Showing posts with label Technology. Show all posts
Showing posts with label Technology. Show all posts

Sunday, June 21, 2020

Internet for entertainment alone!

حقیقت حال .... جو میں نے دیکھا!
پہلی حقیقت: 
کسی فلم یا ڈرامے کی کامیابی کا ’عالمی پیمانہ‘ باکس آفس (Box Office) کارکردگی یعنی کمائی (حاصل وصول) بارے جاری ہونے والے اعدادوشمار ہوتے ہیں کہ مذکورہ فلم یا ڈرامے نے خاص عرصے کے دوران کتنا ’بزنس‘ کیا۔ رواں ماہ (جون دوہزاربیس) کے دوران پاکستان میں ’نیٹ فلیکس (Netflix)‘ کے ذریعے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے دس (top-10) فلموں ڈراموں میں پہلے نمبر پر براجمان پولش (Polish) زبان میں بنایا گیا 114 منٹ دورانئے کا کھیل ہے‘ جس کی کہانی جرائم‘ منشیات‘ بے راہ روی‘ تشدد اُور جنسی تعلقات جیسے تخریبی موضوعات کے گرد گھومتی ہے۔ مذکورہ کھیل (ٹیلی فلم) کو پولش (پولینڈ کی سرکاری زبان) میں وہاں کے خاص حالات اُور ثقافت کی نمائندگی تو کرتا ہے اُور اُس معاشرے میں پائی جانے والی سوچ کو نئے زوایئے تو دیتا ہے لیکن اُسے انگریزی میں ترجمہ کر کے پاکستان جیسے ملک میں پیش کرنے کی ضرورت و منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک طرف حکومت کے ادارے (سنسربورڈ اُور الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) موجود ہیں لیکن اُن کی اجازت کے بغیر غیرملکی مواد پاکستان میں صرف نشر ہی نہیں بلکہ فروخت بھی ہو رہا ہے لیکن کسی کی توجہ نہیں۔ افسوس کے ساتھ شرم کا بھی مقام ہے کہ ایک مسلمان اکثریتی معاشرے میں انگریزی ڈرامہ ’356 دن‘ جس کا اصل (پولش) نام 365 Dni ہے سرفہرست اُور مقبول ترین ہے! سات فروری (دوہزاربیس) کے روز پولینڈ میں پہلی مرتبہ نشر اُور انٹرنیٹ پر منحصر ’نیٹ فلیکس‘ کی وساطت سے دنیا بھر میں جاری (ریلیز) ہونے والے مذکورہ ڈرامے نے چار ماہ کے عرصے (بارہ جون دوہزاربیس تک) ’باکس آفس‘ پر ساڑھے 9 کروڑ ڈالر کمائے ہیں جو اِس پر اُٹھنے والی لاگت سے ہزاروں گنا زیادہ منافع ہے! ذہن نشین رہے کہ پانچ لاکھ سال پر محیط انسانی آبادی کی تاریخ رکھنے والا ملک ’پولینڈ‘ وسط یورپی میں واقع ہے اُور اِس کی سرحدیں شمال میں روس‘ مشرق میں بیلاروس اُور یوکرین‘ جنوب میں چیک ری پبلک جبکہ مغرب میں جرمنی سے ملتی ہیں اُور 27 یورپی ممالک میں معاشی ترقی و قومی پیداوار کے لحاظ سے پولینڈ چھٹے نمبر پر ہے‘ جہاں دیگر صنعتوں کی طرح ٹیلی ویژن اُور فلم کی صنعت قومی آمدن کا بنیادی ذریعہ ہے۔

دوسری حقیقت: 
ٹیلی ویژن کے ذریعے تفریح (اِنٹرٹینمنٹ) کیبل نیٹ ورک یا روائتی چھت پر لگے انٹینا کے ذریعے موصول ہونے والے چینلز کی حد تک محدود نہیں رہی بلکہ ثقافتی یلغار سیٹلائٹ (ڈش) اُور انٹرنیٹ کی مدد سے ترقی یافتہ اشکال میں سامنے آ چکی ہیں جن میں ڈائریکٹ ٹو ہوم (DTH)‘ آئی پی ٹیلی ویژن (IPTV) اُور مختلف قسم کے سی لائن (سرورز) شامل ہیں۔ پاکستان میں اِن سبھی وسائل سے مختلف ضرورتوں (فلمیں‘ ڈرامے‘ ناچ گانے‘ کھیل‘ معلومات اُور عالمی خبروں و تجزئیات) کے لئے استفادہ کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں ہزاروں یا لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے لیکن اِس سے حکومت نہ تو مالی طور پر خاطرخواہ فائدہ اُٹھا رہی ہے اُور نہ ہی غیرروائتی نت نئے طریقوں سے تفریح بذریعہ ٹیلی ویژن جیسے شعبے کو نظم و ضبط کا پابند (ریگولیٹ) کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی اپنی تاریخ و ثقافت اُور بالخصوص اِسلام کے بتائے ہوئے اَصولوں کے مطابق نظر‘ زبان‘ سماعت اُور خیالات کو آلودہ کرنے کی کھلم کھلا اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ لمحہ  فکریہ ہے کہ تفریح کے نام پر اُن اخلاقی اَقدار کو شکار کیا جا رہا ہے‘ جو کبھی اسلام اُور مشرقی روایات کے عنوان سے پاک و پاکیزہ معاشرت و سماجیات کا خاصہ سمجھا جاتی تھیں۔ اِس بات پر جس قدر بھی اَفسوس کا اظہار کیا جائے کم ہوگا کہ ہمارے فیصلہ سازوں کو تفریح کے نام پر سازش پر برائے نام جیسی تشویش بھی نہیں بلکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جدید رہائشی بستیوں میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہوگا جہاں کے رہنے والوں ڈی ٹی ایچ‘ نیٹ فلیکس‘ آئی پی ٹی وی یا لائن سرور کے صارف نہ ہوں۔ ”وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا .... کارواں کے دل سے اِحساس زیاں جاتا رہا!“

تیسری حقیقت: 
انٹرنیٹ کے ذریعے تفریحی مواد تک رسائی مختلف طریقوں سے ہو رہی ہے‘ جس میں سب سے پہلا براہ راست تعلق ہے جس میں کوئی بھی صارف ویڈیو بلاگنگ کی لاکھوں ویب سائٹس میں سے اپنے ذوق و پسندیدگی اُور سمجھ بوجھ کے اعتبار سے چند ایک کا انتخاب کرتا ہے اُور جہاں کچھ نشریاتی مواد بلاقیمت (مفت) فراہم کیا جاتا ہے تاکہ صارفین عادی ہو جائیں اُور پھر اُن کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید مواد دیکھنے کی ’رعائتی پیشکش‘ کی جاتی ہے اُور اِس کی مقررہ قیمت اَدا کرنے کے لئے جن ممکنہ ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے اُن میں موبائل فون کمپنیاں بھی حصہ دار (برابر کی شریک) ہیں جو صارفین کو گھر بیٹھے بیرون ملک ادائیگیاں کرنے جیسی سہولت فراہم کر رہی ہیں اُور یوں ماہانہ اربوں روپے تفریح برائے تفریح (گناہ ¿ بے لذت) کی نذر ہو رہے ہیں!

چوتھی حقیقت:
دنیا جاگ اُٹھی ہے۔ کورونا وبا کی وجہ سے صرف سماجی سرگرمیاں ہی محدود کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ عالمی سطح پر تعلیمی اداروں کی بندش اُور اِس سے ہونے والے تعلیمی حرج کو کم سے کم کرنے کے لئے اِنٹرنیٹ (آن لائن) وسائل (فاصلاتی درس و تدریس) سے اِستفادہ ہو رہا ہے جبکہ پاکستان کی صورتحال یکسر مختلف (اُلٹ) ہے کہ غربت زیادہ ہونے کی وجہ سے طلبا و طالبات کی اکثریت کے پاس کمپیوٹر‘ لیپ ٹاپ‘ موبائل فون یا ٹیبلٹ نہیں اُور جن کے پاس یہ وسائل اُور سہولیات ہیں تو وہ بھی اِس سے اصل ضرورت یعنی تعلیم کے لئے استفادہ نہیں کر رہے کیونکہ ایک طرف رہنمائی اُور تربیت کا فقدان ہے تو دوسری طرف سینئر اساتذہ کی بڑی تعداد بشمول نجی تعلیمی اداروں کی اِنتظامیہ (مالکان) ’اِنفارمیشن ٹیکنالوجی‘ کے بنیادی استعمال سے متعلق خاطرخواہ ہنرمند نہیں! لمحہ ¿ فکریہ ہے کہ لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے پیدا ہونے والی فرصت کے باعث پاکستان میں بھی انٹرنیٹ کے استعمال میں کئی ہزار گنا اضافہ ہوا ہے اُور یہ اضافہ دنیا بھر میں دیکھنے کو ملا ہے تاہم پاکستانی انٹرنیٹ سے خاص استفادہ مختلف انداز سے کرتے ہوئے اکثریت کے لئے انٹرنیٹ تفریح کا ذریعہ جبکہ دنیا بھر میں جوابدہ اُور شفاف طرزحکمرانی کے علاو ¿ہ یہی انٹرنیٹ عوامی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنا رہا ہے! تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث تعلیم اُور تربیت کی ذمہ داری والدین کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ کیا کوئی شخص اپنے بچوں کو کسی ایسے پانی کے تالاب میں دھکا دینا پسند کرے گا جس کی گہرائی کے بارے میں اُسے صرف اتنا معلوم ہو کہ وہ معلوم نہیں؟

اِنٹرنیٹ کی دنیا گہرائی‘ وسعت اُور اِمکانات کے لحاظ سے عمودی اُور افقی لحاظ سے لامحدود ہے۔
قابل افسوس بات یہ ہے کہ اِس حقیقت کا ادراک رکھنے والوں میں شامل والدین‘ اساتذہ‘ ماہرین تعلیم‘ ذرائع ابلاغ‘ مذہبی و سیاسی رہنماو ں اُور قومی سطح پر سیاسی اُور غیرسیاسی فیصلہ سازوں نے تجاہل عارفانہ اختیار کر رکھا ہے جبکہ خودکشی پر آمادہ نئی نسل کو غیرتحریری اُور غیرشعوری طور پر ایک ایسے دریا میں دھکیل دیا گیا ہے‘ جس کا کوئی کنارہ نہیں!
اِک اُور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اُترا‘ تو میں نے دیکھا! (منیر نیازی)
........
Clipping from Daily Aaj - June 21, 2020 Sunday 
Editorial Page Daily Aaj - June 21, 2020 Sunday

Friday, May 26, 2017

May2017: Tracking budget with a sense of responsibility!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اِصلاح اَحوال: ذمہ داریاں!
جمہوریت کے لغوی معنی ’’لوگوں کی حکمرانی‘‘ کے ہیں۔ یہ اصطلاح دو یونانی الفاظ ڈیمو (Demo) یعنی لوگ اور کراٹوس (Kratos) یعنی حکومت کا مجموعہ ہے۔ یونانی مفکر ہیروڈوٹس (Herodotus) کے بقول ’’جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں۔‘‘ امریکہ کے صدر ابراہم لنکن کی دانش میں ’’عوام کی حاکمیت‘ عوام کے ذریعے اور عوام پر ہوتی ہے‘‘ لیکن جمہوریت کو ’شفاف‘ اور ’جوابدہ‘ بنانے کے لئے دنیا کے ہر جمہوری ملک کے اپنے تجربات اور اُن کے حاصل ہونے والے نتائج الگ الگ ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت سے جڑی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لئے غیرملکی امداد سے کئی تنظیمیں (این جی اُوز) کام کر رہی ہیں جن کی ’’سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (سی پی ڈی آئی)‘‘ بھی شامل ہے‘ جس نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی آمدن واخراجات کے میزانیئے (بجٹ) کی معلومات کو موبائل فون ایپ (اینڈروائڈ سافٹ وئر) کے ذریعے عوام تک پہنچانے کا وسیلہ مہیا کیا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی منفرد ’موبائل ایپلی کیشن‘ کے ذریعے گویا سمندر کو ایک کوزے میں بند کر دیا گیا ہو۔ کم و بیش پانچ میگابائٹس کی ’بجٹ ٹریکر‘ (Budget Tracker) نامی بلاقیمت ’ایپلی کیشن‘ درجہ بندی کے لحاظ سے ’ایپل سٹور‘ کے ’شعبۂ تعلیم‘ میں رکھی گئی ہے‘ جہاں سے اِسے تین ماہ کے دوران ایک سو سے زائد افراد ’ڈاؤن لوڈ‘ کر چکے ہیں جن میں سے 66 صارفین نے 5 میں سے 4.9 سٹارز دے کر پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ یہ ’نئی ایپلی کیشن‘ انگریزی زبان میں تخلیق کی گئی ہے جس سے استفادہ کرنے کے لئے صارف کا بنیادی انگریزی سے خواندہ ہونا ضروری ہے اور چونکہ دفتری زبان بالخصوص اقتصادی اصطلاحات ابھی اُردو یا علاقائی زبانوں میں ترجمہ (ٹرانسلیٹ) نہیں ہوئیں‘ اِس لئے تکنیکی اور فنی وجوہات کی بناء پر عام الرائج ’انگریزی‘ زبان ہی اِس موقع پر درست (دانشمندانہ) انتخاب (فیصلہ) ہے لیکن سب کچھ زیادہ ٹھیک اور مثالی بھی نہیں!

خیبرپختونخوا کے لئے ’سی پی ڈی آئی‘ کے صوبائی کورآرڈینیٹر شمس الہادی کے بقول بجٹ کے اعدادوشمار موبائل فون کے ذریعے عوام تک پہنچانے کا تصور کئی سال سے زیرغور تھا لیکن اِس کے لئے درکار مالی وسائل دستیاب ہونے کے بعد سافٹ وئر کی تیاری میں ’چار ماہ‘ لگے۔ کسی سافٹ وئر کی تخلیق سے زیادہ اُس کے بیٹا (beta) ورژنز کی جانچ کے لئے وقت درکار ہوتا ہے اور اگر ’بجٹ ٹریکر‘ کی تیاری میں بھی عجلت سے کام نہ لیا گیا ہوتا 1: مذکورہ ایپلی کیشن اینڈرائرڈ کے تمام سافٹ وئرز کے لئے قابل استعمال ہوتی۔ پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا کے زمینی حقائق پیش نظر رکھنا ضروری تھے‘ کیونکہ لازمی نہیں کہ ہر موبائل صارف کے پاس غیرملکی امداد سے خریدے یا تحفتاً ملنے والا کوئی ’جدید موبائل فون‘ ہی ہو! پرانے ماڈل کے اینڈرائڈ فونز رکھنے والوں پر مشتمل اکثریت کا بھی خیال کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ بجٹ اعدادوشمار عوام سے زیادہ صحافیوں کے لئے کارآمد ہو سکتے ہیں‘ جن کے لئے ہر وقت اپ ڈیٹ رہنا‘ مختلف دفاتر کے چکر اور سالہا سال کے اعدادوشمار ہر وقت ساتھ رکھنا ممکن نہیں ہوتا لیکن اگر ایسے صحافیوں کے پاس جدید انڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم نہ ہوئے اور اُن کا موبائل فون چند سال پرانے ماڈل کا ہوا تو ’بجٹ ٹریکر‘ سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اِسی طرح عام آدمی کے لئے بجٹ کے اعدادوشمار سمجھنا مشکل ہوتا ہے جنہیں صحافی خاص مہارت سے آسان بناتے ہیں تو اگر ’بجٹ ٹریکر‘ میں ’نیوز رپورٹس‘ اور ’بلاگز‘ کو بھی شامل کر لیا جائے تو اِنہیں اعدادوشمار سے لنک کر دیا جائے تو صارفین کو تکنیکی اصطلاحات یا بجٹ میں مختص مالی وسائل کے دیگر متعلقہ پہلوؤں سے بھی آگاہی ہو گی اگر وہ مزید جاننے کا خواہشمند ہو۔ 2: بجٹ ٹریکر ایپلی کیشن اینڈرائڈ سسٹم کے لئے بنائی گئی ہے جبکہ اِسے بیک وقت آئی فونز‘ آئی پیڈز اُور ونڈوز آپریٹنگ سسٹمز رکھنے والوں کے لئے تخلیق کیا جاسکتا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر اِس حکمت عملی کو کسی دوسرے مرحلے (شاید مزید فنڈنگ) تک کے لئے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ 

سمجھا جا سکتا ہے کہ ’این جی اُوز‘ کے ہاتھ پاؤں بندھے بھی ہوتے ہیں انہیں ڈونر ایجنسیوں کو متاثر کرنے کے لئے بھی بہت کچھ نمائشی طور سے کرنا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں بہت سے ’این جی اوز‘ صرف اِس لئے فعال دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اُن کے پاس ’رپورٹ رائٹنگ‘ کرنے کی مہارت ہوتی ہے! این جی اُوز معروف (مہنگے) ہوٹلوں میں تقاریب کا انعقاد کر کے اپنی کارکردگی اصلاً کی بجائے واجبی اور رپورٹوں کی صورت دکھانا کی حد تک محدود رہتے ہیں تو اِس میں بھی مجبوری (ضرورت) کا عنصر شامل ہوتا ہے لیکن ’سی پی ڈی آئی‘ کاغذی شیر نہیں۔ غالب گمان یہی ہے کہ نمائشی محرکات (ضروریات) کے باعث ’بجٹ ٹریکر‘ بنانے والوں نے ’عجلت‘ کا غیرضروری مظاہرہ کیا وگرنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ مختلف ’پلیٹ فارمز‘ پر موافقت (compatibility) کی جانچ کئے بناء ’ایپلی کیشن‘ پنجاب (لاہور) کے بعد خیبرپختونخوا (پشاور) میں لانچ کی جاتی۔ 

یہ اَمر بھی افسوسناک ہے کہ لاہور میں متعارف (لانچنگ) کرنے کے 2 ہفتوں بعد پشاور میں ’فخریہ پیشکش‘ تک کے عرصے میں کہیں سے بھی فیڈبیک میں ’موافقت‘ کی بات سامنے نہیں آئی۔ دیکھنا ہوگا کہ جن عام صارفین نے ’بجٹ ٹریکر‘ کو انتہائی پسندیدگی سے نوازہ ہے وہ کہیں سافٹ وئر ڈویلپئرز یا ’سی پی ڈی آئی‘ کے ملازمین ہی تو نہیں! جس طرح ہم حکومت اور سرکاری ملازمین سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرض شناس ثابت ہوں بالکل اِسی طرح غیرسرکاری تنظیموں سے بھی ذمہ دارانہ طرزعمل کی توقع کرتے ہوئے اُمید ہے کہ بیرونی امداد سے ملنے والی ہر ایک پائی کو عام آدمی (ہم عوام) کی امانت سمجھتے ہوئے خرچ کیا جائے گا۔ صحافیوں کی جانب سے بازگیری (فیڈبیک) نہ ملنے کی بنیادی وجہ بھی غورطلب ہے کہ پاکستان میں ’ٹیکنالوجی سے متعلق صحافت (جنرلزم)‘ پروان نہیں چڑھی۔ اُردو اخبارات پر سیاسی موضوعات حاوی رہتے ہیں اور ٹیکنالوجی جیسی بوریت کے لئے اشاعتوں بھی ایجادات متعارف کرانے تک محدود رہتی ہیں۔ 

خوش آئند ہے کہ ’سی پی ڈی آئی‘ کی جانب سے ملک کے دیگر حصوں کی طرح خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع صحافیوں کے لئے حفاظتی تدابیر سے آگاہی‘ غیرمعمولی حالات میں صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی‘ صحافتی اصولوں اور اقدار سے متعلق وقتاً فوقتاً تعارفی و تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے لیکن اگر آئندہ تربیتی ورکشاپوں کا نصاب (لائحہ عمل) مرتب کرتے وقت ٹیکنالوجی اور مرکوزیت (convergence)‘ کے مضامین کو بھی نصاب میں شامل کر لیا جائے تو اِس سے الیکٹرانک میڈیا اور صحافت کے بدلتے اسلوب و مستقبل پر دور رس (مثبت) اثرات مرتب ہوں گے۔

Wednesday, May 24, 2017

May2017: Curbing the Social Media!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام

وارداتیں!

پاکستان تحریک اِنصاف خیبرپختونخوا کے ’سوشل میڈیا‘ دفتر (ڈینز سنٹر‘ پشاور) میں چوری کی ’اَنوکھی واردات‘ ہوئی ہے‘ جس پر ’اِنٹرنیٹ‘ کے ذریعے اِظہار خیال (سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس سے استفادہ) کرنے والے حلقوں کی جانب سے ’آن لائن اور آف لائن‘ تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ 

سوال یہ ہے کہ چوری کے لئے آنے کسی بیش قیمت کمپیوٹر آلات کی بجائے صرف وہی آلات (ہارڈوئرز) ’نہایت مہارت‘ سے کیوں اُتار لے گئے جن کی ’فرانزک جانچ‘ ممکن ہے؟ اگر یہ چوری کی ’عمومی واردات‘ ہوتی تو اِس میں نفاست کا اِس قدر عملی مظاہرہ دیکھنے کو نہ ملتا۔ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے اِس واردات کو ’وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)‘ کی کارستانی (خفیہ کاروائی) بیان کیا گیا ہے‘ جبکہ ’ایف آئی اے‘ کی جانب سے تردید اور مقامی پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہیں کیا گیا! یوں لگتا ہے کہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں حکمران ہی نہ ہو کہ اُس کے ایک دفتر پر کاروائی سے متعلق اگر وضاحت آئی بھی تو مرکزی عہدیداروں کی جانب سے! کیا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اِس قسم کے حوصلے (برادشت) کی کوئی دوسری مثال پیش کی جا سکتی ہے؟ 

بنیادی قضیہ یہ ہے کہ تحریک انصاف ہو یا کوئی بھی دوسری سیاسی جماعت‘ فرضی ناموں سے سوشل میڈیا اکاونٹس استعمال ہو رہے ہیں اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ اِن فرضی اکاونٹس کے ذریعے جس نکتۂ نظر کی تشہیر ہو رہی ہے‘ وہ ایک محدود سرکل میں ہونے کے باوجود بھی تاثیر کے لحاظ سے اِس لئے زیادہ ہے کیونکہ خطیب اور مخاطب دونوں ’صائب الرئب‘ بھی ہیں اور اِس بات پر اتفاق بھی رکھتے ہیں کہ اُن کا آپس میں کسی بھی معاملے پر اتفاق نہیں! 

سوشل میڈیا پر انفرادی حیثیت میں بھی جو کچھ لکھا جا رہا ہے یا کسی گروہ (تحریک) کی صورت اجتماعی طور پر مقصد و نظریات کا پرچار ’اندھا دھند‘ اور ’تقلید‘ کے سبب ہے‘ جس کی جہتیں نفسیاتی اور سماجی و ثقافتی دباؤ کی مظہر ہیں! اِس پورے ماحول سے الگ وفاقی حکومت کے اداروں نے (شاید حسب حکم) سہل پسندی سے کام لیتے ہوئے ’ضابطۂ اخلاق‘ وضع کرنے بجائے قانون سے فائدہ اٹھانے پر اکتفا کر لیا اور سمجھ لیا کہ جہاں اُور جس کسی پر چاہے گرفت کی جا سکتی ہے وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بات اور کسی بھی فکر و تصور کا کوئی زاویہ نیا نہیں ہوتا۔ جس بات پر کسی ایک ’صارف‘ کی گرفت کی جا رہی ہوتی ہے‘ وہی بات سینکڑوں کی تعداد میں دوسرے صارفین بھی کر رہے ہوتے ہیں! سمجھ داری اِسی میں ہے کہ سوشل میڈیا سے ٹکراؤ کی بجائے پاکستان کو اُس آنے والے ’ہائی ٹیک‘ دور کے لئے تیار کیا جائے‘ جس میں ممالک کی سرحدیں آج کی طرح اہمیت کی حامل نہیں ہوں گی۔ 

کیا ہمارے فیصلہ سازوں نے ’بٹ کوائن (Bitcoin)‘ کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں جو انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی کرنسی ہے؟ یاد رہے کہ 23 اپریل (دوہزارسترہ) کے روز عالمی مارکیٹ میں ایک ’بٹ کوائن‘ کا شرح تبادلہ پاکستانی کرنسی میں 2 لاکھ 35 ہزار 981 روپے اور آٹھ پیسے مقرر ہوئی! اور یہ دنیا کی سب سے زیادہ تیزی سے بڑھتی اور استعمال ہونے والی کرنسی ہے۔



’بٹ کوائن‘ کو سمجھنے کے لئے انسانی معاشرے کے ارتقائی مراحل اور معاشی واقتصادی اصولوں پر نظر کرنا ہوگی‘ جس میں سرمائے کی اہمیت ہمیشہ سے رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں نئے انداز کے سکے سامنے آتے رہے‘ اب چاہے وہ سونے کی اشرفی کی صورت میں ہو یا کانسی کا سکہ مگر موجودہ عہد ٹیکنالوجی کا قرار دیا جاتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا بھی اپنی کرنسی سے محروم رہے؟  یہی کمی ’بٹ کوائن‘ نے پوری کی‘ جو حالیہ عرصے میں تیزی سے اُبھرنے والی ’ڈیجیٹل ورچوئل کرنسی‘ ہے اور اِس کے ذریعے لوگ آن لائن کمپنیوں سے مصنوعات اور خدمات حاصل کر رہے ہیں تاہم کسی حقیقی کرنسی کے مقابلے میں بٹ کوائنز ہر طرح کے ضابطوں یا حکومتی کنٹرول سے آزاد ہے۔ 

بٹ کوائنز متعدد ممالک جیسے کینیڈا‘ چین اور امریکہ میں استعمال ہورہے ہیں تاہم دنیا میں انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والا ہر شخص یہ کرنسی خرید سکتا ہے‘ جس کے لئے ’بٹ کوائن والٹ اکاؤنٹ‘ چاہئے ہوتا ہے جو بذریعہ ’اپلیکشن‘ ڈاؤن لوڈ (حاصل) تخلیق کیا جا سکتا ہے اور ’والٹ اکاؤنٹ‘ کو پے پال‘ کریڈ کارڈز یا کسی بینک اکاؤنٹ کے ذریعے بٹ کوائنز خریدنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹر کمپنی ’مائیکروسافٹ‘ سمیت انٹرنیٹ پر کاروبار کرنے والے سینکڑوں دیگر ادارے ’بٹ کوائنز‘ قبول کر رہی ہیں اور بالخصوص سوشل گیمنگ سائٹس جیسے زینگا‘ بلاگ ہوسٹنگ ویب سائٹس جیسے ورڈ پریس اور آن لائن اسٹورز جیسے ریڈیٹ اور ’اوور اسٹاک ڈاٹ کام‘ بھی ’بٹ کوائنز‘ قابل ذکر ہیں اور دنیا میں قریب ’ایک کروڑ بیس لاکھ (بارہ ملین بٹ کوائنز)‘ گردش کررہے ہیں جس کی قیمت سو ڈالر کی نفسیاتی حد پر پہنچنے کے بعد دوہزار دوسو ڈالر فی بٹ کوائن سے تجاوز کر گئی ہے! عالمی سطح پر ’بٹ کوائنز‘ کی ’اے ٹی ایم‘ مشینیں قائم کرنے کی بات ہو رہی ہے! 

کیا ہمارے فیصلہ سازوں کو کچھ اندازہ ہے کہ پاکستان سے کتنا سرمایہ ’بٹ کوائنز‘ کے ذریعے بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے؟ بڑے شہروں میں ’انٹرنیٹ گیمنگ کلبس‘ عالمی مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد اِن ایک ایسے نشے کی عادی ہو رہی ہے جس سے جانی (صحت) و مالی نقصانات ہو رہے ہیں لیکن نہ تو وفاقی اور نہ ہی صوبائی حکومتوں کی اِس جانب توجہ مبذول ہے! جنگ جاری ہے۔ ممالک کے درمیان ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوششیں عروج پر ہیں اور ’انٹرنیٹ کی دنیا‘ میں زیادہ سے زیادہ حکمرانی میں حصہ داری کے لئے جہاں ہر ملک بطور حکمت عملی کوشش کر رہا ہے‘ وہیں پاکستان میں انٹرنیٹ ہی کے استعمال پر خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں! ’بٹ کوائنز‘ کی قدر بڑھنے کی ممکنہ وجہ امریکہ‘ یورپ اور چین میں اس کرنسی کی بڑھتی ہوئی قبولیت ہے جبکہ جاپان میں بٹ کوائنز کے حوالے سے ایک خرابی (بگ) سامنے آنے کے بعد سے لوگوں نے اسے ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے بھی بٹ کوائنز کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ ابھی تو ’انٹرنیٹ‘ کے ممکنہ اطلاق بارے بہت کچھ سمجھنا اور سمجھانا ہے۔ ریاست اپنی ذمہ داریوں سے یوں الگ نہیں ہو سکتی! 

پاکستان میں سائبر قوانین کا پوری طاقت (شدت) سے اطلاق اور اِس کی ’باپردہ کاروائیوں‘ کی بجائے اُس توانائی سے بھرپور افرادی قوت اور جوان ذہانت کا تعمیری مقاصد کے لئے استعمال ہونا چاہئے جسے دباؤ اور طاقت سے بغاوت پر اکسانا کسی بھی صورت دانشمندی نہیں۔

Tuesday, May 23, 2017

May2017: Social Media as Crime!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
جبر مسلسل!
کبھی کبھار ’شاعرانہ تخیل‘ حقیقت کے اِظہار و بیان میں ضرب المثل بن جاتا ہے۔ ساغر صدیقی (وفات اُنیس جولائی اُنیس سو چوہتر) کا یہ مصرعہ شاید اَحباب نے بہت دن سے نہ پڑھا ہو کہ ’’جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں!‘‘ اور اِس تخیل کی تمہید میں ایک ایسے ’جبرمسلسل‘ کا ذکر جوڑ دیا گیا‘ جو بطور سزا تجویز کرنے والوں نے گویا زندگی کے معنی و مفہوم ہی بدل کر رکھ دیئے ہوں۔ بالکل اِسی قسم کی ’خوف و دہشت پر مبنی صورتحال کا سامنا پاکستان میں ’سماجی رابطہ کاری‘ کے وسائل استعمال کرنے والوں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائمز ونگ اور کاونٹر ٹریرازم ونگ سے درپیش ہے۔ عجب ہے کہ گذشتہ چند روز میں ملک بھر سے بائیس ایسے سوشل میڈیا صارفین کو طلب (گرفتار) اور سبھی کو بعدازاں بناء کسی سزا رہا کیا گیا‘ جنہوں نے پاکستان کے فوجی سربراہ اور فوج کے ادارے پر تنقید کی تھی۔ پاکستان کے آئین کی رو سے بیک وقت اِس بات کی آزادی بھی حاصل ہے کہ ہر پاکستانی جس کسی موضوع کے بارے میں اظہار خیال کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے اور اِسی آئین ہی میں کی گئی ایک ترمیم ضمنی طور پر ریاست کی نظر سے ناپسندیدہ اظہار رائے کرنے والا ’مجرم‘ کہلاتا ہے کیونکہ اگر ریاست کسی تبصرے پر ’معترض‘ ہوا تو یہ ایسا اظہار رائے قابل گرفت و سزا جرم بن جائے گا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے پہلے تو قانون کی تشریح اور پھر اُن تمام اَلفاظ‘ جملوں اُور اِستعاروں کے بارے میں وضاحت ہونی چاہئے کہ جن کا استعمال کرتے ہوئے اگر کوئی صارف تنقید کے نشتر چلائے گا‘ تو وہ ’مجرم‘ تصور ہوگا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ پر اکاونٹ بنانے کے لئے بالغ ہونے کی شرط ہوتی ہے لیکن کسی بھی ’فرضی نام‘ سے اکاونٹ (کھاتہ) تخلیق کرنے والے اپنی عمر کے بارے جھوٹ بول کر بھی ایک ایسی تیزرفتار دنیا کے باشندے بن جاتے ہیں جہاں کے باسی ’ہر ایک سکینڈ‘ میں چھ ہزار سے زائد پیغامات (ٹوئٹس) کا تبادلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یاد رہے کسی ایک دن‘ فی سکینڈ ٹوئٹر کے سب سے زیادہ پیغامات ’’1لاکھ 43 ہزار 999 ٹوئٹس‘‘ سال دوہزار تیرہ میں ریکارڈ ہوئے جبکہ عمومی حالات میں ہر دن اُوسطاً (کم سے کم) 50 کروڑ ٹوئٹر پیغامات اِرسال کئے جاتے ہیں اور یہی ٹوئٹر پاکستان کی حکومت کے لئے ’درد سر‘ بنا ہوا ہے‘ جس کا اِستعمال ہر سطح کے سیاست دانوں سے لیکر افسرشاہی اُور قومی اِداروں کی ترجمانی کرنے والے کر رہے ہیں لیکن وہ اپنی طرح دوسروں کو یہ حق دینے کو تیار نہیں کہ وہ اُن سے اختلاف رائے کا اظہار کر سکیں۔ 

بنیادی مسئلہ اُور غلط فہمی اَلفاظ کے غلط چناؤ کی وجہ سے پیش آ رہی ہے۔ ہمارے ہاں نظام تعلیم کی خامی (کمزوری) یہ ہے کہ اِس میں الفاظ کا اِستعمال تو سکھایا جاتا ہے لیکن الفاظ کے ’’معنی و مفہوم اُور اَثرات‘‘ کے بارے طلباء و طالبات کو ’بہرہ مند‘ نہیں کیا جاتا۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور اپنے تعارف میں تعلیمی اسناد کی فہرستیں گردان کرنے والوں کے ہاں بھی الفاظ کا مضحکہ خیز استعمال سننے کو ملتا ہے تو تعلیمی نصاب کے گرد طواف کرنے والے بیچارے عام طلباء و طالبات سے کس طرح اُمیدیں (توقعات) وابستہ کی جا سکتیں کہ وہ ہر لفظ سوچ سمجھ کر بولیں گے یا ٹوئٹر سمیت سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے خاطرخواہ احتیاط کا مظاہرہ کریں گے۔ 

وفاقی وزارت داخلہ کو بھی سمجھنا ہوگا کہ زمانہ تبدیل ہو گیا ہے اور انٹرنیٹ صارفین کی حفظ مراتب کے لحاظ سے درجہ بندی نہیں کی جاسکتی ہے تو بہتری اِسی میں ہے کہ متنازعہ امور کو ہوا دینے والوں سے ’منطق (عقلی دلیل)‘ سے بات کی جائے اُور اگر کوئی صارف متفق نہ بھی ہو تب بھی حکومت پاکستان کا مؤقف ہر پیغام کے ساتھ منسلک ہوتا چلا جائے گا‘ جس سے عالمی سطح پر پاکستان یا قومی اداروں اور اہم شخصیات (بالخصوص پاک فوج کے سربراہ) کے بارے پھیلنے والا تاثر زائل کرنے میں مدد ملے گی یا پھر حکومت کے نکتۂ نظر سے جو حقائق ہیں اُنہیں عام کیا جا سکے گا۔ سماجی رابطہ کاری کے وسائل یا اظہار رائے پر پابندی عائد کرنے کی بجائے وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کو فعال ’سوشل میڈیا حکمت عملیاں‘ تشکیل دینا پڑیں گی تاکہ ہر حملے کا بروقت (مستعدی) اُور پوری طرح مقابلہ (دفاع) عملاً ممکن بنایا جا سکے۔

منظرنامہ ملاحظہ کیجئے کہ پاکستان میں سماجی رابطہ کاری کے وسائل سے اِستفادہ کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق ’تحریک انصاف‘ سے ہے یا وہ قومی سلامتی سمیت ریاستی اِداروں کے بارے میں وہی رائے رکھتے ہیں یا اُنہی ملتے جلتے نظریات کا پرچار کرتے ہیں‘ جن کی تحریک انصاف تائید کرتی ہے۔ پاکستان میں سخت گیر مالی نظم و ضبط کے قیام‘ احتساب‘ مالی و انتظامی امور میں بدعنوانیوں کے خاتمے اور طرزحکمرانی کی اِصلاح پر مبنی ’تحریک انصاف‘ کے مؤقف (سیاسی منشور) کی تائید کرنے والے کی بڑی تعداد ہر وقت ٹوئٹر اور فیس بک پر ’حاضر جناب (آن لائن)‘ رہتی ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی صارف تحریک انصاف کے حق یا اس کے خلاف کچھ لکھے اور اُسے ترکی بہ ترکی (فوراً) جواب نہ ملے۔ 

وفاقی حکمراں جماعت ’نواز لیگ‘ کو سوشل میڈیا پر فعال (متحرک) ہونے میں اگرچہ دیر ہوئی تاہم اُن کا ’سوشل میڈیا سیل‘ زیادہ منظم اور ہر دن پھل پھول رہا ہے۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے ’سوشل میڈیا شعبے‘ ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کے لئے جس طرح سرگرم ہیں اور جس طرح رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے ’سوشل میڈیا وسائل‘ میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اُسے مدنظر رکھتے ہوئے اِس بات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں ’سوشل میڈیا‘ بھی ذرائع ابلاغ کے دیگر وسائل کی طرح کسی فرد یا جماعت کو ہیرو یا زیرو بنانے میں غیرمعمولی کردار ادا کریں گے۔ 

سوشل میڈیا کو پاکستان کی سیاست میں وہ مقام مل چکا ہے جہاں اِس کے ’’معنوی وجود‘‘ سے نہ تو انکار ممکن ہے اور نہ ہی اِسے غیراہم قرار دیتے ہوئے ’نظرانداز‘ کیا جاسکتا ہے‘ لہٰذا بہتری (عافیت) اِسی میں ہے کہ عصری تقاضوں (تبدیلیوں) کا (کماحقہ) ادراک کیا جائے۔ قواعد و ضوابط کے اطلاق میں سختی اور پابندیاں عائد کرنے کی بجائے ’سوشل میڈیا صارفین‘ کی تعلیم و رہنمائی کے لئے تربیت کا اہتمام و انتظام کیا جائے۔ ’سوشل میڈیا‘ خیر محض ہے جس کا تعمیری (اپنے حق میں) استعمال کا لائحہ عمل وقت کی ضرورت اُور اس کے ذریعے ’شرارت‘ تخریب کاری‘ یا معصومیت میں خطا کاروں کی نیت (پس پردہ عزائم) بھی پیش نظر رہنی چاہئے!

Friday, May 19, 2017

May2017: Dreaming about a technology based education system!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تعلیم: ترجیحی منظرنامہ!

خیبرپختونخوا حکومت نے درس و تدریس کے عمل کو ’انقلابی خوبیوں‘ سے روشناس (مزین) کرنے کے لئے کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ پر مبنی ’انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)‘ بطور بنیادی اسلوب متعارف کرانے کا نہ صرف فیصلہ بلکہ اِس لائحہ عمل کے لئے 4ارب تیس کروڑ روپے سے زائد کی خطیر رقم آئندہ مالی سال (دوہزار سترہ اٹھارہ) کے بجٹ میں مختص کر دی جائے گی۔

خیبرپختونخوا کی تاریخ کے اِس سب سے بڑے اور غیرمعمولی ’ترقیاتی منصوبے‘ میں برق رفتار انفارمیشن اور کیمونیکشن ٹیکنالوجیز پر بھروسہ اُور اِس جدید اَسلوب کو متعارف کرانے سے تعلیمی اِداروں کے روائتی رکھ رکھاؤ اُور عمارتی ڈھانچوں (ظاہری ناک نقشے) میں نمایاں تبدیلی آئے گی لیکن سوال یہ ہے کہ انفارمیشن و کیمونیکشن ٹیکنالوجیز کے ذریعے درس و تدریس دینے والے اساتذہ (افرادی قوت) کہاں سے آئیں گے؟ خیبرپختونخوا کے موجودہ (کم وبیش) ایک لاکھ چوبیس ہزار اساتذہ کی ستر فیصد تعداد انفارمیشن و کیمونیکشن ٹیکنالوجیز سے نابلد ہیں اور اِسی بات کا احساس کرتے ہوئے ’اساتذہ کی تربیت‘ کا بھی بطور خاص اہتمام کیا جا رہاہے۔ یعنی چار ارب تیس کروڑ روپے کا ایک بڑا حصہ اساتذہ کی تربیت پر خرچ ہو جائے گا! تو معلوم ہوا کہ نئی حکمت عملی سے اگر کسی اور کا فائدہ (بھلا) ہو یا نہ ہو لیکن اساتذہ کی تربیت کا اہتمام و انتظام کرنے والوں کی قسمت ضرور بدلنے جا رہی ہے! یہ کہاں کا انصاف ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنے آخری مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ایک ایسی حکمت عملی پیش کرے جسے جاری رکھنا آنے والی حکومتوں کے لئے ممکن نہ ہو؟ چار سال اساتذہ کی تربیت پر اربوں روپے خرچ کرنے اور برطانوی حکومت کے ادارے ’برٹش کونسل‘ یا اِس جیسے دیگر غیر ملکی اداروں کو منتقل کرنے سے حاصل نتائج پر غور کرنا کس کی ذمہ داری بنتی ہے؟ کیا یہ بہتر و پائیدار نہ ہوتا کہ یکایک‘ فوراً اور آن کی آن تعلیمی نظام کی اس قدر بڑے پیمانے پر اصلاح کی بجائے شعبۂ تعلیم میں انفارمیشن و کیمونیکشن ٹیکنالوجیز کا مرحلہ وار اطلاق کیا جاتا؟ توانائی بحران اور دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے ناقابل اعتماد نظام سے کس طرح‘ اتنی بڑی توقعات اور اُمیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں؟

یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ آنے والا دور ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ ہی کا ہوگا‘ جس پر انحصار بڑھنے کے ساتھ تعلیمی اداروں اور درس و تدریس کے اوقات کی پابندی بھی بتدریج کم ہوتی چلی جائے گی لیکن یہ عمل بیک جنبش قلم (آنکھ چھپکتے) ممکن نہیں اور نہ ہی محض سرمائے کے زور میں ایسا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ترقی کا ’پائیدار پہلو‘ یہ ہوتا ہے کہ اِسے مرحلہ وار‘ حقائق سے ہم آہنگ اور دستیاب افرادی و مالی وسائل کے مطابق ہونا چاہئے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کا قبلہ درست کرنے کے لئے نجی شعبے کے عملی تجربے اور (حاصل) تجربات سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہر نجی سکول اپنے وسائل اور اپنی ضروریات کا تعین کرکے اساتذہ کی تربیت کا اہتمام کرتا ہے اور اِس کے لئے موسم گرما یا سرما کی طویل یا ہفتہ وار تعطیلات سے استفادہ کیا جاتا ہے کیا سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کی اُن کے متعلقہ شعبوں میں تربیت کا انتظام تعطیلات کے دوران ممکن نہیں ہوسکتا؟ کیا نصاب کو عملی تجربات اور مطالعاتی دوروں سے آسان نہیں بنایا جاسکتا؟ نجی تعلیمی اداروں کی طرح سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم بچوں کے قیمتی وقت کو تعطیلات کی نذر کرنے کی بجائے اُنہیں اندرون یا بیرون ملک کیوں نہیں بھیجا جا سکتا؟ یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کے میدانی (گرم) علاقوں میں ستائیس مئی سے اکتیس اگست (تین ماہ پانچ دن) جبکہ پہاڑی (سرد) علاقوں میں یکم جولائی سے اکتیس جولائی (ایک ماہ) کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے۔ سبب جو بھی ہو لیکن تعلیمی عمل مہینوں معطل رہنے اور اِس دورانیئے سے بہتر و مفید عملی استفادے کے بارے میں سوچ بچار اگر ماضی کی حکومتوں کا طرزعمل نہیں رہا تو کیا ’روایت پرستی‘ میں معاملات (وقت کا ضیاع) جوں کے توں ہوتا رہے؟ گرمی ہو یا سردی‘ ہڑتال ہو یا احتجاج‘ تعطیلات کا کوئی مقصد (جواز) ہو ہی نہیں سکتا مگر اِس کی ضرورت اُن سرمایہ داروں کو رہتی ہے جو ایک مصروف ترین سال کے چند ہفتے اہل خانہ کے ہمراہ کسی پرفضا مقام یا بیرون ملک بسر کرنے کو معمول بنائے ہوئے ہیں! موسمی شدت سے بچنے کے لئے تعلیمی اداروں کے اُوقات تبدیل کئے جا سکتے ہیں۔

سکولوں کو آمدورفت کے لئے سفری سہولیات میں اضافہ ممکن ہے۔ پرفضا مقامات کی آب وہوا کو درس وتدریس کے عمل سے زیادہ معطر بھی تو بنایا جاسکتا ہے؟ آخر فیصلہ سازوں نے یہ نتیجہ کس سائنسی بنیاد (اصول) پر اخذ کر لیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے اساتذہ کو ایک جیسی تربیت چاہئے اور سبھی کی صرف انگریزی مضمون ہی میں مہارت بڑھانے سے ضرورت پوری اور معیار تعلیم بہتر ہو جائے گا؟

شعبۂ تعلیم کے مستقبل اُور مستقبل کی ضروریات پر نظر رکھتے ہوئے آج کی تاریخ اور آج کی تقاضوں کا احساس و ادراک بھی ترجیح ہونی چاہئے۔

Thursday, May 18, 2017

May2017: The use & application of INTERNET in education!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
تکنیکی اُلجھنیں!
شعبۂ صحافت سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے ’عکاسی (فوٹوگرافی)‘ کے بارے میں مزید جاننے کی خواہش کے ساتھ چند ایسے تکنیکی امور کے بارے سوالات پوچھے ہیں‘ جن کے بنیادی نکات سے لیکر ماہرانہ تفصیلات تک قریب سبھی پہلوؤں کا احاطہ بذریعہ تحریر‘ تصویر اور فلم (ویڈیو ٹیوٹوریلز) باآسانی ’گوگل (انٹرنیٹ سرچ)‘ کے ذریعے پڑھے‘ دیکھے‘ سنے یا پھر اپنے کمپیوٹر لیب ٹاپ یا موبائل فون میں محفوظ بھی کئے جا سکتے ہیں تاکہ ’بار بار دیکھے‘ جا سکیں یا پھر اِن کا حسب ضرورت دوسروں سے تبادلہ (شیئر) کیا جائے‘ تاہم جو بات طالب علموں کی ایک بڑی تعداد کو عموماً معلوم نہیں ہوتی وہ یہ ہے کہ ’’انٹرنیٹ پر تکنیکی (اصطلاحی) موضوعات کی تلاش (سرچ) کا مؤثر طریقہ کیا ہے؟‘‘ 

عجب یہ بھی نہیں کہ ’انٹرنیٹ‘ سے تحریر و تحقیق اور درس وتدریس میں مدد (مؤثر استفادہ) کے اصول بھی خود انٹرنیٹ پر ہی مثالوں کے ساتھ موجود (دستیاب) ہیں لیکن انہیں سمجھنے اور اپنے ’آن لائن‘ ہر ایک منٹ کو ’کارآمد‘ بنانے کے لئے طلباء و طالبات کی رہنمائی ضروری ہے۔ شعبۂ تعلیم کے فیصلہ سازوں سے نصاب مرتب کرنے اُور تدریس و تربیت کے مراحل میں رہنماؤں (اساتذہ) کو عہدحاضر کے تقاضوں (ضروریات) کا ادراک کرنا ہوگا کہ کس طرح یہ بات ضروری نہیں رہی کہ دنیا کو ’گلوبل ویلیج‘ بنانے والا ’انٹرنیٹ‘ صرف ’انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)‘ پڑھنے والوں ہی کے لئے متعلقہ و بنیادی مضمون ہو بلکہ ’انٹرنیٹ‘ تو ہر ایک مضمون اور علم کی تمام شاخوں کا احاطہ کرنے والی ایک ایسی سہولت ہے جو سارا سال‘ چوبیس گھنٹے بناء کسی تعطیل اور معاوضے کے ’حاضر جناب‘ رہتی ہے اور بالکل ’اُس جناتی مخلوق (جادو)‘ جیسی ہے جسے ’چراغ رگڑنے‘ سے فوراً طلب کیا جاسکتا ہے اور وہ تابع فرمان کردار کوئی بھی کام ’آن کی آن‘ میں یہ کہتے ہوئے سرانجام دے دیتا ہے کہ ’’جو حکم میرے آقا!‘‘

انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ہماری نوجوان نسل کو اِس حد تک اپنا غلام (اسیر) بنا دیا ہے کہ انہیں اپنا قیمتی وقت ’آن لائن‘ تفریح طبع کی نذر کرنے جیسے خسارے کا احساس بھی نہیں۔ رہی سہی کسر موبائل فونز کمپنیوں کی جانب سے گھنٹوں باتیں یا لاتعداد مختصر پیغامات (ایس ایم ایس) کے تبادلے جیسی ’کم قیمت‘ سہولت کی فراہمی نے پوری کر دی ہے۔ سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس کا چسکا (ذائقہ) ہی ایسا ہے کہ اِس میں وقت گزرنے (دن رات) کا اِحساس نہیں ہوتا اُور وہ ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ جو ہماری غلام (تابع اور دسترس میں) ہونی چاہئے تھی لیکن صرف اور صرف رہنمائی اور معلومات نہ ہونے کے سبب (بدقسمتی) سے ہمارے نوجوانوں کی اکثریت کو اپنا غلام بنائے ہوئے ہے اور لمحۂ فکریہ یہ بھی ہے کہ جب موبائل خراب ہو تو کہا جاتا ہے کہ بچے نے خراب کیا ہے یا پھر جب یہ پوچھا جائے کہ بچے کو کس نے گمراہ (خراب) کیا تو جواب دیتے ہیں کہ موبائل فون نے! کوئی بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں! 

بناء دماغ (عقل) ٹیکنالوجی کسی تیز دھار آلے کی طرح ’خیرمحض‘ ہے جس سے مفید استفادہ اِس کے صارف کی نیت نہیں بلکہ عمل و مرضی پر منحصر ہے تو کیا ہماری نوجوان (نئی) نسل کو تمباکو نوشی اُور دیگر مضرصحت اشیاء سے پرہیز کی تلقین (بطور پالیسی) کرنے والوں نے کبھی اِس ضرورت کو محسوس کیا کہ کم معلومات کی وجہ سے اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو موبائل فون یا انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ ’’کم عمری اُور کم علمی‘‘ دونوں ہی ایسی خطرناک صورتیں (جواز) ہیں کہ اِن سے ’’بچوں‘‘ کو دُور رکھنے ہی میں دانشمندی ہے۔ یہاں بچوں کی اصطلاح کا اطلاق صرف اٹھارہ برس سے کم عمروں یا نابالغوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ ہر اُس عمر کے افراد اِس ذیل میں شمار کئے جا سکتے ہیں جو ’انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)‘ سے بناء علم (واضح مقصد) کچھ اِس طرح سے (اندھوں کی طرح) استفادہ کر رہے ہوں کہ نہ صرف اپنا بلکہ دوسروں کا قیمتی وقت‘ صحت‘ اخلاقیات اور وسائل بھی ضائع کرنے کا سبب بن رہے ہوں لیکن انہیں اپنے اِس طرز عمل پر رتی بھر ’اِحساس ضیاع (ندامت)‘ بھی نہ ہو۔

بذریعہ ’برقی مکتوب (اِی میل)‘ سوال پوچھا گیا ہے کہ ویڈیو ریکارڈنگ کا ’’4k (فور کے)‘‘ فارمیٹ کیا ہوتا ہے اور اگر ہم اِس ویڈیو ریکارڈنگ فارمیٹ (طریق) کا موازنہ ’’Full HD (فل ایچ ڈی)‘‘ سے کریں تو دونوں میں فرق کیا ہوگا؟ چونکہ آج کل ہر موبائل فون اُور ڈیجیٹل سنگل لیز ریفلیکس (DSLR) کیمرے میں ’ویڈیو ریکارڈنگ‘ کی سہولت (آپشن) دیا گیا ہوتا ہے جس کے ذریعے تصاویر کے ساتھ ویڈیو بھی بنائی جا سکتی ہے اِس لئے ’ڈی ایس ایل آرز‘ کے استعمال کا رجحان فلمبندی (ویڈیوگرافی) میں روز بہ روز بڑھ رہا ہے اور بالخصوص ’صحافتی ٹیلی ویژن (ویڈیو جرنلزم)‘ اور ’کمرشلز (ویڈیو اشتہارات)‘ کی دنیا میں ’ڈی ایس ایل آرز‘ پر اعتماد کیا جانے لگا ہے کیونکہ ’ڈی ایس ایل آرز‘ کم دورانیئے کے ’ویڈیو کلپ‘ بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور اِن نسبتاً کم قیمت آلات کی بدولت خوبیوں سے مزین ’آواز و تصویر‘ حاصل کرنا ممکن ہو چکی ہے۔ 

’ڈی ایس ایل آر‘ کیمروں کے ذریعے بنیادی طور پر تین فارمیٹس کا استعمال ہو رہا ہے۔ کسی بھی مقصد کے لئے کی جانے والی فلم بندی (ویڈیوگرافی) کے معیار کی پیمائش ’’ریزولوشن (resolution)‘‘ کی کسوٹی پر کیا جاتا ہے جبکہ یہ ’ریزولوشن‘ تصویر میں روشنی یعنی مختلف رنگوں کے نکتوں (ڈاٹس) کی تعداد سے ظاہر یا منتخب کی جاتی ہے اور ہر ایک نکتے کو پکسل (pixel) کی تعداد سے بیان یا سمجھا جاتا ہے۔ ایسی فلم بندی جو 1280x720 ریزولوشن پر فلمائی جائے اُسے ’’720P یا ہائی ڈیفینیشن (ایچ ڈی)‘‘ ویڈیو کہا جاتا ہے۔ 1920x1080 پکسلز ریزولوشن کی ویڈیو کو ’فل ہائی ڈیفینیشن (ایف ایچ ڈی)‘‘ جبکہ 3840x2160 پکسلز ریزولوشن پر بنائی گئی ویڈیو کو ’فور کے (4K)‘ کہا جائے گا۔ایک اُور نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ جب ہم پکسلز ریزولوشن کو اعداد جیسا کہ ’’1280x720‘‘ سے ظاہر کرتے ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مذکورہ ویڈیو کی ہر ایک تصویر (اسٹل فریم) ٹیلی ویژن کی چوڑائی (width) میں 1280پکسلز جبکہ لمبائی (height) میں 720 پکسلز (ڈاٹس) پر مشتمل ہوگی۔ اگر اِس عدد کے ساتھ ’پی (P)‘ کے حرف کا اضافہ بھی شامل ہو تو اِس کا مطلب ’پروگریسیو‘ ہوگا جو ’انٹرلیس (interlace)‘ ویڈیو کے متضاد ہوتا ہے۔ اگر مقصد یہ ہو کہ ویڈیو کلپ کو بعدازاں اُس کی اصل رفتار سے کم یعنی ’سلوموشن‘ میں دیکھنا ہو تو ’انٹرلیس‘ شوٹنگ فارمیٹ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ تیسری تکنیکی اصطلاح ’ویڈیو گرافی‘ کی کوالٹی (آوٹ پٹ) پر اثرانداز ہوتی ہے۔ 

’’ڈیجیٹل کیمروں‘‘ سے چوبیس‘ تیس یا ساٹھ فریم فی سکینڈ (ایف پی ایس) پر شوٹنگ ہوتی ہے۔ پاکستان میں صحافتی ٹیلی ویژن اُور دستاویزی فلمیں یا ٹیلی ویژن ڈرامے بنانے والے ’چوبیس فریمز فی سیکنڈ‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ اگر ساٹھ فریم فی سکینڈ پر ویڈیو شوٹ کی جائے اور اُسے چوبیس فریم فی سکینڈ پر ’پلے بیک (playback)‘ کیا جائے تو ایسی فلم ’سلوموشن‘ میں چلتی محسوس ہوگی۔ بطور اصول کوئی ایک ’فریم فی سکینڈ‘ قاعدہ ایسا نہیں جسے حتمی سمجھا جائے لیکن اِس چوائس (انتخاب) کا انحصار ’فلم ساز‘ کی ذاتی پسند‘ ترجیح (مقصد) اُور دستیاب آلات اُور وسائل پر ہوتا ہے۔

Sunday, March 5, 2017

Mar2017: Effective way, the e-policing!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
اِی پولیسنگ!
ٹیکنالوجی (اِی گورننس) پر اِعتماد و اِنحصار کرنے والے ممالک نے ’ترقی کا سفر‘ بتدریج طے کیا کیونکہ اُن کے ہاں اِدارہ جاتی نظم و ضبط قائم کرنے میں مصلحتیں آڑے نہیں آئیں۔ بدعنوانی اور کام چوری کے امکانات بتدریج کم ہوتے چلے گئے اور بناء امتیاز و تعصب سرکاری وسائل سے ہر خاص و عام کو استفادہ کرنے کے مواقع میسر آ رہے ہیں لیکن صرف یہی رکاوٹیں ہمارے ہاں حائل نہیں بلکہ فیصلہ سازوں کی ٹیکنالوجی سے ناخواندگی شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے جو ایک ایسی بڑی رکاوٹ (اسپیڈ بریکر) ہے‘ جس کی وجہ سے ’اِی گورننس‘ مکمل طور پر رائج نہیں ہو پارہی لیکن ایسی چند لائق تقلید مثالیں بھی موجود ہیں‘ جو پاکستان کے اپنے سافٹ وئر انجنیئرز کی صلاحیتوں اور سوچ بچار کا منہ بولتا شاہکار ہیں جیسا کہ پنجاب پولیس کا متعارف کردہ سافٹ وئر ’’ہوٹل آئی(Hotel Eye)‘‘ جس کی مدد سے چودہ ماہ کے دوران صوبے بھر سے قریب ڈھائی ہزار مشتبہ افراد و ملزمان اور مجرموں کا سراغ لگایا گیا‘ جن میں درجن بھر فورتھ شیڈولرز بھی شامل تھے اور اگر ’ہوٹل آئی‘ نہ ہوتا تو ایسے افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ممکن نہ ہوتی!
پنجاب حکومت نے شعبۂ تعلیم کے ساتھ انتظامی امور میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو متعارف کرایا تو ابتدأ میں اِس مہنگے نظام سے حاصل ہونے والے نتائج زیادہ متاثر کن نہیں تھے لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اور ڈیٹابیس میں موجود کوائف کا حجم بڑھ رہا ہے‘ ویسے ویسے شناخت سے آگے کے مراحل تیزی سے طے ہو رہے ہیں یعنی ٹیکنالوجی پر مبنی نظام نے اپنا پھل دینا شروع کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ ’ہوٹل آئی‘ کہ جسے ابتدائی طور پر صرف لاہور کی حد تک لاگو کیا گیا‘ کامیابی کے بعد اسے صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ 

پنجاب پولیس کی ویب سائٹ پر موجود اعدادوشمار کے مطابق ’ہوٹل آئی‘ کی مدد سے صوبے بھر سے چار لاکھ ستر ہزار سے زائد افراد کے کوائف کی جانچ پڑتال کی جا چکی ہے جن میں سے ایک ہزار چار سو سے زائد افراد پولیس کو مطلوب پائے گئے۔ درحقیقت پنجاب میں موجود ’کریمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم‘ کی بدولت جرائم اور ملزمان و مجرموں کے کوائف ایک مرکزی ڈیٹابیس میں جمع کئے جاتے ہیں‘ جہاں سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اِن سے حسب ضرورت استفادہ کرتے ہیں۔ پولیس حکام گرفتار ملزمان کا ریکارڈ بشمول فنگرپرنٹس‘ تصاویر‘ شناختی کارڈ نمبرز‘ ایڈریسز‘ موبائل فون نمبرز اور فیملی ہسٹری سمیت تمام ڈیٹا ’کریمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم‘ میں اَپ ڈیٹ کرتے ہیں لیکن ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن میں جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ رعایت کرتے ہوئے اُن کے ریکارڈ ڈیٹابیس کا حصہ (اَپ ڈیٹ) نہیں کئے گئے۔

صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ ملک کے ہر صوبے میں ’گلوبٹ‘ پائے جاتے ہیں جن کا تعارف یہ ہے کہ وہ کسی انتخابی حلقے یا علاقے میں سیاسی جماعتوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اُور کا سیاسی اثرورسوخ اور تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے بھی نہیں ہوتے جنہیں پولیس حکام نظرانداز نہیں کرسکتے۔ خیبرپختونخوا میں پولیس کا نظام غیرسیاسی کرنے کا دعویٰ اُس تک مکمل نہیں ہوگا جب تک ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس کی کارکردگی کو شفاف اور بناء امتیاز مؤثرپولیسنگ لاگو نہیں کی جاتی۔ چونکہ ٹیکنالوجی کے احساسات و جذبات‘ وابستگی یا پسند و ناپسند نہیں ہوتی اور اِس سے وہی کچھ (نتائج) حاصل ہوتے ہیں‘ جن کی آرزو (منصوبہ بندی) کی گئی ہوتی ہے۔ اِس لئے ٹیکنالوجی ہی واحد آسرا ہے کہ اِس کی مدد سے جرائم اور سیاست کے درمیان تعلق کا راز فاش کیا جا سکے اور اس کا مثبت اثرات شفاف عام انتخابات کی صورت بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی سطح پر ’ہوٹل آئی‘ طرز کا ضمنی اُور بنیادی ’کریمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم‘ متعارف کرانے کی اَشد ضرورت ہے جس سے نہ صرف تھانہ جات کا ریکارڈ مرحلہ وار انداز میں ڈیجیٹائز کیا جا سکتا ہے بلکہ ’ڈیجیٹل ریکارڈ کیپنگ‘ سے مستقبل میں جرائم کی شرح کم کرنے میں مدد بھی مل سکتی ہے۔ 

خیبرپختونخوا میں صوبہ پنجاب سے زیادہ ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف شفاف طرزحکمرانی اور ادارہ جاتی فعالیت کے اہداف حاصل ہوں گے بلکہ قبائلی علاقہ جات کے ضم ہونے یعنی چالیس سے پچاس لاکھ افراد کے صوبے میں شامل ہونے کے عمل کو شروع دن سے اگر ڈیجیٹل خطوط پر استوار کیا جائے تو اِس سے قبائلی و بندوبستی افراد کے آپسی تعلق میں بھی بہتری آئے گی اور مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ہر کس و ناکس کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر باآسانی نظر رکھی جا سکے گی۔ خیبرپختونخوا میں پولیس کے وسائل پر پہلے ہی بوجھ ہے‘ جسے ٹیکنالوجی جیسے سلیقے کی مدد سے بڑی حد تک کم بھی کیا جا سکتا ہے اور اِس سے اُن جرائم پیشہ عناصر کی تلاش یا جرائم کا شکار ہونے والوں کی مدد بھی ممکن بنائی جا سکتی ہے‘ جنہیں تھانہ کچہری سے رجوع کرنے میں خوف آتا ہے لیکن ’آن لائن‘ وسائل کی مدد سے وہ گھر بیٹھے پولیس حکام سے اپنے مسائل کے بارے تبادلہ خیال کر سکیں گے۔ 

خیبرپختونخوا میں تبدیلی بذریعہ ٹیکنالوجی رائج کرنے سے مستقبل میں ترقی کی سمت کا تعین ممکن ہے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ (کڑوا گھونٹ) تو ہے لیکن ناممکن نہیں کیونکہ اگر پاکستان کی کل آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ پنجاب ’کریمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم‘ سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے تو خیبرپختونخوا کیوں نہیں؟

Saturday, September 10, 2016

Sept2016: Terrorism & Communication as threat!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
شکست و ریخت!

تحریک طالبان پاکستان نے اگست 2016ء میں بنائے گئے اپنے نئے ’ٹوئٹر اکاونٹ (@umarmediattp016)‘ سے پیغام رسانی شروع کر دی ہے۔ 9 ستمبر کی صبح نماز فجر اور یقیناًوظائف سے فارغ ہونے کے بعد umar.media.ttp@gmail.comسے اِی میل پیغام (فرمان) جاری ہوتا ہے۔ آسان اور جامع الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے انگریزی زبان میں دہشت گرد وارداتوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فخریہ لہجے میں کوئی کہہ رہا ہے کہ ’’تحریک طالبان کے خصوصی دستے‘ نے پشاور اُور کراچی میں پولیس پر ’کامیابی سے حملے‘ کئے ہیں!‘‘ سوال یہ ہے کہ اگر عسکریت پسند شہروں اور دیہی علاقوں میں بھیس بدل کر روپوش ہیں اور گوریلا حملوں کے ذریعے دنیا کی 13ویں بڑی‘ منظم اُور پیشہ ور فوج کو مستقل چیلنج کئے ہوئے ہیں‘ تو آخر کیا وجہ ہے کہ اُن کا زمینی مقابلہ تو ممکن نہیں لیکن اُن کی فنڈنگ‘ افرادی قوت اور اُن کے سہولت کار ’نیٹ ورکس‘ کو ختم نہیں کیا جا سکتا؟ 

انٹرنیٹ وسائل کا آزادانہ اور بناء خوف و خطر استعمال کرنے والوں کی ’آن لائن سرگرمیاں‘ نہ روکنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک طرف پورا ملک اور اُس کے لامحدود وسائل ہونے کے باوجود ’اب تک‘ اُن ’اکاونٹس‘ اُور ’کیمونیکشن ونگ (رابطہ کار افرادی قوت)‘ کی صلاحیت (دیدہ دلیری) پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکا جو زخموں پر نمک چھڑکنے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں؟ 

ہمارے خفیہ ادارے بشمول جدید آلات اور ماہرین سے لیس ’سائبر ونگ‘ آخر کب اپنی موجودگی کا ثبوت دیں گے؟ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں تک اگر اُن کی ’آن لائن سرگرمیوں‘ کے ذریعے نہیں پہنچا جا سکتا اُور ہمارے سیکورٹی اداروں کے ’سائبر ونگز‘ نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں تو کم سے کم اُن ’اِی میل‘ ٹوئٹر اُور ’فیس بک‘ اکاونٹس کو بلاک (block) تو کیا جاسکتا ہے‘ جو پاکستان دشمن پراپگنڈا یا دہشت گردوں کے ’کارناموں‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں؟

پہلی ذمہ داری: سیکورٹی حکام یہ کہہ کر اپنے فرائض سے ’گلوخلاصی‘ نہیں کرسکتے کہ افغانستان کی سرزمین اور مواصلاتی سہولیات (انٹرنیٹ) کا استعمال ہو رہا ہے۔ اگر طورخم سرحد پر گیٹ کی تعمیر سے آمدورفت کو کنٹرول (باقاعدہ و باضابطہ) بنایا جاسکتا ہے تو ’آن لائن ٹریفک‘ کی ’باریک بیں نظر اور مؤثر نگرانی‘ انٹرنیٹ کی واجبی سی معلومات رکھنے والے بھی کرسکتے ہیں۔ 

دوسری ذمہ داری: ہر خاص و عام ہوشیار رہے کہ وہ اپنے گھروں میں لگائے ہوئے ’ہاٹ سپاٹس (وائی فائی انٹرنیٹ)‘ کسی بھی صورت نہ تو ’بناء پاس ورڈز‘ رہنے دیں اور نہ ہی اہل خانہ کے علاؤہ کسی بھی دوسرے شخص سے ایسی معلولات کا تبادلہ کریں جو ’حساس‘ کے زمرے میں آتی ہے۔ اگر گھر میں مہمان آئیں اور وائی فائی پاس ورڈ مانگیں تو یقین کرلیں کے اُن کی رخصتی کے فوراً بعد یا پہلی فرصت میں ’وائی فائی پاس ورڈ‘ تبدیل کردیا جائے۔ وائی فائی پاس ورڈ کو زیادہ محفوظ بنانے کے لئے چھ ہدایات ذہن نشین کر لیں۔ 1: اپنی ڈیوائیس ’ڈبلیو پی اے انسکپرشن (WPA2)‘ پر سیٹ کریں۔ 2: پاس ورڈ کسی بھی صورت 10ہندسوں سے کم نہ ہو۔ 3: پاس ورڈ میں الفاظ ہندسے اور خصوصی کریکٹرز کو شامل کریں۔ 4: سٹینڈرڈ ’ایس ایس آئی ڈی SSID‘ کا استعمال نہ کریں۔ 5: اپنی ذاتی معلومات SSID پر نہ رکھیں۔ 6: وائی فائی ڈیوائس کی لہریں (ایکسیس) کم سے کم یعنی اپنے گھر تک محدود رکھنے کے لئے اینٹینا ایڈجسٹمنٹ کی جاسکتی ہے جو جدید آلات میں باآسانی ممکن ہے۔ کھلے عام ’وائی فائی ہاٹ سپاٹ‘ رکھنے کی وجہ سے انٹرنیٹ صارفین نہ صرف جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ نادانستہ طور پر ایک ایسے مستقل خطرے سے بھی دوچار ہیں‘ جس کی سنگینی کا انہیں ادراک نہیں۔ عموماً ہوٹلوں‘ کیفے اور دیگر پبلک مقامات پر ’اوپن وائی فائی‘ رکھا جاتا ہے‘ دہشت گردوں کے زیراستعمال انٹرنیٹ کو دیکھتے ہوئے اِس سہولت پر اُس وقت تک پابندی عائد ہونی چاہئے جب تک حالات معمول پر نہیں آ جاتے۔ جعلی یا بناء شناخت موبائل فون کنکشنز آج بھی موجود ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے مالی فائدے کے لئے پورے ملک کی سیکورٹی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ 

موجودہ ہنگامی حالات کا تقاضا ہے کہ ’پری پیڈ‘ اضافی خدمات کی بجائے پاکستان میں صرف اور صرف ’پوسٹ پیڈ موبائل کنکشنز‘ دیئے جائیں‘ تاکہ بلنگ کے ذریعے صارف کی رہائش کے مقام کا تعین ہوسکے۔ 

افغانستان یا دیگر ممالک کے موبائل فون کنکشنز کی ’رومنگ (Roaming)‘ معاہدے بھی اُس وقت تک معطل رکھے جائیں‘ جب تک سیکورٹی حالات اِس کی اجازت نہیں دیتے۔ 

پاکستان حالت جنگ سے گزر رہا ہے‘ جس میں عسکریت پسندوں کے مواصلاتی رابطے نہ صرف دہشت گردی کی منظم و مربوط کاروائیوں کو ممکن بنا رہے ہیں بلکہ اِنہی کے ذریعے وہ جس کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں درحقیقت وہ ہمارے سیکورٹی اداروں کی ناکامی کا بیان ہیں۔ کیا ہم نے دل سے شکست تسلیم کر لی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, September 2, 2016

Sept2016: Possible uses of What's App

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خاموش عالمی تحریک!
سمارٹ فونز کے ذریعے سماجی رابطہ کاری میں حالیہ اِضافہ ’واٹس ایپ (What's App)‘ کا ہے‘ جہاں ’اِنٹرنیٹ‘ کی بنیاد پر مرتب ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ نے نہ صرف کسی ایک بلکہ بیک وقت دوسو چھپن (256) افراد کے گروپ میں بات چیت یا تبادلۂ خیال کے وسیلے نے ’ایک جہان‘ کو بامعنی و بامقصد مصروفیت سے کچھ اِس طرح روشناس کرایا ہے‘ کہ حال اَحوال یا محض گپ شپ ہی نہیں بلکہ ’واٹس ایپ‘ کی دنیا میں معلومات‘ واقعات اور تازہ ترین خبروں کا فوری تبادلہ یا اُن پر اظہار خیال ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والوں کے معمولات کا حصّہ (محبوب مشغلہ یا ضرورت) بن گیا ہے۔ 

پاکستان کے قریب سبھی نجی ٹیلی ویژن چینلز نے اپنے اپنے ’واٹس ایپ‘ نمبر مشتہر کر رکھے ہیں‘ جن کے ذریعے ’سٹیزن جرنلزم‘ کو عملی پیش کیا جاتا ہے جو مورننگ شوز سے رات گئے تک خبروں میں ناظرین کی حصّہ داری ہوتی ہے اور وہ اپنے گردوپیش کے مسائل بارے ویڈیوز یا تصاویر ارسال کر سکتے ہیں جنہیں ہر روز خبروں کو مزیدار بنانے کے لئے ضروری تدوین (کانٹ چھانٹ) کر کے نشر کیا جاتا ہے جیسا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانور کے ساتھ ’دس سکینڈ‘ دورانیئے کی ویڈیو یا تصویر (سلیفی) ارسال کرنے کی دعوت کا گرمجوشی سے جواب دیا جا رہا ہے! لیکن ’واٹس ایپ‘ کی مقبولیت اُور اِستعمال کرنے والے صارفین کی تعداد کا فائدہ اُٹھانے والے ’نیوز چینلز‘ نے خود کو تفریح کی حد تک محدود کر رکھا ہے حالانکہ یہی میڈیم (اسلوب) زیادہ تعمیری و مثبت مقاصد کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی سے بامقصد اِستفادے کا مطالبہ ’ایک منظم تحریک‘ کی صورت ہونا چاہئے اور ’آن لائن‘ محض وقت گزارنے والوں کی سرگرمیوں کو ذات کے گرد دائرے کی قید سے آزاد کر کے مفاد عامہ کے لئے استعمال کرنے کی عمومی ترغیب دی جا سکتی ہے‘ جو تعلیمی ادارے تدریس کے مراحل میں ’ایک منٹ کی ویڈیو سازی‘ کو ہم نصابی سرگرمیوں کا حصّہ بنائے ہوئے ہیں‘ اُنہیں چاہئے کہ وہ اپنی کوششیں ’واٹس ایپ‘ جیسے وسائل کے ذریعے عوام و خواص کے لئے پیش (عام) کریں تاکہ نہ صرف ہم نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے دیگر تدریسی اِداروں کا رجحان (نکتۂ نظر) تبدیل ہو‘ بلکہ فوٹوگرافی اُور ویڈیوگرافی کے ذریعے تعلیم کی جانب توجہ مبذول ہو سکے۔ جس کے فوائد میں یہ نتیجہ بھی شامل ہے کہ ایسا کرنے سے ہمارے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں (افسرشاہی) پر دباؤ بڑھے گا‘ جو سردست اکتفا کئے سمجھ بیٹھے ہیں کہ قانون سازی کرلینے اُور سرکاری اداروں کا بوجھ قومی خزانے پر بڑھا کر اُن کے حصّے کے جملہ فرائض و ذمہ داریاں اَدا ہو گئیں ہیں۔ 

پاکستان میں سماجی رابطہ کاری کی سب سے مقبول ویب سائٹ ’فیس بک‘ نے اُنیس فروری دو ہزار چودہ کے روز 19 ارب ڈالر سے زائد میں ’واٹس ایپ‘ نامی سمارٹ فونز کے ذریعے تبادلۂ خیال کے ایک اچھوتے تصور کو خریدا‘ جو توقعات سے زیادہ تیزی کے ساتھ نوجوانوں میں مقبول ہو رہا تھا۔ ’واٹس ایپ‘ نے اپنے قیام (2009ء) سے 2014ء کے سفر میں ثابت کیا کہ بڑے اِداروں کی موجودگی میں نت نئے تصورات بھی کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں مدمقابل چھوٹے اداروں کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا جاتا اُور بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہیں۔ یہی کچھ ’واٹس ایپ‘ کے ساتھ بھی ہوا‘ جو کاروباری سوچ کا مقابلہ نہ کرسکا۔ بہرحال یہ الگ بحث ہے‘ سردست ’واٹس ایپ‘ کا تعارف مقصود ہے جس کے استفادہ کرنے والوں کا شمار رواں سال (دوہزار سولہ) کے ماۂ فروری تک ’ایک ارب‘ سے زیادہ تھا‘ جو اِس ’’حلقۂ اَرباب ذوق‘‘ کا حصّہ بن چکے ہیں! 

’واٹس اَیپ‘ پر زیرگردش کسی مغربی ملک کی ’ویڈیو‘ پاکستان میں بھی دیکھنے والے ملے جلے ردعمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اِس ویڈیو میں ایک ایسے شخص کو دکھایا گیا ہے جو سڑک کے بیچوں بیچ ایک گاڑی کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہے اور اُس کے اِردگرد سے تیزرفتار ٹریفک گزر رہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مذکورہ گاڑی کے ڈرائیور نے ’زیبرا کراسنگ‘ کا اِحترام نہ کرتے ہوئے ٹریفک سگنل سرخ ہونے پر گاڑی ’زیبرا کراسنگ‘ کے عین وسط میں روک لی جس سے بیس یا تیس سیکنڈ تک پیدل سڑک عبور (کراس) کرنے والوں کو مشکلات پیش آئیں۔ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر وہ شخص گاڑی کے سامنے اُس وقت تک کھڑا رہا جب تک ڈرائیور نے اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے گاڑی کو واپس پیچھے نہیں کیا اور یہ عمل کئی منٹوں میں مکمل ہوا۔ 

لب سڑک ’ٹریفک قواعد‘ کا احترام اور اِس بارے عوامی شعور کی عکاسی کرنے والے اِس ایک ویڈیو نے پوری دنیا کو ایک شعوری پیغام دیا ہے کہ قوانین یا قواعد سے مطلوبہ نتائج اُس وقت تک حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتے جب تک معاشرے کا ہر فرد اُس کے اطلاق کے لئے اپنا اپنا کردار اَدا نہیں کرتا۔ کیا ہم دوسروں کی بجائے قوانین اور قواعد کے اطلاق کا عمل اپنی ذات سے شروع کرنا پسند فرمائیں گے؟ کیا ہمیں قانون و قواعد کا احترام اپنی ذات سے شروع کرتے ہوئے اُن دوسروں کو اِس کی تلقین کرنی چاہئے؟ کیا ہمیں عمومی اور معمولی سمجھی جانے والی قانون شکنی سے دوسروں کو روکنے کے لئے اُس ’خاموش تحریک‘ کا حصّہ بننا چاہئے‘ جو دنیا کو زیادہ مہذب اُور پرامن دیکھنا چاہتی ہے؟ ’’شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا: اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے۔۔۔ اُس کی وہ جانے اُسے پاس وفا تھا‘ کہ نہ تھا: تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے!‘‘ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, February 20, 2016

Feb2016: Technical Corruption in KP

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تکنیکی مسائل!
ٹیکنالوجی کے اِستعمال اُور اِستفادہ کرنے کے ’نشوونما‘ پاتے رجحان نے جہاں روزمرہ زندگی کو آسان لیکن اِس قدر مصروف بنا دیا ہے کہ ایک ہی گھر‘ خاندان‘ محلے‘ علاقے یا شہر کے لوگوں کو آپس میں بالمشافہ تبادلۂ خیال کی فرصت نہیں رہی تو دوسری جانب ایک جیسی دلچسپیاں یا مشاغل رکھنے والوں کو ایسا پلیٹ فارم بھی فراہم کردیا ہے جہاں اظہار کی اِس قدر آزادی ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ یہی وہ محل ہے جہاں ٹیکنالوجی کے حسب حال و ضرورت استعمال کا مشورہ ضرورت بن جاتی ہے۔ نئی نسل کے لئے چمکتی دمکتی ٹیکنالوجی میں کشش کو فکری سمت (قبلہ) دینا وقت کا تقاضا ہے اُور سب سے بڑھ کر ٹیکنالوجی کو ’بہتر طرز حکمرانی‘ کی داغ بیل ڈالنے جیسے عظیم مقصد اُور اِس کے ذریعے ’طرز حکمرانی‘ پر آنے والے اخراجات کم کرنے جیسا ہدف بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کی جملہ سیاسی جماعتوں میں ’پاکستان تحریک انصاف‘ کی قیادت سب سے زیادہ ’ٹیکنالوجی دوست‘ ہے اور اسی وجہ سے توقعات بھی تحریک انصاف ہی سے وابستہ ہیں کہ وہ ٹیکنالوجی کی آڑ میں ہونے والی بدعنوانی کے امکانات ختم نہیں تو کم ضرور کرے گی۔ حکمرانی کی اصلاح سے لیکر عام انتخابات کے شفاف انعقاد اور سرکاری اداروں کا قبلہ درست کرنے کے لئے مشینوں پر زیادہ بھروسہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ ماضی کی سیاسی جماعتوں نے اصلاح کرنے کی کوشش نہ کی ہو‘ بلکہ ہوا یہ ہے کہ اصلاح کی کوششیں ناکام بنانے والے زیادہ شاطر نکلے! چونکہ ٹیکنالوجی کا اپنا کوئی دماغ نہیں ہوتا لیکن اگر اِس سے کوئی مثبت کام لینے کی خوٓہش ہو تو بس یہی پائیدار حل ہے۔ ’کم خرچ بالا نشین‘ ہونے کی بجائے ہمارے ہاں ٹیکنالوجی غیرضروری طور پر مہنگے داموں خریدی جاتی ہے۔ سرکاری محکموں کا مزاج بن چکا ہے کہ وہ کسی معمولی سی ضرورت کے لئے اس قدر تیزرفتار کمپیوٹر اُور اُس سے متعلق دیگر آلات خریدتے ہیں جس سے سوائے پیسے کے ضیاع کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

سیاسی حکومتوں کی اپنی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔ اُن کے انتخابی منشور گلے کا پھندہ نہ بنیں‘ ایسی کسی شرمندگی سے بچنے کے لئے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ’نیک نامی‘ کمانے کے علاؤہ ایسے اقدامات سے بھی حتی الوسع گریز کیا جاتا ہے جو بددیانتی و بدعنوانی کے زمرے میں شمار ہوں۔ خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت کا ٹیکنالوجی کی جانب رجحان دیکھتے ہوئے ’خالصتاً کاروباری سوچ رکھنے والے طبقات‘ ایسے سرکاری آفیسرز کو اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں‘ جنہیں فیصلہ سازی کا منصب تو عطاہو جاتا ہے لیکن انہیں یہ بات تسلیم کرنے میں عار ہوتی ہے کہ ’’وہ یہ جانتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے!‘‘ سردست فوری ضرورت اِس امر کی ہے کہ ٹیکنالوجی کی خریداری کے لئے ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ کے موجود محکمے پر چند کالی بھیڑوں کی اِجارہ داری ختم کی جائے اُور اِس کے بعد ٹیکنالوجی کی ہرضرورت چاہے وہ کسی بھی صوبائی محکمے کی ہو‘ اِسی محکمے کے ذریعے ہو تو کروڑوں نہیں بلکہ سالانہ اربوں روپے کی بچت کی جاسکتی ہے۔

کسی سرکاری محکمے کی ٹیکنالوجی ضروریات کا تعین بھی ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ کے محکمے ہی کو کرنی چاہئے تاکہ غیرضروری الیکٹرانک آلات کی خریداری میں عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ضائع نہ ہو۔ اس سلسلے میں ایک مثال دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ چند برس قبل پشاور یونیورسٹی کے ایک ڈیپارٹمنٹ نے کمپیوٹرز کی خریداری کا ٹینڈر دیا۔ جس کی کاغذی کاروائی اور آلات کی فراہمی میں چھ مہینے کا وقت لگ گیا۔ ٹینڈر جاری کرتے ہوئے آلات کی قیمت چھ ماہ بعد کم و بیش پچاس فیصد کم ہو چکی تھی لیکن چونکہ سرکاری فائلوں میں ایک قیمت درج تھی اِس لئے مارکیٹ ریٹ سے مہنگے داموں کمپیوٹر خریدے گئے اور اِس سودے میں خزانے کو کم سے کم ایک کروڑ روپے کا ٹیکہ لگا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک کروڑ روپے آلات فراہم کرنے والے نجی ادارے نے اکیلے ہضم نہیں کئے بلکہ کئی کردار اِس سے مستفید ہوئے اور یہ طریقۂ واردات (سلسلہ) آج بھی جاری ہے کہ 1: سرکاری محکمے اپنی حقیقی ضرورت کے مطابق ٹیکنالوجی کا انتخاب نہیں کرتے۔ 2: ٹیکنالوجی خریدنے کے لئے جاری ہونے والے ٹینڈر اور آلات کی فراہمی کے عمل میں ایک سے تین ماہ کا وقت لگ جاتا ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں پچاس فیصد تک کم ہو جاتی ہیں۔ 3: مقامی طور پر تیار ہونے والے آلات پر غیرملکی ہونے کے لیبل لگا کر اُنہیں فراہم کرنے کا معمول ایک الگ نوعیت کی بدعنوانی ہے‘ جو دھوکہ دہی کے زمرے میں بھی آتی ہے اُور اِسی کی بنیاد پر پشاور میں کئی ایک ایسے ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے کاروباری ادارے ہیں جن کے مالکان راتوں رات کروڑ پتی بن گئے ہیں! 4: ٹیکنالوجی کی خریداری اور دیگر ضروریات کے لئے الگ الگ قواعد و ضوابط تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ 5: ٹیکنالوجی خریدنے سے قبل اُس کے استعمال و دیکھ بھال کے لئے تربیت یافتہ عملہ یا عملے کی تربیت کا انتظام لازمی طورپر ہونا چاہئے۔ 6: ٹیکنالوجی کی گارنٹی (بعدازفروخت سروس) رکھنے والے نجی اداروں سے خریداری کی جائے۔7: ٹیکنالوجی کی فراہمی کرنے والے اداروں کی رجسٹریشن کا طریقۂ کار نظرثانی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیرنگرانی ہونا چاہئے۔

مثال ملاحظہ کیجئے کہ ’’کور آئی سیون‘ فورتھ جنریشن کے تھری پوائنٹ سیکس (3.6) رفتار والے پراسیسر کی مارکیٹ میں فی لیپ ٹاپ قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے ہے جبکہ تھری پوائنٹ ٹو (3.2) رفتار والے پراسیسر کا لیپ ٹاپ صرف پچانوے ہزار روپے میں مل جاتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص ’سٹاپ واچ‘ لگا کر بھی جائزہ لے تو تین اعشاریہ چھ اور تین اعشاریہ دو والے لیپ ٹاپ کی رفتار میں فرق معلوم یا ثابت نہیں کرسکے گا۔ دونوں کی رفتار میں پوائنٹس کا ردوبدل لیکن قیمت میں تیس سے چالیس فیصد اضافی فرق لائق توجہ ہے اور ایسی کئی ایک تکنیکی باریکیوں کے بارے میں نہ تو اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو خاطرخواہ علم ہوتا ہے اور نہ ہی وہ دردمندی کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ پیسہ قومی خزانے سے ادا ہو رہا ہوتا ہے کسی کی ذاتی جیب سے نہیں۔ امانت و دیانت کے دھندلے تصورات والے معاشرے میں جہاں سرمائے‘ اختیارات اُور سرمائے کی بنیاد پر سماجی حیثیت کو دل سے قبول کر لیا گیا ہو‘ وہاں سرکاری وسائل کے غیرمحتاط استعمال یا مالی و انتظامی بدعنوانیوں جیسی خرابیوں کی گنجائش پر تعجب کے اظہار سے زیادہ تعجب اُس سوچ پر ہونا چاہئے جو بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی بجائے آلودگیوں سے کراہت کی تبلیغ کر رہی ہے!

Wednesday, October 28, 2015

Oct2015: Cell phone in emergencies!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام 
ہنگامی حالات: ناقابل بھروسہ موبائل فون
کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر کوئی موبائل صارف ’پندرہ منٹ‘ دروانیئے میں 200 ایس ایم ایس (شارٹ میسیجنگ سروس) پیغامات اِرسال کرے تو ایک سو ساٹھ الفاظ پر مشتمل مختصر پیغام رسانی کی یہ سہولت اُس سے چھین لی جاتی ہے!َ؟ پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے یہ قاعدہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں لاگو کیا گیا جس کا مقصد اُس وقت کے انتہائی غیرمقبول صدر آصف علی زرداری کے خلاف چلنے والی وہ ’ایس ایم ایس مہم‘ جس میں اُن کی ذات‘ کردار‘ مالی حیثیت‘ بیرون ملک اثاثہ جات حتیٰ کہ اُن کی نجی زندگی کو موضوع بنایا جاتا تھا لیکن پیپلزپارٹی سمیت زرداری صاحب کے پاکستان میں ’غروب‘ ہونے کے باوجود یہ پابندی بدستور موجود ہے‘ جو جمہوریت‘ آزادی اظہار سمیت موبائل فون صارفین کے اُس بنیادی حق کو بھی ضبط کئے ہوئے ہے‘ جس میں وہ اپنے پیسوں سے خریدے ہوئے فون‘ اور اپنی ہی جیب سے ادائیگی کرتے ہوئے ’ایس ایم ایس‘ کرتے ہیں۔ پی ٹی اے کی اصطلاح میں پندرہ منٹ میں دو سو ایس ایم ایس کرنے والا ’سپام (Spam)‘ یعنی فضولیات پھیلا رہا ہوتا ہے یعنی ایسے پیغامات بھیج رہا ہوتا ہے جس سے دیگر موبائل صارفین ذہنی کوفت سے دوچار ہوں اور مذکورہ قاعدہ اِس لئے تشکیل دیا گیا تاکہ ایک موبائل صارف کے شر سے دوسرا موبائل صارف محفوظ رہے! بظاہر یہ منطقی دلیل خامیوں کا مرکب ہے۔ مثال کے طور پر 1: سمارٹ فونز کے علاؤہ تیسری اور چوتھی جنریشن کے تمام موبائل ہینڈسیٹس سافٹ وئرز میں ’بلیک لسٹ (black list)‘ کا آپشن شامل ہوتا ہے‘ جسے اینڈرائرڈ صارفین الگ سے بھی اپنے فون کا حصہ بنا سکتے ہیں اور اِس سہولت کے ذریعے اگر چاہیں تو لاتعداد موبائل نمبروں سے فون کالز یا ایس ایم ایس پیغامات ملنے کے سلسلے کو روک (block) کر سکتے ہیں۔یہی سہولت موبائل فون کمپنیاں بھی فراہم کرتی ہیں تاہم اُس صورت میں صارف کو ہفتہ وار اور مہینہ وار ایک خاص رقم (قیمت) اَدا کرنا پڑتی ہے جبکہ مفت اور آسان حل یہی ہے کہ اپنے فون میں موجود ’بلیک لسٹ‘ کی سہولت کا استعمال کیا جائے اور اگر یہ سہولت دستیاب نہ ہو تو اسے بلاقیمت حاصل (download) یا انٹرنیٹ کی معلومات نہ ہونے کی صورت کسی موبائل ڈیلر سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ 2: ایک وقت تھا کہ پیغام رسانی کے لئے صرف موبائل (GSM) نیٹ ورکس پر انحصار کیا جاتا تھا لیکن اب انٹرنیٹ نے رابطہ کاری کی ایک نئی دنیا متعارف کرادی ہے جس میں جغرافیائی سرحدوں و ٹائم زونز کی قید اُور بیرون ملک پیغام بھیجنے یا فون کال کی صورت میں فی منٹ قیمت ادا کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ پاکستان میں بذریعہ انٹرنیٹ رابطہ کاری (ip communication)کی پانچ سرفہرست اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپس (apps) میں سکائپ‘ وائبر‘ واٹس ایپ‘ فیس بک مسینجز اُور گوگل چیٹ شامل ہیں جن کے ذریعے تحریری بات چیت کرتے ہوئے 160 الفاظ فی پیغام کی حد (قید) بھی مقرر نہیں اور یہ ’جی ایس ایم نیٹ ورکس‘ کے مقابلے زیادہ برق رفتار اور قابل بھروسہ ہے۔ جب ہم الیکٹرانک طریقوں سے پیغام رسانی کر رہے ہوتے ہیں اور اس کے لئے ’قابل بھروسہ‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جبکہ بیک وقت ہزاروں لاکھوں صارف موبائل فون استعمال کرنا شروع کرتے ہیں تو پورا نظام ہی بیٹھ جاتا ہے اور فون سگنلز ہونے کے باوجود بھی رابطہ کاری ممکن نہیں ہو پاتی تو ایسے میں انٹرنیٹ دھوکہ نہیں دیتا!

چھبیس اکتوبر کے روز پاکستان کی تاریخ کے بدترین زلزلہ نے جہاں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی ہماری عمومی صلاحیت پر سوال اُٹھایا‘ وہیں رابطہ کاری کے وسائل میں شامل ’جی ایس ایم موبائل نیٹ ورکس‘ کی استعداد بڑھانے اور کسی متبادل‘ زیادہ قابل بھروسہ نظام اپنانے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔ شہری علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت عام ہونے سے پہلے ہی بھرپور فائدہ اُٹھایا جا رہا ہے لیکن اِس سہولت کو دیہی علاقوں اُور بالخصوص بالائی و پہاڑی علاقوں تک وسعت دینے کے لئے ’سیٹلائٹ کیمونیکیشن‘ میں سرمایہ کاری ایک ایسا پائیدار حل ثابت ہوسکتا ہے‘ جس سے عمومی حالات میں درس و تدریس‘ شعور و اگہی‘ موسمی ردوبدل کے بارے معلومات کی فراہمی‘ آبپاشی کے وسائل کا بہترین استعمال اور دیگر خصوصی یا ہنگامی حالات میں رہنمائی کا مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن سردست وفاقی حکومت سے درخواست ہے کہ وہ موبائل نیٹ ورکس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پیغامات ارسال کرنے پر عائد پابندی ختم کرے کیونکہ جو لوگ ’ایس ایم ایس‘ کے ذریعے مارکیٹنگ (کاروبار) کرتے ہیں وہ ہر چودہ منٹ میں 200 پیغامات ارسال کرکے ایک منٹ کا وقفہ لے لیتے ہیں جس کے بعد انجان موبائل نمبروں پر مزید دو سو پیغامات ارسال کر دیئے جاتے ہیں۔ یقیناًہر موبائل صارف کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور لاکھوں روپے کی لاٹری (انعامات) نکلنے کی خوشخبری والے ’ایس ایم ایس‘ ملتے ہی رہتے ہیں تو معلوم ہوا کہ جو لوگ ’سپام (spam)‘ یعنی ’ایس ایم ایس‘ کا تجارتی و غلط (بیجا) استعمال کر رہے ہوتے ہیں‘ وہ تو اِس پابندی سے متاثر نہیں ہو رہے اُور انہوں نے کمپوٹر کے ایسے سافٹ وئرز استعمال کرنا شروع کر رکھے ہیں جو ’ایس ایم ایس‘ کی ترسیل اور انہیں ہر پندرہ منٹ پر تقسیم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں شامل عوام کے منتخب نمائندوں اور بالخصوص خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے ایک قرارداد کی صورت وفاقی حکومت سے مطالبہ ہونا چاہئے کہ پندرہ منٹ میں زیادہ سے زیادہ دو سو ایس ایم ایس پیغامات کی ترسیل پر عائد پابندی ختم کرے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ موبائل صارفین کی اکثریت اِس قاعدے سے لاعلم ہے اور انجانے میں جب اُن سے خلاف ورزی سرزد ہوتی ہے تو فوراً ہی انہیں ’پی ٹی اے‘ کی جانب سے ایک ’ایس ایم ایس‘ موصول ہوتا ہے کہ آپ سے ایس ایم ایس کی سہولت چھین لی گئی ہے جس کے نیچے دو فون نمبر اور ایک ای میل ایڈریس درج ہوتا ہے۔ پی ٹی اے حکام نے کمپیوٹرائزڈ (خودکار) طریقے سے پابندی تو عائد کر دی لیکن ’ایس ایم ایس‘ کی سہولت واگزار (بحال) کرنے کا طریقہ خودکار نہیں رکھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فیصلہ سازوں نے اپنے اور اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کے نمبر ’اہم‘ قرار دے کر اُنہیں اِس پابندی سے مستثنیٰ رکھا ہواہے! اصولی طور پر پہلی بار دو سو ایس ایم ایس ارسال کرنے والے کو خبردار (وارننگ) کیا جائے اور دوسری بار اُس پر پابندی کا اطلاق ہونا چاہئے۔

قابل ذکر ہے کہ ماحولیاتی تنوع سے متعلق ہمارا عمومی رویہ‘ ماحولیاتی تبدیلیوں پر نگاہ یا تحفظ کے حوالے سے ہماری کم ترین ترجیحات کی موجودگی میں مزید قدرتی آفات کا نزول خارج ازامکان نہیں۔ افغانستان میں زمین کے اندر گہرائی میں جاکر دھماکہ کرنے والے بموں کے استعمال سے ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ زیرزمین تہہ در تہہ متاثر ہوا ہے جو ماہرین کے بقول پے درپے زلزلوں کا مؤجب بن رہا ہے۔ موسم سرما کے آغاز ہی میں شدید برفباری سے کاغان و ناران اور چترال کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ ہمیں سمجھنا ہے کہ ہماری معیشت و معاشرت‘ ثقافت اور تاریخ (بقاء) موسموں پر منحصر ہے اور اگر مون سون بارشوں کے مزاج یا اوقات میں خدانخواستہ غیرمعمولی تبدیلی رونما ہوئی تو اُس کے منفی اثرات سب سے زیادہ خیبرپختونخوا پر مرتب ہوں گے‘ جہاں ہنگامی حالات کی صورت رابطہ کاری کے وسائل تو موجود ہیں لیکن کچھ بھی قابل بھروسہ نہیں۔

Monday, September 21, 2015

Technology not in focus!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
نظرانداز ٹیکنالوجی!
پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں برق رفتار انٹرنیٹ بذریعہ موبائل فون تھری جی (3G) اُور فور جی (4G) کے متعارف ہونے سے صارفین کی تعداد ’ایک کروڑ پچاس لاکھ‘ سے تجاوز کر گئی ہے!‘‘ تاہم دیہی علاقوں میں ملک کی ستر فیصد آبادی کی اکثریت زراعت سے وابستہ معیشت و معاشرت رکھتی ہے جس میں ’انٹرنیٹ‘ کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہری علاقوں میں غریب و متوسط طبقات کا انٹرنیٹ سے استفادہ بھی واجبی ہے جبکہ طرز حکمرانی (گورننس) اُور درس و تدریس جیسے شعبوں میں انٹرنیٹ سے استفادہ عام کرنے کے وسیع امکانات سے تاحال خاطرخواہ فائدہ نہیں اُٹھایا جاسکا ہے۔ نوجوان نسل کی اکثریت کے لئے انٹرنیٹ صرف اور صرف تفریح کا ایک ایسا ’قابل اعتماد ذریعہ‘ ہے کہ جس پر مکمل بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر انٹرنیٹ کی موجودگی میں ہر نئی فلم‘ گانا‘ پروگرام اور کرکٹ کی براہ راست نشریات دیکھی جا سکتی ہیں۔ واٹس ایپ‘ وائبر‘ فیس بک میسنجر یا فیس ٹائم کے ذریعے نہایت ہی رازداری سے کسی بھی خاص دلچسپی کے گروہ (گروپ) یا انفرادی حیثیت میں جانے انجانے ہم خیالوں سے تبادلۂ خیال ممکن ہے۔ انٹرنیٹ کے اِس پورے منظرنامے میں نوجوان نسل بالخصوص طلباء و طالبات کی رہنمائی کا سامان ہونا چاہئے تاکہ محض اچھے بُرے کی تمیز نہ ہو بلکہ انٹرنیٹ وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے تحقیق و تحریر کے موضوعات میں دلچسپی بڑھے لیکن ہمارے ہاں ٹیکنالوجی کا استعمال اتنا ہی محدود اُور نمودونمائشی پر مبنی نظر آتا ہے‘ جتنا کہ اس میں وسعت ہے۔

مقبول ترین سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر (twitter)‘ ہی کی مثال لیں جس کا سیاسی و غیرسیاسی پیغامات کی تشہیر کے لئے استعمال تیزی سے مقبول ہو رہا ہے لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ جعلی اکاونٹس کی بھرمار ہے جنہیں سیاسی جماعتوں کی جانب سے دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ شاید ہی پاکستان کی کوئی ایک بھی ایسی مشہور شخصیت ملے‘ جس کے نام سے جعلی اکاونٹ گردش میں نہ ہو۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سربراہ سردار رضا کے نام سے اکاونٹ کی تردید الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر مستقل چسپاں ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ انٹرنیٹ اور بالخصوص سماجی رابطہ کاری کرنے والے اخلاقیات کو کم اہمیت دیتے ہیں اور اِس بے راہروی کا سبب رہنمائی کا فقدان ہے۔ اگرچہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو کروڑ سے زائد ٹوئٹر اکاونٹس ہیں‘ تاہم اِن میں فعال اور حقیقی اکاونٹس کی تعداد چند لاکھ سے زیادہ نہیں۔ خوش آئند ہے کہ ’ٹوئٹر استعمال کرنے کی بجائے اِسے سمجھنے والوں کی تعداد میں اضافہ‘ ہو رہا ہے اور اگر پروموشن کے علاؤہ بھی موبائل کمپنیاں ’ٹوئٹر‘ کے مفت استعمال کی ترغیب و تشہیر کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ صارفین کی طرح پروگرامرز اور فیصلہ سازوں کی توجہ بھی اِس جانب مبذول ہو گی اور صحت و تعلیم جیسے کلیدی شعبوں میں اِس سے استفادہ کیا جانے لگے گا بالخصوص جہاں معلومات کی فوری ترسیل درکار ہو‘ وہاں ٹوئٹر کے ذریعے ٹریفک اور موسم کے بارے میں اعدادوشمار کی فوری تشہیر ممکن ہے‘ جبکہ ملکی و غیرملکی سیاحوں کو ہوائی جہاز‘ ریل گاڑی‘ دیگر سفری وسائل کے اُوقات یا اُن میں کسی وجہ تبدیلی سے متعلقہ افراد کو فوری آگاہ کرنے کا اِس سے بہترین‘ سہل اور صاف ستھرا ذریعہ کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا لیکن ضرورت اِس امر کی ہے کہ ٹوئٹر کی طرز پر پاکستان کا اپنا تشہیری نیٹ ورک ہونا چاہئے‘ جیسا کہ کئی ممالک نے ٹوئٹر کا متبادل تلاش کر لیا ہے اور اِس سلسلے میں ’ٹاپ فائیو‘ متبادل ویب سائٹس بھی یکساں مقبول ہو رہی ہیں جو ٹوئٹر کے 140 الفاظ پر مشتمل پیغام کے مقابلے زیادہ تفصیل سے پیغام رسانی کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ اِن میں بالترتیب ٹمبلر ڈاٹ کام (tumblr.com)‘ پلرک ڈاٹ کام (plurk.com)‘ ایپ ڈاٹ نیٹ (app.net)‘ سوپ ڈاٹ آئی اُو (Soup.io)‘ اُور کیک (keek.com) شامل ہیں۔
http://www.socialbakers.com نامی ویب سائٹ کے مطابق ٹوئٹر کے نقشے پر پاکستان کے سب سے زیادہ مقبول صارف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان (@ImranKhanPTI) ہیں جن کا ہر دیا ہوا پیغام 28 لاکھ 41 ہزار سے زائد ٹوئٹر صارفین تک پہنچتا ہے۔ دوسرے نمبر پر کرکٹ کھلاڑی وسیم اکرم (@wasimakramlive) ہیں جنہیں 16 لاکھ 83ہزار سے زائد اور تیسرے نمبر پر سیاسی تجزیہ کار مبشر لقمان (@mubasherlucman) ہیں جن کی آرأ جاننے کے لئے 16 لاکھ 14 ہزار سے زائد ٹوئٹر صارفین اُنہیں پسند (follow) کر رہے ہیں تاہم 20ستمبر 2015ء کو حاصل کردہ اعدادوشمار مستقل ہیں بلکہ اِن میں ردوبدل ہوتا رہتا ہے۔ ٹوئٹر استعمال کرنے والے ’ٹاپ ٹین‘ دیگر پاکستانیوں میں صحافی حامد میر(@HamidMirGeo)‘ تحریک انصاف کا آفیشل اکاونٹ(@PTIofficial)‘ وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز(@MaryamNSharif)‘ پاک فوج کے ترجمان عاصم باجوہ(@AsimBajwaISPR)‘ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر(@Asad_Umar)‘ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد (ShkhRasheed) اُور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف (@CMShehbaz) بالترتیب چوتھے سے دسویں نمبروں پر جگمگا رہے ہیں۔

کسی ٹوئٹر صارف کی ہفتہ وار سرگرمیوں کا اَندازہ اُس کے پیغامات یا تبصروں سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے لیکن اگر کسی صارف کے بارے میں یہ جاننا مقصود ہو کہ وہ گذشتہ ایک ہفتے میں چوبیس گھنٹے کے دوران ’ٹوئٹر‘ پر ہونے والی بحث میں کتنی دلچسپی سے حصہ لیتا رہا ہے تو اس کے لئے http://xefer.com نامی ویب سائٹ پر اُس صارف کا ٹوئٹر ہیڈنلر مثال کے طور پر @peshavar کا اندراج کریں تو آپ کے سامنے گراف کی صورت پوری صورتحال کا بیان آ جائے گا۔ اِس بلاقیمت سہولت کی بنیاد پر آپ کو یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی صارف دن کے کن کن اوقات میں ٹوئٹر استعمال کرتا ہے یا اُس کے رجحانات (ہیش ٹیگز) یا آرام اور کام کرنے کے اُوقات کیا ہیں وغیرہ۔ اُس نے کتنے ٹوئٹ پیغامات کو من و عن دوسروں تک پہنچایا‘ اِس عمل کو ٹوئٹر کی دنیا میں ’ری ٹویٹ‘ کرنا کہا جاتا ہے۔ اِنٹرنیٹ وسائل عام کرنے سے متعلق سوچتے ہوئے مستقبل کی ضروریات اور تقاضوں کو مدنظر رکھنا چاہئے‘ جب پوری دنیا جی ایس ایم (موبائل) نیٹ ورکس کی بجائے صرف اور صرف انٹرنیٹ استعمال کر رہی گی اور وہ دن زیادہ دور بھی نہیں رہا۔

Friday, August 14, 2015

Aug2015: Electronic Crimes Bill - A dilemma

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اَندھا دُھند جہالت!
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے ایک اجلاس کا مشاہدہ وقت کا ضیاع ثابت نہیں ہوا۔ یخ بستہ ایوان میں اِن دنوں ’’الیکٹرانکس کرائمز بل 2015ء‘‘ کو حتمی شکل دینے کے لئے تجاویز پر غور کا عمل جاری ہے اُور اجلاس کے دوران ایک موقع پر حکمراں نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی طاہر اقبال نے انکشاف کیا کہ ’’دہشت گرد تنظیمیں اپنے نفرت انگیز خیالات (ایجنڈے) کو فروغ دینے کے لئے کم و بیش تین ہزار ویب سائٹس چلارہی ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ دہشت گردی کے خلاف ’قومی ایکشن پلان‘ میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وفاقی حکومت ایسی معاون قانون سازی کرے گی‘ جس میں دیگر جرائم کی طرح ’الیکٹرانک جرائم‘ کرنے والوں پر بھی ہاتھ ڈالا جا سکے لیکن رکاوٹ اراکین قومی اسمبلی کی سمجھ بوجھ تھی‘ جو ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ کے اَمور سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے تھے اور یہی وجہ رہی کہ قانون سازی کے اس مرحلے میں سب سے مشکل کام قائمہ کمیٹی کے اراکین کی اُس رائے کو تبدیل کرنا ہے جو ٹیکنالوجی سے متعلق وہ رکھتے ہیں۔ اس طرح کی قانون سازی متعلقہ محکمے پہلے ہی کرلیتے ہیں‘ جس میں ہمسایہ ممالک کے قوانین سے نقل کی گئی شقیں الفاظ بدل کر شامل کر لی جاتی ہیں۔ کمیٹی ماہرین کو بھی طلب کرتی ہے اور پھر جب ماہرین بولتے ہیں تو اُن کا منہ ٹکٹکی باندھ کر دیکھا جاتا ہے کہ یہ کیا ارشاد فرما رہے ہیں! جب افغان موبائل فون کنکشنوں کے پاکستان میں استعمال (رومنگ) پر پابندی عائد کرنے کا معاملہ زیرغور تھا تب بھی ایسی ہی ایک ایوان بالا کی کمیٹی کے اجلاس میں آخری وقت تک ’رومنگ‘ سمجھنے والوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ حالانکہ وہ ایک سیدھا سادا مسئلہ تھا اور محض چند کمپیوٹر کمانڈز کی مدد سے ایسے تمام موبائل فون کنکشن بند کئے جا سکتے تھے جو پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)کے ذریعے تصدیق نہیں رکھتے لیکن موبائل فون کمپنیوں کی لابنگ زیادہ مؤثر ثابت ہوئی!

’الیکٹرانک کرائمز بل‘ پر غوروخوض کے مرحلے پر جب یہ بات سامنے آئی کہ گمنام دہشت گرد کم و بیش تین ہزار ویب سائٹس کا اِستعمال کر رہے ہیں تو شرکاء نے اِس بیان اور تعداد پر یقین کرتے ہوئے آنکھیں پھیلا کر حیرت کا اظہار کیا‘ حالانکہ یہ دعویٰ سائنسی طورپر مصدقہ نہیں۔ اگر ہم سماجی رابطہ کاری کے وسائل ہی کو دیکھیں تو ایسے چند ہزار نہیں بلکہ لاکھوں اکاونٹ (کھاتے) ملیں گے جو عسکریت پسندوں‘ انتہاء پسندوں‘ دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے پیغامات کی تشہیر کر رہے ہیں۔ صحافیوں کو لاتعداد کالعدم تنظیموں اور عسکریت پسندوں کی جانب سے بیانات بذریعہ ای میل وصول ہوتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہر ایک کی طرح عسکریت پسند بھی انٹرنیٹ کا پوری آزادی و حسب سہولت استعمال کر رہے ہیں‘ حتیٰ کہ موبائل فون کنکشنوں کی بجائے انٹرنیٹ ٹیلی فون (آئی پی) کالز کی جاتی ہیں۔ پیغامات کا تبادلہ بھی فیس بک‘ واٹس ایپ‘ وائبر‘ سکائپ اُور دیگر کئی ایسی ایپلیکیشنز (Apps) کے ذریعے ہوتا ہے‘ جو نسبتاً غیرمعروف ہیں۔ ایسے موبائل سافٹ وئر بھی دستیاب ہیں جن کی واجبی سی قیمت ہے اور اِن کے ذریعے کئی افراد رازداری سے تبادلۂ خیال کر سکتے ہیں! افسوس کہ جس تیزی سے سماج دشمن عناصر نے ’انٹرنیٹ‘ رابطہ کاری سے فائدہ اُٹھایا‘ اتنی مستعدی کا مظاہرہ حکومت کی جانب سے نہیں ہو سکا۔ موبائل فون کمپنیوں کو اپنے منافع سے غرض ہے اور وہ کسی بھی ایسی تحریک یا ضرورت کی اہمیت کو محسوس نہیں کر رہیں جس کا تعلق پاکستان کی سالمیت یا امن و امان کے حوالے سے درپیش خطرات سے ہو!

قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی کے اراکین متعدد جرائم اور سزاؤں کا ایک‘ ایک کرکے جائزہ لے رہے ہیں‘ جن پر کمیٹی میں شامل حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین‘ وکلأ‘ غیرسرکاری تنظیمیں (این جی اوز) اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے متعدد اداروں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جاچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب بات ’قومی سلامتی‘ کی ہو رہی ہوتی ہے تو ہمارے اراکین اسمبلی کی تقسیم ’حکومت اُور حزب اختلاف‘ کے طور پر کیوں ہوتی ہے؟ قانون سازی کے مرحلے قانون سازوں کی ترجیحات سازی اور بحث و مباحثہ میں سیاسی وابستگیوں کا رنگ کیوں غالب دکھائی دیتا ہے۔ ’’تعمیر وطن کے لئے سرجوڑ کر نکلو۔۔۔تخریب کے ہر پہلو سے منہ موڑ کے نکلو۔‘‘ الغرض جرائم چاہے الیکٹرانک ہوں یا روائتی‘ اِن کے بارے میں ’قانون سازوں کی رائے الگ الگ (منقسم) نہیں ہونی چاہئے‘ اُور یہ ہدف حاصل کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ (پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا) کلیدی کردار اَدا کر سکتا ہے۔ اخبارات بلاناغہ ٹیکنالوجی کے خصوصی ضمیمے شائع کریں۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کو روزمرہ زندگی کے مسائل اور اُن کے حل سے متعلق غوروفکر اُور تحقیق پر مبنی مضامین تحریر کرنے کے لئے ’اُکسایا‘ جائے۔ مضمون
نویسی سمیت ٹیکنالوجی کے موضوعات اِدارتی پالیسی کا مستقل حصہ ہونے چاہیئں۔

نوجوان نسل جس ’اَندھا دھند انداز میں جہالت کی پیروکار‘ بنی ہوئی ہے‘ اس کی مذمت نہیں بلکہ رہنمائی کا انتظام ہونا چاہئے۔ ’فیس بک‘ کا مفید استعمال بھی تو ممکن ہے۔ اِس کے ذریعے معاشرے کی اصلاح اور نوجوانوں کو تعمیری قول و فعل کی تربیت بھی تو دی جا سکتی ہے۔ درس و تدریس کا عمل سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس کے ذریعے بھی تو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

قائمہ کمیٹی کے شرکاء کی جانب سے ’الیکٹرانکس کرائمز‘ کے مسودۂ قانون میں درج جرائم اور سزاؤں پر جاری تبادلۂ خیال میں نفرت انگیز تقاریر‘ شناخت کا غلط استعمال‘ غیر قانونی مداخلت اور دیگر امور شامل تھے۔ سب جانتے ہیں کسی بھی فرضی (جعلی) نام و شناخت سے ایک دو نہیں بلکہ درجنوں اور سینکڑوں ’اِی میل کھاتے (اکاونٹ)‘ کھولنا کس قدر آسان و ممکن ہے۔ اسی طرح کسی فرد کے وقار کے خلاف جرائم‘ سائبر اسٹاکنگ‘ اسپامنگ‘ سپوفنگ‘ ڈیٹا ٹریفک میں رکاوٹ اور انفارمیشن سسٹم میں خفیہ اِداروں کی رسائی‘ کسی ایک یا زیادہ اِی میل اَکاؤنٹس کی نگرانی یا اُن تک رسائی ختم (بلاک) کرنا وغیرہ پر بھی تفصیلی بات چیت ہونی چاہئے۔اُمید ہے کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس یعنی اٹھارہ اگست کو یہ مسودۂ قانون کسی حتمی شکل کی صورت سامنے آ جائے گا۔ طریقۂ کار کے مطابق جب کوئی مسودہ قانون ذیلی کمیٹی میں ترتیب پا جائے تو اُسے ’قومی اسمبلی‘ میں منظوری کے لئے پیش کیا جاتا ہے تاہم ضرورت اِس امر کی ہے کہ (قومی اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کرنے سے قبل) اِس مجوزہ قانون کو بذریعہ ویب سائٹ مشتہر کیا جائے تاکہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اپنے اپنے نکتۂ نظر سے اِس کا جائزہ لے سکیں۔ الیکٹرانک جرائم سے متعلق نیا قانون اگر موجودہ شکل میں منظور ہو جاتا ہے تو اس سے انٹرنیٹ صارفین کے حقوق محدود جبکہ چند ریاستی اداروں کے اختیارات لامحدود ہو جائیں گے۔ یہ بل (موجودہ شکل میں) تفتیشی انتظامیہ کو لامحدود اختیارات دیتا ہے اور اس سے شہری حقوق سے محروم ہوسکتے ہیں۔ دوران بحث ایک مرحلے پر یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اِس بل کو چالیس سے 13 صفحات تک محدود کیا گیا ہے اُور اِس سے ’اِنسانی حقوق‘ سے متعلق نکات نکال دیئے گئے ہیں۔ یہ ذمہ داری صرف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اراکین ہی کی نہیں بلکہ دیگر تمام ’ایم این ایز‘کی بھی ہے کہ وہ قانون سازی کے جملہ مراحل میں دلچسپی لیں۔ کسی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اراکین اسمبلی سمیت بطور مبصر کوئی بھی شخص شریک ہو سکتا ہے اور اجازت ملنے پر اظہار خیال بھی کرسکتا ہے۔ خود کو متعلقہ یا غیرمتعلقہ سمجھنے والے جملہ اراکین قومی اسمبلی کو اپنی حیثیت سے جڑے فرائض کا ادراک کرنا ہوگا کہ بھلا ایسے کسی قانون کی اہمیت کس قدر ہوسکتی ہے‘ اُسے کتنا سراہا اور واجب الاحترام سمجھا جا سکتا ہے‘ جو انسانوں پر لاگو ہو‘ لیکن اس کی ساخت میں انسانی حقوق کو کم ترین ترجیح دی گئی ہو!؟

Thursday, July 30, 2015

Jul2015: Difficulties in obtaining passports!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پاسپورٹ کاحصول:حاصل اُور وصول!
یہ زعم اپنی جگہ اَلمیہ‘ لمحۂ فکریہ اُور خودفریبی کی اِنتہاء ہے کہ خدمت کے سرکاری منصب پر فائز کسی وفاقی‘ صوبائی یا مقامی حکومتوں کے اعلیٰ و ادنیٰ اہلکار برسرزمین حقائق کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اگرچہ اعدادوشمار اِس بات کی تائید کرتے ہیں لیکن اگر ایسا نہ بھی ہوتا تو بھی یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عام آدمی (ہم عوام) کی اکثریت یا تو غریب ہے یا پھر انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے اُور فیصلہ سازی کے منصب پر فائز ’اذہان عالیہ‘ کو اِس بات کی واجبیسی پرواہ بھی نہیں لگتی کہ اُن کی وضع کردہ حکمت عملیوں‘ دفتری اُوقات‘ حتیٰ کہ تعطیلات کا معاشرے کے اِس عمومی غریب طبقے یعنی کہ ہم عوام کی اکثریت پر کس قدر منفی اَثر پڑ رہا ہے!
تیس جولائی کی صبح جبکہ ابھی سورج کی کرنوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع ہی کیا اور پہلے سے حبس زدہ ماحول میں رفتہ رفتہ گرمی کا اضافہ محسوس کرنے والوں کی بے چینی اُن کے پسینے میں شرابور تن بدن اور دہکتے ہوئے چہروں سے عیاں ہو رہی تھی۔ یہ منظرنامہ ’پاسپورٹ آفس (حیات آباد)‘ کے باہر کا تھا جہاں رُک کر یکے بعد دیگرے کئی ایک لمبی سانسیں لینی پڑیں۔ دفتری اُوقات سے 2 گھنٹے قبل پہنچنے پر بھی وہاں کم وبیش دوسو سے ڈھائی سو افراد قطار بنائے کھڑے پائے گئے۔ یہ قطار سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی ’پاسپورٹ آفس‘ کے داخلی گیٹ سے دیوار کے ساتھ ساتھ کسی پودے کی طرح چپکی ہوئی تھی جہاں سے مڑ کر سڑک اور پھر دوسرے کنارے درختوں کے گرد گھومتی ہوئی واپس عین سڑک کے بیچوں بیچ تک پھیل چکی تھی۔ پھیکی پھیکی دھوپ میں بناء کسی سائے قطار میں کھڑے درخواست گزاروں کے نام اور شکلیں مختلف لیکن اُن سب کی قسمت ایک جیسی تھی! ہاتھوں میں فائلیں اُور اکثریت کے کندھوں پر سوتی چادریں رکھی ہوئی تھیں‘ جنہیں سروں پر کمال مہارت سے ٹکائے کئی ایک تو تھک کر پاؤں کے بل اور چند ایک مزید تھک کر زمین پر بیٹھ چکے تھے۔

یہ ایک خوفناک اور انتہائی ڈروانا بلکہ دل دہلا دینے والا منظر تھا۔ قطار میں کھڑے ہوئے لوگوں کے علاؤہ ایک اچھی خاصی تعداد لوہے کے زنگ آلودہ گیٹ پر بھی الگ سے چپکی ہوئی تھی‘ جنہیں عمارت کی چاردیواری کے اندر حد نگاہ تک سنساٹا اور بندوقیں تان کر کھڑے سیکورٹی اہلکاروں کو دیکھ کر حیرت ہو رہی ہوگی لیکن شاید ان سب کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی۔ پشاور سے منتخب ہونے والے عوامی نمائندے کہاں تھے؟ وہ تبدیلی کہاں تھی جس کے خواب کا تسلسل نیند ٹوٹنے کے باوجود بھی ختم نہیں ہورہا۔ ایک عمارت کہ جس کی کھڑکیاں دروازے حتی کہ روشن دان بھی بند لیکن اُس کے باہر سائل لو پھوٹنے سے قبل جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ دفتری مقررہ اُوقات شروع ہونے میں دو گھنٹے کا وقت باقی ہونے کی وجہ سے ائرکنڈیشن کے بیرونی یونٹ بھی خاموش تھے‘ جنہیں دیکھتے اور گرمی کو محسوس کرتے ہوئے یہ سوال بھی سر سے پاؤں تک قطرہ قطرہ بہہ رہا تھا کہ اگر سرکاری دفاتر میں فراہم کردہ سہولیات (اصولی طور پر) ’صارفین‘ کے لئے ہیں جن کی قیمت بھی عوام ایک سے زیادہ ٹیکس یا متعلقہ اداروں کی مقررہ فیسوں کی صورت اَدا کرتے ہیں تو پھر اِن سہولیات پر عام آدمی کا حق کیوں نہیں؟ پاسپورٹ یا شناختی کارڈ (نادار) دفاتر کے باہر قطار میں کھڑے ہوئے ’درخواست گزار‘ کون لوگ ہیں؟ کیا یہ کسی دوسرے ملک کے باشندے ہیں؟ کیا انہیں پاکستانی ہونے کی سزا مل رہی ہے؟ قومی شناختی دستاویزات کے حصول جیسا حق کیوں اس قدر ’مشکل بلکہ مشکل ترین‘ بنا دیا گیا ہے؟ جن دفاتر سے رجوع کرنے والے قطاروں میں سارا دن انتظار کرنے کے باوجود بھی مایوس لوٹ جاتے ہیں وہاں دفتر کے اوقات بڑھا کیوں نہیں دیئے جاتے؟ آخر یہ کس آسمانی کتاب یا مقدس صحیفے میں تحریر ہے کہ سرکاری دفاتر کے اوقات نہ تو بڑھائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی اُنہیں چوبیس گھنٹے کھلا رکھا جا سکتا ہے جبکہ اُن سے رجوع کرنے والوں کی بڑی تعداد مشکلات کا دوچار ہو؟


ایک سے زیادہ شفٹیں کیوں مقرر نہیں کی جا سکتیں تاکہ شناختی کارڈ یا پاسپورٹ حاصل کرنے والوں کی یوں ’کھلے عام (ظاہری و پوشیدہ) زحمتیں‘ تمام ہوں؟ آخر کیا اَمر مانع ہے کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جیسی بنیادی دستاویزات کا حصول ایک ہی دفتر (ڈیسک) سے اُور ایک ہی مرتبہ کی شناختی جانچ پڑتال و تصدیق کے مراحل مکمل کرنے کے بعد حاصل کرنا ممکن نہیں بنایا جاسکتا؟ ایک جیسی قومی دستاویزات فراہم کرنے والے وفاقی اداروں کو ایک چھت تلے جمع کرنے میں کیا مضائقہ ہے یا کیا رکاوٹ حائل ہے؟ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کی طرح پاسپورٹ حاصل کرنے کے جملہ مراحل بھی ’بائیومیٹرکس تصدیق‘ کی بنیاد پر مرتب ہیں‘ اگر ایک سے زیادہ شفٹیں مقرر کرنے یا سردست دفتری اوقات (چوبیس گھنٹے تک) بڑھانا ’انتظامی و سیکورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر ممکن نہ ہوں تو ایک ایسا ’آن لائن(online)‘ نظام کیوں متعارف نہیں کرایا جاسکتا‘ جس میں شناختی کارڈ یا پاسپورٹ یا دونوں کے حصول کے لئے قطار میں لگ کر انتظار کرنے کی بجائے حاضری کا نمبر (اپوائمنٹ) پہلے ہی سے حاصل کر لیا جایا کرے؟ پبلک آفسیز میں ’باسہولت انتظارگاہیں‘ کیوں نہیں بنائی جا سکتیں؟ اگر ’انٹرنیٹ (ویب سائٹ)‘ اُور ’ایس ایم ایس (موبائل فون)‘ کے قابل بھروسہ وسائل پر بھروسہ کیا جائے تو اِس سے نہ صرف جاری غیرانسانی‘ غیراخلاقی اور سراپا ذلت بھرے رویئے کی اصلاح ممکن ہو گی بلکہ متعلقہ محکمے درخواستوں کی تعداد کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے (منصوبہ بندی کے ذریعے) اِس قابل بھی ہوں گے کہ اپنی خدمات و سہولیات کے ساتھ دفتری اُوقات میں حسب ضرورت اضافہ (ردوبدل) کریں۔ پاسپورٹ کے حصول کے لئے مقررہ فیس کسی ایک دور دراز الگ مقام پر بینک کی بجائے پہلے تو درخواست وصول اور اس کی تصدیق وغیرہ کی جانچ کرنے کے مرحلے پر وصول ہونی چاہئے اور اگر ایسا ’سرکاری ملازمین کی صداقت‘ امانت و دیانت‘ کی وجہ سے ممکن نہیں تو یہ آپشن (سہولت) بھی ہونی چاہئے کہ کسی بھی ’آن لائن بینک‘ یا موبائل فون یا اے ٹی ایم یا آن لائن بینکنگ کے ذریعے مقررہ فیس جمع کرائی جا سکے‘ جس کی بطور چھ یا آٹھ ہندسوں پر مبنی خفیہ نمبر(کوڈ) بذریعہ ایس ایم ایس یا پرنٹ آؤٹ متعلقہ صارف کو فراہم کر دیا جائے اور یہی کوڈ بعدازاں ’اپوٹمنٹ(appointment)‘ حاصل کرنے کی ’آن لائن درخواست‘ کے ہمراہ منسلک کر دیا جائے‘ جیسا کہ ’میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے انٹری ٹیسٹ‘ کے لئے پہلے سے اِسی قسم کا طریقۂ کار رائج ہے۔ ایسے دفاتر جن سے بڑی تعداد میں عوام کا واسطہ پڑتا ہے اُن سے براہ راست رجوع کی بجائے ’آن لائن‘ طریقہ کار باسہولت بھی ہے اور اِسے چوبیس گھنٹے خودکار انداز میں چلانا بھی ممکن ہے لیکن چونکہ اس سے اُن ’وی وی آئی پیز‘کے لئے مشکل کھڑی ہو جائے گی‘ جنہیں انتظار کی عادت نہیں اور اُن کا استحقاق بھی کانچ سے زیادہ نازک ہے! اگر درخواست گزار کو خودکار انداز میں ویب سائٹ‘ ای میل‘ یا ’ایس ایم ایس‘ کے ذریعے مطلع کردیا جایا کرے کہ وہ (یوں قطاروں میں کھڑا ہونے کی بجائے) کسی مقررہ دن‘ فلاں وقت‘ فلاں کاؤنٹر اُور فلاں مقام پر قائم دفتر سے رجوع کرے تو یہ ہر لحاظ سے محفوظ طریقۂ کار ہوگا۔

 اگر حساس نوعیت کی شناختی دستاویزات کے حصول کے لئے ٹیکنالوجی پر انحصار کر ہی لیا گیا ہے تو پھر یہ استعمال ’سو فیصد‘ ہونا چاہئے۔ ’آدھا تیتر آدھا بٹیر‘ جیسی ’ادھوری ٹیکنالوجی‘ کی بجائے ’مکمل حل‘ اختیار و پیش کر کے بہت سی مشکلات سے چھٹکارہ ممکن ہے‘ ذرا سی حساسیت کا مظاہرہ کرکے پیچیدہ و عذاب کی صورت اعصاب شکن مراحل کو کیوں نہ آسان بنا دیا جائے؟ جمہوری اسلامی کے وزیراعظم‘ وزیر داخلہ اور وفاقی حکومت کے خیبرپختونخوا میں نمائندہ گورنر سے التجا ہے کہ وہ نظرکرم فرماتے ہوئے پاسپورٹ و قومی شناختی کارڈ دفاتر کے باہر قطار میں کھڑے ’پاکستانیوں‘ کی مشکلات کا احساس کریں۔ اگر یقین نہ آئے تو خود بھی عملی تجربہ کرکے دیکھ لیں کہ ’میرے عزیز ہم وطنوں‘ سے شناختی کارڈ و پاسپورٹ دفاتر کے باہر کس طرح‘ کس قدر اور کس اِنتہاء کا ’ذلت بھرا سلوک‘ روا رکھا جا رہا ہے!

Wednesday, June 3, 2015

Free Internet

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مفت انٹرنیٹ
سماجی رابطہ کاری کے ذریعے خبروں پر تبصرے ہوں یا گردوپیش کے حالات و واقعات کا ایک دوسرے سے تبادلہ‘ انٹرنیٹ کی بدولت تفریح سے لیکر اظہار کے وسیلوں تک ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں۔ یہاں تک کہ طرز حکمرانی میں اصلاحات‘ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور عام انتخابات میں قابل یقین و بھروسہ شفافیت متعارف کرانے کے لئے بھی انٹرنیٹ سے کہیں استفادہ تو کہیں اِس کے بارے غوروخوض جاری ہے لیکن ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کی مقررہ قیمت ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ ایسے افراد میں بڑی تعداد طلباء و طالبات کی ہے جو عموماً ایک انٹرنیٹ کنکشن کے بل کو آپس میں تقسیم کرکے سست رفتار انٹرنیٹ سے اپنا شوق یا تحقیق کی ضرورت پورا کرتے ہیں۔

 عالمی سطح پر ’انٹرنیٹ‘ کو پانی‘ ہوا اُور خوراک کی طرح کرہ ارض پر رہنے والے باشعوروں کے لئے ایک بنیادی ضرورت قرار دیا جاتاہے اور یہی وجہ ہے کہ دو طرح کی تحاریک چل رہی ہیں۔ ایک تحریک انٹرنیٹ کو مفت فراہم کرنے کی وکالت کرتی ہے اور دوسری تحریک انٹرنیٹ پر حکومتوں کے کنٹرول اور کسی بھی وجہ سے سے سنسر (پابندیوں) کی مخالف ہے۔ اِن دونوں تحاریک کی وجہ سے کئی ایک تبدیلیاں آئی ہیں‘ جن میں سرفہرست انٹرنیٹ صارفین کے حقوق ہیں لیکن ہمارے ہاں یہ موضوعات ’تعارف‘ سے بھی محروم ہیں کیونکہ ایک تو نصاب تعلیم میں نئے موضوعات داخل کرنا ممکن نہیں۔ دوسرا ٹیکنالوجی کے ساتھ اخبارات و جرائد کا رویہ بھی ظالمانہ ہے اور اگر ٹیکنالوجی کے بارے میں کچھ لکھا جاتا بھی ہے تو وہ نت نئے ایجادات کی خبریں ہوتی ہیں کہ فلاں کمپنی نے نیا موبائل ایجاد کر دیا‘ جس کی ان گنت خوبیاں گنوا دی جاتی ہیں!

پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کو جن مشکلات کا سامنا رہتا ہے‘ ان کی موجودگی میں میں Internet.org کے ذریعے مفت انٹرنیٹ خوشگوار تو ہے لیکن اس کے ساتھ کئی ایک ’لیکن‘ بھی جڑے ہوئے ہیں‘ جنہیں استعمال سے قبل اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔ مفت انٹرنیٹ کے حوالے سے پاکستان پہنچنے والا جدید ترین تصور یہ ہے میں ’انٹرنیٹ ڈاٹ اُو آر جی‘ کسی بھی صارف کو مختلف ویب سائٹس تک رسائی دے گا لیکن یہ ویب سائٹس اشتہارات سے بھری ہوں گی اور جو صارف اِن کا استعمال کریں گے اُن کے بارے میں معلومات اور رجحانات کی کہیں نہ کہیں نگرانی ہو رہی ہوگی۔ جو صارفین انٹرنیٹ پر بہت زیادہ پیسے خرچ نہیں کر سکتے‘ یہ ان کے لئے تو سہولت ہے لیکن صرف انٹرنیٹ تک رسائی ہی کو کافی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اہم بات یہ بھی ہے کہ آن لائن ہوتے ہوئے آپ کا ڈیٹا (الفاظ‘ تصاویر‘ ویڈیوز وغیرہ) کس قدر محفوظ ہیں۔ اس سلسلے میں نوجوانوں کی رہنمائی کی بہت ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں کی سطح پر ’انٹرنیٹ ڈاٹ اُو آر جی‘ کے بارے میں آگہی مہمات چلائی جائیں۔ اساتذہ خود بھی سمجھیں اور طلباء و طالبات کی رہنمائی بھی کریں تاکہ وہ انجانے میں غلطی نہ کر بیٹھیں۔ مثال کے طور پر ’انٹرنیٹ اُو آر جی‘ کے ذریعے جن ویب سائٹس یا ایپلی کیشنز تک رسائی مفت دی جائے گی وہ سیکورٹی کی بنیادی شرط SSL کے بغیر ہوں گے مطلب یہ ہے کہ آپ کے پیغامات‘ تصاویر اور دیگر تمام ڈیٹا (کوائف‘ امور معلومہ) خفیہ نہیں ہوگا بلکہ آپ اور آپ کے دوستوں یا عزیزواقارب کے علاؤہ غیر متعلقہ بہت سے دیگر لوگ بھی آپ کے ڈیٹا کو دیکھ رہے ہوں گے۔ تصور کریں کہ آپ انٹرنیٹ پر اپنی پسندیدہ ٹی وی سیریز یا میوزک ویڈیو دیکھ رہے ہیں اور جب بھی آپ اس پر کلک کرتے ہیں تو آپ کا انٹرنیٹ کنکشن کافی حد تک سست ہو جاتا ہے۔ آپ اسکائپ‘ گوگل ہینگ آؤٹ کھولتے ہیں اور جیسے ہی ’کال‘ پر کلک کرتے ہی انٹرنیٹ کی کوالٹی اتنی خراب ہوجاتی ہے کہ آپ بمشکل ہی بات کر پاتے ہیں۔ کیا یہ امر پریشان کن ہے؟ یہ وہ چند امور ہیں جن کی حوصلہ افزائی ’انٹرنیٹ ڈاٹ اُو آر جی‘ نامی تصور کر رہا ہے۔

مستقبل قریب میں ایسے کئی ایک دیگر پلیٹ فارمز بھی متعارف ہونے والے ہیں اور چونکہ ’مفت‘ کا ’لاحقہ‘ لگا ہوتا ہے اِس لئے ہمارے نوجوان اس کی جانب تیزی سے راغب ہو جاتے ہیں!

ذہن نشین رہے کہ انٹرنیٹ کی موجودہ شکل ترقی یافتہ نہیں بلکہ یہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ارتقائی مراحل سے گزر رہا ہے۔ ایسے بہت سے صارفین ہیں جنہوں نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس کے استعمال سے ’آن لائن عملی زندگی کا آغاز‘ کیا لیکن چند برس بعد ہی اُکتا گئے۔ سبب یہ ہے کہ ہم ’ویب سائٹس‘ کے سطحی و عمومی استعمال سے زیادہ آگے نہیں بڑھتے۔ دوسری اہم بات سمجھنے لائق یہ ہے کہ اگلی ایک دہائی میں جو ایک ارب لوگ انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کریں گے‘ انہیں بڑے کاروباری و تجارتی ادارے اور حکومتیں اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہیں گی۔ چاہے کوئی صارف انٹرنیٹ کی قیمت ادا کرنے کی سکت رکھتا ہو یا وہ اسے مفت استعمال کر رہا ہو‘ آنے والے دنوں میں سب کچھ حکومتوں کے کنٹرول میں ہوگا‘ اور یہی دنیا کا مستقبل ہے‘ جس میں طرز غلامی کو آزادی اور آزادی کے ساتھ غلامی رہے گی۔ نہ کوئی کلی طور پر غلام ہوگا اور نہ ہی آزاد! ادارے اور حکومتیں پہلے ہی پوشیدہ طور پر انٹرنیٹ صارفین کا ڈیٹا (امورمعلومہ) استعمال کر کے منافع کما رہی ہیں یا مکمل طور پر کنٹرول چاہتی تھیں۔ اب ہم کس طرح آپسی رابطے کرتے ہیں‘ یہ فیصلہ بھی جلد ہی ہمارے بس میں نہیں رہے گا!
Nothing is free in the world