Showing posts with label PPP. Show all posts
Showing posts with label PPP. Show all posts

Sunday, December 1, 2019

TRANSLATION: The debt bomb by Dr Farrukh Saleem

The debt bomb
قرضوں کا بوجھ
پاکستان کے قومی قرضوں کا بوجھ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا براہ راست تعلق ملک میں مہنگائی اُور شرح سود سے ہے۔ قیام پاکستان یعنی سال 1947ءسے 2008ء کے 61 سالہ عرصے میں ملک کے 4 گورنر جنرلز‘ 9 صدور اُور 23 وزرائے اعظم گزرے اُور اِن سبھی نے مجموعی طور پر 6 کھرب روپے کا قرض لیا۔ سال2008ءتک ہر پاکستانی (قومی قرضوں کی وجہ سے) 36 ہزار روپے کا مقروض تھا۔

سال 2008ءسے 2013ء کے درمیانی عرصے (پانچ برس) میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ پاکستان نے آصف علی زرداری کی صدارت اُور 2 وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی و راجہ پرویز اشرف کی وزارت عظمیٰ کے ادوار دیکھے۔ اِن تین کرداروں (زرداری‘ گیلانی اُور راجہ) نے پاکستان نے قومی قرض کو 6 کھرب ڈالر سے 16 کھرب ڈالر تک پہنچا دیا یعنی 5 سال کے عرصے میں پاکستان کے قومی قرض میں 10 کھرب (10-trillion) روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اگر اوسط معلوم کی جائے تو پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت (2008-13) کے دوران پاکستان کے قومی قرضے میں ہر دن (یومیہ) ”5.5 ارب روپے“ کا اضافہ کیا جاتا رہا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے مذکورہ 5 سالہ دور حکومت کے اختتام پر ہر پاکستانی اوسطاً 36 ہزار روپے سے 88 ہزار روپے کا مقروض ہو گیا یعنی پانچ سال کے دوران ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ دوگنے سے بھی زیادہ ہو گیا۔

سال 2013ءسے 2018ءکے 5 سالہ دور میں پاکستان نے ممنون حسین بطور صدر اُور 2 وزرائے اعظم میاں نواز شریف و شاہد خاقان عباسی دیکھے۔ اِن تینوں کا تعلق ایک ہی سیاسی جماعت یعنی ’پاکستان مسلم لیگ (نواز)‘ سے تھا۔ نواز لیگ حکومت کے دوران (دوہزار تیرہ سے دوہزار اٹھارہ) پاکستان کے قومی قرضوں کو 16 کھرب روپے سے بڑھا کر 30 کھرب روپے جیسی بلند سطح پر پہنچا دیا گیا یعنی پانچ سال میں 14 کھرب روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اگر نواز لیگ کے آخری دور حکومت کے دوران ہر دن لئے گئے قرض کا تناسب معلوم کیا جائے تو یہ 7.5 ارب روپے یومیہ بنتا ہے۔ لیگی حکومت نے پانچ سال تک ہر دن ساڑھے سات ارب روپے قومی قرض میں اضافہ کیا۔ یوں پانچ سال کے عرصے میں ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ جو کہ پہلے ’88 ہزار روپے‘ تھا بڑھ کر ’1لاکھ 44 ہزار روپے‘ ہو گیا۔

سال 2018ءسے 2019ئ‘ صدر مملکت عارف علوی اُور وزیراعظم عمران خان ہیں۔ اِن دونوں کا تعلق ’پاکستان تحریک انصاف‘ سے ہے۔ موجودہ حکومت کے 2 سال کی مالیاتی کارکردگی کا ایک رُخ یہ ہے کہ جولائی دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے بعد ’تحریک انصاف‘ کے برسراقتدار آنے کے وقت پاکستان کے قومی قرضوں کا کل حجم 30 کھرب روپے تھا اُور ماضی کی طرح موجودہ حکومت نے بھی قرض لینے کا سلسلہ جاری رکھا اُور قومی قرض کو 41 کھرب روپے پر پہنچا دیا یعنی اب تک (ایک سال کے عرصے میں) ’11 کھرب روپے‘ قرض لیا جا چکا ہے‘ جس کی اگر یومیہ اوسط نکالی جائے تو پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں ہر دن ’30 ارب روپے‘ قرض لیا گیا ہے۔ حکومت کی مالیاتی کارکردگی‘ ترجیحات اُور منصوبہ بندی کا اندازہ اِس اَمر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ 71 سال کے دوران پاکستان نے 30 کھرب روپے قرض لیا جبکہ تحریک انصاف نے ’1 سال‘ کے دوران ’11 ارب روپے‘ لیا ہے۔ تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے قبل ہر پاکستانی ’ایک لاکھ 44 ہزار روپے‘ کا مقروض تھا لیکن اب ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ ’1 لاکھ 87 ہزار روپے‘ ہو چکا ہے۔

لمحہ فکریہ ہے کہ قیام پاکستان سے 71 سال کے سفر میں قومی قرض میں ’73 فیصد‘ جبکہ ایک سال میں ’27فیصد‘ اضافہ ہوا ہے۔ تحریک انصاف کے مالیاتی مشیر اُور حساب دانوں کا دعویٰ ہے کہ اُنہوں نے قومی قرض کے حجم میں اضافہ نہیں کیا بلکہ تحریک انصاف نے ماضی میں لئے گئے قرض واپس کئے ہیں اُور قومی مالیاتی ذمہ داریوں کے بوجھ کو کم کیا ہے لیکن برسرزمین حقائق مختلف ہیں۔ اگر تحریک انصاف نے قرض نہ لیا ہوتا اُور قومی قرضوں کی واپسی کی ہوتی تو پھر پاکستان کی واجب الاداءمالی ذمہ داریوں میں ایک سال کے دوران ”11 کھرب روپے“ کا اضافہ نہ ہوا ہوتا۔ آخر یہ کیسے ہو گیا کہ تحریک انصاف نے قرض نہیں لیا اُور واجب الاداءقرضوں کی واپسی بھی کی لیکن پھر بھی پاکستان پر قرض بڑھ گیا ہے؟

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن تحریک انصاف نے ایک سال کے دوران ’گیارہ کھرب روپے‘ قرض لیا ہے۔ اِس قرض میں روپے کی قدر میں کمی سے ہونے والا اضافہ بھی شامل ہے لیکن یہ اضافہ ماضی میں لئے گئے قرضہ جات میں بھی شمار کیا گیا ہے کیونکہ روپے کی قدر میں کمی بیشی تب بھی ہوا کرتی تھی۔ اِس لئے کسی بھی دور حکومت کے دوران لئے گئے مجموعی قومی قرض کا موازنہ دوسرے حکومتی دور میں لئے گئے مجموعی قومی قرضوں ہی سے کیا جائے گا۔
سال 1971ءمیں ہر پاکستان فرد (مرد‘ عورت یا بچے) کے ذمے 500 روپے قومی قرض تھا اُور 48 برس میں ہر پاکستانی فرد ”1 لاکھ 87 ہزار روپے“ کا مقروض ہو چکا ہے۔

قرض وقتی طور پر راحت کا باعث ضرور ہوتے ہیں لیکن جب ایک خاص حد سے زیادہ قومی قرضوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اِس کی وجہ سے ’ملکی شرح سود‘ میں اضافہ کرنا پڑتا ہے اُور معیشت قرضوں کی عادی ہونے لگتی ہے کیونکہ مصنوعی طریقے سے معیشت کو چلانے میں اِس کی ناکامی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ جہاں خسارے (قومی معاشی ناکامی) کے امکانات زیادہ ہوں‘ وہاں یا تو سرمایہ کاری نہیں ہوتی یا سرمایہ کار احتیاط سے کام لیتے ہوئے زیادہ مراعات اُور منافع کا تقاضہ کرتے ہیں اُور اِن دونوں روئیوں (حکمت عملیوں) کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومی اقتصادی ترقی یا تو بالکل رُک جاتی ہے یا پھر اِس کی شرح نمو میں اضافہ نہیں ہوتا۔

حد سے زیادہ قومی قرضہ جات میں اضافے کی مثال ایک ایسی گاڑی میں سفر سے دی جا سکتی ہے جو اپنی جگہ پر کھڑی ہو لیکن اُس کے اندر بیٹھے ہوئے افراد سمجھ رہے ہوں کہ سفر جاری ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, February 18, 2018

TRANSLATION: Horse-Trading by Dr. Farrukh Saleem

Horse-trading
ہارس ٹریڈنگ
سال 37 سے 41 عیسوی کی بات ہے جب ’’رومن دور حکومت کے تیسرے بادشاہ ’گائیس جولیس سیزر‘ (Gaius Julius Caesar) المعروف ’کالیگوا‘ (Caligula) کو اپنے گھوڑے ’اِنچی تاتُس (Incitatus)‘ سے اتنا پیار ہوا کہ اُسے ’رومن قانون ساز ادارے ’سینیٹ‘ کا رکن بنا دیا گیا۔‘‘ جو کچھ میں لکھ رہا ہوں یہ موجودہ اراکین صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے لئے اُمیدواروں کی زبانی سنا ہے۔ تین مارچ کے روز ’سینیٹ انتخابات‘ کا مرحلہ درپیش ہے جس کے لئے بلوچستان اسمبلی 65 اراکین اسمبلی نے اپنے اپنے ووٹ (رائے) کے ذریعے 7 سنیٹیرز کا براہ راست انتخاب کرنا ہے۔ کسی اُمیدوار کو سینیٹر بننے کے لئے بلوچستان اسمبلی کے 9 اراکین کی حمایت درکار ہے۔ سینیٹ کے اُمیدواروں کی جانب سے اراکین صوبائی اسمبلی کو اپنے حق میں ووٹ دینے کی پیشکشیں بھی کی جا رہی ہیں اور انہیں اراکین اسمبلی کی جانب سے بھی رقم کا تقاضا سننے میں آ رہا ہے۔ 

سردست بات تین کروڑ روپے فی ووٹ تک جا پہنچی ہے۔ اراکین اسمبلی کچھ کمانے کے اِس آخری موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں کیونکہ عام انتخابات سے قبل اُنہیں سینیٹ نشستوں کے لئے ووٹ ڈالنے کا یہ آخری موقع مل رہا ہے۔ شنید ہے کہ ڈھائی کروڑ تک کی پیشکشیں عام ہو رہی ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ ایک سینیٹ کی نشست کے لئے بولی 25 کروڑ روپے تک جا پہنچی ہے اور اِس پورے انتخابی عمل میں قریب ’2 ارب روپے‘ کی لین دین ہونے والی ہے!

جو کچھ میں لکھ رہا ہوں یہ موجودہ اراکین صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے لئے اُمیدواروں کی زبانی سنا ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کی تعداد 124 ہے جنہوں نے براہ راست انتخاب کے ذریعے 7 سینیٹرز کا انتخاب کرنا ہے۔ یوں سینیٹ کے کسی بھی اُمیدوار کو کامیابی کے لئے 18 اراکین صوبائی (خیبرپختونخوا) اسمبلی کی حمایت (ووٹ) چاہئے۔ بلوچستان اسمبلی کی طرح یہاں بھی بولی لگ رہی ہے اور سینیٹ کے لئے فی ووٹ کی قیمت 2 کروڑ تک جا پہنچی ہے۔ آئندہ عام انتخابات سے قبل ’اراکین صوبائی اسمبلی‘ کے لئے کچھ کمانے کا یہ آخری موقع ہے۔ ایک ووٹ کے عوض 2 کروڑ روپے کی پیشکش کا مطلب ہے کہ سینیٹ کی ایک نشست کی قیمت قریب 35 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔ اِس موقع پر اپنی ہی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹ اُمیدواروں سے اراکین صوبائی اسمبلی کچھ رعائت کا معاملہ کر سکتے ہیں تاہم اندازہ ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخاب کے لئے اراکین کے درمیان 2 ارب روپے کی لین دین متوقع ہے!

نتیجۂ خیال (خلاصۂ کلام) یہ ہے کہ 18 فروری سے 3 مارچ کے درمیان بلوچستان اور خیبرپختونخوا قانون ساز ایوانوں میں ’’4 ارب روپے‘‘ کی لین دین متوقع ہے۔ قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی سینیٹ انتخاب میں ووٹ دینے کے اہل ہیں جن کی سینیٹ اُمیدواروں سے رابطے اور ملاقاتیں زبان زد عام ہیں! سننے میں آیا ہے کہ سینیٹ کے لئے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایک ووٹ کی قیمت 5 کروڑ روپے مقرر ہے!

قانون ساز ایوان بالا‘ سینیٹ میں پاکستان پیپلزپارٹی (پارلیمینٹرین) سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کی کل تعداد 26 ہے‘ جن میں 18 کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ اِس صورتحال میں پیپلزپارٹی سب سے زیادہ ’حاجت مند‘ ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اراکین صوبائی اسمبلی کی حمایت خریدے تاکہ سینیٹ میں اُس کی موجودگی اور پلڑا بھاری رہے۔ اِس حوالے سے جو معلومات مجھ تک پہنچی ہیں وہ قابل اعتماد ذرائع سے ہیں اور اِن معلومات کے مطابق پیپلزپارٹی نے بلوچستان اسمبلی سے ووٹ خریدنے کے لئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کر رکھے ہیں۔ شریک چیئرمین آصف علی زرداری مبینہ طور پر منصوبہ سازی کر رہے ہیں کہ وہ بہرصورت بلوچستان سے سینیٹ کی چھ سے تین جبکہ خیبرپختونخوا سے ایک یا دو نشستیں حاصل کریں۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں پیپلزپارٹی کا ایک بھی رکن صوبائی اسمبلی کا حصہ نہیں لیکن وہ وہاں سے سینیٹ نشست جیتنے کے متمنی ہیں۔

سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ صوبہ پنجاب اور سندھ کی اسمبلیوں سے تعلق رکھنے والے اراکین کے منہ سے بھی رال ٹپک رہی ہے اور وہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی کی طرح سینیٹ انتخاب سے کچھ نہ کچھ مالی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن توقع ہے کہ پنجاب اور سندھ اسمبلیوں میں سینیٹ کے لئے انتخابات نسبتاً شفاف ہوں گے۔ یاد رہے کہ پنجاب میں 53 اراکین صوبائی اسمبلی کے ووٹوں سے ایک سینیٹر منتخب ہو گا۔

مارچ 2016ء کی بات ہے جب ’سینیٹ آف پاکستان‘ کے اراکین نے اِس بات پر احتجاج کیا کہ دیگر قانون ساز اسمبلیوں کے اراکین کی طرح اُنہیں بھی ’سالانہ ترقیاتی فنڈز‘ دیئے جائیں۔ جس پر وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے وعدہ کیا تھا کہ ہر سینیٹر کو ’20 ارب روپے‘ کے ترقیاتی فنڈز دیئے جائیں گے۔

تصور کیجئے سینیٹ اراکین کی کل تعداد 104 اور اِن میں سے ہر ایک کی قدر ’اُنیس کروڑ (190 ملین) روپے!‘ انسان اشرف المخلوقات ہستی ہے لیکن صرف اُسی صورت میں جبکہ اُس کے اعمال واجب الاحترام یعنی دیگر ہم زمین مخلوقات سے عقل و شعور کے حامل ہوں۔ اگر ’رومن بادشاہت‘ میں گھوڑے سینیٹ کی رکنیت کے اہل ہو سکتے ہیں تو اِس بات پر تعجب کیسا کہ اگر پاکستان کی سینیٹ میں بھی گھوڑوں (جانوروں) کی طرح خریدوفروخت کے بعد وفاداریاں (حمایت اور ووٹ) حاصل کی جائیں!

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)

Wednesday, March 29, 2017

Mar2017: Political Tug of War!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سرخرو سیاست!
نورا کشتی ملاحظہ کیجئے کہ وزیراعظم تین مرتبہ اندرون سندھ کا دورہ کر چکے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے پنجاب میں مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور دونوں جماعتیں ہی آئندہ عام انتخابات میں ایک دوسرے کو کڑا مشکل سے دوچار کرنے کے دعوے کر رہی ہے جبکہ عوام کو درپیش بحرانوں کے حل کی نوید سناتے اور ذمہ داروں کا تعین بھی کرتے تو اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو جاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے وسائل کی لوٹ مار کرنے میں جن سیاسی جماعتوں کا بنیادی کردار رہا ہے‘ اُن کا تعلق یا تو حکومت سے رہا ہے یا پھر حزب اختلاف سے۔ باری بدل بدل کر حکمرانی کرنے والوں کی نظریں بھی سپرئم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں جہاں فیصلہ مرتب ہو رہا ہے یا سو رہا ہے‘ ایک ہی بات ہے!

پیپلزپارٹی خود کو سرخرو سمجھ رہی ہے۔ سابق وفاقی وزیر حامد کاظمی ’باعزت بری‘ ہوئے‘ تو مبارکبادوں اور مخالفین پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے کیونکہ اُن کے خلاف بنائے جانے والے مقدمات ’سنی سنائی‘ باتوں پر مبنی تھے۔ سابق چیف جسٹس اِفتخار چودھری نے سیاسی جج ہونے کا کردار ادا کیا۔ جس کا دباؤ موجودہ سپرئم کورٹ پر ڈالتے ہوئے ’پیپلزپارٹی‘ للکار رہی ہے اور قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ پانامہ کیس میں وزیراعظم کے خلاف فیصلہ نہیں آئے گا‘ اور اِسی ’ناانصافی‘ کو لیکر وہ آئندہ انتخابات کے لئے ہمہ وقت تیار ہے لیکن اِس مرتبہ سندھ سے نہیں بلکہ پنجاب کو مرکز بنائے گی!

اٹھائیس مارچ کے روز لاہور میں مقیم آصف زرداری نے مبینہ طور پر ’پارٹی کے دیگر قائدین‘ سے مشاورت کے بعد ’سیاسی صف بندی‘ کا فیصلہ کیا ہے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ اُن کے کسی فیصلے سے کسی کو بھی اختلاف کی جرأت نہیں ہو سکتی! لیکن جس سیاسی صف بندی کی جانب اشارہ کیا جا رہا ہے اُسے ’سپرئم کورٹ‘ کے فیصلے سے مشروط کر دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ پیپلزپارٹی دیگر سیاسی جماعتوں سے ایک قدم آگے سوچ رہی ہے اور اُس نے ہر طرح کے حالات کے لئے الگ الگ حکمت عملی مرتب کر رکھی ہے۔

آصف علی زرداری کبھی بھی اِتنے فعال اُور کھلے کھلے نہیں رہے۔ حالیہ دورۂ ملتان میں سابق وزیر حامد سعید کاظمی سے ملاقات کے بعد انہوں نے عدلیہ پر نشترزنی کا یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا لیکن اِس سے زیادہ خطرناک بات یہ تاثر دینا ہے کہ ’’وزیراعظم کے خلاف پانامہ کیس میں کبھی بھی فیصلہ نہیں آئے گا۔‘‘ پیپلزپارٹی کے قائدین جس لب و لہجے اور جس گرمجوشی سے عدالتی نظام پر اپنی بے اعتمادی کا بھی اظہار کر رہے ہیں‘ اُنہیں سمجھنا چاہئے کہ عوام کے پاس صرف یہی ایک اُمید باقی بچی ہے۔ باقی سب اداروں کا تو وہ پہلے ہی ’خانہ خراب‘ کر چکے ہیں۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج کی تاریخ میں ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ اور ’وفاقی تحقیقاتی اِدارہ (ایف آئی اے)‘ فعال ہیں؟ بطور سیاستدان آصف علی زرداری سمیت سبھی ہر کسی کو یہ حق حاصل ہے وہ کسی بھی انتخابی حلقے سے بطور اُمیدوار عام انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے لیکن کیا ایسا کرنے کی صورت اُس حلقے کے مقامی کارکنوں کی حق تلفی نہیں ہوگی؟ الیکشن کمیشن کو اِس بارے غور کرنا چاہئے کہ ایک سے زیادہ نشستوں پر انتخاب میں بطور اُمیدوار حصہ لینے پر پابندی عائد ہونی چاہئے کیونکہ ’پے در پے‘ ضمنی انتخابات‘ کسی بھی صورت سستے نہیں ہوتے۔

پیپلزپارٹی قبل ازیں بھی پنجاب سے عام انتخابات میں حصہ لیتی رہی ہے اور اگر اپنے دور میں جنوبی پنجاب پر مشتمل علاقوں کو الگ صوبے کا درجہ ’حسب اعلان‘ دے چکی ہوتی‘ تو اُن کی کامیابی کے واضح امکانات دکھائی دے رہے ہوتے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اندرون سندھ نواز لیگ اور اندرون پنجاب پیپلزپارٹی درحقیقت تحریک انصاف کا راستہ روکنے کے لئے بطور متبادل قیادت خود کو پیش (متعارف) کروا رہی ہے اور تاریخ دیکھے گی کہ دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کسی بھی طرح دوہزار تیرہ سے مختلف نہیں ہوگا۔ قوم کا حافظہ کمزور ہے لیکن اتنا کمزور بھی نہیں۔ عوام نہیں بھولی کہ پیپلزپارٹی حکومت کے بدترین طرزحکمرانی اور بدعنوانی کی کیسی کیسی داستانیں زبان زد عام ہوئیں! اب اگر زرداری صاحب پورے پنجاب کو اپنی مٹھی میں کرنے کی بات کر رہے ہیں تو اس کے لئے انہیں عوام سے ٹوٹا رابطہ بحال کرنا ہوگا۔ 

پورے پنجاب میں پیپلزپارٹی کو فعال کرنا ہوگا جبکہ پارٹی کا وجود چند گھرانوں تک محدود ہو چکا ہے۔ آج بھی بھٹو کے نام میں بڑی توانائی ہے۔ آج بھی روٹی کپڑے اور مکان کا نعرہ وقعت ہے۔ آج بھی بھٹو خاندان کے خون سے لکھی ہوئی قربانیوں کی داستان کا ہر لہو چمک رہا ہے لیکن ملک کے بڑے شہروں میں ذرائع ابلاغ کی بنیاد پر ووٹ کا فیصلہ کرنے والے اور 27فیصد سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو یقین دلانا ہوگا‘ عام آدمی (ہم عوام) کو بتانا ہوگا کہ وہ اجتماعی بہبود کے لئے ایسا کیا مزید کرنا چاہتے ہیں جو پہلے نہ کرسکے۔ 

پیپلزپارٹی قیادت کو خیبرپختونخوا کے حوالے سے بھی اپنی ترجیحات کھول کر بیان کرنی چاہیءں کیونکہ پیپلزپارٹی کارکنوں میں پائی جانے والی اِنتہائی مایوسی کسی بھی صورت نیک شگون نہیں اور آئندہ عام انتخابات پر منفی اثرانداز ہو سکتی ہے۔ بہرحال ملک کا کوئی بھی صوبہ ہو‘ آخری فیصلہ عوام نے ہی کرنا ہے جو سیاسی جماعت کو مطمئن کرے گا‘ وہی سرخرو ہو گی‘ محض زبانی جمع خرچ اور آئندہ عام انتخابات میں قربانیوں کے بطور صلہ‘ ہمدردی کے ووٹ ملنے کی اُمید نہیں رکھنی چاہئے۔
Understanding between ruling PMLN and PPP not beneficial for the people of Pakistan, why not


Wednesday, March 22, 2017

Mar2017: Are you going to pollute PTI?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کرچیاں!
شاعر مجید اِمجد نے طویل نظم ’بس اسٹینڈ پر‘ کھڑے جس تصور‘ اُمید اور شب و روز کی مصروفیات کو بیان کیا‘ اُس کا ہر ایک لفظ ’خیبرپختونخوا کے موجودہ سیاسی منظرنامے پر صادق آتا ہے: ’’ضرور اِک روز بدلے گا نظامِ قسمتِ آدم۔۔۔بسے گی اِک نئی دنیا‘ سجے گا اِک نیا عالم۔۔۔شبستاں میں نئی شمعیں‘ گلستاں میں نیا موسم!۔۔۔ ’وہ رُت‘ اَے ہم نفس جانے کب آئے گی؟۔۔۔ وہ ’فصلِ دیر رس‘ جانے کب آئے گی؟ ۔۔۔ یہ ’’نو نمبر‘‘ کی بس جانے کب آئے گی؟‘‘ کسی بس اسٹینڈ پر منتظر لوگوں کے ذہنوں میں ’پاش پاش سوالات‘ کی کرچیاں اُن کی روح کو ہمیشہ لہولہان رکھتی ہیں! 

جاگتی آنکھوں سے زیادہ بڑا عذاب کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا‘ جس سے اَخذ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا سے اگر ’حسب توقع انصاف‘ نہیں کر پائی تو اِس کا ازالہ کسی بھی دوسری صورت ممکن نہیں مگر صوبائی سطح پر تنظیم سازی کے ذریعے کارکنوں کے تحفظات اُور خدشات دور کئے جائیں۔ دیگر سیاسی جماعتوں سے ’انتخابات میں سرمایہ کاری‘ کرنے والوں کو شمولیت کی دعوت دینے سے قبل کیا پارٹی کے دیرینہ کارکنوں سے رائے لی گئی؟ اگر پارٹی کی ذیلی تنظیمیں بشمول ویمن ونگز ہی فعال و منظم نہیں تو اس قسم کی مشاورت کس سطح پر اور کس سے کی گئی؟ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آسان سیاسی فیصلے کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں ’تحریک انصاف‘ کو ووٹ ملنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے سبھی اضلاع میں عام آدمی (ہم عوام) کی اکثریت ’انتخابات بے زار‘ ہو چکی تھی جس کے لئے چہرے اُور انتخابی اتحاد بدل بدل کر وعدے ایفاء نہ کرنے والی ’روائتی سیاسی جماعتوں بشمول مسلم لیگ (نواز)‘ پاکستان پیپلزپارٹی‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن)‘ کے معنی صرف ایک تھے کہ اقتدار‘ استحصال اور بدعنوانی کرو‘ (نیب مقدمات کی بطور حوالہ ایک طویل فہرست موجود ہے!) جس کی وجہ سے عوام نے ’’متبادل‘‘ کے طور پر تحریک انصاف کو ووٹ دیئے اور اگر ماضی کے وہی انتخابی شکست خوردہ کردار تحریک انصاف میں شمولیت اِس شرط کے ساتھ شمولیت اختیار کرتے ہیں کہ وہ پارٹی فنڈ میں عطیات کے عوض آئندہ عام انتخابات کے لئے تحریک انصاف کی جانب سے نامزدگی (پارٹی ٹکٹ) پائیں گے تو اس ’(لین دین) سودے بازی‘ کا منفی اثر برآمد ہوگا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ اِس سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے ہر قسم کی بدعنوانی کے خلاف آئینی‘ سماجی اور سیاسی سطح پر جدوجہد کرکے ایک نئے پاکستان کی تشکیل کی جا رہی ہے تو کیا ’نیا پاکستان‘ اُن پرانے چہروں سے تشکیل پا سکتا ہے جن کی ساکھ مشکوک ہو؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کے سیاسی تجربہ کا فائدہ ’صوبائی حکومت‘ کو کامیابی سے برقرار رکھنے میں تو دکھائی دیتا ہے لیکن خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف منتشر دکھائی دیتی ہے۔ تنظیم سازی کا عمل غیرضروری طور پر معطل رکھنے سے کارکنوں میں تشویش پائی جاتی ہے جنہیں اپنی سیاسی وابستگی اور جانی و مالی قربانیوں کے صلہ ملنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ تحریک انصاف (کے پیغام) میں یہ صلاحیت (طاقت) تھی کہ عہدوں‘ اختیارات اور مراعات پر مبنی شاہانہ رکھ رکھاؤ کی بجائے سادگی پر مبنی ایک ایسے طرزحکمرانی کی بنیاد رکھتی‘ جو صرف خیبرپختونخوا ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لئے عملی مثال بن جاتی لیکن نہ تو سرکاری دفاتر کے اُوقات کار بدلے اور نہ سرکاری ملازمین کے مزاج میں تبدیلی آئی ہے‘ جن کی نظر میں ’عام آدمی (ہم عوام)‘ کی حیثیت و ضروریات کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں! 

کیا آج کے خیبرپختونخوا میں بنیادی سہولیات (صحت و تعلیم‘ پینے کے صاف پانی کی دستیابی‘ نکاسی آب‘ صفائی‘ کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کا نظام) ملک کے دیگر حصوں سے مختلف و بہتر ہے؟ 

کیا صوبائی اقتدار سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے خیبرپختونخوا میں سیاسی شعور و شہری و دیہی علاقوں میں گردوپیش بہتر بنانے کی سوچ (سوک سینس) ملک کے دیگر حصوں سے زیادہ اور بدرجۂ اَتم پایا جاتا ہے؟ 

خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو کھیل کود‘ اپنی صلاحیتیں اُجاگر کرنے اور تعلیم و تحقیق کے شعبے میں آگے جانے کے مواقع ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے زیادہ میسر ہیں؟ صنفی مساوات اُور جنسی بنیادوں پر امتیازات کے حوالے سے خیبرپختونخوا ملک کے دیگر حصوں سے زیادہ مثالی ہے؟ یہاں صارفین کا استحصال نہیں ہو رہا؟ 

خیبرپختونخوا میں شاہراؤں کی حالت‘ بالائی و تاریخی و مذہبی سیاحتی مقامات پر سہولیات کے مقدار اور معیار تبدیل نظر آتا ہے؟ سوشل میڈیا اُور ذرائع ابلاغ کے اَن گنت وسائل کی طاقت سے ’انقلاب کی لہریں‘ اگر چائے کی پیالی سے اُچھل اُچھل کر برپا طوفان کی نشاندہی کر رہی ہوں تو اِس سے ’عام آدمی (ہم عوام)‘ کی زندگی میں عملاً بہتری نہیں آئی ہے کیونکہ نہ تو زراعت کی خاطرخواہ ترقی کی مثالیں موجود ہیں اور نہ ہی اِس اہم شعبے سے جڑے روزگار کے لاتعداد امکانات اور وسائل کی ترقی کا ہدف حاصل ہوسکا ہے۔ 

اَمور حکومت پہلے بھی چل رہے تھے اُور آج بھی رواں دواں ہیں تو کیا یہی وہ تبدیلی ہے‘ جس کی خواہش میں خیبرپختونخوا نے ’متبادل قیادت‘ کا انتخاب کیا اور اب سوچ رہے ہیں کہ کہیں یہ اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تو نہیں تھا! 
گر جاؤ گے تم اپنے مسیحا کی نظر سے۔۔۔ 
مر کر بھی علاج دل بیمار نہ مانگو! (اَحمد فرازؔ )۔
 Politics of electibles shouldn't be priority of PTI

Sunday, April 24, 2016

TRANSLATION: Who are Punjabi Taliban?

Who are Punjabi Taliban
پنجابی طالبان کون ہیں؟
صوبہ پنجاب میں جہاں کہیں دہشت گردی رونما ہوتی ہے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے تو ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح کا عموماً استعمال ہوتا ہے۔ حال ہی میں پنجاب کے ضلع راجن پور میں ’چھوٹو گینگ‘ نامی ایک جرائم پیشہ گروہ کے خلاف کاروائی کی گئی جس میں ’پنجابی طالبان‘ کا نام آیا۔ اگرچہ ’چھوٹو گینگ‘ ایک جرائم پیشہ گروہ ہے لیکن اِس قسم کی افواہیں امکانات پر بیان کی جاتی ہیں کہ عسکریت پسندوں نے ممکنہ طور پر جرائم پیشہ عناصر سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہو یا پھر انہوں نے دریا کنارے ’کچا جمال‘ کی پٹی میں پناہ لے رکھی ہو جو راجن پور کی تحصیل روجھان کا علاقہ ہے۔ ابھی تک اس بات کے شواہد نہیں ملے ہیں کہ غلام رسول المعروف چھوٹو کے عسکریت پسندوں کے کسی ’نیٹ ورک‘ کے ساتھ روابط تھے یا پھر اُس نے بلوچی‘ سندھی یا دیگر عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کی یا انہیں اسلحے کی فراہمی میں ملوث رہا ہو۔ درحقیقت چھوٹو نے اپنے آپ کو فوج کے حوالے کرنے سے قبل مبینہ طور پر اُن رابطہ کار پولیس حکام بارہا کہا کہ اُسے طالبان کے طور پر ظاہر کرنا غلط ہے۔ اُس سے منسوب یہ بیان بھی ہے کہ میں مسلمان ہوں نہ کہ طالبان۔

پنجابی طالبان کی زیراستعمال اصطلاح کا کافی دلچسپ پس منظر ہے۔ سال 2001ء کے آخری دنوں میں جب پنجابی بولنے والے عسکریت پسند افغانستان پر غیرملکی جارحیت کے خلاف لڑنے کے لئے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں پہنچے تو اُن کے لئے یہ اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ یہ پنجابی طالبان باجوڈ‘ مہمند‘ خیبر‘ کم اور اورکزئی کے قبائلی علاقں میں مقیم ہوئے یا پھر شمالی و جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں روپوش ہوئے اور یہیں انہوں نے عسکری تربیت حاصل کی تاکہ وہ افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ جاری مزاحمت میں حصہ لے سکیں۔ مقامی پختون عسکریت پسندوں نے بھی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اپنے اِن ساتھیوں کو ’پنجابی طالبان‘ پکارنا شروع کر دیا۔ پنجابی طالبان کی پختون اکثریتی عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلق سے لسانی رنگینیاں بھی پیدا ہوئیں جیسا کہ خان سید نامی اہم عسکریت پسند رہنما کو ’سجنا‘ کہہ کر مخاطب کیا جانے لگا۔ چونکہ خان سید کا پنجابی طالبان کے ساتھ رویہ دوستانہ تھا اِس لئے اُسے ’سجنا‘ کا لقب دیا گیا جو اصل نام کے مقابلے زیادہ معروف ہوگیا۔ خان سید نے خود کو سجنا کہلانے پر کبھی بھی اعتراض نہیں کیا حالانکہ اُس کا اپنا اختیار کردہ لقب ’خالد محسود‘ تھا۔ طالبان کی بہت سی قسمیں ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے الگ شناخت کے طور پر مختلف نام دینا بھی ایک ضرورت ہی تھی۔ لفظ ’طالب‘ جس سے ’طالبان‘ بنا کا لغوی معنی ایک ایسے شخص کے ہیں جو طالب علم ہے اور یہ اصطلاح اصلاً 1994ء میں اُس وقت سے زیراستعمال ہے جب افغانستان کے سابق دارالحکومت شہر قندھار سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما ’ملا محمد عمر‘ نے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ پھر جب دسمبر 2007ء میں جنوبی وزیرستان (قبائلی علاقے) میں بیت اللہ محسود نے ’تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)‘ کی بنیاد رکھی جو کہ افغانستان کے طالبان ہی کی طرز پر پاکستانی شاخ تھی تو اُس وقت افغان طالبان کی اصطلاح متعارف ہوئی تاکہ طالبان کے اِن دونوں گروہوں کے درمیان تمیز کی جاسکے۔ دریں اثناء پاکستانی طالبان جن کے ایک دھڑے کی شناخت کے لئے پنجابی طالبان استعمال ہونے لگا ’پختون عسکریت پسندوں‘ کی اکثریت والی تنظیم کا حصہ بنتے چلے گئے۔ یہ بات دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ پختون عسکریت پسندوں کو کبھی بھی ’پختون طالبان‘ نہیں کہا گیا جیسا کہ بعد میں شامل ہونے والوں کے لئے ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ عسکریت پسندوں میں کوئی ایسا خاص دھڑا یا دستہ نہیں کہ جسے ’پنجابی طالبان‘ کہا جاتا ہے بلکہ صرف لسانی بنیادوں پر یعنی پنجابی زبان بولنے کی وجہ سے ایسے عسکریت پسند پنجابی طالبان کہلائے۔ جہادی تنظیمیں نظریاتی وجوہات یا قیادت کرنے والی شخصیات کی ذاتی حیثیت و مقام سے اختلاف یا ٹکراؤ کی بناء پر گروہوں میں تقسیم ہوئیں اور ان میں سے بہت سی تحریک طالبان پاکستان سے اتحادی ہوئیں کیونکیہ یہ سب سے طاقتور ایک ایسا گروہ تھا جو قبائلی علاقوں پر بھی کنٹرول رکھتا تھا اور اس میں یہ صلاحیت بھی تھی کہ حسب ضرورت اُن مقامی یا غیرملکی عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں اور تحفظ فراہم کرسکتا تھا‘ جنہیں مدد کی ضرورت ہوتی تھی۔ عسکریت پسندوں کی اکثریت مختلف گروپوں میں تقسیم ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے کو شخصی طورپر جانتی تھی کیونکہ وہ افغانستان و پاکستان میں اکٹھے کاروائیاں کرتے رہے تھے یا پھر اکٹھے تربیت حاصل کرچکے تھے اور جب وہ نے تحریک طالبان پاکستان میں شامل یا اس کے اتحادی بنے تو اُن کے درمیان تعلقات زیادہ مضبوط ہوگئے۔ پنجابی طالبان کے کچھ دھرے ایسے تھے جنہوں نے اِس اصطلاح کا اپنے لئے عمومی استعمال کیا یا پھر ایسے مواقعوں پر اِس اصطلاح کا استعمال کیا گیا جبکہ کاروائی کو شناخت کرنے کی ضرورت پیش رہی۔

پاکستان کی سیاسی صورتحال میں بھی ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح کا استعمال ہو چکا ہے۔ 2008ء کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد جب پاکستان پیپلزپارٹی کی وفاق میں حکومت بنی تو اُس وقت کے وزیرداخلہ رحمان ملک کی جانب سے ’پنجابی طالبان‘ کی اِصطلاح اِستعمال کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے باقاعدہ اِحتجاج کیا تھا اور یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ ’پنجابی طالبان‘ نامی کسی ایسے مبینہ دھڑے کا وجود نہیں۔ تکنیکی طور پر اگر دیکھا جائے تو شہباز شریف اپنے اِس دعوے میں سچے تھے کیونکہ اُس وقت تحریک طالبان پاکستان میں ایسے کسی دستے کا وجود نہیں تھا جو ’پنجابی طالبان‘ ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ چاہے جس نام سے بھی پکارا جائے لیکن ’پنجابی طالبان‘ کا وجود تحریک طالبان پاکستان میں اَہم و فعال ہے۔

پاکستان کے حکمراں طبقے کی اکثریت جس کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے پنجابی طالبان کے وجود کا انکار کرتے رہے اُس وقت تک جبکہ گلشن اقبال پارک لاہور میں خودکش حملہ ہوا‘ جس سے بھاری جانی نقصانات ہوئے۔ مذکورہ دہشت گرد حملے کے بعد وفاقی اور پنجاب حکومت جس کی قیادت پاکستان مسلم لیگ (نواز) کر رہی ہے نے پنجاب بالخصوص جنوبی اضلاع میں موجود عسکری گروہوں کے خلاف کاروائی کی مطالبہ کیا۔ قبل ازیں بڑے عسکریت پسند رہنما ملک اسحاق اور اُن کے ساتھی مارے گئے یا پولیس مقابلے میں قتل ہوئے لیکن یہ کاروائی اُسی مطالبے کا عملی نمونہ تھی۔پاکستان مسلم لیگ نواز کی سیاسی مخالفت کرنے والی جماعتیں جن میں خیبرپختونخوا‘سندھ و بلوچستان کی حکمراں جماعتیں اور اِن صوبوں کی قوم پرست جماعتیں بھی شامل تھیں پنجاب کے عسکری گروہوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرنے میں پیش پیش تھے۔ ’چھوٹو گینگ‘ کی مزاحمت‘ کئی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور پولیس و بعدازاں فوج کی کاروائی جیسے واقعات سے ثابت ہوا ہے کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال مثالی نہیں یا پھر جس قدر بہتر بیان کی جاتی ہے حقیقت میں ویسی نہیں۔ پنجابی طالبان کی اصطلاح معرض وجود میں آئی اور یہ باقی رہے گی لیکن برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ عسکریت پسند کسی بھی نام یا گروہ سے تعلق رکھتے ہوں کمزور ہوئے ہیں اور تحریک طالبان پاکستان کی طاقت کے مراکز ماضی کے مقابلے منتشر دکھائی دیتے ہیں۔ پاک فوج کی کاروائی اور امریکہ کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں اُن کے قدم قبائلی علاقوں سے بھی اکھڑنے کے بعد اُن کی اکثریت یا تو افغانستان چلی گئی ہے یا پھر پاکستان کے طول و عرض میں روپوش ہو گئی ہے۔ پنجابی طالبان کے نام سے شہرت رکھنے والے باقی ماندہ عسکریت پسند ایک خطرہ تو ہیں لیکن اُن کے نقصان پہنچانے کی صلاحیت و استعداد بڑی حد تک کم (تقلیل) ہو گئی ہے۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Thursday, December 24, 2015

Dec2015: Death of nation!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ضمیر کی موت!
توجہ طلب ہے کہ فلم سازی اُور اَداکاری جیسے شعبوں میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے عامر خان نے ایک ایسے مداح (فین) کی جانب سے ملاقات کی خواہش پوری کی ہے جو ’’پروجیریا (قبل از وقت بڑھاپا طاری ہونے)‘‘ کی بیماری (Progeria) میں مبتلا ہے۔ چودہ سالہ نہال نامی بچے نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ پر اپنے پیغام میں عامر خان سے ملاقات اور اُن کے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

فیس بک کا یہ پیغام کروڑوں مداحوں سے ہوتا ہوا‘ عامر خان تک بھی پہنچا تو انہوں نے ’’نہال‘‘ کی دلی خواہش بصدشکریہ پوری کردی۔ جس کے بعد نہال نے اپنے پیغام (فیس بک پوسٹ) میں کہا کہ ’’عامر انکل میرا خواب پورا کرنے کے لئے آپ کا شکریہ۔ آپ کی فلم ’’تارے زمین پر‘‘ نے مجھے بہت متاثر کیا اور مجھے یقین تھا کہ ایک دن میں آپ سے ضرور ملوں گا۔‘‘ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ عامر خان کی فلم ’’تارے زمین پر‘‘ کی کہانی ’ایشان‘ نامی ایک ایسے بچے سے متعلق تھی‘ جسے لکھنے بولنے اور سمجھنے میں دقت رہتی ہے۔ آٹیزم (Autism) نامی بیماری سے متاثرہ بچے معاشرے میں تنہائی کا شکار رہتے ہیں‘ جنہیں دیگر بچوں سے زیادہ اور خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بھارت کی فلمی صنعت عشقیہ (رومانس پر مبنی) فلموں سے بھری پڑی ہے‘ عامر خان نے ’دستاویزی اور فیچر فلم‘ کے امتزاج کو اِس خوبی سے پیش کیا کہ آٹیزم سے متاثرہ بچے جنہیں اُن کی پیدائشی کمزوریوں کی وجہ سے معاشرہ سمجھنے سے قاصر چلا آ رہا تھا‘ اُن کے بارے میں بھارت و پاکستان اور جہاں جہاں اُردو بولنے اور سمجھنے والے لوگ بستے ہیں اور انہیں ’تارے زمین پر‘ نامی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ تو وہ جان گئے کہ خصوصی بچوں کا کتنا اور کس طرح و کس قدر خیال رکھنا چاہئے۔ قبل از وقت بڑھاپا طاری ہونے کے مرض میں مبتلا ’’نہال‘‘ کا عامر خان سے ملنے کے بعد یہ بھی کہنا تھا کہ ’’اُس کے اَندر جینے کی نئی اُمید پیدا ہوئی ہے۔‘‘ عامر خان نے فیس بک پر نہال کے ساتھ اپنی تصویر شائع (شئیر) کی اُور انہیں صحت یابی کی دعاؤں کے ساتھ انسانیت دوستی کا ایک ایسا ’’اَن کہا پیغام‘‘ دیا ہے‘ جس کے مطالب و معانی اور پہلوؤں پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ عامر خان بھارت کی انتہائی اہم شخصیات (وی وی آئی پیز) کی فہرست میں شامل ہیں لیکن اُنہوں نے اپنی سماجی و مالی حیثیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس طرح ایک مداح کی خواہش پوری کی ہے‘ اُس سے ظاہر ہوگیا ہے کہ انسانیت پر یقین رکھنے والا کوئی بھی ہوسکتا ہے‘ اُس کا بظاہر مذہبی ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی اُس کے لباس و رہن سہن سے یہ تاثر ملنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کسی مذہب و عقیدے کے تابع سمجھتا ہے۔ کسی ارب پتی‘ معروف فلمی اداکار کا یوں اپنے ایک مداح اور وہ بھی ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے بیمار بچے کی عیادت کرنا‘ اُس کی دلی خواہش پوری کرنے کا عمل کتنی اہمیت رکھتا ہے اس بات کو سمجھنے کے لئے اِس مرحلۂ فکر پر رک کر ایک ہی روز یعنی 23 دسمبر کو ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والے اِن دو واقعات کا موازنہ کیجئے۔

 بھارت میں عامر خان ایک بیمار بچے کی عیادت کرنے گئے اور پاکستان میں خناق سے متاثرہ 10ماہ کی بیمار بچی بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کے باعث دم توڑ گئی! کراچی شہر کی غریب بستی لیاری کی رہنے والی بسمہ کی سانسیں اکھڑنے لگیں تو والد اُسے موٹرسائیکل پر ’سول ہسپتال‘ لیجانے کے لئے نکلا لیکن جگہ جگہ راستے بند تھے۔ ہسپتال کا شعبہ ہنگامی علاج معالجے کا گیٹ بھی بند پایا گیا۔ سیکورٹی کے فرائض سرانجام دینے والے ٹریفک اور پولیس اہلکاروں کو تشویش و پریشانی سے بھرے چہرے والے موٹرسائیکل سوار کی حالت پر رحم نہ آیا۔ وہ بچی کو ہاتھوں پر اٹھائے ہسپتال کے ایک گیٹ سے دوسرے گیٹ تک چکر لگاتا رہا اور پھر جب کسی طرح بھاگتے بھاگتے ہسپتال میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اُس کی بیٹی مر چکی ہے لیکن اگر وہ دس پندرہ منٹ پہلے اُسے طبی امداد دینے کے لئے ہسپتال لے آتا تو اُس معصوم کی زندگی بچائی جا سکتی تھی! ہاتھوں پر بچی کی لاش اُٹھائے فیصل نامی باپ زاروقطار رو رہا تھا اور یہ تماشا دوپہر سے رات گئے تک پوری پاکستانی قوم اور دنیا نجی ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات میں تمام دن دیکھتی رہی۔ ذرائع ابلاغ واویلا کرتے رہے کہ کس طرح ’اہم شخصیات‘ کی سیکورٹی کے نام پر ہسپتال کے اطراف میں شاہراہیں بند کی جاتیں ہیں۔ کس طرح ’اہم شخصیات‘ کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں لیکن بنیادی نکتہ یہ تھا کہ کیا یہ المیہ قوم کے لئے کافی ہوگا کہ دس ماہ کی بچی کی لاش ہاتھوں پراُٹھائے ایک باپ کہہ رہا تھا ’’میری بچی کی حیثیت دو کوڑیوں جیسی (معمولی) ہے۔ اہم تو بلاول زرداری ہے!‘‘ یاد رہے کہ عوام سے وصول کئے گئے ٹیکسوں (محصولات) سے سول ہسپتال کراچی میں ’ٹراما سنٹر‘ بنایا گیا‘ جسے بے نظیر بھٹو کے نام سے منسوب کرنے کے بعد 23دسمبر کے روز اُن کے صاحبزادے بلاول زرداری سے افتتاح کرانے والے سبھی کردار بسمہ کی موت کے لئے ذمہ دار ہیں کیونکہ نام نہاد اہم شخصیات کی حفاظت کے پیش نظر ہسپتال کے اطراف میں راستے بند کئے گئے تھے اور یہ بات سبھی کو معلوم تھی!

کیا بسمہ کی موت کے بعد ’اہم شخصیات‘ عوام کے لئے زحمت بننے کی روش ترک کریں گے؟ کیا قانون ساز ایوانوں میں ’وی آئی پی کلچر‘ ختم کرنے کے لئے غوروخوض ہوگا؟ کیا بسمہ کی موت کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سپرئم کورٹ‘ ہائی کورٹ یا سول سوسائٹی اپنی موجودگی کا احساس دلائے گی؟ کیا 10ماہ کی معصوم بچی کی ہلاکت کو قتل تصور کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا؟ تیئس دسمبر ہی کی شب وزیراعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ نے مشیر نادیہ گبول کی رہائشگاہ پر غمزدہ باپ سے ملاقات کے دوران اُسے سرکاری ملازمت دینے کی پیشکش اور معاملہ رفع دفع کرنے پر ’رضامند‘ کر لیا لیکن کیا اِس مک مکا سے ’پیپلزپارٹی‘ کی مرکزی قیادت اور سندھ کی صوبائی حکومت کے دامن پر خون کے چھینٹے دھل سکیں گے؟ فرضی و تصوراتی کرداروں کے ذریعے ’انسانیت کے احترام‘ کا سبق دینے والا عامر خان نام نہاد رہنماؤں سے لاکھوں درجے بہتر ہے‘ جسے دوسروں کی دکھ‘ تکلیف اور جذبات کا احساس ہے۔

اتنی اداکاری تو اب فلموں میں بھی نہیں ہوتی‘ جتنی ہمارے سیاستدان کے قول و فعل سے چھلک رہی ہے! 23دسمبر کو بسمہ نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے ضمیر کو دفن کیا گیا ہے‘ لعنت ہو جمہوریت کو غلام بنانے والے ایسے نام نہاد رہنماؤں پر اور ایسے استحصالی نظام پر جس میں عام لوگ (ہم عوام) کیڑے مکوڑوں کی طرح روندے اور کوڑیوں کے مول خریدے جا رہے ہوں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, December 2, 2015

Dec2015: The PPP downfall

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پیپلزپارٹی: حسب حال توقعات!
پاکستان پیپلزپارٹی کے لئے ’خیبرپختونخوا‘ کی اہمیت کم ترین سطح پر اگر نہ ہوتی تو یہاں کے معاملات کو بہتر بنانے کے لئے مرکزی قیادت کی جانب سے بہت پہلے ٹھوس عملی اقدامات دیکھنے کو ملتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پارٹی کے دیرینہ کارکنوں (جیالوں) میں مایوسی پائی جاتی ہے اور ’بھٹو ازم‘ سے روحانی وابستگی و تعلق رکھنے والے اپنے جذبات بصورت وراثت آنے والی نسلوں کو منتقل نہیں کر سکتے۔ صورتحال اِنتہائی مایوس کن ہے کہ ’بھٹو کے سپاہی‘ جب خود کو یہ باور نہیں کراسکتے کہ وہ ’پیپلزپارٹی‘ کا حصہ ہیں تو بھلا دوسروں کو کیسے ’روٹی کپڑے اور مکان‘ کے وعدوں کی جانب راغب کر سکیں گے! المیہ ہے کہ ایک وقت تھا جب دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے پیپلزپارٹی کا عام کارکن سب سے زیادہ مطمئن و خوشحال ہوتا تھا لیکن اب ایکویشن تبدیل ہو چکی ہے۔ جنہوں نے پارٹی کو منظم کرنے کے لئے قربانیاں دیں۔ جیلیں کاٹیں اور جانی و مالی قربانیاں دیں لیکن انہیں ’گھاس تک ڈالنے کی زحمت گوارہ نہیں کی گئی۔‘ اس سلسلے میں سب سے زیادہ مایوسی ’شعبۂ خواتین‘ سے تعلق رکھنے والی اُن کارکنوں میں پائی جاتی ہے جو متوسط و غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور اتنے وسائل نہیں رکھتیں کہ اپنی جیب سے پارٹی کے تنظیمی اجلاس منعقد کر سکیں۔

پیپلزپارٹی کے دیرینہ کارکن گلہ مند ہیں کہ جن افراد نے وزیر و مشیر اور سینیٹرز بن کر نیک نامی اُور مالی وسائل کمائے وہ اِس بات کو ضروری ہی نہیں سمجھتے کہ ایک فیصد بھی پارٹی کی تنظیم کے خرچ کر سکیں۔ پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے صوبائی صدارت جن سرمایہ داروں کے حوالے کرنے کے متعدد تجربے کئے گئے وہ بھی ناکام ہی رہے تو صورتحال یہ ہے کہ ’پیپلزپارٹی کی تنظیم سازی بشمول رکنیت سازی میں سرمایہ کاری‘ کرنے والا کوئی نہیں‘ تو اِس کی بنیادی وجوہات میں تحریک انصاف بھی شامل ہے جس نے ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ قدم جمائے ہیں اور ابتدأ میں تحریک انصاف سے توقع یہ تھی کہ بے رحم احتساب اور بدعنوانی کے خلاف واضح مؤقف رکھنے والی جماعت روائتی و لچک دار سیاست کا مظاہرہ نہیں کرے گی لیکن جس انداز میں حکومت بنانے اور بچانے کے لئے تحریک انصاف نے پارلیمانی اتحاد کئے‘ اُسے دیکھتے ہوئے ماضی کے مصلحت شناسوں کی یاد آ جاتی ہے۔ بہرکیف صوبائی اسمبلی کی داخلی سیاست ہو یا ضمنی و بلدیاتی انتخابات کے مراحل ایسے ایسے اتحاد بھی کئے گئے جو تعجب خیز تھے۔ اگر تحریک انصاف کو کسی چیز سے خطرہ ہے تو وہ داخلی انتشار و بے چینی ہے دوسری کسی سیاسی جماعت میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ اسے نقصان پہنچا سکے۔ البتہ آئندہ عام انتخابات سے قبل اگر پیپلزپارٹی خیبرپختونخوا کی سطح پر ’تنظیم سازی‘ کا عمل شروع نہیں کرتی تو سب سے زیادہ متوقع خسارہ سندھ کی حد تک پہلے ہی سکڑ کر رہ جانے والی جماعت کو ہوگا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پیپلزپارٹی نے رکنیت سازی کے لئے جو ’آن لائن‘ طریقۂ کار متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا‘ اُسے بھی فی الوقت روک دیا گیا ہے جو غیرمنطقی اقدام ہے۔ پیپلزپارٹی کے پاس گنوانے کے لئے اگر کسی ایک جنس کی کمی ہے تو وہ وقت ہے۔ پارٹی کے دیرینہ کارکن نئی تنظیم سازی میں عہدہ لینے سے گھبرا رہے ہیں اور اگر کوئی سامنے نہیں آ رہا تو اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اعلیٰ سطح پر پیپلزپارٹی دو واضح گروہوں میں تقسیم ہے اور رواں ہفتے اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا کہ ’آرگنائزر کمیٹی‘ بنائی جائے جس سے ماضی کے ’تجربہ کاروں‘ کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور سوائے خانزادہ خان کسی کو شریک نہ کرنے کا فیصلہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کو بچانا مقصود ہے تو اس کے لئے ’نوجوان قیادت‘ کو سامنے لانا ہوگا۔ بصورت دیگر بچت کی کوئی صورت نہیں۔

پیپلزپارٹی خیبرپختونخوا کی تنظیم سازی کا تجربہ رکھنے والے ایک سے زیادہ عہدیدار ’آن لائن رکنیت سازی‘ کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں اور کہتے ہیں اس طرح ’من پسند افراد‘ بڑی تعداد میں پارٹی فیصلوں پر مسلط ہو جائیں گے جو کہ پارٹی کے لئے ایک نئے بحران کا سبب بنے گی۔ دوسرا اعتراض اضلاع کی سطح پر پارٹی کے انتخابات مرحلہ وار انداز میں کرانے سے متعلق ہے۔ بہت سے رہنما چاہتے ہیں کہ انتخابات ایک ہی مرحلے میں ہوں اور بیک وقت ہوں۔ یاد رہے کہ ستمبر 2015ء میں پیپلزپارٹی کی ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں سینیٹر فرحت اللہ بابر‘ پروفیسر این ڈی خان اور اورنگزیب برکی شامل تھے‘ جنہیں تین ہفتوں میں پالیسی مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی لیکن یہ تین ہفتے گزرے مزید کئی ہفتے گزر گئے ہیں۔ ساری کی ساری اُمیدیں بلاول بھٹو زرداری سے ہیں جنہیں پشاور میں مستقل ڈیرے ڈالنا ہوں گے اور ’خوشامد‘ کے ماہر رہنماؤں سے خود کو الگ رکھنا ہوگا۔ حال ہی میں انہوں نے پشاور کا دورہ کیا لیکن زحمت ہی نہیں کی کہ تنظیم سازی کے بارے میں ایک عدد اجلاس ہی طلب کر لیتے! بیرسٹر مسعود کوثر کے گھر پر بلاول کی آمد سے قبل جو اجلاس ہوا بھی تو اس میں سبھی مدعو نہیں تھے یا پھر ایک بڑی تعداد نے شرکت کو ضروری نہیں سمجھا! کیا پیپلزپارٹی سے مفادات وابستہ کرنے والوں کو مزید کچھ حاصل ہونے کی توقع نہیں رہی؟ آئندہ دو ماہ نہایت ہی اہم ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آرگنائزر کمیٹی کی تشکیل میں کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور اس کے تحت تنظیم سازی و انٹراپارٹی الیکشنز کے لئے حکمت عملی وضع کرتے ہوئے ماضی کو غلطیوں سے کتنا سبق سیکھا جاتا ہے۔ ناراض کارکنوں کو منانے اور پارٹی میں جان ڈالنے کے لئے ایک فعال ’صوبائی شعبۂ نشرواشاعت‘ ازحد ضروری ہے‘ اگر پیپلزپارٹی قانون ساز اسمبلی میں خاطرخواہ حزب اختلاف کا کردار ادا نہیں کرسکتی اور ایوان کے باہر مظاہرے کرنے کی افرادی قوت بھی نہیں رکھتی تو کم سے کم ذرائع ابلاغ (پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا) کی پیالی میں تو طوفان برپا کر سکتی ہے!

Sunday, October 4, 2015

Oct2015: TRANSLATION: Rs8,500,000,000,000

Rs8,500,000,000,000
ساڑھے آٹھ کھرب روپے!
پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں خردبرد کئے جانے والے سرکاری مالی وسائل کا حجم ساڑھے آٹھ کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ یہ اندازہ کم سے کم مالی بدعنوانی جاننے کے لئے ایک عالمی فارمولے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اِس فارمولے کے خالق ڈاکٹر رابرٹ کلٹگارڈ (Dr. Robert Klitgaad) ہیں جس کے مطابق اختیارات کے عوض برسرحکومت سیاسی شخصیات فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ ڈاکٹر رابرٹ دنیا بھر میں مالی بدعنوانیوں کی کھوج لگانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اُن کے وضع کردہ طریقۂ کار سائنسی اعتبار سے مستند تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی منتخب عوامی نمائندے یا چنیدہ افراد کو فیصلہ سازی یا حکومت کا منصب دیا جاتا ہے اور اُنہیں صوابدیدی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں تو اس کا نتیجہ بدعنوانی کی صورت ہی برآمد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ یہ نظریہ بھی پیش کرتے ہیں کہ جہاں کہیں احتساب کا ادارہ تو موجود ہو لیکن اس کے ذریعے احتساب کا عمل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کیا جائے وہاں مالی بدعنوانیاں کرنے والے ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ طاقتور اور حکومتی معاملات پر حاوی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس عالمی درجہ بندی میں امریکہ‘ جاپان‘ جنوبی کوریا اُور پاکستان کا شمار کیا گیا ہے جہاں اختیارات کے ذریعے سیاسی و غیرسیاسی حکمران اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ اور ذاتی مالی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہیں! نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک اور عوام کی اکثریت غریب جبکہ گنتی کے چند خاندان امیر ہو جاتے ہیں!

پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان میں کل 100کھرب روپے کے مساوی پیداوار ہوئی اور اگر اِس کا صرف 8.5 فیصد ہی کے حصے میں خردبرد کی گئی تو یہ کم سے کم اور محتاط اندازے کے مطابق 8.5کھرب روپے کی بدعنوانی بنتی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے آٹھ کھرب سے زیادہ کی مالی بدعنوانی کیسے کی ہو گی لیکن پانچ برس کا عرصہ اور کم سے کم ساڑھے آٹھ فیصد کے تناسب سے اوسط بدعنوانی کی گئی ہے۔ اِس ساڑھے آٹھ کھرب روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کو مزید آسان بنا کر بھی سمجھایا جاسکتا ہے اور وہ کچھ یوں ہے کہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی مردوعورت‘ بوڑھے و جوان اور بچے سے 50 ہزار روپے چھینے گئے۔ اعدادوشمار کو مزید آسان کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ ہر پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی خاندان سے 3لاکھ 50 ہزار روپے جیسی خطیر رقم لوٹی گئی ہے!

پاکستان میں نہ تو انسداد بدعنوانی اور احتساب کے قوانین و قواعد کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لئے مخصوص ادارے ہی تعداد میں کم ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک بڑا ادارہ موجود ہے لیکن اگر آپ اِن اداروں کی سالانہ کارکردگی پر نظر ڈالیں تو مایوسی ہوگی کہ انہوں نے نہایت ہی کم شرح سے مالی بدعنوانوں کو انجام تک پہنچایا ہے اور لوٹا ہوا سرکاری مال واپس خزانے میں جمع کرایا ہے۔ ہمارے سامنے مغربی ممالک کی کئی ایک ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے احتساب و انسداد بدعنوانی کے سخت قوانین بنانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد بھی کیا گیا جس کے نتائج اُن کی ترقی کی صورت پوری دنیا دیکھ بھی رہی ہے اور اُن معاشروں میں ہونے والی علمی و فکری ترقی سے فائدہ بھی اُٹھا رہی ہے۔

سال 2014ء کے دوران پاکستان کے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو مالی بدعنوانیوں کی 18 ہزار 818 شکایات موصول ہوئیں جن کی جانچ کے بعد 887 درخواستوں پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور سال 2014ء میں نیب نے بدعنوانوں کے خلاف 819 مقدمات درج کرائے جن میں سے صرف 44 مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف بدعنوانی کا جرم ثابت کیا جاسکا! اگر ہم سنگاپور کی مثال لیں تو وہاں کا ’نیب‘ ہر سال موصول ہونے والی شکایات پر کاروائی کرتا ہے اور 95فیصد کی شرح سے ملوث ملزمان کو سزائیں ہوتی ہیں۔ ہانگ کانگ میں یہی شرح 85فیصد ہے۔ ملائیشیا میں 80فیصد جبکہ بھارت کی ایک ریاست مہاراشٹر میں نیب حکام نے مالی بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں سالانہ 30فیصد کے تناسب سے کامیابی حاصل کی ہے!

میرے یہ الفاظ یاد رکھئے گا کہ ہمارے ہاں انسداد بدعنوانی اور قومی احتساب بیورو سمیت جملہ انتظامی ڈھانچہ ’بدعنوان عناصر‘ کو ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اُنہیں تحفظ دینے کے لئے تشکیل و مرتب کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈاکٹر عاصم حسین سے بھی کچھ حاصل وصول ہونے کی توقع نہیں!

سال 2008ء میں جب آصف علی زرداری کا دورِ اقتدار شروع ہوا تو اُس وقت حکومت کا قرض 6 کھرب روپے تھا۔ 2013ء میں جب اُن کا دور حکومت ختم ہوا تو حکومت کا قرض 8 کھرب روپے یعنی اس میں 2 کھرب روپے کا اضافہ ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مالی نظم و ضبط اور احتساب و انسداد بدعنوانی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں قرض لیکر پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو کھڑا رکھنا پڑتا ہے۔ اگر مالی نظم و ضبط نافذ ہو جائے‘ مالی بدعنوانی کے امکانات تک باقی نہ ہوں اور بدعنوانوں کو قرار واقعی سزائیں دے کر نشان عبرت بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے ہی وسائل کو ترقی کے ذریعے اقتصادی طور پر مستحکم ہوتا چلا جائے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں سال بہ سال اضافے کی بجائے کمی ہوتی چلی جائے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)Rs8,500,000,000,000
ساڑھے آٹھ کھرب روپے!

پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں خردبرد کئے جانے والے سرکاری مالی وسائل کا حجم ساڑھے آٹھ کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ یہ اندازہ کم سے کم مالی بدعنوانی جاننے کے لئے ایک عالمی فارمولے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اِس فارمولے کے خالق ڈاکٹر رابرٹ کلٹگارڈ (Dr. Robert Klitgaad) ہیں جس کے مطابق اختیارات کے عوض برسرحکومت سیاسی شخصیات فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ ڈاکٹر رابرٹ دنیا بھر میں مالی بدعنوانیوں کی کھوج لگانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اُن کے وضع کردہ طریقۂ کار سائنسی اعتبار سے مستند تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی منتخب عوامی نمائندے یا چنیدہ افراد کو فیصلہ سازی یا حکومت کا منصب دیا جاتا ہے اور اُنہیں صوابدیدی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں تو اس کا نتیجہ بدعنوانی کی صورت ہی برآمد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ یہ نظریہ بھی پیش کرتے ہیں کہ جہاں کہیں احتساب کا ادارہ تو موجود ہو لیکن اس کے ذریعے احتساب کا عمل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کیا جائے وہاں مالی بدعنوانیاں کرنے والے ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ طاقتور اور حکومتی معاملات پر حاوی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس عالمی درجہ بندی میں امریکہ‘ جاپان‘ جنوبی کوریا اُور پاکستان کا شمار کیا گیا ہے جہاں اختیارات کے ذریعے سیاسی و غیرسیاسی حکمران اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ اور ذاتی مالی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہیں! نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک اور عوام کی اکثریت غریب جبکہ گنتی کے چند خاندان امیر ہو جاتے ہیں!

پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان میں کل 100کھرب روپے کے مساوی پیداوار ہوئی اور اگر اِس کا صرف 8.5 فیصد ہی کے حصے میں خردبرد کی گئی تو یہ کم سے کم اور محتاط اندازے کے مطابق 8.5کھرب روپے کی بدعنوانی بنتی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے آٹھ کھرب سے زیادہ کی مالی بدعنوانی کیسے کی ہو گی لیکن پانچ برس کا عرصہ اور کم سے کم ساڑھے آٹھ فیصد کے تناسب سے اوسط بدعنوانی کی گئی ہے۔ اِس ساڑھے آٹھ کھرب روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کو مزید آسان بنا کر بھی سمجھایا جاسکتا ہے اور وہ کچھ یوں ہے کہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی مردوعورت‘ بوڑھے و جوان اور بچے سے 50 ہزار روپے چھینے گئے۔ اعدادوشمار کو مزید آسان کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ ہر پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی خاندان سے 3لاکھ 50 ہزار روپے جیسی خطیر رقم لوٹی گئی ہے!
پاکستان میں نہ تو انسداد بدعنوانی اور احتساب کے قوانین و قواعد کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لئے مخصوص ادارے ہی تعداد میں کم ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک بڑا ادارہ موجود ہے لیکن اگر آپ اِن اداروں کی سالانہ کارکردگی پر نظر ڈالیں تو مایوسی ہوگی کہ انہوں نے نہایت ہی کم شرح سے مالی بدعنوانوں کو انجام تک پہنچایا ہے اور لوٹا ہوا سرکاری مال واپس خزانے میں جمع کرایا ہے۔ ہمارے سامنے مغربی ممالک کی کئی ایک ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے احتساب و انسداد بدعنوانی کے سخت قوانین بنانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد بھی کیا گیا جس کے نتائج اُن کی ترقی کی صورت پوری دنیا دیکھ بھی رہی ہے اور اُن معاشروں میں ہونے والی علمی و فکری ترقی سے فائدہ بھی اُٹھا رہی ہے۔

سال 2014ء کے دوران پاکستان کے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو مالی بدعنوانیوں کی 18 ہزار 818 شکایات موصول ہوئیں جن کی جانچ کے بعد 887 درخواستوں پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور سال 2014ء میں نیب نے بدعنوانوں کے خلاف 819 مقدمات درج کرائے جن میں سے صرف 44 مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف بدعنوانی کا جرم ثابت کیا جاسکا! اگر ہم سنگاپور کی مثال لیں تو وہاں کا ’نیب‘ ہر سال موصول ہونے والی شکایات پر کاروائی کرتا ہے اور 95فیصد کی شرح سے ملوث ملزمان کو سزائیں ہوتی ہیں۔ ہانگ کانگ میں یہی شرح 85فیصد ہے۔ ملائیشیا میں 80فیصد جبکہ بھارت کی ایک ریاست مہاراشٹر میں نیب حکام نے مالی بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں سالانہ 30فیصد کے تناسب سے کامیابی حاصل کی ہے!

میرے یہ الفاظ یاد رکھئے گا کہ ہمارے ہاں انسداد بدعنوانی اور قومی احتساب بیورو سمیت جملہ انتظامی ڈھانچہ ’بدعنوان عناصر‘ کو ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اُنہیں تحفظ دینے کے لئے تشکیل و مرتب کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈاکٹر عاصم حسین سے بھی کچھ حاصل وصول ہونے کی توقع نہیں!

سال 2008ء میں جب آصف علی زرداری کا دورِ اقتدار شروع ہوا تو اُس وقت حکومت کا قرض 6 کھرب روپے تھا۔ 2013ء میں جب اُن کا دور حکومت ختم ہوا تو حکومت کا قرض 8 کھرب روپے یعنی اس میں 2 کھرب روپے کا اضافہ ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مالی نظم و ضبط اور احتساب و انسداد بدعنوانی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں قرض لیکر پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو کھڑا رکھنا پڑتا ہے۔ اگر مالی نظم و ضبط نافذ ہو جائے‘ مالی بدعنوانی کے امکانات تک باقی نہ ہوں اور بدعنوانوں کو قرار واقعی سزائیں دے کر نشان عبرت بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے ہی وسائل کو ترقی کے ذریعے اقتصادی طور پر مستحکم ہوتا چلا جائے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں سال بہ سال اضافے کی بجائے کمی ہوتی چلی جائے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین  اِمام)

Sunday, July 5, 2015

TRANSLATION: Chessboard

Chessboard
سیاسی شطرنج
وزیراعظم نواز شریف جانتے ہیں کہ وہ سیاسی شطرنج کا کھیل دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ اِس سیاسی شطرنج کی بساط کے مہروں میں سیاسی حکومت کے مدمقابل فوج کا ادارہ بھی ہے جبکہ سیاسی حکمرانوں کے سامنے ’میثاق جمہوریت‘ کے اہداف بھی ہیں۔ یہ وہی سیاسی معاہدہ ہے جس کی رو سے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ اپنے قول و فعل سے ایسی کوئی غلطی سرزد نہیں کریں گے جس سے فوج کے ادارے کو حکومت میں آنے کا موقع یا بہانہ مل جائے اور جمہوریت کا پانسہ پلٹ جائے۔

جون کی 23 تاریخ کو وزیراعظم نے پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات کی۔ 24جون کو سابق صدر زرداری کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی اور وہ متحدہ عرب امارات میں اپنے پرآسائش محل نشین ہوگئے۔ یہ وہی وقت ہے جبکہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے ’ایف آئی اے‘ کے اختیارات میں اضافہ کیا ہے جس کے بعد وہ کسی بھی صوبے میں سماج دشمنوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کر سکیں گے۔ ان اختیارات کے ملنے کو سندھ حکومت سمجھتی ہے کہ یہ اُس کی صوبائی خودمختاری پر ایک وار ہے۔

سندھ رینجرز کے ڈائریکتر جنرل میجر جنرل بلال اکبر نے تین ہزار پانچ سو کلومیٹر پر پھیلے اُس شہر کا تقریباً کنٹرول سنبھال لیا ہے جسے ہم کراچی کے نام سے جانتے ہیں لیکن پاک فوج کا ادارہ اِس کنٹرول کو ریاستی قوانین کے تابع سیاسی حکمرانوں کے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ’ایف آئی اے‘ اور ’نیب‘ جیسے اداروں کو اپنی موجودگی کا ثبوت دینا ہے تاکہ کراچی کو منظم جرائم پیشہ عناصر کے چنگل سے ہمیشہ کے لئے نجات دلائی جا سکے۔

ملک کی سیاسی شطرنج کی بساط پر ہونے والا کھیل سب کے سامنے ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی دانست کے مطابق چال چل رہا ہے۔ سندھ کی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جو کہ سونے کی کان جیسی ہے کے مرکزی دفاتر پر 15جون کے روز سندھ رینجرز نے چھاپہ مارا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے (سندھ رینجرز) کی جانب سے اقتصادی بدعنوانوں کے خلاف یہ اپنی نوعیت کی منفرد کاروائی تھی جس سے یہ ثابت ہوا کہ رینجرز نے دیگر جرائم کے ساتھ اُس اقتصادی شہ رگ پر بھی ہاتھ ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے جرائم پیشہ تقویت حاصل کرتے ہیں۔

سولہ جون کا دن خاموشی سے گزرا۔ 17جون کو وزیراعلیٰ سندھ نے ڈائریکٹر جنرل رینجرز کو ایک خط لکھا جس میں سندھ بلڈنگ اتھارٹی کے دفتر پر چھاپہ مارنے کو اپنے اختیارت سے تجاوز قرار دیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے اس بات کو ضروری نہیں سمجھا کہ وہ وزیراعلیٰ کی طرف سے بھیجے گئے خط کا جواب دیں۔

یہ دن پیپلزپارٹی کے لئے اچھے نہیں۔ وفاقی حکومت نے کراچی الیکٹرک کے ادارے پر بھی ہاتھ ڈالا جس کا اجازت نامہ زرداری نے ابراز کو دیا تھا۔ 30جون کو ’ائر انڈس‘ نامی جہاز راں ادارے کو بھی کام کرنے سے روک دیا گیا اور یہ حکم ائرمارشل (ریٹائرڈ) محمد یوسف کی طرف سے آیا لیکن اگلے ہی ائرمارشل کو عہدے سے الگ کر دیا گیا۔ کیا سندھ حکومت کی جانب سے ماضی میں کئے گئے بہت سے دیگر معاہدے بھی خطرے میں ہیں؟

پاک فوج کے ادارے نے بہت بڑا محاذ کھول لیا ہے۔ زرداری ملک سے باہر چلے گئے ہیں جس سے دو طبقات کو غلط پیغام جا رہا ہے۔ ایک تو سیاسی حکومت اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہی اور دوسرا فوج کا ادارہ جانتا ہے کہ اُس کے پاس زیادہ وقت نہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی نہ صرف کمزور ہے بلکہ منظرنامے سے غائب بھی ہے۔ زرداری نے پیپلزپارٹی کے ساتھ وہ سب کچھ کر دیا ہے جو فوج کا ادارہ باوجود کوشش بھی تین دہائیوں میں نہیں کرسکا۔ راولپنڈی اور ملتان کے درمیان رہنے والے ووٹر جو کہ ایک سو قومی اسمبلی کی نشستوں میں پھیلے ہوئے ہیں پیپلزپارٹی سے متاثر نہیں۔ اُن کے لئے پیپلزپارٹی کا ماضی‘ اس کے قائدین کی شہادت و قربانیاں اور جیل میں بسر کیا ہوا وقت کوئی معنی نہیں رکھتا جبکہ ملتان اور رحیم یار خان کے درمیان قومی اسمبلی کی چار درجن نشستیں ہیں اور یہ خطہ ایک وقت میں پیپلزپارٹی کا گڑھ ہوا کرتا تھا لیکن یہاں بھی پیپلزپارٹی سے دلی ہمدردی رکھنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کے لئے اگر کوئی علاقہ ایسا ہے کہ جہاں وہ اپنی جماعت کے لئے ووٹ حاصل کر سکتے ہیں تو وہ سکھر اور ٹھٹھہ کے درمیان کا خطہ ہے جہاں قومی اسمبلی کی تین درجن نشستیں ہیں اور ان علاقوں کی خاص شناخت یہ ہے کہ آپ کو یہاں انتہائی زیادہ غربت اور انتہائی کم شرح خواندگی نظر آئے گی۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ پیپلزپارٹی نواز لیگ کے مقابلے ملک میں مقبولیت کی کم ترین سطح کو چھو رہی ہے۔

دریں اثناء حکومت پاکستان نے 19 مزید افراد کے ڈوب کر مر جانے کا تماشا کیا ہے یہ حادثہ جو کہ ریلوے کے ادارے کی مجرمانہ غفلت اور سو سالہ پرانے ریلوے کے ڈھانچے (انفراسٹکچر) سے استفادہ کی وجہ سے پیش آیا کوئی انوکھا نہیں۔ ہر سال ایسے ہی محرکات کی وجہ سے پیش آنے والے ٹریفک حادثات کا شکار ہونے والوں کی تعداد پانچ ہزار ہے۔ سالانہ پانچ ہزار افراد ہی دہشت گردی کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ دو ہزار ہرسال سیلاب و قدرتی آات جبکہ پندرہ سو سالانہ گرمی کی لہر اور ایک ہزار فیکٹریوں میں لگنے والی آگ کے سبب مرجاتے ہیں۔ یہ سبھی وہ ہلاکتیں ہیں جو فطری نہیں اور اگر حکومت اپنا کردار ادا کرے تو اِن اموات کو باآسانی روکا جا سکتا ہے۔

مالی سال 2015-16ء کے بجٹ میں 326 ارب روپے سیاسی حکومت (سول گورنمنٹ) چلانے کے لئے مختص کئے گئے لیکن حکومت اس قدر مالی وسائل عوام کی حادثات و دیگر غیرفطری محرکات میں اموات کے لئے مختص نہیں کر رہی اور اپنے ہی عوام کو ہر روز مرتے ہوئے دیکھ رہی ہے اور اس کے لئے قدرت کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔ اگر حکومت پاکستان کے اعمال کے لئے قدرت ہی ذمہ دار ہے اور سب کچھ قدرت ہی کی مبینہ بے رحمی کے سبب وقوع پذیر ہو رہا ہے جسے روکا نہیں جاسکتا تو پھر ایک سیاسی حکومت کے انتظامی اخراجات پر 326 ارب روپے خرچ کرنے کی ضرورت یا منطق ہی کیا ہے؟ کسی دانا کا قول ہے کہ ’’میں مزاحیہ باتیں (لطیفے) نہیں لکھتا بلکہ میں تو صرف حکومتی اقدامات پر نظر رکھتا ہوں اور اُن سے متعلق حقائق عوام کے سامنے پیش کردیتا ہوں۔‘‘

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ شبیر حسین امام )

Friday, July 3, 2015

Jul2015: The tale

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ایک کہانی
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کا پختہ یقین ہے کہ ’دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں منظم دھاندلی ہوئی لیکن اس دعوے کو ثابت کرنے کے لئے خاطرخواہ ثبوت و شواہد موجود نہیں۔ ایک عرصے تک صوبہ پنجاب کے سابق نگراں وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی کے کردار کا بطور خاص حوالہ دیتے ہوئے بار بار دہرایا جاتا رہا ہے کہ اُنہوں نے 35 حلقوں کے انتخابی نتائج تبدیل کرائے لیکن یکایک اِس بیان کو سیاسی قرار دیتے ہوئے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ ’’وہ ایک سنی سنائی بات تھی‘ جس سے متعلق شواہد اُن کے پاس نہیں!‘‘ تو کیا ہم کسی سیاسی جماعت کی قیادت سے اِس قدر غیرذمہ دارانہ طرز عمل کی توقع رکھ سکتے ہیں؟ کہیں تحریک انصاف اور نجم سیٹھی کے درمیان معاملات طے تو نہیں پا گئے اور تحریک انصاف اپنی توانائیاں دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات کے ناجائز ہونے پر خرچ کرنے کی بجائے چاہتی ہے کہ پنجاب میں قدم مضبوط کرے اور اس سلسلے میں پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے اُن رہنماؤں کو بطور خاص تحریک انصاف میں شامل کیا جارہا ہے جو اپنے اپنے انتخابی حلقے جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ایک اصولی مؤقف کی شکست ہے۔ آج کی تحریک انصاف میں ملک کی سبھی جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے اور زیادہ تر کا تعلق اُسی گروہ کے اراکین سے ہے جن کی مبینہ بدعنوانیوں کا قوم کے سامنے رونا رویہ جاتا رہا ہے!

پاکستان کی سیاست کا المیہ اور مرکزی خیال و خلاصہ یہی ہے کہ اس میں نہ تو ایک دوسرے کے بارے میں برداشت پائی جاتی ہے اور نہ ہی بالغ النظری۔ جو عوام کے دلوں میں اپنے بیانات کے ذریعے جس قدر زیادہ شکوک و شبہات ڈال سکے اُسے زیادہ بڑا رہنما کہا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیاست نام ہی مصلحتوں کے تحت دروغ گوئی کا ہے اور اس میں سبھی سیاسی جماعتیں ایک جیسا طرز عمل رکھتی ہیں۔ ہم کسی ایک سیاسی جماعت کو دروغ گوئی کے مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ سبھی نے کہیں نہ کہیں اور کبھی نہ کبھی سیاسی بیانات کے ذریعے شکوک و شبہات کی گرد اُڑائی ہے۔ علاؤہ ازیں ہمارے ہاں اقتدار کو طول دینے یا اقتدار تک رسائی کے لئے سازشوں اور گٹھ جوڑ کی سیاست میں کبھی بھی کمی نہیں رہی۔ فوجی آپریشنز‘ نجکاری کے مشکوک سودوں اور مشرف کی قسمت کے بارے میں افواہوں کے ساتھ ساتھ یہاں ’پینتیس پنکچروں‘ کی کہانی نے بھی ایک عرصے تک دھوم مچائی اور ان سے متعلق نجی ٹیلی ویژن چینلوں پر مباحثے ہوئے‘ جس میں سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی مہارت کا ایک سے بڑھ کر ایک بہترین استعمال کیا جاتا ہے۔

پینتیس پنکچروں والی بات گذشتہ برس دس فروری سے زیرگردش ہے جب عمران خان نے سپرئم کورٹ کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جو کچھ کہا بعدازاں وہ خود کو اُن الفاظ سے پیدا ہوئے تنازعہ سے الگ نہ رکھ سکے اور بالخصوص سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی سرگوشیوں بھی محدود نہ رہ سکیں۔ اُن کا یہ دعویٰ بھی رہا کہ نجم سیٹھی کی بطور پی سی بی چیئرمین تقرری ’’پینتیس پنکچروں‘‘ کا انعام ہے۔ بقول وزیراعظم کے ترجمان سینیٹر پرویز رشید پی ٹی آئی رہنماؤں نے نجم سیٹھی میں نقص اس وقت تلاش کرنے شروع کئے جب انہیں ’کرکٹ بورڈ‘ کا چیئرمین مقرر کیا گیا!

تحریک انصاف کی انتخابی دھاندلی سے متعلق کہانی کا آغاز چار حلقوں (این اے ایک سو بائیس‘ ایک سو پچیس‘ ایک سو دس اور ایک سو چوون) میں ہوئی مبینہ دھاندلی سے ہوتا ہے اور اس پوری کہانی کے پیچھے کوئی ایسی بدنیتی نہیں تھی جو عموماً سیاسی جماعتیں اختیار کرتی ہیں تاکہ وہ برسراقتدار آ سکیں۔ ظاہر ہے کہ اگر تحریک انصاف کی جانب سے چار انتخابی حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات بروقت کرائی جاتیں تو آج سیاسی صورتحال یکسر مختلف ہوتی۔ شاید پی ٹی آئی کو آخر تک اس تنازعے کے طول پکڑ جانے کی توقع نہیں تھی۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے‘ کہ یہ پنکچر کی داستان کے بارے میں پارٹی کی مرکزی قیادت بھی میں شامل ہر کردار آگاہ بھی نہ ہو کیونکہ بنی گالہ سے آنے والے بہت سے فیصلے آمرانہ مزاج رکھتے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ یہ تنازعہ فوری طور پر ختم ہوجاتا ہے یا نہیں‘ پینتیس پنکچر کے طوفان کا مقصد بس یہی تھا کہ نواز لیگ حکومت کے جائز ہونے پر سوالات اُٹھائیں جائیں اور اس مقصد کے حصول میں ’پی ٹی آئی‘ بڑی حد تک کامیاب ہوئی ہے۔

جب ہمارے ہاں معمولی جرائم کرنے والے اپنے پیچھے سراغ نہیں چھوڑتے تو بھلا ایک دو نہیں تیس سے زائد انتخابی حلقوں میں دھاندلی کا منصوبہ اور اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے والے کیا اِس قدر سادہ لوح تھے کہ دھرے جا سکیں گے۔ انتخابی مراحل میں دھاندلی کے امکانات درجنوں ہیں اور اگرچہ الیکشن کمیشن کے سخت سے سخت قواعد موجود ہیں جن پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ سچ حسب ضرورت اور کم سے کم بولنے کی رسم نے صرف سیاسی ہی نہیں سماجی اقدار کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ تحریک انصاف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود کو پنجاب کے لئے بطور ایک متبادل قیادت دیکھتی ہے اور اگر یہ اگلے عام انتخابات میں ایک اہم انتخابی حریف کے طور پر اُبھرنا چاہتی ہے‘ اور اسے پینتیس پنکچروں کی طرح بہت سی ایسی کہانیاں تلاش کرنا پڑیں گی‘ جن پر قوم یقین کر لے اور اگر وہ شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اصولی سیاست کرتی ہے تو ایسے ٹھنڈے مزاج کی قیادت اور سیاست کی موجودہ سیاسی نظام میں گنجائش نہیں۔

Thursday, June 11, 2015

Jun2015: Example of dishonesty

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ایک سے بڑھ کر ایک!
جب کسی ملک میں قدرتی آفت آتی ہے تو وہاں انسانی ہمدردی کے جذبات عروج پر پہنچ جاتے ہیں۔ ہر مکتب فکر کے لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور معافی کے طلبگار ہونے کے ساتھ مصیبت کی گھڑی میں متاثرین کی مدد کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں مشکل کی گھڑی سے کچھ نہ کچھ کشید کر ہی لیا جاتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو یہ حکم نہ دینا پڑتا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے سال دوہزار دس میں اُس وقت کے ترک وزیراعظم اور اب صدر کی اہلیہ کے عطیہ کردہ قیمتی ہار کی ’گمشدگی‘ کی تحقیقات کرے اگرچہ لفظ ’چوری‘ استعمال ہونا چاہئے تھا لیکن وفاقی وزارت داخلہ نے باعزت اَلفاظ کے ذریعے اِس خبر کو تحلیل کردیا ہے کہ ایک ہار تھا‘ جو چوری ہوا اُور بس۔ اِبتدائی تحقیقات کے مطابق ’مذکورہ قیمتی ہار ’نادرا‘ کے وئر ہاؤس سے غائب ہوا ہے۔‘ ہمارے ہاں سرکاری دفاتر کا طریقۂ واردات ہی یہ ہے کہ اِس میں اپنے ’پیٹی بند ساتھیوں‘ کے مفادات کا خیال رکھا جاتا ہے۔یاد رہے کہ ترک خاتون اوّل نے پاکستان کے سیلاب زدہ افراد کے لئے ذاتی طور پر دس ہزار ترک لیرا اور اپنے زیورات عطیہ کئے تھے جن میں وہ ہار بھی شامل تھا جو انہیں ان کے شوہر نے شادی کے وقت دیا تھا! یہ ہار کسی بھی طرح سونے چاندی اور ہیرے جوہرات کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ اس کی ایک خاص اہمیت تھی۔

 کرکٹ کے کھلاڑی کے زیراستعمال ’بلا‘ اگر کروڑوں روپے میں نیلام ہوتا ہے تو اس کی وجہ بلے کی اصل قیمت نہیں ہوتی بلکہ اس کی وہ خاص اہمیت ہوتی ہے‘ جو نسبت کے سبب مہنگے داموں فروخت ہوتا ہے۔

ذرا سوچئے جب ہمارے ہاں زلزلہ اور سیلاب جیسی آفات آئیں تو کسی بھی مخیر شخص کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اپنی سب سے قیمتی چیز عطیہ کرتے بلکہ عوام وخواص نے کوشش یہ کی کہ گھر کا سب سے ناکارہ سامان اور استعمال شدہ وہ کپڑے عطیہ کئے جائیں جن کے ڈھیر بالاکوٹ کے بازار میں لگے دیکھے گئے۔ مجھے یاد ہے کہ بالاکوٹ کے راستے میں کپڑے اور کھانے پینے کا سامان پڑا تھا لیکن کوئی اُٹھانے والا نہیں تھا‘ وجہ یہ نہیں تھی کہ متاثرہ لوگوں کی ضروریات پوری ہو گئیں تھیں بلکہ جو کپڑے عطیہ کئے گئے تھے‘ وہ کسی بھی طرح بالاکوٹ کے رہنے والوں کی تہذیب و ثقافت کے مطابق نہیں تھے اور بالاکوٹ کی خواتین جینز کی پینٹ نہیں پہنتی تھیں اور نہ ہی وہاں سمندر تھا کہ جس کے ساحل پر لیٹ کر سورج کی شعاعیں سمیٹنے کا رجحان پایا جاتا۔ المیہ ہے کہ اللہ کے نام پر ہم وہ کچھ دیتے ہیں جو اپنے لئے رکھنا پسند نہیں کرتے! ترک وزیراعظم کی اہلیہ اپنے قیمتی زیورات اور جمع پونجی عطیہ کرنے دو مرتبہ پاکستان آئیں لیکن یہ توفیق ہمارے ہاں کے شاہی حکمراں خاندان والوں کو نہیں آئی۔

ترک وزیراعظم کی اہلیہ نے اُس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ فوزیہ گیلانی کو ہار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اسے کسی سیلاب سے متاثرہ لڑکی کو شادی کے موقع پر بطور تحفہ دے دیا جائے۔‘‘ لیکن ترک عوام نے اس ہار کو ایک نیلامی میں خرید کر دوبارہ ترک خاتون اوّل کو واپس کردیا مگر انہوں نے ایک بار پھر اسے سیلاب زدگان کے لئے اس وقت عطیہ کردیا جب وہ اپنے شوہر اور یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ سندھ کے ضلع دادو میں ایک فلڈ ریلیف کیمپ تشریف لے گئیں اور وہاں انہیں معلوم ہوا کہ آٹھ لڑکیوں کی اجتماعی شادیاں ہونے والی ہیں۔ ترک وزیراعظم کی اہلیہ کے ہار کو اس وقت کے چیئرمین نادرا علی ارشد حکیم نے سولہ لاکھ روپے کے عوض خرید لیا تھا اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق وہ رقم ان نامعلوم لڑکیوں میں تقسیم کردیا‘ جن کے کوائف موجود نہیں! ایک خبر یہ بھی ہے کہ مذکورہ ہار بعدازاں علی ارشد حکیم کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کو بطور تحفہ دے دیا گیا جسے وزیراعظم ہاؤس (سرکاری رہائشگاہ) کے ایک شوکیس میں ’پاک ترک دوستی‘کی علامت کے طور پر رکھا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ آخر وہ ’ہار‘ گیا کہاں؟

ہمارے ہاں ’اَمانت و دیانت‘ کے تصورات کیا ہیں؟ خوف خدا نام کی اگر کوئی شے ہے تو کیا یہ خصوصیت اور اخلاق و کردار کی بلندی ہمارے ہاں بھی پائی جاتی ہے؟ کیا ایسی صورتحال میں غیرملکی امدادی ادارے اور شخصیات ہم پر اعتماد کریں گی؟خدانخواستہ آئندہ کسی قدرتی آفت کی صورت میں امداد دینے سے پہلے اِس بارے میں نہیں سوچیں گے کہ پاکستان جانے والی امداد خردبرد ہی نہ ہو جائے۔ ہمیں دوسروں کے بارے میں نہیں بلکہ اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ حکمرانوں کی حرص و طمع نے‘ ماتحتوں کے خوشامدانہ طور طریقوں اور ’ایک سے بڑھ کر ایک‘ بدعنوانی و بددیانتی کی اَن گنت مثالوں نے ہمیں زوال کی کن اتھاہ گہرائیوں میں زندہ درگور کر دیا ہے!

Tuesday, June 9, 2015

Jun2015: The right move

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تیر بہ ہدف نسخہ!
جمہوریت کا مستقبل اُور جمہوری اِداروں کی بقاء کے لئے ضروری ہے کہ عام انتخابات کے عمل کو ’آزاد و شفاف‘ اور جملہ فریقین (سٹیک ہولڈرز) کے لئے ’قابل اعتماد و یقین‘ بنایا جائے۔ جب ہم ’عام انتخابات‘ کی بات کرتے ہیں تو اِس سے مراد قانون ساز ایوانوں سمیت بلدیاتی طریقۂ چناؤ ہوتا ہے اور یہ انتخابی عمل اُس وقت تک تنقید کا نشانہ بنتا رہے گا جب تک ارباب اختیار ’ٹیکنالوجی گریز و بیزار‘ رویہ ترک نہیں کر دیتے۔ مسئلہ سیاسی فیصلہ سازوں کا بھی ہے جن کی نیت و عمل اُن کے زبانی دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن آزاد و خودمختار ہے لیکن اس کی آزادی و خودمختاری کے ضامن سربراہ کا چناؤ حزب اقتدار و اختلاف باہم مشاورت سے کرتے ہیں اُور دیگر سیاسی (پارلیمانی) جماعتوں کے مفادات‘ تحفظات اور آرأ کو لائق توجہ نہیں سمجھا جاتا۔ الیکشن کمیشن اُس وقت تک آزاد نہیں ہوسکتا جب تک اِس کے سربراہ کا انتخاب سیاسی کرداروں کی سفارش سے طے کرنے کے آئینی طریقۂ کار میں تبدیلی (اِصلاح) متعارف نہیں کرائی جاتی۔ دوسری بات بائیومیٹرکس (ڈیجیٹل) شناخت کے عمل سے ’’اَیک فرد‘ اَیک ووٹ‘‘ کو بناء عملاً ممکن بنائے ہمارے ہاتھ جو کچھ آئے گا‘ اُس سے نفرتیں اور اختلافات میں اضافہ ہوگا۔ سیاست دانوں کا وجود اگر معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے تو عام انتخابات کا بنیادی مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ ایک جیسے مسائل اور حالات کو مختلف سیاسی نظریات کی عینک لگا کر دیکھنے والوں میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ عمومی و سطحی اختلافات اِس حد تک کم کر دیئے جائیں کہ اُن کا وجود ہی بے معنی ہو کر رہ جائے لیکن ہمارے ہاں ’سیاسی عمل‘ پر تعمیر کی بجائے تخریب کا رنگ غالب دکھائی دیتا ہے تو اِس لمحہ فکر پر ٹھہر کر‘ سوچنا ہوگا کہ ’خرابی کی ابتدأ کہاں سے ہوئی ہے؟ اور اس عارضے کے علاج کا تیر بہ ہدف و مجرب نسخہ کیا ہوگا؟

اِصلاح کی ضرورت اُن وضع شدہ ترجیحات میں بھی ضروری ہے‘ جس کا ایک قبلہ نہیں۔ کیا ہم سب کو پاکستان کی ترقی مقصود ہے؟ کیا ہم درپیش مسائل اور بحرانوں سے نجات چاہتے ہیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر برسراقتدار اور حزب اختلاف یا اقتدار سے محروم جماعتوں کی سوچ میں زمین آسمان کا فرق نہیں ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا تعلق عالمی مارکیٹ سے ہوتا ہے لیکن ایسی کسی صورتحال میں عوام کی رہنمائی کرنے کی بجائے سیاسی قیادت کی جانب سے ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لئے بیانات داغے جاتے ہیں جس سے عوام میں مایوسی پیدا ہونے والی صورتحال سے زیادہ نقصان کا باعث بنتی ہے۔ جان بوجھ اور سوچ سمجھ کر شکوک و شبہات پیدا کرنے پر مبنی سیاسی ترجیحات رکھنے والے کس طرح ’رہنما یا قائد‘ ہو سکتے ہیں‘ بمعہ سود بدلہ لینے کی بات کرنے والوں کو قیادت کے اعلیٰ ترین منصب پر کس طرح فائز کیا جاسکتا ہے؟ وقت آ گیا ہے کہ شعبدے بازیوں کی بجائے اختلافات مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کئے جائیں۔ ایک دوسرے کے سیاسی نکتۂ نظر کو سمجھنا جائے‘ اہمیت دی جائے اور کم سے کم سننے کی حد تک ہی سنا جائے۔ برداشت‘ حوصلہ اُور اختلاف رکھنے والوں کی سوچ کو بھی سوچ سمجھا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ بیک زبان تعلیم کے لئے مختص مالی وسائل میں اضافے کا مطالبہ کیا جائے۔ سیاست میں شعبدۂ بازی کرنے والوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ لب لباب یہ ہے کہ اقتدار اور اختیارات کی منطق اُور حزب اختلاف کی باریک بینی کے پیچھے شعوری زاویئے الگ الگ نہیں ہونی چاہئیں۔ مثال کے طور پر پاکستان پیپلزپارٹی نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ ’’صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات ڈویژن کی سطح پر مرحلہ وار انداز میں منعقد کئے جائیں۔‘‘یقیناًیہ درخواست خیبرپختونخوا میں مقامی حکومتوں کے لئے عام انتخابات کے موقع پر ہوئی بدانتظامیوں اور ہار جیت کے علاؤہ حاصل شدہ نتائج کو دیکھنے کے بعد کیا گیا ہے اُور اِس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں‘ ہم اپنی یا دوسروں کی اُن غلطیوں سے سبق سیکھیں‘ جنہیں غلطی تسلیم کرنے کی روایت بھی ہمارے ہاں نہیں پائی جاتی۔ اگر سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد جو کہ رواں برس ماہ ستمبر میں ہونا طے ہیں تو سندھ کی حکمراں جماعت کی درخواست قبول کرلی جاتی ہے‘ تو مرحلہ وار اَنعقاد سے نہ صرف ناخوشگوار واقعات کو روکا جاسکے گا‘ بلکہ انتخابی عمل پر اُٹھنے والے اخراجات میں بھی خاطرخواہ کمی لائی جاسکے گی۔ ترجیح جانی و مالی نقصانات اور فسادات کے امکانات کم کرنا ہونی چاہئے۔ سب جانتے ہیں کہ سندھ کے بڑے شہروں کراچی و حیدرآباد میں بھڑکنے والی آگ کے شعلے کتنے بلند ہوتے ہیں!

مرحلہ وار عام انتخابات کی بات کرکے پیپلزپارٹی کا شمار ’کم سے کم‘ اُن ’روایت شکن‘ سیاسی جماعتوں میں ہونے لگا ہے جن میں سرفہرست ’پاکستان تحریک انصاف‘ کا نام جگمگا رہا ہے۔ ملک میں مالی و انتظامی اصلاحات اور بیرون ملک سرمائے کی وطن واپسی کے ساتھ محصولات (ٹیکسوں) کے نظام کو ’عوام دوست و حقیقت پسندانہ‘ بنانے کے لئے تحریک کے ایجنڈے سے زیادہ جامع سوچ کسی دوسری سیاسی جماعت میں نہیں پائی جاتی لیکن کیا تبدیلی لانے کے لئے محض سوچ ہی کافی قرار دی جاسکتی ہے؟ بنی گالہ کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت کے ذریعے ملنے والے نادر موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے تھا تو اِس عزم کی راہ میں حائل رکاوٹیں کیا ہیں اور کسی زیادہ بڑے اور عظیم مقصد کے لئے ’چھوٹی چھوٹی خواہشات‘ کی قربانی کیوں نہیں دے دینی چاہئے؟

Sunday, June 7, 2015

Jun2015: Return of Bilawal

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بلاول کی واپسی!
پاکستان پیپلزپارٹی کے جوانسال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں اب تک کی گئی کوئی بھی سیاسی و غیرسیاسی پیشنگوئی درست ثابت نہیں ہوئی اُور ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چھبیس سالہ بلاول ’تیس نومبر 1967ء‘ کو وجود میں آنے والی پیپلزپارٹی کو پھر سے منظم اُور پاکستان کی سیاست میں ’کلیدی کردار‘ اَدا کرنے کے لئے چھ ماہ بعد (یکم جون کے روز) واپس تشریف لا چکے ہیں تو اگرچہ وہ کراچی میں مقیم ہیں لیکن اُنہوں نے پہلا دورہ پنجاب کا طے کیا ہے۔ بلاول ناراض ہوئے۔ بلاول مان گئے۔ بلاول وطن سے چلے گئے اور بلاول وطن واپس آ گئے یہ آمدورفت ’بھٹو خاندان‘ کے اندر اختیارات کی جاری سردجنگ کو عیاں کرتی ہے جس سے نہ صرف موقع شناس فائدہ اُٹھا رہے ہیں بلکہ اُن سبھی قوتوں کا کام بھی نسبتاً آسان ہو گیا ہے جو ’پیپلزپارٹی‘ کو ’مردہ‘ قرار دینے کی کوششوں میں عرصہ دراز سے مصروف ہیں۔

 پیپلزپارٹی کے اندر ’ہنگامہ ہے کیوں برپا‘ کے بارے سبھی اطلاعات جھوٹ پر مبنی نہیں۔ عوام کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ’درون خانہ‘ ہونے والی اُن باتوں سے بھی آگاہ ہوں‘ جن کی وجہ سے پیپلزپارٹی کا وجود ہی خطرے سے دوچار ہے۔ جب بلاول ملک سے جا رہے تھے تو تب بھی یہی کہا گیا کہ اُنہیں واپس آنا ہی آنا ہے۔ اگر کچھ لوگ نہ بھی چاہیں تو وہ واپس ضرور آئیں گے اور ایسا ہی ہو چکا ہے۔ بلاول کو پاکستان (کی سیاست و سرزمین) سے الگ اور پیپلزپارٹی سے دور رکھنے والے حلقوں میں پائی جانے والی ’شدید مایوسی‘ اور دلی کیفیت کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں۔ اندیشہ یہ بھی ہے کہ باوجود انتہائی حفاظتی انتظامات بھی اُنہیں جانی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے اُور وہ وطن سے دور ہو جائیں۔

بلاول جدید طرز حکمرانی کے وہ سبھی تصورات رکھتے ہیں‘ جو آج کے پاکستان کی ضرورت ہے۔ اُن کی جماعت ’روزگار‘ کے مواقع پیدا کرنے کے لئے خاص شہرت رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر بلاول صرف اور صرف روزگار ہی فراہم کرنے کے لئے کوئی لائحہ عمل پیش کریں تو ’روٹی کپڑے اور مکان‘ جیسی ضروریات خودبخود پوری ہوتی چلی جائیں گی۔ کراچی سمیت صوبہ سندھ کے بڑے شہروں میں مفت انٹرنیٹ (وائی فائی) کی سہولت متعارف کرانے سے متعلق بلاول کا اعلان اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے لیکن یہ تجربہ پہلے ہی پنجاب کے مختلف شہروں میں چھوٹے پیمانے پر کیا جاچکا ہے۔ پیپلزپارٹی کو کچھ مختلف اور زیادہ بڑا سوچنا ہوگا کیونکہ بلاول سے وابستہ توقعات صرف سندھ کی حد تک محدود ترقی پر منحصر نہیں ہونی چاہیئں۔

پیپلزپارٹی کو پھر سے منظم کرنے کا عزم اور ’بھٹو اِزم‘ کے پرچار سے توجہ حاصل کرنے والے بلاول کو بہت سے چھبتے ہوئے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ کس طرح پیپلزپارٹی کے نام پر مفادپرستوں نے ذاتی اثاثوں میں اضافہ کیا۔ معمولی سرکاری ملازمتیں اور انتظامی عہدوں پر فائز کارکن پارٹی کی کلیدی فیصلہ سازی کا حصہ بنے تو ایسی ’کارکن نوازی‘ کی مثالیں کسی دوسری سیاسی جماعت میں نہیں ملتی۔ احسان فراموش اور موقع پرست کرداروں سے پیپلزپارٹی کو نجات دلائے بناء ’تنظیم سازی‘ کا ہدف حاصل نہیں ہوسکے گا۔ بلاول کی مجبوری سیکورٹی کا حصار بھی ہے جس کی وجہ سے وہ نہ تو دیرینہ کارکنوں سے مل سکتے ہیں اور نہ ہی کارکنوں کی اُن تک رسائی ہو سکتی ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بلاول کا ٹوئٹر اکاونٹ (@BBhuttoZardari) اُن کے استعمال میں نہیں جبکہ اُن کے 9لاکھ 44 ہزار سے زیادہ فالوورز کو 15اپریل کے بعد کوئی (ٹویٹ) پیغام بھی نہیں دیا گیا۔ سات جون تک 53 دن ہو چکے ہیں جبکہ اُنہوں نے سماجی رابطہ کاری کے وسائل کا استعمال نہیں کیا۔ اس سلسلے میں اُن کی بہنوں بختاور (@BakhtawarBZ) یا آصفہ (@AAliZardari) کے ٹویٹر اکاونٹ فعال ہیں جن کے اصل و نقل ہونے کو اُن کے خیالات یا پسندوناپسند کے اظہار سے باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اِس میں ’بلاول‘ سے تعلق رکھنے والوں پر ’بلاول ہاؤس‘ کے دروازے ہی بند کر دیئے جاتے ہیں! ٹوئٹر سمیت سماجی رابطہ کاری کے وسائل سے استفادہ کرنے والے بہت کم پیپلزپارٹی کے رہنما ایسے ہیں‘ جو بلاول کی تصویر کو اپنی اکاونٹ کی شناخت کا حوالہ (پروفائل) بنائے ہوئے ہیں!

پیپلزپارٹی کے سامنے تنظیم سازی سے پہلے اُس پارٹی نظم و ضبط کو بحال کرنا ہوگا۔ چند کردار اپنے سیاسی مستقبل‘ وجود اور مفادات کو ترجیح بنا کر ’پیپلزپارٹی‘ کا استعمال کر رہے ہیں۔گھر سے حکومت تک پرانے راستے‘ پرانے رویئے‘ پرانے اختیارات اُور پرانے طور طریقے تبدیل کرنا بلاول کے تجربے‘ سوچ اور حاصل آزادی کو دیکھتے ہوئے ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ اگر بلاول سندھ حکومت میں مداخلت کرکے معاملات درست کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف صوبائی بلکہ قومی سطح پر سیاست میں اُن کی جگہ (اہمیت اُبھر کر) سامنے آ سکتی ہے لیکن اگر اُنہیں یہاں وہاں اِنتہائی حفاظتی حصار میں اجتماعات سے خطاب یا ذرائع ابلاغ کا پیٹ پالنے کے لئے بیانات کی حد تک محدود رکھا جاتا ہے اُور وہ خود بھی اِس حیثیت پر اکتفا (اطمینان محسوس) کر لیتے ہیں‘ تو یہ ایک سنگین غلطی ہوگی۔ سردست سوالات یہ ہیں کہ بلاول کیا چاہتا ہے اور بلاول کیا کہتا ہے؟ کیا اِن دونوں باتوں میں تعلق و مطابقت بھی پائی جاتی ہے؟

سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور اگر اِس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے تعلیم و صحت کے شعبے میں اصلاحات لائی جاتی ہیں۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے قلیل و طویل المعیادی منصوبے شروع کئے جاتے ہیں۔ کراچی میں پانی جبکہ اندرون سندھ خشک سالی جیسے چیلنجوں سے نمٹا جاتا ہے تو ناممکنات ممکن بنائے جا سکتے ہیں۔ بلاول پختہ سوچ کے مالک ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ پیپلزپارٹی متحدہ قومی موومنٹ سے فاصلہ رکھے لیکن اُن کا مؤقف نہ تو سنا اور نہ ہی سمجھا گیا! سندھ میں طرز حکمرانی کو بہتر بنانے کے لئے ایک سے زیادہ ’پاور سنٹرز‘ میں بلاول اپنی جگہ کیسے بنائیں گے یا ایسا کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے؟ شریک چیئرمین زرداری اور اُن کی ہمشیرہ‘ وزیراعلیٰ سندھ‘ گورنر سندھ‘ خصوصی اختیاراتی اپیکس کمیٹی اُور متحدہ قومی موومنٹ الگ الگ طاقت کے مراکز ہیں۔ پیپلزپارٹی کے داخلی حلقے بلاول کو موقع دے رہے ہیں اور اُن کی ہر بات من و عن ماننے کی بجائے چاہتے ہیں کہ ایک حد تک بلاول کو محدود رکھا جائے۔

مالی و انتظامی بدعنوانیوں سے پاک طرز حکمرانی کا مطالبہ پاکستان میں زور پکڑ رہا ہے اور اگر بلاول پارٹی کی تنظیم نو کا آغاز پنجاب کی بجائے خیبرپختونخوا سے کرتے ہیں تو انہیں کم وقت میں زیادہ کامیابی و پذیرائی حاصل ہوسکتی ہے۔ دورن خانہ (درپردہ) وفاقی حکومت اور پیپلزپارٹی کے آپسی تعلقات جتنے بھی اچھے ہوں لیکن پنجاب بالخصوص جنوبی پنجاب جیسے حساس موضوع پر اظہار خیال کرنے والوں کو ’تخت لاہور و اسلام آباد‘ پر بیٹھے ہوئے حکمران ایک ایسا خطرہ گردانتے ہیں‘ جس کا علاج دانت کے درد جیسا تجویز کیا جاتا ہے کہ اُسے منہ سے نکال ہی دیا جائے!
Return of Bilal Bhutto Zardari & its importance in politics

Tuesday, May 26, 2015

May2015: Signs of intellect

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
علامات دانش
مقامی حکومتوں کے لئے انتخابات میں بطور اُمیدوار حصہ لینے والوں کے عزائم اُور توقعات آسمانوں کو چھو رہے ہیں۔ انتخابی وعدوں کے انبار بھی پہاڑ جتنے بلند ہیں۔ دانشمندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ صرف اتنے ہی وعدے کئے جاتے جن کا ایفاء کرنا بعدازاں عملاً ممکن ہوں لیکن ’سیاسی شعبدہ بازی‘ کا ایک رنگ یہ بھی ہے کہ جو جتنا ’چرب زبان‘ ہوتا ہے لوگ اُسے ہی زیادہ سننا اور اُس کی باتوں محظوظ ہو کر اپنا ووٹ دینا پسند کرتے ہیں۔ بناء سانس لئے‘ باآواز بلند‘ مسلسل (موسلادھار) بولنا اُور بے تھکان بولتے رہنا‘ دنیا کی کسی دوسری تہذیب کا نہ تو خاصہ ہے اور نہ ہی اسے پذیرائی دی جاتی ہے۔ ایک زمانہ خاموش رہنے کو ’علم وحکمت‘ اُور ’دانش‘ کی علامت سمجھتا ہے جبکہ ہمارے ہاں وحشت کا یہ عالم ہے کہ اصطلاحی اور معنوی نظام کی گنگا الٹ بہہ رہی ہے۔

 کسی دانا کا قول ہے کہ ’’جو برتن خالی ہو‘ اُس پر ٹھوک بجانے سے تیز آواز پیدا ہوتی ہے‘‘ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے اِردگرد برپا ’روائتی انتخابی شورشرابہ‘ سے بہتری کی توقع رکھنا خودفریبی کی انتہاء ہوگی؟ کیا یہ عجب نہیں کہ ہمارے ہاں اُلو (owl) نامی پرندے کو بیوقوفی کی علامت قرار دیا جاتا ہے جبکہ مغربی دنیا کی کئی ایک نامور جامعات کی علامت خاموش طبع‘ ژرف نگاہ ’اُلو‘ ہے اور اِن جامعات سے تحصیل یافتہ افراد میں پاکستان کی وزارت عظمیٰ تک پہنچنے والوں سمیت سیاسی جماعتوں کے کئی ایک قائدین شامل ہیں! یوں تو دنیا میں ’اُلو‘ کی قریب 200 اقسام پائی جاتی ہیں لیکن ہمیں مشرقی نہیں بلکہ مغربی دنیا کے تصور والے ’اُلو‘ جیسی خصوصیات رکھنے والوں کی ضرورت ہے‘ جو اپنے مشاہدے‘ علم اور حکیمانہ سوچ سے قوم کی تقدیر بدل دیں۔ جو اپنے ساتھ خوش قسمتی ہی نہیں بلکہ عام آدمی کے لئے وہ خوشخبری لائیں‘ جسے سننے کو کان ترس گئے ہیں۔ یاد رہے کہ یونانی اُور بدھ مت تعلیمات کے فلسفے میں ’اُلو‘ ایک ایسا مقدس پرندہ ہے‘ جس کا حوالہ ’ذہانت اُور مالی طور پر خوشحالی‘ لانے کے لئے دیا جاتا ہے! اُور کاش کہ ہمارے معاشرے کی یہی دو ضرورتیں پوری ہو جائیں!

صورتحال اِس قدر تاریک بھی نہیں کہ سیاسی جماعتوں کے کئے دھرے پر پانی پھیر دیا جائے۔ جماعت اسلامی پاکستان کی مثال لیں‘ جو اپنے نام کے لحاظ سے بظاہر ’دین اسلام‘ کے ماننے والوں کی نمائندگی کرتی ہے لیکن اپنی ذات میں (داخلی طور پر) منظم و جمہوری ترین جماعت کی جانب سے جس فقیدالمثال طرز عمل کا مظاہرہ کیا گیا ہے‘ وہ محتاج بیان و توصیف ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ضلع پشاور سے جماعت اسلامی نے اقلیت سے تعلق رکھنے والے 57 اُمیدواروں کو نامزد کیا ہے اور یہ تعداد دیگر ہم عصر جملہ سیاسی جماعتوں سے زیادہ ہے۔ حتیٰ کہ خود کو سیکولر‘ قوم پرست اور آزاد خیال سمیت نجانے کیا کچھ کہنے والی جماعتوں کے ہاں بھی اس بات کی مثال نہیں ملتی کہ اُنہوں نے اقلیت سے تعلق رکھنے والوں کے بارے میں فیصلہ سازی کرتے ہوئے اِس قدر باریک بینی سے سوچا ہو۔

 حقیقت تو یہ ہے کہ جماسلامی پاکستان کی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی ضلعی‘ صوبائی اور مرکزی تنظیم اِس قدر فعال ثابت ہوئی ہے‘ جس نے ایک طرف ’جماعت‘ کے لئے نیک نامی کمائی ہے اور دوسری جانب اِس منفی کو بھی زائل کیا ہے کہ اسلام میں اقلیتوں کے حقوق بارے احکامات سے کتابیں بھری ہیں لیکن اِن پر خاطرخواہ عملدرآمد نہیں کیا جاتا! یاد رہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے کونسلر کے لئے 47 اقلیتی افراد کو ٹکٹ دیئے گئے ہیں جبکہ 10 جماعت کی جانب سے ٹاؤن اور ضلعی نشستوں کے لئے اُمیدوار ہیں۔

ایک وقت تھا کہ ۔۔۔ پشاور کی اقلیتی برادری عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے قریب تھی لیکن بشیر احمد بلور کے قتل اور بعدازاں اُن کی سیاسی وارثوں نے مختلف (منطقی) وجوہات کی بناء پر فعال سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ پشاور نے بشیر بلور کی طرح نڈر سیاست دان بھی نہیں دیکھا جن کا بیشتر وقت اپنے انتخابی حلقے میں بالخصوص اور پشاور کی سڑکوں پر بالعموم گزرتا تھا۔ ’اے این پی‘ ضلع پشاور کی جانب سردمہری کی وجہ سے عیسائی اقلیت ’تحریک انصاف‘ کے قریب ہو گئی اور اِس برادری سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت کا یہ طرز عمل بھی رہا ہے کہ جس کی حکومت ہو اُسی کے ساتھ سیاسی وابستگی رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تحریک انصاف ضلع پشاور کی سطح پر عیسائی اقلیت سے تعلق رکھنے والوں کو زیادہ ٹکٹ جاری کر سکتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا جاسکا جس وجہ تحریک ذرائع کے مطابق کم تعداد میں ملنے والی درخواستیں تھیں تو یہ کوئی جواز ہی نہیں کیونکہ مالی طور پر کمزور عیسائی اقلیت کی اکثریت میں مخلص کارکنوں کی کمی نہیں۔ اقلیتوں کے بارے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی سوچ کا انداز اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پشاور سے پاکستان پیپلزپارٹی نے 11‘ تحریک انصاف نے 17 اور جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) نے 13 افراد کو مقامی حکومتوں کے لئے نامزدگیاں عنایت کی ہیں۔ جماعت اسلامی کی جانب سے جاری ہونے والے ٹکٹوں میں اکثریت مسیحیوں کو دی گئی ہے جبکہ تین سکھ اقلیتی افراد بھی جماعت اسلامی کے ٹکٹ سے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت ہونے کے ناطے ’ضلع پشاور‘ میں سیاسی جماعتوں نے جس طرح اقلیتی برادری سے معاملہ کیا ہے‘ اُس کا عکس دیگر اضلاع میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

Wednesday, April 15, 2015

Apr2015: CB LG Polls & goals!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ترغیبِ تفکر
ایبٹ آباد کی یونین کونسل نواں شہر سے براستہ الیاسی مسجد‘ ٹھنڈا چوا‘ پی ایم اے روڈ‘ جناح آباد اور منڈیاں تک کی پٹی شاہراہ قراقرم سے بل کھاتی ہوئی سپلائی‘ جھگیاں اور دھمتوڑ کو ایک مالا کی صورت ایک دوسرے سے ملاتی ہے اور ایبٹ آباد چھاؤنی کے انہیں علاقوں پر مشتمل 5 وارڈوں پر مشتمل کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے نامزد‘ حمایت یافتہ اُمیدواروں کے مرکزی دفاتر کی رونقیں سرشام بڑھ جاتی ہیں‘ جہاں رنگ برنگے پوسٹروں اور آس پاس درجنوں درجن گاڑیاں کھڑی دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ ہمارے ہاں ہر کام اور بالخصوص مالی وانتظامی اختیارات والے انتخابی عمل کو کس قدر اہمیت دی جاتی ہے! یاد رہے کہ ’’کنٹونمنٹ بورڈ ابیٹ آباد‘‘ کی پانچ نشستوں کے لئے 48 افراد نے بطور اُمیدوار خود کو انتخابی احتساب کے لئے پیش کیا جن میں سے دو اُمیدواروں کے کاغذات تکنیکی بنیادوں پر مسترد کر دیئے گئے۔ 18 اُمیدواروں نے اپنے کاغذات واپس لے لئے اُور اَب 28 اُمیدوار پانچ نشستوں کے لئے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ وارڈ نمبرایک میں دو اُمیدوار آزاد جبکہ ایک ایک تحریک انصاف اُور مسلم لیگ نواز کی جانب سے نامزد کردہ ہیں۔ وارڈ نمبر دو میں ایک آزاد جبکہ یہاں بھی مسلم لیگ (نواز) اور تحریک انصاف کے نامز اُمیدوار مدمقابل ہیں۔ وارڈ نمبر تین میں چھ اُمیدوار آزاد جبکہ پیپلزپارٹی‘ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز کا ایک ایک اُمیدوار اہل علاقہ سے ووٹ کا طلبگار ہے۔ وارڈ نمبر چار سے ایک آزاد جبکہ تین جماعتیں تحریک انصاف‘ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کا ایک ایک نامزد اُمیدوار کامیابی کا خواہشمند ہے اور وارڈ نمبر پانچ سے چار آزاد جبکہ تین تحریک انصاف‘ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈ ایبٹ آباد کے انتخابات میں 22ہزار 80 مرد جبکہ 18 ہزار 229 خواتین 45 پولنگ اسٹیشنوں میں 25اپریل کے روز ووٹ ڈالیں گے۔

ایبٹ آباد کنٹونمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیاجائے تو اِس ادارے کی جانب سے سہولیات کی فراہمی حیرت انگیز طور پر محدود جبکہ کنٹونمنٹ کی حدود ایک وسیع علاقے کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے مقرر کردہ ٹیکسوں کی شرح ضلعی انتظامیہ (میونسپل اتھارٹی) کے مقابلے زیادہ ہے لیکن دونوں ادارے اپنی اپنی حیثیت میں محدود مالی وسائل کے سبب وہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے جو ایبٹ آباد کے شایان شان ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں ایسی سڑکیں‘ گلیاں اور نالیاں دکھائی دیتی ہیں جو خستہ حال ہیں۔ نکاسی آب کا پانی جابجا کھڑا نظر آتا ہے۔ گندگی و غلاظت کے انبار کا حجم اگرچہ گذشتہ چند ہفتوں میں کچھ کم ہوا ہے لیکن ایبٹ آباد میں صفائی کی صورتحال بہتر بنانے اور تعمیر و ترقی کے عمل میں حسب ضرورت توسیع کے لئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے لیکن جس انداز میں ’کنٹونمنٹ بورڈ‘ کی 5وارڈوں کے لئے اراکین سیاسی وابستگیوں سے جڑے ہیں اور جس انداز میں ایبٹ آباد کی سیاسی قیادت درپردہ‘ پس پردہ اور باپردہ اپنے اپنے ہم خیالوں کی حمایت کررہی ہے اُسے دیکھتے ہوئے اِس بات کی اُمید بہت کم دکھائی دیتی ہے کہ کامیاب ہونے کے اُمیدوار چھاؤنی کی حدود میں بہتری کے لئے خاطرخواہ کردار ادا کر سکیں گے۔ سیدھی سادی بات کوسیاسی اور اَنا کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ ہوں یا بلدیاتی انتخابات‘ سیاسی نامزدگی کسی اُمیدوار کا تعارف تو ہو سکتی ہے لیکن ووٹ دینے کا فیصلہ سیاسی بنیاد پر نہیں بلکہ خدمت کے جذبے اور بالخصوص اُس نئی قیادت کے حق میں ہونا چاہئے جو اپنے اپنے علاقے کی حدود میں رہنے والے ’ہر خاص و عام‘ خدمت کا جذبہ (ظرف) رکھتی ہو‘ یقیناًایسے افراد کی تلاش آسان نہیں جو کسی نہ کسی سیاسی جماعت یا سیاسی فکر و نظریئے سے وابستگی نہ رکھتے ہوں لیکن بلدیاتی سطح پر انتخابات کی گلی محلے کی تعمیر و ترقی اُور صفائی کی صورتحال سے کہیں زیادہ اہمیت ہے۔ منتخب نمائندوں کو ٹیکسوں کی شرح منصفانہ بنانی ہے۔ انہیں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا جائزہ لینا ہوگا۔ اُنہیں تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف سینہ سپر ہونا پڑے گا‘ جن کی پشت پناہی اور سرپرستی کرنے والے سیاسی کرداروں کی وجہ سے انتظامیہ مستقل دردسر کا شکار ہے۔ منتخب نمائندوں کو شہری زندگی سے متعلق شعور اُجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا۔ اُنہیں تعلیم وصحت کے حوالے سے آگہی کا حصہ بننا ہوگا۔ گردوپیش پر نظر رکھنا ہوگی کہ منظم جرائم پیشہ یا عسکریت پسند اپنے قدم نہ جما سکیں‘اگرچہ ایبٹ آباد میں کوئی ’نوگو ایریا‘ نہیں لیکن ایسے علاقے ضرور ہیں جہاں دن ڈھلے پولیس اہلکار جانے سے کتراتے ہیں۔ جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے ذمہ دار دامے ‘درہمے‘سخنے اِن انتخابات میں بالواسطہ یا بلاواسطہ حصہ لے رہے ہیں‘ اپنے اپنے قومی و صوبائی حلقوں میں زیادہ سے زیادہ حمایت برقرار رکھنے کے لئے سیاسی قائدین بھی خطرے کی علامات سے نظریں چُرا رہے ہیں!

عسکریت پسندوں سے دلی ہمدردیاں‘ اخلاقی حمایت اور پشت پناہی کرنے والے بھی اِن دنوں فارغ نہیں اُور مذہبی بنیادوں پر منافرت پھیلانے والے اپنے اپنے ’ووٹ بینک‘ کی قیمت پر اہمیت جتلاتے دکھائی دیتے ہیں تو کیا یہ پورا عمل ’ہم عوام‘ کے لئے معنی خیز اور نتیجہ خیز قرار دیا جاسکتا ہے؟بات صرف ایبٹ آباد تک محدود نہیں رکھنی چاہئے بلکہ خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں 10 کنٹونمنٹ بورڈ کی 30 وارڈوں کے لئے برپا انتخابی گہماگہمیوں میں جیت اور ہار پر مبنی نتائج کی حد سے آگے سوچنے اور بڑھنے کی ضرورت ہے اُور ایک طویل تعطل کے بعد ہونے والے کنٹونمنٹ بورڈ بشمول بلدیاتی انتخابی (ہمہ جہت) عمل کو ’سیاسی وابستگیوں‘ سے بالاتر ہو کر زیادہ سنجیدگی و تفکر سے دیکھنے سمجھنے اُور سمجھانے کی ضرورت ہے۔

Cantonment Board elections and our political objectives

Thursday, March 19, 2015

Mar2015: TRANSLATION Politics, Crimes & GHQ

Zardari having difficulty reading new GHQ
سیاست ‘جرائم ‘کاروبار اُور فوج حکمت عملی
پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف دیگر فوجی جرنیلوں جیسے نہیں کہ جنہیں سیاست سے لگاؤ ہو۔ اُن کے بارے میں فوج کے سابق جرنیلوں کا خیال ہے کہ وہ بناء کسی دباؤ یا سیاسی وابستگی اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ جس خاندان میں دو عدد ’نشان امتیاز‘ جیسے اعزازات ہوں وہ کسی بھی صورت عمومی سوچ رکھنے والا روایت پسند نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں جنرل راحیل شریف کی ذات میں بردباری‘ سنجیدگی‘ خاموشی‘ خوداعتمادی‘ مستقل مزاجی اور بیرونی دباؤ قبول نہ کرنے کی صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری دکھائی دیتی ہے۔

پاک فوج میں کئی ایسے سابق جرنیل ہیں جو روایت پسندی (اسٹیٹس کو) کے دلدادہ ہیں لیکن جنرل راحیل شریف مشکل فیصلے کرنے والے ایک آسان شخصیت کے مالک ہیں جنہوں نے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا آغاز کر کے نہ صرف پاکستان میں امن و امان کی داخلی صورتحال کو بہتر بنایا بلکہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر باہمی تعلقات اور خطے کی عمومی و خصوصی صورتحال میں بہتری لائی ہے۔ پاکستان اور افغانستان اُور پاکستان و امریکہ کے درمیان تعلقات جس روائتی ڈگر پر چل رہے ہیں‘ اُن میں نمایاں تبدیلی کا سہرا بھی جنرل راحیل شریف ہی کے سر جاتا ہے۔ گیارہ مارچ کے روز ملک کی سیاسی روایت پسندی اور مصلحتوں کا خاتمہ کرنا بھی جنرل راحیل شریف ہی کا کارنامہ ہے۔ کیا کراچی میں ہوئی ایک سیاسی جماعت کے خلاف کاروائی کا اِس سے قبل تصور ممکن تھا؟

کراچی کے حالات (اسٹیس کو) کا تعلق سیاست اور جرائم کے درمیان ملی بھگت اور تعاون سے ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف کراچی میں اُس روائتی طریق کا خاتمہ کیا ہے بلکہ وہ ملک گیر سطح پر سیاست و جرائم کے درمیان تعلق و تعاون ختم کرنے کی حکمت عملی بھی وضع کر لی ہے۔ کراچی کے برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ ریاست کا عمل دخل اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے تمام تروسائل کے باوجود مفلوج ہوچکے تھے۔ کراچی کی تینوں بڑی سیاسی قوتوں پاکستان پیپلزپارٹی‘ متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کا اِس ایک نکتے پر اتفاق ہے کہ حالات کی بہتری کے لئے حکومت کے پاس نہ تو خاطرخواہ صلاحیت موجود ہے اور نہ ہی وہ حملہ آوروں کے عزائم خاک میں ملاسکتی ہے۔ حکومت کی اِس غیرفعالیت کی وجہ سے مختلف سیاسی گروہوں نے اپنے آپ کو دوسروں سے محفوظ کرنے کے لئے مسلح کرنا شروع کیا اور پھر یہ مسلح گروہ سیاسی جماعتوں کا ایسا جز بن گئے جن کی طاقت کے بل بوتے پر کراچی حکومت کے ہاتھ سے نکل کر سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی میں فعال مسلح گروہوں کے ہاتھ کھلونا بن گیا۔ سیاست اور جرائم کے درمیان تمیز باقی نہیں رہی۔

اِس صورتحال میں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے بناء دباؤ و مصلحت فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا‘ جس کا یہ قطعی مقصد یا مطلب نہیں کہ یہ اِدارہ جمہوریت یا سیاسی وابستگیوں یا سرگرمیوں کے خلاف ہیں اور انہیں پسند نہیں کرتا لیکن سیاست کا جرائم کے ساتھ تعلق کسی بھی صورت مزید برداشت نہ کرنے کا اصولی فیصلہ موجودہ حالات کی اشد ضرورت تھی‘ جس سے بہتری کے آثار و نتائج برآمد ہونایقینی دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی ملک گیر جماعت ہے جس نے دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں 69 لاکھ ووٹ حاصل کئے۔ متحدہ قومی موومنٹ بھی سندھ کے شہری علاقوں میں اپنا کثیر ووٹ بینک رکھتا ہے جس نے دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں 24 لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سے وابستہ افراد کی اکثریت یہی چاہتی ہے کہ سیاست اور جرائم کے درمیان تعلق ختم ہونا چاہئے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرپرسن (صدر) آصف علی زرداری کو اِس حقیقت کا ادراک کرنا چاہئے کہ اُن کی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت سیاست و جرائم کے درمیان تعلق سے بیزار ہے اور چاہتی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوں اور اگر سیاسی جماعتیں اِس عمل کی حمایت نہیں کریں گے تو اِس سے خاطرخواہ و پائیدار نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ اس بات کے بھی امکانات موجود ہیں کہ سیاست و جرائم کے درمیان تعلق کو ختم کرنے کے ساتھ پاک فوج سیاست و کاروبار کے درمیان تفریق کرنے کے لئے بھی کاروائی کا آغاز کرے کیونکہ سیاستدانوں کو ملنے والے اختیارات سے ناجائز استفادہ کرنے کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اگر کسی کو سیاست کرنی ہے تو اُسے اپنے ذاتی و کاروباری مفادات کو الگ کرنا ہوگا اُور منتخب نمائندے کی حیثیت سے ملنے والے اختیارات اجتماعی مفادات کے لئے مختص رکھنا ہوں گے۔ کسی دانا کا قول ہے کہ ’’جرائم اور سیاست میں قدر مشترک اُور حاصل یہ ہے کہ اِن سے (کل وقتی یا جز وقتی‘ عملی یا فکری طور پر) وابستہ ہونے والے کرداروں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔‘‘
 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
Article by Dr Farrukh Saleem regarding Karachi

Wednesday, March 18, 2015

Mar2015: Translation Civil Military Hybrid

Is the civil-military hybrid sustainable
فوجی و سیاسی حکومت: پائیدار حل؟
پاکستان کی دس فیصد آبادی ملک کے سب سے بڑے صنعتی و تجارتی مرکز ’کراچی‘ میں آباد ہے‘ جہاں طرز حکمرانی کا ایک نیا انداز اپنایا گیا ہے جس میں پاک فوج کی تخلیق کردہ ایک حکمت عملی کے تحت ایسی انتظامیہ کو کلیدی فیصلوں کے لئے ذمہ داری سونپی گئی ہے جو سول اور فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہے اور اِس مخلوط قسم کی انتظامیہ کی سربراہی وزیراعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ کے سپرد ہے جن کے ساتھ فوج کی پانچویں کور کے کمانڈر لفٹیننٹ جنرل نوید مختار اُس کمیٹی کا حصہ ہے‘ جو اپنے فیصلوں میں باہم مشاورت کے علاؤہ سیاسی و غیرسیاسی دباؤ سے آزاد ہے۔ برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ اِس سول و فوجی طرز حکمرانی کے متعارف کرائے جانے کی وجہ سے کلیدی فیصلوں کا اختیار پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر دفتر ’بلاول ہاؤس‘ سے کراچی میں فوج کے اُس مرکزی دفتر منتقل ہو گیا ہے جہاں کورکمانڈر تشریف رکھتے ہیں۔ اِس پورے منظرنامے میں قانون ساز سندھ کی صوبائی اسمبلی کی حیثیت غیرمتعلقہ ہو گئی ہے اور صوبائی وزراء بھی اگرچہ وجود رکھتے ہیں لیکن اُنہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شریک نہیں کیا جاتا۔ ہوسکتا ہے کہ اصل حقیقت ایسا نہ ہو لیکن بظاہر سیاسی و فوجی حکام پر مشتمل خصوصی کمیٹی نگران کے طور پر کام کر رہی ہے۔

کراچی کی صورتحال ابتر ہوئے طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں (بیس برس) میں ہوئے واقعات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں‘ منظم جرائم کے گروہوں اور عسکریت پسندوں نے پاکستان کی دس فیصد آبادی کو نہ صرف نفسیاتی طور پر ایک مستقل دباؤ میں رکھا ہوا ہے بلکہ اِن عناصر کی وجہ سے پاکستان کی مجموعی قومی آمدنی کا پچیس فیصد حصہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔

بدقسمتی سے کراچی سے تعلق رکھنے والا سیاسی طبقہ بھی یہی چاہتا ہے کہ موجودہ حالات جوں کے توں (اسٹیٹس کو) برقرار رہے اور اِس میں تبدیلی نہ آئے کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا اصول بااثر اور سرمایہ دار طبقات کے لئے ہرلحاظ سے سودمند ہے۔ سیاسی و فوجی قیادت پر مبنی خصوصی اعلی سطحی کمیٹی کے قیام کا پہلا مقصد یہی تھا کہ سیاسی اشرافیہ کو یہ پیغام دے دیا جائے کہ اب سیاست اور جرائم کو ایک دوسرے سے الگ الگ کرکے جائزہ لیا جائے گا اور چاہے کوئی کردار سیاسی طور پر کتنا ہی سرگرم کیوں نہ لیکن اگر وہ جرائم میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہے تو آئین کے مطابق اُس سے معاملہ کرنے میں مزید رعائت نہیں برتی جائے گی۔

کیا سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی کمیٹی سیاست و جرائم کے درمیان اصطلاحی تمیز کو عملی طور پر الگ الگ کرتے ہوئے کامیاب ہو پائے گی؟ یا پھر سیاست و جرائم کے درمیان پایا جانے والا تانا بانا اُور تعاون جوں کا توں برقرار رہے گا؟ کراچی میں امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے لئے اِن جاری کوششوں کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوپائیں گے جبکہ دونوں قوتیں اپنی اپنی جگہ طاقتور بھی ہیں اور نہ تو کسی کے لئے فتح آسان ہوگی اور نہ ہی اُس حاکمیت سے دستبرداری کہ جس کا تعلق مالی فوائد سے بھی ہے۔

سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سربراہی وزیراعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ کو سونپی گئی ہے جو سیاست و جرائم کے درمیان تعلق کو توڑنے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے سے متعلق فیصلہ سازی میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کراچی میں رونما ہونے والے جرائم کی شرح بدستور بلند ترین سطحوں کو چھو رہی ہے۔ اِس دعوے کا ثبوت یہ ہے کہ گیارہ مارچ کو متحدہ قومی موومنٹ کے صدر دفتر ’نائن زیرو‘ اُور اُس کے اطراف میں مکانات پر اچانک چھاپہ مارا گیا جہاں سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور انتہائی مطلوب و خطرناک ملزم گرفتار ہوئے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے صدر دفتر پر چھاپے کی کاروائی کی نگرانی فوجی دستے کر رہے تھے۔ ایک سیاسی جماعت کے صدر دفتر پر اِس قسم کی کاروائی کا مطلب یہی تھا کہ سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی حکمراں کمیٹی پائیدار حل نہیں ہوگی‘ کیونکہ سیاسی متحدہ کی طرح دیگر جماعتیں بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور یہ اَمر بھی عیاں ہے کہ کراچی غیراعلانیہ طور پر فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

پاک فوج کے کراچی میں حالات کو جوں کا توں رکھنے کی روش اور روائتی طرزحکمرانی کو جاری و ساری رکھنے کی سوچ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اِن کے علاؤہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح صوبہ سندھ کے صدر مقام کراچی میں بھی فوجی عدالتیں قائم کی گئیں ہیں جو دہشت گردی جیسی وارداتوں میں ملوث کرداروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے اِس بات کا فوری فیصلہ کریں گی کہ اُن سے کیا معاملہ کیا جائے۔ اِس کے علاؤہ خصوصی اہداف کے خلاف کراچی میں ’ٹارگیٹیڈ آپریشن (فوجی کاروائیاں)‘ بھی اُسی منصوبہ بندی کا جز ہے‘ جس میں کراچی کا امن بحال کرنے کے ساتھ روشنیوں کے اِس شہر کی رونقیں اور اطمینان واپس دلانا ہے۔

پاک فوج نے ایک ایسی ذمہ داری اپنے سر لی ہے جس میں اُسے داخلی حلقوں کے علاؤہ عام آدمی کو بھی اپنی پرخلوص کوششوں کے بارے میں اطمینان دلانا ہے اور رائے عامہ ہموار رکھنی ہے جو پہلے ہی کراچی کی ہولناک صورتحال کی وجہ سے سہمی ہوئی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ کراچی میں حالات معمول پر لانے کے لئے فوج کے ادارے سے صرف بڑی توقعات ہی وابستہ نہیں بلکہ یہ توقعات انتہاؤں کو چھو رہی ہیں۔ ہم میں سے ہر کسی نے جادوگروں کو دیکھا ہے جو آن کی آن میں ٹوپی سے خرگوش نکال کر داد وصول کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کراچی کے تناظر میں‘ طرز حکمرانی کا تجربہ کس حد تک کامیاب و کامران اور جاری غیرمعمولی‘ غیرروائتی اور جادوئی عمل کس طرح نتیجہ خیز ثابت ہوگا کہ جو سب کو حیران بھی کردے اور ہر ناظر سے (جادوگر) کی طرح داد و اکرام بھی وصول پائے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔  تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
Is the civil-military hybrid sustainable article by Dr Farrukh Saleem published in The News on March 18, 2015