Showing posts with label Town 1. Show all posts
Showing posts with label Town 1. Show all posts

Friday, January 28, 2022

Peshawar - Where promise all fails!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: ہر تغافل پہ نوازش کا گماں ہوتا ہے

جہاں اِرادے عمل اُور عملی کاروائیاں اِرادوں کے آگے ہاتھ باندھے (ہار مانتے) دکھائی دیں‘ حکومتی فیصلہ سازی کے اِس مقام کو ’عوامی لغت‘ میں ”پشاور“ بھی کہا جاتا ہے۔”دل گوارا نہیں کرتا ہے شکست ِاُمید .... ہر تغافل پہ نوازش کا گماں ہوتا ہے (روش صدیقی)۔“ خبر یہ ہے کہ پشاور شہر کی حدود میں تجاوزات کے خلاف (ایک اُور) ”بڑی کاروائی (گرینڈ آپریشن)“ کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں‘ جس کی حکمت ِعملی وضع کرنے کے بعد ’ٹاؤن ون‘ حکام نے تاجروں اُور دکانداروں کو ستائیس فروری سے 10 دن (پانچ فروری بروز ہفتہ تک) کی مہلت دی ہے تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر (ازخود) تجاوزات ختم کر دیں بصورت دیگر انسداد ِتجاوزات کی بلاامتیاز‘ بے رحم اُور مرحلہ وار کاروائی کے تحت سختی سے پیش آیا جائے گا اُور کسی سے رو رعایت نہیں کی جائے گی۔ اِس سلسلے میں شاید پہلی مرتبہ تاجر تنظیموں کے نمائندوں کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تجاوزات کے خلاف کاروائی ہر نہ صرف کامیاب بلکہ یکساں قابل ِقبول اُور پائیداری کے لحاظ سے نتیجہ خیز ثابت ہو گویا پشاور میں تجاوزات کے خلاف طبل جنگ بج چکا ہے‘ صف بندی مکمل ہے جس کے لئے ٹاؤن ون انتظامیہ اُور اہلکاروں کے علاؤہ اِس کاروائی کی نگرانی کمشنر پشاور ڈویژن کریں گے۔ اِس بات کا بھی اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ اِس مرتبہ جن تجاوزات (سازوسامان) کو قبضے میں لیا جائے گا‘ اُس کی واپسی نہیں بلکہ نیلامی کی جائے گی اُور زیادہ بڑے پیمانے پر فیصلہ کن کاروائی کے لئے اِس مرتبہ صرف ٹاؤن ون کے افرادی اُور تکنیکی وسائل ہی پر بھروسہ نہیں کیا جائے گا بلکہ دیگر ٹاؤنز کے افرادی و تکنیکی وسائل سے طلب کئے جائیں گے۔ یہی مناسب وقت ہے کہ ماضی میں تجاوزات کے خلاف کی گئیں کاروائیوں کے انجام (ناکامی) کے محرکات پر غور کیا جائے اُور اُن چند غلطیوں سے سبق سیکھا جائے جن کے باعث ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ جامع حکمت عملیاں خاطرخواہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکیں اُور عمومی مشاہدہ یہی ہے کہ تجاوزات کے خلاف ہر کاروائی کے بعد اِن کی تعداد (مسئلے کی شدت) میں کمی کی بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انسداد تجاوزات کے سلسلے میں ”پہلی غلطی“ اعلانات ہیں‘ جن کی وجہ سے تاجر اُور دکاندار خبردار ہو جاتے ہیں اُور کچھ ایسے بازار بھی ہیں جہاں کے دکاندار ٹاؤن ون اہلکاروں سے ”تعاون“ کرتے ہوئے ازخود تجاوزات چند روز کے لئے ختم کر دیتے ہیں۔ اِس طرح کسی مہم کے ابتدائی چند روز صورتحال مثالی نظر آتی ہے لیکن رفتہ رفتہ تجاوزات پھر سے قائم ہونا شروع ہو جاتی ہیں اُور بات وہیں جا ٹھہرتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ اگر حقیقت میں تجاوزات ختم کرنا ہی ہیں تو اِس کے لئے مہم اعلانات سے نہیں بلکہ رازداری سے شروع ہونی چاہئے۔ 

”دوسری غلطی“ تجاوزات کے خلاف کاروائی کی مدت معین کرنے کی ہے کہ فلاں تاریخ سے فلاں تاریخ تک تجاوزات کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ اِس طرح تجاوزات کرنے والوں کو ’ٹائم فریم (time-frame)‘ مل جاتا ہے اُور وہ اِس سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کر لیتے ہیں۔ اِسی زمرے میں تجاوزات کے خلاف کاروائیوں کی تفصیلات پہلے سے جاری کرنا بھی ہے‘ جس کے نشانے پر آنے والے پیشگی تیاری کر لیتے ہیں۔ ”تیسری غلطی“ تجاوزات کی نشاندہی سے متعلق کی جاتی ہے کہ اِس میں مستقل و غیرمستقل تجاوزات کے درمیان تمیز نہیں کی جاتی اُور تجاوزات کے خلاف سارا غم و غصہ غیرمستقل (عارضی) تجاوزات پر نکال دیا جاتا ہے جبکہ ہنگامہ جان بوجھ کر اِس قدر برپا کیا جاتا ہے کہ اِس میں مستقل تجاوزات کی جانب دھیان ہی نہ جائے۔مثال کے طور پر پشاور شہر کی حدود سے گزرنے والے نکاسی¿ آب کی گزرگاہوں (شاہی کٹھہ) پر چھتیں ڈال کر ہر قسم کی تعمیرات کی گئی ہیں۔ کئی ایسے مقامات بھی ہیں جہاں شاہی کٹھے کے وسط اُور اِس کی نالیوں کے درمیان دیواریں اُور ستون کھڑے کئے گئے ہیں تاکہ کثیرالمنزلہ تعمیرات کو سہارا دیا جا سکے اُور اِس کھلم کھلا بے قاعدگی کی وجہ سے ”شاہی کٹھے“ سے نکاسی آب کی رفتار متاثر ہوتی ہے جبکہ بارش کی وجہ سے شاہی کٹھہ اُور دیگر نکاسی آب کی گزرگاہیں اُبلنے سے اندرون شہر معمولات ِزندگی کئی روز تک مفلوج ہو جاتے ہیں۔ اِسی وجہ سے گندگی و غلاظت کے ڈھیر‘ بدبو اُور تعفن بھی پھیلا رہتا ہے۔

کیا پشاور کی ضلعی انتظامیہ شاہی کٹھے سے تجاوزات ختم کرنے کے لئے بھی ”گرینڈ آپریشن“ کا آغاز کرے گی‘ جو اپنی جگہ ایک اہم ضرورت اُور اہل پشاور کا دیرینہ مطالبہ ہے؟ 

تجاوزات کے خلاف مزید (ایک اُور) کاروائی نتیجہ خیز بنانے کے لئے صرف عزم کافی نہیں اُور نہ ہی ہر چند ماہ بعد کی جانے والی ایک جیسی (بے نتیجہ) کاروائیوں پر عام آدمی (ہم عوام) کا یقین و اعتماد بحال کرنا ممکن ہے۔

اہل پشاور سے پوچھیں تو خلاصہ تحقیق یہ ہوگا کہ ”پشاور کے نبض آشنا نہیں رہے“ اُور یہ ”المیہ“ اپنی جگہ لمحہ فکریہ ہے کہ اہل پشاور کی اکثریت نے تجاوزات کے ساتھ جینا اُور مرنا سیکھ لیا ہے۔ یقین نہ آئے تو گھنٹہ گھر سے متصل رہائشی علاقوں کے رہنے والوں سے گزشتہ چند برس کے دوران یہاں بننے والی ’مرکزی مچھلی منڈی‘ کے بارے رائے لے لیجئے معلوم ہو جائے گا کہ اندرون شہر کے مسائل میں اِس حالیہ اضافے سے نہ صرف آمدروفت متاثر ہے بلکہ پچاس کروڑ سے زائد مالیت کی ثقافتی راہداری منصوبہ بھی خاطرخواہ نتائج نہیں دے رہا۔ تجاوزات سے پاک پشاور کسی خواب کی طرح ہے کہ اِس کی تفصیلات دھندلی اُور ناقابل یقین ہیں۔ پشاور کے جملہ فیصلہ سازوں اُور جملہ قومی‘ صوبائی و بلدیاتی نمائندوں کو اِس شہر سے لاتعلقی پر مبنی تعلق پر معافی مانگنی چاہئے۔ ذہن نشین رہے کہ توبہ صرف گناہوں پر بطور ندامت ہی نہیں ہوتی بلکہ بسا اُوقات توبہ نیکیوں پر بھی کی جاتی ہے‘ ایسی نیکی جو اطمینان کا باعث ہو‘ ایسی نیکی جس پر فخر محسوس ہو اُور ایسی نیکی جس پر اپنی ذات پرہیزگزار اُور دیگر تمام لوگ گناہ گار دکھائی دیں تو یہ بھی یکساں لائق ِمعافی مرحلہ فکر ہے۔

....

Clipping from Daily Aaj - Jan 28th 2022 Friday


Monday, October 18, 2021

On the looting of Peshawar resources!

 پشاور شناسی

....برس رہی ہے اُداسی تمام آنگن میں

شہری سہولیات کی فراہمی اُور پشاور کے وسائل و مفادات کے نگران (منتظم) اداروں میں ضلعی حکومت اُور ذیلی چار ٹاؤنز کی انفرادی و اجتماعی کارکردگی کا معیار بہتر بنانے کی ضرورت عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے اُور عملاً ہوتا یہ ہے کہ ہر چند برس بعد کوئی نیا بلدیاتی نظام متعارف کروا دیا جاتا ہے‘ جو ماضی پر مٹی ڈالنے اُور ایک نئے دن کی تلاش میں آگے بڑھنے کی اُمید دلاتا ہے اُور بس۔

اندرون شہر کی کہانی یہ ہے کہ ’ٹاؤن ون‘ کی زیرنگرانی یہاں مسائل پیدا ہونے اُور اِن کے حل ہونے کی رفتار میں فرق ہے‘ جس کا بنیادی نکتہ ’ردعمل کے وقت (reaction time)‘ ہے کہ ایک طرف وہ ہستیاں ہیں جو پشاور کی ہر خوبی پر اپنا پیدائشی حق سمجھتی ہیں اُور دوسری طرف وہ فیصلہ ساز ہیں جو اپنے صوابدیدی اُور غیرصوابدیدی اختیارات اُور مراعات کا تعین خود کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک معاملہ ’ٹاؤن ون‘ کے مالی وسائل سے گاڑیوں کے لئے خریدا جانے والا ایندھن (پیٹرول‘ ڈیزل اُور سی اِین جی) کے حوالے سے سامنے آیا ہے‘ جس میں مذکورہ سرکاری ایندھن حاصل کرنے کا استحقاق نہ رکھنے والوں کی نشاندہی ہوئی ہے جو سال ہا سال سے قواعد و ضوابط کے خلاف مراعات حاصل کر رہے ہیں اُور اب تک صرف ایندھن کی مد میں کروڑوں روپے کی بے قاعدگیاں کی گئی ہیں لیکن (خاکم بدہن) ٹاؤن ون یعنی پشاور شہر کے وسائل سے غیرقانونی ایندھن حاصل کرنے والوں کے خلاف نہ تو محکمانہ کاروائی عمل میں لائی گئی اُور نہ ہی اِس معاملے کا صوبائی حکومت‘ نیشنل اکاونٹی بیلٹی (نیب) یا کسی عدالت نے ازخود نوٹس لیا کیونکہ یہاں بدعنوانی مالی و سیاسی بااثر اُور مراعات یافتہ طبقے سے متعلق ہے لیکن جو ایک بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر یہی بدعنوانی (گستاخی) کسی عام شہری سے سرزد ہوئی ہوتی تو حکام کے رویاروی فیصلے اُور بے رحم ردعمل قطعی مختلف دیکھنے میں آتا اُور اب تک اُس کی کھال کھینچ کر وصولی کی جا چکی ہوتی جبکہ ہر سطح پر حکومتی ترجمان ’بلاامتیاز کڑے احتساب‘ کے نعرے لگا رہے ہوتے!

کیا پشاور اِس قدر بے وقعت اُور بے قیادت ہو چکا ہے کہ اِس کی حیثیت ”مال ِمفت دل ِبے رحم“ جیسی ہے؟ 

لائق توجہ امر یہ ہے کہ اگر سرکاری محکمے صادق و امین نہیں تو اِس کی بنیادی وجہ ’سزاو جزا‘ کے مبہم تصورات‘ کارکردگی کے احتساب سے متعلق قواعد اُور اِن قواعد و قوانین پر مصلحت شناس عمل درآمد ہے جس سے عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوئی ہے کہ بارہا غلطی تسلیم کرنے کے باوجود بھی بار بار درگزر سے کام لیا جاتا ہے جبکہ اِس طرح معافی سے تلافی نہیں ہوتی اُور پشاور کے وسائل کو پہنچنے والا نقصان (خسارہ) کسی نئی شکل و صورت میں جاری رہتا ہے۔ ”دیتا رہا فریب مسلسل کوئی مگر .... امکان ِالتفات سے ہم کھیلتے رہے (شوکت پردیسی)۔“

تفصیلات کے مطابق ’ٹاؤن ون‘ کے وسائل سے 22 نجی گاڑیوں کے لئے فراہم کیا جانے والا پیٹرول‘ ڈیزل اُور سی این جی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ منتظم (ایڈمنسٹریٹر) نے نجی گاڑیوں اُور غیرحقدار ملازمین کے پیٹرول لینے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے گریڈ 17 سے کم درجے کے ملازمین کے لئے ’مفت پیٹرول‘ کی سہولت ختم کر دی ہے‘ جو عرصہ 10 سال سے زائد جاری رہی اُور محتاط اندازے کے مطابق اِس عرصے میں قریب ڈھائی کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ٹاو¿ن ون کے وہ ملازمین کس طرح ایندھن حاصل کرتے رہے جبکہ وہ اِس کے حقدار نہیں تھے؟ اِس معمے کو سمجھنے کے لئے ملازمین کے درجہ بہ درجہ قائم بھائی چارے (یونین) کو دیکھنا ہوگا جس کے باعث پشاور اُور ٹاو¿ن ون کا مفاد پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اندازہ ہے کہ غیرحقدار ملازمین کو ایندھن کی فراہمی روکنے سے ٹاو¿ن ون کو سالانہ 2 لاکھ روپے کی بچت ہوگی! گرامی قدر ایڈمنسٹریٹر صاحب اگر اِس معاملے کی گہرائی سے تحقیق کرتے اُور ٹاؤن ون آٹو ورکشاپ سے مرمت ہونے والی نجی گاڑیوں کی مرمت و فراہم کردہ پرزہ جات کی تفصیلات بھی طلب کرتے تو مزید لاکھوں روپے کی بچت ممکن ہوتی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہر ماہ اِنہی فیصلہ سازوں کے دستخطوں سے حاصل کردہ پیٹرول کی ادائیگیاں ہوتی رہی ہیں اُور ’گھر کے بھیدی‘ کے بقول صرف ٹاؤن ون ملازمین ہی نہیں بلکہ اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات کے اہل خانہ اُور دوست احباب کی گاڑیوں میں بھی سرکاری ایندھن ڈالا جا رہا ہے جبکہ بیرون شہر سیروسیاحتی دوروں کے لئے بھی ایندھن ٹاؤن ون اکاؤنٹ ہی سے حاصل کیا جاتا رہا ہے۔ 

شاعر فاروق انجنیئر نے کہا تھا کہ ”برس رہی ہے اُداسی تمام آنگن میں .... وہ رُت جگوں کی حویلی بڑے عذاب میں ہے۔“

قومی وسائل سے حاصل ہونے والے ایندھن کا غلط استعمال اُور غیرحقدار ملازمین یا عزیزواقارب کا سرکاری وسائل سے استفادہ جیسی واردات صرف ’ٹاو¿ن ون‘ میں رونما نہیں ہوئی بلکہ کم و بیش سبھی صوبائی و ضلعی سرکاری محکموں کا حال ایک جیسا ہے جہاں سرکاری وسائل کو ذاتی استعمال کے لئے مختص سمجھنے والے جس ایک حمام میں ننگے ہیں اگر اُس کلب کی سرگرمیوں کو کریدا جائے تو ایندھن کا غیرقانونی استعمال نہایت ہی معمولی جرم کے طور پر سامنے آئے گا لیکن چونکہ یہاں مرحلہ¿ فکر پشاور اُور بالخصوص پشاور شہر کے وسائل کی بابت بحث ہے اِس لئے صرف ’ٹاؤن ون‘ کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جس کی مرتب کردہ ایک دستاویز کے مطابق ’ٹی ایم اُو کو 250 لیٹر‘ ٹاو¿ن آفیسر آئی اینڈ ایس کو 200لیٹر‘ ٹاو¿ن آفیسر فنانس کو 200 لیٹر‘ ٹی اُو آر کو 200 لیٹر‘ ایڈمنسٹریٹر آفیسر کو 200 لیٹر‘ اے ٹی آر اُو 160 لیٹر ماہانہ ایندھن کے حقدار ہیں۔ قانون کے مطابق گریڈ سولہ سے کم ملازمتی درجے کے ملازمین مفت پیٹرول حاصل نہیں کر سکتے لیکن ایسا ہوتا رہا ہے اُور صرف ایندھن ہی نہیں بلکہ سرکاری گاڑیوں کا غیرسرکاری استعمال بھی 10 سال سے جاری رہا۔

کیا اہل پشاور یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ اِن کے وسائل سے غیرقانونی استفادہ کرنے والوں کو کس اختیار کے تحت معاف کیا گیا؟ اِن سے وصولی کیوں نہیں کی گئی اُور ایندھن کے علاؤہ سرکاری وسائل سے گاڑیوں کی مرمت‘ اُور اِن گاڑیوں کا نجی استعمال کرنے والوں کا احتساب کیوں نہیں ہونا چاہئے؟ دفتری اوقات کے دوران اُور اِن کے علاؤہ تعطیلات کے روز بھی سرکاری گاڑیاں یہاں وہاں حتیٰ کہ سیاحتی مقامات پر دیکھی جاتی ہیں تو کیا صوبائی حکومت ایندھن اُور سرکاری گاڑیوں کے منجملہ غلط استعمال کا نوٹس لے گی؟

 ”اُمید اُن سے وفا کی تو خیر کیا کیجئے .... جفا بھی کرتے نہیں وہ کبھی جفا کی طرح (آتش بہاولپوری)۔“

https://mashriqtv.pk/daily-mashriq/uploads/mashriqnp/18-10-2021/mas-18-10-2021-2.jpg



Monday, September 13, 2021

Dreamland Peshawar!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: خواب در خواب

شاعر ”عتیق اللہ“ کا یہ شعر بیان ایک ایسی صورتحال کا عکاس ہے‘ جو پشاور کے مسائل کا جامع بیان قرار دیا جا سکتا ہے کہ ”آئینہ آئینہ تیرتا کوئی عکس .... اُور ہر خواب میں دوسرا خواب ہے!“ اہل پشاور کی آنکھوں میں ہر خواب کے بعد بسنے والا دوسرا خواب کب شرمندہ تعبیر ہوگا‘ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ اِس کے بارے میں سوچتے ہوئے مزید کئی سوالات جنم لیتے ہیں اُور یوں خواب در خواب ہی نہیں بلکہ سوال در سوال کا سلسلہ بھی چل نکلتا ہے! اہل پشاور سادہ لوح سہی‘ سادہ دل سہی لیکن اتنے بھی بیوقوف نہیں کہ وہ سب کچھ سمجھ نہ رہے ہوں جس سے اُنہیں الگ رکھنے کے لئے ”کارکردگی کے سراب“ تخلیق کئے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلا سوال بصورت اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ پشاور کی ترقی کے وعدوں اُور زمینی حقائق میں فاصلہ کیوں ہے؟ حکومتی ادارے اگر کچھ کرنا چاہتے ہیں تو وہ اِس کا ذرائع ابلاغ کے ذریعے اعلان کیوں کرتے ہیں؟ اہل پشاور کی اکثریت کے لئے یہ اَمر بھی سمجھ (منطق) سے بالاتر ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے کسی ایک حصے کو تجاوزات سے پاک کرنے اُور تجاوزات کے مسئلے کا مستقل و پائیدار حل تلاش کرنے کے لئے ’نئی حد براری‘ کروائی جا رہی ہے جس کے ذریعے سرکاری اراضی کا تعین کیا جائے گا لیکن باقی ماندہ پشاور یعنی درجنوں تجارتی و رہائشی مراکز میں موجود تجاوزات کو نظرانداز کر دیا گیا ہے! اِس سلسلے میں اندرون یکہ توت گیٹ سے منڈا بیڑی چوک تک تجاوزات نے جن رہائشیوں کے ناک میں دم کر رکھا ہے اُن میں سیّد سعید الزمان گیلانی بھی شامل ہیں‘ جو حال ہی میں خودساختہ جلاوطنی ترک کر کے امریکہ سے واپس آئے ہیں اُور اُن کے بقول ”بے ہنگم آبادی بڑھنے سے پیدا ہونے والے مسائل کے علاؤہ شہری سہولیات کے معیار و مقدار میں کمی اُور ہر طرف تجاوزات کی کھلی چھوٹ اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ متعلقہ بلدیاتی ادارہ (ٹاؤن ون)‘ ضلعی حکام (ڈسٹرکٹ گورنمنٹ)‘ ضلعی انتظامیہ (کمشنر و ڈپٹی کمشنر پشاور) اُور صوبائی حکومت (سیاسی فیصلہ سازوں) نے پشاور کو اُن افراد اُور حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے‘ جن کے دل اُور جن کے عمل (قول و فعل میں) پشاور کے لئے محبت اُور رحم کے جذبات نہیں ہیں۔“ اِس سے زیادہ جامع تبصرہ کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا کہ آج ”پشاور پر رحم“ یا ”پشاور سے رحم کا برتاؤ“ کرنے والوں کا شمار اُنگلیوں پر بھی ممکن نہیں رہا جبکہ سیاسی و غیرسیاسی نمائندوں کی تعداد آسمان سے باتیں کر رہی ہے!

خیبرپختونخوا حکومت کی ویب سائٹ (kp.gov.pk) پر موجود اعدادوشمار کے مطابق ضلع پشاور کا کل رقبہ 1257 مربع کلومیٹر ہے اُور یہاں کی کل آبادی کا 48.49 فیصد شہری علاقوں میں جبکہ 51.51 فیصد دیہی علاقوں میں آباد ہے اُور ہر خاندان میں اوسطاً 8.6 افراد بستے ہیں۔ آبادی کے یہ اعدادوشمار درست نہیں اُور جہاں فیصلہ سازوں کے پاس آبادی جیسے بنیادی کلیے سے متعلق کوائف ہی درست نہ ہوں‘ وہاں منصوبہ بندی اُور ترقیاتی عمل سے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ اِس بات کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق سال 1950ءمیں پشاور کی آبادی 1 لاکھ 52 ہزار 825 نفوس پر مشتمل تھی اُور اگر اِس آبادی کا موازنہ آبادی کے موجودہ اعدادوشمار سے کرتے ہوئے شرح نمو اخذ کی جائے تو وہ تین سے چار فیصد سالانہ بنتی ہے یعنی حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ پشاور کی آبادی میں ہر سال تین سے چار فیصد ہو رہا ہے۔ شاید ہمارے سیاسی فیصلہ سازوں کو معلوم نہیں کہ کسی شہر یا ملک کی آبادی سے متعلق اُن کے فراہم کردہ مردم شماری یا خانہ شماری کے اعدادوشمار کو من و عن دنیا تسلیم نہیں کرے گی بلکہ ایسے کئی آزاد ذرائع ہیں جو اپنے طور پر اُور خلائی سیاروں سے لی گئی تصاویر کی بنیاد پر خانہ شماری کرتے ہیں جبکہ وہاں صحت و تعلیم کے نظام اُور انتخابات کے لئے مرتب کی جانے والی ووٹر فہرستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مردم شماری کے کوائف میں اضافے کا سائنسی نتیجہ پیش کیا جاتا ہے۔ اِس سلسلے میں سب سے فعال اقوام متحدہ کا ایک ذیلی ادارہ ’ڈیپارٹمنٹ آف اکنامکس اینڈ سوشل افیئرز پاپولیشن ڈائنامکس (population.un.org/wup) ہے اُور اِس ویب سائٹ پر سال 2050ءتک ممالک اُور اُن کے بڑے شہروں کی آبادی سے متعلق سائنسی بنیادوں پر مرتب کردہ اعدادوشمار (تخمینہ جات) موجود ہیں جو کسی بھی وقت بلاقیمت (مفت) حاصل (ڈاون لوڈ) کئے جا سکتے ہیں۔

 لمحہ فکریہ ہے کہ پشاور کی آبادی میں ہر سال 50 سے 70 ہزار افراد کا اِضافہ ہو رہا ہے اُور یہ سلسلہ 2035 تک جاری رہے گا‘ جس کی شرح میں کمی آبادی کنٹرول کرنے یا پشاور نقل مکانی کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنے سے ممکن ہے۔ گزشتہ دس برس کے دوران پیش آنے والے واقعات بالخصوص قبائلی علاقوں میں فوجی کاروائیوں کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والوں کی اکثریت کا رخ پشاور کی جانب رہا۔ اِسی طرح افغان مہاجرین کے لئے پہلا پڑا ؤ پشاور ہی ہوتا ہے جبکہ قبائلی علاقوں کو بندوبستی علاقوں میں ضم کرنے کے بعد بھی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے‘ جس کا ثبوت تین اطراف میں پھیلتا پشاور ہے کہ اِس کی آبادی میلوں پہلے شروع ہو جاتی ہے اُور جی ٹی روڈ و رنگ روڈ کے اطراف میں وہ علاقے جو کبھی زرخیز زمینوں اُور باغات کی سیر کرواتے نظاروں پر مشتمل ہوتے تھے اب رہائشی مراکز میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ خوبصورت ناموں سے بستیاں بن گئی ہیں‘ جن میں اکثریت ایسی رہائشی بستیوں کی ہے جن میں نکاسی آب‘ صفائی‘ گیس اُور پینے کے صاف پانی جیسے بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ دیہی علاقوں کے کچے پکے راستے اُور کھیتوں کی پگڈنڈیاں خودرو جھاڑیوں کی طرح اُبھرنے والی رہائشی بستیوں کی راہداریوں میں تبدیل کر دی گئی ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ ضلع پشاور کے شہری و دیہی علاقوں میں تمیز نہیں رہی۔

اندرون شہر کے علاقوں کی آب و ہوا آلودہ ترین جبکہ دیہی علاقوں کا قدرت سے قریب ترین رہن سہن جیسی خوبیاں دم توڑ گئی ہیں۔ الغرض پشاور کے آئینے میں آج جتنے عکس بھی دکھائی دے رہے ہیں وہ سب کے سب ایک دوسرے میں گم ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ”آئینہ عکس میں عکس آئینہ بردار میں گم“ ہو چکا ہو بلکہ یہ صورتحال تو دما دم مست قلندر جیسی ہے کہ جس کا جتنا دل چاہتا ہے پشاور کے وسائل کو لوٹ رہا ہے اُور ”پشاور کے پرسان ِحال (یہاں سے منتخب ہونے والے سیاسی نمائندے)“ بھی خاموش ہیں۔ ”آئینہ عکس اُور پس آئینہ بھی مست .... پوشیدہ مست خواب ہویدا‘ بھی مست مست (جاوید صبا)۔“

.....





Sunday, September 12, 2021

Peshawar odds and evens!

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: حد بَراری

صوبائی دارالحکومت کو تجاوزات سے پاک کرنے کا عزم پھر سے جاگ اُٹھا ہے اُور اِس سلسلے میں کئے گئے ”سخت فیصلے“ کی روشنی میں عملی اقدامات کا آغاز 11ستمبر سے کر دیا گیا ہے جس کی تفصیلات میں ضلعی انتظامیہ (کمشنر پشاور) کی ہدایات پر اندرون شہر کے 17 مرکزی بازاروں کا انتخاب کر کے اُن کی ”حد براری“ اَزسرنو کرنے کا حکم شامل ہے۔ ذہن نشین رہے کہ ”حد براری“ اراضی کی پیمائش کے اُس خاص عمل (طریقے) کو کہتے ہیں جس میں کسی مقام پر سرکاری و نجی اراضی میں تمیز کی جاتی ہے۔ دونوں کے رقبے الگ الگ وضع کئے جاتے ہیں اُور یوں اراضی کے دونوں فریق (سرکار اُور نجی مالکان) کی حدود کا تعین کر دیا جاتا ہے جس سے گزرگاہیں‘ راہداریاں‘ شاہرائیں‘ فٹ پاتھ اُور نالے نالیوں پر قائم تجاوزات عیاں (ظاہر) ہو جاتی ہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں‘ چند برس قبل بھی اِسی قسم کی ایک مشق کی گئی تھی جس کے ذریعے تجاوزات کی نشاندہی بھی ہوئی لیکن اِس کے بعد تجاوزات ختم کرنے کا سلسلہ خاطرخواہ عزم و استقامت سے جاری نہ رکھا جا سکا‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’زمینی حقائق (حق براری)‘ کی روشنی میں جو تجاوزات مسمار کی گئی تھیں وہ بھی راتوں رات دوبارہ تعمیر کر دی گئیں بلکہ کئی مقامات پر پہلے سے زیادہ رقبے پر تجاوزات پھیل گئیں اُور یوں پشاور کی خدمت کا جذبہ ذاتی مفادات کے سامنے سرنگوں ہو گیا۔ وجہ یہ تھی کہ پشاور کا ایک مطلب انتخابی حلقہ بندیاں بھی ہیں جن سے سبھی سیاسی و غیرسیاسی‘ قوم پرست و مذہبی جماعتوں کے سیاسی مفادات پر مبنی اپنا اپنا نکتہ نظر ہے یعنی پشاور کو ہر کوئی اپنے زاویئے سے دیکھ رہا ہے۔ ”اپنی اپنی مصلحت ہے‘ اپنا اپنا ہے مفاد .... ورنہ اِس دنیا میں کب کوئی کسی کے ساتھ ہے (ریئس رامپوری)۔“

پشاور شہر کے 17 بازاروں میں فی الوقت ’حد براری‘ کا درپیش مرحلہ ’ٹاؤن ون‘ پر مشتمل انتظامی بندوبست سے متعلق ہے اُور اِس عمل کی تکمیل محکمہ مال (ریونیو سٹاف) کی زیرنگرانی ’ٹاؤن ون‘ کی انتظامیہ سرانجام دے رہی ہے جس کے لئے تشکیل کردہ ٹیم میں ٹاو¿ن ون کی آرکیٹیکٹ (نقشہ نویس) فاخرہ گل کو بھی بطور خاص شامل کیا گیا ہے تاکہ ”حدبَراری“ کے عمل میں پرانے نقشہ جات کی مدد سے نئے نقشہ جات تخلیق کئے جا سکیں۔ کسی بازار کی ”حد بَراری“ کرنے کا روائتی طریقہ بیک وقت ’اِنتہائی مشکل‘ اُور ’اِنتہائی آسان‘ ہو سکتا ہے۔ مشکل اِس صورت میں کہ اگر قدم قدم پر پیمائش کی جائے تو ظاہر سی بات ہے کہ تاجر تنظیمیں خاموش تماشائی نہیں رہیں گی بلکہ ہر ممکنہ مزاحمت کریں گی‘ کہیں تعاون نہیں کیا جائے گا یا تاخیری حربے اختیار کئے جائیں گے تاکہ ”حدبراری“ ناکام ہو اُور یہاں اندیشہ نقص امن کا بھی ہے۔ دوسری طرف ’حد براری‘ کا عمل اِس طرح سے آسان ہو سکتا ہے کہ کسی بازار کے آغاز و اختتام اُور اُس کے وسط کا تعین کرنے کے بعد سڑک کی پیمائش بموقع فٹ پاتھ اُور نکاسی آب کے نظام کر لی جائے اُور اِس پیمائش کے مطابق تاحد نظر ’سیدھی لکیر‘ کھینچی جائے تو تجاوزات کی نشاندہی ازخود ہوتی چلی جائے گی۔ 

”حد براری“ کے ذریعے تجاوزات کا تعین (نشاندہی) ہونے کے بعد اِن کے خلاف کاروائی کا مرحلہ قطعی آسان نہیں ہوگا اُور یہی سب سے زیادہ ضروری و مشکل مرحلہ ہے کیونکہ صرف تاجر ہی نہیں بلکہ بجلی اُور ٹیلی فون کے کھمبے راہ میں حائل ہوں گے چونکہ پشاور شہر کی حدود میں رہائشی و تجارتی مراکز کے درمیان تمیز نہیں رہی اُور گلی گلی‘ محلے محلے بازار بن گئے ہیں جن کے خلاف کاروائی کی صورت وہاں کے رہائشیوں کے معمولات ِزندگی متاثر ہوں گے اُور تاجر تنظیمیوں کے نمائندے ماضی کی طرح اِس مرتبہ بھی بازاروں سے ملحقہ رہائشیوں کو اشتعال دلائیں گے کہ وہ تجاوزات کے خلاف کاروائیوں پر احتجاج کریں کیونکہ اِس سے اُن کی بجلی و ٹیلی فون کی خدمات سمیت آمدورفت وقتی طور پر متاثر ہوئی ہوں گی۔ توجہ طلب ہے کہ اگر پشاور کو تجاوزات سے پاک کرنا ہے اُور پشاور تجاوزات کو تجاوزات سے پاک دیکھنا ہے تو اِس کے لئے ہر خاص و عام‘ ہر منتخب و غیرمنتخب نمائندے اُور ہر متعلقہ و غیرمتعلقہ سرکاری ادارے کو اپنی اپنی بساط کے مطابق برداشت و تعاون کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ دوسری کوئی ایسی صورت نہیں کہ جادو کی چھڑی گھماتے ہی تجاوزات ختم ہو جائیں۔ ترجیح پشاور ہونا چاہئے۔ اہل پشاور کو ضلعی و بلدیاتی اہلکاروں سے ہر ممکنہ حد سے زیادہ تعاون کی ضرورت ہے کیونکہ تجاوزات ختم کرنا نہیں بلکہ اِن کی موجودگی مستقل مسئلہ ہے اُور انسداد ِتجاوزات کے دوران پیش آنے والی تھوڑی سی تکلیف اگر کھلے دل سے برداشت کر لی جائے تو یہ بہت بڑی مشکل و پریشانی کا خاتمہ ثابت ہوگی۔ 

مشتری ہوشیار باش۔ اہل پشاور کو تاجر تنظیموں یا کسی بھی سیاسی جماعت کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہئے جو ”حدبراری“ اُور تجاوزات کی پس پردہ مخالفت کر رہی ہے اُور اِس مرتبہ بھی تجاوزات کو ختم کرنے کی اِس منظم کوشش (حد براری) کو ناکام بنانے کے لئے متحرک ہو چکی ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ایک مرتبہ پھر کمشنر پشاور کو تبدیل کر دیا جائے جنہیں ماضی میں بھی تبدیل کرنے کی وجہ سے ’حدبراری‘ اُور ’تجاوزات کے خلاف کاروائیاں (آپریشن)‘ بھی جہاں تھا وہیں رک گئی تھیں۔ اندرون شہر رہنے والوں کی اکثریت کو اُمید ہے اِس صوبائی حکومت اِس مرتبہ مصلحت کا شکار نہیں ہوگی اُور تجاوزات کے خاتمے کی صورت اہل پشاور کی توقعات پر پورا اُترے گی۔

صوبائی حکومت اُور ضلعی و بلدیاتی انتظامیہ (کمشنر و ٹاؤن ون پشاور) جیسے بااختیار و مخلص فیصلہ سازوں کے لئے چند تجاویز بصورت معروضات عرض ہیں۔

 حدبراری کے دوران ’گلوبل پوزیشنگ سسٹم (GPS)‘ کا استعمال کیا جائے جو ایک خلائی سیاروں سے لئے گئے نقشہ جات پر منحصر ہوتا ہے اُور اگر کسی موقع پر (توقع ہے کہ) تاجر تنظیمیں ’حدبراری‘ کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گی تو ایسی صورت میں ’جی پی ایس‘ کے ذریعے خلائی سیاروں کی مدد سے لی گئی تصاویر اُور اُن کی مدد سے بنائے گئے نقشہ جات نہ صرف فی الوقت کسی ممکنہ قانونی کاروائی میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ اِن کا استعمال مستقبل کی شہری منصوبہ بندی (ٹاؤن پلاننگ) اُور پانی‘ بجلی‘ گیس و ٹیلی فون جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ ’جی پی ایس‘ کی مدد سے ہر دکان‘ سڑک‘ فٹ پاتھ اُور نالے نالیوں کی درست پیمائش بھی کمپیوٹروں کے ذریعے ممکن ہے جس میں معمولی غلطی کو عملی (فزیکل) پیمایش سے درست کیا جا سکتا ہے۔

 حد براری کے ساتھ ٹاؤن ون اہلکاروں کو اِس بات کی ذمہ داری بھی سونپ دینی چاہئے کہ وہ پشاور کے ہر بازار میں دکانوں کے شمار‘ اِن کے کاروبار کی نوعیت (تھوک و پرچون)‘ اِن کے گودام‘ ذخیرہ شدہ مال کی نوعیت پر مبنی کوائف مرتب کریں اُور اِن کوائف کو بھی پشاور کے ’ڈیجیٹل نقشے (Digital Mapping)‘ پر ثبت کر دیا جائے۔ تکنیکی طور پر اِس عمل کو ’جیوگرافل انفارمیشن سسٹم (GIS)‘ کہا جاتا ہے اُور اگر کمشنر پشاور یا ٹاؤن ون کے پاس ’جی آئی ایس‘ جیسی تکنیکی سہولت یا تربیت یافتہ افرادی قوت موجود نہ ہو تو جامعہ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کی دیگر کئی سرکاری و نجی جامعات میں ’جی آئی ایس‘ کے شعبے موجود ہیں جہاں کے اساتذہ اُور زیرتعلیم طلبا و طالبات کے لئے عملی تجربات کرنے (سیکھنے سکھانے) کا یہ نادر موقع ہو سکتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے ’GPS‘ اُور ’GIS‘ جیسے امکانات سے استفادہ کرنے کی بدولت نہ صرف ”غیرمتنازعہ حدبراری“ ممکن ہو گی بلکہ پشاور کے بازاروں کو تجاوزات سے پاک کرنے کی کوشش پائیدار بھی ثابت ہو گی کیونکہ معاملہ گھمبیر ہے‘ کثیرالجہتی ہے کہ صرف بازار ہی نہیں بلکہ گلی کوچوں میں بھی تجاوزات قائم ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ پھولوں کا شہر اَب خیبرپختونخوا میں تجاوزات کا مرکزی شہر کہلاتا ہے! مائل ضبط بھی آمادہ فریاد بھی ہے

دل گرفتار ِمحبت بھی ہے‘ آزاد بھی ہے! (عرش ملسیانی)۔

....

Thursday, March 12, 2020

Son of soil: Serving Peshawar with best of the abilities!

ژرف نگاہ
پشاور: ضمیر کی آواز!
غور طلب ہے کہ قصور و فتور کبھی بھی صوبائی و بلدیاتی‘ منتخب‘ غیرمنتخب اُور چنیدہ فیصلہ سازوں کی نیت کا نہیں رہا اُور نہ ہی فیصلہ سازی کے مراحل میں کوتاہی ہوئی بلکہ ایک سے بڑھ کر ایک جامع حکمت عملی دفتری کام کاج (ریکارڈ) کا حصہ ہے جبکہ پشاور کے ظاہری مسائل کے پوشیدہ پہلو یہ ہیں کہ یہاں عزم اِرادوں‘ اِرادے حوصلوں‘ حوصلے مصلحتوں اُور مصلحت ترجیحات پر غالب آتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ظاہری حسن اُور شہری زندگی کے لئے بدنمائی کا سبب بننے والے تین بنیادی محرکات (تجاوزات‘ دیواروں پر لکھائی جسے عرف عام میں وال چاکنگ کا کہا جاتا ہے اُور آویزاں کئے گئے سیاسی و غیرسیاسی تشہیری مواد) سے شہر کو پاک کرنے کی جملہ کوششیں کہیں نہ کہیں دم توڑتی رہی ہیں جبکہ (تاریخ گواہ ہے کہ) بھرپور جوش و جذبے (ذرائع ابلاغ کی وساطت سے مشتہر بلندبانگ دعوو ¿ں کے ساتھ) پشاور کی ظاہری خوبصورتی بحال کرنے کی حسب حال ضروری کوششیں منطقی انجام تک پہنچنے سے قبل ہی ادھوری چھوڑنے کی روایت بھی نئی نہیں۔
پشاور کا دن کب آئے گا؟
وہ دن جب شہری ترقی کے لئے کام کرنے والے ایک سے زیادہ حکومتی ادارے ماضی کی کوششوں (کامیابیوں و ناکامیوں) سے حاصل (اخذ) نتائج کو مدنظر رکھیں گے۔ جب اداروں کے سالانہ مالیاتی امور ہی کا نہیں بلکہ اِن کی کارکردگی کا بھی اِحتساب ہو گا۔ تجاوزات‘ وال چاکنگ اُور سیاسی و غیرسیاسی تشہیری مواد سے پشاور کو پاک کرنے کے لئے ماضی و حال کی کوششوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ اِن مہمات کے نگرانوں کی اکثریت کا خمیر و ضمیر پشاور کی مٹی سے نہیں اُٹھا اُور یہ بات الگ موضوع ہے کہ پشاور کی محبت بھی ہر کسی کا نصیب بھی نہیں ہوتی۔ این سعادت بزور بازو نیست کے مصداق درجنوں مثالیں موجود ہیں جب اپنوں اُور اغیار (دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والوں) نے اپنے سیاسی اثرورسوخ اُور تعلقات کی بناءپر پشاور کی بلدیاتی یا سیاسی فیصلہ سازی اپنے ہاتھ میں لی لیکن اِن میں سے اکثر کے لئے پشاور صرف اُور صرف ’ملازمتی موقع‘ تھا‘ جس سے ہر ممکن اُور کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھایا گیا اُور ذاتی اُور وقتی مفادات پر پشاور کی محبت غالب نہ آ سکی۔ فیصلہ سازوں نے اپنے ملازمتی عرصے کے ابتدائی چند ہفتے اہل پشاور جبکہ باقی سالہا سال حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں گزارے۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ فصیل شہر‘ سولہ دروازے اُور پشاور کا فن تعمیر‘ حتیٰ کہ بذریعہ قانون محفوظ (protected) قرار دیئے گئے آثار قدیمہ کا مستقبل مخدوش دکھائی دیتا ہے جو ایک ایک کر کے اپنا وجود کھو رہے ہیں اُور دردمندی و گہرائی سے دیکھا جائے تو پشاور کو پہنچنے والے یہی ناقابل تلافی نقصانات ہیں کہ یہ شہر صرف ماضی ہی نہیں بلکہ حال کی ہر ایک خوبی کو ایک ایک کر کے گنواتا رہا۔
حسن ظن یا حسن اِتفاق نہیں کہ پشاور ہر دور میں توجہ کا مرکز رہتا ہے بلکہ پشاور کی مرکزی حیثیت اِس قدر ہے کہ اِسے دیکھ کر خیبرپختونخوا میں طرزحکمرانی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 92 یونین کونسلوں پر مشتمل پشاور 4 ٹاو نز (بلدیاتی علاقوں) میں تقسیم ہے‘ جس کے اندرون شہر کے علاقوں پر مشتمل ’ٹاو ن ون‘ کی اِنتظامیہ 4 فروری سے خصوصی مہم چلا رہی ہے۔ چار فروری ہی کے دن ’پشاور کے سپوت‘ ریاض اعوان کی بطور ’ٹاو ن آفیسر ریگولیشنز (TOR)‘ تعیناتی ہوئی۔ آپ خیبرپختونخوا کے مختلف ٹاو ¿ن میونسپل اتھارٹیز کے نگران (ایڈمنسٹریٹر) رہنے کے بعد جب اپنے آبائی شہر واپس تعینات ہوئے تو یہ کسی بھی طور معمولی بات نہیں تھی اُور حسب توقع وہ اپنے شہر کی خدمت کا حق ادا کر رہے ہیں جنہیں ’چاچا یونس ثانی‘ قرار دینا چاہئے۔ ریاض اعوان کی بطور ’ٹی اُو آر‘ پشاور تعیناتی (چار فروری) کے دن شام ہونے سے پہلے تجاوزات‘ وال چاکنگ اُور تشہیری مواد کی صفائی کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ اگلے دن (پانچ فروری) ’یوم کشمیر‘ کے سلسلے میں دیگر سرکاری مصروفیات غالب رہیں لیکن پانچ فروری بوقت عصر سے جاری مہم کے دوران گیارہ مارچ تک (ایک ماہ سات دن) کے دوران ہر قسم کے سیاسی و غیرسیاسی دباو ¿ حتیٰ کہ ہفتہ وار تعطیلات کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا اُور یہی ماضی و حال کی بظاہر ایک جیسی مہمات کے یکسر مختلف نتائج برآمد ہونے کا باعث امر ہے کہ تجاوزات‘ وال چاکنگ اُور تشہیری مواد جیسے انبار سے پاک و صاف (نکھرا نکھرا ستھرا) پشاور ظاہر ہو رہا ہے۔ ٹاو ¿ن ون اہلکاروں میں پشاور کی خدمت اُور محبت کی نئی روح پھونکنے والے ایک جواں ہمت شخص کی توفیقات میں اضافے اُور صحت و سلامتی کی دعاو ¿ں کے ساتھ اُمید ہے کہ ریاض اعوان اہل پشاور کی نہیں بلکہ اپنے خمیر و ضمیر کی توقعات پر پورا اُتریں گے۔
............


Thursday, April 25, 2019

Eyes on city-wall

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
پشاور: چڑیاں اُور کھیت
سٹی سرکلر روڈ پر کوہاٹی گیٹ سے متصل ’فصیل شہر‘ کا 57فٹ حصہ گرا دیا گیا ہے۔ راتوں رات کسی دیوار کا اِس قدر بڑا حصہ گرانے کی واردات بلدیاتی حکومت کے دفاتر (فائر بریگیڈ) کے بلمقابل سرانجام پائی ہے لیکن اُس وقت کسی کو دکھائی نہیں دی جب تک دیوار کی ہر ایک اینٹ ہٹا نہیں دی گئی۔ یاد رہے کہ کوہاٹی گیٹ کے مذکورہ مقام پر فصیل شہر کا باقی ماندہ 200 فٹ حصے میں سے 57 فٹ ختم ہو چکا ہے۔ فصیل شہر مغل عہد میں تعمیر ہوئی۔ سکھ دور میں اِس کی توسیع و مرمت ہوئی اور انگریز راج میں اِسے پختہ اینٹوں کے اضافے سے زیادہ پائیدار اور مضبوط بنایا گیا لیکن اِس دیوار کو خطرہ موسمی اثرات یا وقت سے نہیں بلکہ قبضہ مافیا ہے‘ جن کی نظر میں پشاور اُور اِس کے آثار قدیمہ کی کوئی اہمیت نہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ پشاور کے دیگر حصوں کی طرح اِس مرتبہ بھی طلسماتی طور پر ’فصیل شہر‘ کا ایک حصہ یوں گدھے کے سر سے سینگھ کی طرح غائب ہو چکا ہے (چڑیاں کھیت چگ گئی ہیں!)۔ درحقیقت یہ ایک ”ناقابل تلافی نقصان“ اُور خیبرپختونخوا کے آثار قدیمہ کے قانون (Antiquities Act 2016) کی 44ویں شق کے چوتھے حصے کی ’خلاف ورزی‘ ہے اُور اِسی قانون کو بنیاد بناتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والے خلاف متعلقہ پولیس اسٹیشن (تھانہ کوتوالی) میں مقدمہ (ایف آئی آر) بھی درج کروا دی گئی ہے‘ جس میں محکمہ ¿ آثار قدیمہ فریق ہے۔ مذکورہ قانون کی رو سے اگر کوئی شخص آثار قدیمہ قرار دی گئی کسی بھی عمارت کو نقصان پہنچاتا ہے تو اُسے زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ روپے جرمانہ اور 2 سال کی قید جیسی سزائیں ہو سکتی ہیں جبکہ حقیقت ہے یہ ہے کہ پشاور کے آثار قدیمہ ایک ایک کر کے ’صفحہ ¿ ہستی‘ سے مٹتی چلی گیئں لیکن آج تک کسی ایک بھی مجرم کو نشان عبرت نہیں بنایا گیا۔ تصور کیجئے کہ لب سڑک‘ دیوار کا قریب ساٹھ فٹ اُونچا حصہ گرایا جا رہا تھا اُور ہر ایک اینٹ چیخ چیخ کر اہل پشاور کو آوازیں دے رہی ہوگی لیکن پشاور کی نمائندگی پر فخر محسوس کرنے اُور خود کو ’فخر پشاور‘ سمجھنے والے سیاسی و غیرسیاسی منتخب نمائندے مدد کو نہ پہنچ سکے
کوہاٹی گیٹ سے متصل ’فصیل شہر‘ کے ساتھ رہائشی مکانات (کواٹروں) میں بلدیہ پشاور کے مسیحی ملازمین آباد تھے‘ جنہیں یہ کہتے ہوئے یہاں سے ’بیدخل‘ کیا گیا تھا کہ باقی ماندہ ’فصیل شہر‘ کو بچایا جائے گا۔ یہی طریقہ ¿ واردات ’لاہوری گیٹ‘ سے متصل کواٹروں کی اراضی واگزار کراتے وقت بھی اختیار کیا گیا لیکن مذکورہ پٹی نجی اثاثوں میں منتقل ہو گئی! جس میں خاص کردار چند وکلاءنے ادا کیا اور یہ سب تفصیلات عدالتی کاروائیوں اور دیگر قانونی چارہ جوئی کا حصہ ہیں۔ کوہاٹی گیٹ والی اراضی کے کرایہ داروں میں اکثریت مسیحی خاندانوں کی تھی لیکن فیصلہ سازی کے مراحل سے آگاہ اُور اِس پر اثرانداز ہونے کی حیثیت رکھنے ’بااَثر تاجر‘ خاندانوں نے بھی ’بہتی گنگا‘ میں ہاتھ دھوئے اُور یوں بلدیہ یعنی پشاور کی زیادہ قیمتی اراضی اپنے نام منتقل کروائی گئی۔ یہ سارا معاملہ سیاسی طور پر کچھ اِس انداز میں تصفیہ (رفع دفع) ہوا کہ پشاور کی بجائے چند اَفراد کے مفادات کا تحفظ واضح اُور مقصود رہا۔ آج بھی پشاور اُنہی ’مفاد پرستوں‘ کے نرغے میں ہے‘ جن کے لئے تاریخ‘ فن تعمیر‘ ثقافت اُور وہ سماجی نشانیاں کہ جنہیں ’آثار قدیمہ‘ قرار دے کر تحفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن سب کچھ رائیگاں ہو چکا ہے!
”میری پہچان ہیں تیرے در و دیوار کی خیر .... میری جاں میرے پشاور میرے گلزار کی خیر۔“ فصیل شہر پناہ اُور 16 دروازے (کابلی‘ اندرشہر‘ کچہری‘ ریتی‘ رامپورہ‘ ہشت نگری‘ لاہوری‘ گنج‘ یکہ توت‘ کوہاٹی‘ سرکی‘ سردچاہ‘ آسیہ‘ رام داس‘ ڈبگری اور باجوڑی گیٹ) پشاور کی پہچان (سند) ہے۔ ’تازہ سانحہ‘ کوہاٹی گیٹ کے قریب رونما ہوا ہے‘ جس پر متعلقہ فیصلہ سازوں (حکام) لاعلم نہیں۔ ٹاو ¿ن ون کے چیف بلڈنگ آفیسر انجنیئر شہزاد شاہ کے مطابق ”اُنہیں سٹی وال کا حصہ گرائے جانے کی اطلاع 23 اپریل کی صبح 5 بجے دی گئی۔ جس پر فوری کاروائی کرتے ہوئے ٹاو ¿ن ون کا متعلقہ عملہ موقع پر پہنچا۔ تعمیراتی کام بند کروایا گیا۔ ضلع ناظم اُور اُن کا ماتحت عملے سمیت محکمہ ¿ آثار قدیمہ کے حکام بھی موقع پر پہنچے اور فیصلہ کیا گیا کہ خلاف ورزی کرنے والے جناب نور حضرت اور اُن کی اہلیہ کے خلاف ’صوبائی آثار قدیمہ‘ قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔ اِسی سلسلے میں پولیس رپورٹ درج کروا دی گئی ہے۔“ اُن کے پرسکون اور دھیمے لہجے سے عیاں تھا کہ جیسے کچھ خاص نہیں اُور کم سے کم اُن کی ملازمت یا صحت پر کچھ فرق نہیں پڑتا کہ اگر پشاور ’فصیل شہر‘ کے کسی ایک حصے سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو چکا ہے کیونکہ ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ اِس میں نئی بات کیا ہے؟ علاوہ ازیں ’فصیل شہر‘ کو نقصان پہنچانا ’قابل پھانسی جرم‘ نہیں‘ جو اگر ثابت ہوا تو زیادہ سے زیادہ جرمانہ 5 لاکھ روپے جبکہ زیادہ سے زیادہ سزا 2 سال قید ہوگی اُور وہ بھی ایک الگ قانون کی وجہ سے کسی بزرگ (سینیئر سیٹیزن) کو نہیں دی جا سکے گی‘ یوں معاملہ مختلف عدالتوں میں طے ہو جائے گی۔ لائق توجہ امر یہ ہے کہ فصیل شہر کو منہدم کر کے جس اراضی کی قیمت میں ”1000 گنا“ اضافہ کیا گیا‘ اُس کی فی الوقت مارکیٹ ویلیو 10سے 15کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے جبکہ اِس پر کثیرالمنزلہ تجارتی و رہائشی عمارت قائم ہونے کے بعد اِس تعمیراتی منصوبے کی کل لاگت (کم سے کم) چار سے پانچ ارب روپے ہو گی۔ سینکڑوں کروڑ روپے جیسی غیرمعمولی سرمایہ کاری کرنے والے یقینا عام لوگ نہیں‘ جن کے لئے پٹوارخانے سے ضلعی حکومت‘ ٹاو ¿ن ون اُور متعلقہ تھانے کے نصف درجن اعلیٰ حکام کو ”اعتماد“ میں لینا (ہم خیال بنانا) کوئی بڑی بات نہیں۔ افسوس اِس بات کا ہے کہ پشاور کو تبدیلی کی جس صبح کا انتظار تھا‘ اُس کی سحر نہیں ہوئی۔ پشاور کی ملکیت تاریخی اثاثہ جات ہوں یا زیراستعمال جائیدادیں‘ اِس ’شہر ناپرساں‘ کے وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ معمولی ’کمی بیشی‘ کے ساتھ آج بھی جاری ہے!
عشق‘ احساس‘ رحمت و زحمت
زندگی کے اصول ہو جائیں
کچھ تو مجنوں بنام شہر بھی ہوں
جو پشاور کی دھول ہو جائیں
............