Showing posts with label KPK. Show all posts
Showing posts with label KPK. Show all posts

Friday, January 21, 2022

Teacher woe(s) and right(s)

 تحریک .... آل یاسین

اساتذہ مسائل: زندہ رہنے کا حق

درس و تدریس کے عمل کو معیاری اُور یکساں نصاب کا حامل بنانے کے ساتھ فیصلہ سازوں کو اساتذہ کے ’حسب ِاطمینان‘ اقدامات و انتظامات کرنا ہوں گے تاکہ جملہ فریقین کی ذہنی آمادگی و شرکت سے ایک باسہولت نظم و نسق لاگو ہو۔ خیبرپختونخوا میں تحریک اِنصاف کی حکمرانی کا پہلا دورانیہ (دو ہزار تیرہ سے دوہزار اٹھارہ) اُور اگست دوہزار اٹھارہ سے جاری دوسرے دور حکومت میں کئی قابل ذکر (مثالی) اصلاحات ہیں اُور اِن میں بطور خاص ’ایجوکیشن سیکٹر ریفارم یونٹ (ESRU)‘ کے ذریعے تعلیم کے شعبے کی مجموعی اُور باریک بینی سے کارکردگی پر بھی نظر رکھی گئی۔ ذہن نشین رہے کہ ’ایجوکیشن سیکٹر پلان (ESP)‘ جو کہ استعداد کی بہتری سے متعلق حکمت عملی ہے وہ تعلیمی شعبے کے معیار اُور کارکردگی کے بارے میں سوچ بچار کا مجموعہ ہے‘ جس کے لئے برطانیہ‘ یورپی کمیشن‘ امریکی امدادی ادارہ (یو ایس ایڈ) اُور جرمن حکومت مجموعی طور پر 55 ہزار 338 ملین روپے فراہم کر چکی ہے لیکن یہ ساری کوششیں اُس وقت تک بارآور ثابت نہیں ہوں گی جب تک اساتذہ کی بھرتی میں اہلیت کے بعد اُنہیں اِس مقصد کے حصول کے لئے بھی قائل نہیں کر لیا جاتا کہ شعبہ¿ تعلیم صرف ملازمتوں کی فراہمی کا ذریعہ نہیں بلکہ اِس کی ایک معنویت اُور مقصدیت بھی ہے‘ جس کے اہداف حاصل کرنے میں منصوبہ سازوں سے زیادہ اساتذہ کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اساتذہ پر مبنی افرادی قوت کے جائز مسائل کا حل‘ امتیازات کا خاتمہ اُور اساتذہ کے حقوق بارے بھی کماحقہ غوروخوض اِس لئے بھی ضروری ہے تاکہ اساتذہ اطمینان قلب اُور توجہ سے اپنی تدریسی خدمات سرانجام دے سکیں۔ اساتذہ کی اکثریت کو تبادلوں اُور تعیناتیوں جیسے امور اُور اِن سے متعلق فیصلہ سازوں کے امتیازی روئیوں (جنہیں وہ فرعونیت سے تعیبر کرتے ہیں) کی شکایات رہتی ہیں اُور وہ چاہتے ہیں محکمے کے سبھی ملازمین کے لئے یکساں سلوک ہونا چاہئے۔ سیاسی اثرورسوخ‘ رشوت یا تعلقات کی بنا پر نہیں بلکہ ”میرٹ (حقیقی اہلیت)“ کے مطابق فیصلے ہونے چاہیئں۔

 محکمانہ قواعد و ضوابط پر خاطرخواہ انصاف کے ساتھ عمل درآمد دیکھنے کی ایک ایسی ہی خواہشمند معلمہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور سے ہے جہاں بطور پرائمری ٹیچر محترمہ زاوش فدا تعینات ہیں اُور چاہتی ہیں کہ اُنہیں مضافاتی دیہی علاقے کے پرائمری سکول شوراگ سے ضلع ایبٹ آباد کے شہری علاقے کے کسی تعلیمی ادارے میں تعینات کیا جائے۔

سال دوہزاراٹھارہ سےڈیسیز کوٹے (Deceased Quota)  پر بطور ”مستقل ملازمت“ پرائمری ٹیچر تدریسی خدمات سرانجام دینے والی محترمہ زاوش آبائی طور پر (خیبرپختونخوا کے) ضلع ہری پور سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اُن کی شادی ملحقہ ضلع ایبٹ آباد میں ہوئی‘ جہاں سے شوراگ گاؤں کے پرائمری سکول کا یک طرفہ فاصلہ چالیس کلومیٹر سے زیادہ ہے اُور اِس مسافت کے لئے اُنہیں ہر روز دو سے ڈھائی گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے چونکہ ضلع ہری پور کا شمار میدانی اضلاع جبکہ ضلع ایبٹ آباد کا شمار بالائی اضلاع میں ہوتا ہے اِس لئے موسم کے اثرات کی وجہ سے سکول کے آغاز و اختتام اُور تعطیلات کے دورانیئے بھی الگ الگ ہوتے ہیں اُور یوں شدید بارش حتیٰ کہ برفباری کی صورت بھی اُنہیں اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر منہ اندھیرے سکول کی راہ لینا ہوتی ہے جو شدید موسمی یا ہنگامی حالات کی صورت کبھی کبھار ممکن بھی نہیں ہو پاتا۔ تین سال چار ماہ کا صبرآزما عرصہ ،مشکل ترین حالات میں تدریسی خدمات سرانجام دینے اُور تبادلوں و تعیناتیوں پر سے پابندی اُٹھانے کی دعائیں مانگتے جیسے تیسے گزر ہی گیا اُور اب جبکہ صوبائی حکومت نے اساتذہ کے بین اضلاعی تبادلوں اُور تعیناتیوں پر سے پابندی اُٹھا دی ہے تو ضلع ہری پور کا منتظم دفتر (ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اُور اِن کا ماتحت عملہ) محترمہ زاوش فدا کی خدمات کسی دوسرے ضلع منتقل کرنے کا اجازت نامہ (NOC) جاری نہیں کر رہا جسے وہ اپنا قانونی حق قرار دیتی ہیں اُور چاہتی ہیں کہ انہیں بلاتاخیر تبادلے و تعیناتی کے لئے درکار محکمانہ اجازت نامہ جاری کیا جائے کیونکہ وہ (مبینہ طوسر پر) دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک  چکی ہے جبکہ اُنہیں متعلقہ دفتری عملے کے تضحیک آمیز رویئے سے بھی شکایت ہے۔

 یہ مسئلہ کئی ایسی معلمات کا ہے جو خاصی پریشان کن صورتحال ہے کیونکہ تبادلوں اُور تعیناتیوں پر پابندی کا اطلاق دوبارہ ہو سکتا ہے اُور اگر اِس موقع پر بھی انہیں اپنا حق نہ ملا تو مزید تین سے پانچ سال یا اِس سے بھی زیادہ عرصہ انتظار کرنا پڑ جائے گا۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اُور سوشل میڈیا پر اپنے تبادلے کے جائز قانونی حق کے لئے آواز اُٹھانے والی ’پرائمری ٹیچر‘ نے صوبائی وزیرتعلیم اُور دیگر متعلقہ فیصلہ سازوں سے درخواست کی ہے کہ اُسے دیگر ہم عصر اساتذہ کی طرح ملازمتی مقام تبدیل کرنے کی اجازت دی جائے۔

تدریسی عملے کے گوناگوں مسائل میں بالخصوص خواتین اساتذہ زیادہ متاثر دکھائی دیتی ہیں‘ جن کے لئے باسہولت اُور باعزت پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے دور دراز دیہی علاقوں میں خدمات سرانجام دینا کسی ایسے امتحان (چیلنج) سے کم نہیں جس کا اِنہیں ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ ہر روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لمحہ فکریہ اُور انتہا ہے کہ جس معاشرے میں تدریسی عملے کو انصاف نہ مل رہا ہو‘ وہاں تعلیم‘ تربیت‘ شعور نظم و ضبط اُور خواندگی میں اضافے جیسے بنیادی اہداف کا حصول بھلا کیوں کر عملاً ممکن ہو سکتا ہے؟

کیا ہم کھلی آنکھوں (جاگتے ہوئے) خواب دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں!؟

شاید موضوع اساتذہ ہی ہوں جن کی مشکلات و مسائل اُور سخت حالات کار کے بارے میں شاعر سرفراز زاہد نے کہا تھا کہ 

زندہ رہنے کا حق ملے گا اُسے
 جس میں مرنے کا حوصلہ ہوگا

....

Thursday, October 29, 2020

Realities of CRIMES in Khyber Pukhtunkhwa

خوشنما دعوے ‘تلخ حقائق

پیشرفت لائق توجہ ہے۔ خیبر پختونخوا قانون ساز اسمبلی کے اَراکین کو محکمہ پولیس کی کارکردگی سے متعلق فراہم کردہ معلومات (بریفنگ) میں منفرد نوعیت کے 2 دعوے سامنے آئے‘ جو ناقابل یقین اُور زمینی حقائق سے متصادم ہیں۔ پولیس فورس کا پہلا دعویٰ یہ ہے کہ .... ”پورے صوبے میں (موثر پولیسنگ کے ذریعے) عوام کی خدمات تک رسائی (عملاً) ممکن بنا دی گئی ہے“ اُور دوسرا دعویٰ قانون کے غیرجانبدارانہ اطلاق کا ہے کہ ....”محکمہ پولیس نے ”بروقت اِنصاف کی فراہمی یقینی بنا دی ہے۔“ تعجب خیز ہے کہ جب اِن دونوں دعووں کی گونج اسمبلی کے ’ائر ٹائٹ‘ ایوان میں بیٹھے افراد کی سماعتوں سے ٹکرائی تو کسی رکن اسمبلی نے ’نکتہ اعتراض‘ نہیں اُٹھایا جو عمومی طرز عمل ہے اُور جب بھی کسی رکن اسمبلی کو ایوان میں کی جانے والی کوئی بات خلاف معمول اُور حقائق کے منافی لگتی ہے تو وہ فوری طور پر اپنا نکتہ نظرپیش کرنے کے لئے باری یا اجازت کا انتظار بھی نہیں کرتا لیکن کوئی ایک بھی آواز نہیں اُٹھی اُور نہ ہی ’شیم شیم‘ کے نعرے لگے کہ پولیس کی جانب سے مذکورہ دونوں دعووں کا حقیقت سے تعلق نہیں اُور پولیس کا ایک سینئر اہلکار کی جرات کیسے ہوئی کہ وہ قانون ساز ایوان کے سامنے زمینی حقائق کے مخالف تصویر پیش کرے۔ کوئی ایک نکتہ اعتراض اِس حوالے سے بھی نہیں اُٹھا کہ گمراہ کن اعدادوشمار اُور دروغ گوئی پر مبنی زمینی حقائق پیش کرنے والے آخر کس دنیا کی بات کر رہے ہیں!؟ سوال تو بنتا تھا کہ پاکستان اُور بالخصوص خیبرپختونخوا کا وہ کونسا ضلع یا گاوں یا علاقہ ہے جہاں کے رہنے والوں کی اکثریت کو یقین ہو کہ بوقت ضرورت (خدانخواستہ) پولیس مظلوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی؟ مظلوم کی داد رسی کی جائے گی اُور قانون کی حکمرانی سے انصاف کی فراہمی تک کے مراحل میں حکومتی ادارے اِمتیازی سلوک کا مظاہرہ نہیں کریں گے! 

قانون کا اِطلاق یکساں ہوگا اُور قانون کی حمایت مالی حیثیت یا سیاسی اثرورسوخ کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں کیا جائے گا۔ پولیس کا یہ کہنا کہ پینتیس ہزار سے زیادہ عوامی شکایات اُور نو لاکھ بائیس ہزار سے زیادہ درخواستوں پر عوام کو ریلیف پہنچایا گیا اپنی جگہ ’حیرت انگیز‘ ہے کہ اگر پولیس کی کارکردگی واقعی بہتر ہوتی تو قریب دس لاکھ شکایات کا انبار نہ لگتا اُور جس انداز میں قریب دس لاکھ شکایات نمٹائی گئیں ہیں اُور حقیقت میں ایسا ہی کیا گیا ہے تو پھر خیبرپختونخوا پولیس کا نام تو ’گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ‘ میں درج ہونا چاہئے۔ شاید ہی دنیا کی کسی بھی دوسری پولیس فورس نے اِس قدربڑی تعداد میں عوامی شکایات نمٹائی ہوں اُور وہ بھی اِس صفائی کے ساتھ کہ کوئی ایک بھی پولیس اہلکار نشان عبرت نہیں بنا اُور نہ ہی نظام میں دس نہیں تو پانچ لاکھ اصلاحات ہوئی ہیں۔ 

کیا آج کا تھانہ کلچر تبدیل ہے؟ 

کیا عام آدمی کے نکتہ نظر سے پولیس فورس‘ بوقت ضرورت‘ اُس کے کام آئے گی؟

خیبرپختونخوا پولیس نے دس ہزار سات سو سے زیادہ منشیات فروش پکڑے ہیں تو پھر جگہ جگہ منشیات کے اڈوں کو سپلائی کہاں سے ہو رہی ہے اُور لگتا یوں کہ ایک منشیات فروش کو پکڑتے ہی دوسرا اُس کی جگہ لے رہا ہے۔ درحقیقت خیبرپختونخوا میں منشیات فروشی کی صورتحال اِس حد تک خطرناک اُور بگڑی ہوئی ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور شہر کی مرکزی شاہراہ جی ٹی روڈ پر ’گل بہار پولیس اسٹیشن‘ کے سامنے اُوور ہیڈ پل کے نیچے منشیات فروشوں اُور منشیات استعمال کرنے والوں کے جھنڈ دکھائی دیتے ہیں۔ زیادہ دور جانے کی بات نہیں لیکن اگر گل بہار پولیس اسٹیشن کے اہلکار کھڑی کھول کر ہی نظارہ کریں تو چند گھنٹے نگرانی کریں تو اُنہیں منشیات فروش اُور استعمال کرنے والوں کا علم ہو جائے گا لیکن یہ سب کچھ پولیس کی نہیں بلکہ عوام اُور عوام کے منتخب نمائندوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے پر مبنی طرزعمل ہے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ 200دہشت گرد گرفتار کئے گئے اُور یہ عدد پیش کرتے ہوئے اِس کے ساتھ مشتبہ یا مبینہ کا صیغہ بھی نہیں لگایا گیا تو سمجھا یہی جائے کہ خیبرپختونخوا پولیس اہلکاروں نے جان پر کھیلتے ہوئے دو سو مطلوب دہشت گرد گرفتار کئے ہیں ایسا کس طرح عملاً ممکن ہو سکتا ہے لیکن یہ سوال بھی اراکین اسمبلی کی جانب سے نہیں اُٹھایا گیا! کیا اسمبلی اراکین پر اِس بات کا خوف طاری تھا کہ اگر وہ پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے یا سوالات (اعتراضات) اُٹھاتے تو جواب میں (مبادا) اُن سے اسمبلی کی کارکردگی پوچھ لی جاتی! 

پولیس اصلاحات کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس (داخلی احتساب ’انٹرنل اکاﺅنٹبلیٹی‘) سلمان چوہدری کی جانب سے خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی کے میدان (فلور) پر اراکین کو محکمہ پولیس میں متعارف شدہ اصلاحات‘ دہشت گردی اور دیگر جرائم کے خلاف اقدامات‘ درپیش چیلنجوں اُور اِن سے نمٹنے کی حکمت عملی نیز مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق جو معلومات (تفصیلات) فراہم کی گئیں اُن میں ایک مرحلے پر تمہیداً پولیس اصلاحات کے مقاصد بھی بیان کئے گئے جن میں شامل تھا کہ خدمت کے معیار پر پورا اُترنے کے لئے پولیس کو خودمختار اور جوابدہ بنایا گیا ہے حالانکہ نہ تو مکمل خودمختاری حاصل ہوئی ہے اُور نہ ہی پولیس جوابدہ ہے۔ تحریک انصاف حکومت میں اگر کوئی ایک تبدیلی بطور مثال و اصلاح پیش کی جا سکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ پولیس فورس میں اہلیت (میرٹ) پر بھرتیاں ہوتی ہیں اُور اِس مقصد کے لئے ’ٹیسٹنگ اِیجنسی‘ کی خدمات سے استفادہ ہو رہا ہے تاہم بھرتی کے بعد پوسٹنگز اُور اہم عہدوں پر تعیناتیاں خاطرخواہ شفاف نہیں اُور بظاہر دکھائی نہ دینے والی سیاسی مداخلت کہیں نہ کہیں کارفرما ہے! 

پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ’اراکین صوبائی اسمبلی‘ نے مذکورہ بریفنگ میں ”گہری دلچسپی“ لی (مطلب غور سے سنا) اور محکمہ پولیس میں اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت کئے گئے اقدامات کو ”زبردست الفاظ“ میں خراج تحسین پیش کیا (مطلب مزید کسی اصلاح کی ضرورت نہیں) اور محکمہ پولیس کو اپنی ہر ممکن تعاون کا یقین بھی دلایا (مطلب پولیس کا کام کاج جہاں اُور جیسا ہے جاری رہنا چاہئے۔) اراکین اسمبلی کی جانب سے ’کلین چٹ‘ ملنے سے یقینا پولیس کے صوبائی فیصلہ سازوں کے حوصلے بلند ہوئے ہوں گے لیکن بنیادی نکتہ تو عوام ہیں‘ جن کے اطمینان اُور اعتماد کی بحالی کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے۔ خیبرپختونخوا کے طول وعرض اُور بالخصوص پشاور ’غیرقانونی اسلحے‘ کا مرکز ہے۔ 

ستائیس اَکتوبر کو دیرکالونی میں ہوئے دہشت گرد حملے کے اگلے روز (اٹھائیس اَکتوبر) ملحقہ علاقوں میں چند گھروں کی تلاشی لی گئی جس دوران غیرقانونی اِسلحہ برآمد ہوا اُور اگر گھر گھر تلاشی کا دائرہ وسیع کیا جائے تو پشاور کو اسلحے کے پاک بنایا جا سکتا ہے‘ جس کا مطالبہ ’ہوائی فائرنگ‘ کا انسداد کرنے والے ایک عرصے سے کر رہے ہیں لیکن ہوائی فائرنگ کے واقعات (سانحات) سے ناقابل تلافی جانی نقصانات مسلسل ہو رہے ہیں‘ جس کی حوصلہ شکنی کرنے کی مہمات اگر ناکام (ناکافی) ثابت ہو رہی ہیں تو وقت ہے کہ خیبرپختونخوا اُور پشاور کو غیرقانونی اسلحے سے پاک کرنے کی مہم چلائی جائے۔

....


Saturday, June 13, 2020

Covid19 and Public Transport

سچائی کا سفر
پبلک ٹرانسپورٹ مستقل مسئلہ (دردِ سر) ہے اُور اِس درد کا مستقل بنیادوں پر حل (علاج) ہونا چاہئے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ’حسب توقع‘ نہ تو کرایوں میں عملاً کمی ہوئی اُور نہ ہی بسوں میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنے جیسے عمومی طرزعمل (قانون شکنی) سے رجوع کیا گیا جو کورونا وبا کے ممکنہ پھیلاو ¿ کم کرنے کے لئے (حتی الوسع) ’سماجی فاصلے (social distancing)‘ سے متعلق حکومتی قواعد و ضوابط (SOPs) کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی لیکن رواں ہفتے پبلک ٹرانسپورٹ مالکان کی جانب سے 2 اعلانات سامنے آئے کہ ایک تو بین الاضلاعی راستوں (روٹس) پر مقررہ کرائے کی شرح میں مزید کمی کر دی گئی ہے اُور دوسرا ’ایس اُو پیز‘ پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں باتیں ذرائع ابلاغ نے فوری خبر (Breaking News) اُور شہ سرخیوں (Headlines) کے ساتھ بالکل اُسی اہتمام کے ساتھ شائع کیں‘ جس طرح پیٹرولیم مصنوعات اُور آٹے کی قیمتیں کم ہونے کے بارے میں عوام کو روزانہ ’خوش خبریاں‘ دی جاتی ہیں لیکن اِن خبروں کا زمینی حقائق سے تعلق نہیں ہوتا اُور نہ ہی خبر دینے سے پہلے اُس کے مندرجات کے بارے خاطرخواہ تحقیق کے عمل کو خاطرخواہ اہمیت دی جا رہی ہے جو صحافت کا پہلا اُور بنیادی اصول ہے۔ اِس سلسلے میں اُردو اُور انگریزی صحافت دو الگ الگ سمتوں اُور دو الگ الگ بلندیوں پر بھی اِس لئے دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ دونوں کے ہاں حقائق کی تصدیق و جانچ کے لئے محنت کا معیار ایک جیسا نہیں۔

بنیادی طور پر کسی بھی آمدہ اطلاع کو خبر اُور بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اُور ذمہ داری کی ساتھ اَدا (شائع) کرنے سے قبل‘ اُس کی آزاد ذرائع یا اپنے طور پر تصدیق ہونی چاہئے۔ اِس بات کو عملاً اُور باآسانی ممکن بنایا جا سکتا ہے کہ 1: کوئی بھی خبر تصدیقی مراحل سے گزرے بغیر شائع یا نشر نہ ہو۔ 2: خبر ضروری ہوتی ہے اُس کو پیش کرنے کا انداز ضمنی اہمیت رکھتا ہے۔ بالخصوص صفحے کی خوبصورتی کے لئے خبروں کو دو‘ تین یا چار کالموں میں مزین و سجاوٹ کے لئے منتخب اُور نمایاں کرنے کا بھی کوئی نہ کوئی تو اصول بھی ہونا چاہئے کیونکہ صرف خبر کا ہونا ہی اہم اُور کافی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اِس میں سچ جھوٹ یا جھوٹ سچ کی آمیزش کا تناسب جاننے کا بھی پیمانہ ہونا چاہئے کیونکہ خبر کے ساتھ صحافتی اِدارے کی ساکھ اُور کاروباری مستقبل بھی جڑا ہوتا ہے۔

’سچائی‘ کا وہ سفر جو اِنفردی حیثیت سے جتماعی قالب میں ڈھل کر اپنی انتہائی (ترقی یافتہ) شکل (وجاہت) میں ”صحافت“ کہلاتا ہے اُور یہ لفظ اصطلاحاً صحیفے سے بھی ماخوذ ہے یعنی ایک ایسی دستاویز (صحیفہ) جو خالق کائنات کے مقدس کلام کی ترسیل سے منسوب ہے تو اِس بات میں کوئی حرج نہیں کہ اگر کسی خبر کی فوری تصدیق ممکن نہ ہو تو اُسے (تا دم تصدیق) روک کر شائع کر لیا جائے۔ درحقیقت صحافت کسی بھی شکل میں ہو لیکن اگر یہ ذمہ داری اُور اِحساس ذمہ داری کے ساتھ اَدا نہیں ہوتی تو پھر یہ ایک ایسا معمول بن جائے گی جس سے معاشرے میں نہ تو خیر اُور بہتری کی صورتیں برآمد ہوں گی اُور نہ ہی حکومتی سطح پر فیصلہ ساز اپنی ترجیحات کے تعین میں درست رہنمائی حاصل کر پائیں گے بلکہ عوام اُور حکمران دونوں ہی گمراہ ہوں گے کیونکہ اگر کسی نے اُن کی آنکھوں کی دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے تو اُس کوشش (جھوٹ) کو کامیاب بنانے میں ذرائع ابلاغ بھی شریک ہو گئے ہیں اُور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے‘ جس سے صحافتی ذمہ داریاں ترتیب و تشکیل پاتی ہیں۔

عام آدمی (ہم عوام) کے نکتہ نظر سے عندیہ (خوش خبری) اگر صرف سماعتوں اُور بصارتوں ہی کی آسودگی کے لئے شائع کی جاتی ہے‘ تب تو ٹھیک (قابل فہم) ہے لیکن اگر ذرائع ابلاغ ”اَزرائے طنز و مذاق“ قیمتوں اُور نرخناموں میں کمی سے متعلق ایسی خبریں شائع کرتے ہیں کہ جن میں عوام کے لئے کسی ریلیف کا ذکر ہوتا ہے اُور برسرزمین حقیقت یا حقائق یکسر مختلف (برعکس) ہوتے ہیں تو یہ طرزِعمل اَمانت و دیانت کے اَصولوں کے منافی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ ایسی خبریں (بالخصوص پرنٹ میڈیا جب شہ سرخیوں کے ساتھ) شائع کرتے ہیں تو اِس سے عوام کی نظروں میں بطور اِدارہ اِن کی اہمیت‘ فرض شناسی‘ ذمہ داری‘ صحافتی اَخلاقیات و اَقدار اُور سماجی کردار قابل اِعتبار و بھروسہ نہیں رہتا یقینا کوئی بھی شخص (قاری‘ ناظر و سامع) نہیں چاہے گا کہ جن حقائق سے اُسے عملی زندگی میں ہر روز واسطہ پڑ رہا ہے اُن سے متعلق خبرنگاری مصدقہ نہیں۔ اِس پورے تناظر کا تیسرا پہلو اُور ضرورت یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کی توجہ (جملہ وسائل‘ رائے اُور جھکاو ¿) عوام کی طرفداری جانب مائل ہونی چاہئے۔ وہ کاروباری گروہ اُور طبقات جو اَجناس کی فروخت یا خدمات کی فراہمی جیسے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں اگر اُنہیں یقین ہو کہ حکومت اُور ذرائع ابلاغ عوام کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں تو یوں کھلم کھلا لاقانونیت دیکھنے میں نہ آئے کہ اجناس میں ملاوٹ سے لیکر کم وزن‘ گرانفروشی اُور ذخیرہ اندوزی قانونی و اخلاقی و سماجی طور پر جرائم ہی تصور نہ ہوں۔

عوامی مفاد کیا ہوتا ہے؟
اِس کی حفاظت کس کی ذمہ داری اُور کیسے کی جائے؟
اِن تینوں امور سے متعلق سوچ بچار اُور لائحہ عمل ’طرزحکمرانی‘ کہلاتا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کرائے ناموں کی شرح میں کمی تو بہت دور کی بات لیکن اگر ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کے کرایوں پر صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی مقررہ کردہ شرح کے مطابق عمل درآمد اُور کورونا وبا سے متعلق حکومتی ہدایات کا احترام ضروری سمجھا جا رہا ہوتا تو صرف پشاور میں گزشتہ چند دنوں کے دوران ’1200ٹرانسپورٹرز‘ کو جرمانے اُور 4 بس اڈے سربمہر نہ کئے گئے ہوتے! لائق توجہ یہ بھی ہے کہ اگر نجی شعبے کی اجارہ داری سے چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے امور صوبائی دارالحکومت ہی میں تسلی بخش نہیں تو صوبائی حکمرانوں اُور متعلقہ فیصلہ سازوں نے کس بنیاد (جواز) پر یقین کر لیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے دور دراز اضلاع اُور علاقوں پبلک ٹرانسپورٹرز مسافروں (صارفین) کو لوٹ نہیں رہی اُور سب سے بڑھ کر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے کورونا وبا کے پھیلانے کا باعث بن رہی ہے۔ ’صوبائی ٹرانسپورٹ اٹھارٹی‘ اُور ’پبلک ٹرانسپورٹ اُونرز ایسوسی ایشن‘ گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے کے لئے ضلعی انتظامیہ (کمشنری نظام) کام آ رہا ہے‘ جنہیں جرمانہ اُور سزائیں دیتے ہوئے صرف خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مرکزی اُور ضلعی دفاتر میں تنخواہیں اُور مراعات باقاعدگی سے وصول کرنے والوں کے خلاف بھی کاروائی کرنی چاہئے جو مسافروں کی جان و مال کے تحفظ‘ سہولیات کی فراہمی اُور مقررہ شرح سے زائد کرایوں کی وصولی سے متعلق قوانین اُور قواعد شکنی میں برابر (یکساں) شریک جرم (ملوث) ہیں۔
مرا نصیب ہوئیں تلخیاں زمانے کی
کسی نے خوب سزا دی ہے مسکرانے کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی (اَزہر درانی)
....
Clipping from Editorial Page of Daily Aaj - June 13, 2020 Saturday
Editorial Page of  Daily Aaj - June 13, 2020 Saturday


Thursday, April 6, 2017

Apr2017: Jail reforms in KP

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
جیل خانہ جات: اصلاحات
خیبرپختونخوا حکومت نے ’جیل خانہ جات اِصلاحات‘ پر نہ صرف عمل درآمد یقینی بنایا ہے‘ بلکہ جیل خانہ جات میں سہولیات کی فراہمی کا معیار بھی بلند کیا ہے اور کئی ایسے ترقیاتی کامجن کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ تبدیلی قدرے تاخیر سے ہی لیکن اِس کے ثمرات بہرحال ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

سنٹرل جیل پشاور میں نویں اور دسویں جماعتوں کے لئے بورڈ کی زیرنگرانی امتحانی مرکز میں ممتحن اور مبصر داد دیئے بغیر نہ رہ سکے کیونکہ سنٹرل جیل پشاور کا ماحول اس سال تبدیل دکھائی دیا۔ سبزہ زار‘ رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں اور شجرکاری نے منظر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے یقیناًقیدیوں کے لئے صحت افزأ ماحول‘ سہولیات اُور انسان دوست روئیوں کے نہایت ہی مثبت اثرات ظاہر ہوں گے۔

سنٹرل جیل پشاور میں کھانے پینے کا بہتر انتظام اور قیدیوں کی مشاورت سے ’مینو (اشیائے خوردونوش کی فہرست)‘ بھی ترتیب دی گئی ہے جو اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ماضی کی طرح قیدیوں کے لئے جاری ہونے والے فنڈز فیصلہ سازوں کے جیبوں میں منتقل نہیں ہو رہے اور قیدیوں کو غیرمعیاری کھانا نہیں دیا جارہا! جیل اِنتظامیہ کو یقین ہے کہ ’’صحت مند رہن سہن اُور ماحول کی فراہمی سے مجرموں میں منفی روئیوں کی اِصلاح ہو گی اُور اپنی اپنی سزا کاٹنے کے بعد معاشرے میں ایک ذمہ دار کردار و مثبت سوچ کو آگے بڑھائیں گے تاہم مجرموں کی ذہن سازی (تربیت) اُور کچھ ایسی رعایت دینا بھی ضروری ہے جس سے قیدخانوں پر افرادی بوجھ کم ہو سکے۔ اِمتحانات دینے والے قیدیوں سے ہوئی بات چیت میں بھی مطالبہ سامنے آیا کہ وزیراعلیٰ علم حاصل کرنے والے قیدیوں کے لئے رعائت کا اعلان کریں کیونکہ جو قیدی یہ چاہتے ہیں کہ قید سے رہائی کے بعد عملی زندگی میں ایک کامیاب اور مختلف انسان ثابت ہوں تو حکومت کو اُن کے جذبات کی قدر اور اُن کے لئے آسانیوں کی فراہمی یقینی بنانی چاہئے۔ اچھے اخلاق و کردار اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے والے قیدیوں کی اگر سزاؤں میں تخفیف دی جائے تو اِس میں کوئی مضائقہ نہیں اور جیل خانہ جات کو ’اصلاحی گھروں‘ میں تبدیل کر دیا جائے تو بھی معاشرے کی اُسی طور خدمت ہوگی جیسا کہ دوسروں کے لئے خطرہ بننے کو الگ تھلگ رکھ کر کیا جاتا ہے۔

کیا سنٹرل جیل پشاور کا ہر قیدی اپنے ہی جرم کی سزا کاٹ رہا ہے؟
کیا قیدیوں کو دی جانے والی سزا میں وہ اذیت بھی شامل ہونی چاہئے جو ماضی میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے وہ بے زبان جانوروں کی طرح سہتے رہے؟
کیا جیل خانہ جات کا ماحول اس قدر بہتر نہیں ہونا چاہئے کہ جرائم کا ارتکاب کرنے والے ایک تبدیل شخصیت اور شناخت کے ساتھ رہائی پائیں تو معاشرہ اُن کی مثالیں دے؟

اُمید کی جاسکتی ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بھی فرصت کے کسی لمحے اچانک سنٹرل جیل پشاور یا صوبے کے دیگر اضلاع میں جیل خانہ جات کا دورہ کریں گے جہاں اُنہیں موقع ملے گا کہ قیدیوں سے براہ راست ملاقات میں اُن کی جرائم پر اُس ’’ندامت و پشیمانی‘‘ کا بذات خود نوٹس لیں جنہیں یہاں الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

سنٹرل جیل پشاور میں قیدیوں کی ایک بڑی تعداد تندرست و توانا افراد پر مشتمل ہے جنہیں اگر کسی صنعت یا دور افتادہ علاقے میں کیمپ لگا کر ترقیاتی کاموں میں شریک کر لیا جائے تو اِس سے نہ صرف اُن کے مشکل اوقات کٹنے میں آسانی رہے گی بلکہ وہ کم معاوضے کے عوض ترقیاتی عمل کا حصہ بھی بن جائیں گے اور ہنرمند بھی ہو جائیں گے۔ اِس سلسلے میں ’’چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ‘‘ ایک اچھی عملی (لائق مطالعہ) مثال کا درجہ رکھتا ہے جس میں ہمسایہ ملک چین سے لائے گئے قیدیوں کا ایک کیمپ خیبرپختونخوا میں بھی قائم کیا گیا ہے اور تعمیراتی کاموں میں قیدیوں کی خدمات (معاونت) سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ اگر قیدیوں کو چین سے لاکر پاکستان میں ترقی کے عمل میں شریک کیا جا سکتا ہے تو یہی کام ہم اپنے قیدیوں سے کیوں نہیں لے سکتے جبکہ اسلام بھی ایسے افراد کی خدمات سے مشروط استفادے کی اجازت دیتا ہے اگر مشقت لیتے ہوئے مزدوروں کے انسانی حقوق (لیبر قوانین) کا خیال اور انسانیت کا احترام و تعظیم ملحوظ رکھی جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت صرف جیل خانہ جات میں سہولیات ہی فراہم نہیں کر رہی بلکہ ایک جامع اصلاحی تربیتی حکمت عملی بھی تشکیل دی گئی ہے جس کے لئے پچیس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں اور حکمت عملی کے تحت خیبرپختونخوا کے 9 بڑے (مرکزی) جیل خانہ جات بشمول ہری پور‘ پشاور‘ کوہاٹ‘ بنوں‘ نوشہرہ میں خواتین اور کم عمر (نابالغ) قیدیوں کو مختلف پیشوں کی فنی و تکنیکی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ قیدخانوں کے بعد اپنی عملی زندگی میں کامیاب و کامران ثابت ہو سکیں۔ قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا کے محکمۂ داخلہ نے ایک سروے مکمل کر لیا ہے جس میں ایسے قیدیوں کے معمولی نوعیت کے جرمانے معاف کرنے اور انہیں رہائی دینے کا سلسلہ جاری ہے جو اپنی قید کی مدت تو پوری کر چکے ہیں لیکن جرمانہ نہ ہونے کی وجہ سے جن کی رہائی ممکن نہیں ہو پا رہی‘ اُن کی آنکھیں مسیحاؤں کی منتظر ہیں۔ اِس سلسلے میں انسانی حقوق کمیشن‘ عدالت اور صوبائی حکومت سے بھی رابطہ کیا گیا ہے کہ معمولی جرائم کے جرمانے ادا نہ کرنے کی وجہ سے زیرحراست مجرموں کو کس طرح معاف کرتے ہوئے رہائی دلائی جائے۔ یاد رہے کہ جرمانہ ادا کرنے کی مالی سکت نہ رکھنے والے سنٹرل جیل بنوں میں ایسے قیدیوں کی تعداد 6‘ سنٹرل جیل پشاور میں 13‘ سنٹرل جیل ہری پور میں 6‘ سنٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان میں 2‘ سنٹرل جیل تیمرگرہ میں 2‘ سنٹرل جیل کوہاٹ میں 2 جبکہ سنٹڑل جیل چترال میں ستائیس سالہ ابراہیم ولد صلاح الدین نامی قیدی ایسا بھی ہے جسے محض جرمانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے رہائی نہیں مل پا رہی۔

اگر اِس سلسلے میں محکمۂ داخلہ یا صوبائی حکومت یا جیل خانہ جات کی جانب سے اپیل کی جائے تو کئی ایسے مخیرحضرات بھی ہوں گے جو یہ جرمانہ اپنی جیب سے ادا کر کے قیدیوں کی رہائی ممکن بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں گے لیکن اِس معاملے پر مختلف آئینی پہلوؤں سے غور کے بعد ایک واضح حکومتی پالیسی سامنے آنی چاہئے جس میں دیگر قیدیوں کی رہائی اور جیل خانہ جات پر آبادی کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ لب لباب یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے جیل خانہ جات میں اصلاحات کا ’’عملاً نفاذ‘‘ ایک ایسی ضرورت تھی جس کا ایک عرصے سے تقاضا اُور اُمید کی جارہی تھی اور اِن اصلاحات نے سیّد قمر عباس مرحوم کی یاد بھی دلائی ہے‘ جنہوں نے بطور وزیر جیل اصلاحات کی تھیں اور اُس وقت یہ معمولی اضافہ کہ قیدیوں کے لئے صابن کی ایک چھوٹی ٹکیہ دی جایا کرے گی‘ غیرمعمولی بات تھی۔

آج ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے خیبرپختونخوا حکومت کو اعزاز حاصل ہوا ہے کہ قیدیوں سے انسانی بنیادوں پر بہتر سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور یہ قطعی طور پر ایسی معمولی بات نہیں کہ اِس پر تحریک انصاف کی صوبائی اور مرکزی قیادت فخر نہ کرے۔
Prisons in Khyber Pukhtunkhwa reformed

Monday, June 13, 2016

Jun2016: Expectations of Pesnioners & Worker Welfare Board

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سانس سانس جدوجہد!
پاکستان کے وزیر خزانہ ’قومی بجٹ‘ پیش کرنے کے بعد برطانیہ تشریف لے گئے ہیں اُن کے دورے کا مقصد ’سرکاری زبان میں‘ روبہ صحت ہوتے اپنے رشتہ دار وزیراعظم کی عیادت‘ تیمارداروں کا حوصلہ بڑھانا اُور وزیر اعظم کو پیش کردہ ’قومی بجٹ برائے مالی سال 2016-17ء‘ سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرنا بتایا گیا ہے حالانکہ بجٹ پیش ہونے سے قبل وزیراعظم بذریعہ ’ویڈیو لنک‘ کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بجٹ کی منظوری دے چکے ہیں اور قومی اسمبلی میں پیش کی گئی بجٹ دستاویز کی نقل (ہارڈ کاپی) بھی انہیں پیشگی ہی برطانیہ میں فراہم کردی گئی تھی۔ اصولی طورپر حکومت کے جملہ وزرأ بشمول وزیر خزانہ کو ’قومی اسمبلی‘ میں جاری بجٹ پر بحث کے موقع پر موجود ہونا چاہئے تاکہ حزب اختلاف کی جانب سے آنے والی بجٹ تجاویز پر سنجیدگی سے غور ہو سکے لیکن صورتحال یہ ہے کہ نہ تو اپوزیشن کے تمام اراکین قومی اسمبلی میں جاری بجٹ بحث کا حصّہ بن رہے ہیں اور نہ ہی حکومت کی حمایت کرنے والوں کو فرصت ہے کہ وہ ماہ رمضان کی مبارک ساعتیں ایک ایسے اہم قومی معاملے پر سوچ بچار کرنے پر خرچ کریں جس کام کے لئے اُنہیں منتخب کیا جاتا ہے اور پھر سیاست جیسے قومی مفاد والے کام کی وہ باقاعدگی سے ماہانہ تنخواہ و مراعات وصول کرتے ہیں جس میں ’نیلے رنگ والا (بلیو) سرکاری پاسپورٹ‘ بھی شامل ہے‘ جس کا استعمال کرتے ہوئے وہ جب چاہیں دنیا بھر میں بناء ویزے سفر کرسکتے ہیں۔ ائرپورٹس پر بنے ہوئے ’وی وی آئی پیز لاونجز‘ کے ذریعے لائے گئے سامان کی بناء جانچ پڑتال آمدورفت کر سکتے ہیں۔ اُن کی خدمت کے لئے ’پروٹوکول کا عملہ‘ ہر وقت حاضر رہتا ہے تاکہ کسی بھی صورت ’کانچ سے نازک‘ استحقاق مجروع نہ ہونے پائے۔ ایک طرف مراعات یافتہ طبقات ہیں جن کے سرکاری وسائل پر اختیارات کا شمار ممکن نہیں اور دوسری جانب ’عام آدمی (ہم عوام)‘ کہ جن کے مسائل ہر گزرتے ’بجٹ‘ کے ساتھ بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ تصور کیجئے کہ یہ منظرنامہ اُس پاکستان کا ہے جس میں طرزحکمرانی شاہانہ ہے جبکہ 60فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے جبکہ دیگر 20 سے 25فیصد محنت کش متوسط (سفید پوش) طبقے سے تعلق رکھتی ہے‘ جن کی معیشت و معاشرت اپنی بقاء کے لئے سانس سانس جدوجہد کر رہی ہے!

وفاقی حکومت سے خیر کی توقع رکھنے والے طبقات سراپا احتجاج ہیں اور چاہتے ہیں کہ بجٹ پر نظرثانی کے مراحل میں عام آدمی (ہم عوام) کی زندگی آسان بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ کم آمدنی والے طبقات سے بالواسطہ اور بلاواسطہ وصول کئے جانے والے ٹیکس کی شرح کم کی جائے اُور شاہانہ زندگی بسر کرنے والوں سے نسبتاً زیادہ ٹیکس وصول کئے جائیں۔ اِس سلسلے میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین (پینشنرز) کی جانب سے 4 بنیادی مطالبات سامنے آئے ہیں۔ 1: پینشن میں 10فیصد ناکافی ہے‘ جسے میں کم از کم دگنا کیا جائے۔ 2: صحت کی مد میں پینشن حاصل کرنے والوں کو علاج معالجے پر بھاری اخراجات ادا کرنا پڑتے ہیں جنہیں مہنگائی کے تناسب سے اضافی میڈیکل الاؤنس اور نجی علاج گاہوں سے علاج معالجے کی سہولت دی جائے۔ 3: پینشنرز کو بجلی و گیس و دیگر یوٹیلٹی بلز میں ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ 4: حکومت کی جانب سے 80سال کے پینشنروں کے لئے مراعات میں اضافہ کیا گیا ہے جس کی مدت کم کرکے 70سال اور پینشن و میڈیکل کی شرح میں 25فیصد اضافہ کیا جائے۔

وفاقی بجٹ سے وابستہ ’ورکرز ویلفیئر بورڈ‘ کے صنعتی محنت کشوں کی توقعات بھی پوری نہیں ہوئیں اُور اب اُن کی نظریں خیبرپختونخوا حکومت پر مرکوز ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ سال دوہزار میں صوبائی حکومت کی زیرنگرانی ’ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن‘ کے تحت چالیس تعلیمی ادارے قائم کئے گئے جن سے 33 ہزار طلباء و طالبات اور چار ہزار سے زائد تدریسی و معاون عملہ کا مستقبل وابستہ ہے لیکن ’ورکرز ویلفئیر بورڈ‘ کی مالی امداد وفاق اور صوبے کے درمیان تنازعے کی وجہ سے بند ہے‘ جس کی وجہ سے وابستہ ملازمین کو گذشتہ چار ماہ سے تنخواہیں نہیں مل پا رہیں! ورکرز ویلفئیر بورڈ خیبر پختونخوا کے ملازمین کی سالانہ تنخواہوں کے لئے 1 ارب 70 کروڑ روپے درکار ہوتے ہیں جس میں وفاقی حکومت نے 70 کروڑ روپے کم کر دیئے ہیں جس سے پیدا ہونے والی صورتحال یہ ہے کہ 1 ارب روپے آٹھ ماہ میں ختم (استعمال) ہو جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ گذشتہ تین برس سے حل طلب ہے۔ رواں برس بھی ماہ فروری سے مئی کی تنخواہیں نہ ملنے کے سبب ’ورکرز ویلفیئر بورڈ‘ کے ملازمین پر جو معاشی قیامت گزر رہی ہے‘ اُس دکھ اُور اَذیت کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اُور وزیر اعلیٰ پرویز خان خٹک نے بنی گالہ میں ورکرز ویلفیئر بورڈ ملازمین کا احتجاج ختم کراتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ ماہانہ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی اور ’’نیا ورکرز ویلفئیر بورڈ‘‘ بنانے کے لئے ٹھوس عملی اقدامات کئے جائیں گے اُور اِن وعدوں کو آئندہ چند روز میں پیش ہونے والے صوبائی بجٹ میں باآسانی پورا کیا جاسکتا ہے۔
Issues of Pensioners & Worker Welfare Board having expectations from Provincial Budget

Friday, June 3, 2016

Jun2016: The real Hero! (Shan Abbasi)

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
حقیقی قومی ہیرو!
ضلع ایبٹ آباد کے بالائی علاقوں میں آٹھ یونین کونسلوں (بکوٹ‘ بیروٹ‘ بوئی‘ پٹن کلاں‘ دلولہ‘ ککمنگ‘ نمبل اُور پلک) پر مشتمل ’سرکل بکوٹ‘ کی جنت نظیر وادیوں کا اصل حسن وہاں پایا جانے والا سماجی خدمت کا جذبہ ہے‘ جسے سیاسی بنیادوں پر امتیازات اور نسلی و لسانی بنیادوں پر تعصبات سے پاک (موافق) ماحول میسر آیا تو پھلنے پھولنے کا ایسا موقع ملا کہ سماجی ترقی اور معاشرے کے ذمہ دار روئیوں کے شگوفے کھل اُٹھے۔ یونین کونسل بیروٹ کی ویلیج کونسل کہو غربی‘ لہور کس گاؤں کے رہنے والے پچاس سالہ ’محمد شان عباسی‘ سعودی عرب محنت مشقت کے لئے گئے اور برسہا برس کی انتھک محنت سے جمع پونجی کا استعمال اپنا ذاتی مکان یا کاروبار بڑھانے کے لئے نہیں کیا بلکہ تمام کی تمام رقم یعنی 20 لاکھ روپے گاؤں کی سڑک تعمیر کرنے پر خرچ کر دی! اپنی مدد آپ کے تحت کسی فرد واحد کے ہاں پائے جانے والی اجتماعی فلاح و بہبود کی یہ منفرد سوچ کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی! یاد رہے کہ یہ وہی سرکل بکوٹ ہے جہاں غربت و پسماندگی اِس انتہاء کی ہے کہ سیاحتی امکانات اورپن بجلی کے چھوٹے منصوبوں کے لئے موزوں علاقے کے لوگوں کو محنت مزدوری کے لئے ملک کے دیگر حصوں یا بیرون ملک نقل مکانی کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں!

 صدقۂ جاریہ پر اعتقاد ہونا اُور صدقۂ جاریہ کے لئے اپنی پوری جمع پونچی خرچ کرنا یقین و عمل کا حسین امتزاج ہے جس کے لئے شان عباسی کی مثال پورے پاکستان کے سامنے پیش ہونی چاہئے کہ کس طرح ایک شخص نے حکومت کی جانب سے ترقیاتی عمل کے منتظر اہل علاقہ کی مشکلیں آسان کر دیں۔ اگرچہ ’این اے سترہ‘ سے منتخب ہونے والے رُکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد اَظہر جدون نے مذکورہ شاہراہ کی تعمیر کے لئے دس لاکھ روپے پہلے ہی مختص کر رکھے ہیں‘ جن کی وفاقی حکومت سے منظوری کے مراحل میں غیرضروری تاخیر کی وجہ وہ ’سیاسی عناد‘ ہے جس کی بناء پر حزب اختلاف اور بالخصوص تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی سے امتیاز برتا جاتا ہے۔

کاش ہم حسن انتخاب سے کام لیتے ہوئے جمہوری طرز حکمرانی کے اسلوب کا ادراک کر سکتے! شان کی شان یہ بھی ہے کہ اگر وہ چاہتے تو کم و بیش ڈیڑھ کلومیٹر شاہراہ عام کو اپنے نام سے منسوب کر سکتے تھے جیسا کہ سیاسی لوگ کرتے ہیں لیکن اُنہوں نے باوجود اصرار بھی اِسے ’خلفائے راشدین‘ کا نام نامی دے کر اپنے روحانی درجات و فیض کو دنیاوی نمود و نمائش پر ترجیح دی ہے۔

شان عباسی نے بیرون ملک کمائی کی ساری رقم گاؤں کی سڑک بنانے پر خرچ ہونا کسی بھی صورت معمولی بات نہیں۔ درحقیقت اُس ایک شخص نے اُس سوچ سے بھی بغاوت کی ہے‘ جو سرکل بکوٹ کو محکوم و غلام بنائے رکھنے کی ہے یقیناًماضی کے اُن تمام حکمرانوں کی آنکھیں شرم و ندامت سے جھک جانی چاہئیں! جن کے پاس ایک غریب محنت کش جتنا ظرف‘ حوصلہ اُور دریا دلی نہیں! ماضی میں رنگوٹ اور حال میں ’’خلفائے راشدین روڈ‘‘ کہلانے والی شاہراہ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اہل علاقہ کی جانب سے شان عباسی کے اعزاز میں استقبالیہ کا انعقاد کیا گیا جس میں رکن قومی اسمبلی سمیت عمائدین علاقہ اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ شان عباسی کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔ ہر بار کسی مقرر کی زبان پر اُن کا نام آنے پر پنڈال تالیوں سے گونج اُٹھتا جس سے شان عباسی کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھ جاتی یقیناًبلاامتیاز سماجی خدمت پر یقین رکھنے والے ’روشن ضمیر‘ ہی اَصل قومی ہیرو ہیں‘ جن کی خدمات کو سراہا جانا چاہئے اور یہی وہ شخص ہے جسے قومی اعزاز بھی ملناچاہئے۔ کیا الیکٹرانک ذرائع ابلاغ ایک ایسے شخص کی خدمات کو قوم کے سامنے پیش کریں گے‘ جس نے گمنامی میں رہنے کو ترجیحی دی!

شان عباسی کی خدمات تاقیامت مثال رہیں گی کیونکہ ایک تو انہوں نے ذاتی رقم سے گاؤں کی شاہراہ کی تعمیر مکمل کروائی اور ساتھ ہی جب حکومت کی جانب سے دس لاکھ روپے دینے کی بات کی گئی تو انہوں نے کمال فراخدلی سے کہا کہ وہ ملنے والی رقم بھی اِسی شاہراہ کی توسیع پر خرچ کریں گے‘ جس سے اسے خانسپور ایویبہ سے ملا دیا جائے گا۔ یقین نہیں آتا کہ آج کی مادہ پرست دنیا میں کوئی شخص رضائے الٰہی کے لئے بناء کسی قسم کے سیاسی عزائم عوام کی خدمت پر اِس قدر یقین بھی رکھ سکتا ہے۔

خلفائے راشدین روڈ کو مرکزی آبادی ایویبہ سے ملانے کے لئے ’گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے)‘ کے حکام کو توجہ دینی چاہئے جبکہ تحریک انصاف پر اعتراض کرنے والوں کو دعوت عام ہے کہ وہ مذکورہ شاہراہ کا معیار اور اِس پر آنے والی لاگت کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے بعد فیصلہ کریں کہ ماضی کی کسی بھی حکومت کے مقابلے آج سرکل بکوٹ میں نہ صرف زیادہ تعداد میں ترقیاتی کام مکمل ہوئے ہیں بلکہ نئی تعمیرات اور توسیع و ترقی کا معیار بھی ماضی کے مقابلے اگر زیادہ پائیدار و مضبوط ہے تو کہیں اِس کی وجہ طرزحکمرانی کی اصلاح اور خیبرپختونخوا میں کرپشن کا خاتمہ تو نہیں!؟ اگر سرکل بکوٹ اِسی سیاسی بصیرت‘ اِتحاد و اتفاق کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے تحریک انصاف کی قیادت میں ترقی کے جاری عمل کو آگے بڑھائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ شعور اُور اِس کے فیوض و برکات (ثمرات بصورت نتائج) اجتماعی مفاد اور تعصبات سے پاک سیاست کے فروغ کے لئے بصورت انقلاب تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔

Wednesday, June 1, 2016

Jun2016: Save the "Lady Garden" of Abbottabad

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
لیڈی گارڈن بچاؤ!
خیبرپختونخوا کو سرسبزوشاداب کرنے کا عزم لئے صوبائی حکومت کی کوششیں اُس وقت رائیگاں معلوم ہوتی ہیں‘ جب ترقی کے نام پر توسیع و مرمت یا تعمیراتی منصوبوں کے لئے درختوں کا ’قتل عام‘ کیا جاتا ہے۔ ہزارہ ڈویژن کے بالائی علاقوں میں ایسے مناظر سڑک کنارے بکھرے پڑے ہیں‘ جہاں کبھی درختوں کی قطاریں ہوا کرتی تھیں اب ’ائرکنڈیشن گاڑیوں‘ میں بیٹھ کر سائے کی تلاش میں سرگرداں سیاح دکھائی دیتے ہیں۔ کسی ایک درخت کے ساتھ جُڑی اُس علاقے کی تاریخ و ثقافت اور معیشت و معاشرت جڑی ہوتی ہے‘ درختوں پر صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور بھی انحصار کر رہے ہوتے ہیں اور جنگلات جس حیاتیاتی تنوع کا مرکز ہوتے ہیں‘ اگر اُس کا توازن کسی وجہ سے بگڑ جائے تو نتیجہ غیرمتوقع موسمیاتی تبدیلیوں (خشک سالی یا پھر دیگر انتہاؤں یعنی موسلادھار بارشوں سے آنے والے سیلاب) کی صورت ظاہر ہوتا ہے۔ کاش کہ ’حضرت انسان‘ یہ ’آسان‘ بات سمجھ سکے کہ اُس کی حیات و بقاء جس ہوا میں سانس لینے اور جس زمین پر قدم جما کر رہنے میں ہے‘ اُس کے لئے قدرت کے مقررہ کردہ میزان و عدل کا احترام صرف ضروری نہیں بلکہ لازم ہے۔ اگر یہ ایک بات سمجھ لی گئی تو پھر درخت لگانا یا اُن کی حفاظت کرنا صرف حکومت ہی کی ذمہ داری نہیں رہے گی بلکہ یہ معاشرے کا اِجتماعی فرض بن جائے گا‘ بس یہی شعور کی وہ منزل ہے‘ جہاں صرف آج کی نہیں بلکہ مستقبل کا فکر ہمارے ماضی وحال کو آسودہ اُور مستقبل کو خوشحال بنا دے گی۔

ایبٹ آباد میں بڑھتی ہوئی مقامی آبادی کے لئے تفریح گاہوں کی ضرورت کا مطالبہ اپنی جگہ اہم و توجہ طلب تھا جس پر زور دینے والے سیاسی و غیرسیاسی‘ سماجی اُور قانونی حلقے ’لیڈی گارڈن‘ نامی اُس تفریح گاہ کو ’کمرشل ازم‘ سے بچانے کے لئے ’سرگرم‘ ہو گئے ہیں۔ کس قدر بھیانک منظر ہے کہ ہمارے پاس اتنے مالی وسائل بھی نہیں کہ اپنے سبزہ زاروں کی دیکھ بھال کر سکیں! کم و بیش ’سات کنال اراضی‘ پانچ سال کے لئے سالانہ اٹھارہ لاکھ روپے کرائے پر دینے کی مذمت کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ اِس سے 1:سبزہ زار کی حیثیت تبدیل ہو جائے گی اور اسے نقصان پہنچے گا۔ 2: صحت مند تفریح کے وسیلے سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہونے کی بجائے کم ہوگی کیونکہ ہر شخص اپنے بچوں کو بیش قیمت جھولوں سے استفادہ کرانے کی سکت نہیں رکھے گا۔ بچے ضد اور والدین اُنہیں چپ کرانے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیں گے! 3: سبزہ زار میں شور شرابہ (فضائی آلودگی) بڑھے گی۔ 4: جھولوں کی تنصیب کے لئے فرش بندی ہو گی جس سے نہ صرف سبزہ زار کے متعلقہ حصے ہی نہیں بلکہ سبزہ زار کے دیگر حصوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ یاد رہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ نے چند ہفتے قبل ہی ’لیڈی گارڈن‘ میں داخلے کی فیس ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ کم مالی وسائل رکھنے والے بھی اپنے بچوں کے ہمراہ چند لمحے سکون پا سکیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2014ء میں لیڈی گارڈن کی تعمیرومرمت کے نام پر جب پختہ تعمیرات (کنکریٹ) کا جال بچھایا جانے لگا تو ایبٹ آباد کے شہریوں کی جانب سے ظفراقبال ایڈوکیٹ نے ’پشاور ہائی کورٹ‘ میں ایک مقدمہ (پٹیشن) دائر کیا جس پر سماعتوں کے بعد ایبٹ آباد کی کنٹونمنٹ بورڈ انتظامیہ نے تحریری طور پر عہد کیا کہ ’’لیڈی گارڈن کی حیثیت تبدیل نہیں کی جائے گی اور ایسا کوئی بھی کام نہیں کیا جائے گا جس سے سبزہ زار کا رقبہ کم ہو یا سبزہ زار کو نقصان پہنچے یا درخت کاٹے جائیں۔‘‘ لیکن چونکہ انتظامیہ تبدیل ہوتی رہتی ہے لہٰذا ماضی میں کئے گئے عہد بھی فائلوں تلے دم گھٹنے سے شاید دم توڑ چکے ہیں۔ لیڈی گارڈن کے انچارج پرویز خان نے تصدیق کی ہے کہ ’’سبزہ زار کا کل رقبہ چالیس کنال سے زیادہ ہے جس میں سے سات کنال کا رقبہ اجارے پر دیا گیا ہے‘‘ لیکن انہوں نے ایک ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’سبزہ زار کو نقصان پہنچانے یا درخت کاٹنے کی اجازت نہیں دی گئی۔‘‘ کیا تخریبی کام کرنے والے ’اجازت طلب کیا کرتے ہیں؟‘ لمحۂ فکریہ ہے کہ اکتیس مئی کو ’کنٹونمنٹ بورڈ ایبٹ آباد‘ کے انتظامی نگرانوں کا (بورڈ) اجلاس بھی ہوا جس کے بارے اسسٹنٹ پی آر اُو ثاقب کے بقول ایجنڈے (غوروخوض کے عمل) میں ’لیڈی گارڈن کے ایک حصّے کی نجکاری شامل نہیں۔‘

کون نہیں جانتا کہ موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی ایبٹ آباد اور ایبٹ آباد کے راستے گلیات یا ناران کاغان کی وادیوں کی سیر کے لئے سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس میں ماہ رمضان المبارک کے دوران کچھ کمی بیشی لیکن عیدالفطر اور بعدازاں زیادہ تیزی آ جاتی ہے۔ اِسی طرح تعلیمی اِداروں میں موسم گرما کی تعطیلات ہونے کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں سے تین ماہ (سیزن) گزارنے والے بھی ایبٹ آباد یا اس کے ملحقہ علاقوں کا رُخ کرتے ہیں۔ آبادی کا یہ دباؤ ماحول اور قدرتی وسائل کو بھی یکساں متاثر کرتا ہے اور اگر ایسی صورت میں پہلے سے موجود ایبٹ آباد کے سب سے بڑے سبزہ زار کی شکل و صورت اور اِس کا بنیادی مقصد ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے تو اِس پر صرف لفظی ہی نہیں بلکہ ہر طرح سے احتجاج ہونا چاہئے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خان خٹک‘ ایبٹ آباد سے منتخب تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے صوبائی اسمبلی کے اراکین مشتاق احمد غنی‘ قلندر خان لودھی‘ سردار ادریس اُور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے ’لیڈی گارڈن بچاؤ تحریک‘ کا حصّہ بننا چاہئے۔ اگر صوبائی اور وفاقی حکومت ایبٹ آباد میں مزید سبزہ زار اور صحت مند تفریح کے مفت مواقع فراہم نہیں کرسکتی تو کم سے کم پہلے سے موجود وسائل کو تو کسی خاص طبقے کی تفریح طبع تک کے لئے محدود نہ کیا جائے۔کم آمدنی رکھنے والے طبقات کی مجبوریوں اور ضروریات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسے سبزہ زار کی ماحولیاتی و سماجی حیثیت تبدیل کرنا منطقی جواز یا معنی خیزی نہیں رکھتا‘ جو سردست اَیبٹ آباد کی مقامی آبادی اور ملکی و غیرملکی سیاحوں کے لئے تفریح کا واحد ذریعہ ہے۔
Efforts need to save the Lady Garden of Abbottabad  

Tuesday, May 31, 2016

May2016: KP development refused by the Federal Govt!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سچ کی قیمت!
وفاقی حکومت کے لئے آئندہ مالی سال (2016-17ء) کا بجٹ کسی بھی صورت آسان نہیں۔ ایک تو بجٹ کی کابینہ سے منظوری پہلی مرتبہ وزیراعظم کی ’عدم موجودگی لیکن ورچوئل حاضری‘ سے ہونا ’ٹیکنالوجی پر اعتماد و بھروسہ‘ کا آئینہ دار ہے جس سے اُمید ہو چلی ہے کہ وفاقی و صوبائی سطح پر وزرأ آئندہ اضلاع کے انتظامی دوروں کی بجائے بہت سی باتیں بذریعہ بصری و صوتی الیکٹرانک وسائل کا استعمال کرتے ہوئے سرانجام دیں گے جو کہ ’کم خرچ بالا نشین‘ بھی ہے اور زیادہ قابل بھروسہ بھی کیونکہ ایسی ’ورچوئل بات چیت‘ کا ہر لفظ بذریعہ ریکارڈنگ محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ بہرکیف یہ تو ایک ضمنی موضوع ہے جس میں طرزحکمرانی کو فعال اور فیصلہ سازوں کو اداروں کی کارکردگی پرنظر رکھنے کے عمل کو آسان بنایا جاسکتا ہے اور اِس سلسلے میں خیبرپختونخوا حکومت پہلے ہی ابتدأ کر چکی ہے۔

وفاقی بجٹ کو زیادہ پرکشش (ٹیکس فری) بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ رقم ترقیاتی امور کے لئے مختص کی جاتی ہے چاہے وفاقی حکومت کے پاس مالی وسائل ہوں یا نہ ہوں۔ چاہے ملک کا نظام چلانے کے لئے قرض لینے پڑ رہے ہوں لیکن ترقی اور برائے نام ٹیکس فری بجٹ جیسی اصطلاحات فراخدلی سے استعمال کی جاتی ہیں۔ وفاقی حکومت کی مالی مشکلات کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لئے خیبرپختونخوا میں ایسے 100 ترقیاتی منصوبوں کو ملنے والی مالی امداد پہلے ہی روک لی گئی ہے جن میں وفاقی حکومت کی حصّہ داری شامل تھی لیکن تحریک انصاف اِس پورے منظرنامے کو الگ زاویئے سے دیکھ رہی ہے اور صوبائی قیادت کا کہنا ہے کہ ’’پانامہ لیکس پر کڑی تنقید کی وجہ سے وفاقی حکومت نے (انتقاماً) خیبرپختونخوا کے لئے مالی وسائل روک لئے ہیں۔‘‘ صوبائی حکومت کو محسوس ہونے والے ’امتیازی سلوک‘ کی تائید اِس بات سے بھی ہوتی ہے کہ آئندہ مالی سال کے لئے خیبرپختونخوا کی جانب سے وفاق کو ’پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت جن 45 ترقیاتی منصوبوں کی فہرست ارسال کی گئی تھی‘ اِن میں سے کسی ایک کو بھی ’شرف قبولیت‘ نہیں بخشا گیا جس سے عیاں ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا سے خوش بھی نہیں اُور کوشش ہے کہ ترقی کے عمل میں توسیع نہ ہونے پائے جس سے تحریک انصاف کی نیک نامی میں اضافہ ہوسکتا ہے!

پانامہ لیکس ہوں یا انتخابی اصلاحات‘ شفاف طرز حکمرانی ہو یا قیادت کرنے والوں کو امانت و دیانت کے تصورات کا عملاً پابند بنانا‘ جمہوریت اور جمہوری اداروں کی مضبوطی ہو یا جماعتی سطح پر جمہوری اقدار کا فروغ‘ کیا تحریک انصاف کے نظریات‘ سیاسی طرزعمل اُور ساکھ کی سزا پورے ’خیبرپختونخوا‘ کو دی جائے گی؟ اور یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اگر کسی صوبے میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت کی حکومت ہو تو اُسے پسماندہ رکھا جائے؟ کیا وفاقی حکومت کا رویہ صوبہ سندھ سے بھی وہی ہے جو خیبرپختونخوا سے ہے؟ کیا یہ امر باعث حیرت نہیں کہ وفاقی حکومت نے پن بجلی منافع کی مد میں خیبرپختونخوا کے 225 ارب روپے ادا کرنا ہیں جن میں سے 30 ارب روپے کی قسط فروری دوہزار سولہ (رواں برس کے دوسرے ماہ) ادا کرنا تھی لیکن بالواسطہ و بلاواسطہ یقین دہانیوں اور یاد دہانیوں کے باوجود بھی یہ وفاقی حکومت نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے ہنگامہ تین اپریل سے شروع ہوا اُور اِس کے بعد تو گویا وفاقی حکومت کے تیور ہی بدل گئے۔ اگر آئندہ چار ہفتوں میں (تیس جون سے قبل) خیبرپختونخوا کے بقایا جات ادا نہیں کئے جاتے تو یکم جون سے نیا مالی سال شروع ہو جائے گا جس کی وجہ سے مختلف اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید سست ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کے پچیس اضلاع میں ترقی کا عمل متاثر ہو رہا ہے کیونکہ ہر ضلع میں اوسطاً چار سے پانچ ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جن میں شاہراؤں کی تعمیرو توسیع‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ صحت و تعلیم کے منصوبے شامل ہیں۔

بات خیبرپختونخوا میں ترقی کے عمل اور خیبرپختونخوا کے حقوق کی ہے جس کے دفاع و حصول کی کوششیں صرف برسراقتدار جماعت یا اتحادی پارلیمانی جماعتوں ہی کی نہیں بلکہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے رویئے میں تبدیلی کے لئے اپنا اثرورسوخ اُور سیاسی حیثیت کا استعمال کریں۔ یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ خیبرپختونخوا نے وفاقی حکومت کو 10 پن بجلی کے منصوبوں کی سرمایہ کاری کے لئے ’التجا‘ کر رکھی ہے جس سے مجموعی طور پر 1585میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی اور اِن ترقیاتی منصوبوں پر لاگت کا تخمینہ 410.4 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا کی طرف سے دیئے گئے منصوبوں میں 6 نئی صنعتی بستیوں کا قیام‘ 7 آبپاشی کے منصوبے‘ 2 پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ 5 زراعت‘ لائیوسٹاک اور کوآپریٹو سیکٹر سے متعلقہ منصوبے اور 14منصوبے پشاور ہائی کورٹ سے متعلق ہیں‘ جنہیں ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے!

KP is paying a huge fee for voting PTI

Monday, May 30, 2016

May2016: Air & Noise Pollution in Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
زہریلا شہر!
کیا اِس بات پر بھی تشویش اُور دُکھ کا اِظہار نہ کیا جائے کہ ’پھولوں کا شہر‘ ہونے کا لطیف و رنگین تعارف (اِستعارہ) رکھنے والے خیبرپختونخوا کے مرکزی شہر ’پشاور‘ کا شمار پاکستان کے اُن ’پرخطر‘ شہروں میں ہونے لگا ہے جہاں ٹریفک کے دباؤ (دھواں اُگلتی گاڑیوں) کی وجہ سے ’فضائی آلودگی‘ اور ’شور شرابا‘ انسانی صحت کے لئے ’قابل قبول حد‘ سے تجاوز کر گئے ہیں! عالمی ادارہ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) کی جانب سے انسانی سماعتوں کے لئے ’شور‘ کی محفوظ حد کا ایک معیار طے کیا گیا ہے جسے کسوٹی قرار دیتے ہوئے ماہرین پشاور میں نجی گاڑیوں کی تعداد میں ہوئے اضافے‘ گاڑیوں کے خراب انجنوں سے اگلتے ہوئے دھویں اور آٹو رکشاؤں سے ہونے والے شور جیسے تین بنیادی محرکات کو پشاور میں پھیلتی ہوئی ’فضائی و صوتی آلودگیوں‘ کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں لیکن کیا فیصلہ سازوں کے ہاں گرد و غبار اور دھویں (کاربن کے ذرات) سے بھرپور (آلودہ) ’پشاور کی زہریلی ہوا‘ کی تطہیر سے متعلق تفکرات پائے جاتے ہیں؟ کیا پشاور کو زہریلا بنتے دیکھنے والے تماش بینوں کو ماحولیاتی آلودگی سے خوف یا وحشت آ رہی ہے؟ کیا فیصلہ سازوں کو اپنی دانستہ غلطی (تجاہل عارفانہ) کا احساس بھی ہے‘ کہ جس کی اصلاح کے لئے وہ خود پر آئینی و ضمیر پر اخلاقی بوجھ محسوس کررہے ہوں؟ ’’ایسی ویرانی میں کرتے بھی تو کیا۔۔۔ یہ بھی کچھ کم ہے کہ وحشت کی ہے!‘‘

موٹرگاڑیوں سے متعلق ’تحفظ ماحول‘ کے ایک سے زیادہ قواعد ضوابط موجود ہیں لیکن اُن پر عمل درآمد یا اُن سے متعلق عوام میں شعور و آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ’پاکستان انوئرمینٹل پروٹیکشن موٹر وہیکل ریگولیشنز 2016ء‘ کی تیسری شق (کلاس تھری) کے مطابق کوئی بھی شخص ایسی گاڑی استعمال نہیں کرسکتا جو (ظاہری طور پر) دھواں اگلتی ہو یا اُس سے شور پیدا ہو رہا ہو۔‘‘ اِس سلسلے میں ’نیشنل انوئرمینٹل کوالٹی اسٹینڈرڈز‘ کو معیار بنایا گیا ہے جس کی روشنی میں زیادہ سے زیادہ آواز 85 (ڈیسیبلز) ہونی چاہئے لیکن پشاور کے مختلف حصوں میں شور کی حد 95 ڈیسیبلز ریکارڈ کی گئی ہے اور اگر نجی گاڑیوں کی تعداد میں کمی نہیں لائی جاتی تو صوتی آلودگی میں وقت کے ساتھ مزید اضافہ ہوگا۔ تصور کیجئے کہ پشاور میں گاڑیوں کی تعداد 126.4 فیصد سالانہ کے تناسب سے اضافہ جبکہ سڑکوں کی وسعت سالانہ 0.85 فیصد کے تناسب سے ہو رہی ہے! کم گنجائش والی سڑکوں پر گاڑیوں کی سست روی سے چلنے کی وجہ سے نہ صرف زیادہ ایندھن خرچ ہوتا ہے بلکہ اِس سے پیدا ہونے والا دھواں اور شور بھی ’رواں دواں‘ ٹریفک کے مقابلے زیادہ پھیلتا ہے! ماہرین صحت کے مطابق مسلسل فضائی آلودگی میں سانس لینے اور شور کے ماحول میں رہنے کی وجہ سے ’بلندفشار خون (ہائی بلڈپریشر)‘ اور ’نفسیاتی عارضے‘ لاحق ہوتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والے جملہ محرکات بشمول سڑکوں پر دھواں و شور اگلتی ٹریفک کی بذریعہ حکمت و تدبر اصلاح ممکن ہے۔

رواں برس آغاز (جنوری دو ہزار سولہ) میں بھارت کے بڑے شہر دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی و صوتی آلودگی کا علاج تجویز کرتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ نے 2 ہفتوں کے لئے صرف نجی گاڑیوں کو ’جفت و طاق‘ نمبروں کے مطابق (ایک ایک دن کے لئے) سڑک پر آنے (استعمال) کی اجازت دی گئی۔ اِس تجربے کا مقصد بڑھتی ہوئی نجی گاڑیوں کی تعداد کو کسی صورت ضبط میں لانا تھا یعنی ایک دن طاق نمبروں والی گاڑیوں کو سڑک پر آنے دیا جاتا اور دوسرے دن جفت نمبروں والی گاڑیاں سڑک پر آتیں۔ دہلی کے ٹریفک پولیس اہلکاروں نے بلاامتیاز ہر خاص و عام پر اِس انتظامی فیصلے کا اطلاق کیا جس کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوئے۔ دہلی کی فضاء میں نہ صرف دھواں (کاربن کے ذرات کی تعداد) کم ہوئی بلکہ گاڑیوں کی وجہ سے شور بھی محفوظ حد کو چھونے لگا لیکن ذاتی گاڑی رکھنے والوں کو معمولات زندگی جاری رکھنے میں اِس لئے زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ حکومت کی جانب سے جفت و طاق نمبروں والی گاڑیوں کے تجربے سے پہلے ہی آمدورفت کے متبادل وسائل یعنی تیز رفتار (میٹرو) و حسب ضرورت تعداد میں بسیں (پبلک ٹرانسپورٹ)‘ اندرون شہر کے مختلف حصوں کو ملانے والی ریل گاڑی جیسے انتظامات کئے گئے تھے۔ عوام نے بھی مثالی تعاون کا مظاہرہ کیا اور ایک ہی دفتر یا تعلیمی اداروں میں آمدورفت کرنے والوں نے نجی طور پر اکیلے سفر کرنے کی بجائے دوستوں کو ہمراہ کرنا شروع کر دیا اور یوں نہ صرف ایندھن کی مد میں بچت ہونے لگی بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوا لیکن دہلی کی ٹریفک پولیس صرف ’جفت و طاق‘ کی حد تک تجرباتی حکمت عملی تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اُس نے صورتحال کا فائدہ اُٹھانے والے اُن ناجائز منافع خوروں پر بھی ہاتھ ڈالا جنہوں نے ٹیکسی (کمرشل) گاڑیاں اور ٹَک ٹَک (آٹو رکشہ) کے کرائیوں میں اضافہ کر لیا تھا۔

پشاور کی ٹریفک پولیس ’آلودگی سے پاک دہلی‘ نامی تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہے اور علم تو (درحقیقت) مومن کی گمشدہ میراث ہے جس کے بارے میں حکم حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مفہوم ہے کہ ’علم جہاں کہیں اُور جس کسی سے بھی ملے (بصد شکریہ و کمال حتی الوسع و ظرف) حاصل کر لینا چاہئے۔‘

Noise and air pollution in Peshawar touching the dangerous limit

Sunday, May 22, 2016

May2016: Forest, development, tourism & Galliyat

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
گلیات: ناپائیدار ترقی!
لگتا ہے جیسے وقت ہی ٹھہر گیا ہو۔ زیربحث موضوع ’’سطحی منصوبہ بندی اُور رازدارانہ عملی اقدامات کے سبب پیدا ہونے والی ’لاتعداد مستقل مشکلات‘ ہیں‘ جن سے متعلق چند پہلو ’اکیس مئی‘ کے روز شائع ہونے والے کالم میں بطور ’ابتدائیہ‘ پیش کرنے کا بنیادی مقصد اِس بات پر زور دینا ہے کہ پشاور میں حکومت کی ’ناک کے نیچے‘ بیٹھ کر کاغذوں پر کارکردگی دکھانے والوں سے بازپرس کی جائے کہ وہ حکمرانوں کے ’کان پیچھے‘ کیا گل کھلا رہے ہیں کیونکہ جہاں کہیں سیاحوں یا مقامی آبادی کو مشکلات پیش آتی ہیں تو وہ متعلقہ حکومتی اداروں (سیکرٹری یا دیگر انتظامی نگرانوں) کو نہیں بلکہ براہ راست ’تحریک انصاف‘ کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر انگلیاں اُٹھاتے ہیں‘ یوں گلیات کی خوبصورتی‘ جنگلات کے تحفظ‘ سیاحوں کے لئے سہولیات‘ شاہراؤں کی توسیع و مرمت اور بہتری و اصلاح پر اب تک اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی اگر صوبائی حکومت کے حصے میں لعن طعن آ رہی ہے تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خان خٹک اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت صوبائی کابینہ کے لئے یہ مرحلہ سنجیدہ سوچ بچار کے ساتھ آستینوں میں جھانکنے کا ہے!

سیاحتی سیزن شروع ہوئے ابھی چند دن ہی ہوئے ہیں کہ گلیات کے رہنے والے مقامی افراد نے احتجاج کی دھمکی دی ہے جن کا مطالبہ ہے کہ ’’1904ء میں برطانوی راج کے دوران مقرر کی گئی جنگلات کی حدود پر نظرثانی کی جائے اور جن مقامی افراد کے پاس محکمۂ مال سے تصدیق شدہ جائیداد کی ملکیت کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں اُنہیں حسب رقبہ اراضی فراہم کی جائے کیونکہ اگر ایسا ذاتی ملکیت پر مشتمل اراضی کا رقبہ ’اندھا دھند اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے‘ جنگلات کی حدود سے دھکیل کر باہر کردیا جاتا ہے تو جس شخص کے پاس ملکیت کے کاغذات ہے وہ اپنا رقبہ جنگلات کی حدود کے باہر سے پورا کرنے کی کوشش کرے گا اور اندیشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اراضی کی ملکیت کے تنازعات زیادہ شدت سے سراُٹھانے لگیں۔ گلیات کا علاقہ جو نسبتاً پرامن اور محفوظ ترین تصور ہوتا ہے‘ اگر مقامی افراد کے آپسی جھگڑوں سے یہاں کا سکون غارت ہوتا ہے تو اِس کا لامحالہ منفی اثر ’سیاحت‘ پر بھی پڑے گا۔‘‘

ضلع ایبٹ آباد کی یونین کونسل نتھیاگلی کے تحصیل کونسلر سردار راحیل جنگلات کی حدود بندی سے پیدا ہونے والی صورتحال اور مقامی افراد کے تحفظات و غیض و غضب کی قیادت کر رہے ہیں۔ اِس پینتالیس سالہ بلدیاتی نمائندے کا تعلق سیاسی و نظریاتی طور پر جماعت اسلامی سے ہے لیکن انہوں نے آزاد حیثیت میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیکر تحریک انصاف جیسی مضبوط قوت کے مقابلے اپنی سماجی حیثیت و مقبولیت کا لوہا منوایا۔ منطق اُور دلائل کی بنیاد پر اپنا مؤقف پیش کرنے کی خداداد صلاحیت کے مالک سردار راحیل کا مؤقف ہے کہ ’’ 1904ء میں کئے گئے سروے پر اکتفا کرنے کی بجائے حکومت ایک نیا سروے کرے جس میں محکمہ مال (ریونیو) کے حکام بھی شریک ہوں تاکہ جہاں کہیں جنگلات کی حدود متنازعہ ہے اُسے مقامی افراد کے پاس ملکیتی دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں حل کیا جاسکے کیونکہ اگر گلیات کے کسی بھی گاؤں سے اہل علاقہ کو بیدخل کیا جاتا ہے تو اِس سے بڑی ناانصافی کوئی دوسری نہیں ہوسکتی۔ضلع اَیبٹ آباد کے بالائی علاقوں (گلیات یا گیلیز) میں تجاوزات کے خلاف کاروائی اُور جنگلات کی حدود کے تعین سے پیدا ہونے والی صورتحال سے جنت نظیر وادیوں کے رہائشی (مقامی آبادی) اگر مشکلات سے دوچار ہے تو اِس مسئلے کا حل افہام و تفہیم سے ممکن ہے۔‘‘ یاد رہے کہ برطانوی راج کے دوران سال 1904ء میں جنگلات کے مذکورہ سروے کے دوران صرف حدود کا تعین ہی نہیں کیا گیا تھا بلکہ مقامی افراد کے حقوق کا تحفظ بھی کیا گیا تھا جس میں جنگلات سے ایندھن کے حصول اور بطور چارہ گاہ استعمال کی اجازت دی گئی تھی لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے کم و بیش چالیس ہزار ایکڑ پر پھیلے وسیع و عریض جنگلات کی حدود کا تعین کرتے ہوئے مقامی افراد سے یہ حق بھی چھین لیا گیا ہے کہ وہ موسم گرما کے دوران جنگلات میں اپنی رہائش قائم کر لیا کریں جیسا کہ مقامی روایات کے مطابق ایک عرصے سے یہ رسم جاری رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے جی پی ایس (خلأ سے حاصل کردہ تصاویر اور جی پی ایس کے کورآڈینیٹس) کے ذریعے حدود کا تعین کیا جارہا ہے اور یہ طریقۂ کار مقامی افراد کی سمجھ بوجھ سے بالاتر طریقہ ہے جو متقاضی ہیں کہ اراضی کے رقبے کو مروجہ قواعد یعنی جریب‘ کنال و مرلے کے حساب سے پیمائش ہونا چاہئے۔‘‘ بلاشک و شبہ مقامی افراد جنگلات کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور اِن کی حفاظت بارے اُن کے نظریات کہیں زیادہ ’ماہرانہ‘ اُور معنی و مفہوم کے لحاظ سے ’گہرے بھی ہیں اور دلچسپ بھی۔ جنہوں نے غیرقانونی جنگلات کاٹے وہ ماضی و حال میں کلیدی عہدوں پر فائز رہے اور ایسے افراد کا حسب حال احتساب نہیں ہوسکا یقیناًجنگل کسی ایک قوم یا ادارے کا نہیں ہوتا بلکہ وہ سب کا ہوتا ہے بالخصوص ایسے قبائل جن کا گزر بسر ہی نہیں بلکہ پوری معیشت و معاشرت کا انحصار جنگلات پر رہا ہو‘ اگر اُن کے سروں سے درختوں کا سایہ چھن جائے تو بے سروسامانی کی حالت میں وہ کہاں جائیں گے!؟ نتھیاگلی کے مرکزی بازار اُور ملحقہ علاقوں میں کم وبیش تین سال قبل تجاوزات کے خلاف آپریشن (کاروائی) سے یہاں تعمیروترقی اور توسیع کے نام پر آج بھی دھول اُڑتی دکھائی دیتی ہے۔ مقامی افراد نے (اپنی مدد آپ کے تحت) بڑی حد تک حالات کو سنبھال لیا ہے اور اُمید ہے کہ اِس سال موسم گرما میں سیاحوں کی آمدورفت سے ’روائتی گہماگہمی‘ دیکھنے میں آئے گی۔

سردار راحیل چاہتے ہیں کہ جمہوریت کی رو کے مطابق فیصلے اور حکمت عملیاں تشکیل دیتے وقت منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ’’گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کی منصوبہ بندی (پلاننگ) کیا یہ نہیں تھی کہ پورے گلیات کو ترقی دی جائے گی لیکن باڑیاں سے نتھیاگلی تک شاہراہ کی توسیع تک ترقی کا عمل محدود دکھائی دیتا ہے کیا گلیات صرف ایک سڑک کا نام ہے؟ حسب اعلانات گلیات میں جدید سہولیات سے آراستہ 6 رہائشی علاقے (ٹاؤنز) بنائیں جائیں گے؟ گلیات کی ترقی کے لئے 4 ارب مختص کئے گئے‘ جس میں سے کتنے خرچ ہوئے اور کیا کچھ باقی ہے اِس بارے عام آدمی کی طرح عوام کے منتخب نمائندوں کی معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں! آخر کیا وجہ ہے کہ فیصلہ سازی‘ پالیسی سازی اُور اِقدامات کے عملی اطلاق سے قبل یا بعدازاں عام آدمی (ہم عوام) یا متعلقہ علاقوں کے نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا؟
The local communities have reservations about efforts to protect forest  & development in Galliyat

Saturday, May 21, 2016

May2016: Tourism Potential of Harnoi

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیاحت: حائل مستقل مشکلات!
خیبرپختونخوا کے سیاحتی صدر مقام ’ایبٹ آباد‘ سے گلیات کی جنت نظیر وادیوں کی سیر و تفریح کے لئے آنے والوں کو ’ٹریفک‘ کے جس بے ہنگم نظام سے واسطہ پڑتا ہے‘ وہ ایک ایسا ’’مستقل مسئلہ‘ ہے جو نہ صرف ملکی و غیرملکی سیاحوں بلکہ مقامی اَفراد کے لئے بھی درد سر ہے اُور یہ دیرینہ مسئلہ سنجیدہ عملی حل کا متقاضی ہے۔ بات صرف ہزارہ ڈویژن ہی کی حد تک محدود نہیں کہ جہاں اَن گنت سیاحتی امکانات کی موجودگی سے انکار نہ کرنے والے متعلقہ حکومتی ادارے سیاحوں کی رہنمائی کے لئے خاطرخواہ اقدامات و انتظام کرنے میں کیوں سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔

عجب ہے کہ کسی بھی جگہ سیاحوں کے قیام و طعام کی سہولیات اُور اُن کا معیار تسلی بخش نہیں۔ سیاحوں کی حفاظت یا کسی خطرے کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کاری کے بارے میں معلومات نہیں ہوتیں اور نہ ہی موسم گرما (سیاحتی سیزن) کے دوران پولیس کی گشت میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ چونکہ خیبرپختونخوا میں تین سطحی بلدیاتی نظام رائج ہے اِس لئے تجویز ہے کہ ہر ضلعی حکومت اپنی اپنی حدود میں تحصیل و یونین کونسل اور دیہی و ہمسائیگی کونسلوں کی حدود میں سیاحتی مقامات کی ترقی کے لئے خصوصی فنڈز مختص کرے۔ سردست سیاحوں کی آمدورفت سے ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ نجی اداروں میں تقسیم ہو جاتا ہے جس سے یقیناًطور پر سرکاری عہدوں پر فائز مفاد پرست عناصر فائدہ اُٹھا رہے ہیں لیکن اگر حکومت سیاحتی شعبوں کو منظم و مربوط خطوط پر استوار کرے تو کوئی وجہ نہیں خیبرپختونخوا کو سب سے زیادہ آمدنی اِسی مد سے ہونے لگے۔

ایبٹ آباد کے قریب ترین ’ہرنو‘ کا مقام جسے عرف عام میں ’ہرنوئی‘ بھی کہا جاتا ہے یونین کونسل دھمتوڑ کی اختتامی حد اور یونین کونسل سربنہ و کٹھوال کے ایک حصے پر واقع ہے اور ’نتھیاگلی‘ سمیت گلیات کے عازمین ایبٹ آباد کے راستے اِسی مقام سے گزرتے ہیں جہاں چند گھنٹے قیام کرنے یا نتھیاگلی کی شام سے اُکتاہٹ محسوس کرنے والے بیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ہرنوئی ضرور آتے ہیں تاکہ ایک معتدل موسم کا مزا لے سکیں۔ ہرنوئی کی مقبولیت اور پسندیدگی کی بنیادی وجہ یہاں کے بلند و بالا سرسبز و شاداب اور گھنے جنگلات سے لبالب پہاڑ اُور کے درمیان نہایت خاموشی سے بہنے والے مختلف برساتی نالوں کا ٹھنڈا پانی ہے‘ جس کی سطح چند فٹ سے زیادہ نہیں ہوتی اور گرمی کے ستائے یہاں بے فکری سے اپنے بچوں کے ساتھ چند لمحوں کے سکون کی یادیں سمیٹتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ہرنوئی کے مقام پر گاڑیاں دھونے سے پھیلنے والی آلودگی یا سیاحوں کے زیراستعمال رہی پلاسٹک کی خالی بوتلیں‘ خالی پیکٹ اور دیگر کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں۔ گندگی اکٹھا اُور اسے تلف کرنے کے لئے متعلقہ یونین کونسلوں کی ذمہ داری ہے تاہم اگر سیاحوں کو ایبٹ آباد میں داخل ہوتے وقت کسی ٹول پلازہ یا پیٹرول پمپ ایسی ہدایات تھما دی جائیں کہ وہ سیاحتی مقامات کو صاف ستھرا رکھنے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں یا اُن کی ذمہ داریاں کیا ہیں یا سیاحتی مقامات کا ایک دوسرے سے فاصلہ اور وہاں سہولیات سے استفادہ کرنے کے لئے کن ٹیلی فون نمبروں سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ گلیات کی سیر کے لئے آنے والی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کو ادویات حاصل کرنے میں مشکل ہوتی ہے اگر ضلعی حکومت ’آن کال فارمیسی‘ کا بندوبست کرے یا سیاحوں کی رجسٹریشن کے مقامات یا آن لائن رجسٹریشن متعارف کرانے سے ایسی خدمات کی فراہمی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ چلچلاتی گرمی سے بھاگ کر گلیات کی سیر کے لئے آنے والوں کو قیام و طعام کی مد میں لوٹنے والوں کی بھی کمی نہیں۔سیاح سے ایسی ایسی شکایات سننے کو ملتی ہیں کہ یقین نہیں آتا جیسا کہ ہوٹل والے گاڑی کی پارکنگ کے لئے علیحدہ سے کرایہ وصول کرتے ہیں۔

ضلعی حکومت کی جانب سے ’پارکنگ پلازہ‘ اور رہنمائی کا انتظام کیوں نہیں ہوسکتا یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے لئے سیاحت کے ترقیاتی ادارے سے لیکر ضلعی انتظامیہ تک ہر ایک جوابدہ اور ذمہ دار ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے درخواست ہے کہ وہ ماضی میں ’ہرنو‘ کے مقام پر ’’واٹر سپورٹس‘‘ کے تفریحی منصوبے کی فائل سرد خانے سے نکالیں اُور ’ہرنو‘ کی ترقی کے لئے پہلی فرصت میں اِس مقام کا خود دورہ کریں کیونکہ ’’شنیدہ کی بود مانند دیدہ!‘‘

اَلمیہ ہے کہ سیاحوں کی رہنمائی کے لئے سائن بورڈوں پر چسپاں پوسٹرز اور اسٹکرز فی الفور ہٹائے جائیں جو بدصورتی کی بھی علامت ہیں اور آئندہ سائن بورڈز پر یوں انتخابی امیدواروں کی تصاویر چسپاں کرنے والوں پر جرمانے عائد کئے جائیں۔ فاصلوں کی واضح نشاندہی کے ساتھ متعلقہ حکام کے ایسے فون نمبرز بھی مشتہر کئے جائیں جنہیں ڈائل کرنے پر یہ ’دلخراش اناونسمینٹ‘ سنائی نہ دے کہ ’’آپ کے مطلوبہ نمبر سے فی الوقت رابطہ ممکن نہیں!‘‘ سیاح مہمان ہیں اور مہمان نوازی کے تقاضے اپنی جگہ لیکن جو سرکاری ملازمین حکومت سے سارا سال ’تنخواہ و مراعات‘ ہی مہمان داری کے لئے وصول کرتے ہیں اُنہیں چاہئے کہ وہ کم سے کم چند ماہ کے ’سیاحتی سیزن‘ میں اپنی موجودگی عملاً ثابت بھی کیا کریں۔ ایبٹ آباد سے رکن قومی اسمبلی (این اے سترہ) ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون کے معاون خصوصی ’الحاج عبد الحمید‘ کی جانب سے محدود پیمانے پر ایک کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے چند ایک مقامات پر ایسے اعلانات (بل بورڈز) نصب کئے ہیں جس کی مثال سرکاری اداروں بشمول ضلع ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے دیگر اراکین اسمبلی کو جھنجوڑنے کے لئے کافی ہے۔

پینافلیکس بورڈوں پر جلی حروف (اردو زبان) میں لکھا گیا ہے کہ ’’اگر کسی سیاح کو مشکل ہو تو رکن قومی اسمبلی کے نمائندے سے دیئے گئے نمبروں پر رابطہ کرسکتا ہے۔‘‘ اِس قسم کے اشتہار انگریزی زبان میں بھی ہونے چاہئیں اور زیادہ بڑے پیمانے پر یہاں وہاں آویزاں ہوں تاکہ سیاحوں کو ناجائز منافع خوری اور منافع خوروں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔ تحریک انصاف کے ایک نمائندے کی جانب سے اصلاح و رہنمائی کی یہ ’’بظاہر معمولی سی کوشش‘‘ اِس بات کا بین ثبوت ہے کہ اگر ہم میں سے ہر کوئی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق چھوٹے چھوٹے کام کرے تو یقیناًایک بہت بڑی تبدیلی عملاً ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
TOURISM need more attractions including a water park in Harnoi, Abbottabad

Friday, May 20, 2016

May2016 Leading role of leaders!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
کنارہ کشی‘ آخر کیوں ؟
خودکشی ’حرام‘ فعل ہے بالکل اِسی طرح سیاست کے تطہیری عمل سے ایک ایسے فیصلہ کن موڑ پر اظہار لاتعلقی کرنا بھی ’اجتماعی مفاد‘ کے نکتۂ نظر سے ’حرام‘ ہی تصور ہوگا جبکہ معاشرے کو تعمیری و مثبت سوچ رکھنے والے ’اصلاح کاروں (سیاست دانوں) کی اَشد ضرورت ہے۔ پشاور کے معروف سادات و سرتاج ’گیلانی‘ گھرانے سے تعلق رکھنے والے ’سلسلۂ قادریہ حسنیہ‘ کے چشم و چراغ ’سیّد محمد سبطین گیلانی‘ اَلمعروف ’تاج آغا‘ نے سیاست سے ’کنارۂ کشی‘ کا اعلان کیا ہے۔ آپ کا سیاسی تعلق طویل عرصے تک ’جمعیت علمائے پاکستان‘ کے اُس دھڑے سے رہا‘ جو اگرچہ پارلیمانی سیاست میں عددی اعتبار سے ’انتخابی کامیابیاں‘ حاصل نہیں کرتا (کیونکہ وہ انتخابی دھاندلی اور جوڑ توڑ کی سیاست پر یقین نہ رکھنے والوں میں شامل ہے) لیکن یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اندرون شہر کے اِس گیلانی خاندان کے حمایت یافتہ کسی بھی اُمیدوار کی بالخصوص پشاور کے سیاسی منظرنامے میں کامیابی لازمی تصور کی جاتی ہے۔ بلاتھکان ہر خاص و عام کو گرجدار آواز میں دعائیں دیتے‘ غمزدہ افراد کو گلے لگانے اور داد و عنایات بانٹنے والے سخاوت کا حوالہ رکھنے والے دُرویش بہ لقب ’تاج آغا‘ پشاور کی علمی ادبی‘ سیاسی و ثقافتی اور ہندکو زبان کے سرپرست گھرانے کے چشم و چراغ ہیں جن کی قیام پاکستان کی جدوجہد میں خدمات کا مستند حوالہ مملکت خداداد کی تاریخ کا باب ہے اور ایک دنیا اُن کے فیوض و برکات سے آشنا و بہرہ مند ہے۔

پیر طریقت سیّد محمد امیر شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ المعروف مولوی جی نے ورثے میں جو نیک نامی‘ ساکھ اُور روحانی اُولاد چھوڑی ہے اُس کی سرپرستی و تربیت کا فریضہ آپؒ کے جانشین خنداں پیشاں‘ سیّد محمد نور الحسنین گیلانی المعروف سلطان آغا بخوبی سرانجام دے رہے ہیں جنہوں نے روحانی محاذ پر ڈٹ کر تصوف و روحانیت کے چراغوں کی لو میں اضافہ کیا ہے۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس گھرانے کو تاقیامت سلامت وآباد رکھے جو پشاور کا ایک مستند حوالہ اور ایک ایسی عظیم خانقاہ کا تسلسل ہے جس کے دروازے علم و دین اور خیر کے طلبگار کے لئے ہمیشہ اور ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں۔ تصور کیجئے کہ امن و امان کے بدترین حالات میں بھی اندرون یکہ توت‘ کوچہ آقا پیر جان میں واقع ’آستانہ عالیہ حسنیہ‘ کے در دولت پر دستک دینے والوں کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں تھا‘ جو جب چاہے حاضر ہو کر اپنا مدعا خانوادۂ اہل بیت کے حضور بیان کرسکتا ہے اور آج بھی ہر ماہ کی گیارہ تاریخ‘ بعد نماز فجر ’ختم غوثیہ‘ کا اہتمام جبکہ ہر شام ہی کسی نہ کسی مناسبت سے نعتیہ اور محافل مقاصدیہ کا انعقاد باقاعدگی سے ہونا ایک معمول ہے جبکہ اس کے علاؤہ پشاور سے کراچی تک محافل غوثیہ کے انعقاد میں بھی اِسی گھرانے کی سرپرستی سے ہوتا ہے‘ جس کی برکات ہیں کہ پاکستان باوجود اپنوں کی لوٹ مار اُور غیروں کی سازشوں کے باوجود قائم ودائم اور مشہور و مشہود ہے۔

گرامی قدر ’تاج آغا‘ کی جانب سے صرف ’جمعیت علمائے پاکستان‘ ہی سے نہیں بلکہ عملی سیاست سے علیحدگی کے ایک اعلان کا سبب یقیناًاُن کے روحانی درجات و کمالات اور مرتبے میں اضافے کی وجہ سے بھی ہے جس نے اُنہیں کم گو اور گوشہ نشین کر دیا ہے اور اب اُن کا زیادہ تر وقت مکۃ المکرمہ و مدینہ منورہ کی پرنور و باشعور فضاؤں میں گزرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس کسی کا تعلق متواتر اور مسلسل ’سلسلۂ نور‘ سے ہو جائے اُس کے لئے دیگر دنیاوی چیزیں‘ رتبے مراتب اور اسباب دنیا بے معنی و بے وقعت ہو جاتے ہیں لیکن شاید ’تاج آغا‘ یہ بات بھول گئے ہیں کہ اُن کے کندھوں پر ’اُمت کی اصلاح کی ذمہ داری‘ بھی عائد ہے۔ وہ منبر کے وارث ہیں۔ سیّد گھرانے کے چشم و چراغ ہونے کے ناطے اُنہیں روحانی و علمی اور عملی رہنمائی کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنا پڑے گا۔

 مکر و فریب‘ جھوٹ‘ ریاکاری اور دغابازی پر مبنی کھیل تماشوں کے شائقین سے کھچا کھچ بھرے ہوئے سیاست کے میدان کی تمثیل عصر حاضر کے ’کربلا‘ سے دی جاسکتی ہے جس میں حق و صداقت کو ایک مرتبہ پھر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ یہ وقت غاصبوں کی بیعت سے انکار کرنے کا ہے۔ انتخابی دھاندلی‘ مالی و انتظامی بدعنوانی اور تعصب پر مبنی سیاست پر یقین رکھنے والوں کی اکثریت کا مقابلہ کرتے ہوئے بھوک و پیاس جیسی چند ایک نہیں بلکہ کئی مخالف و شیطانی قوتوں کا ’’مردانہ وار مقابلہ‘‘ کرنے کی اِس ’امتحانی گھڑی‘ اگر کوئی سادات گھرانے کا ’صاحب وقار معالج‘ اپنی ذات اُور اپنے آپ میں ڈوب کر زندگی بسر کرنا چاہتا ہے اُور گردوپیش پھیلی غربت و افلاس‘ مسائل و مشکلات اور گمراہی کا علاج کرنے کے لئے خود کو وقف نہیں کرتا‘ اُور اپنے عزیز ترین مقاصد و آسائشوں کی قربانی نہیں دیتا تو یہ ’مجرمانہ غفلت (حرام)‘ اُور سادات کرام کے رتبے و مقام کے شایان شان نہیں‘ جو دنیا میں عدل و احترام اِنسانیت عام کرنے کے لئے نازل ہوا۔

قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ’مسلم لیگ‘ سے وابستہ رہے پشاور کا یہ سرتاج سادات گھرانہ بعدازاں ’جمعیت علمائے پاکستان‘ کے پلیٹ فارم سے ’مجاہد ملت علامہ شاہ اَحمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ‘ کے شانہ بشانہ کھڑا دکھائی دیا‘ جنہوں نے ’ختم نبوت‘ کی تحریک کو کمال شان سے آگے بڑھایا اُور پاکستان کے موجودہ آئین کے تشکیلی مراحل سے لے کر ’توہین رسالت‘ سے متعلق قوانین کے تحفظ‘ رویت ہلال‘ روحانی و تصوف کے موضوعات پر وعظ و تلقین‘ دروس قرآن اور علمی و ادبی محافل کے انعقاد میں بھی یہی گھرانہ پیش پیش رہا تو کیا موجودہ اَبتر سیاسی و غیریقینی و گھٹن کے سیاسی ماحول میں خود کو ’مسجد و منبر تک‘ محدود کرلینا کسی ’صاحب شان‘ کے ’حسب شان‘ ہو سکتا ہے؟ (گستاخی کی معافی چاہتے ہوئے) موجودہ حالات میں جبکہ ’خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیریؓ‘ اَدا کرنے کی ضرورت ہے تو ’تاج آغا‘ سمیت جملہ اہل مراتب و مقام اور نظریاتی سیاست پر یقین و عہد رکھنے والے حب الوطن سیاست (اصلاح کاروں) سے دست بستہ درخواست ہے کہ وہ ’انصاف و عدل‘ کی منزل تک رسائی سے قبل ہی عملی سیاسی جدوجہد سے خود کو الگ نہ کریں بلکہ اگر کسی ایک سیاسی جماعت سے اُنہیں حسب حال تیزرفتار بہتری کی اُمید نہیں رہی تو ایسی تحریک (صورت) موجود ہے جو انقلاب و جنون کے ذریعے تبدیلی اور ایک نئے پاکستان کی تشکیل کا عزم رکھتی ہے۔

 موروثی سیاست کی دلدل میں دھنسنے سے اچھا ہے کہ ’تبدیلی کے سرسبز و شاداب‘ چمن زار میں قدم رکھا جائے۔ اُس پرچم (علم) کو تھام لیا جائے‘ جس پر سرخ رنگ ’شہادت و جدوجہد کی دائمی تحریک کے قائد اِمام عالی مقام حضرت اِمام حسین رضی اللہ عنہ‘ سے منسوب کیا جاسکتا ہے تو دوسرے رنگ کو دیکھ کر نواسۂ رسول سبزقبا حضرت اِمام حسن رضی اللہ عنہ کی یاد آتی ہے‘ جن کی سیاست‘ فہم و فراست اُمت مسلمہ کے مفاد کے لئے اپنے مفادات کی قربانی دینے پر مبنی اسلامی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔

May2016 How to Curb 'the corruption'

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
’بدعنوانی‘ کی گھٹی!
روایت رہی ہے کہ کسی بھی مالی سال کے اختتامی ہفتوں میں سرکاری محکموں میں کام کاج اتنا بڑھ جاتا ہے کہ کسی کو سرکھجانے کی فرصت نہیں رہتی۔ وجہ یہ نہیں ہوتی کہ وہ مفاد عامہ کے کسی منصوبے کے تکمیلی مراحل پر کام کی رفتار بڑھا رہے ہوتے ہیں بلکہ کوشش یہ ہوتی ہے کہ حکومت سے ملنے والے سالانہ مالی وسائل کے باقی ماندہ بیلنس کو کسی غیرترقیاتی مد میں کس طرح اور کس جواز کے تحت خرچ کیا جائے۔ کہ ایسا کرنے سے نہ صرف خریداری اور ذاتی مفاد جیسے اہداف بھی حاصل ہو جائیں اور کارکردگی بھی ظاہر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دفاتر و سرکاری رہائشگاہوں کی تعمیرومرمت‘ تزئین و آرائش اُور دیگر کئی مدوں میں بھی سانس روکے بغیر اَخراجات ایک معمول ہے جن کے بل بذریعہ ’اکاونٹنٹ جنرل آفس‘ مالی سال کے اختتام سے قبل ادا ہونا ہوتے ہیں۔ نجی اِداروں کی جانب سے سرکاری محکموں سے لین دین کے ’مروجہ اَصولوں (ضوابط)‘ کے تحت ’سپلائی اُور وصولی‘ کے درمیان کل بل (وصولی کی رقم) کا ایک فیصد حصہ (نقد) بینک چیک کی وصولی کے وقت ادا کرنا پڑتا تھا اور یہ روایت (وائٹ کالر کرائم) ایک دو برس قدیم نہیں بلکہ مبینہ طور پر گذشتہ تین دہائیوں سے بل کے عوض چیک وصول کرنے کا ’مقررہ نرخ‘ ایک فیصد پر ٹھہرا رہا‘ جس میں اچانک ایک فیصد اضافے پر بلبلا اُٹھنے والوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے اپیل کی ہے کہ وہ خفیہ ذرائع سے تحقیقات کروائیں کہ کس طرح ’اکاونٹنٹ جنرل آفس‘ میں رشوت ستانی کا بازار گرم ہے اور اِس میں ملوث کردار کون کون ہیں؟ ’’ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی ۔۔۔ شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے! (اَاذہر درانی)‘‘

خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کے لئے ’تحریک انصاف‘ کو دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا پڑی لیکن جس ایک نکتے پر کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا وہ مالی بدعنوانی تھی۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان آج بھی عوامی اجتماعات میں یہ بات فخر اور سینہ ٹھوک کر بیان کرتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری دفاتر میں ماضی کے مقابلے بدعنوانی کم ہوئی ہے اور یقیناًایسا ہی تھا لیکن جیسے جیسے مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات سے ماہ و سال کے سفر میں دوری ہو رہی ہے ویسے ویسے وہ سبھی عناصر سرگرم ہوتے جا رہے ہیں جن کی گھٹی میں بدعنوانی پڑی ہوئی تھی! تحریک انصاف کو کسی ایسی واردات کے لئے ذمہ دار قرار دینا مبنی برانصاف نہیں کیونکہ جب ’اے جی آفس‘ میں رشوت ستانی کے بارے شکایت کرنے والے سے کہا گیا کہ کیا وہ شواہد کے ساتھ وزیراعلیٰ کے روبرو پیش ہونے کے لئے تیار ہے تو یکایک غبارے سے ہوا نکل گئی! اور موصوف نے ایک لمبی ٹیلی فون کال کا اختتام متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے خلاف جاری کراچی آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’جب کوئی وکیل ’ایم کیو ایم‘ کے خلاف پیش ہوتا تو اگلے روز یا تو وہ پراسرار طور پر ہلاک پایا جاتا یا پھر وہ خود ہی مقدمے سے دستبرداری کی درخواست دائر کردیتا ہے۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی انصاف چاہتا ہے صرف اپنے لئے اور اِس کے لئے قربانی دینے کو تیار (آمادہ) بھی نہیں۔ ’ایک‘ یا ’دو‘ فیصد کمیشن (رشوت) اَدا کرنے والوں نے سرکاری ملازمین کے منہ کو خون لگا دیا ہے (پورے کے پورے نظام کو کرپٹ کردیا ہے اور اب اِس کی خرابی کے لئے خود کو نہیں بلکہ دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں!) عجب ہے کہ خود کی بجائے وہ دوسروں سے اپنے کئے کی شکایت کرتے ہوئے یہ تک بھول جاتے ہیں کہ دنیا میں جو کوئی جو کچھ بوئے گا‘ اُسے وہی کچھ کاٹنا بھی پڑے گا۔ مالی بدعنوانی ہو یا رشوت ستانی‘ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے کہ کس طرح ٹیکس چوری‘ کم قیمت اشیاء کو بیش قیمت ظاہر کرنے اور پھر سرکاری افسروں کے ساتھ مل کرداروں کے وسائل کی لوٹ مار میں حصہ دار رہا ہے یا رہی ہے۔

تحریک انصاف کی صورت ایک ایسی متبادل سیاسی قوت ہاتھ آئی ہے جسے ’نجات دہندہ‘ کے روپ میں دیکھنے والوں کو سمجھنا ہوگا کہ جب تک ہم میں سے ہر ایک ’اصلاح کار‘ کا کردار اَدا نہیں کرتا اور اپنے مفادات کی قربانی نہیں دیتا اُس وقت تک ’’تبدیلی‘‘ نہیں آسکتی۔ کیا عمران خان کو اِس لئے ووٹ دیا گیا کہ وہ ایک جادوگر ہے اور جب چاہے چھڑی گھما کر سب کچھ تبدیل کر دے گا؟ کیا عمران خان کو محض ووٹ دینا ہی کافی تھا اور اب ووٹ دے کر حمایت کرنے والوں کی ذمہ داری ختم (یا کم) ہوگئی ہے؟ تعصب کی سیاست کرنے والوں سے قوم اظہار بیزاری نہیں کر رہی جس کے ثبوت ضمنی انتخابات میں ’این اے ون‘ سے لیکر ’پی کے آٹھ‘ کے درمیان اور خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔

 پانامہ لیکس کے ظاہر ہونے والی ’آف شور سرمایہ کاری‘ یا دو فیصد رشوت طلب کرنے والے ’آن شور بدعنوان‘ یکساں ’ایکسپوز‘ ہوئے ہیں تو کون ہے جو اِس استحصالی منظرنامے کو تبدیل کرے اور اصلاح کا کام اپنی ذات سے شروع کرتے ہوئے اپنی مصلحتوں یا اپنے مفادات کی قربانی دے؟
Voting for revolutionary PTI is enough or to curb the corruption one has to react with actions

Saturday, May 14, 2016

May2016: Development Journalism IPR WebSite initiative!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تعمیری صحافت: حوصلے اپنی جگہ ہیں‘ بے بسی اپنی جگہ!
جرمنی‘ امریکہ اُور سوئزر لینڈ حکومتوں کی جانب سے ’جامعہ پشاور‘ کے شعبہ صحافت و ابلاغ عامہ (ڈیپارٹمنٹ آف جرنلزم اینڈ ماس کیمونیکیشن) کو نہ صرف تدریسی سہولیات بہتر و معیاری بنانے کے لئے مالی و تکنیکی معاونت کا سلسلہ جاری ہے بلکہ صحافت کے عملی اطلاق کو عام فہم بنانے کے لئے بھی صوتی و بصری جیسے تکنیکی شعبوں میں رہنمائی کا متواتر و مسلسل اہتمام ایک ایسا ’بارانِ رحمت‘ ہے جس سے بنجر زمینیں سرسبزوشاداب دکھائی دیتی ہیں۔ بارہ مئی کو ایک اُور سنگ میل عبور کرتے ہوئے خصوصی ’ویب سائٹ (iprjmc.org.pk)‘کا اِجرأ کیا گیا‘ جس کا بنیادی مقصد شعبۂ صحافت میں زیرتعلیم وتربیت طلباء و طالبات کے کام (آؤٹ پٹ) کو نہ صرف مربوط اَنداز میں محفوظ رکھنا ہے بلکہ اِسے بطور نمونہ اُور مثال پیش بھی کرنا ہے تاکہ ہم عصر پیشہ وروں یا زیرتربیت طلباء و طالبات کے علاؤہ صحافت سے دلچسپی رکھنے والے کارکردگی کے اِن عملی نمونوں اور غیرملکی امداد کے ثمرات سے آگاہ ہوسکیں۔ واضح رہے کہ ’جرنلزم ڈیپارٹمنٹ‘ کی نئی ویب سائٹ پورے شعبے کی کارکردگی کا احاطہ نہیں بلکہ یہ صرف اُس تین ماہ کے ’(مختصر) تربیتی کورس‘ میں حصہ لینے والوں کی مہارت و علمیت کی چنیدہ مثالوں کا مجموعہ ہے جنہیں مختلف شعبوں سے بنیادی تعلیم کے معیار پر چنا جاتا ہے اور پھر اُنہیں خبر کے بیان سے متعلق باریکیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اب تک ایسے 7کورسیز (عملی مشقوں) کا کامیابی سے انعقاد ہو چکا ہے جس سے 115 طلباء و طالبات مستفید ہو چکے ہیں۔ یقیناًمحض تین ماہ کے عرصے میں صحافت کے سبھی شعبوں کو گہرائی سے سمجھنا ممکن نہیں ہوتا لیکن کم سے کم اتنا تو ضرور ہوا ہے کہ ’سو سے زائد‘ طلباء و طالبات کا صحافت کے بارے میں تصور (ویژن) ماضی کی طرح سطحی نہیں رہا۔

شعبۂ صحافت کے چیئرمین ڈاکٹر اَلطاف اللہ خان پُرعزم ہیں کہ نئی ویب سائٹ کا اجرأ اگرچہ مختصر کورس کے شرکاء کی کارکردگی پیش کرنے کے لئے کیا گیا ہے لیکن اِس کا دائرۂ کار (مستقبل قریب میں) محدود نہیں رہے گا کیونکہ اِس پوری کوشش کا خلاصہ یعنی بنیادی تصور یہ ہے کہ ’’ڈویلپمنٹ جرنلزم کو معروف (و متعارف) کیا جائے۔‘‘ اُنہوں نے سال 2014 ء اور 2015ء کے دوران ایڈیٹرز سے ہوئی ملاقاتوں کا احوال بھی بیان کیا‘ جن سے حاصل ہوئے ’فیڈبیک‘ کی روشنی میں ویب سائٹ کا اجرأ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر الطاف کا مطمعۂ نظر صحافت کا بامقصد اُور تعمیری نتیجہ خیزی ہے‘ جس کے لئے اُن کی عملی کوششوں کا نچوڑ اُور نکتۂ نظر‘ یہ ہے کہ ’’ہم چاہتے تھے اُور اَبھی بھی خواہش رکھتے ہیں کہ ڈویلپمنٹ (سماج میں ہونے والی وہ تبدیلیاں جو تخریب کی بجائے اِرتقاء و تعمیر کی عکاس ہیں کو) کسی نہ کسی طرح میڈیا (جملہ پرنٹ و الیکٹرانک ذرائع ابلاغ) کے ایجنڈے پر لائیں جو کہ (کمرشل ازم اور بھیڑچال جیسے محرکات کی بناء) نہیں ہے۔ نئی ویب سائٹ کے پلیٹ فارم سے صرف شعبۂ صحافت کی حد تک منفرد موضوعات کا انتخاب اور سماجی تعمیروترقی کا بیان ہی نہیں ہوگا بلکہ جہاں کہیں سے ’ڈویلپمنٹ جرنلزم‘ کی کوئی عملی مثال ہاتھ آئے گی تو اُسے بھی ویب سائٹ کے ذریعے ’عام‘ کیا جائے گا۔‘‘ ایسے تمام صحافی یا لکھنے لکھانے سے شغف رکھنے والے ویب سائٹ کے لئے اپنی نگارشات بذریعہ اِی میل (iprjmc08@gmail.com) براہ راست ڈاکٹر الطاف تک پہنچا سکتے ہیں۔ تجویز ہے کہ اِی میل (برقی مکتوبات) کے ذریعے زیادہ بڑے سائز (2گیگا بائٹ تک) کی ویڈیوز یا متعدد تصاویر اور ٹیکسٹ (تحریری متن) اِرسال کرنے کے لئے ’وی ٹرانسفر (wetransfer.com)‘ نامی ویب سائٹ سے استفادہ کیا جائے۔ یاد رہے کہ اِن دونوں ترسیلی مراحل (اِی میل اُور وی ٹرانسفر) کے لئے موبائل فون یا ڈی ایس ایل کے ذریعے انٹرنیٹ سے منسلک ہونا ضروری ہے۔

پاکستان کے طول عرض میں بالعموم اُور خیبرپختونخوا میں ’بامقصد‘ اُور ’تعمیری صحافت‘ سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے۔ جس کے لئے صرف ’شعبۂ صحافت‘ ہی کے کندھوں پر سارا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا ہے۔ قومی و علاقائی صحافتی اِشاعتی اداروں اور بالخصوص ٹیلی ویژن و ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ گردوپیش میں ہونے والی مثبت پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہوئے ہماری اَقدار‘ روایات اور تاریخ و ثقافت سے جڑے موضوعات کو اُجاگر کریں اور نئی نسل تک خوبیوں بھرے وہ تصورات بھی منتقل کریں‘ جن کے خمیر میں مذہبی رواداری‘ برداشت‘ احترام‘ شفقت‘ کمزور طبقات سے پیار اُور غیرمشروط حب الوطنی جیسی خصوصیات پنہاں ہیں۔
http://www.dailyaaj.com.pk ... http://www.dailyaaj.com.pk/epaper/epaper/1463153860_201605134518.jpg

Sunday, May 8, 2016

May2016: Non Political Police

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
غیرسیاسی پولیس۔۔۔؟!
خیبرپختونخوا کے محکمۂ پولیس میں اعلیٰ سطح پر ’سیاسی مداخلت‘ ختم کرنے کے مثبت اثرات تین سال بعد ظاہر ہونا شروع ہوئے ہیں۔ رکن صوبائی اسمبلی سردار سورن سنگھ کے قتل کا معمہ محض چند گھنٹوں اُور ضلع ایبٹ آباد کے ایک دُور افتادہ گاؤں مکول میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ جیسی گھناؤنی واردات کا سراغ بھی چند ہی روز میں لگا کر ’اِنسداد دہشت گردی‘ کی دفعات عائد کردی گئیں ہیں تو کیا یہ تبدیلی نہیں کہ پولیس اس قدر چوکنا اُور مستعد ہو گئی ہے؟ سردار سورن سنگھ رکن صوبائی اسمبلی تھے‘ جن کے قتل کی مذمت تحریک انصاف کے سربراہ سے لیکر حکمراں سیاسی جماعت کے ہر کارکن نے کی۔ وہ ایک ’ہائی پروفائل کیس‘ تھا اُور ہمارے ہاں پولیس کا ماضی ایسی متعدد مثالوں سے مزین ہے‘ جہاں خواص کے خلاف ہونے والی وارداتیں تو چٹکی بجاتے تھانے ہی کی سطح پر حل کر لی گئیں لیکن جہاں کہیں عام آدمی جرم کا شکار ہوا‘ تو وہاں پولیس سے رجوع کرنا گویا ستم بالائے ستم ٹھہرا۔ شہری و دیہی علاقوں میں پولیس کی گشت بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا کے پولیس سربراہ ناصر درانی یقیناً’اَعدادوشمار‘ کی بنیاد پر اپنے محکمے کی کارکردگی پر مطمئن ہوں گے لیکن ہر جرم رپورٹ نہیں ہوتا اُور یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کے غوروخوض ضروری ہے۔ ناصر درانی اُنہیں اُس ’عمومی تاثر‘ کو بھی زائل کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہیءں‘ تاکہ پولیس اور تھانے کی ساکھ بہتر ہو۔

خیبرپختونخوا پولیس کی کارکردگی میں غیرمعمولی بہتری کا نوٹس عالمی سطح پر بھی لیا گیا ہے اور بالخصوص اٹھائیس اپریل کو منظرعام پر آنے والے گلیات کے تھانہ ڈونگا گلی کے گاؤں مکول پائیں میں لڑکی کے قتل کی تحقیقات جس پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھائی جا رہی ہے‘ اُس پر خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی معروف غیرسرکاری تنظیم ’عورت فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے بھی قدرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کی سطح پر پنچائیت اور جرگے کی مذمت و عملی اقدامات کی ضرورت کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں اِس قسم کے واقعات رونما ہونے کے بعد پولیس پر کڑی تنقید کی جاتی تھی۔ احتجاجی مظاہرین اِس بات کا بھی مطالبہ کرتے تھے کہ پولیس جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن پولیس کلچر میں تبدیلی اپنوں اور غیروں کی نظر میں آنے سے توقعات کم نہیں بلکہ ان میں اضافہ ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا کے لئے عورت فاؤنڈیشن کی ریجنل ڈائریکٹر شبینہ ایاز پولیس کی کارکردگی سے سوفیصد مطمئن نہیں لیکن بہتری محسوس کرتے ہوئے انہوں نے خواتین کے خلاف ایسے درجنوں جرائم کا ذکر کیا ہے جو ہنوز تفتیشی مراحل سے گزر رہے ہیں یا سرے سے رپورٹ ہی نہیں ہورہے کیونکہ پولیس عوام دوست نہیں!‘‘ جائز سوال ہے کہ پولیس کا رعب و دبدبہ کہاں ہے؟ عمومی تاثر یہی ہے کہ جرائم کا ارتکاب اس لئے بھی کیا جاتا ہے کیونکہ تھانہ کچہری کی نزاکتیں‘ باریکیاں اور مراحل کی آسانی مالی وسائل سے مشروط ہے۔

معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس کے محکمے کا ’’مکمل غیرسیاسی‘‘ ہونا اگرچہ فوری ممکن نہیں لیکن ضروری ہے۔ قانون کی نظر ہر خاص وعام کو ایک نظر سے دیکھے‘ اگرچہ ایسا بھی ممکن دکھائی نہیں دے رہا لیکن بہرکیف و بہرحال ضروری ہے۔ اگر ہم ضلع پشاور کے تھانہ جات ہی کی بات کریں تو آبادی کے تناسب سے افرادی قوت اور تکنیکی و فنی وسائل کی کمی کارکردگی کو متاثر کرنے جیسے دیگر کئی اسباب کا حصہ ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو ذہنی و جسمانی سکون اور آرام تو بہت دور کی بات اُنہیں پیشہ وارانہ استعداد بڑھانے کے لئے تربیت کے مواقع بھی خاطرخواہ نہیں ملتے۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز اہلکاروں کے بیرون ملک تربیتی دورے اور اُن کے علم ودانش میں اضافے کے کچھ نہ کچھ ثمرات تو روزمرہ معمولات کی گرداب میں پھنسے ہوئے اہلکاروں کو بھی منتقل ہونا چاہئے۔ اِنسپکٹر جنرل سے توقع ہے کہ وہ پہلی فرصت میں تھانہ جات کی سطح پر پائے جانے والے تحفظات‘ شکایات اُور ضروریات بارے باقی ماندہ کام مکمل کرنے کی رفتار میں اضافہ کریں گے۔ تھوڑے کہے کو بہت سمجھتے ہوئے اُنہیں دیکھنا ہوگا کہ خود اُنہی کے ’آس پاس‘ ایسے ’فرمان تابع‘ اہلکار بھی ہیں جو اُن کے اصلاحات و تبدیلی کے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ پولیس فورس میں احتساب کا عمل جس زور و شور سے شروع کیا گیا‘ اُس بارے سست روی کا تاثر بھی ’سزا وجزأ‘ کے دائمی و اختیاری طرز عمل کا متقاضی ہے۔ پولیس سربراہ اگر معلوم کرنا چاہیں تو ایسے کئی اہلکار ملیں گے جو ایک ہی تھانے میں سالہا سال سے تعینات ہیں۔

دہشت گردی و بھتہ خوری جیسے منظم جرائم کے سہولت کاروں کی تلاش قطعی مشکل نہیں اگر ہر تھانے کو ایسے افراد کی فہرستیں مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے جو ایک سے زیادہ مقدمات میں ملوث ہیں اور تھانے سے مستقل رابطے میں رہتے ہیں جن کی آمدن کے ذرائع مشکوک و معلوم ہیں۔ ماضی میں سیاسی و انتظامی اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والوں کے بارے میں پولیس کے اپنے خفیہ تفتیشی شعبے کی مرتب کردہ رپورٹیں سردخانے کی نذر میں پڑی ہوئی ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ وہ کہیں ’ادھر اُدھر‘ ہی نہ ہوجائیں۔ ناصر درانی سے زیادہ سنہرا (منفرد) موقع شاید ہی کسی پولیس سربراہ کو ملا ہو‘ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اصلاح و تبدیلی کے ایجنڈے پر عمل درآمد کی رفتار مزید کتنی بڑھا پاتے ہیں!؟
http://dailyaaj.com.pk/epaper/epaper/1462634497_201605072524.jpg

Friday, May 6, 2016

May2016: Violence against women in Abbottabad

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
درندگی کی انتہاء!
تصور کیجئے کہ ’عمائدین علاقہ پر مشتمل جرگہ بناء صفائی فرد جرم عائد کرتا ہے اُور مجرم قرار دی گئی لڑکی کو ’’سزائے موت‘‘ سناتا ہے۔ پھر اُسے گھسیٹ کر سب کے سامنے اِتنا پیٹا جاتا ہے کہ وہ مر جائے۔ ایک اطلاع کے مطابق ڈوپٹے سے پھندا بنا کر اُس کو سانسیں منقطع ہونے تک مارپیٹ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ نجانے کتنی ہی ہچکیاں اور چیخیں اُٹھی ہوں گی‘ لیکن ان کی گونج مقامی پولیس کے کانوں تک نہیں پہنچ سکی! ایک ہجوم جس میں شامل ہر ایک کی آنکھوں میں اس قدر خون اُترا تھا کہ اُنہیں ہاتھ اُٹھاتے ہوئے اپنی بیٹیاں یاد نہیں آئیں۔ پھر اُس لڑکی کی لاش کو آگ لگا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا جاتا ہے اور اُس بدقسمت لڑکی کا جرم صرف یہ ہوتا ہے کہ اُس کی ایک سہیلی اپنی پسند کی شادی کرنے کے لئے ’’بغاوت‘‘ پر اُتر آئی تھی! کسی کے ’جرم کی سزا‘ کسی اُور کو دے دی جاتی ہے! پھر جب جلی ہوئی لاش گاؤں سے ایبٹ آباد شہر کے وسطی ہسپتال منتقل ہوتی ہے تو ذرائع ابلاغ کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پولیس پر دباؤ بڑھتا ہے جو ’’غیرت کے نام پر ہونے والے اِس قتل‘‘ میں ملوث 14 افراد کو گرفتار کرتی ہے‘ اُن پر انسداد دہشت گردی کی دفعات میں مقدمہ درج کیا جاتا ہے اور عمومی تفتیش کی بجائے ’کاونٹر ٹریرازم ڈیپارٹمنٹ‘ عدالت سے مزید پوچھ گچھ کے لئے ریمانڈ حاصل کر لیتا ہے۔ یہ کہانی اٹھائیس اپریل سے شروع ہوتی ہے اور پانچ مئی کے روز سامنے آنے والی تفصیلات ’ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی اُو) ایبٹ آباد خرم رشید صحافیوں کے سامنے کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ ’’ضلع ایبٹ آباد کے مکول گاؤں میں عنبرین نامی لڑکی کے قتل کا معمہ پولیس نے حل کر لیاہے۔ پولیس نے لڑکی کے قتل میں ملوث چودہ ملزمان کو بھی گرفتار کیا ہے جس میں لڑکی کی والدہ شمیم بی بی اور ویلج کونسل ناظم پرویز نامی کردار شامل ہیں۔ ناظم پرویز نے پندرہ افراد پر مشتمل جرگہ منعقد کیا جس نے لڑکی کو پہلے دوپٹہ گلے میں ڈال کر پھندا لگایا اور بعدازاں اُسے گاڑی کی نشست کے ساتھ باندھ کر گاڑی کو آگ لگا دی۔ سیٹ پر چونکہ ریکسین اور چمڑا کی گدی بنی ہوتی ہے جو جلد بھڑکتے ہوئے شعلوں میں بدل گئی۔ ڈی پی او کے بقول اٹھائیس اپریل کو مکول میں پندرہ افراد پر مشتمل جرگہ صدیق نامی ڈرائیورکے گھر منعقد ہوا‘ جس میں صدیق نامی شخص کو چند روز قبل گاؤں سے ایک لڑکی کے فرار میں مدد کرنے کا الزام تھا‘ جرگہ کا سربراہ (ماسٹر مائنڈ) علاقہ کے ناظم پرویز نے (ملزمہ) لڑکی عنبرین کو قتل کرنے اور بعدازاں صدیق نامی شخص کی گاڑی میں زندہ جلانے کا فیصلہ سنایا اور قتل کے جملہ ثبوت مٹانے کے لئے ساتھ کھڑی دیگر دو گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا۔ اِس قتل کے سولہ میں سے چودہ ملزمان گرفتار جبکہ دو کی گرفتاری ابھی باقی ہے۔‘‘

جس ملک میں قانون کی حکمرانی کمزور اور انصاف تک بذریعہ عدالت رسائی صبرآزما‘ مہنگا اور ناقابل یقین حد تک دشوار و پیچیدہ عمل ہو‘ وہاں اِس قسم کے واقعات رونما (متبادل فیصلے) ہونے پر افسوس و حیرت کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔ ضلع ایبٹ آباد کے ایک دور اُفتادہ دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی بیس سالہ عنبرین قتل ہوئی‘ زندہ جلائی گئی اور اُس کی راکھ کے سوا کچھ نہیں بچا‘ جسے ’فرانزک تجزیئے‘کے لئے بھیج دیا گیا ہے لیکن وارداتیں‘ تفتیش اور روائتی مذمت کا سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک خواتین کو معاشرے کا کمزور ترین اور کم ترین سمجھا جاتا رہے گا۔ پاکستان میں ہر سال خواتین پر تشدد کے ہزاروں جبکہ قتل کے سینکڑوں واقعات رونما ہوتے ہیں! حکومت کی توجہ دلانے کے لئے ’عورت فاؤنڈیشن‘ سمیت کئی غیرسرکاری تنظیمیں باقاعدگی سے ایسے جرائم متعلق سالانہ رپورٹیں مرتب کرتی ہیں لیکن سب کا سب رائیگاں محسوس ہورہا ہے! عنبرین کا قتل بھی آئندہ کسی واردات تک خبروں (شہ سرخیوں) اور ذرائع ابلاغ پر ہونے والی بحث کا حصہ رہے گا۔ غیرملکی خبررساں ادارے بھی اِس خبر کو خوب اچھال رہے ہیں کیونکہ اِس سے پاکستان میں انسانی حقوق اور ایک عام عورت کی معاشرتی حیثیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے! جب تک خبر نشر ہوتی رہے گی اِس بارے معاشرے میں ہر سطح پر بحث بھی جاری رہے گی لیکن ’غیرت کے نام پر‘ کوئی ایک بھی ’قتل‘ اُس وقت تک ’آخری‘ ثابت نہیں ہوگا جب تک بااثر افراد کو نشان عبرت نہیں بنا دیا جاتا۔ تہذیب و تمدن‘ علم اُور فکروشعور کی منزلیں طے کرنے کا دعویٰ کرنے والے معاشرے کی ہرسطح پر‘ ہر معمول میں اگر عورت انصاف کی طلبگار ہے تو اسلامی و نظریاتی مملکت خداداد ہونے کے ’ عملی وقار کا تقاضا‘ یہ ہے کہ صنف نازک کے حقوق اُور اسلامی تعلیمات کے مطابق اُس کے جائز مقام کا ادراک و اَدائیگی میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔
http://dailyaaj.com.pk/epaper/epaper/1462463311_201605059045.jpg