Showing posts with label Flood. Show all posts
Showing posts with label Flood. Show all posts

Saturday, August 15, 2015

Aug2015: The real issues to worry!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
زحال مسکیں‘ مکن تغافل!
قدرتی آفات سے قومی سطح پر نمٹنے اُور بحالی و تعمیرنو کے لئے حکمت عملی تیار کرنے والے وفاقی اِدارے ’نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (ndma.gov.pk)‘ کا کہنا ہے کہ ’’خیبرپختونخوا میں سیلابی صورتحال برقرار ہے بلکہ دریاؤں میں طغیانی کے سبب تباہ کاریوں کا سلسلہ بھی ہنوز جاری ہے جس کے نتیجے میں تیرہ اور چودہ اگست (چوبیس گھنٹوں میں) پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ حالیہ چند ہفتوں میں مجموعی طور پر 207 افراد کی جان سیلاب کی نذر ہو چکی ہے۔ اِن میں 49 بچے اُور 63 خواتین بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے بچوں میں سے 33 کاتعلق صوبہ پنجاب اور 16کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔‘‘ ملک گیر سطح پر 13لاکھ 78ہزار 82 افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشنگوئی کرتے ہوئے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ ’’بلوچستان اور سندھ میں مزید بارشوں کا سلسلہ چودہ اگست سے قبل ہی شروع ہو چکا ہے اور اسی سلسلے کی مزید بارشیں ملک کے دیگر حصوں میں بھی متوقع ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ ابھی تک ’مون سون بارشوں‘ کا نصف دورانیہ ہی مکمل ہوا ہے اور عموماً یہ سلسلہ ماہ ستمبر کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ ملک کے سبھی مرکزی دریاؤں میں سیلاب کی بلند ترین سطح پہلے ہی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے لیکن موسم کے بدلتے ہوئے غضباک تیور اور تھپڑ سہنے کے باوجود ہمارے ہاں ایسی سیاسی جماعتیں بھی ہیں‘ جو بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے خلاف ہیں اور اِس تکنیکی مسئلہ کو ’سیاست کی نذر‘ کئے ہوئے ہیں۔ کیا کوئی جواب دے گا کہ محض چار ہفتوں میں جن 207 افراد کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں اُن کے قتل کا مقدمہ کس کے خلاف درج کیا جائے؟ آخر اُن 49بچوں اور 63خواتین کا کیا قصور تھا‘ جنہیں سیلابی پانی بہا لے گیا؟

سیلاب سے متاثرہ ’خیبرپختونخوا‘ کو کئی داخلی مسائل کا سامنا ہے‘ جن میں موسمیاتی تغیرات کو نظرانداز کرنے کے سبب پیش آنے والے حادثات سب سے نمایاں ہیں۔ اِنہی حالات کی وجہ سے دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب نقل مکانی ہو رہی ہے۔ نسلوں سے زراعت اور مال مویشیوں کی پرورش کے ذریعے معاشرے کی خدمت کرنے والے اپنا آبائی پیشہ ترک کر رہے ہیں۔ جن علاقوں میں بارشوں اُور سیلاب سے آبپاشی کا نظام تباہ یا متاثر ہوا ہے‘ اُس کی بحالی کے لئے حکومت کی جانب سے نہ تو ماضی میں خاطرخواہ توجہ دی گئی اور نہ ہی موجودہ حکمرانوں کو اُس ’چھوٹے کاشتکار‘ کسان اور محنت کش‘ کی فکر ہے‘ جو کسی سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے صاحب جائیداد کا غلام ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اپنے خون پسینے سے زراعت کرنے والوں کی زندگی تو غلاموں سے بدتر ہے۔ اُنہیں محنت کا خاطرخواہ صلہ نہیں ملتا۔ زرعی ضروریات پر اِس قدر محصولات (ٹیکس) لگا دیئے گئے ہیں کہ چھوٹے پیمانے پر کاشتکاری منافع بخش تو کیا‘ اب تو فصل پر اُٹھنے والے اصل اخراجات وصول ہونا بھی ممکن نہیں رہا! یادش بخیر گذشتہ دور حکومت میں ملاکنڈ ڈویژن میں سیلاب آیا تو اُس وقت کے وزیر خزانہ کا تعلق اِسی خطے سے تھا‘ جنہوں نے دل کھول کر ’بڑے جاگیرداروں‘ کے ساتھ اپنی دوستی و تعلق کو نبھایا۔ افسوسناک امر یہ تھا کہ اجارے پر کام کرنے والے جن چھوٹے کاشتکاروں کی فصلیں سیلاب میں بہہ گئیں اُن سے جاگیرداروں نے فصل کی بجائے نقد رقم کا تقاضا کیا اور یہ رقم زبردستی وصول بھی کی گئی۔ ایک طرف جاگیرداروں نے اپنی زرعی زمینیں سیلاب سے خراب ہونے اور آبپاشی کے نظام کی بحالی کے لئے کروڑوں روپے وصول کئے اور دوسری جانب انہوں نے نہ تو کھیتوں کی صفائی‘ حد بندی اور آبپاشی کا نظام درست کیا بلکہ اُلٹا کاشتکاروں کی کھال بھی اُتاری! اس قدر سنگدلی کی توقع تو اُن استحصال پسند ہندو سے کی جا سکتی تھی‘ جس سے آزادی حاصل کرنے کا پوری قوم اِن دنوں 69واں جشن منا رہی ہے!

آخر ہمیں کس بات نے گردوپیش اور برسرزمین حقائق سے لاتعلق کر رکھا ہے؟ کیا یہ بات کسی درجے تشویشناک بھی ہے کہ ’’خیبرپختونخوا کے زیرکاشت رقبے میں ہرسال کمی آ رہی ہے۔‘‘ محکمۂ مال کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق زیرکاشت رقبے میں غیرمعمولی کمی کا رجحان 1985ء سے جاری ہے اُور اِس کی ابتدأ زرخیز زمینوں کو رہائشی مقاصدکے لئے استعمال کرنے کی دیکھا دیکھی پھیلنے والی وباء سے ہوئی۔ جب رہائشی کالونیاں ’خود رو جھاڑیوں‘ کی طرح پھیلنے لگیں تو نکاسی آب کے لئے آبپاشی کے نالے (واٹر چینلز) استعمال ہونا شروع ہوئے‘ جس نے رہی سہی کسر بھی نکال دی اور جو باقی ماندہ زمین رہائشی کالونیوں سے بچ گئی تھی‘ وہاں بھی صحت مند کاشتکاری ممکن نہیں رہی۔

محکمۂ مال کا کہنا ہے کہ ’’خیبرپختونخوا میں ہر سال 11.6 مربع کلومیٹر زرعی زمین دیگر مقاصد کے لئے استعمال میں لائی جا رہی ہے۔‘‘ ہمارے حکومتی اِدارے کمال کے ہیں۔ یہ اعدادوشمار تو مرتب کرتے ہیں لیکن اِن سے متعلقہ خطروں کا بیان نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر جب یہ کہا جا رہا ہے کہ ’’سالانہ گیارہ مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبہ کاشت نہیں ہو رہا‘‘ تو اِس کا موازنہ بڑھتی ہوئی آبادی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے تناسب سے نہیں کیا جاتا۔ آخر یہ سوال بھی کیوں درپیش نہیں کہ ’’اگر خیبرپختونخوا میں گیارہ مربع کلومیٹر سالانہ کے تناسب سے اراضی کا زرعی استعمال ترک ہو رہا ہے تو آنے والے دنوں میں ’خوراک کی دستیابی و فراہمی (غذائی تحفظ)‘ کیسے ممکن ہو پائے گا؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں زرعی اراضی کا موجودہ کل رقبہ کتنا ہے؟
 اِس سلسلے میں محکمۂ زراعت کے مرتب کردہ اعدادوشمار ملاحظہ کیجئے جن کے مطابق ’’خیبرپختونخوا میں کل 18ہزار 709 اعشاریہ 55مربع کلومیٹر رقبہ زیرکاشت ہے جبکہ آئندہ پچیس سے تیس برس کے دوران ملک کے اِس ’شمال مغربی سرحدی صوبے‘ کی آبادی 5 کروڑ نفوس سے تجاوز کر جائے گی!‘‘ اگر ہم پشاور ہی کی مثال لیں تو یہاں کی زرخیز زمینیں پانی کی کمی کے باعث تباہ ہو رہی ہیں۔ اگر حکمرانوں کو فرصت ملے اور وہ چمکنی یا اِس کے مضافاتی دیہی علاقوں کا دورہ کریں‘ وہاں کے کاشتکاروں کے مسائل سننے کے لئے کھلی کچہریاں لگائیں تو معلوم ہو گا کہ جن زرعی زمینوں کو کاشت کرنے کے لئے پانی ہی دستیاب نہیں تو اگر ایسی زمینوں کو رہائشی و دیگر غیرزرعی مقاصد کے لئے فروخت کردیا جائے تو کیا مضائقہ ہے!؟ رواں برس (دوہزار پندرہ) میں خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ جن کم و بیش 400 دیہی علاقوں میں ’زراعت بچاؤ اقدامات‘ کئے گئے ہیں وہ کافی تو کیا واجبی سے بھی کم ہیں۔ مثال کے طورپر ۔۔۔’’سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سات ایکڑ پر انار اُور انگور کے باغات لگائے گئے ہیں اور سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری سے پشاور کے مضافاتی ترناب کے علاقے میں 6.5 ایکڑ اراضی زیرکاشت لائی گئی ہے!‘‘ کیا یہ کوششیں اور اس قدر محدود پیمانے پر ہونے والے اقدامات کافی قرار دیئے جا سکتے ہیں؟ اگر محکمۂ زراعت اور اس کے ذیلی دیگر محکموں کے ہزاروں ملازمین کو ایک میدان میں جمع کرکے ایک عدد نہر اور ایک عدد گڑھا کھودنے پر لگا دیا جائے تو محض چند دنوں میں دنیا کی سب سے بڑی سیلابی نہر اور سب سے بڑا تالاب بن جائے گا‘ جس کے کئی ایک مفید استعمال بیان کرنے کا یہ محل نہیں۔ القصہ مختصر کاشتکاروں‘ محنت کشوں‘ سیاسی‘ نسلی و لسانی استحصال‘ تعصب اور محرومیوں کا شکار غریب و محکوم طبقات نے سب سے زیادہ اُمیدیں ’پاکستان تحریک انصاف‘ سے وابستہ کر رکھی ہیں‘ جن پر پورا اُترنے کے لئے ’بنی گالہ‘ کو نمائشی اقدامات و انتظامات کی بجائے انقلابی اصلاحات لانے کے لئے رہنما اصول وضع کرنا ہوں گے۔’’زحال مسکیں‘ مکن تغافل ورائے نیناں بنائے بتیاں۔۔۔کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں‘ نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں۔ (اَمیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ)‘‘

Thursday, August 6, 2015

Aug2015: Devastating flood in Chitral

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
آفات سانحات: سمجھ اُور بوجھ!
مون سون بارشیں نہ تو پہلی بار ہو رہی ہیں اور نہ ہی اِن سے متعلق موسمیاتی پیشنگوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں‘ جانی و مالی نقصانات کی وجہ یہ ہے ہم قدرت کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے لئے خاطرخواہ تیاری نہیں کرتے۔ اگر تیاری ہوتی تو نقصانات کا حجم کم سے کم رکھنے میں بڑی مدد مل سکتی تھی۔

خیبرپختونخوا کا ضلع چترال آبادی کے لحاظ سے چھوٹا لیکن رقبے کے لحاظ سے بڑا ضلع ہے۔ واخان کی سولہ کلومیٹر چوڑی پٹی ہٹا دی جائے تو چترال کی سرحدیں بروغل میں تاجکستان سے ملتی ہیں جبکہ کنٹر (افغانستان)‘ گلگت بلتستان‘ دیر اور سوات کے ساتھ سرحدیں رکھنے والے اس ضلع کی آبادی کا اندازہ سات لاکھ کے قریب لگایا جاتا ہے۔ چترال کا محض چھ فیصد حصہ ہی قابلِ کاشت اور آبادی کے لائق ہے جبکہ پندرہ فیصد حصہ برفانی تودوں اور بقیہ پہاڑوں اور بے آب و گیاہ بیانوں پر مشتمل ہے۔ چترال میں سردیاں سخت جبکہ گرمیاں صرف زیریں علاقوں میں گرم کہلائی جا سکتی ہیں۔ بالائی چترال میں جولائی اور اگست کے دنوں میں بھی پنکھے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود عالمی حدت میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گزشتہ کچھ سالوں سے چترال میں گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ بالائی چترال کے گاؤں بریپ میں کوئی آٹھ سال قبل گلیشیئر پھٹنے کا واقعہ پیش آیا۔ اگلے سال خوبصورت اور دیومالائی داستانوں کے حامل گاؤں سنوغر میں‘ تیسرے سال دل کو لبھانے والے مناظر کے حامل قصبے بونی اور پھر کھوار زبان کے صوفی شاعر مہ سیار کی محبوبہ کی جائے پیدائش ریشن میں گلیشیئر پھٹنے سے تباہی ہوئی۔ یہ سلسلہ اب رکنے کا نام نہیں لے رہا! کیونکہ فیصلہ سازوں نے ماضی میں ہونے والے اکادکا واقعات کا ’نوٹس‘ لینے کی ضرورت نہیں سمجھی۔

نوشہرہ سے آگے کا خیبر پختونخوا کا کوئی علاقہ مون سون کے راستے میں نہیں آتا لیکن ساون کے بچھڑے بادل (سکندر اعظم کے پیچھے رہ جانے والے زخمی فوجیوں کی طرح) ضلع دیر تک بارشوں کا باعث بنتے ہیں اور یوں یہ علاقہ ان بارشوں کی برکت سے ہرا بھرا اور چارے سے بھرپور ہے۔ دیر اور چترال کے درمیان بارہ ہزار فٹ بلند لواری ٹاپ نے ان بادلوں کا راستہ روک رکھا تھا۔ لواری ٹاپ نہ صرف ساون کے بادلوں کو روکتا تھا بلکہ چھ ماہ تک چترالیوں کو بھی بقیہ پاکستان سے الگ رکھتا تھا۔ سابق صدر پرویز مشرف نے لواری ٹاپ سے سرنگ (جو کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا آئیڈیا تھا) نکلوا کر چترالیوں کو بارہ مہینے کا پاکستانی تو بنا دیا لیکن ساتھ ہی ساون کے لئے چترال پہنچنے کا راستہ بھی کھول دیا۔ یہ بات شاید بہت سے پڑھنے والوں کو مذاق لگے لیکن پرویز مشرف کے چترالی ناقدین (جن کی تعداد گو کہ آٹے میں نمک سے بھی کم ہے) اسے سائنسی بنیادوں پر ثابت کرنے پر تیار رہتے ہیں! متذکرہ قصبے بونی سمیت آس پاس کے علاقوں میں ساون کی بارشیں پہلے کبھی نہیں یا موجودہ شرح میں نہیں ہوئیں لیکن اس وقت ان علاقوں میں موسم اسلام آباد اور پنڈی سے ذرا مختلف نہیں تھا‘ باہر زوروں کی بارش جبکہ گھروں کے اندر حبس۔ یہ تجربہ چترالیوں کے لئے چند برس سے زیادہ کا نہیں ہے۔ چترال کی زمینی ساخت دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ان پہاڑیوں پر زبردست بارش کا پانی اپنے ساتھ ڈھیروں مٹی لے کر لڑھک کر نیچے آیا اور چترال کے دیہات وجود میں آئے۔ کہتے ہیں کہ پانی کبھی اپنا راستہ نہیں بھولتا‘ اب دوبارہ اپنے راستوں پر آیا تو اسے ہم قدرت کا قہر‘ موسمی تبدیلی‘ ہمارے گناہوں کا نتیجہ‘ حکمرانوں کی ناقص منصوبہ بندی اُور پتہ نہیں کیا کیا نام دے رہے ہیں۔ چترال میں سیلابی تباہی کو ذرائع ابلاغ نے شروع میں نظرانداز اور بعد میں بہت توجہ دی۔ ہوسکتا ہے اس کی وجہ کسی دھرنے کی غیر موجودگی‘ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی طرف سے مزید انکشافات نہ ہونا یا ماڈل ایان علی کی عدالتی پیشیوں کا ختم ہونا ہو یا پھر واقعی میں ہمارے ذرائع ابلاغ اتنے بالغ ہو چکے ہیں وہ اس حقیقت میں سانحے کو سانحہ سمجھنے لگے ہیں!

چترال کی موجودہ ضرورت کیا ہے؟ کیا اسے یونیورسٹی کی ضرورت ہے یا بحالی و امدادی سرگرمیوں کی؟ چترال میں ریسکیو سروسیز کا آغاز اور دیگر مطالبات کو کچھ وقت کے لئے مؤخر کیا جاسکتا تھا۔ اس کی جگہ ہنگامی بنیادوں پر بجلی کا بندوبست کرنے کے لئے جنریٹرز کا بندوبست کیا جاتا۔ گلگت سے ایندھن لانا ضروری تھا۔ ہیلی کاپٹرز سے ادویات پہنچانے کی مانگ ہوتی‘ بحالی اور علاقائی ترقیاتی کے کام تو بہت بعد کی بات ہے! کون نہیں جانتا کہ بالائی چترال حالیہ سیلاب سے شدید متاثر ہوا ہے۔ رابطہ سڑکیں مٹ چکی ہیں۔ اشیائے خور و نوش مارکیٹ سے ختم ہوگئی ہیں۔ ایندھن صرف سرکاری گاڑیوں کے استعمال کے لئے رہ گیا ہے۔ پہلے سے ناگفتہ بہ بجلی کے نظام کا مکمل خاتمہ ہوگیا ہے۔ موبائل فون بند‘ گاڑیوں سے سڑکیں خالی۔ ریشن کے مقام پر بجلی گھر ٹنوں مٹی تلے دب گیا ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ اس بجلی گھر سے پھر بلب جلانے کی امید نہ رکھی جائے۔ اسے صاف کرنے کی مدت میں نیا بجلی گھر تعمیر کیا جا سکتا ہے!

جہاں ہسپتال اور بازار بند ہوں۔ جہاں سرکاری ملازمین کے لئے مزید تعطیلات کا اعلان ہو چکا ہو۔ جہاں ہیلی کاپٹروں سے صرف بیماروں کو چترال پہنچایا جا رہا ہو۔ نجانے آغا خان فاؤنڈیشن کے ہیلی کاپٹرز کہاں گم ہو گئے ہیں۔ چترال کی معیشت پر سیلاب سے پیدا ہونے والے بوجھ کی شدت کو سمجھا جائے۔ مثال کے طور پر بونی سے چترال خاص جو کہ ساٹھ یا ستر کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور سیلاب سے قبل کرایہ ڈیڑھ سو سے کم تھا لیکن اب بونی سے کوراغ جو کہ دس کلومیٹر سے کم فاصلہ ہے کا کرایہ ڈیڑھ سو روپے وصول کیا جا رہا ہے۔ جو پہلے ہی لٹ چکے ہیں ان کے لئے مشکل کی اس گھڑی مفت آمدورفت کا کم از کم بندوبست تو کیا ہی جا سکتا ہے۔ زخموں پر نمک پاشی کی بجائے مرہم کا بندوبست بھی ہونا چاہئے!

Sunday, August 2, 2015

Aug2015: Count me too

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
زے ہم پختونخوا
جنگل ہو یا شہر‘ جہاں کہیں اور جب کبھی بھی مور ناچتا ہے تو اُسے دیکھنے والا کوئی نہ کوئی ضرور موجود ہوتا ہے لیکن گمان ہے کہ اپنے حسن و جمال پر نازاں رنگ برنگے پنکھوں والے پرندے ’مور‘ کی نظر اپنے بدھے پاؤں پر پڑتے ہی اُس کی دلی کیفیت یکسر خوشی سے غم میں تبدیل ہو جاتی ہے!

خیبرپختونخوا آفات کی زد میں ہے اور یہ بات اگر کوئی نہیں جانتا تو اُن کے لئے عرض ہے کہ ہر سال وارد ہونے والے سانحات کی وجہ سے متاثر ہونے والوں کی بحالی پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔ جیسا کہ زلزلے سے جو علاقے متاثر ہوئے وہاں کی معیشت و معاشرت مکمل بحال ہو۔ قبائلی علاقوں کی سرزمین کو انتہاء پسندی اور دہشت گردی کا مرکز بنانے والوں کے خلاف کاروائی کے سبب نقل مکانی کرنے والوں کی آبائی علاقوں کو واپسی یا اُنہیں باعزت قیام و طعام کی سہولیات فراہم ہوں۔ حالیہ مون سون بارشوں کے نہ تھمنے والے سلسلے اور چترال سے ہوتی ہوئی بارش کا سلسلہ خیبرپختونخوا کے جن دیگر اضلاع میں نظام حیات تہہ و بالا کر رہا ہے تو اِس اتفاقیہ یا ہنگامی حالات میں حکومتی اداروں کو اپنی نااہلی تسلیم کرنی چاہئے اور ماضی میں اگر اُن سے کوتاہیاں سرزد ہوئی بھی ہیں (جنہیں وہ تسلیم نہیں کرتے) تو کم از کم آئندہ کے لئے اپنی کارکردگی (پرفارمنس) بہتر تو بنا ہی سکتے ہیں! مور کی طرح ناچنے کی بجائے ذرا اپنے پاؤں (اُن طبقات پر نظر ڈالیں‘ جو اِس گھڑی آفت زدہ ہیں یا جن کے ہاں آفت زدگی نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں)۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اپنی نااہلیوں اُور کرۂ ارض کے ماحولیاتی تقاضوں کو سمجھنے میں ہوئی کوتاہیوں پر مبنی رویہ اور سوچ ترک کرنا ہو گی اور قدرت کو موردالزام ٹھہرانا کی بجائے اِس حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ مقامی طور پر ماحول دشمن طرز فکر و عمل ہو یا ایسے موسمیاتی تغیرات کہ جن کا سبب کرۂ ارض کا بڑھتا ہوا درجۂ حرارت‘ جملہ منفی اثرات سے آگہی کے باوجود اگر ہم اُن سے نمٹنے کے لئے تدابیر اختیار نہیں کرتے اور اپنے مالی وافرادی وسائل حسب حال ضروریات کے لئے مختص نہیں کرتے تو یہ کسی بھی صورت ’دانشمندی‘ نہیں ہوگی۔ برسرزمین حالات متقاضی ہیں کہ خیبرپختونخوا جس ہنگامی صورتحال سے گزر رہا ہے‘ اُس میں نمائشی و تفریحی ترجیحات کو کسی اُور موقع اور فرصت کے لئے اُٹھا رکھا جائے اور گردوپیش کے حقائق سے آنکھیں چرا کر ’جھوم برابر جھومنے‘ کی بجائے اُن زیردست‘ مصائب میں متبلا افراد کے بارے میں سوچیں‘ جنہیں اِس آزمائش کی گھڑی ہم میں سے ہر ایک کی مدد یا کم سے کم ’توجہ و دعا‘ کی ضرورت ہے!

انسانیت کا اِس سے بڑھ کر کوئی دوسرا المیہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم کم اَز کم اتنے حساس تو ہوں کہ اپنے ہی ہم وطنوں کے دکھ درد کو بانٹ سکیں یا کم از کم اپنے قول و فعل سے ایسا تاثر نہ دیں کہ جسے دیکھ کر مصائب و آلام میں مبتلا افراد خود کو الگ تھلگ اُور ایک دوسرے سے جدا سمجھنے لگیں! خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹوریٹ آف کلچر (فروغ سیاحت و ثقافت) کے فیصلہ سازوں نے ’زہ یم پختونخوا‘ کے نام سے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کا مقصد ملک کے شمال مغربی سرحدی صوبے کے مقامی اقدار‘ روایات‘ رہن سہن‘ بول چال سمیت جملہ طرز معاشرت کی خوبیوں اُجاگر کرنا ہیں۔ تحصیل کی سطح پر متعارف کی جانے والی اِس ’مجوزہ حکمت عملی‘ میں 43 پروگرام شامل کئے گئے ہیں جن میں موسیقی‘ اسٹیج ڈرامے اور مزاحیہ خاکوں کے علاؤہ معاشرتی و سماجی بہبود کے لئے اصلاحی پیغامات بھی عام کئے جائیں گے۔ خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں ’روائتی میلے‘ بھی بطور خاص منعقد کئے جائیں گے۔ لوک ناچ گانے پر مشتمل میلوں کا مقصد ماضی کی روایات کو زندہ کرنا اُور ملک کے ثقافتی نقشے پر خیبرپختونخوا کو نمایاں کرنا ہے تاہم کیا ایسے تفریحی پروگرام منعقد کرنے کا یہی موزوں وقت ہے؟

پشتو زبان کے لفظ ’زہ یم پختونخوا‘ کا چناؤ کرکے ثقافت و سیاحت کا فروغ کرنے والوں نے موضوع کو محدود کر دیا ہے۔ کیا خیبرپختونخوا کی دیگر زبانیں بولنے والے اِن تفریحی تقریبات کا حصہ نہیں ہوں گے؟ اِس حکمت عملی کو اگر کسی دوسرے وقت کے لئے اُٹھا رکھنے کے ساتھ اگر اِس کا نام ’زہ یم پختونخوا (میں پختونخوا ہوں)‘ کی بجائے ’زے ہم پختونخوا (میں بھی پختونخوا ہوں)‘ کر دیا جائے تو اس سے ’مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان وحدت‘ کا وہ پیغام اُبھرے گا‘ جس موجودہ حکمت عملی میں یقیناًغیردانستہ طور پر کم ترین ترجیح پر دکھائی دیتا ہے۔ لمحۂ فکریہ ’اَمن و اَمان کی صورتحال‘ بھی ہے جس میں بہتری کے آثار مستقل سمجھنے والوں کو خفیہ اِداروں کی اُن رپورٹوں تک رسائی ہونی چاہئے‘ جو مسلسل خاموشی کو کسی بڑے خطرے کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ انسانی جان کا تحفظ ہر تفریحی مقصد اور ثقافت کے اُجاگر کرنے سے زیادہ اہم ہے اور اس ضرورت کو مقدم سمجھ کر ہی فیصلہ سازی ہونی چاہئے۔ اگر ہم کسی کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے اور نہ ہی خالق کائنات کے حضور سجدۂ ریز ہو کر اپنی نافرمانیوں اور بغاوت بھرے قول و فعل سے توبہ تائب نہیں ہونے جیسی توفیقات نہیں رکھتے۔ اگر ہم بیدار تو ہیں لیکن فکری طور پر نہیں تو اِس ’مردۂ دل کیفیت‘ کی اصلاح (تبدیلی) کے بارے ہم میں سے ہرایک کو ’پہلی فرصت میں‘ اپنے اپنے ضمیر سے بات چیت ضرور کرنی چاہئے۔