Showing posts with label Peshawar. Show all posts
Showing posts with label Peshawar. Show all posts

Friday, July 21, 2023

Muharram ul Harram 2023 - 1445 Hijri - Security Plan

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی : محرم سیکورٹی : خطرات و خدشات

حالیہ چند روز یعنی محرم الحرام (1445 ہجری) کے آغاز سے قبل اُور بالخصوص یکم محرم الحرام (بیس جولائی کے روز) پیش آئے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگرچہ ’پشاور پولیس‘ سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مستعد و چوکنا اُور پہلے سے زیادہ پرعزم دکھائی دیتی ہے لیکن غیرمعمولی حالات‘ غیرمعمولی اقدامات و انتظامات کے متقاضی ہیں۔ اِس سلسلے میں ’امامیہ کونسل‘ نے تجویز دی ہے کہ دو اُور گیارہ محرم الحرام (جمعة المبارک) کے ایام میں نماز جمعة المبارک کے اجتماعات کی سیکورٹی کے لئے صرف پولیس کے افرادی وسائل پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ عبادت گاہوں کے لئے متبادل سیکورٹی انتظامات بھی ہونی چاہئے جبکہ کونسل کی جانب سے پشاور پولیس کے فیصلہ سازوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ ’حفاظتی حکمت عملی (محرم کنٹیجینسی پلان)‘ پر نظرثانی کریں کیونکہ سیکورٹی خطرات و خدشات حقیقی ہیں تاہم حفاظتی انتظامات خوف و دہشت پھیلانے کا باعث نہیں ہونے چاہیئں۔ قابل ذکر ہے کہ پشاور پولیس نے مختلف مسالک کی عبادتگاہوں‘ اجتماعات اُور جلوسوں کو حفاظت فراہم کرنے کے لئے ’تین سطحی حفاظتی انتظامات‘ کر رکھے ہیں جس کے لئے ساڑھے تیرہ ہزار پولیس اہلکاروں‘ دو سو کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن کیمروں‘ خفیہ اطلاعات کے مربوط نظام اُور کرائے کے گھروں و ہوٹلوں‘ سرائے خانوں میں مقیم افراد پر بھی نظر رکھی گئی ہے جبکہ افغان مہاجرین کے پشاور میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تاہم پشاور شہر اُور اِس کے مضافات میں افغان مہاجرین مستقل مقیم ہیں یعنی وہ پہلے ہی شہر کی حدود میں داخل ہیں جبکہ ایسے افغان مہاجرین بھی ہیں جنہوں نے جعل سازی سے پاکستان کی شہریت حاصل کر رکھی ہے اُور اُنہیں صرف بول چال و رہن سہن کی عادات سے پہچانا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی شناختی دستاویزات کسی بھی غلط طریقے (بذریعہ رشوت اُور قبائلی اضلاع سے دستاویزات بنوا کر حاصل کرنا) جرم ہے لیکن چونکہ اِس جرم میں ’افغان مہاجرین‘ کی معاونت کرنے میں پاکستان کے اپنے سرکاری اہلکار ملوث پائے گئے ہیں‘ اِس لئے دوسروں سے گلہ کرنے کی بجائے اپنے گھر (داخلی امور) کی اصلاح کی جانی چاہئے۔ افغان مہاجرین چاہے قانونی ہوں یا غیرقانونی اُن کی باعزت اُور رضاکارانہ وطن واپسی کے لئے دی جانے والی رعایت و سہولت کا خاطرخواہ ہمدردی سے جواب نہیں دیا گیا۔ 

افغان مہاجرین یہ بات سمجھنے کے باوجود نہیں سمجھ رہے کہ اُن کی آڑ میں منظم جرائم پیشہ عناصر اُور پاکستان دشمن کاروائیاں کر رہے ہیں اُور اِس مسئلے کے صرف دو ہی حل ہیں۔ ایک تو یہ کہ افغان مہاجرین کو پاک افغان سرحد سے متصل (شہروں سے دور) خیمہ بستیاں قائم کر کے اِن کی نقل و حرکت محدود کر دی جائے لیکن ظاہر ہے کہ اِس کے لئے پاکستان کے پاس نہ تو درکار مالی و افرادی وسائل ہیں اُور نہ ہی وقت۔ دوسرا حل اِن مہاجرین کی رضاکارانہ یا غیررضاکارانہ وطن واپسی کا ہے جو قابل عمل حل ہے اُور اِس میں افغان مہاجرین کی بھی بہبود شامل ہے کیونکہ کم آبادی اُور قومی ترجیحات کے درست تعین کی وجہ سے افغانستان کے معاشی حالات میں ہر دن بہتری آ رہی ہے‘ جس کا افغان مہاجرین اُور افغان امور کے تجزیہ کار اکثر پاکستان کی معاشی صورتحال کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو اگر واقعی ایسا ہی ہے تو افغان مہاجرین کو فوراً سے پہلے اپنے ملک واپس چلے جانا چاہئے اُور اِس سے بڑھ کر کوئی دوسری خوش قسمتی اُور کیا ہوگی کہ اگر کسی شخص کو اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں ہاتھ بٹانے کا موقع مل جائے؟

پشاور کو لاحق امن و امان کے خطرات اُور اِن خطرات سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے شہر کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہیں‘ جو پہلے ہی مختلف وجوہات کی بنا پر بحران سے گزر رہی تھیں لیکن ظاہر ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی پہلی (at-most) ذمہ داری ہوتی اِس لئے سوچ بچار سے لیکر عملی اقدامات تک ہر پہلو سے غور و خوض اُور اِس سلسلے میں ہر فریق (اسٹیک ہولڈر) سے مشاورت کی گئی ہے اُور گیارہ اضلاع (پشاور‘ کوہاٹ‘ ہنگو‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ کرم‘ اورکزئی‘ ٹانک‘ مردان‘ نوشہرہ‘ ہری پور اُور ایبٹ آباد) کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ ضلع پشاور کی بات کریں تو محرم الحرام کا آغاز ہونے سے قبل ’دفعہ 144‘ نافذ کر کے افغان مہاجرین کے پشاور میں داخلے‘ اسلحے کی نمائش اُور موٹرسائیکل پر ایک سے زیادہ (ڈبل سواری) پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ موٹرسائیکل کم آمدنی رکھنے والوں کی سواری ہے اُور پشاور شہر کے گنجان آباد (پرہجوم) قدیمی حصوں میں آمدورفت کے لئے موٹرسائیکل سواری کا واحد ذریعہ بھی ہے تو ایسی صورت میں اُن علاقوں سے رعایت ہونی چاہئے جہاں محرم الحرام کی مناسبت سے اجتماعات یا جلوس نہیں ہوتے۔ پشاور میں لگائی گئی ’دفعہ 144‘ کے تحت موٹرگاڑی اُور موٹرسائیکل کے کرائے پر دینے یا حاصل کرنے‘ بغیر نمبرپلیٹ موٹرگاڑی یا موٹرسائیکل اُور دیگر گاڑیوں کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اِسی طرح اُن علاقوں میں چھت پر کھڑے ہونے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جہاں محرم الحرام کی مناسبت سے مذہبی اجتماعات یا جلوس گزرتے ہیں۔ پشاور شہر و مضافات اُور چھاؤنی کی حدود میں آتش بازی کے سامان کی خرید و فروخت بھی اِس پابندی کا حصہ ہے۔ 

مجموعی طور پر 25 پابندیاں 15 روز کے لئے نافذ کی گئی ہیں لیکن اِن میں کئی ایسی پابندیاں بھی شامل ہیں جو مستقل ہونی چاہیئں جیسا کہ آتش گیر مادے کی خریدوفروخت‘ جو بچوں اُور بڑوں کے لئے یکساں خطرہ اُور مالی وسائل کا ضیاع بھی ہے۔

 توجہ طلب ہے کہ محرم الحرام کے موقع پر جبکہ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی حرکت میں نہیں آتے بلکہ ضلعی انتظامیہ اُور بنام مقامی حکومتوں عوام کے منتخب (بلدیاتی) نمائندے بھی حرکت میں آ جاتے ہیں تو اِس نادر موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے پشاور شہر کے بازاروں کا سروے کر لیا جائے کہ کن کن بازاروں میں دکانداروں نے اپنی اپنی حدود سے تجاوز کر رکھا ہے اُور تجاوزات کے لئے استعمال ہونے والی اشیا دکانوں کے باہر ہی ڈھانپ کر رکھی جاتی ہیں یا ایک ایسی صورتحال میں جبکہ بازاروں میں آمدورفت کم ہو اُور کاروباری سرگرمیاں بھی بند کروا دی گئی ہوں تو دکانوں کے پختہ تعمیر شدہ یا غیرپختہ (مستقل و عارضی) اضافی حصے باآسانی شناخت اُور ہٹائے جا سکتے ہیں اُور اگر حکام کی جانب سے اپیل کی جائے تو محب الوطن تاجر از خود ’انسداد تجاوزات‘ کے سلسلے میں تعاون کریں گے کیونکہ دہشت گردی کا خطرہ کسی ایک مذہب و مسلک کو لاحق نہیں اُور نہ ہی اِس کے خاتمے کی ذمہ داری صرف اُور صرف حکومت اُور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے بلکہ یہ پورے پشاور کو لاحق خطرہ اُور ایک اجتماعی مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لئے ’اجتماعی (مربوط) محنت و کوشش کی پہلے سے زیادہ آج ضرورت ہے۔‘

....

Editorial Page Daily Aaj 21 July 2023

Clipping from Editorial Page Daily Aaj 21 July 2023


Saturday, July 15, 2023

Gandhara dreams by Dr Ramesh Kumar Vankwani

 Gandhara dreams

گندھارا تہذیب: خواب اُور حقیقت

پاکستان میں گندھارا تہذیب کے آثار اُور منسوب مقامات کی سیر کے لئے دنیا بھر سے سیاح آ رہے ہیں۔ حال ہی میں اِس سلسلے میں ایک ’عالمی کانفرنس‘ کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں بالخصوص بدھ مت کے پجاری اُور اُن ممالک کے نمائندہ وفود نے شرکت کی جہاں ’بدھ مت‘ سرکاری مذہب کے طور پر رائج ہے۔ گندھارا تہذیب کو مقدس اُور تاریخی اہمیت کی حامل سمجھنے والے جو ممالک دلچسپی لے رہے ہیں اُن میں تھائی لینڈ‘ نیپال‘ ویت نام‘ چین‘ ملائیشیا‘ کوریا‘ سری لنکا‘ میانمار‘ کمبوڈیا‘ انڈونیشیا اور دیگر بودھی اکثریتی ممالک شامل ہیں۔ حال ہی میں معزز بودھی بھکشو نے پاکستان کا دورہ کیا اُور چند دنوں روز یہاں مقیم رہے۔ اِن کی پاکستان یاترا (آمد) کا مقصد وزیر اعظم کی ’خصوصی ٹاسک فورس برائے گندھارا ٹورازم‘ اُور ہم خیال ’تھنک ٹینک نجی اداروں‘ کے تعاون سے منعقد ہونے والے پہلے بین الاقوامی گندھارا سمپوزیم میں شرکت تھی جس کے لئے وفود اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ پر اُترے اُور اُنہوں نے مذکورہ سمپوزیم میں شرکت کے علاؤہ گندھارا تہذیب کے مقامات پر حاضری بھی کی اُور وہاں عبادت و مختصر قیام کے دوران تاریخ کے اُن رشتوں کو زندہ بھی کیا جن پر دہائیوں سے مٹی پڑی ہوئی ہے۔

بین الاقوامی بودھی راہبوں کے ہمراہ تخت باہی مردان کے قدیم گندھارا مقام کا دورہ کرتے ہوئے راقم الحروف کو ایسا لگا کہ جیسے کوئی شخص جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھ رہا ہو اور جب آنکھیں کھلیں گی تو یہ ویران کھنڈرات اپنے شاندار ماضی پر ماتم کرتے نظر آئیں گے۔ بین الاقوامی برادری کے سامنے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے لئے ’مذہبی سیاحت‘ کو فروغ دینے کا خواب بالآخر حقیقت بن رہا ہے۔ اِس سمپوزیم سے قبل‘ بدھ بھکشوؤں‘ مختلف ممالک کے سفیروں اور ذرائع ابلاغ کے وفود کے ہمراہ جدید ٹیکسلا اور گندھارا دور کے عظیم تعلیمی مرکز‘ تکششیلا (Takshashila)کے قدیم شہر میں واقع قدیم دھرم راجیکا (Dharmarajika) عبادتگاہ (سٹوپا) کا دورہ کیا۔ معلوم انسانی تاریخ کی یہ پہلی یونیورسٹی تھی اور اِس جامعہ میں عظیم فلسفی کوٹلیہ چانکیہ ڈھائی ہزار سال پہلے حکمت پڑھاتے تھے۔ ’ارتھ شاستر‘ اور ’چانکیہ نیتی‘ کے عنوان سے اُن کی کتابیں اکیسویں صدی میں بھی یکساں مقبول ہیں۔ قدیم شہر ٹیکسلا کی اہمیت کے پیش نظر گندھارا ٹورازم سے متعلق وزیراعظم پاکستان کی بنائی ہوئی ’ٹاسک فورس‘ نے ایک اعلامیہ بھی تیار کیا ہے جسے کانفرنس کے مندوبین اور سفیروں کے ساتھ شیئر کیا گیا۔ راقم الحروف کو یقین ہے کہ اِس عاجزانہ کوشش کو تاریخ میں ’تکششیلا اعلامیہ‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

بین الاقوامی مندوبین نے ٹیکسلا اور پشاور کے عجائب گھروں کا دورہ بھی کیا۔ اِس موقع پر راہبوں سے ہوئی بات چیت میں اِس بات کا خصوصی طور پر اظہار کیا گیا کہ گندھارا کے بارے میں بہت کچھ پڑھنے اُور سننے والوں کو جب اِس سے متعلقہ مقامات اُور آثار کو قریب سے دیکھنے کا پہلا اُور نادر موقع خاص اہمیت کا حامل ہے۔ وہ اپنے آبائی ممالک واپس جانے کے بعد پاکستان اور پاکستان کے عوام کے بارے میں اچھی باتیں اُور یادیں بطور سوغات لیکر جائیں گے۔ ذہن نشین رہے کہ گندھارا سیاحت کے فروغ کے لئے جب وزیر اعظم کی ٹاسک فورس نے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا اُور بدھ مت زائرین نے تخت بھائی کا دورہ کیا تو راقم الحروف نے اُس وفد کی قیادت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اُور اُس وقت یہ بالکل ناممکن دکھائی دے رہا تھا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے بدھ بھکشو پاکستان کا دورہ کر سکیں گے تاہم جہاں ارادہ موجود ہو اُور جہاں نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو راستے نکل ہی آتے ہیں۔ ذاتی طور پر راقم الحروف کا ماننا ہے کہ ہر قوم اور ملک کا کوئی نہ کوئی خواب ہوتا ہے کہ وہ آگے بڑھے۔ امریکہ کے 16ویں صدر ’ابراہم لنکن‘ نے اپنی قوم کو سپر پاور بننے کا خواب دیا۔ اسی طرح چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی اپنی قوم کو عالمی سطح پر متعارف کرایا اُور چین کی صنعتی و سفارتی طاقت کو منوایا۔ 

ہمارے بزرگوں نے بھی ایک خودمختار اور آزاد ریاست کا خواب دیکھا تھا جو بانیئ پاکستان قائد اعظم کی دور اندیش قیادت میں پورا ہوا۔ جناح صاحب نے ’11 اگست 1947ء‘ کے روز اپنی تقریر میں اِس خواب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”وہ پاکستان کو ’مثالی رول ماڈل ریاست‘ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر کسی کو مسجد یا مندر یا کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کی آزادی ہو۔“ ایک محب وطن پاکستانی شہری ہونے کے ناطے راقم الحروف کا بھی خواب ہے کہ پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہو اُور پاکستان کا تعارف ترقی یافتہ‘ پرامن اُور خوشحال ملک کے طور پر کیا جائے۔ ’گندھارا ڈریم‘ کے ساتھ پاکستان نے مذہبی سیاحت کے فروغ سے متعلق ’واضح اہداف‘ مقرر کئے ہیں اُور اِس کوشش میں بڑی کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ سینکڑوں سال پہلے ہماری سرزمین پر پھلنے پھولنے والی عظیم گندھارا تہذیب دنیا کی ’اَنوکھی قدیم‘ تہذیب ہے۔ اِس تہذیب کے باقی ماندہ آثار میں ہر پتھر‘ ہر کھنڈر‘ ہر کونا کوئی نہ کوئی کہانی بیان کر رہا ہے۔ 

گندھارا ورثہ پراسرار ہے اُور اِس کی پراسراریت جدید دور میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ گندھارا کے مقدس مقامات کی زیارت دنیا کے ہر بدھ مت پیروکار کا خواب ہے لہٰذا ہمیں اِس جانب راغب کرنے کے لئے غیرملکی سیاحوں کے لئے سہولیات کی فراہمی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ 

(مضمون نگار رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔ بشکریہ: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)


Sunday, June 25, 2023

With each step at dawn, nature's secrets unfold

ژرف نگاہ        شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: چہل قدمی

تندرستی ہزار نعمت ہے۔ طب کے نکتہئ نظر سے ہفتے کے زیادہ تر دنوں میں یعنی ہر دن کم سے کم ’تیس منٹ‘ یا اِس سے زیادہ ’چہل قدمی‘ جسمانی اعضا کی فعالیت‘ خون کی گردش‘ جسم سے فاسد مادوں کے اخراج‘ بھوک پیاس کے احساس کو بڑھانے‘ نظام ہضم کی درستگی‘ ذہنی تناؤ اُور دباؤ (ڈپریشن) سے نجات الغرض مجموعی صحت کی بہتری یا اِسے برقرار رکھنے کا ایک بہترین طریقہ (ذریعہ) ہے‘ جسے ’تیر بہ ہدف نسخہ‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ مصروفیات کی صورت ہر دن کم سے کم نصف گھنٹہ ’واک‘ اگر کسی جانے انجانے شخص کے ہمراہ کی جائے تو یہ ’آسان کسرت (ورزش)‘ ایک خوشگوار اُور حیرت انگیز اثرات رکھنے والی سماجی سرگرمی میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے کیونکہ اِس (چلتے چلتے) مختلف موضوعات پر تبادلہئ خیال سے بہت کچھ سیکھا اُور گردوپیش میں مشاہدہ کے بارے میں ہم عصروں کی رائے معلوم کی جا سکتی ہے۔ 

پیدل چلنے کی کم سے کم حد ’4 سے 6 ہزار قدم‘ مقرر ہے جبکہ معالجین تجویز کرتے ہیں کہ تیز اُور ہلکے قدموں سے ہر روز ’10 ہزار‘ قدم چلنے والے نسبتاً زیادہ صحت مند زندگی بسر کرتے ہیں۔ 

پیدل چلنے کے لئے بہترین مقام سبزہ زار‘ باغ یا ایسی ہموار سطحیں ہوتی ہیں جو پُرپیچ اُور اُونچی نیچی ہوں‘ جہاں علی الصبح تازہ ہوا میں گہرے سانس لینے سے حاصل ہونے والے خوشگوار احساس کا نعم البدل ممکن نہیں۔

 ’اہل پشاور‘ کے لئے پیدل چلنے کے تلخ و شریں تجربات پر شہری زندگی کے کچھ اِس انداز سے مسائل حاوی ہو چکے ہیں کہ ہر قدم ایک الگ کوفت سے واسطہ پڑتا ہے اُور یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ صبح ہو یا شام‘ ماسوائے چند ایک علاقوں کے‘ خواتین کے لئے پیدل چلنے کے مواقع انتہائی محدود اُور پُرخطر ہیں۔ ایک ایسا شخص (مرد یا عورت) جو اپنے گھر اُور کام کاج کی جگہ (دفتر یا دکان) کے درمیان روزانہ تیس سے چالیس منٹ پیدل چلتا ہے اُسے تندرست رہنے کے لئے کسی اضافی مشقت کی ضرورت نہیں رہتی لیکن اِس دوران وہ جن حقائق کا براہ راست مشاہدہ کرتا ہے اُنہیں باآسانی خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔

 ’صبح کی سیر کا پہلا نظارہ‘ جا بجا ڈھیروں ڈھیر گندگی (کوڑا کرکٹ) نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ کوڑاکرکٹ سے اُٹھنے والا تعفن اُور مکھیاں مچھر ہر راہ گیر کا پیچھا کرتی ہیں! پشاور کی کل 92 یونین کونسلوں میں سے بمشکل نصف میں گندگی اُٹھانے کا باقاعدہ انتظام موجود ہے جس میں اندرون شہر کے گنجان آباد علاقے بھی شامل ہیں لیکن ہر صبح گلی کوچوں میں گھر گھر سے گندگی اکٹھا کرنے اُور جھاڑو لگانے کے چند گھنٹے بعد صفائی برقرار نہیں رہتی اُور مقررہ مقامات اُور مقررہ اوقات کے علاؤہ کوڑا کرکٹ پھینکنے کا سلسلہ دن کے آغاز سے رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ ایک ایسی صورتحال جس میں گندگی پھینکنے‘ گندگی اُٹھانے اُور گندگی تلف کرنے جیسے تینوں طریق و فریق مربوط و منظم نہیں اُور یہی وجہ ہے کہ شہری زندگی کا نظارہ ”گندگی و تعفن“ کی وجہ سے ناخوشگوار تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ صبح کا دوسرا نظارہ بے ہنگم ٹریفک کا نظام ہے جو شہر کے جاگنے کے ساتھ ہی گرد اُڑاتے فعال ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پشاور کی سڑکوں پر 1960 اُور 1970ء کی دہائیوں میں ساختہ بسیں فراٹے بھرتی نظر آتی ہیں‘ جن کے اِنجنوں سے اُگلتا ہوا کثیف دھواں مٹی اُور گردوغبار کے بادلوں کو یہاں سے وہاں اُور وہاں سے یہاں لئے پھرتا ہے اُور اِس آلودگی بھری ہوا میں سانس لینا‘ کسی بھی طرح صحت مند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ توجہ طلب ہے کہ پیدل چلنے کا رجحان دن بہ دن کم ہو رہا ہے اُور اِس کی وجوہات میں تیسری بڑی وجہ ’سٹریٹ کرائمز‘ ہیں۔

پشاور کی صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ الصبح سے رات گئے تک کوئی ایک بھی وقت اُور کوئی ایک بھی علاقہ ایسا نہیں رہا جہاں کے رہنے والے گھروں سے باہر خود کو محفوظ سمجھتے ہوں! پشاور پولیس کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق سال 2023ء کے پہلے دو ماہ کے دوران پشاور میں 74 راہزنی کی وارداتیں ہوئیں جن میں 41 وارداتوں کے دوران راہزنوں نے فائرنگ بھی کی۔ اِس دوران 34 موٹرسائیکل چھینی گئیں اُور 25 موٹرسائیکل چوری ہوئے۔“ چہل قدمی کسی بھی طرح مفلسی کی علامت نہیں البتہ بچت کا ذریعہ ہے اُور اِس بامقصد سرگرمی کے فرد‘ افراد اور سماج کے لئے متعدد فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن سبھی محرکات کی اِصلاح ضروری ہے جو پیدل چلنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ چہل قدمی کے لئے مناسب ماحول فراہم کرنے کے لئے پشاور کے اُن سبھی باغات کو تجاوزات سے واگزار کرنا ضروری ہے جنہیں بنام ترقی غصب کیا گیا ہے اُور پشاور سے دشمنی رکھنے والی ’ایک خاص سوچ‘ اُور ’نظریئے‘ نے یہاں کے تاریخی و ثقافتی اَثاثوں اُور سماجی خوبیوں کے نقوش ایک ایک کر کے مٹانے شروع کر رکھے ہیں۔

چہل قدمی کے ذریعے ’پشاور شناسی‘ کو اِس صورت فروغ دیا جا سکتا ہے کہ اِس سے وہ خودغرضی اُور لاتعلقی پر مبنی رویئے عیاں ہو جائیں گے جن کی اِصلاح ضروری ہے۔ پشاور کے حقوق اَدا کرنے سے متعلق اِتفاق رائے اُور خوداِحتسابی ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہئ خیال میں بڑھتی چلی جائے گی‘ جو وقت کی ضرورت ہے۔ 

چہل قدمی کی وجہ سے ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی اضافی ثمر اُور باآسانی ممکن ہے جس سے پشاور کے ’کاربن فٹ پرنٹ (فضائی آلودگی)‘ میں خاطرخواہ کمی آ سکتی ہے اُور جس کا نتیجہ صاف آب و ہوا کی صورت برآمد ہو سکتا ہے۔ پشاور جو کبھی پھولوں کا شہر کہلاتا تھا لیکن اِس کے کچھ حصوں میں فضائی آلودگی کی شرح‘ اُس خطرناک سطح کو بھی عبور کر چکی ہے جو انسانی صحت کے لئے خطرناک و برداشت کی آخری حد ہے۔ ضروری ہے کہ کم فاصلے کے لئے گاڑی یا کسی سواری کا انتخاب کرنے کی بجائے پیدل چلنے کا انتخاب کیا جائے‘ اِسی میں صحت کی صورت انفرادی اُور پشاور کے مسائل پر غور کرنے جیسی اجتماعی بھلائی پوشیدہ ہے۔ 

  • With each step at dawn, nature's secrets unfold
  • Morning walk's embrace, a tranquil story untold



Thursday, June 15, 2023

Sethi Houses vanishing, like memories, with each curtain's fall

ناقابل اشاعت ……  شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: خاموش اِحتجاج

زوال اُور تبدیلی مستقل عمل ہے لیکن اِس کے منفی اثرات کم کرنے کے لئے حساس معاشروں میں ’آثار قدیمہ‘ کے تحفظ پر توجہ دی جاتی ہے جبکہ ’پشاور کہانی‘ مختلف ہے کہ یہاں تاریخ و ثقافت سے جڑی ہر نشانی زوال پذیر ہے اُور انتہائی مخدوش حالت میں دیکھی جا سکتی ہے جبکہ متعلقہ حکومتی ادارے (محکمۂ آثار قدیمہ) اُور قانون نافذ کرنے والے ادارے (متعلقہ تھانہ جات) کی کارکردگی سب کے سامنے ہے کہ ایک ایک کر کے پشاور کی نشانیاں مٹ رہی ہیں! بقول ’یحییٰ سیٹھی‘ پشاور کا یہ منظرنامہ‘ یہ حال احوال‘ یہ اجنبیت‘ جو آج نظر آ رہی ہے‘ پہلے کبھی بھی نہیں دیکھی گئی اُور اِس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ پشاور کے آباؤاجداد کی نشانیاں ایک ایک کر کے مٹ رہی ہیں!“ پشاور کے مٹتے نقوش میں ’سیٹھی خاندان‘ کے گھر‘ سیٹھی خاندان کا قبرستان اُور سیٹھی خاندان کے نمایاں ترین فلاحی منصوبے کی اراضی بھی زیادہ دنوں کی مہمان دکھائی نہیں دے رہی!

تازہ ترین  واردات میں ’بازار کلاں‘ سے متصل ’محلہ سیٹھیان‘ کا قدیمی مکان راتوں رات منہدم کر دیا گیا ہے۔
 گھر کے مالک سیٹھی خاندان کے باقی ماندہ بزرگ یا تو انتہائی ضعیف ہیں یا پھر اِس خوف سے سامنے نہیں آ رہے کیونکہ قبضہ مافیا مسلح اُور سینہ زو رہے‘ جسے قانون یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا خوف نہیں۔ یہ مافیا ،اپنے سامنے کھڑے ہونے والے کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ گالیاں بکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ’معزز و برتر‘ شریف سیٹھی گھرانے کے بزرگ اُور نوجوان تھانہ کچہری نہیں کریں گے۔ یہ شریف اُور شرفا کی ایک نشانی اُن کی کمزوری سمجھی جاتی ہے حالانکہ یہ کام صوبائی حکومت اُور پشاور کی ضلعی انتظامیہ کا ہے کہ وہ سیٹھی خاندان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو اُور اِس بات کو یقینی بنائے کہ پشاور میں اگر کوئی کمزور و ناتواں ہے تو وہ ’قانون شکن‘ ہونا چاہئے۔ 

محلہ سیٹھیان کا تازہ ترین نشانہ بننے والا مکان افتخار سیٹھی (مرحوم) اُور اُن کی ہمشیرہ مسماۃ شمیم (ریٹائرڈ ڈاکٹر) کے نام پر مکان ہے۔
افتخار سیٹھی کے بھائیوں کو اِس سے دلچسپی نہیں۔ دونوں عمر کے اُس حصے میں ہیں جہاں وہ تھانہ کچہری نہیں کرنا چاہتے اُور نہ ہی ایک مکان کے لئے اپنے بال بچوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اِسی محلے کا دوسرا مکان لب سڑک (قریب دو کنال) جو ’اقبال سیٹھی‘ کی عدالت سے تسلیم شدہ ملکیت ہے لیکن وہ بھی قبضہ ہے‘ اگرچہ سیٹھی خاندان اِس مکان کی ملکیت کا مقدمہ جیت چکا ہے لیکن گھر کا قبضہ حاصل نہیں کر سکا۔

سیٹھی ہاؤس ہو یا کوئی بھی تاریخی و ثقافتی اہمیت کی حامل عمارت ، اِس راتوں رات ملبے کا ڈھیر بنانے والے عموماً ہفتہ و اتوار کی درمیان شب واردات کرتے ہیں جب سرکاری دفاتر میں تعطیل ہوتی ہے اُور اِس تعطیل کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مسرت ہلالی سے درخواست ہے کہ وہ اِس جاری بے قاعدگی اُور لاقانونیت کا نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر آرکیالوجی اُور اُ ن کے عملے کو طلب کریں اُور اِس بات کی بھی الگ سے تحقیقات ہونی چاہئیں کہ جن اہلکاروں کو پشاور کی تاریخ و ثقافت کے نایاب نقوش بطور امانت سونپے گئے تھے اُنہوں نے اپنی ذمہ داریاں (فرائض منصبی) کس حد تک ایمانداری سے ادا کئے ہیں اُور یہ بھی دیکھا جائے کہ اِن اہلکاروں کے مالی اثاثے کہیں اِن کی آمدنی کے جائز و معلوم ذرائع سے زیادہ تو نہیں ہیں۔

تازہ ترین واردات میں  پشاور کے 2 تعمیراتی فن پاروں (سیٹھی ہاؤسیز) کے نقوش مٹا دیئے گئے ہیں لیکن  کوئی روکنے یا بچانے یا اِس نقصان پر مگرمچھ کے آنسو تک بہانے نہیں آیا! (انا للہ و انا علیہ راجعون)۔

سیٹھی ہاؤسیز کے ظاہری شان و شوکت (لکڑی کے ستون ، دروازے اُور کھڑکیاں، روشن دان، فرش اُور قیمتی پتھروں سے سجی چھتیں) مسمار ہونے کے بعد متعلقہ تھانہ اُور علاقے کی سیاسی نمائندگی کرنے والے بلدیاتی نمائندے حرکت میں آئے۔ موقع پر کام کرنے والے چند مزدوروں کو پکڑ لیا گیا جبکہ قریب ہی بازار کلاں میں بیٹھے اِس پورے منصوبے کے ’ماسٹر مائنڈ‘ پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا۔

توجہ طلب ہے کہ صرف ’محلہ سیٹھیان‘ ہی نہیں بلکہ پشاور میں سیٹھی خاندان کا قبرستان جس کا کل رقبہ 20 کنال سے زیادہ ہے اُور اِس کی ملکیت کے کاغذات بھی موجود ہیں لیکن اِس کا رقبہ بھی قبضہ ہو چکا ہے یا قبضہ کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ یہ معاملہ ماضی میں جب عدالت تک پہنچا تو سیٹھی خاندان کے حق میں فیصلہ ہوا تھا اُور چار سال تک سماعتیں ہوتی رہیں جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سیٹھی خاندان کے حق میں دیا لیکن سیٹھی خاندان کو اپنا حق آج تک نہیں مل سکا۔ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ قبضہ مافیا نے ایک اُور چال چلتے ہوئے ’سیٹھی قبرستان‘ کو بدھ مت کا قدیمی مرکز قرار دینے کی مہم ’سوشل میڈیا‘ پر شروع کر رکھی ہے اُور اِس حوالے سے جس درخت اُور چبوترے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ سیٹھی خاندان کے بزرگ قرآن کریم کی تلاوت‘ درس قرآن اُور فاتحہ خوانی کی اجتماعی محافل کے اِنعقاد کے لئے کیا کرتے تھے! پاکستان بننے کے وقت یہاں ’سرخ پوشوں‘ نے پناہ بھی لی تھی‘ جنہیں بطور مہمان رکھا گیا تھا اُور اُن کی میزبانی کی گئی تھی۔ سیٹھی خاندان اِس علاقے میں خیرات و زکوۃ بھی دیا کرتا تھا اُور یہی خاندان صرف پشاور ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے کئی ممالک کی مدد کیا کرتا تھا۔

المیہ نہیں تو کیا ہے کہ ہے کہ پشاور کی تاریخ پر آج اُن لوگوں کو زیادہ عبور ہونے کا دعویٰ ہے جن کی اپنی کوئی تاریخ نہیں!

سیٹھی قبرستان (کم و بیش بیس کنال) کے گردچاردیواری بنانے کی ہر کوشش اب تک ناکام رہی ہے! ماضی میں قبرستان چاردیواری کے تعمیراتی منصوبے پر لاگت کا تخمینہ ’40 لاکھ‘ روپے تھا جو بڑھ کر ’ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے‘ ہو چکا ہے اُور اب اِس قدر خطیر رقم کہاں سے آئے گی‘ یہ سوال اپنی جگہ حکومت کو متوجہ کر رہا ہے کہ اگر سیٹھی قبرستان کے گرد چاردیواری نہ بنائی گئی تو شاید چند مرلے زمین بھی باقی نہ رہے اُور سیٹھی خاندان کے اجداد کی قبروں پر رہائشی بستی آباد ہو جائے جسے حکومتی فنڈ سے ٹیوب ویل‘ جنازہ گاہ‘ مسجد اُور سکول تعمیر کر کے قانونی شکل دیدی جائے گی اُور یہی طریقۂ واردات پشاور کی دیگر اقوام کے قبرستانوں کے ساتھ بھی ہو چکا ہے!

کیا یہ بات قابل مذمت نہیں کہ سیٹھی قبرستان کے ساتھ ملحقہ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مزار بھی قبضہ ہو چکا ہے! 

اَلمیہ نہیں تو کیا ہے کہ سیٹھی خاندان عدالت میں تو ہر مقدمہ جیت جاتا ہے لیکن عدالتی احکامات کو عملی جامہ پہنانے والوں کی دلی ہمدردیاں سیٹھی خاندان کے ساتھ نہیں! وہ کہ جنہیں حقیقی محافظ ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے اِس پورے معاملے سے لاتعلق ہیں۔ سیٹھی خاندان کے لوگ انتہائی شریف النفس ہیں وہ قبضہ مافیا کا مقابلہ اُور اُن کا تن تنہا سامنا نہیں کر سکتے اُور ایسی صورت میں صوبائی و ضلعی حکومت کو سیٹھی خاندان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہئے۔

سیٹھی خاندان کی پشاور میں ’تیسری نشانی‘ اندرون یکہ توت گیٹ (محلہ جٹان) کا ’دارالمساکین‘ ہے جو آج بھی اِسی (سیٹھی) خاندان کی ملکیت ہے اُور جسے ماضی و حال میں کئی مرتبہ قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خاص نکتہ یہ ہے کہ ’دارالمساکین‘ وقف اراضی نہیں تو پھر اِس کا انتظام و ملکیت سیٹھی خاندان کے پاس کیوں نہیں اُور اِس میں حکومتی تعمیرات کس قانون یا اخلاقی جواز کے تحت کی گئی ہیں؟ دارالمساکین سیٹھی خاندان کے آباؤاجداد کی ملکیت تھی اُور ہے اُور صرف ملکیت نہیں بلکہ دارالمساکین پشاور اُور اہل پشاور سے سیٹھی خاندان کی ’دلی محبت‘ کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ افسوس کہ سیٹھی خاندان کے گھر‘ سیٹھی خاندان کا قبرستان اُور سیٹھی خاندان کی طرف سے اہل پشاور کی فلاح و بہبود کا مرکز (دارالمساکین) پر ایک ایسی سوچ رکھنے والے قابض ہیں جن کے لئے پشاور کی تاریخ و ثقافت‘ یہاں کے شریف و محسن خاندانوں کی کوئی اہمیت نہیں!

پشاور کبھی بھی اِس قدر ’بے سروسامان‘ اُور ’بے آسرا‘ نہیں تھا کہ دیگر خیبرپختونخوا کے قبائلی و بندوبستی اضلاع اُور جعلی شناختی دستاویز کے ذریعے پاکستان کی شہریت حاصل کرنے والے افغان جرائم پیشہ گروہوں کے اراکین جنہوں نے پشاور میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں یہاں کی ہر نشانی اُور ہر خوبی کو ایک ایک کر مٹا رہے ہیں اُور پشاور تماشا دیکھ رہا ہے۔

صرف سیٹھی ہاؤسیز ہی نہیں بلکہ کئی دیگر نایاب گھر جو فن تعمیر کا نمونہ تھے‘ پشاور کی تاریخ و ثقافت کے گواہ تھے لیکن ملبے کی صورت راتوں رات ’لوٹ‘ لئے گئے ہیں! قبضہ مافیا کے ہاتھ لمبے ہیں جبکہ اہل پشاور بے بس ہیں کیونکہ وہ حقیقی سیاسی و سماجی نمائندگی سے محروم ہیں۔ اِن کی آنکھوں میں آنسوؤں اُور دل غم سے نڈھال ہیں۔ دُکھ بھرے بوجھل وجود کے ساتھ‘ آنسوؤں کی برسات ’خاموش احتجاج‘ کی صورت جاری ہے۔
پشاور کو کون سمجھے گا؟
اہل پشاور کے دُکھ کو کون سمجھے گا؟
پشاور کی مسیحائی کون کرے گا؟

 ”فکر مجھے گلزاروں کی ہے مولا خیر …… بارش تو انگاروں کی ہے مولا خیر
 اُلجھ رہے ہیں سارے مسیحا آپس میں …… فکر کسے بیماروں کی ہے مولا خیر (شمیم فرحت)۔“

……



SethiHouse
In Peshawar's embrace, Sethi House stands tall
Yet vanishing, like memories, with each curtain's fall

Saturday, December 24, 2022

Peshawar: the city of big issues!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی : چھوٹا شہر‘ بڑے مسائل

مسائل کہاں نہیں لیکن پشاور بڑے مسائل میں گھرا ہوا ایک ایسا چھوٹا شہر ہے جہاں ہر مسئلہ اپنی شدت کی وجہ سے نمایاں نظر آتا ہے۔ ایسی ہی ایک مشکل تعلیمی اداروں کو آمدورفت کرنے والے بچوں کی ہے‘ جنہیں خلاف قانون ایسی گاڑیوں میں سفر کرنا پڑتا ہے جس میں بطور ایندھن ’گیس (CNG)‘ استعمال ہوتی ہے۔ سکول ٹرانسپورٹ کے نام پر صرف نجی کاروباری افراد ہی نہیں بلکہ کئی سکولوں کی اپنی بسیں‘ منی وینز اُور ہائی ایس (ہائی روف) گاڑیاں بھی ’سی این جی‘ ہی سے چلتی ہیں چونکہ ’سی این جی‘ سلینڈرز کی دیکھ بھال اُور باقاعدگی سے معائنہ نہیں کروایا جاتا اِس لئے متعدد حادثات کے بعد پشاور کے ٹریفک پولیس فیصلہ سازوں نے فیصلہ کیا تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ بالخصوص تعلیمی اداروں سے منسلک آمدورفت کے لئے استعمال ہونے والی ایسی گاڑیاں بالخصوص استعمال نہیں کی جائیں گی جن میں ’سی این جی‘ بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہو لیکن اِس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ تعلیمی اداروں سے جڑی پشاور کی دوسری مشکل کا تعلق سکول بیگ کے وزن سے ہے۔ ذہن نشین رہے کہ ”اکتوبر 2020ء“ میں ”خیبرپختونخوا سکول بیگ لمیٹیشن آف ویٹ ایکٹ 2020ئ“ نامی قانون متعارف کروایا گیا تھا جس پر دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے حالانکہ اگر سکول بیگ وزن سے متعلق مسئلے کا حل قانون سازی کی بجائے تعلیمی بندوبست پر نظرثانی (اِصلاحات) سے کیا جاتا تو یہ فوری قابل عمل اُور لاگو ہو جاتا۔ قانون بنانے کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں اِس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائیں دینا مقصود ہوں اُور اکثریت کو کسی ”عمومی یا خصوصی جرائم“ کا ارتکاب کرنے والوں سے پناہ دیتے ہوئے اُن کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوں چونکہ نجی تعلیمی اداروں میں کروڑوں کی سرمایہ کاری کرنے والے آج کھرب پتی ہیں اُور وہ اپنے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لئے قانون ساز اسمبلیوں کا بھی حصہ ہیں‘ اِس لئے بذریعہ قانون سازی بہتری نہیں لائی جا سکتی۔ بچوں کو سکول بیگ میں نصاب تعلیم کی کتب کے علاوہ کاپیاں (نوٹ بکس) رکھنا پڑتی ہیں جبکہ یہ نوٹ بکس کلاس رومز میں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اِسی طرح بچوں کو ہر مضمون کی الگ الگ ’نوٹس بکس‘ ساتھ لانے کو کہا جاتا ہے جن کا مجموعی وزن سکول بیگ وزن کے 60فیصد سے زائد کے مساوی ہوتا ہے چونکہ سال کے 52 ہفتوں میں تعلیمی سال مجموعی طور پر 30 سے 36 ہفتوں پر مشتمل ہوتا ہے اِس لئے ہفتہ وار یا مہینہ ڈائری کی طرز ’نوٹس بکس‘ تشکیل دی جا سکتی ہیں یوں تدریسی نظام Modular System پر منتقل ہو جائے گا اُور سال کے آغاز پر ہی طے ہو جائے گا کہ بچوں کو کس ہفتے یا کس مہینے کون کون سے اسباق‘ کس باقاعدگی سے پڑھنا ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا میں سکول بیگ سے متعلق مذکورہ قانون سازی کے مطابق نرسری کلاس کا سکول بیگ ڈیڑھ کلو گرام اُور پہلی کلاس کا سکول بیگ قریب ڈھائی (2.4) کلوگرام سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ دوسری سے پانچویں کلاس کا سکول بیگ 5.3 کلوگرام جبکہ چھٹی سے دسویں کلاسیز کا سکول بیگ 5.4کلوگرام سے 6کلوگرام ہونا چاہئے۔ حسب قانون گیارہویں اُور بارہویں کلاسیز کے بیگ کا وزن زیادہ سے زیادہ 7کلوگرام ہونا چاہئے۔ سکول بیگز کے وزن کی صورت ”کھلے عام“ قانون کی خلاف ورزی کا خاتمہ ہونا چاہئے۔

تعلیمی اداروں سے جڑی تیسری مشکل کا سرسری بیان اُور تعلق طلبہ کی آمدورفت کے پرہجوم ذرائع سے ہے۔ ٹریفک پولیس پشاور نے سکول ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی چھتوں‘ جنگلوں پر بچوں کو بٹھانے یا اُنہیں لٹک کر اُور کھڑا ہو سفر کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کاروائی کا آغاز کر رکھا ہے اُور اِس قسم کی کاروائیاں (کریک ڈاو¿نز) ہر سال کئی مرتبہ دہرائے جاتے ہیں لیکن یہ کاروائی بھی بالکل اُسی طرح ادھوری چھوڑ دی جاتی ہے جس طرح اصول وضع کیا گیا تھا کہ کوئی بھی پیٹرول پمپ بنا ہیلمٹ موٹرسائیکل سوار کو پیٹرول فروخت نہیں کرے گا اُور اِس پر چند دن یا ہفتے عمل درآمد بھی ہوا لیکن خاطرخواہ سختی نہیں دکھائی گئی۔ اِسی طرح اندرون و بیرون شہر کے بازاروں سے تجاوزات ختم کرنے کی مہمات چلائی گئیں جو ٹریفک کی روانی کو متاثر کرتی تھیں لیکن نہ تو مستقل و غیرمستقل تجاوزات ختم ہوئیں اُور نہ ہی شہر کے مصروف ترین بازاروں میں ٹریفک کی روانی بحال ہو سکی۔ صوبائی حکومت نے پچاس کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے ’ثقافتی راہداری‘ قائم کی تاکہ ملکی و غیرملکی سیاح پشاور کی سیر کے دوران قریب نصف کلومیٹر پر مشتمل ایک خاص راہداری (گھنٹہ گھر سے گورگٹھڑی براستہ محلہ سیٹھیان) سے اپنے ساتھ یہاں کی تاریخ و ثقافت کی خوشگوار یادیں اُور مشاہدات لیجا سکیں لیکن اِس ثقافتی راہداری کے ایک سرے (گھنٹہ گھر) پر مچھلی منڈی بن گئی اُور دوسرے سرے (بازار کلاں) پر ہر دکاندار اپنی حدود سے تجاوز کر کے قابض ہو چکا ہے۔ اِن دکانداروں نے ثقافتی راہداری کے ایک بڑے حصے کو اپنے لئے بطور پارکنگ مختص کر رکھا ہے جبکہ گورگٹھڑی کے مشرق (بیگم شہاب الدین سکول) اُور مغرب و جنوب (ضیا جعفری روڈ) پر اربوں روپے کی اراضی سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر قبضہ کی گئی ہے جس پر متعلقہ ٹاون ون انتظامیہ نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اندیشہ ہے کہ محلہ تیلیان سے گنج روڈ تک کی یہ پٹی راتوں رات گھروں میں شامل کر لی جائے گی اُور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اربوں روپے مالیت کی جائیداد کا قبضہ مستقل ہو جائے گا۔ گورگٹھڑی کے اِس مغربی و جنوبی اُور مشرقی حصوں میں کارپارکنگ بنا کر متصل ثقافتی راہداری کو صرف پیدل راہداری کے لئے مختص کیا جا سکتا ہے جو ثقافتی راہداری قائم کرنے کی سوچ اُور مقصد کا مرکزی نکتہ تھا۔

پشاور کے نئے ’چیف ٹریفک آفیسر‘ نے ’ایجوکیشن ٹیم‘ کو متحرک کیا ہے اُور اُن کے دباو پر سکول وینز میں گنجائش سے زائد طلبہ کو بٹھانے کی پاداش میں سینکڑوں ڈرائیوروں کو جرمانے کئے گئے ہیں لیکن جب ٹریفک پولیس سربراہ کے دفتر سے رجوع کیا گیا تو اُن کے پاس ایسے اعدادوشمار موجود نہیں کہ پشاور کے وہ کون کون سے تعلیمی ادارے ہیں جنہوں نے طلبہ کو نجی ٹرانسپورٹ کے حوالے کر رکھا ہے اُور والدین (صارفین) کی شکایات یہ بھی ہیں کہ نجی سکولوں نے اپنے ہی ٹرانسپورٹ نظام کو مختلف ناموں سے زیادہ منافع کی لالچ میں نجی شعبے کے حوالے کر رکھا ہے۔ اِس سلسلے میں بطور صارفین والدین کے 2 مطالبات ہیں پہلا یہ کہ سکولوں میں موجود کینٹینز (کھانے پینے کی سہولیات) سکول انتظامیہ کی ذمہ داری ہونی چاہئے تاکہ بچوں کو ناقص المعیار اشیائے خوردونوش فروخت نہ ہوں اُور دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ماہانہ کروڑوں روپے منافع کمانے والے سکولوں کو ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری پر قائل و مائل کیا جائے اُور اُنہیں بچوں کی گھر سے سکول اُور سکول سے واپس گھر باحفاظت و باسہولت پہنچنے کی ذمہ داری کا احساس کا دلایا جائے۔ تعلیمی اداروں کے معاملات صرف پشاور ہی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں بھی مجبور والدین کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں جن سے نمٹنے کی بہترین صورت یہی ہے کہ ”مقامی مسائل کا مقامی حل“ تلاش کیا جائے اُور تعلیمی اداروں سے متعلق ڈویژنز و اضلاع کی سطح پر قواعدوضوابط وضع کئے جائیں۔

....

Editorial Page Daily Aaj Peshawar / Abbottabad Dec 24, 2022

Clipping from Editorial Page Peshawar / Abbottabad Dec 24, 2022


Friday, October 28, 2022

18th Urs Mubarak: Molvee Gee RA.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

مولوی جیؒ: پھرنے لگی آنکھوں میں وہ صورت ِنورانی!

آستانہء عالیہ حسنیہ قادریہ‘ کوچہ آقا پیر جان رحمة اللہ علیہ اندرون یکہ توت گیٹ پشاور کی رونقیں تادیر شاد و آباد (سلامت) رہیں جہاں جشن کے جاری سماں کی مناسبتوں میں پیران ِپیر‘ محبوب سبحانی‘ غوث الاعظم‘ شیخ السید عبدالقادر جیلانی بغدادی رحمة اللہ علیہ سے منسوب بڑی گیارہویں شریف (گیارہ ربیع الثانی) کی آمد آمد ہے‘ جس کی تیاریاں یکم ربیع الثانی کے انتظار میں دن گننے والے چاند رات ہی سے شروع کر دیتے ہیں اُور سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا تبادلہ گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے۔ پشاور میں یوں تو ”بڑی گیارہویں شریف (ماۂ ربیع الثانی)“ کی مناسبت سے خطبات ِسیرت‘ حمد و نعت اُور منقبت کی بابرکت دعائیہ محافل و پرشکوہ اجتماعات کا انعقاد ہوتا ہے تاہم خیبرپختونخوا میں ’گیارہویں شریف‘ کا فقیدالمثال (بڑا) اجتماع ’آستانہ عالیہ حسنیہ قادریہ‘ پر منعقد ہوتا ہے جو گیارہ روز جاری رہنے کے بعد بارہویں ربیع الثانی‘ نماز فجر کی ادائیگی اُور قبل ازیں بیعت پر اِختتام پذیر ہوتا ہے اُور ہر سال سینکڑوں نئے مرید حلقہ تصوف میں داخل ہوتے ہیں جس کی 4 منزلیں بصورت ”شریعت‘ طریقت‘ معرفت اُور حقیقت“ ہیں۔ اِن سب کی بنیادی چیز شریعت ہے اور جو چیز شریعت سے متصادم ہے وہ بلا شک و شبہ غلط ہے۔ شاید ہی ملک کے کسی بھی حصے یا بیرون ملک ’بڑی گیارہویں شریف‘ کے سلسلے میں اِس قدر طویل اُور باادب محافل کا اہتمام کیا جاتا ہو۔ یکم سے گیارہ ربیع الثانی ہر (صبح پانچ بجکر تیس منٹ پر) ’آستانہ عالیہ‘ پر نماز فجر کی باجماعت ادائیگی کے ساتھ ’ختم غوثیہ شریف‘ کا انعقاد ہوتا ہے۔ یہ ”ختم شریف“ مخصوص قرآنی اذکار و اوراد اُور وظائف کی اجتماعی تکرار یوں تو دیگر مہینوں میں بھی ہوتی ہے لیکن جو روحانیت اُور سرور ربیع الثانی میں ختم غوثیہ پڑھنے اُور اِس کے اختتام پر دعا میں شرکت کا ہے‘ وہ دلی راحت و سکون کسی دوسرے مہینے اِس درجہ محسوس نہیں ہوتا۔ اِس سال (1444ہجری) ربیع الثانی کے چاند کو چار چاند لگانے والی دوسری نسبت بھی یکساں عظیم المرتبت ہے۔ یکم ربیع الثانی سے ہر دن بالترتیب ’گیارہ ربیع الثانی (بڑی گیارہویں شریف)‘ تک جاری ختم غوثیہ کے سلسلے میں آج بروز ہفتہ (2 ربیع الثانی چودہ سو چوالیس ہجری بمطابق اُنتیس اکتوبر دوہزار بائیس) پیرطریقت‘ رہبرِ شریعت‘ امام الفقراء‘ ہادی و مہدی‘ قبلہ عالم‘ قبلہ سیّد محمّد امیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی رحمة اللہ علیہ کا 18واں ’عرس مبارک‘ پوری عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ مولوی جیؒ کے ’دست ِحق پرست‘ پر ’سلسلۂ عالیہ قادریہ‘ میں شامل ہونے والے مریدوں کا اظہار ِمسرت و تشکر دیدنی ہے‘ جن کی آنکھوں میں پیران ِپیرؒ سے نسبت کی چمک اُور قبلہ مولوی جیؒ سے اظہار ِمحبت آنسوؤں کی صورت چھلک رہا ہے کہ یہ وصل و فصل (قرب و جدائی) کے لمحات وقتی راحت کا باعث ہونے کے ساتھ‘ حلاوت ِایمانی کی صورت دائمی تاثیر بھی رکھتے ہیں۔ بقول بیدم شاہ وارثی ”پھر دل میں میرے آئی‘ یاد ِشاہ¿ جیلانیؒ : پھرنے لگی آنکھوں میں وہ صورت ِنورانی ؒ .... شاہوں سے بھی اَچھا ہوں‘ کیا جانے کیا‘ کیا ہوں : ہاتھ آئی ہے قسمت سے‘ در کی ترے دربانی۔“

پشاور کی سرتاج روحانی‘ علمی ادبی‘ سیاسی اُور سماجی شخصیت مولوی جی رحمة اللہ علیہ نے ’10رمضان المبارک 1337ہجری بمطابق 27 اکتوبر 2004ئ‘ اِس دار ِفانی سے پردہ فرمایا اُور اِن ہجری و عیسوی تاریخوں کی مناسبت سے آپؒ کا ’عرس مبارک‘ سال میں دو مرتبہ منایا جاتا ہے‘ جس کی الگ حکمتوں میں یہ بابرکت پہلو بھی پوشیدہ ہے کہ آپؒ کی یادآوری کا سلسلہ یوں تو ہر دن رہتا ہے لیکن روائتی طور پر سال میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ آپؒ کے عرس مبارک کے بہانے عقیدت مند فیوض و برکات سمیٹتے ہیں۔”یاد اُن کی سرور کی دنیا .... یاد اُن کی شعور کی دنیا۔“

فقہ حنفی (اہل سنت و الجماعت) کے ہاں احادیث کی چھ مستند کتب کے مجموعے کو ”صحاح ستہ“ کہتے ہیں۔ اِن میں صحیح بخاری (اِمام بخاریؒ)‘ صحیح مسلم (اِمام مسلمؒ)‘ جامع ترمذی (اِمام ترمذیؒ)‘ سنن اَبو داؤد (امام اَبو داؤدؒ)‘ سنن نسائی (اِمام نسائیؒ) اُور سنن ابنِ ماجہ (اِمام ابنِ ماجہؒ) شامل ہیں۔ حضرت ابو الحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم بن ورد بن کوشث القشیری النیساپوری رحمة اللہ علیہ (المتوفی 261 ہجری) کی مرتب کی گئی ’صحیح مسلم‘ میں ساڑھے سات ہزار (بشمول تکرار کے ساتھ) احادیث ِمبارکہ ذخیرہ ہیں اُور اِس مجموعے میں شامل ایک حدیث ِمبارکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (ترجمہ) ”3 چیزیں جس شخص میں ہوں گی وہ اِن کی وجہ سے ’اِیمان کی حلاوت‘ پائے گا۔ پہلی یہ کہ‘ اللہ اُور اُس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اُسے ہر شے سے زیادہ محبوب ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ‘ اُسے کسی شخص سے محبت صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہو گی یعنی اُسے دنیا کی کوئی غرض مطلوب نہیں ہو گی اُور تیسرا یہ کہ‘ جب اللہ تعالیٰ شان سبحانہ نے اُسے کفر سے نجات دے دی تو پھر دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کو بالکل اُسی طرح ناپسند کرے گا‘ جس طرح اِس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اُسے آگ میں پھینک دیا جائے۔“ مفسرین اِس حدیث شریف کی تفسیر میں کفر سے ایمان کی طرف لوٹنے کی تشریح فی زمانہ ’توبہ کی توفیق‘ سے کرتے ہیں۔ اہل تصوف (بالخصوص سلسلۂ عالیہ قادریہ) کے ہاں اِنہی 3 رہنما اصولوں پر زور دیا جاتا ہے اُور پیر و مرشد اِنہی 3 تدریسی پہلوؤں سے مریدوں کی اپنے قول و فعل سے تعلیم و تربیت (تبلیغات) فرماتے ہیں‘ جسے علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ نے ’مہر و وفا (محبت اُور خلوص)‘ اُور ’حریم کبریا (عظمت ِخداوند تعالیٰ کا مقام)‘ سے تعبیر کیا ہے ”دلوں کو مرکز ِمہر و وفا کر .... حریم کبریا سے آشنا کر۔“ آشنائی کا یہ سلسلۂ رشد و ہدایت مولوی جی رحمة اللہ علیہ کی نظرکرم و عنایات سے آج بھی بصورت ِرہنمائی و سرپرستی میں جاری ہے جس کی سیادت خانوادۂ عالیہ (غوث الاعظمؒ) کے چشم و چراغ‘ جانشین و سجادہ نشین سّید نور الحسنین قادری گیلانی المعروف سلطان آغا حفظ اللہ اُور آپ علیہ الرحمہ کے فرزند ارجمند شہزادہ غوث الوریٰ سیّد مسعود الزمان گیلانی حفظ اللہ تعالیٰ بہ احسن کر رہے ہیں۔ منجملہ مریدین بدست دعا ہیں کہ اِس خانوادہ¿ عالیہ کے ہر فرد کی صحت و سلامتی اُور بلند درجات کی مزید سربلندی کے ساتھ رب کریم اِس پرفتن و پرفریب‘ دور میں ’سلسلہء عالیہ حسنیہ قادریہ‘ کے جملہ مریدین (روحانی شاگردوں) اُور محبین (محبت و عقیدت مندوں) کی غوث پاک کے گھرانے (در ِاقدس) سے وابستگی قائم و دائم (سلامت) رکھے اُور فیوض و برکات کی بارش کے ساتھ اِس کے سمیٹنے کی ہماری توفیقات دراز فرمائے (آمین) بصورت دیگر (خدانخواستہ) خسارہ ہی خسارہ ہے کہ ”دراز ِدست کو دست عطا کہیں نہ ملا : بخیل ِشہر تھا‘ حاجت روا کہیں نہ ملا .... گرا خود اپنی نظر سے‘ تو پوچھتا پھر کون : خودی گنوائی تو مجھ کو‘ خدا کہیں نہ ملا (جمیل قریشی)۔“

....



Tuesday, August 16, 2022

Byelections or Referendum?

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

ضمنی انتخاب یا ریفرنڈم؟

بیس ستمبر 2020ء: پاکستان پیپلزپارٹی کی میزبانی میں ’کل جماعتی کانفرنس‘ میں 26 نکاتی قرارداد منظور کرتے ہوئے حزب اختلاف اتحاد ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM)‘ کا قیام عمل میں آیا اُور اِس ’موومنٹ‘ کے زیراہتمام ’سولہ اکتوبر 2020ء‘ کے روز گوجرانوالہ میں پہلے جلسۂ عام کا انعقاد کیا گیا۔ اِبتدا میں ’پی ڈی ایم‘ گیارہ سیاسی جماعتوں (عوامی نیشنل پارٹی‘ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل‘ جمعیت اہل حدیث‘ جمعیت علمائے اسلام (فضل)‘ جمعیت علمائے پاکستان (نورانی)‘ نیشنل پارٹی (بزنجو)‘ مسلم لیگ (نواز)‘ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (محمود اچکزئی)‘ قومی وطن پارٹی اُور جمہوری وطن پارٹی) پر مشتمل تھی جبکہ بعدازاں 3 دیگر سیاسی جماعتوں (بلوچستان عوامی پارٹی‘ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اُور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ) نے ’پی ڈیم ایم‘ میں شمولیت کر لی۔

دس اپریل 2022ء: تحریک انصاف کے سربراہ (چیئرمین) عمران خان کے خلاف ’پی ڈی ایم‘ کی تحریک ِعدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد اُور شہباز شریف کے بطور وزیراعظم حلف اُٹھانے (گیارہ اپریل) سے قبل تحریک انصاف سے قومی اسمبلی سے کنارہ کشی کر لی اُور تحریک سے تعلق رکھنے والے 123 قومی اسمبلی اراکین نے اپنی اپنی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے سے اسپیکر قومی اسمبلی کو مطلع کر دیا۔ ’گیارہ اپریل‘ کے روز قومی اسمبلی کی جانب سے مستعفی ہونے والے اراکین کے ارسال کردہ خطوط میں کہا گیا کہ وہ اجتماعی استعفوں کی فرداً فرداً تصدیق کے لئے اسپیکر سے رابطہ کریں لیکن مقررہ تاریخوں (6 سے 10جون) کے درمیان تحریک انصاف کے کسی بھی رکن قومی اسمبلی نے اسپیکر کے سامنے پیش ہو کر مستعفی ہونے کی تصدیق یا انکار کو ضروری نہیں سمجھا۔

اٹھائیس جولائی 2022ء: تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے اجتماعی استعفوں کے 109 دن بعد‘ تحریک کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کا اعلان قومی اسمبلی کے ٹوئیٹر اکاونٹ (@NAofPakistan) سے کیا گیا۔ مذکورہ اعلان کے مطابق اسپیکر راجہ پرویز اشرف (@RPAPP) نے 2 خواتین سمیت 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے آئین پاکستان کی شق 64(1) اُور قومی اسمبلی قواعد و ضوابط 2007ء کے تحت منظور کئے تاہم مذکورہ اعلان میں یہ نہیں کہا گیا کہ مرحلہ وار استعفے کیوں منظور ہوئے‘ سب استعفے اکٹھے منظور کیوں نہیں کئے گئے اُور جن گیارہ اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہوئے ہیں اُس کے لئے کس ضابطے یا اصول کو پیش نظر (بنیاد) رکھا گیا ہے۔ یہ سُوال بھی اپنی جگہ جواب طلب اُور حیرت کا باعث رہا کہ تحریک انصاف کے باقی 120 اراکین قومی اسمبلی کی قسمت کا فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا اُور اِن کے استعفے مستقبل قریب میں قبول کئے جائیں گے یا نہیں؟

پانچ اگست 2022ء: الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی 9 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لئے اُمیدواروں سے کاغذات نامزدگی طلب جبکہ پولنگ کے لئے اتوار (25 ستمبر 2022ء) کا دن مقرر کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے جنرل نشستوں پر 9 جبکہ خواتین کے لئے مختص نشستوں پر 2 اراکین کے استعفے قبول کرنے کے بعد اُن کے نام (30 جولائی 2022ء کے روز) قومی اسمبلی اراکین کی فہرست سے خارج (ڈی نوٹیفائی) کر دیئے گئے۔

چھ اگست 2022ء: تحریک انصاف نے ’اسلام آباد ہائی کورٹ‘ سے الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کے خلاف رجوع کیا اُور عدالت سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ”ضمنی انتخابات کا جاری کردہ شیڈول معطل کیا جائے کیونکہ عدالت پہلے ہی تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری سے متعلق مقدمے کی سماعت کر رہی ہے اُور اِس سلسلے میں 4 اگست کی سماعت کے بعد فریقین کو نوٹسیز جاری ہو چکے ہیں‘ جن کے بارے میں باخبر ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول جاری کیا ہے اِس لئے ’پانچ اگست‘ کا شیڈول معطل کیا جائے۔“ دوسری طرف ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے چند گھنٹے بعد (پانچ اگست شام 7 بج کر 3 منٹ پر) ’عمران خان‘ نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ (@ImranKhanPTI) سے اعلان کیا کہ تمام (9) نشستوں پر وہ بذات خود بطور اُمیدوار انتخابی مقابلے میں حصہ لیں گے یوں یہ ضمنی انتخابات بنیادی طور پر …… 1 (عمران خان) بمقابلہ 14 سیاسی جماعتیں (پی ڈی ایم) …… پاکستان کی سیاسی تاریخ کا انتہائی غیرمعمولی انتخابی معرکہ ثابت ہوگا جس میں حصہ لینے کے لئے دونوں فریقین نے آستینیں اُوپر کر لی ہیں اُور امر واقعہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اِس سے قبل کبھی بھی ضمنی انتخابات اِس قدر اہم اُور قابل ذکر و زیربحث نہیں رہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ (چیئرمین) عمران خان نے ضمنی انتخاب کی آخری تاریخ ختم ہونے سے قبل ’حسب ِاعلان‘ 9 انتخابی حلقوں (کراچی کے تین (این اے 246این اے 237 این اے 239)‘ مردان (این اے 22)‘ چارسدہ (این اے 24)‘ پشاور (این اے 31)‘ کرم (این اے 45)‘ فیصل آباد (این اے 108) اُور ننکانہ (این اے 118) کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ خاص نکتہ یہ بھی ہے کہ تحریک ِانصاف کو انتخابی کامیابی اِس حد تک یقینی دکھائی دے رہی ہے کہ اِس نے خواتین کی مختص نشستوں پر 2 کی بجائے 3 خواتین (شندانہ گلزار‘ روہیلہ حامد اُور مہوش علی) کو نامزد کیا ہے۔ 

بنیادی بات یہ ہے کہ تحریک ِانصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے ضمنی انتخاب کی ہر نشست پر تن تنہا بطور اُمیدوار انتخاب لڑنے کے فیصلے نے ’ضمنی انتخاب‘ کو ’ریفرنڈم‘ میں تبدیل کر دیا ہے جس کا نتیجہ (پولنگ ڈے‘ پچیس ستمبر) اگر ’تحریک انصاف کے حق میں آیا تو اِس سے ملک میں ’صدراتی نظام‘ کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ صدراتی نظام حکومت میں قومی فیصلے فرد واحد (صدر مملکت) کے حکمنامے سے اُور فوری نافذ العمل ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کے ’3 سال 7ماہ 23 دن‘ پر محیط دور ِحکومت (18 اگست 2018ء سے 10 اپریل 2022ء) کے دوران ”صدارتی طرزحکمرانی“ کے حوالے سے قومی سطح پر بحث و مباحثہ متعارف کروایا گیا جس سے اتفاق کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کاروں‘ شریک ِاقتدار قوتوں اُور عوامی حلقوں کی اکثریت نے اِسے پاکستان کے مسائل کا واحد‘ صائب‘ دیرپا اُور قابل عمل حل قرار دیا تھا اُور اِس حوالے سے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی خاصی سنجیدہ کوشش دیکھنے میں آئی تھی لیکن بعدازاں چند تکنیکی و آئینی پیچیدگیوں اُور معاشی و سیاسی حالات کی وجہ سے اِس تصور (آئیڈیا) پر عملاً پیشرفت نہ ہو سکی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 25 ستمبر 2022ء کے روز صرف 9 انتخابی حلقوں کے رائے دہندگان ہی نہیں بلکہ اِن معرکوں پر نظر رکھنے والے کس قسم کے ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اُور بالخصوص مذکورہ ضمنی انتخابات پاکستان میں طرزحکمرانی کے مستقبل کے بارے میں کس سمت کا تعین کرتے ہیں‘ جسے تحریک کے قائدین پہلے ہی ’یقینی کامیابی کی صورت حقیقی آزادی‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اِن ضمنی انتخابات سے تحریک انصاف کا مستقبل اُور لائحہ عمل بھی بڑی حد تک واضح ہو جائے گا جس کی ’نئے پاکستان‘ کی تخلیق و تعمیر اُور تعبیر کے لئے بائیس سالہ سیاسی جدوجہد نہ صرف نئی تصوراتی بلندی کو چھو لے گی بلکہ یہ پاکستان میں سیاست کا رخ بھی شاید ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بدل کر کے رکھ دے۔ ”میں پیروی اہل سیاست نہیں کرتا …… اِک راستہ اِن سب سے جدا چاہئے مجھ کو (عرش صدیقی)۔“

Saturday, August 6, 2022

Way of blessed Muharram

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

.... محتاط عادات و عبادات 

کورونا وبا سے خبردار کرتے ہوئے ”نیشنل اِنسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH)“ نے محرم الحرام کی مناسبت سے منعقد ہونے والے اجتماعات و تقاریب کے شرکا پر زور دیا کہ وہ ’کوویڈ احتیاطی تدابیر (SOPs)‘ پر عمل درآمد کریں بالخصوص ایسے پرہجوم مقامات پر زیادہ دیر ٹھہرنے سے گریز کیا جائے جن کا انعقاد اندرون خانہ (اِن ڈور) مقامات پر ہو۔ ’ہیلتھ پروٹوکول‘ پر عمل درآمد اُور سماجی دوری اختیار کرنے سے متعلق یہ ہدایات حالیہ چند ہفتوں کے دوران کورونا جرثومے (وائرس) سے پھیلنے والی بیماری (انفیکشن) میں غیرمعمولی (تشویشناک) اضافے کے سبب جاری کی گئی ہیں۔ ’این آئی ایچ‘ کے ٹوئیٹر اکاو¿نٹ (@NIH_Pakistan) سے جاری ہونے والے پیغام میں کورونا وبا کی انتہا درجے صورت کو ناقابل لاعلاج قرار دیا گیا ہے‘ جس سے محفوظ رہنے کے لئے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اُور ماسک پہننے اُور کورونا ویکسینیشن مکمل کروانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ یکم محرم الحرام کے روز جاری کردہ اعدادوشمار سے ظاہر ہے کہ کورونا ”3.29 فیصد“ کی شرح سے پھیل رہا ہے یعنی ہر 100 افراد میں سے ساڑھے تین افراد کورونا وبا کا شکار پائے گئے ہیں ملک بھر میں 661 کورونا مریض سامنے میں سے ایک کی موت اُور 171 انتہائی نگہداشت مراکز میں زیرعلاج ہیں۔ فروری دوہزار اُنیس سے پاکستان میں مجموعی طور پر ’ساڑھے پندرہ لاکھ (1.56ملین) سے زائد افراد کورونا سے متاثر جبکہ کورونا سے ساڑھے تیس ہزار (30,503) افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ قومی سطح پر ماہرین صحت کو اندیشہ ہے کہ محرم الحرام کے پہلے عشرے کے بعد کورونا وبا پھیلنے کی زیادہ شرح سامنے آئے گی کیونکہ کورونا سے بچاو¿ کے بارے میں بالعموم عوامی رویئے حساس نہیں ہیں۔

محرم الحرام کے دوران ”محتاط عادات و عبادات“ کے حوالے سے خیبرپختونخوا کے محکمہ¿ صحت نے بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے کورونا کی پہلی اُور دوسری ویکسینیشن مکمل کر لی ہے اُور اُنہوں نے پہلی بوسٹر ڈوز (تیسرا ٹیکہ) بھی لگوا لیا ہے وہ فی الفور کسی بھی قریبی ویکسینیشن سنٹر سے دوسری بوسٹر ڈوز (چوتھا ٹیکہ) لگوا لیں۔ ”کورونا وائرس بوسٹر جابس“ کہلانے والے اِن ٹیکوں کے لئے صوبائی سطح پر خصوصی مہم پچیس جولائی سے جاری ہے اُور پچیس اگست کے روز ختم ہو جائے گی۔ قومی اُور صوبائی سطح پر محکمہ¿ صحت کے فیصلہ ساز کورونا وبا کی نئی لہر کے حوالے سے اِس لئے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ اِس متعدی بیماری کی کئی نئی اقسام ظاہر ہو رہی ہیں اُور اِس صورتحال میں صرف وہی لوگ کورونا وبا کے انتہائی مضر اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں‘ جن کے جسم میں نئی اقسام کے جرثوموں کے خلاف قوت مدافعت موجود ہو اُور صرف اِسی کورونا کے پھیلاو¿ کو روکا جا سکتا ہے۔ 

”نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر“ کی جانب سے بھی ’کورونا وبا‘ کے بارے میں نئے رہنما اصول جاری کئے گئے ہیں جن کے مطابق ملک کے طول و عرض میں سرکاری ہسپتال اُور ٹیکہ جات مراکز (ویکسی نیٹرز سنٹرز) مکمل حفاظتی ٹیکے لگانے والے افراد کو پہلی اور دوسری بوسٹر خوراک دے رہے ہیں۔ کوشش یہ ہے کہ بارہ سال سے زائد عمر کے 80فیصد آبادی کو کورونا ٹیکہ لگایا جائے۔ ایک ماہ دورانئے پر مشتمل جاری خصوصی ویکسینیشن مہم‘ امیونائزیشن توسیعی پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت کورونا کا دوسرا ٹیکہ لگوانے کے چھ ماہ بعد پہلی بوسٹر شاٹ اُور اِس کے چار ماہ بعد دوسری بوسٹر لینے کی ضرورت ہے۔ توجہ طلب ہے کہ ماسوائے ضلع چارسدہ خیبرپختونخوا کے کسی بھی ضلع میں 80فیصد کورونا ویکسینیشن مکمل کرنے کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ اِسی طرح خیبرپختونخوا کے صرف چار اضلاع ایسے ہیں جہاں کے 30فیصد رہائشیوں نے پہلی بوسٹر ڈوز لگوا رکھی ہے لیکن اُن کی اکثریت دوسری بوسٹر ڈوز لگوانے کے لئے نہیں آ رہی جبکہ وہ دوسری بوسٹر ڈوز لگوانے کے اہل ہو چکے ہیں۔ محکمہ¿ صحت نے ’ہیلتھ مراکز‘ کے علاو¿ہ گھر گھر جا کر بھی کورونا ویکسینیشن لگانے کی مشق شروع کر رکھی ہے اُور کوشش کی جا رہی ہے کہ یومیہ 80 ہزار ’کورونا ٹیکے‘ لگانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ خیبرپختونخوا کے لئے کورونا ویکسینیشن پہلے ہی وافر مقدار (حسب ضرورت) حاصل کر لی گئی ہے اُور حکام کے مطابق ضرورت پڑنے پر مزید ویکسین حاصل کی جا سکتی ہے۔ محکمہ¿ صحت کا ہدف اِس بات کو یقینی بنانا ہے کہ خیبرپختونخوا کے تمام یعنی ’چھتیس اضلاع‘ میں اکثریت کی زندگی کو ’کورونا ویکسینیشن‘ کے ذریعے محفوظ بنایا جا سکے اُور اِس مقصد کے لئے ایک ہزار سے زیادہ ویکسینیشن مراکز قائم کئے گئے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پولیو کی طرح کورونا وبا کے بارے میں بھی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں‘ جن کے ازالے کی کوششیں سوفیصدی کامیاب نہیں ہو رہیں اُور خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں ایسے لوگ موجود ہیں‘ جو کورونا کی ابتدائی (پہلی) ویکسین تک کروانے کو تیار نہیں ہیں اُور اِسے ایک فرضی وبا سمجھا جا رہا ہے۔ کورونا ویکسینیشن نہ کروانے کی دوسری وجہ یہ غلط تاثر ہے کہ ”کورونا وبا ختم ہو گئی ہے“ حالانکہ اِس وبا سے متاثرین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کورونا ویکسینیشن کے بارے میں غلط اُور گمراہ کن معلومات یا نظریات پھیلانے والے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں جہاں من گھڑت ماہرین کے ناموں اُور تحقیق کا حوالہ دے کر سادہ لوح سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اِس سلسلے میں سوشل میڈیا صارفین ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ایسے کسی پیغام کو پھیلانے میں آلہ¿ کار نہ بنیں‘ جس میں کورونا وبا کو فرضی یا اِس کی ویکسینیشن کو مضرصحت قرار دیا گیا ہو۔ ذہن نشین رہے کہ پہلا اور دوسرا بوسٹر شاٹ (ٹیکہ جات کورس) انتہائی اہم ہے اُور صرف یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے جسمانی قوت مدافعت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ صورتحال کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں کورونا ویکسینیشن لگوانے کی شرح ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے کم جبکہ کورونا سے اموات کی شرح زیادہ ہے اُور اگر کورونا کی نئی اقسام کو خاطر میں نہ لایا گیا تو اندیشہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کی نئی اقسام کے حملے اُور وبا کی چھٹی لہر کے دوران متاثرہ مریضوںکی تعداد زیادہ ہوگی۔

....

Clipping from Daily Aaj Peshawar Dated 6 August 2022 Saturday


Friday, August 5, 2022

Muharram ul Harram, as Collective & Practical Responsibility

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

اِجتماعی ذمہ داری

محرم الحرام کے مہینے کی نسبت جس عظیم قربانی سے ہے‘ اُس کو خراج تحسین و عقیدت پہنچانے کا عملی تقاضا یہ ہے کہ نہ صرف (جاری) ماۂ محرم الحرام کی حرمت بلکہ اِن خصوصی ایام میں اِنسانی جان کی عزت و حرمت سے جڑی ”اجتماعی اُور ایک انتہائی بنیادی ذمہ داری“ کا ادراک کیا جائے اُور محرم الحرام کو صرف تذکرے کی حد تک محدود نہ سمجھا جائے۔

 ”کربلا شناسی“ کا عنوان جن سنجیدہ حلقوں میں سارا سال زیربحث رہتا ہے اُن کے ہاں شہدائے کربلا کی استقامت (قیام و مزاحمت)کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاتی ہے کیونکہ کربلا میں 2 طرح کے واقعات بیک وقت رونما ہوئے۔ پہلی قسم کے واقعات وہ ہیں جن کا سامنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اُور آپؓ کے جانثاروں کو پانی کی بندش سے لیکر منصب ِشہادت پر فائز ہونے تک مصائب و بے حرمتی کی صورت برداشت کرنے پڑے جبکہ آپؓ آخری وقت تک دین کے دفاع پر ڈٹے رہے۔ خون خرابے سے گریز کی کوشش کرتے رہے لیکن جب یہ کوششیں رنگ نہ لائیں تو پھر اپنے خون سے ”نقش الا اللہ بر صحرا نوشت“ کرتے ہوئے ”دین است حسینؓ‘ دیں پناہ است حسینؓ .... حقا کہ بنائے لا الہ است حسینؓ“ کی بلند منزل پر فائز ہوئے۔

سن 61 ہجری (بمطابق 680 عیسوی) کربلا میں دوسری قسم کے واقعات وہ پیش آئے‘ جن کا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اُور آپؓ کے جانثاروں نے صبرواستقامت کی ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے سامنا کیا۔

اصولاً جو کچھ حضرت اِمام حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے عمل کی صورت سامنے آیا وہ زیادہ اہم ہے اُور اُسی کی پیروی ہونی چاہئے جیسا کہ مشکل سے مشکل ترین حالات میں بھی دین کی سربلندی و حفاظت کے لئے شریعت پر عمل‘ جیسا کہ نماز کی بروقت اُور بہرصورت ادائیگی‘ نماز کا قیام‘ قرآن مجید کی تلاوت‘ ذکر و اذکار اُور اللہ تعالیٰ کا شکر چند ایسے اعمال ہیں‘ جنہیں لازماً اختیار کرنے کا درس دیا گیا ہے اُور ”حی علی الفلاح و حی علی خیر العمل“ کی انہی مثالوں پر عمل پیرا ہو کر ہر مسلمان دائمی کامیابی و کامرانی پا سکتا ہے۔

محرم الحرام کے لئے حفاظتی انتظامات ”حساس معاملہ“ ہے جس کا تعلق ’قومی سلامتی‘ سے جڑا ہوا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں محرم الحرام کے آغاز سے قبل اِس کے پرامن انعقاد کے لئے ”تازہ دم کوششوں“ کا ”ازسرنو آغاز“ کیا جاتا ہے۔ جملہ حکومتی اداروں کی کوشش یہی ہوتی ہے پہلے عشرے (یکم سے دس) محرم الحرام کے ایام پرامن طریقے سے گزریں یقینا اِس عرصے میں درپیش ’سیکیورٹی چیلنجز‘ اُور مذہبی آزادی جیسے بنیادی انسانی حق کی حفاظت نہیں۔

محرم کے دوران ملک بھر میں منعقد ہونے والے ہزاروں اجتماعات‘ مجالس اور ماتمی جلوسوں کا خوف و دہشت سے محفوظ انعقاد اپنی جگہ اہم ہے کیونکہ یہ مذہبی اجتماعات خاص نشانے پر رہتے ہیں اُور پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش کے لئے محرم کی آڑ میں وار کیا جاتا رہا ہے۔ 1980ءکی دہائی میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا جو ہنوز جاری ہے اُور اِس سے نمٹنے کے لئے ’شعلہ بیاں مقررین‘ کی نقل و حرکت محدود کی جاتی ہے اُور محرم سے قبل اُور محرم کے دوران انتظامیہ علمائے کرام کے ساتھ رابطے میں رہتی ہے تاکہ کسی ایک مسلک کی جانب سے دوسرے مسلک کی دل آزاری نہ ہو لیکن اِس پوری کوشش کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ امن دشمن عناصر کی طرح ’سوشل میڈیا‘ پر بھی نظر رکھی جائے کیونکہ ’سائبر اسپیس‘ کا استعمال کر کے بھی خوف و دہشت پھیلائی جا سکتی ہے۔

محرم الحرام ہو یا کوئی بھی دوسرا مہینہ اُور خصوصی ہوں یا عمومی ایام‘ شرپسندی پر مبنی اشتعال انگیز مواد کی تشہیر (اپ لوڈ) کرنے پر عائد پابندی کا اطلاق زیادہ سختی سے ہونا چاہئے کیونکہ شرانگیزی کی کوئی ایک شکل و صورت نہیں بلکہ یہ روپ بدل بدل کر وار کرتی ہے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اُور خصوصی جرائم کی تحقیقات کرنے والے خفیہ اداروں میں کسی نہ کسی نام سے خصوصی شعبے (سائبر کرائمز ونگ) موجود ہیں‘ جنہیں ریاستی قوانین اُور اِن کی روشنی میں بنائے گئے قواعد کا سہارا بھی حاصل ہے لیکن انٹرنیٹ اُور موبائل فونز کے ذریعے جعل سازی (فراڈ) عام ہے۔ موبائل فون پر مختصر پیغامات (شارٹ میسیجنگ سروس المعروف ایس ایم ایس) کے ذریعے انعامات جیتنے کے بہانے سادہ لوح لوگوں کو آج بھی شکار کیا جاتا ہے۔ اِس جعل سازی کو روکنے کے لئے حکومتی ادارے تو متحرک ہیں لیکن موبائل فون کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں خود کو بری الذمہ بنائے ہوئے ہیں حالانکہ جعل سازی (فراڈ) روکنا صرف حکومتی اداروں ہی کا فرض نہیں بلکہ ایک ”اجتماعی ذمہ داری“ کی صورت یہ کام ہر صارف اُور خدمات فراہم کرنے والے ادارے پر یکساں واجب ہے۔

اجتماعی ذمہ داری کی ذیل میں ”قیامِ امن“ کے لئے کوششیں بھی صرف حکومت اُور حکومتی اداروں کا ’درد ِسر‘ نہیں ہونا چاہئے بلکہ معاشرے کے ہر فرد اُور بالخصوص مذہبی اجتماعات کے منتظمین پر لازم ہے کہ وہ فرقہ واریت کے انسداد کی کوششوں میں صرف وقتی اُور حسب ضرورت شامل نہ ہوں بلکہ اِس کوشش میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اُور اِس کوشش کو مسلسل جاری رکھیں۔ خوش آئند ہے کہ پاکستان میں فرقہ واریت اُور ٹارگٹ کلنگز کے واقعات میں نمایاں کمی کمی آئی ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صورتحال مثالی ہے۔ رواں برس مارچ میں مرکزی شیعہ مسجد‘ کوچہ رسالدار پشاور پر حملہ امن دشمنوں کے عزائم‘ منصوبہ بندی اُور حملہ کرنے کے استعداد کو بھی ظاہر کرتا ہے اُور یہ حقیقت انتہائی تشویشناک و خطرناک ہے کہ ہر دہشت گردی کے بعد اِس کے تانے بانے بیرون ملک تیار کی گئی سازش اُور مقامی سہولت کاروں سے جا ملتے ہیں۔

سرحدی علاقوں کی نگرانی ریاست کی ذمہ داری جبکہ دہشت گردی کے لئے سہولت کاری کرنے والوں پر نظر رکھنا ”اجتماعی ذمہ داری“ میں آتا ہے۔ خفیہ اداروں کو فرقہ وارانہ عناصر اور ان کے ہمدردوں اُور سہولت کاروں کی تلاش دہشت گردی رونما ہونے میں قبل کرنی چاہئے۔

سوشل میڈیا کی نگرانی ہونی چاہئے تاکہ نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد کی تشہیر نہ ہو اُور یہاں بھی ذمہ داری اجتماعی ہے کہ ریاست اور سوشل میڈیا خدمات فراہم کرنے والے ادارے اُور بطور صارفین ہر خاص و عام کو چاہئے کہ ’نفرت انگیزی‘ پھیلانے والوں سے اظہار لاتعلقی کریں۔  اِس موقع پر ہر مسلک کے علمائے کرام‘ وعظین و مبلغین کو بھی چاہئے کہ قومی فریضہ سمجھتے ہوئے ”قیام ِامن“ جیسی اجتماعی ذمہ داری کے حصول کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

....

Clipping from Editorial Page of Daily Aaj Peshawar, 05 August 2022 Friday


Sunday, July 3, 2022

Fish market of Peshawar

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی : مچھلی منڈی

شہری زندگی کے دکھ سکھ شمار کئے جائیں تو پشاور کے اندرون شہر گنجان آباد علاقوں کا المیہ یہ سامنے آئے گا کہ یہاں کے مسائل کا حل تلاش کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوتی ہے۔ انسداد تجاوزات سے لیکر تعمیروترقی تک‘ ہر نیت‘ عزم اُور کوشش کا ایک جیسا مایوس کن نتیجہ سامنے آتا ہے اُور اگر اِس بات پر یقین نہ آئے تو سال 1900ءمیں تعمیر ہونے والے ’گھنٹہ گھر‘ کے اطراف میں دیکھتے ہی دیکھتے قائم ہونے والی ’مچھلی منڈی‘ سے پیدا ہونے والے مسائل و مشکلات کو دیکھا جا سکتا ہے جو بدبو‘ گندگی‘ کیچڑ اُور تجاوزات کا باعث ہے۔ ویسے تو یار لوگ پورے پشاور ہی کو ’مچھلی منڈی‘ قرار دیتے ہیں لیکن حقیقتاً گھنٹہ گھر بازار کی مچھلی منڈی شہر سے باہر منتقل ہونی چاہئے کیونکہ چند برس پہلے تک گھنٹہ گھر بازار کے مقام پر مچھلی فروشوں کی چند ایک دکانیں ہوا کرتی تھیں لیکن اب یہ تھوک (ہول سیل) منڈی کی شکل اختیار کر گیا ہے جس کا نصف کاروبار فٹ پاتھ پر اُور باقی ہتھ ریڑھیوں کی صورت گھنٹہ گھر سے چوک یادگار تک پھیلا ہوا ہے‘ ظاہر ہے کہ اِس قدر لاقانونیت کے درپردہ بدعنوانی چھپی ہوئی ہے‘ ورنہ کسی کی جرات نہیں ہو سکتی کہ کسی دور دراز ضلع سے پشاور وارد ہو کر یہاں کے بازاروں پر قبضہ کر لے!

 کون نہیں جانتا کہ مچھلی فروشوں نے دکانوں کو گوداموں میں تبدیل کر رکھا ہے جہاں دن کے آغاز پر مچھلی کی نیلامی‘ دن کے وسط میں مچھلی کی فروخت اُور دن کے اختتام پر تلی (ڈیپ فرائی) مچھلی ملتی ہے۔ لائق توجہ نکتہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے گھنٹہ گھر سے ملحقہ بازار (ثقافتی راہداری) کو سیاحوں کے لئے پرکشش بنانے کے جامع منصوبے پر ’60 کروڑ‘ جیسی خطیر رقم خرچ کی لیکن یہ ساری کی ساری کوشش رائیگاں ہو چکی ہے اُور مچھلی فروشوں سمیت گھنٹہ گھر سے بازار کلاں تک دکاندار فٹ پاتھ ہڑپ کر چکے ہیں جبکہ سڑک کے دونوں اطراف پر آٹو رکشاؤں کی اجارہ داری رہتی ہے اُور اِس درمیان ہتھ ریڑھیاں‘ کار پارکنگ اُور بھیک مانگنے والوں کے جھتے آمدورفت کو ناممکن حد تک دشوار بناتے ہیں۔ توجہ طلب ہے کہ ٹریفک جام کی وجہ سے گھنٹہ گھر سے بازار کلاں تک دھویں کے بادل بھی یہاں کی نشانی بن چکے ہیں۔

پشاور کی ثقافتی راہداری کیا ہے؟

 اِس منصوبے پر کل کتنی لاگت آئی؟ اُور اِسے کیوں بنایا گیا؟

 اگر عام آدمی (ہم عوام) اِن سوالات کے جوابات جان لیں تو اُمید ہے کہ اہل پشاور ’ثقافتی راہداری‘ ہی نہیں بلکہ پشاور کی تاریخ و ثقافت سے جڑی ہر شے اُور ہر خوبی کی حفاظت کریں گے۔ گورگٹھڑی سے گھنٹہ گھر ثقافتی راہداری (ہیٹریج ٹرائل پراجیکٹ) منصوبے کا سنگ بنیاد سات دسمبر 2017ءکے روز رکھا گیا اُور اِس قریب نصف کلومیٹر رہداری میں گورگٹھڑی کے مغربی دروازے سے گھنٹہ گھر تک 40مکانات کو اصل حالت میں بحال کیا گیا جبکہ ایسی 87 عمارتیں جو جدید فن تعمیر کے مطابق بنائی گئیں تھیں اُنہیں تاریخی شکل و صورت دی گئی اُور یہ سارا کام ’اقوام متحدہ‘ کے وضع کردہ تاریخی عمارتوں کی مرمت‘ بحالی و تحفظ کے اصولوں کے مطابق کیا گیا اُور اِس بات پر خصوصی توجہ دی گئی کہ مذکورہ ثقافتی راہداری میں شامل ہر عمارت اُور ہر شے کم سے کم 100 سال پرانی دکھائی دے۔ اِسی ثقافتی راہداری منصوبے میں سیٹھی ہاؤس کی بحالی و مرمت بھی مکمل کی گئی جو محکمۂ آثار قدیمہ کی ملکیت میں سال 2006ءسے تھا اُور یہ مکان 1850ءسے 1884ءکے درمیان تعمیر ہوا تھا۔ اِس منصوبے پر لاگت کا ابتدائی تخمینہ 51 کروڑ (513ملین) روپے تھے جب کہ اِس کی تکمیل تک 70 کروڑ 70 لاکھ (707ملین) روپے خرچ ہو چکے تھے کیونکہ ثقافتی راہداری میں بعدازاں سیٹھی ہاو¿س کی بحالی کو بھی شامل کر لیا گیا اُور اِس ساری کوشش کا مقصد ’پشاور کے پرکشش سیاحتی مقامات میں اضافہ اُور ملکی و غیرملکی سیاحوں کو پشاور کی جانب متوجہ کرنا تھا تاکہ سیاحت کے فروغ سے ملکی و مقامی معیشت کو سہارا دیا جا سکے لیکن ثقافتی راہداری سے جڑا کوئی ایک بھی ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا۔

چند بنیادی سوالات کا جواب کون دے گا؟

1: گورگٹھڑی سے گھنٹہ گھر تک تجاوزات ختم کرنے کی ذمہ داری کسے سونپی جانی چاہئے؟

 2: گورگٹھڑی سے گھنٹہ گھر تک راہداری ہر قسم کی ٹریفک کے ممنوع قرار دی گئی تھی تاہم تاجروں کے دباؤپر اِسے پہلے یک طرفہ ٹریفک کے لئے کھولا گیا اُور بعدازاں ٹریفک یک طرفہ نہیں رہی بلکہ انتہائی بے ہنگم صورت اختیار کر چکی ہے۔ ٹریفک پولیس نے لاکھوں روپے خرچ کر کے ثقافتی راہداری کے داخلی و خارجی راستوں پر آہنی رکاوٹیں کھڑی کیں اُور نگرانی کے لئے کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے بھی نصب کر رکھے ہیں لیکن اِس کے باوجود یک طرفہ ٹریفک کے لئے نصب آلات تک چوری کر لئے گئے۔ ثقافتی راہداری بنانے پر قومی خزانے سے اخراجات کئے گئے اُور اِسے قدیم تعمیراتی شکل و صورت دینے کا مقصد بھی یہی تھا کہ یہاں کی سیر کے لئے آنے والے پشاور کی بودوباش اُور یہاں کے قیام و طعام سے متعلق اچھی یادیں اپنے ساتھ لیکر جائیں لیکن اِس مقصد کا حصول ’منظم ٹریفک‘ کی صورت ممکن ہے جس کے لئے پشاور ٹریفک پولیس کے ایک ایک اہلکار کو اِس کے داخلی‘ خارجی اُور وسطی مقام پر تعینات ہونا چاہئے۔ اگر ٹریفک پولیس کے فیصلہ ساز پورے پشاور کی ٹریفک کو درست نہیں کر سکتے تو کم سے کم ایک کلومیٹر کے علاقے ہی میں ٹریفک کو مثالی شکل و صورت دے سکتے ہیں اُور یہ پولیس کے بااختیار فیصلہ سازوں کی ذہانت و فرض شناسی امتحان (آزمائش) ہے۔

3: ”والڈ سٹی اتھارٹی“ کے نام سے ایک جامع منصوبہ سرد خانے کی نذر ہے‘ جس پر عملدرآمد وقت کی ضرورت ہے۔

4: ثقافتی راہداری کی تعمیر کا کام محکمۂ آثار قدیمہ کے ذریعے مکمل کروایا گیا جنہوں نے عالمی معیار کے مطابق اِس کی نوک پلک سنواری لیکن اِس کے بعد کوئی بھی حکومتی ادارہ اِس ذمہ داری کو تن تنہا اُٹھانے کے لئے تیار نہیں۔ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ پشاور کی ضلعی حکومت کو ’ٹاؤن ون‘ کی حدود میں اِس ثقافتی راہداری کا نگران و منتظم مقرر کیا جائے تاکہ کروڑوں روپے کی اِس تعمیر کو نقصان پہنچانے اُور اِس کے اثاثے چوری کرنے والوں نمٹا جا سکے۔

5: ثقافتی راہداری سے متصل تجارتی مراکز اُور بازاروں کی الگ الگ تاجر و دکاندار تنظیمیں موجود ہیں‘ جنہیں اِس راہداری کی حفاظت و خوبصورتی کے عمل میں شریک بنایا جا سکتا ہے۔ دکاندار دن کے اختتام اُور دن کے آغاز پر گندگی پھیلاتے ہیں جسے رش کے باعث سارا دن نہیں اُٹھایا جا سکتا۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ دکاندار صفائی ستھرائی اُور پانی جیسی سہولیات سے استفادہ تو کرتے ہیں لیکن وہ اِن خدمات کے عوض معمولی (واجبی) ماہانہ فیس ادا نہیں کر رہے تو اِس سلسلے میں ٹاؤن ون کے منتخب بلدیاتی نمائندے ثقافتی راہداری اُور اِس کے اطراف میں فن تعمیر کی شاہکار عمارتوں کے لئے خطرہ بنے عوامل کا ۔

 6: ثقافتی راہداری سے متصل رہائشی علاقوں کے مکینوں سے نمائندہ افراد کو نگران و انتظامی کمیٹی کا حصہ بنایا جائے‘ جن کی آمدروفت اُور معمولات ِزندگی شہری و رہائشی علاقوں کے درمیان ختم ہوتی تمیز و تفریق کے باعث شدید متاثر ہے لیکن اُن کی فریاد سننے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں۔ وقت ہے کہ پشاور شہر کے وسائل پر اغیار کے تصرف کو قواعد پر بلاامتیاز و سخت ترین عمل درآمد سے کم کیا جائے۔

....

Clipping from Daily Aaj Peshawar 03 July 2022 Sunday

Zarf e Nigha Logo


Sunday, May 22, 2022

Peshawar Kahani: Shah Wali Qatal



ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: شاہ ولی قتال

جنوب مشرق ایشیا کے قدیم ترین اُور زندہ تاریخی شہر پشاور دستکاروں اُور ہنرمندوں کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے اُور ایسا ہی ایک قابل ذکر کاروباری مرکز ”شاہ ولی قتال“ کے نام سے بھی مشہور ہے جس کا ذکر پشاور کی ابتدائی تذکروں میں ملتا ہے اُور یہ صدیوں سے آباد ہے۔ ’شاہ ولی قتال‘ قصہ خوانی بازار کی پشت (شمالاً) واقع ہے جس کے داخلی و خارجی راستے بازار مسگراں‘ ڈھکی اُور قصہ خوانی بازار سے متصل ہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں کہ پشاور کے مصروف ترین کاروباری مرکز (قصہ خوانی بازار) کے عقب میں اِس راہداری میں گنتی کی چند دکانیں (قہوہ خانہ‘ تندور اُور عطرفروش) ہوا کرتے تھے لیکن گزشتہ تیس برس میں ’شاہ ولی قتال‘ کا نقشہ مکمل تبدیل ہو چکا ہے اُور اب یہ رہائشی نہیں بلکہ مصروف و معروف تجارتی مرکز ہے۔ یہاں کثیرالمنزلہ عمارتیں اور تھوک و پرچون دھاتی (اسٹین لیس اسٹیل) ظروف فروشی کے پُرہجوم مراکز ہیں جہاں سے پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کو سازوسامان فراہم کیا جاتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اندرون شہر پشاور کے رہائشی و تجارتی علاقوں میں تمیز نہیں رہی جیسا کہ مسلم مینا بازار سے چوک ناصر خان تک کے بعد حالیہ چند برسوں میں رونما ہونے والی ’شاہ ولی قتال‘ دوسری ایسی بدنما مثال ہے جہاں پشاور کے روائتی فن تعمیر اُور بودوباش کی جگہ کاروباری سرگرمیوں نے لے لی ہے۔ چند مقامی افراد کی لالچ سے پورے کے پورے علاقے تجارتی مراکز میں تبدیل ہو گئے جس کے بعد مجبوراً بھی مقامی افراد کو علاقہ چھوڑنا پڑا۔ ”شاہ ولی قتال“ کی قسمت بھی زیادہ مختلف نہیں جہاں اِس وقت 100 سے زائد دکانیں اُور صرف پانچ چھ مکانات ہی باقی ہیں! 

شاہ ولی قتال بازار نے وقت کے ساتھ کئی روپ بدلے۔ ڈیڑھ سو سال قبل اِس بازار میں ظروف ساز منتقل ہوئے تاہم یہ فن بھی وقت کے ساتھ ختم ہوتا چلا گیا کیونکہ پشاور کے پیشہ ور اُور پشاور کے پیشے نئی نسل کو منتقل ہونے کا سلسلہ نہیں رہا جس کی بنیادی وجہ حکومت کی سرپرستی کا فقدان ہے۔ دوسری اہم بات وقت کے ساتھ اہل پشاور کے رہن سہن اُور عادات میں تبدیلی ہے اُور اب پشاور میں ہاتھ سے بنے‘ رنگ برنگے نقش و نگار سے مزین مٹی کے برتنوں کا استعمال نہ تو مہمان نوازی کا حصہ رہی ہے اُور نہ ہی روزمرہ رکھ رکھاؤ پر مبنی ترجیحات کا حصہ ہے۔ پشاور کے معروف محقق اُور تاریخ داں قاری جاوید اقبال مرحوم نے اپنی تصنیف ”ثقافت ِسرحد تاریخ کے آئینے میں“ شاہ ولی قتال کے بارے میں لکھا ہے کہ ”اِس بازار کے ایک حصے میں ”آغا سیّد میر جعفر (رحمۃ اللہ علیہ)“ کا مزار ہے جو 1847ء میں کرنل لارنس کے ہمراہ لکھنو سے پشاور بطور ترجمان آئے اُور رہائش کے لئے اِس مقام کا انتخاب کیا جہاں سے اُس وقت نہر کی ایک شاخ گزرتی تھی اُور اِسی کے کنارے آپؒ نے رشدوہدایت کا سلسلہ بھی جاری رکھا اُور شاید آپؒ کی وصیت کے مطابق یہیں دفن بھی کر دیا گیا جبکہ قبل ازیں اِس مقام پر آل سادات سے تعلق رکھنے والے اکابرین کا چھوٹا سا قبرستان موجود تھا۔ اِس ’گنج ِشہیداں‘ کی وجہ سے اِس مقام کو ”قتال“ کہا جاتا تھا۔ غالباً سن ایک ہزار عیسوی میں بادشاہ یمین الدولہ ابوالقاسم محمود بن سبکتگین المعروف محمود غزنوی کا پشاور سے گزر ہوا تو اُن کے ہمراہ حضرت شاہ ولی رحمۃ اللہ علیل ہوئے اُور انہیں اِسی قتال گاہ جو اُس وقت سرسبز و شاداب باغ ہوا کرتی تھی میں دفن کردیا گیا۔ بت شکن کے لقب سے معروف حضرت شاہ ولی رحمۃ اللہ علیہ کے نام نامی اسم گرامی سے یہ مقام ’شاہ ولی قتال‘ منسوب و مشہور ہوگیا۔

ظروف سازی کے علاؤہ ”شاہ ولی قتال“ کی ایک وجہ شہرت یہاں سے بھارتی فلمی اداکار ”شاہ رخ خان ولد میر تاج محمد خان“ کا آبائی تعلق اُور اِن کے قریبی رشتہ داروں کی قیام گاہیں ہیں‘ جو یہاں سے اگرچہ نقل مکانی کر چکے ہیں لیکن اُن کی یادگاریں باقی اُور پشاور کی سیر کے لئے آنے والوں کے لئے خاص کشش کا باعث ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ بھارت کی فلمی صنعت پر راج کرنے والے دیگر فنکاروں میں یوسف خان المعروف دلیپ کمار اُور راج کپور خاندان کی ’جنم بھومی‘ بھی پشاور ہی ہے اُور یہی وجہ ہے کہ قصہ خوانی بازار کے اردگرد پھیلے اِن تاریخی و ثقافتی ورثوں کو دیکھے بغیر پشاور کی سیاحت مکمل نہیں ہو سکتی۔

قیام ِپاکستان کے بعد مرتب ہونے والی ”تاریخ ِپشاور“ میں ’شاہ ولی قتال‘ کا حوالہ ”ظروف سازی“ رہا ہے تاہم یہ کسب کب سے شروع ہوا‘ اِس بارے میں مختلف دعوے کئے جاتے ہیں۔ ’پشاور پوٹری (Peshawar Pottery)‘ کے نام سے یہاں ظروف سازی کا معروف مرکز سو سال سے زائد قائم رہا تاہم اِسے آباد رکھنے والے ’سیماب خاندان‘ کے آباؤاجداد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُنہوں نے یہ ہنر ایران سے آئے ہوئے دستکاروں سے سیکھا تھا اُور اِس سلسلے میں شاہ ولی قتال کے خلیفہ محمود کا تذکرہ تاریخی کتب میں اِس حوالے سے محفوظ ہے کہ انہوں نے 1860ء میں ایران سے آئے ہوئے ہنرمندوں سے ظروف سازی سیکھی اُور پھر اِس ہنر کو اُس کمال تک پہنچایا کہ پشاور میں بنے ہوئے برتن اُور اِن پر نقش و نگار ایران میں بھی مقبول ہوئے‘ جہاں سے یہ فن پشاور منتقل ہوا تھا۔ مقام افسوس و تفکر ہے کہ پشاوری ظروف سازی جس پر ایرانی ثقافت کا غلبہ تھا لیکن پشاوری امتزاج سے ایک نیا فن معرض وجود میں آیا جو ایک عرصے تک پشاور کا تعارف اُور حوالہ رہا لیکن اِسے زندہ و جاری رکھنے کے لئے قومی و صوبائی فیصلہ سازوں نے خاطرخواہ توجہ نہیں دی۔ ”شاہ ولی قتال“ کے برتن اِس قدر مشہور ہوا کرتے تھے کہ پشاور آنے والے غیرملکی سرکاری وفود کو یہاں کی سیر کروائی جاتی اُور اُنہیں یہ برتن بطور تحفہ پیش کئے جاتے جبکہ سیاح اِنہیں بطور سوغات خریدنا نہیں بھولتے تھے۔ اُمید ہے کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد جبکہ پشاور میں غیرملکی سیاحوں کی ٹولیاں پھر سے دکھائی دینے لگی ہیں تو سیاحوں کو خدمات و رہنمائی فراہم کرنے والے حکومتی و نجی ادارے ”شاہ ولی قتال“ کی بحالی پر خاطرخواہ توجہ دیں گے۔ ہنرمندوں کے شہر …… پشاور کو ”پیشہ ور“ بھی کہا جاتا ہے لیکن ”کسب کمال کن کہ عزیزے جہاں شوی“ کی یہ عملی مثالیں اب ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتیں۔ پشاور کی ظروف سازی معیار کے لحاظ سے یورپی ممالک بالخصوص برطانیہ کے ہم پلہ ہوا کرتی تھی۔ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ تاریخ پشاور کے اِس ”گمشدہ باب“ کو پھر سے تلاش اُور اُجاگر کیا جائے۔

……

Clipping from Daily Aaj - Peshawar - June 22, 2022


Thursday, May 12, 2022

Incompleteness.

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

اَدھورا پن

شہر شہر اُور گاؤں گاؤں تعمیر و ترقی کا عمل کئی وجوہات کی بنا پر ’ادھورے پن‘ کا شکار ہے‘ جس میں ایک پہلو تو یہ ہے کہ قومی خزانے سے کی جانے والی تعمیروترقی میں مستقبل کے تقاضوں (آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات) کو مدنظر نہیں رکھا جاتا اُور دوسرا پہلو جو اِس بھی زیادہ  تشویش کا باعث ہے کہ قومی خزانے سے خطیر رقومات خرچ کرنے کے باوجود بھی تعمیروترقی عوام کے مسائل حل کرنے کا باعث (وسیلہ) نہیں۔ ترقیاتی ادھورے پن سے متعلق اِس تصور کو 2 مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پہلی مثال پشاور شہر کے علاقے سیٹھی ٹاؤن (پہاڑی پورہ)‘ کی ہے جہاں کے رہائشی ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی موسم گرما کے آغاز ہی سے 3 طرح کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ حسین چوک سے غالب سٹریٹ اُور اِس سے ملحقہ محلوں میں پینے کے پانی کی فراہمی گزشتہ کئی ہفتوں سے معطل ہے۔ پانی کب آئے گا‘ کسی کو کچھ نہیں معلوم اُور نہ ہی اُمید ہے لیکن پانی آئے نہ آئے آبنوشی کا بل باقاعدگی سے ادا کرنا ضروری ہے‘ جو ایک الگ موضوع ہے! سیٹھی ٹاؤن کی مذکورہ آبادی کے لئے ٹیوب ویل کی تنصیب متنازعہ قطعہئ اراضی میں کی گئی جس کا انتخاب ہی غلط تھا اُور یہی بنیادی غلطی پوری حکمت عملی کی ناکامی کا سبب بن گئی ہے کہ ٹیوب ویل کی اراضی ایک بااثر شخص کی ملکیت ہے اُور ٹیوب ویل لگنے کے بعد‘ مبینہ طور پر اُس نے اپنے بیٹے کو اِس بات کے لئے اہل سمجھا کہ وہ ’ٹیوب ویل آپریٹر‘ کی سرکاری ملازمت کرے لیکن جب اُس کا یہ مطالبہ پورا نہ ہوا تو اُس ٹیوب ویل بند کر دیا اُور سیٹھی ٹاؤن کے رہائشی پانی کی بوند بوند کو ترستے ہوئے ہر دن پانی راہ دیکھتے ہیں! سیٹھی ٹاؤن کا دوسرا مسئلہ ’نکاسیئ آب‘ کے نظام کی صفائی نہ ہونا اُور تیسرا مسئلہ کوڑا کرکٹ کی بروقت تلفی نہ ہونا ہے جس کے سبب مچھروں اُور مکھیوں کی اَفزائش (بہتات) ہے جبکہ مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کا جاری عرصہ (سیزن) اہل علاقہ کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ سب سے زیادہ ضروری اُور ٹیوب ویل کی واگزاری ہے‘ تاکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے! عجیب و غریب صورتحال یہ ہے کہ اگر ’عوامی مفاد‘ کو دیکھا جائے تو ’ٹیوب ویل بند کرنا‘ قانوناً جرم ہے لیکن چونکہ یہاں معاملہ ایک بااثر شخص کا ہے‘ اِس لئے ادارے خاموش اُور عوام بلک رہے ہیں!

تعمیروترقی اُور عوام کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں میں پائے جانے والے ”اَدھورے پن“ کی بدترین دوسری مثال سیٹھی ٹاؤن سے 150 کلومیٹر دور ’ہری پور‘ میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں کے ”منگ“ نامی دیہی علاقے میں 200 طلبہ کے لئے ”سرکاری ہائی سکول“ 10 سال قبل تعمیر ہوا‘ جس کے بعد اراضی کے مالک بااثر زمیندار اور محکمہئ تعلیم کے درمیان مالی امور پر تنازعہ پیدا ہوا اُور مذکورہ عمارت تعمیر تو ہوئی لیکن دس سال سے فعال نہ ہو سکی! تصور کیا جا سکتا ہے کہ 10 سال کتنا طویل عرصہ ہوتا ہے جسے ضائع کرنے سے علاقے کے کس قدر تعلیمی حرج ہو چکا ہے اُور یہ حرج مسلسل جاری بھی ہے! محکمہ تعلیم نے عارضی طور پر کرائے کی عمارت میں تین کمروں پر مشتمل سکول قائم کر رکھا ہے جبکہ میلوں سفر کر کے دور دراز سکول جانے والے کتنے ہی بچے سفری مشکلات کے باعث تعلیم کو الوداع کہہ چکے ہیں!

سرکاری ریکارڈ کے مطابق ہری پور کے ’خان پور روڈ‘ کے کنارے آباد ’منگ‘ گاؤں میں سکول 1913ء میں تعمیر ہوا تھا‘ جس کی خستہ حال (پرانی) عمارت کو کی جگہ زیادہ گنجائش والی نئی عمارت تعمیر کی گئی۔ نئی عمارت تعمیر کرے کے لئے سال 2004ء میں اُس وقت کے محکمہئ تعلیم کے ضلعی نگران (حیدر زمان مرحوم) اُور مالک اراضی (ملک اعظم خان) کے درمیان زبانی کلامی معاہدہ ہوا جس کے بعد 2012 میں 86لاکھ روپے کی لاگت سے نئی عمارت تعمیر کی گئی اُور معاہدے کے تحت پرانی عمارت والی اراضی زمیندار کو منتقل کرنا تھا۔ جب نئی عمارت میں کلاسیں شروع ہونے والی تھیں تو زمیندار نے معاہدے کے مطابق جائیداد کے حقوق کی منتقلی کے لئے محکمے پر دباؤ ڈالا اُور جب حکام نے اراضی کی ملکیت کے ریکارڈ کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ پرانی عمارت کا ٹکڑا ہری پور ضلع کونسل کی ملکیت ہے اُور سرکاری اراضی زمیندار کے نام منتقل کرنے سے معذرت کر لی گئی چونکہ زمیندار بااثر تھا اُس نے ہر طرح کا دباؤ استعمال کیا اُور عدالت سے بھی رجوع کیا جہاں دوہزارچودہ میں سول عدالت نے محکمہ تعلیم کو حکم دیا کہ وہ زمیندار کو دس لاکھ روپے فی کنال کے حساب سے ادائیگی کرے یا پھر زمیندار سکول کی تعمیراتی لاگت ادا کرے۔ محکمے نے عدالت کو بتایا کہ سکول کی تعمیر پر مجموعی کو ایک کروڑ چودہ لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔ محکمہ تعلیم نے بھی عدالت سے رجوع کیا اُور ہائی کورٹ نے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے دس لاکھ روپے فی کنال کی بجائے ’مارکیٹ ریٹ‘ یعنی دو لاکھ اَسی ہزار روپے فی کنال ادائیگی کا حکم دیا لیکن اِس پوری تگ و دو میں سکول کی نئی عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہی اُور مقامی افراد کے مطالبے پر خیبرپختونخوا محکمہئ تعلیم نے ایک نیا سکول تعمیر کرنے کے لئے چار کروڑ بیاسی لاکھ روپے منظور کئے ہیں۔ اِس پوری کہانی سے ’منصوبہ بندی کا فقدان‘ کھل کر سامنے آتا ہے اُور یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ انتظامی عہدوں پر فائز ہونے والوں کی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو کس قدر مالی نقصان جبکہ عوام کو کس قدر سنگین نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ ترقیاتی عمل سے زیادہ اِس کا ’ادھوراپن‘ دور کرنے کی ضرورت ہے اُور اِس سلسلے میں ادارہ جاتی فیصلوں پر نظرثانی کے لئے ضلعی سطح پر ایسی مشاورتی کمیٹیاں تشکیل دی جا سکتی ہیں جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہوں اُور اِن ’ٹیکنوکریٹس‘ کے ذریعے کسی بھی حکومتی ترقیاتی منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے جن میں بشمول لاگت‘ پائیداری‘ معیار‘ سماجی و ماحولیاتی اثرات اُور اِس کی راہ میں حائل ممکنہ قانونی رکاوٹوں کے بارے پہلے ہی سے سوچ بچار کر لیا جائے تو اِس سے حکومتی وسائل میں بچت اُور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی فراہمی میں روانی ممکن و برقرار بنائی جا سکتی ہے۔ 

اگر نیت میں فتور نہیں‘ اگر خالصتاً قومی و عوامی مفادات ہی پیش نظر ہیں تو ترقیاتی عمل کو سیاسی و انتخابی مفادات و ترجیحات کی قید سے آزاد کرانا ہوگا‘ جس کا ایک امکان بلدیاتی اداروں کو زیادہ بااختیار بنانا بھی ہے اُور اِس سے بھی بامقصد و باسہولت تعمیروترقی جیسے اہداف باآسانی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ ”اگر ہے جذبہئ تعمیر زندہ …… تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے!؟ (احمد ندیم قاسمی)“

……

Clipping from Daily Aaj May 12, 2022 Thursday 


Monday, May 2, 2022

Have a meaningful Eid, this year!

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

بامقصد تہوار

پشاور کے سرتاج روحانی‘ علمی و ادبی اُور سیاسی گھرانے کے بزگوار پیر طریقت سیّد محمد امیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی رحمۃ اللہ علیہ اپنے خطبات اُور محافل میں زندگی کو بامقصد بسر کرنے کی تلقین فرماتے بالخصوص ’عیدالفطر‘ جیسے تہوار یا دیگر خصوصی مواقعوں پر آپؒ کی وعظ و نصیحت کا خلاصہ ”فرائض کا اہتمام‘ سنتوں کی اتباع اُور تقویٰ“ سے متعلق ہوتا۔ آپ چاہتے تھے کہ ہر شخص اپنی زندگی کے ہر ایک لمحے کا احتساب اُور حساب کرے۔ تفکر سے کام لے۔ سوچ سمجھ کر زندگی بسر کرے اُور اگر زندگی بامقصد اُور تعمیری انداز میں منائی جائے تو اِس سے ہماری زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے گی اُور اگر تہواروں کو شعوری طور پر منانے اُور مختلف انداز میں ’یادگار‘ بنانے کی کوشش کی جائے تو اِس سے انفرادی و اجتماعی سطح پر خیر و اصلاح جیسے ثمرات بھی حاصل ہوں گے۔ امیرالمومنین سیّدنا علی ابن ابیطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول ہے کہ ”مومن کے لئے اُس کی زندگی کا وہ ہر دن عید ہے‘ جس دن اُس سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو۔“ اسلامی تہواروں کے حقیقی تصور اُور مقصد کے حصول کے لئے عہد کیا جا سکتا ہے کہ اِس مرتبہ عیدالفطر پر کم سے کم ”9 امور کی انجام دہی کا بطور خاص خیال رکھا جائے گا۔“

1: صبح جلدی اُٹھ کر مسواک یا ٹوتھ برش کے ذریعے دانت صاف کئے جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں میں جس ایک عمل کا کثرت سے ذکر ملتا ہے وہ یہ ہے کہ عید الفطر کی صبح سویرے مسواک سے دن کا آغاز فرماتے۔ طبی نکتہئ نظر سے بھی دانتوں کی اچھی دیکھ بھال نہ صرف مجموعی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ اس سے خوشگوار مسکراہٹ اور تازہ سانس کے ذریعے ایک پراعتماد دن کا آغاز ہوتا ہے۔

2: عیدالفطر کی صبح غسل کرنا‘ صاف اُور بہترین کپڑے پہننا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریق (سنت) ہے۔ غسل (نہانے) کا مطلب جسمانی تطہیر ہے۔ یہی غسل جمعۃ المبارک‘ عیدین اُور دیگر خصوصی ایام کے لئے بھی کیا جاتا ہے جو اگرچہ واجب نہیں لیکن سنت کی اتباع اگر مقصود ہے تو اِس کی پابندی مستحبات میں شامل ہے۔ عید کے دن صاف‘ پاک و پاکیزہ لباس اُور خوشبو (پرفیوم) کا استعمال بہترین اعمال و معمولات میں سے ہیں۔ حدیث شریف ہے کہ ”اگر کوئی شخص (مرد یا عورت) عید کے دن نئے کپڑوں کی مالی سکت نہ رکھتے ہوں تو پہلے سے استعمال شدہ کپڑے اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔“ یہ شرعی نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ خواتین کے لئے خوشبو لگانے کی شرائط مرد سے مختلف ہیں اُور خواتین کو ”تیز خوشبو“ لگانے کی اجازت نہیں۔ اِسی طرح مردوں کے لئے ریشمی کپڑے اُور زیورات پہننے کی ممانعت ہے۔ 

3: عید کے دن تکبیرات (اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لَا إلَہَ إلَّا اللَّہُ وَاَللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ) پڑھنے کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا چاہئے۔ 

4: عیدالفطر کی نماز ادا کرنے کے لئے پیدل جایا جائے یا مسجد کے کچھ فاصلے تک گاڑی میں سفر کرنے کے بعد سنت ادا کرنے کی نیت سے چند قدم ہی سہی لیکن لازماً پیدل چل کر جایا جائے۔ اِسی طرح نماز عید کی ادائیگی کے لئے گھر سے نکلنے سے قبل کچھ میٹھا (بہتر ہے کہ کھجوریں) کھائی جائیں۔

5: تسلی کر لیں کہ عید الفطر کی نماز ادا کرنے سے قبل صدقہ فطر اَدا کر دیا گیا ہے اگر نہیں کیا تو ساری زندگی ساکت (ختم) نہیں ہوگا بلکہ واجب الادأ رہے گا۔ فقہ حنفیہ (اہلسنت و الجماعت) کے مطابق رواں برس 2022ء کے لئے گندم کے حساب سے کم سے کم فطرانہ 160 روپے فی کس جبکہ ’فقہئ جعفریہ‘ اُور مسلک ِاہل حدیث کے مطابق 170 روپے فی کس مقرر ہے۔ صدقہئ فطر کی کم سے کم شرح کی بجائے سے زیادہ سے زیادہ شرح سے فطرانہ اَدا کر کے غریبوں کو بھی عید کی خوشیوں میں یکساں شریک کریں۔ ذہن نشین رہے کہ اسلام میں کسی بھی خصوصیت یا تہوار کا تصور انفرادی خوشی کا اظہار و اہتمام نہیں بلکہ تہوار بامعنی ہیں اُور یہ خوشی کے اجتماعی اظہار کے مواقع ہیں اُور اِس لحاظ سے عید محض عید نہیں بلکہ اگر اسے سمجھا جائے تو اِس تہوار کی معنویت اُور مقصدیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

 6: نماز عید کی ادائیگی کے لئے کسی ایسے مقام کا انتخاب کیا جائے جہاں عید کھلے آسمان کے نیچے ادا کرنے کا انتظام ہو‘ بہ امر مجبوری الگ بات ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کی نماز ہمیشہ کھلے آسمان تلے ادا فرمائی جبکہ ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے اندر (چھت تلے) عید کی نماز اَدا کی تھی۔

7: عید کا تہوار تحفے‘ تحائف (عیدی)‘ اِہل و عیال اُور پڑوسیوں سے ملاقات کا موقع ہے۔ عمومی معمولات میں جب عزیزواقارب سے ملنے ملانے کی فرصت نہیں رہتی تو عید کے موقع پر ایسی ملاقاتوں کا بالخصوص اہتمام کیا جانا چاہئے۔

 8: رمضان المبارک کے بعد شروع ہونے والے اسلامی مہینے شوال المعظم کے 6 روزے رکھنے کی نیت ابھی سے کر لیں۔ شوال کے روزے عید الفطر کے دوسرے دن سے ماہئ شوال المکرم کے دوران کبھی بھی رکھے جا سکتے ہیں اُور اِن کا اہتمام لگاتار بھی کیا جا سکتا ہے اُور یہ روزے مسلسل (یکے بعد دیگرے) یا ایام کے وقفے سے بھی رکھے جا سکتے ہیں تاہم چھ روزوں کی گنتی پوری کرنا سنت ہے۔ حدیث شریف ہے کہ ”جس نے پورے رمضان المبارک کے روزے رکھے اُور پھر شوال کے چھ دن بھی روزہ دار رہا‘ تو اِسے پورے سال کے روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔“

9: رمضان المبارک کی طرح سال کے دیگر مہینوں میں بھی عبادات بالخصوص قرآن شریف پڑھنے کی ابھی سے نیت کر لیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ جس طرح رمضان المبارک میں عبادت گاہیں آباد رہیں بالکل اِسی طرح سال کے دیگر ایام میں بھی عبادات کا ذوق و شوق برقرار (ساری زندگی قائم و دائم) رہے۔ 

……

Clipping from Editorial Page Daily Aaj Peshawar / Abbottabad May 02, 2022