Showing posts with label British Council. Show all posts
Showing posts with label British Council. Show all posts

Friday, May 19, 2017

May2017: Dreaming about a technology based education system!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تعلیم: ترجیحی منظرنامہ!

خیبرپختونخوا حکومت نے درس و تدریس کے عمل کو ’انقلابی خوبیوں‘ سے روشناس (مزین) کرنے کے لئے کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ پر مبنی ’انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)‘ بطور بنیادی اسلوب متعارف کرانے کا نہ صرف فیصلہ بلکہ اِس لائحہ عمل کے لئے 4ارب تیس کروڑ روپے سے زائد کی خطیر رقم آئندہ مالی سال (دوہزار سترہ اٹھارہ) کے بجٹ میں مختص کر دی جائے گی۔

خیبرپختونخوا کی تاریخ کے اِس سب سے بڑے اور غیرمعمولی ’ترقیاتی منصوبے‘ میں برق رفتار انفارمیشن اور کیمونیکشن ٹیکنالوجیز پر بھروسہ اُور اِس جدید اَسلوب کو متعارف کرانے سے تعلیمی اِداروں کے روائتی رکھ رکھاؤ اُور عمارتی ڈھانچوں (ظاہری ناک نقشے) میں نمایاں تبدیلی آئے گی لیکن سوال یہ ہے کہ انفارمیشن و کیمونیکشن ٹیکنالوجیز کے ذریعے درس و تدریس دینے والے اساتذہ (افرادی قوت) کہاں سے آئیں گے؟ خیبرپختونخوا کے موجودہ (کم وبیش) ایک لاکھ چوبیس ہزار اساتذہ کی ستر فیصد تعداد انفارمیشن و کیمونیکشن ٹیکنالوجیز سے نابلد ہیں اور اِسی بات کا احساس کرتے ہوئے ’اساتذہ کی تربیت‘ کا بھی بطور خاص اہتمام کیا جا رہاہے۔ یعنی چار ارب تیس کروڑ روپے کا ایک بڑا حصہ اساتذہ کی تربیت پر خرچ ہو جائے گا! تو معلوم ہوا کہ نئی حکمت عملی سے اگر کسی اور کا فائدہ (بھلا) ہو یا نہ ہو لیکن اساتذہ کی تربیت کا اہتمام و انتظام کرنے والوں کی قسمت ضرور بدلنے جا رہی ہے! یہ کہاں کا انصاف ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنے آخری مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ایک ایسی حکمت عملی پیش کرے جسے جاری رکھنا آنے والی حکومتوں کے لئے ممکن نہ ہو؟ چار سال اساتذہ کی تربیت پر اربوں روپے خرچ کرنے اور برطانوی حکومت کے ادارے ’برٹش کونسل‘ یا اِس جیسے دیگر غیر ملکی اداروں کو منتقل کرنے سے حاصل نتائج پر غور کرنا کس کی ذمہ داری بنتی ہے؟ کیا یہ بہتر و پائیدار نہ ہوتا کہ یکایک‘ فوراً اور آن کی آن تعلیمی نظام کی اس قدر بڑے پیمانے پر اصلاح کی بجائے شعبۂ تعلیم میں انفارمیشن و کیمونیکشن ٹیکنالوجیز کا مرحلہ وار اطلاق کیا جاتا؟ توانائی بحران اور دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے ناقابل اعتماد نظام سے کس طرح‘ اتنی بڑی توقعات اور اُمیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں؟

یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ آنے والا دور ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ ہی کا ہوگا‘ جس پر انحصار بڑھنے کے ساتھ تعلیمی اداروں اور درس و تدریس کے اوقات کی پابندی بھی بتدریج کم ہوتی چلی جائے گی لیکن یہ عمل بیک جنبش قلم (آنکھ چھپکتے) ممکن نہیں اور نہ ہی محض سرمائے کے زور میں ایسا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ترقی کا ’پائیدار پہلو‘ یہ ہوتا ہے کہ اِسے مرحلہ وار‘ حقائق سے ہم آہنگ اور دستیاب افرادی و مالی وسائل کے مطابق ہونا چاہئے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کا قبلہ درست کرنے کے لئے نجی شعبے کے عملی تجربے اور (حاصل) تجربات سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہر نجی سکول اپنے وسائل اور اپنی ضروریات کا تعین کرکے اساتذہ کی تربیت کا اہتمام کرتا ہے اور اِس کے لئے موسم گرما یا سرما کی طویل یا ہفتہ وار تعطیلات سے استفادہ کیا جاتا ہے کیا سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کی اُن کے متعلقہ شعبوں میں تربیت کا انتظام تعطیلات کے دوران ممکن نہیں ہوسکتا؟ کیا نصاب کو عملی تجربات اور مطالعاتی دوروں سے آسان نہیں بنایا جاسکتا؟ نجی تعلیمی اداروں کی طرح سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم بچوں کے قیمتی وقت کو تعطیلات کی نذر کرنے کی بجائے اُنہیں اندرون یا بیرون ملک کیوں نہیں بھیجا جا سکتا؟ یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کے میدانی (گرم) علاقوں میں ستائیس مئی سے اکتیس اگست (تین ماہ پانچ دن) جبکہ پہاڑی (سرد) علاقوں میں یکم جولائی سے اکتیس جولائی (ایک ماہ) کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے۔ سبب جو بھی ہو لیکن تعلیمی عمل مہینوں معطل رہنے اور اِس دورانیئے سے بہتر و مفید عملی استفادے کے بارے میں سوچ بچار اگر ماضی کی حکومتوں کا طرزعمل نہیں رہا تو کیا ’روایت پرستی‘ میں معاملات (وقت کا ضیاع) جوں کے توں ہوتا رہے؟ گرمی ہو یا سردی‘ ہڑتال ہو یا احتجاج‘ تعطیلات کا کوئی مقصد (جواز) ہو ہی نہیں سکتا مگر اِس کی ضرورت اُن سرمایہ داروں کو رہتی ہے جو ایک مصروف ترین سال کے چند ہفتے اہل خانہ کے ہمراہ کسی پرفضا مقام یا بیرون ملک بسر کرنے کو معمول بنائے ہوئے ہیں! موسمی شدت سے بچنے کے لئے تعلیمی اداروں کے اُوقات تبدیل کئے جا سکتے ہیں۔

سکولوں کو آمدورفت کے لئے سفری سہولیات میں اضافہ ممکن ہے۔ پرفضا مقامات کی آب وہوا کو درس وتدریس کے عمل سے زیادہ معطر بھی تو بنایا جاسکتا ہے؟ آخر فیصلہ سازوں نے یہ نتیجہ کس سائنسی بنیاد (اصول) پر اخذ کر لیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے اساتذہ کو ایک جیسی تربیت چاہئے اور سبھی کی صرف انگریزی مضمون ہی میں مہارت بڑھانے سے ضرورت پوری اور معیار تعلیم بہتر ہو جائے گا؟

شعبۂ تعلیم کے مستقبل اُور مستقبل کی ضروریات پر نظر رکھتے ہوئے آج کی تاریخ اور آج کی تقاضوں کا احساس و ادراک بھی ترجیح ہونی چاہئے۔

Friday, May 12, 2017

May2017: Tale of GPS Matta Khel Shabqadar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
آخری موقع!
خیبرپختونخوا میں تعلیمی انقلاب کے لئے ’ہنگامی حالات‘ کے ثمرات بڑے شہروں میں تو دیکھے جا سکتے ہیں لیکن صوبے کے پچیس اضلاع کے دور اُفتادہ علاقوں میں صورتحال جوں کی توں (ناقابل بیان) ہے جہاں سرکاری تعلیمی اداروں بالخصوص پرائمری و سیکنڈری سکولوں کی عمارتیں خاطرخواہ حکومتی توجہ سے محروم ہیں۔ دس مئی کو ’’آخری سال‘‘ کے عنوان سے خیبرپختونخوا کے پرائمری و سیکنڈری (بنیادی و ثانوی) تعلیمی امور کے لئے مختص مالی وسائل میں اضافے اور فیصلہ سازی کے عمل میں ترجیحات کا ذکر کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ تحریک انصاف کی قیادت میں صوبائی حکومت آخری سال کو ’آخری موقع‘ سمجھے یا نہ سمجھے لیکن حقیقت یہی ہے کہ چار سال قومی سیاست پر پارٹی کی مرکزی قیادت کے پیچھے چلنے والوں کے پاس ایک سال سے بھی کم عرصے کی مہلت باقی ہے۔ 

دانشمند وہ نہیں ہوتا جو خود غلطی نہ کرے بلکہ دوسروں اور اپنی غلطیوں سے حاصل اسباق پیش نظر رکھنے والا سرخرو ہوتا ہے اور سیاست میں عوامی مقبولیت کا معیار وہ بظاہر چھوٹے امور بھی بن جاتے ہیں‘ جن کی جانب دیگر مصروفیات میں توجہ نہیں رہتی! 

شعبۂ تعلیم بالخصوص پرائمری تعلیم کی بہتری کے نام پر غیرترقیاتی اَخراجات کم کرنے میں صوبائی حکومت کامیاب ہو سکتی تھی لیکن بجائے غیرتدریسی افرادی بوجھ کم کرنے کے محکمے نے بالواسطہ اور بلاواسطہ ایسے مشیروں اور ماہرین کی خدمات حاصل کیں جن کا مقصد صرف اور صرف اعدادوشمار جمع کرنا تھا۔ کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں کہ خیبرپختونخوا کے محکمۂ تعلیم میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد ملازمین ہیں اور اِن ملازمین سے کام لینے کے لئے بھی مزید ملازمین رکھنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے! دست بستہ معذرت ہے کہ ’’آخری سال‘‘ کے عنوان سے کالم ضلع چارسدہ کی تحصیل شبقدر کے علاقے ’مٹہ مغل خیل‘ کے رہنے والوں کے زخموں پر نمک پاشی ثابت ہوا لیکن اگر وہ ایک تسلسل سے قبل ازیں لکھی گئی تحریروں کو اپنے حافظوں میں محفوظ رکھتے تو ’گلہ مند‘ ہونے کی نوبت ہی نہ آتی بہرحال مٹہ مغل خیل کی نمائندگی کرنے والوں نے بذریعہ برقی مکتوب (اِی میل) ’گورنمنٹ پرائمری سکول مٹہ مغل خیل‘ کی خستہ حالی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے درجنوں ایسی تصاویر اور ویڈیوز ارسال کی ہیں جن میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ 1971ء میں تعمیر ہونے والے اِس سکول کی عمارت ناقابل استعمال ہے اور اِس حد تک بوسیدہ ہو چکی ہے کہ اِس سے استفادہ کرنا طالبعلموں اور اساتذہ کے لئے کسی بھی صورت محفوظ نہیں۔ 

چھتوں میں سوراخ‘ اُکھڑی ہوئی کھڑکیاں‘ دَروازے‘ ٹوٹ پھوٹ کا شکار فرش‘ کھلے آسمان تلے دو سو سے زائد بچوں کے ’کلاس رومز‘ پینے کے پانی اُور بیت الخلاء جیسی غیرمعیاری و ناکافی سہولیات اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ پالیسی سازی‘ کاغذی کاروائی‘ اَعدادوشمار جمع کرنے اُور اعدادوشمار سے اَخذ کی جانے والی معلومات (لائحہ عمل) کے مراحل میں کہیں نہ کہیں بہت بڑی کمی (خامی) رہ گئی ہے۔ سکول انتظامیہ (ہیڈماسٹر) کی جانب سے ’یکم جنوری دوہزار سترہ‘ کو تحریری طور پر متعلقہ حکام (ایس ڈی اِی اُو‘ اُور اے ایس ڈی اِی اُو) کو بعنوان ’’پیشگی اطلاع برائے بوسیدہ عمارت‘‘ ارسال کر دی گئی ہے جس میں ’جی پی ایس مٹہ مغل خیل‘ میں سات جماعتوں کے لئے متبادل جگہ فراہم کرنے اور نئے کمروں کی تعمیر کے لئے مالی وسائل فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے لیکن ایک سو بیس دن (چار ماہ) سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی متعلقہ حکام کی توجہ سرکاری پرائمری سکولوں کی جانب مبذول نہ ہو سکی!

بنیادی و ثانوی محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے 16 اپریل 2014ء کو ’انڈی پینڈنیٹ منیجمنٹ یونٹ (آئی ایم یو)‘ قائم کیا‘ جبکہ اِس شعبے نے ’ماہ فروری دوہزار چودہ‘ کے پہلے ہفتے سے کام کرنا شروع کر دیا تھا اُور حسن اتفاق یہ بھی ہے کہ پاکستان میں برطانوی حکومت کے نمائندہ ادارے ’برٹش کونسل‘ کے حاضرسروس اور اِس سے وابستہ رہنے والوں کی بڑی تعداد اِس یونٹ کا حصہ بنی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے من پسند افراد کے ’سی ویز‘ سامنے رکھتے ہوئے مختلف عہدوں کے لئے بھرتیوں کو مشتہر کیا گیا اور ظاہر ہے کہ وہی ’ماہر‘ مطلوبہ قابلیت کے معیار پر پورا اُتر سکتے تھے جو منتخب ہوتے چلے گئے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن محکمۂ تعلیم کی برٹش کونسل سے قربت اور اربوں روپے اساتذہ کی تربیت پر خرچ کرکے برٹش کونسل کو مالی فائدہ پہنچانے اور برٹش کونسل کے حاضر سروس ملازمین کی خدمات سے استفادہ کرنے سے متعلق بدعنوانی کے کیسز سامنے آئیں گے۔ اُمید کی جا سکتی ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کم سے کم یہ سوال تو پوچھے گی کہ محکمہ تعلیم بشمول پرائمری وسیکنڈری سکولوں میں کتنا غیرتدریسی عملہ بھرتی کیا گیا؟ برٹش کونسل سے تربیتی معاہدے کی تفصیلات اور برٹش کونسل کے حاضر اور سابق کتنے ملازمین کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں؟

نگرانوں پر نگران ادارے ’آئی ایم یو‘ کے قیام کا مقصد ’28 ہزار‘ سرکاری سکولوں کی نگرانی اور اُن سے متعلق اعدادوشمار جمع کرنا تھا تاکہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی حاضری‘ طلباء و طالبات کی تعداد‘ نتائج اور سہولیات کا معیار یکساں بنیادوں پر بہتر بنایا جا سکے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اب تک ’آئی ایم یو‘ نے پانچ سو نگرانوں (مانیٹرنگ اسسٹنٹس) کا چناؤ کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفسیرز کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے۔ مانیٹرنگ اسسٹنٹس کی تربیت مکمل کی لیکن اِس پوری کوشش سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار کس قدر مشکوک ہو جاتے ہیں اگر کوئی ایک بھی سکول ایسا پایا جائے‘ جس کی عمارت ناقابل استعمال اور جہاں سہولیات کی مقدار و معیار ناقابل یقین حد تک کم ہو!؟

شبقدر کا مذکورہ گورنمنٹ پرائمری سکول قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 8 (چارسدہ ٹو) اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے 21 (چارسدہ فائیو)‘ اور ’پی کے 22‘ (چارسدہ سکس) کا حصّہ ہے۔ گیارہ مئی دوہزار گیارہ کے عام انتخابات (ٹھیک چار سال قبل یہاں سے) قومی اسمبلی کی نشست پر قومی وطن پارٹی (شیرپاؤ) جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر یہاں سے قومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف کے نامزد اُمیدوار کامیاب ہوئے اور یہ دونوں جماعتیں خیبرپختونخوا کی موجودہ صوبائی حکومت کا حصہ ہیں۔ 

کسی ایسے انتخابی حلقے کا ’پرائمری سکول‘ کس طرح ’نظرانداز‘ ہو سکتا ہے جبکہ وہاں سے تعلق رکھنے والے دو صوبائی اور ایک قومی اسمبلی کا رکن اقتدار کا حصہ ہوں؟ تعجب خیز امر یہ بھی ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں سہولیات کی نگرانی کرنے والے ایک سے زیادہ صوبائی حکومت کے اداروں کی موجودگی کے باوجود کس طرح ’آئی ایم یو کوڈ نمبر 12975‘ کے تحت پرائمری سکول خستہ حالی (بوسیدگی) کی تصویر ہو سکتا ہے؟

Thursday, April 27, 2017

Apr2017: Teaching & Teachers, the Self accountability concept!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام

درس و تدریس: احتساب اُور خوداحتسابی!

خیبرپختونخوا میں ’تعلیمی ایمرجنسی‘ کا نفاذ ’دوہزار تیرہ‘ میں تحریک اِنصاف کی حکومت قائم ہونے کے ساتھ ہی ہوگیا تھا‘ جس کے تحت دعویٰ کیا گیا کہ صوبے کے ہر بچے کو جدید اُور معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن بنا دی گئی ہے تو کیا ماضی میں محکمۂ تعلیم کی سرپرستی و نگرانی میں ’جدید اور معیاری تعلیم‘ فراہم نہیں ہو رہی تھی؟ پھر تین سال تک ’تعلیمی اَیمرجنسی‘ کے تحت جو اِصلاحات کی گئیں‘ اُن سے متعلق ’تین سالہ کارکردگی رپورٹ‘ ’’ستمبر2016ء‘ میں جاری کرتے ہوئے یاد دلایا گیا کہ ’’مالی سال (دوہزار سولہ سترہ) میں ’اِبتدائی و ثانوی تعلیم‘ کے لئے ’100 ارب روپے‘ مختص کئے گئے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں (حسب روایت) بہت سے ’اعدادوشمار‘ بھی شامل تھے جن کے مطابق 2013ء سے 2016ء کے دوران صوبے کے دور دراز اُور پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کے لئے 1251 کیمونٹی سکول بنائے گئے۔ 2 ارب سے زائد تعلیمی وظائف اور ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت 26کروڑ روپے کے سکالرشپ دیئے گئے لیکن اِس ’تین سالہ کارکردگی رپورٹ‘ کا دلچسپ حصہ ’’اساتذہ کی تربیت‘‘ سے متعلق تھا یعنی تین سال کے دوران خیبرپختونخوا حکومت نے قریب ’ایک لاکھ چوبیس ہزار‘ میں سے ’66 ہزار 905‘ اساتذہ کو درس و تدریس کی تربیت دی‘ جس پر 80کروڑ روپے خرچ ہوئے! 

تصور کیجئے کہ ہمارے ہاں تعلیم کے نام پر سب کچھ (دستیاب) ہے جبکہ اگر محسوس ہونے والی کسی ایک چیز کی کمی دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو وہ ’’صرف اُور صرف‘‘ ایسے معلمین کی ہے جو معلم ہونے کے اہل ہوں! 

’اساتذہ بے تیغ سپاہی (چوبیس اپریل)‘ ذریعہ تعلیم اُور نتائج (پچیس اپریل)‘ بنیادی تعلیم: بنیادی خامی! (پچیس اپریل) کے تحت جو کچھ بیان کرنے کی کوشش کی گئی‘ اُسے حکومتی و تعلیم کے نگران حلقوں نے پسند نہیں کیا تو اِس کی منطق سمجھ آتی ہے لیکن شعبۂ تعلیم میں اصلاحات کے نام پر مالی وسائل کا ضیاع اور خردبرد پر افسوس کا اظہار‘ سوچنا اور لکھنا بند کر دیا جائے‘ تو نہایت ہی معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ بنیادی وثانوی تعلیم کی ترقی کے لئے صوبائی حکومت کے جوانسال مشیر نجی اللہ خٹک کی یہ خواہش پوری نہیں کی جاسکتی۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کسی اُور کے لئے ’ذریعہ معاش‘ اور ’روزگار کا نادر موقع‘ تو ہو سکتی ہے لیکن کم سے کم ذرائع ابلاغ کو اِس سے دلدل سے الگ رہتے ہوئے رہنمائی کی ذمہ داری نبھاتے رہنی چاہئے۔ عین ممکن ہے الفاظ کی قدر نہ کی جائے‘ اُنہیں بکواس کہا جائے‘ لیکن سچ کی توہین باوجود کوشش بھی ممکن نہیں ہوگی!

اعتراف حقیقت ہے کہ ’ابتدائی (پرائمری) و ثانوی تعلیم‘ کے فروغ کی خواہش رکھنے والی ’خیبرپختونخوا حکومت‘ کے لئے درپیش چیلنجز کی ’قطعی کوئی کمی‘ نہیں تھی۔ فہرست مرتب کی جائے تو تین بڑی مشکلات میں پہلی رکاوٹ یہ تھی کہ بچوں کی تعداد اور آبادی کے تناسب سے پسماندہ علاقوں میں سکول موجود نہیں تھے‘ جہاں سکول تھے تو بنیادی ضروریات نہیں تھیں۔ اساتذہ حاضری تک کو ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ ایسے سرکاری اساتذہ بھی پائے گئے جنہوں نے اپنی جگہ چند گھنٹے حاضری کے لئے بے روزگاروں کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں! علاؤہ ازیں غربت و دیگر محرکات کی وجہ سے والدین کی ایک بڑی تعداد بچوں کو سکول نہ بھیجنے پر بضد تھی‘ جنہیں قائل کرنا سیاست دانوں (اصلاح کاروں) کے لئے باوجود خواہش و کوشش بھی مشکل نہ ہوا‘ اور جب ہر حربہ ناکام ثابت ہوا‘ تو بعدازاں قانون سازی کا سہارا بھی لیا گیا جو ہنوز کارگر ثابت نہیں ہوا کیونکہ قوانین پر عمل درآمد کرانے کا ’ٹریک ریکارڈ‘ زیادہ اچھا نہیں! اگر ہم خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت کے تین سال‘ گیارہ ماہ‘ پندرہ دنوں (مئی دوہزار تیرہ سے اپریل دوہزار سترہ) کی کارکردگی دیکھیں تو قوانین پر عمل درآمد کے لحاظ سے ہم آج بھی وہیں کے وہیں کھڑے ہیں‘ تبدیلی کے ثمرات عملاً دیکھنے کے خواہشمند ہیں! اِس حد درجے مایوسی کا ثبوت خود حکومتی رپورٹ (Annual Status of Education Report ASER) میں بھی ملتا ہے جو دسمبر 2015ء کے آخری ہفتے جاری کی گئی اور جس میں کہا گیا تھا کہ ’’سال دوہزار تیرہ (خیبرپختونخوا حکومت کے پہلے سال) میں 13فیصد بچے سکولوں سے باہر تھے لیکن دوہزار چودہ کے اختتام پر یہ تعداد کم ہونے کی بجائے (’دو فیصد‘ بڑھ کر) 15فیصد ہو گئی!‘‘ تو کیا اِس میں بہتری آئی ہے یا صرف اعدادوشمار تبدیل کردیئے گئے ہیں!؟ 

سکولوں کی تعداد اُور تعلیمی اداروں سے باہر تعداد کے بعد تیسری مشکل اساتذہ تھے‘ جن کی اکثریت یا تو سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے اپنی بنیادی ذمہ داری ادا نہیں کر رہی یا پھر اُن کی ذمہ داریاں میں غیرمتعلقہ امور شامل کر دیئے گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ ایسے بھی ہیں‘ کہ جن کے درس وتدریس کا طریقہ تعلیم وتربیت کے جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں! یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں کسی معلم (ٹیچر) کی وہ عزت و تکریم (مقام) بھی دکھائی نہیں دیتا کہ جو عملاً ہونا چاہئے۔ ترقی یافتہ (معاشروں) مغربی ممالک میں کسی اُستاد اور بالخصوص سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستہ معلمین کا مقام دیکھنے لائق ہوتا ہے‘ جنہیں عمومی قوانین میں استثنی تک دیا جاتا ہے جیسا تقدس ہمارے ہاں صدر‘ وزیراعظم‘ گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کو حاصل ہے۔ بہرحال اساتذہ کو اُن کے منصب و مقام سے آشنا کرنے اور تدریس کے جدید تصورات سے روشناس کرانے کے لئے خیبرپختونخوا حکومت پہلے مالی سال سے چوتھے سال تک کروڑوں روپے خرچ کر چکی ہے‘ لیکن (مایوس کن) صورتحال جوں کی توں (بدستور) برقرار ہے تو اِس سلسلے میں اساتذہ اور اُن کے ذمہ دار نگرانوں کو بھی ’خوداحتسابی‘ کے تحت اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہئے کہ کیا وہ سرکاری خزانے سے ملنے والی تنخواہ اُور دیگر مراعات کے ’حقیقت میں‘ حقدار (بھی) ہیں؟ 

کیا استاد ایسا کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اپنی کارکردگی کا موازنہ دیگر سرکاری ملازمین سے کرتے ہوئے مطمئن ہو جائیں کہ اگر وہ کام نہیں کررہے تو دیگر سرکاری ملازمین نے ایسی کون سی کارکردگی کا مظاہرہ کر دیا ہے؟ معاشرے میں تبدیلی (ارتقاء) حکومتوں کی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی سے ممکن ہوسکتا ہے اور بس‘ اُس نظام سے جس میں خوداحتسابی کا عنصر شامل ہو‘ جس میں ہر سرکاری ملازم ’فرض آشنا‘ ہو اور اُس کے لئے دوسرے نہیں بلکہ وہ ’بذات خود‘ دوسروں کے لئے ’مثال‘ قرار پائے!

Wednesday, April 26, 2017

Apr2017: Primary education in KP, Lack of understanding!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بنیادی تعلیم: بنیادی خامی!
خیبرپختونخوا حکومت نے ’سرکاری پرائمری سکولوں‘ کو ’نجی اِداروں‘ کے ’برابر‘ لانے کے لئے ’اَنگریزی زبان‘ کو بطور ’ذریعۂ تعلیم‘ متعارف کرتے ہوئے جن زمینی حقائق کا ادراک نہیں کیا‘ وہی شرمندگیکا سبب بھی ہے اور ایک ایسی حکمت عملی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس پر صوبائی خزانے سے ’چالیس کروڑ‘ روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی خاطرخواہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکا۔ افسوس تو اِس بات کا بھی ہے کہ اِس قدر خطیر رقم خرچ کرنے والوں کو ’افسوس‘ بھی نہیں! ’اَنگریزی زبان‘ میں تدریس کی حکمت عملی بنانے والوں نے جب سرکاری سکولوں کے پرائمری اساتذہ کا تدریسی تجربہ‘ نتائج‘ تعلیمی قابلیت اور سالہا سال پر پھیلی ’تدریسی اہلیت‘ کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ پرائمری درجات میں زیرتعلیم طالبعلموں سے قبل اساتذہ کو انگریزی زبان سکھائی جائے اور اس مقصد کے لئے برطانوی ادارے ’برٹش کونسل‘ سے ایک معاہدہ پر ’19 جولائی 2016ء‘ کے روز پشاور میں دستخط ہوئے‘ جس کے تحت ’پانچ سو‘ پرائمری اَساتذہ کو بطور ’ماسٹر ٹریننر‘ چار مضامین ’انگریزی‘ حساب‘ سائنس اُور معلومات عامہ (جنرل نالج)‘ کے مضامین سیکھ کر باقی ماندہ 80ہزار سے زائد اساتذہ کو تربیت دے کر یہ تربیت عمل رواں ماہ کے آخر (30 اپریل) تک مکمل ہونا تھی جو صرف اِس وجہ سے مکمل نہ ہوسکی کیونکہ سرکاری اداروں نے تربیت کاروں کو بروقت وسائل مہیا نہیں کئے۔ 

پرائمری سطح پر خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں انگریزی زبان متعارف کرانے کی حکمت عملی اُور ’برٹش کونسل‘ کے ذریعے تربیت و نگرانی سے متعلق قبل ازیں ’اساتذہ: بے تیغ سپاہی (چوبیس اپریل)‘ اُور ’ذریعہ تعلیم اُور نتائج (پچیس اپریل)‘ کے ذریعے مسلسل بیان کا اختتام اُس نکتۂ نظر پر ہو رہا ہے‘ جس میں ’حکمت عملی‘ کا دفاع کرنے والے ایک فیصلہ ساز نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ’پرائمری معیار تعلیم نجی تعلیمی اداروں کے مساوی کرنے کے لئے ’نیک نیتی‘ پر مبنی اقدام کیا گیا لیکن اُنہیں اندازہ نہیں کہ اِس نیک نیتی کی کتنی بھاری قیمت خیبرپختونخوا کو ادا کرنا پڑی ہے۔ 

اگر خیبرپختونخوا میں ’احتساب کمیشن‘ فعال ہوتا تو اب تک پرائمری کی سطح پر اَساتذہ کی تربیت در تربیت پر گذشتہ چار برس میں ہوئے اخراجات کا حساب کیا جاتا‘ تو دلچسپ حقائق میں وہ رنگارنگ تشہیری مہمات بھی سامنے آتیں‘ جن پر کروڑوں روپے اُڑا دیئے گئے۔ پرائمری و ثانوی تعلیم کی بہتری کے لئے دن رات سوچنے والوں کی دلچسپی کا جواز بھی موجود ہے اور حسن اتفاق ہے کہ خیبرپختونخوا کے پرائمری تعلیم سے متعلق فیصلہ سازوں اور مشیروں میں ’برٹش کونسل‘ کے سابق تنخواہ دار ملازمین شامل ہیں۔ جولائی دوہزار سولہ میں جب خیبرپختونخوا حکومت ’برٹش کونسل‘ سے اساتذہ کی تربیت کا معاہدہ کر رہی تھی‘ اُنہی دنوں کراچی میں ’برٹش کونسل لائبریری‘ کا پندرہ برس بعد دوبارہ آغاز کیا گیا جبکہ پشاور آج بھی ’برٹش کونسل لائبریری‘ سے محروم ہے جو نائن الیون دہشت گردی کے بعد بند کر دی گئی تھی۔ 

تصور کیجئے کہ ’برٹش کونسل‘ خیبرپختونخوا میں اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے میں تو دلچسپی نہیں رکھتی لیکن امن و امان کی صورتحال میں بہتری پر اُسے اس قدر یقین ہے کہ ایک سال سے پرائمری اساتذہ کی تربیت اُس کی زیرنگرانی جاری ہے!

پرائمری سطح پر غیرمقامی زبان متعارف کرانے والے کسی ایک بھی ایسے ملک کی مثال نہیں دے سکتے جہاں بچوں کو کسی ایسی زبان میں تعلیم دی جاتی ہو جو اُس کے آس پاس نہ بولی جا رہی ہو! کیا بناء انگریزی زبان ’خواندگی‘ ممکن نہیں؟ تصور کیجئے ہمارے پاس ایسے اساتذہ کی ’فوج ظفر موج‘ موجود ہے جن کی اکثریت ’انگریزی زبان‘ میں کتابیں نہیں پڑھا سکتے لیکن وہ گریجویشن اور ماسٹرز کی اسناد پر تاحیات سرکاری خزانے سے مراعات پا رہے ہیں۔ 

فیصلہ سازوں کا کہنا ہے کہ ’’مارکیٹ کی طلب (ڈیمانڈ) مدنظر رکھتے ہوئے پرائمری سطح پر انگریزی متعارف کرائی گئی ہے کیونکہ اگر کسی بچے کو اچھی انگریزی نہیں آتی تو اُسے عملی زندگی میں ترقی کے مساوی مواقع نہیں ملتے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب امیروں کے بچوں کو پرائمری کی سطح پر انگریزی پڑھائی جاتی ہے تو کسی کو اعتراض نہیں ہوتا لیکن جب حکومت یہی سہولت سرکاری سکولوں میں متعارف کراتی ہے تو ہر طرف سے تنقید ہونا شروع ہو جاتی ہے!‘‘ پرائمری سطح پر ’انگریزی زبان میں تدریس‘ کا فیصلہ کرنے والوں نے کن ماہرین سے مشاورت کی‘ اور اُنہیں ’تنقید برائے تنقید‘ کی صورت کس دباؤ کا سامنا ہے‘ یہ تو واضح نہیں لیکن نتیجہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا خزانے سے ’چالیس کروڑ روپے‘ ایک ایسے منصوبے کی نذر کر دیئے گئے ہیں‘ جس سے سوائے ’’نشستن‘ خوردن اور برخواستن‘ کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکا!

Tuesday, April 25, 2017

Apr2017: Flaws in KP's primary education policy!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام

ذریعہ تعلیم اُور نتائج!


سرکاری تعلیمی اداروں کے ’’500 ملازمین (پرائمری اساتذہ)‘‘ کو بذریعہ برطانوی ادارے ’برٹش کونسل‘ کے ذریعے درس و تدریس کے جدید تصورات سے متعلق تربیت کا اہتمام اپنی جگہ اہم لیکن جس حکمت عملی کے تحت اِن مرد و خواتین ’ماسٹر ٹریننرز‘ نے پچیس اضلاع میں اپنے ہم منصبوں کی تربیت کرنا تھی اور جو علم ’برطانوی‘ ماہرین تعلیم کے ذریعے پانچ سو اساتذہ کرام کو منتقل ہوا‘ اُس کی مزید تقسیم کا عمل رواں ماہ (اپریل دوہزارسترہ) کے آخر تک مکمل ہو جانا چاہئے تھا۔ اِس سلسلے میں گزارشات بعنوان ’اساتذہ: بے تیغ سپاہی‘ سپرد قلم کرنے کا مقصد کسی ایسے ملک کے نظام تعلیم اور درسی و تدریسی تجربات سے مرعوب ہونے کی بجائے اُن ٹھوس زمینی حقائق کا ادراک و اِصلاحاتی عمل مکمل کیا جائے‘ جس کی وجہ سے ’’علم‘ تعلیم اُور معلم‘‘ کا کردار (تصور) واضح اور نکھر جائے۔

خیبرپختونخوا کے 1 لاکھ 24 ہزار اساتذہ کے مسائل غور طلب ہیں‘ جن کے آٹھ مطالبات میں شامل ہے کہ 1: غیرمشروط ٹائم سکیل دیا جائے۔ 2: این ٹی ایس پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کو مستقل کیا جائے۔ 3: سکول ہیڈ پالیسی منظور نہیں۔ 4: تمام اساتذہ کو ’ٹیچنگ الاؤنس‘ دیا جائے۔ 5: ’آئی ایم یو‘ کا رویہ نامناسب ہے۔ 6: ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا مکمل آڈٹ کیا جائے۔ 7: ٹیچر سن کوٹہ بحال کیا جائے اور 8: تعطیلات کے دوران ’کنوینس الاؤنس‘ کی کٹوتی نہ کی جائے۔ اِن مطالبات کے حق میں ’’آل ٹیچرز کوآرڈینیشن کونسل ایک عرصے سے سراپا احتجاج ہے اور اگر اُن کے مطالبات جائز ہیں تو حل کیوں نہیں ہو رہے؟ اِس بارے میں ضلع پشاور سے ’پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن‘ (تنظیم) کے صدر عزیز اللہ خان خیبرپختونخوا میں طلوع ہونے والے ’تبدیلی کے سورج‘ کی کرنیں ’’مدھم‘‘ قرار دیتے ہیں۔ چند روز قبل (بیس اپریل) خیبرپختونخوا کے طول و عرض سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کے نمائندوں نے احتجاجی دھرنا دیا اور اس موقع پر اسپیکر اسمبلی سے ملاقات میں اُن کے جملہ مطالبات حل کرنے کے لئے حکومت نے (دفاعی پوزیشن پر جاتے ہوئے) ’تیس اپریل‘کا اگرچہ وقت مانگا ہے لیکن اساتذہ زیادہ پراُمید نہیں! کیونکہ جب تک عملی طور پر اصلاحات نافذ نہیں ہوتیں اُس وقت تک زبانی کلامی باتوں اساتذہ کو اطمینان نہیں ہوگا۔ اِس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ جب تک پرائمری سطح پر نظام تعلیم ٹھیک نہیں ہوتا اُس وقت تک سرکاری سطح پر اعلیٰ درجات میں تعلیم کا معیار محتاج توجہ ہی رہے گا۔ 

ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں موجود ہیں جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ پرائمری اساتذہ بھرتی کئے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں پرائمری سطح کی تعلیم مکمل کرنے والے جب ’چھٹی (ششم) کلاس‘ میں جاتے ہیں تو وہ اُردو زبان تک روانی سے نہیں بول سکتے۔ حال ہی میں حکومت نے پرائمری سطح کے بچوں کا امتحان لیا جو سرکاری سکول میں زیرتعلیم طلبہ تو کیا خود اساتذہ کی سمجھ سے بالاتر تھا اور اِس امتحان کا رزلٹ آنے بعد ہی بہتر تبصرہ کیا جا سکے گا۔

پرائمری سطح پر تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لئے انگریزی نہیں بلکہ ’مادری زبان‘ کو ذریعہ (میڈیم) بنانا ہوگا۔ برطانیہ سے انگریزی سیکھنے والوں کے لئے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا ’مفت مشورہ‘ موجود ہے کہ ’اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر۔‘ کیا بناء انگریزی زبان تعلیمی ترقی ممکن نہیں؟ یہ سوال فیصلہ سازوں کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے! دوسری اَہم بات ’’تغیرپذیر نصاب‘‘ ہے‘ جس میں آئے روز تبدیلیاں کی جاتی ہیں اُور موجودہ حکومت نے تو نصاب تبدیل کرنے کا ریکارڈ ہی قائم کر دیا ہے۔ جو نصاب اساتذہ کو سمجھنے کے لئے تربیت اور وہ بھی جاری تعلیمی سال کے دوران تربیت درکار ہے تو پھر بچوں کو علم کیسے اور کیونکر ممکن ہو سکے گا!پچیس سال سے ضلع پشاور کی مختلف سکولوں میں تدریسی ذمہ داریاں اَدا کرتے ہوئے 44سالہ عزیزاللہ خان کا کہنا ہے کہ ’’پرائمری سکولوں کے جملہ اساتذہ کو دیگر ہر قسم کی ڈیوٹیز سے الگ کیا جائے۔ 

تصور کیجئے کہ ’ماہ اپریل‘ میں ’نیا تعلیمی سال‘ شروع ہوتا ہے لیکن اپریل کے آخر تک مردم و خانہ شماری کا پہلا اور پچیس مئی تک دوسرا مرحلہ اختتام پذیر ہوگا جس کے لئے پرائمری اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں۔ سرکاری پرائمری سکولوں سے اچھے نتائج نتیجہ کیسے آئیں گے‘ جب اساتذہ کرام ’’دو ماہ مردم شماری‘ تین ماہ انسداد پولیو‘ مزید دو ماہ ’’ہاؤس ہولڈ سروے‘‘ اُور تین ماہ گرمی کی تعطیلات کریں گے تو صرف دو ماہ کے تدریسی عمل میں نتیجہ کیسے آ سکتا ہے؟ 

درحقیقت تعلیم کے فیصلہ ساز ’تعلیمی ترقی‘ نہیں چاہتے اُور اگر چاہتے تو اَساتذہ کی خدمات صرف اور صرف تدریس کی حد تک تک ہی محدود دکھائی دیتیں

Monday, April 24, 2017

Apr2017: Primary Teachers Training in KP fail to deliverer!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
اساتذہ: بے تیغ سپاہی!
خواندگی کی اہمیت سے بخوبی آگاہ‘ تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت ایسے ’’تعلیمی انقلاب‘‘ کے لئے کوشاں ہے جس میں سرکاری تعلیمی اِداروں کا معیار بلند ہو جبکہ ’تعلیم کے معیار‘ کا تعلق ’درس و تدریس‘ سے ہے‘ جسے عصری تقاضوں اُور جدید تحقیق سے ہم آہنگ کرنے کے لئے نہ صرف خطیر مالی وسائل مختص کئے گئے بلکہ ’برطانیہ‘ کے تعاون سے پرائمری سطح کے ’اساتذہ‘ کی تربیت پر مبنی ایک ایسی مرحلہ وار حکمت عملی تیار کی گئی جس سے خیبرپختونخوا کے 25 اضلاع میں سرکاری پرائمری سکول کے اساتذہ بشمول خواتین کی تربیت شامل تھی۔ ناممکن تھا کہ 83ہزار پرائمری سطح کے اساتذہ کو بیک وقت تربیت دی جاسکتی‘ اِس لئے صوبائی حکومت نے ’برٹش کونسل (British Council)‘ کو 1500 اساتذہ (مردوخواتین) کی فہرست فراہم کی‘ جس میں سے ’500 اساتذہ‘ کے انتخاب کا اختیار ’برٹش کونسل‘ کو دیا گیا۔ اہل اساتذہ کے انتخاب کا یہ مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے طے پایا اُور ’پچیس اضلاع‘ سے تعلق رکھنے والے ایسے پانچ سو اساتذہ کو چن لیا گیا‘ جنہیں بطور ’بنیادی تربیت کار (ماسٹر ٹرینر)‘ درس و تدریس کے جدید تصورات (جن میں بچوں کے نفسیاتی و اخلاقی اور تعلیم کے ساتھ تربیت کے پہلو بھی شامل تھے)‘ سے متعلق ٹیکنالوجی کی مدد سے تدریس میں ’ہائی ٹیک‘کا استعمال بھی سکھایا گیا اور یہ تربیتی عمل نہایت ہی خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہونے پر شرکاء میں اسناد و انعامات تقسیم ہوئے۔ اگلے مرحلے میں ’برٹش کونسل‘ سے تربیت یافتہ اساتذہ نے اپنے اپنے متعلقہ ضلع میں جا کر باقی ماندہ پرائمری سکولوں کے اساتذہ کی تربیت کرنا تھی لیکن جس خوش اسلوبی سے ’پرائمری اساتذہ‘ کی تربیت کا یہ ’پہلا مرحلہ‘ مکمل ہوا‘ حسب توقع دوسرا مرحلہ خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں شروع نہ ہو سکا اور اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ’ماسٹر ٹرینرز‘ کو تربیت دینے کے لئے مطلوبہ ’ہائی ٹیک‘ اشیاء‘ درکار مالی اور آمدورفت کے وسائل فراہم نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے وہ ہدف جو رواں ماہ (اپریل دوہزارسترہ) کے اختتام تک مکمل ہونے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی‘ وہ حاصل نہ ہو سکا۔ بھلا کس طرح ممکن تھا کہ ’برٹش کونسل‘ سے بذریعہ ٹیکنالوجی (موبائل فون‘ ٹیبلٹس اُور ملٹی میڈیا سے جڑے کمپیوٹرز‘ سمارٹ بورڈز جیسے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) و انٹرنیٹ پر منحصر آلات کے ذریعے) تربیت یافتہ اساتذہ (سپاہی) اپنے ذاتی وسائل سے ’’(بے تیغ) جہالت کے خلاف جہاد‘‘ کا حصہ بن جاتے؟

’برٹش کونسل‘ کی مہارت پر بھروسہ کرنے والوں کو سمجھنا ہوگا کہ برطانیہ حکومت کا یہ ’84 سالہ‘ (بزرگ) ادارہ عالمی سطح پر ’تعلیم وثقافت‘ کے صرف اُنہی پہلوؤں کو اُجاگر کرتا ہے جن کا تعلق ’’انگریزی بول چال اور ڈھال‘‘ سے ہے۔ برطانیہ کی نظر میں جمہوریت‘ سیاست‘ انسانی حقوق‘ تعلیم‘ نظام تعلیم‘ تدریسی اخلاقیات‘ امتحانات کا مقصد‘ ذہانت اُور طلبہ کی درجہ بندی کا معیار کسی ’اسلامی جمہوریہ‘ سے کئی لحاظ سے مختلف ہے۔ کہیں ہمارے فیصلہ ساز یہ تو ثابت نہیں کرنا چاہتے کہ ہم ’نام کے مسلمان ہیں‘ اور پاکستان ایک برائے نام ’اسلامی جمہوریہ‘ ہے جہاں نہ تو ’ماہرین تعلیم‘ کا وجود ہے اور نہ ہی خالص نصابی تعلیم پر بھروسہ اور اِس طریق کو ’جدید‘ قرار دینے والے مغربی معاشروں کو حاصل ہونے والی پیداوار (ثمرات) ہمارے لئے کارآمد (قابل قبول) ہو سکتے ہیں۔

خیبرپختونخوا حکومت کے لئے فیصلہ سازی کرنے والوں کو سوچنا‘ سمجھنا اُور دردمندی (حب الوطنی) کا مظاہرہ کرنا ہوگا کہ شعبۂ تعلیم کی بہتری کے لئے دستیاب مالی وسائل اور توجہات مرکوز کرتے ہوئے ’’مقامی مسائل‘‘ کا ’’مقامی حل‘‘ تلاش کیا جائے۔ عین ممکن ہے کہ غوروخوض (مشاورت) کرنے پر معلوم ہو کہ خیبرپختونخوا کے 25 اضلاع کے لئے ایک جیسی ’تعلیمی پالیسی‘ اُور ایک جیسے الفاظ پر مشتمل نصاب‘ درس و تدریس کا طریق‘ سرکاری سکولوں کے اُوقات‘ اساتذہ کی تربیت کا معیار و تعلیمی قابلیت و اہلیت الگ الگ (مختلف) ہونی چاہئے! 

’برٹش کونسل‘ کی تعلیمی‘ ثقافتی شعبوں اُور انگریزی زبان کے فروغ کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اِس ادارے نے صرف سال 2014-15ء کے دوران 10 کھرب‘ 93ارب‘ 78کروڑ‘ 54 لاکھ‘ 9 ہزار 560 پاکستانی روپے یعنی 97 کروڑ 73 لاکھ یوروز سے زیادہ منافع کمایا جس کی تفصیلات کا اندازہ رپورٹس کی صورت britishcouncil.org (ویب سائٹ) پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں کہ کس طرح پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک (کے فیصلہ سازوں کی مدد سے) ’برٹش کونسل‘ سمیت برطانوی و دیگر مغربی ادارے اپنی اپنی زبان و ثقافت کا اثرورسوخ بڑھانے کے لئے فیصلہ سازی کے عمل پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 500 پرائمری سطح کے اساتذہ کی تربیت کے لئے 56 کروڑ 80 لاکھ روپے کی حکمت عملی وضع کی گئی جس کا 70فیصد (41کروڑ روپے سے زیادہ) خیبرپختونخوا حکومت ’برٹش کونسل‘ کو اَدا کئے اور باقی ماندہ تیس فیصد ’برٹش کونسل‘ نے اپنے ذمے لیا۔ 

واضح رہے کہ ’برٹش کونسل‘ نہ تو خیراتی اِدارہ ہے اور نہ ہی وہ اِس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنے حسابات و اخراجات کی منظوری خیبرپختونخوا حکومت سے لے۔ چالیس کروڑ روپے سے زائد کی رقم صرف اور صرف 500 پرائمری اساتذہ کی تربیت پر خرچ کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ کیا 8 لاکھ روپے فی معلم تربیت زیادہ نہیں؟ کیا صوبائی احتساب کمیشن پرائمری اساتذہ کی تربیت کی آڑ ہونے والی ممکنہ بے ضابطگیوں کا نوٹس لے گا؟ کون نہیں جانتا کہ ’برٹش کونسل‘ کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ماہرین کی تعداد برطانوی باشندے یا چبا چبا کر انگریزی بولنے والے برطانوی حکومت کے مفادات کا تحفظ کرنے والے ’وفادار‘ ہوتے ہیں جن کی بھاری تنخواہیں‘ پرکشش مراعات برطانیہ کے خزانے سے نہیں بلکہ جس ملک میں برٹش کونسل کی شاخیں ہوتی ہیں اُسی سے اَدا کی جاتی ہیں۔ تعجب خیز اَمر کیا ہے اگر ’برٹش کونسل‘ سے حاصل ہونے والی آمدنی گرجا گھروں‘ عیسائیت کی تبلیغ و اشاعت اور اُن خارجہ پالیسیوں کے سیاسی و فوجی اہداف پر بھی خرچ کی جاتی ہو‘ جو برطانیہ حکومت کے وہ توسیع پسندانہ عزائم سے تعلق رکھتے ہیں کہ ’’برطانوی راج میں سورج غروب نہ ہو!‘‘

سرکاری سرپرستی میں شعبۂ تعلیم کی بہتری بالخصوص خیبرپختونخوا میں ’پرائمری تعلیم‘ سے متعلق اگر اَب تک کی وضع کردہ جملہ (جامع قرار دی جانے والی) حکمت عملیوں کے خاطرخواہ (مطلوبہ) نتائج حاصل نہیں ہوئے تو اِس کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ’خیبرپختونخوا کے زمینی حقائق کا اِدراک اُور سوچ بچار‘ کرتے ہوئے مقامی مسائل اور اُن کے مقامی حل پر توجہ نہیں دی گئی۔ جن معاشروں نے علم کی اہمیت کو تسلیم‘ اپنے آپ کو علم کے آگے تسلیم اور پھر اِس کے ثمرات حاصل کئے‘ کیا وہاں معلم یا تعلیم سے متعلق فیصلہ سازی جیسے عہدوں پر فائز ہونا‘ ہمارے ہاں کی طرح (اتنا ہی) آسان ہوتاہے؟ 

تعلیم کے معیار بلند کرنے کے لئے کوئی بھی ’بیرونی حل‘ اُس وقت تک کارگر (نتیجہ خیز و کارآمد) ثابت نہیں ہو گا‘ جب تک بحیثیت مجموعی ’محکمۂ تعلیم‘ میں ’داخلی سطح‘ پر اصلاحات متعارف نہیں کی جاتیں۔ جب تک سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستہ (مردوخواتین) اساتذہ اور اُن کے حاکم (انتظامی نگرانوں) کی کارکردگی کا احتساب عام نہیں ہوتا اُور جب تک ’سزا و جزأ‘ کے تصورات عملاً رائج نہیں ہوتے‘ اُس وقت تک سرکاری تعلیمی اِداروں کا تدریسی ماحول‘ نظم و ضبط اُور کارکردگی بصورت اِمتحانی نتائج بہتر ہونے کے بلند و بانگ اَعلانات (توقعات) ناکافی ہی رہیں گے۔