Showing posts with label UNICEF. Show all posts
Showing posts with label UNICEF. Show all posts

Friday, September 16, 2022

Water Distribution issues in Peshawar City.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: خوابوں کی دُنیا

صوبائی دارالحکومت پشاور میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اُور نکاسی آب سمیت کوڑا کرکٹ کی تلفی و صفائی کے لئے ذمہ دار ”واٹر اینڈ سینٹی ٹیشن سروسیز پشاور (WSSP)“ نامی ادارہ ”جنوری دوہزارچودہ“ میں قائم ہوا۔ اِس سے قبل پشاور شہر اُور ضلع پشاور میں ’میونسپل سروسیز‘ میونسپلٹی فراہم کرتی تھی‘ جسے تحلیل کر کے چار ٹاؤنز اُور ایک ضلعی نگران و منتظم ادارہ بنایا گیا تاہم بعدازاں چاروں ٹاؤنز اُور ضلعی ادارے سے صفائی ستھرائی‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اُور کوڑا کرکٹ کی تلفی جیسے بنیادی کام (متعلقہ امور بھی) ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کو اِس اعلان کے ساتھ سونپ دیئے گئے کہ یہ ادارہ پشاور کی تمام 92 یونین کونسلوں میں فعال کیا جائے گا اُور اُمید یہ بھی تھی کہ میونسپلٹی اُور بعدازاں چار ٹاؤنز سے جن میونسپل خدمات کو ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے سپرد کیا گیا ہے مذکورہ خدمات کا معیار بہتر ہوگا لیکن عملاً ایسا نہیں ہو سکا اُور یہ نتیجہ¿ خیال صرف عوامی رائے نہیں بلکہ یہی مؤقف پشاور سے منتخب اراکین صوبائی اسمبلی کا بھی ہے۔ رواں ہفتے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی‘ فوکل پرسن برائے میگا پراجیکٹس اور احیائے پشاور نامی حکمت ِعملی کے شریک نگران (ایم پی اے) آصف خان نے ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز پشاور‘ کو پشاور شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال‘ مسدود نکاسی آب اُور جا بجا کچرے (کوڑا کرکٹ) کے ڈھیروں کا حوالہ دیتے ہوئے ’کڑی تنقید‘ کا نشانہ بنایا تاہم یہ واضح نہیں کہ صوبائی حکومت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے قیام کو ”سنگین غلطی“ تسلیم کرتے ہوئے اِسے تحلیل کرتی ہے یا نہیں اُور کیا میونسپل خدمات دوبارہ چاروں ٹاؤنز اُور ضلعی بلدیاتی ادارے کو سونپ دی جائیں گی؟ لمحۂ فکریہ ہے کہ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے قیام سے پہلے پشاور میں مذکورہ تین میونسپل خدمات (پینے کے پانی کی فراہمی‘ نکاسی آب کو فعال رکھنے اُور کوڑا کرکٹ کی تلفی) پر اُٹھنے والے اخراجات میں کئی سو نہیں بلکہ کئی ہزار گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ پشاور کو مختلف علاقوں (زونز) میں تقسیم کر کے ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے انتظامی دفاتر کرائے کی عمارتوں میں قائم کئے گئے ہیں جبکہ ملازمین کو مراعات کی مد میں ایسی سہولیات بھی فراہم ہیں‘ جو اُن کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر واپس لے لینی چاہیئں!

جون دوہزار بائیس میں پیش کئے گئے رواں مالی سال 2022-23ءکے صوبائی ترقیاتی بجٹ میں ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ اُور ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی (ڈبلیو ایس ایس سی) کے لئے 6 ارب روپے مختص کئے گئے۔ اِن چھ ارب روپے سے اگر ملازمین کی تنخواہیں اُور مراعات ادا نہ کی جائیں تو پشاور کے کئی ایک مسائل حل ہو سکتے ہیں جبکہ تمام یونین کونسلوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ پشاور میں پینے کے پانی کی فراہمی کا انحصار زیرزمین آبی ذخیرے پر ہے‘ جس سے شہریوں کو 7 گھنٹے یومیہ پانی فراہم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن پشاور شہر کے کئی ایسے حصے بھی ہیں جہاں یومیہ ایک سے دو گھنٹے بمشکل پانی فراہم ہو رہا ہے اُور ایسا ہی ایک بدقسمت علاقہ ’یونین کونسل گنج‘ ہے۔ پشاور شہر کی اِس بالائی یونین کونسل گنج کے مختلف مقامات پر ایک درجن سے زائد ٹیوب ویل نصب ہیں لیکن پانی کی ترسیل کا غیرمنظم نظام ہونے کی وجہ سے گنج‘ یکہ توت‘ لاہوری اُور کریم پورہ کے کئی حصوں میں پینے کا پانی حسب ِاعلان یومیہ 7 گھنٹے فراہم نہیں ہو رہا۔ پانی کی قلت بالخصوص اُن علاقوں میں زیادہ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جو ڈھلوان پر ہیں جیسا کہ کوچہ بی بی ذکری‘ محلہ تیلیان‘ محلہ شیخ الاسلام‘ محلہ دفتر بندان اُور اِن سے ملحقہ دیگر محلہ جات کے صارفین کو بمشکل ایک سے دو گھنٹہ پانی فراہم کیا جاتا ہے جو اہل علاقہ کی ضرورت کے مطابق کفالت نہیں کرتا کیونکہ پانی کے ترسیلی نظام کی خرابی کے باعث زیرڈھلوان علاقے اپنے حصے سے زائد پانی لیجاتے ہیں! اندرون پشاور مذکورہ علاقوں میں پانی کی قلت کی 2 بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ’ٹیوب ویلوں‘ کے لئے جگہ کا انتخاب کرتے ہوئے غلط فیصلے ہیں جبکہ دوسری وجہ پانی کے ترسیلی نظام کی خرابیاں ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کسی علاقے میں ایک درجن ٹیوب ویل نصب ہونے کے باوجود بھی وہاں پانی کی قلت سے متعلق شکایات سننے کو نہ ملتیں۔ 

پہلی ضرورت: صوبائی حکومت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ اُور ’ڈبلیو ایس ایس سی‘ سے پشاور کے ٹیوب ویلوں کے منجملہ کوائف طلب کرے‘ جس سے معلوم ہو جائے گا کہ پشاور میں کس طرح پانی کی فراہمی پر سیاسی کاروبار کیا جا رہا ہے۔ اِس سلسلے میں وزیراعلیٰ پبلک ہیلتھ سے رپورٹ طلب کر چکے ہیں‘ جسے فراہم کرنے میں غیرضروری طور پر تاخیر کی جا رہی ہے۔ دوسری ضرورت: پشاور شہر کی حدود میں پانی کے ترسیلی نظام کے نقشہ جات مرتب کئے جائیں اُور پانی کے ترسیلی پائپ لائن زیر زمین بچھانے کی بجائے اُنہیں ظاہر رکھا جائے تاکہ چوری کے پانی کنکشنوں کا خاتمہ ہو اُور کسی ایک ٹیوب ویل سے پانی کا ترسیلی درست خطوط پر استوار ہو۔ ذہن نشین رہے کہ ایک ٹیوب ویل کم سے کم ایک ہزار خاندانوں کی یومیہ کفالت ممکن ہوتی ہے اُور اِس تناسب سے دیکھا جائے تو پشاور کی 92 میں سے 43 یونین کونسلوں میں ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے کل 524 ٹیوب ویل فعال اُور کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے زیراستعمال 40 ٹیوب ویل‘ گیارہ پانی ذخیرہ کرنے کی بڑی ٹینکیاں اُور 39 فلٹریشن پلانٹس نصب ہیں۔ مجموعی طور پر پشاور میں سرکاری و نجی ٹیوب ویلوں کی تعداد 1400 سے زیادہ ہے جن سے ”یومیہ 800 ملین گیلن پانی“ حاصل کیا جا رہا ہے اُور یہ مقدار پشاور کی کل آبادی کی ضرورت سے کئی زیادہ ہے۔ توجہ طلب ہے کہ زیادہ تعداد میں ٹیوب ویلوں کی وجہ سے نہ صرف بجلی اُور پانی ضائع ہو رہا ہے بلکہ زیرزمین پانی کی سطح بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے لیکن اِس بارے میں بہت کم خوروخوض کیا جاتا ہے۔

’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے فیصلہ ساز ”خوابوں کی دنیا“ میں رہتے ہیں‘ جہاں ہمیشہ سب کچھ مثالی (سب اچھا) دکھائی دیتا ہے۔ سمجھنا ہوگا کہ ترقی اُور پائیدار ترقی کے نت نئے تصورات‘ نت نئے پرکشش ناموں سے متعارف کرنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ رواں ہفتے نئے جوش و جذبے سے ’ماڈل نیبرہڈ کونسلز‘ نامی حکمت ِعملی کا اعلان کرتے ہوئے ”ڈبلیو ایس ایس پی“ کے فیصلہ سازوں کو یقین ہے کہ وہ مقامی افراد کی شمولیت سے چنیدہ یونین کونسلوں میں صفائی کی صورتحال بہتر بنائی جائے گی اُور اِس سلسلے عوام کے تعاون سے پینے کے پانی کی بچت اُور حفظان صحت کے اصولوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ اِس حکمت ِعملی کے لئے اقوام متحدہ کے ذیلی عالمی امدادی ادارے ”یونیسیف (یونائٹیڈ نینشنز انٹرنیشنل چلڈرنز ایمرجنسی فنڈ)“ اُور ”اسلامک ریلیف پاکستان“ نامی دنیا کے پانچویں بڑے امدادی ادارے کے اشتراک سے عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ’اِسلامک ریلیف‘ نامی ادارہ 1992ءسے پاکستان میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اُور یہ پاکستان سمیت 29 ممالک میں کام کرنے والا شاید واحد مسلمان امدادی ادارہ ہے۔ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ نے پانچ یونین کونسلوں (قائد آباد کاکشال ٹو‘ زون اے میں یوسف آباد‘ زون بی میں رشید ٹاؤن‘ زون سی میں نوتھیہ قدیم اُور زون ڈی میں راحت آباد) کو مثالی (ماڈل) بنانے کے لئے ’یونیسیف‘ اُور ’اسلامک ریلیف‘ کے مالی تعاون سے تجرباتی جن اقدامات کا فیصلہ کیا ہے‘ اُن میں شجرکاری اُور صفائی ستھرائی شامل ہیں لیکن ماضی میں بھی اِسی قسم کی (ملتی جلتی) کوششوں کے اگر خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے تو فیصلہ سازی کی سطح پر غوروخوض ہونا چاہئے تاکہ وقت و مالی وسائل ضائع نہ ہوں اُور ماضی کی وہ غلطیاں بھی نہ دُہرائی جائیں جن کی وجہ سے کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بھی حاصل وصول صفر رہا ہے‘ البتہ ذرائع ابلاغ اُور سوشل میڈیا کے صفحات ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے اعلیٰ و ادنیٰ عہدوں پر کام کرنے والے اہلکاروں کی تصاویر اُور بیانات سے ہرے بھرے دکھائی دے رہے ہیں!

 منیر اِس ملک پر آسیب کا سایہ ہے کہ کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اُور سفر‘ آہستہ آہستہ (منیر نیازی)۔

....


Sunday, May 13, 2018

TRANSLATION: "Fundamental rights" by Dr. Farrukh Saleem

Fundamental rights
بنیادی حقوق
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ’زندہ رہنے کا حق‘ دے لیکن اِس آئینی ذمہ داری سے عہدہ برآء ہونے کی بجائے سیاسی و غیرسیاسی (منتخب و غیرمنتخب) حکومتوں نے دیگر ایسے اَمور کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنایا جو کم اہم تھیں جیسا کہ ملک کے مختلف شہروں میں ’میٹرو بس‘ کے منصوبے جاری یا مکمل ہیں لیکن وہاں کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی خاطرخواہ سہولیات میسر نہیں!

آئین پاکستان یہ کہتا ہے کہ ’’ہر پاکستانی کو زندہ رہنے کا حق ہے لہٰذا کسی بھی شخص بشمول حکومت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کی زندگی ختم کرنے کی کوشش کرے۔‘‘ آئین کی اِس شق سے بھی یہ نتیجہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ حکومت کی ذمہ داریوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ پاکستانیوں کی زندگی کو تحفظ دینے کے لئے خاطرخواہ اقدامات و انتظامات کرے۔

سوال: پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد کتنی ہے جو آلودہ پانی پینے کی وجہ سے ہر سال اسہال یعنی ڈائریا (دستوں کی بیماری) کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں؟ جواب: اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق پاکستان میں ہر سال 53 ہزار بچے ’ڈائریا‘ کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ تصور کیجئے کہ پاکستان میں سالانہ 53 ہزار ایسے والدین ہیں جو اپنے بچوں سے محروم ہو رہے ہیں کیونکہ اُنہیں پینے کے صاف پانی جیسی نعمت متروکہ میسر نہیں! اِس قدر بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکت لمحۂ فکریہ ہے کیونکہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں سے ’سال 2017ء‘ کے دوران 1 ہزار 260 افراد ہلاک ہوئے لیکن پینے کا صاف پانی نہ ملنے سے 53 ہزار بچے دیکھتے ہی دیکھتے موت کے منہ میں چلے گئے اُور یہ موت کا یہ تماشا جاری ہے!
عالمی بینک (ورلڈ بینک) کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں آلودہ پانی کی وجہ سے ملک کی مجموعی خام آمدنی کا 4 فیصد یعنی سالانہ 12 ارب ڈالر خرچ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں آلودہ پانی پینے سے صرف بچے ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ ہر عمر کے لوگ ٹائیفائیڈ‘ کلوریا‘ ہیپاٹائٹس (یرقان) اور قے و دست کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی سالانہ ہلاکتوں میں آلودہ پانی سے ہونے والی ہلاکتوں کا شمار 30 سے 40 فیصد ایک غیرمعمولی اور مختلف بیماریوں سے ہونے والی ’انتہائی بلند شرح اموات‘ ہے!
پاکستان حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی صحت و تندرستی کی ضمانت فراہم کرے۔ اُنہیں پینے کا صاف پانی مہیا کرے لیکن اگر حکومت ایسا نہیں کر رہی تو آخر یہ کام کون کرے گا؟ سوال: اقوام متحدہ (تنظیم) کے رکن ممالک کی تعداد 153 ہے جن وہ ملک کونسا ہے جہاں سب سے زیادہ نومولود بچے پیدائش کے چند ہفتوں بعد ہی مر جاتے ہیں؟ جواب: اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں ہر 22 میں سے ایک بچہ پیدائش کے چند ہفتوں بعد مر رہا ہے۔ اِس شرح کا موازنہ اگر جاپان سے کیا جائے تو وہاں ہر 1 ہزار 111 بچوں میں سے ایک نومولود بچے کی ہلاکت کا امکان ہوتا ہے۔ اگر حکومت پاکستان عوام کی جان اور صحت و تندرستی کی ضامن نہیں بنے گی تو پھر یہ آئینی ذمہ داری کون ادا کرے گا؟

صحت کی طرح تعلیم بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔ اسلامی جمہوریہ آئین کے آرٹیکل 25-A کے مطابق یہ ذمہ داری ریاست کی ہے کہ وہ پانچ سے سولہ سال کے ہر بچے کے لئے مفت اور لازماً تعلیم فراہم کرے لیکن برسرزمین (تلخ) حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کل 2 کروڑ 30 لاکھ بچوں میں سے 1 کروڑ 80 لاکھ تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں! ایک کروڑ اَسی لاکھ بچوں کی یہ تعداد دس سے سولہ سال کے درمیان ہے۔ اگر حکومت پاکستان عوام کی جان‘ صحت و تندرستی اور درس و تدریسکی ضامن نہیں بنے گی تو پھر یہ آئینی ذمہ داری کون ادا کرے گا؟

سوال: پاکستان میں زچگی کے دوران ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد کتنی ہے؟ جواب: عالمی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر سالانہ ہر ایک لاکھ خواتین میں سے 276 خواتین ہلاک ہو رہی ہیں اور بچے کی پیدائش کے عمل میں ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے اموات پسماندہ صوبے‘ اضلاع اور علاقوں میں زیادہ ہو رہی ہیں۔ کیوبا کی مثال لیں جہاں زچگی کے عمل سے گزرنے والی ہر ایک لاکھ خواتین میں سے 39 کی اموات ہوتی ہیں اور کیوبا حکومت نے ہر ایک ہزار باشندوں کے لئے 5.9 ڈاکٹر فراہم کئے ہیں جبکہ پاکستان میں ہر ایک ہزار افراد کے لئے 0.7 ڈاکٹرز دستیاب ہیں۔ حکومت پاکستان کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان‘ صحت و تندرستی اور تعلیم کی ضامن بنے لیکن اگر حکومت ہی اپنی اِس آئینی ذمہ داری کو اَدا نہیں کرے گی تو پھر یہ کون کرے گا؟ یہ سوال بھی جواب طلب ہے کہ پینے کا صاف پانی اُور صحت و تعلیم کی بنیادی سہولیات کے مقابلے ’میٹرو بسیں‘ فراہم کرنے سے کن آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی پوری ہوئی ہے اور کون کون سے ضروری کام باقی رہ گئے ہیں؟ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Tuesday, March 10, 2015

Mar2015: UNICEF Report on FCR

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ظلم کادستور‘ تقدیر اُور اَندیش بابا
اَقوام متحدہ کے ذیلی اِدارے ’یونیسیف‘ کی جاری کردہ رپورٹ میں اِس اِنسانیت سوز فعل پر گہری تشویش کا اِظہار کیا گیا ہے کہ ’’قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوعمرافراد سے قیدخانوں میں اچھا سلوک روا نہیں رکھا جاتا جبکہ انہیں بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔‘‘ المیہ یہ ہے کہ جب تک ہمارے معاشرے میں ہونے ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی پائمالی کے خلاف کوئی عالمی ادارہ تشویش کا اظہار نہ کرے اور جب تک پوری دنیا میں پاکستان کا نام ایسی خبروں کے ساتھ جوڑ کر پیش نہ کیا جائے کہ جن پر آہوں‘ سسکیوں اور خون کے چھینٹے و دھبے لگے ہوئے ہوں‘ ہمارے ارباب اختیار کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ خلاؤں پر نظر رکھنے جیسی روش کی بدولت ہمیں اپنے پاؤں دکھائی نہیں دے رہے۔

پاکستان میں بچوں کی حالت (زار) کے عنوان سے جاری یونیسیف (UNICEF) کی رپورٹ میں نوعمر افراد سے متعلق آئین اور قواعد کی اُن شقوں کا گہرائی سے جائزہ لیاگیا ہے‘ جو بنیادی انسانی حقوق اور خود پاکستان کے قوانین سے متصادم ہیں۔ سال 2000ء کے ایک خاص قانون میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی وفاقی محتسب کا ادارہ بھی کر چکا ہے‘ جن کی کئی ایک مثالیں چاروں صوبوں میں معمولی جستجو سے مل جاتی ہیں لیکن رپورٹ میں بالخصوص قبائلی علاقوں کو موضوع بنایا گیا ہے جہاں ’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز (ایف سی آر)‘ کے قواعد اِس حد تک ’’امتیازی‘ ظالمانہ (استبدادانہ‘ سخت گیر و سفاکانہ)‘‘ ہیں‘ کہ اِن کا اطلاق سات سال کی عمر تک کے بچوں پر بھی ہوتا ہے۔ ’ایف سی آر‘ کے تحت گرفتار ہونے والے افراد بشمول بچوں سے سخت قسم کی مشقت لی جاتی ہے جو پاکستان کے بچوں کے حقوق اور جرائم کی صورت اُن سے روا رکھے جانے والے سلوک سے متعلق قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ یاد رہے کہ بچوں کے لئے انصاف کا قانون مجریہ 2000ء (جوویلین جسٹس سسٹم آرڈیننس 2000ء) کا اطلاق ایک صدارتی حکمنامے کے تحت اُن قبائلی علاقوں پر 20 اکتوبر 2004ء سے کر دیا گیا ہے جو صوبائی حکومت کے زیرکنٹرول (پاٹا) ہیں۔ اِس آرڈیننس کا دائرۂ کار بعدازاں وفاق کے زیرکنٹرول قبائلی علاقوں تک بھی پھیلا دیا گیا لیکن اِس پر خاطرخواہ عمل درآمد نہ ہونے کی نشاندہی ایک عالمی رپورٹ میں کی گئی ہے۔ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں سے بات چیت کی جائے تو وہ اِس قدر خوفزدہ پائے جاتے ہیں کہ ’ایف سی آر‘ سے متعلق سوال کا جواب ’ہوں یا ہاں‘ سے زیادہ میں نہیں دے پاتے۔ ’آف دی ریکارڈ‘ بات کی جائے تو اُن کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے ہیں۔ زبان لڑکھڑانے لگتی ہے اور یہ الفاظ بمشکل ادا ہوتے ہیں کہ ’’ظلم کا دستور اور قبائلی تقدیر نہ جانے کب بدلے گی!‘‘

حقیقت حال یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کو بنیادی سہولیات تو دور کی بات وہ آئینی حقوق بھی حاصل نہیں جو بندوبستی (باقی ماندہ پاکستانی) علاقوں میں رہنے والوں کو حاصل ہیں۔ کیا وفاق پاکستان (کسی ایک اکائی) نے قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کے حقوق کی ادائیگی سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے تو پھر بھی بہت دور ہیں‘ قبائلی علاقہ جات سے متصل پشاور کا رویہ بھی قابل ذکر نہیں۔ قبائلی علاقوں کی اپنی روایات واقدار کا بہانہ بنا کر اُن پر جو حکمران مسلط کئے جاتے ہیں‘ اُن کی اکثریت کا تعلق ’اِن علاقوں سے نہیں ہوتا!‘ حتیٰ کہ اُن میں سے چند ایک ایسے بھی ہیں جو قبائلی لب و لہجے میں تو کیا‘ میدانی علاقوں کی پشتو زبان بھی روانی سے نہیں بول سکتے! سب کی نظریں قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے مالی وسائل پر ہیں‘ افغانستان کے ساتھ باضابطہ و بے ضابطہ تجارت سے مالی فوائد اُٹھانے والوں میں اعلیٰ و ادنی سرکاری اہلکار ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین کے نام آتے ہیں! اِن درآمدی حکمرانوں‘ متعصب فیصلہ سازوں اور حاکمانہ طرز عمل رکھنے والے منتظمین (پولیٹیکل ایڈمنسٹریشن) کے ذریعے جن انسانوں کو غلام بنا کر رکھا گیا‘ وہ محب وطن اور عزت نفس جیسی غیرت سے مالا مال نہ ہوتے تو کب کے پاکستان سے علیحدگی اختیار کر چکے ہوتے۔

طبقات کو محروم و محکوم کرنے کی حکمت عملی اگر برطانوی راج نے مرتب کی گئی تھی تو اِس میں تبدیلی ناگزیر حد تک ضروری ہے کیونکہ بات صرف انسانی حقوق کی پائمالی ہی کی نہیں بلکہ منظم جرائم پیشہ‘ عسکریت پسند اور انتہاء پسند گروہوں کی بھی ہے جو ’ایف سی آر‘ جیسے امتیازی قواعد و ضوابط کی آڑ لئے ہوئے ہیں۔ 2 ہزار 640کلومیٹر (1640 میل) پر پھیلے پاک افغان سرحد سے متعلق 1893ء میں ایک معاہدہ برطانوی سفارتکار سر مارٹیمر ڈیورنڈ اور افغان امیر عبدالرحمن خان کے درمیان ہوا تھا‘ جس کے تحت افغانستان کے برطانوی راج سے تعلقات و تجارت جیسے معاملات طے کرتے ہوئے طاقت کے نشے میں دھت برطانوی راج نے افغان کو ایک آزاد حیثیت کے طور پر تسلیم کیا اور پختون و بلوچ مقامی قبائل کو تقسیم کرتے ہوئے جو سرحد بنائی گئی‘ اُس سے متصل سات قبائلی علاقے اور چھ فرنٹیئر ریجنز (نیم قبائلی علاقوں) پر مشتمل ہے۔ برطانوی راج کے مفادات کے تحفظ کے لئے بعدازاں ’ایف سی آر‘ نامی قواعد تشکیل دیئے گئے‘ جو ترامیم کے بعد 1901ء سے موجودہ شکل میں رائج ہیں اور ان میں وقتاًفوقتاً ترامیم بھی ہوتی رہتی ہیں جیسا کہ 1947ء میں ہوئی ایک ترمیم کے مطابق کسی بھی قبائلی علاقے کے رہنے والے کو گرفتار کیا جاسکتا ہے اگرچہ اُس نے کوئی بھی جرم نہ کیا ہو!

پس تحریر: پشتو زبان کے معروف شاعر‘ ادیب اور دانشور شمس القمر اَندیش آٹھ مارچ کی شب خالق حقیقی سے جاملے۔ ’اَندیش بابا‘ کی رحلت سے پشتو ادب ایک علمی شخصیت سے محروم ہوا ہے‘ جو اپنی ذات میں ایک تحریک تھے۔ آپ ’اُولسی اَدبی ٹولنہ مردان‘ کے بانی اَراکین میں شمار کئے جاتے ہیں اور آپ کا تعلق ضلع مردان کے ’مایار‘ نامی گاؤں سے تھا۔ اُن کی شاعری و علمی اَدبی شہ پارے غیرمطبوعہ ہیں جبکہ وہ اپنی زندگی میں ایک ہی کتاب شائع کرنے میں کامیاب ہوسکے جس کا نام ’فخر اَفغان‘ تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے ’پاکستان کا بہترین شاعر‘ ہونے کا اِعزاز رکھنے والے ’اَندیش بابا‘ 1933ء میں پیدا ہوئے اور اپنے آبائی علاقے میں ایک میڈیکل سٹور چلا کر گزر بسر کرتے تھے۔ اَلمیہ ہے کہ ہمارے ہاں شاعر و ادیب اور دانشوروں کے کلام وکام کو اُس وقت سراہا جاتا ہے جب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہتے۔ آج بھی کئی ایک شاعر‘اَدیب‘ مفکر اور دانشور زندہ ہیں‘ جن کی خدمات کو سراہا جائے تو اس سے نہ صرف اَدبی شعبے میں اِس خطے کی سوچ و کارکردگی نمایاں ہو سکے گی‘ بلکہ اَمن کا وہ پیغام بھی عام ہو سکے گا‘ جو پورے ملک کی ضرورت ہے۔ اپنی زبان و ثقافت پر فخر اُور ’خدائی خدمتگار تحریک‘ کی فکر کو توانا کرنے میں ’اندیش بابا‘ کی ادبی و عملی پرخلوص خدمات ہمیشہ زندہ اور یاد رکھی جائیں گے۔