Showing posts with label Primary Teachers Association. Show all posts
Showing posts with label Primary Teachers Association. Show all posts

Friday, January 21, 2022

Teacher woe(s) and right(s)

 تحریک .... آل یاسین

اساتذہ مسائل: زندہ رہنے کا حق

درس و تدریس کے عمل کو معیاری اُور یکساں نصاب کا حامل بنانے کے ساتھ فیصلہ سازوں کو اساتذہ کے ’حسب ِاطمینان‘ اقدامات و انتظامات کرنا ہوں گے تاکہ جملہ فریقین کی ذہنی آمادگی و شرکت سے ایک باسہولت نظم و نسق لاگو ہو۔ خیبرپختونخوا میں تحریک اِنصاف کی حکمرانی کا پہلا دورانیہ (دو ہزار تیرہ سے دوہزار اٹھارہ) اُور اگست دوہزار اٹھارہ سے جاری دوسرے دور حکومت میں کئی قابل ذکر (مثالی) اصلاحات ہیں اُور اِن میں بطور خاص ’ایجوکیشن سیکٹر ریفارم یونٹ (ESRU)‘ کے ذریعے تعلیم کے شعبے کی مجموعی اُور باریک بینی سے کارکردگی پر بھی نظر رکھی گئی۔ ذہن نشین رہے کہ ’ایجوکیشن سیکٹر پلان (ESP)‘ جو کہ استعداد کی بہتری سے متعلق حکمت عملی ہے وہ تعلیمی شعبے کے معیار اُور کارکردگی کے بارے میں سوچ بچار کا مجموعہ ہے‘ جس کے لئے برطانیہ‘ یورپی کمیشن‘ امریکی امدادی ادارہ (یو ایس ایڈ) اُور جرمن حکومت مجموعی طور پر 55 ہزار 338 ملین روپے فراہم کر چکی ہے لیکن یہ ساری کوششیں اُس وقت تک بارآور ثابت نہیں ہوں گی جب تک اساتذہ کی بھرتی میں اہلیت کے بعد اُنہیں اِس مقصد کے حصول کے لئے بھی قائل نہیں کر لیا جاتا کہ شعبہ¿ تعلیم صرف ملازمتوں کی فراہمی کا ذریعہ نہیں بلکہ اِس کی ایک معنویت اُور مقصدیت بھی ہے‘ جس کے اہداف حاصل کرنے میں منصوبہ سازوں سے زیادہ اساتذہ کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اساتذہ پر مبنی افرادی قوت کے جائز مسائل کا حل‘ امتیازات کا خاتمہ اُور اساتذہ کے حقوق بارے بھی کماحقہ غوروخوض اِس لئے بھی ضروری ہے تاکہ اساتذہ اطمینان قلب اُور توجہ سے اپنی تدریسی خدمات سرانجام دے سکیں۔ اساتذہ کی اکثریت کو تبادلوں اُور تعیناتیوں جیسے امور اُور اِن سے متعلق فیصلہ سازوں کے امتیازی روئیوں (جنہیں وہ فرعونیت سے تعیبر کرتے ہیں) کی شکایات رہتی ہیں اُور وہ چاہتے ہیں محکمے کے سبھی ملازمین کے لئے یکساں سلوک ہونا چاہئے۔ سیاسی اثرورسوخ‘ رشوت یا تعلقات کی بنا پر نہیں بلکہ ”میرٹ (حقیقی اہلیت)“ کے مطابق فیصلے ہونے چاہیئں۔

 محکمانہ قواعد و ضوابط پر خاطرخواہ انصاف کے ساتھ عمل درآمد دیکھنے کی ایک ایسی ہی خواہشمند معلمہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور سے ہے جہاں بطور پرائمری ٹیچر محترمہ زاوش فدا تعینات ہیں اُور چاہتی ہیں کہ اُنہیں مضافاتی دیہی علاقے کے پرائمری سکول شوراگ سے ضلع ایبٹ آباد کے شہری علاقے کے کسی تعلیمی ادارے میں تعینات کیا جائے۔

سال دوہزاراٹھارہ سےڈیسیز کوٹے (Deceased Quota)  پر بطور ”مستقل ملازمت“ پرائمری ٹیچر تدریسی خدمات سرانجام دینے والی محترمہ زاوش آبائی طور پر (خیبرپختونخوا کے) ضلع ہری پور سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اُن کی شادی ملحقہ ضلع ایبٹ آباد میں ہوئی‘ جہاں سے شوراگ گاؤں کے پرائمری سکول کا یک طرفہ فاصلہ چالیس کلومیٹر سے زیادہ ہے اُور اِس مسافت کے لئے اُنہیں ہر روز دو سے ڈھائی گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے چونکہ ضلع ہری پور کا شمار میدانی اضلاع جبکہ ضلع ایبٹ آباد کا شمار بالائی اضلاع میں ہوتا ہے اِس لئے موسم کے اثرات کی وجہ سے سکول کے آغاز و اختتام اُور تعطیلات کے دورانیئے بھی الگ الگ ہوتے ہیں اُور یوں شدید بارش حتیٰ کہ برفباری کی صورت بھی اُنہیں اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر منہ اندھیرے سکول کی راہ لینا ہوتی ہے جو شدید موسمی یا ہنگامی حالات کی صورت کبھی کبھار ممکن بھی نہیں ہو پاتا۔ تین سال چار ماہ کا صبرآزما عرصہ ،مشکل ترین حالات میں تدریسی خدمات سرانجام دینے اُور تبادلوں و تعیناتیوں پر سے پابندی اُٹھانے کی دعائیں مانگتے جیسے تیسے گزر ہی گیا اُور اب جبکہ صوبائی حکومت نے اساتذہ کے بین اضلاعی تبادلوں اُور تعیناتیوں پر سے پابندی اُٹھا دی ہے تو ضلع ہری پور کا منتظم دفتر (ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اُور اِن کا ماتحت عملہ) محترمہ زاوش فدا کی خدمات کسی دوسرے ضلع منتقل کرنے کا اجازت نامہ (NOC) جاری نہیں کر رہا جسے وہ اپنا قانونی حق قرار دیتی ہیں اُور چاہتی ہیں کہ انہیں بلاتاخیر تبادلے و تعیناتی کے لئے درکار محکمانہ اجازت نامہ جاری کیا جائے کیونکہ وہ (مبینہ طوسر پر) دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک  چکی ہے جبکہ اُنہیں متعلقہ دفتری عملے کے تضحیک آمیز رویئے سے بھی شکایت ہے۔

 یہ مسئلہ کئی ایسی معلمات کا ہے جو خاصی پریشان کن صورتحال ہے کیونکہ تبادلوں اُور تعیناتیوں پر پابندی کا اطلاق دوبارہ ہو سکتا ہے اُور اگر اِس موقع پر بھی انہیں اپنا حق نہ ملا تو مزید تین سے پانچ سال یا اِس سے بھی زیادہ عرصہ انتظار کرنا پڑ جائے گا۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اُور سوشل میڈیا پر اپنے تبادلے کے جائز قانونی حق کے لئے آواز اُٹھانے والی ’پرائمری ٹیچر‘ نے صوبائی وزیرتعلیم اُور دیگر متعلقہ فیصلہ سازوں سے درخواست کی ہے کہ اُسے دیگر ہم عصر اساتذہ کی طرح ملازمتی مقام تبدیل کرنے کی اجازت دی جائے۔

تدریسی عملے کے گوناگوں مسائل میں بالخصوص خواتین اساتذہ زیادہ متاثر دکھائی دیتی ہیں‘ جن کے لئے باسہولت اُور باعزت پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے دور دراز دیہی علاقوں میں خدمات سرانجام دینا کسی ایسے امتحان (چیلنج) سے کم نہیں جس کا اِنہیں ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ ہر روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لمحہ فکریہ اُور انتہا ہے کہ جس معاشرے میں تدریسی عملے کو انصاف نہ مل رہا ہو‘ وہاں تعلیم‘ تربیت‘ شعور نظم و ضبط اُور خواندگی میں اضافے جیسے بنیادی اہداف کا حصول بھلا کیوں کر عملاً ممکن ہو سکتا ہے؟

کیا ہم کھلی آنکھوں (جاگتے ہوئے) خواب دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں!؟

شاید موضوع اساتذہ ہی ہوں جن کی مشکلات و مسائل اُور سخت حالات کار کے بارے میں شاعر سرفراز زاہد نے کہا تھا کہ 

زندہ رہنے کا حق ملے گا اُسے
 جس میں مرنے کا حوصلہ ہوگا

....

Wednesday, April 26, 2017

Apr2017: Primary education in KP, Lack of understanding!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بنیادی تعلیم: بنیادی خامی!
خیبرپختونخوا حکومت نے ’سرکاری پرائمری سکولوں‘ کو ’نجی اِداروں‘ کے ’برابر‘ لانے کے لئے ’اَنگریزی زبان‘ کو بطور ’ذریعۂ تعلیم‘ متعارف کرتے ہوئے جن زمینی حقائق کا ادراک نہیں کیا‘ وہی شرمندگیکا سبب بھی ہے اور ایک ایسی حکمت عملی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس پر صوبائی خزانے سے ’چالیس کروڑ‘ روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی خاطرخواہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکا۔ افسوس تو اِس بات کا بھی ہے کہ اِس قدر خطیر رقم خرچ کرنے والوں کو ’افسوس‘ بھی نہیں! ’اَنگریزی زبان‘ میں تدریس کی حکمت عملی بنانے والوں نے جب سرکاری سکولوں کے پرائمری اساتذہ کا تدریسی تجربہ‘ نتائج‘ تعلیمی قابلیت اور سالہا سال پر پھیلی ’تدریسی اہلیت‘ کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ پرائمری درجات میں زیرتعلیم طالبعلموں سے قبل اساتذہ کو انگریزی زبان سکھائی جائے اور اس مقصد کے لئے برطانوی ادارے ’برٹش کونسل‘ سے ایک معاہدہ پر ’19 جولائی 2016ء‘ کے روز پشاور میں دستخط ہوئے‘ جس کے تحت ’پانچ سو‘ پرائمری اَساتذہ کو بطور ’ماسٹر ٹریننر‘ چار مضامین ’انگریزی‘ حساب‘ سائنس اُور معلومات عامہ (جنرل نالج)‘ کے مضامین سیکھ کر باقی ماندہ 80ہزار سے زائد اساتذہ کو تربیت دے کر یہ تربیت عمل رواں ماہ کے آخر (30 اپریل) تک مکمل ہونا تھی جو صرف اِس وجہ سے مکمل نہ ہوسکی کیونکہ سرکاری اداروں نے تربیت کاروں کو بروقت وسائل مہیا نہیں کئے۔ 

پرائمری سطح پر خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں انگریزی زبان متعارف کرانے کی حکمت عملی اُور ’برٹش کونسل‘ کے ذریعے تربیت و نگرانی سے متعلق قبل ازیں ’اساتذہ: بے تیغ سپاہی (چوبیس اپریل)‘ اُور ’ذریعہ تعلیم اُور نتائج (پچیس اپریل)‘ کے ذریعے مسلسل بیان کا اختتام اُس نکتۂ نظر پر ہو رہا ہے‘ جس میں ’حکمت عملی‘ کا دفاع کرنے والے ایک فیصلہ ساز نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ’پرائمری معیار تعلیم نجی تعلیمی اداروں کے مساوی کرنے کے لئے ’نیک نیتی‘ پر مبنی اقدام کیا گیا لیکن اُنہیں اندازہ نہیں کہ اِس نیک نیتی کی کتنی بھاری قیمت خیبرپختونخوا کو ادا کرنا پڑی ہے۔ 

اگر خیبرپختونخوا میں ’احتساب کمیشن‘ فعال ہوتا تو اب تک پرائمری کی سطح پر اَساتذہ کی تربیت در تربیت پر گذشتہ چار برس میں ہوئے اخراجات کا حساب کیا جاتا‘ تو دلچسپ حقائق میں وہ رنگارنگ تشہیری مہمات بھی سامنے آتیں‘ جن پر کروڑوں روپے اُڑا دیئے گئے۔ پرائمری و ثانوی تعلیم کی بہتری کے لئے دن رات سوچنے والوں کی دلچسپی کا جواز بھی موجود ہے اور حسن اتفاق ہے کہ خیبرپختونخوا کے پرائمری تعلیم سے متعلق فیصلہ سازوں اور مشیروں میں ’برٹش کونسل‘ کے سابق تنخواہ دار ملازمین شامل ہیں۔ جولائی دوہزار سولہ میں جب خیبرپختونخوا حکومت ’برٹش کونسل‘ سے اساتذہ کی تربیت کا معاہدہ کر رہی تھی‘ اُنہی دنوں کراچی میں ’برٹش کونسل لائبریری‘ کا پندرہ برس بعد دوبارہ آغاز کیا گیا جبکہ پشاور آج بھی ’برٹش کونسل لائبریری‘ سے محروم ہے جو نائن الیون دہشت گردی کے بعد بند کر دی گئی تھی۔ 

تصور کیجئے کہ ’برٹش کونسل‘ خیبرپختونخوا میں اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے میں تو دلچسپی نہیں رکھتی لیکن امن و امان کی صورتحال میں بہتری پر اُسے اس قدر یقین ہے کہ ایک سال سے پرائمری اساتذہ کی تربیت اُس کی زیرنگرانی جاری ہے!

پرائمری سطح پر غیرمقامی زبان متعارف کرانے والے کسی ایک بھی ایسے ملک کی مثال نہیں دے سکتے جہاں بچوں کو کسی ایسی زبان میں تعلیم دی جاتی ہو جو اُس کے آس پاس نہ بولی جا رہی ہو! کیا بناء انگریزی زبان ’خواندگی‘ ممکن نہیں؟ تصور کیجئے ہمارے پاس ایسے اساتذہ کی ’فوج ظفر موج‘ موجود ہے جن کی اکثریت ’انگریزی زبان‘ میں کتابیں نہیں پڑھا سکتے لیکن وہ گریجویشن اور ماسٹرز کی اسناد پر تاحیات سرکاری خزانے سے مراعات پا رہے ہیں۔ 

فیصلہ سازوں کا کہنا ہے کہ ’’مارکیٹ کی طلب (ڈیمانڈ) مدنظر رکھتے ہوئے پرائمری سطح پر انگریزی متعارف کرائی گئی ہے کیونکہ اگر کسی بچے کو اچھی انگریزی نہیں آتی تو اُسے عملی زندگی میں ترقی کے مساوی مواقع نہیں ملتے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب امیروں کے بچوں کو پرائمری کی سطح پر انگریزی پڑھائی جاتی ہے تو کسی کو اعتراض نہیں ہوتا لیکن جب حکومت یہی سہولت سرکاری سکولوں میں متعارف کراتی ہے تو ہر طرف سے تنقید ہونا شروع ہو جاتی ہے!‘‘ پرائمری سطح پر ’انگریزی زبان میں تدریس‘ کا فیصلہ کرنے والوں نے کن ماہرین سے مشاورت کی‘ اور اُنہیں ’تنقید برائے تنقید‘ کی صورت کس دباؤ کا سامنا ہے‘ یہ تو واضح نہیں لیکن نتیجہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا خزانے سے ’چالیس کروڑ روپے‘ ایک ایسے منصوبے کی نذر کر دیئے گئے ہیں‘ جس سے سوائے ’’نشستن‘ خوردن اور برخواستن‘ کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکا!

Tuesday, April 25, 2017

Apr2017: Flaws in KP's primary education policy!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام

ذریعہ تعلیم اُور نتائج!


سرکاری تعلیمی اداروں کے ’’500 ملازمین (پرائمری اساتذہ)‘‘ کو بذریعہ برطانوی ادارے ’برٹش کونسل‘ کے ذریعے درس و تدریس کے جدید تصورات سے متعلق تربیت کا اہتمام اپنی جگہ اہم لیکن جس حکمت عملی کے تحت اِن مرد و خواتین ’ماسٹر ٹریننرز‘ نے پچیس اضلاع میں اپنے ہم منصبوں کی تربیت کرنا تھی اور جو علم ’برطانوی‘ ماہرین تعلیم کے ذریعے پانچ سو اساتذہ کرام کو منتقل ہوا‘ اُس کی مزید تقسیم کا عمل رواں ماہ (اپریل دوہزارسترہ) کے آخر تک مکمل ہو جانا چاہئے تھا۔ اِس سلسلے میں گزارشات بعنوان ’اساتذہ: بے تیغ سپاہی‘ سپرد قلم کرنے کا مقصد کسی ایسے ملک کے نظام تعلیم اور درسی و تدریسی تجربات سے مرعوب ہونے کی بجائے اُن ٹھوس زمینی حقائق کا ادراک و اِصلاحاتی عمل مکمل کیا جائے‘ جس کی وجہ سے ’’علم‘ تعلیم اُور معلم‘‘ کا کردار (تصور) واضح اور نکھر جائے۔

خیبرپختونخوا کے 1 لاکھ 24 ہزار اساتذہ کے مسائل غور طلب ہیں‘ جن کے آٹھ مطالبات میں شامل ہے کہ 1: غیرمشروط ٹائم سکیل دیا جائے۔ 2: این ٹی ایس پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کو مستقل کیا جائے۔ 3: سکول ہیڈ پالیسی منظور نہیں۔ 4: تمام اساتذہ کو ’ٹیچنگ الاؤنس‘ دیا جائے۔ 5: ’آئی ایم یو‘ کا رویہ نامناسب ہے۔ 6: ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا مکمل آڈٹ کیا جائے۔ 7: ٹیچر سن کوٹہ بحال کیا جائے اور 8: تعطیلات کے دوران ’کنوینس الاؤنس‘ کی کٹوتی نہ کی جائے۔ اِن مطالبات کے حق میں ’’آل ٹیچرز کوآرڈینیشن کونسل ایک عرصے سے سراپا احتجاج ہے اور اگر اُن کے مطالبات جائز ہیں تو حل کیوں نہیں ہو رہے؟ اِس بارے میں ضلع پشاور سے ’پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن‘ (تنظیم) کے صدر عزیز اللہ خان خیبرپختونخوا میں طلوع ہونے والے ’تبدیلی کے سورج‘ کی کرنیں ’’مدھم‘‘ قرار دیتے ہیں۔ چند روز قبل (بیس اپریل) خیبرپختونخوا کے طول و عرض سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کے نمائندوں نے احتجاجی دھرنا دیا اور اس موقع پر اسپیکر اسمبلی سے ملاقات میں اُن کے جملہ مطالبات حل کرنے کے لئے حکومت نے (دفاعی پوزیشن پر جاتے ہوئے) ’تیس اپریل‘کا اگرچہ وقت مانگا ہے لیکن اساتذہ زیادہ پراُمید نہیں! کیونکہ جب تک عملی طور پر اصلاحات نافذ نہیں ہوتیں اُس وقت تک زبانی کلامی باتوں اساتذہ کو اطمینان نہیں ہوگا۔ اِس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ جب تک پرائمری سطح پر نظام تعلیم ٹھیک نہیں ہوتا اُس وقت تک سرکاری سطح پر اعلیٰ درجات میں تعلیم کا معیار محتاج توجہ ہی رہے گا۔ 

ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں موجود ہیں جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ پرائمری اساتذہ بھرتی کئے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں پرائمری سطح کی تعلیم مکمل کرنے والے جب ’چھٹی (ششم) کلاس‘ میں جاتے ہیں تو وہ اُردو زبان تک روانی سے نہیں بول سکتے۔ حال ہی میں حکومت نے پرائمری سطح کے بچوں کا امتحان لیا جو سرکاری سکول میں زیرتعلیم طلبہ تو کیا خود اساتذہ کی سمجھ سے بالاتر تھا اور اِس امتحان کا رزلٹ آنے بعد ہی بہتر تبصرہ کیا جا سکے گا۔

پرائمری سطح پر تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لئے انگریزی نہیں بلکہ ’مادری زبان‘ کو ذریعہ (میڈیم) بنانا ہوگا۔ برطانیہ سے انگریزی سیکھنے والوں کے لئے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا ’مفت مشورہ‘ موجود ہے کہ ’اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر۔‘ کیا بناء انگریزی زبان تعلیمی ترقی ممکن نہیں؟ یہ سوال فیصلہ سازوں کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے! دوسری اَہم بات ’’تغیرپذیر نصاب‘‘ ہے‘ جس میں آئے روز تبدیلیاں کی جاتی ہیں اُور موجودہ حکومت نے تو نصاب تبدیل کرنے کا ریکارڈ ہی قائم کر دیا ہے۔ جو نصاب اساتذہ کو سمجھنے کے لئے تربیت اور وہ بھی جاری تعلیمی سال کے دوران تربیت درکار ہے تو پھر بچوں کو علم کیسے اور کیونکر ممکن ہو سکے گا!پچیس سال سے ضلع پشاور کی مختلف سکولوں میں تدریسی ذمہ داریاں اَدا کرتے ہوئے 44سالہ عزیزاللہ خان کا کہنا ہے کہ ’’پرائمری سکولوں کے جملہ اساتذہ کو دیگر ہر قسم کی ڈیوٹیز سے الگ کیا جائے۔ 

تصور کیجئے کہ ’ماہ اپریل‘ میں ’نیا تعلیمی سال‘ شروع ہوتا ہے لیکن اپریل کے آخر تک مردم و خانہ شماری کا پہلا اور پچیس مئی تک دوسرا مرحلہ اختتام پذیر ہوگا جس کے لئے پرائمری اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں۔ سرکاری پرائمری سکولوں سے اچھے نتائج نتیجہ کیسے آئیں گے‘ جب اساتذہ کرام ’’دو ماہ مردم شماری‘ تین ماہ انسداد پولیو‘ مزید دو ماہ ’’ہاؤس ہولڈ سروے‘‘ اُور تین ماہ گرمی کی تعطیلات کریں گے تو صرف دو ماہ کے تدریسی عمل میں نتیجہ کیسے آ سکتا ہے؟ 

درحقیقت تعلیم کے فیصلہ ساز ’تعلیمی ترقی‘ نہیں چاہتے اُور اگر چاہتے تو اَساتذہ کی خدمات صرف اور صرف تدریس کی حد تک تک ہی محدود دکھائی دیتیں