Showing posts with label Islamabad. Show all posts
Showing posts with label Islamabad. Show all posts

Sunday, September 26, 2021

Education from exams to protest

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

اہم موڑ

طب کی بنیادی تعلیم (ایم بی بی ایس اُور بی ڈی ایس) حاصل کرنے خواہشمند طلبا و طالبات کو اپنی ذہانت‘ اہلیت اُور برتری ثابت کرنے کے لئے 2 امتحانی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ پہلا 10ویں کلاس (میٹرک) کے بعد شروع ہوتا ہے اُور اِس 2 سالہ دور (گیارہویں اُور بارہویں جماعتوں) میں اُنہیں ایڑی چوٹی کا زور لگانا ہوتا ہے تاکہ لازمی مضامین کے علاو¿ہ فزکس (علم ِطبیعات)‘ کیمسٹری (علم ِکیمیا) اُور بیالوجی (علم ِحیاتیات) میں نمایاں نمبر حاصل کرتے ہوئے متعلقہ امتحانی بورڈ میں خصوصی حیثیت سے کامیاب ہوں۔ اگر یہ کہا جائے کہ کسی طالب علم کی زندگی کے یہی 2 سال اُس کی باقی ماندہ عملی زندگی کا تعین کرتے ہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ ’ایف اے / ایف ایس سی‘ طلبہ کی زندگی کا ”اہم ترین موڑ“ سمجھا تو جاتا ہے لیکن اِس کے تحفظ اُور درست رہنمائی کے علاو¿ہ کامیاب ہونے والے طلبہ کی تعداد کے مطابق داخلوں کا اہتمام و انتظام نہیں کیا جاتا۔ ہر سال طب و دیگر تعلیمی شعبوں میں داخلہ حاصل کرنے کے خواہشمندوں کی بڑی تعداد (اکثریت) داخلوں سے محروم رہ جاتی ہے لیکن بالخصوص طب کے تعلیمی اداروں میں نشستوں کی تعداد میں حسب آبادی و ضرورت (خاطرخواہ) اضافہ نہیں کیا جاتا تو آخر تعلیمی اداروں کی تعداد یا اِن میں ہر سال نشستوں کی تعداد بتدریج بڑھانا کس کی ذمہ داری ہے اُور اِس سلسلے میں عوام کا دیرینہ مطالبہ کیوں سُنا اَن سُنا کیا جا رہا ہے۔ طب کی تعلیم سے متعلق حکومتی بندوبست عوام کی نظروں میں خرابیوں کا مجموعہ ہے اُور یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والوں کے علاو¿ہ اندرون ملک زیرتعلیم طلبا و طالبات اُور ڈاکٹر بننے کے بعد میڈیکل کمیشن کے پیچیدہ و مالی لحاظ سے مہنگے انتظامی امور کے بارے شکایت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ حالیہ احتجاج اُن طلبہ کی جانب سے جاری ہے جو اپنے والدین کے ہمراہ چاروں صوبوں سے ’اسلام آباد‘ میں میڈیکل کمیشن کے سامنے جمع ہوئے۔ سینکڑوں کی تعداد میں اِن احتجاج کرنے والوں نے پچیس اُور چھبیس ستمبر کی ساری رات ’پاکستان میڈیکل کمیشن‘ کے صدر دفتر کے سامنے کھلے آسمان تک بسر کی۔ اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے اُور تھک ہار کر میڈیکل کمیشن کے سامنے سڑک اُور ملحقہ سبزہ زار پر سو گئے تاہم اُنہوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ مبینہ ’بے حس میڈیکل کمیشن‘ کے سامنے ہار نہیں مانیں گے اُور احتجاج جاری رکھتے ہوئے اِس کا دائرہ بھی بڑھایا جائے گا۔ آخری خبریں آنے تک ڈاکٹروں کی ملک گیر نمائندہ تنظیم ’پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA)‘ نے بھی طلبہ کی حمایت کر دی ہے اُور ’پی ایم اے پنجاب‘ کے کئی رہنماؤں نے طلبہ اُور اُن کے والدین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دھرنے میں شرکت بھی کی ہے۔

وفاقی ادارے (پاکستان میڈیکل کمیشن) کے تعلقات کسی بھی فریق سے مثالی نہیں۔ طب کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے علاو¿ہ میڈیکل کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ڈاکٹر‘ طب کی تدریس کرنے والے اساتذہ‘ اندرون و بیرون ملک طب کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اُور نجی تعلیمی ادارے اپنی اپنی جگہ یکساں فریادی (نوحہ کناں) ہیں۔ اِس صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مذکورہ سبھی فریقین نے عدالتوں سے رجوع کر رکھا ہے اُور ’پاکستان میڈیکل کمیشن‘ کے قیام اُور اِس قیام کو جس آئین سے تحفظ دیا گیا ہے اُس کے خلاف حالیہ (تازہ ترین) مقدمہ رواں ہفتے (چوبیس ستمبر دوہزاراکیس) عدالت ِعالیہ (پشاور ہائی کورٹ) میں درج ہوا ہے جس میں درخواست گزار جواد افضل وغیرہ نے ”پاکستان میڈیکل کمیشن قانون 2020ئ“ کو غیرمناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ قانون آئین پاکستان (1973ئ) کی مختلف شقوں کے خلاف ہے بالخصوص یہ 18ویں آئینی ترمیم سے بھی متصادم ہے جس میں صوبوں کو تعلیم جیسے شعبے میں فیصلے کرنے کی اجازت (آئینی خودمختاری) دی گئی تھی۔ مقدمہ درج ہو چکا ہے اُور سماعت کے لئے ’یکم اکتوبر‘ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اِس مقدمے (مو¿قف) کی خاص بات طلبہ کی اہلیت جانچنے کے معیار (MDCAT) نامی امتحان ہے‘ جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اِس کی خاطرخواہ تیاری کے لئے طلبہ کو وقت نہیں دیا گیا اُور پے در پے امتحانات کی وجہ سے طلبہ شدید ذہنی دباو¿ کا شکار ہوتے ہیں۔ اگرچہ مقدمے میں یہ نکتہ شامل نہیں کہ طلبہ کی اہلیت جانچنے کے لئے اُنہیں ایک سے زیادہ امتحانی مراحل سے واسطہ پڑتا ہے جو غیرضروری اُور نامناسب تعلیمی بندوبست ہے اصولاً بورڈ امتحان ہی کسی طالب کی اہلیت و قابلیت جانچنے کے لئے کافی ہے اُور اگر بورڈ امتحان ’کسی وجہ سے‘ کافی نہیں تو پھر اِسے جاری رکھنے کا مقصد سمجھ و ضرورت سے بالاتر ہے۔ اُمید کے مقدمے کے کسی مرحلے پر اِس بارے بھی غور ہوگا کہ آخر میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لئے کسی اضافی امتحان کی ضرورت (طلب) ہی کیوں پیش آتی ہے؟

پشاور ہائی کورٹ کے سامنے میڈیکل کمیشن سے متعلق دوسرا اعتراض (عذر) یہ پیش گیا ہے کہ ’ایم ڈی کیٹ‘ نامی (تعلیمی اہلیت جانچنے کا) امتحانی مرحلہ پانچ مختلف نصابوں (چار صوبوں اُور وفاقی تعلیمی نصاب) پر مشتمل ہے‘ جس میں کامیابی کے لئے کم سے کم 65 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہیں۔ یہ پینسٹھ فیصد نمبر بورڈ امتحان میں پاس ہونے کے مقررہ معیار سے زیادہ رکھے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں کا مو¿قف ہے کہ کورونا وبا سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے درس و تدریس کا عمل بار بار تعطل کا شکار رہا ہے اُور جبکہ اِس بات کا اعتراف خود وفاقی و صوبائی حکومتیں بھی کرتی ہیں تو اِس کے باوجود میڈیکل و ڈینٹل تعلیم کے خواہشمند طلبا و طالبات سے ’پاسنگ مارکس‘ کم کرنے کی صورت رعایت کیوں نہیں کی گئی؟ تیسرا نکتہ صوبائی خودمختاری سے متعلق ہے کہ طب (میڈیکل و ڈینٹل) کی تعلیم میں داخلوں کے لئے اہلیت کا امتحان (ایم ڈی کیٹ) منعقد کرنے کا اختیار صوبوں کو ہونا چاہئے کہ وہ امتحان کے نصاب‘ امتحان کی تاریخ اُور امتحان کے آن لائن یا آف لائن طریقہ¿ کار سے متعلق فیصلہ خود کریں۔ ذہن نشین رہے کہ رواں برس ہونے والے مذکورہ ’ایم ڈی کیٹ امتحان‘ کے نتائج ایسے طلبا و طالبات کے لئے مایوسی کا باعث بنے ہیں جو سکول و بورڈ امتحانات کے دوران یعنی اپنے پورے تعلیمی عرصے (ایجوکیشن کیئریر) میں نمایاں رہے لیکن وہ ’ایم ڈی کیٹ‘ میں کامیاب نہ ہو سکے یا اِس امتحان کو بھی امتیازی نمبروں سے پاس نہ کر سکے۔ یہ صورتحال صرف طلبا و طالبات ہی کے لئے نہیں بلکہ والدین اُور اساتذہ کے لئے پریشان کن ہیں جنہوں نے بچوں کے اچھے مستقبل کے خواب میں اپنا پیٹ کاٹ کر اُور اپنی ضروریات کی قربانیاں دے کر سرمایہ کاری کی لیکن اُن کے سامنے ایک ’ناقابل یقین نتیجہ‘ اُور سردمہری کا مظاہرہ کرنے والا ’بے رحم ادارہ‘ موجود ہے‘ جس پر کسی مہذب و شائستہ اُور آئینی حقوق و اخلاقی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے شکایت یا مقدمہ درج کرنے اُور کسی بھی نوعیت کے احتجاج کا کوئی اثر نہیں ہو رہا۔

وفاقی اُور صوبائی سطح پر فیصلہ سازوں کو لاکھوں کی تعداد میں طب کی تعلیم کے خواہشمند طلبہ اُور اِن کے والدین میں پائی جانے والی تشویش و پریشانی کا سدباب کرنے کے لئے خاطرخواہ فوری اُور باعث ِاطمینان عملی اقدامات کرنے چاہیئں۔

....





Sunday, April 24, 2016

TRANSLATION: Who are Punjabi Taliban?

Who are Punjabi Taliban
پنجابی طالبان کون ہیں؟
صوبہ پنجاب میں جہاں کہیں دہشت گردی رونما ہوتی ہے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے تو ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح کا عموماً استعمال ہوتا ہے۔ حال ہی میں پنجاب کے ضلع راجن پور میں ’چھوٹو گینگ‘ نامی ایک جرائم پیشہ گروہ کے خلاف کاروائی کی گئی جس میں ’پنجابی طالبان‘ کا نام آیا۔ اگرچہ ’چھوٹو گینگ‘ ایک جرائم پیشہ گروہ ہے لیکن اِس قسم کی افواہیں امکانات پر بیان کی جاتی ہیں کہ عسکریت پسندوں نے ممکنہ طور پر جرائم پیشہ عناصر سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہو یا پھر انہوں نے دریا کنارے ’کچا جمال‘ کی پٹی میں پناہ لے رکھی ہو جو راجن پور کی تحصیل روجھان کا علاقہ ہے۔ ابھی تک اس بات کے شواہد نہیں ملے ہیں کہ غلام رسول المعروف چھوٹو کے عسکریت پسندوں کے کسی ’نیٹ ورک‘ کے ساتھ روابط تھے یا پھر اُس نے بلوچی‘ سندھی یا دیگر عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کی یا انہیں اسلحے کی فراہمی میں ملوث رہا ہو۔ درحقیقت چھوٹو نے اپنے آپ کو فوج کے حوالے کرنے سے قبل مبینہ طور پر اُن رابطہ کار پولیس حکام بارہا کہا کہ اُسے طالبان کے طور پر ظاہر کرنا غلط ہے۔ اُس سے منسوب یہ بیان بھی ہے کہ میں مسلمان ہوں نہ کہ طالبان۔

پنجابی طالبان کی زیراستعمال اصطلاح کا کافی دلچسپ پس منظر ہے۔ سال 2001ء کے آخری دنوں میں جب پنجابی بولنے والے عسکریت پسند افغانستان پر غیرملکی جارحیت کے خلاف لڑنے کے لئے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں پہنچے تو اُن کے لئے یہ اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ یہ پنجابی طالبان باجوڈ‘ مہمند‘ خیبر‘ کم اور اورکزئی کے قبائلی علاقں میں مقیم ہوئے یا پھر شمالی و جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں روپوش ہوئے اور یہیں انہوں نے عسکری تربیت حاصل کی تاکہ وہ افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ جاری مزاحمت میں حصہ لے سکیں۔ مقامی پختون عسکریت پسندوں نے بھی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اپنے اِن ساتھیوں کو ’پنجابی طالبان‘ پکارنا شروع کر دیا۔ پنجابی طالبان کی پختون اکثریتی عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلق سے لسانی رنگینیاں بھی پیدا ہوئیں جیسا کہ خان سید نامی اہم عسکریت پسند رہنما کو ’سجنا‘ کہہ کر مخاطب کیا جانے لگا۔ چونکہ خان سید کا پنجابی طالبان کے ساتھ رویہ دوستانہ تھا اِس لئے اُسے ’سجنا‘ کا لقب دیا گیا جو اصل نام کے مقابلے زیادہ معروف ہوگیا۔ خان سید نے خود کو سجنا کہلانے پر کبھی بھی اعتراض نہیں کیا حالانکہ اُس کا اپنا اختیار کردہ لقب ’خالد محسود‘ تھا۔ طالبان کی بہت سی قسمیں ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے الگ شناخت کے طور پر مختلف نام دینا بھی ایک ضرورت ہی تھی۔ لفظ ’طالب‘ جس سے ’طالبان‘ بنا کا لغوی معنی ایک ایسے شخص کے ہیں جو طالب علم ہے اور یہ اصطلاح اصلاً 1994ء میں اُس وقت سے زیراستعمال ہے جب افغانستان کے سابق دارالحکومت شہر قندھار سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما ’ملا محمد عمر‘ نے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ پھر جب دسمبر 2007ء میں جنوبی وزیرستان (قبائلی علاقے) میں بیت اللہ محسود نے ’تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)‘ کی بنیاد رکھی جو کہ افغانستان کے طالبان ہی کی طرز پر پاکستانی شاخ تھی تو اُس وقت افغان طالبان کی اصطلاح متعارف ہوئی تاکہ طالبان کے اِن دونوں گروہوں کے درمیان تمیز کی جاسکے۔ دریں اثناء پاکستانی طالبان جن کے ایک دھڑے کی شناخت کے لئے پنجابی طالبان استعمال ہونے لگا ’پختون عسکریت پسندوں‘ کی اکثریت والی تنظیم کا حصہ بنتے چلے گئے۔ یہ بات دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ پختون عسکریت پسندوں کو کبھی بھی ’پختون طالبان‘ نہیں کہا گیا جیسا کہ بعد میں شامل ہونے والوں کے لئے ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ عسکریت پسندوں میں کوئی ایسا خاص دھڑا یا دستہ نہیں کہ جسے ’پنجابی طالبان‘ کہا جاتا ہے بلکہ صرف لسانی بنیادوں پر یعنی پنجابی زبان بولنے کی وجہ سے ایسے عسکریت پسند پنجابی طالبان کہلائے۔ جہادی تنظیمیں نظریاتی وجوہات یا قیادت کرنے والی شخصیات کی ذاتی حیثیت و مقام سے اختلاف یا ٹکراؤ کی بناء پر گروہوں میں تقسیم ہوئیں اور ان میں سے بہت سی تحریک طالبان پاکستان سے اتحادی ہوئیں کیونکیہ یہ سب سے طاقتور ایک ایسا گروہ تھا جو قبائلی علاقوں پر بھی کنٹرول رکھتا تھا اور اس میں یہ صلاحیت بھی تھی کہ حسب ضرورت اُن مقامی یا غیرملکی عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں اور تحفظ فراہم کرسکتا تھا‘ جنہیں مدد کی ضرورت ہوتی تھی۔ عسکریت پسندوں کی اکثریت مختلف گروپوں میں تقسیم ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے کو شخصی طورپر جانتی تھی کیونکہ وہ افغانستان و پاکستان میں اکٹھے کاروائیاں کرتے رہے تھے یا پھر اکٹھے تربیت حاصل کرچکے تھے اور جب وہ نے تحریک طالبان پاکستان میں شامل یا اس کے اتحادی بنے تو اُن کے درمیان تعلقات زیادہ مضبوط ہوگئے۔ پنجابی طالبان کے کچھ دھرے ایسے تھے جنہوں نے اِس اصطلاح کا اپنے لئے عمومی استعمال کیا یا پھر ایسے مواقعوں پر اِس اصطلاح کا استعمال کیا گیا جبکہ کاروائی کو شناخت کرنے کی ضرورت پیش رہی۔

پاکستان کی سیاسی صورتحال میں بھی ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح کا استعمال ہو چکا ہے۔ 2008ء کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد جب پاکستان پیپلزپارٹی کی وفاق میں حکومت بنی تو اُس وقت کے وزیرداخلہ رحمان ملک کی جانب سے ’پنجابی طالبان‘ کی اِصطلاح اِستعمال کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے باقاعدہ اِحتجاج کیا تھا اور یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ ’پنجابی طالبان‘ نامی کسی ایسے مبینہ دھڑے کا وجود نہیں۔ تکنیکی طور پر اگر دیکھا جائے تو شہباز شریف اپنے اِس دعوے میں سچے تھے کیونکہ اُس وقت تحریک طالبان پاکستان میں ایسے کسی دستے کا وجود نہیں تھا جو ’پنجابی طالبان‘ ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ چاہے جس نام سے بھی پکارا جائے لیکن ’پنجابی طالبان‘ کا وجود تحریک طالبان پاکستان میں اَہم و فعال ہے۔

پاکستان کے حکمراں طبقے کی اکثریت جس کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے پنجابی طالبان کے وجود کا انکار کرتے رہے اُس وقت تک جبکہ گلشن اقبال پارک لاہور میں خودکش حملہ ہوا‘ جس سے بھاری جانی نقصانات ہوئے۔ مذکورہ دہشت گرد حملے کے بعد وفاقی اور پنجاب حکومت جس کی قیادت پاکستان مسلم لیگ (نواز) کر رہی ہے نے پنجاب بالخصوص جنوبی اضلاع میں موجود عسکری گروہوں کے خلاف کاروائی کی مطالبہ کیا۔ قبل ازیں بڑے عسکریت پسند رہنما ملک اسحاق اور اُن کے ساتھی مارے گئے یا پولیس مقابلے میں قتل ہوئے لیکن یہ کاروائی اُسی مطالبے کا عملی نمونہ تھی۔پاکستان مسلم لیگ نواز کی سیاسی مخالفت کرنے والی جماعتیں جن میں خیبرپختونخوا‘سندھ و بلوچستان کی حکمراں جماعتیں اور اِن صوبوں کی قوم پرست جماعتیں بھی شامل تھیں پنجاب کے عسکری گروہوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرنے میں پیش پیش تھے۔ ’چھوٹو گینگ‘ کی مزاحمت‘ کئی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور پولیس و بعدازاں فوج کی کاروائی جیسے واقعات سے ثابت ہوا ہے کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال مثالی نہیں یا پھر جس قدر بہتر بیان کی جاتی ہے حقیقت میں ویسی نہیں۔ پنجابی طالبان کی اصطلاح معرض وجود میں آئی اور یہ باقی رہے گی لیکن برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ عسکریت پسند کسی بھی نام یا گروہ سے تعلق رکھتے ہوں کمزور ہوئے ہیں اور تحریک طالبان پاکستان کی طاقت کے مراکز ماضی کے مقابلے منتشر دکھائی دیتے ہیں۔ پاک فوج کی کاروائی اور امریکہ کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں اُن کے قدم قبائلی علاقوں سے بھی اکھڑنے کے بعد اُن کی اکثریت یا تو افغانستان چلی گئی ہے یا پھر پاکستان کے طول و عرض میں روپوش ہو گئی ہے۔ پنجابی طالبان کے نام سے شہرت رکھنے والے باقی ماندہ عسکریت پسند ایک خطرہ تو ہیں لیکن اُن کے نقصان پہنچانے کی صلاحیت و استعداد بڑی حد تک کم (تقلیل) ہو گئی ہے۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Sunday, March 8, 2015

TRANSLATION: Billion-rupee questions!

Billion-rupee questions
سیاست و منفعت
ڈاکٹر فرخ سلیم
سینیٹ انتخابات: حال ہی میں مکمل ہوئے پاکستان کے قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) کے لئے اراکین کا چناؤ عمل میں لایا گیا جس سے متعلق مجھ سمیت بہت سے تجزیہ کاروں نے پیشنگوئی کی تھی کہ اِن کے نتائج پر ماضی کی طرح مالی وسائل کے کرشمے اپنا اثر کریں گے لیکن ایسا بڑے پیمانے پر نہ ہوسکا۔

 درحقیقت سینیٹ کے انتخابات میں اراکین اسمبلیوں کے ووٹوں کی خریداری ووٹوں کے مجموعی حجم سے ہوتی ہے جیسا کہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے گیارہ اراکین قومی اسمبلی کو چار سینیٹرز کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ دوسرے درجے پر سب سے زیادہ مانگ بلوچستان اسمبلی کے رکن 65 اراکین اسمبلی کی ہوتی ہے جنہیں مجموعی طورپر گیارہ سینیٹرز کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ تیسری اور ووٹوں کی خریداری کے لحاظ سے کم ترجیح خیبرپختونخوا اسمبلی کی ہوتی ہے جس کے اراکین کی کل تعداد ایک سو چوبیس ہے اور نہ ہونے کے برابر ترجیح سندھ اسمبلی کی ہوتی ہے جس کے اراکین کی تعداد 168 ہے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی کی تعداد 371جبکہ وفاقی دارالحکومت کے لئے مختص دو سینیٹ کی نشستوں کے لئے 342 اراکین اسمبلی کو صرف دو سینیٹرز کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ جس قدر ووٹ دینے والوں کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے‘ اُسی قدر ووٹوں کی خریداری کرنے والوں کے امکان ختم ہوتے چلے جاتے ہیں لیکن بلوچستان اسمبلی میں ووٹوں کی خریدوفروخت ہوئی ہو گی کیونکہ آزاد حیثیت سے سینیٹ کے لئے اُمیدوار وہاں سے کامیاب ہوئے جبکہ ایوان میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے تعلق رکھنے والے بائیس اراکین اسمبلی موجود تھے لیکن اُن کے نامزد اُمیدوار ہار گئے۔ سینیٹ کے لئے اراکین اسمبلی کے ووٹوں کی خریدوفروخت (ہارس ٹریڈنگ) اس وجہ سے بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ نواز لیگ کی بلوچستان اسمبلی میں 22 اراکین ہیں جن کی بنیاد پر اُنہیں صرف تین سینیٹ کی نشستیں ملی ہیں جبکہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 14 اور نیشنل پارٹی کے 11اراکین اسمبلی ہیں لیکن اِن دونوں جماعتوں کو مسلم لیگ نواز سے کم اراکین ہونے کے باوجود سینیٹ میں تین تین نشستیں ملی ہیں۔ جو اِس بات کو تقویت دیتی ہیں کہ کم اراکین کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود اگر پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کو اپنے حصے سے زیادہ نشستیں ملی ہیں تو اس کے پیچھے یقیناًکچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوگا‘ جس کی وجہ سے یہ بظاہر ناممکن انتخاب ممکن ہو پایا۔

قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے چھ اراکین قومی اسمبلی نے بھی سینیٹرز کے لئے اراکین کے چناؤ کے عوض پیپلزپارٹی اور نواز لیگ سے کچھ نہ کچھ ضرور حاصل کیا ہوگا کہ حکومت قبائلی سینیٹرز سے متعلق جو قانون سازی لانا چاہتی تھی جو آخری وقت میں معطل کر دی گئی۔

حیرت انگیز طور پر خیبرپختونخوا کی حکمراں جماعت ’پاکستان تحریک انصاف‘ نے نواز لیگ کی مکمل حمایت کی۔ صوبہ پنجاب میں مختلف نوعیت کی ’ہارس ٹریڈنگ‘ ہوئی جہاں سینیٹ انتخابات سے قبل اراکین اسمبلی کو ترقیاتی منصوبوں کے لئے خطیر مالی وسائل فراہم کرنے کے وعدے کئے گئے جو فی رکن اسمبلی 2 کروڑ روپے کے مساوی ہوں گے۔

سینیٹ انتخابات کے بعد کا منظرنامہ: پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس سینیٹ کی 27 نشستیں اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے پاس 26 نشستیں ہیں اور دونوں جماعتیں اِس بات کے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گی کہ آئندہ سینیٹ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کا تعلق اُن کی جماعت سے ہو۔ اگر پیپلزپارٹی متحدہ قومی موومنٹ‘ عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے ساتھ مل بھی جائے تو بھی اُسے اکثریت پانے کے لئے پانچ مزید ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔ اگر نواز لیگ پاکستان تحریک انصاف‘ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی جیسے اتحادیوں پر انحصار کرتی ہے تو اُسے مزید 14 ووٹوں کی ضرورت ہوگی تاکہ سینیٹ میں اپنی اکثریت ثابت کر سکے۔یہی وجہ ہے کہ زرداری اور نواز شریف بجائے ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کے لئے مقابلہ کرنے کے چاہیں گے کہ اتفاق رائے سے بٹوارہ کر لیں‘ جس سے زیادہ تماشا (جگ ہنسائی) نہ ہو اور جملہ معاملات بھی خوش اسلوبی (رازداری) سے طے بھی ہوجائیں۔ یہی سبب ہے کہ آنے والے دنوں میں اُن سینیٹرز کی قیمت میں اضافہ ہوجائے گا‘ جو آزاد حیثیت سے ایوان بالا میں پہنچے ہیں۔

انتہائی اہم (اربوں روپے کا) سوال ہے کہ ’’آئندہ چیئرمین سینیٹ کون ہوگا؟‘‘ پاکستان میں مخلوط قسم کا جمہوری طرز حکمرانی رائج ہے جس میں فوج کلیدی فیصلوں کا اختیار رکھتی ہے۔ اس پوری کوشش کا مقصد سیاست اور جرائم کو الگ الگ درجات میں رکھنا ہے۔ سندھ میں نواز لیگ فوج کے مؤقف اور طرز فکر و عمل سے اتفاق کرتی ہے۔ پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ حالات کو جوں کا توں برقرار رکھنے کی سوچ رکھتی ہیں اور جہاں تک پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی بات ہے تو اُن کی کوشش ہے کہ وہ پاک فوج سے اپنے تعلقات بہتر بنائیں اور جو تعطل دونوں کے درمیان آ چکا ہے‘ اُسے ختم کریں۔

دوسرا انتہائی اہم سوال دہشت گردی کے خلاف قومی حکمت عملی (نیشنل ایکشن پلان) سے متعلق ہے۔ اب تک ہوئی پیش رفت میں دہشت گردی کرنے والوں تک پہنچنے والے مالی وسائل کو مکمل طور پر نہیں روکا جا سکا۔ اس سلسلے میں بہت کم یا تھوڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ فرقہ واریت اور نفرت پر مبنی مواد کی اشاعت و تقسیم پر پابندی کا مکمل اطلاق عملاً کیا جاسکے۔ قبائلی علاقہ جات میں ترقیاتی یا انتظامی اصلاحات کے نفاذ کے سلسلے میں بھی بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔ جرائم کے خاتمے کے لئے انصاف کے نظام میں بھی اصلاحات ابھی ہونا باقی ہیں۔ یہ کہنا بیجا نہیں ہوگا کہ ہماری سیاسی حکومتیں دہشت گردی جیسی پیچیدہ سوچ و عمل کا محض جذبات و بیانات سے مقابلہ چاہتی ہے اور یہ بات ہم سب یقین کی حد تک جانتے ہیں کہ جنگ چاہے کوئی بھی ہو‘ اُس میں فتح بناء عمل محض جذبات سے ممکن نہیں ہوتی۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
Billion Rupee questions by Dr Farrukh Saleem from The News March 08, 2015

Monday, September 1, 2014

Sept2014: Pain taking of Revolutionists

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ذمہ دار کون؟
اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر اٹھارہ دن سے احتجاجی دھرنا دینے والوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ شاید وہ جسمانی اور ذہنی طور پر اس قدر تھک چکے ہیں کہ اِس قضیے کا جلد از جلد حل چاہتے ہیں اور یہی بات مقتدر حلقوں کی جانب سے بھی باربار دہرائی جا رہی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ’سیاسی اختلافات‘ کا حل تلاش کیا جائے۔ تشدد سے گریز کیا جائے۔ ریاست اپنی طاقت کا استعمال کرنے میں احتیاط سے کام لے لیکن اگر مظاہرین ایک ٹانگ پر کھڑے ہیں تو حکومت کی جانب سے بھی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا‘ جس کے سبب حالات مزید الجھ گئے ہیں۔ جذبات بھڑک اٹھے ہیں جن کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے۔ اگرچہ یکم ستمبر کی صبح ہی سے موسلادھار بارش اور ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں لیکن شاید ہی کسی کی توجہ اسلام آباد کے اُس خوشگوار موسم کی جانب ہو جو جھاڑے میں داخل ہو رہا ہے۔

یکم ستمبر: صبح سات بجکر تیس منٹ: پولیس نے شاہراہ دستور کے تین مختلف مقامات پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے لئے ناشتے سے لدی ہوئی گاڑیاں جانے کی اجازت دی۔ جس میں پھلوں کے جوس‘ چائے‘ حلوہ اور دیگر گرما گرم اشیاء شامل تھیں۔ اگرچہ اشیائے خوردونوش مظاہرین کی تعداد کے تناسب سے کم تھیں لیکن اعصاب شکن سردی اور تھکاوٹ کے ساتھ خوف و دہشت کے عالم میں تمام رات آنکھوں آنکھوں میں بسرکرنے والوں کے لئے یہ سب کچھ کافی سے زیادہ اور ’حیات آفرین‘ تھا۔

یکم ستمبر: صبح نو بجکر تیس منٹ: ناشتے اور دیگر حاجات ضروریہ سے فارغ ہونے کے بعد مظاہرین کی قیادت کرنے والوں نے اعلانات کئے کہ وہ ایک مقام پر جمع ہو جائیں۔ اِس موقع پر اعلان کیا گیا کہ اگلی منزل ’وزیراعظم ہاؤس‘ کی جانب جانے والا راستہ ہوگا‘ جس کے باہر ’پرامن انداز میں دھرنا‘ دیا جائے گا۔ ابھی اعلان کی تفصیلات آ ہی رہی تھیں کہ پولیس کی جانب سے قومی اسمبلی کے سبزہ زار پر جمع ہونے والوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں فائر کی گئیں۔ جس کے بعد مظاہرین پولیس کی جانب لپکے اور آنکھ مچولی کا کھیل شروع ہو گیا۔ گذشتہ شام کو تعینات ہونے والے ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد بھی موقع پر موجود تھے‘ جو اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے اور اُن کی جانب سے مکے لہرانے کو دیکھ کر پرویز مشرف کی یاد آ گئی‘ جب اِسی شاہراہ دستور پر جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے وہ جمہوریت کی باتیں کرنے والوں کو اپنی طاقت سے مطلع کرتے تھے! بہرکیف جب مظاہرین و پولیس کے درمیان تصادم بڑھا‘ اور کونوں کھدروں سے مزید مظاہرین نکل آئے جن کی تعداد کسی بھی طرح دو ہزار سے زیادہ نہیں تھی تو تربیت یافتہ پولیس اہلکار اپنے زخمی ایس ایس پی آپریشنز کے ساتھ رفوچکر ہوگئے اور پورا علاقہ مظاہرین کے کنٹرول میں آگیا۔

صبح دس بجے: احتجاجی مظاہرین پاکستان سیکرٹریٹ کا گیٹ توڑ کر عمارت کے احاطے میں داخل ہوگئے جہاں پر پہلے سے موجود فوج اور رینجرز کے مسلح اہلکاروں نے اُنہیں عمارت کے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ دریں اثناء مظاہرین کی نظر پاک سیکرٹریٹ کے بلمقابل پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر پڑی جہاں چار فٹ کی دیوار اور ایک داخلی گیٹ پر تعینات پر چند سیکورٹی گارڈز چار منزلہ عمارت کی سیکورٹی کے لئے ناکافی تھے۔ مظاہرین پہلے دیوار اور بعدازاں گیٹ پھلانگ کر قومی ٹیلی ویژن کی عمارت میں داخل ہو گئے۔ گیارہ بجکر پچیس منٹ پر پہلے ’پی ٹی وی ورلڈ‘ اور بعدازاں ’پی ٹی وی نیوز‘ (چینلوں) کی نشریات معطل کر دی گئیں جنہیں دوپہر بارہ بجکر پانچ منٹ کے آس پاس اُس وقت بحال کیا جاسکا جب فوج کے ایک مسلح دستے اور رینجرز نے پی ٹی وی بلڈنگ کی حفاظت اپنے ہاتھ میں لی۔ ملک کے قومی ٹیلی ویژن کا تیس منٹ سے زائد وقت کے لئے بند رہنا کسی بھی صورت معمولی بات نہیں اور یہی وجہ تھی کہ دونوں احتجاجی جماعتوں کے قائدین نے اِس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کی اِس سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ صورتحال یہ ہے کہ احتجاجی مظاہرین اب اپنے قائدین کی بھی پرواہ نہیں کر رہے کیونکہ قائدین تو بلٹ پروف گاڑیوں میں ماسک پہنے ہوئے ہیں۔ اُنہیں بھوک پیاس اور موسم کی شدت تنگ نہیں کر رہی۔ مسئلہ تو اِن بیچاروں کا ہے جو کہیں عقیدت تو کہیں نظریاتی وابستگی کی وجہ سے ایک عہد کو نبھاتے ہوئے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ذمہ دار کوئی بھی ہو‘ قصوروار کوئی بھی ہو لیکن جو کچھ اسلام آباد میں ہوا‘ کوئی بھی ایسا ہونا نہیں چاہتا تھا۔ فوج کے بعد سپرئم کورٹ کی جانب سے بھی حکومت اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان ثالثی کرانے کی پیشکش سامنے آ چکی ہے‘ خدا کرے کہ پوری قوم کی ذہنی کوفت اور احتجاج کرنے والوں کی زحمتیں جلد تمام ہو جائیں۔

دوپہر ایک بجکر تیس منٹ: عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے ایک حدیث مبارکہ کا حوالہ دیا کہ ’’وہ بڑے معاشرے محض اس وجہ سے تباہ ہوئے کیونکہ وہاں طاقتور اور کمزور کے لئے الگ الگ قانون تھا۔‘‘ اُن کا کہنا تھا کہ یہی حال ہمارا بھی بھی ہے کہ اِنصاف سب کے لئے یکساں نہیں۔ جب ہم صرف چار انتخابی حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کی بات کر رہے تھے تو ہمیں انصاف دینے کی بجائے ہمارا مذاق اُڑایا جاتا تھا۔ اب ہمارے احتجاج سے اُنہیں جمہوریت خطرے میں لگ رہی ہے۔ انصاف نہ دینے اور دھاندلی کی پشت پناہی کرنے والا نظام جمہوریت نہیں ہوسکتا۔ ہر پاکستانی کے لئے بلاامتیاز انصاف اور دھاندلی سے پاک طرز انتخاب کے لئے انقلاب کامیاب ہو چکا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ہماری سیاسی تاریخ کی طویل المدتی تحریک پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔ ہماری جدوجہد اور دعائیں رنگ لائی ہیں۔ اپنے وقت‘ سرمائے اور خون سے ایک ناقابل فراموش سیاسی تاریخ رقم کرنے والے ہمیشہ کے لئے اَمر ہو چکے ہیں۔‘‘