Showing posts with label City Wall. Show all posts
Showing posts with label City Wall. Show all posts

Sunday, August 22, 2021

Forgotten gates of Peshawar

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: مغوی دروازہ

شاعر منظور ہاشمی نے کہا تھا کہ ”اُمید و یاس کی رُت آتی جاتی رہتی ہے .... مگر ’یقین کا موسم‘ نہیں بدلتا ہے۔“ یقین کا یہی دورانیہ ’پشاور شناسی‘ کے ابواب میں تقسیم ہے اُور اِس کا ایک باب ’فصیل ِشہر پناہ‘ اُور اِس میں قائم ’سولہ دروازے‘ ہیں جن کی اہمیت کا اعتراف ہر حکومت کرتی ہے لیکن اِن کی بحالی و حفاظت کا فریضہ خاطرخواہ توجہ سے سرانجام نہیں پا رہا۔ توجہ طلب ہے کہ جب تک ’پشاور ڈسٹرکٹ اتھارٹی‘ قائم کرکے شہری سہولیات و خدمات اُور شہر کی توسیع سے متعلق امور کو مربوط نہیں کر دیا جاتا اُور اِسی بندوبست کے تحت قدیمی آثار و تعمیرات کی حفاظت و بحالی کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے جاتے اُس وقت تک ’احیائے پشاور‘ کے عنوان یا مقصد سے کی جانے والی کوششوں کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ ذہن نشین رہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد سیاحت اُور آثار قدیمہ کے محکمے بھی صوبائی حکومت کے زیرسایہ آ چکے ہیں لیکن اِن اداروں کو نہ تو خاطرخواہ افرادی و مالی وسائل حاصل ہیں اُور نہ ہی حکومتی اداروں کی فیصلہ سازی کو مربوط و مشروط کیا جا سکا ہے تاکہ وسائل کی بچت ہوں اُور حسب ضرورت‘ ترقیاتی کاموں کی پائیداری سے لیکر اِن کے نمائشی پہلوؤں کا جائزہ لینے پر بھی بہتر سے بہتر نتائج حاصل ہوں۔

’فصیل ِشہر کی بحالی‘ کے لئے جاری ’تازہ دم کوششوں‘ میں ضلعی فیصلہ ساز چاہتے ہیں کہ پشاور کے اُن دروازوں کو بھی دوبارہ تعمیر کیا جائے جو اگرچہ فی الوقت اپنا وجود کھو چکے ہیں لیکن اُن کا نام و نشان (تذکرہ) کتابوں اُور یاداشتوں میں محفوظ ہے۔ اِس طرح کی ایک کوشش سال 2012ءمیں بھی دیکھنے میں آئی تھی جب وزارت ِبلدیات کی مداخلت سے شہر کے 8 دروازوں (سرکی‘ کوہاٹی‘ یکہ توت‘ گنج‘ ہشت نگری‘ کابلی‘ ڈبگری اُور بیرسکو گیٹ) کو تعمیر کرنے میں نہ صرف غیرضروری عجلت کا مظاہرہ کیا گیا بلکہ اِس منصوبے پر اُٹھنے والے اخراجات کی تفصیلات بھی صیغہ راز میں رکھی گئیں اُور آج تک اہل پشاور کو معلوم نہیں ہو سکا کہ جن آٹھ دروازوں کو تعمیر کیا گیا اُن پر کل کتنی لاگت آئے تھی تاہم ’آف دی ریکارڈ‘ فراہم کی جانے والی معلومات کے مطابق ’آٹھ دروازوں‘ پر اُٹھنے والے اخراجات سے آٹھ مکانات تعمیر ہو سکتے تھے! بہرحال پشاور کے ترقیاتی امور میں ہونے والی ظاہری مالی بدعنوانیاں کی جھلک ہر حکومتی منصوبے میں ’ناپائیداری کی صورت‘ دیکھی جا سکتی ہے کہ کچھ منصوبے پہلی تو کچھ دوسری اُور آئندہ چند بارشوں کے پانی کیساتھ بہہ جاتے ہیں۔ 

ایک دفعہ کا ذکر ہے جب پشاور شہر فصیل کے اندر ہوتا تھا اُور اِس میں آمدروفت کے لئے سولہ دروازے ہوتے تھے۔ اِن میں 2 دروازے (سرد چاہ گیٹ اُور آسیہ گیٹ) آج بھی اپنی اصل شکل و صورت لیکن خستہ حالت میں موجود ہیں اُور اصولاً باقی ماندہ دروازوں اُور فصیل شہر کے ٹکڑوں کا فن تعمیر مدنظر رکھتے ہوئے نئی تعمیرات ہونی چاہیئں تھیں اُور یہ کام بالکل اُسی طرح محکمہ¿ آثار قدیمہ کی زیرنگرانی ہونا چاہئے تھا جس طرح گورگٹھڑی سے گھنٹہ گھر ثقافتی راہداری کی تعمیر‘ اُور سیٹھی ہاو¿س و گورگٹھڑی کی بحالی کے لئے متعلقہ محکمے (آثار قدیمہ) کے علم و دانش‘ تجربے اُور تربیت یافتہ افرادی قوت سے اِستفادہ کیا گیا لیکن راتوں رات (جلد اَز جلد) تعمیرات کی دھن میں گلی کوچوں کی فرش بندی کے اصول پر کرتے ہوئے ’روائتی طرز ِتعمیر‘ کا خیال نہیں رکھا گیا جو اِن دروازوں کی شان و اٹھان تھا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ سرکاری خزانے سے مذکورہ آٹھ دروازوں کی تعمیرات پر وزیربلدیات اُور ناظمین کے ناموں کی تختیاں نصب کی گئیں اُور اِن دروازوں کو آج تک سیاسی و غیرسیاسی اعلانات کی تشہیر کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ حیرت و تشویش کا مقام یہ بھی ہے کہ پشاور میں 2 غیرقانونی کام کرنے کی کھلم کھلا چھوٹ ہے۔ ایک تجاوزات اُور دوسرا پشاور کے تاریخی اثاثوں سے من چاہا استفادہ۔ پشاور سے متعلق فیصلہ سازی کا اختیار رکھنے والے ایک سے زیادہ بلدیاتی اِداروں کی مجموعی کارکردگی کا خلاصہ یہ ہے کہ پینے کے پانی کی فراہمی‘ صفائی اُور گندگی اُٹھانے کے لئے ایک الگ محکمہ ’واٹر اینڈ سینٹی ٹیشن سروسیز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی)‘ قائم کرنے کی ضرورت پیش آئی جس کے غیرترقیاتی (اِنتظامی) اخراجات کا بوجھ بھی پشاور ہی کے کندھوں پر ہے۔ صوبائی حکومت اگر واقعی پشاور سے بھلائی کرنا چاہتی ہے تو ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے غیرترقیاتی اخراجات جن میں اہلکاروں کو حاصل مراعات‘ گاڑیاں‘ ایندھن‘ دفتروں کے کرائے‘ بجلی و دیگر یوٹیلٹی بلز کم کرنے پر توجہ دے۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے دفاتر جہاں کرائے کی عمارتوں میں ہیں‘ اُنہیں سرکاری دفاتر میں ضم کرنے اُور بلدیاتی اداروں کے زیراستعمال گاڑیوں کو ’ٹرانسپورٹ‘ کے مرکزی دفتر کی زیرنگرانی کرنے سے وسائل کی غیرمعمولی بچت ممکن ہے۔

پشاور کے 8 دروازے اَنوکھے طرز ِتعمیر جبکہ 2 دروازے قدیمی تعمیرات کا نمونہ اُور باقی ماندہ 6 دروازوں (ریتی گیٹ‘ رام داس گیٹ‘ آسامائی گیٹ‘ رام پورہ گیٹ‘ کچہری گیٹ اُور باجوڑی گیٹ) کی اَزسرنو تعمیر پر سوچ بچار کے جاری عمل کو ماضی سے مربوط و مسلسل ہونا چاہئے۔ اطلاعات ہیں کہ ضلعی حکومت (سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ پشاور) نے مذکورہ 8 دروازوں کی تعمیر کے لئے صوبائی حکومت سے رابطہ کیا ہے تاکہ خصوصی ترقی کے لئے خصوصی مالی وسائل فراہم کئے جائیں اُور آئندہ تین ماہ (دوہزاراکیس کے اِختتام تک) ’فصیل شہر بحالی‘ نامی حکمت ِعملی کے تحت دروازوں کی گنتی پوری کر دی جائے لیکن پشاور کی جو کمی (نقصان) ہو چکا ہے وہ شاید کبھی بھی پورا نہیں ہو سکے گا کیونکہ فصیل شہر کا صرف 10 فیصد یا اِس سے بھی کم حصہ بچا ہے۔ صوبائی اُور بلدیاتی فصیلہ سازوں کو یہ سوال اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا کہ جہاں فصیل شہر کا نام و نشان تک نہ رہا ہو‘ وہاں دروازوں کی موجودگی کیا معنی رکھتی ہے؟ اُور جہاں تک بات ”فصیل ِشہر پناہ“ میں دروازوں کی ہے تو یہ دیوقامت دروازے لکڑی سے بنے ہوتے تھے جن میں سے ایک آج بھی سابق ناظم کے حجرے میں نصب ہے چونکہ وہ دروازہ پشاور کی ملکیت ہے اُور اِس پر کسی بھی شخص کا حق نہیں اِس لئے صوبائی حکومت مذکورہ لکڑی سے بنا ہوا ”مغوی دروازہ“ واگزار کروائے اُور اُسے گورگٹھڑی کے اندر قائم ’سٹی میوزیم (پشاور شہر کے عجائب گھر)‘ میں رکھے تاکہ آنے والی نسلیں جن دروازوں کے تذکرے سے بذریعہ کتاب و مضامین آشنا ہیں‘ اُس کے عملی نمونے کو اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ سکیں اُور یہی آگہی ’پشاور شناسی‘ کے اُس مرحلے کو آسان کر سکتی ہے‘ جس کا تعلق شہری زندگی سے جڑی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے ہے کہ نئی نسل کو شہر کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے اِس کے اثاثہ جات کی حفاظت اُور یہاں کی معیشت و معاشرت میں ’پشاور کے حقوق‘ کا خیال رکھنے پر ذہنی و نفسیاتی طور پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ ’تحریک ِپشاور‘ کی ضرورت ہے‘ جو احیائے پشاور سے لیکر بقائے پشاور تک کے پہلووں (ضرورتوں) کا کماحقہ احاطہ کرے۔

....

Editorial Page of Daily Aaj Peshawar / Abbottabad dated 22 August 2021 (Sunday)




Friday, May 3, 2019

Peshawar: Reality and sarcastic turn!

تین مئی دوہزار اُنیس
پشاور: طعنہ اُور حقیقت!
اہل پشاور نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دے دیا ہے۔ ’21 اپریل‘ کی شب بیرون کوہاٹی گیٹ‘ سٹی سرکلر روڈ پر ’فصیل شہر‘ کا 57 فٹ حصہ منہدم کرنے کے خلاف ہر سطح پر غیرمعمولی احتجاج دیکھنے میں آیا‘ جس کا ذکر ’ذرائع ابلاغ‘ سے ہوتا ہوا ’سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا) پر پھیلتا چلا گیا اُور پشاور کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا کہ ’بااثر‘ سرمایہ دار اُور قبضہ مافیا جیسی خصوصیات رکھنے والے طبقے اُور سوچ کے خلاف ’اہل پشاور‘ کی جیت ہوئی ہو‘ جسے اپنی نوعیت کی ’پہلی کامیابی‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ’22 اپریل‘ کو پولیس مقدمہ درج ہونے کے بعد ’یکم مئی‘ سے دیوار کے مذکورہ حصے (57x12 فٹ) کی اَزسرنو تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔ متعلقہ بلدیاتی اہلکار اُور نمائندوں نے جس ’کارکردگی‘ اُور ’تشویش‘ کا عملاً اظہار کیا ہے اگر یہ طرزعمل شروع دن سے اختیار کیا جاتا تو ’فصیل شہر‘ کا 200فٹ حصہ اُور چند ٹکڑے ہی باقی نہ رہتے‘ نہ ہی 16 میں سے 14 دروازے راتوں رات غائب ہو کر اربوں روپے کی سرکاری اراضی قبضہ نہ ہو چکی ہوتی!

یہ طعنہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اہل پشاور نے اپنے آباو و اجداد کی نشانیاں اُونے پونے داموں فروخت کرتے وقت کیوں نہیں سوچا کہ تاریخ و ثقافت پر مبنی آثار قدیمہ کے نمونے ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں گے؟ وہ تاریخ میں مجرم قرار پائیں گے اور جب جائیدادیں اپنی رضامندی سے فروخت کر دی گئی ہیں تو مگرمچھ کے آنسو کیوں بہائے جا رہے ہیں؟ ’پشاور ہیئرٹیج ڈیفنس کونسل‘ کی جانب سے ’فصیل شہر‘ مہندم کئے جانے کی واردات بارے احتجاج کیا گیا جس کی تصاویر اُور ویڈیوز جب ’فیس بک (facebook)‘ پر شیئر (share) کی گئیں تو ایک معزز قاری ’ہمایوں اَخوند‘ نے ’رومن پشتو‘ زبان میں کئے گئے اپنے تبصرے میں لکھا ”خوری ڈاغرے‘ خاریانو ہم دَاسے خہ اَے“ (ترجمہ) ”دھکے کھاو۔ اہل پشاور تم لوگ ایسے ہی اچھے ہو۔“ پٹھان قبائل اہل پشاور کو ”خارے (شہری)“ کہتے ہیں جو کسی بھی طرح ’بُرا تخلص‘ نہیں بلکہ اِس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ’شہر میں رہنے والے علمی و ادبی طور پر نسبتاً زیادہ تحصیل یافتہ اُور تہذیب و تمدن اور طور طریقوں کے ساتھ زیادہ رکھ رکھاو ¿ پر مبنی معاشرت کے عادی ہوتے ہیں۔ ”شہری“ ہونا اپنی جگہ اعزاز ہے اُور اگر ایسا نہ ہوتا تو پہاڑوں‘ غاروں اور دیہی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی اکثریت ’اچھی (باسہولت و بامعنی) زندگی‘ کے لئے شہروں کو رخ نہ کرتے!

گرامی قدر ہمایوں اخوند (بحوالہ فیس بک تاریخ پیدائش 26 ستمبر 1965) کا شمار علمی ادبی حلقوں میں ہوتا ہے۔ آپ معلم ہیں اُور آج بھی اُن کی رائے تاریخ و ادب کے حوالے سے مستند مقام رکھتی ہے۔ آپ گردوپیش سے بے نیاز نہیں بلکہ وسیع مطالعے اور مشاہدے پر منحصر تاریخ و ثقافت جیسے موضوعات اُور اِس حوالے سے ہونے والی تبدیلیوں پر نگاہ رکھتے ہیں۔ ہمایوں اخوند حقیقت پسند اِنسان ہیں‘ جن کی لغت میں نفرت نہیں اُور یہی وجہ ہے کہ پشاور کی محبت اُن کی ذات کا حوالہ ہے اُور اُنہوں نے دوسروں کی دیکھا دیکھی یا اظہار مروت میں ’پشاور کا لبادہ‘ نہیں اُوڑھ رکھا بلکہ پشاور اور پشاوریوں کے مزاج آشنا ہیں۔ اِسی لئے ’اہل پشاور (خاریانوں) کو طعنہ دیا کہ اگر اُنہیں اچانک پشاور کی تباہی کا احساس ہو گیا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہے لیکن شاید یہ استعارہ 100فیصد درست نہیں۔

دیر تو ہوئی ہے لیکن ’بیداری کی لہر‘ اُٹھنے میں بہت دیر بہرحال نہیں ہوئی اُور یہی وجہ ہے کہ فصیل شہر کا منہدم ہونے والے ٹکڑے کی ’اَزسرنو تعمیر‘ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا چند برس قبل تک تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ مئی 2013ء اور جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں تبدیلی کے جس سورج کی کرنیں پھیلی ہیں‘ اُن کی روشنی میں منظرنامہ کچھ نہ کچھ تبدیل ضرور لگ رہا ہے۔ ”ماضی حال کا بدلا بدلا منظر کیا ہے .... میں اُور تو کیا چیز ہیں‘ تنکے پتے ایک نشان .... عکس کے اندر ٹکڑے ٹکڑے ظاہر میں اِنسان .... کب کے ڈھونڈ رہے ہیں ہم سب اپنا نخلستان (جیلانی کامران)“

درحقیقت پشاور کی دریافت تو ہو چکی لیکن اِس تلاش کا سفر (عمل) جاری ہے۔ جیسے جیسے لوگ ’پشاور آشنا‘ ہو رہے ہیں ویسے ویسے اُس ’بیداری کا حصہ‘ بن رہے ہیں جو پشاور کے اثاثوں کی حفاظت سے متعلق ہے۔

منہدم فصیل شہر کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ پشاور کی تاریخ کو پھر سے اینٹ اینٹ کر کے جوڑا جا رہا ہے۔ قابل ذکر اور لائق غور ہے کہ پشاور کی تاریخ میں اِس قسم کی کوئی ایک بھی مثال موجود نہیں جس میں راتوں رات منہدم ہونے والی ’فصیل شہر‘ کے کسی بھی حصے کی اِس طرح فوری تعمیر کر دی گئی ہو۔ آج کوئی ایک بھی اعلیٰ سے ادنیٰ فیصلہ ساز ایسا نہیں ملتا جو ماضی کی طرح کے آثار قدیمہ سے اِظہار بیزاری کرتا ہو۔ جو باتیں ماضی میں ڈھکے چھپے انداز میں کی جاتی تھیں آج وہ باتیں دلوں اُور اِستعاروں کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

ایک وقت وہ تھا کہ جب پشاور کی ماضی میں اِس قسم کی ’بے قاعدگیاں‘ اُور اُن کے بارے میں ’رسمی تحقیقات‘ فائلوں میں دب کر ختم ہو جایا کرتی تھیں۔ ذرائع ابلاغ چند دن واویلا کرنے کے بعد خاموش ہو جایا کرتے تھے لیکن سوشل میڈیا کے زمانے میں نیند محال ہے۔ وہ سبب اَسباب اُور وجوہات کہ جن کے باعث ماضی میں ’فصیل شہر‘ ضلع و ٹاون ناظمین کے کاروباری مفادات کی نذر ہوئیں اُور آج بھی ایسی جائیدادیں (ثبوت) موجود ہیں کہ جن کے مالک و وارث ماضی و حال میں پشاور کے سیاہ و سفید (فیصلوں) کے مالک رہے ہیں! تو اُمید ہے اہل پشاور آئندہ بلدیاتی انتخابات میں فیصلہ سازی کے منصب پر ایسے کرداروں کو ’فائز (منتخب)‘ کریں گے جن کے ذاتی و کاروباری مفادات پشاور سے متصادم نہ ہوں۔ سطحی صورتحال کا گہرائی اور گیرائی سے جائزہ لیا جائے تو سیاست اُور مفادات پر مبنی طرز سیاست و حکمرانی ایسا ”المیہ“ ہے کہ جو صرف پشاور کی حد تک محدود نہیں بلکہ قومی و صوبائی سطح پر عوام کے منتخب نمائندوں کے اکثر فیصلے اُن کے ذاتی اَثاثوں میں اِضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ تو یہ بھی تبدیلی کا ثمر ہی ہے کہ آج صرف پشاور نہیں بلکہ اُس طرزحکمرانی کے بارے میں کھل کر اظہار خیال کیا جا رہا ہے‘ جس سے لاحق خطرات کا شمار ممکن نہیں!
........

Sunday, April 28, 2019

The case of Peshawar!

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
پشاور: آثار قدیمہ اور مقدمہ!

جنوب مشرقی ایشیاءکا قدیم ترین زندہ تاریخی شہر ہونے کی وجہ سے پشاور میں سینکڑوں کی تعداد میں تاریخی و ثقافتی اِہمیت کی ایسی نشانیاں موجود ہیں‘ جن میں سے ہر ایک کی اہمیت دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہے لیکن ’شاندار ماضی‘ سے متعلق اِن نشانیوں (آثار) کا وجود ’مستقل نشانے‘ پر ہے اُور یہ خطرہ اُن آخری حدوں کو چھو رہا ہے‘ جہاں مذکورہ آثار قدیمہ کی گنتی کر لی گئی ہے لیکن ’کاغذی کاروائی‘ سے زیادہ کچھ نہیں کیا جا سکا اُور کاغذی کاروائی (بشمول قانون سازی) بھی بس اُسی حد تک کی گئی ہے جس سے ملازمتی اُوقات پر زیادہ بوجھ نہ پڑے! حقیقت حال یہ ہے کہ ’پشاور کے ثقافتی اثاثوں‘ کے ایک سے زیادہ حکومتی اِدارے اُور ہزاروں کی تعداد میں سرکاری اہلکار محافظ تو ہیں جو عملاً اِن تاریخی شاہکاروں کو بچانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ تو کیا سزا ¿ و جزا ¿ اُور کارکردگی کا احتساب نہیں ہونا چاہئے؟

پشاور کے آثار قدیمہ کو نقصان پہنچنے کے رجحان اُور درپردہ ”بنیادی عوامل“ یہ ہیں کہ ’اہل پشاور‘ اپنے ورثے اور میراث سے لاتعلقی ہو چکے ہیں۔ پشاور کے والی وارث وہ ہیں‘ جو کسی ضرورت یا مجبوری کے تحت اِس شہر وارد ہوئے اُور مختلف زمانوں میں آنے والے مہاجر پھر یہیں ٹھہرتے چلے گئے ہیں۔ چونکہ پشاور کا دسترخوان اور مہمان نوازی وسیع تھی‘ اِس لئے جو ایک مرتبہ یہاں آیا‘ وہ خود کو اِس کی کشش سے بچا نہ سکا۔ اہل پشاور نے بھی توجہ نہیں دی اُور اپنی ’نئی نسل‘ کو مغربی زبان و تہذیب آشنا بنا دیا گیا ہے‘ جس میں اُن کے آباءو اجداد کے طریقوں‘ بودوباش‘ رہن سہن‘ زبان و تہذیب کی اہمیت مرکزی نہیں رہی۔ خوش آئند (بیداری کی لہر) ہے کہ ”پشاور ہیئرٹیج ڈیفنس کونسل“ کے نام سے ’پشاور کی محبت‘ میں سرشار ’سول سوسائٹی‘ ایک قدم آگے آئی ہے‘ جس کی صفوں میں اگرچہ جانے پہچانے نام زیادہ ہیں لیکن اِن کے ’تازہ دم حوصلوں‘ سے اُمید ہے کہ ”پشاور کی بھلائی اور خیر کے کئی پہلو نکلیں گے۔“

پشاور ہیئرٹیج ڈیفنس کونسل کے اِجلاس (27اپریل2019ئ) میں اِس معاملے کے مختلف قانونی و سماجی پہلوو ¿ں پر غور ہوا کہ ”پشاور شہر کے گرد تعمیر ہونے والی دیوار (فصیل شہر) کے باقی ماندہ حصوں میں سب سے بڑا ٹکڑا جو کوہاٹی گیٹ سے متصل تھا اُور جس کی لمبائی قریب ”200 فٹ“ تھی‘ اُس کا 57فٹ لمبا اُور 12 فٹ اونچا ٹکڑا راتوں رات منہدم کر دیا گیا ہے اُور اِس بات کی بھی ضمانت نہیں دی جا رہی کہ ”کوہاٹی گیٹ سے گنج گیٹ اُور چند دیگر مقامات پر ’فصیل شہر‘ کے باقی ماندہ ٹکڑے یا اُن کے آثار کو بچایا اُور مستقبل کے لئے محفوظ کیا جا سکے گا یا نہیں۔ تشویش کا اظہار اپنی جگہ منطقی ہے کہ فصیل شہر اور دروازوں کے حوالے (ذکر) صرف دستاویزات‘ کتابوں یا اخبارات کے کالموں کی حد تک ہی محدود ہو کر نہ رہ جائے!

اِس ’لمحہ فکریہ‘ پر ’پشاور ہیئرٹیج ڈیفنس کونسل‘ کے پلیٹ فارم سے اِن مطالبات پر زور ہونا چاہئے۔
1: پشاور کی فیصل شہر کو آثار قدیمہ کے اُس درجے میں شامل کیا جائے‘ جنہیں محفوظ (protected) حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ فی الحال محکمہ آثار قدیمہ اِس دیوار کی تاریخی و ثقافتی اہمیت سے انکار تو نہیں کر رہا لیکن اِسے ”PROTECTED“ ڈیکلیئر نہیں کیا گیا۔

2: پشاور شہر کے 16 دروازوں میں سے جو 2 دروازے اصل حالت میں باقی ہیں‘ اُنہیں بھی ”پروٹیکٹیڈ“ قرار دیا جائے۔

3: پشاور کی ضلعی حکومت نے ماضی میں جن 16میں سے 14 دروازوں کی ازسرنو تعمیر کی‘ اُس میں نہ تو قدیمی فن تعمیر کا لحاظ پاس رکھا گیا اور نہ ہی اِن دروازوں کے ڈیزائن بارے متعلقہ محکمہ آثار قدیمہ کو مشاورتی یا نگرانی کے عمل میں شریک کیا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دروازے تو قائم ہو گئے لیکن وہ صرف اور صرف سیاسی اشتہارات آویزاں کرنے کے لئے وقف دکھائی دیتے ہیں‘ جن پر حکمرانوں نے اپنے ناموں کی تختیاں بھی نصب کر رکھی ہیں۔ سرکاری خزانے کے استعمال سے نیک نامی اور سستی و سیاسی شہرت حاصل کرنے کی مذمت ہونی چاہئے اُور پشاور کے دروازوں کو اُن کی اصل حالت میں بحال کرنے کے لئے انہیں ’محکمہ آثار قدیمہ‘ کے حوالے کر دیا جائے۔

4: آثار قدیمہ کے قانون (2016ئ) کے تحت کسی تاریخی اہمیت کے حامل اثاثے کو نقصان پہنچانے کی زیادہ سے زیادہ سزا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دو سال قید مقرر ہے‘ اِس پر نظرثانی کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والے کے جملہ اثاثہ جات کی ضبطگی اُور جائیداد کی مارکیٹ ویلیو کا دو گنا جرمانہ عائد ہونا چاہئے کیونکہ ’آثار قدیمہ‘ کو نقصان کبھی بھی کم مالی حیثیت والا شخص نہیں پہنچاتا بلکہ اِس جرم کا ارتکاب کرنے میں قدر مشترک یہ پائی جاتی ہے کہ یہ سب کے سب غیرمعمولی سیاسی و مالی حیثیت کے مالک ہوتے ہیں۔

5: پشاور جیسے تاریخی شہر میں تعمیراتی نقشوں کی منظوری کے عمل میں محکمہ ¿ آثار قدیمہ سے اجازت (NOC) حاصل کرنے کو لازمی قرار دیا جائے۔

6: فصیل شہر اور دروازوں سے متصل عمارتوں میں تہہ خانوں کی تعمیر پر پابندی عائد کی جائے۔

7: کئی مقامات پر فصیل شہر تو موجود ہے لیکن وہاں اِس کی چوڑائی کو کم کیا گیا ہے۔ ایسی تجاوزات (جرات) کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے۔

8: رواں ہفتے (اکیس اپریل) کے روز فصیل شہر کا جو حصہ منہدم ہوا‘ وہ متعلقہ اداروں (ٹاو ¿ن ون اُور ضلعی انتظامیہ) کے اہلکاروں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ انتظامی عہدوں پر فائز ٹاو ¿ن ون اور پشاور کی ضلعی حکومت کے تمام متعلقہ اہلکاروں کو معطل کر کے اُن کے اثاثہ جات (مالی حیثیت) بارے خفیہ اداروں سے تفتیش کروائی جائے کہ کس طرح ذاتی‘ سیاسی اور مالی فوائد کے لئے پشاور کے اثاثے ’برائے فروخت‘ ہیں۔

9: گوگل اَرتھ (Google Earth) کے ذریعے پشاور کی فصیل اُور دروازوں کا سروے اُور تاریخی مقامات کی نشاندہی پر مبنی تازہ ترین نقشہ جات (maps) مرتب کئے جائیں تاکہ اہل پشاور اور بالخصوص پٹوار خانے اور مستقبل میں تعمیراتی نقشے منظور کرنے والے حکام کے پاس جدید معلومات ہونی چاہیئں۔ اِس سلسلے میں یونیورسٹی آف پشاور کے جیالوجی (Geology) ڈیپارٹمنٹ کی تکنیکی و افرادی مہارت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 25 اپریل 2019ءکے روز اِسی ڈیپارٹمنٹ نے حیات آباد پشاور میں 2200 سال پرانے آثار دریافت کئے جو ہند یونانی (Indo-Greek) زمانے کے ہیں۔

10: پشاور شناسی کے مضامین نصاب کا حصہ بنانے کے لئے تحریک کی بھی ضرورت ہے‘ جس کے لئے سماجی طور پر ’پشاور ہیئرٹیج ڈیفنس کونسل‘ اُور سیاسی طور پر ”پاکستان ہندکوان تحریک‘ کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بہت سے دیگر ضروریات بھی فہرست کی جا سکتی ہیں لیکن بنیادی بات (خلاصہ کلام) ”پشاور شناسی“ عام کرنے کی ہے‘ جن رگوں میں ’پشاور کی محبت‘ دوڑ رہی ہے اُن کی توجہات (یاد دہانی) معمولی کوشش سے راغب و مرکوز کی جا سکتی ہیں لیکن اِن کوششوں سے سوفیصد کامیابی کی اُمید نہیں رکھنی چاہئے اور ”خاطر جمع رہے“ کہ جو دل مردہ ہو چکے ہیں‘ اُن پر پشاور کی محبت جیسی بہار کا کوئی خاص اثر نہیں ہوگا۔

Thursday, April 25, 2019

Eyes on city-wall

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
پشاور: چڑیاں اُور کھیت
سٹی سرکلر روڈ پر کوہاٹی گیٹ سے متصل ’فصیل شہر‘ کا 57فٹ حصہ گرا دیا گیا ہے۔ راتوں رات کسی دیوار کا اِس قدر بڑا حصہ گرانے کی واردات بلدیاتی حکومت کے دفاتر (فائر بریگیڈ) کے بلمقابل سرانجام پائی ہے لیکن اُس وقت کسی کو دکھائی نہیں دی جب تک دیوار کی ہر ایک اینٹ ہٹا نہیں دی گئی۔ یاد رہے کہ کوہاٹی گیٹ کے مذکورہ مقام پر فصیل شہر کا باقی ماندہ 200 فٹ حصے میں سے 57 فٹ ختم ہو چکا ہے۔ فصیل شہر مغل عہد میں تعمیر ہوئی۔ سکھ دور میں اِس کی توسیع و مرمت ہوئی اور انگریز راج میں اِسے پختہ اینٹوں کے اضافے سے زیادہ پائیدار اور مضبوط بنایا گیا لیکن اِس دیوار کو خطرہ موسمی اثرات یا وقت سے نہیں بلکہ قبضہ مافیا ہے‘ جن کی نظر میں پشاور اُور اِس کے آثار قدیمہ کی کوئی اہمیت نہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ پشاور کے دیگر حصوں کی طرح اِس مرتبہ بھی طلسماتی طور پر ’فصیل شہر‘ کا ایک حصہ یوں گدھے کے سر سے سینگھ کی طرح غائب ہو چکا ہے (چڑیاں کھیت چگ گئی ہیں!)۔ درحقیقت یہ ایک ”ناقابل تلافی نقصان“ اُور خیبرپختونخوا کے آثار قدیمہ کے قانون (Antiquities Act 2016) کی 44ویں شق کے چوتھے حصے کی ’خلاف ورزی‘ ہے اُور اِسی قانون کو بنیاد بناتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والے خلاف متعلقہ پولیس اسٹیشن (تھانہ کوتوالی) میں مقدمہ (ایف آئی آر) بھی درج کروا دی گئی ہے‘ جس میں محکمہ ¿ آثار قدیمہ فریق ہے۔ مذکورہ قانون کی رو سے اگر کوئی شخص آثار قدیمہ قرار دی گئی کسی بھی عمارت کو نقصان پہنچاتا ہے تو اُسے زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ روپے جرمانہ اور 2 سال کی قید جیسی سزائیں ہو سکتی ہیں جبکہ حقیقت ہے یہ ہے کہ پشاور کے آثار قدیمہ ایک ایک کر کے ’صفحہ ¿ ہستی‘ سے مٹتی چلی گیئں لیکن آج تک کسی ایک بھی مجرم کو نشان عبرت نہیں بنایا گیا۔ تصور کیجئے کہ لب سڑک‘ دیوار کا قریب ساٹھ فٹ اُونچا حصہ گرایا جا رہا تھا اُور ہر ایک اینٹ چیخ چیخ کر اہل پشاور کو آوازیں دے رہی ہوگی لیکن پشاور کی نمائندگی پر فخر محسوس کرنے اُور خود کو ’فخر پشاور‘ سمجھنے والے سیاسی و غیرسیاسی منتخب نمائندے مدد کو نہ پہنچ سکے
کوہاٹی گیٹ سے متصل ’فصیل شہر‘ کے ساتھ رہائشی مکانات (کواٹروں) میں بلدیہ پشاور کے مسیحی ملازمین آباد تھے‘ جنہیں یہ کہتے ہوئے یہاں سے ’بیدخل‘ کیا گیا تھا کہ باقی ماندہ ’فصیل شہر‘ کو بچایا جائے گا۔ یہی طریقہ ¿ واردات ’لاہوری گیٹ‘ سے متصل کواٹروں کی اراضی واگزار کراتے وقت بھی اختیار کیا گیا لیکن مذکورہ پٹی نجی اثاثوں میں منتقل ہو گئی! جس میں خاص کردار چند وکلاءنے ادا کیا اور یہ سب تفصیلات عدالتی کاروائیوں اور دیگر قانونی چارہ جوئی کا حصہ ہیں۔ کوہاٹی گیٹ والی اراضی کے کرایہ داروں میں اکثریت مسیحی خاندانوں کی تھی لیکن فیصلہ سازی کے مراحل سے آگاہ اُور اِس پر اثرانداز ہونے کی حیثیت رکھنے ’بااَثر تاجر‘ خاندانوں نے بھی ’بہتی گنگا‘ میں ہاتھ دھوئے اُور یوں بلدیہ یعنی پشاور کی زیادہ قیمتی اراضی اپنے نام منتقل کروائی گئی۔ یہ سارا معاملہ سیاسی طور پر کچھ اِس انداز میں تصفیہ (رفع دفع) ہوا کہ پشاور کی بجائے چند اَفراد کے مفادات کا تحفظ واضح اُور مقصود رہا۔ آج بھی پشاور اُنہی ’مفاد پرستوں‘ کے نرغے میں ہے‘ جن کے لئے تاریخ‘ فن تعمیر‘ ثقافت اُور وہ سماجی نشانیاں کہ جنہیں ’آثار قدیمہ‘ قرار دے کر تحفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن سب کچھ رائیگاں ہو چکا ہے!
”میری پہچان ہیں تیرے در و دیوار کی خیر .... میری جاں میرے پشاور میرے گلزار کی خیر۔“ فصیل شہر پناہ اُور 16 دروازے (کابلی‘ اندرشہر‘ کچہری‘ ریتی‘ رامپورہ‘ ہشت نگری‘ لاہوری‘ گنج‘ یکہ توت‘ کوہاٹی‘ سرکی‘ سردچاہ‘ آسیہ‘ رام داس‘ ڈبگری اور باجوڑی گیٹ) پشاور کی پہچان (سند) ہے۔ ’تازہ سانحہ‘ کوہاٹی گیٹ کے قریب رونما ہوا ہے‘ جس پر متعلقہ فیصلہ سازوں (حکام) لاعلم نہیں۔ ٹاو ¿ن ون کے چیف بلڈنگ آفیسر انجنیئر شہزاد شاہ کے مطابق ”اُنہیں سٹی وال کا حصہ گرائے جانے کی اطلاع 23 اپریل کی صبح 5 بجے دی گئی۔ جس پر فوری کاروائی کرتے ہوئے ٹاو ¿ن ون کا متعلقہ عملہ موقع پر پہنچا۔ تعمیراتی کام بند کروایا گیا۔ ضلع ناظم اُور اُن کا ماتحت عملے سمیت محکمہ ¿ آثار قدیمہ کے حکام بھی موقع پر پہنچے اور فیصلہ کیا گیا کہ خلاف ورزی کرنے والے جناب نور حضرت اور اُن کی اہلیہ کے خلاف ’صوبائی آثار قدیمہ‘ قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔ اِسی سلسلے میں پولیس رپورٹ درج کروا دی گئی ہے۔“ اُن کے پرسکون اور دھیمے لہجے سے عیاں تھا کہ جیسے کچھ خاص نہیں اُور کم سے کم اُن کی ملازمت یا صحت پر کچھ فرق نہیں پڑتا کہ اگر پشاور ’فصیل شہر‘ کے کسی ایک حصے سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو چکا ہے کیونکہ ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ اِس میں نئی بات کیا ہے؟ علاوہ ازیں ’فصیل شہر‘ کو نقصان پہنچانا ’قابل پھانسی جرم‘ نہیں‘ جو اگر ثابت ہوا تو زیادہ سے زیادہ جرمانہ 5 لاکھ روپے جبکہ زیادہ سے زیادہ سزا 2 سال قید ہوگی اُور وہ بھی ایک الگ قانون کی وجہ سے کسی بزرگ (سینیئر سیٹیزن) کو نہیں دی جا سکے گی‘ یوں معاملہ مختلف عدالتوں میں طے ہو جائے گی۔ لائق توجہ امر یہ ہے کہ فصیل شہر کو منہدم کر کے جس اراضی کی قیمت میں ”1000 گنا“ اضافہ کیا گیا‘ اُس کی فی الوقت مارکیٹ ویلیو 10سے 15کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے جبکہ اِس پر کثیرالمنزلہ تجارتی و رہائشی عمارت قائم ہونے کے بعد اِس تعمیراتی منصوبے کی کل لاگت (کم سے کم) چار سے پانچ ارب روپے ہو گی۔ سینکڑوں کروڑ روپے جیسی غیرمعمولی سرمایہ کاری کرنے والے یقینا عام لوگ نہیں‘ جن کے لئے پٹوارخانے سے ضلعی حکومت‘ ٹاو ¿ن ون اُور متعلقہ تھانے کے نصف درجن اعلیٰ حکام کو ”اعتماد“ میں لینا (ہم خیال بنانا) کوئی بڑی بات نہیں۔ افسوس اِس بات کا ہے کہ پشاور کو تبدیلی کی جس صبح کا انتظار تھا‘ اُس کی سحر نہیں ہوئی۔ پشاور کی ملکیت تاریخی اثاثہ جات ہوں یا زیراستعمال جائیدادیں‘ اِس ’شہر ناپرساں‘ کے وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ معمولی ’کمی بیشی‘ کے ساتھ آج بھی جاری ہے!
عشق‘ احساس‘ رحمت و زحمت
زندگی کے اصول ہو جائیں
کچھ تو مجنوں بنام شہر بھی ہوں
جو پشاور کی دھول ہو جائیں
............