Showing posts with label Column. Editorial. Show all posts
Showing posts with label Column. Editorial. Show all posts

Sunday, December 6, 2020

Pakistan Citizen Portal, Success vs the failure

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پاکستان سٹیزن پورٹل

تین ٹوئیٹر پیغامات لائق توجہ ہیں۔ پہلا پیغام: ٹوئیٹر صارف حسن خاور (@HasaanKhawar) لکھتے ہیں ”میں نے تجرباتی طور پر سٹیزن پورٹل پر ایک شکایت درج کروائی اُور اُس پر فوری ردعمل حقیقت میں قابل ستائش ہے۔“ دوسرا پیغام: پاکستان تحریک انصاف کے ٹوئیٹر اکاو¿نٹ (@PTIofficial) سے کہا گیا ہے کہ ”سٹیزن پورٹل ’انقلابی اقدام‘ ہے‘ جس میں عام آدمی اپنی شکایت وزیراعظم تک پہنچا سکتا ہے۔“ تیسرا پیغام: سٹیزن پورٹل کے نگران ادارے ’پرفارمنس ڈیلیوری یونٹ (@PakistanPMDU)‘ کا کہنا ہے کہ ”2 سال کے عرصے میں پورٹل کے ذریعے 30 لاکھ شکایات درج ہوئیں جو عوام کے اعتماد کا مظہر ہیں اُور اِن شکایات میں سے 94فیصد حل کی جا چکی ہیں۔“ مذکورہ تینوں پیغامات 4 دسمبر (دوہزاربیس) کے روز چھ گھنٹے کے دوران اِرسال کردہ اُن ہزاروں تبصروں (trends) کا حصہ ہیں جو ’سٹیزن پورٹل‘ سے متعلق حکومتی سرپرستی میں شروع کئے گئے ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ ”نیشنل آئی ٹی بورڈ‘ حکومت پاکستان“ کی جانب سے جاری کردہ ’پاکستان سیٹرن پورٹل (Pakistan Citizen Portal)‘ نامی موبائل فون ایپلی کیشن (app) 10 لاکھ سے زیادہ صارفین ’گوگل پلے سٹور‘ سے حاصل (ڈاون لوڈ) کرچکے ہیں۔ مذکورہ ایپ سے استفادہ کرنے کے لئے کسی صارف کے پاس سمارٹ فون‘ موبائل فون کنکشن‘ قومی شناختی کارڈ نمبر اُور انٹرنیٹ جیسی چار بنیادی ضروریات ہونی چاہیئں کیونکہ مختلف مراحل پر صارف کے حقیقی ہونے کی تصدیق کی جاتی ہے۔ گوگل درجہ بندی (رٹینگ سسٹم) کے حساب سے سٹیزن پورٹل کے اینڈرائیڈ صارفین کی جانب اِس ایپ کو ’تھری سٹار‘ ملے ہیں یعنی صارفین کی نصف سے زیادہ تعداد نے اِسے پسند کیا ہے۔ پسندیدگی کا یہ عالمی معیار (تھری سٹارز) اگر زیادہ اچھی نہیں تو زیادہ بُری بھی نہیں۔ ایک ستارہ (star) کا مطلب کم ترین جبکہ اگر کسی ایپ کو پانچ ستارے (5-Stars) ملیں تو یہ اُس کی انتہائی مقبولیت کی علامت ہوتی ہے۔ اندازہ ہے کہ مجموعی طور پر پندرہ لاکھ کے قریب اینڈرائیڈ اُور آئی فون صارفین سٹیزن پورٹل کو اب تک حاصل کر چکے ہیں جبکہ اِس کے فعال صارفین (زیرغور شکایات) کی تعداد دو لاکھ کے قریب ہے۔ مذکورہ ایپ کو زیادہ سے زیادہ آسان (یوزر فرینڈلی) بنانے کے لئے 3 ہزار 796 سرکاری محکموں کی درجہ بندی 20 گروپوں میں کی گئی ہے اُور اِن کی کارکردگی سے متعلق شکایات درج کرانے کا عمل (پاکستان سٹیزن پورٹل) 28 اکتوبر 2018ءسے جاری ہے۔ اِس متعلق افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ”عوام ’اِظہار رائے کا موقع‘ دے کر اَمور مملکت میں شریک (حصہ دار) بنا لیا گیا ہے۔“

سٹیزن پورٹل پر شکایات درج کرانے کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے انسداد رشوت ستانی کو بھی درجہ بندی میں شامل کر لیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے چار دسمبر (دوہزاربیس) کے روز اعلان کیا ہے کہ ”غلط کام کرنے والے سرکاری اہلکار کو معطل یا اُن کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ اُنہیں سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا۔ اگرچہ ایسی کوئی ایک بھی مثال موجود نہیں جس میں بقول وزیراعظم ”غلط کام“ کرنے والے سرکاری اہلکاروں کو مثالی و عبرت ناک سزائیں دی گئی ہوں بلکہ عمومی مشاہدہ یہی ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے ساتھ ’پلی بارگین‘ کے ذریعے مقدمات طے کرتے ہوئے اپنی بدعنوانیاں تسلیم کرنے والے سرکاری اہلکاروں کو بھی اُن کے عہدوں پر بحال کیا گیا بلکہ اُنہوں نے محکمانہ ترقیاں پائیں اُور پہلے سے زیادہ مالی و انتظامی اختیارات کے نگران مقرر کئے گئے۔ سٹیزن پورٹل کے بارے میں عمومی تصور یہ ہے کہ اِس کے ذریعے ذاتی شکایات درج کروائی جاتی ہیں اُور لوگوں کے ذاتی مسائل حل ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں لیکن وزیراعظم تک رسائی کے بعد عوام کے ذاتی تجربات سے زیادہ قومی مفادات کے تحفظ پرتوجہ ہونی چاہئے جیسا کہ رواں برس (سال 2020ءکے دوران) ’انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ خیبرپختونخوا‘ نے مجموعی طور پر ”925 کنال 11 مرلے“ اراضی کو غیرقانونی قبضے سے واگزار کرائی‘ جس کی مالیت 96 کروڑ روپے سے زیادہ بیان کی گئی تو معلوم ہواکہ عام آدمی پر ظلم کی کوئی ایک صورت یا کوئی ایک محکمہ یا فرد ذمہ دار نہیں بلکہ یہاں پٹوار خانے سے مال خانے اُور تھانے کچہری و جامعات تک استحصال و زیادتی کے لاتعداد واقعات اکثر دیکھنے اُور سننے میں آتے ہیں۔ سٹیزن پورٹل اُن حالات میں عوام کے مسائل حل کرنے میں کارگر (موثر) حربہ ثابت ہو سکتا ہے جہاں سرکاری محکموں میں جرائم رازداری اُور انتہائی پیچیدہ طریقے (مہارت) سے سرانجام دیئے جا رہے ہوں۔ یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ رشوت ستانی‘ نااہلی‘ خردبُرد‘ آمدن سے زائد اثاثہ جات‘ اختیارات کے عوض ذاتی مفادات کا حصول‘ عام آدمی (ہم عوام) کا استحصال اُور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات سرعام رونما ہو رہے ہیں اُور اِن کی تعداد اِس قدر زیادہ ہے کہ جرائم کا شمار و بیان بھی ممکن نہیں! ایسی صورت میں وفاقی یا صوبائی فیصلہ ساز اپنے اپنے ’سٹیزن پورٹلز‘ جیسے باسہولت وسیلوں پر ’کلی انحصار‘ کرنے کی بجائے اگر خفیہ اداروں کے ذریعے کاروائیاں کریں تو 2 سال بعد امور مملکت (طرزحکمرانی) اُس نہج پر رواں دواں ہو سکتی ہے جہاں کوئی شکایت کرنے والا نہ ملے اُور پھر شکایت کرنے والے سے اُس کی شناخت بھی نہ پوچھی جائے۔ 

فیصلہ سازوں کو اِس پہلو پر بھی سوچنا چاہئے کہ سٹیزن پورٹل کے ذریعے جب شکایت کرنے والے کے کوائف خفیہ نہیں رکھے جاتے تو بڑی مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے بارے میں مطلع کون کرے گا جن سے عوامی و قومی مفادات کو منظم انداز میں نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ افسر شاہی (سرکاری اہلکار بیوروکریسی) ایک دوسرے کے مفادات کی محافظ ہے اُور اِس آپسی اتحاد کے باعث کسی بھی اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھنے‘ عوامی شکایات کے داخلی و نگرانی کے وضع کردہ جملہ طریقے (قواعد و ضوابط) ناکام (بے سود) ثابت ہوئے ہیں بالکل اِسی طرح ’پاکستان سٹیزن پورٹل‘ کے ذریعے بھی وفاقی حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا سلسلہ جاری ہے اُور جن 94فیصد عوامی شکایات کے حل کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے اگر اُن کی آزاد ذرائع سے تصدیق کروائی جائے تو دودھ کا دودھ کا پانی کا پانی واضح ہو جائے گا کہ کس کس طرح جھوٹ بولا گیا ہے اُور کس جعل سازی سے خود ہی شکایات درج کروا کر اُنہیں حل کر کے مختلف محکموں نے اپنی کارکردگی کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا جبکہ وہ حقیقت میں وہ زمین کی پستیوں سے بھی پست ہیں! 

کہاوت ہے کہ ”جھوٹ کے سر اُور پاوں (منطقی جواز) نہیں ہوتے“ لیکن ’پاکستان سٹیزن پورٹل‘ پر جھوٹ پورے وجود (شباب) سے حاوی ہے اُور اِس ناکام تجربے کو کامیاب ثابت کرنے پر مزید مالی اُور وقت جیسے قیمتی وسائل و توانائیاں خرچ کرنے کی بجائے اگر خفیہ اداروں کو متحرک کیا جائے تو اُن سبھی چھوٹی بڑی مچھلیوں کو مزید مہلت دیئے (کم وقت اُور کم خرچ میں) پکڑا جا سکتا ہے‘ جنہوں نے پورے تالاب کو گندا کر رکھا ہے۔

....

Editorial Page - Daily Aaj Peshawar /Abbottabad - Dec 06, 2020 - Sunday

Clipping from Editorial Page - Daily Aaj Peshawar /Abbottabad - Dec 06, 2020 - Sunday


Saturday, July 18, 2020

Social Media & changing role of journalism

سوشل میڈیا: روشن پہلو
اِنفارمیشن ٹیکنالوجی ’مشکل‘ نہیں ’مشکل کشا‘ ہے لیکن یہ مکمل حقیقت (پورا سچ) نہیں۔
پاکستان میں عمومی تاثر ’گمراہی کا سبب‘ ہے کہ کسی بھی شعبہ زندگی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیدا ہونے والی مشکلات اُس کے عمومی اُور روائتی طور طریقوں‘ تجربات (کامیابیوں) کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ ٹیکنالوجی ’غیرروائتی انداز میں فکر و عمل (تحریک)‘ کا نام ہے‘ جسے ہمہ وقت رہنما اُور رہنمائی کی ضرورت رہتی ہے تاکہ یقین کی کشتی معلوم اُور نامعلوم جزیروں (حقائق) کے درمیان سفر جاری رکھے اُور یہ سفر محفوظ‘ آسان اُور مالی و افرادی وسائل کی بچت کے ساتھ باسہولت بھی رہے۔

کون نہیں جانتا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت وقت اُور جغرافیائی سرحدوں کی اہمیت ختم ہو گئی ہے اُور ایک ایسا ”عالمی معاشرہ“ تخلیق پا چکا ہے‘ جس میں ہر دن قربت اُور تعاون کے نت نئے اِمکانات جنم لے رہے ہیں اُور انفارمیشن ٹیکنالوجی جو کہ بنیادی طور پر ’سہولت کاری‘ جیسا کلیدی کردار اَدا کر رہی ہے اِس کی بدولت انسانی معاشروں کے سماجی‘ سیاسی‘ درسی و تدریسی‘ تحقیقی‘ طبی‘ معلوماتی اُور معاشی و اقتصادی معمولات (رویئے) تبدیل ہو رہے ہیں۔ بالخصوص جب ہم صحافت (ذرائع ابلاغ) کے تناظر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اُور اِس کے استعمال سے نتائج یعنی سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا) کے حاصل وصول (اثرات) کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا حسب ضرورت‘ انتخاب‘ پسند اُور ترجیح جیسے مدارج تو طے کر گئی ہے لیکن اِس سے متعلق قومی حکمت عملی (مربوط کوششیں) دیکھنے میں نہیں آ رہیں۔

دعوت فکر ہے کہ سوشل میڈیا کے شعوری (بامقصد) استعمال و ترقی کے لئے حکومت اُور نجی اِدارے اِنفرادی و اِجتماعی سطح اُور شراکت داری ہونی چاہئے۔ سوشل میڈیا خودرو نہیں۔ سوچ‘ سمجھ بوجھ اُور منصوبہ بندی جیسی تین ضروریات پیش نظر رہنی چاہئے۔ اب تک وقت‘ توجہ‘ تحقیق اُور مالی وسائل کے ذریعے خاطرخواہ سرمایہ کاری نہیں ہو رہی لیکن انفرادی و اجتماعی طور پر‘ ہر کس و ناکس (خاص و عام) کی کوشش و خواہش ہے کہ وہ ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی (بھیڑ چال) میں ’سوشل میڈیا‘ سے مقبولیت‘ مالی فوائد یا یہ دونوں ثمرات حاصل کرے اُور اِس سوچ و مقصد کے تحت ایک ایسے مقصد کا طواف جاری رکھے جس کے کئی زیادہ روشن (ضمنی تعمیری) پہلو نظروں سے اُوجھل ہو گئے ہیں۔

مفید اُور مفاد میں توازن ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کے مفید ہونے سے کسی کو انکار نہیں لیکن اِس سے جڑے مفادات اُور اُن کے اثرات بارے نسبتاً زیادہ غور و خوض ہونا چاہئے۔ ’سوشل میڈیا‘ کا صحافت اُور صحافت کے ’سوشل میڈیا‘ کے مختلف شعبوں پر الگ الگ اثرات کو سمجھنے اُور اِن کی اخلاقیات (حدود) کے ’معلوم تعین‘ کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سچائی پر سمجھوتہ کئے بغیر کسی کی ہتک و خاطرشکنی (دل آزاری) نہ ہو اُور بیان و اظہار کے شائستہ پہلو بھی نمایاں رہیں۔ یہ نکتہ اپنی جگہ اہم ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مظاہر ہوں یا ٹیکنالوجی کے نت نئے انداز‘ اِنسانی جذبات اُور احساسات کی اہمیت کم یا اِن پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے‘ جس کی جانب عظیم اُردو شاعر اُور فلسفی ڈاکٹر علامہ اقبالؒ (1877ء- 1938ئ) نے اپنی نظم ’لینن‘ میں اشارہ کیا تھا۔ ”ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت .... احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات۔“

پہلا تعمیری پہلو
سوشل میڈیا سے قبل اخبارات‘ جرائد اُور ٹیلی ویژن چینلز (پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا) یک طرفہ (monologue) اِظہار کا ذریعہ تھے‘ جنہیں سوشل میڈیا نے دو طرفہ اظہار (dialogue) کی مدد سے زیادہ موثر بنا دیا ہے اُور یہیں سے صحافیوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے کہ اب اُنہیں صرف خبر اُور تجزئیات کا اِظہار ہی نہیں بلکہ اُن کا تاحیات دفاع بھی کرنا ہوتا ہے اُور وہ قارئین و صارفین سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں جو کسی جاندار کے لئے آکسیجن جیسی ضرورت ہوتی ہے۔ روائتی ذرائع ابلاغ کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایک خبر پر کئی دن‘ ہفتوں یا سالہا سال بحث جاری رکھیں لیکن سوشل میڈیا کی وساطت سے کسی خبر اُور تجزیئے کا سورج غروب نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک ’زندہ حقیقت‘ بن کر دائمی شکل اِختیار کر لیتا ہے اُور یہی سوشل میڈیا کا وہ ’روشن (تعمیری) پہلو‘ ہے جو ’آزادی اظہار (freedom of speech)‘ سے متعلق ہے۔ اِنسانی تاریخ میں اپنے خیالات (پسند و ناپسند پر مبنی عمومی یا ماہرانہ رائے) کا اِظہار کبھی بھی اِس قدر آسان نہیں تھا۔

دوسرا تعمیری پہلو:
 سیاسی رہنماوں اُور صحافیوں کی اکثریت اظہار کے لئے سوشل میڈیا کے مقبول ذریعے ’ٹوئیٹر (Twitter)‘ سے استفادہ کر رہی ہے۔ ٹوئیٹر کا باضابطہ پہلا دن (launching) 15 جولائی 2006ءکے روز 13 سال قبل (رواں ہفتے) ہوئی تھی اُور فروری 2020ءمیں جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ٹوئیٹر کے فعال (active) صارفین کی تعداد 32 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ ہے‘ جن میں امریکہ کے صدر سے لیکر پاکستان و بھارت کے وزرائے اعظم اُور دنیا کے سبھی ممالک کے فیصلہ سازوں کی کسی نہ کسی صورت موجودگی اِس حقیقت کا بیان ہے کہ سیاست ہو یا صحافت‘ اظہار کے لئے سوشل میڈیا ہی پہلا انتخاب (choice) اُور ترجیح (priority) بن چکی ہے۔

تیسرا تعمیری پہلو
سوشل میڈیا نے ذرائع ابلاغ کے نئے اسلوب متعارف کروائے ہیں جیسا کہ بز فیڈ (Buzz Feed) اُور لیڈ بائبل (LADbible) وغیرہ جبکہ خبروں (نیوز)‘ اطلاعات (اناو نسمنٹ) اُور معلومات (انفارمیشن) تک رسائی کے لئے نت نئی سہولیات کا اجرا مسلسل ہو رہا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ وجود میں آنے والے ’ذرائع ابلاغ کے نئے ادارے‘ صرف اُور صرف سوشل میڈیا کا احاطہ کرتے ہیں‘ جن کے مطالعے سے سوشل میڈیا کے رجحانات اُور مقبول اسلوب کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی سمجھنا چاہے۔ درحقیقت سوشل میڈیا کی بدولت جو اپنی طرز (نوعیت) کی ”انوکھی مشکل“ پیدا ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ اب خبروں کی کمی نہیں رہی بلکہ بہتات ہو گئی ہے اُور اِس ”لمحہ بہ لمحہ خبرنگاری“ نے پیشہ ور (تربیت یافتہ) صحافیوں کے شانہ بشانہ سوشل میڈیا صارفین کو لاکھڑا کیا ہے جو ایک دوسرے کے ”مدمقابل“ نہیں بلکہ ایک دوسرے کی خدمات‘ تجربے اُور رسائی سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں اُور ایسی سینکڑوں ہزاریں مثالیں موجود ہیں‘جن سے تعمیری و تحقیقی صحافت نے جنم لیا ہے۔ 

سوشل میڈیا سے قبل کسی خبر (متن) کی تصدیق کے لئے ادارہ جاتی ساکھ کو دیکھا جاتا تھا اُور اب کسی خبر کی ذیل میں ’آن لائن تبصروں‘ سے اُس کے مندرجات کی سچائی اُور اُن سبھی ضمنی پہلووں سے شناسائی حاصل کی جاتی ہے جن کا ذکر کوئی ادارہ یا صحافی دانستہ یا غیردانستہ طور پر نہیں کرتا۔ مختصراً سوشل میڈیا کے 3 تعمیری پہلووں (آزادی اظہار‘ انتخاب و ترجیح اُور مجموعات پر مبنی نئے اسلوب) کا احاطہ ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین (بشمول ذرائع ابلاغ سے جڑے صحافتی اِداروں اُور پیشہ ور صحافیوں) کو اِس بارے میں سوچنا ہوگا کہ .... ”سوشل میڈیا کے مستقبل میں صحافتی اداروں اُور پیشہ ورانہ (تربیت یافتہ) صحافیوں کی  اہمیت و کردار کیا ہوگا؟
Clipping from Daily Aaj Peshawar / Abbottabad - Saturday, 18 July 2020
Editorial Page - Daily Aaj Peshawar / Abbottabad - July 18, 2020 Saturday

Tuesday, June 23, 2020

Remembering Allama Talib Johari

موت العالم‘ موت العالم
معروف مذہبی شخصیت علامہ طالب جوہری کے انتقال پر صرف مذہبی حلقے اُور اہل تشیع ہی نہیں بلکہ اہل علم و ادب بھی اُداس‘ مغموم اُور سوگوار ہیں کیونکہ اُنہوں نے کمال محنت سے علم کے سمندر (قرآن کریم) سے ایسے نایاب موتی تلاش کئے‘ جن کی بدولت علوم قرآن کو سمجھنے کے ساتھ عوام و خواص کو قرآن کریم کی روشنی میں عقائد و دینی اصلاحات بارے رائے قائم میں آسانی رہی اُور یہی وجہ تھی کہ اُنہیں اتحاد بین المسلمین کا داعی قرار دیا جاتا تھا۔ گزشتہ چند برس سے علیل رہنے اُور کمزوری کے باعث اُنہوں نے مجالس اُور اجتماعی عبادات میں شرکت کم کر دی تھی اُور اِس عرصے کے دوران کم سے کم تین مرتبہ اُن کے انتقال کی خبریں زیرگردش رہیں کیونکہ وہ جسمانی طور پر اِس حد تک نحیف ہو چکے تھے کہ زیادہ بات چیت بھی نہیں کرتے تھے اُور سارا وقت یاد الٰہی میں مشغول رہتے۔ بائیس جون کی شب رات ایک بجکر ایک منٹ پر جب اُن کے انتقال کی خبر موصول ہوئی تو جوہری خانوادہ سے تعلق رکھنے والی محترمہ نسرین پرویز نے واٹس ایپ پر صوتی پیغام دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ موبائل اُور لینڈ لائن فون مصروف ہونے کی وجہ سے اِس ’خبرِ غم‘ کی تصدیق نہیں ہو رہی تاہم چند ہی منٹ بعد انچولی سے مختصر دورانئے کی 2 ویڈیوز موصول ہوئیں جنہیں دیکھ کر تصدیق ہو گئی کہ علامہ طالب جوہری بارگاہ ¿ اہل بیت اطہار میں منتقل ہو چکے ہیں۔ وہ 10 جون سے ایک نجی ہسپتال میں زیرعلاج تھے اُور چھاتی کے امراض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اُنہیں آخری چند روز مصنوعی آلات (وینٹی لیٹر) کے ذریعے سانس دی جا رہی تاہم اِس مرتبہ وہ جانبر نہ ہو سکے۔ (انا للہ و انا علیہ راجعون)۔

کراچی میں قیام کے دوران تین مرتبہ عشرہ محرم الحرام کے دوران علامہ طالب جوہری اُور آیت اللہ سیّد عقیل الغروی (بھارت) کی مجالس سننے کا اتفاق ہوا‘ جہاں شیعہ سنی کی تمیز نہیں ہوتی۔ ہر مکتبہ ¿ فکر اُور بودوباش سے تعلق رکھنے والے کئی کئی گھنٹے قبل فرش عزا پر جا بیٹھتے تاکہ وہ علامہ کا قریب سے دیدار بھی کر سکیں۔ اہل کراچی (شیعہ و سنی) کی اُن سے محبت اُور عقیدت کے رشتے الگ الگ نہیں بلکہ وہ ایک ہی سکے کے دو رخ تھے اُور یہی وجہ تھی کہ وہ کبھی بھی متنازعہ نہیں رہے۔ انتہائی نوعیت کے فروعی اُور اختلافی مسائل کے بارے میں بھی اُن کے بیان قرآن کی آیات سے مدلل و مزین ہوتے‘ جو اُن کے قوی حافظے اُور وسیع مطالعے کی دلیل تھی۔ اسلامی موضوعات اُور ادیان کے تقابلی جائزے کے علاو ¿ہ بطور تاریخ داں‘ شاعر اُور فلسفی اُن کی تصانیف تحقیق و بیان کا شاہکار ہیں کہ اُنہیں پڑھتے ہوئے کانوں میں اُن کے مخصوص طرز خطاب کی گونج محسوس ہوتی ہے اُور یہ صرف اُنہی کا خاصہ رہا کہ وہ تحریر (نثر) کو بھی کلام جیسی خوبیاں سے مرصع کر دیا کرتے تھے اُور یوں کتاب پڑھنے والے کو الفاظ کے سننے جیسا گمان ہونے لگتا۔

علامہ طالب جوہری کا تعلق اُس علمی ادبی گھرانے سے تھا۔ آپ کے والد گرامی مولانا مصطفیٰ جوہری کا شمار بھی جید علمائے کرام میں ہوتا تھا جن کے ہاں طالب جوہری کی پیدائش (27 اگست 1939ئ) پٹنہ (بھارت) میں ہوئی اُور علوم کی منتقلی کا ابتدائی سلسلہ گھر ہی سے شروع ہوا۔ اِس کے بعد 10 برس تک نجف اشرف (عراق) میں آیت اللہ العظمی سیّد ابو القاسم الخوئی کی زیرنگرانی دینی و دنیاوی علوم حاصل کرتے رہے۔ آپ نے آیت اللہ العظمی سیّد باقر الصدر سے بھی تحصیل علم کیا جو بعد میں شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ ایک نجی محفل میں اُن سے بات چیت کا شرف ملا اُور جب نجف اشرف سے متعلق اُن کی یادوں بارے سوال کیا گیا تو قوی ¿ الحافظہ ہونے کے باوجود آپ نے فوری جواب نہیں دیا بلکہ کئی منٹ تک خاموش رہے اُور ایسا بہت کم ہوتا کہ جب اُن سے کسی بھی موضوع پر بات کی جاتی تو وہ قرآن کریم اُور احادیث سے درجنوں حوالہ جات اُس وقت تک بیان کرتے رہتے جب تک کہ سوال پوچھنے والے کی تسکین یا ممکنہ ضمنی سوالات کے تمام جوابات ادا نہ ہو جاتے لیکن نجف اشرف کے تذکرے پر اُنہوں نے کہا کہ ”بیٹا جسم یہاں ہے لیکن روح وہیں رہ گئی ہے!“ 

علامہ طالب جوہری 1965ءمیں نجف اشرف سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد کراچی واپس آئے اُور جامعہ امامیہ مدرسے کے نگران (پرنسپل) کے طور پر خدمات سرانجام دینے لگے۔ آپ پانچ برس تک گورنمنٹ کالج ناظم آباد (کراچی) میں علوم اسلام (اسلامک سٹیڈیز) کے معلم بھی رہے۔ واقعات کربلا اُور اسلام کے عصری شعور کو بیان کرنے میں آپ کا ثانی نہیں تھا۔ کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں ”علامات ظہور مہدی“ ایک ایسی جامع کتاب ہے‘ جس میں اِمام زمانہ عجل اللہ و فرج کے ظہور سے متعلق ماضی‘ حال اُور مستقبل کے سبھی متعلقہ عنوانات کا احاطہ پیش کیا گیا ہے۔ اُن کی تفسیر قرآن‘ احسن الاحادیث‘ حدیث کربلائی‘ عقلیات معاصر‘ ذکر معصوم‘ نظام حیات انسان‘ خلفائے اثنائے عشر قابل ذکر ہیں جبکہ شاعری کے 3 مجموعے حرف نمو‘ پس آفاق اُور شاخ صدا لاجواب ادبی فن پارے ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے ذریعے علامہ طالب جوہری کو نئی پہچان ملی۔ 

پاکستان اُور اُردو سمجھنے والی دنیا میں اُن کا تعارف 1980ءاُور 1990ءکی دہائیوں میں ہوا۔ ابتدا میں قرآنی موضوعات کے حوالے سے ”تفہیم دین“ اُور ”فہم القرآن“ کے نام سے مختصر دورانئے کی درسی نشست سے خطاب کرتے رہے‘ جس میں سوال و جواب کا سلسلہ بھی ہوتا۔ تاہم اُن کا راج کئی دہائیوں تک دس محرم الحرام کی شب مجلس شام غریباں سے خطاب کی صورت رہا‘ جو عوام و خواص کی پسندیدگی کے باعث یوم عاشور کی مناسبت سے لازم و ملزوم جز رہا اُور اُنہوں نے علامہ نصیرالدین اجتہادی کی کمی محسوس نہیں ہونے دی‘ جو اُن سے قبل شام غریباں کے مقرر تھے اُور علامہ اجتہادی نے علامہ نصیر ترابی کے معیار خطابت و تحقیق کو ایک نئی بلندی سے روشناس کیا تھا۔ ذاتی مشاہدہ ہے کہ کراچی کے ایرانیان کھارادر (قدیمی امام بارگاہ) میں جب علامہ طالب جوہری عشرہ محرم کی مجالس سے خطاب کرتے تو اُنہیں سننے والوں میں بوہری اُور اسماعیلی شیعہ مسالک کے علاو ¿ہ بڑی تعداد میں اہلسنت و الجماعت کے علما بھی موجود ہوتے۔ یہ اعزاز اپنی جگہ ہے کہ آیت الہ ابوالفضل بہاو ¿الدینی‘ ولایت فقیہہ آیت اللہ العظمیٰ سیّد علی خامنہ ائی کے نمائندہ اُن کی مجالس میں تشریف فرما ہوتے۔ یقینا علامہ طالب جوہری کے اِس جہانِ فانی سے کوچ کر جانے سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں ہو سکے گا اُور ایک عالم کی موت (موت العالم) تو درحقیقت ایک عالم کی موت (موت العالم) ہوتی ہے!
....
Editorial Page - Daily Aaj - June 23, 2020 Tuesday

Sunday, June 21, 2020

IN-OBSERVANCE: May I know why?

بے خبری
ماضی کی طرح موجودہ وفاقی اُور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ہر روز‘ بلاناغہ‘ مہنگائی کی شرح پر تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے پاس روائتی بیانات کو نئے اَنداز میں پیش کرنے کے لئے الفاظ ختم ہو گئے ہیں۔ دعویٰ ہے کہ گراں فروشی کی اِجازت نہیں دی جائے گی۔ ذخیرہ اَندوزوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیراعظم نے مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے۔ خصوصی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ .... صورتحال یہ ہے کہ حکمراں برہم اُور عوام پریشان ہیں لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اِس پوری صورتحال سے فائدہ کون اُٹھا رہا ہے؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عام آدمی (ہم عوام) تک کب پہنچیں گے؟ 
چینی کمیشن رپورٹ اُور گندم کی ذخیرہ اندوزی سے متعلق حکومتی تحقیقات کے ثمرات کب ظاہر ہوں گے؟ 

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر ملز مالکان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات دائر کرنے پر حکم امتناعی (سٹے آرڈر) جاری کر کے جس انداز سے عوام کی نظروں میں اپنا مقام بلند کیا ہے‘ وہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کے سیاہ ابواب میں رقم ہو چکا ہے۔ کیا اب بھی ہم عوام نہیں سمجھ سکے کہ جمہوریت اُور جمہوریت کے نام قائم ہونے والی سیاسی جماعتیں اُور یہ حکمران اُن کے مسائل کا حل نہیں بلکہ بذات خود مسئلہ ہیں!؟ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو اُس کا فوری اطلاق ہوتا ہے لیکن اِس میں کمی کا ایک مہینہ گزرنے کے باوجود بھی نہ صرف پیٹرول ناپید ہے بلکہ اِس کی گرانفروشی بھی جاری ہے۔ 

عجیب صورتحال ہے کہ پیٹرول پمپوں پر سرکاری نرخ کے مطابق پیٹرول دستیاب نہیں لیکن سڑک کنارے پلاسٹک کے ڈرم میں غیرمحفوظ انداز سے انتہائی جلد آگ پکڑنے والا محلول سرعام فروخت ہو رہا ہے۔ اگر پیٹرول کی قلت ہے تو غیرقانونی طور پر فروخت کرنے والے پیٹرول کہاں سے حاصل کر رہے ہیں؟ کیا اُنہوں نے اپنے گھروں میں تیل کے کنویں کھود رکھے ہیں اُور اپنی آئل ریفائنریز بنا رکھی ہیں؟

ماضی کی طرح حال کے حکمرانوں کی بے خبری اُور تغافل عیاں ہے‘جن کے پاس عوام کو دی جانے والی طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں۔ عام آدمی (ہم عوام) کو خبر ہے کہ عالمی منڈی میں صرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہی کم نہیں ہوئیں بلکہ خوردنی تیل پام آئل اُور دیگر روغنیات کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں لیکن پاکستان میں صارفین مہنگے داموں گھی اُور خوردنی تیل خرید رہے ہیں۔ چاول دال چائے اُور خشک مصالحہ جات کی قیمتیں بھی کم ہونی چاہیئں لیکن چینی سے لیکر سبزی اُور دال چاول تک ہر جنس نہ صرف مہنگی بلکہ اِن کی قیمتوں میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے اُور اِس پورے منظرنامے کی عینی شاہد (تماشائی) حکومت کی نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) کے ایک حالیہ اجلاس سے متعلق سرکاری خبررساں ادارے نے خبر جاری کی ہے کہ ملک میں مرغیوں اُور انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا گیا ہے اُور عوام کو ریلیف پہنچانے کے لئے صوبائی حکومتوں کو منافع خوروں کے خلاف کاروائی اور قیمتوں میں کمی لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ کیا اِس کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی ہے یا ہوگی؟ یادش بخیر یکم رمضان المبارک سے ایک دن قبل مرغی کی فی کلوگرام قیمت 120 روپے تھی جو پورے رمضان المبارک اُور شوال المکرم کے اختتام کے قریب 200 روپے کی اوسط سے فروخت ہو رہی ہے لیکن این پی ایم سی اچانک جاگ اُٹھی ہے اُور پچاس دن سے زائد فروخت ہونے والی پولٹری مصنوعات کی قیمتوں پر حیرت کا اظہار کر رہی ہے! نجانے یہ حکمران کسے دھوکہ دے رہے ہیں!؟

تفصیلات اہم ہیں اُور اِن تفصیلات سے اُن سبھی کرداروں کی کارکردگی کو سمجھا جا سکتا ہے جنہوں نے ایک طرف مہنگائی کی غیرتحریری اجازت دے رکھی ہے اُور دوسری طرف اِن کی آنکھوں میں مگرمچھ کے آنسوو ¿ں جیسی موسلادھار بارش بھی برس رہی ہے۔ ظلم اُور صبر کی بھی آخر کوئی نہ کوئی تو انتہا ہوتی ہے۔ ہم عوام اِس بات پر کتنا فخر کریں کہ پاکستان کا وزیراعظم ایک ایسا شخص ہے جو بدعنوان نہیں۔ جس کی بیرون ملک سرمایہ کاری اُور جائیدادیں نہیں۔ جس کے کاروباری مفادات اُس کے عہدے سے متصادم نہیں لیکن اگر اِس قدر شریف النفس اُور ایماندار وزیراعظم تمام تر اختیارات اُور حکومتی وسائل کے باوجود عوام کو ناجائز منافع خوری جیسے ظلم سے نہیں بچا سکتا تو محض ایمانداری اُور صداقت و امانت جیسی اہلیت کافی تصور نہیں کی جا سکتیں۔ 

توجہ مبذول رہے کہ حالیہ ’این پی ایم سی‘ اجلاس کی سربراہی (غیرمنتخب سرکاری عہدیدار) وفاقی سیکرٹری برائے خزانہ نوید کامران بلوچ نے کی‘ جس میں ضروری اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔ کیا کوئی پوچھ سکتا ہے کہ عوام کا منتخب نمائندہ اُور متعلقہ وزیر کہاں مصروف تھے؟ 

مہنگائی جیسا سنجیدہ اُور اہم مسئلہ متقاضی ہے کہ این پی ایم سی اجلاس کی سربراہی وزیراعظم خود کریں اُور سب سے پہلے اُن فیصلہ سازوں کو جیل بھجوائیں جو مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے تنخواہیں اُور مراعات وصول کر رہے ہیں! مذکورہ اجلاس میں کمیٹی نے صوبائی حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ کو منافع خوروں کے خلاف سخت کاروائی اُور مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی میں آسانی اور اِن کی قیمتوں میں کمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ جیسا کہ اگر کمیٹی یہ ہدایات جاری نہ کرتی تو اسلام آباد اُور کے دیگر حصوں میں ضلعی انتظامیہ مہنگائی جاری رکھنے کی اجازت برقرار رکھتیں۔ کیا مہنگائی حکومت سے اجازت لیکر کی گئی ہے جو اِسے ختم کرنے کے لئے باقاعدہ اجلاس اُور ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ سیاسی و غیرسیاسی‘ منتخب اُور غیرمنتخب‘ ضلعی‘ صوبائی اُور وفاقی حکمرانوں سے التماس ہے ہم عوام کو مزید دھوکہ اُور دلاسہ دینے سے گریز کریں کیونکہ گزشتہ دو سال سے قائم تحریک انصاف حکومت کے گزشتہ دو ماہ کی انتہائی خراب کارکردگی سے یہ حقیقت ظاہر (بخوبی عیاں) ہو چکی ہے کہ حکمرانی میں ناتجربہ کاری کا فائدہ سرمایہ دار طبقات ہی نہیں بلکہ حکمراں (خاندان و طبقات) بھی کسی نہ کسی صورت اُٹھا رہے ہیں!
........
Clipping from Daily Aaj - 21 June 2020 Sunday
Editorial Page of Daily Aaj - June 21, 2020 Sunday


Monday, June 15, 2020

OVER PRICED SUGAR: The Nexus of Govt, Mafia and Court

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
گھاٹے کا سودا
وفاقی کابینہ اجلاس (اکیس مئی) نے ’شوگر کمیشن رپورٹ‘ منظرعام پر لانے کی منظوری دی جس سے قبل کسی بھی اِدارے اُور چینی ساز صنعتوں کو تحقیقات پر اِس قدر اعتراضات نہ ہوئے کہ وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے۔ پھر اِس دوسرا مرحلے پر جبکہ تحقیقاتی رپورٹ صیغہ راز میں نہ رکھنے کا فیصلہ ہوا تو اِس پر شوگر ملز مالکان خاموش رہے کیونکہ وہ ماضی میں بھی اِس قسم کی تحقیقات سے نمٹ چکے تھے اُور یہ بات صرف صنعتکار ہی نہیں بلکہ عام پاکستانی بھی جانتا ہے کہ سرمایہ داروں اُور صنعتکاروں کے خلاف اِس قسم کی تحقیقات ہر دور حکومت میں ہوتی رہتی ہیں لیکن اوّل تو یہ تحقیقات اِس انداز سے کی جاتی ہیں کہ اِس میں فائدہ اُٹھانے والے فریق (نجی کاروباری طبقات کا) فائدہ ہو اُور دوسرا اِس قسم کی رپورٹیں خفیہ رکھی جاتی ہیں جن کے صفحات میں کیا لکھا ہوتا ہے اِس بارے میں عام آدمی (ہم عوام) کو زیادہ معلومات نہیں ہو سکتیں اُور تیسرا تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نامزد اداروں کے خلاف کاروائی نہ کرنا بھی ایک معمول ہے لیکن تحریک انصاف ماضی کی حکومتوں سے قطعی مختلف ثابت ہوئی۔ ملک میں چینی کی قلت‘ قیمت میں اضافے اُور حکومت کی جانب سے شوگر ملوں کو دی جانے والی سبسڈی کے بارے میں تحقیقات کروائی گئیں اُور یہ بنا سیاسی دباو ¿ اپنے مقررہ وقت (تین ماہ میں) مکمل ہوئیں۔ مذکورہ تحقیقات کی روشنی میں سامنے آنے والی جملہ سفارشات منظرعام پر ہیں تو کیا کیونکہ سزا و جزا دیکھنے میں نہیں آ رہی؟

چینی تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات سے متعلق 7 جون کے روز فیصلہ ہوا کہ اِنہیں قومی احتساب بیورو کے حوالے کیا جائے گا تاکہ جو شوگر ملیں دروغ گوئی سے اربوں روپے بطور سبسڈی وصول کرتی رہی ہیں‘ جنہیں ناجائز منافع خوری کی عادت پڑ چکی ہے‘ جن کی ٹیکس چوری اُور غیرقانونی کاروباری دھندوں سے ہر خاص و عام کسی نہ کسی صورت آگاہ ہے لیکن ابھی بدعنوانی کے الزامات کے تحت قانون کے مطابق کاروائی شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ شوگرملز مالکان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا اُور نہ صرف ممکنہ کاروائی اُور مزید بدنامی کا راستہ روک لیا بلکہ اُس پورے تحقیقاتی عمل کو ہی دفن کر دیا ہے‘ جس کے ذریعے سے پہلی مرتبہ یہ اُمید ہو چلی تھی کہ چینی کی آڑ میں عوام کو لوٹنے والوں کا اِحتساب ہوگا اُور بات صرف چینی تک محدود نہیں رہے گی۔ یہ بھی توقع تھی کہ عوام کو چینی جیسی بنیادی اُور ضروری جنس اِس کی اصل قیمت پر ملنا شروع ہو گی لیکن عدالت نے یہاں دخل اندازی کر کے اپنی طرف سے قیمت مقرر کر دی جو عدالت کا اختیار ہی نہیں اُور نہ ہی تحقیقاتی رپورٹ سے مطابقت رکھتا ہے۔ اِس مضحکہ خیز صورتحال نے ’خراب طرز حکمرانی‘ کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے کہ ایک تو حکومت اپنے فیصلوں کو صیغہ ¿ راز میں نہیں رکھ پائی جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے شوگرملز مالکان نے جو ہر مرتبہ حکومت سے ریلیف حاصل کیا کرتے تھے اُور دوسرا اِس مرتبہ اگر حکومت کچھ کرنا چاہتی ہے تو عدالت شوگرملز کے لئے بطور نجات دہندہ سامنے آئی ہے۔ اگر کسی عام آدمی کے خلاف قانونی کاروائی کرنا ہوتی ہے تو اُسے کان کان خبر بھی نہیں ہوتی اُور نامعلوم افراد اُسے اُٹھا لے جاتے ہیں جبکہ (اربوں روپے کی بدعنوانی کے پچاس سالہ دور سے متعلق) شوگر ملز کے معاملے میں حکومت‘ احتساب کا عمل‘ قانون نافذ کرنے والے ادارے اُور عدالت نے کسی نہ کسی مرحلے پر سہولت کاری کر رہے ہیں! اصولاً عدالت کو درخواست واپس کر دینا چاہئے تھا اُور اِس کے لئے ”ایگزیکٹو معاملات میں مداخلت نہ کرنا“ اپنی جگہ مضبوط و کافی دلیل تھی۔

شوگر مل مالکان کی درخواست کے جواب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کچھ سوالات اٹھائے اُور پھر خود ہی اِن سوالات کا جواب بھی کہیں واضح تو کہیں لیکن ’اَن کہے‘ اَنداز میں دیا ہے۔ شوگر انکوائری کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں صنعتی اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا جس کی وجہ سے پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا بلکہ شوگر ملز نے قیمتوں کے تعین کو بھی عملاً اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ اگرچہ عدالت نے 10 دن کے لئے حکم امتناعی جاری کیا لیکن یہ 10دن گویا 10سال جیسا ریلیف دینا ہے کیونکہ اِس دوران کروڑوں روپے فیس وصول کرنے والے وکیل نہ صرف اپنی قانونی مہارت دکھائیں گے بلکہ پس پردہ معاملات بھی طے پانے کے لئے دس دن کی مہلت بہت ہے۔ جن شوگر ملز مالکان کو کم سے کم 29 ارب روپے لی گئی سبسڈی واپس کرنے سے بچانی ہے اگر وہ دس پندرہ ارب خرچ بھی کر دیں اُور سبسڈی لینے کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے چینی کی قیمتوں کے تعین کا اپنا اختیار بھی برقرار رکھیں تو یہ قطعی گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔ خسارہ اگر کسی کا ہوا ہے اُور ہو رہا ہے تو وہ ہم عوام ہیں‘ جن کی نظروں میں حکومت‘ قومی احتساب بیورو‘ خفیہ اُور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ساتھ عدالت بھی ایک ہی صف میں صنعتکاروں کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ یقینا یہ درست تاثر نہیں اُور نہ ہی ایک اسلامی اُور جمہوری مملکت کے شایان ہے!

شوگر ملز نے عدالت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ 70 روپے فی کلوگرام چینی فروخت کریں گے جبکہ شوگر کمیشن کی رپورٹ میں چینی بنانے اُور اُس کی نقل و حمل (منڈیوں کو فراہمی پر اُٹھنے والے اخراجات کے بعد فی کلوگرام چینی کی قیمت 30 سے 40 روپے کے درمیان معلوم ہوتی ہے اگر بہت زیادہ منافع بھی دیا جائے تو اضافی 10 روپے کے ساتھ 50 روپے فی کلوگرام چینی ہونی چاہئے اُور سال 2019ءمیں چینی اِسی قیمت پر فروخت ہوتی تھی تو اب کیوں نہیں؟

معلوم ہوتا ہے کہ انکوائری کمیشن کے خلاف پوری چینی کی صنعت جملہ ہتھیاروں یعنی نوٹوں سے بھری بوریوں کے منہ کھول کر میدان میں اُتر آئی ہے۔ تنازعہ کا بنیادی نکتہ وفاقی حکومت کا منظور کردہ 2017کا قانون ہے جس کے تحت آئینی مینڈیٹ اور تحقیقات کے لئے فیڈرل کمیشن آف انکوائری کے بارے میں اعتراض اُٹھایا گیا ہے۔ شوگر انڈسٹری کا دعویٰ ہے کہ کمیشن نے اُن معاملات میں دخل اندازی کی جو درحقیقت صوبوں کے ایگزیکٹو اور قانون سازی سے متعلق اختیارات ہیں۔

غورطلب ہے اعتراض کا نکتہ کیا ہے اُور یہ نہیں کہا جا رہا کہ جو کچھ تحقیقاتی کمیشن نے لکھا ہے وہ غلط ہے لیکن یہ کہا جا رہا ہے کہ تحقیقات کرنے کا اختیار نہیں تھا! شروع دن سے تشنگی محسوس ہو رہی ہے اُور واضح ہے کہ کمیشن کی 324صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ابھی بہت سارے نکات اُور پہلوو ¿ں کو شامل نہیں کیا گیا جو شامل ہونے چاہیئں اُور اگر عدالت عوام کے حق میں ہوتی تو اُن سبھی پہلوو ¿ں پر بھی تحقیقات کا حکم صادر کر سکتی تھی۔ بہرحال شوگر تحقیقاتی کمیشن نے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کر دی ہے اُور تجویز کیا ہے کہ وہ شوگر ملز مالکان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے لیکن یہ کاروائی کون کرے گا اُور کیسے ممکن ہوگی‘ یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی!؟
............
Clipping from Daily Aaj - June 15, 2020
Editorial Page - Daily Aaj - June 15, 2020

Sunday, June 14, 2020

Wonders of Peshawar: Beju Di Qabar

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
پراسرار پشاور: بیجو دی قبر!
جنوب مشرق ایشیا کے قدیم ترین اُور زندہ تاریخی شہر ’پشاور‘ کے کئی ایک ایسے اسرار اُور ابواب ہیں‘ جن سے بالخصوص نئی نسل تو کیا یہاں کے قدیمی باشندے بھی شناسا نہیں اُور اِنہی میں سے ایک ’درانی قبرستان‘ ہے‘ جہاں کم سے کم 2 قدیمی مساجد آج بھی نسبتاً بہتر حالت میں موجود ہیں جبکہ شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والوں کے مزارات کی شان و شوکت اگرچہ ویسی نہیں رہی لیکن اُن کی باقیات کو دیکھ کر تصور کیا جاسکتا تھا کہ وہ ایک وقت میں کس قدر خوبصورت رہی ہوں گے اُور قبرستان و اِس سے ملحقہ علاقہ کس قدر اہم رہا ہو گا۔

معروف تاریخ داں ڈاکٹر احمد حسن دانی نے اپنی کتاب ”پشاور: ہسٹوریکل سٹی آف دی فرنٹیئر (Peshawar: Historical City of the Frontier) میں درانی قبرستان کا ذکر کیا ہے۔ اُن نے لکھا کہ ”درانیوں کے قبرستان میں اینٹوں سے بنی ہوئی 2 مساجد ہیں۔ ایک مسجد بزرگ دین شیخ حبیبؒ کے مزار کے پاس ہے جو حافظ مراد نے 1725ءمیں تعمیر کروائی تھی۔ اِس مسجد کی خاص بات فن تعمیر ہے جو یہاں پہلے سے موجود مساجد سے مختلف اُور زیادہ محنت و خوبصورتی کا مظہر ہے۔ دوسری مسجد 1796ءمیں شیخ ایواز (Shaikh Iwaz) نے درانیوں کے دور حکومت ہی میں تعمیر کروائی تھی۔ ذہن نشین رہے کہ درانی سلطنت کا آغاز 1747ءمیں ہوا تھا اُور یہ 1826ءتک جاری رہا تھا جن کے بانی احمد شاہ درانی تھے۔ اُنہوں نے جون 1747ءمیں نادر خان افشر کو قندھار (افغانستان) میںشکست دے کر سلطنت قائم کی۔ یہ سلطنت اِس قدر تیزی سے پھیلی کہ ایک ہی سال اِس کا ایک سرا بلوچستان (پاکستان) سے لیکر غزنی‘ کابل اُور پشاور تک پھیل گیا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ درانی قبرستان پشاور میں موجودہ شاہی قبروں کے کتبے اُور اُن پر لگی سنگ مرمر و دیگر پتھروں کی سلیں تک اکھاڑ (چوری) لی گئیں۔ اِس سلسلے میں سردار محمد ایوب خان کی قبر سب سے نمایاں خسارہ ہے‘ جو معروف میوند کی جنگ کے فاتح تھے اُور اُنہیں پشاور لا کر آسودہ ¿ خاک کیا گیا۔ کون جانتا تھا کہ دنیا کے چند بہادر ترین فوجیوں میں شمار ہونے والے اِس سپاہ سالار کی قبر کبھی خستگی کی یوں تصویر پیش کرے گی۔ مقام فکر ہے کہ ہمارے بچوں کے ہیرو فلمی اداکار بن چکے ہیں‘ جبکہ اُنہیں تاریخ سے لگاو ¿ نہیں رہا اُور اگر ذرائع ابلاغ (بلخصوص اخبارات) تاریخ کے بیان کو مستقل موضوع بنائیں تو ممکن ہے کہ تاریخ (ماضی) سے ٹوٹا ہوا رشتہ بحال ہو جائے۔

درانی قبرستان کے ایک حصے میں ’بیجو دی قبر‘ کے نام سے مشہور ایک مقبرہ اپنی تعمیرکے لحاظ سے انتہائی سادہ لیکن اپنی مثال آپ ہے۔ محبت کی اِس لازوال کہانی کا آغاز 1772ءسے ہوا جب تیمور شاہ درانی افغانستان کا بادشاہ تھا۔ وہ اُس بہادر سپاہی کا فرزند تھا جس نے مرہٹوں کے خلاف برصغیر میں جنگ جیتی تھی۔ سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی درانی بادشاہوں کی طرح تیمور شاہ پشاور کا رخ کرتا کیونکہ اُن دنوں افغانستان میں سردی کی شدت زیادہ ہوا کرتی تھی اُور آج بھی پاکستان کی نسبت کابل کی آب و ہوا موسم سرما میں زیادہ شدید ہوتی ہے۔ 

1780ءمیں تیمور شاہ پشاور آیا تو یہ معمولی بات نہیں تھی بلکہ بادشاہوں کے پشاور آنے کے موقع پر سینکڑوں ہاتھیوں اُور گھوڑوں پر مشتمل قافلے پوری شان و شوکت سے وارد ہوا کرتے تھے اُور اُس دور کی چند محفوظ تصاویر میں دیکھنے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب بادشاہوں کے قافلے پشاور پہنچتے تھے تو اِس شہر کا ماحول کس قدر تبدیل ہو جایا کرتا تھا اُور پشاور کے بازاروں اُور راستوں کو سجانے کی وجہ سے یہاں کی رونقوں (گہما گہمی) میں کس قدر اضافہ دیکھنے میں آتا تھا۔ تیمور شاہ اپنی تمام بیویوں کے ساتھ پشاور پہنچا۔ ملکہ ¿ اول چونکہ حسب و نسب سے شاہی تھی اُس کی دوسری بیوی محترمہ بی بی جان تھی جو خوبصورت ہونے کے ساتھ انتہا درجے کی ذہین خاتون تھیں اُور یہی وجہ تھی کہ تیمور شاہ اُن سے امور سلطنت کے بارے مشورہ لیا کرتا تھا جبکہ اِس کی وجہ سے شاہی خاندان کے دیگر افراد بی بھی جان سے حسد کرتے تھے۔ تیمور شاہ کی پہلی بیوی کی نسبت دوسری بیوی (بی بی جان) سے زیادہ محبت بھی عداوت کا ایک سبب تھی اُور یوں بی بی جان کو شربت میں تھوڑا تھوڑا کر کے زہر دیا جانے لگا‘ جس سے وہ کمزور ہوتی چلی گئی اُور بالآخر اِسی زہرخوری (مرض) کی وجہ سے اُس کی موت ہو گئی۔ جب تیمور شاہ کو بی بی جان کی خراب ہوتی طبیعت کا علم ہوا تو اُس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ تیمور شاہ جو کہ شاہی باغ میں قیام کرتا تھا اُور شاہی باغ ہی میں بی بی جان کی موت بھی ہوئی تھی تو اُن سے محبت کی یادگار کے طور پر اُن کا مزار (شہر کے جنوب میں) ’وزیرباغ‘ کے قریب بنوایا۔ 

تیمور شاہ بہت غمزدہ تھا اُور وہ طویل عرصے اِس غم میں امور سلطنت سے الگ بھی رہا تاہم بعد میں وقت کے ساتھ قافلے آگے بڑھ گئے۔ 

شاہی عشق کی جو لازوال داستان پشاور میں اختتام پذیر ہوئی تھی اُس کی یادگار (مزار) قائم ہونے کے بعد بھی شاہی خاندان کے افراد کی بی بی جان مرحومہ سے حسد و عداوت ختم نہ ہوئی اُور اُنہوں نے بی بی جان کو بیجو (بندریا) کے نام سے مشہور کر دیا کہ مذکورہ مزار میں کوئی انسان نہیں بلکہ ایک بندریا کی قبر ہے اُور چونکہ یہ منظم انداز میں اُڑائی گئی افواہ تھی‘ اِس لئے صرف پشاور ہی نہیں بلکہ پوری سلطنت میں پھیلا دی گئی اُور تاریخ میں بھی اِس کا زیادہ تذکرہ (چرچا) درج ہونے نہیں دیا گیا۔ بی بی جان سے متعلق اگرچہ تاریخ خاموش ہے لیکن اُن کے اوصاف بشمول ذہانت کا تذکرہ سینہ بہ سینہ چلا آ رہا ہے لیکن اُس کی مثالیں اُور واقعات کا تفصیلاً و مستند ذکر موجود نہیں اُور یہی وجہ ہے کہ عہد حاضر کے بہت سے نامور تاریخ داں بھی ’بی بی جان‘ کو ’فرضی کہانی‘ ہی سمجھتے ہیں۔ 

بی بی جان ایک حقیقت تھی اُور پشاور کے درخشاں ماضی اُور یہاں کی تاریخ کا روشن باب اُور حوالہ ہے۔ ضرورت ہے کہ اہل پشاور اپنے بچوں کو وہ سبھی قصے کہانیاں سنائیں‘ جو اُن کے آبائی شہر کے ماضی سے متعلق ہیں اُور انہیں اِن مقامات کی سیر کے لئے بھی لے جائیں۔ بی بی جان مرحومہ کا اہل پشاور پر اتنا حق تو ہے کہ اُس کی قبر پر ایک عدد فاتحہ کے لئے حاضری دیا کریں یا کم سے کم سے وہاں سے گزرتے ہوئے اُسے یاد کر لیا کریں۔

یہی مرحلہ  فکر دعوت دیتا ہے کہ اہل پشاور آثار قدیمہ کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہوئے اِس بات کا احساس کیا جائے کہ آثار قدیمہ کی اہمیت‘ اِس کی آئینی حفاظت اُور اِن کے ساتھ سماجی طور پر زندگی بسر کرنے کا مفہوم اپنی ذات میں کیا ہے اُور اِس سے کیا کچھ ذمہ داریاں جڑی ہوئی ہیں۔ 

یہی مرحلہ  فکر متقاضی ہے کہ ’پشاور شناسی‘ عام کی جائے۔ 
اغیار کی لکھی ہوئی تاریخ یا تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں صرف اُسی صورت ناکام ہو سکتی ہیں جبکہ حکومت اُور حکومتی ادارے اپنا کردار ادا کریں۔ 

اہل پشاور بالخصوص اندرون شہر اُور شہر کے اُن حصوں میں رہنے والوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تاریخ کے بھولے بسرے واقعات کے بارے بھی اپنی معلومات درست کریں۔ یہ کہانیاں صرف واقعات نہیں بلکہ پشاور کی تاریخ کا جز ہیں‘ یہاں کے رہنے والوں کے محبت بھرے مزاج کی عکاس ہیں۔ یہاں پلنے والی حسد و عداوات کا بیان بھی ہیں‘ جنہیں انسانی رشتے داریوں کے تناظر میں سمجھنا اُور بیان کرنا قطعی مشکل نہیں۔ بی بی جان کی قبر توجہ چاہتی ہے کہ اِسے بحال کیا جائے۔ پشاور سراپا محبت اُور محبت کرنے والوں کا مسکن رہا ہے۔ یہاں محبت کی ایک نشانی (مقبرہ بی بی جان المعروف بیجو دی قبر) الفت و حسد سے متعلق بیان اُور تاریخ پشاور کی تمہید کے طور پر ازبر‘ پیش اُور دستاویز (محفوظ) ہونی چاہئے۔
........
Daily Aaj Editorial Page June 14, 2020 

Clipping from Daily Aaj  - 14 June 2020

Saturday, June 13, 2020

Agricultre sector ignored once again in Budget (FY2020-21)

بجٹ: کورونا ہنگام
قومی آمدن اُور اخراجات میں عدم توازن (مالی خسارہ) کسی ایک بجٹ کی ”داستان خصوصی“ نہیں بلکہ سال ہا سال سے معمول ہے کہ وفاقی اُور صوبائی حکومتیں خسارے کا بجٹ پیش کرتی ہیں‘ جو ’ٹیکس فری‘ بھی ہوتا ہے یعنی اُس میں نئے محصولات عائد نہیں کئے جاتے اُور مختلف شعبوں پر عائد ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی جاتی ہے جیسا کہ جائیداد کی خریداری پر عائد 5 فیصد اسٹمپ ڈیوٹی کو کم کر کے 1 فیصد کر دیا گیا ہے اُور زیادہ بڑے تناظر میں دیکھا جائے تو وفاقی حکومت نے صنعتکاروں کے مطالبے پر ’سیلز ٹیکس‘ کی شرح میں بھی کمی کی ہے۔ جب ایک طرف آمدنی کم ہو اُور دوسری طرف محصولات میں اضافے کی بجائے اِن کی شرح میں کمی کی جا رہی ہو تو اِس مالی عدم توازن (خسارے) کو پورا کرنے کے لئے حکومت کو (نہ چاہتے ہوئے بھی) قرض لینا پڑتا ہے اُور یہیں سے پاکستان کی مالی مشکلات کا آغاز ہوتا ہے۔ 

بارہ جون کو پیش کردہ ’قومی اقتصادی جائزے‘ کے مطابق ”جولائی 2019ءسے مارچ 2020ءکے درمیانی عرصے میں پاکستان کے ذمے مجموعی قرض اور مالی واجبات 20کھرب 59ارب 70کروڑ روپے تک جا پہنچے ہیں جبکہ قرض و واجبات بڑھتے بڑھتے قومی آمدنی سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں اُور صورتحال یہ ہے کہ قرض پاکستان کی مجموعی خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 102.6فیصد تک پہنچ چکی ہے یعنی پاکستان کی قومی آمدنی کے ہر 100 روپے میں سے 102روپے 60 ساٹھ پیسے قرضوں (مالی ذمہ داریوں) کی ادائیگی پر خرچ ہوتے ہیں اُور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ مالی سال 2020-21ءکا بجٹ ایک ایسی صورتحال میں پیش کیا گیا ہے جبکہ ہر طرف ’کورونا کہرام‘ برپا ہے! حکومت کے شاہانہ اَخراجات میں غیرمعمولی کمی کی ضرورت ہے تاکہ قرضوں پر منحصر معیشت بہتری کی جانب گامزن ہو۔ اِقتصادی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ قومی قرضوں میں سب سے زیادہ اضافہ مقامی قرضوں کی وجہ سے ہوا‘ جو بڑھتے ہوئے 10کھرب 74ارب 60کروڑ روپے تک جا پہنچے ہیں جبکہ بقیہ اِضافہ حکومت کے غیرملکی قرض سے ہوا جو ”6کھرب 3ارب“ روپے تک جا پہنچے ہیں۔ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2020ءتک سرکاری قرض ’جی ڈی پی‘ کے 84.4 فیصد تھا۔

تحریک اِنصاف کی شروع دن سے کوشش و خواہش ہے کہ قومی قرضوں کے حجم میں کمی یعنی قومی مالیاتی ذمہ داریوں ادا ہوں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اِس کوشش و خواہش میں مزید قرض لئے گئے۔ وزیراعظم نے مال مویشیوں (لائیو سٹاک) پر توجہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ ’مرغ بانی‘ کی بات ہوئی لیکن اُسے بھی مذاق میں اُڑایا گیا۔ سوشل میڈیا پر طنز عام ہوا۔ اَب وزیراعظم نے کہا ہے کہ ”حکومت نے چھوٹے کاروبار کی سرپرستی کا اعلان کیا ہے لیکن اِس اعلان کو بھی خاطرخواہ سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔“ لیکن بہتری (تبدیلی) اُسی صورت آئے گی جب وزیراعظم چھوٹے کاروبار کے لئے قرض دیتے ہوئے یہ شرط عائد کریں نئے کاروبار اُور صنعتوں کے لئے پچانوے فیصد (بیشتر) مشینری مقامی طور پر خریدی جائے گی۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اگر کسی ادارے کو چند سو سلنڈرز کی بھی ضرورت ہوتی ہے تو وہ چین یا دیگر ممالک سے درآمد کر لیتے ہیں لیکن گوجرانوالہ‘ لاہور اُور دیگر صنعتی مراکز سے رجوع نہیں کرتے۔ ’میڈ اِن پاکستان‘ اُور ’میڈ فار پاکستان‘ کی حکمت عملیاں وضع ہونی چاہیئں۔ کورونا وبا کی صورتحال میں بجٹ اگر خصوصی طور پر پیش کیا جا سکتا ہے تو خصوصی صنعتی و کاروباری حکمت عملیاں کیوں نہیں ترتیب دی جا سکتیں۔ 

کورونا وبا کی وجہ سے آکسیجن سلنڈرز کی ضرورت (مانگ) بڑھ گئی ہے اُور حیرت انگیز طور پر ہر سرکاری و نجی ہسپتال کی پہلی کوشش و ترجیح سلنڈرز درآمد کرنے کی ہے! حکومت جہاں نجی شعبے کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کا فروغ چاہتی ہے لیکن حکومتی اِداروں کا قبلہ اُور ترجیحات درست کرنے جیسی ’کم محنت‘ کی جانب توجہ مبذول نہیں ہے۔

وفاقی بجٹ کا ’2فیصد سے کچھ زیادہ حصہ‘ بڑی فصلوں کی ترقی کے لئے مختص کیا گیا ہے حالانکہ ضرورت اِس سے کہیں گنا زیادہ مالی وسائل مختص کرنے کی ہے اُور بحیثیت مجموعی زرعی شعبے کو سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہئے کیونکہ زراعت کا شعبہ ہی پاکستان کو ’کورونا وبا‘ سے بچا سکتا ہے۔ یکم جولائی سے شروع ہونے والے پہلے بجٹ کے پہلے چھ ماہ کورونا وائرس سے متاثر رہے گی۔ 

صنعتیں اُور کاروبار پھل پھول نہیں سکیں گے۔ نئی ملازمتوں کے مواقع نہیں پیدا ہوں گے۔ زمینیں پڑی ہیں۔ کم سے کم آبادی کے تناسب سے فصلیں ہونی چاہیئں۔ ٹماٹر آلو جیسی چیزیں کم ہوجاتی ہیں اُور اس سے نہ صرف غذائی خودکفالت ہو گی بلکہ زرعی شعبہ روزگار کی فراہمی کے ساتھ ’ایس اُو پیز‘ کے ساتھ روزگار فراہم کر سکتا ہے۔ دیگر شعبے بھی اِہم اُور ضروری ہیں لیکن وہاں کی ترقی کے ساتھ جو ملازمتی مواقع پیدا ہوتے ہیں لیکن اُن میں ’ایس اُو پیز‘ پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ زرعی شعبے کو ’ٹڈی دل‘ سے خطرات لاحق ہیں۔ ماضی میں بھی ’ٹڈی دل‘ آتا رہا۔ اَفریقہ میں زیادہ بارشیں ہونے کی وجہ سے ٹڈی دل اتنی بڑھی کہ وہ ہوا کے ساتھ ایران کے ساتھ پاکستان میں داخل ہوئے۔ پاکستان پہنچنے سے پہلے مغربی ذرائع ابلاغ خبر دے رہے تھے کہ اِس سال 400 گنا بڑا ٹڈی دل آگے بڑھ رہا ہے جسے پاکستان کے فیصلہ سازوں نے خاطرخواہ اہمیت نہیں دی۔

ایک سیاسی قیادت ہوتی ہے۔ وزیر ٹیکنوکریٹ ہوتا ہے جس سے توقع نہیں ہونی چاہئے۔ اِس وزیر کے نیچے بیوروکریٹ (افسرشاہی) ہوتا ہے جو کئی وزارتوں کا خانہ خراب کرنے کے بعد کسی نئی وزارت کے معاملات دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اِس طرح 2 لائق اکٹھا ہو کر قومی فیصلہ سازی کرتے ہیں۔ سیکرٹری کے نیچے ڈپٹی سیکرٹری اُور ڈپٹی سیکرٹری کے نیچے ایڈیشنل سیکرٹری اُور اُن کے نیچے درجہ بہ درجہ فوج ظفر موج نالائقوں کی جمع ہے اُور اِن کے غلط فیصلے عملاً ثابت ہیں۔ 

ٹڈی دل اَفریقہ سے چل کر پاکستان پہنچنے میں ایک مہینہ لگا لیکن ہمارے سیاسی اُور غیرسیاسی فیصلہ ساز نہ تو بھانپ سکے اُور نہ ہی اُنہیں معلوم ہو سکا کہ یہ کب پہنچے گا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین ٹڈی دل چاروں صوبوں کو کہیں کم تو کہیں زیادہ متاثر کر رہا ہے اُور ہمارے پاس فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کے اعدادوشمار بھی دستیاب نہیں کہ کل کتنا نقصان ہو چکا ہے اُور کس قدر (ممکنہ طور پر) مزید ہو گا۔ اِقتصادی حالات یہ ہیں کہ بیروزگاری (کم سے کم) آئندہ مالی سال کے ’پہلی شش ماہی‘ تک برقرار رہے گی اُور یہی وہ سخت ترین عرصہ (اِمتحان) ہے جسے حکومت اُور عوام دونوں کے لئے گزرنا آسان نہیں!
....
Editorial Page Daily Aaj June 13, 2020 
Clipping from Daily Aaj, 13 June 2020 Saturday

Covid19 and Public Transport

سچائی کا سفر
پبلک ٹرانسپورٹ مستقل مسئلہ (دردِ سر) ہے اُور اِس درد کا مستقل بنیادوں پر حل (علاج) ہونا چاہئے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ’حسب توقع‘ نہ تو کرایوں میں عملاً کمی ہوئی اُور نہ ہی بسوں میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنے جیسے عمومی طرزعمل (قانون شکنی) سے رجوع کیا گیا جو کورونا وبا کے ممکنہ پھیلاو ¿ کم کرنے کے لئے (حتی الوسع) ’سماجی فاصلے (social distancing)‘ سے متعلق حکومتی قواعد و ضوابط (SOPs) کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی لیکن رواں ہفتے پبلک ٹرانسپورٹ مالکان کی جانب سے 2 اعلانات سامنے آئے کہ ایک تو بین الاضلاعی راستوں (روٹس) پر مقررہ کرائے کی شرح میں مزید کمی کر دی گئی ہے اُور دوسرا ’ایس اُو پیز‘ پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں باتیں ذرائع ابلاغ نے فوری خبر (Breaking News) اُور شہ سرخیوں (Headlines) کے ساتھ بالکل اُسی اہتمام کے ساتھ شائع کیں‘ جس طرح پیٹرولیم مصنوعات اُور آٹے کی قیمتیں کم ہونے کے بارے میں عوام کو روزانہ ’خوش خبریاں‘ دی جاتی ہیں لیکن اِن خبروں کا زمینی حقائق سے تعلق نہیں ہوتا اُور نہ ہی خبر دینے سے پہلے اُس کے مندرجات کے بارے خاطرخواہ تحقیق کے عمل کو خاطرخواہ اہمیت دی جا رہی ہے جو صحافت کا پہلا اُور بنیادی اصول ہے۔ اِس سلسلے میں اُردو اُور انگریزی صحافت دو الگ الگ سمتوں اُور دو الگ الگ بلندیوں پر بھی اِس لئے دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ دونوں کے ہاں حقائق کی تصدیق و جانچ کے لئے محنت کا معیار ایک جیسا نہیں۔

بنیادی طور پر کسی بھی آمدہ اطلاع کو خبر اُور بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اُور ذمہ داری کی ساتھ اَدا (شائع) کرنے سے قبل‘ اُس کی آزاد ذرائع یا اپنے طور پر تصدیق ہونی چاہئے۔ اِس بات کو عملاً اُور باآسانی ممکن بنایا جا سکتا ہے کہ 1: کوئی بھی خبر تصدیقی مراحل سے گزرے بغیر شائع یا نشر نہ ہو۔ 2: خبر ضروری ہوتی ہے اُس کو پیش کرنے کا انداز ضمنی اہمیت رکھتا ہے۔ بالخصوص صفحے کی خوبصورتی کے لئے خبروں کو دو‘ تین یا چار کالموں میں مزین و سجاوٹ کے لئے منتخب اُور نمایاں کرنے کا بھی کوئی نہ کوئی تو اصول بھی ہونا چاہئے کیونکہ صرف خبر کا ہونا ہی اہم اُور کافی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اِس میں سچ جھوٹ یا جھوٹ سچ کی آمیزش کا تناسب جاننے کا بھی پیمانہ ہونا چاہئے کیونکہ خبر کے ساتھ صحافتی اِدارے کی ساکھ اُور کاروباری مستقبل بھی جڑا ہوتا ہے۔

’سچائی‘ کا وہ سفر جو اِنفردی حیثیت سے جتماعی قالب میں ڈھل کر اپنی انتہائی (ترقی یافتہ) شکل (وجاہت) میں ”صحافت“ کہلاتا ہے اُور یہ لفظ اصطلاحاً صحیفے سے بھی ماخوذ ہے یعنی ایک ایسی دستاویز (صحیفہ) جو خالق کائنات کے مقدس کلام کی ترسیل سے منسوب ہے تو اِس بات میں کوئی حرج نہیں کہ اگر کسی خبر کی فوری تصدیق ممکن نہ ہو تو اُسے (تا دم تصدیق) روک کر شائع کر لیا جائے۔ درحقیقت صحافت کسی بھی شکل میں ہو لیکن اگر یہ ذمہ داری اُور اِحساس ذمہ داری کے ساتھ اَدا نہیں ہوتی تو پھر یہ ایک ایسا معمول بن جائے گی جس سے معاشرے میں نہ تو خیر اُور بہتری کی صورتیں برآمد ہوں گی اُور نہ ہی حکومتی سطح پر فیصلہ ساز اپنی ترجیحات کے تعین میں درست رہنمائی حاصل کر پائیں گے بلکہ عوام اُور حکمران دونوں ہی گمراہ ہوں گے کیونکہ اگر کسی نے اُن کی آنکھوں کی دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے تو اُس کوشش (جھوٹ) کو کامیاب بنانے میں ذرائع ابلاغ بھی شریک ہو گئے ہیں اُور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے‘ جس سے صحافتی ذمہ داریاں ترتیب و تشکیل پاتی ہیں۔

عام آدمی (ہم عوام) کے نکتہ نظر سے عندیہ (خوش خبری) اگر صرف سماعتوں اُور بصارتوں ہی کی آسودگی کے لئے شائع کی جاتی ہے‘ تب تو ٹھیک (قابل فہم) ہے لیکن اگر ذرائع ابلاغ ”اَزرائے طنز و مذاق“ قیمتوں اُور نرخناموں میں کمی سے متعلق ایسی خبریں شائع کرتے ہیں کہ جن میں عوام کے لئے کسی ریلیف کا ذکر ہوتا ہے اُور برسرزمین حقیقت یا حقائق یکسر مختلف (برعکس) ہوتے ہیں تو یہ طرزِعمل اَمانت و دیانت کے اَصولوں کے منافی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ ایسی خبریں (بالخصوص پرنٹ میڈیا جب شہ سرخیوں کے ساتھ) شائع کرتے ہیں تو اِس سے عوام کی نظروں میں بطور اِدارہ اِن کی اہمیت‘ فرض شناسی‘ ذمہ داری‘ صحافتی اَخلاقیات و اَقدار اُور سماجی کردار قابل اِعتبار و بھروسہ نہیں رہتا یقینا کوئی بھی شخص (قاری‘ ناظر و سامع) نہیں چاہے گا کہ جن حقائق سے اُسے عملی زندگی میں ہر روز واسطہ پڑ رہا ہے اُن سے متعلق خبرنگاری مصدقہ نہیں۔ اِس پورے تناظر کا تیسرا پہلو اُور ضرورت یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کی توجہ (جملہ وسائل‘ رائے اُور جھکاو ¿) عوام کی طرفداری جانب مائل ہونی چاہئے۔ وہ کاروباری گروہ اُور طبقات جو اَجناس کی فروخت یا خدمات کی فراہمی جیسے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں اگر اُنہیں یقین ہو کہ حکومت اُور ذرائع ابلاغ عوام کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں تو یوں کھلم کھلا لاقانونیت دیکھنے میں نہ آئے کہ اجناس میں ملاوٹ سے لیکر کم وزن‘ گرانفروشی اُور ذخیرہ اندوزی قانونی و اخلاقی و سماجی طور پر جرائم ہی تصور نہ ہوں۔

عوامی مفاد کیا ہوتا ہے؟
اِس کی حفاظت کس کی ذمہ داری اُور کیسے کی جائے؟
اِن تینوں امور سے متعلق سوچ بچار اُور لائحہ عمل ’طرزحکمرانی‘ کہلاتا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کرائے ناموں کی شرح میں کمی تو بہت دور کی بات لیکن اگر ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کے کرایوں پر صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی مقررہ کردہ شرح کے مطابق عمل درآمد اُور کورونا وبا سے متعلق حکومتی ہدایات کا احترام ضروری سمجھا جا رہا ہوتا تو صرف پشاور میں گزشتہ چند دنوں کے دوران ’1200ٹرانسپورٹرز‘ کو جرمانے اُور 4 بس اڈے سربمہر نہ کئے گئے ہوتے! لائق توجہ یہ بھی ہے کہ اگر نجی شعبے کی اجارہ داری سے چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے امور صوبائی دارالحکومت ہی میں تسلی بخش نہیں تو صوبائی حکمرانوں اُور متعلقہ فیصلہ سازوں نے کس بنیاد (جواز) پر یقین کر لیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے دور دراز اضلاع اُور علاقوں پبلک ٹرانسپورٹرز مسافروں (صارفین) کو لوٹ نہیں رہی اُور سب سے بڑھ کر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے کورونا وبا کے پھیلانے کا باعث بن رہی ہے۔ ’صوبائی ٹرانسپورٹ اٹھارٹی‘ اُور ’پبلک ٹرانسپورٹ اُونرز ایسوسی ایشن‘ گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے کے لئے ضلعی انتظامیہ (کمشنری نظام) کام آ رہا ہے‘ جنہیں جرمانہ اُور سزائیں دیتے ہوئے صرف خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مرکزی اُور ضلعی دفاتر میں تنخواہیں اُور مراعات باقاعدگی سے وصول کرنے والوں کے خلاف بھی کاروائی کرنی چاہئے جو مسافروں کی جان و مال کے تحفظ‘ سہولیات کی فراہمی اُور مقررہ شرح سے زائد کرایوں کی وصولی سے متعلق قوانین اُور قواعد شکنی میں برابر (یکساں) شریک جرم (ملوث) ہیں۔
مرا نصیب ہوئیں تلخیاں زمانے کی
کسی نے خوب سزا دی ہے مسکرانے کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی (اَزہر درانی)
....
Clipping from Editorial Page of Daily Aaj - June 13, 2020 Saturday
Editorial Page of  Daily Aaj - June 13, 2020 Saturday


Wednesday, June 10, 2020

COLUMN: Wazifa (Benefice) as shield and stay safe from Corona Virus!

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
روحانی مشورہ
پشاور کے سرتاج سادات گھرانے کے روحانی‘ علمی‘ اَدبی اُور سیاسی کردار کو حالات حاضرہ کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے‘ نئی بلندیوں سے روشناس کرانے اُور تصوف (احسان و سلوک) کی تعلیمات عام کرنے میں مصروف عمل نورِچشمی سیّد نور السبطین قادری گیلانی المعروف تاج آغا نے طبی ماہرین کے مشوروں پر عمل کرنے اُور کورونا وبا کے بارے میں سنجیدگی و ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ زندگی کی قریب ستر بہاریں دیکھنے والے تاج آغا (پیدائش گیارہ نومبر اُنیس سو اکیاون) پیرطریقت سیّد محمد اَمیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی رحمة اللہ علیہ کے فرزند ارجمند ہیں جنہوں نے کورونا وبا سے بچاو کے لئے خصوصی وظیفہ عنایت کرتے ہوئے اِسے ہر خاص و عام تک پہنچانے کی تلقین کی ہے۔ یہ وظیفہ قرآن کریم کی مختلف سورتوں اُور وظیفہ شروع کرنے سے اوّل و آخر خاص ترتیب و تعداد سے درود شریف پر مشتمل ہے۔

ایک ہی نشست میں باوضو‘ قبلہ رو بیٹھ کر سورہ فاتحہ (تین مرتبہ)۔ آیت الکرسی (تین مرتبہ)۔ سورہ یاسین (تین مرتبہ)۔ سورہ اخلاص (تین مرتبہ)۔ سورہ الم نشرح (پانچ مرتبہ) اُور سورہ کوثر (پانچ مرتبہ) تلاوت کرنی ہیں۔ اِس وظیفے کو شروع کرنے سے قبل گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی (نماز کے دوران تشہد میں پڑھا جانے والا درود شریف) یا کوئی بھی دوسرا درود شریف پڑھا جس سکتا تاہم اوّل و آخر پڑھے جانے والے اِس درود شریف کا شمار طاق یعنی گیارہ گیارہ مرتبہ رکھا جائے گا۔ درود شریف پڑھتے ہوئے صاحب درود ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت‘ خلوص اُور توجہ کا اظہار کرنا ہے‘ جس کے لئے ٹھہر ٹھہر کر اُور الفاظ پر غور کرنا ضروری ہے۔ ہر سورت کے شروع میں ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ پڑھنی ہے۔ بہتر ہے اِس وظیفے کو نماز فجر کی ادائیگی سے فارغ ہونے کے بعد اُسی مقام پر بیٹھ کر پڑھا جائے جہاں نماز فجر ادا کی گئی ہو لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو دن کے کسی بھی وقت اُور کسی بھی مقام پر اِسے حسب فرصت پڑھا جا سکتا ہے۔ ہدایت ہے کہ نمازِ فجر کے بعد کسی سے بات چیت کئے بغیر اُور اُسی مقام پر اشراق کی نماز تک بیٹھ کر یہ وظیفہ عبادات کے معمولات کا جز بنا لیا جائے تو سونے پر سہاگہ ہوگا۔ نماز فجر‘ مذکورہ وظیفہ اُور نماز چاشت کی ادائیگی کے بعد پانی پر دم کیا جائے اُور یہ پانی خود اُور گھر کے تمام افراد کو پلایا جائے تو یہ نہ صرف موجودہ وبائی اُور پریشان کن صورتحال کے لئے مفید رہے گا بلکہ عمومی حالات میں بھی اِس وظیفے کے خاص فوائد (اثرات) ہیں اُور انہیں دیگر عبادات کی طرح معمولات میں شامل کر لیا جائے تو حسب تلقین (اِن شا اللہ) ”دنیا و آخرت میں کامیابی ہوگی۔“

آستانہ عالیہ قادریہ حسنیہ (اَمیریہ) پشاور (اندرون یکہ توت گیٹ) کی روح رواں سیّد نورالحسنین قادری گیلانی المعروف سلطان آغا سجادہ نشین ابوالبرکات سیّد حسن بادشاہ نے کورونا وبا کے شروع دن سے مریدوں اُور عقیدت مندوں کو احتیاط کا مشورہ دیا اُور آستانہ عالیہ پر ہر قمری ماہ کی گیارہ تاریخ کو ہونے والے ختم غوثیہ اُور دیگر جملہ اجتماعی تقاریب و عبادات کو منسوخ کر دیا لیکن محافل ذکر و اَذکار اُور وظائف کا سلسلہ اِنفرادی حیثیت سے جاری رکھا گیا‘ جس میں مریدوں اُور عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد آن لائن ذرائع (انٹرنیٹ) کی مدد سے شریک ہوتی ہے۔ سال ہا سال کا معمول تھا کہ ہجری ماہ و سال کی ترتیب کے اعتبار سے مولوی جیؒ کے عرس مبارک کے سلسلے تقاریب کا عموماً آغاز رمضان المبارک کے پہلے عشرے کے اختتام کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا‘ جو رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے اختتام تک یہاں وہاں جاری رہتا تاہم اِس مرتبہ (1441ہجری) عرس مبارک کی تقاریب کے سلسلے میں ختم قرآن‘ ختم غوثیہ‘ محافل حمد و نعت‘ منقبت اُور شبینہ کا انعقاد بھی انتہائی سادگی سے (محدود پیمانے پر) کیا گیا جس میں صرف اہل خانہ اُور قرابت داروں کے علاوہ مریدوں کی اِنتہائی قلیل تعداد شریک ہوئی۔ اہل تصوف کی جانب سے کورونا وبا کے حوالے سے طبی ماہرین کے مشوروں کو سنجیدگی سے لینا اپنی جگہ قابل ذکر ہے بالخصوص ایک ایسے ماحول میں جہاں اجتماعی عبادات ترک کرنے اُور حکومت کی جانب سے قواعد (SOPs) پر خاطرخواہ عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آرہا اُور اگر صرف پشاور کی بات کی جائے تو خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع (علاقوں) کی نسبت یہاں کورونا وبا سے متاثرین اُور اموات کی شرح صرف صوبائی ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر زیادہ ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ مختلف صورتوں میں قیادت کے منصب پر فائز شخصیات اُور گھرانوں نے اپنی قائدانہ ذمہ داریاں اَدا نہیں کیں اُور یہی وجہ رہی کہ عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات سرایت کر چکے ہیں۔ کورونا وبا سے محفوظ رہنے کے لئے مذہبی قائدین کو ’رہنما کردار‘ اَدا کرنے کی ضرورت ہے اُور اِس سلسلے میں دیگر کئی آستانوں اُور مدارس کی طرح پشاور شہر کے اہل تصوف نے جو عملی اُور روشن مثال قائم کی ہیں وہ پشاور سے محبت کی بھی آئینہ دار (عکاس) ہیں کہ اِس شہر اُور یہاں کے رہنے والوں کی نسل در نسل عقیدت و احترام کا جواب دیتے ہوئے ’اہل تصوف‘ نے بھی محبت ہی سے جواب دیا ہے۔

کورونا وبا سے ممکنہ بچاو  کے لئے جہاں طبی ماہرین اُور حکومت مشورے دے رہی ہے‘ وہیں اہل طریقت کی جانب سے بھی ’روحانی مشورہ‘ لائق توجہ ہے جو ’نسخہ ¿ شفا (قرآن کریم و مجید)‘ سے آیات کریمہ کے ورد پر مشتمل ہے اُور اِس کی متعلقہ عوامی حلقوں میں تشہیر کے لئے ذرائع ابلاغ بشمول سوشل میڈیا کے وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ ہونا چاہئے کیونکہ کسی مسلمان کے لئے آسانی ہو یا مشکل‘ دکھ ہو یا سکھ‘ خوشی ہو یا غم‘ ہر ساعت اپنی توجہات اللہ تعالیٰ کی طرف مائل کرنے اُور عبادات و نسخہ  کیمیا (قرآن مجید کی آیات) کے ذریعے نجات و رہائی طلب کرنی چاہئے ۔علاو ¿ہ ازیں تاج آغا کی جانب سے پانچ وقت کی فرض اُور تہجد کی نمازیں باقاعدگی سے ادا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے توجہ دلائی گئی ہے کہ .... ”اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی آزمائش و امتحان کی موجودہ گھڑی میں اُٹھتے بیٹھتے اُور چلتے پھرتے (دل ہی دل میں) ’استغفر اللہ‘ کا ورد بھی کیا جائے کہ مصیبت کی یہ گھڑی اگر (کسی بھی صورت) ٹل سکتی ہے تو وہ صرف اُور صرف رب تعالیٰ کی مرضی ہی سے ہوگی کیونکہ بلاشک و شبہ زندگی‘ موت اُور شفا اُسی (خالق و مالک ِکائنات) کے ہاتھ میں ہے‘ جو رحمان‘ رحیم و کریم ہونے کے ساتھ اپنی حکمتوں کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے۔
........

Page 1/3

Page 2/3
Page 3/3

Sunday, June 7, 2020

COLUMN: Higher Education must not be lockdown!

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
کورونا وائرس کی وجہ سے درس و تدریس کا عمل معطل ہوئے کامل تین ماہ کا عرصہ مکمل ہو چکا ہے اُور اِس دوران سب سے زیادہ تعلیمی حرج اُن طلبا و طالبات کا ہو رہا ہے‘ جو اعلیٰ تعلیم کے مدارج طے کر رہے تھے اُور اِس مقام تک پہنچنے کے لئے اُنہوں نے اپنی زندگی کا بہترین وقت اُور سرمایہ صرف اُور صرف کتابوں کی نذر کیا لیکن کورونا وبا کی وجہ سے تعلیمی اداروں کے ساتھ درس و تدریس کا عمل بلاامتیاز معطل کرنے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند اُور اُن کے والدین جس ذہنی دباو  سے گزر رہے ہیں‘ اُس کا بیان الفاظ میں کرنا ممکن نہیں۔

بنیادی بات یہ ہے کہ جو بیش قیمت وقت ضائع ہو رہا ہے‘ وہ ناقابل تلافی نقصان ہے کیونکہ وقت گزر رہا ہے اُور اِسی جانب توجہ مبذول کروانے کے لئے ملک کے مختلف شہروں اُور بالخصوص اسلام آباد میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے صدر دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کو توقع ہے کہ قومی فیصلہ سازوں نے جس طرح لاک ڈاو ¿ن میں نرمی کرتے ہوئے پہلے اجتماعی عبادات اُور بعدازاں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی ہے‘ بالکل اِسی اصول اُور نظریہ ¿ ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے (سرکاری و نجی) اعلیٰ تعلیمی اداروں کی رونقیں بھی بحال کی جا سکتی ہیں‘ جہاں کورونا وائرس سے بچاو ¿ اُور اِس کے ممکنہ پھیلاو ¿ کو روکنے کے لئے طلبہ اُور تدریسی عملہ اُن احتیاطی تدابیر (SOPs) پر سختی اُور بالعموم زیادہ سنجیدگی سے عمل درآمدکریں گے جنہیں معاشرے کے دیگر طبقات نے مذاق میں اُڑا دیا ہے۔

کورونا وبا کو مدنظر رکھتے ہوئے جب تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا تھا تو اُس وقت اعلیٰ اُور پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے کو بھی جلدبازی (بنا سوچے سمجھے) بند کر دیا گیا حالانکہ معاشرے کا اکثریتی باشعور اُور نظم و ضبط کا زیادہ پابند طبقہ اعلیٰ تعلیم کے مدارج طے کر رہا ہوتا ہے اُور اگر اعلیٰ تعلیم کی درسگاہیں بند کرنے کی بجائے وہاں پہلے سے موجود قیام و طعام کی سہولیات کو حسب ضرورت وسعت دی جاتی تو اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ منقطع کئے بغیر بھی مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا سکتے تھے۔

حکومت کی ترجیح اگر تعلیم اُور بالخصوص اعلیٰ تعلیم و تحقیق نہیں ہے تو اِس سے کورونا وائرس یا مستقبل قریب و بعید میں اِس جیسے دیگر چیلنجز سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ دوسرا لائق توجہ نکتہ یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی بندش کے ساتھ ہی حکومت نے آن لائن تعلیم کے وسائل میں اضافے کا وعدہ کیا۔ یہ تصور نیا نہیں تھا بلکہ اِس سے قبل بھی فاصلاتی تعلیم کے سلسلے جاری تھے جن میں حاصل مہارت و تجربے کو دیگر اداروں تک وسعت دینا تھی لیکن یہ عمل (ہدف) باوجود خواہش و کوشش بھی مکمل نہ ہو سکا‘ جس کی راہ میں تکنیکی وجوہات حائل تھیں کہ ایک تو ہر طالب علم کے پاس آن لائن وسائل سے استفادہ کرنے کی ٹیکنالوجی (موبائل فون‘ ٹیبلٹ‘ لیپ ٹاپ‘ کمپیوٹر وغیرہ) نہیں تھے تو دوسری طرف پورے ملک میں تیزرفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کا نظام بھی واجبی تھا۔ صرف بڑے شہروں یا اُن کے خاص حصوں تک ہی ایسے تیزرفتار (آپٹیکل فائبر) انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے‘ جو فاصلاتی تعلیم (آڈیو اُور ویڈیوز اسٹریمنگ) ممکن بنانے کے لئے بنیادی ضرورت ہے۔ اِس سلسلے میں دوسرا ذریعہ موبائل فون ہیں‘ جن کے ذریعے کم قیمت اُور قدرے تیزرفتار انٹرنیٹ کی فراہمی ہو سکتی تھی لیکن موبائل فون کی نجی کمپنیوں نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی ہنگامی و بحرانی صورتحال میں سماجی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اِسے منافع کمانے کا ذریعہ (نادر موقع) تصور کیا۔

حکومت نجی کمپنیوں کو اپنے منافع کم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی اُور نہ ہی حکومت کے پاس اپنا کوئی ایسا قومی ادارہ ہے کہ جس کے ذریعے رعائتی نرخوں پر انٹرنیٹ فراہم کیا جا سکے۔ تعلیم و تحقیق کے شعبے میں انٹرنیٹ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن پاکستان میں اِن دونوں شعبوں کو ایک دوسرے سے الگ دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ تین ماہ قبل جب تعلیمی ادارے بند کئے گئے تو کوئی بھی ایسا متبادل ذریعہ (پلیٹ فارم) موجود نہیں تھا جو فوری طور پر درس و تدریس کے عمل کو وہیں سے شروع کرتا‘ جہاں سے اِس کا سلسلہ منقطع ہوا تھا۔ دل شکنی کا باعث اَمر یہ بھی ہے کہ اعلیٰ تعلیمی عمل معطل ہونے سے طلبا و طالبات کی پریشانی میں اساتذہ کی اکثریت شامل نہیں اُور نہ ہی اساتذہ کی نمائندہ تنظیمیں طلبہ کے اِس مطالبے میں ہم آواز ہیں کہ لاک ڈاو ¿ن میں نرمی کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ بھی بحال ہونا چاہئے۔

اعلیٰ تعلیم کی نجی درسگاہوں نے ’آن لائن ایجوکیشن‘ کے نام پر طلبہ سے فیسیں بھی وصول کیں لیکن وہ خاطرخواہ سہولیات فراہم نہ کرسکے۔ دوسری طرف حکومت کی جانب سے گزشتہ 2 برس سے متواتر اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی وجہ سے سرکاری جامعات بھی اِس قابل نہیں کہ وہ اپنے وسائل سے آن لائن درس و تدریسی سرگرمیوں کا اجرا کر سکتیں۔

نجی جامعات اُور کالجز نے جیسے تیسے آن لائن تعلیم جاری رکھی ہوئی ہے لیکن سرکاری اداروں کی حالت زیادہ مثالی نہیں‘ جن کے لئے پہلی مشکل تو اِس تصور کو ہضم کرنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم آن لائن بھی ہو سکتی ہے اُور دوسری مشکل یہ تھی کہ سینئر اساتذہ کی بڑی تعداد ایسی ہے کہ وہ نہ صرف ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ سے نابلد ہے بلکہ اُن کے لئے کمپیوٹر سافٹ وئرز پر لیکچرز کی تیاری ممکن نہیں ہوتی اُور صرف اِسی صورت میں کارآمد ہو سکتے ہیں کہ اُنہیں تختہ ¿ سیاہ کے سامنے کھڑا کر کے کسی خاص وقت تک بولنے دیا جائے۔ اِس عمل میں رٹے رٹائے اسباق اُور مثالوں کو دہرانے سے اگر طلبہ تعلیم اخذ کر لیں تو یہ اُن کی قسمت بصورت ِدیگر اساتذہ اِس بات کے لئے ذمہ دار نہیں کہ طلبہ کی سمجھ میں کچھ آ بھی رہا ہے یا نہیں!

آن لائن ایجوکیشن کے وسائل کا ایک کمال (خوبی) یہ (بھی) ہے کہ اِس میں ہر معلم کی کارکردگی یعنی اُس کے مطالعے اُور تدریسی انداز کو آڈیو ویڈیو کی صورت محفوظ کرکے نہ صرف بار بار دیکھا جا سکتا ہے بلکہ معلم کا احتساب بھی ممکن ہے۔ کسی کلاس روم میں جہاں پچاس سے دو سو تک طلبہ ہوتے ہیں اگر ایک معلم چاہے بھی تو ہر طالب علم کو خاطرخواہ توجہ نہیں دے سکتا لیکن آن لائن ایجوکیشن کے ذریعے وہ اسباق زیادہ روانی اُور سہل انداز میں پیش کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کورونا وبا پھیلنے میں بتدریج کمی ماہ ¿ ستمبر تک آئے گی‘ جس کے بعد حالات معمول پر آتے چلے جائیں گے لیکن اگر حالات معمول پر آتے بھی ہیں تب بھی حکومت کو روائتی تدریس کے ساتھ آن لائن ایجوکیشن میں سرمایہ کاری کرنا پڑے گی تاکہ آئندہ کسی ایسی ہی ہنگامی صورتحال سے نمٹنا نسبتاً آسان ہو۔ سردست اعلیٰ تعلیمی سرگرمیوں کو اِس مشروط اجازت (اُور عہد) کے ساتھ بحال کر دینا چاہئے کہ سماجی فاصلہ رکھنے سے متعلق وضع کردہ اُور معلوم احتیاطی تدابیر پر کماحقہ سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
........
Editorial page of Daily Aaj - June 07, 2020 Sunday

Clipping from Editorial Page of Daily Aaj - June 07, 2020

Sunday, May 31, 2020

COLUMN: Heatwave & Corona in Pakistan

شبیرحسین امام
گرمی کی لہر
پاکستان کے کئی حصوں میں ’گرمی کی لہر‘ سے متعلق اطلاعات آ رہی ہیں‘ جس میں وقت کے ساتھ شدت اُور اِس سے معمولات زندگی جو پہلے ہی کورونا وائرس کی سبب معطل ہیں‘ مزید خراب ہونے کے اندیشے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ہر سال کی طرح اِس مرتبہ ’مئی‘ کے مہینے کے دوران ملک کے میدانی اُور ساحلی علاقوں میں گرمی کی شدت بڑھی ہے اُور اِس غیرمتوقع اضافے کے پیش نظر محکمہ ¿ موسمیات نے کئی اقدامات تجویز کئے ہیں‘ جن کی تفصیلات اُن کی ویب سائٹ سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

بنیادی بات یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا عمل جاری ہے‘ جس کی زد میں پاکستان جیسے زرعی ملک کے لئے ایسے اقدامات اشد ضروری ہیں‘ جن سے زرعی شعبے کو بچایا جا سکے۔ تصور کیجئے کہ ایک طرف کورونا وبا کی وجہ سے حکومتی فیصلہ سازی اُور محکمہ ¿ صحت کے وسائل دباو ¿ کا شکار ہیں تو دوسری طرف اگر ’گرمی کی شدت اُور شدید لہر‘ بھی آبادی کے لحاظ سے ملک کے بڑے شہروں اُور بالخصوص زرعی علاقوں کو متاثر کرتی ہے تو اِس سے کس قدر مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ حکومتی اداروں کے لئے پہلے ہی ’ٹڈی دل‘ سے نمٹنا ممکن نہیں ہو رہا جبکہ کورونا اُور گرمی کی لہر جیسے مسائل الگ سے بحران میں اضافے کا باعث اُور توجہ طلب ہیں۔ یادش بخیر سال 2015ءمیں آئی گرمی کی لہر کے باعث 1 ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں تھیں اُور تب سے حکومتی و نجی فلاحی اداروں کا معمول ہے کہ وہ ممکنہ متاثر ہونے والے شہری و دیہی علاقوں میں موسم گرما کی آمد سے قبل ’ہیٹ ویو (heat-wave)‘ سے نمٹنے کے لئے امدادی سرگرمیاں کی تیاریاں رکھتے ہیں۔

رواں برس (دوہزاربیس) گرمی کی لہر بارے حکومتی سطح پر غوروخوض زیادہ دیکھنے میں نہیں آ رہا کیونکہ فیصلہ سازوں کی توجہ اُور وسائل کورونا وبا کی جانب ہے‘ جس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافے کی نوعیت یہ ہے کہ ملک کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں علاج گاہیں مریضوں سے بھر گئی ہیں۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے اُور ایک المیے کی نشاندہی ہے کہ گرمی کی لہر سے نمٹنے کی اِس سال تیاریاں نہ ہونے کے برابر ہیں اُور اِس بارے میں اگر کہیں سے کوئی نکتہ یا بات سننے میں آتی بھی ہے تو وہ محکمہ ¿ موسمیات کے ذرائع ہیں۔

ماضی کی طرح ذرائع ابلاغ کی توجہ بھی کورونا وبا پر مرکوز ہونے کی وجہ سے گرمی کی لہر تجزیہ کاروں کے لئے زیادہ پریشانی کا باعث نہیں اُور یہی وجہ ہے کہ وفاقی‘ صوبائی اُور مقامی حکومتیں گرمی کی لہر کا سامنا کرنے کی خاطرخواہ تیاری نہیں رکھتیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) بھی شاید اُس وقت تک حرکت میں نہیں آئے گی جب تک (خدانخواستہ) سینکڑوں ہلاکتیں فیصلہ سازوں کے ضمیر کو جھنجوڑ نہ دیں! حقیقت حال یہ ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں جیسی حقیقت‘ اِس کے منفی اثرات اُور بالخصوص انسانی جان کی اہمیت بارے زیادہ غوروخوض نہیں کیا جاتا یا پھر اُس وقت تک اِن موضوعات پر فیصلہ ساز سوچنا اُور بولنا گوارہ نہیں کرتے جب تک حالات قابو سے باہر ہونے کے قریب نہ پہنچ جائیں۔ اگر گرمی کی لہر بڑھتے ہوئے اُس درجہ حرارت پر پہنچ جائے جہاں ہزاروں غریب اِس سے متاثر ہونے لگیں اُور بڑے پیمانے پر کسی ممکنہ تباہی نظر آنے لگے تو فیصلہ سازوں کے اجلاس طلب کر لئے جائیں گے!

سمجھنا ہوگا کہ کورونا وبا کی طرح ’گرمی کی لہر‘ بھی یکساں خطرناک ہے اُور اگر اِس سے بچنے کے لئے مناسب احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو ہیٹ اسٹروک ہو جاتا ہے‘ جو ایک جان لیوا صورتحال ہوتی ہے۔ موجودہ حالات میں جبکہ سرکاری علاج گاہوں کے دروازے کورونا وبا کے علاو ¿ہ دیگر بیماریوں کے لئے بند ہیں‘ اگر گرمی کی شدت اُور اِس کے لہر کی صورت پھیلنے کے امکان کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو عالمگیر وبا کی صورت ایک اُور بحران پھیل سکتا ہے۔ سال 2015ءمیں بڑے شہروں میں ٹھنڈے پانی کی سبیلیں لگائی گئیں تھیں جو ’ہیٹ ویو‘ کا مقابلہ کرنے کا سستا‘ آسان اُور درست طریقہ ہے۔ فیصلہ سازوں کو صرف انسان ہی نہیں بلکہ مال برداری و دیگر مقاصد کے لئے استعمال ہونے والے مال مویشیوں (جانوروں) کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے جنہیں گرمی کی شدت سے بچانے کے لئے پانی اُور سائے کا بندوبست ہونا چاہئے۔ ماہرین تجویز کر رہے ہیں کہ گرمی کی شدت والے ملک کے میدانی علاقوں میں رہنے والے غیرضروری طور پر اپنے گھروں یا کام کاج کی جگہوں سے باہر نہ نکلیں۔ کسی ضرورت کے تحت پیدل یا کسی ذریعے سے سفر کرنا بھی پڑے تو سر‘ گردن اُور چہرے کو ڈھانپ کر رکھا جائے۔ چھتری یا بھیگے ہوئے رومال کا استعمال معمولات کا حصہ ہونا چاہئے۔

کافی مقدار میں پانی یا دیگر مشروبات کا استعمال ’ہیٹ ویو‘ سے بچانے میں معاون ہو سکتا ہے۔

ہیٹ ویو کی یقینی روک تھام کے لئے حکومتی سطح پر سنجیدہ اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ سماجی و فلاحی (نجی) اِداروں کو شریک سفر کرنے کی ضرورت ہے۔ محکمہ ¿ موسمیات نے ممکنہ انتہائی گرم علاقوں (hot-spots) کی نشاندہی کر دی ہے‘ ایسے تمام میدانی علاقوں میں نقل و حرکت کم سے کم رکھنے اُور پبلک مقامات پر پینے کے صاف (فلٹرشدہ) پانی کی فراہمی ممکن بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات وقت کی ضرورت ہے۔ سایہ دار بس اڈے اُور بس سٹاپ (انتظارگاہیں) بھی کارآمد ہو سکتی ہیں‘ جہاں حسب ضرورت‘ آگ برساتے سورج سے پناہ لی جا سکے۔ اِس سلسلے میں بنیادی ذمہ داری مقامی حکومتوں کو سونپ دینی چاہئے۔ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچا جائے اُور سیاسی و انتخابی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر دیکھا جائے تو فعال بلدیاتی ادارے ہی گرمی کی شدید لہر اُور وبائی امراض جیسی صورتحال میں کارآمد ہو سکتے ہیں جنہیں ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کے ذریعے ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
............
Editorial Page of Daily Aaj May 31, 2020
Clipping from Editorial Page of Daily Aaj - May 31, 2020

COLUMN: Demolition of al-Baqi

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
عالمی دن: جنت البقیع
اَٹھارہ لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلی ’سلطنت عثمانیہ‘ کا قیام سال 1299ءسے اِختتام 1923ءتک کے واقعات‘ بنیادی مقاصد اُور ہدف یہ تھا کہ ’مسلم اُمہ‘ کے مقدس ترین مقامات مسجد الحرام (مکہ مکرمہ) اُور مسجد نبوی شریف (مدینہ منورہ) کو پوری مسلم اُمت کی ملکیت اُور عبادات کی طرح اسلام کے سیاسی نظام کا بھی مرکز (قبلہ) ہوں۔ متحدہ مسلم اُمہ کی کوشش و مقصد کے لئے جدوجہد‘ پہلے مرحلے میں مکہ و مدینہ پر حکمرانی اُور انتظامی معاملات اپنے ہاتھ میں لئے گئے اُور عثمانی خلفاءنے سال 1818ءسے 1860ءکے درمیان مقامات مقدسہ بشمول مسجد نبوی کی تعمیروتوسیع اُور تزئین و آرائش کا کام مکمل کیا۔ یہ وہ ’سنہرا دور‘ تھا جب مسلمان ممالک کی اکثریت متحد اُور مسلمانوں کے خلاف کسی دوسرے مذہب کو آنکھ اُٹھانے کی جرا ¿ت نہ تھی لیکن مسلم اُمہ کا یہ اتحاد زیادہ دنوں برقرار نہ رہ سکا اُور تاریخ میں وہ سبھی واقعات (سازشیں) تفصیلاً ذکر ہیں کہ کس طرح مغربی طاقتوں نے عرب سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کرنے کے لئے مسلم ممالک کے اتحاد (خلافت عثمانیہ) کا خاتمہ کیا اُور مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات پر سیاسی و انتظامی حکمرانی ایسے حکمرانوں کو سونپ دی گئی‘ جن کے لئے اقتدار ہی پہلی اُور آخری ترجیح ہے۔ بہرحال خلافت عثمانیہ کا ذکر صرف تاریخ کی کتب تک محدود ہو کر رہ گیا جبکہ ’حجاز‘ کہلانے والی سرزمین ’سعودی عرب‘ کے نام سے ایک نئے ملک (بادشاہت) کے طور پر اُبھری۔

خلافت عثمانیہ کے عروج و زوال کا محرک کوئی ایک سازش نہیں تھی بلکہ اِس کے کئی داخلی و خارجی عوامل اُور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بیرونی سازشوں کے علاو ¿ہ دیگر محرکات بھی تھے‘ جن کے چند پہلو ماہ  رمضان المبارک سے پاکستان میں نشر ہونے والے ترک ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل (Dirilis: Ertugrul)‘ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اِن تاریخی حقائق کے کئی حیران کن اُور تکلیف دہ پہلوو ں میں شامل ہے کہ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کرنے کے بعد (1925-26ءمیں) مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان ’جنت البقیع‘ میں موجود اصحابہ کرام‘ تابعین‘ تبع تابعین‘ اُمہات المومنین اُور اہل بیت اطہار رضوان اللہ اجمعین کے مزارات کو ایک فقہی رائے کی بنیاد پر مسمار کر دیا گیا۔ جن مزارات کی نشانیاں تک نہیں چھوڑی گئیں اُن میں امیرالمومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ (تیسرے خلیفہ راشد) کے مزار سے لیکر دختر رسول حضرت بی بی فاطمة الزہرا طاہرہ سلام اللہ علیہا کے روضے جیسے مقدسات شامل تھے اُور یوں جنت البقیع میں موجود قبریں دور سے دیکھنے پر مٹی کے ڈھیر اُور ٹیلے دکھائی دینے لگے‘ جہاں چھوٹے بڑے پتھروں میں چھپی قبروں کی باقیات تلاش کرنے والے زائرین کو ایک خاص حد سے آگے جانے نہیں دیا جاتا۔ اِس اقدام سے اختلاف کرنے والے مسلمانوں کے 90 برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی زخم ہرے ہیں اُور ہر سال عالمی سطح پر ”8 شوال المکرم“ کا دن ”یوم انہدام جنت البقیع“ کے طور پر منانے والے مطالبہ کر رہے ہیں کہ .... ”جنت البقیع‘ میں موجود زیارات مقدسہ کو اُن کی اَصل حالت و جگہ پر بحال کیا جائے۔“

مدینہ منورہ شریف کا ”بقیع“ نامی قبرستان کی موجودہ حالت اُور اِس مقام کے قبل اسلام و بعد اسلام (ماضی و حال کی) تاریخی اہمیت اگر کچھ ہے تو وہ کیا ہے؟ مسلمان بھلے ہی خاموش ہوں لیکن تاریخ نہیں بلکہ درجنوں کتب کے اُوراق میں ایک جیسے واقعات اُور حوالے تحریر ملتے ہیں جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے پڑپوتے عملاق کی اولاد نے مدینہ منورہ شریف آباد کیا‘ پر زراعت کے لئے زمین ہموار کی۔ درخت اُگائے۔ رہائشگاہیں اُور قلعے تعمیر کئے گئے۔ وقت کے ساتھ جب اِنسانی آبادی میں اضافہ ہوا۔ قبائل تشکیل پائے تو مدینہ منورہ شریف نہ صرف کاشتکاروں اُور شہ زوروں کا مرکز رہا بلکہ یہ اہم تجارتی گزرگاہ بھی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اُور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھی یہاں وارد ہوئے۔ کچھ نے یہیں قیام کر لیا اُور کچھ کنعان یا دیگر علاقوں کی طرف چلے گئے۔ ولادت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب ایک ہزار سال قبل مدینہ منورہ شریف کے رہنے والے اِس بات (پیشگوئی) سے باخبر تھے کہ یہ شہر اللہ تعالیٰ کے آخری نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مسکن قرار پائے گا۔ اِس سلسلے میں ’تبع حمیری‘ نامی بادشاہ کا تذکرہ بطور خاص ملتا ہے جو بڑی فوج کے علاو ہ کم و بیش چار ہزار کی تعداد میں علماءاُور حکماءبطور مشیر رکھتا تھا۔ ایک موقع پر جب مدینہ منورہ شریف کے کسی رہنے والے نے تبع بادشاہ کے اہل خانہ سے بدسلوکی کی تو اُس نے مجرم کی سرکوبی کے مدینہ کو تاراج کرنے کا فیصلہ کیا اُور اِس ارادے سے مدینہ کے باہر آ کر پڑاو ¿ ڈالا۔ اہل مدینہ کے علماءنے بادشاہ (تبع) سے ملاقات کی اُور مدینہ کے فضائل و مناقب کی تفصیلات کے ساتھ یہ پیشگوئی بھی اُس کے گوش گزار کی کہ یہ شہر ختمی مرتبت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مسکن ہوگا۔ یہ سننا تھا کہ اُس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اُس نے حملے کا ارادہ ترک کیا اُور روز قیامت اپنی شفاعت کی تمنا کے لئے ایک تحریر (خط) لکھا۔ یہ خط اُس کی پشت در پشت منتقل ہوتے‘ 90 واسطوں کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خط کو دیکھ کر مسکرائے‘ درخواست قبول فرمائی اُور 3 مرتبہ ارشاد فرمایا ’مرحبا باخ الصالح۔‘ اِسی شہر مدینہ کا ایک مختصر حصہ “جنت البقیع“ کہلاتا ہے۔

لغت کے مطابق ”بقیع“ اُس علاقے کو کہتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں درخت پائے جائیں گویا بقیع زمانہ قدیم (قبل اسلام) یہاں کثرت سے درخت ہوا کرتے تھے۔ ’بقیع‘ کو ’بقیع الغرقد‘ یعنی کانٹے دار جھاڑیوں کا علاقہ بھی کہتے ہیں چونکہ ایک وقت میں یہاں ’عوسج‘ نامی کانٹے دار پودے پائے جاتے تھے لہٰذا روزمرہ بول چال میں اِسے ’بقیع الغرقد‘ کہا جانے لگا۔ عرب قبائل ’بقیع‘ کا لفظ کسی گنبد یا اُٹھی ہوئی (بلند) جگہ کے لئے بھی استعمال کرتے۔ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعثت کے تیرہویں سال مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی۔ تب سے ’یثرب‘ عرف عام میں مدینہ اُور بطور خاص مدینہ منورہ شریف کہلایا جانے لگا کیونکہ اِس عزت مآب خاص شہر کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص دعا فرمائی (ترجمہ) ”بارالہا‘ اِس شہر کو محبوب قرار دے‘ (بالکل) اُسی طرح جیسا کہ تو نے مکہ مکرمہ کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال رکھی ہے۔ یہاں کے دانے پانی (اَجناس) میں برکت عطا فرما اُور اِس شہر کو (تاقیامت) بیماریوں اُور آفات و بلیات سے محفوظ رکھ۔“
........
Editorial Page of Daily Aaj Peshawar Abbottabad  - May 31, 2020 - Sunday

Clipping from Editorial Page of Daily Aaj Peshawar Islamabad Abbottabad  - May 31, 2020

Sunday, May 10, 2020

Corona Files: Failures in combating Covid-19

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
غربت
مسائل بڑے اُور وسائل چھوٹے ہیں۔ اِس عمومی تصور کی حقیقت دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وسائل موجود ہیں لیکن اُن سے خاطرخواہ استفادہ نہ ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اِس تصور کی عملی شکل بیان کرنے کے لئے پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی روداد پیش کی جا سکتی ہے‘ جن میں اندرون شہر کے 2 ایسے بھائی بھی شامل ہیں جنہیں پانچ مرلے کے گھر میں قرنطینہ کیا گیا اُور نتیجہ یہ رہا کہ مجموعی طور 17 افراد کے اِس کنبے میں 11 افراد بشمول خواتین اُور بچے کورونا سے متاثر ہو چکے ہے!

محکمہ صحت کی مصدقہ رپورٹ کے مطابق مشترکہ خاندانی نظام کے تحت زندگی بسر کرنے والے مذکورہ خاندان کے گیارہ افراد میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے اُور یہ بات صرف کسی ایک خاندان اُور صحافیوں ہی کی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں اکثر غریب گھرانوں کی ملتی جلتی روداد یہی ہے کہ وہ مشترکہ خاندانی نظام کے تحت زیادہ افراد کم رقبے کے مکانات میں رہتے ہیں‘ جہاں ایک کمرہ اُور ایک بیت الخلا گھر کے کئی افراد کے زیراستعمال رہتا ہے۔ اِس صورتحال کی وجہ سے خاندان کے مرد خواتین اُور کم عمر بچے متاثر ہو رہے ہیں جبکہ غریب علاقوں کی ایک خاص بات یہ بھی ہوتی ہے کہ اِن کے اہل محلہ و علاقہ ایک دوسرے سے جڑ کر رہتے ہیں اِس لئے متاثرین کا شمار کسی ایک خاندان کے اَفراد سے کہیں زیادہ ہے۔ مئی کے پہلے ہفتے سے خیبرپختونخوا میں نئے کورونا متاثرین کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زیادہ جبکہ 63 اموات اِس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ کم آمدنی اُور غریب طبقات کورونا وائرس کا باآسانی شکار بن رہے ہیں اُور اگر اِس جانب (اِس موقع پر بھی) خاطر خواہ (فوری) توجہ نہ دی گئی تو کورونا وائرس پھیلنے کا سلسلہ تیز تر ہوتا چلا جائے گا۔

کورونا وبا سے متاثرین کی کہانیاں اُور مسائل ایک جیسے  اہم ، تشویشناک  اُور لائق توجہ ہیں۔ 
اگر صحافی متاثر ہیں تو اُس کی وجہ یہ ہے کہ خطرے سے متعلق علم ہونے کے باوجود بھی اِنہوں نے بنا حفاظتی تدابیر متاثرہ علاقوں کے دورے کئے۔ دیگر طبقات اُور پیشوں سے تعلق رکھنے والے اِس لئے متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ وہ کورونا وائرس کو اپنے لئے یکساں طور پر خطرہ نہیں سمجھتے اُور اب بھی یہ تاثر عام ہے کہ اموات وبا سے نہیں بلکہ اِس وبا کے خوف سے ہو رہی ہیں اُور خوف پھیلانے میں ذرائع ابلاغ کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں!

آمدن کے لحاظ سے نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت کورونا وائرس سے متعلق غلط فہمیوں کا پہلے اُور وائرس سے بعد میں شکار ہو رہی ہیں۔ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے لئے یہ حالات اُور صورت حالات ایک جیسی ہے کہ ایک طرف وبا کا طلاطم خیز طوفان اُور دوسری طرف عالمگیر وبا کی صورت کھائی ہے۔ ایک طرف بھوک افلاس ہے اُور دوسری طرف بیماری سے موت کا خطرہ جبکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی مرض سے خطرہ اُور موت کا امکان قابل برداشت ہوتا ہے۔ فیصلہ سازوں کو سوچنا اُور برسرزمین حقائق دیکھنا ہوں گے کہ آبادی کا وہ بڑا حصہ جس کے لئے سر پر چھت کا ہونا ہی سب سے بڑی نعمت ہے اُور ایسے طبقے سے یہ توقع کرنا کہ اُن کے پاس رہائش کے لئے اتنی جگہ ہو گی جہاں وہ دیگر اہل خانہ سے الگ تھلگ (یا مناسب فاصلے پر) رہ سکیں گے دراصل غلط فہمی ہے۔ شہری علاقوں میں رہنے والے بالخصوص چھوٹے رقبے والے مکانات میں رہتے ہیں مگر ان کے اہل خانہ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ اگر ہم پشاور کی بات کریں تو یہاں گھر چھوٹے لیکن مکینوں کے دل بڑے ہوتے ہیں اُور آج بھی مشترکہ خاندانی نظام اِس سماج کا سب سے مضبوط حوالہ ہے۔ حکومتی فیصلہ سازوں نے کورونا متاثرین کے لئے قواعد (SOPs) تشکیل دے رکھے ہیں تو کیا اِس کے بعد کسی اقدام کی ضرورت نہیں رہی؟ ایک سے بڑھ کر ایک مشکل کھڑی کرتے ہوئے برسرزمین حقائق‘ عام آدمی (ہم عوام) کی آمدنی و مالی حیثیت اُور اُس مشترکہ خاندانی نظام کے بارے میں زیادہ بات نہیں ہو رہی جو اپنی جگہ ایک حقیقت ہے اُور جس کی موجودگی میں کورونا متاثرین کا الگ تھلگ رہنا اُس وقت تک عملاً ناممکن رہے گا‘ جب تک کہ حکومت کی جانب سے خصوصی انتظامات‘ سہولیات بشمول مالی امداد نہیں دی جاتی۔

از خود علیحدگی (قرنطینہ) کے لئے قواعد و ضوابط وضع کرنا ضروری تھا لیکن کافی نہیں جب تک کہ عمل درآمد کی صورتحال اُور عمل درآمد نہ ہونے کی وجوہات بارے سوچ بچار نہ کیا جائے۔ جن نجی رہائشگاہوں کو اُن کے مکینوں کے لئے ’قرنطینہ مراکز‘ میں تبدیل کیا گیا ہے‘ اُن کے اعدادوشمار بشمول مکان کا خاکہ‘ وہاں دستیاب سہولیات اُور وہاں مقیم صحت مند افراد سمیت کل مکینوں کے بارے حکومت کے پاس اعدادوشمار نہیں۔ ضوابط بنانے کے ساتھ اگر اُن کے ضمنی و ذیلی پہلوو ¿ں پر بھی غور کیا جاتا اُور اب بھی کیا جائے تو کورونا وائرس کا پھیلاو  بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ 

صوبائی حکومت ہر سطح پر کوشش کر رہی ہے کہ ’طفل تسلیوں‘ سے وقت گزر جائے اُور کام چلتا رہے۔ ماضی کی طرح حکمرانوں کا طرزعمل یہی ہے کہ جہاں اِن کے پاس صحافیوں کے سوالات کے جوابات نہیں ہوتے‘ وہاں رابطے منقطع کر دیئے جاتے ہیں اُور جہاں حکومتی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا مطلوب ہوتا ہے‘ وہاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو سر آنکھوں پر بٹھا لیا جاتا ہے! یہ روش تشویشناک ہے کہ زبانی کلامی بیانات‘ وعدوں اُور یقین دہانیوں سے اب تک کی پراسرار اُور وباو ¿ں سے مقابلہ کرنے کی انسانی تاریخ میں منظرعام پر آنے والے خطرناک جرثومے کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کورونا کی طرح غربت بھی لاعلاج مرض بن چکا ہے۔

پشاور کے ایک متاثرہ صحافی سے ہوئی بات چیت میں جب یہ پوچھا کہ حکومت نے تو کورونا سے متاثرہ صحافیوں کے لئے خصوصی امداد کا اعلان بھی کر رکھا ہے‘ کیا آپ تک وہ امداد پہنچی ہے تو اُس نے بناءتوقف اُور طنزیہ قہقہہ لگاتے ہوئے فوراً کہا ”بھائی مذکورہ امدادی پیکج کے لئے کورونا وائرس سے فوت ہونا ضروری ہے!“
........