Showing posts with label Earthquake. Show all posts
Showing posts with label Earthquake. Show all posts

Sunday, December 27, 2015

Dec2015: Earthquake & Peshawar

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
زلزلہ‘ خوف‘ اندیشے اُور پشاور!
قدرتی آفات کے سامنے کسی کا بس نہیں چلتا اور ابھی سائنسی علوم نے ترقی کے وہ مراتب طے نہیں کئے جن کے بعد زیرزمین مٹی و ریت کی پرتوں میں ہونے والے ردوبدل کے نتیجے میں زلزلے کی آمد و شدت کے بارے پیشگی اطلاع دی جاسکے البتہ جو علاقے زلزلے کا سبب بننے والی زیرزمین پٹیوں پر واقع ہیں‘ وہاں جانی و مالی نقصانات کم سے کم کرنے کے حوالے سے علم و دانش سے استفادہ دنیا کے کئی ممالک میں عملاً دیکھا جا سکتا ہے۔ ماہرین تعمیرات و شہری ترقی کثیرالمنزلہ عمارتیں بشمول مکانات بنانے میں اُس علاقے سے ٹکرانے والے طوفان بادباراں اور زلزلوں کی اوسط شرح کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور تعمیرات کے شعبے میں یہ علوم الگ اضافے کی صورت رائج ہو چکے ہیں۔ المیہ ہے کہ ہمارے ہاں نجی و سرکاری عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر و ترقی اور توسیع میں قدرتی آفات کے اُن ممکنہ حملوں کا خیال نہیں رکھا جاتا جنہیں کی شدت بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ کیا آپ یہ پوچھنے کی جسارت کرسکتے ہیں کہ پشاور میں تعمیرات کی نگرانی کرنے والے ایک سے زیادہ اداروں کی کارکردگی کیا ہے؟ جبکہ آسمان سے باتیں کرنے والے پلازے دھڑا دھڑ تعمیر ہو رہے ہیں۔ اسی طرح کیا آپ پشاور کی ترقی کے نام پر نگران ادارے اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے واقف ہیں‘ جو ’’حلقۂ یاراں کے لئے ریشم کی طرح نرم‘‘ مزاج رکھتی ہے!

خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کا قدیمی حصہ (اندرون شہر کے علاقے) شدید خطرے میں ہیں۔ ہفتے کی الصبح آنے والے شدید زلزلے سے کئی اندرون ہشتنگری و لاہوری گیٹ میں کئی بوسیدہ عمارتوں کے حصے منہدم ہونے سے درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ شکر ہے کہ بڑا جانی نقصان نہیں ہوا‘ جو 90سیکنڈز دورانیئے جیسے طویل زلزلے سے عین ممکن تھا اگر (خدانخواستہ) اِس کی شدت ریکٹراسکیل پر سات درجے سے کم نہ ہوتی۔ تو کیا ہم کسی بڑی آفت اور بڑے پیمانے پر جانی نقصانات کا انتظار کریں یا مناسب وقت ہے کہ ایسی تمام عمارتوں کی قسمت کے بارے میں فیصلہ کرلیا جائے جو رہائش و استعمال کے قابل نہیں رہیں۔

پشاور مرکزی شہر ہے اور یہاں ساٹھ سے زیادہ صوبائی اور وفاقی سرکاری محکموں کے دفاتر موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ‘ گورنر اور وزرأ پر مبنی ایک ایسا نگران اور فہم و فراست رکھنے والا گروہ موجود ہے‘ جنہیں عوام کے مسائل‘ اندیشوں اور خوف سے بخوبی آگہی ہے لیکن طرزحکمرانی کا سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ حکمراں بننے والوں کا عوام سے دلی رابطہ گویا کٹ سا جاتا ہے اُور طرز حکمرانی کے نظام کی وہ سبھی خامیاں جو بطور حزب اختلاف سیاست دانوں کو دکھائی دیتی ہیں لیکن حکومت ملنے کے بعد رویئے اور ترجیحات یکسر تبدیل ہو جاتی ہیں۔ قول و فعل اور ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے طرزعمل میں اس قدر تضاد خود کو عوام کا نمائندہ قرار دینے والوں کو زیب نہیں دیتا لیکن خودفریبی اور خودستائش ایک ایسا لاعلاج مرض ہے‘ جس کی تشخیص (بدقسمتی سے عین) اُس وقت ہوتی ہے‘ جب فیصلہ سازی کا اختیار ہاتھ سے نکل جاتا ہے! التجا ہے صوبائی اور پشاور کی ضلعی حکومتوں سے کہ وہ اندرون پشاور کے اُن تمام بوسیدہ مکانات اور عمارتوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں مزید تاخیر و کوتاہی کا مظاہرہ نہ کریں۔ ایسی تمام عمارتیں جنہیں ماضی میں خود حکومتی اداروں نے ناقابل استعمال قرار دے رکھا ہے‘ اُن سے کس مصلحت کے تحت چشم پوشی اختیار کی جا رہی ہے؟

ایسے خستہ حال مکانوں و عمارتوں کا شمار سینکڑوں میں ہے‘ جن کی طبعی عمریں پوری ہو چکی ہیں اور زلزلے یا موسلادھار بارشوں کی صورت اُن کے مکینوں کی جانیں مستقل خطرے میں رہتی ہیں۔ صرف بوسیدہ مکانات ہی نہیں بلکہ گذشتہ دس برس کے دوران پشاور میں بننے والی نئی کثیرالمنزلہ درجنوں عمارتوں کی تعمیر میں ایمرجنسی کی صورت باہر نکلنے کے راستے اور آتشزدگی سے بچاؤ کے لئے آلات نصب نہیں۔ پارکنگ کے مختص جگہیں بھی کرائے پر دی گئیں ہیں جو ’قواعد‘ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح رہائشی و کاروباری علاقوں کے درمیان تمیز ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ پشاور کا ایسا کوئی گلی کوچہ نہیں رہا جہاں خستہ مکانات کے نچلے حصے معمولی ردوبدل کے ساتھ کمرشل سانچوں میں نہ ڈھال دیئے گئے ہوں۔ اندرون یکہ توت میں ایک ایسا کثیرالمنزلہ پلازہ بھی ہے جس کے زیرزمین تہہ خانے کو اپنی حد سے بڑھا کر سڑک تک پھیلا دیا گیا ہے۔ ایک عمارت کا راستہ متصل گلی میں سیڑھیاں کھود کر بنایا گیا ہے اور یہ بات خود ’بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی‘ کے متعلقہ اہلکاروں کے علم میں کہ کس طرح سیاسی اثرورسوخ رکھنے والوں نے منظور کئے جانے والے تعمیراتی نقشہ جات پر عمل درآمد میں قواعد کی خلاف ورزیاں کیں لیکن عوام کی شکایات کو درخوراعتناء نہ سمجھتے ہوئے واجبی جرمانوں کے ذریعے معاملہ رفع دفع کر دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ادارے بھی موجود ہیں اور اُن کے قواعد و ضوابط بھی جن پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے بھاری تنخواہوں اور مراعات پر ملازمین کی فوجیں بھرتی کی گئیں ہیں لیکن پشاور یعنی ہم عوام کے مفاد کی بجائے یہ ادارے اور ملازمین اُن شخصیات کے غلام بن گئے ہیں‘ جنہوں نے بھرتیاں‘ تبادلے اور تعیناتیاں اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہیں! حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن اداروں کی روش وہی کی وہی ہے کہ بظاہر کاغذی کاروائی (فائل ورک) کے تقاضے پورے کئے جاتے ہیں اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ تعمیراتی کاموں کے ٹینڈر کھلنے سے لیکر اہم عہدوں پر تعیناتیوں تک تعلقات‘ سفارش یا سیاسی وابستگی جیسے حوالے ہی کام آتے ہیں۔ اِس صورتحال اُور پیدا ہونے والے منظرنامے میں تبدیلی کے لئے شعوری کوششوں کی ضرورت ہے‘ جس کے لئے بلدیاتی نمائندے صرف اہم نہیں بلکہ نہایت ہی کلیدی کردار اَدا کرسکتے ہیں۔

ضرورت اِس امر کی ہے کہ اندرون پشاور کے علاقوں (سرکی گیٹ‘ آسیہ‘ رامداس‘ ڈبگری‘ جہانگیرپورہ‘ یکہ توت‘ گنج‘ کریم پورہ سے ہشتنگری‘ اندرون لاہوری و رامپورہ گیٹ بالخصوص فصیل شہر کے داخلی حصوں) میں خستہ حال عمارتوں کا جائزہ (سروے) جتنا جلد ہو مکمل کر لیا جائے۔ اس سلسلے میں امریکہ کے امدادی ادارے ’یوایس ایڈ‘ یا جرمن حکومت کی تکنیکی و فنی اور مالی معاونت کے پشاور میں صدر دفتر سے رابطہ کیا جاسکتا ہے جو اِس طرح کی شہری منصوبہ بندی (سویک پلاننگ) کا وسیع تجربہ و مہارت رکھتے ہیں۔ تاہم سروے کو محدود نہ رکھا جائے بلکہ ہر ایک عمارت کی سن تعمیر‘ ظاہری حالت اور اُس کی باقی ماندہ عمر کا تعین بھی ایک ہی سانس میں ممکن ہے۔ گلوبل انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) کے تحت پشاور کی ہر گلی کوچے کا نقشہ اُور آبادی کے اعدادوشمار بھی اِسی کوشش میں مرتب کئے جا سکتے ہیں جس سے پشاور میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے نظام کی ضروریات معلوم ہو سکتی ہیں۔ سردست پشاور کی آبادی اور اس کے لئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ نکاسی آب‘ کوڑا کرکٹ (ٹھوس گندگی) اُٹھانے کے نظام اور دیگر ضروریات کے تعین کا تازہ ترین سروے موجود نہیں۔ اگر اپنے وسائل سے استفادہ مقصود ہو تو صوبائی حکومت کے پاس ’جی آئی ایس‘ کے آلات اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہے جس نے کامیابی کے ساتھ تعلیمی اداروں کے اعدادوشمار جمع کئے ہیں اور بناء کسی اضافی اخراجات اِسی ’ایجوکیشن منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ای ایم آئی ایس)‘ نامی شعبے کی خدمات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے جسے نہ صرف پشاور کے مزاج و گلی کوچوں کا علم بھی ہے بلکہ اسے مقامی آبادیوں بالخصوص ایسے مضافاتی علاقوں میں کام کرنے کا تجربہ بھی ہے جہاں انسداد پولیو مہمات سمیت کسی بھی کام کے لئے جانے والے سرکاری اہلکاروں کو حفاظتی حصار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضلع پشاور کی سطح پر ’جی آئی ایس‘ سروے کے لئے جامعہ پشاور کے شعبہ جات اور طلباء و طالبات کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے‘ جو اِس ٹیکنالوجی میں درس حاصل کررہے ہیں اور اُنہیں عملی تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر پشاور کی سطح پر صفائی کے لئے رضاکاروں پر مشتمل ٹیمیں بنائی جا سکتی ہیں تو ایک ایسے مقصد کے لئے غوروخوض اور عملی مشقیں کیوں نہیں کرائی جاسکتیں جن کا تعلق انسانی جان و مال کو محفوظ بنانے سے ہے؟

Sunday, November 1, 2015

TRANSLATION: Another October quake!

Another October quake
زلزلہ: اَیک اُور آفت!
خیبرپختونخوا اُور قبائلی علاقوں پر ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری سوگواری کی کیفیت میں کسی صورت کمی نہیں آ رہی۔ یہاں قدرتی اور غیرقدرتی محرکات کی وجہ سے آنے والی آفات نے معمولات زندگی کو بُری طرح متاثر ہی نہیں بلکہ کئی علاقوں میں تہہ و بالا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ زلزلے نے بھی آفت کی جلتی ہوئی آگ پر مزید تیل چھڑکا ہے۔ اگرچہ چھبیس اکتوبر کے روز آنے والے زلزلے کے جھٹکے پورے ملک میں محسوس کئے گئے لیکن اس سے جانی و مالی نقصانات خیبرپختونخوا اُور ملحقہ قبائلی علاقوں جو کہ افغانستان کی سرحد سے جڑے ہوئے ہیں میں نسبتاً زیادہ رونما ہوئے۔ زلزلے سے گلگت بلتستان‘ آزاد کمشیر اُور صوبہ پنجاب کے چند حصے بھی زلزلے سے متاثر ہوئے جہاں جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ زلزلے سے صرف زمین ہی نہیں ہلتی بلکہ اس سے خوف کا ایک ماحول بھی طاری ہو جاتا ہے جس کے نفسیاتی منفی اثرات بھی ہوتے ہیں اگر ان کی کلی پیمائش کی جائے۔ حالیہ زلزلے کا دورانیہ زیادہ لیکن شدت کم تھی جس کی وجہ سے کم پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے کیونکہ جو مقام زلزلے کا نکتۂ آغاز تھا وہ زیرزمین زیادہ گہرائی پر ہونے کی وجہ سے کم جانی و مالی نقصانات کا باعث بنا۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ زلزلوں سے ہونے والی تباہی کا تعلق اُن کی گہرائی سے ہوتا ہے۔ زیرزمین تہہ در تہہ پرتوں میں کسی قسم کی تبدیلی جس قدر گہرائی میں ہوگی اتنا ہی کم پیمانے پر نقصانات کا باعث ہوگی۔ حالیہ زلزلہ کا مرکز افغانستان کا شمال مشرقی ضلع جورام میں تھا جو صوبہ بدخشاں میں واقع ہے اور یہ علاقہ پاکستان و چین کی سرحدوں سے ملتا ہے۔ زلزلے کی سطح زمین سے گہرائی 193 سے 212کلومیٹر ناپی گئی۔ اگر ہم 26اکتوبر 2015ء کے زلزلے کا موازنہ 8 اکتوبر 2005ء کے روز آئے زلزلے سے کریں تو دونوں میں فرق یہ ہے کہ دو ہزار پانچ کا زلزلہ سطح زمین سے صرف 15کلومیٹر گہرائی پر تھا اور یہی سبب تھا کہ اُس زلزلے سے زیادہ بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی یعنی 87 ہزار 351 لوگ ہلاک جبکہ 75 ہزار 266 دیگر زخمی ہوئے تھے اور زلزلے سے کم و بیش 28 لاکھ لوگ اپنی رہائشگاہوں سے محروم ہوگئے تھے لیکن دس برس بعد اکتوبر ہی کے مہینے میں آنے والے حالیہ زلزلے سے 300 سے کم ہلاکتیں ہوئیں۔ حالیہ زلزلے سے ہونیو الی کم ہلاکتوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زلزلے کے مرکز سے قریب مالاکنڈ ڈویژن کے جن پہاڑی علاقوں میں تباہی ہوئی وہاں آبادی کم تھی اور جن دیگر علاقوں میں زلزلے کی شدت محسوس کی گئی وہ اس کے مرکز (صوبہ بدخشاں‘ افغانستان) سے فاصلے پر تھے۔مالاکنڈ ڈویژن میں ہوئے نقصانات کا زیادہ اثر ضلع شانگلہ میں ہوا جہاں سب ہونیو الی ہلاکتیں مجموعی ہلاکتوں کا پچاس فیصد ہیں‘ اس کے بعد متاثر ہونے والے اضلاع میں سوات‘ چترال‘ لوئر دیر‘ اپر دیر اور بونیر شامل ہیں جبکہ قبائلی علاقوں میں باجوڑ ایجنسی میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

حالیہ زلزلے کی شدت کیا تھی؟ یہ ایک متنازعہ سوال ہے کیونکہ پاکستان کے محکمہ موسمیات کی جانب سے ریکٹر اسکیل پر 8.1 شدت بتائی گئی جبکہ امریکہ کے زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے پہلی شدت 7.7 جبکہ نظرثانی شدہ شدت 7.5بتائی گئی۔ زلزلے کے بارے میں دو مختلف ذرائع سے مختلف اعدادوشمار تعجب خیز رہے۔ یاد رہے کہ اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6 ریکارڈ کی گئی تھی۔

حالیہ زلزلے کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاعات یہ تھیں کہ اس کی پھیلاؤ افغانستان سے ملحقہ ممالک تک ہی محدود رہا ہو گا لیکن بعدازاں معلوم ہوا کہ اس سے افغانستان و پاکستان کے علاؤہ بھارت‘ نیپال‘ چین‘ تاجکستان اور کرغستان بھی متاثر ہوئے۔ امریکہ کے جیوگرافکل سروے نامی ادارے کے مطابق پاکستان جو کہ زیرزمین ہونے والی تبدیلیوں کے علاقے پر واقع ہے‘ حالیہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا اور افغانستان کے بعد سب سے زیادہ جانی و مالی نقصانات اسی خطے میں رونما ہوئے۔


چھبیس اکتوبر کے روز دوپہر 2بجکر 9منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے اور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے سب کچھ ختم ہونے والا ہے کیونکہ زلزلے کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن کسی معجزے اور اللہ تعالی کے کرم سے درختوں کی طرح جھولنے والی عمارتیں زمین بوس نہیں ہوئیں۔ اُس عالم میں سب سے پہلا خیال یہی ذہن میں اُبھرا کہ کلمۂ طیبہ کا ورد کیا جائے اور اللہ سے معافی‘ مدد و مغفرت طلب کی جائے۔ زلزلہ اُن چند قدرتی آفات میں سے ایک ہے جس کے بارے میں انسانی علوم خاموش ہیں اور انسان اس کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔

زلزلے کے فوراً بعد عموماً تین طرح کے ردعمل دیکھنے میں آتے۔ سب سے پہلے تو عزیزواقارب کی خیریت جاننے کے لئے اُن سے فون پر رابطہ کیا جاتا ہے۔ حال احوال دریافت کیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے پر رہائشگاہوں کے نقصانات اور دیواروں میں آنے والی دراڑوں کو دیکھا جاتا ہے اور تیسرے مرحلے پر اگر عمارتوں کو نقصان پہنچا ہو تو اہل خانہ کو کسی محفوظ مقام یا عزیز و رشتہ داروں کے ہاں منتقل کیا جاتاہے یا پھر حکومتی امداد کا انتظار کیا جاتا ہے جو ایسی صورتحال میں خیمے و بنیادی ضروریات کی دیگر اشیاء مہیا کرتی ہے جہاں عارضی سکونت اختیار کرکے متاثرین کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی رہائشگاہیں پھر سے بحال و تعمیر کر سکیں۔

زلزلے کے فوراً بعد پشاور میں حکومتی ادارے متحرک ہوگئے جہاں نہ صرف پورے صوبے کی صورتحال سے متعلق غوروخوض ہونا شروع ہوا بلکہ قبائلی علاقوں میں زلزلے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی بھی یہیں بیٹھ کر وضع کی گئی۔ فیصلہ سازوں نے ہنگامی اجلاس طلب کئے گئے جبکہ حکومتی و حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاورکا دورہ کیا جہاں زلزلے کے زخمیوں کو منتقل کرنے کا سلسلہ تمام دن جاری رہا۔ قلعہ بالاحصار کی ایک دیوار بھی زلزلے کی وجہ سے منہدم ہو گئی۔

زلزلے کی وجہ سے شاہراؤں کا نظام متاثر ہوا‘ جس کے سبب متاثرہ علاقوں تک غذائی اشیاء و دیگر امداد پہنچانے میں رکاوٹیں حائل تھیں۔ ایک تو بالائی علاقوں میں موسم سرد تھا اور دوسرا زمینی راستے منقطع ہو چکے تھے۔ قومی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ’نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)‘ اور صوبائی ادارے ’پروانشیل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)‘ کی طرف نظریں اُٹھیں جو حسب اعلانات عملی طور پر قدرتی آفت سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ جس کا مطلب تھا کہ ان اداروں نے دوہزار پانچ کے زلزلے یا بعدازاں دو ہزار دس کے سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں سے کچھ سبق نہیں سیکھا تھا۔
زلزلے کے فوراً بعد ہیلی کاپٹروں نے پروازیں بھریں اور وہ سیّدو شریف کے اُس ائرپورٹ پر اُترنے لگے جو اِس علاقے میں عسکریت پسندی کی وجہ سے کئی برس تک بند رہا تھا۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اشیائے خوردونوش و دیگر امدادی اشیاء کے ساتھ اہم شخصیات بھی سوات کی صورتحال کا جائزہ لینے اور برسرزمین حقائق بارے جاننے کے علاؤہ ذرائع ابلاغ کی اُس تنقید سے بچنے کی کوشش میں متحرک دکھائی دیں جو مصیبت کی اِس گھڑی میں قیادت سے وابستہ اُمیدوں اور توقعات کو پیش کر رہا تھا۔ وزیراعظم جو امریکہ کے سرکاری دورے کے بعد واپسی میں برطانیہ پہنچ چکے تھے اپنے سرکاری دورے کو مختصر کرکے فوراً وطن واپس پہنچے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے تاکہ وہ خیبرپختونخوا کی حکمراں اپنی جماعت کو زیادہ سے زیادہ امدادی سرگرمیوں اور متاثرہ علاقوں میں درکار ضروریات پہنچانے میں مستعد و فعال کرسکیں۔ اس پوری صورتحال میں نجی فلاحی و امدادی اداروں کی کارکردگی بھی قابل ستائش رہی جنہوں نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کی اپنی اپنی استطاعت و صلاحیت کے مطابق فوری ردعمل کا اظہار کیا۔

زلزلے کے بعد وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے متاثرین کے لئے امدادی پیکجز کے اعلانات خوش آئند ہیں لیکن حسب روایت ایسے اعلانات کے بارے میں دیکھنا ہے کہ انہیں عملی جامہ پہنانے کے لئے جس قدر سنجیدگی سے کام لیا جاتا ہے۔ عموماً ایسے مواقعوں پر گرمجوشی میں ایسے امدادی وعدے اور اعلانات بھی کر دیئے جاتے ہیں جنہیں بعدازاں پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا یا ادارے حکمرانوں کی جانب سے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ ماضی کی قدرتی آفات سے متاثر ہونیو الوں کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جنہیں تاحال بحالی و آبادکاری کے لئے حکومتی وعدوں کے ایفاء ہونے کا انتظار ہے۔ اسی طرح قبائلی علاقوں میں فوجی کاروائی سے متاثرین کی بحالی و آبادکاری کے لئے جون دوہزار چودہ میں اعلان کیا گیا کہ ہر متاثرہ گھر کی تعمیر کے لئے مالی وسائل فراہم کئے جائیں گے لیکن شمالی وزیرستان سمیت جنوبی وزیرستان‘ اورکرزئی‘ کرم‘ خیبر اور دیگر قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ اُنہیں دی جانے والی امدادی قطعی ناکافی ہے‘ جس سے اُن کی معیشت و معاشرت کی بحالی و تعمیرنو ممکن نہیں۔ حالیہ زلزلہ متاثرین کی امداد کے لئے حکومت نے اپنے وسائل پر انحصار کرنے کا اعلان کیا اور غیرملکی امداد کے لئے اپیل یہ کہتے ہوئے جاری نہیں کی کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں اور زلزلہ متاثرین کی امداد اپنے ہی وسائل سے کی جائے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ دعویٰ کہاں تک درست ثابت ہوتا ہے کیونکہ ماضی میں اس قسم کے فخریہ و پرجوش اعلانات ہنوز پورے نہیں کئے جا سکے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Thursday, October 29, 2015

Oct2015: Disasters & our handling!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قدرتی آفت: سیاسی و نمائشی تقاضے!
لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کی پارکنگ میں گاڑی کھڑا کرنے کی جگہ نہیں رہی‘ کیونکہ اِن دنوں وہاں ایک تو ٹیلی ویژن چینلوں کی اُو بی وینز (ڈی ایس این جی گاڑیاں) مستقل ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور دوسرا سبب یہ ہے کہ اہم شخصیات (وی وی آئی پیز) کی آمدورفت کی وجہ سے سخت حفاظتی انتظامات کرنا پڑے ہیں۔عجب ہے کہ سیاسی رہنما تو اپنی جگہ بیچارے مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن اُن کی بیگمات بھی اس ’نادر موقع‘ پر گھروں سے نکل آئیں ہیں اور ضروری سمجھتی ہیں کہ پہلے رش زدہ ہسپتالوں کی رونقوں میں اضافہ کریں! یقیناًسیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں سے بہتر کون جانتا ہے کہ کسی آفت کے موقع پر یہ بات کتنی ضروری ہوتی ہے کہ وہ عملی طور پر کچھ کریں یا نہ کریں لیکن ذرائع ابلاغ میں اُن کی موجودگی برقرار رہنی چاہئے۔ ہر مرتبہ کی طرح اس دفعہ بھی ڈاکٹروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ’’زخمیوں کو ہرممکن علاج کی سہولیات فراہم کریں‘‘ جیسا کہ اگر وہ ایسا نہ کہتے تو ڈاکٹر زیرعلاج مریضوں کی نگہداشت کی بجائے اُنہیں ہسپتالوں سے باہر پھینک دیتے! خدارا دکھوں کی ماری قوم سے مذاق بند کیا جائے۔ درد سے کراہتے ہوئے مریضوں کے سراہانے کھڑے ہوکر تصاویر اور فلمیں بناے والوں کو خوف خدا بھی نہیں رہا! کسی مریض پر جھک کر قوم کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ کتنے دردمند ہیں حالانکہ اُنہوں نے سانس روک رکھی ہوگی کہ مبادا بدبو اُن کے نتھنوں سے نہ ٹکرائے۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ حضور آپ جس وارڈ میں کھڑے ہیں کیا کبھی یہاں علاج کے لئے آنا پسند کریں گے؟ ہسپتال انتظامیہ بھی معاون بنی ہوئی ہے جو ہاتھ باندھے منتظر رہتی ہے اور چند ایسے مریضوں کوصاف ستھرے بیڈوں اور سلیقے سے رکھی ہوئی ادویات والے ایک وارڈ کو سجا کر رکھا جاتا ہے تاکہ سیاست دان تصاویر بنانے کا اپنا شوق اور ایک سیاسی ضرورت پوری کرسکیں۔

کسی سرکاری ہسپتال کے لئے انتظامی نگران اور مختلف شعبہ جات کی سربراہی کا فیصلہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاست دان کرتے ہیں۔ اگر قابلیت اور اہلیت کوئی معنی رکھتی تو ہمیں سرکاری ہسپتالوں کی اکثریت میں میڈیکل ڈاکٹر بطور نگران تعینات نہ ملتے بلکہ وہ تو اپنے تجربے اور طب پر دسترس کا فائدہ مریضوں کوپہنچا رہے ہوتے لیکن ہمارے ہاں عجب ہے کہ سرکاری ہسپتال میں بطور نگران بن کر وسیع و عریض کمرہ‘ مراعات و اختیارات جن میں حکومت سے ملنے والے کروڑوں روپے کی گرانٹ‘ ہسپتال کی اپنی آمدنی‘ ہزاروں کروڑوں روپے کی ادویات اور آلات کی خریداری وغیرہ جیسے امور شامل ہوتے ہیں پر حاکمیت برقرار رکھی جائے۔ یہ معاملہ صرف سرکاری ہسپتالوں ہی کا نہیں بلکہ ہر حکومتی ادارے کے انتظامی معاملات کو ایک ایسے نظام سے جوڑ دیا گیا ہے جس میں حکمراں سیاسی جماعت کا عمل دخل ضرور ہوتا ہے لیکن کسی ادارے کی ناقص کارکردگی کی ذمہ داری نہ تو انتظامیہ قبول کرتی ہے اور نہ اُن کا انتخاب کرنے والے۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں ایک ایسے ہسپتال کا جہاں جدید ڈیجیٹل ایکسرے مشینیں اور تشخیص میں معاون آلات نہ ہوں۔ چھبیس اکتوبر کے زلزلے نے ایک مرتبہ پھر ہماری علاج گاہوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جہاں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ مریضوں کاعلاج ہوتا ہے اور کسی ہنگامی صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر وہ مریض ہوتے ہیں جن کے طبی عملے کا رخ دیگر مریضوں کی جانب موڑ دیا جاتا ہے!

چھبیس اکتوبر کے زلزلے کے بعد ہر کوئی ذرائع ابلاغ میں اپنی اپنی ساکھ بنانے کے چکر میں ایک دوسرے پر برتری لیجانے کی کوشش میں ہے۔ عجب ہے کہ اگر کسی کو امداد دینی ہے تو یہ عمل رازداری اور ’’مبنی بر نمائش‘‘ نہیں ہونا چاہئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر پاک فوج کا ادارہ فوری ردعمل کا مظاہرہ نہ کرتا تو زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ جانی نقصان ہوتا اور یہ نقصان کسی عمارت کے ملبے تلے دبنے یا اس قدرتی آفت کی وجہ سے نہیں بلکہ موسم کی شدت اور بھوک و پیاس سے ہوتا۔ خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں زلزلہ متاثرین بے سروسامانی کی حالت میں ہیں۔ انہیں گرم کپڑوں سمیت سر چھپانے کے لئے چھت کی ضرورت ہے۔امدادی اداروں کی جانب سے فراہم کئے جانے والے خیمے برفباری اور بارش جیسے شدید موسم کو ذہن میں رکھتے ہوئے نہیں خریدے گئے۔ پالیسی سازوں کی فہم و فراست کا اندازہ صرف اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ موسمی شدت والے علاقوں کے لئے الگ قسم کے خیمے خرید کر نہیں رکھے گئے۔ پاک فوج جیسے منظم ادارے کے پاس ملبہ ہٹانے‘ عارضی پل‘ ملبے تلے دبے ہوئے افراد کی تلاش کے لئے الیکٹرانک آلات‘ ہیلی کاپٹر‘ ترسیل کے لئے طاقتور گاڑیاں (ٹرک) اور کیمونیکشن (رابطہ کاری) کا ایک ایسا مستعد و مؤثر نظام ہے‘ جو کسی بھی موسم اور درجۂ حرارت میں کام کر سکتا ہے۔ اس قسم کی تکنیکی صلاحیت امدادی اداروں بالخصوص ریسکیو 1122 کے پاس بھی ہونی چاہئے تھی۔ خیبرپختونخوا حکومت کو سوچنا چاہئے کہ انہیں ترجیح بنیادوں پر ’ریسکیو 1122‘ کی خدمات کو کم از کم اضلاع کی سطح تک توسیع دے۔ چند بڑے شہروں کی حد تک ’ریسکیو کا ادارہ‘ کافی نہیں۔

قدرتی آفت چھوٹی ہو یا بڑے پیمانے پر اس کے وسیع منظرنامے اور پہلوؤں پر غور کرنے سے پہلے سیاسی و نمائشی تقاضوں کو الگ رکھنا ہوگا۔ جہاں دس برس بعد بھی زلزلے سے متاثرہ سکول تعمیر نہیں ہوسکے۔ جہاں 2005ء کے زلزلہ متاثرین کو بحالی کے لئے امداد ملنے کا سلسلہ پانچ برس بعد شروع کرنا ممکن ہوا ہو‘ وہاں اُنہی حکومتی اداروں سے یہ توقع کرنا کہ ایک مرتبہ پھر خیبرپختونخوا کے دکھوں پر مرہم رکھیں گے‘ یہ بات اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ چھبیس اکتوبر کا زلزلہ نہ تو آخری تھا اور نہ ہی اس کے بعد قدرت کے مقرر کردہ ماحولیاتی توازن میں بگاڑ کی وجہ سے تغیرات کا سلسلہ رک جائے گا۔ جس ملک میں ’ماحولیات‘ کے محکمے کو ’ماخولیات‘ سمجھا جائے۔ جہاں انتخابات میں کامیاب ہونے کے ماہرین کو فیصلہ سازی سونپ دی جائے وہاں ذاتی و سیاسی ترجیحات کے تحفظ پر حیرت کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔ زلزلہ متاثرین کی امداد اور متاثرہ علاقوں میں معیشت و معاشرت کی بحالی کے لئے اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کو زحمت کرنے کی قطعی ضرورت نہیں بلکہ یہ کام زیادہ بہتر انداز میں بلدیاتی نمائندے کر سکتے ہیں کیونکہ اُن کی موجودگی ہر گاؤں‘ تحصیل اور ضلع کی سطح پر موجود ہے۔ نہایت مناسب وقت ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں بلدیاتی نمائندوں کی شرکت اور تعمیروترقی کے حوالے سے ترجیحات کے تعین میں اُن کی رائے کو خاطرخواہ اہمیت دی جائے۔

Wednesday, October 28, 2015

Oct2015: Cell phone in emergencies!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام 
ہنگامی حالات: ناقابل بھروسہ موبائل فون
کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر کوئی موبائل صارف ’پندرہ منٹ‘ دروانیئے میں 200 ایس ایم ایس (شارٹ میسیجنگ سروس) پیغامات اِرسال کرے تو ایک سو ساٹھ الفاظ پر مشتمل مختصر پیغام رسانی کی یہ سہولت اُس سے چھین لی جاتی ہے!َ؟ پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے یہ قاعدہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں لاگو کیا گیا جس کا مقصد اُس وقت کے انتہائی غیرمقبول صدر آصف علی زرداری کے خلاف چلنے والی وہ ’ایس ایم ایس مہم‘ جس میں اُن کی ذات‘ کردار‘ مالی حیثیت‘ بیرون ملک اثاثہ جات حتیٰ کہ اُن کی نجی زندگی کو موضوع بنایا جاتا تھا لیکن پیپلزپارٹی سمیت زرداری صاحب کے پاکستان میں ’غروب‘ ہونے کے باوجود یہ پابندی بدستور موجود ہے‘ جو جمہوریت‘ آزادی اظہار سمیت موبائل فون صارفین کے اُس بنیادی حق کو بھی ضبط کئے ہوئے ہے‘ جس میں وہ اپنے پیسوں سے خریدے ہوئے فون‘ اور اپنی ہی جیب سے ادائیگی کرتے ہوئے ’ایس ایم ایس‘ کرتے ہیں۔ پی ٹی اے کی اصطلاح میں پندرہ منٹ میں دو سو ایس ایم ایس کرنے والا ’سپام (Spam)‘ یعنی فضولیات پھیلا رہا ہوتا ہے یعنی ایسے پیغامات بھیج رہا ہوتا ہے جس سے دیگر موبائل صارفین ذہنی کوفت سے دوچار ہوں اور مذکورہ قاعدہ اِس لئے تشکیل دیا گیا تاکہ ایک موبائل صارف کے شر سے دوسرا موبائل صارف محفوظ رہے! بظاہر یہ منطقی دلیل خامیوں کا مرکب ہے۔ مثال کے طور پر 1: سمارٹ فونز کے علاؤہ تیسری اور چوتھی جنریشن کے تمام موبائل ہینڈسیٹس سافٹ وئرز میں ’بلیک لسٹ (black list)‘ کا آپشن شامل ہوتا ہے‘ جسے اینڈرائرڈ صارفین الگ سے بھی اپنے فون کا حصہ بنا سکتے ہیں اور اِس سہولت کے ذریعے اگر چاہیں تو لاتعداد موبائل نمبروں سے فون کالز یا ایس ایم ایس پیغامات ملنے کے سلسلے کو روک (block) کر سکتے ہیں۔یہی سہولت موبائل فون کمپنیاں بھی فراہم کرتی ہیں تاہم اُس صورت میں صارف کو ہفتہ وار اور مہینہ وار ایک خاص رقم (قیمت) اَدا کرنا پڑتی ہے جبکہ مفت اور آسان حل یہی ہے کہ اپنے فون میں موجود ’بلیک لسٹ‘ کی سہولت کا استعمال کیا جائے اور اگر یہ سہولت دستیاب نہ ہو تو اسے بلاقیمت حاصل (download) یا انٹرنیٹ کی معلومات نہ ہونے کی صورت کسی موبائل ڈیلر سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ 2: ایک وقت تھا کہ پیغام رسانی کے لئے صرف موبائل (GSM) نیٹ ورکس پر انحصار کیا جاتا تھا لیکن اب انٹرنیٹ نے رابطہ کاری کی ایک نئی دنیا متعارف کرادی ہے جس میں جغرافیائی سرحدوں و ٹائم زونز کی قید اُور بیرون ملک پیغام بھیجنے یا فون کال کی صورت میں فی منٹ قیمت ادا کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ پاکستان میں بذریعہ انٹرنیٹ رابطہ کاری (ip communication)کی پانچ سرفہرست اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپس (apps) میں سکائپ‘ وائبر‘ واٹس ایپ‘ فیس بک مسینجز اُور گوگل چیٹ شامل ہیں جن کے ذریعے تحریری بات چیت کرتے ہوئے 160 الفاظ فی پیغام کی حد (قید) بھی مقرر نہیں اور یہ ’جی ایس ایم نیٹ ورکس‘ کے مقابلے زیادہ برق رفتار اور قابل بھروسہ ہے۔ جب ہم الیکٹرانک طریقوں سے پیغام رسانی کر رہے ہوتے ہیں اور اس کے لئے ’قابل بھروسہ‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جبکہ بیک وقت ہزاروں لاکھوں صارف موبائل فون استعمال کرنا شروع کرتے ہیں تو پورا نظام ہی بیٹھ جاتا ہے اور فون سگنلز ہونے کے باوجود بھی رابطہ کاری ممکن نہیں ہو پاتی تو ایسے میں انٹرنیٹ دھوکہ نہیں دیتا!

چھبیس اکتوبر کے روز پاکستان کی تاریخ کے بدترین زلزلہ نے جہاں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی ہماری عمومی صلاحیت پر سوال اُٹھایا‘ وہیں رابطہ کاری کے وسائل میں شامل ’جی ایس ایم موبائل نیٹ ورکس‘ کی استعداد بڑھانے اور کسی متبادل‘ زیادہ قابل بھروسہ نظام اپنانے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔ شہری علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت عام ہونے سے پہلے ہی بھرپور فائدہ اُٹھایا جا رہا ہے لیکن اِس سہولت کو دیہی علاقوں اُور بالخصوص بالائی و پہاڑی علاقوں تک وسعت دینے کے لئے ’سیٹلائٹ کیمونیکیشن‘ میں سرمایہ کاری ایک ایسا پائیدار حل ثابت ہوسکتا ہے‘ جس سے عمومی حالات میں درس و تدریس‘ شعور و اگہی‘ موسمی ردوبدل کے بارے معلومات کی فراہمی‘ آبپاشی کے وسائل کا بہترین استعمال اور دیگر خصوصی یا ہنگامی حالات میں رہنمائی کا مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن سردست وفاقی حکومت سے درخواست ہے کہ وہ موبائل نیٹ ورکس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پیغامات ارسال کرنے پر عائد پابندی ختم کرے کیونکہ جو لوگ ’ایس ایم ایس‘ کے ذریعے مارکیٹنگ (کاروبار) کرتے ہیں وہ ہر چودہ منٹ میں 200 پیغامات ارسال کرکے ایک منٹ کا وقفہ لے لیتے ہیں جس کے بعد انجان موبائل نمبروں پر مزید دو سو پیغامات ارسال کر دیئے جاتے ہیں۔ یقیناًہر موبائل صارف کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور لاکھوں روپے کی لاٹری (انعامات) نکلنے کی خوشخبری والے ’ایس ایم ایس‘ ملتے ہی رہتے ہیں تو معلوم ہوا کہ جو لوگ ’سپام (spam)‘ یعنی ’ایس ایم ایس‘ کا تجارتی و غلط (بیجا) استعمال کر رہے ہوتے ہیں‘ وہ تو اِس پابندی سے متاثر نہیں ہو رہے اُور انہوں نے کمپوٹر کے ایسے سافٹ وئرز استعمال کرنا شروع کر رکھے ہیں جو ’ایس ایم ایس‘ کی ترسیل اور انہیں ہر پندرہ منٹ پر تقسیم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں شامل عوام کے منتخب نمائندوں اور بالخصوص خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے ایک قرارداد کی صورت وفاقی حکومت سے مطالبہ ہونا چاہئے کہ پندرہ منٹ میں زیادہ سے زیادہ دو سو ایس ایم ایس پیغامات کی ترسیل پر عائد پابندی ختم کرے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ موبائل صارفین کی اکثریت اِس قاعدے سے لاعلم ہے اور انجانے میں جب اُن سے خلاف ورزی سرزد ہوتی ہے تو فوراً ہی انہیں ’پی ٹی اے‘ کی جانب سے ایک ’ایس ایم ایس‘ موصول ہوتا ہے کہ آپ سے ایس ایم ایس کی سہولت چھین لی گئی ہے جس کے نیچے دو فون نمبر اور ایک ای میل ایڈریس درج ہوتا ہے۔ پی ٹی اے حکام نے کمپیوٹرائزڈ (خودکار) طریقے سے پابندی تو عائد کر دی لیکن ’ایس ایم ایس‘ کی سہولت واگزار (بحال) کرنے کا طریقہ خودکار نہیں رکھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فیصلہ سازوں نے اپنے اور اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کے نمبر ’اہم‘ قرار دے کر اُنہیں اِس پابندی سے مستثنیٰ رکھا ہواہے! اصولی طور پر پہلی بار دو سو ایس ایم ایس ارسال کرنے والے کو خبردار (وارننگ) کیا جائے اور دوسری بار اُس پر پابندی کا اطلاق ہونا چاہئے۔

قابل ذکر ہے کہ ماحولیاتی تنوع سے متعلق ہمارا عمومی رویہ‘ ماحولیاتی تبدیلیوں پر نگاہ یا تحفظ کے حوالے سے ہماری کم ترین ترجیحات کی موجودگی میں مزید قدرتی آفات کا نزول خارج ازامکان نہیں۔ افغانستان میں زمین کے اندر گہرائی میں جاکر دھماکہ کرنے والے بموں کے استعمال سے ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ زیرزمین تہہ در تہہ متاثر ہوا ہے جو ماہرین کے بقول پے درپے زلزلوں کا مؤجب بن رہا ہے۔ موسم سرما کے آغاز ہی میں شدید برفباری سے کاغان و ناران اور چترال کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ ہمیں سمجھنا ہے کہ ہماری معیشت و معاشرت‘ ثقافت اور تاریخ (بقاء) موسموں پر منحصر ہے اور اگر مون سون بارشوں کے مزاج یا اوقات میں خدانخواستہ غیرمعمولی تبدیلی رونما ہوئی تو اُس کے منفی اثرات سب سے زیادہ خیبرپختونخوا پر مرتب ہوں گے‘ جہاں ہنگامی حالات کی صورت رابطہ کاری کے وسائل تو موجود ہیں لیکن کچھ بھی قابل بھروسہ نہیں۔

Sunday, August 2, 2015

Aug2015: Count me too

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
زے ہم پختونخوا
جنگل ہو یا شہر‘ جہاں کہیں اور جب کبھی بھی مور ناچتا ہے تو اُسے دیکھنے والا کوئی نہ کوئی ضرور موجود ہوتا ہے لیکن گمان ہے کہ اپنے حسن و جمال پر نازاں رنگ برنگے پنکھوں والے پرندے ’مور‘ کی نظر اپنے بدھے پاؤں پر پڑتے ہی اُس کی دلی کیفیت یکسر خوشی سے غم میں تبدیل ہو جاتی ہے!

خیبرپختونخوا آفات کی زد میں ہے اور یہ بات اگر کوئی نہیں جانتا تو اُن کے لئے عرض ہے کہ ہر سال وارد ہونے والے سانحات کی وجہ سے متاثر ہونے والوں کی بحالی پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔ جیسا کہ زلزلے سے جو علاقے متاثر ہوئے وہاں کی معیشت و معاشرت مکمل بحال ہو۔ قبائلی علاقوں کی سرزمین کو انتہاء پسندی اور دہشت گردی کا مرکز بنانے والوں کے خلاف کاروائی کے سبب نقل مکانی کرنے والوں کی آبائی علاقوں کو واپسی یا اُنہیں باعزت قیام و طعام کی سہولیات فراہم ہوں۔ حالیہ مون سون بارشوں کے نہ تھمنے والے سلسلے اور چترال سے ہوتی ہوئی بارش کا سلسلہ خیبرپختونخوا کے جن دیگر اضلاع میں نظام حیات تہہ و بالا کر رہا ہے تو اِس اتفاقیہ یا ہنگامی حالات میں حکومتی اداروں کو اپنی نااہلی تسلیم کرنی چاہئے اور ماضی میں اگر اُن سے کوتاہیاں سرزد ہوئی بھی ہیں (جنہیں وہ تسلیم نہیں کرتے) تو کم از کم آئندہ کے لئے اپنی کارکردگی (پرفارمنس) بہتر تو بنا ہی سکتے ہیں! مور کی طرح ناچنے کی بجائے ذرا اپنے پاؤں (اُن طبقات پر نظر ڈالیں‘ جو اِس گھڑی آفت زدہ ہیں یا جن کے ہاں آفت زدگی نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں)۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اپنی نااہلیوں اُور کرۂ ارض کے ماحولیاتی تقاضوں کو سمجھنے میں ہوئی کوتاہیوں پر مبنی رویہ اور سوچ ترک کرنا ہو گی اور قدرت کو موردالزام ٹھہرانا کی بجائے اِس حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ مقامی طور پر ماحول دشمن طرز فکر و عمل ہو یا ایسے موسمیاتی تغیرات کہ جن کا سبب کرۂ ارض کا بڑھتا ہوا درجۂ حرارت‘ جملہ منفی اثرات سے آگہی کے باوجود اگر ہم اُن سے نمٹنے کے لئے تدابیر اختیار نہیں کرتے اور اپنے مالی وافرادی وسائل حسب حال ضروریات کے لئے مختص نہیں کرتے تو یہ کسی بھی صورت ’دانشمندی‘ نہیں ہوگی۔ برسرزمین حالات متقاضی ہیں کہ خیبرپختونخوا جس ہنگامی صورتحال سے گزر رہا ہے‘ اُس میں نمائشی و تفریحی ترجیحات کو کسی اُور موقع اور فرصت کے لئے اُٹھا رکھا جائے اور گردوپیش کے حقائق سے آنکھیں چرا کر ’جھوم برابر جھومنے‘ کی بجائے اُن زیردست‘ مصائب میں متبلا افراد کے بارے میں سوچیں‘ جنہیں اِس آزمائش کی گھڑی ہم میں سے ہر ایک کی مدد یا کم سے کم ’توجہ و دعا‘ کی ضرورت ہے!

انسانیت کا اِس سے بڑھ کر کوئی دوسرا المیہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم کم اَز کم اتنے حساس تو ہوں کہ اپنے ہی ہم وطنوں کے دکھ درد کو بانٹ سکیں یا کم از کم اپنے قول و فعل سے ایسا تاثر نہ دیں کہ جسے دیکھ کر مصائب و آلام میں مبتلا افراد خود کو الگ تھلگ اُور ایک دوسرے سے جدا سمجھنے لگیں! خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹوریٹ آف کلچر (فروغ سیاحت و ثقافت) کے فیصلہ سازوں نے ’زہ یم پختونخوا‘ کے نام سے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کا مقصد ملک کے شمال مغربی سرحدی صوبے کے مقامی اقدار‘ روایات‘ رہن سہن‘ بول چال سمیت جملہ طرز معاشرت کی خوبیوں اُجاگر کرنا ہیں۔ تحصیل کی سطح پر متعارف کی جانے والی اِس ’مجوزہ حکمت عملی‘ میں 43 پروگرام شامل کئے گئے ہیں جن میں موسیقی‘ اسٹیج ڈرامے اور مزاحیہ خاکوں کے علاؤہ معاشرتی و سماجی بہبود کے لئے اصلاحی پیغامات بھی عام کئے جائیں گے۔ خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں ’روائتی میلے‘ بھی بطور خاص منعقد کئے جائیں گے۔ لوک ناچ گانے پر مشتمل میلوں کا مقصد ماضی کی روایات کو زندہ کرنا اُور ملک کے ثقافتی نقشے پر خیبرپختونخوا کو نمایاں کرنا ہے تاہم کیا ایسے تفریحی پروگرام منعقد کرنے کا یہی موزوں وقت ہے؟

پشتو زبان کے لفظ ’زہ یم پختونخوا‘ کا چناؤ کرکے ثقافت و سیاحت کا فروغ کرنے والوں نے موضوع کو محدود کر دیا ہے۔ کیا خیبرپختونخوا کی دیگر زبانیں بولنے والے اِن تفریحی تقریبات کا حصہ نہیں ہوں گے؟ اِس حکمت عملی کو اگر کسی دوسرے وقت کے لئے اُٹھا رکھنے کے ساتھ اگر اِس کا نام ’زہ یم پختونخوا (میں پختونخوا ہوں)‘ کی بجائے ’زے ہم پختونخوا (میں بھی پختونخوا ہوں)‘ کر دیا جائے تو اس سے ’مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان وحدت‘ کا وہ پیغام اُبھرے گا‘ جس موجودہ حکمت عملی میں یقیناًغیردانستہ طور پر کم ترین ترجیح پر دکھائی دیتا ہے۔ لمحۂ فکریہ ’اَمن و اَمان کی صورتحال‘ بھی ہے جس میں بہتری کے آثار مستقل سمجھنے والوں کو خفیہ اِداروں کی اُن رپورٹوں تک رسائی ہونی چاہئے‘ جو مسلسل خاموشی کو کسی بڑے خطرے کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ انسانی جان کا تحفظ ہر تفریحی مقصد اور ثقافت کے اُجاگر کرنے سے زیادہ اہم ہے اور اس ضرورت کو مقدم سمجھ کر ہی فیصلہ سازی ہونی چاہئے۔ اگر ہم کسی کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے اور نہ ہی خالق کائنات کے حضور سجدۂ ریز ہو کر اپنی نافرمانیوں اور بغاوت بھرے قول و فعل سے توبہ تائب نہیں ہونے جیسی توفیقات نہیں رکھتے۔ اگر ہم بیدار تو ہیں لیکن فکری طور پر نہیں تو اِس ’مردۂ دل کیفیت‘ کی اصلاح (تبدیلی) کے بارے ہم میں سے ہرایک کو ’پہلی فرصت میں‘ اپنے اپنے ضمیر سے بات چیت ضرور کرنی چاہئے۔