Showing posts with label Clean Drinking Water. Show all posts
Showing posts with label Clean Drinking Water. Show all posts

Friday, September 16, 2022

Water Distribution issues in Peshawar City.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: خوابوں کی دُنیا

صوبائی دارالحکومت پشاور میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اُور نکاسی آب سمیت کوڑا کرکٹ کی تلفی و صفائی کے لئے ذمہ دار ”واٹر اینڈ سینٹی ٹیشن سروسیز پشاور (WSSP)“ نامی ادارہ ”جنوری دوہزارچودہ“ میں قائم ہوا۔ اِس سے قبل پشاور شہر اُور ضلع پشاور میں ’میونسپل سروسیز‘ میونسپلٹی فراہم کرتی تھی‘ جسے تحلیل کر کے چار ٹاؤنز اُور ایک ضلعی نگران و منتظم ادارہ بنایا گیا تاہم بعدازاں چاروں ٹاؤنز اُور ضلعی ادارے سے صفائی ستھرائی‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اُور کوڑا کرکٹ کی تلفی جیسے بنیادی کام (متعلقہ امور بھی) ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کو اِس اعلان کے ساتھ سونپ دیئے گئے کہ یہ ادارہ پشاور کی تمام 92 یونین کونسلوں میں فعال کیا جائے گا اُور اُمید یہ بھی تھی کہ میونسپلٹی اُور بعدازاں چار ٹاؤنز سے جن میونسپل خدمات کو ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے سپرد کیا گیا ہے مذکورہ خدمات کا معیار بہتر ہوگا لیکن عملاً ایسا نہیں ہو سکا اُور یہ نتیجہ¿ خیال صرف عوامی رائے نہیں بلکہ یہی مؤقف پشاور سے منتخب اراکین صوبائی اسمبلی کا بھی ہے۔ رواں ہفتے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی‘ فوکل پرسن برائے میگا پراجیکٹس اور احیائے پشاور نامی حکمت ِعملی کے شریک نگران (ایم پی اے) آصف خان نے ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز پشاور‘ کو پشاور شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال‘ مسدود نکاسی آب اُور جا بجا کچرے (کوڑا کرکٹ) کے ڈھیروں کا حوالہ دیتے ہوئے ’کڑی تنقید‘ کا نشانہ بنایا تاہم یہ واضح نہیں کہ صوبائی حکومت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے قیام کو ”سنگین غلطی“ تسلیم کرتے ہوئے اِسے تحلیل کرتی ہے یا نہیں اُور کیا میونسپل خدمات دوبارہ چاروں ٹاؤنز اُور ضلعی بلدیاتی ادارے کو سونپ دی جائیں گی؟ لمحۂ فکریہ ہے کہ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے قیام سے پہلے پشاور میں مذکورہ تین میونسپل خدمات (پینے کے پانی کی فراہمی‘ نکاسی آب کو فعال رکھنے اُور کوڑا کرکٹ کی تلفی) پر اُٹھنے والے اخراجات میں کئی سو نہیں بلکہ کئی ہزار گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ پشاور کو مختلف علاقوں (زونز) میں تقسیم کر کے ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے انتظامی دفاتر کرائے کی عمارتوں میں قائم کئے گئے ہیں جبکہ ملازمین کو مراعات کی مد میں ایسی سہولیات بھی فراہم ہیں‘ جو اُن کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر واپس لے لینی چاہیئں!

جون دوہزار بائیس میں پیش کئے گئے رواں مالی سال 2022-23ءکے صوبائی ترقیاتی بجٹ میں ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ اُور ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی (ڈبلیو ایس ایس سی) کے لئے 6 ارب روپے مختص کئے گئے۔ اِن چھ ارب روپے سے اگر ملازمین کی تنخواہیں اُور مراعات ادا نہ کی جائیں تو پشاور کے کئی ایک مسائل حل ہو سکتے ہیں جبکہ تمام یونین کونسلوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ پشاور میں پینے کے پانی کی فراہمی کا انحصار زیرزمین آبی ذخیرے پر ہے‘ جس سے شہریوں کو 7 گھنٹے یومیہ پانی فراہم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن پشاور شہر کے کئی ایسے حصے بھی ہیں جہاں یومیہ ایک سے دو گھنٹے بمشکل پانی فراہم ہو رہا ہے اُور ایسا ہی ایک بدقسمت علاقہ ’یونین کونسل گنج‘ ہے۔ پشاور شہر کی اِس بالائی یونین کونسل گنج کے مختلف مقامات پر ایک درجن سے زائد ٹیوب ویل نصب ہیں لیکن پانی کی ترسیل کا غیرمنظم نظام ہونے کی وجہ سے گنج‘ یکہ توت‘ لاہوری اُور کریم پورہ کے کئی حصوں میں پینے کا پانی حسب ِاعلان یومیہ 7 گھنٹے فراہم نہیں ہو رہا۔ پانی کی قلت بالخصوص اُن علاقوں میں زیادہ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جو ڈھلوان پر ہیں جیسا کہ کوچہ بی بی ذکری‘ محلہ تیلیان‘ محلہ شیخ الاسلام‘ محلہ دفتر بندان اُور اِن سے ملحقہ دیگر محلہ جات کے صارفین کو بمشکل ایک سے دو گھنٹہ پانی فراہم کیا جاتا ہے جو اہل علاقہ کی ضرورت کے مطابق کفالت نہیں کرتا کیونکہ پانی کے ترسیلی نظام کی خرابی کے باعث زیرڈھلوان علاقے اپنے حصے سے زائد پانی لیجاتے ہیں! اندرون پشاور مذکورہ علاقوں میں پانی کی قلت کی 2 بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ’ٹیوب ویلوں‘ کے لئے جگہ کا انتخاب کرتے ہوئے غلط فیصلے ہیں جبکہ دوسری وجہ پانی کے ترسیلی نظام کی خرابیاں ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کسی علاقے میں ایک درجن ٹیوب ویل نصب ہونے کے باوجود بھی وہاں پانی کی قلت سے متعلق شکایات سننے کو نہ ملتیں۔ 

پہلی ضرورت: صوبائی حکومت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ اُور ’ڈبلیو ایس ایس سی‘ سے پشاور کے ٹیوب ویلوں کے منجملہ کوائف طلب کرے‘ جس سے معلوم ہو جائے گا کہ پشاور میں کس طرح پانی کی فراہمی پر سیاسی کاروبار کیا جا رہا ہے۔ اِس سلسلے میں وزیراعلیٰ پبلک ہیلتھ سے رپورٹ طلب کر چکے ہیں‘ جسے فراہم کرنے میں غیرضروری طور پر تاخیر کی جا رہی ہے۔ دوسری ضرورت: پشاور شہر کی حدود میں پانی کے ترسیلی نظام کے نقشہ جات مرتب کئے جائیں اُور پانی کے ترسیلی پائپ لائن زیر زمین بچھانے کی بجائے اُنہیں ظاہر رکھا جائے تاکہ چوری کے پانی کنکشنوں کا خاتمہ ہو اُور کسی ایک ٹیوب ویل سے پانی کا ترسیلی درست خطوط پر استوار ہو۔ ذہن نشین رہے کہ ایک ٹیوب ویل کم سے کم ایک ہزار خاندانوں کی یومیہ کفالت ممکن ہوتی ہے اُور اِس تناسب سے دیکھا جائے تو پشاور کی 92 میں سے 43 یونین کونسلوں میں ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے کل 524 ٹیوب ویل فعال اُور کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے زیراستعمال 40 ٹیوب ویل‘ گیارہ پانی ذخیرہ کرنے کی بڑی ٹینکیاں اُور 39 فلٹریشن پلانٹس نصب ہیں۔ مجموعی طور پر پشاور میں سرکاری و نجی ٹیوب ویلوں کی تعداد 1400 سے زیادہ ہے جن سے ”یومیہ 800 ملین گیلن پانی“ حاصل کیا جا رہا ہے اُور یہ مقدار پشاور کی کل آبادی کی ضرورت سے کئی زیادہ ہے۔ توجہ طلب ہے کہ زیادہ تعداد میں ٹیوب ویلوں کی وجہ سے نہ صرف بجلی اُور پانی ضائع ہو رہا ہے بلکہ زیرزمین پانی کی سطح بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے لیکن اِس بارے میں بہت کم خوروخوض کیا جاتا ہے۔

’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے فیصلہ ساز ”خوابوں کی دنیا“ میں رہتے ہیں‘ جہاں ہمیشہ سب کچھ مثالی (سب اچھا) دکھائی دیتا ہے۔ سمجھنا ہوگا کہ ترقی اُور پائیدار ترقی کے نت نئے تصورات‘ نت نئے پرکشش ناموں سے متعارف کرنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ رواں ہفتے نئے جوش و جذبے سے ’ماڈل نیبرہڈ کونسلز‘ نامی حکمت ِعملی کا اعلان کرتے ہوئے ”ڈبلیو ایس ایس پی“ کے فیصلہ سازوں کو یقین ہے کہ وہ مقامی افراد کی شمولیت سے چنیدہ یونین کونسلوں میں صفائی کی صورتحال بہتر بنائی جائے گی اُور اِس سلسلے عوام کے تعاون سے پینے کے پانی کی بچت اُور حفظان صحت کے اصولوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ اِس حکمت ِعملی کے لئے اقوام متحدہ کے ذیلی عالمی امدادی ادارے ”یونیسیف (یونائٹیڈ نینشنز انٹرنیشنل چلڈرنز ایمرجنسی فنڈ)“ اُور ”اسلامک ریلیف پاکستان“ نامی دنیا کے پانچویں بڑے امدادی ادارے کے اشتراک سے عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ’اِسلامک ریلیف‘ نامی ادارہ 1992ءسے پاکستان میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اُور یہ پاکستان سمیت 29 ممالک میں کام کرنے والا شاید واحد مسلمان امدادی ادارہ ہے۔ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ نے پانچ یونین کونسلوں (قائد آباد کاکشال ٹو‘ زون اے میں یوسف آباد‘ زون بی میں رشید ٹاؤن‘ زون سی میں نوتھیہ قدیم اُور زون ڈی میں راحت آباد) کو مثالی (ماڈل) بنانے کے لئے ’یونیسیف‘ اُور ’اسلامک ریلیف‘ کے مالی تعاون سے تجرباتی جن اقدامات کا فیصلہ کیا ہے‘ اُن میں شجرکاری اُور صفائی ستھرائی شامل ہیں لیکن ماضی میں بھی اِسی قسم کی (ملتی جلتی) کوششوں کے اگر خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے تو فیصلہ سازی کی سطح پر غوروخوض ہونا چاہئے تاکہ وقت و مالی وسائل ضائع نہ ہوں اُور ماضی کی وہ غلطیاں بھی نہ دُہرائی جائیں جن کی وجہ سے کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بھی حاصل وصول صفر رہا ہے‘ البتہ ذرائع ابلاغ اُور سوشل میڈیا کے صفحات ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے اعلیٰ و ادنیٰ عہدوں پر کام کرنے والے اہلکاروں کی تصاویر اُور بیانات سے ہرے بھرے دکھائی دے رہے ہیں!

 منیر اِس ملک پر آسیب کا سایہ ہے کہ کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اُور سفر‘ آہستہ آہستہ (منیر نیازی)۔

....


Thursday, May 12, 2022

Incompleteness.

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

اَدھورا پن

شہر شہر اُور گاؤں گاؤں تعمیر و ترقی کا عمل کئی وجوہات کی بنا پر ’ادھورے پن‘ کا شکار ہے‘ جس میں ایک پہلو تو یہ ہے کہ قومی خزانے سے کی جانے والی تعمیروترقی میں مستقبل کے تقاضوں (آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات) کو مدنظر نہیں رکھا جاتا اُور دوسرا پہلو جو اِس بھی زیادہ  تشویش کا باعث ہے کہ قومی خزانے سے خطیر رقومات خرچ کرنے کے باوجود بھی تعمیروترقی عوام کے مسائل حل کرنے کا باعث (وسیلہ) نہیں۔ ترقیاتی ادھورے پن سے متعلق اِس تصور کو 2 مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پہلی مثال پشاور شہر کے علاقے سیٹھی ٹاؤن (پہاڑی پورہ)‘ کی ہے جہاں کے رہائشی ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی موسم گرما کے آغاز ہی سے 3 طرح کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ حسین چوک سے غالب سٹریٹ اُور اِس سے ملحقہ محلوں میں پینے کے پانی کی فراہمی گزشتہ کئی ہفتوں سے معطل ہے۔ پانی کب آئے گا‘ کسی کو کچھ نہیں معلوم اُور نہ ہی اُمید ہے لیکن پانی آئے نہ آئے آبنوشی کا بل باقاعدگی سے ادا کرنا ضروری ہے‘ جو ایک الگ موضوع ہے! سیٹھی ٹاؤن کی مذکورہ آبادی کے لئے ٹیوب ویل کی تنصیب متنازعہ قطعہئ اراضی میں کی گئی جس کا انتخاب ہی غلط تھا اُور یہی بنیادی غلطی پوری حکمت عملی کی ناکامی کا سبب بن گئی ہے کہ ٹیوب ویل کی اراضی ایک بااثر شخص کی ملکیت ہے اُور ٹیوب ویل لگنے کے بعد‘ مبینہ طور پر اُس نے اپنے بیٹے کو اِس بات کے لئے اہل سمجھا کہ وہ ’ٹیوب ویل آپریٹر‘ کی سرکاری ملازمت کرے لیکن جب اُس کا یہ مطالبہ پورا نہ ہوا تو اُس ٹیوب ویل بند کر دیا اُور سیٹھی ٹاؤن کے رہائشی پانی کی بوند بوند کو ترستے ہوئے ہر دن پانی راہ دیکھتے ہیں! سیٹھی ٹاؤن کا دوسرا مسئلہ ’نکاسیئ آب‘ کے نظام کی صفائی نہ ہونا اُور تیسرا مسئلہ کوڑا کرکٹ کی بروقت تلفی نہ ہونا ہے جس کے سبب مچھروں اُور مکھیوں کی اَفزائش (بہتات) ہے جبکہ مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کا جاری عرصہ (سیزن) اہل علاقہ کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ سب سے زیادہ ضروری اُور ٹیوب ویل کی واگزاری ہے‘ تاکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے! عجیب و غریب صورتحال یہ ہے کہ اگر ’عوامی مفاد‘ کو دیکھا جائے تو ’ٹیوب ویل بند کرنا‘ قانوناً جرم ہے لیکن چونکہ یہاں معاملہ ایک بااثر شخص کا ہے‘ اِس لئے ادارے خاموش اُور عوام بلک رہے ہیں!

تعمیروترقی اُور عوام کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں میں پائے جانے والے ”اَدھورے پن“ کی بدترین دوسری مثال سیٹھی ٹاؤن سے 150 کلومیٹر دور ’ہری پور‘ میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں کے ”منگ“ نامی دیہی علاقے میں 200 طلبہ کے لئے ”سرکاری ہائی سکول“ 10 سال قبل تعمیر ہوا‘ جس کے بعد اراضی کے مالک بااثر زمیندار اور محکمہئ تعلیم کے درمیان مالی امور پر تنازعہ پیدا ہوا اُور مذکورہ عمارت تعمیر تو ہوئی لیکن دس سال سے فعال نہ ہو سکی! تصور کیا جا سکتا ہے کہ 10 سال کتنا طویل عرصہ ہوتا ہے جسے ضائع کرنے سے علاقے کے کس قدر تعلیمی حرج ہو چکا ہے اُور یہ حرج مسلسل جاری بھی ہے! محکمہ تعلیم نے عارضی طور پر کرائے کی عمارت میں تین کمروں پر مشتمل سکول قائم کر رکھا ہے جبکہ میلوں سفر کر کے دور دراز سکول جانے والے کتنے ہی بچے سفری مشکلات کے باعث تعلیم کو الوداع کہہ چکے ہیں!

سرکاری ریکارڈ کے مطابق ہری پور کے ’خان پور روڈ‘ کے کنارے آباد ’منگ‘ گاؤں میں سکول 1913ء میں تعمیر ہوا تھا‘ جس کی خستہ حال (پرانی) عمارت کو کی جگہ زیادہ گنجائش والی نئی عمارت تعمیر کی گئی۔ نئی عمارت تعمیر کرے کے لئے سال 2004ء میں اُس وقت کے محکمہئ تعلیم کے ضلعی نگران (حیدر زمان مرحوم) اُور مالک اراضی (ملک اعظم خان) کے درمیان زبانی کلامی معاہدہ ہوا جس کے بعد 2012 میں 86لاکھ روپے کی لاگت سے نئی عمارت تعمیر کی گئی اُور معاہدے کے تحت پرانی عمارت والی اراضی زمیندار کو منتقل کرنا تھا۔ جب نئی عمارت میں کلاسیں شروع ہونے والی تھیں تو زمیندار نے معاہدے کے مطابق جائیداد کے حقوق کی منتقلی کے لئے محکمے پر دباؤ ڈالا اُور جب حکام نے اراضی کی ملکیت کے ریکارڈ کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ پرانی عمارت کا ٹکڑا ہری پور ضلع کونسل کی ملکیت ہے اُور سرکاری اراضی زمیندار کے نام منتقل کرنے سے معذرت کر لی گئی چونکہ زمیندار بااثر تھا اُس نے ہر طرح کا دباؤ استعمال کیا اُور عدالت سے بھی رجوع کیا جہاں دوہزارچودہ میں سول عدالت نے محکمہ تعلیم کو حکم دیا کہ وہ زمیندار کو دس لاکھ روپے فی کنال کے حساب سے ادائیگی کرے یا پھر زمیندار سکول کی تعمیراتی لاگت ادا کرے۔ محکمے نے عدالت کو بتایا کہ سکول کی تعمیر پر مجموعی کو ایک کروڑ چودہ لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔ محکمہ تعلیم نے بھی عدالت سے رجوع کیا اُور ہائی کورٹ نے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے دس لاکھ روپے فی کنال کی بجائے ’مارکیٹ ریٹ‘ یعنی دو لاکھ اَسی ہزار روپے فی کنال ادائیگی کا حکم دیا لیکن اِس پوری تگ و دو میں سکول کی نئی عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہی اُور مقامی افراد کے مطالبے پر خیبرپختونخوا محکمہئ تعلیم نے ایک نیا سکول تعمیر کرنے کے لئے چار کروڑ بیاسی لاکھ روپے منظور کئے ہیں۔ اِس پوری کہانی سے ’منصوبہ بندی کا فقدان‘ کھل کر سامنے آتا ہے اُور یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ انتظامی عہدوں پر فائز ہونے والوں کی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو کس قدر مالی نقصان جبکہ عوام کو کس قدر سنگین نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ ترقیاتی عمل سے زیادہ اِس کا ’ادھوراپن‘ دور کرنے کی ضرورت ہے اُور اِس سلسلے میں ادارہ جاتی فیصلوں پر نظرثانی کے لئے ضلعی سطح پر ایسی مشاورتی کمیٹیاں تشکیل دی جا سکتی ہیں جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہوں اُور اِن ’ٹیکنوکریٹس‘ کے ذریعے کسی بھی حکومتی ترقیاتی منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے جن میں بشمول لاگت‘ پائیداری‘ معیار‘ سماجی و ماحولیاتی اثرات اُور اِس کی راہ میں حائل ممکنہ قانونی رکاوٹوں کے بارے پہلے ہی سے سوچ بچار کر لیا جائے تو اِس سے حکومتی وسائل میں بچت اُور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی فراہمی میں روانی ممکن و برقرار بنائی جا سکتی ہے۔ 

اگر نیت میں فتور نہیں‘ اگر خالصتاً قومی و عوامی مفادات ہی پیش نظر ہیں تو ترقیاتی عمل کو سیاسی و انتخابی مفادات و ترجیحات کی قید سے آزاد کرانا ہوگا‘ جس کا ایک امکان بلدیاتی اداروں کو زیادہ بااختیار بنانا بھی ہے اُور اِس سے بھی بامقصد و باسہولت تعمیروترقی جیسے اہداف باآسانی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ ”اگر ہے جذبہئ تعمیر زندہ …… تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے!؟ (احمد ندیم قاسمی)“

……

Clipping from Daily Aaj May 12, 2022 Thursday 


Wednesday, August 5, 2020

Tale of occupied Tube-Well. WONDERFUL Peshawar!

مقبوضہ ٹیوب ویل

واٹر اِینڈ سینی ٹیشن سروسیز پشاور (اَلمعروف واسا) کی خدمات میں ”صاف پانی کی فراہمی“ وہ بنیادی کام ہے‘ جس کی اِہمیت و طلب موسم گرما میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ’واسا‘ کے زیرانتظام پشاور کی مختلف یونین کونسلوں میں فراہم کیا جانے والا پانی معیاری (صاف) اُور مقدار میں کافی ہو اُور اِس بات کی ضمانت بھی نہیں دی جاتی کہ کسی علاقے (یونین کونسل) کے صارفین کو فراہم کیا جانے والا پانی وہاں کے ہر گھر (ہر صارف) تک پہنچ بھی رہا ہے جبکہ پانی پہنچے یا نہ پہنچے لیکن ’پانی کا بل (Water Bill)‘ باقاعدگی سے وصول ہو جاتا ہے۔ وقت ہے کہ اخبارات میں شائع کروائی جانے والی کارکردگی پر اکتفا اُور مذکورہ سرکاری اِدارے کی خدمات کا دائرہ ہر دن وسیع کرنے کے ساتھ اُن صارفین کا اِعتماد حاصل کرنے کے بارے میں بھی سوچا جائے‘ جنہیں واسا کے ذریعے ملنے والا پانی اِس کے معیار اُور مقدار بارے شکایات و تحفظات ہیں اُور اِنہی آرا کی روشنی میں ’واسا کارکردگی کا اِحتساب‘ ہونا چاہئے۔

پشاور کی یونین کونسل نمبر 1‘ سیٹھی ٹاون (پہاڑی پورہ)‘ بلدیاتی بندوبست کے لحاظ سے ”ٹاون ون“کا حصہ اُور اُن ’چنیدہ‘ علاقوں میں شامل ہے‘ جہاں کے رہنے والوں کو کمال مہربانی سے (بطور احسان) ”شہریوں“ میں تو شمار کیا جاتا ہے لیکن اُنہیں شہریوں جیسی جملہ سہولیات میسر نہیں اُور نہ ہی واسا کے زیرانتظام تمام صارفین اُور تمام یونین کونسلوں (علاقوں) کو ایک نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیٹھی ٹاون کے ایک حصے کو پانی کی فراہمی کے سلسلے (نیٹ ورک) سے جوڑا گیا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پانی کی فراہمی کا یہ بندوبست ’واسا‘ کی تخلیق سے پہلے کا تھا‘ جس کی حسب ضرورت اصلاح نہیں کی گئی۔ سیٹھی ٹاون کی غالب سٹریٹ اُور اِس سے ملحقہ گلی کوچوں میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں ’آبنوش صارفین‘ کو ماہ رمضان المبارک سے پانی کی قلت کا سامنا ہے اُور اِس بات کی فریاد (شکایت) کرتے کرتے عید الفطر اُور عید الاضحی جیسے تہوار بھی فریاد کرتے گزر گئے لیکن پانی کے بل باقاعدگی سے وصول کرنے والوں کے ضمیر پر کسی بھی قسم کا بوجھ نہیں! پانی کے بل پر شکایات درج کرانے کے نمبروں پر ٹیلی فون کالز‘ متعلقہ ٹیوب ویل‘ واسا   زونل دفتر اُور قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین سے رجوع (رابطہ) کرنے کا بھی خاطرخواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا کہ پانی کی فراہمی بحال ہو سکے۔ 

آخر کب تک ٹیوب ویلوں سے پانی کی تقسیم جیسے معاملے میں بھی سیاسی مداخلت ہوتی رہے گی؟ 
اہل علاقہ کے بقول بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ماضی میں ٹیوب ویل کسی سرکاری زمین یا سرکاری کنٹرول والی جگہ پر نصب کرنے کی بجائے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والی ایک مقامی شخصیت (ملک سجاد) کے حجرے کی چاردیواری کے اندر‘ عام شاہراہ سے دور جگہ کا انتخاب کیا گیا‘ جہاں تک رسائی اُور مذکورہ حجرے میں داخلے کے حقوق محفوظ تھے۔ مذکورہ سیاسی و سماجی اُور مالی طور پر بااثر شخصیت نے ٹیوب ویل نصب ہونے کے بعد اپنے حجرے کے ایک حصے میں ’سوئمنگ پول‘ بنا کر کاروبار شروع کر دیا اُور یوں سرکاری بجلی‘ مشینری اُور ٹیوب ویل پر تعینات سرکاری عملے کی خدمات سے ’کمرشل سوئمنگ پول‘ بھرنے لگا۔ موسم گرما میں دور دراز سے لوگ تازہ پانی کے اِس سوئمنگ پول میں نہانے کے لئے آنے لگے یوں ”مقامی سیاحت“ میں ایک خوشگوار تفریح کا اضافہ ہوا‘ جو سراسر ’بدنیتی اُور بدعنوانی پر مبنی اقدام‘ اُور متعلقہ بلدیاتی ادارے کے اہلکاروں کی ملی بھگت کا مظہر تھا۔ ٹیوب ویل کا وہ پانی جو اہل علاقہ کو فراہم ہونا تھا وہ ایک ’نجی کمرشل سوئمنگ پول‘ کے لئے مختص کر دیا گیا اُور جب اہل علاقہ کی شکایات ذرائع ابلاغ کے ذریعے زیادہ ہوئیں تو پائپ لائن بچھا کر مذکورہ ٹیوب ویل سے آس پاس کے چند محلوں کو پانی فراہم کیا گیا لیکن اہل علاقہ کو پانی فراہم کرنا کبھی بھی ترجیح نہیں تھی۔ حسب سابق و معمول موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی ہزاروں لیٹر پانی سوئمنگ پول کو دیا جانے لگا جس کی وجہ سے پہلے پانی کی قلت اُور بعدازاں مکمل بندش کر دی گئی۔

سیٹھی ٹاون کے جملہ رہائشی‘ حسین چوک سے غالب سٹریٹ اُور رنگ روڈ (چغل پورہ) تک کسی نہ کسی صورت پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ کہیں سرکاری پائپ لائنیں مکمل خشک ہیں تو کہیں چند گھنٹوں کے لئے پانی فراہم کر کے صارفین کے منہ کر دیئے گئے ہیں۔ المیہ یہ بھی ہے کہ سیٹھی ٹاون میں زیرزمین پانی کی مقدار اِس حد تک کم ہو چکی ہے کہ گھروں میں موجود بورنگ کارآمد نہیں رہیں۔ پشاور کی اِس نسبتاً جدید رہائشی بستی میں تعمیر ہونے والے ہر مکان کے لئے زیرزمین پانی کے ذخیرے سے اِستفادہ ہوتا تھا لیکن ’پانی کی سطح‘ آبادی بڑھنے کے ساتھ کم ہوتی چلی گئی اُور اب سارے کا سارا انحصار ’واسا‘ کے فراہم کردہ پانی کے نیٹ ورک پر ہو چکا ہے‘ جو اپنی جگہ قابل بھروسہ نہیں۔ 

سیٹھی ٹاون سے تعلق رکھنے والے ’پانی کے صارفین‘ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے درخواست کی ہے کہ وہ اُن کے علاقے میں گزشتہ چھ ماہ سے جاری پانی کی شدید ترین قلت کا نوٹس لیں اُور مقبوضہ سرکاری ٹیوب ویل کو سیاسی جماعت کے چنگل سے واگزار کرانے کے علاوہ اُن تمام بلدیاتی اُور واسا اِہلکاروں کے خلاف تحقیقات کا حکم بھی دیں جو سرکاری ٹیوب ویل کے نجی استعمال و استفادے پر خاموش ہیں اُور یہ خاموشی بلاوجہ نہیں ہو سکتی! 

وقت ہے کہ پشاور کی جن یونین کونسلوں میں ’واسا‘ خدمات کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے وہاں کے صارفین کی آرا جاننے کے لئے کسی آزاد ذریعے سے سروے کیا جائے۔ ’واسا‘ کے لئے نئے سربراہ کی تعیناتی اپنی جگہ ایک الگ ضرورت ہے کیونکہ موجودہ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے سربراہ دیگر اہم محکموں (پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اُور میٹرو بس بی آر ٹی) کے بھی منتظم اعلیٰ ہیں اُور کسی ایک شخص کے لئے عملاً ممکن نہیں ہو سکتا کہ وہ باوجود خواہش و کوشش بھی بیک وقت تین محکموں کے اَمور نمٹاتے ہوئے اپنے عہدے سے جڑی ذمہ داریوں کی انجام دہی (کماحقہ) خوش اسلوبی سے کر سکے۔ 

سیٹھی ٹاون سمیت پشاور کے جن علاقوں میں صارفین کو حسب وعدہ پانی فراہم نہیں کیا جا رہا‘ اُن سے وصول شدہ گزشتہ کئی ماہ کے یوٹیلٹی بلز یا تو واپس ہونے چاہیئں یا پھر اُن بلوں کو آئندہ مہینوں میں (تاوقتیکہ) ایڈجسٹ کیا جائے‘ جب پانی کی فراہمی بحال ہو کیونکہ یہ بات مبنی بر انصاف نہیں کہ صارفین کو پانی تو نہ ملے لیکن آبنوشی کے ماہانہ بلوں کی باقاعدگی سے موصولی اُور وصولی کا عمل جاری رہے۔
....


Sunday, May 13, 2018

TRANSLATION: "Fundamental rights" by Dr. Farrukh Saleem

Fundamental rights
بنیادی حقوق
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ’زندہ رہنے کا حق‘ دے لیکن اِس آئینی ذمہ داری سے عہدہ برآء ہونے کی بجائے سیاسی و غیرسیاسی (منتخب و غیرمنتخب) حکومتوں نے دیگر ایسے اَمور کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنایا جو کم اہم تھیں جیسا کہ ملک کے مختلف شہروں میں ’میٹرو بس‘ کے منصوبے جاری یا مکمل ہیں لیکن وہاں کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی خاطرخواہ سہولیات میسر نہیں!

آئین پاکستان یہ کہتا ہے کہ ’’ہر پاکستانی کو زندہ رہنے کا حق ہے لہٰذا کسی بھی شخص بشمول حکومت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کی زندگی ختم کرنے کی کوشش کرے۔‘‘ آئین کی اِس شق سے بھی یہ نتیجہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ حکومت کی ذمہ داریوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ پاکستانیوں کی زندگی کو تحفظ دینے کے لئے خاطرخواہ اقدامات و انتظامات کرے۔

سوال: پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد کتنی ہے جو آلودہ پانی پینے کی وجہ سے ہر سال اسہال یعنی ڈائریا (دستوں کی بیماری) کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں؟ جواب: اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق پاکستان میں ہر سال 53 ہزار بچے ’ڈائریا‘ کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ تصور کیجئے کہ پاکستان میں سالانہ 53 ہزار ایسے والدین ہیں جو اپنے بچوں سے محروم ہو رہے ہیں کیونکہ اُنہیں پینے کے صاف پانی جیسی نعمت متروکہ میسر نہیں! اِس قدر بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکت لمحۂ فکریہ ہے کیونکہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں سے ’سال 2017ء‘ کے دوران 1 ہزار 260 افراد ہلاک ہوئے لیکن پینے کا صاف پانی نہ ملنے سے 53 ہزار بچے دیکھتے ہی دیکھتے موت کے منہ میں چلے گئے اُور یہ موت کا یہ تماشا جاری ہے!
عالمی بینک (ورلڈ بینک) کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں آلودہ پانی کی وجہ سے ملک کی مجموعی خام آمدنی کا 4 فیصد یعنی سالانہ 12 ارب ڈالر خرچ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں آلودہ پانی پینے سے صرف بچے ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ ہر عمر کے لوگ ٹائیفائیڈ‘ کلوریا‘ ہیپاٹائٹس (یرقان) اور قے و دست کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی سالانہ ہلاکتوں میں آلودہ پانی سے ہونے والی ہلاکتوں کا شمار 30 سے 40 فیصد ایک غیرمعمولی اور مختلف بیماریوں سے ہونے والی ’انتہائی بلند شرح اموات‘ ہے!
پاکستان حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی صحت و تندرستی کی ضمانت فراہم کرے۔ اُنہیں پینے کا صاف پانی مہیا کرے لیکن اگر حکومت ایسا نہیں کر رہی تو آخر یہ کام کون کرے گا؟ سوال: اقوام متحدہ (تنظیم) کے رکن ممالک کی تعداد 153 ہے جن وہ ملک کونسا ہے جہاں سب سے زیادہ نومولود بچے پیدائش کے چند ہفتوں بعد ہی مر جاتے ہیں؟ جواب: اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں ہر 22 میں سے ایک بچہ پیدائش کے چند ہفتوں بعد مر رہا ہے۔ اِس شرح کا موازنہ اگر جاپان سے کیا جائے تو وہاں ہر 1 ہزار 111 بچوں میں سے ایک نومولود بچے کی ہلاکت کا امکان ہوتا ہے۔ اگر حکومت پاکستان عوام کی جان اور صحت و تندرستی کی ضامن نہیں بنے گی تو پھر یہ آئینی ذمہ داری کون ادا کرے گا؟

صحت کی طرح تعلیم بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔ اسلامی جمہوریہ آئین کے آرٹیکل 25-A کے مطابق یہ ذمہ داری ریاست کی ہے کہ وہ پانچ سے سولہ سال کے ہر بچے کے لئے مفت اور لازماً تعلیم فراہم کرے لیکن برسرزمین (تلخ) حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کل 2 کروڑ 30 لاکھ بچوں میں سے 1 کروڑ 80 لاکھ تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں! ایک کروڑ اَسی لاکھ بچوں کی یہ تعداد دس سے سولہ سال کے درمیان ہے۔ اگر حکومت پاکستان عوام کی جان‘ صحت و تندرستی اور درس و تدریسکی ضامن نہیں بنے گی تو پھر یہ آئینی ذمہ داری کون ادا کرے گا؟

سوال: پاکستان میں زچگی کے دوران ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد کتنی ہے؟ جواب: عالمی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر سالانہ ہر ایک لاکھ خواتین میں سے 276 خواتین ہلاک ہو رہی ہیں اور بچے کی پیدائش کے عمل میں ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے اموات پسماندہ صوبے‘ اضلاع اور علاقوں میں زیادہ ہو رہی ہیں۔ کیوبا کی مثال لیں جہاں زچگی کے عمل سے گزرنے والی ہر ایک لاکھ خواتین میں سے 39 کی اموات ہوتی ہیں اور کیوبا حکومت نے ہر ایک ہزار باشندوں کے لئے 5.9 ڈاکٹر فراہم کئے ہیں جبکہ پاکستان میں ہر ایک ہزار افراد کے لئے 0.7 ڈاکٹرز دستیاب ہیں۔ حکومت پاکستان کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان‘ صحت و تندرستی اور تعلیم کی ضامن بنے لیکن اگر حکومت ہی اپنی اِس آئینی ذمہ داری کو اَدا نہیں کرے گی تو پھر یہ کون کرے گا؟ یہ سوال بھی جواب طلب ہے کہ پینے کا صاف پانی اُور صحت و تعلیم کی بنیادی سہولیات کے مقابلے ’میٹرو بسیں‘ فراہم کرنے سے کن آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی پوری ہوئی ہے اور کون کون سے ضروری کام باقی رہ گئے ہیں؟ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)