Showing posts with label NADRA. Show all posts
Showing posts with label NADRA. Show all posts

Wednesday, March 8, 2017

Mar2017: Wider picture of security threats!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
داخلی محاذ!
درگاہ حضرت لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ پر خودکش حملے کے بعد ’سیکورٹی وجوہات‘ کی بناء پر ’پاک افغان سرحد‘ سولہ فروری سے سات اور آٹھ مارچ تک کے لئے بند رکھنے کا مقصد پاکستان کے اُس مؤقف کی جانب افغان اور عالمی توجہ مرکوز کرنا ہے تاکہ افغانستان اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکنے میں سنجیدہ عملی اقدامات کرے لیکن کیا صرف افغانستان ہی پاکستان کی سلامتی کے لئے ’واحد خطرہ‘ ہے؟ کیا پاکستان کے داخلی محاذ پر اُن تمام عناصر کا خاتمہ کر دیا گیا ہے جو انتہاء پسندی کے فروغ اور دہشت گردی کے لئے سہولت کاری سرانجام دے رہے ہیں؟ پاکستان کی افغان پالیسی تبدیل ہوئی ہے تو عسکری مہمات کی تربیت پانے والے اثاثوں کا مستقبل کہیں پاکستان کے محفوظ مستقبل سے تو متصادم نہیں؟ کیا پاکستان نے کالعدم قرار دینے کے بعد ایسی تمام تنظیموں کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں حتیٰ کہ اُن کے عام انتخابات میں شرکت پر پابندی عائد کی ہے‘ جن کا نفرت پر مبنی دستور (لائحہ عمل) کسی سے پوشیدہ نہیں؟ پاکستان کو لاحق بیرونی خطرات سے کئی گنا زیادہ خطرہ تو داخلی محاذ پر لاحق ہے‘ جہاں دشمن کی پہچان ہی مشکل ہے تو کیا ’ردالفساد‘ میں شہری و دیہی علاقوں میں روپوش عناصر کے خلاف ’اچھے اور بُرے کی تمیز‘ کئے بناء کاروائی کی جائے گی؟

سوالات و خدشات بہت ہیں لیکن ’دہشت گردی کے خلاف جدوجہد‘ عام پاکستانیوں کے لئے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہیں‘ جن کا اِس پورے منظرنامے سے کوئی واسطہ نہیں لیکن وہ بہرصورت متاثر ہو رہے ہیں۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک بھر میں جاری ’سرچ آپریشنز‘ کے دوران نسلی امتیاز برتے جانے کا تنازع زیر بحث ہے‘ وفاقی حکومت کی جانب سے قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) کو بتایا گیا ہے کہ ’’تین لاکھ سے زائد ’کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (سی این آئی سیز)‘ (محض) شک یا شبہ کی بنیاد پر معطل (بلاک) ہیں اور اِن میں ایک تہائی کارڈز غیر ملکیوں کے ہیں۔‘‘ اب تک حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے ایسے پہلے اعدادوشمار ہیں‘ جس سے یہ ’منفی تاثر‘ زائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ’’لاکھوں کی تعداد میں شناختی کارڈز بلاک ہیں!‘‘ صورتحال یہ ہے کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد ’بلاک‘ کئے گئے قومی شناختی کارڈز کی کل تعداد ’’تین لاکھ پینتالیس ہزار پانچ سو دس‘‘ بتائی گئی ہے‘ جن میں سے ایک لاکھ 75ہزار ’شناختی کارڈز‘ تاحال خفیہ اداروں اور 52ہزار کارڈز کے کوائف ’نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)‘ کی ’کلیئرنس‘ کے منتظر ہیں۔ ماضی میں قومی شناختی کارڈ کا حصول اِس قدر آسان تھا کہ لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکیوں نے قومی شناختی دستاویزات حاصل کیں اور خود ’نادرا‘ یہ بات تسلیم کر چکی ہے کہ غیرملکیوں کو جاری ہونے والے ایسے ایک لاکھ سترہ ہزار چار سو سے زائد شناختی کارڈز قبضے میں لئے گئے ہیں! سب سے زیادہ افغانوں نے ’قومی شناختی کارڈز‘ حاصل کئے جن کی تصدیق کا کوئی قابل بھروسہ طریقہ (ذریعہ) نہیں کیونکہ زیادہ تر کارڈز قبائلی علاقوں یا اِن سے متصل بندوبستی علاقوں کے مستقل ایڈریس پر بنوانے والوں نے بعدازاں ملک کے مختلف حصوں میں عارضی سکونت اختیار کی۔ قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے کے بعد بینک اکاونٹ‘ پاسپورٹ اور جائیدادوں کی خریدوفروخت کرنے کے علاؤہ افغان غیرملکیوں نے اپنے بچوں کا بطور ’پاکستانی‘ اندراج کرایا اور یوں وہ گھل مل گئے جنہیں تلاش کرنا ممکن نہیں رہا لیکن ایسے افغان کہ جنہوں نے خود کو بطور مہاجر کبھی بھی رجسٹر کرایا‘ اُن کی تصاویر اور بائیومیٹرک علامات کے ذریعے شناختی جانچ کا عمل جاری ہے۔ ماضی میں بھی نادرا کے زیرنگرانی ’’جائنٹ ویری فکیشن کمیٹی‘‘ مشکوک قومی شناختی کارڈز رکھنے والے افراد کی اسناد کی تصدیق کرتی تھیں‘ تاہم یہ بہت ہی سست رفتاری سے چلنا والا نظام تبدیل کرتے ہوئے گزشتہ برس اپریل میں اٹھاسی زونل اور آٹھ علاقائی بورڈز قائم کئے گئے لیکن پھر بھی خاطرخواہ رفتار حاصل نہیں ہو سکی ہے! افغان مہاجرین کی شہری و دیہی علاقوں میں ’پاکستانی شناخت‘ کے ساتھ موجودگی کے شواہد موجود ہیں‘ جن کی جانچ خفیہ اداروں کے ذریعے کی جائے تو جن پاکستانیوں کے کارڈز محض شک کی بناء پر معطل ہیں‘ انہیں ذہنی کوفت و مشکلات سے نجات مل سکتی ہے۔

قومی شناختی کارڈ کے حصول اُور بعدازاں اِس کی تصدیق و جانچ پڑتال کے مراحل میں اِدارہ جاتی کمزوریوں (بدعنوانیوں) کے لئے عام آدمی (ہم عوام) کو قصوروار قرار دینا مبنی برانصاف نہیں۔ گزشتہ تین برس کے دوران کم سے کم پانچ مرتبہ وزارت داخلہ کی جانب سے قوم کو یقین دہانی کرائی گئی کہ قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جیسی اہم دستاویزات کے حصول کا عمل آسان بنایا جائے گا لیکن اِس سلسلے میں نہ تو حسب اعلان ’آن لائن خدمات‘ کی فراہمی ممکن ہو پائی ہے اور نہ ہی ’نادرا‘ دفاتر کے باہر اُن قطاروں کا خاتمہ ممکن ہو سکا ہے‘ جو سیکورٹی رسک بھی ہیں اور متعدد مرتبہ دہشت گردی کا نشانہ بھی بنے ہیں! اگر سیاسی دباؤ پر عام انتخابات کے موقع پر موبائل (گشتی) یونٹس کے ذریعے قومی شناختی کارڈ بن سکتے ہیں تو پھر عمومی حالات میں دفاتر کی بجائے گاڑیوں کے ذریعے یونین کونسلوں کی سطح پر ایسی خدمات فراہم کیوں نہیں کی جاسکتیں جس کی (ضرورت سے زیادہ غیرحقیقی) قیمت کارڈ و دیگر دستاویزات حاصل کرنے والے ادا کر رہے ہیں!؟

Friday, September 16, 2016

Sept2016: Challenges of Afghan Refugees Repatriation

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مہاجرین وطن واپسی: نیا باب!
افغان مہاجرین کی وطن ’واپسی کا مرحلہ وار عمل‘ زیادہ نازک اور فیصلہ سازی زیادہ احتیاط کی متقاضی ہے کیونکہ اِسلامی بھائی چارے‘ اِنسانی (بشری) حقوق اُور تہذیب و اَخلاقیات کے اپنے تقاضے بھی توجہ طلب ہیں۔ افغان تاریخ کا ایک اُور باب رقم ہو رہا ہے‘ جس میں پاکستانی قوم کے کردار‘ اجتماعی ’ایثار و قربانی‘ کے حوالے سے اگر کچھ ایسا لکھ دیا جاتا ہے جس سے چار دہائیوں پر پھیلی ’محنت‘ پر پانی پھر جائے تو ایسا کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔ افغان مہاجرین کی اکثریت نہ تو جرائم پیشہ ہے اور نہ ہی عسکریت پسندی اور دہشت گردی پر یقین رکھتی ہے لیکن ایک قلیل تعداد میں بہروپیوں نے ہر کس و ناکس کو مشکوک و مشتبہ بنا دیا ہے اُور پاکستان کی داخلی سلامتی کے تقاضے یہ ہیں کہ ’رجسٹرڈ و غیررجسٹرڈ‘ مہمانوں کو باعزت رخصت کیا جائے اور ایسے مواقع (امکانات) پیدا کرنے پر زیادہ غوروخوض ہونا چاہئے جس سے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی کا عمل خوش اسلوبی سے انجام پائے۔


پاکستان کی پارلیمانی سیاسی جماعتوں افغان مہاجرین کے حوالے سے ’قومی حکمت عملی (پالیسی)‘ تشکیل دینے کے لئے ’اکیس ستمبر‘ کو نشست طلب کی گئی ہے‘ جس سے چاروں صوبوں‘ افغانستان کے نمائندے اُور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) سے تعلق رکھنے والے فریقین اُن کوششوں کو مربوط اور مؤثر بنانے پر بات چیت کریں گے تاکہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی میں جہاں کہیں ’کوآرڈیشن‘ (رابطوں) میں کمی بیشی ہے تو اُسے دور کرنے کے علاؤہ اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ’کسی بھی صورت ’غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے ساتھ ظلم یا زیادتی نہ ہو۔‘ اطلاعات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں میں پیش پیش پولیس کا محکمہ کم مالی وسائل رکھنے والے ’افغان مہاجرین‘ کا استحصال کر رہے ہیں اور مہاجرین سے ہتک آمیز سلوک کے علاؤہ اُن سے رعائت کرنے کے لئے بھاری رشوت بھی طلب کی جاتی ہے۔ پاکستان کے دامن پر اِس قسم کا داغ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہئے اور یقیناً’آل پارٹیز کانفرنس‘ میں ایسی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے قانون کی آڑ میں قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


پوری دنیا جانتی ہے اور پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف بھی کرتی ہے کہ محدود وسائل و بحرانوں کے باوجود پاکستان برسوں سے افغان مہاجروں کی میزبانی اور اُنہیں ایک ایسے وقت میں پناہ دیئے ہوئے ہیں جبکہ حالات سازگار نہیں تھے لیکن اب چونکہ افغانستان میں عالمی امداد سے تعمیروترقی اور آبادکاری و بحالی کے نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے تو اپنے ملک سے دور رہنے والوں کو بھی اِن کاوشوں میں حصّہ لینے کا موقع ملنا چاہئے۔ یقیناًافغان مہاجرین کے متعلق اچانک سخت رویہ اختیار کرنا برسوں کی میزبانی کو خاک میں ملانے کا سبب ہوگا‘ جو دانش مندی نہیں ہوگی لیکن ہمارے فیصلہ ساز جو مہاجرین کے بارے ہر کسی سے بات کر رہے ہیں لیکن افغان مہاجرین کو اعتماد میں نہیں لے رہے کہ آخر کن حالات اور کن واقعات کے تناظر میں پاکستان کی مجبوری بن چکی ہے کہ وہ افغانوں سمیت جملہ غیرملکیوں کو وطن واپس بھیجنا چاہتا ہے۔ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کی بیخ کنی لازم تاہم بے قصوروں کو ناکردہ خطاؤں کی سزا نہیں ملنی چاہئے۔ 

کل جماعتی قومی کانفرنس سے قبل ایسے تمام افغان مہاجرین کے انجام بارے بھی قوم کو بتایا جائے جنہوں نے جعلی شناختی دستاویزات حاصل کر رکھی تھیں۔ کیا سرمایہ دار اُور بااثر افغان مہاجرین چاہے وہ کسی بھی درجے کی قانون شکنی میں ملوث ہوئے ہوں یا اب بھی ہیں تو کیا اُن سے بھی برابری کی بنیاد پر سخت گیر معاملہ کیا جائے گا؟ افغان مہاجرین کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ اور ہنڈی کا کاروبار کرنے والوں کی شاطرانہ چالیں اور پاکستانی قوانین میں سقم بھی قومی سطح پر زیرغور آنے چاہیءں جن کا فائدہ اُٹھایا جا رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جس طرح جنگ کی تباہ کاریوں‘ دہشت گردی کے خوف و دہشت اور بدعنوان سیاسی قیادت کے باعث معاشی ابتر حالات کے باعث افغان ہجرت پر مجبور ہوئے‘ اگر اب افغانستان میں ویسے حالات نہیں رہے تو اُنہیں ضرور واپس جانا چاہئے۔ اِس سلسلے میں یکساں ذمہ داری امریکہ اُور افغانستان انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ افغانستان میں حالات معمول پر برقرار رکھنے کے لئے اپنی کوتاہیوں اور کوششوں کا جائزہ لیں۔ 

افغان مہاجرین کی واپسی بہرحال عزت و احترام اُور ایسے حالات میں ہونی چاہئے کہ یہ مہاجرین برضا و رغبت ’خوشی خوشی‘ واپسی پر آمادہ ہوں اور واپسی پر انہیں افغانستان میں تمام بنیادی سہولیات سمیت جان و مال کا تحفظ بھی میسر ہو۔ فیصلہ سازوں کے پیش نظر یہ زمینی حقائق بھی رہنے چاہئے کہ ماضی میں افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد ’رضاکارانہ‘ طور پر واپس جانے کے بعد بھی پاکستان لوٹ آئی کیونکہ نہ تو افغان حکومت اور نہ عالمی براداری نے حسب وعدہ سہولیات فراہم کی تھیں۔ مہاجرین کی واپسی کا عمل ’مستقل‘ ہونا چاہئے جس کے لئے مستقل پالیسی اور قیام میں مزید توسیع نہ دینے کے لئے ’پاکستان کے مفاد پر مبنی نکتۂ نظر‘ سے سوچنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, July 30, 2015

Jul2015: Difficulties in obtaining passports!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پاسپورٹ کاحصول:حاصل اُور وصول!
یہ زعم اپنی جگہ اَلمیہ‘ لمحۂ فکریہ اُور خودفریبی کی اِنتہاء ہے کہ خدمت کے سرکاری منصب پر فائز کسی وفاقی‘ صوبائی یا مقامی حکومتوں کے اعلیٰ و ادنیٰ اہلکار برسرزمین حقائق کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اگرچہ اعدادوشمار اِس بات کی تائید کرتے ہیں لیکن اگر ایسا نہ بھی ہوتا تو بھی یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عام آدمی (ہم عوام) کی اکثریت یا تو غریب ہے یا پھر انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے اُور فیصلہ سازی کے منصب پر فائز ’اذہان عالیہ‘ کو اِس بات کی واجبیسی پرواہ بھی نہیں لگتی کہ اُن کی وضع کردہ حکمت عملیوں‘ دفتری اُوقات‘ حتیٰ کہ تعطیلات کا معاشرے کے اِس عمومی غریب طبقے یعنی کہ ہم عوام کی اکثریت پر کس قدر منفی اَثر پڑ رہا ہے!
تیس جولائی کی صبح جبکہ ابھی سورج کی کرنوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع ہی کیا اور پہلے سے حبس زدہ ماحول میں رفتہ رفتہ گرمی کا اضافہ محسوس کرنے والوں کی بے چینی اُن کے پسینے میں شرابور تن بدن اور دہکتے ہوئے چہروں سے عیاں ہو رہی تھی۔ یہ منظرنامہ ’پاسپورٹ آفس (حیات آباد)‘ کے باہر کا تھا جہاں رُک کر یکے بعد دیگرے کئی ایک لمبی سانسیں لینی پڑیں۔ دفتری اُوقات سے 2 گھنٹے قبل پہنچنے پر بھی وہاں کم وبیش دوسو سے ڈھائی سو افراد قطار بنائے کھڑے پائے گئے۔ یہ قطار سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی ’پاسپورٹ آفس‘ کے داخلی گیٹ سے دیوار کے ساتھ ساتھ کسی پودے کی طرح چپکی ہوئی تھی جہاں سے مڑ کر سڑک اور پھر دوسرے کنارے درختوں کے گرد گھومتی ہوئی واپس عین سڑک کے بیچوں بیچ تک پھیل چکی تھی۔ پھیکی پھیکی دھوپ میں بناء کسی سائے قطار میں کھڑے درخواست گزاروں کے نام اور شکلیں مختلف لیکن اُن سب کی قسمت ایک جیسی تھی! ہاتھوں میں فائلیں اُور اکثریت کے کندھوں پر سوتی چادریں رکھی ہوئی تھیں‘ جنہیں سروں پر کمال مہارت سے ٹکائے کئی ایک تو تھک کر پاؤں کے بل اور چند ایک مزید تھک کر زمین پر بیٹھ چکے تھے۔

یہ ایک خوفناک اور انتہائی ڈروانا بلکہ دل دہلا دینے والا منظر تھا۔ قطار میں کھڑے ہوئے لوگوں کے علاؤہ ایک اچھی خاصی تعداد لوہے کے زنگ آلودہ گیٹ پر بھی الگ سے چپکی ہوئی تھی‘ جنہیں عمارت کی چاردیواری کے اندر حد نگاہ تک سنساٹا اور بندوقیں تان کر کھڑے سیکورٹی اہلکاروں کو دیکھ کر حیرت ہو رہی ہوگی لیکن شاید ان سب کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی۔ پشاور سے منتخب ہونے والے عوامی نمائندے کہاں تھے؟ وہ تبدیلی کہاں تھی جس کے خواب کا تسلسل نیند ٹوٹنے کے باوجود بھی ختم نہیں ہورہا۔ ایک عمارت کہ جس کی کھڑکیاں دروازے حتی کہ روشن دان بھی بند لیکن اُس کے باہر سائل لو پھوٹنے سے قبل جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ دفتری مقررہ اُوقات شروع ہونے میں دو گھنٹے کا وقت باقی ہونے کی وجہ سے ائرکنڈیشن کے بیرونی یونٹ بھی خاموش تھے‘ جنہیں دیکھتے اور گرمی کو محسوس کرتے ہوئے یہ سوال بھی سر سے پاؤں تک قطرہ قطرہ بہہ رہا تھا کہ اگر سرکاری دفاتر میں فراہم کردہ سہولیات (اصولی طور پر) ’صارفین‘ کے لئے ہیں جن کی قیمت بھی عوام ایک سے زیادہ ٹیکس یا متعلقہ اداروں کی مقررہ فیسوں کی صورت اَدا کرتے ہیں تو پھر اِن سہولیات پر عام آدمی کا حق کیوں نہیں؟ پاسپورٹ یا شناختی کارڈ (نادار) دفاتر کے باہر قطار میں کھڑے ہوئے ’درخواست گزار‘ کون لوگ ہیں؟ کیا یہ کسی دوسرے ملک کے باشندے ہیں؟ کیا انہیں پاکستانی ہونے کی سزا مل رہی ہے؟ قومی شناختی دستاویزات کے حصول جیسا حق کیوں اس قدر ’مشکل بلکہ مشکل ترین‘ بنا دیا گیا ہے؟ جن دفاتر سے رجوع کرنے والے قطاروں میں سارا دن انتظار کرنے کے باوجود بھی مایوس لوٹ جاتے ہیں وہاں دفتر کے اوقات بڑھا کیوں نہیں دیئے جاتے؟ آخر یہ کس آسمانی کتاب یا مقدس صحیفے میں تحریر ہے کہ سرکاری دفاتر کے اوقات نہ تو بڑھائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی اُنہیں چوبیس گھنٹے کھلا رکھا جا سکتا ہے جبکہ اُن سے رجوع کرنے والوں کی بڑی تعداد مشکلات کا دوچار ہو؟


ایک سے زیادہ شفٹیں کیوں مقرر نہیں کی جا سکتیں تاکہ شناختی کارڈ یا پاسپورٹ حاصل کرنے والوں کی یوں ’کھلے عام (ظاہری و پوشیدہ) زحمتیں‘ تمام ہوں؟ آخر کیا اَمر مانع ہے کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جیسی بنیادی دستاویزات کا حصول ایک ہی دفتر (ڈیسک) سے اُور ایک ہی مرتبہ کی شناختی جانچ پڑتال و تصدیق کے مراحل مکمل کرنے کے بعد حاصل کرنا ممکن نہیں بنایا جاسکتا؟ ایک جیسی قومی دستاویزات فراہم کرنے والے وفاقی اداروں کو ایک چھت تلے جمع کرنے میں کیا مضائقہ ہے یا کیا رکاوٹ حائل ہے؟ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کی طرح پاسپورٹ حاصل کرنے کے جملہ مراحل بھی ’بائیومیٹرکس تصدیق‘ کی بنیاد پر مرتب ہیں‘ اگر ایک سے زیادہ شفٹیں مقرر کرنے یا سردست دفتری اوقات (چوبیس گھنٹے تک) بڑھانا ’انتظامی و سیکورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر ممکن نہ ہوں تو ایک ایسا ’آن لائن(online)‘ نظام کیوں متعارف نہیں کرایا جاسکتا‘ جس میں شناختی کارڈ یا پاسپورٹ یا دونوں کے حصول کے لئے قطار میں لگ کر انتظار کرنے کی بجائے حاضری کا نمبر (اپوائمنٹ) پہلے ہی سے حاصل کر لیا جایا کرے؟ پبلک آفسیز میں ’باسہولت انتظارگاہیں‘ کیوں نہیں بنائی جا سکتیں؟ اگر ’انٹرنیٹ (ویب سائٹ)‘ اُور ’ایس ایم ایس (موبائل فون)‘ کے قابل بھروسہ وسائل پر بھروسہ کیا جائے تو اِس سے نہ صرف جاری غیرانسانی‘ غیراخلاقی اور سراپا ذلت بھرے رویئے کی اصلاح ممکن ہو گی بلکہ متعلقہ محکمے درخواستوں کی تعداد کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے (منصوبہ بندی کے ذریعے) اِس قابل بھی ہوں گے کہ اپنی خدمات و سہولیات کے ساتھ دفتری اُوقات میں حسب ضرورت اضافہ (ردوبدل) کریں۔ پاسپورٹ کے حصول کے لئے مقررہ فیس کسی ایک دور دراز الگ مقام پر بینک کی بجائے پہلے تو درخواست وصول اور اس کی تصدیق وغیرہ کی جانچ کرنے کے مرحلے پر وصول ہونی چاہئے اور اگر ایسا ’سرکاری ملازمین کی صداقت‘ امانت و دیانت‘ کی وجہ سے ممکن نہیں تو یہ آپشن (سہولت) بھی ہونی چاہئے کہ کسی بھی ’آن لائن بینک‘ یا موبائل فون یا اے ٹی ایم یا آن لائن بینکنگ کے ذریعے مقررہ فیس جمع کرائی جا سکے‘ جس کی بطور چھ یا آٹھ ہندسوں پر مبنی خفیہ نمبر(کوڈ) بذریعہ ایس ایم ایس یا پرنٹ آؤٹ متعلقہ صارف کو فراہم کر دیا جائے اور یہی کوڈ بعدازاں ’اپوٹمنٹ(appointment)‘ حاصل کرنے کی ’آن لائن درخواست‘ کے ہمراہ منسلک کر دیا جائے‘ جیسا کہ ’میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے انٹری ٹیسٹ‘ کے لئے پہلے سے اِسی قسم کا طریقۂ کار رائج ہے۔ ایسے دفاتر جن سے بڑی تعداد میں عوام کا واسطہ پڑتا ہے اُن سے براہ راست رجوع کی بجائے ’آن لائن‘ طریقہ کار باسہولت بھی ہے اور اِسے چوبیس گھنٹے خودکار انداز میں چلانا بھی ممکن ہے لیکن چونکہ اس سے اُن ’وی وی آئی پیز‘کے لئے مشکل کھڑی ہو جائے گی‘ جنہیں انتظار کی عادت نہیں اور اُن کا استحقاق بھی کانچ سے زیادہ نازک ہے! اگر درخواست گزار کو خودکار انداز میں ویب سائٹ‘ ای میل‘ یا ’ایس ایم ایس‘ کے ذریعے مطلع کردیا جایا کرے کہ وہ (یوں قطاروں میں کھڑا ہونے کی بجائے) کسی مقررہ دن‘ فلاں وقت‘ فلاں کاؤنٹر اُور فلاں مقام پر قائم دفتر سے رجوع کرے تو یہ ہر لحاظ سے محفوظ طریقۂ کار ہوگا۔

 اگر حساس نوعیت کی شناختی دستاویزات کے حصول کے لئے ٹیکنالوجی پر انحصار کر ہی لیا گیا ہے تو پھر یہ استعمال ’سو فیصد‘ ہونا چاہئے۔ ’آدھا تیتر آدھا بٹیر‘ جیسی ’ادھوری ٹیکنالوجی‘ کی بجائے ’مکمل حل‘ اختیار و پیش کر کے بہت سی مشکلات سے چھٹکارہ ممکن ہے‘ ذرا سی حساسیت کا مظاہرہ کرکے پیچیدہ و عذاب کی صورت اعصاب شکن مراحل کو کیوں نہ آسان بنا دیا جائے؟ جمہوری اسلامی کے وزیراعظم‘ وزیر داخلہ اور وفاقی حکومت کے خیبرپختونخوا میں نمائندہ گورنر سے التجا ہے کہ وہ نظرکرم فرماتے ہوئے پاسپورٹ و قومی شناختی کارڈ دفاتر کے باہر قطار میں کھڑے ’پاکستانیوں‘ کی مشکلات کا احساس کریں۔ اگر یقین نہ آئے تو خود بھی عملی تجربہ کرکے دیکھ لیں کہ ’میرے عزیز ہم وطنوں‘ سے شناختی کارڈ و پاسپورٹ دفاتر کے باہر کس طرح‘ کس قدر اور کس اِنتہاء کا ’ذلت بھرا سلوک‘ روا رکھا جا رہا ہے!

Saturday, June 20, 2015

Jun2015: New DATA BASE for ECP

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
جہل کی گرداب
اصلاح کی ضرورت ہر کوئی محسوس کرتا ہے لیکن اِس کے عملی اطلاق کے لئے آمادگی کا نام و نشان نہیں ملتا۔ طرز حکمرانی میں مالی و انتظامی بدعنوانیاں ہوں یا عام انتخابات میں دھاندلی کے امکانات‘ روائتی کو جاری و ساری رکھنے والی جماعتیں اُور اُن کے اتحادی اِقدار تک رسائی کے لئے ’صراط مستقیم‘ کی بجائے چور دروازے اور سیڑھیوں کا استعمال ترک کرنا نہیں چاہتے ہیں کہ اِسی طرزعمل میں اُن کی بقاء ہے۔ مسئلہ نیت میں پائے جانے والے کھوٹ کا بھی ہے یا محنت کش قوم کی قیادت اِس قدر آرام طلب ہو چکی ہے کہ مشکل و پیچیدہ کاموں کو ہاتھ لگانا ہی نہیں چاہتی۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے گجرانوالہ (پنجاب اسمبلی) کی ایک نشست پر ہونے جا رہے ضمنی انتخابات کے دوران ووٹرز کی تصدیق کے لئے ’بائیو میٹرک مشین‘ کے استعمال کے تجربے کا منصوبہ ترک کردیا ہے۔ یہ فیصلہ ’نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)‘ کی استعداد میں کمی کے انکشاف کے بعد کیا گیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ’الیکشن کمیشن‘ باقاعدہ اعلان کر چکی ہے کہ وہ دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں ووٹروں کی آن لائن تصدیق (بائیومیٹرک) کا نظام متعارف کرائے گی اور اس کے لئے ادارے نے بڑے پیمانے پر تکنیکی سازوسامان کی خریداری کا جائزہ لینا بھی شروع کر دیا ہے۔ اِس دوران کمیشن کا خیال تھا کہ چھبیس جولائی کو ہونے والے پی پی 100گوجرانوالہ کی نشست کے لئے ضمنی انتخاب کے موقع پر ایک ’پائلٹ پروجیکٹ‘ چلایا جائے اور ہر ووٹر کی تصدیق پولنگ بوتھ پر اُس کے ووٹ ڈالنے سے قبل ہی کر لی جائے۔ بنیادی طور پر بائیومیٹرک تجربے کا یہ خیال ’الیکشن کمیشن‘ ہی کی کمیٹی کی جانب سے پیش کیا گیا تھا‘ جس کے سربراہ اس کے انتظامی ڈائریکٹرجنرل ہیں۔ کمیٹی کا نکتہ نظر تھا کہ ضمنی انتخاب میں محدود سطح پر نادرا کے آن لائن تصدیقی نظام کا تجربہ کرنا چاہئے۔ اس منصوبے کے تحت اس انتخابی حلقے میں پولنگ اسٹیشنوں پر نادرا کی مشینیں نصب کی جانی تھیں۔ تاکہ آن لائن سسٹم کے ذریعے ان کے انگوٹھوں کے نشانوں کی تصدیق کے بعد ووٹروں کو بیلٹ پیپرز جاری کیے جائیں۔ الیکشن کمیشن کے ایک حالیہ اجلاس کے دوران نادرا کی ایک ٹیکنیکل ٹیم نے بتایا کہ اس حلقے میں ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار ہے‘ اور اس قدر بڑی تعداد میں ووٹروں کی تصدیق کے لئے نادرا کے نظام کو کم از کم 9گھنٹے درکار ہوں گے۔ نادرا کی ٹیم نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ یہ ممکن نہیں ہوسکے گا۔ اس لئے کہ اس کے پاس چوبیس گھنٹوں میں ساٹھ سے ستر ہزار انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کرنے کی استعداد ہے! الیکشن کمیشن نے جب نادرا حکام سے دریافت کیا کہ اُس وقت کیا ہوگا جبکہ ملک میں قومی اسمبلی کے ایک ایسے حلقہ انتخاب میں تصدیق درکار ہوگی‘ جہاں ووٹروں کی تعداد پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہوسکتی ہے تو نادرا کی ٹیم نے کہا کہ یہ اتھارٹی بنیادی طور پر رجسٹریشن کا کام کرتی ہے‘ اور اس کا بنیادی ڈھانچہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز کے اجرأ کے لئے تیار کیا گیا تھا عام انتخابات کے لئے نہیں! اس سے پہلے تصدیق کے لئے پولنگ اسٹیشن پر ووٹروں کے ڈیٹا کے اسٹوریج کے منصوبے کو بھی نادرا نے مسترد کردیا‘ اس کا کہنا تھا کہ اس کامطلب اس ڈیٹا کی سیکیورٹی پر سمجھوتہ کرنا ہوگا۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بائیو میٹرک تصدیق سسٹم کا خیال انتخابی عمل کو مزید شفاف بنانے کے لئے تھا‘ جس پر ہر سطح میں تبادلہ خیال کرنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ موجودہ نادرا کا نظام تکنیکی لحاظ سے عام انتخابات کرانے کے لئے کافی نہیں۔ اِس صورتحال میں صرف ایک ہی حل باقی رہ جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن سے زیادہ ’نادرا‘ کی استعداد میں اضافے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے بلاتاخیر کام کا آغاز کر دینا چاہئے۔

عام انتخابات میں الیکٹرانک و آن لائن تصدیق کا طریقۂ کار ایک ایسی ’ڈیٹابیس‘ سے رابطے کے ذریعے ہوتا ہے جس میں کروڑوں کی تعداد میں کوائف جمع ہوتے ہیں۔ نادرا پر انحصار کرنے کی بجائے الیکشن کمیشن اپنا الگ ’ڈیٹابیس‘ تیار کر سکتا ہے جس میں کسی خاندان کی جملہ شناختی و حساس معلومات کی بجائے صرف نام‘ ولدیت‘ انگوٹھے کا نشان اور ووٹ کے اندراج کے انتخابی حلقے کا ذکر موجود ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ الیکشن کمیشن ہر ووٹر کو سات ڈیجیٹس پر مشتمل ایک امتیازی نمبر جاری کر دے جس کے ذریعے وہ ملک کے کسی بھی حصے یا آن لائن تصدیق کے بعد بذریعہ موبائل‘ یا ویب سائٹ اپنا ووٹ کاسٹ کر سکے۔

 نادرا حکام کا یہ مؤقف مضحکہ خیزہے کہ عام انتخابات کے لئے ووٹرز کے کوائف بائیو میٹرک تصدیق کے لئے فراہم کرنے سے یہ معلومات افشا ہو سکتی ہیں جبکہ اُس سے کہیں گنا زیادہ معلومات پہلے ہی امریکہ اور اُن یورپی ممالک کو دی جا چکی ہے جنہوں نے ’نادرا‘ بنانے کے لئے مالی و تکنیکی امداد فراہم کی تھی! اس سلسلے میں سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کا ’فلور آف دی ہاؤس‘ پر دیا گیا بیان ریکارڈ کا حصہ ہے جس میں اُنہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ۔۔۔’’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ ہونے کی وجہ سے ’نادرا‘ کا ریکارڈ امریکہ کو فراہم کیا گیا ہے۔‘‘ ایسی صورت میں ریکارڈ کو خفیہ رکھنے کی کوئی ضرورت و منطق باقی نہیں رہتی۔ حال ہی میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے اُن تمام فیکس مشینوں اور کمپیوٹرز کو دفتروں سے نکال باہر کیا ہے جو امریکہ سمیت کئی ’دوست ممالک‘ کی جانب سے دیئے گئے تھے اور معلوم ہوا تھا کہ خود کو پاکستان کا دوست ظاہر کرنے والے ممالک نے جو کمپیوٹر اور فیکس مشینیں دیں تھیں وہ مطلوبہ نمبروں کے ساتھ خودکار طریقے سے ایسے نمبروں پر بھی فیکس اور ای میل ارسال کردیا کرتی تھیں‘جن کا دفتر خارجہ سے تعلق نہیں تھا اور یوں اسلام آباد میں کئی ایک سفارتخانے ایک لمبے عرصے تک جاسوسی کرتے رہے ہیں۔ اگر یہی کام پاکستان کے کسی سفارتخانے نے یورپ یا امریکہ میں کیا ہوتا تو عالمی سطح پر پاکستان کی اتنی سبکی ہوتی کہ جس کا بیان ممکن نہیں لیکن چونکہ ہمارا رویہ بھکاریوں جیسا ہے اِس لئے مفت کے کمپیوٹر اور فیکس مشینیں ہوں یا ادارہ شماریات‘ وزارت خزانہ‘ دفاع اور ’نادرا‘ جیسے حساس محکموں کا ’ڈیٹا (امور معلومہ)‘ ذخیرہ کرنے کے آلات‘ ہم فوری طور پر امداد کی پیشکش قبول کرنے میں قومی سلامتی تک کو داؤ پر لگا بیٹھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, March 16, 2015

Mar2015: Bio Matrix New Frontiers

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بائیومیٹرک کوائف
’’ہر کسی کے لئے اپنا آبائی علاقہ کشمیر ہوتا ہے‘‘ پشتو زبان کے اِس محاورے کی حقیقت قبائلی علاقوں (فاٹا) سے نقل مکانی کرنے والوں سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے جو آبائی علاقوں کی مرحلہ وار واپسی پر مشکور و ممنون دکھائی دیتے ہیں۔ سولہ مارچ کے روز بندوبستی ضلع ٹانک میں جنوبی وزیرستان کے علاقوں سراروغہ‘ سرواکئی اور ملحقہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پچیس ہزار افراد کو مالی امداد‘ سفری وسائل اور چھ ماہ کی ضروریات کے اشیائے خوردونوش فراہم کی گئیں۔ واپسی کے اِس عمل کی براہ راست نگرانی ’فاٹا ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی‘ کر رہی ہے‘ جس کے ڈائریکٹر آپریشن فرمان خلجی کے مطابق فی خاندان دس ہزار روپے سفری اخراجات کے لئے دیئے جا رہے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کاعمل سخت حفاظتی انتظامات میں رواں ماہ وقفوں وقفوں سے جاری رہے گا۔ اہم بات یہ ہے ’بائیومیٹرک نظام‘ کے ذریعے واپس جانے والوں کے شناختی کوائف اکٹھا کئے جارہے ہیں اور حکام کے مطابق اب تک 5 ہزار 466 خاندانوں کا بائیومیٹرک ڈیٹا جمع کر لیا گیا ہے جبکہ اس سے دگنی تعداد نے نقل مکانی کی تھی۔

پاکستان میں بائیومیٹرک کوائف جمع کرنے کا سلسلہ ’نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)‘ کی تشکیل کا بنیادی مقصد تھا۔ وفاقی وزارت داخلہ کے زیرنگرانی ’نادرا‘ ہر اٹھارہ سال یا اِس سے زائد کی عمر کے فرد کے شناختی کوائف اور شخصی تصدیق کے بعد قومی شناختی کارڈ جاری کرتا ہے جبکہ بچوں کی پیدائش اور انہیں کسی ایک خاندان کا فرد بنانے کا اندراج و تفصیلات بھی ہر خاندان کے افراد کے حساب سے مرتب کی جاتی ہیں۔ سترہ ہزار سے زائد ملازمین اور 800 سے زائد دفاتر پر مشتمل نادرا کا (نیٹ ورک) نظام 10 مارچ 2000ء سے فعال ہے۔ چودہ برس اور چند روز عمر رکھنے والے اِس ادارے کو آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ حاصل ہے کہ یہ کوائف جمع کرے اور ان کا حسب ضرورت شناختی مقاصد کے لئے دیگر حکومتی اداروں سے تبادلہ بھی کرے لیکن جہاں تک قبائلی علاقوں کا تعلق ہے‘ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز کی تیاری اور انسداد پولیو کی ادویات کے بارے میں ایک جیسا غلط فہمی پائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب تک قبائلی یا ملحقہ نیم قبائلی علاقوں کو بینک اکاونٹ‘ حج‘ عمرہ‘ ڈرائیونگ لائسینس یا دیگر ایسی سفری سہولیات کی ضرورت پیش نہ آئے وہ کمپیوٹررائزڈ قومی شناختی کارڈ حاصل نہیں کرتے اور قبائلی علاقوں کی خواتین بھی بڑی تعداد میں قومی شناختی کارڈز بنانے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ اِس میں تصویر کی شرط لازم کر دی گئی ہے۔ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کے کوائف نیشنل ڈیٹابیس میں درج کرنے کا ہدف بڑی حد تک حاصل کر لیا گیا ہے لیکن اِس سلسلے میں بائیومیٹرک کے جدید اسلوب یعنی ’ائرس سکینگ‘ سے استفادہ کیا جانا چاہئے تھا جیسا کہ اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ برائے مہاجرین پاک افغان طورخم سرحد پر کر رہا ہے۔ اِس نئے نظام کے تحت آنکھ کی پتلی (اندرونی حصے) کا عکس تصویر کے ساتھ محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ قدرت کی طرف سے یوں تو ہر انسان اپنی جسمانی ساخت کی کیمیائی ترتیب (ڈیواکسی بونی کلیک ایسڈ المعروف ڈی این اے) کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے لیکن ظاہری اور فوری شناخت کے لئے انگلیوں پر موجود نشانات اور آنکھوں کے داخلی حصوں میں پائے جانے والے پیٹرن کی فوری ممکن ہے۔ مستقبل قریب میں کھڑے کھڑے کسی بھی شخص کی ’ڈی این اے‘ جانچ ممکن ہوگی اور اِس سلسلے میں جسمانی درجہ حرارت سے لیکر مخصوص کیمیائی ساخت کی باریکیوں کے تجزئیات کامیابی سے جاری ہیں۔ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کے بعد واپس لوٹنے والوں کے کوائف ہوں یا پاکستان کی کل آبادی‘ ابھی ہم بائیومیٹرک نظام ہی مکمل طور پر رائج نہیں کرپائے کہ شناخت کا یہ نظام ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے آگے بڑھ چکا ہے۔ امریکہ اور یورپ بالخصوص لندن کے وسطی علاقوں رہائشی و تجارتی مراکز کی نگرانی ایسے کیمروں کی مدد سے کی جاتی ہے‘ جو کسی بھی راہ گیر کے چہرے کو نہ صرف سینکڑوں ہزاروں افراد میں شناخت کرلیتا ہے بلکہ دوسرے مرحلے میں صوتی ڈیٹابیس کی مدد سے باہم بات چیت کرنے والوں کی شناخت بھی کر لی جاتی ہے۔ تیسرے مرحلے میں جسم کے درجہ حرارت کی جانچ کرتے ہوئے مخصوص نفسیاتی عوامل کا حساب لگایا جاتا ہے اور یہ سب کچھ خودکار نظام کے تحت ٹیکنالوجی کی مدد سے غیرمحسوس اندازمیں ہورہا ہوتا ہے۔ ہمیں ٹیکنالوجی کے اِن ارتقائی مراحل پر نظر رکھتے ہوئے قومی ڈیٹابیس کی توسیع کرنا ہوگی کیونکہ شفافیت کے لئے آج نہیں تو کل اِسی بائیومیٹرک شناختی کوائف کی جانچ پڑتال پر عام انتخابات کا انعقاد ہونا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد میں ہتھیاروں کے ساتھ ہمیں کوائف اکٹھا کرنے کے لئے اُن جملہ جدید وسائل کا استعمال کرنے اور انہیں موجودہ نظام میں سمونے (اپ گریڈیشن) کے لئے ابھی سے تحقیق کا کام جامعات کو سونپ دینا چاہئے۔ ٹیکنالوجی کا کوئی بھی درآمدی اور فوری حل وقتی ضرورت تو پوری کرسکتا ہے لیکن اس کے استعمال سے رازداری‘ اطمینان اور پائیداری جیسے اہم اہداف حاصل نہیں ہوں گے۔

پس تحریر: خانہ فرہنگ جمہوری اِسلامی اِیران کے پشاور مرکز کی ’علم و اَدب دوستی‘ اضافی تعارف کی محتاج نہیں۔ گذشتہ برس کی طرح اِس مرتبہ بھی ’پشتو زبان و ادب‘ کے شعبوں سے متعلق سالانہ جائزہ کی بنیاد پر نمایاں خدمات سرانجام دینے والوں کو اعزازات سے نوازہ گیا‘ جسے چار چاند لگانے کے لئے اِس موقع پر مشاعرے کا اہتمام بھی کیا گیا جو رواں برس کی پہلی بڑی ادبی تقریب تھی‘ جس سے پشاور کے ادبی ماحول پر طاری سکوت ختم ہوا ہے۔ ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والی ادبی تنظیم ’دریاب‘ کی میزبانی میں منعقد ہوئی اِس دوسری تقریب میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع‘ دیگر صوبوں اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے پشتو زبان کے صاحبان علم و دانش کو صحت مند و موافق ماحول میں ایک چھت تلے مل بیٹھنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ انتشار اُور خوف و دہشت کے ماحول میں اِس قسم کی تقریب کا انعقاد کسی غنیمت سے کم نہیں تھا‘ جس کا علمی و ادبی حلقوں نے خیرمقدم کیا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت بھی ایران کے ثقافتی مرکز کی طرز پر ادبی تحقیق و تنقیدی و تعارفی اور اعزازی محافل کی سرپرستی کے لئے دستیاب وسائل کا بہتر استعمال زیادہ بڑے پیمانے پر کرسکتی ہے۔ اِس سلسلے میں برس ہا برس سے ادبی اداروں پر مسلط طبقات کی اجارہ داری اُور خوشامدی و درآمدی نام نہاد ادیبوں کے تعصب سے نجات ضروری ہے۔ جدید سائنسی علوم کے ساتھ علم و اَدب سے تعارف اُور دلی وابستگی وقت کا تقاضا ہے کیونکہ ہمیں صرف ’خواندہ‘ نہیں بلکہ ’انسانیت سے محبت کرنے والی سوچ‘ فکر اور عمل کرنے والی نسلوں کی بھی ضرورت ہے۔‘