصوں بالخصوص پشاور کی سطح پر ’مستقبل قریب‘ میں ہونے جا رہے انتخابی مراحل پر اثرانداز ہوں گے۔

عام انتخابی مرحلے میں کسی ایک اُمیدوار کی ’جیت‘ کا یہ مطلب قطعی نہیں ہوتا کہ مدمقابل دیگر اُمیدواروں کو شکست ہوئی ہے بلکہ انتخابات کے ذریعے جمہوریت پر یقین اور اعتماد کا عملی اظہار اِس عمل کی اساس و اثاثہ ہے۔ افسوس کہ سیاسی جماعتیں عمومی طور پر انتخابی اتحاد کی صورت اپنے حامیوں کے جذبات کا احساس نہیں کرتیں۔ جمہوریت کی روح اور انتخاب کا مقصد اُسی وقت فوت ہو جاتا ہے جب مختلف النظریات سیاسی جماعتیں انتخابی اتحاد کرتی ہیں۔ پشاور کی سطح پر اِس قسم کے اتحاد پہلی مرتبہ ’این اے فور‘ پر دیکھنے میں نہیں آئے بلکہ اگست دوہزار تیرہ کے آخری ہفتے جب ’این اے ون‘ کے ضمنی انتخاب پر تحریک انصاف کے مقابلے عوامی نیشنل پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی تب تحریک انصاف کے مقابلے چھ سیاسی جماعتوں نے اتحاد کیا تھا جبکہ مئی دوہزار تیرہ میں تحریک انصاف کے مخالفین کا ’ووٹ بینک‘ منتشر تھا۔ اُس وقت رہی سہی کسر ’تحریک انصاف‘ کے داخلی اختلافات نے پوری کر دی اور یوں بھاری اکثریت سے جیتی ہوئی نشست چند ہزار ووٹوں کے فرق سے ’پی ٹی آئی مخالف اتحاد‘ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جس سے باردیگر ثابت ہوا کہ عام انتخابات صرف اور صرف حساب و کتاب (شمار) پر منحصر ہوتے ہیں جو اُمیدوار اپنے اور مخالفین کے ’ووٹ بینک‘ کا درست اندازہ لگائیں وہی دلی مراد پاتے ہیں۔ 

سیاسی جماعتیں جس پھرتی‘ اتحادواتفاق اور ووٹروں سے رابطوں کا اہتمام عام انتخابات کے موقع پر کرتی ہیں لیکن اگر یہی سلسلہ بعدازانتخابات بھی جاری رہے تو جمہوریت کے ثمرات و اثرات زیادہ اُبھر کر سامنے آئیں۔ عمومی طور پر ملک کے ہر انتخابی حلقے میں ووٹروں کی اکثریت اِس احساس محرومی کا شکار ہے کہ اُن سے ووٹ لینے والے بعدازاں انتخابی حلقوں کا رُخ نہیں کرتے۔ قانون ساز ایوانوں کی رکنیت رکھنے والوں کے پاس ’ترقیاتی فنڈز‘ ہونے کی وجہ سے انتخابی حلقوں کو اُن کی ضرورت رہتی ہے لیکن عام آدمی (ہم عوام) کو اِس ’’خوش فہمی کے مرض‘‘ کا علاج کرنا چاہئے کہ (تین سطحی) انتخابی عمل میں کروڑوں روپے اور اپنے بیش قیمت وقت کی سرمایہ کاری کرنے والے ’’خدا واسطے سیاست‘‘ کر رہے ہیں۔ ’این فور‘ پر ہوئے ’’انتخابی اتحاد اور رائے دہندگان کو قائل کرنے کی مہمات‘‘ سے اہل پشاور نے کیا سیکھا؟ کیا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے مقرر کئے جانے والے زیادہ سے زیادہ اخراجات سے متعلق قواعد ایک مرتبہ پھر پائمال ہوئے؟ اُور اِس پورے عمل سے کیا (مردم شماری کے تین بلاکس) ’’اُڑمر (چارج ٹو)‘ بڈھ بیر (چارج فور) اور ہزارخوانی (چارج چودہ)‘‘ کے دیہی علاقوں کی قسمت بدلنے والی ہے؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ’ایم این اے‘ گلزار خان کی وفات سے خالی ہونے والی ’’اِین اَے فور‘‘ کی نشست کے لئے ’’3 لاکھ 97 ہزار 904 ووٹرز‘‘ ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے اہل ہیں‘ جنہیں ’’15اُمیدواروں‘‘ میں سے کسی موزوں شخص کا انتخاب کرنا ہوگا۔ بطور اُمیدوار حصہ لینے والوں میں امان اللہ خان آفریدی (آزاد)‘ ارباب عامر ایوب (تحریک انصاف)‘ اسد گلزار خان (پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین)‘ الحاج لیاقت علی خان (آزاد)‘ خوشدل خان (اے این پی)‘ ڈاکٹر مبشر خان (آزاد)‘ سمیع اللہ (آزاد)‘ شوکت خان مہمند (آزاد)‘ ضیاء الرحمن (آزاد)‘ علامہ ڈاکٹر محمد شفیق ایمنی (تحریک لبیک (یارسول اللہ) پاکستان)‘ فرحان قدیر (آزاد)‘ محمد تنویر (آزاد)‘ مولانا وحید عالم (آزاد)‘ ناصر خان موسیٰ زئی (پاکستان مسلم لیگ نواز) اور واصل فاروق جان ایڈوکیٹ (جماعت اسلامی) شامل ہیں۔ اِس حلقے میں ’’ایک لاکھ باسٹھ ہزار سات سو چالیس‘‘ خواتین ووٹرز کی تعداد تعجب خیز ہے کہ کس طرح خواتین ووٹرز کی تعداد مرد ووٹرز کے تناسب ’’72 ہزار 424‘‘ کم ہو سکتی ہے جس کا مطلب ہے کہ دیگر دیہی علاقوں کی طرح یہاں بھی خواتین کے ووٹ حسب تعداد اندراج (رجسٹرڈ) نہیں ہوئے اور نہ ہی پولنگ میں اُن کی پچاس فیصد تعداد ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کر پائے گی۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخاب میں ’این اے فور‘ پر ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب 40.34 فیصد رہا جبکہ 12مدمقابل اُمیدواروں کے مقابلے کامیاب قرار پانے والے ’تحریک انصاف‘ کے نامزد گلزار خان نے 55ہزار 134 ووٹ حاصل کئے تھے۔

پشاور کا مضافاتی ’این فور‘ کا انتخابی حلقہ ’امن و امان‘ کے لحاظ سے آج بھی غیریقینی کی صورتحال سے دوچار رہا ہے جہاں ملحقہ قبائلی پٹی سے در آنے والے عسکریت پسندوں اور منظم جرائم پیشہ عناصر کا تین مقامی قبائل مقابلہ کر رہے ہیں لیکن اِس ضمنی انتخاب نے ماضی کے اِس اہم اتحاد کو نقصان پہنچایا ہے اور آج یہ تینوں مقامی قبائلی گروہ (حاجی عبدالمالک‘ دلاور خان اور حاجی عباس گروپ) الگ الگ اُمیدواروں کی حمایت کر رہے ہیں۔ اگرچہ ماضی میں بھی ایک مرتبہ ملک اور خان گروپ ایک دوسرے کے مدمقابل سیاسی مخالف اُمیدواروں کے حامی تھے لیکن اِس مرتبہ اختلافات اس حد تک زیادہ ہیں کہ مسلح تصادم کے امکانات بھی ہیں! یہی وجہ ہے کہ فوج طلب کر لی گئی ہے جو انتخابی مراکز کی حفاظت کرے گی۔ سیاسی جماعتیں کس طرح مسلح گروہوں کی سرپرستی کرتی ہیں اور کس طرح عسکریت پسندوں کے خلاف مسلح گروہوں کی سرپرستی کی گئی‘ اِس کی کہانی اور اثرات (انجام) ’این اے فور‘ میں بخوبی ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ 

انتخابی فتح کبھی بھی ’حرف آخر‘ نہیں ہوتی لیکن اِسے نسلی‘ لسانی اور عزت و آبرو کا مسئلہ بنا کر پیش کرنے سے پیدا ہونے والی بدمزگی عمومی سماجی تعلقات پر منفی اثرانداز ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کی مخالفت میں حد سے گزرنے والوں کو پشاور اور خیبرپختونخوا کے مفادات کا بھی خیال (پاس) کرنا چاہئے۔ اُمید اور دُعا ہے کہ ضمنی انتخاب کا یہ مرحلہ حسب توقع‘ خوش اسلوبی سے مکمل ہوگا‘ جس میں حصہ لینے والے سبھی اُمیدوار اگر جمہوری روئیوں اور تقاضوں کو سمجھتے ہوئے برداشت سے کام لیں گے تو اپنی اپنی حیثیت میں صرف ’کامیاب‘ نہیں بلکہ ’کامران‘ بھی قرار پائیں گے۔

Sunday, October 22, 2017

Oct 2017: Open letter, how can Pakistan describe its justice system!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کھلا خط!

تاریخ خاموش ہے کہ آج تک کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ۔۔۔ ’احتساب‘ کی خصوصی عدالت کا بطور ملزم سامنا کرنے والے سرکاری گاڑیوں اور محافظوں کے حصار میں ’تشریف‘ لائیں۔ 

عدالت عظمیٰ سے تاحیات نااہل قرار پانے والے سابق وزیراعظم اور اُن کے اہل خانہ (اٹھائیس جولائی دوہزار سترہ سے) جس ایک حقیقت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں وہ پاکستان میں انصاف کی بنیاد ہے اور اگر اِس ڈھانچے (نظام) پر بھی عوام کا اعتماد اُٹھ گیا تو باقی جو کچھ بھی رہے گا‘ اُس سے ملک و معاشرے کی اجتماعی بہبود نہیں ہوگی۔ موروثی سیاست ’مضبوط‘ سے ’مضبوط تر‘ ہوتی چلی جائے گی۔ تصور کیجئے کہ جب نوازشریف کی صاحبزادی کو ’وی وی آئی پی‘ پروٹوکول کے ساتھ ’احتساب عدالتوں‘ کی چند ایک سماعتوں کا سامنا کرنا پڑا تو اُن کے چہرے پر ناگواری اور بیزاری کا احساس الفاظ میں اُمڈ آیا اور بے اختیار چلا اُٹھیں کہ ’’روز روز کی پیشی سے تو بہتر ہے کہ سزا ہی سنا دی جائے۔‘‘ دست بستہ عرض ہے کہ بی بی یہ تو ’’ابتدائے عشق‘‘ ہے۔ اس ملک میں کسی غریب کی بیٹی کو عدالتوں کے دھکے کھانے پڑجائیں‘ تو وہ روز روز نہیں بلکہ سال ہا سال پیشیاں بھگتنے پر مجبور ہوتی ہے اور پھر دعا کرتی ہے کہ اے رب‘ اس ذلت آمیز نظام کے ذریعے انصاف ملنے سے تو کئی درجے بہتر ہے کہ عزت سے موت ہی آجائے‘ بلکہ ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں کہ عدالتوں کے چکر لگانے والے مرد و خواتین نے ’اُس خاص ماحول‘ کی وجہ سے خودکشیاں کیں‘ جس میں عام آدمی کے لئے نہ تو عزت ہے اور نہ ہی تکریم۔

محترمہ مریم بی بی سے قوم پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ آپ نے کب اس قدر مشکلات جھیلی ہوں گی جس قدر ایک عام پاکستانی کے مقدر میں لکھی ہوئی ہیں! آپ تو وہ خاص لوگ ہیں کہ عدالتیں چل کر آپ کی دہلیز تک آتی رہی ہیں۔ آپ نے درست کہا کہ ’’روز روز کی سزا‘‘ ختم ہونی چاہئے لیکن کیا یہ روز روز کی سزا بناء کسی جرم نازل ہوئی ہے؟ کیا آپ کو اپنے خاندان کے بے انتہاء مالی اثاثوں کو دیکھ کر شک نہیں ہوتا کہ آخر یہ سب کہاں سے آ گیا؟ کیا آپ نے کبھی اپنے والد گرامی کو مشورہ دیا کہ وہ انصاف تک رسائی کے عدالتی نظام کی اصلاح فرمائیں کہ کس طرح ’روز روز کی پیشیاں‘ سزا سے کم نہیں ہوتیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ تھانہ کچہری اور عدالتوں کے نظام کو اس قدر پیچیدہ رکھا گیا ہے کہ تاکہ عوام کو سیاسی جماعتوں کا محکوم و غلام رکھا جا سکے؟ کیا ہم یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ عوام کا غم اور تکلیف کا احساس ہمارے حکمرانوں کے لئے معنوی وجود رکھتا ہے؟ اہل پاکستان کے لئے صرف انصاف کا حصول ہی بذریعہ عدالت ممکن نہیں رہا بلکہ یہاں تو تعلیم وعلاج کے لئے بھی پیشیاں (حاضریاں) بھگتنا پڑتی ہیں۔ ملازمتیں بناء پیشی نہیں مل سکتیں اور بناء جرم بھی پیشیوں پر پیشیاں پیش آ سکتی ہیں! 

کیا یہی پاکستان ہے کہ عام آدمی تاحیات عام رہے؟ 

غریب ہمیشہ غریب رہے اور حکمراں ہمیشہ حکمراں رہے؟ 

کیا سادہ لوح محترمہ مریم بی بی جانتی ہیں کہ پاکستان کی عدالتوں میں پندرہ لاکھ سے زائد مقدمات زیرالتوأ ہیں اور اِس قدر بڑی تعداد میں مقدمات زیرسماعت ہونے کے ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں نئے مقدمات ہر ماہ درج ہو رہے ہیں!؟ 

کیا ہم ایسے نظام کو اِنصاف تک رسائی کی سبیل قرار دے سکتے ہیں جس میں انصاف ملنے کی اُمید میں نسل در نسل انتظار کرنا پڑے۔ کیا محترمہ مریم بی بی حقیقت آشنا نہیں کہ ’تاخیری اِنصاف درحقیقت انصاف تک رسائی سے انکار ہی ہوتا ہے۔‘ یہ کہا تو جا سکتا ہے کہ انصاف بکتا ہے لیکن اِس کا مطلب وکلاء کی بھاری فیسیں ہیں جن کی ادائیگی ہر کس و ناکس کے بس میں نہیں ہوتیں! جتنا نامور وکیل اتنے ہی کامیابی کے امکانات! کیا مریم بی بی کو کچھ اندازہ ہے کہ عدالتوں میں اہم (وی آئی پی) اور غیر اہم (ہم عوام) سے الگ الگ سلوک کا مطلب کیا ہے؟ کیا ہر پاکستانی کا یہ حق نہیں کہ اُس سے عدالتوں کا رویہ یکساں یعنی مؤدبانہ ہو؟ افسوس کہ ہم یہ بات تو جانتے ہیں کہ جرائم کا ارتکاب کرنے والے نوے فیصد مجرم پکڑے نہیں جاتے جو دس فیصد گرفت میں آتے ہیں تو اُن کی اکثریت یا تو ضمانتیں کروا لیتی ہے یا پھر بیماری کا بہانہ بنا کر ہسپتالوں کے خصوصی وارڈز میں ’بستر‘ نشین ہو جاتی ہے! قتل اُور اقدام قتل جیسے گھناؤنے جرائم کے مرتکب اگر سرمایہ دار ہوں اور سیاسی اثرورسوخ رکھتے ہوں تو ایسی کوئی بھی عدالت کم سے کم پاکستان میں تو نہیں جو اُنہیں سزا دے سکے۔ یہاں جرائم قوانین کے سہارے اپنا وجود رکھتا ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ قاتل ضمانتوں پر رہا ہوئے۔ عینی شاہدین قتل ہوئے۔ میر مرتضی‘ میر شاہنواز اور بینظیر بھٹو جیسی اہم شخصیات کے قاتل آج تک معلوم نہ ہوسکے تو اس بات پر کیا تعجب کہ اگر کسی عام آدمی کے معلوم قاتل بھی صاف بچ نکلیں! 

کیا شریف خاندان کا مقدمہ اُن سینکڑوں خاندانوں سے زیادہ سنگین ہے جن کے عزیز قتل ہو چکے ہیں؟ 

حالت یہ ہے کہ جائیدادوں اور کرایہ داروں سے بذریعہ عدالت گھر خالی کرانا بھی ممکن نہیں رہا۔ دیوانی کے مقدمات میں نسلیں رُل جاتی ہیں! نوازشریف خاندان کو صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ اِن کے اثاثے معلوم آمدنی کے ذرائع سے زیادہ کیسے ہیں اور اِن کی خریداری کے لئے مالی وسائل کن ذرائع سے اَدا کئے گئے یعنی منی ٹرائل کیا تھی۔ اِس سیدھے سادے مقدمے کو اُلجھا کر کہیں ووٹ کے تقدس یاد دلایا جاتا ہے اور کہیں انتقام کی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ عدالت اُور انصاف پر سوال اُٹھانے کی بجائے اُن دو بنیادی سوالات کا جواب کیوں نہیں دیا جارہا‘ جن کا تعلق مالی اَمور سے ہے۔ پاکستان کی اِجتماعی دانش و بصیرت کا اِمتحان ہے کہ قوم کسی ایسے خاندان کو کس طرح بطور حکمران تسلیم کر سکتی ہے جن کے مالی معاملات و اَمور مشکوک ہیں اور جو سوالات کا جواب دینے کی بجائے عدالتی معاملے کو غیرضروری طور پر طول دے رہے ہیں!
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-10-22

Sunday, July 30, 2017

July 2017: Panama verdict is clear but on the same time unclear about the disqualification time frame!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تاحیات نااہلی؟
کسی کو سمجھ آئے یا نہ آئے لیکن ’پانامہ کیس فیصلے‘ کے بارے میں اَمریکہ کی جانب سے تبصرہ معنی خیز بھی ہے اور شاید ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی اقتدار کے آئینی طریقے سے خاتمے میں امریکہ کا براہ راست عمل دخل نہیں رہا لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ ایک اسلامی جوہری اور چین ایران و افغانستان سے جٖغرافیائی زمینی سرحدی تعلق رکھنے والے پاکستان کے داخلی معاملات سے اَمریکہ خود کو الگ رکھے؟

محتاط امریکی مؤقف یہ ہے کہ ’’پانامہ کیس پاکستان کا اَندرونی معاملہ ہے۔ پاکستانی عوام کی منتخب پارلیمنٹ نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی تو ہم اقتدار کی ہموار (پرامن) منتقلی کے خواہش مند ہیں۔‘‘ درحقیقت پاکستان کی خواہش صرف ’اقتدار کی ہموار منتقلی‘ کی حد تک محدود نہیں بلکہ عوام یہ بھی چاہتی ہے کہ ایک اسلامی ریاست کے حکمران اپنے ملک اور دنیا کے لئے کردار کی عملی مثال بھی ہوں۔ پاکستان اور پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بحال ہو یقیناًعالمی سطح پر ’سیاسی تنہائی‘ خودکشی ہوگی اور یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کے سوأ آج کی دنیا میں اپنا قومی و عالمی اہداف و مفادات حاصل کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں تو صرف حکمران نہیں بلکہ ایک ایسا طرز حکمرانی چاہئے جو مشکوک نہ ہو۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ جمہوریت کو کمزور کرنے اور اِسے نقصان پہنچانے میں سب سے زیادہ ہاتھ ’سیاسی جماعتوں کے اُن شرمناک کرتوتوں کا ہے‘ جو پانامہ کیس اور اِس سے متعلق ضمنی تحقیقات کے دوران سامنے آئے! اقتدار ملنے کے بعد عوام کے خادم ’بادشاہ‘ بن جاتے ہیں۔ قانون اور قواعد کو جوتے کی نوک اور قومی اداروں کو کمزور کیا جاتا ہے تاکہ اُن سیاست کی آڑ میں بدعنوانی کا دھندا چلتا رہے۔ یہی سبب ہے کہ نہ تو عام انتخابات میں بطور اُمیدوار حصہ لینا کسی عام آدمی (ہم عوام) کے لئے ممکن رہا ہے اور نہ ہی سیاست شرفاء کو زیب دیتی ہے کہ جس کسی کو اپنا شجرہ (حسب نسب) معلوم کرنا ہو‘ وہ عام انتخابات میں بطور اُمیدوار حصہ لے!

بنیادی سوال یہ ہے کہ سپرئم کورٹ (عدالت عظمیٰ) کے پانچ رکنی لارجر بینچ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل باسٹھ ایک کی ذیلی شق ’ایف‘ کے تحت نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دیئے جانے کے بعد ’’کیا سابق وزیراعظم ’’تاحیات نااہل‘‘ ہوگئے یا کچھ عرصے بعد وہ پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے دوبارہ ملک کی سیاسی برادری کا حصہ بن سکتے ہیں؟‘‘ 

اِس سوال سے متعلق اندرون و بیرون ملک معاشرے کی ہر سطح پر بحث جاری ہے اور اظہار خیال کرنے والوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ سب کے سب اُلجھن کا شکار نظر آتے ہیں اور قانونی ماہرین بھی دو واضح حصوں میں تقسیم ہیں‘ اتفاق اگر ہے تو اِس بات پر کہ یہ معاملے طویل عرصے سے ملتوی کیا جارہا ہے‘ جس کا تعین بہرحال ضروری ہے۔ دیکھا جائے تو سپرئم کورٹ کے لارجر بینچ کے سامنے کئی ایسے مقدمات موجود تھے جن میں اہم نکتہ اس بات کا تعین کرنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ کے تحت ہونے والی ’’نااہلی‘‘ کیا ہمیشہ برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ ان مقدمات میں ثمینہ خاور حیات اور محمد حنیف کا مقدمہ بھی شامل تھا۔ سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بھی اسی نوعیت کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ’’حیرت کا اظہار‘‘ کیا تھا کہ آئین کی شقیں باسٹھ اور تریسٹھ کی بنیاد پر کسی شخص کو عمر بھر کے لئے عام انتخابات کا حصہ بننے سے ’’نااہل (الگ)‘‘ کیسے کیا جاسکتا ہے؟ اگر کسی سے غلطی ہوئی اور وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے نہ صرف جرمانہ بلکہ لوٹی ہوئی قومی دولت بھی واپس کرنے کے لئے تیار (آمادہ) ہو تو ایسے نااہل فرد کے لئے دوبارہ عام انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت ہونی چاہئے چونکہ یہ ایک قانونی و آئینی مسئلہ ہے اور اِس کے لئے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی جو سپرئم کورٹ کا دائرہ اختیار نہیں۔ سپرئم کورٹ آئین کے مطابق فیصلہ بطور حکم صادر سکتی ہے وہ عوام یا کسی سیاسی جماعت کا مستقبل بچانے کے لئے اپنے طور پر کچھ نہیں کر سکتی! اگر ہم پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے (سابق وزیراعظم) یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کو سامنے رکھیں جو کہ اُنیس جون دوہزار بارہ کو توہینِ عدالت کے جرم میں آرٹیکل تریسٹھ کے تحت نااہل ہوئے تھے تو اُن کی نااہلی (سزا) کی مدت پانچ برس تھی۔ آئین کی شق باسٹھ اِس بارے میں خاموش ہے اور عجب ہے کہ اِس کے تحت کوئی بھی شخص ’نااہل‘ قرار تو دیا جاسکتا ہے لیکن نااہلی کی مدت کا ذکر آئین میں واضح یا ضمنی طور پر نہیں کیا گیا۔ اِسی لئے وکلاء اپنی اپنی مہارت (قانونی موشگافیوں) کا استعمال کرتے ہوئے ماضی کے اُن فیصلوں کو کھوج کھوج اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال رہے ہیں جن کے تحت ’نواز لیگ‘ کی قیادت اور شریف خاندان کو تاحیات نااہلی سے بچایا جا سکے۔ خود عدالت عظمیٰ کے سامنے ایسے کئی مقدمات التوأ کا شکار ہیں‘ جن میں تعین کرنا ہے کہ آئین کی شق باسٹھ کا اطلاق صرف موجودہ ضمنی عام انتخاب پر ہوگا یا یہ نااہلی ہمیشہ برقرار رہے گی!

اٹھائیس جولائی دوہزار سترہ کے تاریخی دن ’پانامہ کیس‘ کے فیصلہ میں سپرئم کورٹ نے نواز شریف کی نااہلی کی وجوہات پیش کرکے منتخب نمائندوں کی نااہلی کی حد کو اس حد تک نیچے کردیا ہے کہ اِس سے مستقبل کی سیاست میں سوائے صداقت و امانت کسی دوسری شے کی گنجائش نہیں رہی! 
دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد عدلیہ مضبوط ہوئی ہے اور اُس عوامی منتخب پارلیمینٹ کے اکثریتی اراکین کے چہروں کا رنگ اُڑ گیا ہے جن کا ماضی و حال اور ہاتھ صاف نہیں۔ خود کئی پارلیمانی رہنما ایسے ہیں جن کی اہلیت (پانامہ کیس کے فیصلے کی روشنی میں) خطرے میں پڑ گئی ہے! 

آئین کی شق باسٹھ اگر خاموش ہے تو اِس کا مطلب یہی ہے کہ نااہلی تاحیات تصور کی جائے اُور اِس نتیجۂ خیال کے لئے ’’عبدالغفور لہری کیس‘‘ کی مثال موجود ہے جس میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے واضح کیا تھا کہ کچھ نااہلیوں کی نوعیت وقتی ہوتی ہے اور آرٹیکل تریسٹھ کے تحت نااہل ہونے والا شخص کچھ وقت بعد واپس اہل ہوسکتا ہے لیکن (تاہم) آرٹیکل باسٹھ کے تحت نااہلی دائمی ہوتی ہے۔ آرٹیکل باسٹھ کے تحت نااہل ہونے والے شخص کی نااہلی کی مدت متعین نہیں جس کے بعد وہ پارلیمانی انتخابات کا اہل ہوسکتا ہو۔ پانامہ کیس میں چونکہ نواز شریف ’’صادق اور امین‘‘ نہ ہونے کی بنیاد پر ’نااہل‘ ہوئے ہیں اِس لئے یہ نااہلی تاحیات رہے گی اُور اُمید ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما سمجھ لیں گے کہ پاکستان میں اِحتساب (شفاف طرز حکمرانی) پر سمجھوتہ نہیں ہوگا اُور بالخصوص ’پانامہ کیس فیصلے کے بعد‘ صادق و امین رہنے کے سوأ ’سیاست دانوں‘ سمیت کسی بھی سطح پر قومی وسائل اور فیصلہ سازی کا اختیار رکھنے والوں کے پاس دوسرا کوئی چارہ (راستہ) نہیں رہا۔

Sunday, July 9, 2017

TRANSLATION: The JIT by Dr. Farrukh Saleem

The JIT
پانامہ کیس: جے آئی ٹی!
سپرئم کورٹ آف پاکستان نے پانامہ پیپرز کی صورت منظرعام پر آنے والی فرضی ناموں سے بیرون ملک سرمایہ کاری اور اثاثوں کے بارے میں کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لئے چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی‘ جسے بہرصورت 60 روز (دو ماہ) میں اِس معاملے سے متعلق حقائق کھوج نکالنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اگر ہم سپرئم کورٹ میں زیرسماعت ’پانامہ کیس‘ کو ایک ہوائی سفر سے تشبیہہ دیں تو اِس پرواز کی منزل ’پانامہ‘ ہے جس کے لئے 60 دن کا وقت اور پانامہ تک رسائی براستہ حدیبیہ مقرر کیا گیا۔ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد سے پانامہ کا فاصلہ 14 ہزار 557 کلومیٹر ہے جسے طے کرنے کے لئے صرف ساٹھ دن کا وقت دیا گیا جبکہ اِس کے مقابلے ’حدیبیہ‘ (کیس) قرب و جوار ہی کا معاملہ ہے اور یہی وجہ رہی ہو گی کہ ’جے آئی ٹی‘ نے ’حدیبیہ‘ کے راستے ہوتے ہوئے پانامہ تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔

جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ 10جولائی کو پیش کی جائے گی جس کے بعد ’سپرئم کورٹ آف پاکستان‘ کا عمل درآمد بینچ اپنی صوابدید پر فیصلہ سنائے گا اور اِس فیصلے کے تین امکانات ہو سکتے ہیں۔ پہلا امکان تو یہ ہے کہ سپرئم کورٹ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر تمام مقدمات خارج کردے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ سپرئم کورٹ قومی احتساب بیورو (نیب) یا کسی ایسی عدالت کو مقدمہ ارسال کرے جہاں اِس کی سماعت ہو سکے اُور تیسرا امکان یہ ہے کہ سپرئم کورٹ وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے۔ جہاں تک میری معلومات ہیں سپرئم کورٹ کا پہلے امکان کے تحت نواز شریف کے خلاف تمام درخواستیں (پٹیشنز) خارج کرنے کے امکانات کم ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کو ’پانامہ کیس‘ کی صورت دو قسم کے مقدمات کا سامنا ہے ایک آئینی اور دوسرا سیاسی۔ آئینی محاذ پر وزیراعظم کے دفاع کی واحد صورت قطری شہزادے کا خط ہے۔ سیاسی محاذ پر تاریخ گواہ ہے کہ نواز لیگ کا ماضی رہا ہے کہ وہ اپنے خلاف سیاسی حکمت عملیوں کو ناکام بناتے ہوئے ہمیشہ سرخرو رہے ہیں لیکن اِس وقت مشکل یہ درپیش ہے کہ نوازلیگ کا کسی سیاسی حریف سے نہیں بلکہ سپرئم کورٹ (ایک ریاستی ادارے) سے ٹکراؤ ہو رہا ہے۔

سردست نواز شریف کی بھلائی اِسی میں ہے کہ وہ ’جے آئی ٹی‘ کو اپنا مرضی سے آگے بڑھنے سے روکیں اور ’جے آئی ٹی‘ جس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے اُس منزل کو اوجھل رکھیں۔ جس کے لئے اُس کے پاس سیاسی آپشنز میں پہلی بات یہ ہے کہ وہ ’جے آئی ٹی‘ کو متنازعہ بنائے۔ دوسرا وہ ’جے آئی ٹی‘ سے علیحدگی (بائیکاٹ) کا اعلان کردے۔ تیسرا سپرئم کورٹ میں فیصلہ کرنے والوں کے درمیان کسی نتیجے پر پہنچنے میں اختلافات پیدا کرے اور پھر ججوں کی رائے میں پیدا ہونے والے باہمی اختلافات کا فائدہ اُٹھائے۔ چوتھا قومی اسمبلی تحلیل کردے۔ پانچواں عوام کو ’جے آئی ٹی‘ اور پانامہ کیس کے خلاف سڑکوں پر لے آئے اُور چھٹا حل یہ ہے کہ وہ سیاسی مفاہمت کے لئے ملک کی دیگر تمام جماعتوں کو اِس بات پر ہم خیال کر لے کہ ’پانامہ کیس‘ کو بھول کر آگے بڑھا جائے۔

’جے آئی ٹی‘ کی راہ میں روڑے اٹکانے کا حربہ استعمال کرکے دیکھ لیا گیا جس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ ’جے آئی ٹی‘ کے بائیکاٹ سے نوازلیگ کو فائدہ ہونے کے امکانات بھی کم رہے گئے ہیں۔ اگر سپرئم کورٹ کے فیصلہ سازوں کی رائے تقسیم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یقینی طور پر ایسا کرنے کے زیادہ منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اگر قومی اسمبلی تحلیل کر دی جاتی تو بھی ’جے آئی ٹی‘ کا عمل متاثر نہیں ہوسکتا۔ عوام کو سڑکوں پر لانے کا ’آپشن‘ موجود ہے لیکن ایسا کرنے کی صورت میں وہ عوام کو کس کے مخالفت میں اکسائیں گے!؟

پانامہ کیس کی صورت پاکستان میں طرزحکمرانی کی اصلاح اور اختیارات و عہدوں کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مالی و انتظامی بدعنوانیوں کی روایت ہمیشہ کے لئے دفن کرنے کا ’نادر موقع‘ تحریک انصاف‘ کے ہاتھ آ گیا ہے جو کسی بھی صورت اپنے مطالبات‘ مؤقف اور مقدمے (پٹینشن) سے دستبردار ہونا تو دور کی بات ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے (مصلحت سے کام لینے) کے لئے تیار نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ نواز لیگ کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ ’’چوری‘ بدعنوانی‘ خردبرد کے ذریعے حاصل کیا گیا پاکستان کا سرمایہ غیرقانونی ذرائع سے بیرون ملک منتقل کیا گیا ہے۔‘‘ جبکہ ’نوازلیگ‘ کا کہنا ہے کہ ’جے آئی ٹی‘ کو اِس بات کا استحقاق یا دائرہ اختیار ہی حاصل نہیں کہ وہ اِس کی قیادت کا احتساب کرے۔ نواز لیگ کی نظر میں ’جے آئی ٹی‘ اُن کے خلاف ایک خفیہ سازش کا نتیجہ ہے لیکن ’نواز لیگ‘ کے اِس مؤقف کو اُس وقت تک تسلیم یا قابل اعتماد نہیں سمجھا جائے گا جب تک اُن کے بقول ’پانامہ کیس‘ کی صورت سازش کرنے والے کردار یا کرداروں کو بے نقاب نہیں کیا جاتا۔

’نواز لیگ‘ کے لئے موجودہ وقت سب سے زیادہ مشکلات بھرا ہے۔ اگر وہ سپرئم کورٹ کے حسب حکم ’جے آئی ٹی‘ سے تعاون برقرار رکھتی ہے تو بھی یہ بات ضمانت نہیں کہ اُسے سرخروئی نصیب ہو گی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ تصادم کی راہ اختیار کرے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اقتدار کی منتقلی ہے یعنی نوازشریف کی بجائے اقتدار شہباز شریف کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا جائے لیکن پورا ’شریف خاندان‘ پانامہ کیس کی زد میں دکھائی دیتا ہے اور جس طرح اِس خاندان نے تیس برس سے ہر اچھے بُرے دن اور ہر اونچ نیچ کا مقابلہ کیا ہے ’جے آئی ٹی‘ سے نمٹنے میں وہ حکمت عملی (حربے) کام نہیں آسکے۔ کون سمجھتا ہے کہ ’’پیشگوئی مشکل ہوتی ہے خصوصاً جب یہ مستقبل کے بارے میں ہو۔‘‘ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, June 18, 2017

TRANSLATION: Power Play by Dr Farrukh Saleem

Power play
سیاست‘ کھیل اور سیاست!
پاکستان کی تاریخ کا اہم (گھمسان کا) ’مقابلہ (میچ)‘ ہو رہا ہے جس کا حصہ سیاسی ٹیم کے کھلاڑیوں میں مسلم لیگ (نواز)‘ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی جبکہ غیرسیاسی ٹیم میں سپرئم کورٹ آف پاکستان اُور پاک فوج کا ادارہ (جی ایچ کیو) ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں! سردست صورتحال یہ ہے کہ نواز لیگ مشکل میں پھنسی ہوئی ہے لیکن ایسا پہلی مرتبہ رونما نہیں ہو رہا کہ مسلم لیگ کو ’غیرمساعد حالات‘ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو بلکہ اِس سے قبل 1997ء میں جب اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو ’توہین عدالت‘ کے حوالے سے ایک پیشی کا سامنا تھا‘ جب 2014 ء میں تحریک انصاف نے پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا تھا‘ یا پھر 2016-17ء میں جب ’ڈان لیکس‘ کی صورت انکشافات سامنے آئے تھے اور رواں مشکل بیرون ملک اثاثہ جات‘ مشکوک آمدنی اور سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کے حوالے سے جاری ’پانامہ کیس‘ کی سماعت ہے‘ جس پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں کہ ’نواز لیگ‘ اِس مشکل صورتحال سے خود کو کس طرح بچا پاتی ہے!
ملک میں جاری اِس سیاسی کھیل کا ایک تاریخی پس منظر بھی ہے۔ قریب چالیس برس قبل آئین پاکستان تخلیق کرتے ہوئے ’ریاست‘ کے اختیارات کو تین اداروں پر مشتمل ایک نظام میں تقسیم کر دیا گیا۔ قانون ساز اِدارے‘ عدلیہ اُور اَیگزیکٹوز (نوکرشاہی)۔ اگر ہم گزشتہ چھتیس برس کے دوران ریاست کے اِن تینوں ستونوں (اکائیوں) کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ افسرشاہی نے اختیارات اپنے پاس مرکوز کر لئے ہیں اور نوکرشاہی (سرکاری ملازمین) چاہے یونیفارم پہنے ہوں یا نہ ہوں سیاسی حکمرانوں کے تابع سمجھے جا رہے ہیں جنہوں نے زیادہ سے زیادہ اختیارات پر اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اُور سمجھتی ہے کہ عدلیہ اور افسرشاہی اُن کے ماتحت ادارے ہیں۔

ماضی میں جھانکتے ہیں‘ جب 1997ء میں سپرئم کورٹ آف پاکستان ’توہین عدالت‘ کے ایک مقدمے کی سماعت کر رہا تھا۔ اُس وقت کے وزیراعظم8 نواز شریف کو طلب کیا گیا جنہوں نے عدلیہ پر فتح پائی کیونکہ اُس وقت پیپلزپارٹی اور فوج کا اِدارہ سپرئم کورٹ کی مدد و حمایت کے لئے آگے نہیں آئے اور ’نواز لیگ‘ باآسانی سپرئم کورٹ کو اندرونی طور پر تقسیم کرنے میں کامیاب ہو گئی!

سال دوہزار چودہ میں تحریک انصاف کے احتجاجی دھرنے کا مقابلہ بھی نوازلیگ اِس لئے کامیابی سے کر پائی کیونکہ دیگر ریاستی کردار اُس کی حمایت کر رہے تھے اور اگر ہم ’جی ایچ کیو‘ کی بات کریں تو وہ اس نے اپنے آپ کو اِس معاملے معاملے سے بظاہر لاتعلق رکھا۔ اِس دھرنے کے دوران ’نوازلیگ‘ داخلی طور پر متحد رہی۔

سال 2016-17ء میں ڈان لیکس منظرعام پر آئیں۔ یہ کھیل (میچ) نواز لیگ اور فوج کے ادارے (جی ایچ کیو) کے درمیان تھا۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے اِس صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششیں کیں لیکن نوازلیگ مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہوگئی اور ’جی ایچ کیو‘ اپنے اصولی مؤقف سے ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔

پاناما کیس کا کھیل شروع ہوا تو اِس مرتبہ عدلیہ کا سامنا کرنے والی ’نواز لیگ‘ کو مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس مرتبہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی اپنے اپنے سیاسی مفادات کے لئے سپرئم کورٹ کے شانہ بشانہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ عدالت کا فیصلہ کسی حد تک واضح ہے لیکن کیا اِس موقع پر ’جی ایچ کیو‘ بھی سپرئم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ اِس بات کے امکانات معدوم ہیں کہ جی ایچ کیو ’نواز لیگ‘ کے ساتھ کھڑی ہو۔

سیاسی حالات تبدیل ہیں۔ پانامہ کیس بھی تحریک انصاف کے دھرنے سے مختلف ہے اور چاہے یہ بات تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن نواز لیگ سیاسی طور پر تنہا ہے اور داخلی سطح پر اِس کی صفوں میں انتشار اور دراڑیں دکھائی دیتی ہیں۔

پاکستان کا موجودہ سیاسی منظرنامہ ماضی سے بڑی حد تک مختلف ہے اور یہی وجہ ہے کہ ’نواز لیگ‘ کو نتائج بھی ماضی کے مقابلے مختلف جھیلنے پڑیں گے۔ سردست ’نواز لیگ‘ کی مرکزی قیادت ’شریف خاندان‘ کو مشکل درپیش ہے کہ وہ ’سپرئم کورٹ‘کو کس طرح اطمینان دلائیں اور پانامہ کیس سے سرخرو قرار پائیں لیکن اگر وہ ایسا نہ کرپائے تو اِس مرتبہ وزیراعظم نوازشریف کے لئے اپنے عہدے‘ ساکھ اور پارٹی بچانا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ کھیل ’خطرناک دور (ریڈ زون)‘ میں داخل ہو چکا ہے۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیر حسین امام)

Friday, June 16, 2017

June2017; Exposed corruption with incamera (hidden) investigation!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
لطیف لطائف!
تصویر کا پہلا رخ یہ ہے کہ ’’وزیراعظم ’مشترکہ تحقیقاتی کمیشن (جے آئی ٹی)‘ کے سامنے پیش ہوئے اور عملاً دکھا دیا کہ وہ اِداروں کا کس حد تک احترام کرتے ہیں۔‘‘ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کیا وزیراعظم کے پاس ’جے آئی ٹی‘ کے روبرو پیش ہو کر اُن الزامات کا دفاع کرنے کے سوأ کیا کوئی دوسری ایسی صورت تھی‘ جو اُنہیں مالی بدعنوانی کے الزامات سے نجات دلا سکے؟

اقتدار کی طاقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ سیاسی جماعتوں کی ہمیشہ سے کوشش رہتی ہے کہ وہ اپنے اپنے دور حکومت کے دوران ہی ہر قسم کی آئینی و ادارہ جاتی مقدمات و تحقیقات سے گلوخلاصی کروا لیں۔ اصولی اور اخلاقی طور پر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیراعظم ’جے آئی ٹی‘ کے سامنے پیش ہونے سے قبل مستعفی ہو جاتے تاکہ اُن کے سیاسی مخالفین کو یہ کہنے کا موقع ہی نہ ملتا کہ وہ تحقیقات پر اَثرانداز ہو رہے ہیں۔ کیا وزیراعظم کسی دوسرے ملک کی عدالت کے روبرو پیش ہوئے ہیں جس سے پاکستان کے وقار پر حرف آیا ہے یا وہ اپنے ہی ملک (ماتحت) ادارے کی طلبی پر ’حاضر جناب‘ ہو کر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ دیکھو آئین و قانون سے کوئی بالاتر نہیں؟ ’جے آئی ٹی‘ کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرنے والوں کو سمجھنا چاہئے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ناموں کو سپرئم کورٹ نے منظور کرکے پاناما لیکس کے معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کو حتمی شکل دی تھی اور اس میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ( ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن (اکیس گریڈ کے) واجد ضیاء سربراہی کر رہے ہیں جن کا تعلق ’’پولیس سروس‘‘ سے ہے۔ آپ دو مرتبہ خفیہ ادارے انٹلی جنس بیورو (آئی بی) اور موٹروے پولیس میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ واجد ضیاء ایف آئی اے کے اکنامک کرائم ونگ سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں‘ اگرچہ ان کا پولیس جیسے ادارے میں تجربہ محدود ہے لیکن وہ حج اسکینڈل کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل تھے کہنے کا مطلب ہے کہ وہ سیاستدانوں سے نمٹنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اِن کے علاؤہ کمیٹی کے دیگر اراکین میں ملٹری انٹلی جنس (ایم آئی) کے بریگیڈئر کامران خورشید‘ انٹر سروسز انٹلی جنس (آئی ایس آئی) کے بریگیڈئر نعمان سعید‘ قومی احتساب بیورو (نیب) کے گریڈ بیس کے افسر عرفان نعیم منگی‘ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے بلال رسول اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز شامل ہیں۔ عامر عزیز بھی اکیس گریڈ کے سرکاری افسر ہیں جو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس کے مینجنگ ڈائریکٹر مقرر ہونے کے بعد گذشتہ سات برس سے بینکنگ سے الگ ہیں۔ این آئی بی ایف‘ بینکنگ اور فنانس کے پیشہ ور افراد کا تربیتی ادارہ ہے‘ جو بینکاری کے اصول‘ عملی مظاہرے اور اس سے ملحقہ موضوعات کے مطالعے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ عامر عزیز سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور اقتدار میں قومی احتساب بیورو (نیب) کا بھی حصہ رہ چکے ہیں۔ بلال رسول سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات ہیں جو اس وقت ایس ای سی پی سیکرٹریٹ کے میڈیا کارپوریٹ کمیونیکیشن اور ٹرانسلیشن ڈیپارٹمینٹ میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے انیس سو ترانوے میں کارپوریٹ لاء اتھارٹی میں شمولیت اختیار کی‘ جہاں انہوں نے اپیلیٹ بینچ کے رجسٹرار اور سیکرٹری کمیشن کے طور پر خدمات سرانجام دیں آپ اردو کے علاؤہ انگریزی‘ پنجابی اور عربی زبانیں روانی سے بول سکتے ہیں۔ جے آئی ٹی کا رکن عرفان نعیم منگی کا تعلق اُس قومی احتساب بیورو (نیب) سے ہے‘ جس کے بارے میں پانامہ کیس کی سماعت کے دوران سپرئم کورٹ نے کہا تھا کہ یہ ادارہ عملاً دفن ہو چکا ہے! عرفان منگی بیس گریڈ کے سرکاری افسر ہیں جو اس وقت کوئٹہ میں بطور ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان تعینات ہیں۔ نعیم منگیکے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُنہیں ’’وائٹ کالر جرائم‘‘ کی تہہ تک پہنچنے کی مہارت حاصل ہے لیکن اب تک اُنہوں نے اپنی اِس مہارت سے کتنے ’وائٹ کالر مجرموں‘ کو کیفرکردار تک پہنچایا‘ یہ بیان تفصیل کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں! جے آئی ٹی کا رکن بننے کا قرعہ فال ریٹائرڈ بریگیڈئر محمد نعمان سعید کے نام بھی نکلا‘ جو آئی ایس آئی کے کسی ایک اندرونی سیکیورٹی ونگ کے ڈائریکٹر ہیں‘ آپ دوہزار سولہ میں فوج سے ریٹائر ہوئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ’جے آئی ٹی‘ کے اِن سبھی اراکین نے تحریری طور پر ’سپرئم کورٹ‘ کو آگاہ کیا ہے کہ اُنہیں‘ اُن کے اہل خانہ (بال بچوں) اور اُن کی ملازمتوں کو خطرہ درپیش ہے! 

پاکستان کی تاریخ میں اگر ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ وزیراعظم اور اُن کے اہل خانہ کسی تحقیقاتی کمیٹی کے مشکوک ذرائع آمدنی کی وضاحت اُور سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کے طریقۂ کار کے دستاویزی ثبوت دینے کے لئے پیش ہو رہے ہیں تو یہ بات بھی پہلی مرتبہ ہو رہی ہے کہ ملک کے سب سے مضبوط سمجھے جانے والے خفیہ ادارے جس کی دھاک پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اُس کے اہلکاروں کو کسی ’گاڈ فادر‘ سے خطرات لاحق ہیں! اگر حکمراں خاندان نے دستاویزی ثبوت دینے ہوتے تو وہ پہلے ہی سپرئم کورٹ کے طلب کرنے پر پیش کر دیتے‘ جو زیادہ بااختیار‘ باوقار اور حسب حیثیت سپرئم فورم ہے۔ یوں کسی ملک کے حکمران کی بیس‘ اکیس گریڈ کے (ماتحتوں کے سامنے پیش ہوکر شہ سرخیوں کا حصہ بننے سے ایک اسلامی جمہوریہ کے حکمرانوں اور مالی بدعنوانیاں کیا نیک شگون قرار دیا جاسکتا ہے! 

نجانے یہ امر ’قومی مشغلہ‘ کیسے بن گیا ہے کہ ہم اپنا اور دوسروں کا ’قیمتی وقت‘ ضائع کرنے سے لطف پاتے ہیں!؟

Tuesday, May 23, 2017

May2017: Social Media as Crime!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
جبر مسلسل!
کبھی کبھار ’شاعرانہ تخیل‘ حقیقت کے اِظہار و بیان میں ضرب المثل بن جاتا ہے۔ ساغر صدیقی (وفات اُنیس جولائی اُنیس سو چوہتر) کا یہ مصرعہ شاید اَحباب نے بہت دن سے نہ پڑھا ہو کہ ’’جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں!‘‘ اور اِس تخیل کی تمہید میں ایک ایسے ’جبرمسلسل‘ کا ذکر جوڑ دیا گیا‘ جو بطور سزا تجویز کرنے والوں نے گویا زندگی کے معنی و مفہوم ہی بدل کر رکھ دیئے ہوں۔ بالکل اِسی قسم کی ’خوف و دہشت پر مبنی صورتحال کا سامنا پاکستان میں ’سماجی رابطہ کاری‘ کے وسائل استعمال کرنے والوں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائمز ونگ اور کاونٹر ٹریرازم ونگ سے درپیش ہے۔ عجب ہے کہ گذشتہ چند روز میں ملک بھر سے بائیس ایسے سوشل میڈیا صارفین کو طلب (گرفتار) اور سبھی کو بعدازاں بناء کسی سزا رہا کیا گیا‘ جنہوں نے پاکستان کے فوجی سربراہ اور فوج کے ادارے پر تنقید کی تھی۔ پاکستان کے آئین کی رو سے بیک وقت اِس بات کی آزادی بھی حاصل ہے کہ ہر پاکستانی جس کسی موضوع کے بارے میں اظہار خیال کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے اور اِسی آئین ہی میں کی گئی ایک ترمیم ضمنی طور پر ریاست کی نظر سے ناپسندیدہ اظہار رائے کرنے والا ’مجرم‘ کہلاتا ہے کیونکہ اگر ریاست کسی تبصرے پر ’معترض‘ ہوا تو یہ ایسا اظہار رائے قابل گرفت و سزا جرم بن جائے گا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے پہلے تو قانون کی تشریح اور پھر اُن تمام اَلفاظ‘ جملوں اُور اِستعاروں کے بارے میں وضاحت ہونی چاہئے کہ جن کا استعمال کرتے ہوئے اگر کوئی صارف تنقید کے نشتر چلائے گا‘ تو وہ ’مجرم‘ تصور ہوگا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ پر اکاونٹ بنانے کے لئے بالغ ہونے کی شرط ہوتی ہے لیکن کسی بھی ’فرضی نام‘ سے اکاونٹ (کھاتہ) تخلیق کرنے والے اپنی عمر کے بارے جھوٹ بول کر بھی ایک ایسی تیزرفتار دنیا کے باشندے بن جاتے ہیں جہاں کے باسی ’ہر ایک سکینڈ‘ میں چھ ہزار سے زائد پیغامات (ٹوئٹس) کا تبادلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یاد رہے کسی ایک دن‘ فی سکینڈ ٹوئٹر کے سب سے زیادہ پیغامات ’’1لاکھ 43 ہزار 999 ٹوئٹس‘‘ سال دوہزار تیرہ میں ریکارڈ ہوئے جبکہ عمومی حالات میں ہر دن اُوسطاً (کم سے کم) 50 کروڑ ٹوئٹر پیغامات اِرسال کئے جاتے ہیں اور یہی ٹوئٹر پاکستان کی حکومت کے لئے ’درد سر‘ بنا ہوا ہے‘ جس کا اِستعمال ہر سطح کے سیاست دانوں سے لیکر افسرشاہی اُور قومی اِداروں کی ترجمانی کرنے والے کر رہے ہیں لیکن وہ اپنی طرح دوسروں کو یہ حق دینے کو تیار نہیں کہ وہ اُن سے اختلاف رائے کا اظہار کر سکیں۔ 

بنیادی مسئلہ اُور غلط فہمی اَلفاظ کے غلط چناؤ کی وجہ سے پیش آ رہی ہے۔ ہمارے ہاں نظام تعلیم کی خامی (کمزوری) یہ ہے کہ اِس میں الفاظ کا اِستعمال تو سکھایا جاتا ہے لیکن الفاظ کے ’’معنی و مفہوم اُور اَثرات‘‘ کے بارے طلباء و طالبات کو ’بہرہ مند‘ نہیں کیا جاتا۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور اپنے تعارف میں تعلیمی اسناد کی فہرستیں گردان کرنے والوں کے ہاں بھی الفاظ کا مضحکہ خیز استعمال سننے کو ملتا ہے تو تعلیمی نصاب کے گرد طواف کرنے والے بیچارے عام طلباء و طالبات سے کس طرح اُمیدیں (توقعات) وابستہ کی جا سکتیں کہ وہ ہر لفظ سوچ سمجھ کر بولیں گے یا ٹوئٹر سمیت سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے خاطرخواہ احتیاط کا مظاہرہ کریں گے۔ 

وفاقی وزارت داخلہ کو بھی سمجھنا ہوگا کہ زمانہ تبدیل ہو گیا ہے اور انٹرنیٹ صارفین کی حفظ مراتب کے لحاظ سے درجہ بندی نہیں کی جاسکتی ہے تو بہتری اِسی میں ہے کہ متنازعہ امور کو ہوا دینے والوں سے ’منطق (عقلی دلیل)‘ سے بات کی جائے اُور اگر کوئی صارف متفق نہ بھی ہو تب بھی حکومت پاکستان کا مؤقف ہر پیغام کے ساتھ منسلک ہوتا چلا جائے گا‘ جس سے عالمی سطح پر پاکستان یا قومی اداروں اور اہم شخصیات (بالخصوص پاک فوج کے سربراہ) کے بارے پھیلنے والا تاثر زائل کرنے میں مدد ملے گی یا پھر حکومت کے نکتۂ نظر سے جو حقائق ہیں اُنہیں عام کیا جا سکے گا۔ سماجی رابطہ کاری کے وسائل یا اظہار رائے پر پابندی عائد کرنے کی بجائے وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کو فعال ’سوشل میڈیا حکمت عملیاں‘ تشکیل دینا پڑیں گی تاکہ ہر حملے کا بروقت (مستعدی) اُور پوری طرح مقابلہ (دفاع) عملاً ممکن بنایا جا سکے۔

منظرنامہ ملاحظہ کیجئے کہ پاکستان میں سماجی رابطہ کاری کے وسائل سے اِستفادہ کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق ’تحریک انصاف‘ سے ہے یا وہ قومی سلامتی سمیت ریاستی اِداروں کے بارے میں وہی رائے رکھتے ہیں یا اُنہی ملتے جلتے نظریات کا پرچار کرتے ہیں‘ جن کی تحریک انصاف تائید کرتی ہے۔ پاکستان میں سخت گیر مالی نظم و ضبط کے قیام‘ احتساب‘ مالی و انتظامی امور میں بدعنوانیوں کے خاتمے اور طرزحکمرانی کی اِصلاح پر مبنی ’تحریک انصاف‘ کے مؤقف (سیاسی منشور) کی تائید کرنے والے کی بڑی تعداد ہر وقت ٹوئٹر اور فیس بک پر ’حاضر جناب (آن لائن)‘ رہتی ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی صارف تحریک انصاف کے حق یا اس کے خلاف کچھ لکھے اور اُسے ترکی بہ ترکی (فوراً) جواب نہ ملے۔ 

وفاقی حکمراں جماعت ’نواز لیگ‘ کو سوشل میڈیا پر فعال (متحرک) ہونے میں اگرچہ دیر ہوئی تاہم اُن کا ’سوشل میڈیا سیل‘ زیادہ منظم اور ہر دن پھل پھول رہا ہے۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے ’سوشل میڈیا شعبے‘ ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کے لئے جس طرح سرگرم ہیں اور جس طرح رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے ’سوشل میڈیا وسائل‘ میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اُسے مدنظر رکھتے ہوئے اِس بات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں ’سوشل میڈیا‘ بھی ذرائع ابلاغ کے دیگر وسائل کی طرح کسی فرد یا جماعت کو ہیرو یا زیرو بنانے میں غیرمعمولی کردار ادا کریں گے۔ 

سوشل میڈیا کو پاکستان کی سیاست میں وہ مقام مل چکا ہے جہاں اِس کے ’’معنوی وجود‘‘ سے نہ تو انکار ممکن ہے اور نہ ہی اِسے غیراہم قرار دیتے ہوئے ’نظرانداز‘ کیا جاسکتا ہے‘ لہٰذا بہتری (عافیت) اِسی میں ہے کہ عصری تقاضوں (تبدیلیوں) کا (کماحقہ) ادراک کیا جائے۔ قواعد و ضوابط کے اطلاق میں سختی اور پابندیاں عائد کرنے کی بجائے ’سوشل میڈیا صارفین‘ کی تعلیم و رہنمائی کے لئے تربیت کا اہتمام و انتظام کیا جائے۔ ’سوشل میڈیا‘ خیر محض ہے جس کا تعمیری (اپنے حق میں) استعمال کا لائحہ عمل وقت کی ضرورت اُور اس کے ذریعے ’شرارت‘ تخریب کاری‘ یا معصومیت میں خطا کاروں کی نیت (پس پردہ عزائم) بھی پیش نظر رہنی چاہئے!

Sunday, April 30, 2017

TRANSLATION: Loadshedding by Dr Farrukh Saleem

Loadshedding
لوڈشیڈنگ
تیئس اپریل: صوبہ پنجاب کے دیہی علاقوں میں 12 جبکہ شہری مراکز میں برقی رو (بجلی) کا تعطل (لوڈشیڈنگ) کم سے کم چھ گھنٹے رہا۔

پہلی حقیقت: حکومتی ادارے ’نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹریبوشن کمپنی کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق) پاکستان میں بجلی کی کل پیداواری صلاحیت 24ہزار 906 میگاواٹ ہے۔

دوسری حقیقت: تیئس اپریل کے روز جبکہ آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے مختلف حصوں میں کم سے کم بارہ اور چھ چھ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی تو اُس وقت مجموعی طور پر 12ہزار 948 میگاواٹ بجلی کی پیداوار حاصل ہو رہی تھی۔

تیسری حقیقت: تیئس اپریل ہی کے روز بجلی کی چوری اور بوسیدہ ترسیلی نظام کی وجہ سے کم و بیش 2 ہزار 948 میگاواٹ بجلی ضائع ہو رہی تھی اور صارفین تک کم وبیش 10ہزار میگاواٹ بجلی پہنچ پا رہی تھی۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ تیئس اپریل کے روز پاکستان حکومت ملک میں بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت کے صرف 50فیصد حصے ہی سے استفادہ کر پائی!

اعدادوشمار اور برسرزمین حقائق سے عیاں ہے کہ لوڈشیڈنگ کی پیداواری صلاحیت کم ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت سے پوری طرح فائدہ نہ اٹھانے کے سبب مطلوبہ مقدار میں بجلی دستیاب نہیں! لوڈشیڈنگ ہونے کا ایک بنیادی سبب ’گردشی قرضہ‘ بھی ہے جس کا تعلق اُس بجلی کی مقدار سے ہے جو یا تو چوری ہو جاتی ہے یا پھر بوسیدہ ترسیلی نظام کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہے اور یہ بجلی نجی پیداواری یونٹس سے خریدی تو جاتی ہے لیکن چونکہ صارفین اِس کی قیمت ادا نہیں کرتے اِس لئے یہ حکومت پر قرض کی صورت بوجھ بنتی جاتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ بجلی کے اُس ترسیلی نظام کی خرابیاں دور نہیں کی جاتیں جس سے متعلق سب جانتے ہیں کہ وہ ایک قیمتی جنس کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے؟ لوڈشیڈنگ کی دوسری وجہ بجلی کے صارفین سے واجبات کی وصولی ہے۔ اِس محاذ پر بھی انتظامی طور پر ناکامیوں کے سبب بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔

بجلی پیدا کرنے والے ادارے ایک انتظامی تسلسل سے کام کرتے ہیں۔ وہ بجلی کے عوض اُس کی قیمت وصول کر رہے ہوتے ہیں لیکن جب ادائیگیاں رک جاتی ہیں تو ’گردشی قرض‘ کا حجم بڑھتا چلا جاتا ہے۔ حکومتی اداروں کے انتظامی معاملات بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں اور جب واپڈا کا ادارہ مالی مشکلات سے دوچار ہوتا ہے تو وہ ایندھن فراہم کرنے والے ادارے ’پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس اُو)‘ کو بروقت اور معمول کے مطابق تیل کی قیمت ادا نہیں کرتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ’پی ایس اُو‘ جو کہ تیل درآمد کرتا ہے وہ بیرون ملک ادائیگیاں نہیں کرپاتا اور بیرون ملک ادائیگیوں کا عدم توازن روکنے اور اندرون ملک مالی بوجھ مزید بڑھنے سے روکنے کے لئے واپڈا کو تیل کی فراہمی روک دیتا ہے‘ جس سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح بجلی کے پیداواری نجی اداروں کو بھی جب اپنی تیار کردہ جنس (بجلی) کی پوری قیمت نہیں ملتی تو فراہمی یا تو روک دیتے ہیں یا حسب وصولی تناسب سے کم کر دیتے ہیں اور ’پی ایس اُو‘ کے واجبات کی ادائیگی روک لیتے ہیں۔ یہ معاملہ ہزاروں اربوں روپے کا ہے اور اسی وجہ سے بحران کا سبب بنتا ہے۔ سال 2008ء کے دوران ’گردشی قرض‘ 228 ارب روپے تھا جو سال 2013ء کے دوران 480 ارب روپے ہو گیا۔ جولائی 2013ء میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت نے 480 ارب روپے کا ’گردشی قرضہ‘ ادا کرتے ہوئے عہد کیا کہ وہ آئندہ کسی بھی صورت ’گردشی قرض‘ پیدا ہونے نہیں دیں گے۔ مارچ 2017ء میں بجلی پیدا کرنے والے نجلی اداروں (آئی پی پیز) کا گردشی قرض 414 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ اگر تاریخ سے سبق سیکھا جاتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ گردشی قرض چارسو ارب روپے جیسی نفسیاتی حد عبور کرتا اور ایک ایسی بحرانی صورتحال پیدا ہوتی جس سے دیہی علاقوں میں سولہ اور شہری علاقوں میں چھ چھ گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نمٹنے کے لئے ’نوازلیگ‘ حکومت نے پیداواری صلاحیت بڑھانے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ کسی مرض کی غلط تشخیص اور غلط علاج سے توقعات وابستہ نہیں کر لینی چاہئیں کہ اِس سے مریض کو افاقہ ہوگا۔ پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت مسئلہ نہیں بلکہ بجلی کی ترسیل‘ بجلی کی چوری‘ ضیاع اور صارفین سے واجبات کی وصولی جیسے شعبوں میں بدانتظامی کے سبب یہ بحران پیدا ہوا ہے۔

مارچ دوہزار سترہ میں بجلی کے 13نجی پیداواری اداروں کو اربوں روپے کے واجبات ادا نہ کرنے کی وجہ سے اِن اداروں نے پیداوار کم کر دی۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ اگر نجی ادارے بجلی کم بھی پیدا کریں یا نہ پیدا کریں تب بھی حکومت کو ایک خاص قیمت ’کیپسٹی چارجز‘ کی صورت ادا کرنا پڑتی ہے!

بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لئے نواز لیگ کی حکومت پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کے واجبات ادا کرنے کے لئے پیسے نہیں تو نئے بجلی گھروں کے لئے توانائی کی قیمت کہاں سے ادا ہوگی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی شخص کے پاس دو گاڑیاں ہوں لیکن ایندھن خریدنے کے لئے مالی وسائل نہ ہوں جس کا حل وہ یہ نکالے کہ تیسری گاڑی خرید لے!

تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک وقت تک جب پاکستان میں بجلی کی پیداوار یومیہ 13ہزار میگاواٹ تک جا پہنچی تھی لیکن انتظامی خرابیوں کی وجہ سے صرف چار برس میں گردشی قرض 400ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ حکومت نے منصوبہ بندی کر رکھی ہے کہ 7 ہزار 680 میگاواٹ پیداواری صلاحیت بڑھائی جائے جس پر 12.5 ارب روپے لاگت آئے گی۔ صاف لگ رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں بجلی کا واجب الادأ ’گردشی قرضہ‘ مزید بڑھے گا اور صورتحال مزید خراب ہوگی۔ جی ہاں آنے والے دنوں میں مریض کی حالت تشویشناک ہونے جا رہی ہے۔ حکومت نے بہرحال اور بادلنخواستہ ہی سہی لیکن گردشی قرضوں کے 414 ارب روپے ادا کرنے ہیں لیکن بجلی کے پیداواری شعبے کو آئندہ عام انتخابات کے قریب آنے کے وقت کا انتظار کرنا پڑے گا۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Saturday, April 22, 2017

Apr2017: Ethical side of the Panama Case verdict!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیاسی اخلاقیات!
پاکستان مزید سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مریم اورنگزیب کا قول سلیم ہے کہ ’’اگر اُور مگر ختم ہونا چاہئے۔‘‘ کاش کہ ایسا ہی ہوتا اور عدالتی فیصلے کے فوراً بعد سے رات گئے تک نہ تو مٹھائیاں تقسیم جاتی اور نہ مبارک بادوں کا تبادلہ کرنے والے تصاویر ’سوشل میڈیا‘ پر جاری کرتے۔ عدالتی فیصلے سے اپنے مطلب کے معانی اخذ کرنے اور سیاق و سباق پر غور کرنے والے ’غیرآئینی امور‘ کے ماہرین کے شکوک و شبہات اور تحفظات بدسور موجود ہیں۔ 20 اپریل کی طرح 21 اپریل کا دن بھی پاکستان پر بھاری رہا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے جاری اجلاس میں حزب اختلاف کے اراکین کو بات کرنے کا موقع نہ دیتے ہوئے اجلاس ختم کرنے کی روایت ’عدم برداشت‘ اور اختیارات کے غلط استعمال کی عکاس ہے۔ عدالتی فیصلہ وہی کا وہی رہنا تھا اگر تحریک انصاف کے سربراہ کو قومی اسمبلی سے خطاب کی اجازت دے دی جاتی اور برہمی پر مبنی ردعمل منطقی تھا کیونکہ عمران خان بہت کچھ ’’فلور آف دی ہاؤس (آن ریکارڈ)‘‘ کہنے کی خواہش رکھتے تھے اور یقیناًاُن کا مقصود یہی تھا کہ قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر بھی وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں‘ جو اُن سمیت پیپلزپارٹی کی جانب سے ’جلدبازی‘ میں اگر یہ اعلان پہلے ہی سامنے نہ آتا تو ’وفاقی حکومت‘ ہوشیار نہ ہوتی جو اتنی بھی سادہ نہیں کہ اپنے خلاف محاذ پر محاذ کھولنے دے جو پہلے ہی بیس اپریل کے ’عدالتی فیصلے اور حزب اختلاف کی جانب سے جوش خطابت میں ’کڑے تنقیدی حملوں‘ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔

پانامہ کیس میں تحریک اِنصاف کے شانہ بشانہ کھڑی ’جماعت اِسلامی پاکستان‘ بھی خود کو ’سرخرو‘ سمجھ رہی ہے۔ گویا ایک ایسا عدالتی فیصلہ آیا ہے جس سے سب کی دلی مرادیں پوری ہو گئیں ہوں! جماعت کے مرکزی اَمیر (سربراہ) سراج الحق کا مؤقف اُور مطالبہ معمولی نہیں۔ کیا ہوا اگر وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی اجلاس میں حزب اختلاف کے اراکین کو بولنے نہیں دیا کیونکہ اُسی قومی اسمبلی کے باہر ’یکے بعد دیگرے‘ سبھی جماعتوں کے رہنماؤں نے ذرائع ابلاغ کے سامنے ’’دل کے پھپھولے‘‘ کھول کھول کر بیان کر دیئے۔ 

تاریخ تو بہرحال رقم ہو رہی ہے‘ بیس اپریل کا دن اتنا تاریخی (ناقابل فراموش) تھا‘ کہ اس کے بعد پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اب ہر دن ’تاریخی‘ ثابت ہو رہا۔ ’جلدباز‘ فریقین غلطیوں پر غلطیاں کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جا رہے ہیں۔ سراج الحق کا کہنا ہے کہ سپرئم کورٹ کے کہے کو سمجھا جائے کہ ’’وزیراعظم اور اُن کے اہل خانہ کے بیانات درست نہیں پائے گے۔ دو ججز نے کہا کہ وزیراعظم نااہل جبکہ باقی تین نے ایک عدد تفتیش کی ضرورت محسوس کی ہے تو یہ کس طرح حکمراں جماعت کی کامیابی ہو سکتی ہے!؟ جماعت اسلامی ایک عرصے سے کرپشن کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ ٹرین مارچ‘ سڑکوں سے ایوانوں تک جلسے جلوس اور احتجاج کے بعد عدالت کا دروازہ بھی کٹھکٹھانا اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کم سے کم اخلاقی طور پر ’پیپلزپارٹی‘ سے بلند ہیں اور مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے سدباب کے لئے قول و فعل کے تضاد کا شکار نہیں!

پانامہ کیس کا فیصلہ منزل نہیں لیکن کامیابی کی جانب پیش قدمی ہے۔ کیا سپرئم کورٹ کے دو جج صاحبان کا فیصلہ معمولی قرار دی جاسکتی ہے؟ 

ضرورت اِس امر کی ہے کہ متحدہ اپوزیشن کا ایک ہی مطالبہ ہونا چاہئے کہ وزیراعظم اخلاقی طور پر استعفی دے اس لئے کہ اگر وہ بڑی کرسی پر موجود رہتے ہیں تو اس سے تفتیشی و تحقیقاتی عمل پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ بقول سراج الحق ’’موجودہ اور سابق حکمرانوں نے اداروں کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ قوم کو اُن سے یہ توقع ہی نہیں کہ ایک کم گریڈ کا افسر اپنے سے اعلیٰ گریڈ کے افسر کا احتساب کرے گا‘ لہٰذا وزیراعظم ’نواز شریف‘ کی عزت اسی میں ہے کہ وہ استعفی دے کر ایک آزادانہ تفتیش کا ماحول فراہم کریں۔ جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے اراکین کون ہونے چاہیءں اِس پر بھی حزب اختلاف کا مؤقف صرف اور صرف اُس صورت تسلیم کیا جاسکتا ہے جبکہ وہ متحد رہیں! کیونکہ ماضی میں بننے والی ایسی ہی کئی مشترکہ تفتیشی ٹیموں کی کارکردگی اور حاصل ہونے والے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کرنے کی بجائے رائٹ کو دائیں کی بجائے صحیح (حق) اور لیٖفٹ بائیں کی بجائے غلط سمجھنے کے اصولوں پر سیاست ہونی چاہئے تاکہ ملک میں کم سے کم اُن اخلاق قدروں کو حکمرانی کا موقع مل سکے جن میں نمو (ارتقاء) کی طاقت چھپی ہوئی ہے۔ 

لوگوں کے دین اور مسلک جدا (الگ الگ) ہو سکتے ہیں لیکن اخلاق ایک ایسا اصول (معیار) ہے جو پوری دنیا کو جوڑ اور اِسی کی عدم موجودگی میں پیدا ہونے والی تفریق کی وجہ سے ممالک اور اقوام تقسیم (ٹکڑے) بھی سکتی ہیں! 

حق‘ عدل اور اخلاق کا تقاضا یہی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک وزیراعظم اپنے عہدے سے علیحدہ رہیں۔ پارلیمینٹ میں اکثریت رکھنے والی مسلم لیگ (نواز) کسی دوسرے رکن کو وزیراعظم نامزد کر سکتی ہے۔ جمہوریت رواں دواں رہ سکتی ہے اور جمہوریت کو رواں دواں ہی رہنا چاہئے! 

Friday, April 21, 2017

Apr21: Aftermath of the Panama Case verdict!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
منظر‘ پس منظر‘ پیش منظر!

بڑے کیس کی بڑی بھی گھڑی گزر گئی! 

پانامہ کیس میں ’سپرئم کورٹ‘ فیصلے سے ’پاکستان مسلم لیگ‘ کی جیت اور حکمراں جماعت کو حسب دعویٰ ’سرخرو‘ ملی ہے۔ اصولی طور پر پانامہ پیپرز کے بارے میں تفتیش پہلے اور اِس سلسلے میں سپرئم کورٹ سے بعد میں انصاف کا مطالبہ کیا جاتا تاکہ حقائق و شواہد کا جائزہ لینے کی یوں کمی محسوس نہ ہوتی۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت سیاسی قائدین جلدبازی نہ کرتے اور ابتدأ میں کمیشن قائم کرنے کی جس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا اب اُسی کو تسلیم کرنے کے سوأ چارہ نہیں پا رہے تو آج صورتحال اور فیصلہ مختلف آ سکتا تھا لیکن حزب اختلاف نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ وقت اور حالات دونوں پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے! سپرئم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آئندہ دو ماہ ’کریمنل انویسٹی گیشن‘ کی طرح تفتیش ہو گی۔ شواہد اکٹھے کئے جائیں گے جن کی بنیاد پر سپرئم کورٹ ہی حتمی فیصلہ سنائے گی‘ جس سے وابستہ اُمیدوں کی سانسیں چلتی رہنی چاہیئں۔ 

سپرئم کورٹ کے حکم پر جو افسران تفتیش کے لئے نامزد ہوں گے اگر وہ کمزوری دکھائیں اور چاہیں بھی تو حقائق کو چھپا نہیں سکیں گے یقیناًسپرئم کورٹ کا فیصلہ اُس نوعیت سے واضح نہیں جیسا کہ ہونا چاہئے تھا لیکن ملک کے وسیع تر مفاد اور سسٹم کو بچانے کے لئے ’مزید تفتیش اور تحقیقات‘ کی اجازت دیتے ہوئے وزیراعظم کو اگر ایک اُور موقع دیا گیا ہے تو اِس میں کوئی حرج بھی نہیں کیونکہ ملک کا نظام اور معاملات بھی اہمیت رکھتے ہیں جنہیں جذبات کی عینک لگا کر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔

پانامہ کیس کے فیصلے کا لب لباب یہ ہے کہ پانچ جج صاحبان نے جو ایک بات مشترک طور پر کہی ہے اور جس پر اُن میں اختلاف رائے نہیں وہ یہ ہے کہ ’’وزیراعظم اُور اُن کے اہل خانہ کی جانب سے دیا جانے والا جواب تسلی بخش نہیں تھا‘‘ اِسی وجہ سے ’تفتیشی کمیشن‘ قائم کیا گیا تاکہ بادی النظر میں جو کام سپرئم کورٹ نہیں کر سکی اب وہی کام 2 خفیہ ادارے (آئی ایس آئی اور ایم آئی) پر مبنی تین رکنی ٹیم کرے گی جس کی قیادت وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کو سونپی گئی ہے جو وفاقی حکومت کا ماتحت ادارہ ہے اور جس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اُنیس گریڈ عہدے والے آفیسر) کو تفتیش سونپ کر یہ نہیں سوچا گیا کہ اگر اُس سرکاری ملازم کی مدت ملازمت تیس سال سے کم ہوئی تو موصوف اِسی حکومت کے تعینات کردہ (احسان مند) ہوں گے! سوال (جواز) اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا بیس اپریل کا یہی وہ فیصلہ تھا جسے ’’بیس برس‘‘ یاد رکھنے کی قوم کو اُمید دلائی گئی تھی؟ 

سوال یہ بھی ہے کہ جب سپرئم کورٹ کے سامنے باوجود بار بار استفسار کے بھی شواہد (جوابات) پیش نہیں کئے گئے تو کس طرح اُمید رکھی جا سکتی ہے کہ ایک ’ایڈیشنل ڈائریکٹر‘ کی صدارت میں جو ٹیم تشکیل ہو گی اُس کے سامنے وزیراعظم بمعہ اہل و عیال پیش بھی ہوں گے اور سچ بول کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی بھی مار دیں گے؟ گنتی پھر سے شروع ہو گئی ہے‘ قوم کو ایک اُور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے والوں کو بہرصورت یقینی بنانا ہوگا کہ تفتیش کا عمل ’ساٹھ دن‘ ہی میں مکمل کیا جائے اور اگر وزیراعظم یا اُن کے اہل خانہ اچانک بیمار ہو بھی جائیں تو تفتیش کا عمل آئندہ عام انتخابات تک طول پکڑنے نہ پائے۔ 

تفتیش کا معیار بھی ہونا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ سیکورٹی خدشات کو جواز بنا کر مذکورہ ٹیم ’وزیراعظم ہاؤس‘ جا کر رسمی کاروائی (بیان ریکارڈ) کر کے ایک ایسی تفتیشی رپورٹ سپرئم کورٹ کے سامنے پیش کرے جس کی روشنی میں اختلافی نوٹ لکھنے والے دو جسٹس صاحبان بھی ایک دوسرے کا سر پکڑ کر بیٹھ جائیں! 

بیس اپریل پاکستان کے اُن غریبوں (ہم عوام) کی توہین ہوئی ہے‘ جن کی جان و مال‘ جن کے نام پر لئے جانے والے قرضہ جات اور جن کے ادا ہونے ٹیکس کی کوئی وقعت نہیں! سچ تو یہ ہے کہ سچ تک رسائی کے لئے ہم عوام کو ابھی مزید کچھ دن‘ کچھ ہفتے‘ کچھ سال‘ کچھ دہائیاں اور شاید صدیوں انتظار کرنا پڑے گا۔عربی زبان کا محاورہ ہے کہ ’’انتظار موت سے زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے۔‘‘