Monday, March 16, 2015

Mar2015: Bio Matrix New Frontiers

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بائیومیٹرک کوائف
’’ہر کسی کے لئے اپنا آبائی علاقہ کشمیر ہوتا ہے‘‘ پشتو زبان کے اِس محاورے کی حقیقت قبائلی علاقوں (فاٹا) سے نقل مکانی کرنے والوں سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے جو آبائی علاقوں کی مرحلہ وار واپسی پر مشکور و ممنون دکھائی دیتے ہیں۔ سولہ مارچ کے روز بندوبستی ضلع ٹانک میں جنوبی وزیرستان کے علاقوں سراروغہ‘ سرواکئی اور ملحقہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پچیس ہزار افراد کو مالی امداد‘ سفری وسائل اور چھ ماہ کی ضروریات کے اشیائے خوردونوش فراہم کی گئیں۔ واپسی کے اِس عمل کی براہ راست نگرانی ’فاٹا ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی‘ کر رہی ہے‘ جس کے ڈائریکٹر آپریشن فرمان خلجی کے مطابق فی خاندان دس ہزار روپے سفری اخراجات کے لئے دیئے جا رہے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کاعمل سخت حفاظتی انتظامات میں رواں ماہ وقفوں وقفوں سے جاری رہے گا۔ اہم بات یہ ہے ’بائیومیٹرک نظام‘ کے ذریعے واپس جانے والوں کے شناختی کوائف اکٹھا کئے جارہے ہیں اور حکام کے مطابق اب تک 5 ہزار 466 خاندانوں کا بائیومیٹرک ڈیٹا جمع کر لیا گیا ہے جبکہ اس سے دگنی تعداد نے نقل مکانی کی تھی۔

پاکستان میں بائیومیٹرک کوائف جمع کرنے کا سلسلہ ’نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)‘ کی تشکیل کا بنیادی مقصد تھا۔ وفاقی وزارت داخلہ کے زیرنگرانی ’نادرا‘ ہر اٹھارہ سال یا اِس سے زائد کی عمر کے فرد کے شناختی کوائف اور شخصی تصدیق کے بعد قومی شناختی کارڈ جاری کرتا ہے جبکہ بچوں کی پیدائش اور انہیں کسی ایک خاندان کا فرد بنانے کا اندراج و تفصیلات بھی ہر خاندان کے افراد کے حساب سے مرتب کی جاتی ہیں۔ سترہ ہزار سے زائد ملازمین اور 800 سے زائد دفاتر پر مشتمل نادرا کا (نیٹ ورک) نظام 10 مارچ 2000ء سے فعال ہے۔ چودہ برس اور چند روز عمر رکھنے والے اِس ادارے کو آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ حاصل ہے کہ یہ کوائف جمع کرے اور ان کا حسب ضرورت شناختی مقاصد کے لئے دیگر حکومتی اداروں سے تبادلہ بھی کرے لیکن جہاں تک قبائلی علاقوں کا تعلق ہے‘ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز کی تیاری اور انسداد پولیو کی ادویات کے بارے میں ایک جیسا غلط فہمی پائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب تک قبائلی یا ملحقہ نیم قبائلی علاقوں کو بینک اکاونٹ‘ حج‘ عمرہ‘ ڈرائیونگ لائسینس یا دیگر ایسی سفری سہولیات کی ضرورت پیش نہ آئے وہ کمپیوٹررائزڈ قومی شناختی کارڈ حاصل نہیں کرتے اور قبائلی علاقوں کی خواتین بھی بڑی تعداد میں قومی شناختی کارڈز بنانے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ اِس میں تصویر کی شرط لازم کر دی گئی ہے۔ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کے کوائف نیشنل ڈیٹابیس میں درج کرنے کا ہدف بڑی حد تک حاصل کر لیا گیا ہے لیکن اِس سلسلے میں بائیومیٹرک کے جدید اسلوب یعنی ’ائرس سکینگ‘ سے استفادہ کیا جانا چاہئے تھا جیسا کہ اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ برائے مہاجرین پاک افغان طورخم سرحد پر کر رہا ہے۔ اِس نئے نظام کے تحت آنکھ کی پتلی (اندرونی حصے) کا عکس تصویر کے ساتھ محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ قدرت کی طرف سے یوں تو ہر انسان اپنی جسمانی ساخت کی کیمیائی ترتیب (ڈیواکسی بونی کلیک ایسڈ المعروف ڈی این اے) کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے لیکن ظاہری اور فوری شناخت کے لئے انگلیوں پر موجود نشانات اور آنکھوں کے داخلی حصوں میں پائے جانے والے پیٹرن کی فوری ممکن ہے۔ مستقبل قریب میں کھڑے کھڑے کسی بھی شخص کی ’ڈی این اے‘ جانچ ممکن ہوگی اور اِس سلسلے میں جسمانی درجہ حرارت سے لیکر مخصوص کیمیائی ساخت کی باریکیوں کے تجزئیات کامیابی سے جاری ہیں۔ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کے بعد واپس لوٹنے والوں کے کوائف ہوں یا پاکستان کی کل آبادی‘ ابھی ہم بائیومیٹرک نظام ہی مکمل طور پر رائج نہیں کرپائے کہ شناخت کا یہ نظام ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے آگے بڑھ چکا ہے۔ امریکہ اور یورپ بالخصوص لندن کے وسطی علاقوں رہائشی و تجارتی مراکز کی نگرانی ایسے کیمروں کی مدد سے کی جاتی ہے‘ جو کسی بھی راہ گیر کے چہرے کو نہ صرف سینکڑوں ہزاروں افراد میں شناخت کرلیتا ہے بلکہ دوسرے مرحلے میں صوتی ڈیٹابیس کی مدد سے باہم بات چیت کرنے والوں کی شناخت بھی کر لی جاتی ہے۔ تیسرے مرحلے میں جسم کے درجہ حرارت کی جانچ کرتے ہوئے مخصوص نفسیاتی عوامل کا حساب لگایا جاتا ہے اور یہ سب کچھ خودکار نظام کے تحت ٹیکنالوجی کی مدد سے غیرمحسوس اندازمیں ہورہا ہوتا ہے۔ ہمیں ٹیکنالوجی کے اِن ارتقائی مراحل پر نظر رکھتے ہوئے قومی ڈیٹابیس کی توسیع کرنا ہوگی کیونکہ شفافیت کے لئے آج نہیں تو کل اِسی بائیومیٹرک شناختی کوائف کی جانچ پڑتال پر عام انتخابات کا انعقاد ہونا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد میں ہتھیاروں کے ساتھ ہمیں کوائف اکٹھا کرنے کے لئے اُن جملہ جدید وسائل کا استعمال کرنے اور انہیں موجودہ نظام میں سمونے (اپ گریڈیشن) کے لئے ابھی سے تحقیق کا کام جامعات کو سونپ دینا چاہئے۔ ٹیکنالوجی کا کوئی بھی درآمدی اور فوری حل وقتی ضرورت تو پوری کرسکتا ہے لیکن اس کے استعمال سے رازداری‘ اطمینان اور پائیداری جیسے اہم اہداف حاصل نہیں ہوں گے۔

پس تحریر: خانہ فرہنگ جمہوری اِسلامی اِیران کے پشاور مرکز کی ’علم و اَدب دوستی‘ اضافی تعارف کی محتاج نہیں۔ گذشتہ برس کی طرح اِس مرتبہ بھی ’پشتو زبان و ادب‘ کے شعبوں سے متعلق سالانہ جائزہ کی بنیاد پر نمایاں خدمات سرانجام دینے والوں کو اعزازات سے نوازہ گیا‘ جسے چار چاند لگانے کے لئے اِس موقع پر مشاعرے کا اہتمام بھی کیا گیا جو رواں برس کی پہلی بڑی ادبی تقریب تھی‘ جس سے پشاور کے ادبی ماحول پر طاری سکوت ختم ہوا ہے۔ ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والی ادبی تنظیم ’دریاب‘ کی میزبانی میں منعقد ہوئی اِس دوسری تقریب میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع‘ دیگر صوبوں اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے پشتو زبان کے صاحبان علم و دانش کو صحت مند و موافق ماحول میں ایک چھت تلے مل بیٹھنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ انتشار اُور خوف و دہشت کے ماحول میں اِس قسم کی تقریب کا انعقاد کسی غنیمت سے کم نہیں تھا‘ جس کا علمی و ادبی حلقوں نے خیرمقدم کیا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت بھی ایران کے ثقافتی مرکز کی طرز پر ادبی تحقیق و تنقیدی و تعارفی اور اعزازی محافل کی سرپرستی کے لئے دستیاب وسائل کا بہتر استعمال زیادہ بڑے پیمانے پر کرسکتی ہے۔ اِس سلسلے میں برس ہا برس سے ادبی اداروں پر مسلط طبقات کی اجارہ داری اُور خوشامدی و درآمدی نام نہاد ادیبوں کے تعصب سے نجات ضروری ہے۔ جدید سائنسی علوم کے ساتھ علم و اَدب سے تعارف اُور دلی وابستگی وقت کا تقاضا ہے کیونکہ ہمیں صرف ’خواندہ‘ نہیں بلکہ ’انسانیت سے محبت کرنے والی سوچ‘ فکر اور عمل کرنے والی نسلوں کی بھی ضرورت ہے۔‘

No comments:

Post a Comment