Showing posts with label Civic Sense. Show all posts
Showing posts with label Civic Sense. Show all posts

Saturday, July 15, 2023

Development in Peshawar - At a glance

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی .... شہری منصوبہ بندی

صوبائی دارالحکومت پشاور کا کوئی ایک بھی رہائشی یا کاروباری علاقہ ایسا نہیں جہاں بنیادی سہولیات کا نظام مثالی شکل و صورت میں موجود ہو اگرچہ عوامی اجتماعی مسائل کے حل کے لئے فیصلہ سازی کا عمل وسیع کر دیا گیا ہے اُور مقامی حکومتیں (بلدیاتی نظام) اِسی لئے وضع کیا گیا ہے کہ اِس کے ذریعے علاقائی سطح پر عوام کی نمائندگی ہو اُور علاقائی سطح پر ہی بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اِس مقصد کے لئے ضلع پشاور میں 216 تحصیل کونسلز‘ 1438 ویلیج کونسلز‘ 1076 نیبرہڈ کونسلیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اِس نظام میں ویلیج کونسلوں کے علاؤہ نیبرہڈ کونسلیں اُور اِن سے منتخب خواتین‘ مزدور کسان‘ یوتھ اُور اقلیتی اراکین خصوصی اضافی نمائندگی رکھتے ہیں۔ اِن بلدیاتی نمائندوں کی کل تعداد ’4 ہزار 244‘ بنتی ہے جن میں جنرل نشستوں پر (ویلیج اُور نیبرہڈ کونسلوں کی صورت متعلقہ علاقوں کی) نمائندگی کرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 514 کونسلر بھی شامل ہیں اُور یہی ڈھائی ہزار سے زیادہ منتخب بلدیاتی نمائندے وہ ہیں جنہیں کی منظوری سے پشاور کی ترقیاتی فیصلہ سازی کا تعین ہوتا ہے۔ اِس نتیجہ خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے پشاور کے مشرق میں واقع 4 نیبرہڈ کونسلوں (این سیز) کا جائزہ لیں جنہیں سرکاری دستاویزات میں ’گل بہار نمبر ون‘ گل بہار نمبر ٹو‘ رشید ٹاؤن اُور گل بہار نمبر فور‘ کا نام دیا گیا ہے اُور اِن چار نیبرہڈ‘ ویلیج کونسلوں سے منتخب ہونے والے جنرل کونسلروں کی کل تعداد 58 ہے جن میں 16خواتین کے لئے‘ آٹھ مزدور کسان نمائندوں کے لئے‘ آٹھ یوتھ (نوجوانوں) کے لئے اُور آٹھ نشستیں اقلیتوں کے لئے مختص کی گئی ہیں۔ غور ہونا چاہئے کہ بلدیاتی نظام کی صورت اِس پوری کوشش (مشق) کا مقصد کیا ہے اُور کیا وہ بنیادی مقصد حاصل ہو رہا ہے؟ گل بہار نمبر ون کے 25‘ گل بہار نمبر ٹو کے 24‘ رشید ٹاؤن کے 25 اُور ’گل بہار نمبر فور‘ کے 24 بلدیاتی نمائندوں کا انتخاب و تقرری کیوں کی گئی اُور اگرچہ اِن میں سے اکثر سیٹوں پر انتخاب بھی مکمل ہو چکا ہے تو کیا وجہ ہے کہ پھر بھی ’شہری مسائل‘ جوں کے توں برقرار ہیں اُور ترقیاتی ترجیحات کا تعین کرنے میں وہی ’دانستہ غلطیاں‘ آج بھی دُہرائی جا رہی ہیں جو ماضی میں کی جاتی تھیں جبکہ بلدیاتی نمائندے نہیں ہوتے تھے؟

پشاور کو سیاست دیمک کی طرح صرف اندر ہی اندر سے نہیں بلکہ باہر سے بھی کھا گئی ہے! مقامی حکومتوں کے نام سے وہ بلدیاتی نظام جو ’بلاامتیاز و تفرقہ خدمت‘ کے لئے وضع کیا گیا تھا اُسے سیاسی جماعتوں نے یرغمال (ہائی جیک) کر لیا ہے اُور ’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘ یعنی ’جس سیاسی جماعت کی حکومت اُس کی من مانی‘ کے اصول پر پشاور کے ترقیاتی فیصلے ہو رہے ہیں‘ جو سیاست سے بالاتر نہیں بلکہ سیاست پشاور کے ہر فیصلے پر حاوی ہو چکی ہے۔ اگر پشاور اُور اِس کے موجودہ مسائل پر غور کیا جائے تو یکساں توجہ طلب امر (یہ پہلو) بھی سامنے آتا ہے کہ بنیادی طور پر پشاور کے مسائل کی وجہ اُور اِس کے وسائل پر ’2 قسم‘ کے بوجھ ہیں۔ ایک اِس کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے کہ خیبرپختونخوا کے دور دراز دیگر اضلاع سے بہتر معاشی مستقبل (روزگار و ملازمت)‘ حفاظت‘ تعلیم اُور حتیٰ کہ علاج معالجے کے لئے بھی پشاور کا رخ کیا جاتا ہے اُور یہ بھی پشاور کی تاریخ رہی ہے کہ یہاں جب بھی کوئی ’وارد‘ ہوا تو اُن کی ایک تعداد پشاور ہی کی ہو کر رہ گئی۔ شاید اِسی لئے تاریخ کی کتب میں ”پشاور“ کی وجہ تسمیہ ’پیش آورد‘ بھی ملتی ہے۔ بہرحال پشاور کا انتخاب کرنے والوں کی نظر میں فوری طور پر یہاں کی سہولیات جم جاتی ہیں اُور اِس کا محرک سرسری و فطری بھی ہے جس کا ایک تعلق پشاور کی آب و ہوا سے ہے اُور اگرچہ اب ماضی کی طرح مثالی نہیں رہی لیکن دیگر اضلاع سے پھر بھی نسبتاً بہتر ہے۔ جب ہم سہولیات کے تناظر میں پشاور کا جائزہ لیتے ہوئے موازنہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع سے کرتے ہیں تو پشاور کی صورتحال نسبتاً زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہے اُور یہی کشش یہاں کے مسائل میں اضافے کا ’کلیدی محرک‘ ہے جس کا ”بوجھ“ پشاور کی زرخیز زرعی (قابل کاشت) اراضی پر رہائشی کالونیاں بننے کی صورت دیکھا جا سکتا ہے۔ پشاور کا نہری نظام گندگی و غلاظت کا مجموعہ بن چکا ہے۔ شاہی کٹھہ اُور بازار تجاوزات سے بھر گئے ہیں۔ اکثر علاقوں میں نہری نظام نکاسی آب کا بنیادی ذریعہ ہے جس میں گھریلو و کاروباری اُور صنعتی کوڑا کرکٹ‘ فضلہ اُور کیمیائی مادے بنا روک ٹوک اُور بنا تطہیر بہائے جا رہے ہیں۔ پوچھنے والے تو ہیں اُور پوچھنے والوں کا عوام نے بلدیاتی نمائندوں کی صورت انتخاب بھی کر دیا ہے لیکن پشاور سے دلی تعلق کی بجائے سیاسی تعلق نے صورتحال کو اجتماعی مفاد سے ذاتی و جماعتی مفاد کا اسیر بنا دیا ہے۔ 

توجہ طلب ہے کہ پشاور کا وہ نہری نظام جو کبھی آبنوشی کے لئے استعمال ہوتا تھا چند دہائیوں میں نکاسی آب کا ذریعہ بن گیا ہے اُور یہی ’آلودہ پانی‘ ضلع و تحصیل پشاور کی باقی ماندہ زراعت و باغبانی کے لئے استعمال ہونے کی وجہ سے نت نئی اُور پیچیدہ بیماریوں کو جنم دے رہا ہے۔ پشاور کا اِسی آلودہ پانی میں ’پولیو‘ و دیگر خطرناک بیماریوں کے جرثومے بھی پائے گئے ہیں! ایک ایسا صدر مقام‘ جو پھولوں کا شہر کہلاتا ہو اُور اُس کی مثالی آب و ہوا‘ اگر مثالی نہیں رہی تو قصور وار کون ہے؟جہاں رہائشی و تجارتی علاقوں کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہو چکا ہے اُور جہاں دانستہ و غیردانستہ سرزد ہونے والی غلطیوں سے سبق سیکھنے یعنی اصلاح احوال کا جذبہ بھی نہیں پایا جاتا تو اُس طول و عرض میں پھیلتے شہر کے ساتھ بڑھتے مسائل اگر مربوط و جامع حکمت عملی کے ساتھ حل نہیں کئے جاتے تو مبینہ ترقیاتی عمل کی صورت مالی وسائل کا ضیاع جاری رہے گا۔

منتخب نمائندوں پر مبنی مقامی حکومتوں کے نظام اُور پشاور کے مسائل کی عمومی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے توجہات ’گل بہار‘ کی جانب مبذول کرتے ہیں جس کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اُور یہ تقسیم وقت کے ساتھ ’گل بہار‘ کی آبادی بڑھنے کی وجہ سے خودبخود ہوتی چلی گئی اُور ’گل بہار‘ کی ابتدائی آبادی (پہلے حصے یعنی گل بہار نمبر ون) کے بعد کسی بھی دوسرے حصے (گل بہار نمبر دو‘ رشید ٹاؤن اُور گل بہار نمبر چار) میں خاطرخواہ شہری منصوبہ بندی کا عمل دخل نظر نہیں آتا بلکہ کھیتی باڑی کے لئے استعمال ہونے والی یہ اراضی ٹکڑوں میں فروخت ہوتی رہی اُور یوں راستے (گلیاں اُور سڑکیں) تخلیق پاتے رہے‘ جن پر تعمیر ہونے والے بے ترتیب گھروں کی اکثریت اُن تعمیراتی نقشوں کے مطابق نہیں جن کی متعلقہ میونسپلٹی (بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی) سے منظوری لی گئی تھی۔ بہرحال ’گل بہار‘ پشاور شہر کا پہلا توسیعی منصوبہ بصورت رہائشی بستی قرار دی جا سکتی ہے جس کے اکثر حصوں میں شہری منصوبہ بندی کا فقدان نظر آتا ہے اُور چار سے پانچ دہائیوں میں ’گل بہار‘ کا کوئی ایک بھی حصہ ایسا نہیں رہا‘ جہاں اینٹ رکھنے (نئی آبادی) کی گنجائش باقی رہی ہو اُور یہ وہ وقت ہے جب گل بہار کے رہنے والے ’نیند سے بیدار‘ ہوئے ہیں اُور آنکھیں مل کر اپنے گردوپیش کو دیکھنے پر اُنہیں معلوم ہوتا ہے کہ فٹ پاتھ تجاوزات سے بڑھ چکے ہیں۔ فٹ پاتھ کے ساتھ بنی ہوئی نالے نالیوں پر بھی قبضہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اُن کی صفائی پندرہ بیس برس سے نہیں ہوئی اُور معمولی سی بارش بھی گل بہار کے نشینی و نسبتاً بالائی حصوں کے لئے طغیانی کا باعث بنتی ہے یا سڑکوں پر کئی کئی دن تک بارش کا پانی کھڑا رہتا ہے جس سے تعلیمی اداروں‘ دفاتر اُور مساجد کو باقاعدگی سے جانے والوں کو مشکلات رہتی ہیں! میئر پشاور نے حال ہی میں انم صنم چوک سے عشرت سینما چوک اُور عشرت سینما چوک سے آفریدی گڑھی تک سڑک کی تعمیر و مرمت کے لئے فراخ دلی سے مالی وسائل فراہم کئے ہیں لیکن یہ مالی وسائل اگر سڑک کے اُن چند حصوں کی مرمت پر خرچ کئے جاتے جو توڑ پھوڑ کا شکار تھے۔ گل بہار کے 3 مسائل انتہائی ضروری ہیں۔ نکاسی آب کا نظام گلیوں سے متصل نہیں۔ گلیاں نیچے اُور سڑک کی سطح ہر ترقیاتی کام کے بعد بلند ہو رہی ہے۔ کئی گلیوں کی فرش بندی چاہئے جو عرصہ بیس سال پہلے بنائی گئی تھیں اُور بجلی کی فراہمی کا بوسیدہ (ناکافی) نظام کی اصلاح و توسیع ہونی چاہئے کیونکہ گل بہار کی آبادی میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن اِس کے ساتھ بجلی پانی و گیس جیسی سہولیات کی فراہمی کو مربوط توسیع نہیں دی گئی! 

اگر ’مکھی پر مکھی مارنا‘ مقصود نہیں اُور گل بہار کی ترقی سے کوئی سیاسی‘ جماعتی و سیاسی فائدہ بھی نہیں جڑا ہوا تو نمائشی اقدامات پر ’مالی وسائل‘ ضائع کرنے کی بجائے حسب ِحال (حسب ِضرورت) ترقیاتی حکمت عملی وضع کی جانی چاہئے۔

....

Editorial Page - Daily Aaj - 15th July 2023

Clipping from Editorial Page - Daily Aaj - 15th July 2023


Tuesday, May 10, 2022

Peshawar Kahani: knowing the known issues!

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: آپ اپنی تلاش ہے مجھ کو

میئر پشاور ’حاجی زبیر علی‘ نے پشاور کے ٹریفک مسائل حل کرنے کے لئے ”ٹھوس اقدامات“ کا عندیہ دیتے ہوئے متعلقہ حکومتی اداروں سے تجاویز (مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات) طلب کی ہیں اُور ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ”پشاور کی تعمیروترقی اُور خوبصورتی درحقیقت خیبرپختونخوا کی تعمیروترقی اُور خوبصورتی کی آئینہ دار ہوتی ہے۔“

 قبل ازیں (اپریل دوہزاربائیس کے آخری ہفتے میں) اُنہوں نے خواجہ سراؤں کی تعلیم و تربیت کے لئے الگ ادارے کے قیام اُور نشے کے عادی افراد کی بحالی پر خصوصی توجہ دینے کے لئے ’سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ‘ سے تجاویز بھی طلب کر رکھی ہیں تاہم جس تیزی سے مسائل کی نشاندہی اُور اعلانات ہوئے ہیں‘ اُس تیزی سے عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے اُور یہی پشاور کے ”مسائل کی بنیادی جڑ“ ہے کہ یہاں تعمیروترقی کا عمل ایک تو فیصلہ سازوں کی ذاتی ترجیحات اُور دلچسپی کے گرد گھومتا رہتا ہے اُور دوسرا بیک وقت ایک سے زیادہ منتخب و غیرمنتخب فیصلہ ساز کسی ایک ہی مسئلے کے حل کی کوششیں کر رہے ہوتے ہیں لیکن وہ ماضی میں کی گئی ایسی ہی کوششوں پر نظر نہیں کرتے اُور نہ ہی اداروں کی کارکردگی کا احتساب کرتے ہیں‘ جس کے بغیر تعمیروترقی اُور خوبصورتی نہ تو پائیدار ہو سکتی ہے اُور نہ جامع اُور مستقبل کی ضرورتوں سے ہم آہنگ۔ بہرحال و بہرصورت پشاور کا کوئی بھی مسئلہ اُس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک اُس کے ماضی و مستقبل پر نظر نہ کی جائے۔ ماضی پر نظر کرنے کا مطلب اُس کے سبب کا سدباب جبکہ مستقبل پر نظر رکھنے سے یہاں مراد بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات ہیں۔

حاجی زبیر علی نے پندرہ مارچ دوہزاربائیس کے روز ’میئر پشاور‘ کے عہدے کا حلف اُٹھایا اُور یہ تقریب کمشنر پشاور کے دفتر میں منعقد ہوئی جبکہ موزوں مقام ضلعی اسمبلی کی عمارت تھی اُور اگر حلف برداری (پہلے دن کا آغاز) ہی افسرشاہی کے جھانسے میں آئے بغیر کیا جاتا تو ایک واضح پیغام دیا جا سکتا تھا کہ آج کے بعد پشاور کے مسائل پر سرکاری اداروں کے اعدادوشمار کی گرد پڑنے نہیں دی جائے گی اُور آرام دہ ائرکنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر پشاور سے متعلق فیصلہ سازی خاطرخواہ کامیاب بھی نہیں ہوگی۔ ذہن نشین رہے کہ میئر پشاور کا عہدہ 7 تحصیلوں پر مشتمل ہے جس کے لئے پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات پشاور سمیت سترہ اضلاع میں 19 دسمبر 2021ء کے روز ہوئے تھے۔ نئے بلدیاتی نظام کے تحت میئر پشاور جو کہ تحصیل پشاور کا سربراہ (چیئرمین) ہونے کے ساتھ تحصیل پشتخرہ (چیئرمین ہارون صفت)‘ تحصیل متھرا (چیئرمین فرید اللہ خان)‘ تحصیل شاہ عالم (چیئرمین کلیم اللہ)‘ تحصیل چمکنی (ارباب عمر)‘ تحصیل بڈھ بیر (چیئرمین مفتی طلا) اُور تحصیل حسن خیل (چیئرمین عبدالحفیظ آفریدی) میں ترقیاتی کاموں اُور بلدیاتی نظام کی فعالیت پر نظر رکھتا ہے۔ اِس لحاظ سے ”میئر پشاور“ کے عہدے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ بلدیاتی نظام میں پشاور کو 7 تحصیلوں‘ 9 ویلیج کونسلوں اُور 121 نیبرہڈ کونسلوں (دیہی علاقوں) میں تقسیم کیا گیا ہے لیکن پشاور کے شہری و دیہی علاقوں کی یہ تقسیم انتہائی واضح ہونے کے باوجود بھی ترقیاتی عمل کے لئے درکار مالی وسائل خاطرخواہ فراہم نہیں کئے جاتے اُور آج بھی پشاور کے لئے ترقیاتی مالی وسائل کا بڑا حصہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں اُور سینیٹرز کی صوابدید پر خرچ ہوتا ہے جبکہ اشد ضرورت ”بلدیاتی نظام کو مضبوط و فعال کرنے کی ہے۔“ اُور بلدیاتی انتخابات کے بعد کس سیاسی جماعت کی جیت ہوئی ہے یہ نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اب سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سوچتے ہوئے پشاور کی قسمت کے فیصلے اِس کے موجودہ بلدیاتی نمائندوں کو سونپ دینے چاہیئں۔ حاجی زبیر علی کا تعلق ’جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) سے ہے جس نے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 24 تحصیلوں کی میئر‘ چیئرمین شپ حاصل کی جبکہ دوسرے نمبر پر تحریک انصاف کے حصے میں 17 تحصیلوں کی میئر اُور چیئرمین شپ آئیں تھیں جبکہ 10 نشستوں پر آزاد‘ 7 پر عوامی  نیشنل پارٹی‘ 3 پرمسلم لیگ نواز‘ دو دو نشستوں پر جماعت اسلامی و تحریک اصلاحات پاکستان جبکہ ایک نشست پر پیپلزپارٹی پارلیمینٹرنز کے نامزد بلدیاتی اُمیدوار کامیاب ہوئے تھے اُور اِن انتخابی نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع دن (اُنیس دسمبر دوہزاراکیس) سے کہا جا رہا ہے کہ سیاسی جماعتی تفریق کی وجہ صوبائی حکومت اُور پشاور سمیت دیگر تحصیلوں کے نگرانوں کے درمیان وہی فاصلہ برقرار رہے گا‘ جس کا مشاہدہ و نظارہ ماضی میں کیا جا چکا ہے اُور اِس سے اگر کسی کا نقصان ہوا تو وہ صرف پشاور تھا۔

پشاور کی ضرورت ایسے ’وسیع البنیاد ترقیاتی عمل‘ کی ہے‘ جسے سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی مفادات کی عینک لگا کر نہ دیکھیں یعنی پشاور کی خدمت سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کی جائے تو کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں جس کا پائیدار حل تلاش نہ کیا جا سکے۔ حاجی زبیر علی نے بطور ’میئر پشاور‘ حلف اُٹھانے کی تقریب کے فوراً بعد‘ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت میں پشاور کے جن مسائل کا ذکر کیا اُس جامع فہرست کے بعد کسی سوچ بچار کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن صرف اُور صرف عمل درآمد (ایکشن پلان) کی ضرورت ہے۔ حاجی زبیر علی نے کہا تھا کہ ”پشاور کو انواع و اقسام کے مسائل کا سامنا ہے جن میں ٹریفک کا بے ہنگم نظام‘ بغیرمنصوبہ بندی و منظوری ترقی‘ بجلی (برقی رو) کا طویل تعطل‘ پینے کے صاف پانی کی قلت‘ پینے کے پانی کی تقسیم کا نظام‘ بڑھتی ہوئی آبادی اُور کم وسائل شامل ہیں۔“

”پشاور کے مسائل“ اُور ”پشاور کے وسائل“ مربوط نہیں اُور اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پشاور کے وسائل کو اِس سوچ کے ساتھ ترقی نہیں دی جاتی کہ ہر تحصیل کی آمدنی صرف اُور صرف اُس تحصیل پر خرچ ہو۔ پشاور کے مرکزی شہر کے وسائل پر دیہی علاقوں کا بوجھ ناقابل برداشت اُور غیرمنطقی ہونے کے ساتھ پشاور کے ساتھ ظلم بھی ہے۔ انتہائی بنیادی ضرورت یہ ہے کیونکہ ”پشاور سٹی تحصیل“ کی آمدنی جو کہ دیگر تحصیلوں کے مقابلے نسبتاً زیادہ ہے لیکن اُسے دیگر چھ تحصیلوں پر تقسیم کرنے کے بعد نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسی ایک بھی تحصیل میں شہری بنیادی سہولیات کا ڈھانچہ ’مثالی شکل و صورت اختیار نہیں کر پاتا۔ وقت ہے کہ تحصیلیں اپنی آمدنی و اخراجات میں توازن کے ساتھ ”پشاور شہر“ پر اپنا بوجھ (مالی انحصار) کم کرنے کے بارے میں بھی سوچیں کیونکہ گنجان آباد شہر کے مسائل بحرانی شکل اختیار کر چکے ہیں اُور اُن کا حل ایک ایسے مربوط ترقیاتی عمل سے مشروط ہو چکا ہے‘ جس میں پشاور مرکزی نکتہ ہو اُور یہ شہر (دانستہ یا غیردانستہ طور پر) مزید نظر انداز نہ رہے۔ ”آپ اپنی تلاش ہے مجھ کو …… ہوں عجب مشکلات میں تنہا (جمیل یوسف)۔“

Clipping from Daily Aaj May 10, 2022


Thursday, March 12, 2020

Son of soil: Serving Peshawar with best of the abilities!

ژرف نگاہ
پشاور: ضمیر کی آواز!
غور طلب ہے کہ قصور و فتور کبھی بھی صوبائی و بلدیاتی‘ منتخب‘ غیرمنتخب اُور چنیدہ فیصلہ سازوں کی نیت کا نہیں رہا اُور نہ ہی فیصلہ سازی کے مراحل میں کوتاہی ہوئی بلکہ ایک سے بڑھ کر ایک جامع حکمت عملی دفتری کام کاج (ریکارڈ) کا حصہ ہے جبکہ پشاور کے ظاہری مسائل کے پوشیدہ پہلو یہ ہیں کہ یہاں عزم اِرادوں‘ اِرادے حوصلوں‘ حوصلے مصلحتوں اُور مصلحت ترجیحات پر غالب آتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ظاہری حسن اُور شہری زندگی کے لئے بدنمائی کا سبب بننے والے تین بنیادی محرکات (تجاوزات‘ دیواروں پر لکھائی جسے عرف عام میں وال چاکنگ کا کہا جاتا ہے اُور آویزاں کئے گئے سیاسی و غیرسیاسی تشہیری مواد) سے شہر کو پاک کرنے کی جملہ کوششیں کہیں نہ کہیں دم توڑتی رہی ہیں جبکہ (تاریخ گواہ ہے کہ) بھرپور جوش و جذبے (ذرائع ابلاغ کی وساطت سے مشتہر بلندبانگ دعوو ¿ں کے ساتھ) پشاور کی ظاہری خوبصورتی بحال کرنے کی حسب حال ضروری کوششیں منطقی انجام تک پہنچنے سے قبل ہی ادھوری چھوڑنے کی روایت بھی نئی نہیں۔
پشاور کا دن کب آئے گا؟
وہ دن جب شہری ترقی کے لئے کام کرنے والے ایک سے زیادہ حکومتی ادارے ماضی کی کوششوں (کامیابیوں و ناکامیوں) سے حاصل (اخذ) نتائج کو مدنظر رکھیں گے۔ جب اداروں کے سالانہ مالیاتی امور ہی کا نہیں بلکہ اِن کی کارکردگی کا بھی اِحتساب ہو گا۔ تجاوزات‘ وال چاکنگ اُور سیاسی و غیرسیاسی تشہیری مواد سے پشاور کو پاک کرنے کے لئے ماضی و حال کی کوششوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ اِن مہمات کے نگرانوں کی اکثریت کا خمیر و ضمیر پشاور کی مٹی سے نہیں اُٹھا اُور یہ بات الگ موضوع ہے کہ پشاور کی محبت بھی ہر کسی کا نصیب بھی نہیں ہوتی۔ این سعادت بزور بازو نیست کے مصداق درجنوں مثالیں موجود ہیں جب اپنوں اُور اغیار (دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والوں) نے اپنے سیاسی اثرورسوخ اُور تعلقات کی بناءپر پشاور کی بلدیاتی یا سیاسی فیصلہ سازی اپنے ہاتھ میں لی لیکن اِن میں سے اکثر کے لئے پشاور صرف اُور صرف ’ملازمتی موقع‘ تھا‘ جس سے ہر ممکن اُور کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھایا گیا اُور ذاتی اُور وقتی مفادات پر پشاور کی محبت غالب نہ آ سکی۔ فیصلہ سازوں نے اپنے ملازمتی عرصے کے ابتدائی چند ہفتے اہل پشاور جبکہ باقی سالہا سال حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں گزارے۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ فصیل شہر‘ سولہ دروازے اُور پشاور کا فن تعمیر‘ حتیٰ کہ بذریعہ قانون محفوظ (protected) قرار دیئے گئے آثار قدیمہ کا مستقبل مخدوش دکھائی دیتا ہے جو ایک ایک کر کے اپنا وجود کھو رہے ہیں اُور دردمندی و گہرائی سے دیکھا جائے تو پشاور کو پہنچنے والے یہی ناقابل تلافی نقصانات ہیں کہ یہ شہر صرف ماضی ہی نہیں بلکہ حال کی ہر ایک خوبی کو ایک ایک کر کے گنواتا رہا۔
حسن ظن یا حسن اِتفاق نہیں کہ پشاور ہر دور میں توجہ کا مرکز رہتا ہے بلکہ پشاور کی مرکزی حیثیت اِس قدر ہے کہ اِسے دیکھ کر خیبرپختونخوا میں طرزحکمرانی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 92 یونین کونسلوں پر مشتمل پشاور 4 ٹاو نز (بلدیاتی علاقوں) میں تقسیم ہے‘ جس کے اندرون شہر کے علاقوں پر مشتمل ’ٹاو ن ون‘ کی اِنتظامیہ 4 فروری سے خصوصی مہم چلا رہی ہے۔ چار فروری ہی کے دن ’پشاور کے سپوت‘ ریاض اعوان کی بطور ’ٹاو ن آفیسر ریگولیشنز (TOR)‘ تعیناتی ہوئی۔ آپ خیبرپختونخوا کے مختلف ٹاو ¿ن میونسپل اتھارٹیز کے نگران (ایڈمنسٹریٹر) رہنے کے بعد جب اپنے آبائی شہر واپس تعینات ہوئے تو یہ کسی بھی طور معمولی بات نہیں تھی اُور حسب توقع وہ اپنے شہر کی خدمت کا حق ادا کر رہے ہیں جنہیں ’چاچا یونس ثانی‘ قرار دینا چاہئے۔ ریاض اعوان کی بطور ’ٹی اُو آر‘ پشاور تعیناتی (چار فروری) کے دن شام ہونے سے پہلے تجاوزات‘ وال چاکنگ اُور تشہیری مواد کی صفائی کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ اگلے دن (پانچ فروری) ’یوم کشمیر‘ کے سلسلے میں دیگر سرکاری مصروفیات غالب رہیں لیکن پانچ فروری بوقت عصر سے جاری مہم کے دوران گیارہ مارچ تک (ایک ماہ سات دن) کے دوران ہر قسم کے سیاسی و غیرسیاسی دباو ¿ حتیٰ کہ ہفتہ وار تعطیلات کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا اُور یہی ماضی و حال کی بظاہر ایک جیسی مہمات کے یکسر مختلف نتائج برآمد ہونے کا باعث امر ہے کہ تجاوزات‘ وال چاکنگ اُور تشہیری مواد جیسے انبار سے پاک و صاف (نکھرا نکھرا ستھرا) پشاور ظاہر ہو رہا ہے۔ ٹاو ¿ن ون اہلکاروں میں پشاور کی خدمت اُور محبت کی نئی روح پھونکنے والے ایک جواں ہمت شخص کی توفیقات میں اضافے اُور صحت و سلامتی کی دعاو ¿ں کے ساتھ اُمید ہے کہ ریاض اعوان اہل پشاور کی نہیں بلکہ اپنے خمیر و ضمیر کی توقعات پر پورا اُتریں گے۔
............


Monday, March 6, 2017

Mar2017: Peshawar; never such before!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پشاور: سوچا نہیں تھا!
کارکردگی اَقوال سے نہیں افعال سے ظاہر ہونی چاہئے۔ ’پاکستان تحریک اِنصاف‘ کی صوبائی حکومت اگر ’پشاور سے اِنصاف‘ نہیں کر سکی تو یہ نتیجہ اَخذ کر لینا قطعی منطقی ہوگا کہ وہ باقی ماندہ خیبرپختونخوا سے بھی کئے گئے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں ’باوجود کوشش‘ ناکام ثابت ہوئی ہے اُور جب ہم ’پشاور سے اِنصاف‘ کی بات کرتے ہیں تو اِس کا مطلب ’تعمیروترقی سے پیدا ہونے والی وہ ظاہری و باطنی خوبصورتی ہوتی ہے جو 1: مقدار کے لحاظ سے پورے پشاور کی کفالت کر رہی ہو اور 2: وہ معیار کے لحاظ سے پائیدار (دائمی) ثابت ہو۔ یادش بخیر 1996ء میں سیاسی سفر کا آغاز کرنے والی ’تحریک انصاف‘ ’جون 2013ء‘ سے خیبرپختونخوا میں اِتحادی جماعتوں جماعت اسلامی پاکستان‘ قومی وطن پارٹی اور عوامی جمہوری اتحاد کے ساتھ برسراقتدار ہوئی تو ’انتخابی وعدوں‘ کا خلاصہ یہ تھا کہ ’تبدیلی آ گئی ہے‘ لیکن کیا دل پر ہاتھ رکھ کر اُور پشاور کے بحرانی مسائل کی شدت دیکھ کر پشاور کو درپیش مشکلات ماضی کے سیاسی و غیرسیاسی اَدوار سے مختلف قرار دی جا سکتی ہیں؟

صوبائی دارالحکومت پشاور کی خوبصورتی کے لئے اَخذ کی گئی ’حکمت عملی (بیوٹیفیکیشن پروگرام)‘ کی جزئیات کا جائزہ لینے پر جن اَعدادوشمار سے واسطہ پڑتا ہے وہ اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ موجودہ دور حکومت میں جہاں ’خوبصورتی کے لئے مختص مالی وسائل سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا جاسکا وہیں (دانستہ یا غیردانستہ طور پر) خوبصورتی ایک ہزار دوسو ستاون مربع کلومیٹر (چارسوپچاسی مربع میل) پر پھیلے پشاور کے چند خاص حصوں تک محدود رہی۔ 

المیہ یہ بھی رہا کہ ماضی کی طرح ’نیک نامی کے لئے فوری اور مصنوعی اقدامات پر اکتفا کیا گیا جیسا کہ جی ٹی روڈ کے مختلف حصوں میں بیش قیمت گملے اور پودے لگانے اور اکھاڑنے کی مشقیں ایک سال میں تین مرتبہ کرنا مالی وسائل کا ضیاع نہیں تو کیا ہے؟

جنوب مشرق ایشیاء کے قدیم ترین زندہ تاریخی شہر پشاور میں فضائی آلودگی بلند ترین سطح (اُس انتہاء) کو چھو رہی ہے‘ جس میں جانداروں کے لئے سانس لینا صحت کے لئے خطرہ قرار دیا جاتا ہے اور اِس سلسلے میں ایک سے زیادہ خود حکومتی اِداروں کی مرتب کردہ رپورٹیں موجود (شاہد) ہیں‘ جن میں ماحولیاتی آلودگی کا ذکر کرتے ہوئے پشاور کے چند ایسے آبادی کے مراکز کی نشاندہی بھی کی گئی جہاں گردوغبار اور ٹریفک کی وجہ سے فضائی آلودگی ناقابل برداشت ہے۔ جی ٹی روڈ پر گلدار پودے لگانے کے لئے نجی اِدارے کو ’30 لاکھ روپے‘ کا ٹھیکہ دیا گیا لیکن پشاور میں داخل اور خارج ہونے کے مقامات پر یہ پودے اِس لئے دم توڑ گئے کیونکہ ہوا میں موجود کیمیائی مادوں کی شرح اور مسلسل بڑھتی ہوئی مقدار‘ گردوغبار پر مبنی فضائی کثافت اور تیزی سے تغیرپذیر موسمیاتی درجۂ حرارت کے اثرات کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔ یاد رہے کہ پشاور کی خوبصورتی سے متعلق حکمت عملی کے لئے صوبائی حکومت نے ’1 ارب روپے‘ مختص کئے لیکن ’جون 2016ء‘ تک اِس مختص رقم میں سے قریب نصف یعنی 55 کروڑ ہی خرچ ہو پائے اور اِس خرچ ہوئی رقم کا بڑا حصہ بھی ’جی ٹی روڈ‘ ہی کے حصے میں آیا جہاں 1 کروڑ 80 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے ’جی روڈ کے ساتھ فٹ پاتھ اور گرین بیلٹ کی تعمیر کی گئی! 

مالی سال 2016-17ء کی تشکیل کے موقع پر بھی پشاور صوبائی حکومت کے ’پیش نظر‘ رہا اور 9 کروڑ روپے پشاور کی خوبصورتی میں اضافے کے لئے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لئے دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ آئندہ مالی سال کے لئے بھی توقع ہے کہ 36 کروڑ روپے اِسی مد میں جاری کئے جائیں گے اور یوں ایک پشاور کے نام پر ’’1 ارب روپے‘‘ خرچ ہونے کا عمل مکمل ہو جائے گا‘ جن کا استفادہ صرف اور صرف جی ٹی روڈ کی لمبائی پر ہی خرچ ہوا‘ اور اگر یہ خطیر رقم جی ٹی روڈ کی چوڑائی پر بھی خرچ کی جاتی تو زیادہ پائیدار (اطمینان بخش) نتائج حاصل ہوتے۔ پشاور میں یومیہ ’بارہ سے پندرہ سو ٹن‘ گندگی کی مقدار پیدا ہوتی ہے جس کا ’ساٹھ سے پینسٹھ فیصد حصہ‘ ہی اکٹھا ہو پاتا ہے یعنی پشاور کے طول و عرض میں یومیہ تیس سے چالیس فیصد گندگی پھیل رہی ہے‘ جو تلف نہیں ہو رہی۔ گندگی کے یہ ڈھیر توانائی کے لئے پیداواری ایندھن بن سکتے ہیں لیکن اگر پشاور کے شب و روز‘ مسائل اور وسائل کے بارے سوچا جائے!

پائیدار ترقی ہو یا ظاہری خوبصورتی‘ شہری ترقی کے اِمکانات لامحدود رہتے ہیں۔ کیا پشاور ترجیح ہے؟ فیصلہ سازوں کے سامنے پشاور کے ’’شاندار ماضی کی جھلک‘‘ نہیں‘ جس کی وجہ سے اُنہیں نہ تو زوال پذیری کا اندازہ ہو رہا ہے اور نہ ہی فضائی آلودگی کی اُن وجوہات (اسباب) پر نظر ہے جو خود اُنہی کی غلط منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں جیسا کہ پشاور کے مختلف حصوں میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور ٹریفک کے دباؤ سے اُٹھنے والا گردوغبار اور دھویں کے بادل یہاں کے حسن کو مانند کر رہے ہیں۔ 

شہری ترقی کے ادارے کی جانب سے تخمینہ لگایا گیا ہے کہ شہری و دیہی علاقوں میں سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے مزید ’ڈیڑھ ارب روپے‘ درکار ہیں‘ جس کے لئے صوبائی حکومت مالی وسائل فراہم کرنے کے لئے رضامند بھی ہے! پہلے ایک ارب روپے اور اب مزید ڈیڑھ ارب روپے کسی بھی طرح معمولی رقم نہیں لیکن اگر ترجیحات کا تعین کرنے میں ’حکیمانہ غفلت‘ کا مظاہرہ نہ کیا جائے تو اِس قدر مالی وسائل کا زیادہ بہتر مصرف یقیناًممکن تھا اور اب بھی بہتری لائی جاسکتی ہے۔ ہنگامہ خیزی کی بجائے ترقی کا عمل تحمل اور معنی خیز ہونا چاہئے۔ پشاور کے ہر رہنے والے تک پینے کے صاف پانی کی رسائی کا ہدف تاحال حاصل نہیں کیا جاسکا تو کیا یہ امر باعث تفکر و مذمت نہیں ہونا چاہئے؟ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی قسمت ہو یا پاکستان کا ستھرا ترین اُور غلاظت سے پاک ’مثالی شہر‘ قرار دینے کا ہدف‘ سچ تو یہ ہے کہ پشاور کے حقوق اَدا نہیں ہوئے۔ ترقی و خوبصورتی سے حاصل اہداف اگر پائیدار ثابت نہیں ہوئے تو ذمہ دار (قصوروار) کون ہیں اور ’کسے وکیل کریں‘ کس سے منصفی چاہیں؟‘

تباہی یوں ٹھکانہ پائے گی‘ سوچا نہیں تھا!
پشاور کو نظر لگ جائے گی‘ سوچا نہیں تھا!
کہاں وہ پھول‘ وہ باغات‘ وہ آب و ہوائیں؟
گلی کوچوں سے بدبو آئے گی‘ سوچا نہیں تھا!

Friday, January 6, 2017

Jan2017: Clean Drinking Water for Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
۔۔۔ تاثیر مسیحائی کی!
’’پشاور پر رحم‘‘ کرنے جیسی عاجزی کا اِظہار کرتے ہوئے اِصلاح اَحوال کی تجاویز دینے والے ’دانشور‘ لکھاری تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے حالانکہ اگر اہل پشاور کی 80فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تو اِس کے لئے کلی طور پر ذمہ دار ’مئی دو ہزار تیرہ‘ کے بعد سے برسراقتدار آئی موجودہ صوبائی حکومت نہیں۔ کچھ ذمہ داری اُور تنقید تو پاکستان مسلم لیگ (نواز)‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ پیپلزپارٹی‘ متحدہ مجلس عمل‘ قومی وطن پارٹی‘ جماعت اسلامی‘ جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) سمیت اُن تمام اقتدار یا شریک رہی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے جو ماضی میں کسی نہ کسی طور حکومتی فیصلہ سازی کا حصہ رہے اور جن کے اَدوار میں ترقی کا عمل نہ تو ’’پائیدار‘‘ ثابت ہوا اُور نہ ہی وہ ایسی ترجیحات کے تابع تھا کہ اُس کی بدولت بنیادی سہولیات کا ڈھانچہ مضبوط ہوتا یا پھر کم سے کم آج پورے خیبرپختونخوا کو پینے کا صاف پانی ہی میسر ہوتا۔ قوم پرستی اور مذہب کا لبادہ اُوڑھ کر حکومت کرنے والوں نے خیبرپختونخوا کو سوائے اداروں میں بیجا سیاسی مداخلت‘ سفارش‘ بدعنوانی‘ غربت‘ پسماندگی‘ انتہاء پسندی اُور بحرانوں کی صورت مسائل کی دلدل کے سوأ کچھ نہیں دیا‘ جس کی اِصلاح کے لئے کوششوں کی راہ میں آج بھی ماضی کے وہی حکمراں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جو درپردہ نہ صرف تحریک انصاف کو اپنے انتخابی ایجنڈے پر عمل درآمد سے روکنے کے لئے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں بلکہ اپنے ہم خیال لکھنے والوں کی ’داد شجاعت‘ کو سراہتے ہیں کہ جن کے الفاظ ’تحریک انصاف‘ کے خلاف عام آدمی (ہم عوام) کے دلوں میں شکوک و شبہات کاشت کر رہے ہیں! صوبائی حکومت کے دفاع اور برسرزمین حقائق و صورتحال کی وضاحت کس کی ذمہ داری ہے؟ 

خیبرپختونخوا حکومت کی ترجمانی جس قدر کم پیمانے پر آج ہو رہی ہے‘ اِس کی ماضی میں مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی! آج پورے پاکستان کو باور کرایا جا رہا ہے کہ دیکھو ۔۔۔ ’’خیبرپختونخوا کی حکمراں جماعت اپنی بنیادی ذمہ داری سے عہدہ برآء نہیں ہو رہی تو کیوں نہ اِسے ناکام قرار دے کر آئندہ عام انتخابات میں مسترد کر دیا جائے!‘‘

خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کے پہلے دن سے تحریک انصاف میں ’دوسرے عمران خان‘ کی کمی محسوس ہونے لگی! تحریک کی بدقسمتی یہ بھی رہی کہ اِسے قومی سیاست یعنی وفاقی پارلیمانی سطح پر خاطرخواہ کردار ادا کرنے کی عددی برتری حاصل نہ ہو سکی‘ جس کی بنیادی وجہ یہ نہیں تھی کہ بدعنوانی سے پاک طرزحکمرانی کے قیام کا وعدہ کرنے والوں کا پیغام ملک کے کونے کونے میں نہیں پہنچ سکا بلکہ صوبوں کے ضروری طور پر بڑے حجم ہونے کے سبب ’انقلاب کی آواز‘ نسلی لسانی اور قبائلی گروہ بندیوں کے مخصوص ووٹ بینک تلے کہیں دب کر رہ گئی۔ بحث کے اِس زوایئے اور موضوع کی تہہ داریاں متقاضی ہیں کہ اِس کا احاطہ کسی دوسرے مرحلۂ فکر پر کیا جائے۔ سردست قضیہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اُس بیان سے متعلق ہے جو انہوں نے عوامی جمہوریہ چین کے دورے سے واپسی کے بعد‘ 2 جنوری کے روز ورسک روڈ پر منعقدہ پہلی عوامی تقریب کے موقع پر دیا اُور ذرائع ابلاغ کے ہاتھ ایک ایسا نکتہ آ گیا‘ جس کی وضاحت ہر کسی نے اپنے اپنے تعصب کی عینک لگا کر کی۔ 

وزیراعلیٰ محترم اگر بات ’’موقع محل‘‘ دیکھ کر کرتے تو اُن کی وجہ سے پوری تحریک انصاف کو اِس قدر تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ’’گلونہ پیخور‘‘ نامی ’صفائی مہم‘ کے موقع پر بے محل یہ کہنا کہ ’’پشاور کی 80فیصد آبادی کو پینے کے لئے صاف پانی دستیاب نہیں‘‘ بڑی حد تک حقیقت تو ہے‘ لیکن اِس کا حوالہ اُور بیان غیرسائنسی طور پر دیا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو پورے پاکستان کا کوئی ایک بھی ایسا شہر نہیں جہاں کی اکثریتی آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہو لیکن یہ اِس بات کا جواز نہیں ہوسکتا کہ کوئی حکومت اپنی ذمہ داریاں دوسروں کے سر ڈال دے۔ توجہات مبذول رہیں کہ حکومت کا کام سنسنی خیزی اور تعجب خیزی میں اضافہ نہیں بلکہ صورتحال کی وضاحت کرنا ہوتی ہے۔ 

فیصلہ سازی کے منصب پر مراعات یافتگان کی یہ بھی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کیونکہ وہ کسی بھی مسئلے کے بارے اظہار خیال کرتے ہوئے اُس کے سیاق و سباق (ماضی و حال) اور اصلاحی پہلوؤں کے بیان سے اختتام کریں۔ کیا وزیراعلیٰ کو پشاور کے پانی کے بارے ایسا بیان دینا چاہئے تھا‘ جس سے اہل پشاور میں تشویش سے زیادہ یہ تاثر پھیل جاتا کہ اگر صوبائی حکومت جانتی ہے کہ پشاور کی اکثریت کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تو پھر پینے کا صاف پانی فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ہے اور موجودہ حکومت نے اِس سلسلے میں کیا عمومی و خصوصی اقدامات کر رہی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا صوبائی حکومت نے پشاور کے طول و عرض میں کوئی ایسا سروے (جائزہ) اپنی نگرانی اور سرکاری اداروں کی معاونت سے مکمل کیا ہے جس سے یہ نتیجہ اَخذ کیا جاسکے کہ پشاور کی کم و بیش نہیں بلکہ پوری 80فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے؟ 

وزیراعلیٰ کو اِس بارے میں بھی اہل پشاور کی رہنمائی کرتے ہوئے بیان کرنا چاہئے تھا کہ امریکہ کا امدادی ادارہ (یو ایس ایڈ) کوڑا کرکٹ تلف کرنے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے اور اِس سلسلے میں پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں جاری کام کی رفتار یا حاصل شدہ نتائج کی تفصیلات بمعہ اعدادوشمار کا تبادلہ اگر ذرائع ابلاغ کے ساتھ کر دیا جاتا تو ’بار ذمہ داری‘ کچھ ہلکا ہو جاتا۔ تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا اُور بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور میں کارکردگی پر تنقید کرنے والوں کی پہلے ہی کمی نہیں تھی لیکن وزیراعلیٰ کے غیرمحتاط اُور سرسری بیان نے ’’جلتی پر تیل‘‘ جیسا کام کرتے ہوئے اُس بحث کو مزید اُلجھا دیا ہے‘ جس میں حکومت کی ذمہ داریاں‘ جنون پر منبی انقلابی اصلاحات اور جملہ انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دینے والے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا اُور بالخصوص پشاور کو ہنوز ایک مسیحا کا انتظار ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Clean drinking water for Peshawar,  without scientific survey and need assessment not practically possible

Monday, September 12, 2016

Sept2016: Measures for Eid ul Azha

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عیدالاضحی کے تقاضے!
تہوار کوئی بھی ہو‘ سب سے پہلا اندیشہ‘ مطالبہ اُور دھیان ’پشاور میں صفائی کی صورتحال‘ سے متعلق ذہن میں آتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اگر صفائی کی ’’مثالی صورتحال‘‘ متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا عمومی بیان ہوتی تو حسب سابق اِس مرتبہ بھی ’عیدالاضحی‘ کے موقع پر صفائی کے ’نت نئے انتظامات‘ کا اعلان کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اگر صفائی کا کام سمیٹ کر ذمہ داری کسی ایک محکمے کے کندھوں پر لاد دی گئی ہے تو اِس کے باوجود بھی معاشرہ اپنی انفرادی یا اجتماعی حیثیت میں بَری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا اُور یہی نتیجۂ کلام ہے کہ ۔۔۔ ’’جب تک صفائی برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہر شہری محسوس کرنے کے ساتھ عملی کوششوں کا حصّہ نہیں بنتا‘ جب تک پشاور کو ’’اپنا شہر‘‘ سمجھتے ہوئے خود بھی اُور دوسروں کو بھی صفائی کی کوششوں میں رضاکارانہ طور پر شریک نہیں کر لیا جاتا‘ اُس وقت تک ’’تبدیلی‘‘ آنے کی اُمید تو کی جاسکتی ہے لیکن ایسا عملاً ممکن نہیں ہوگا۔‘‘

اہل پشاور سے ایک مرتبہ پھر تعاون کی اِلتجا کرتے ہوئے ’’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی)‘‘ کے حکام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں (خیبریونین آف جرنلسٹس) کی وساطت سے ’تین روزہ خصوصی مہم‘ کے خدوخال مشتہر کئے ہیں جن میں اٹھارہ سو اٹھانوے اہلکار اُور دو سو تیس گاڑیاں عیدالاضحی کے دوران ’آن ڈیوٹی‘ رہیں گی جبکہ اس دوران اضافی طور پر 75 گاڑیاں کرائے پر بھی حاصل کی جائیں گی تاکہ قربانی کے جانوروں کی الائشیں اور گندگی بروقت ٹھکانے لگائی جا سکے۔ ہمیں ایک اُور مہنگی عید کا سامنا ہے جس پر حکومت کے کروڑوں روپے خرچ ہو جائیں گے۔ بالخصوص ’عیدالاضحی‘ کے موقع پر جس بیدردی سے گندگی پھیلائی جاتی ہے اُسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسا کہ یہ حرکت بھی عید کے مذہبی فرائض میں شامل کر لی گئی ہو! جب خاص و عام کی اکثریت اپنی اپنی استطاعت و استعداد کے مطابق گندگی پھیلانے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو اُنہیں اِس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کا نہیں خود اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے شہر‘ علاقے محلے اُور اپنے ہی گردوپیش کی صفائی کا خیال نہ رکھ کر جن بیماریوں کو دعوت دی جا رہی ہوتی ہے وہ قطعی معمولی نہیں۔ صفائی سے متعلق اسلامی نکتۂ نظر کی تشریح طبی ماہرین بھی ’’فرائض‘‘ کے طور پر ہی کرتے ہیں اور ضرورت اِس امر کی ہے کہ اِس بارے عمومی شعور میں اضافہ کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ کی طرح منبر و مساجد سے بھی وعظ و تلقین پر مشتمل ’ذکر کے حلقے‘ ترتیب دیئے جائیں۔

اِس سال قربانی کی مالی استطاعت اُور اِرادہ رکھنے والے سے اِلتجا ہے کہ وہ مال مویشیوں کے لئے چارہ صرف اُتنی ہی مقدار میں خرید کر لائیں جس قدر اُن کی یومیہ ضرورت ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں جانور کی عادات‘ پسند و ناپسند یا خوراک کے بارے معلومات خریدتے وقت باآسانی حاصل کی جاسکتی ہیں لیکن عمومی روش یہ ہے کہ قیمت طے کرنے کے مراحل میں اِس بات کا دھیان ہی نہیں رکھا جاتا۔ اکثر لوگوں کو مال مویشی رکھنے کا تجربہ نہیں ہوتا‘ جو اُن کی ضرورت اور مزاج کے برعکس کھانے کے انبار لگا دیتے ہیں یا پھر مال مویشیوں کے سامنے خوراک زمین پر پھیلا دی جاتی ہے اور یوں قیمتی سبز خوراک کا زیادہ تر حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ جس کی ایک خاص مقدار نکاسئ آب کے نالے نالیوں میں بہا دی جاتی ہے یا پھر گلی محلے کے کونوں میں ڈھیر کر دی جاتی ہے۔ یاد رکھیں کہ جانوروں کی عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے پاؤں تلے کچلے ہوئی‘ گیلی‘ بدبودار گھاس نہیں کھاتے۔ اُنہیں ہروقت کھانے یا پانی کی ضرورت بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی اُن کی بھوک ہم انسانوں کی طرح اَچانک بھڑک اُٹھتی ہے! وہ اوقات کے پابند ہوتے ہیں۔ اِسی طرح جانوروں کو رنگ برنگی روشنیوں سے سجانا۔ اُن کے گلے میں گھنٹیاں باندھ کر ’رات بھر‘ اندھیرے یا روشن گلی محلوں یا سڑکوں پر لے کر گھومنا پھرنا بھی مال مویشیوں کے مزاج پر بوجھ کا باعث بنتا ہے۔ ہم انسانوں کی طرح جانور بھی ذہنی دباؤ‘ کوفت‘ پریشانی‘ بے خوابی کا شکار ہو سکتے ہیں‘ جس کی وجہ سے وہ بسااُوقات خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِس لئے ضروری ہے کہ مغرب سے قبل جانوروں کو کسی ایسے پرسکون مقام پر باندھ دیا جائے جہاں وہ آرام سے اپنی نیند پوری کرسکیں۔ اگر جگہ میسر ہو گلی محلوں میں جانوروں کو کسی ایک مقام پر باندھنا زیادہ بہتر رہتا ہے۔ مال مویشیوں کی منڈیوں میں بھیڑ‘ شور شرابہ اور اَجنبی ماحول سے نمٹنے والے جانور اپنے قیام گاہوں سے بچھڑنے کا صدمہ بھی محسوس کر رہے ہوتے ہیں‘ جن کی ذہنی و جسمانی اذیت میں اضافہ کرنا کسی بھی صورت جائز نہیں۔ 

گلے کے گرد تنگ رسی کا حلقہ‘ بھاری بھرکم سجاوٹ کے زیور اور جانوروں کو کاربونیٹیڈ ڈرنکس (پیپسی کوکا کولا وغیرہ) پلانے سے اجتناب کریں۔ مال مویشیوں کے ساتھ ’سیلفی (تصویر)‘ بنانے کی کوشش میں اُن کے زیادہ قریب جانا بھی خطرے کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ کیمرے کی فلش لائٹ یا شٹر کی آواز سے گھبرا کر وہ پرتشدد یا اچانک مختلف رویئے کا مظاہرہ بھی کرسکتے ہیں۔ 

قربانی کے جانوروں کو پختہ اور گیلے فرش پر (جہاں پھسلن کا صاف خطرہ ہو) باندھنے سے قبل یا تو ممکنہ خشک کر لیں یا پھر آٹے کی خالی بوریاں‘ چادریں بچھا دیں تاکہ کھڑے ہونے یا بدکنے کی صورت وہ پھسل کر گر نہ جائیں اور اگر خدانخواستہ کسی وجہ سے ایسا ہوتا ہے تو لنگڑا پن (علامات) ظاہر ہونے کی صورت مذکورہ جانور کی قربانی ’شرعی نکتۂ نظر‘ سے جائز نہیں رہے گی۔ انسانوں کی طرح مال مویشیوں کی صحت کے لئے بھی پینے کا صاف پانی‘ صاف برتن میں رکھا جائے۔ چند دن کے مہمان کی تواضع اور خیال رکھنے کی حتی الوسع کوشش کی جائے کہ اس سے قربانی کے اجر میں اضافہ ممکن ہے جس کے لئے انفرادی حیثیت سے دانستہ کوشش کے ساتھ اُن تمام افراد کی بھی رہنمائی کی جا سکتی ہے‘ جو کسی وجہ سے مال مویشیوں کی نگہداشت کے بارے خاطرخواہ معلومات نہیں رکھتے۔ 

ضلعی انتظامیہ سمیت متعلقہ محکموں کے فیصلہ سازوں سے درخواست ہے کہ عیدالاضحی کے موقع پر صرف اور صرف صفائی برقرار رکھنے میں تعاون کی ضرورت پر تمام توانائیاں خرچ نہ کی جائیں بلکہ موضوع کو جامع بنانے کے لئے اس میں دیگر امور بارے معلومات بھی شامل کرکے پیغام کو زیادہ بامقصد بنائیں۔ مال مویشیوں کی ضروریات بشمول کھانے پینے اور آرام کے اوقات و ضروریات کے بارے عوام و خواص کی رہنمائی کا اہتمام و انتظام کے سلسلے میں یہاں وہاں عملی مشقوں کا انعقاد بھی ہونا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, April 18, 2016

APR2016: Anti Encroachments Drive & measures to treat the issue!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تجاوزات: مرض‘ سبب اُور علاج!
غلطیوں میں اِصلاح کے پہلو تلاش کرنے چاہیءں۔ کسی عمل کی ’مماثلت (نقل بمطابق اَصل)‘ بھی باعث خیروبرکت ہو سکتی ہے‘ اگر شامل کھوٹ (درپردہ مفادات) کی بجائے‘ نیت و عمل جیسے کلیدی اَجزأ میں ’اخلاص‘ کا اضافہ کر لیا جائے۔ یہی ضرورت پشاور میں رواں ماہ کے آغاز (9 اپریل) سے ’تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے نئے مرحلے میں غیرمعمولی تیزی کو دیکھتے ہوئے بھی محسوس کی جا رہی ہے جس میں پہلی مرتبہ مساجد‘ اِمام بارگاہوں اور دیگر ایسے حساس مقامات کو حاصل استثنیٰ ختم کر دیا گیا ہے‘ جنہوں نے امن و امان کی خراب صورتحال کا فائدہ یا بلدیہ ملازمین کی مٹھیاں گرم کرکے پشاور کی کشادگی اور وسعت کو ہڑپ کر رکھا تھا۔

ماضی میں پشاور کے ضلعی حکمران ہی ’تجاوزات کے بادشاہ‘ تھے جن کے وزیروں اور مشیروں کے کارنامے انگلیوں پر شمار کرنا ممکن نہیں۔ یہ بات ’گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ‘ میں شامل ہونے لائق ہے کہ پشاور میں ایک ’سی این جی (گیس) اسٹیشن‘ ایسا بھی ہے جو سڑک کے کنارے نہیں بلکہ سڑک کے ایک حصے کو شامل کرتے ہوئے بنایا گیا! فصیل شہر کو مسمار کرکے پلازے بنانے والوں کی کرامات سٹی سرکلر روڈ کا طواف کر رہی ہیں اور حال ہی لاہوری گیٹ سے رہائشی کواٹر ختم کرنے کے بعد اُمید تھی کہ سٹی سرکلر روڈ کی نکاسئ آب کا منصوبہ تشکیل دینے میں آسانی ہوگی لیکن راتوں رات لاہوری گیٹ سے نشترآباد کی پٹی پر دکانیں اور کثیرالمنزلہ عمارتیں تعمیر ہوگئیں جن میں سے کئی ایک پر وکلأ کے ناموں کے بورڈز بھی آویزاں دیکھے جا سکتے ہیں یعنی ضلعی حکومت کو متنبہہ کیا گیا ہے کہ اگر اِس عمارت کو ہاتھ لگایا تو سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

 تصور کیجئے کہ جو قانون سرکاری اِداروں کے لئے باعث تقویت ہونا چاہئے تھا اُس کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری اداروں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے! یہی حال اَدویات فروخت کرنے والوں کا بھی ہے‘ جو اَسناد کی آڑ میں ’کاروبار کو شرعی و قانونی طور پر جائز‘ سمجھتے ہیں! ضلعی حکومت کو اپنی توجہ دیگر ایسی بے قاعدگیوں کی جانب بھی مبذول کرنا پڑے گی لیکن تجاوزات کے مرض‘ اِس کی بنیادی وجہ اُور علاج تجویز کرنے والوں کو ’توڑ پھوڑ‘ کے ساتھ ’بلڈنگ کنٹرول‘ کے شعبے کو فعال کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ 1: نئی تعمیرات منظور شدہ نقشے کے مطابق کرنے کی پابندی کا اطلاق ہو سکے۔ مختلف علاقوں کی مٹی کے مطابق بلڈنگ کوڈز مرتب کئے جائیں۔ 2: نئی بستیوں اور بالخصوص اندرون پشاور کے رہائشی و تجارتی علاقوں کے درمیان پائی جانے والی تمیز برقرار رکھی جائے۔ 3: جن علاقوں سے تجاوزات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے وہاں اِنہیں پھر سے قائم نہ ہونے دیا جائے۔ 4: جہاں کہیں تاجروں دکانداروں (بازاروں کی سطح پر منتخب نمائندہ) تنظمیں موجود ہیں‘ اُنہیں تجاوزات کی نگرانی سونپی جائے اور کسی بے قاعدگی کی صورت اطلاع پر فوری کاروائی تعطیل کے ایام میں بھی ہونی چاہئے کیونکہ تجاوزات قائم کرنے والوں کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ عام تعطیلات کے ایام میں راتوں رات دکانیں تعمیر کر لیتے ہیں۔ 5: گوگل میپ (Google Map) کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف ضلع پشاور بلکہ شہری و دیہی علاقوں کے الگ الگ نقشہ جات ترتیب دیئے جائیں جو جدید ’’جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم (GiS)‘‘ کے اصولوں کے مطابق ہونے چاہیءں ایسے ’آن لائن نقشہ جات‘ مرتب کرنے کے بعد نہ صرف گلی کوچوں اور بازاروں کو تجاوزات سے پاک کرنے میں مدد مل سکے گی بلکہ ایک منظم و مربوط طریقے سے پشاور میں ترقی کا عمل بھی زیادہ پائیدار و معیاری بنایا جاسکے گا۔ مثال کے طور پر اگر ضلعی حکومت پشاور کے ہر رہنے والے کو پینے کا ’صاف پانی‘ فراہم کردے تو یہ ایک ایسا مثالی کام ہو گا جس سے پشاور ملک بھر میں ممتاز ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح پشاور کے قبرستان تجاوزات کی زد میں ہیں‘ جن کی طرف بہت کم توجہ دی جاتی ہے اور قبرستانوں کی حدود کا خلائی سیارے سے حاصل کردہ تصویر اُور بعدازاں ’جی آئی ایس‘ کی مدد سے تعین کردیا جاتا ہے تو یہ ایک مستقل پریشانی کا مستقل حل ثابت ہوگا۔

پشاور سے تجاوزات کا خاتمہ محض ’ٹیکنالوجی‘ پر انحصار سے ممکن نہیں بلکہ ضلعی حکومتوں کے ہر ملازم اور بالخصوص عوام کے منتخب ضلعی نمائندوں کو انفرادی و اجتماعی حیثیت میں پشاور کو ’’اپنا شہر‘ اپنا گھر‘‘ جیسا سمجھنا ہوگا۔ تبدیلی لانی ہے تو اُس سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا‘ جس میں پشاور کسی دوسرے کا نہیں بلکہ ہم میں سے ہر ایک مسئلہ اور ترجیح ہونی چاہئے۔
Anti Encroachment drive in Peshawar need to be organize & extended up-to mapping the city from scratch

Friday, May 1, 2015

CLIPPING: Safeguarding Peshawar

The Pakistan Tehreek e Insaf (PTI) led provincial govt promised to safeguard the interests of #Peshawar but it seems the govt is no-more interested in completing the "Anti Encroachment Drive" which is reported as close to complete but due to upcoming Local Bodies Polls, the operation postponed and halted! Due to change in this policy it is feared that the issue of enchrochment by the influentials never be solve and resolve!
Expectations not fulfilled to complete the Anti Encroachment Drive in Peshawar.