Showing posts with label Punjabi Taliban. Show all posts
Showing posts with label Punjabi Taliban. Show all posts

Sunday, April 24, 2016

TRANSLATION: Who are Punjabi Taliban?

Who are Punjabi Taliban
پنجابی طالبان کون ہیں؟
صوبہ پنجاب میں جہاں کہیں دہشت گردی رونما ہوتی ہے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے تو ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح کا عموماً استعمال ہوتا ہے۔ حال ہی میں پنجاب کے ضلع راجن پور میں ’چھوٹو گینگ‘ نامی ایک جرائم پیشہ گروہ کے خلاف کاروائی کی گئی جس میں ’پنجابی طالبان‘ کا نام آیا۔ اگرچہ ’چھوٹو گینگ‘ ایک جرائم پیشہ گروہ ہے لیکن اِس قسم کی افواہیں امکانات پر بیان کی جاتی ہیں کہ عسکریت پسندوں نے ممکنہ طور پر جرائم پیشہ عناصر سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہو یا پھر انہوں نے دریا کنارے ’کچا جمال‘ کی پٹی میں پناہ لے رکھی ہو جو راجن پور کی تحصیل روجھان کا علاقہ ہے۔ ابھی تک اس بات کے شواہد نہیں ملے ہیں کہ غلام رسول المعروف چھوٹو کے عسکریت پسندوں کے کسی ’نیٹ ورک‘ کے ساتھ روابط تھے یا پھر اُس نے بلوچی‘ سندھی یا دیگر عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کی یا انہیں اسلحے کی فراہمی میں ملوث رہا ہو۔ درحقیقت چھوٹو نے اپنے آپ کو فوج کے حوالے کرنے سے قبل مبینہ طور پر اُن رابطہ کار پولیس حکام بارہا کہا کہ اُسے طالبان کے طور پر ظاہر کرنا غلط ہے۔ اُس سے منسوب یہ بیان بھی ہے کہ میں مسلمان ہوں نہ کہ طالبان۔

پنجابی طالبان کی زیراستعمال اصطلاح کا کافی دلچسپ پس منظر ہے۔ سال 2001ء کے آخری دنوں میں جب پنجابی بولنے والے عسکریت پسند افغانستان پر غیرملکی جارحیت کے خلاف لڑنے کے لئے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں پہنچے تو اُن کے لئے یہ اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ یہ پنجابی طالبان باجوڈ‘ مہمند‘ خیبر‘ کم اور اورکزئی کے قبائلی علاقں میں مقیم ہوئے یا پھر شمالی و جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں روپوش ہوئے اور یہیں انہوں نے عسکری تربیت حاصل کی تاکہ وہ افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ جاری مزاحمت میں حصہ لے سکیں۔ مقامی پختون عسکریت پسندوں نے بھی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اپنے اِن ساتھیوں کو ’پنجابی طالبان‘ پکارنا شروع کر دیا۔ پنجابی طالبان کی پختون اکثریتی عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلق سے لسانی رنگینیاں بھی پیدا ہوئیں جیسا کہ خان سید نامی اہم عسکریت پسند رہنما کو ’سجنا‘ کہہ کر مخاطب کیا جانے لگا۔ چونکہ خان سید کا پنجابی طالبان کے ساتھ رویہ دوستانہ تھا اِس لئے اُسے ’سجنا‘ کا لقب دیا گیا جو اصل نام کے مقابلے زیادہ معروف ہوگیا۔ خان سید نے خود کو سجنا کہلانے پر کبھی بھی اعتراض نہیں کیا حالانکہ اُس کا اپنا اختیار کردہ لقب ’خالد محسود‘ تھا۔ طالبان کی بہت سی قسمیں ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے الگ شناخت کے طور پر مختلف نام دینا بھی ایک ضرورت ہی تھی۔ لفظ ’طالب‘ جس سے ’طالبان‘ بنا کا لغوی معنی ایک ایسے شخص کے ہیں جو طالب علم ہے اور یہ اصطلاح اصلاً 1994ء میں اُس وقت سے زیراستعمال ہے جب افغانستان کے سابق دارالحکومت شہر قندھار سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما ’ملا محمد عمر‘ نے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ پھر جب دسمبر 2007ء میں جنوبی وزیرستان (قبائلی علاقے) میں بیت اللہ محسود نے ’تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)‘ کی بنیاد رکھی جو کہ افغانستان کے طالبان ہی کی طرز پر پاکستانی شاخ تھی تو اُس وقت افغان طالبان کی اصطلاح متعارف ہوئی تاکہ طالبان کے اِن دونوں گروہوں کے درمیان تمیز کی جاسکے۔ دریں اثناء پاکستانی طالبان جن کے ایک دھڑے کی شناخت کے لئے پنجابی طالبان استعمال ہونے لگا ’پختون عسکریت پسندوں‘ کی اکثریت والی تنظیم کا حصہ بنتے چلے گئے۔ یہ بات دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ پختون عسکریت پسندوں کو کبھی بھی ’پختون طالبان‘ نہیں کہا گیا جیسا کہ بعد میں شامل ہونے والوں کے لئے ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ عسکریت پسندوں میں کوئی ایسا خاص دھڑا یا دستہ نہیں کہ جسے ’پنجابی طالبان‘ کہا جاتا ہے بلکہ صرف لسانی بنیادوں پر یعنی پنجابی زبان بولنے کی وجہ سے ایسے عسکریت پسند پنجابی طالبان کہلائے۔ جہادی تنظیمیں نظریاتی وجوہات یا قیادت کرنے والی شخصیات کی ذاتی حیثیت و مقام سے اختلاف یا ٹکراؤ کی بناء پر گروہوں میں تقسیم ہوئیں اور ان میں سے بہت سی تحریک طالبان پاکستان سے اتحادی ہوئیں کیونکیہ یہ سب سے طاقتور ایک ایسا گروہ تھا جو قبائلی علاقوں پر بھی کنٹرول رکھتا تھا اور اس میں یہ صلاحیت بھی تھی کہ حسب ضرورت اُن مقامی یا غیرملکی عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں اور تحفظ فراہم کرسکتا تھا‘ جنہیں مدد کی ضرورت ہوتی تھی۔ عسکریت پسندوں کی اکثریت مختلف گروپوں میں تقسیم ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے کو شخصی طورپر جانتی تھی کیونکہ وہ افغانستان و پاکستان میں اکٹھے کاروائیاں کرتے رہے تھے یا پھر اکٹھے تربیت حاصل کرچکے تھے اور جب وہ نے تحریک طالبان پاکستان میں شامل یا اس کے اتحادی بنے تو اُن کے درمیان تعلقات زیادہ مضبوط ہوگئے۔ پنجابی طالبان کے کچھ دھرے ایسے تھے جنہوں نے اِس اصطلاح کا اپنے لئے عمومی استعمال کیا یا پھر ایسے مواقعوں پر اِس اصطلاح کا استعمال کیا گیا جبکہ کاروائی کو شناخت کرنے کی ضرورت پیش رہی۔

پاکستان کی سیاسی صورتحال میں بھی ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح کا استعمال ہو چکا ہے۔ 2008ء کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد جب پاکستان پیپلزپارٹی کی وفاق میں حکومت بنی تو اُس وقت کے وزیرداخلہ رحمان ملک کی جانب سے ’پنجابی طالبان‘ کی اِصطلاح اِستعمال کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے باقاعدہ اِحتجاج کیا تھا اور یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ ’پنجابی طالبان‘ نامی کسی ایسے مبینہ دھڑے کا وجود نہیں۔ تکنیکی طور پر اگر دیکھا جائے تو شہباز شریف اپنے اِس دعوے میں سچے تھے کیونکہ اُس وقت تحریک طالبان پاکستان میں ایسے کسی دستے کا وجود نہیں تھا جو ’پنجابی طالبان‘ ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ چاہے جس نام سے بھی پکارا جائے لیکن ’پنجابی طالبان‘ کا وجود تحریک طالبان پاکستان میں اَہم و فعال ہے۔

پاکستان کے حکمراں طبقے کی اکثریت جس کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے پنجابی طالبان کے وجود کا انکار کرتے رہے اُس وقت تک جبکہ گلشن اقبال پارک لاہور میں خودکش حملہ ہوا‘ جس سے بھاری جانی نقصانات ہوئے۔ مذکورہ دہشت گرد حملے کے بعد وفاقی اور پنجاب حکومت جس کی قیادت پاکستان مسلم لیگ (نواز) کر رہی ہے نے پنجاب بالخصوص جنوبی اضلاع میں موجود عسکری گروہوں کے خلاف کاروائی کی مطالبہ کیا۔ قبل ازیں بڑے عسکریت پسند رہنما ملک اسحاق اور اُن کے ساتھی مارے گئے یا پولیس مقابلے میں قتل ہوئے لیکن یہ کاروائی اُسی مطالبے کا عملی نمونہ تھی۔پاکستان مسلم لیگ نواز کی سیاسی مخالفت کرنے والی جماعتیں جن میں خیبرپختونخوا‘سندھ و بلوچستان کی حکمراں جماعتیں اور اِن صوبوں کی قوم پرست جماعتیں بھی شامل تھیں پنجاب کے عسکری گروہوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرنے میں پیش پیش تھے۔ ’چھوٹو گینگ‘ کی مزاحمت‘ کئی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور پولیس و بعدازاں فوج کی کاروائی جیسے واقعات سے ثابت ہوا ہے کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال مثالی نہیں یا پھر جس قدر بہتر بیان کی جاتی ہے حقیقت میں ویسی نہیں۔ پنجابی طالبان کی اصطلاح معرض وجود میں آئی اور یہ باقی رہے گی لیکن برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ عسکریت پسند کسی بھی نام یا گروہ سے تعلق رکھتے ہوں کمزور ہوئے ہیں اور تحریک طالبان پاکستان کی طاقت کے مراکز ماضی کے مقابلے منتشر دکھائی دیتے ہیں۔ پاک فوج کی کاروائی اور امریکہ کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں اُن کے قدم قبائلی علاقوں سے بھی اکھڑنے کے بعد اُن کی اکثریت یا تو افغانستان چلی گئی ہے یا پھر پاکستان کے طول و عرض میں روپوش ہو گئی ہے۔ پنجابی طالبان کے نام سے شہرت رکھنے والے باقی ماندہ عسکریت پسند ایک خطرہ تو ہیں لیکن اُن کے نقصان پہنچانے کی صلاحیت و استعداد بڑی حد تک کم (تقلیل) ہو گئی ہے۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)