Showing posts with label WSSP. Show all posts
Showing posts with label WSSP. Show all posts

Friday, September 16, 2022

Water Distribution issues in Peshawar City.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: خوابوں کی دُنیا

صوبائی دارالحکومت پشاور میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اُور نکاسی آب سمیت کوڑا کرکٹ کی تلفی و صفائی کے لئے ذمہ دار ”واٹر اینڈ سینٹی ٹیشن سروسیز پشاور (WSSP)“ نامی ادارہ ”جنوری دوہزارچودہ“ میں قائم ہوا۔ اِس سے قبل پشاور شہر اُور ضلع پشاور میں ’میونسپل سروسیز‘ میونسپلٹی فراہم کرتی تھی‘ جسے تحلیل کر کے چار ٹاؤنز اُور ایک ضلعی نگران و منتظم ادارہ بنایا گیا تاہم بعدازاں چاروں ٹاؤنز اُور ضلعی ادارے سے صفائی ستھرائی‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اُور کوڑا کرکٹ کی تلفی جیسے بنیادی کام (متعلقہ امور بھی) ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کو اِس اعلان کے ساتھ سونپ دیئے گئے کہ یہ ادارہ پشاور کی تمام 92 یونین کونسلوں میں فعال کیا جائے گا اُور اُمید یہ بھی تھی کہ میونسپلٹی اُور بعدازاں چار ٹاؤنز سے جن میونسپل خدمات کو ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے سپرد کیا گیا ہے مذکورہ خدمات کا معیار بہتر ہوگا لیکن عملاً ایسا نہیں ہو سکا اُور یہ نتیجہ¿ خیال صرف عوامی رائے نہیں بلکہ یہی مؤقف پشاور سے منتخب اراکین صوبائی اسمبلی کا بھی ہے۔ رواں ہفتے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی‘ فوکل پرسن برائے میگا پراجیکٹس اور احیائے پشاور نامی حکمت ِعملی کے شریک نگران (ایم پی اے) آصف خان نے ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز پشاور‘ کو پشاور شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال‘ مسدود نکاسی آب اُور جا بجا کچرے (کوڑا کرکٹ) کے ڈھیروں کا حوالہ دیتے ہوئے ’کڑی تنقید‘ کا نشانہ بنایا تاہم یہ واضح نہیں کہ صوبائی حکومت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے قیام کو ”سنگین غلطی“ تسلیم کرتے ہوئے اِسے تحلیل کرتی ہے یا نہیں اُور کیا میونسپل خدمات دوبارہ چاروں ٹاؤنز اُور ضلعی بلدیاتی ادارے کو سونپ دی جائیں گی؟ لمحۂ فکریہ ہے کہ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے قیام سے پہلے پشاور میں مذکورہ تین میونسپل خدمات (پینے کے پانی کی فراہمی‘ نکاسی آب کو فعال رکھنے اُور کوڑا کرکٹ کی تلفی) پر اُٹھنے والے اخراجات میں کئی سو نہیں بلکہ کئی ہزار گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ پشاور کو مختلف علاقوں (زونز) میں تقسیم کر کے ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے انتظامی دفاتر کرائے کی عمارتوں میں قائم کئے گئے ہیں جبکہ ملازمین کو مراعات کی مد میں ایسی سہولیات بھی فراہم ہیں‘ جو اُن کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر واپس لے لینی چاہیئں!

جون دوہزار بائیس میں پیش کئے گئے رواں مالی سال 2022-23ءکے صوبائی ترقیاتی بجٹ میں ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ اُور ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی (ڈبلیو ایس ایس سی) کے لئے 6 ارب روپے مختص کئے گئے۔ اِن چھ ارب روپے سے اگر ملازمین کی تنخواہیں اُور مراعات ادا نہ کی جائیں تو پشاور کے کئی ایک مسائل حل ہو سکتے ہیں جبکہ تمام یونین کونسلوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ پشاور میں پینے کے پانی کی فراہمی کا انحصار زیرزمین آبی ذخیرے پر ہے‘ جس سے شہریوں کو 7 گھنٹے یومیہ پانی فراہم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن پشاور شہر کے کئی ایسے حصے بھی ہیں جہاں یومیہ ایک سے دو گھنٹے بمشکل پانی فراہم ہو رہا ہے اُور ایسا ہی ایک بدقسمت علاقہ ’یونین کونسل گنج‘ ہے۔ پشاور شہر کی اِس بالائی یونین کونسل گنج کے مختلف مقامات پر ایک درجن سے زائد ٹیوب ویل نصب ہیں لیکن پانی کی ترسیل کا غیرمنظم نظام ہونے کی وجہ سے گنج‘ یکہ توت‘ لاہوری اُور کریم پورہ کے کئی حصوں میں پینے کا پانی حسب ِاعلان یومیہ 7 گھنٹے فراہم نہیں ہو رہا۔ پانی کی قلت بالخصوص اُن علاقوں میں زیادہ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جو ڈھلوان پر ہیں جیسا کہ کوچہ بی بی ذکری‘ محلہ تیلیان‘ محلہ شیخ الاسلام‘ محلہ دفتر بندان اُور اِن سے ملحقہ دیگر محلہ جات کے صارفین کو بمشکل ایک سے دو گھنٹہ پانی فراہم کیا جاتا ہے جو اہل علاقہ کی ضرورت کے مطابق کفالت نہیں کرتا کیونکہ پانی کے ترسیلی نظام کی خرابی کے باعث زیرڈھلوان علاقے اپنے حصے سے زائد پانی لیجاتے ہیں! اندرون پشاور مذکورہ علاقوں میں پانی کی قلت کی 2 بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ’ٹیوب ویلوں‘ کے لئے جگہ کا انتخاب کرتے ہوئے غلط فیصلے ہیں جبکہ دوسری وجہ پانی کے ترسیلی نظام کی خرابیاں ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کسی علاقے میں ایک درجن ٹیوب ویل نصب ہونے کے باوجود بھی وہاں پانی کی قلت سے متعلق شکایات سننے کو نہ ملتیں۔ 

پہلی ضرورت: صوبائی حکومت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ اُور ’ڈبلیو ایس ایس سی‘ سے پشاور کے ٹیوب ویلوں کے منجملہ کوائف طلب کرے‘ جس سے معلوم ہو جائے گا کہ پشاور میں کس طرح پانی کی فراہمی پر سیاسی کاروبار کیا جا رہا ہے۔ اِس سلسلے میں وزیراعلیٰ پبلک ہیلتھ سے رپورٹ طلب کر چکے ہیں‘ جسے فراہم کرنے میں غیرضروری طور پر تاخیر کی جا رہی ہے۔ دوسری ضرورت: پشاور شہر کی حدود میں پانی کے ترسیلی نظام کے نقشہ جات مرتب کئے جائیں اُور پانی کے ترسیلی پائپ لائن زیر زمین بچھانے کی بجائے اُنہیں ظاہر رکھا جائے تاکہ چوری کے پانی کنکشنوں کا خاتمہ ہو اُور کسی ایک ٹیوب ویل سے پانی کا ترسیلی درست خطوط پر استوار ہو۔ ذہن نشین رہے کہ ایک ٹیوب ویل کم سے کم ایک ہزار خاندانوں کی یومیہ کفالت ممکن ہوتی ہے اُور اِس تناسب سے دیکھا جائے تو پشاور کی 92 میں سے 43 یونین کونسلوں میں ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے کل 524 ٹیوب ویل فعال اُور کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے زیراستعمال 40 ٹیوب ویل‘ گیارہ پانی ذخیرہ کرنے کی بڑی ٹینکیاں اُور 39 فلٹریشن پلانٹس نصب ہیں۔ مجموعی طور پر پشاور میں سرکاری و نجی ٹیوب ویلوں کی تعداد 1400 سے زیادہ ہے جن سے ”یومیہ 800 ملین گیلن پانی“ حاصل کیا جا رہا ہے اُور یہ مقدار پشاور کی کل آبادی کی ضرورت سے کئی زیادہ ہے۔ توجہ طلب ہے کہ زیادہ تعداد میں ٹیوب ویلوں کی وجہ سے نہ صرف بجلی اُور پانی ضائع ہو رہا ہے بلکہ زیرزمین پانی کی سطح بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے لیکن اِس بارے میں بہت کم خوروخوض کیا جاتا ہے۔

’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے فیصلہ ساز ”خوابوں کی دنیا“ میں رہتے ہیں‘ جہاں ہمیشہ سب کچھ مثالی (سب اچھا) دکھائی دیتا ہے۔ سمجھنا ہوگا کہ ترقی اُور پائیدار ترقی کے نت نئے تصورات‘ نت نئے پرکشش ناموں سے متعارف کرنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ رواں ہفتے نئے جوش و جذبے سے ’ماڈل نیبرہڈ کونسلز‘ نامی حکمت ِعملی کا اعلان کرتے ہوئے ”ڈبلیو ایس ایس پی“ کے فیصلہ سازوں کو یقین ہے کہ وہ مقامی افراد کی شمولیت سے چنیدہ یونین کونسلوں میں صفائی کی صورتحال بہتر بنائی جائے گی اُور اِس سلسلے عوام کے تعاون سے پینے کے پانی کی بچت اُور حفظان صحت کے اصولوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ اِس حکمت ِعملی کے لئے اقوام متحدہ کے ذیلی عالمی امدادی ادارے ”یونیسیف (یونائٹیڈ نینشنز انٹرنیشنل چلڈرنز ایمرجنسی فنڈ)“ اُور ”اسلامک ریلیف پاکستان“ نامی دنیا کے پانچویں بڑے امدادی ادارے کے اشتراک سے عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ’اِسلامک ریلیف‘ نامی ادارہ 1992ءسے پاکستان میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اُور یہ پاکستان سمیت 29 ممالک میں کام کرنے والا شاید واحد مسلمان امدادی ادارہ ہے۔ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ نے پانچ یونین کونسلوں (قائد آباد کاکشال ٹو‘ زون اے میں یوسف آباد‘ زون بی میں رشید ٹاؤن‘ زون سی میں نوتھیہ قدیم اُور زون ڈی میں راحت آباد) کو مثالی (ماڈل) بنانے کے لئے ’یونیسیف‘ اُور ’اسلامک ریلیف‘ کے مالی تعاون سے تجرباتی جن اقدامات کا فیصلہ کیا ہے‘ اُن میں شجرکاری اُور صفائی ستھرائی شامل ہیں لیکن ماضی میں بھی اِسی قسم کی (ملتی جلتی) کوششوں کے اگر خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے تو فیصلہ سازی کی سطح پر غوروخوض ہونا چاہئے تاکہ وقت و مالی وسائل ضائع نہ ہوں اُور ماضی کی وہ غلطیاں بھی نہ دُہرائی جائیں جن کی وجہ سے کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بھی حاصل وصول صفر رہا ہے‘ البتہ ذرائع ابلاغ اُور سوشل میڈیا کے صفحات ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے اعلیٰ و ادنیٰ عہدوں پر کام کرنے والے اہلکاروں کی تصاویر اُور بیانات سے ہرے بھرے دکھائی دے رہے ہیں!

 منیر اِس ملک پر آسیب کا سایہ ہے کہ کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اُور سفر‘ آہستہ آہستہ (منیر نیازی)۔

....


Sunday, August 1, 2021

Tale of Peshawar: Facing rain!

پشاور کہانی: خدا جانے یہ کیسی دشمنی ہے!؟

برسات کے جاری دورانیئے (جولائی تا ستمبر) کے دوران اب تک ہوئی بارشوں نے اہل پشاور کی پریشانی و مشکلات میں اضافہ کیا ہے اُور آنے والے دنوں کے بارے میں تشویش کا اظہار ہو رہا ہے۔ اِس منظرنامے کا موازنہ اگر ماضی سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ماضی میں اندرون شہر کے علاقوں (کوہاٹی گیٹ‘ قصہ خوانی‘ پیپل منڈی‘ بازازاں‘ سبزی منڈی‘ ریتی بازار اُور اشرف روڈ تا شاہی باغ) پانی کی نکاسی بذریعہ شاہی کھٹہ ہو جاتی تھی لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ شاہی کھٹے کے کھلے ہوئے چند حصوں جیسا کہ کوہاٹی گیٹ سے براستہ پشت قصہ خوانی تک اُور سبزی و منڈی سے ریتی بازار تک بارش کا پانی شاہی کٹھے سے اُبل آتا ہے کیونکہ پچاس برس سے تجاوزات‘ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر اُور مٹی و ریت کے تہہ میں جمع ہونے کی وجہ سے شاہی کٹھے سے نکاس ہونے والے پانی کی گنجائش کم ہو گئی ہے اُور اگر معمولی بارش سے بھی پشاور شہر میں جھل تھل ایک ہو جاتے ہیں تو اِس بات پر تعجب کا اظہار نہیں ہونا چاہئے کیونکہ پشاور کے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں نے شاہی کٹھے پر تجاوزات قائم کرنے کی اجازت دے کر اپنے پاو¿ں پر خود کلہاڑی ماری ہے! توجہ طلب ہے کہ تجاوزات عموماً نجی طور پر قائم کی جاتی ہیں لیکن شاہی کٹھے پر چند تجاوزات سرکاری خرچ سے بنائی گئی ہیں اُور اِن کی تعمیر میں نہ صرف پشاور شہر کے لئے بلدیاتی ترقیاتی مالی وسائل بلکہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کے فنڈز بھی استعمال ہوئے ہیں لیکن جب شاہی کٹھے پر قائم تجاوزات کو ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو ضلعی‘ بلدیاتی‘ صوبائی اُور وفاقی حکومتوں کے پاس 2 سے 3 ارب روپے نہیں‘ تاکہ پشاور سے نکاسی¿ آب کا مسئلہ کم سے کم آئندہ پچاس برس تک کے لئے حل کر لیا جائے۔

مون سون (جولائی تا ستمبر) یا دیگر مہینوں میں بارشوں سے غریب آباد‘ زریاب کالونی‘ زرگرآباد‘ نوتھیہ پھاٹک‘ گڑ منڈی اُور سبزی منڈی و ملحقہ علاقوں کا زیرآب آنا معمول بن چکا ہے لیکن اِس مسئلے کا حل جانتے ہوئے بھی مستقل بنیادوں پر نہیں کیا جا رہا۔ شاہی کٹھے کی کل لمبائی 10 کلومیٹر ہے جس کی مرکزی راہداری (حصے) اُور اِس میں آ کر گرنے والی نالیوں کی صفائی کے لئے نہ تو درکار خصوصی آلات (مشینری) دستیاب ہے اُور نہ ہی شاہی کٹھہ میں پانی کی روانی برقرار رکھنے کے ’صفائی عملہ‘ بھرتی کیا گیا ہے۔ تعجب خیز ہے کہ اِس دس کلومیٹر طویل نکاسی¿ آب کے انتہائی اہم وسیلے کا صرف ’5 فیصد‘ یا اِس سے کم حصہ کھلا ہے‘ جہاں سے اِس کی صفائی ممکن ہے۔ شاہی کٹھے کو بنائے 100 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اُور یہ مہاراجہ رنجیت سنگھ (پیدائش 1780ءوفات 1839ئ) کے دور پشاور میں بطور گورنر تعینات اطالوی فوجی جنرل پاو¿لو مارٹینو ایوٹیبل (پیدائش 1791ئ۔ وفات 1850ئ) نے نہ صرف ’شاہی کٹھہ (نکاسی¿ آب کا مرکزی نظام)‘ تعمیر کروایا تھا بلکہ اُنہوں نے پشاور کے گلی کوچوں میں راستے بھی تخلیق کئے‘ اُور یہ دونوں تعمیراتی شاہکار جہاں پشاور کا حسن و کشش ہیں وہیں پشاور کی آبادی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی ضروریات بھی پوری کر رہے ہیں۔ پشاور سے جنرل ایوٹیبل المعروف ابوطبیلہ کی دلی محبت کو اہل پشاور نے اُس وقت بھی خراج تحسین پیش کیا تھا اُور آج بھی اُن کا تذکرہ بطور فاتح حکمران نہیں بلکہ پشاور کے تعمیروترقی میں حصہ داری کے عنوان سے کیا جاتا ہے۔ پشاور سے متعلق موجودہ فیصلہ سازوں کو جنرل ایوٹیبل کے کم سے کم 2 کارہائے نمایاں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ ایک تو شاہی کٹھے کی کشش ثقل کی بنیاد پر تعمیر ہے اُور دوسرا اُنہوں نے فصیل شہر کے اندر پشاور کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ایک نئی فصیل شہر بھی تعمیر کروائی تھی تاکہ پشاور کے دو الگ الگ حصوں میں رہنے والی آبادی کی مختلف ضروریات کو پورا کیا جا سکے اُور پشاور میں شہری سہولیات کا دائرہ کار بڑھانے میں بھی آسانی رہے۔ جنرل ایوٹیبل نے پشاور کی توسیع کی بنیاد بھی رکھی تھی اُور اُن کے بنائے ہوئے شہری نقشے (ٹاو¿ن پلاننگ) کو دیکھتے ہوئے اگر پشاور کی موجودہ توسیع و ترقی کا جامع خاکہ تیار کیا جائے تو اِس سے موجودہ مسائل جو بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں کے حال کرنے میں آسانی رہے گی۔ صوبائی حکومت نے ’احیائے پشاور‘ کے نام سے حکمت عملی وضع کی ہے جس کی ذیل میں ڈیڑھ برس کے دوران ہوئی پیشرفت خاصی اہم ہے اُور اِس میں سینکڑوں کی تعداد میں ترقیاتی امور کی نشاندہی ہو چکی ہے لیکن اصل ضرورت تو کاغذوں میں لکھی اُور اجلاسوں میں بیان کئے گئے تصورات اُور خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی ہے۔ جنرل ایویٹیبل غیرمقامی تھا وہ چند برس پشاور میں مقیم رہا اُور وہ قرض بھی ادا کر گیا‘ جو اُس کے ذمے واجب بھی نہیں تھے لیکن ہمارے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں کو اپنے حال اُور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے پشاور کے بارے سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ اگر پشاور سے نکاسی¿ آب کی مقدار و معیار میں اضافہ نہیں کیا جاتا تو اِس سے پشاور بار بار ڈوبتا رہے گا اُور دوسری ضرورت پشاور کی توسیع میں ’ٹاو¿ن پلاننگ‘ کی ہے کہ کوئی ایک بھی رہائشی بستی ایسی نہیں بنائی جا سکی جس میں پشاور کے روائتی فن تعمیر اُور گلی کوچوں کا رنگ نمایاں ہو۔ جہاں نکاسی¿ آب کا نظام شاہی کٹھے کی طرز پر اِس قدر وسیع ہو کہ سینکڑوں برس تک استعمال کے باوجود بھی فعال رہے اُور جہاں سہولیات کی فراہمی کا نظام اِس قدر سوچا سمجھا ہو کہ محلے کوچے اُور گلیاں معرض وجود میں آئیں جن سے سماج ایک دوسرے سے جڑ کر رہے۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ اُور خوشی غم میں اہل محلہ مل جل کر حصہ لیں جبکہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پشاور کے مضافات میں جس قدر بھی نئی آبادیاں بنائی گئی ہیں‘ وہاں کے رہنے والوں کو دیوار کے ساتھ جڑے گھر کی چاردیواری کی خبر نہیں ہوتی۔ پشاور سے تعلق کا رشتہ جو کبھی غیرمقامی بھی قائم کر لیا کرتے تھے‘ آج پشاور کے وسائل پر پلنے والے بھی ’محبت کی وہ حرارت‘ محسوس نہیں کر رہے جو پشاور کی پراسرار مقناطیسی کشش اُور خاصہ ہے۔ القصہ مختصر پشاور اجنبیوں سے بھر گیا ہے اُور اجنبیت کے اِس ماحول میں منصوبہ بندی کرنے والے بھی شامل ہیں جن کے ذہانت و توجہ سے مسائل میں کمی کی بجائے بحرانوں کی صورت ہر دن اُور ہر بارش در بارش اضافہ ہو رہا ہے! ”تعلق ہے نہ اب ترک تعلق .... خدا جانے یہ کیسی دشمنی ہے (کامل بہزاد)۔“

....


Wednesday, January 6, 2021

Tale of never ending encroachments & Peshawar!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

تجاوزات: نیا عزم

کراچی اُور پشاور کی کہانی اُور قسمت ایک جیسی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے پہلے اُور دنیا کے ساتویں بڑے شہر ’کراچی‘ میں تجاوزات سے متعلق مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ (سپرئم کورٹ آف پاکستان) کے چیف جسٹس گلزار احمد نے گزشتہ ہفتے (29 دسمبر 2020ءکے روز) اِس بارے سندھ حکومت کو متوجہ کیا تھا کہ ”کراچی گاوں نما لگتا ہے کیونکہ یہاں کچھ بھی مثالی حالت میں موجود نہیں۔ سڑکیں‘ پانی اُور سبزہ زاروں (باغات) کی خستہ حالی پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ہدایت کی گئی کہ وہ خاطرخواہ اقدامات کرے۔“ عدالت کے روبرو پیش ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دہانی کروائی کہ وہ تجاوزات کے خاتمے اُور نشاندہی کئے گئے مسائل کے حل پر توجہ دیں گے۔ اطلاعات کے مطابق تجاوزات کے خلاف کراچی میں یوں تو سارا سال ہی کاروائیاں جاری رہتی ہیں تاہم چار جنوری دوہزار اکیس کے روز ’نئے عزم‘ سے مذکورہ کاروائیوں کا آغاز ’محمود آباد نالے‘ کے اطراف میں سات کلومیٹر پٹی پر قائم 319 تجاوزات کی نشاندہی کے بعد اُن کے خاتمے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ 

4 جنوری 2021ء ہی کے روز پشاور میں بھی تجاوزات خاتمے سے متعلق غوروخوض کے جاری عمل میں نکاسی آب کے قدیمی نظام (شاہی کٹھے) کی صفائی اُور اِس پر قائم غیرقانونی عمارتیں ختم کرنے پر اتفاق رائے سامنے آیا۔ اُور ”واٹر اینڈ سینٹی ٹیشن سروسیز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی)“ نے پشاور میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے اُور آبادی کے لحاظ سے اِس نظام کی کشادگی پر ’ٹاون ون‘ اُور ’ضلعی حکومت (سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ) سے تجاویز طلب کی ہیں۔ شاہی کٹھہ 10 کلومیٹر طویل ہے جس کا صرف 5 فیصد حصہ ہی تجاوزات سے بچ پایا ہے۔ نکاسی آب کا یہ نغام مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور حکومت میں پشاور کے گورنر ’جنرل پاولو ایوٹیبل (Gen. Paolo Avitabile)‘نے تعمیر کروایا تھا اُور اِسی گورنر نے فصیل شہر کے کئی حصوں کو ازسرنو تعمیر کرتے ہوئے اِس میں نئے دروازوں اُور دیوار کی اونچائی میں اضافہ کروایا تھا۔ پشاور کے 2 بنیادی مسائل (امن و امان کے قیام اُور نکاسی آب کی بہتری) پر توجہ دینے سے پشاور اُور جنرل ایوٹیبل میں اجنبیت ختم ہوتی چلی گئی اُور اہل پشاور نے اُنہیں اپنائیت میں ’ابوطبیلہ‘ کے لقب سے پکارنا شروع کیا۔ معلوم ہوا کہ جب کوئی غیرمقامی شخص مقامی مسائل کے حل پر توجہ دیتا ہے تو اُسے پیار ملتا ہے لیکن جب مقامی فیصلہ ساز اپنے شہر کے مسائل کے حل کی بجائے اِس میں اضافے کا باعث بنتے ہیں تو ایسا طرزحکمرانی اُور حکمراں (بشمول اعلیٰ و ادنیٰ عہدوں پر فائز سرکاری ملازمین) کی حیثیت و تذکرہ ضمنی رہ جاتا ہے کیونکہ جو مسئلے کا حل نہیں ہوتا وہ بذات خود مسئلہ ہوتا ہے۔ ”ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں .... ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں!“

شاہی کٹھہ سمیت پشاور میں نکاسی آب کے نظام کی اصلاح و توسیع کے لئے ’جامع تحقیقی رپورٹ‘ امریکہ کے امدادی ادارے ’یو ایس ایڈ (USAID)‘ کے مالی و تکنیکی تعاون و نگرانی میں مرتب کی گئی جو ”پلاننگ اینڈ انجنیئرنگ سروسیز فار ماسٹر پلان اِن پشاور خیبرپختونخوا‘ نامی منصوبے کا حصہ ہے۔ اِس حکمت عملی کی خلاصہ (ایگزیکٹو سمری) 69 صفحات پر مبنی ہے جس میں کلیدی تکنیکی پہلوو¿ں کا اشارتاً ذکر کرتے ہوئے اپریل 2014ءمیں رپورٹ ہر خاص و عام کے مطالعے و معلومات کے لئے جاری کی گئی۔ عجب ہے کہ اِس جامع حکمت عملی کی موجودگی میں بھی ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے فیصلہ سازوں کو ’ٹاو¿ن ون‘ اُور ’ضلعی حکومت‘ کی مدد و مشاورت درکار ہے‘ جنہیں اگر معاملے کی سمجھ بوجھ ہوتی اُور جن کا پشاور سے ’گہرا دلی تعلق‘ ہوتا تو یہ بات ممکن ہی نہیں تھی کہ شاہی کٹھہ پر 280 سرکاری اُور 120 نجی تعمیرات ہوتیں۔ جب ہم 280 سرکاری اثاثوں (عمارتوں اُور دکانوں) کی بات کرتے ہیں تو اگرچہ اِن کی ملکیت سرکاری ہے لیکن یہ مختلف ادوار میں منظورنظر سیاسی کارکنوں کو کرائے اُور اجارے پر کچھ اِس رازداری سے دی گئیں کہ اہل پشاور کو کانوں کان خبر نہ ہو سکی اُور اب جبکہ شاہی کٹھے پر مذکورہ 400 تعمیرات کی فرداً فرداً جانچ پڑتال کی گئی ہے تو صرف پانچ دکانداروں کے پاس ایسے کاغذات ہیں جن کی بنیاد پر اُنہیں شاہی کٹھہ پر تعمیر کی اجازت حاصل ہوئی لیکن ٹاون اُور ضلعی حکومت کی جانب سے دی گئی یہ اجازت بھی اختیارات سے تجاوز (غیرقانونی) ہی ہے۔ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے فیصلہ ساز اگر سنجیدہ ہیں اُور اپنے قیام کے بنیادی مقصد کی تکمیل و تعمیل چاہتے ہیں تو ’یو ایس ایڈ‘ کی زیرنگرانی مرتب ہوئی مذکورہ حکمت عملی کا مطالعہ کریں جس پر عمل درآمد کی تکمیل و اختتام سال 2022ءمیں ہونا ہے اُور اِسی (حکمت عملی) کے تحت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا تاہم پشاور میں نہ تو نکاسی آب کا نظام حسب حکمت عملی (ٹائم لائن) درست ہو سکا اُور نہ ہی پشاور کی 92 یونین کونسلوں میں پینے کے پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکی۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے قیام سے قبل جس انداز میں صفائی اُور آبنوشی فراہم ہو رہا تھا آج بھی ترتیب وہی ہے صرف نام تبدیل ہوا ہے اُور خوشنما تشہیری مہمات اُور ملازمین کی ”فوج ظفر موج“ کی تنخواہوں اُور مراعات پر سالانہ کروڑوں روپے اضافی خرچ ہو رہے ہیں۔ 

پشاور کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے والے مختلف ادارے ایک دوسرے سے مربوط نہیں۔ ایک دوسرے کے حال اُور کام کاج سے آگاہ بھی نہیں۔ اِن کے الگ الگ دفاتر اُور فاصلے آپسی رابطے میں حائل بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایک ہی کام کے لئے ایک سے زیادہ محکمے‘ دفاتر اُور اہلکار خود کو مصروف رکھنے کے لئے ایک دوسرے سے خط و کتابت کرتے رہتے ہیں اُور یہ بات بھی نمائشی کارکردگی پر مبنی حکمت عملی کا حصہ ہے کہ مذکورہ خط و کتابت کی تشہیر صحافیوں (پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا) کے ذریعے کر دی جائے تاکہ اہل پشاورکو یقین ہو کہ کوئی نہ کوئی‘ کہیں نہ کہیں‘ اُن کے بارے میں سوچ رہا ہے! پشاور کی تجاوزات صرف شاہی کٹھہ تک محدود نہیں جو کوہاٹی گیٹ سے شروع ہو کر قصہ خوانی‘ جہانگیرپورہ‘ کوچی بازار‘ محلہ جنگی‘ محمد علی جوہر روڈ‘ پیپل منڈی‘ ریتی بازار سے بل کھاتا ہوا بڈھنی نہر (نالے) میں جا گرتا ہے۔ 10کلومیٹر طویل اُور 8 فٹ چوڑا شاہی کٹھہ مٹی ریت اُور گندگی سے بھر چکا ہے جس کی صفائی کئی دہائیوں سے نہیں ہو رہی کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں اُور نالے پر پُل ڈال کر دکانیں‘ مکانات‘ مساجد‘ سڑکیں اُور گلیاں راستے بنا دیئے گئے ہیں جن کی مالیت (مارکیٹ ویلیو) اربوں روپے ہے اُور اِن سے ماہانہ کروڑوں روپے کے مالی مفادات وابستہ ہیں‘ جن کا حصہ سرکاری اہلکاروں کی جیبوں میں بھی یقینا جاتا ہوگا بصورت دیگر صوبائی حکومت کی ناک کے نیچے اُور خیبرپختونخوا کے مرکزی شہر میں جہاں صوبائی اداروں کے صدر دفاتر موجود ہیں‘ اِس قدر لاقانونیت اُور وہ بھی کھلے عام رونما نہیں ہو سکتی! القصہ مختصر کراچی ہو یا پشاور‘ تجاوزات کسی ایک شہر کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ قومی مسئلہ اُور ایسا درد سر ہے‘ جس کا ’سپرئم کورٹ‘ ازخود نوٹس نہ بھی لے اُور سپرئم کورٹ کا خوف نہ بھی محسوس کیا جائے تب بھی اِس مسئلے کا پائیدار حل ہونا چاہئے۔

....




Wednesday, August 5, 2020

Tale of occupied Tube-Well. WONDERFUL Peshawar!

مقبوضہ ٹیوب ویل

واٹر اِینڈ سینی ٹیشن سروسیز پشاور (اَلمعروف واسا) کی خدمات میں ”صاف پانی کی فراہمی“ وہ بنیادی کام ہے‘ جس کی اِہمیت و طلب موسم گرما میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ’واسا‘ کے زیرانتظام پشاور کی مختلف یونین کونسلوں میں فراہم کیا جانے والا پانی معیاری (صاف) اُور مقدار میں کافی ہو اُور اِس بات کی ضمانت بھی نہیں دی جاتی کہ کسی علاقے (یونین کونسل) کے صارفین کو فراہم کیا جانے والا پانی وہاں کے ہر گھر (ہر صارف) تک پہنچ بھی رہا ہے جبکہ پانی پہنچے یا نہ پہنچے لیکن ’پانی کا بل (Water Bill)‘ باقاعدگی سے وصول ہو جاتا ہے۔ وقت ہے کہ اخبارات میں شائع کروائی جانے والی کارکردگی پر اکتفا اُور مذکورہ سرکاری اِدارے کی خدمات کا دائرہ ہر دن وسیع کرنے کے ساتھ اُن صارفین کا اِعتماد حاصل کرنے کے بارے میں بھی سوچا جائے‘ جنہیں واسا کے ذریعے ملنے والا پانی اِس کے معیار اُور مقدار بارے شکایات و تحفظات ہیں اُور اِنہی آرا کی روشنی میں ’واسا کارکردگی کا اِحتساب‘ ہونا چاہئے۔

پشاور کی یونین کونسل نمبر 1‘ سیٹھی ٹاون (پہاڑی پورہ)‘ بلدیاتی بندوبست کے لحاظ سے ”ٹاون ون“کا حصہ اُور اُن ’چنیدہ‘ علاقوں میں شامل ہے‘ جہاں کے رہنے والوں کو کمال مہربانی سے (بطور احسان) ”شہریوں“ میں تو شمار کیا جاتا ہے لیکن اُنہیں شہریوں جیسی جملہ سہولیات میسر نہیں اُور نہ ہی واسا کے زیرانتظام تمام صارفین اُور تمام یونین کونسلوں (علاقوں) کو ایک نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیٹھی ٹاون کے ایک حصے کو پانی کی فراہمی کے سلسلے (نیٹ ورک) سے جوڑا گیا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پانی کی فراہمی کا یہ بندوبست ’واسا‘ کی تخلیق سے پہلے کا تھا‘ جس کی حسب ضرورت اصلاح نہیں کی گئی۔ سیٹھی ٹاون کی غالب سٹریٹ اُور اِس سے ملحقہ گلی کوچوں میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں ’آبنوش صارفین‘ کو ماہ رمضان المبارک سے پانی کی قلت کا سامنا ہے اُور اِس بات کی فریاد (شکایت) کرتے کرتے عید الفطر اُور عید الاضحی جیسے تہوار بھی فریاد کرتے گزر گئے لیکن پانی کے بل باقاعدگی سے وصول کرنے والوں کے ضمیر پر کسی بھی قسم کا بوجھ نہیں! پانی کے بل پر شکایات درج کرانے کے نمبروں پر ٹیلی فون کالز‘ متعلقہ ٹیوب ویل‘ واسا   زونل دفتر اُور قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین سے رجوع (رابطہ) کرنے کا بھی خاطرخواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا کہ پانی کی فراہمی بحال ہو سکے۔ 

آخر کب تک ٹیوب ویلوں سے پانی کی تقسیم جیسے معاملے میں بھی سیاسی مداخلت ہوتی رہے گی؟ 
اہل علاقہ کے بقول بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ماضی میں ٹیوب ویل کسی سرکاری زمین یا سرکاری کنٹرول والی جگہ پر نصب کرنے کی بجائے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والی ایک مقامی شخصیت (ملک سجاد) کے حجرے کی چاردیواری کے اندر‘ عام شاہراہ سے دور جگہ کا انتخاب کیا گیا‘ جہاں تک رسائی اُور مذکورہ حجرے میں داخلے کے حقوق محفوظ تھے۔ مذکورہ سیاسی و سماجی اُور مالی طور پر بااثر شخصیت نے ٹیوب ویل نصب ہونے کے بعد اپنے حجرے کے ایک حصے میں ’سوئمنگ پول‘ بنا کر کاروبار شروع کر دیا اُور یوں سرکاری بجلی‘ مشینری اُور ٹیوب ویل پر تعینات سرکاری عملے کی خدمات سے ’کمرشل سوئمنگ پول‘ بھرنے لگا۔ موسم گرما میں دور دراز سے لوگ تازہ پانی کے اِس سوئمنگ پول میں نہانے کے لئے آنے لگے یوں ”مقامی سیاحت“ میں ایک خوشگوار تفریح کا اضافہ ہوا‘ جو سراسر ’بدنیتی اُور بدعنوانی پر مبنی اقدام‘ اُور متعلقہ بلدیاتی ادارے کے اہلکاروں کی ملی بھگت کا مظہر تھا۔ ٹیوب ویل کا وہ پانی جو اہل علاقہ کو فراہم ہونا تھا وہ ایک ’نجی کمرشل سوئمنگ پول‘ کے لئے مختص کر دیا گیا اُور جب اہل علاقہ کی شکایات ذرائع ابلاغ کے ذریعے زیادہ ہوئیں تو پائپ لائن بچھا کر مذکورہ ٹیوب ویل سے آس پاس کے چند محلوں کو پانی فراہم کیا گیا لیکن اہل علاقہ کو پانی فراہم کرنا کبھی بھی ترجیح نہیں تھی۔ حسب سابق و معمول موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی ہزاروں لیٹر پانی سوئمنگ پول کو دیا جانے لگا جس کی وجہ سے پہلے پانی کی قلت اُور بعدازاں مکمل بندش کر دی گئی۔

سیٹھی ٹاون کے جملہ رہائشی‘ حسین چوک سے غالب سٹریٹ اُور رنگ روڈ (چغل پورہ) تک کسی نہ کسی صورت پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ کہیں سرکاری پائپ لائنیں مکمل خشک ہیں تو کہیں چند گھنٹوں کے لئے پانی فراہم کر کے صارفین کے منہ کر دیئے گئے ہیں۔ المیہ یہ بھی ہے کہ سیٹھی ٹاون میں زیرزمین پانی کی مقدار اِس حد تک کم ہو چکی ہے کہ گھروں میں موجود بورنگ کارآمد نہیں رہیں۔ پشاور کی اِس نسبتاً جدید رہائشی بستی میں تعمیر ہونے والے ہر مکان کے لئے زیرزمین پانی کے ذخیرے سے اِستفادہ ہوتا تھا لیکن ’پانی کی سطح‘ آبادی بڑھنے کے ساتھ کم ہوتی چلی گئی اُور اب سارے کا سارا انحصار ’واسا‘ کے فراہم کردہ پانی کے نیٹ ورک پر ہو چکا ہے‘ جو اپنی جگہ قابل بھروسہ نہیں۔ 

سیٹھی ٹاون سے تعلق رکھنے والے ’پانی کے صارفین‘ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے درخواست کی ہے کہ وہ اُن کے علاقے میں گزشتہ چھ ماہ سے جاری پانی کی شدید ترین قلت کا نوٹس لیں اُور مقبوضہ سرکاری ٹیوب ویل کو سیاسی جماعت کے چنگل سے واگزار کرانے کے علاوہ اُن تمام بلدیاتی اُور واسا اِہلکاروں کے خلاف تحقیقات کا حکم بھی دیں جو سرکاری ٹیوب ویل کے نجی استعمال و استفادے پر خاموش ہیں اُور یہ خاموشی بلاوجہ نہیں ہو سکتی! 

وقت ہے کہ پشاور کی جن یونین کونسلوں میں ’واسا‘ خدمات کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے وہاں کے صارفین کی آرا جاننے کے لئے کسی آزاد ذریعے سے سروے کیا جائے۔ ’واسا‘ کے لئے نئے سربراہ کی تعیناتی اپنی جگہ ایک الگ ضرورت ہے کیونکہ موجودہ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے سربراہ دیگر اہم محکموں (پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اُور میٹرو بس بی آر ٹی) کے بھی منتظم اعلیٰ ہیں اُور کسی ایک شخص کے لئے عملاً ممکن نہیں ہو سکتا کہ وہ باوجود خواہش و کوشش بھی بیک وقت تین محکموں کے اَمور نمٹاتے ہوئے اپنے عہدے سے جڑی ذمہ داریوں کی انجام دہی (کماحقہ) خوش اسلوبی سے کر سکے۔ 

سیٹھی ٹاون سمیت پشاور کے جن علاقوں میں صارفین کو حسب وعدہ پانی فراہم نہیں کیا جا رہا‘ اُن سے وصول شدہ گزشتہ کئی ماہ کے یوٹیلٹی بلز یا تو واپس ہونے چاہیئں یا پھر اُن بلوں کو آئندہ مہینوں میں (تاوقتیکہ) ایڈجسٹ کیا جائے‘ جب پانی کی فراہمی بحال ہو کیونکہ یہ بات مبنی بر انصاف نہیں کہ صارفین کو پانی تو نہ ملے لیکن آبنوشی کے ماہانہ بلوں کی باقاعدگی سے موصولی اُور وصولی کا عمل جاری رہے۔
....


Thursday, September 28, 2017

Sept 2017: Issues of Sheikh Ameer Abad - Beri Bagh, Peshawar

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پشاور: مٹتے نقوش!
حل طلب مسائل کی شدت میں ہر گزرتے دن اضافہ ہونے کی وجہ سے ’پشاور کی شہری زندگی‘ کا حسن ماند پڑ چکا ہے۔ بیرون یکہ توت اُور گنج گیٹ سے ملحقہ رہائشی بستی ’شیخ امیر آباد کی بستی ’بیڑی باغ‘ کے نام سے بھی معروف ہے جو ضلعی حکومت کے زیرانتظام ’یونین کونسل وزیرباغ (یو سی اکیس)‘ قومی اسمبلی کے حلقہ ’این اے ون‘ اُور صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے تھری‘ کا حصہ ہے۔ یہاں سے گزرنے والی ’نہر (Canal)‘ جو کبھی آب نوشی اور آبپاشی (زراعت) جیسے مقاصد کے لئے استعمال ہوتی تھی گندگی سے بھرے ’نالے‘ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ 

تحریک اِنصاف کی قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت نے ’شیخ اَمیر آباد‘ کے مقام پر گہری نہر کے دونوں کناروں پر ’حفاظتی انتظامات‘ کو بہتر بنایا لیکن اصل مسئلے کی جانب توجہ تاحال مبذول نہیں ہو سکی جو ’نہر میں موجود کوڑا کرکٹ (ٹھوس گندگی) کی صفائی سے متعلق ہے‘ اُور اہل علاقہ کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز (ڈبلیو ایس ایس پی)‘ اپنی موجودگی کا عملاً ثبوت دے اور ’شیخ امیرآباد‘ کے مقام پر نہر کی صفائی اور مذکورہ نہر کے نکاسئ آب کے لئے عمومی استعمال کی اصلاح کی جائے۔ شیخ اَمیر آباد سے گزرنے والا کھٹہ (لختئی) میں دو پائپ گزارے گئے۔ اِن پائپوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نچلا پائپ بند ہے جس کی وجہ سے شیخ امیرآباد گلی نمبر ایک کی نکاسئ آب ممکن نہیں رہی۔ اِس علاقے کا دوسرا بڑا مسئلہ ’تجاوزات‘ کا ہے۔ ٹاؤن ون کے ناظم ’زاہد ندیم‘ سے اُمید ہے کہ وہ اپنی پہلی فرصت ’شیخ امیر آباد‘ کا ’پہلا دورہ‘ فرمائیں گے اور یہاں صفائی کی صورتحال بہتر بنانے‘ بڑھتی ہوئی تجاوزات بالخصوص برف خانے کے سامنے قبرستان کی اَراضی پر قبضے کی جاری کوششیں (سرگرمیوں) کا سخت نوٹس لیں گے اُور ہزار خوانی روڈ سے بیڑی باغ کی طرف موڑ کاٹتے ہوئے سڑک کنارے تجاوزات کے امکانات ختم کرنے میں ’واجب کردار‘ اَدا کریں گے۔ پشاور کے نقوش مٹانے کی کوشش کرنے والوں کے ساتھ سختی سے معاملہ ہونا چاہئے۔

پشاور کے کئی علاقے نایاب ہستیوں کے ناموں سے منسوب ہیں جن میں ’بستی شیخ اَمیر آباد‘ بھی شامل ہے۔ ’(ملک) شیخ امیر مرحوم‘ کا تعلق پشاور کی اُس ’اعوان برادری‘ سے تھا جس میں یہاں کے ’ملک خاندان‘ کے سپوتوں کی اکثریت ہے۔ یہی لوگ ’’پشاور کے مالک‘‘ بھی کہلاتے ہیں کیونکہ کاشتکاری‘ باغبانی اور زراعت سے وابستہ یہی سب سے زیادہ ’صاحب جائیداد‘ ہوا کرتا تھا۔ وزیرباغ کے اطراف سے ’سائنس سپرئیر کالج‘ تا ہزار خوانی‘ رنگ روڈ اُور بیڑی باغ سے گنج گیٹ اُور یکہ توت گیٹ تک پھیلے وسیع و عریض رقبہ ’فصیل شہر‘ کا وہ بیرونی علاقہ ہوا کرتا تھا‘ جہاں قیام پاکستان سے قبل یا تو دیگر ممالک اُور دور دراز علاقوں سے آنے والے تجارتی قافلوں کا گزر ہوتا یا پھر پشاور کے اِن زراعت پیشہ ملک گھرانوں کے آباواجداد زرعی آلات اُٹھائے منہ اندھیرے فصیل شہر کے دروازوں سے گزر کر کھیتوں کو جاتے اور دن ڈھلنے (وقت مغرب) سے قبل واپس لوٹ آتے تاکہ شہر کے داخلی دروازے بند ہونے سے قبل وہ اپنی رہائشگاہوں تک پہنچ سکیں۔ جس وقت ’بیرون پشاور‘ کا بیشتر علاقہ سرسبزوشاداب‘ گل و گلزار مہکتا تھا‘ جب ہر طرف لہلہاتے کھیتوں اور باغات کی قطاریں دکھائی دیتی تھیں اور کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زرعی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والی نہایت ہی قیمتی اراضی بناء منصوبہ بندی پھیلتے پشاور کی نذر ہو جائے گی اور یہی وجہ رہی کہ پشاور کے مضافاتی علاقوں میں اندرون شہر سے زیادہ گنجان آباد بستیوں سے رہنے والے بنیادی سہولیات سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔ 

یادش بخیر پشاور کے اُس سنہرے دور میں ’شیخ امیر‘ نامی کاشتکار پیشہ شخص نے اپنی رہائشگاہ سے متصل ایک قطعہ اراضی آخری آرام گاہ اور دوسرا اس سے متصل مسجد (عبادت گاہ) کے لئے وقف کیا۔ آج اُن کا مزار کسمپرسی کی تصویر ہے جس پر قبضہ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں گویا علاقے کی فلاح و بہبود کے لئے اُن کی خدمات کو اُن کے ساتھ ہی دفن کر دیا گیا ہو۔ مزار سے متصل مسجد موجود تو ہے لیکن اِس مسجد کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے۔ چند ماہ قبل اُن کے مزار کو بھی مسمار کرنے کی کوشش کی گئی اور آج بھی تجاوزات قائم ہیں‘ جس پر شریف النفس اہل خانہ کی جانب سے ردعمل (احتجاج) کی وجہ سے آس پاس رہائش پذیر ’قبضہ مافیا‘ وقتی خاموش تو ہوگیا لیکن اُس کے ارادے معلوم و خطرناک ہیں۔ اِس سلسلے میں شیخ امیر مرحوم و مغفور کے عزیز ’ملک صابر حسین اعوان‘ کی کوششیں اپنی جگہ اہم ہیں‘ جو اپنی خرابئ صحت کے باوجود بھی پشاور کی اِس شناخت اور نقش کو باقی رکھنے کے لئے تن تنہا اِس محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اُن کی درازئ عمر‘ صحت و تندرستی اور سلامتی کے لئے بہت سی دعاؤں اور نیک تمناؤں پیش ہیں کیونکہ اُنہی کے دم کرم سے اِس علاقے کا تشخص‘ باقی ماندہ قبرستانوں کی حفاظت اُور شیخ امیر مرحوم کے مزار و مسجد کو محفوظ رکھنے کی کوششیں ایک تسلسل سے متواتر جاری ہیں۔ دیکھتے دیکھتے ’بیڑی باغ‘ کے قبرستان ہڑپ کر لئے گئے اور آج اِکا دُکا قبروں یا اُن کے نشانات باقی ہیں۔ 

اہل پشاور کے بزرگوں کی قبروں کی یہ بے حرمتی اور قبرستانوں کی وقف اراضی پر قبضہ کرنے والوں کو ’این اے ون‘ اور ’پی کے تھری‘ کے جس نمائندہ خاندان کی سربراہی حاصل ہے‘ انہوں نے اپنی قبروں کے لئے تو ’حضرت ابوالبرکات سید حسن بادشاہ (میراں بادشاہ) رحمۃ اللہ علیہ‘ سے متصل قطعۂ اراضی خرید لی ہے لیکن انتخابی سیاست کے لئے پشاوریوں کے آثار مٹانے کی قابل مذمت کردار سے تاحال رجوع نہیں کیا۔ 

شیخ امیر مرحوم کا مزار اِس لئے بھی محفوظ رہا کہ ایک تو وہ یہ اُن کی ملکیتی اراضی پر قائم ہے اور دوسرا مزار سے متصل جامع مسجد کی محراب اُن کی مزار سے متصل ہے جس طرف توسیع ممکن نہیں۔ کس جواز کے تحت اہل علاقہ نے ’شیخ امیر جامع مسجد‘ کا نام تبدیل کیا جبکہ آج کی تاریخ میں کوئی ایک مرلہ زمین بھی عطیہ نہ کرتا اُور شیخ امیر نے سینکڑوں مرلہ اراضی وقف کی تھی تو کیا اُنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا یہی طریقہ ہے!؟ 

مادہ پرستی کے دور میں نوجوان نسل کو ’شیخ امیر آباد‘ جیسی ہستیوں اور اُن کی اپنی مٹی سے وابستگی سے آگاہ کرتے ہوئے ایسے مثالی عمل اور یادگاروں کی حفاظت ہونی چاہئے تاکہ ہر کس و ناکس کو اجتماعی فلاح و بہبود جیسی بے لوث خدمت و عمل کی رغبت مل سکے۔ بلاامتیاز خدمت ہی وہ سیاست ہے جس کا سکہ دنیا اور بعداز رحلت‘ تاقیامت کام آئے گا۔
Sheikh Ameer Abad (Beri Bagh) Peshawar faces many issues including a filth deposited canal & encroachments 

Monday, September 12, 2016

Sept2016: Measures for Eid ul Azha

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عیدالاضحی کے تقاضے!
تہوار کوئی بھی ہو‘ سب سے پہلا اندیشہ‘ مطالبہ اُور دھیان ’پشاور میں صفائی کی صورتحال‘ سے متعلق ذہن میں آتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اگر صفائی کی ’’مثالی صورتحال‘‘ متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا عمومی بیان ہوتی تو حسب سابق اِس مرتبہ بھی ’عیدالاضحی‘ کے موقع پر صفائی کے ’نت نئے انتظامات‘ کا اعلان کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اگر صفائی کا کام سمیٹ کر ذمہ داری کسی ایک محکمے کے کندھوں پر لاد دی گئی ہے تو اِس کے باوجود بھی معاشرہ اپنی انفرادی یا اجتماعی حیثیت میں بَری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا اُور یہی نتیجۂ کلام ہے کہ ۔۔۔ ’’جب تک صفائی برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہر شہری محسوس کرنے کے ساتھ عملی کوششوں کا حصّہ نہیں بنتا‘ جب تک پشاور کو ’’اپنا شہر‘‘ سمجھتے ہوئے خود بھی اُور دوسروں کو بھی صفائی کی کوششوں میں رضاکارانہ طور پر شریک نہیں کر لیا جاتا‘ اُس وقت تک ’’تبدیلی‘‘ آنے کی اُمید تو کی جاسکتی ہے لیکن ایسا عملاً ممکن نہیں ہوگا۔‘‘

اہل پشاور سے ایک مرتبہ پھر تعاون کی اِلتجا کرتے ہوئے ’’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی)‘‘ کے حکام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں (خیبریونین آف جرنلسٹس) کی وساطت سے ’تین روزہ خصوصی مہم‘ کے خدوخال مشتہر کئے ہیں جن میں اٹھارہ سو اٹھانوے اہلکار اُور دو سو تیس گاڑیاں عیدالاضحی کے دوران ’آن ڈیوٹی‘ رہیں گی جبکہ اس دوران اضافی طور پر 75 گاڑیاں کرائے پر بھی حاصل کی جائیں گی تاکہ قربانی کے جانوروں کی الائشیں اور گندگی بروقت ٹھکانے لگائی جا سکے۔ ہمیں ایک اُور مہنگی عید کا سامنا ہے جس پر حکومت کے کروڑوں روپے خرچ ہو جائیں گے۔ بالخصوص ’عیدالاضحی‘ کے موقع پر جس بیدردی سے گندگی پھیلائی جاتی ہے اُسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسا کہ یہ حرکت بھی عید کے مذہبی فرائض میں شامل کر لی گئی ہو! جب خاص و عام کی اکثریت اپنی اپنی استطاعت و استعداد کے مطابق گندگی پھیلانے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو اُنہیں اِس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کا نہیں خود اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے شہر‘ علاقے محلے اُور اپنے ہی گردوپیش کی صفائی کا خیال نہ رکھ کر جن بیماریوں کو دعوت دی جا رہی ہوتی ہے وہ قطعی معمولی نہیں۔ صفائی سے متعلق اسلامی نکتۂ نظر کی تشریح طبی ماہرین بھی ’’فرائض‘‘ کے طور پر ہی کرتے ہیں اور ضرورت اِس امر کی ہے کہ اِس بارے عمومی شعور میں اضافہ کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ کی طرح منبر و مساجد سے بھی وعظ و تلقین پر مشتمل ’ذکر کے حلقے‘ ترتیب دیئے جائیں۔

اِس سال قربانی کی مالی استطاعت اُور اِرادہ رکھنے والے سے اِلتجا ہے کہ وہ مال مویشیوں کے لئے چارہ صرف اُتنی ہی مقدار میں خرید کر لائیں جس قدر اُن کی یومیہ ضرورت ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں جانور کی عادات‘ پسند و ناپسند یا خوراک کے بارے معلومات خریدتے وقت باآسانی حاصل کی جاسکتی ہیں لیکن عمومی روش یہ ہے کہ قیمت طے کرنے کے مراحل میں اِس بات کا دھیان ہی نہیں رکھا جاتا۔ اکثر لوگوں کو مال مویشی رکھنے کا تجربہ نہیں ہوتا‘ جو اُن کی ضرورت اور مزاج کے برعکس کھانے کے انبار لگا دیتے ہیں یا پھر مال مویشیوں کے سامنے خوراک زمین پر پھیلا دی جاتی ہے اور یوں قیمتی سبز خوراک کا زیادہ تر حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ جس کی ایک خاص مقدار نکاسئ آب کے نالے نالیوں میں بہا دی جاتی ہے یا پھر گلی محلے کے کونوں میں ڈھیر کر دی جاتی ہے۔ یاد رکھیں کہ جانوروں کی عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے پاؤں تلے کچلے ہوئی‘ گیلی‘ بدبودار گھاس نہیں کھاتے۔ اُنہیں ہروقت کھانے یا پانی کی ضرورت بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی اُن کی بھوک ہم انسانوں کی طرح اَچانک بھڑک اُٹھتی ہے! وہ اوقات کے پابند ہوتے ہیں۔ اِسی طرح جانوروں کو رنگ برنگی روشنیوں سے سجانا۔ اُن کے گلے میں گھنٹیاں باندھ کر ’رات بھر‘ اندھیرے یا روشن گلی محلوں یا سڑکوں پر لے کر گھومنا پھرنا بھی مال مویشیوں کے مزاج پر بوجھ کا باعث بنتا ہے۔ ہم انسانوں کی طرح جانور بھی ذہنی دباؤ‘ کوفت‘ پریشانی‘ بے خوابی کا شکار ہو سکتے ہیں‘ جس کی وجہ سے وہ بسااُوقات خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِس لئے ضروری ہے کہ مغرب سے قبل جانوروں کو کسی ایسے پرسکون مقام پر باندھ دیا جائے جہاں وہ آرام سے اپنی نیند پوری کرسکیں۔ اگر جگہ میسر ہو گلی محلوں میں جانوروں کو کسی ایک مقام پر باندھنا زیادہ بہتر رہتا ہے۔ مال مویشیوں کی منڈیوں میں بھیڑ‘ شور شرابہ اور اَجنبی ماحول سے نمٹنے والے جانور اپنے قیام گاہوں سے بچھڑنے کا صدمہ بھی محسوس کر رہے ہوتے ہیں‘ جن کی ذہنی و جسمانی اذیت میں اضافہ کرنا کسی بھی صورت جائز نہیں۔ 

گلے کے گرد تنگ رسی کا حلقہ‘ بھاری بھرکم سجاوٹ کے زیور اور جانوروں کو کاربونیٹیڈ ڈرنکس (پیپسی کوکا کولا وغیرہ) پلانے سے اجتناب کریں۔ مال مویشیوں کے ساتھ ’سیلفی (تصویر)‘ بنانے کی کوشش میں اُن کے زیادہ قریب جانا بھی خطرے کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ کیمرے کی فلش لائٹ یا شٹر کی آواز سے گھبرا کر وہ پرتشدد یا اچانک مختلف رویئے کا مظاہرہ بھی کرسکتے ہیں۔ 

قربانی کے جانوروں کو پختہ اور گیلے فرش پر (جہاں پھسلن کا صاف خطرہ ہو) باندھنے سے قبل یا تو ممکنہ خشک کر لیں یا پھر آٹے کی خالی بوریاں‘ چادریں بچھا دیں تاکہ کھڑے ہونے یا بدکنے کی صورت وہ پھسل کر گر نہ جائیں اور اگر خدانخواستہ کسی وجہ سے ایسا ہوتا ہے تو لنگڑا پن (علامات) ظاہر ہونے کی صورت مذکورہ جانور کی قربانی ’شرعی نکتۂ نظر‘ سے جائز نہیں رہے گی۔ انسانوں کی طرح مال مویشیوں کی صحت کے لئے بھی پینے کا صاف پانی‘ صاف برتن میں رکھا جائے۔ چند دن کے مہمان کی تواضع اور خیال رکھنے کی حتی الوسع کوشش کی جائے کہ اس سے قربانی کے اجر میں اضافہ ممکن ہے جس کے لئے انفرادی حیثیت سے دانستہ کوشش کے ساتھ اُن تمام افراد کی بھی رہنمائی کی جا سکتی ہے‘ جو کسی وجہ سے مال مویشیوں کی نگہداشت کے بارے خاطرخواہ معلومات نہیں رکھتے۔ 

ضلعی انتظامیہ سمیت متعلقہ محکموں کے فیصلہ سازوں سے درخواست ہے کہ عیدالاضحی کے موقع پر صرف اور صرف صفائی برقرار رکھنے میں تعاون کی ضرورت پر تمام توانائیاں خرچ نہ کی جائیں بلکہ موضوع کو جامع بنانے کے لئے اس میں دیگر امور بارے معلومات بھی شامل کرکے پیغام کو زیادہ بامقصد بنائیں۔ مال مویشیوں کی ضروریات بشمول کھانے پینے اور آرام کے اوقات و ضروریات کے بارے عوام و خواص کی رہنمائی کا اہتمام و انتظام کے سلسلے میں یہاں وہاں عملی مشقوں کا انعقاد بھی ہونا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, April 12, 2016

Apr2016: The Shahi Khatta of Peshawar expansion!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پشاور: اپنا پاؤں‘ ہاتھ اُور کلہاڑی!
غیرمتوقع بارشوں کے جاری تسلسل نے شہری سہولیات کی فراہمی کا معیار اُور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا بھانڈا تو پھوڑ ہی دیا ہے (جو خبر نہیں رہی) لیکن خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے لئے نکاسئ آب کا کوئی ایسا ’وسیع و عریض‘ اُور ’خاطرخواہ کشادہ نظام‘ کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی ہے جو صرف موجودہ آبادی ہی کے لئے نہیں بلکہ چار اطراف پھیلتے ہوئے مرکزی شہر (و مضافاتی علاقوں) اُور مستقبل کی ضروریات کے لئے بھی کافی ہونا چاہئے۔ اِس سلسلے میں عوام کے منتخب ضلعی (بلدیاتی) نمائندوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ’’اپنی پہلی فرصت‘‘ میں ’شاہی کھٹہ‘ پر توجہ دیں جو سال 1839ء سے 1842ء کے درمیان (سکھ دور میں) ساٹھ ہزار آبادی کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا لیکن آج اِس شاہی کھٹے پر تیس لاکھ سے زائد افراد کا انحصار ہے! سکھ دور کی یادگار اُور انجنیئرنگ کے شہکار ’شاہی کھٹے‘ کی طرز پر اب تک کوئی ایک بھی نظام نہیں دیا جاسکا جو ہمارے سیاسی و غیرسیاسی حکمرانوں‘ خود کو اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ نفاست و ذہانت کا مجموعہ سمجھنے والے فیصلہ سازوں‘ اربوں روپے کے چھوٹے بڑے ترقیاتی کاموں میں مشغول اور افرادی قوت و ہرقسم کے وسائل سے مالا مال شہری ترقی کے ایک سے زیادہ اداروں کی فہم و فراست‘ علم و دانش‘ تجربے اور پشاور شناسی و دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں! (اِس سلسلے میں گلبہار کالونی کے نکاسئ آب کے منصوبے کی سرسری مثال دی جاسکتی ہے‘ جو حال ہی میں تعمیر ہوا لیکن ۔۔۔!!!)

پشاور کی ضلعی حکومت اِس حقیقت سے بخوبی آشنا (آگاہ) ہے کہ شاہی کھٹے کے پچاس فیصد سے زائد حصے پر ’پختہ مستقل‘ تجاوزات قائم ہیں جن کے سبب اِس کی صفائی اُور گہرائی کے ذریعے توسیع جیسی تجویز کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکتا لیکن نجانے ایسی کیا ’مجبوری لاحق‘ ہے کہ تجاوزات کے خلاف متحرک اُور عزم و ہمت پر مبنی بیانات دینے والے ضلعی حکمران و بلدیاتی نمائندے ’شاہی کھٹے‘ کا ذکر آتے ہیں بغلیں جھانکنے لگتے ہیں اُور معلوم تجاوزات ختم کرنے کے لئے ’شاہی کھٹہ کلین اَپ آپریشن‘ شروع نہیں کرتے‘ جس کی شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ہر بارش میں پشاور کو ڈوبتے اور اُبھرتے دیکھنے (تماشا کرنے) والوں کے لئے کیا یہ ’نظارہ‘ واقعی اتنا خوش کن ہے کہ وہ اِس منظرنامے کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے؟

پشاور کا کم و بیش 200 سالہ نکاسئ آب کا نظام ’فرسودہ‘ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اِس کی جملہ خوبیوں میں سطح سمندر سے پشاور کی بلندی اور نکاسئ آب کے نظام کی سطح کو اُس قدرتی ڈھلوان کے متوازی رکھا گیا جس کی وجہ سے پانی کا بہاؤ خودکار اور تیزرفتاری سے ’فلش آؤٹ‘ ہونے لگا لیکن پھر جب پشاور سے یہاں کے باسیوں کا دلی تعلق ٹوٹا‘ رشتے کمزور ہوئے‘ اپنوں کی بجائے غیر فیصلہ سازی پر مسلط ہوئے تو پشاور کا ہر رنگ دھندلا ہونے لگا۔ اِبتدأ شاہی کھٹے میں ٹھوس گندگی (کوڑا کرکٹ) پھینکنے سے ہوئی‘ کسی نے نوٹس نہ لیا تو ایک قوم پرست جماعت نے اپنے ووٹ بینک جیسے مفاد کا تحفظ کرتے ہوئے قبرستانوں پر قبضے کے ذریعے مکانات (رہائش) اور شاہی کھٹے پر چھت ڈال کر دکانیں (کاروبار) ڈالنے کی ’چپ چپیتے (غیرتحریری)‘ اجازت دے دی۔ جب تعمیرات مکمل ہوئیں تو انہیں ’قانونی کور (تحفظ)‘ فراہم کرنے کے لئے واجبی فیس و جرمانے کے عوض اجازت نامے (لائسینس) جاری کردیئے گئے جن کا قطعی کوئی قانونی جواز و ضرورت نہیں تھی۔ موجودہ ضلعی حکومت چاہے تو شاہی کھٹے پر تجاوزات کے مالکان کو نوٹسیز (تنبیہہ) جاری کر سکتی ہے کہ وہ آئندہ چند ہفتوں (برسات سے قبل) شاہی کھٹے کو واگزار کر دیں۔ اِس نالے کے اُن حصوں کو مکمل طور پر کھلا ہونا چاہئے جنہیں تعمیر کرنے والوں نے ایسا رکھا تھا‘ تاکہ روزمرہ بنیادوں پر ساتھ ساتھ صفائی ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ شاہی کھٹے کی دو شاخیں ہیں۔کوہاٹی گیٹ‘ قصہ خوانی‘ شعبہ بازار‘ ریتی بازار‘ شبستان (فردوس) سینما (جی ٹی روڈ) اُور فقیر آباد کے راستے بڈھنی تک ایک جبکہ اندرون شہر کے علاقوں سے گزرتے ہوئے رنگ روڈ پر نہر سے ملنے والی دوسری شاخ پر تجاوزات کا شمار انگلیوں پر ممکن نہیں۔ البتہ رنگ روڈ کا مقام موزوں ہے کہ جہاں ضلعی حکومت پشاور شہر کے نکاسئ آب کی تطہیر کرکے اِس پانی کو آبپاشی کے لئے محفوظ قابل استعمال بنا سکتی ہے۔ سابق دور میں پشاور سے جمع ہونے والے یومیہ دس ٹن کچرے سے بجلی و کھاد پیدا کرنے کا ایک منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن سیاسی وجوہات کی بناء پر مذکورہ منصوبہ سردخانے کی نذر کر دیا گیا‘ اُس منصوبے کی بحالی کے لئے غوروخوض بارے عوام کو آگاہ کرنا چاہئے۔ اگر ضلعی حکومت ہر چوہے کے سر کی قیمت مقرر کرکے موذی چوپائے ختم کر سکتی ہے تو فی کلوگرام گندگی جمع کرکے اُسے کسی مرکزی مقام تک لانے کی قیمت مقرر کرنے سے کوئی وجہ نہیں کہ گندگی اُور کوڑا کرکٹ کا پشاور سے نام و نشان ہی مٹ جائے! لیکن اَفسوس کہ ہم اپنے ہی ہاتھوں سے تھامی ہوئی کلہاڑی اپنے ہی پاؤں پر مار بھی رہے ہیں اور لہولہان ہونے‘ درد‘ تکلیف و پریشانی سہنے کے باوجود بھی نہ تو علاج چاہتے ہیں اور نہ ہی ماضی میں کی گئیں حماقتوں کی اصلاح کے لئے تیار ہیں!
The need of expanding the Shahi Khatta of Peshawar should be done urgently