Showing posts with label Rahimullah Yusufzai. Show all posts
Showing posts with label Rahimullah Yusufzai. Show all posts

Monday, September 13, 2021

Unmatched love for Peshawar

 پشاور شناسی

.... گھاس ’اِک‘ قبر پر کچھ اُور ہری لگتی ہے!

پشاور کی محبت میں سرشار ”رحیم اللہ یوسفزئی“ کی وفات (نو ستمبر دوہزاراکیس) پر صرف اُن کے ہم پیشہ (قلم قبیلہ) ہی افسردہ نہیں بلکہ پشاور شناسوں کی وہ تعداد میں غمزدہ ہے‘ جو صحافت کے شعبے میں سند کا درجہ رکھنے والے ’یوسفزئی‘ کے پشاور سے دلی تعلق اُور مخصوص نرم لہجے میں پشاور سے اخلاص و محبت کے اظہار پر مبنی خیالات سے آگاہ تھے۔ یادش بخیر‘ شمال مغربی سرحدی صوبے (حال خیبرپختونخوا) میں متحدہ مجلس عمل کے نام سے جماعت اسلامی‘ تحریک جعفریہ‘ جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن‘ جماعت اہلحدیث اُور جمیعت علمائے پاکستان پر مبنی دینی جماعتوں کا اتحاد سال 2002ءمیں قائم ہوا‘ جنہیں صوبائی حکومت بنانے کا موقع ملا تو پشاور سمیت دیگر اضلاع کے لئے مختص ترقیاتی وسائل وزیراعلیٰ کے آبائی حلقے میں تعمیروترقی پر خرچ ہونے لگے۔ اِس ناانصافی کے خلاف ’پشاور بچاو¿ تحریک‘ کا محاذ بنایا گیا اُور اِس کی روح رواں رحیم اللہ یوسفزئی نے صوبائی دارالحکومت کو اُس کا جائز حق دلانے کے لئے دامے‘ درہمے‘ سخنے مدد کی اُور پیش پیش رہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی (پیدائش 10 ستمبر 1954ئ) ضلع مردان کے گاو¿ں شموزئی میں پیدا ہوئے۔ مادری زبان پشتو (وہبی) لیکن اُردو اُور انگریزی پر یکساں (کسبی) عبور رکھتے تھے جبکہ ہندکو زبان کے چند الفاظ کی ادائیگی اُن کے منہ سے بہت اچھی لگتی بالخصوس جب وہ مخصوص دھیمے لہجے میں پشاور کے اصل وارثوں کی زبان (ہندکو) میں ’لالے دی جان‘ کہتے تو یہ درحقیقت مذاق نہیں ہوتا بلکہ وہ پشاوریوں کی نرم مزاجی اُور اِن کے ہاں پائے جانے والے عمومی ادب و احترام کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہوتے کہ جس میں ہر چھوٹے بڑے کو اُس کے اصل نام کی بجائے اچھے و معروف القابات سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ ہندکو زبان کے علاو¿ہ شاید ہی دنیا کی کسی دوسرے زبان میں عمومی بول چال اِس قدر ادب و تعظیم کے دائرے یا مدارج رکھتی ہو لیکن چونکہ اب اہل پشاور کے لئے ہندکو زبان اُتنی ہی اجنبی بن چکی ہے جتنی یہاں آباد ہونے والی دیگر اقوام کی اکثریت کے لئے ہے‘ اِس لئے بات بات پر ’لالے دی جان‘ اُور ’قربان جاواں‘ جیسے صیغے روزمرہ بول چال کے دوران سننے میں نہیں آتے۔ ’رحیم اللہ یوسفزئی‘ کی ’علم جو‘ طبیعت اُور ’علمی اضطراب‘ نے اُنہیں صحافت کی دنیا میں کامیاب و بلند مرتبے پر فائز کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی مادری زبان پشتو کو بھی سطحی نہیں بلکہ انتہائی گہرائی سے جانتے تھے اُور کسی ایک لفظ کی تہہ تک جانے میں تحقیق کو الجھنے یا بے نتیجہ چھوڑنے کے قائل نہیں تھے۔ اخبار کے صوبائی دفتر میں مدیرت (ریزیڈنٹ ایڈیٹر) کے طور پر فائز ہونے کی وجہ سے اکثر خبروں کے معیار اُور اُن میں استعمال ہونے والی اصطلاحات پر نظر رکھتے۔ ایک مرتبہ راقم سے محرم الحرام کی مناسبت سے تحریر خبر میں لفظ ’امام بارگاہ‘ سے متعلق سوالات پوچھے اُور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ’امام بارگاہ‘ اُور ’امام باڑہ‘ کی وجہ تسمیہ کیا ہے‘ یہ الفاظ کب سے رائج ہیں اُور مختلف ثقافتوں میں اِس عبادت گاہ کے مختلف نام کیا رائج ہیں۔ رحیم اللہ یوسفزئی نے کبھی بھی سیکھنے کا عمل ترک نہیں کیا اُور یہی وجہ تھی کہ جب تک اُن کے لوگوں سے ملنے یعنی بات چیت سے علم کے حصول کا سلسلہ جاری رہا‘ جو اُن کی علالت کے باعث آخری پانچ چھ ماہ صرف ٹیلی فونک رابطوں کی حد تک رہا اُور پھر دو ماہ اِس سے بھی محدود ہو گیا تھا تو اِس دوران اُنہوں نے لکھنے لکھانے کا عمل ترک دیا حالانکہ قوی الحافظہ تھے اُور مشق بھی خوب تھی۔ اُن کی آخری تحریر وفات سے قریب ڈھائی مہینے قبل ’دی نیوز‘ میں شائع ہوئی تھی۔ 

مرحوم و مغفور ”رحیم اللہ یوسفزئی“ صرف صحافتی ہی نہیں بلکہ سیاست کے شاہسوار بھی تھے۔ پاکستان اُور افغانستان کی قوم پرست جماعتیں و مذہبی حلقوں میں یکساں مقبول رہے اُور اگرچہ اپنی نگارشات میں صحافتی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے غیرجانبداری اُور سچائی کے جملہ پہلوو¿ں کے بیان پر مبنی توازن برقرار رکھتے لیکن اُن کے سیاسی جھکاو¿ کو باآسانی محسوس کیا جا سکتا تھا۔ دانشور اِس قدر تھے کہ کسی بھی قوم پرست جماعت کو اپنی دیانتدارانہ صحافتی خدمات کی وجہ سے ملنے والی حیثیت کا فائدہ اُٹھانے کا موقع فراہم نہیں کیا۔ یہی صحافیانہ ایمانداری‘ تجربہ اُور مہارت اُن کی کل کمائی (اثاثہ) تھا جسے اُنہوں نے آخری دم تک ہاتھ سے جانے نہیں دیا اُور اِس حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ جاننے والوں کی اکثریت اُن کی کامیاب زندگی کی معترف ہے اُور اُن سے دوستی و تعلق پر افتخار محسوس کرتی ہے۔ 

رحیم اللہ یوسفزئی کو پشاور سے اپنے تعلق پر ہمیشہ فخر رہا اُور اُن کے ہاں پشاور کا قرض اُور اِس کی محبت کے تقاضے نبھانے کی کوششیں بھی ہر دور میں جاری رہیں جو ایک ایسا وسیع عنوان ہے جس کا احاطہ کسی ایک تحریر میں ممکن نہیں۔ آپ نہ صرف خود پشاور کے شیدائی تھے بلکہ پشاور سے محبت اُور اِس جذبے کی قدر کرنے والوں کی حمایت اُور اُن کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے میں مصلحت سے کام نہیں لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اہل محبت کے درجات بلند سے بلند فرمائے اُور مرحوم کے قرابت داروں‘ دوست‘ احباب‘ عزیزواقارب اُور بالخصوص ایوان ہائے صحافت (پشاور پریس کلب) اُور خیبریونین آف جرنلسٹس کے افسردہ اراکین کو صبرجمیل عطا فرمائے۔ دنیا کی حقیقت ہی یہی ہے کہ یہاں حیات کی محافظ موت ہے اُور موت کوئی ایسی حالت نہیں جو زندگی سے کم خوشگوار تجربہ ہو کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اِسے یوں زندگی کے بعد نہ رکھا جاتا جو درحقیقت ایک انعام ہے‘ اُن ہستیوں کے لئے جو اپنی دنیاوی تجربہ گاہ میں اپنی زندگیاں حق گوئی کی نذر کرتے ہوئے امربالمعروف اُور نہی عن المنکرات (حی علی خیر العمل) کی عملاً تفسیر بنتے ہیں۔ ”زندگی موت کے پہلو میں بھلی لگتی ہے .... گھاس اِس قبر پر کچھ اُور ہری لگتی ہے! (سلیم احمد)“

رحیم اللہ یوسفزئی کی پشاور سے محبت کو سلام ہے جنہوں نے پشاور سے تعلق کو مضبوط کیا اُور یہاں ایک درِدولت (گھر) کی تعمیر کی صورت اپنی آنے والی نسلوں کو بھی پیغام دیا ہے کہ وہ پشاور سے اپنا تعلق بنائے رکھیں‘ جو یقینا ایسا ہی کریں گے۔ رحیم اللہ یوسفزئی کو لاتعداد اشکبار آنکھوں کے سامنے 10 ستمبر 2021ءکے روز (آبائی گاؤں کاٹلنگ) میں سپردخاک کیا گیا‘ آسمان صحافت کے اِس درخشاں  ستارے کو آسودہ خاک کرتے ہوئے اُن کے چہرے کا رخ مغرب کی طرف موڑ دیا گیا‘ جو پشاور کی جغرافیائی سمت ہے۔ ”روز کے روز بدلتا ہوں میں خود اپنا جواز .... زندگانی میں تجھے حل نہیں ہونے دیتا (سعید اللہ قریشی)۔“

....





Friday, September 10, 2021

Remembering Rahimullah Yusufzai

 ژرف نگاہ.... شبیرحسین اِمام

نایاب ہستیاں: رحیم اللہ یوسفزئی

صائب الرائے تجزیہ کار اُور افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی (پیدائش دس ستمبر اُنیس سو چون۔ وفات نو ستمبر دوہزاراکیس) دارِفانی سے کوچ کر گئے۔ آپ ایک عرصے سے سرطان (کینسر) کے مرض میں مبتلا تھے‘ جس کا مقابلہ کرتے ہوئے جانبر نہ ہو سکے۔ انا للہ و انا علیہ راجعون۔ 

اَفغانستان میں روس (سوویت یونین) کی فوجی مداخلت (24 دسمبر 1979ءسے 15 فروری 1989ئ) کے دوران اُور اِس فوج کشی کو ختم کرنے کے لئے شروع ہونے والی مزاحمتی تحریک کا دور کمپیوٹر‘ انٹرنیٹ‘ موبائل فون اُور سوشل میڈیا جیسی ترسیلی سہولیات کا حامل نہیں تھا۔ خبر نگاری تجزیہ کاری سے زیادہ مشقت و محنت طلب کام اُسے ارسال کرنا ہوتا تھا جس کے لئے ایڈروڈز کالج کے سامنے پوسٹ آفس میں غیرملکی اداروں کے لئے کام کرنے والے صحافیوں کی قطاریں لگی ہوتی تھیں جو اپنے اپنے دفاتر ’وائر‘ کے ذریعے خبریں اُور ڈرم اسکینگ کے ذریعے تصاویر بھیجتے تھے۔ اُس دور میں جبکہ گوگل (google) کے ذریعے تلاش ممکن نہیں تھی اُور عالمی معیار کے مطابق صحافت کرنے سے بھی ہر کس و ناکس آشنا نہیں تھا تب رحیم اللہ یوسفزئی نے کراچی‘ اسلام آباد اُور پشاور کے اخبارات میں کام کرنے کے تجربے‘ تعلق اُور موقع سے استفادہ کرتے ہوئے افغان امور کے بارے میں اِس انداز سے خبرنگاری کی کہ اُن کے تجزئیات کی روشنی میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ مسلم ممالک کی خارجہ پالیسی کے خدوخال درست (فائن ٹیوننگ) کئے جاتے تھے۔ اب جبکہ ہر طرف ’صحافی‘ دکھائی دیتے ہیں اُور پشاور کے ایوان ہائے صحافت کی رونقیں عروج پر ہیں تو خیبرپختونخوا میں صحافتی اقدار کو متعارف اُور صحافتی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے میں بھی رحیم اللہ یوسفزئی کے کردار کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا جن کا ثانی نہ ہے اُور نہ ہی کبھی ہوگا۔ 

افغانستان کے عسکریت پسند رہنماؤں بشمول القاعدہ تنظیم کے سعودی عرب نژاد سربراہ اسامہ بن لادن اُور افغان طالبان تحریک کے بانی رہنما ملا عمر سے بات چیت کے ذریعے رحیم اللہ یوسفزئی نے عالمی شہرت پائی۔ ایک وقت تھا جب مغربی ذرائع ابلاغ اُور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے علاو¿ہ غیرملکی سفارتخانوں کے لئے رحیم اللہ یوسفزئی سے زیادہ افغان امور سے متعلق صائب الرائے شخص کوئی دوسرا نہیں تھا اُور یہی وہ دور تھا جب رحیم اللہ یوسفزئی درجنوں ملکی و غیرملکی نشریاتی و اشاعتی اداروں کے لئے باقاعدگی سے اُور بے تھکان لکھتے تھے لیکن صحافت سے اُن کی وابستگی اُور لگاو¿ صرف ملازمت ہی کی حد تک محدود نہیں رہا اُور وہ دیگر صحافیوں کی طرح روایت پسند (لکیر کے فقیر) بھی نہیں رہے بلکہ اُنہوں نے صحافت میں آنے والی تبدیلیوں اُور ابلاغ کے جدید ترین وسائل (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے برق رفتار اسلوب پر نظر رکھی اُور سنسنی خیزی کی بجائے ہمیشہ تحمل کو اہمیت دی۔ فوری خبر کی دور میں سچائی و غیرجانبداری پر سمجھوتہ نہیں کیا اُور صحافت کی چاشنی‘ تازگی و اقدار کے بہرصورت علمبردار رہے اُور تنقیدی صحافت سے الگ رہے کیونکہ وہ شروع دن سے جانتے تھے کہ تنقیدی نظریات میں کوئی فلسفیانہ سچائی نہیں ہوتی کہ جسے مجرد فلسفیانہ طور پر ثابت کیا جا سکے اُور یہی نظریہہ اُن کی پوری عملی زندگی پر حاوی اُور صحافتی کامیابی کا نچوڑ ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی مرحوم اپنی ذات میں ایک جامعہ تھے۔ اُن کے علاو¿ہ راقم کو کسی ایسے ’ریذیڈنٹ ایڈیٹر‘ کے ساتھ کام کرنے کا موقع نہیں ملا جو اپنی ٹیم کے ہر رکن کی کمزوریوں اُور صلاحیتوں (پوٹینشل) کو مدنظر رکھتے ہوئے اُس کی انفرادی اُور پوری ٹیم کی اجتماعی تربیت کا اہتمام نہ کرتا ہو۔ خبرنگاری میں عالمی صحافتی اسلوب کے قواعد و ضوابط اُور انگریزی لغت کے مطابق الفاظ کا درست انتخاب و موزوں استعمال شاید ہی اُن کے علاؤہ کسی دوسرے کے ہاں اِس قدر اہتمام کے ساتھ ملے۔ صرف 2 مثالوں سے اُن کی باریک بینی اُور انگریزی زبان کے قواعد کا لحاظ رکھنے میں دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا کہ رپورٹروں کی ہفتہ وار میٹنگ میں وہ اکثر انگریزی زبان میں شخصیات‘ مقامات یا القابات کا تعین کرنے والے (determiner) ’The‘ اُور سنگل اُور ڈبل ’کوٹیشن مارکس (Quotation marks)‘ کے درست استعمال کو مثالوں سے بیان کرتے جو بظاہر چھوٹی بات لگتی ہے لیکن جب ہم انگریزی صحافت کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلی درست چیز اِس زبان کی قواعد و ضوابط پر عمل ہونا چاہئے۔ رحیم اللہ یوسفزئی بار بار غلطی کرنے پر بار بار اصلاح کرتے اُور یہ بھی آپ ہی کا خاصہ (بڑا پن) تھا کہ ناراضگی یا غصے کا اظہار کبھی بھی آپ کے چہرے یا خطاب سے عیاں نہ ہوتا۔

رحیم اللہ یوسفزئی کے ساتھ دو برس چند ماہ ایک ہی ادارے (اخبار دی نیوز) میں کام کرنے کے دوران متعدد مرتبہ اُن کے ہمراہ افغانستان سفر کرنے کا اتفاق ہوا‘ جن سے متعلق یاداشتوں کو چند سطور میں بیان کرنا ممکن نہیں‘ البتہ صرف ایک واقعہ قارئین کو اُن کی شخصیت کے ایک خاص پہلو سے روشناس کرانے اُور رحیم اللہ یوسفزئی کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی کی محمد عمر نامی شخص سے قندھار میں پہلی ملاقات اُن کے ملا عمر بننے یعنی تحریک طالبان (افغانستان) کی بنیاد رکھنے سے کئی برس پہلے ہوئی تھی۔ فروری 1995ءمیں تحریک طالبان افغانستان کے جنوب مغربی صوبوں میں قئام کی گئی جن ملا عمر 35 برس کے تھے اُور ملاعمر نے اُنہیں بتایا تھا کہ وہ اُن دنوں مدرسے میں زیرتعلیم تھے لیکن روس (سوویت یونین) کے خلاف جہاد کے لئے اُنہوں نے مدرسے میں جاری تعلیمی عمل کو خیرباد کہا اُور اپنے لئے ’طالب‘ کا لقب پسند کیا‘ جس کا مطلب علم کا متلاشی ہوتا ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی کی ایک مرتبہ نہیں بلکہ ملا عمر سے کئی ملاقاتیں رہیں اُور چونکہ ملا عمر تصویر نہیں بنواتے تھے اُور نہ ہی وہ دور ایسا تھا کہ جب ہر شخص کی جیب میں کیمرے والا موبائل ہوا کرتا تھا۔ دنیا ملا عمر کا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی اُور اِس میں مدد کرنے کے لئے رحیم اللہ یوسفزئی ہی واحد ایسی غیرملکی شخصیت تھے‘ جن کا اُن سے نہ صرف ملاقاتوں بلکہ بعدازاں بھی رابطوں کا سلسلہ رہا۔ 

روس کی شکست کے بعد ایک مرحلہ وہ آیا جب امریکہ اُور اتحادی افواج نے افغانستان پر فوج کشی کر دی اُور یہ وہ وقت تھا جب رحیم اللہ یوسفزئی دل کے عارضے میں مبتلا تھے اُور آپ نے خاص دفتری امور کے علاو¿ہ دیگر معمولات ترک کر دیئے تھے۔ ڈاکٹروں نے زیادہ مشقت حتی کہ ہوائی جہاز کے سفر سے بھی منع کیا تھا کہ اُنہیں ملا عمر کی طرف سے ملاقات کی خواہش کا پیغام ملا تو اُن کے چہرے پر سنجیدگی مزید بڑھ گئی تھی جس سے متعلق پوچھنے پر بتایا کہ اگرچہ میرا ہوائی سفر کرنا میری زندگی کے لئے خطرہ ہے لیکن مجھے کوئٹہ اُور وہاں سے براستہ سڑک قندھار جانا پڑے گا لیکن ”آپ کی صحت اتنا طویل اُور پرخطر سفر کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی؟“ میرے اِس سوال پر اُنہوں نے کہا کہ ”ایک وقت تھا جب دنیا ملاعمر سے بات کرنا چاہتی تھی اُور اُس وقت اُنہوں نے مجھ پر اعتماد کیا کہ میں اُن کے موقف کو پوری ایمانداری سے پیش کروں گا اُور اب جبکہ دنیا اُن سے کترا رہی ہے اُور میں خرابی صحت کے جواز پر اُن سے ملاقات نہ کروں تو کہیں میری صحافتی ایمانداری اُور غیرجانبداری سے متعلق اُن کی رائے تبدیل نہ ہو جائے اُور پھر وہ اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر ہوائی و زمینی سفر پر گئے جو اپنی جگہ سیکورٹی خطرات سے بھی بھرپور تھا اُور ایک ایسے وقت میں جبکہ خلائی سیاروں اُور ڈرون طیاروں سے ہر راہداری کی نگرانی ہو رہی تھی اُور رحیم اللہ یوسفزئی جیسی شخصیات کے پیچھے سائے کی طرح خفیہ اِداروں کے اہلکار جڑے رہتے تھے تو افغانستان کا دورہ اُن کی مہم جو طبیعت کا عکاس تھا۔ وہ ایک نہایت ہی مشکل پسند اُور مستقل مزاج انسان تھے۔

اہل خانہ اُور اہل خاندان کے لئے آسائشوں کا بندوبست کیا لیکن اپنی بودوباش انتہائی سادہ اُور متوازن رکھی۔ وہ ترک دنیا کی عجیب و غریب مثال تھے کہ بیماری کی شدت کے آخری چند ماہ (دوہزاراکیس کے آغاز سے 9 ستمبر تک) کے علاوہ اُنہوں نے کبھی بھی لکھنا ترک نہیں کیا۔ دی نیوز میں اُن کی آخری تحریر ’21 جون 2021ئ‘ کے روز شائع ہوئی جو ’نیشنل الیکٹرسٹی پالیسی‘ سے متعلق تھی جبکہ ہفتہ وار اشاعت ’دی نیوز آن سنڈے (TNS)‘ کے لئے اُن کی آخری تحریر ’7 فروری 2021ئ‘ کے روز شائع ہوئی جو عسکریت پسند رہنما منگل باغ کی ہلاکت سے متعلق ماضی و حال کی اطلاعات کے جائزے پر مشتمل تجزیہ تھا۔ 

روزنامہ آج کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ رحیم اللہ یوسفزئی کی تحریروں کو ’دی نیوز‘ سے ترجمہ اُور تلخیص کرکے شائع کیا جاتا رہا‘ جن کے لئے اُنہوں نے ’دامن تاتارا سے‘ کا عنوان منتخب کیا تھا۔ یہ تراجم روزنامہ آج کی ویب سائٹ (dailyaaj.com.pk) کی ذیل میں کالم نگاروں (columnisit) کے شعبے میں رحیم اللہ یوسفزئی (rahimullah-yousafzai) کی تلاش سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کا قومی اعزاز ”ستارہ امتیاز“ عالمی سطح پر نمایاں خدمات یا ملک کے لئے سفارتکاری کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی بھی ”ستارہ امتیاز“ کے حامل تھے‘ جن کی رحلت سے ایک ستارہ غروب ہوا ہے اُور اِس پر نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ قومی سطح پر صحافتی حلقے اداس ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سے لیکر سیاسی جماعتوں کے قائدین اُور صحافیوں کی قومی نمائندہ تنظیم (فیڈریل یونین آف جرنلسٹس) کی جانب سے تعزیتی بیانات جاری ہوئے ہیں۔ التماس دعا ہے کہ قارئین اوّل آخر درود شریف (صلوة) کے ساتھ ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اُور تین مرتبہ سورہ اخلاص کی تلاوت (فاتحہ) کا ہدیہ ایصال ثواب کریں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم و مغفور کے درجات بلند سے بلند فرمائے اُور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے (آمین)۔

....


Monday, April 9, 2018

Translation: Prospect for peace shatters by Rahimullah Yusufzai

Prospect for peace shatters
اِمکانات کا خون!
اگرچہ افغانستان کا کوئی ایک بھی حصہ نہیں جہاں امن و امان کی صورتحال مثالی ہو اور جہاں خانہ جنگی کے طویل دور کی تباہ کاریاں نہ دیکھی جا سکتی ہوں لیکن ’قندوز‘ اِن سب میں نمایاں اور سب سے زیادہ متاثرہ ہے۔ اکتوبر 2015ء کی بات ہے جب امریکی فضائیہ کے جہازوں نے ’قندوز شہر‘ میں ’ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز‘ نامی تنظیم کے ایک شفاخانے پر بمباری کی تھی‘ جس سے 42 ہلاکتیں ہوئی تھیں اور ہلاک ہونے والوں میں زیرعلاج مریضوں کے ساتھ ڈاکٹر بھی شامل تھے۔ جنگ زدہ علاقوں میں علاج معالجے کی مفت سہولیات فراہم کرنے والے اِس ادارے نے ہسپتال پر حملے کو ’جنگی جرم‘ قرار دیا تھا لیکن امریکی فضائیہ کی ایک داخلی تفتیش کے بعد اِسے جنگی جرم قرار نہیں دیا گیا کیونکہ یہ دانستہ طور پر سرزد نہیں ہوا تھا۔ اِس سے قبل جرمن فوج کی جانب سے طلب کرنے پر بھی امریکی فضائیہ نے قندوز میں ایک ایسے مقام کو نشانہ بنایا جہاں لوگ حادثے کا شکار آئل ٹینکر سے بہنے والا تیل جمع کر رہے تھے اور اُن پر طیاروں نے بم برسائے جس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں۔ حالیہ چند برسوں کے دوران کم سے کم دو مرتبہ طالبان جنگجوؤں نے قندوز شہر پر قبضہ کیا ہے اور اِس جاری جدوجہد مزاحمت اور حملوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد میں مقامی افراد نقل مکانی پر بھی مجبور ہوئے ہیں۔

تاجکستان کی سرحد سے جڑے صوبہ قندوز کے ضلع ’دشت آرچی‘ میں 2 اپریل کے روز ’’دارالعلوم ہاشمیہ‘‘ نامی مسجد و مدرسے پر مشتمل ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ دفتیانو گاؤں کے اِس معروف مدرسے میں حملے کے وقت اُن طلبہ کی دستاربندی کی تقریب جاری تھی‘ جنہوں نے حفظ قرآن کی تعلیم مکمل کر لی تھی اور اِس تقریب میں فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے علاؤہ دیگر بھی بڑی تعداد میں شریک تھے۔

سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس (سوشل میڈیا) پر مذکورہ مدرسے کی تصاویر جاری ہوئیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سفید پگڑیاں پہنے بچے اپنی تعلیمی اسناد تھامے قطاروں کی صورت کھڑے ہیں‘ یہ ایک پرمسرت دن ہوتا ہے اور مبارکبادوں کو تبادلہ جاری تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اِس اظہار مسرت و تشکر کی تقریب کشت و خون میں بدل جائے گی‘ جس سے نہ صرف قندوز بلکہ آس پاس کے علاقے بھی مغموم ہو جائیں گے! عینی شاہدین کے مطابق مسجد و مدرسے میں قریب 1000 افراد موجود تھے۔ دوپہر کا وقت تھا کہ اچانک گن شپ ہیلی کاپٹر نمودار ہوئے اور انہوں نے خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ بچوں نے ہیلی کاپٹرز کو دیکھ کر شور مچایا اور خبردار کیا لیکن تقریب میں موجود بڑوں نے اُنہیں چپ رہنے کو کہا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ بچوں کے اندیشے درست تھے اور ہیلی کاپٹروں نے مدرسے کو اپنا نشانہ بنایا۔ واضح ہے کہ امریکہ نے افغان فضائیہ کو تربیت دی ہے اور زیادہ تر ہوائی حملوں میں افغان فوجی اہلکار ہی حصہ لیتے ہیں۔ امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کی جانب سے اِس بات کی تردید آئی ہے کہ مدرسے پر حملہ امریکی یا نیٹو اہلکاروں نے کیا۔ اگر اِس بات کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو چونکہ افغانستان کی فضائی حدود امریکیوں کی نگرانی میں ہے اور وہ افغان پائلٹوں کو فضائی حملے سے روک سکتے تھے لیکن ایسی کوئی بھی کوشش نہیں کی گئی۔ افغان طالبان جنگجوؤں کے پاس ائرفورس نہیں اور نہ ہی فضاء میں مار کرنے والے بھاری ہتھیار (انٹی ائرکرافٹ گنز اور میزائل) ہیں۔ 

افغان فوج اپنی اِس برتری کا فائدہ اٹھاتی ہے اور طالبان کے ممکنہ اہداف کو نشانہ بنانے کی مہمات میں حصہ لیتی ہے۔ اگست 2017ء میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’افغانستان کے لئے نئی حکمت عملی‘ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے افغان فوج زیادہ تر فضائی حملوں پر انحصار کر رہی ہے تاکہ اُسے طالبان کے ساتھ لڑتے ہوئے جانی نقصان کم ہو۔

قندوز حملے کی تفصیلات معلوم کرنے کے افغان صدر اشرف غنی نے ایک تفتیشی کمشن تشکیل دیا ہے لیکن اُن کی حکومت پہلے ہی مدرسے پر حملے سے متعلق ایک وضاحتی بیان میں کہہ چکی ہے کہ قندوز میں طالبان کے ایک ایسے اجتماع کو نشانہ بنایا گیا جس میں سرکردہ رہنما افغان فوجوں پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے جمع ہوئے تھے۔ اگر وہاں طالبان جنگجو موجود تھے‘ تب بھی اِس بات کا جواز نہیں بنتا کہ ایک بڑے اجتماع پر اندھا دھند گولیاں برسائی جاتیں۔ 

افغان صدر کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں قندوز حملے کے بارے میں کہا گیا کہ اِس میں افغان عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم بیان میں اِس بات کاذکر نہیں کیا گیا کہ ہلاک ہونے والے بے گناہ تھے اور زخمی و ہلاک ہونے میں بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے!

’افغان وزارت برائے فضائی دفاع (ائر ڈیفنس منسٹری)‘ نے دعویٰ کیا کہ ہوائی حملے میں بیس طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا جو طالبان کے انتہائی خطرناک دستے ’ریڈ یونٹ‘ کا حصہ تھے اور اِن میں سے بعض کا تعلق پاکستان سے بھی تھا۔

قندوز مدرسے حملے کے بارے میں افغان حکام کے بیانات سے غیریقینی اور گومگو جیسی کیفیات ظاہر ہوئیں۔ صوبہ قندوز کے گورنر کی ترجمانی کرنے والے نے کہا کہ مذکورہ حملے میں پانچ عام شہریوں (سویلینز) کی ہلاکتیں ہوئی جبکہ پچپن دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ افغان محکمۂ دفاع نے کہا کہ کوئی بھی عام شہری نشانہ نہیں بنا۔ حکام کی جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری تھا کہ اِسی دوران ہلاکتوں کا شمار بڑھتا چلا گیا اور عدد 150 ہلاکتوں 200 زخمیوں تک جا پہنچا۔ مذکورہ حملے کے تین دن گزرنے کے باوجود بھی درست اعدادوشمار دستیاب نہیں ہو سکے‘ جس کا مطلب ہے مذکورہ علاقے میں افغان حکومت کا کنٹرول نہیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق 70 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد 100 افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات آئیں جبکہ طالبان ذرائع 150 ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ 

عینی شاہدین اور حملے میں زندہ بچ جانے والوں نے افغان حکومت کے اِس دعوے کی تردید کی ہے کہ تقریب پر فضائی حملہ ہونے کے بعد صورتحال کو زیادہ سنگین بنانے کے لئے افغان طالبان نے بھی فائرنگ کی‘ جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

قندوز میں ہوئے مذکورہ حملے کے بارے میں اقوام متحدہ نے بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے لیکن اگر ماضی 
میں اِس قسم کی تحقیقات کے نتائج کو دیکھا جائے تو بھی انصاف ملنے کی اُمید نہیں۔

اَفغانستان میں موسم گرما کا آغاز ہوا چاہتا ہے اُور یہی وہ موسم ہوتا ہے‘ جس میں افغان طالبان کے ممکنہ حملوں میں تیزی آتی ہے جس سے نمٹنے اور طالبان کو امن مذاکرات کا حصہ بنانے کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہیں۔ قندوز میں مسجد و مدرسے پر حملے سے افغانستان میں جاری خونریزی بڑھے گی۔ اگر ہم سوشل میڈیا کا جائزہ لیں تو اُس پر قندوز حملے کی روشنی میں جذباتی بحث جاری ہے اور حملے کا انتقام لینے جیسے مطالبات و جذبات ابھر رہے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کے امکانات پہلے ہی کم تھے اور ایک ایسی صورتحال میں جنگجوؤں سے کو مذاکرات کی کوششوں کی کامیابی کسی چیلنج سے کم نہیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

TRANSLATION: Retired female civil servant to contest for Kurram NA seat

Retired female civil servant to contest for kurram NA seat
علی بیگم: ہمت مرداں کی عملی تصویر!
پاکستان کی صرف سیاسی جماعتیں ہی آئندہ عام انتخابات اُور ممکنہ کامیابیوں پر نگاہیں جمائے ہوئے نہیں بلکہ کئی سماجی شخصیات بھی بطور اُمیدوار انتخابی معرکے میں حصہ لینے کی تیاری کئے بیٹھی ہیں اور اِن میں کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والی علی بیگم بھی شامل ہیں جن کا تعلق وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) سے ہے۔ اگرچہ علی بیگم ایسی پہلی خاتون نہیں جو قبائلی علاقے سے قومی اسمبلی کی نشست کے لئے اُمیدوار ہوں گی لیکن وہ اپنی جیت کے لئے پراُمید اور مقابلے کے لئے سنجیدہ تیاری رکھتی ہیں۔ اُن کے عزم کا اندازہ اِس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے سات اپریل کو کرم ایجنسی کے صدر مقام (ہیڈکواٹر) پاڑہ چنار میں ایک عوامی اجتماع (پبلک میٹنگ) سے بھی خطاب کیا جبکہ ابھی عام انتخابات کا انعقاد مہینوں کے فاصلے پر ہے۔ درحقیقت انہوں نے کرم ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ سے اِس اجتماع کے انعقاد کی تحریری اجازت بھی حاصل کی تھی جس کے لئے ’’مہاجرین گراؤنڈ‘‘ کا انتخاب کیا گیا لیکن پولیٹیکل انتظامیہ نے سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے اُنہیں تاکید کی کہ وہ رابطہ عوام کے سلسلے میں عوامی اجتماع کا انعقاد اپنے انتخابی دفتر ہی کے احاطے میں کریں۔

علی بیگم‘ قومی اسمبلی کے انتخابی حلقہ 46 (این اے چھیالیس) کرم ایجنسی سے اُمیدوار ہوں گی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ’مردم شماری 2017ء‘ کی روشنی میں نئی انتخابی حلقہ بندیاں طے کی گئی ہیں‘ جن کی رو سے کرم ایجنسی کے مذکورہ حلقے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اس سے قبل کرم ایجنسی میں قومی اسمبلی کی دو نشستیں تھیں۔ عمومی طور پر ایک نشست پر بالائی علاقوں پر مشتمل اکثریتی شیعہ اُمیدوار کامیاب ہوتا اور دوسری نشست جو کرم ایجنسی کے زریں اور وسطی علاقوں پر مشتمل ہوتی اُس سے سنی اُمیدوار کی کامیابی یقینی ہوتی۔ نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے اِس مرتبہ کرم ایجنسی سے صرف ایک رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگا اُور اِسی وجہ سے سخت انتخابی مقابلے کی توقع ہے۔ نئی حلقہ بندی کی وجہ سے کرم ایجنسی کے بالائی‘ وسطی اور زریں علاقوں پر مشتمل نشست پر کامیابی کسی بھی طرح آسان نہیں ہوگی‘ کیونکہ اِن علاقوں میں فیصلہ کن اکثریت مردوں کی ہے لیکن اِس زمینی حقیقت کے باوجود ’علی بیگم‘ نے انتخاب میں بطور اُمیدوار حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنی جیت کے لئے پراُمید بھی ہیں۔

علی بیگم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ قبائلی علاقے ’اب پرامن ہیں‘ اور اَمن کی بحالی اِس حد تک ہو چکی ہے کہ اب ایک خاتون بھی انتخابی عمل میں حصہ لے رہی ہے اور اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں عوامی اجتماعات کا انعقاد بھی کر رہی ہے۔

علی بیگم کا تعلق کرم ایجنسی کے گاؤں ’ماکئی مالانہ (Maikai Malana) کے ایک معروف اور پڑھے لکھے گھرانے سے ہے۔ اُن کے بھائی ڈاکٹر مقداد امراض قلب کے ماہر ہیں جن کا شمار معروف معالجین میں ہوتا ہے۔ علی بیگم نے جامعہ پشاور سے ’بیچلرز آف آرٹس‘ اور ’بیچلرز آف ایجوکیشن‘ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1977ء میں ’آل پاکستان فیڈرل سول سروس ایگزیمینیشن‘ (مقابلے کے امتحان) میں حصہ لیا۔ وہ ایسی پہلی قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والی خاتون تھیں جنہوں نے مذکورہ امتحان میں حصہ لینے کی اہلیت حاصل کی تھی اور پھر انہیں سرکاری ملازمت (سول سرونٹ) حاصل کرنے میں بھی کوئی دقت نہ ہوئی۔ ملازمت ملنے کے بعد بھی اُنہوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ’اسٹریٹجیک سٹڈیز‘ میں ماسٹرز کیا۔ علی بیگم اُنتیس برس تک مختلف اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہنے کے بعد سال 2009ء میں 22ویں گریڈ میں ریٹائرڈ ہوئیں۔ اِس عرصے میں انہیں فرنٹیئر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر‘ گورنر انسپکشن ٹیم کی چیئرپرسن‘ خیبرپختونخوا کی سیکرٹری برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ‘ پاپولیشن ویلفیئر کی ڈائریکٹر جنرل اور سیکرٹری‘ ایڈیشنل سیکرٹری ایجوکیشن‘ ایڈیشنل سیکرٹری فنانس اُور پلاننگ اینڈ ایجوکیشن میں فاٹا سیکشن میں بطور سربراہ خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا اُور اِس تمام عرصے میں وہ ہمیشہ ایک فرض شناس آفیسر کے طور پر متعارف ہوئیں۔ ریٹائر ہونے کے بعد علی بیگم کچھ عرصہ کے لئے اپنے بیٹے کے پاس امریکہ میں مقیم رہیں تاہم اِس دوران وہ پاکستان آتی جاتی رہیں اور اپنے آبائی اور قبائلی علاقے کے لوگوں سے تعلق کو برقرار رکھا۔ امریکہ کے قیام کے دوران وہ ’ٹولیڈو (Toledo)‘ میں ’پان پیسیفک ساؤتھ ایسٹ ایشیاء ویمن ایسوسی ایشن‘ کی سربراہ بھی رہیں‘ جو ایک معروف عالمی تنظیم ہے۔ اِس تنظیم کے پلیٹ فارم سے علی بیگم کو ’اقوام متحدہ‘ میں خواتین کی نمائندگی کا موقع ملا اور اُنہوں نے اپنی قابلیت و ذہانت سے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔ 

علی بیگم ایسی دوسری خاتون ہوں گی جو قبائلی علاقے سے قومی اسمبلی کی نشست کے لئے عام انتخاب میں بطور اُمیدوار حصہ لیں گی۔ پہلی قبائلی خاتون جنہوں نے عام انتخاب (مئی دوہزارتیرہ) میں حصہ لیا تھا وہ 38 سالہ محترمہ بادام زری تھیں جو مردان میں پیدا ہوئیں اور اُن کی شادی باجوڑ ایجنسی (قبائلی علاقے) میں ہوئی تھی۔ بادام زری روائتی تعلیم یافتہ نہ تھیں‘ انہوں نے ’باجوڑ ایجنسی‘ سے آزاد حیثیت میں حصہ لیا اور قبائلی علاقوں میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے اُن کے خیالات کو ذرائع ابلاغ نے بہت اہمیت دی۔ بادام زری خود تو ناخواندہ تھیں لیکن اُن کے شوہر نور محمد سکول پرنسپل تھے۔ عام انتخاب میں ’این اے 44‘ سے بادام زری کے حصے میں صرف 140 ووٹ آئے تھے اور مذکورہ نشست پاکستان مسلم لیگ نواز کے شہاب الدین خان نے 14 ہزار 990 ووٹ حاصل کرکے جیتی تھی۔

علی بیگم گذشتہ عام انتخابات میں حصہ لینے والی بادام زری سے کئی لحاظ سے مختلف‘ منفرد اور نمایاں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اُن کی ’انتخابی کامیابی‘ کے اِمکانات زیادہ روشن ہیں۔ ممکن ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں علی بیگم قبائلی علاقے سے منتخب ہونے والی پہلی رکن قومی اسمبلی کا اعزاز حاصل کر جائیں۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, January 14, 2018

TRANSLATION: The terror concerns by Rahimullah Yusufzai

Terror concerns
اَمریکی تحفظات!
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کا یہ کوئی پہلا موقع نہیں بلکہ ماضی میں بھی جبکہ یہ دونوں ممالک روس کے خلاف سیٹو (SEATO) اور سینٹو (CENTO) جیسے اتحادوں کا حصہ رہے اور اُس سرد جنگ کے دور میں ایک دوسرے کے اتحادی تھے تب بھی کئی مرتبہ اِن کے درمیان مختلف معاملات پر اختلافی نکتۂ نظر سامنے آتا رہا۔ ایسا ہی ایک موقع وہ بھی تھا جب امریکہ نے پاکستان کی اقتصادی امداد بند کر دی اور اقتصادی پابندیاں بھی عائد کردیں جس سے پاکستان کی دل شکنی ہوئی کیونکہ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکہ جیسا اتحادی ملک اُس کے ساتھ اِس قسم کا سلوک روا رکھ سکتا ہے تاہم ماضی میں ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات کا ازالہ وقت کے ساتھ ہوتا رہا لیکن حالیہ چند برس میں جس انداز سے پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی اور تناؤ دیکھا گیا ہے یہ نہ صرف تیز رفتار ہے بلکہ اُس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے قطع تعلق ہی کرلیں۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک دوسرے کے بارے میں عدم اعتماد کی خلیج کبھی بھی اس قدر گہری نہیں رہی اور اِس کا آغاز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اِس مطالبے سے ہوا کہ پاکستان اپنے ہاں دہشت گرد گروہوں کے خلاف اُن کی تسلی و تشفی کے مطابق کاروائیاں کرے بصورت دیگر اُسے کڑے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ 

پاکستان نے اِن امریکی الزامات کا فوری جواب دیا اور ماضی میں امریکہ پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کرتا آیا ہے تاہم اِس مرتبہ پاکستان نے امریکہ سے ایسا ہی کرنے کو کہا ہے جو ایک غیرمعمولی جرأت اظہار بھی ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ تناؤ کا سبب عسکریت پسند ’حقانی نیٹ ورک‘ ہے۔ امریکہ کو قوی یقین ہے کہ ’حقانی نیٹ ورک‘ کا مرکز پاکستان میں ہے اور اِسے خفیہ اِدارے ’انٹرسروسیز انٹلی جنس (آئی ایس آئی)‘ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ماضی میں بھی امریکہ کی کئی شخصیات اِسی قسم کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں جن کی پاکستان نے ہمیشہ تردید کی ہے اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اُس کے پاس اپنی اِس بات کے کوئی ثبوت ہیں تو وہ پیش کرے تاکہ پاکستان میں مبینہ طور پر موجود ’حقانی نیٹ ورک‘ کا خاتمہ کیا جاسکے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے مختلف فوجی کاروائیوں کے ذریعے عسکریت پسندوں کے خلاف بلاامتیاز کاروائیاں کی ہیں۔ حقانی نیٹ ورک جون دوہزارچودہ تک شمالی وزیرستان میں اپنا وجود رکھتا تھا‘ جس کی طاقت کے مرکز اور افرادی قوت پر وار کیا گیا تو دیگر عسکری گروہوں کی طرح اُنہوں نے بھی اپنا مرکز تبدیل کر لیا ہے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی میں شمالی وزیرستان میں فوجی کاروائی نہ کرنے کا سبب یہ تھا کہ پاکستان کے پاس ایسا کرنے کے لئے وسائل نہیں تھے اور فوج اندرون ملک دیگر محاذوں پر ڈٹی ہوئی تھی۔

امریکہ کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان نے امریکہ کی تسلی و تشفی کے مطابق کاروائیاں نہ کیں تو سخت اقدامات کئے جائیں گے‘ جس میں یہ بھی شامل ہوگا کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجی پاکستان کی حدود میں گھس کر زمینی کاروائیاں کریں جیسا کہ انہوں نے مئی 2011ء میں ایبٹ آباد میں کیا تھا جہاں مبینہ طور پر القاعدہ تنظیم کا سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ فوجیوں نے تلاش اور قتل کرنے کا دعوی کیا۔ اگر امریکہ کو ایسی معلومات میسر آ جاتی ہیں جن کے مطابق وہ حقانی نیٹ ورک کے سراج الدین حقانی اور افغان طالبان کے سپرئم لیڈر شیخ ہیبت اللہ اخوند زادہ پاکستان میں کہاں روپوش ہیں تو وہ اِن کے خلاف کاروائی کرسکتا ہے۔ اِسی طرح جماعت الدعوۃ سے تعلق رکھنے والے حافظ سعید بھی امریکہ کا نشانہ ہو سکتے ہیں جس کے سر کی قیمت امریکہ نے نومبر 2008ء کے بمبئی حملوں کے بعد مقرر کر رکھی ہے کیونکہ اُن حملوں میں امریکی باشندے بھی ہلاک ہوئے تھے۔ اَمریکہ کو اِن دنوں بھارت کی قربت حاصل ہے۔

امریکہ پاکستان کی حدود میں ڈرون طیاروں سے حملے کرسکتا ہے۔ پاکستان کی ’نان نیٹو اتحادی‘ حیثیت ختم کرسکتا ہے۔ افغانستان اور دنیا کے مختلف حصوں میں روپوش پاکستان مخالف عسکریت پسندوں بالخصوص بلوچ علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کرسکتا ہے اور افغان و بھارتی خفیہ اداروں کو شہ دے سکتا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ بنائے رکھیں تاکہ وہ امریکہ کے ہر جائزوناجائز مطالبے کے آگے سرتسلیم خم کر دے۔ امریکہ پہلے ہی پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لئے اِسے ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کرچکا ہے جہاں مذہبی آزادی محدود ہے اور مذہبی آزادی کو دنیا میں انسانی حقوق کی آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پاکستان جواب میں امریکہ کی افغانستان میں موجود 20ہزار غیرملکی افواج کو سامان رسد کی فراہمی کے لئے راہداری معطل کرسکتا ہے جو بلاقیمت (قریب مفت) ہی فراہم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کی راہداری افغان فوجوں کے لئے بھی سامان رسد کا سستا اور کم وقت کا ذریعہ ہے۔ پاکستان نیٹو سپلائی (رسد) نومبر 2011ء میں آٹھ ماہ تک معطل کر چکا ہے جب مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹ پر افغانستان کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا اور اُس حملے میں 24 پاکستانی فوجی شہید ہو گئے تھے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اور افغانستان میں قیام امن کے لئے مذاکراتی عمل سے فاصلہ اختیار کرسکتا ہے‘ جس کے لئے اُس کی سنجیدہ کوششوں کو فراموش کردیا گیا ہے اور اگر پاکستان افغانستان میں قیام امن کی کوششوں سے علیحدگی اختیار کرتا ہے تو امریکہ کے لئے وہاں امن کا قیام زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

پاکستان کی جانب سے سنجیدہ اور بار ہا تحفظات کے اظہار کے باوجود بھی امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں کلیدی کردار دیا ہے جبکہ امریکہ اگر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائیاں کرتا ہے تو اُس سے قیام امن کے لئے مذاکراتی عمل کو دھچکا لگے گا۔ پاکستان اِس بات کی وکالت کرتا آیا ہے کہ افغانستان میں امن کے لئے وہاں متحارب دھڑے جنگ بندی کریں اور بات چیت کے عمل کو موقع دیا جائے۔ پاکستان کا یہ مؤقف بھی ہے کہ افغانستان میں امن کی بحالی صرف اُس کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ تمام حصہ داروں کا اجتماعی فریضہ ہے کہ وہ اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

امریکہ کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کو 7 ستمبر 2012ء کے روز دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا جو قریب دو دہائیوں سے پہلے روسی اور بعدازاں نیٹو افواج کے خلاف عسکری مہمات کا حصہ رہی ہے۔ امریکہ نے اب تک حقانی نیٹ ورک کے کئی اہم رہنماؤں کو قتل کیا ہے اور موجودہ رہنماؤں کے سر کی قیمت بھی مقرر کر رکھی ہے۔ امریکہ حقانی نیٹ ورک کے خاتمہ کی شاید ایک بھرپور کوشش کرنا چاہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اِس مقصد کے لئے پاکستان اُس کی مدد کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان اور امریکہ اِس بات پر متفق بھی ہو جائیں کہ وہ مل کر حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کا خاتمہ کریں گے تب بھی یہ تعاون اِس بات کی ضمانت نہیں ہوگا کہ یہ دونوں ممالک مل کر اپنے مقاصد حاصل کر سکیں گے اور اِس بات کی ضمانت بھی نہیں کہ انہیں بہرصورت اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل ہوگی۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, July 2, 2017

TRANSLATION: Life in captivity - a tale of couple!

Life in captivity
مغوئیوں کی کہانی!
عسکریت پسند اکثر ایسی شخصیات کو اغوأ کرتے ہیں جن کی اہمیت ہوتی ہے اور پھر اُن مغوئیوں کی ویڈیو جاری کرکے حکومت سے اپنے مطالبات تسلیم کروانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اغوأ ہوتے ہیں ایک نہایت ہی مشکل زندگی بسر کرتے ہیں لیکن وہ اِس بارے میں زیادہ کچھ بیان نہیں کر سکتے۔ اُن کے چہروں کو ڈھانپ کر رکھا جاتا ہے اور اُن پر مسلح افراد پہرہ دے رہے ہوتے ہیں جب اُن کے پیغامات ریکارڈ کئے جا رہے ہوتے ہیں۔ ظاہری سی بات ہے کہ ایسے پیغامات کا مقصد مغوئیوں کے اہل خانہ اور متعلقہ حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے تاکہ وہ اغوأکاروں کے مطالبات من و عن تسلیم کر لیں۔ عسکریت پسندی میں اضافے کے ساتھ پاکستان اور افغانستان میں اغوأ کا کاروبار بڑھا۔ جن علاقوں میں قانون کی حاکمیت کمزور ہوتی ہے وہاں یہ آسان و نفع بخش کاروبار خوب چمکتا ہے۔ پیشہ ور اغوأ کار عموماً عسکریت پسندوں سے مل جاتے ہیں اور بھاری معاوضے کے عوض اپنی مہارت کی بنیاد پر وارداتیں کرتے ہیں۔ مغوئیوں کی رہائی کے بدلے بھاری تاوان یا پھر زیرحراست ساتھیوں کی رہائی جیسے مطالبات پیش کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر واقعات میں مغوئیوں کی رہائی بھاری تاوان کی ادائیگی کے بعد ہی عمل میں آتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ تبدیلی یہ آئی ہے کہ مغوئیوں کے اہل خانہ بھی ویڈیو پیغامات جاری کرتے ہیں جن میں اغوأ کاروں سے انسانیت کے نام پر اپیل کی جاتی ہے کہ وہ بے گناہ افراد کو رہا کردیں لیکن اس کوشش کا خاطرخواہ نتیجہ دیکھنے میں نہیں آتا کہ جس سے اغوأ کاروں کے دل نرم پڑ جائیں اور وہ مغوئیوں کو بناء کسی تاوان کی وصولی یا اپنے ساتھیوں کی رہائی وغیرہ جیسے مطالبات منظور ہوئے بغیر رہا کردیں۔ ایسی ایک ویڈیو کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے پیٹرک بوئل (Patrick Boyle) اُور لینڈا بوئل (Patrick Boyle) کی سامنے آئی ہے جو انگریزی زبان میں ہے تاہم اِس پر اُردو اُور پشتو زبانوں کے ’سب ٹائٹل‘ بھی لگائے گئے ہیں۔ والدین کی جانب سے یہ ویڈیو پیغام اُن کے بیٹے جوشوا بوئل (Joshua Boyle)‘ اُن کی اہلیہ کیٹلان کول مین (Caitlan Coleman) اُور دو بچوں کی غیرمشروط و فوری رہائی کے لئے انسانیت کی بنیاد پر اپیل ہے۔ یہ دونوں بچے اِس عرصے کے دوران پیدا ہوئے ہیں جبکہ اُن کے والدین اغوأ کاروں کے چنگل میں ایک غیریقینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ ویڈیو پیغام رمضان المبارک کے اختتام کے موقع پر جاری کیا گیا جب عیدالفطر قریب تھی اور اس کا مقصد یہی ہوگا کہ مسلمان چونکہ ماہ صیام کے دوران سال کے دیگر ایام کی نسبت زیادہ عبادات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو رحم کی اِس اپیل کا خاطرخواہ مثبت جواب سامنے آئے گا۔

33 سالہ جوشوا کینیڈا کا باشندہ ہے جبکہ اُس کی 31 سالہ اہلیہ کیٹلان امریکن ہیں جنہیں اکتوبر 2012ء میں اُس وقت اغوأ کیا گیا جبکہ وہ ’وردک کابل شاہراہ‘ پر سفر کر رہے تھے۔ اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیروتفریح کر رہے تھے۔ افغانستان جیسے ملک کا سیروتفریح کے لئے انتخاب پرخطر ثابت ہونا تعجب خیز نہیں۔ اغوأ کے ایک عرصہ بعد معلوم ہوا کہ دونوں میاں بیوی ’حقانی نیٹ ورک‘ کے قبضے میں ہیں۔ یہ گروہ افغان تحریک طالبان کا حصہ ہے جس کی بانی سراج الدین حقانی ہیں۔ حالیہ چند برس میں حقانی افغان طالبان تحریک کے نائب سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک (اغوأ کاروں) کی جانب سے اب تک چند ویڈیوز جاری ہوئی ہیں جن میں میاں بیوی اور اُن کے دو بچوں کو دکھایا گیا ہے اور اِس کا مقصد کینیڈا اور امریکہ کی حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے قیدیوں کی رہائیوں ممکن بنائیں۔ اگرچہ یہ مطالبہ عام نہیں ہوا لیکن مغوئیوں کے اہل خانہ اور کینیڈا و امریکہ کی حکومتوں کے درمیان رابطہ کاری کرنے والوں کی جانب سے یہی کہا گیا ہے۔ حقانی نیٹ ورک نے پہلے 10 قیدیوں کی رہائی مطالبہ کیا جو تمام کے تمام افغانستان میں قید ہیں۔ بعدازاں اِس فہرست کو کم کرکے آٹھ کر دیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ اِن آٹھ زیرحراست افراد میں سے تین نہایت ہی اہم ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اُس وقت تک مغوئیوں کو رہا نہیں کرے گا جب تک اِن تینوں کو بھی رہا نہیں کردیا جاتا۔ اِن تینوں میں شامل انس حقانی بھی ہیں جو سراج الدین حقانی کے بھای اور افغان مجاہدین رہنما مولوی جلال الدین حقانی کے بیٹے ہیں جنہیں امریکی حکام نے بحرین سے گرفتار کیا جبکہ وہ قطر کا دورہ کر کے واپس لوٹ رہے تھے۔ اُنہیں بعدازاں افغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا جہاں ایک عدالتی سماعت کے بعد اُنہیں سزائے موت سنائی گئی۔ صدر اشرف غنی کی حکومت نے تاحال اُنہیں پھانسی تو نہیں دی حالانکہ اُن پر کچھ سیاسی گروہوں کا دباؤ بھی ہے۔ اگر افغان حکومت مولوی جلال الدین حقانی کو عدالت کے حکم پر پھانسی دے دیتی ہے تو اِس کا ردعمل منطقی ہے اور اس میں کئی مغوئیوں کی رہائی کے امکانات اور مستقبل بھی تاریک ہو جائیں گے جن میں جوشوا اور کیٹلان شامل ہیں۔ حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے جس دوسرے اہم قیدی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ قاری رشید ہیں جن انس حقانی کے ساتھ قطر گئے تھے اور انہیں بھی بحرین سے امریکیوں نے گرفتار کیا۔ تیسرے اہم قیدی حاجی ملی خان ہیں جو سراج الدین کے قریبی عزیز ہیں اور گذشتہ کئی برس سے افغان حکومت کی زیرحراست ہیں۔

حقانی نیٹ ورک کی قید میں کینیڈین اور امریکن میاں بیوی اور اُن کے دو بچوں کی رہائی کے لئے والدین نے اپنی اپیل میں اگرچہ انس حقانی کا نام نہیں لیا لیکن انہوں نے اپنے تیءں اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اُن کا خاندان ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہے اور وہ افغان حکومت پر اثرورسوخ سے دباؤ بھی ڈالے گا کہ وہ اُن کے بھائی کو پھانسی کی سزا پر عمل درآمد نہ کریں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اُن کی جانب سے افغانستان کینیڈا اور امریکہ کے سینئر حکام سے تحریری درخواست بھی کی گئی ہے کہ وہ سزائے موت پر عمل درآمد نہ کریں۔

عیدالفطر کے قریب جاری ہونے والے ویڈیو پیغام میں تحریک طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ اور سراج الدین حقانی سے انسانیت کے نام پر اپیل کرتے ہوئے افغانستان کے حالات پر بھی محتاط تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس ماضی و حال کی غلطیوں کا خاتمہ اور ازالہ مغوئیوں کو نقصان پہنچانے سے ممکن نہیں۔ اگرچہ اِس اپیل کا تاحال حقانی نیٹ ورک یا افغان طالبان کی جانب سے کوئی جواب (ردعمل) سامنے نہیں آیا لیکن حقانی نیٹ ورک ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک انس حقانی‘ حاجی ملی خان‘ قاری رشید و دیگر کو رہا نہیں کردیا جاتا اُس وقت اِن میاں بیوی اور اُن کے بچوں کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Monday, May 29, 2017

TRANSLATION: Has Poplazai been vindicated this time? by Rahimullah Yusufzai


Moon-sighting: Has Poplazai been vindicated this time

رویت ہلال: اصولی مؤقف!
ستائیس مئی کی شام غروب آفتاب کے ساتھ ہی ماہ رمضان المبارک کا ’روشن اور واضح‘ چاند آسمان میں نمایاں طور پر دکھائی دے رہا تھا جسے دیکھ کر خیبرپختونخوا میں اُن تمام لوگوں نے اطمینان محسوس کیا جنہوں نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی اعلان سے ایک روز قبل قدرے ہکچاہٹ میں روزہ رکھا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کی شام مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ پاکستان میں کہیں بھی نئے اسلامی مہینے کا چاند دکھائی نہیں دیا‘ اِس لئے پہلا روزہ بروز اتوار اٹھائیس مئی کو ہوگا۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا یہ فیصلہ ہفتہ کی شام نمودار ہونے والے چاند کو دیکھتے ہوئے غلط محسوس ہوا کیونکہ چاند کی عمر ایک دن سے زیادہ دکھائی دے رہی تھی اور یقیناًایسی صورت میں ممکن تھا کہ چھبیس مئی (جمعہ) کی شام بھی تیز نظر اور دلچسپی رکھنے والے چاند کی رویت کر لیتے۔ 



روایت رہی ہے کہ غیرسرکاری ’رویت ہلال کمیٹی‘ کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی ہر سال پشاور کی مسجد قاسم علی خان میں ’چاند دیکھنے کے لئے کمیٹی‘ کا اجلاس طلب کرتے ہیں اور ستائیس مئی کو یکم رمضان المبارک کا تعین کرنے کے فیصلے پر مہر تصدیق ہفتے کی شام نمودار ہونے والے ’چمکتے دمکتے‘ چاند نے ثبت کر دی۔ مذکورہ غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے چاند نظر آنے کا فیصلہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے تن تنہا نہیں کیا بلکہ معتبر علماء پر مشتمل ایک جماعت نے شہادتوں کی جانچ پڑتال کے شرعی اصولوں اور تسلی بخش تصدیق کے بعد رمضان کے چاند نظر آنے پر اتفاق رائے کیا۔ یقینی طور پر یہ ایک غیرمعمولی اور حساس مذہبی ذمہ داری ہے اور یہ فیصلہ کسی بھی صورت آسانی سے نہیں کیا ہوگا بالخصوص ایک ایسی صورتحال میں جبکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے چاند نظر نہ آنے کا اعلان جلدی میں کر دیا گیا۔ 

حسب معمول مفتی منیب الرحمن اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے اُن کے ساتھیوں پر مشتمل ’سرکاری رویت ہلال کمیٹی‘ نے خیبرپختونخوا سے چاند نظر آنے کی شہادتوں کا انتظار کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ حتی کہ سرکاری حیثیت رکھنے والی ’زونل رویت ہلال کمیٹی‘ کا اجلاس جو کہ پشاور میں ہوا‘ اُنہوں نے بھی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو اُن 12 افراد کی شہادتوں سے مطلع نہیں کیا جو اُن کے روبرو چھبیس مئی (بروز جمعہ) کی شام پیش ہوئے تھے۔ درحقیقت خیبرپختونخوا کی اکثریت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں پر اعتماد ہی نہیں کرتی اور اِن کے مقابلے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی قیادت میں غیرسرکاری اور غیرقانونی طور پر کام کرنے والی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر اعتماد کا اظہار کرتی ہے۔ اِس غیرسرکاری کمیٹی سے خیبرپختونخوا و متصل قبائلی علاقہ جات کے قریب سبھی علاقوں سے علماء اور عام لوگ رابطہ کرتے ہیں اور اپنے اپنے علاقے میں چاند کے نظر آنے کی شہادتیں پیش کرتے ہیں جو شرعی طور پر نئے اسلامی مہینے کے چاند دکھائی دینے کے طریقۂ کار کا حصہ ہے۔ اگر کمیٹی کے اراکین کو تسلی ہو جائے کہ شہادت مصدقہ اور ٹھوس ہے تو وہ بخوشی رمضان المبارک یا شوال المکرم کا چاند نظر آنے کا اعلان کر دیتے ہیں جو بعدازاں گاؤں گاؤں مساجد کے لاؤڈاسپیکرز اور دیگر ذرائع سے پہنچ جاتا ہے۔



اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور اُن کی کمیٹی کی جانب سے نئے اسلامی مہینے کے چاند نظر آنے یا نہ آنے کے اعلان پر پورے خیبرپختونخوا اور قبائلی میں عمل درآمد نہیں کیا جاتا اور بالخصوص ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں رہنے والوں کی اکثریت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں پر اعتماد کرتی ہے لیکن یہ امر واضح ہے کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کی بڑی تعداد کو ’مفتی شہاب الدین پوپلزئی‘ کے اعلان کا انتظار ہوتا ہے اور نظریں مسجد قاسم علی خان پر لگی رہتی ہیں۔ 

نئے اسلامی مہینے کے چاند نظر آنے یا نہ آنے کے معاملے پر افراق و تفریق اُس وقت تک برقرار رہے گی جب تک وفاقی حکومت رویت ہلال کے مسئلے پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے تمام فریقین (اسٹیک ہولڈرز) کو کسی ایسے فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر رضامند نہیں کر لیتی جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے بارے میں یہ منفی تاثر بھی زائل ہوا ہے کہ اُن پر غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد نہ کرنے کے لئے حکومتی دباؤ ہے اور اِس قسم کی اطلاعات بھی زیرگردش رہیں کہ کسی سمجھوتے کے تحت وہ اس سال مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے برخلاف اعلان نہیں کریں گے۔ 

رویت ہلال کے غیرسرکاری اعلان سے اُن تمام افراد کو مایوسی ہوئی جن کی خواہش تھی کہ ملک بھر میں ماہ رمضان المبارک ایک ہی دن شروع ہوتا۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو اتوار کی بجائے ہفتے کے روز ’رمضان المبارک‘ کے آغازکو درست اقدام سمجھتا ہے کیونکہ ہفتہ کی شام نمودار ہونے والا روشن اور واضح چاند کسی بھی طرح ایک دن سے زیادہ عمر کا تھا اور اِسی بنیاد پر اُن کی یہ منطقی دلیل بھی سامنے آئی کہ پاکستان بھر ماہ رمضان المبارک کا آغاز ’ہفتہ‘ کے دن ہونا چاہئے تھا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, June 5, 2016

TRANSLATION: Life returns to Waziristan

Life returns to Waziristan
وزیرستان: زندگی معمول پر!
جنوبی اور شمالی وزیرستان کے علاقے شاکئی‘ شوال اور سپین وام معروف نام ہیں جہاں عسکریت پسندی کو کچلنے کے لئے فوجی کاروائیاں کی گئیں لیکن خاص بات یہ ہے کہ اِن دور دراز مقامات پر تبدیلی کا نیا دور امن کی بحالی‘ ترقیاتی عمل اور تعمیر نو کی صورت ظاہر ہو رہا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان ادارے (آئی ایس پی آر) کے ہمراہ اِن مقامات کی سیر کا موقع ملا جس کے لئے فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اِن مقامات پر لیجایا گیا۔ جنوبی وزیرستان میں شاکئی کے مقام پر نئی تعمیر ہونے والی شاہراہ دور دراز کے علاقوں کو ملانے کے علاؤہ تعلیمی اداروں اور تجارتی مراکز کو قریب لے آئی ہے جس سے علاقے میں تعلیم کے فروغ اور تجارتی و معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ شمالی وزیرستان کی وادئ شوال اپنے مکینوں کی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہے جہاں فوجی کاروائی کے ذریعے علاقے کو عسکریت پسندوں کے وجود سے پاک کر دیا گیا ہے اور اب یہ علاقہ تعمیر وترقی کا دور شروع ہونے کی راہ بھی دیکھ رہا ہے جس کے لئے حکمت عملی کو آخری شکل دے دی گئی ہے۔ اسی طرح شاملی وزیرستان کا علاقہ سپین ورم گرم میدانی علاقے پر مشتمل ہے میں معمولات زندگی معمول پر آ گئے ہیں اور مقامی قبائل کا مطالبہ ہے کہ تعمیراتی ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں اور ان کا مطالبات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بجلی و گیس ککی فراہمی‘ سڑکیں اور ہسپتال تعمیر کئے جائیں۔

شاکئی میں پاک فوج کے 9ویں ڈویژن سے تعلق رکھنے والے کرنل عامر اور کرنل عمران نے جنوبی وزیرستان میں ترقیاتی عمل کے حوالے سے معلومات فراہم کیں جس کے لئے وفاقی حکومت اور غیرملکی مالی امداد استعمال کی گئی ہے۔ تین قبائلی علاقوں میں تعمیر و ترقی کئی مثالوں سے سمجھی جاسکتی ہے جیسا کہ 335 کلومیٹر طویل سڑک جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراؤں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ تین آرمی پبلک سکول کی شاخیں جہاں اُسی معیار کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے جیسا کہ ملک کے بڑے شہروں میں ہے۔ وانا اُور سپین کئی راغزئی میں دو کیڈٹ کالجوں اُور فنی وتکنیکی علوم حاصل کرنے کے لئے وکیشنل سنٹرز کے قیام سے قبائلی عوام کو جدید تعلیم و ہنر سیکھنے کے مواقع میسر آ گئے ہیں۔ اسی طرح سرکاری سکول و مساجد کی بحالی بھی کر دی گئی ہے۔

بیان کیا جاتا ہے کہ خریدوفروخت کے مراکز‘ پینے کے صاف پانی کے منصوبے‘ چھوٹے پن بجلی کے منصوبے‘ بچوں کے گیارہ پارک اور ہر تحصیل میں سپورٹس سٹیڈیم (کھیل کود کی سہولیات) فراہم کی گئیں ہیں۔ علاقے میں بجلی کی کمی کا مسئلہ شمسی توانائی کے استعمال سے پورا کیا گیا ہے۔ شولام کے مقام پر متحدہ عرب امارات کے مالی تعاون سے شیخہ فاطمہ بن مبارک ہسپتال قائم کیا گیا ہے جس کا عنقریب افتتاح ہو جائے گا۔ امریکہ کے امدادی ادارے ’یوایس ایڈ‘ کے مالی تعاون سے گومل زام ڈیم تعمیر کیا گیا ہے جو فعال ہے اور 17.4 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے ایک وسیع علاقے میں آبپاشی کی ضروریات بھی پوری کی جا رہی ہیں۔
جنوبی وزیرستان سے 71 ہزار خاندانوں نے نقل مکانی کی جن کی اکثریت کا تعلق محسود قبیلے سے تھا اور اِن لوگوں کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع ہے۔ شمالی وزیرستان کا علاقہ ’سپین وام‘ موسم کے لحاظ سے مختلف مزاج رکھتا ہے۔ جون 2014ء میں یہاں کے رہنے والوں نے فوجی کاروائی ’ضرب عضب‘ کے دوران اپنے علاقوں سے نقل مکانی نہیں کی کیونکہ انہیں ایسا کرنے کو نہیں کہا گیا۔ اس علاقے میں زیادہ نقصانات بھی نہیں ہوئے۔ سپین وام میں آخری دفعہ دہشت گرد حملہ دو ہزار گیارہ میں ہوا تھا و ایک خودکش حملہ تھا اور اس میں ایک فوجی دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔ بریگیڈئر شازوالحق جنجوعہ کے بقول اُن کی کمانڈ کے علاقے میں قبائلی عوام کی سوچ میں انقلابی تبدیلی آئی ہے اور ایک تو انہوں نے اپنی لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی ہے اور دوسرا ’سپین وام‘ میں دو سے تین ہزار اسلحہ بھی رجسٹرڈ کرایا گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ان علاقوں میں اب عسکریت پسندی کا رجحان نہیں پایا جاتا۔ قبائلی اپنے ہمراہ اسلحہ لیکر نہیں گھومتے جو پہلے مقامی اور غیرملکی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے لیکن اب ترقی کے عمل میں معاون اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ بریگیڈئر شازوالحق جنجوعہ کے بقول سپین وام سے براستہ کاکا زیارت افغانستان کے صوبہ خوست کو پولٹری مصنوعات کی بالخصوص اسمگلنگ میں کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ سرحد کو بند کرنا ہے۔ شمالی وزیرستان کے اس علاقے میں مال مویشیوں کی علاج گاہیں تعمیر کی گئیں ہیں جن سے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوشحالی گاؤں میں گیس کے ذخائر بھی ہیں اور شمالی وزیرستان میں کرومائٹ کی کان کنی اور گیس سے علاقے میں تعمیر وترقی و اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جس سے ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور اس سے خوشحالی آ سکتی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جنوبی وزیرستان میں طالبات کے ایک تعلیمی ادارے بھی لیجایا گیا شاکئی میں ’آرمی پبلک سکول‘ کی معلمہ ملائکہ وزیر نے بطور معلمہ اپنی عملی زندگی کے آغاز کو درست فیصلہ قرار دیا اور وہ ایک معلمہ کا کردار ادا کرنے پر مسرور تھیں۔ وہ اُردو اور پشتو زبانوں میں سوالات کا جواب نہایت ہی اعتماد سے دے رہی تھی۔ انہوں نے طالبات میں پائے جانے والے جوش اور علوم سیکھنے سے متعلق دلچسپی کا بطور خاص ذکر کیا۔ انہوں نے پاک فوج کے کردار کو سراہا جنہوں نے شاکئی میں طلباء و طالبات کے لئے الگ الگ ’آرمی پبلک سکولز‘ کا قیام عمل میں لایا ہے تاکہ اِس دور دراز قبائلی علاقے کے عوام کو بھی معیاری تعلیم حاصل ہو سکے۔ ملائکہ وزیر پہلی جماعت میں زیرتعلیم بچیوں کو درس دیتے ہوئے کبھی اُردو تو کبھی وزیرستانی لہجے میں پشتو زبان کا سہارا لیتیں تاکہ بچوں کو اسباق کا متن منتقل کیا جاسکے۔ دوران درس وہ اُردو اور پشتو میں ملا جلا خطاب کر رہی تھیں کیونکہ بچیوں کی اکثریت اُردو زبان سے آشنا نہیں تھیں۔ ملائکہ وزیر وقتاً فوقتاً انگریزی زبان کے الفاظ بھی استعمال کرتیں۔ اُن کی زیرشفقت طالبات نہایت گرمجوشی سے ہر لفظ کو ادا کرتے ہوئے پڑھائی میں حصّہ لے رہی تھیں اور معلمہ کے الفاظ بلند آواز میں دہراتے ہوئے ثابت کر رہی تھیں کہ اُن کی معلمہ کی محنت رائیگاں نہیں جا رہی۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ و تلخیص : شبیر حسین اِمام)

Sunday, April 24, 2016

TRANSLATION: Who are Punjabi Taliban?

Who are Punjabi Taliban
پنجابی طالبان کون ہیں؟
صوبہ پنجاب میں جہاں کہیں دہشت گردی رونما ہوتی ہے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے تو ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح کا عموماً استعمال ہوتا ہے۔ حال ہی میں پنجاب کے ضلع راجن پور میں ’چھوٹو گینگ‘ نامی ایک جرائم پیشہ گروہ کے خلاف کاروائی کی گئی جس میں ’پنجابی طالبان‘ کا نام آیا۔ اگرچہ ’چھوٹو گینگ‘ ایک جرائم پیشہ گروہ ہے لیکن اِس قسم کی افواہیں امکانات پر بیان کی جاتی ہیں کہ عسکریت پسندوں نے ممکنہ طور پر جرائم پیشہ عناصر سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہو یا پھر انہوں نے دریا کنارے ’کچا جمال‘ کی پٹی میں پناہ لے رکھی ہو جو راجن پور کی تحصیل روجھان کا علاقہ ہے۔ ابھی تک اس بات کے شواہد نہیں ملے ہیں کہ غلام رسول المعروف چھوٹو کے عسکریت پسندوں کے کسی ’نیٹ ورک‘ کے ساتھ روابط تھے یا پھر اُس نے بلوچی‘ سندھی یا دیگر عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کی یا انہیں اسلحے کی فراہمی میں ملوث رہا ہو۔ درحقیقت چھوٹو نے اپنے آپ کو فوج کے حوالے کرنے سے قبل مبینہ طور پر اُن رابطہ کار پولیس حکام بارہا کہا کہ اُسے طالبان کے طور پر ظاہر کرنا غلط ہے۔ اُس سے منسوب یہ بیان بھی ہے کہ میں مسلمان ہوں نہ کہ طالبان۔

پنجابی طالبان کی زیراستعمال اصطلاح کا کافی دلچسپ پس منظر ہے۔ سال 2001ء کے آخری دنوں میں جب پنجابی بولنے والے عسکریت پسند افغانستان پر غیرملکی جارحیت کے خلاف لڑنے کے لئے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں پہنچے تو اُن کے لئے یہ اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ یہ پنجابی طالبان باجوڈ‘ مہمند‘ خیبر‘ کم اور اورکزئی کے قبائلی علاقں میں مقیم ہوئے یا پھر شمالی و جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں روپوش ہوئے اور یہیں انہوں نے عسکری تربیت حاصل کی تاکہ وہ افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ جاری مزاحمت میں حصہ لے سکیں۔ مقامی پختون عسکریت پسندوں نے بھی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اپنے اِن ساتھیوں کو ’پنجابی طالبان‘ پکارنا شروع کر دیا۔ پنجابی طالبان کی پختون اکثریتی عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلق سے لسانی رنگینیاں بھی پیدا ہوئیں جیسا کہ خان سید نامی اہم عسکریت پسند رہنما کو ’سجنا‘ کہہ کر مخاطب کیا جانے لگا۔ چونکہ خان سید کا پنجابی طالبان کے ساتھ رویہ دوستانہ تھا اِس لئے اُسے ’سجنا‘ کا لقب دیا گیا جو اصل نام کے مقابلے زیادہ معروف ہوگیا۔ خان سید نے خود کو سجنا کہلانے پر کبھی بھی اعتراض نہیں کیا حالانکہ اُس کا اپنا اختیار کردہ لقب ’خالد محسود‘ تھا۔ طالبان کی بہت سی قسمیں ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے الگ شناخت کے طور پر مختلف نام دینا بھی ایک ضرورت ہی تھی۔ لفظ ’طالب‘ جس سے ’طالبان‘ بنا کا لغوی معنی ایک ایسے شخص کے ہیں جو طالب علم ہے اور یہ اصطلاح اصلاً 1994ء میں اُس وقت سے زیراستعمال ہے جب افغانستان کے سابق دارالحکومت شہر قندھار سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما ’ملا محمد عمر‘ نے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ پھر جب دسمبر 2007ء میں جنوبی وزیرستان (قبائلی علاقے) میں بیت اللہ محسود نے ’تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)‘ کی بنیاد رکھی جو کہ افغانستان کے طالبان ہی کی طرز پر پاکستانی شاخ تھی تو اُس وقت افغان طالبان کی اصطلاح متعارف ہوئی تاکہ طالبان کے اِن دونوں گروہوں کے درمیان تمیز کی جاسکے۔ دریں اثناء پاکستانی طالبان جن کے ایک دھڑے کی شناخت کے لئے پنجابی طالبان استعمال ہونے لگا ’پختون عسکریت پسندوں‘ کی اکثریت والی تنظیم کا حصہ بنتے چلے گئے۔ یہ بات دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ پختون عسکریت پسندوں کو کبھی بھی ’پختون طالبان‘ نہیں کہا گیا جیسا کہ بعد میں شامل ہونے والوں کے لئے ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ عسکریت پسندوں میں کوئی ایسا خاص دھڑا یا دستہ نہیں کہ جسے ’پنجابی طالبان‘ کہا جاتا ہے بلکہ صرف لسانی بنیادوں پر یعنی پنجابی زبان بولنے کی وجہ سے ایسے عسکریت پسند پنجابی طالبان کہلائے۔ جہادی تنظیمیں نظریاتی وجوہات یا قیادت کرنے والی شخصیات کی ذاتی حیثیت و مقام سے اختلاف یا ٹکراؤ کی بناء پر گروہوں میں تقسیم ہوئیں اور ان میں سے بہت سی تحریک طالبان پاکستان سے اتحادی ہوئیں کیونکیہ یہ سب سے طاقتور ایک ایسا گروہ تھا جو قبائلی علاقوں پر بھی کنٹرول رکھتا تھا اور اس میں یہ صلاحیت بھی تھی کہ حسب ضرورت اُن مقامی یا غیرملکی عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں اور تحفظ فراہم کرسکتا تھا‘ جنہیں مدد کی ضرورت ہوتی تھی۔ عسکریت پسندوں کی اکثریت مختلف گروپوں میں تقسیم ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے کو شخصی طورپر جانتی تھی کیونکہ وہ افغانستان و پاکستان میں اکٹھے کاروائیاں کرتے رہے تھے یا پھر اکٹھے تربیت حاصل کرچکے تھے اور جب وہ نے تحریک طالبان پاکستان میں شامل یا اس کے اتحادی بنے تو اُن کے درمیان تعلقات زیادہ مضبوط ہوگئے۔ پنجابی طالبان کے کچھ دھرے ایسے تھے جنہوں نے اِس اصطلاح کا اپنے لئے عمومی استعمال کیا یا پھر ایسے مواقعوں پر اِس اصطلاح کا استعمال کیا گیا جبکہ کاروائی کو شناخت کرنے کی ضرورت پیش رہی۔

پاکستان کی سیاسی صورتحال میں بھی ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح کا استعمال ہو چکا ہے۔ 2008ء کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد جب پاکستان پیپلزپارٹی کی وفاق میں حکومت بنی تو اُس وقت کے وزیرداخلہ رحمان ملک کی جانب سے ’پنجابی طالبان‘ کی اِصطلاح اِستعمال کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے باقاعدہ اِحتجاج کیا تھا اور یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ ’پنجابی طالبان‘ نامی کسی ایسے مبینہ دھڑے کا وجود نہیں۔ تکنیکی طور پر اگر دیکھا جائے تو شہباز شریف اپنے اِس دعوے میں سچے تھے کیونکہ اُس وقت تحریک طالبان پاکستان میں ایسے کسی دستے کا وجود نہیں تھا جو ’پنجابی طالبان‘ ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ چاہے جس نام سے بھی پکارا جائے لیکن ’پنجابی طالبان‘ کا وجود تحریک طالبان پاکستان میں اَہم و فعال ہے۔

پاکستان کے حکمراں طبقے کی اکثریت جس کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے پنجابی طالبان کے وجود کا انکار کرتے رہے اُس وقت تک جبکہ گلشن اقبال پارک لاہور میں خودکش حملہ ہوا‘ جس سے بھاری جانی نقصانات ہوئے۔ مذکورہ دہشت گرد حملے کے بعد وفاقی اور پنجاب حکومت جس کی قیادت پاکستان مسلم لیگ (نواز) کر رہی ہے نے پنجاب بالخصوص جنوبی اضلاع میں موجود عسکری گروہوں کے خلاف کاروائی کی مطالبہ کیا۔ قبل ازیں بڑے عسکریت پسند رہنما ملک اسحاق اور اُن کے ساتھی مارے گئے یا پولیس مقابلے میں قتل ہوئے لیکن یہ کاروائی اُسی مطالبے کا عملی نمونہ تھی۔پاکستان مسلم لیگ نواز کی سیاسی مخالفت کرنے والی جماعتیں جن میں خیبرپختونخوا‘سندھ و بلوچستان کی حکمراں جماعتیں اور اِن صوبوں کی قوم پرست جماعتیں بھی شامل تھیں پنجاب کے عسکری گروہوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرنے میں پیش پیش تھے۔ ’چھوٹو گینگ‘ کی مزاحمت‘ کئی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور پولیس و بعدازاں فوج کی کاروائی جیسے واقعات سے ثابت ہوا ہے کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال مثالی نہیں یا پھر جس قدر بہتر بیان کی جاتی ہے حقیقت میں ویسی نہیں۔ پنجابی طالبان کی اصطلاح معرض وجود میں آئی اور یہ باقی رہے گی لیکن برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ عسکریت پسند کسی بھی نام یا گروہ سے تعلق رکھتے ہوں کمزور ہوئے ہیں اور تحریک طالبان پاکستان کی طاقت کے مراکز ماضی کے مقابلے منتشر دکھائی دیتے ہیں۔ پاک فوج کی کاروائی اور امریکہ کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں اُن کے قدم قبائلی علاقوں سے بھی اکھڑنے کے بعد اُن کی اکثریت یا تو افغانستان چلی گئی ہے یا پھر پاکستان کے طول و عرض میں روپوش ہو گئی ہے۔ پنجابی طالبان کے نام سے شہرت رکھنے والے باقی ماندہ عسکریت پسند ایک خطرہ تو ہیں لیکن اُن کے نقصان پہنچانے کی صلاحیت و استعداد بڑی حد تک کم (تقلیل) ہو گئی ہے۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Monday, January 4, 2016

TRANSLATION: Incentives for peace

Incentives for peace
(افغانستان: قیام) اَمن کے ثمرات
افغانستان میں قیام امن کے لئے معطل عمل کو پھر سے فعال کرنے کے لئے معلوم کوشش جاری ہے اور اس سلسلے میں پیشرفت پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے دورۂ افغانستان کے دوران دیکھنے میں آئی۔ یہ دورۂ ستائیس دسمبر کے روز کیا گیا۔ درحقیقت اسلام آباد میں منعقد ہونے والی افغانستان سے متعلق ’ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس‘ جو کہ آٹھ اور نو دسمبر کے روز ہوئی کے بعد سے افغانستان متعلق بہت سے امور طے پا رہے ہیں۔ اسی کانفرنس کا نتیجہ تھا کہ افغان صدر اشرف غنی جو کہ پاکستان کا دورۂ کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھے اور یہ مؤقف رکھتے تھے کہ پاکستان افغانستان میں عدم استحکام کے لئے درحقیقت ذمہ دار ہے لیکن وہ پاکستان آئے اور پھر اُنہوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ افغان طالبان سے مذاکراتی عمل کے لئے پاکستان کی مدد اور کردار سے استفادہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں دوسری پیشرفت پاک فوج کے سربراہ اور خفیہ ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے سربراہوں کا افغانستان کا دورہ تھا جس میں وسیع بنیادوں پر قیام امن کے لئے اپنے ہم منصبوں بشمول افغان حکمرانوں سے بات چیت کی گئی۔ اگر اشرف غنی معاملات کو سمجھنے میں جذبات کی بجائے بصیرت سے کام لیتے تو ’ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس‘ کے انعقاد سے قبل پاکستان کی عسکری قیادت افغانستان کے دورے کر چکی ہوتی اور کانفرنس کے انعقاد سے قبل ہی دونوں ممالک کے درمیان کئی امور پر اتفاق رائے بلکہ لائحہ عمل بھی تشکیل پاچکا ہوتا۔ پاکستان میں فوجی قیادت کے دورۂ افغانستان پر تنقید سننے میں آئی۔ کچھ حلقوں کا خیال تھا کہ فوجی قیادت کی بجائے منتخب سیاسی رہنماؤں اور متعلقہ وزارت خارجہ کے امور کی نگرانی کرنے والوں کو پہلے مرحلے میں افغانستان کا دورہ کرنا چاہئے تھا یا اِن افراد کو بھی فوجی قیادت کے ہمراہ افغانستان کا دورہ کرنا چاہئے تھا جس سے یہ پیغام منتقل ہوتا کہ افغان امور سے متعلق پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت ایک جیسی سوچ‘ فیصلے‘ عمل اور مشترکہ حکمت عملی رکھتی ہے۔ پاک فوج کی قیادت کے دورۂ افغانستان سے یہ تاثر اُبھرا ’افغان امور‘ پاک فوج سے متعلقہ ہیں اور ان کے طے کرنے میں ملک کے منتخب وزیراعظم کا عمل دخل غیرمعمولی نہیں۔ یہ بات شک وشبے سے بالاتر ہے کہ پاکستان کی ’افغان پالیسی‘ اور داخلی سطح پر متعلقہ امور جیسا کہ اندرون ملک سیکورٹی کی صورتحال یا دہشت گردی سے نمٹنے جیسے امور کا بڑا حصہ پاک فوج ہی کے ہاتھ میں ہے لیکن افغانستان جانے والے وفد کے ہمراہ سیاسی رہنماؤں یا متعلقہ وزارت کے اہلکاروں کے نہ ہونے سے افغان حکومت کے اس تاثر کو ایک مرتبہ پھر تقویت ملی ہے کہ اگر انہیں افغان مسئلے کو حل کرنا ہے تو اِس کے لئے پاکستان کی فوج اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے معاملہ کرنا ہوگا۔

جنرل راحیل شریف کے دورۂ افغانستان سے چند مثبت نتائج بھی حاصل ہوئے۔ سب سے پہلی غیرمعمولی بات تو یہ ہوئی کہ دونوں ممالک کے ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرلز کے درمیان براہ راست ٹیلی فونک رابطہ کاری (ہاٹ لائن) کے قیام پر اتفاق ہوا جس سے دونوں عسکری امور کے نگران ڈھائی ہزار کلومیٹر کی سرحد پر پیش آنے والی کسی ہنگامی صورتحال یا عمومی سطح پر مشاورت کے لئے ایک دوسرے سے فوری رابطہ کرکے تبادلۂ خیال کرسکیں گے۔ اسی ’ہاٹ لائن‘ کے ذریعے دونوں ممالک میں سرحدوں کی خلاف ورزی یا سرحد پار سے کسی اشتعال انگیز کاروائی سے متعلق ایک دوسرے کو اعتماد میں لیا جا سکے گا‘ جس سے اُن کے درمیان غلط فہمیوں کا فوری (بروقت) ازالہ ممکن ہوگا۔ یہ ’ہاٹ لائن‘ رابطہ کاری کا قیام 30دسمبر سے ہو چکا ہے اور اُمید ہے کہ دونوں ممالک اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے باہمی اختلافات و عدم اعتمادی کا سبب بننے والے محرکات سے نجات حاصل سے کریں گے۔ پاکستان حکام کے تحفظات رہے کہ ماضی میں بھی افغان صدر کے ساتھ ہوئی بات چیت کے ذریعے اتفاق رائے سے جن اقدامات پر اتفاق ہوا‘ وہ سرحدوں کی نگرانی کرنے والے افغان حکام کو منتقل نہیں ہوسکے اور اسی قسم کے گلے شکوے افغان قیادت کی جانب سے بھی سننے کو ملتے رہتے ہیں اُمید کی جاسکتی ہے کہ ’ہاٹ لائن رابطہ کاری‘ سے غلط فہمیوں کا مؤجب بننے والے امور طے ہوتے چلے جائیں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان شکایات کے ازالے کے لئے ایک طریقہ کار سال2014ء کے اختتام تک موجود تھا تاہم افغانستان سے نیٹو تنظیم کے رکن ممالک کی افواج کے مرحلہ وار انخلأ کے مکمل ہونے کے ساتھ رابطہ کاری پر سکوت طاری ہوگیا۔ ماضی میں سہ فریقی عسکری کمیشن افغانستان پاکستان اور امریکہ کی قیادت والی نیٹو افواج کی کمانڈ میں مستقل بنیادوں پر ملاقاتیں کرتی رہتی تھی جن میں سرحد پر پیدا ہونیو الے مسائل و حالات کے بارے بروقت اقدامات (حل) طے کر لئے جاتے تھے۔ اسی طرح پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں تعینات خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے درمیان بھی رابطے کی سبیل موجود تھی اور دونوں ممالک معلومات کا تبادلہ کرتے تھے جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی فضاء کو خوشگوار بنائے رکھنے میں بڑی مدد ملتی تھی۔

پاکستان کی فوجی قیادت کے دورۂ افغانستان کا ایک حاصل یہ بھی رہا کہ افغان حکومت اور افغان طالبان مزاحمت کاروں کے درمیان ’امن مذاکرات‘ کے لئے شروعاتی اقدامات طے کئے گئے جس سے تعطل کا شکار مذاکراتی عمل پھر سے بحال ہو سکے۔ اس سلسلے میں ’ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس‘ میں چار فریق پاکستان‘ افغانستان‘ امریکہ اور چین پہلے ہی ایک دوسرے کے ساتھ ہرممکن و بھرپور تعاون کرنے پر اتفاق کر چکے ہیں جس میں امن مذاکرات کی نگرانی بھی شامل ہے۔ اس چار فریقی ٹیمکو ’اسٹیرینگ کمیٹی‘ کا نام دیا گیا جس پر چین کے سفارتکار نے اعتراض کرتے ہوئے یہ مؤقف پیش کیا کہ افغانستان میں قیام امن کی باگ دوڑ اور کوششوں کا انحصار افغان حکومت کے ہاتھ ہونا چاہئے اور افغان حکومت ہی کو اس کی ملکیت بھی رکھنی چاہئے تو یہ عمل زیادہ تیزرفتار اور پائیدار خاطرخواہ نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں اس چار فریقی ٹیم کو ’کوآرڈینیشن کمیٹی‘ کا نام دے کر مخاطب کیا جائے جو نہ صرف امن مذاکرات کی سہولت کار و نگران ہو بلکہ اگر قیام امن کے لئے جنگ بندی پر اتفاق ہو جاتا ہے تو وہ اس عمل کی پائیداری کے لئے بطور ضامن بھی کردار ادا کرے۔

افغان قیام امن سے متعلق چار فریقی کمیٹی کا پہلا اجلاس 16 جنوری کے روز ہونا طے ہے جس میں اُمید ہے کہ فیصلہ کیا جائے گا کہ امن کی راہ میں حائل مشکلات اور قیام امن کے لئے لائحہ عمل تشکیل دینے جیسی تفصیلات (روڈ میپ) پہلے ہی اجلاس میں طے کر لیا جائے گا۔ اس سلسلے میں پاکستان اور افغانستان کا کردار کلیدی ہے جنہیں ظاہری سی بات ہے کہ طالبان کے لئے ایسی پیشکشیں کرنا ہوں گی جس سے وہ مذاکراتی عمل کا حصہ بنیں اور بعدازاں قیام امن کے لئے جنگ بندی پر بھی رضامند ہو جائیں۔ پاکستان کی جانب سے پہلے ہی کہا جاچکا ہے کہ جو متحارب فریق افغان امن کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے اُن کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے گا جبکہ ایسے فریق جو قیام امن میں معاونت کریں گے اُنہیں سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں زیادہ تفصیلات بیان نہیں کی گئیں کہ کس طرح کے سخت اقدامات کئے جائیں گے لیکن ظاہر ہے کہ جو کچھ بھی کیا جائے گا وہ انتہائی درجے کا ہوگا اگر پرامن مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے (حل) تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ دوسری طرف افغان طالبان کی صفوں میں اتفاق نہیں۔ ایک گروہ امن مذاکرات کا مخالف ہے اور مذاکرات سے انکار کئے بیٹھا ہے تاہم طالبان کے بڑے دھڑے جس کی قیادت ملا اختر محمد منصور اور سب سے چھوٹے دھڑے جس کی قیادت ملا محمد رسول کر رہے ہیں‘ اِن دونوں کی جانب سے امن مذاکراتی عمل کے بارے میں کوئی بیان (مؤقف) تاحال سامنے نہیں آیا لیکن دونوں کے بارے میں قوی تاثر ہے کہ وہ امن مذاکرات کے شروع ہوتے ی اس میں شریک ہو جائیں گے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی قیادت کے لئے اضافی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔

افغان طالبان کے قدرے چھوٹے اور کمزور دھڑے پاکستان کے دباؤ میں آسانی سے آ جائیں گے لیکن اُن کے رضامند ہونے سے خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ سابق مجاہدین رہنما گلبدین حکمت یار کی دعوت اسلامی بھی عسکری طور پر کمزور ہے افغان حکومت سے مذاکرات کرلے گی کیونکہ وہ ماضی میں بھی افغان حکومت اور امریکی حکام سے اِس قسم کے مذاکرات کرچکے ہیں۔ سب سے مشکل (چیلنج) یہ ہوگا کہ ملا منصور جس طالبان گروہ کی قیادت کررہے ہیں انہیں مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے کیونکہ یہی گروہ افغانستان کے سبھی صوبوں میں اپنی فعالیت رکھتا ہے اور قطر میں افغان طالبان کا دفتر بھی انہی کے پاس ہے۔

پاکستانی حکام ان خدشات کا شکار ہیں کہ اگر افغان طالبان کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس سے امن کے مذاکراتی عمل پر منفی اَثر پڑسکتا ہے اُور افغان حکومت اور عوام میں پاکستان مخالف جذبات بڑھ سکتے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں چین اور امریکہ کو شامل کئے جانے سے کم از کم اس بات کی تو ضمانت مل چکی ہے کہ اگر یہ مذاکراتی عمل کسی وجہ سے تعطل کا شکار ہوتا ہے یا کسی اتفاق رائے پر عملی پیشرفت اگر نہیں ہوتی تو اِس کے لئے ماضی کی طرح صرف پاکستان کو موردالزام نہیں ٹھہرایا جا سکے گا۔ افغانستان میں قیام امن ایک مشکل کام دکھائی دیتا ہے لیکن یہ ایک مشترکہ ضرورت ہے بالخصوص 10 ارب ڈالر مالیت کا ترکمنستان‘ افغانستان‘ پاکستان‘ بھارت (تاپی) گیس پائپ لائن منصوبہ صرف ایک ہی صورت مکمل ہوسکتا ہے اگر افغانستان میں وسیع البناد امن کے قیام کا حصول ممکن بنا دیا جائے۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Monday, November 16, 2015

Translation: Death of a maulana

Death of a maulana
ایک عالم دین کی رحلت!
کبھی کبھار ہمارے اردگرد کچھ ایسا بھی رونما ہوتا ہے جس پر ہمارا اختیار تو نہیں ہوتا کہ اُس کو روک یا تبدیل کر سکیں لیکن اُس کے بارے میں بس سوچتے ہی رہ جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک موقع خیبرپختونخوا کے معروف عالم دین کی رحلت تھی‘ جن کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور اُن کا جنازہ اِس قدر بڑا تھا کہ جس کا بیان کرنا محال ہے! وہ کوئی حکمران‘ بادشاہ یا سرمایہ دار شخص نہیں تھے لیکن اُن کے جنازے نے ایسے تمام طبقات کو پیچھے چھوڑ دیا اور ماضی میں ہوئے بڑے جنازوں سے زیادہ بڑے اِس الوداعی اجتماع نے حاضرین کا نیا ریکارڈ بھی قائم کرڈالا۔ سوال یہ ہے کہ نوشہرہ کے قریب اکوڑہ خٹک میں مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ کی تدفین میں اس قدر بڑی تعداد میں سوگوار کیوں شریک ہوئے؟ اُن 86 سالہ بزرگ نے کس طرح لوگوں کے دل میں جگہ بنائی جبکہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں ضعیفی کے باعث اپنے طور چل بھی نہیں پاتے تھے اور انہیں ویل چیئر کی ضرورت ہوتی تھی؟ اُن کی نماز جنازہ جی ٹی روڈ کے کنارے‘ اکوڑہ خٹک کی معروف دینی درسگاہ کے بالمقابل قبرستان میں ادا کی گئی جہاں کے وسیع وعریض میدان میں جس قدر گنجائش تھی‘ اُس سے کئی گنا زیادہ افراد نماز جنازہ میں شرکت کے لئے جمع ہوئے جن میں بوڑھے‘ جوان اور ہرعمر کے افراد شامل تھے اور جوق در جوق شرکت کے لئے آ رہے تھے۔ کوئی پوچھ سکتا تھا کہ آخر اُنہوں نے اپنی دیگر تمام مصروفیات ترک کرکے مولانا کے جنازے میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ جنازے میں شریک ایک افغان مہاجر محبوب فرط جذبات میں کہہ رہے تھے کہ ’’میں مولانا شیر علی شاہ کا نہ تو شاگرد تھا اور نہ ہی زندگی میں کبھی اُن سے ملاقات کا شرف حاصل کرسکا لیکن میں اُن کے جنازے میں شرکت کرنے کے لئے اس لئے حاضر ہوا کیونکہ وہ ایک ولی اللہ (اللہ کے دوست) تھے اور اُن کے جنازے میں شرکت کرنا اپنی عاقبت کے لئے باعث و اجر و ثواب ہے۔‘‘ ایسے کسی شخص سے بحث نہیں کی جاسکتی جبکہ وہ کسی اپنے جیسے انسان کے لئے اِس قدر مضبوط اعتقاد رکھتا ہو۔ الغرض اُن کے جنازے میں شرکت کو اپنے لئے اعزاز یا اجروثواب کا باعث سمجھنے والوں کی تعداد غیرمعمولی تھی اور وہ سبھی اسی قسم کا عقیدہ رکھتے تھے کہ مولانا شیر علی شاہ نے خلوص نیت اور بناء کسی دنیاوی لالچ اپنی تمام زندگی دین کے بتائے ہوئے خالص اصولوں کے مطابق بسر کی گویا اس قدر لوگوں کا اعتراف حقیقت اُن کے لئے ایک سند تھا کہ وہ کامیاب و کامران زندگی بسر کرکے دارفانی سے رخصت ہو رہے تھے۔

یہ حقیقت شک وشبے سے بالاتر ہے کہ شیخ الحدیث مولانا شیر علی شاہ نہایت ہی معزز انسان تھے۔ وہ غیرمعمولی حافظہ اور علوم اسلامیہ سے بہرہ مند تھے۔ انہوں نے جامعۃ المدینہ (مدینہ منورہ یونیورسٹی‘ سعودی عرب) سے پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) کی سند حاصل کی اور اُن کا شمار پاکستان کے اُن چند عالم دین افراد میں ہوتا تھا جنہوں نے دینی علوم کے ساتھ منطق (فلاسفی کے مضمون) میں بھی سند حاصل کررکھی تھی۔ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں رہنے والا ہر شخص اُن سے واقف نہیں تھا لیکن جس کسی کو بھی اُن سے ملاقات کا شرف ملا اور اُن کے خیالات اور شریں بیان سننے کا کبھی اتفاق ہوا تو وہ اُن کا گرویدا ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور پھر یہ تعلق ہمیشہ کے لئے قائم رہا۔ اُن کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے والوں کی بڑی تعداد پاکستانی و افغانی طالبعلموں کی ہے جن کی بڑی تعداد اُن کے جنازے میں شرکت اور اُنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔

مولانا شیر علی شاہ کا مذہبی حلقوں کے ساتھ سیاسی حلقوں پر بھی کافی اثرورسوخ تھا۔ ایسے علماء کی تعداد بہت کم ہے جنہیں افغان طالبان اور کچھ حد تک پاکستانی طالبان عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے رہے اور اِس فہرست میں وہ علماء تو بالکل بھی شامل نہیں جو سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ مولانا شیر علی شاہ کا نام سرفہرست رہا جس میں کراچی کے مرحوم مفتی رشید احمد اور مفتی نظام الدین شموزئی اور چمن (بلوچستان) سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالغنی شامل تھے جو اب اِس دنیا میں نہیں رہے۔ مولانا شیر علی شاہ نے 38 برس تک دارالعلوم حقانیہ کے مدرسے میں علوم اسلامیہ کی تعلیم دی۔ اُن کے شاگرد آج اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اُنہیں مولانا شیر علی شاہ جیسے معلم نصیب ہوئے۔ اُن کے شاگردوں کا شمار ہزاروں میں ہے اور یہی وجہ تھی کہ اُن کے جنازے میں شریک افراد اُن کے ساتھ کسی نہ کسی دور میں اپنے قریبی تعلق کا بیان کرکے غمزدہ پائے گئے۔

مولانا شیر علی شاہ کے بہت سے مشہور شاگرد تھے۔ جن میں ایک مولانا فضل الرحمن (جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن کے سربراہ) اور مولانا جلال الدین حقانی (افغان مجاہدین کے رہنما جنہوں نے ’حقانی نیٹ ورک‘ کے نام سے روس اور امریکی افواج کے خلاف مسلح مزاحمت کی قیادت کی) شامل ہیں۔ مولانا شیر علی شاہ نے روس اور بعدازاں امریکہ کی افغانستان پر فوج کشی کی نہ صرف مذمت کی تھی بلکہ اُنہوں نے اِس کے خلاف مزاحمت (جہاد) کرنے کو اسلامی نکتۂ نظر سے جائز بھی قراردیا تھا۔

پاکستانی حکام اکثر مولانا شیر علی شاہ کے طالبان پر اثرورسوخ ہونے کی وجہ سے اُن سے مشاورت کیا کرتے تھے اور اُن کی مدد ایسے مواقعوں پر بالخصوص لی جاتی تھی جبکہ کہیں مغویوں کو بازیاب کرانا ہوتا یا جب کبھی عسکریت پسندوں کے ساتھ جنگ بندی پر عمل درآمد ممکن بنانے میں رکاوٹیں حائل ہوا کرتیں تھیں۔ وہ ہمیشہ کامیاب بھی نہیں رہے کیونکہ عسکریت پسند اکثر کسی کی بھی سننے سے انکار کر دیتے لیکن اس کے باوجود وہ امن دوست تھے اور ہمیشہ ہی سے قیام امن کے لئے کوششوں کا حصہ رہتے۔

مولانا شیر علی شاہ کے قول و فعل میں تضاد نہیں تھا۔ اُن کی دینی تعلیمات اور عمل ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے تھے۔ مذہبی رہنما ہونے کی حیثیت سے انہوں نے پیسہ کمانے کو متمع نظر نہیں رکھا اور یہی وجہ تھی کہ حق شناس شخص حق کے بیان میں کبھی مصلحتوں کا شکار نہیں رہا۔ انہوں نے 1990ء کے عام انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا لیکن ناکامی کے بعد انتخابی سیاست سے ہمیشہ کے لئے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنی تمام زندگی مذہبی تعلیمات کے وقف کر دی جس کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بلند درجے کی عزت و تکریم حاصل ہوئی‘ جس کی ایک جھلک اُن کے جنازے کے موقع پر دیکھی گئی جبکہ جنازے کے شرکاء کی غیرمعمولی تعداد کی وجہ سے گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) اکوڑہ خٹک کے مقام پر کئی گھنٹوں تک بند رہا۔ اُن کا آخری دیدار کرنے کے لئے ہر سمت سے اُمنڈ آنے والے ایک ایسے شخص کی رحلت پر غمگین تھے جس نے پوری زندگی بناء کسی لالچ و طمع اُن کی رہنمائی کی تاکہ وہ عملی و شعوری زندگی میں زیادہ بہتر (محتاط) انسان اور (متقی) مسلمان کے منصب جلیلہ پر فائز ہوسکیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ:شبیر حسین اِمام)

Sunday, November 1, 2015

TRANSLATION: Another October quake!

Another October quake
زلزلہ: اَیک اُور آفت!
خیبرپختونخوا اُور قبائلی علاقوں پر ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری سوگواری کی کیفیت میں کسی صورت کمی نہیں آ رہی۔ یہاں قدرتی اور غیرقدرتی محرکات کی وجہ سے آنے والی آفات نے معمولات زندگی کو بُری طرح متاثر ہی نہیں بلکہ کئی علاقوں میں تہہ و بالا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ زلزلے نے بھی آفت کی جلتی ہوئی آگ پر مزید تیل چھڑکا ہے۔ اگرچہ چھبیس اکتوبر کے روز آنے والے زلزلے کے جھٹکے پورے ملک میں محسوس کئے گئے لیکن اس سے جانی و مالی نقصانات خیبرپختونخوا اُور ملحقہ قبائلی علاقوں جو کہ افغانستان کی سرحد سے جڑے ہوئے ہیں میں نسبتاً زیادہ رونما ہوئے۔ زلزلے سے گلگت بلتستان‘ آزاد کمشیر اُور صوبہ پنجاب کے چند حصے بھی زلزلے سے متاثر ہوئے جہاں جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ زلزلے سے صرف زمین ہی نہیں ہلتی بلکہ اس سے خوف کا ایک ماحول بھی طاری ہو جاتا ہے جس کے نفسیاتی منفی اثرات بھی ہوتے ہیں اگر ان کی کلی پیمائش کی جائے۔ حالیہ زلزلے کا دورانیہ زیادہ لیکن شدت کم تھی جس کی وجہ سے کم پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے کیونکہ جو مقام زلزلے کا نکتۂ آغاز تھا وہ زیرزمین زیادہ گہرائی پر ہونے کی وجہ سے کم جانی و مالی نقصانات کا باعث بنا۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ زلزلوں سے ہونے والی تباہی کا تعلق اُن کی گہرائی سے ہوتا ہے۔ زیرزمین تہہ در تہہ پرتوں میں کسی قسم کی تبدیلی جس قدر گہرائی میں ہوگی اتنا ہی کم پیمانے پر نقصانات کا باعث ہوگی۔ حالیہ زلزلہ کا مرکز افغانستان کا شمال مشرقی ضلع جورام میں تھا جو صوبہ بدخشاں میں واقع ہے اور یہ علاقہ پاکستان و چین کی سرحدوں سے ملتا ہے۔ زلزلے کی سطح زمین سے گہرائی 193 سے 212کلومیٹر ناپی گئی۔ اگر ہم 26اکتوبر 2015ء کے زلزلے کا موازنہ 8 اکتوبر 2005ء کے روز آئے زلزلے سے کریں تو دونوں میں فرق یہ ہے کہ دو ہزار پانچ کا زلزلہ سطح زمین سے صرف 15کلومیٹر گہرائی پر تھا اور یہی سبب تھا کہ اُس زلزلے سے زیادہ بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی یعنی 87 ہزار 351 لوگ ہلاک جبکہ 75 ہزار 266 دیگر زخمی ہوئے تھے اور زلزلے سے کم و بیش 28 لاکھ لوگ اپنی رہائشگاہوں سے محروم ہوگئے تھے لیکن دس برس بعد اکتوبر ہی کے مہینے میں آنے والے حالیہ زلزلے سے 300 سے کم ہلاکتیں ہوئیں۔ حالیہ زلزلے سے ہونیو الی کم ہلاکتوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زلزلے کے مرکز سے قریب مالاکنڈ ڈویژن کے جن پہاڑی علاقوں میں تباہی ہوئی وہاں آبادی کم تھی اور جن دیگر علاقوں میں زلزلے کی شدت محسوس کی گئی وہ اس کے مرکز (صوبہ بدخشاں‘ افغانستان) سے فاصلے پر تھے۔مالاکنڈ ڈویژن میں ہوئے نقصانات کا زیادہ اثر ضلع شانگلہ میں ہوا جہاں سب ہونیو الی ہلاکتیں مجموعی ہلاکتوں کا پچاس فیصد ہیں‘ اس کے بعد متاثر ہونے والے اضلاع میں سوات‘ چترال‘ لوئر دیر‘ اپر دیر اور بونیر شامل ہیں جبکہ قبائلی علاقوں میں باجوڑ ایجنسی میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

حالیہ زلزلے کی شدت کیا تھی؟ یہ ایک متنازعہ سوال ہے کیونکہ پاکستان کے محکمہ موسمیات کی جانب سے ریکٹر اسکیل پر 8.1 شدت بتائی گئی جبکہ امریکہ کے زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے پہلی شدت 7.7 جبکہ نظرثانی شدہ شدت 7.5بتائی گئی۔ زلزلے کے بارے میں دو مختلف ذرائع سے مختلف اعدادوشمار تعجب خیز رہے۔ یاد رہے کہ اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6 ریکارڈ کی گئی تھی۔

حالیہ زلزلے کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاعات یہ تھیں کہ اس کی پھیلاؤ افغانستان سے ملحقہ ممالک تک ہی محدود رہا ہو گا لیکن بعدازاں معلوم ہوا کہ اس سے افغانستان و پاکستان کے علاؤہ بھارت‘ نیپال‘ چین‘ تاجکستان اور کرغستان بھی متاثر ہوئے۔ امریکہ کے جیوگرافکل سروے نامی ادارے کے مطابق پاکستان جو کہ زیرزمین ہونے والی تبدیلیوں کے علاقے پر واقع ہے‘ حالیہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا اور افغانستان کے بعد سب سے زیادہ جانی و مالی نقصانات اسی خطے میں رونما ہوئے۔


چھبیس اکتوبر کے روز دوپہر 2بجکر 9منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے اور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے سب کچھ ختم ہونے والا ہے کیونکہ زلزلے کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن کسی معجزے اور اللہ تعالی کے کرم سے درختوں کی طرح جھولنے والی عمارتیں زمین بوس نہیں ہوئیں۔ اُس عالم میں سب سے پہلا خیال یہی ذہن میں اُبھرا کہ کلمۂ طیبہ کا ورد کیا جائے اور اللہ سے معافی‘ مدد و مغفرت طلب کی جائے۔ زلزلہ اُن چند قدرتی آفات میں سے ایک ہے جس کے بارے میں انسانی علوم خاموش ہیں اور انسان اس کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔

زلزلے کے فوراً بعد عموماً تین طرح کے ردعمل دیکھنے میں آتے۔ سب سے پہلے تو عزیزواقارب کی خیریت جاننے کے لئے اُن سے فون پر رابطہ کیا جاتا ہے۔ حال احوال دریافت کیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے پر رہائشگاہوں کے نقصانات اور دیواروں میں آنے والی دراڑوں کو دیکھا جاتا ہے اور تیسرے مرحلے پر اگر عمارتوں کو نقصان پہنچا ہو تو اہل خانہ کو کسی محفوظ مقام یا عزیز و رشتہ داروں کے ہاں منتقل کیا جاتاہے یا پھر حکومتی امداد کا انتظار کیا جاتا ہے جو ایسی صورتحال میں خیمے و بنیادی ضروریات کی دیگر اشیاء مہیا کرتی ہے جہاں عارضی سکونت اختیار کرکے متاثرین کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی رہائشگاہیں پھر سے بحال و تعمیر کر سکیں۔

زلزلے کے فوراً بعد پشاور میں حکومتی ادارے متحرک ہوگئے جہاں نہ صرف پورے صوبے کی صورتحال سے متعلق غوروخوض ہونا شروع ہوا بلکہ قبائلی علاقوں میں زلزلے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی بھی یہیں بیٹھ کر وضع کی گئی۔ فیصلہ سازوں نے ہنگامی اجلاس طلب کئے گئے جبکہ حکومتی و حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاورکا دورہ کیا جہاں زلزلے کے زخمیوں کو منتقل کرنے کا سلسلہ تمام دن جاری رہا۔ قلعہ بالاحصار کی ایک دیوار بھی زلزلے کی وجہ سے منہدم ہو گئی۔

زلزلے کی وجہ سے شاہراؤں کا نظام متاثر ہوا‘ جس کے سبب متاثرہ علاقوں تک غذائی اشیاء و دیگر امداد پہنچانے میں رکاوٹیں حائل تھیں۔ ایک تو بالائی علاقوں میں موسم سرد تھا اور دوسرا زمینی راستے منقطع ہو چکے تھے۔ قومی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ’نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)‘ اور صوبائی ادارے ’پروانشیل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)‘ کی طرف نظریں اُٹھیں جو حسب اعلانات عملی طور پر قدرتی آفت سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ جس کا مطلب تھا کہ ان اداروں نے دوہزار پانچ کے زلزلے یا بعدازاں دو ہزار دس کے سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں سے کچھ سبق نہیں سیکھا تھا۔
زلزلے کے فوراً بعد ہیلی کاپٹروں نے پروازیں بھریں اور وہ سیّدو شریف کے اُس ائرپورٹ پر اُترنے لگے جو اِس علاقے میں عسکریت پسندی کی وجہ سے کئی برس تک بند رہا تھا۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اشیائے خوردونوش و دیگر امدادی اشیاء کے ساتھ اہم شخصیات بھی سوات کی صورتحال کا جائزہ لینے اور برسرزمین حقائق بارے جاننے کے علاؤہ ذرائع ابلاغ کی اُس تنقید سے بچنے کی کوشش میں متحرک دکھائی دیں جو مصیبت کی اِس گھڑی میں قیادت سے وابستہ اُمیدوں اور توقعات کو پیش کر رہا تھا۔ وزیراعظم جو امریکہ کے سرکاری دورے کے بعد واپسی میں برطانیہ پہنچ چکے تھے اپنے سرکاری دورے کو مختصر کرکے فوراً وطن واپس پہنچے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے تاکہ وہ خیبرپختونخوا کی حکمراں اپنی جماعت کو زیادہ سے زیادہ امدادی سرگرمیوں اور متاثرہ علاقوں میں درکار ضروریات پہنچانے میں مستعد و فعال کرسکیں۔ اس پوری صورتحال میں نجی فلاحی و امدادی اداروں کی کارکردگی بھی قابل ستائش رہی جنہوں نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کی اپنی اپنی استطاعت و صلاحیت کے مطابق فوری ردعمل کا اظہار کیا۔

زلزلے کے بعد وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے متاثرین کے لئے امدادی پیکجز کے اعلانات خوش آئند ہیں لیکن حسب روایت ایسے اعلانات کے بارے میں دیکھنا ہے کہ انہیں عملی جامہ پہنانے کے لئے جس قدر سنجیدگی سے کام لیا جاتا ہے۔ عموماً ایسے مواقعوں پر گرمجوشی میں ایسے امدادی وعدے اور اعلانات بھی کر دیئے جاتے ہیں جنہیں بعدازاں پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا یا ادارے حکمرانوں کی جانب سے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ ماضی کی قدرتی آفات سے متاثر ہونیو الوں کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جنہیں تاحال بحالی و آبادکاری کے لئے حکومتی وعدوں کے ایفاء ہونے کا انتظار ہے۔ اسی طرح قبائلی علاقوں میں فوجی کاروائی سے متاثرین کی بحالی و آبادکاری کے لئے جون دوہزار چودہ میں اعلان کیا گیا کہ ہر متاثرہ گھر کی تعمیر کے لئے مالی وسائل فراہم کئے جائیں گے لیکن شمالی وزیرستان سمیت جنوبی وزیرستان‘ اورکرزئی‘ کرم‘ خیبر اور دیگر قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ اُنہیں دی جانے والی امدادی قطعی ناکافی ہے‘ جس سے اُن کی معیشت و معاشرت کی بحالی و تعمیرنو ممکن نہیں۔ حالیہ زلزلہ متاثرین کی امداد کے لئے حکومت نے اپنے وسائل پر انحصار کرنے کا اعلان کیا اور غیرملکی امداد کے لئے اپیل یہ کہتے ہوئے جاری نہیں کی کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں اور زلزلہ متاثرین کی امداد اپنے ہی وسائل سے کی جائے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ دعویٰ کہاں تک درست ثابت ہوتا ہے کیونکہ ماضی میں اس قسم کے فخریہ و پرجوش اعلانات ہنوز پورے نہیں کئے جا سکے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Monday, June 8, 2015

TRANSLATION: Provoking the Pakhtuns

Provoking the Pakthtuns
اِشتعال اَنگیز اَقدامات
پختونوں کو اُن کی پاکستان سے وفاداری کی ہمیشہ ہی سے سزا دی گئی ہے۔ حال ہی میں بلوچ علیحدگی پسندوں نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں 22پختونوں کا قتل عام اِس سلسلے کی ایک کڑی اور بطور حوالہ اندوہناک واقعہ ہے۔

کراچی کے عازم سفر مسافروں کو بلوچ آبادی والے علاقوں سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے جہاں اُن پر مسلح حملے ہوتے ہیں۔ ایسے بدقسمت مسافروں کو پہلے شناخت کے عمل سے گزارہ جاتا ہے اور جب بطور پختون اُن کے قومی شناختی کارڈوں کے ذریعے شناخت ہو جاتی ہے تو اُنہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق شناخت مکمل ہونے کے بعد پختونوں کو سزائے موت دیئے جانے کے اَنداز میں بیدردی سے قتل کردیا جاتا ہے۔ اس قسم کے بہیمانہ اقدام کا مقصد واضح طور پر یہی ہے کہ پختونوں اور بلوچ اقوام کے درمیان فاصلے پیدا کئے جائیں اور عسکریت پسندی سے متاثر بلوچستان کا صوبہ جو پہلے ہی امن و امان کی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے لسانی طور پر تقسیم دکھائی دیتا ہے وہاں کے رہنے والے ایک دوسرے کے مشت وگریباں ہو جائیں۔ اِس قسم کی کوششیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں جو کامیاب نہیں ہوئیں کیونکہ بلوچستان میں رہنے والے پختون و بلوچ قبائل نسلوں سے ایک دوسرے کے پرامن ماحول میں اکھٹے رہ رہے ہیں۔ دونوں قبائل ایک دوسرے سے بہت سے مماثلتیں بھی رکھتے ہیں اور ان میں پایا جانے والا مثالی اتحادواتفاق بھی قابل ذکر ہے جبکہ اِس خلیج کو ختم کرنے کے لئے بلوچ و پختون قیادت کی کوششیں بھی سراہنے لائق ہیں‘ جنہوں نے کئی ایک نازک مواقعوں پر قیادت کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں دانشمندی کا ثبوت دیا۔تاہم جانی و مالی نقصانات سے براہ راست متاثر ہونے والوں سمیت جملہ پختون اِس صورتحال سے تشویش کا شکار ہیں اور شاید یہ صدمات کبھی فراموش بھی نہ کرسکیں جس کا محرک بلوچ قوم پرستوں یا علیحدگی پسندوں کی یہ خام خیالی ہے کہ اِس قسم کے بہیمانہ اقدامات سے وہ اپنے عزائم حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہ بات بلوچوں کا حق بنتی ہے کہ اُن کے جملہ وسائل پر اُن کا زیادہ اختیار ہونا چاہئے لیکن جس انداز میں اپنے جائز حق کے حصول کے لئے جدوجہد کی جا رہی ہے‘ اس سے منزل کی جانب مسافت کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ایک قلیل تعداد میں گمراہ علیحدہ پسند گروہ اِس قتل عام میں ملوث ہو لیکن انہوں نے اپنے مقصد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے ساتھ بلوچ عوام کے جائز حقوق کی جدوجہد کو بھی متاثر کیا ہے۔

عسکری گروہ ’یونائٹیڈ بلوچ آرمی‘ نے اپنے ترجمان مرید بلوچ کے ذریعے حال ہی میں ہوئے بائیس پختونوں کے بہیمانہ قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اِس گروہ کو پہلے ہی پاکستان دشمن سرگرمیوں کے باعث کالعدم قرار دیا جاچکا ہے۔ ’یونائٹیڈ بلوچ آرمی‘ کے بقول یہ کاروائی پختونوں کا قتل مستونگ اور قلات میں سیکورٹی فورسیز کی کاروائیوں کا انتقام لینے کے لئے کی گئیں۔ اُن کا یہ مؤقف غیرمنطقی ہے کیونکہ 22 معصوم و بے گناہ اور پورے تنازعے سے لاتعلق پختونوں کو کس طرح بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف کی گئی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاروائی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ بہتر انتقام تو یہ ہوسکتا ہے کہ بلوچ عسکریت پسند قانون نافذ کرنے والے اُن اداروں کا مقابلہ کریں جنہوں نے اُن کے ساتھیوں کے خلاف کاروائی کی تھی لیکن چونکہ وہ ایسا کرنے کا حوصلہ‘ سکت اور قوت نہیں رکھتے تھے اِس لئے ضلع مستونگ کے علاقے ’کھڈ کوچہ‘ میں انہوں نے معصوم افراد کو نشانہ بنایا۔

حکومتی اداروں کا دعویٰ ہے کہ بھارت کا خفیہ ادارہ ’را‘ مستونگ میں ہوئے سانحے یا اِس جیسے دیگر پرتشدد واقعات کے لئے ذمہ دار ہے‘ جس میں نہتے و معصوم افراد کو قتل کرکے نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے طول وعرض میں بے چینی پھیلائی جاتی ہے اگرچہ یہ نتیجہ خیال درست بھی ہوسکتا ہے لیکن اِس سے متاثرہ خاندانوں کے زخموں کا مداواہ نہیں ہوسکتا کہ جن کے پیارے اُن سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھین لئے گئے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کئی ایک سیاستدانوں کا خیال ہے کہ اِس قسم کے پرتشدد واقعات ’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘ منصوبے کے خلاف ایک منظم و سوچی سمجھی سازش ہے لیکن پس پشت عناصر جو بھی ہوں سچ تو یہ ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق بلوچستان ہی سے تھا اور وہ پاکستان بھی تھے کیونکہ بھارت کا خفیہ ادارہ ’را‘ ہو یا دنیا کی کوئی دوسری خفیہ ایجنسی‘ اِس قسم کی واردات اُس وقت تک کی ہی نہیں جاسکتی جب تک اس میں مقامی افراد بطور آلۂ کار استعمال نہ ہوں۔ جن بائیس پختونوں کو قتل کیا گیا اُن کا تعلق بلوچستان کے علاقوں پشین‘ قلعہ عبداللہ اور چمن سے تھا۔ ان علاقوں میں پختون اکثریتی آبادی میں ہیں اور دوسری خاص بات یہ ہے کہ یہ علاقے افغانستان کی سرحد سے متصل ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ پشین‘ قلعہ عبداللہ اور چمن میں رہنے والے پختونوں کی زیادہ تر تعداد محنت مزدوری کے لئے کراچی جاتی ہے جہاں ملک کے دیگر حصوں سے بھی آئے مزدور و محنت کش طبقے کے موافق ماحول نہیں۔ پختون چاہے اُن کا تعلق بلوچستان‘ خیبرپختونخوا سے ہو یا وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات سے‘ اُن کے بے روزگاروں کی اکثریت کراچی کا رخ کرتی ہے اور یہ سلسلہ قیام پاکستان یعنی 67 برس سے جاری ہے کہ محنت مزدوری کی تلاش میں دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے ملک کے اس بڑے تجارتی شہر کا رخ کرتے ہیں۔ اِس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چونکہ مقامی سطح پر نہ تو صنعتوں کا فروغ دیا گیا اُور نہ ہی آبادی کے تناسب سے ملازمتوں کے مواقع فراہم کئے گئے‘ اِس کی وجہ سے بے روزگار افراد کے لئے سوائے معاشی ہجرت کوئی دوسری باقی نہیں رہی۔ اگر ہم کراچی کی بات کریں تو وہاں کے امن و امان کے حالات کی وجہ سے بھی پختون سب سے زیادہ متاثر ہوئے کیونکہ ان کی اکثریت کا روزگار یومیہ دیہاڑی مزدوروں بشمول ٹرانسپورٹ‘ لکڑی‘ سبزی اور پھل فروشی کے شعبوں سے ہوتا ہے۔

بلوچستان میں بائیس پختونوں کے قتل کے خلاف پورے بلوچستان میں احتجاجی مظاہرے ہوئے لیکن یہ مظاہرے صرف اُنہی علاقوں میں ہوئے جہاں پختون اکثریت میں آباد تھے جبکہ پاکستان کے دیگر حصوں میں اِس بارے میں احتجاج کی اطلاعات نہیں آئیں۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک مالک نے عوام بالخصوص بلوچ سیاستدانوں‘ دانشوروں اور نوجوان طبقے سے اپیل کی کہ وہ پختونوں کے قتل پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے اِس کی مذمت کریں کیونکہ بقول اُن کے اِس سانحے پر خاموش رہنے سے ’’بلوچ عوام ہی کا نقصان ہوگا۔‘‘ لیکن اُن کی نصیحت پر کان نہیں دھرا گیا اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں بلوچوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے پختونوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج یا مذمت سنائی نہیں دی۔ اس سلسلے میں ایک کوئٹہ میں ہونے والی ’کل جماعتی کانفرنس‘ بھی قابل ذکر ہے جس میں وزیراعظم نواز شریف اور چند وفاقی وزرأ شریک ہوئے۔ اس کانفرنس میں بلوچستان کی نمائندگی کرنے والی تقریباً سبھی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں شریک ہوئیں جنہوں نے قتل ہونے والے پختون خاندانوں سے اظہار ہمدردی و یک جہتی کیا اور اُن کے دکھ میں برابر کے شریک ہونے کا تذکرہ بھی کانفرنس کے جاری کردہ اعلامیے کا حصہ بنایا گیا۔
بائیس پختونوں کے قتل نے سیاسی قیادت کو مل بیٹھنے اور سوچنے کا موقع فراہم کیا ہے جس سے عسکریت پسندی اور لسانی تفرقوں کے خلاف اتحاد کا ایک پیغام بھی عام ہوا ہے اور اس تاثر کی بھی نفی ہوئی ہے کہ بلوچ و پختون قبائل کی اکثریت ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں رکھتی ہے لیکن سوال بدستور موجود ہے کہ آیا اِس بات کی کیا ضمانت ہے مستقبل میں ایسے سانحات پھر رونما نہیں ہوں گے۔ پختون صبر اور برداشت رکھنے والی فطرت کے مالک سمجھے جاتے ہیں لیکن اگر اِس قسم کا خدانخواستہ کوئی دوسرا سانحہ رونما ہوا‘ تو اس سے نوجوانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو سکتا ہے اور وہ انتقام کی راہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اُمید کی جاسکتی ہے کہ پختون اِس معاملے کی نزاکت اور جملہ پہلوؤں سے جڑی نزاکتوں کا ادراک کرتے ہوئے زیادہ دانشمندی‘ صبر‘ حوصلے اُور برداشت کا مظاہرہ کریں گے کیونکہ یہ نازک مرحلہ پاکستان کی بقاء و سلامتی کے لئے قربانی کے ذریعے اُس شاطر دشمن کے عزائم خاک میں ملانے کا ہے‘ جو صرف صوبہ بلوچستان ہی میں فعال نہیں بلکہ ملک کے دیگر صوبوں بشمول وفاق کے زیرنگرانی قبائلی علاقہ جات میں بھی عسکریت پسندوں اُور دہشت گردی پھیلانے والوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Wednesday, May 6, 2015

May2015: TRANSLATION: Changed Afghan Policy

The changed Afghan policy
نئی اَفغان پالیسی
افغانستان میں تحریک طالبان نامی مزاحمت کاروں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے نئی حکمت عملی کے تحت کاروائیوں کا آغاز کر دیا ہے جس کی تیس اپریل کو پاکستان کی جانب سے مذمت سامنے آئی ہے۔ اگرچہ پاکستان کے لئے ایسا کرنا آسان نہیں کہ وہ خود کو افغانستان کی تحریک طالبان سے اپنی ماضی کی وابستگی سے انکار کرسکے لیکن تیس اپریل کو پاکستان کی جانب سے جو اعلان کیا گیا وہ اسلام آباد کے دیرینہ مؤقف سے متصادم اُور باعث حیرت ضرور ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے افغانستان میں پائیدار قیام امن کے لئے مفاہمتی کوششوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔ افغانستان میں داخلی طورپر اور عالمی سطح پر جاری مفاہمتی کوششوں میں اگرچہ پاکستان کو شریک نہیں کیا گیا لیکن پاکستان کی طرف سے متعدد مرتبہ نیک خواہشات کا اظہار کیا جاچکا اور اِن مفاہمتی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اپنا دیرینہ مؤقف دہرایا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین پر قیام امن کا خواہاں ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان کی جانب سے افغان حکومت کے اس الزام کی بھی تردید سامنے آئی ہے کہ حال ہی طالبان کی جانب سے افغانستان میں جو مزاحمتی تحریک کے جاری سلسلے کی نئی کاروائیوں کا آغاز ہوا ہے‘ اس میں سرحد پار یعنی پاکستان سے آنے والے عسکریت پسند بھی شریک ہیں۔ پاکستان افغانستان میں امن کے مذاکراتی عمل پر منفی اثرات مرتب کرنے والے جملہ عوامل کی مذمت کرتا آیا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر عسکری کاروائیاں ہوتی رہیں تو اِس سے مفاہمتی مذاکراتی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

تحریک طالبان نے افغانستان کے مختلف حصوں میں ’عزم‘ کے نام سے ’موسم بہار‘ کے آغاز پر تازہ دم حملوں کا آغاز کر رکھا ہے جس کی وجہ سے بہت سے علاقوں سے مقامی افراد نقل مکانی پر بھی مجبور ہوئے ہیں بالخصوص صوبہ قندوز میں صورتحال زیادہ کشیدہ ہے۔ افغان طالبان کی اِن حالیہ پرزور عسکری کاروائیوں کے منفی اثرات پاک افغان تعلقات پر بھی اثرانداز ہو رہے ہیں کیونکہ افغان حکام و حکمرانوں کا مسلسل اِس بات پر اصرار رہا ہے کہ پاکستان سرحد پار عسکریت پسندی کو ہوا دے رہا ہے۔ افغانستان کی وزارت داخلہ نے اشرف غنی احمدزئی کے عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد 29 ستمبر 2014ء کے بعد سے یہ مؤقف اپنایا ہے اور ماضی ہی کی طرح پاکستان کو موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ وہ افغان طالبان قیادت کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لئے آمادہ اور عملاً تیار کر سکے لیکن یہ سبھی کوششیں رنگ نہیں لائیں۔ قطر میں جاری ’پگواش کانفرنس‘ میں اَفغان سیاسی دھڑوں اور حکومت کے ساتھ طالبان فریق بھی شریک ہیں لیکن یہ محض ایک میل جول ہے‘ امن مذاکرات نہیں جیسا کہ دنیا کو باور کرایا جارہا ہے۔ افغان حکومت اُمید رکھتی تھی کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات مارچ کی ابتدأ میں شروع ہوں گے جس میں پاکستان بھی بطور ثالث شریک ہوگا۔ حال ہی میں افغان حکومت کے رہنماؤں سے ملاقات کے دوران اُنہوں نے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور خفیہ ادارے ’انٹرسروسیز انٹلی جنس (آئی ایس آئی)‘ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی جانب سے اِس یقین دہانی کا ذکر کیا کہ مستقبل میں افغان طالبان صدر اشرف غنی کی حکومت سے براہ راست مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ اِس بارے میں پاکستان حکومت یا فوج کی جانب سے کوئی بات کھلے عام نہیں کی گئی کہ آیا انہوں نے ایسی کوئی ضمانت دی ہے یا نہیں اور شاید افغان حکام اسی وجہ سے مایوس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اسلام آباد نے مبینہ طور پر اُن سے کئے ہوئے ’وعدے‘ تاحال پورے نہیں کئے۔افغان حکام اپنے ملک کی داخلی صورتحال میں پاکستان کے کردار بارے حقیقت پسندانہ انداز سے نہیں سوچ رہے اور سمجھ رہے ہیں کہ شاید افغان طالبان کو اگر پاک فوج کی جانب سے کہا جائے کہ وہ اپنی جدوجہد ترک کر دیں تو وہ ایسا ہی کریں گے۔ یہ کلی طور پر درست تاثر نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کا تحریک طالبان افغانستان کے سربراہ ملا محمد عمر پر کچھ اثر ہے لیکن وہ پاکستان کے فرمان تابع نہیں اور نہ ہی پاکستان کا اُن کی فیصلہ سازی یا عمل میں اختیار ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لئے اَپنا کردار اَدا کرے اُور اَفغانستان سے مثالی تعلقات اِستوار کئے جائیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کی خدمات اور کوششیں قابل ذکر و ستائش ہیں جنہوں نے حال ہی میں افغان طالبان سے درخواست کی ہے کہ وہ موسم بہار میں شروع کی جانے والی ’عزم‘ کاروائیوں کو روکیں۔ حال ہی میں جرمنی کے ایک ادارے ’فریڈرچ ایلبرٹ اسٹیفنگ‘ کے زیراہتمام اسلام آباد میں سیمینار کا انعقاد ہوا‘ جس کا موضوع ’ افغانستان و پاکستان کے درمیان تعلقات کی بہتری کے ساتھ خطے میں قیام امن و خوشحالی‘ بھی تھی اور اِس موقع پر اعزاز چوہدری نے جو خطاب کیا وہ بہت ہی پرمغز تھا لیکن افغانستان کے بارے میں منعقد ہونے والی اِس اہم نشست کے بارے میں ذرائع ابلاغ نے زیادہ تشہیر نہیں کی۔ ایک اہم نکتہ اُن کی تقریر کا یہ بھی تھا کہ عین ممکن ہے کہ طالبان موسم بہار کی کاروائی کا آغاز نہ کریں بلکہ یہ مہم چند ایسے افراد کی جانب سے کی جائے جو نہیں چاہتے کہ افغانستان میں امن کو موقع ملنا چاہئے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
The Changed Afghan policy by Rahimullah Yusufzai