Showing posts with label Petroleum Prices. Show all posts
Showing posts with label Petroleum Prices. Show all posts

Sunday, October 17, 2021

Petroleum Prices, inflation & threshold

 ژرف نگاہ ....شبیرحسین اِمام

غربت‘ شرافت اُور طرز حکمرانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 2 ماہ کے دوران 4 مرتبہ اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے سولہ اکتوبر کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 44 پیسے‘ پیٹرول کی قیمت میں 10روپے 49پیسے اور مٹی کا تیل 10روپے 95 پیسے اضافے جیسا غیرمعمولی ردوبدل کیا گیا ہے۔ لائق توجہ ہے کہ کسی حکومتی کامیابی کا اعلان کرنے کے لئے متعلقہ وزارت کا وزیر یا وفاقی کابینہ کے اراکین اپنے ٹوئیٹر اکاو¿نٹ کا استعمال کرتے ہیں لیکن جب وفاق کی منظوری سے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ہوتا ہے تو اِس کے لئے صرف اُور صرف متعلقہ وزارت ہی کا اعلامیہ سامنے آتا ہے جبکہ عوام کے منتخب نمائندے جنہیں عزت اُور مرتبہ دے کر قانون ساز ایوانوں تک پہنچایا جاتا ہے وہ کچھ اِس طرح مصروف (غائب) ہو جاتے ہیں کہ جیسے اُنہیں خبر ہی نہ ہو یا جیسے اُن کا اِس سے کوئی تعلق ہی نہ ہو! کاش پاکستان میں ایک وزارت غربت و مہنگائی کی بھی ہوتی جس کے فیصلہ سازوں سے بازپرس کی جاسکتی لیکن مہنگائی کا ذمہ دار ’عالمی منڈی‘ کو قرار دیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ذمہ دار حکومت نہیں تو اِس جواز کو عام آدمی (ہم عوام) تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ 

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا کیونکہ اشیائے خوردونوش کی نقل و حمل سے لیکر آمدورفت کے اخراجات میں اخراجات میں اضافے کا براہ راست اثر اُن ذخیروں پر بھی پڑتا ہے جو گوداموں میں پڑے ہوتے ہیں یعنی اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہو تو اِس کا اثر نہیں ہوتا لیکن معمولی اُور حالیہ غیرمعمولی اضافے کا فوری اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ حکومت عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مجبور ہوئی اُور اِسے قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا تو کیا وجہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی‘ ناجائز منافع خوری اُور ملاوٹ جیسے 3 محرکات پر قابو پانے میں حکومت ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ذہن نشین رہے کہ حالیہ اضافے کے بعد پاکستان میں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت 137 روپے 79 پیسے ہو گئی ہے جبکہ ایک لیٹر مٹی کے تیل کی قیمت 110 روپے 26 پیسے ہو گئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 134 روپے 48پیسے اُور لائٹ ڈیزل آئل 108 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو چکا ہے۔ وزارت ِخزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں یہ کہا گیا ہے کہ ”عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں قریب پچاسی ڈالر فی بیرل کی بلند سطح پر ہیں جو اکتوبر دوہزاراٹھارہ کے بعد سے ریکارڈ قیمت ہے۔“ لیکن جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ڈالر اُور منفی تک پہنچ گئی تھیں تو تب عوام کو کونسا ریلیف ملا تھا جو اب پچاسی ڈالر فی بیرل ہونے جیسا جواز پیش کیا جا رہا ہے۔ اُمید یہی ہے کہ پیٹرول کی قیمت فی ڈالر یعنی 170 روپے فی لیٹر کے مساوی کر دی جائے گی کیونکہ اِس درآمدی جنس پر سبسڈی ختم کرنے کے لئے حکومت پر اُن مالیاتی اداروں کا دباو¿ ہے‘ جو قرض دیتے ہیں اُور اپنے قرض کو ایسی معاشی اِصلاحات سے مشروط کرتے ہیں‘ جس میں حکومت کسی درآمدی جنس (پیٹرول‘ بجلی‘ گیس‘ گندم‘ چینی‘ گھی‘ خوردنی تیل‘ خشک چائے‘ دالیں وغیرہ) کی وہی قیمت وصول کرے‘ جو قیمت ِخرید ہوتی ہے۔ یہاں مسئلہ مالیاتی اُور انتظامی نظم و ضبط کا ہے کہ حکومتی اداروں کے اخراجات اِس قدر ہوتے ہیں کہ کسی درآمدی جنس کی قیمت سو فیصدی نہیں بلکہ کئی سو فیصدی تک زیادہ مقرر کرنے کے باوجود بھی قومی خزانے کا خسارہ پورا نہیں ہوتا۔ سیاسی فیصلہ سازوں (اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں اُور سینیٹرز) کے اخراجات خسارے کی آگ پر تیل ڈالنے کا کام کرتے ہیں اُور یوں مہنگائی کا آلاو¿ آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے۔ مہنگائی اگر عالمی عمل ہے جس کے سامنے دنیا بے بس اُور عاجز دکھائی دیتی ہے تو اِس صورتحال میں کیا عام آدمی (ہم عوام) یہ مطالبہ کر سکتا ہے کہ فیصلہ سازی کے مراحل اُور سرکاری ملازمین کے اخراجات اُور مراعات بھی حسب حال و ضرورت کم ہونی چاہیئں اُور حکومت و حکومتی ادارے ’چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں؟‘

لمحہ¿ فکریہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ کے نہ صرف روایتی عوامل ہیں بلکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک (آرگنائزیشن آف پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز OPEC تنظیم کے رکن ممالک) کے مفادات‘ کورونا وبا جیسا مشترکہ عمل اُور تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کی کاروباری حکمت عملیوں کا عمل دخل بھی بڑی حد تک شامل ہوتا ہے اُور اگر یہ کہا جائے کہ کورونا وبا کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ ہر ملک اپنی برآمدات سے زیادہ مالی فائدہ اُٹھا کر کورونا وبا کے باعث معاشی بحران سے نکلنا چاہتا ہے اُور اِن تیل پیدا اُور اِس کا کاروبار کرنے والے اداروں کو اِس بات سے کوئی غرض نہیں کہ دنیا پیٹرولیم مصنوعات کی زیادہ قیمتوں سے کس قدر متاثر ہوگی۔ تصور کریں کہ قدرت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات (بشمول گیس) جیسی دولت عطا کی گئی ہے اُور جن ممالک کو یہ نعمت حاصل ہے وہ دیگر ممالک کی ضروریات پوری کرنے میں استحصال کو اپنا پیدائشی حق سمجھ بیٹھے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ایک محرک جس نے اہم کردار ادا کیا ہے وہ امریکی تحمل ہے۔ اس مرتبہ تیل کی عالمی مارکیٹ میں ایک حیران کن کہانی سامنے آئی ہے اُور وہ یہ کہ امریکہ میں تیل پیدا کرنے والوں نے بہت نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا جہاں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود تیل کی پیداوار میں سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ تیل کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کا باعث بنتا ہے کیونکہ بہت سی مصنوعات کے لئے پیٹرولیم بطور خام مال استعمال ہوتا ہے اور اس میں بنیادی طور پر پیٹرول اور ڈیزل جو بنیادی طور پر نقل و حمل کے لئے ایندھن لیکن اِن سے بجلی کی پیداوار بھی ہوتی ہے۔ اِسی طرح کھاد‘ پلاسٹک‘ لوہا‘ سیمنٹ اُور دیگر صنعتیں بھی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرتی ہیں الغرض زراعت (مقامی پیداوار) سے لیکر درآمدات اُور پیداواری صنعت تک زندگی کا کوئی ایک بھی ایسا شعبہ نہیں جو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر نہ ہوتا ہو اُور اِس سے ”انتہائی غربت“ میں اضافہ نہ ہو۔ حرف آخر: جون 2021ءمیں عالمی بینک نے کہا تھا کہ ”پاکستان کی 39.2 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔“ اِس مرحلۂ فکر کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچئے کہ غربت سے متعلق مذکورہ رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد 2 ماہ میں اگر 4 مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو کیا پاکستان میں ’غربت اُور انتہائی غربت کی شرح‘ میں اضافہ ہو گا یا کمی؟ ”میری غربت کو شرافت کا ابھی نام نہ دے .... وقت بدلا تو تری رائے بدل جائے گی (ندا فاضلی)۔“

....






Sunday, June 21, 2020

IN-OBSERVANCE: May I know why?

بے خبری
ماضی کی طرح موجودہ وفاقی اُور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ہر روز‘ بلاناغہ‘ مہنگائی کی شرح پر تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے پاس روائتی بیانات کو نئے اَنداز میں پیش کرنے کے لئے الفاظ ختم ہو گئے ہیں۔ دعویٰ ہے کہ گراں فروشی کی اِجازت نہیں دی جائے گی۔ ذخیرہ اَندوزوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیراعظم نے مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے۔ خصوصی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ .... صورتحال یہ ہے کہ حکمراں برہم اُور عوام پریشان ہیں لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اِس پوری صورتحال سے فائدہ کون اُٹھا رہا ہے؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عام آدمی (ہم عوام) تک کب پہنچیں گے؟ 
چینی کمیشن رپورٹ اُور گندم کی ذخیرہ اندوزی سے متعلق حکومتی تحقیقات کے ثمرات کب ظاہر ہوں گے؟ 

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر ملز مالکان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات دائر کرنے پر حکم امتناعی (سٹے آرڈر) جاری کر کے جس انداز سے عوام کی نظروں میں اپنا مقام بلند کیا ہے‘ وہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کے سیاہ ابواب میں رقم ہو چکا ہے۔ کیا اب بھی ہم عوام نہیں سمجھ سکے کہ جمہوریت اُور جمہوریت کے نام قائم ہونے والی سیاسی جماعتیں اُور یہ حکمران اُن کے مسائل کا حل نہیں بلکہ بذات خود مسئلہ ہیں!؟ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو اُس کا فوری اطلاق ہوتا ہے لیکن اِس میں کمی کا ایک مہینہ گزرنے کے باوجود بھی نہ صرف پیٹرول ناپید ہے بلکہ اِس کی گرانفروشی بھی جاری ہے۔ 

عجیب صورتحال ہے کہ پیٹرول پمپوں پر سرکاری نرخ کے مطابق پیٹرول دستیاب نہیں لیکن سڑک کنارے پلاسٹک کے ڈرم میں غیرمحفوظ انداز سے انتہائی جلد آگ پکڑنے والا محلول سرعام فروخت ہو رہا ہے۔ اگر پیٹرول کی قلت ہے تو غیرقانونی طور پر فروخت کرنے والے پیٹرول کہاں سے حاصل کر رہے ہیں؟ کیا اُنہوں نے اپنے گھروں میں تیل کے کنویں کھود رکھے ہیں اُور اپنی آئل ریفائنریز بنا رکھی ہیں؟

ماضی کی طرح حال کے حکمرانوں کی بے خبری اُور تغافل عیاں ہے‘جن کے پاس عوام کو دی جانے والی طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں۔ عام آدمی (ہم عوام) کو خبر ہے کہ عالمی منڈی میں صرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہی کم نہیں ہوئیں بلکہ خوردنی تیل پام آئل اُور دیگر روغنیات کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں لیکن پاکستان میں صارفین مہنگے داموں گھی اُور خوردنی تیل خرید رہے ہیں۔ چاول دال چائے اُور خشک مصالحہ جات کی قیمتیں بھی کم ہونی چاہیئں لیکن چینی سے لیکر سبزی اُور دال چاول تک ہر جنس نہ صرف مہنگی بلکہ اِن کی قیمتوں میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے اُور اِس پورے منظرنامے کی عینی شاہد (تماشائی) حکومت کی نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) کے ایک حالیہ اجلاس سے متعلق سرکاری خبررساں ادارے نے خبر جاری کی ہے کہ ملک میں مرغیوں اُور انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا گیا ہے اُور عوام کو ریلیف پہنچانے کے لئے صوبائی حکومتوں کو منافع خوروں کے خلاف کاروائی اور قیمتوں میں کمی لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ کیا اِس کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی ہے یا ہوگی؟ یادش بخیر یکم رمضان المبارک سے ایک دن قبل مرغی کی فی کلوگرام قیمت 120 روپے تھی جو پورے رمضان المبارک اُور شوال المکرم کے اختتام کے قریب 200 روپے کی اوسط سے فروخت ہو رہی ہے لیکن این پی ایم سی اچانک جاگ اُٹھی ہے اُور پچاس دن سے زائد فروخت ہونے والی پولٹری مصنوعات کی قیمتوں پر حیرت کا اظہار کر رہی ہے! نجانے یہ حکمران کسے دھوکہ دے رہے ہیں!؟

تفصیلات اہم ہیں اُور اِن تفصیلات سے اُن سبھی کرداروں کی کارکردگی کو سمجھا جا سکتا ہے جنہوں نے ایک طرف مہنگائی کی غیرتحریری اجازت دے رکھی ہے اُور دوسری طرف اِن کی آنکھوں میں مگرمچھ کے آنسوو ¿ں جیسی موسلادھار بارش بھی برس رہی ہے۔ ظلم اُور صبر کی بھی آخر کوئی نہ کوئی تو انتہا ہوتی ہے۔ ہم عوام اِس بات پر کتنا فخر کریں کہ پاکستان کا وزیراعظم ایک ایسا شخص ہے جو بدعنوان نہیں۔ جس کی بیرون ملک سرمایہ کاری اُور جائیدادیں نہیں۔ جس کے کاروباری مفادات اُس کے عہدے سے متصادم نہیں لیکن اگر اِس قدر شریف النفس اُور ایماندار وزیراعظم تمام تر اختیارات اُور حکومتی وسائل کے باوجود عوام کو ناجائز منافع خوری جیسے ظلم سے نہیں بچا سکتا تو محض ایمانداری اُور صداقت و امانت جیسی اہلیت کافی تصور نہیں کی جا سکتیں۔ 

توجہ مبذول رہے کہ حالیہ ’این پی ایم سی‘ اجلاس کی سربراہی (غیرمنتخب سرکاری عہدیدار) وفاقی سیکرٹری برائے خزانہ نوید کامران بلوچ نے کی‘ جس میں ضروری اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔ کیا کوئی پوچھ سکتا ہے کہ عوام کا منتخب نمائندہ اُور متعلقہ وزیر کہاں مصروف تھے؟ 

مہنگائی جیسا سنجیدہ اُور اہم مسئلہ متقاضی ہے کہ این پی ایم سی اجلاس کی سربراہی وزیراعظم خود کریں اُور سب سے پہلے اُن فیصلہ سازوں کو جیل بھجوائیں جو مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے تنخواہیں اُور مراعات وصول کر رہے ہیں! مذکورہ اجلاس میں کمیٹی نے صوبائی حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ کو منافع خوروں کے خلاف سخت کاروائی اُور مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی میں آسانی اور اِن کی قیمتوں میں کمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ جیسا کہ اگر کمیٹی یہ ہدایات جاری نہ کرتی تو اسلام آباد اُور کے دیگر حصوں میں ضلعی انتظامیہ مہنگائی جاری رکھنے کی اجازت برقرار رکھتیں۔ کیا مہنگائی حکومت سے اجازت لیکر کی گئی ہے جو اِسے ختم کرنے کے لئے باقاعدہ اجلاس اُور ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ سیاسی و غیرسیاسی‘ منتخب اُور غیرمنتخب‘ ضلعی‘ صوبائی اُور وفاقی حکمرانوں سے التماس ہے ہم عوام کو مزید دھوکہ اُور دلاسہ دینے سے گریز کریں کیونکہ گزشتہ دو سال سے قائم تحریک انصاف حکومت کے گزشتہ دو ماہ کی انتہائی خراب کارکردگی سے یہ حقیقت ظاہر (بخوبی عیاں) ہو چکی ہے کہ حکمرانی میں ناتجربہ کاری کا فائدہ سرمایہ دار طبقات ہی نہیں بلکہ حکمراں (خاندان و طبقات) بھی کسی نہ کسی صورت اُٹھا رہے ہیں!
........
Clipping from Daily Aaj - 21 June 2020 Sunday
Editorial Page of Daily Aaj - June 21, 2020 Sunday


Thursday, November 2, 2017

Jan 2018: Reasons for inflation!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
منطق‘ دلیل اور مہنگائی!
جیسا کہ ہر بات کی کوئی نہ کوئی تمہید ہوتی ہے بالکل اِسی طرح ’’مہنگائی‘‘ کا براہ راست تعلق (تعارف) ’پیٹرولیم مصنوعات‘ کی قیمتیں ہیں‘ جن میں معمولی ردوبدل کا روزمرہ اشیاء پر کئی سو گنا اثر ہوتا ہے تو جہاں ’فی لیٹر‘ پیسوں کا اضافہ بھی ناقابل برداشت حدوں کو چھوئے‘ وہاں اگر روپوں میں قیمتیں بڑھیں تو صورتحال کی سنگینی کا اَندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عدالت عظمیٰ (سپرئم کورٹ) اور احتساب مقدمات کا سامنا کرنے والی وفاقی حکمراں جماعت نے عوام کے صبر کا ’کڑے امتحان‘ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک ماہ قبل (تیس ستمبر) وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اُور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ’دو روپے فی لیٹر‘ اضافہ کیا گیا اور چند ہفتوں بعد اکتیس اکتوبر کے دن یہ اعلان سامنے آیا کہ ’’آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اِتھارٹی (اُوگرا)‘‘ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ’پانچ روپے اُنیس پیسے‘ تک اضافہ کرنے کی سفارش کو منظور کر لیا گیا‘ جس کے بعد ’مٹی کے تیل (کیروسین آئل) جیسی اُس بنیادی ضرورت کی قیمت بھی ’’چار روپے فی لیٹر‘‘ بڑھ گئی ہے‘ جس سے غریبوں کے گھر کا چولہا جلتا ہے! اسی طرح اشیائے خوردونوش کی نقل حمل میں اِستعمال ہونے والا ایندھن ’’لائٹ ڈیزل‘‘دو روپے فی لیٹر مہنگا کرنے سے بنیادی ضروریات کی ہر شے مہنگی ہو جائے گی! تصور کیجئے ایک طرف ہمارے حکمران ہیں کہ جن کی بیماریوں کا علاج بیرون ملک ہوتا ہے۔ جس عمر میں پاکستانیوں کے بچے اپنا نام نہیں لکھ سکتے اُس میں حکمراں خاندانوں کی اُولادیں بیرون ملک اربوں کھربوں روپے کے اثاثہ جات کی مالک بن جاتی ہے۔ ایک طرف غربت ہے جو‘ ہر گھڑی بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف سرمایہ دار ہیں جن کے اثاثہ جات میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے اور انہیں پاکستان میں مہنگائی کی شرح تو کیا یہاں بنیادی سہولیات کے فقدان سے بھی کوئی غرض نہیں!

پیٹرولیم مصنوعات میں قیمتوں کا منفی اثر ملک کی مجموعی قومی خام پیداوار (جی ڈی پی) پر نمایاں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ توانائی کی کمی سے پیدا ہونے والا بحران اپنی جگہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے مسلسل انکار سے قومی اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہیں۔ 

رواں ہفتے پاکستان میں تعینات جمہوری اسلامی ایران کے سفیر مہدی ہنردوست نے ’ہنرمندی سے زیادہ دانشمندی سے کام لیتے ہوئے‘ قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق اور اسلام آباد ایوانہائے صنعت و تجارت کے اراکین سے ملاقاتوں میں مؤقف دہرایا کہ ’’اگر پاکستان چاہے اور معاہدہ کرے تو ایران پاکستان کو فوری طور پر ’’ایک ہزار سے تین ہزار میگاواٹ‘‘ (سستی) بجلی فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔ ایران کا گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے توانائی بحران پر قابو پانے کا فوری حل ہے‘‘ لیکن ہمارے حکمران ’میڈ اِن ایران‘ حسب ضرورت بجلی خریدنے کے لئے بھی تیار نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے امریکی صدر ٹرمپ کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہو سکتی ہیں جو پہلے دھمکیاں دے رہے ہیں! پاکستان توانائی کے بحران میں اِس قدر شدت سے مبتلا ہوا کہ اس سے نکلنے کے لئے اب تک زبانی کلامی ہی کوشاں ہے۔ 

حکمراں جانتے ہیں کہ توانائی کے بغیر صنعتی ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا‘ لیکن وہ صنعتی ترقی کے بارے بلندبانگ دعوے کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے! توانائی میں گیس اُور بجلی کو یکساں اِہمیت حاصل ہے اور یہ دونوں ضرورتیں بردار ہمسایہ ملک سے پوری ہو سکتی ہیں۔ پٹرولیم کی شکل میں ایندھن کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پٹرول اور گیس کے پاکستان میں ذخائر ضرور موجودہیں جو ضروریات سے کم ہیں۔ ذخائر کو دریافت کرنے کی ہمارے پاس مہارت بین الاقوامی سطح کی نہیں۔ یوں ہم اپنے ہی وسائل سے پوری طرح مستفید نہیں ہو سکے جبکہ توانائی کا بحران سرمایہ کاری کے راستے میں دہشت گردی ہی کی طرح رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ بجلی کی پیداوار میں نسبتاً اضافہ ہوا ہے مگر اب بھی ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔ ایسے میں ایران کی بجلی کی فراہمی کی پیشکش پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ایران اور پاکستان کے مابین گیس پائپ لائن کا معاہدہ موجود اپنی جگہ اور سردخانے میں پڑا ہوا ہے۔ 

ایران نے اپنی طرف سے کروڑوں ڈالر کی لاگت سے گیس پائپ لائن بچھا دی ہے تاہم امریکہ کے دباؤ پر اس معاہدے کی تکمیل سے بھی گریزاں ہیں۔ 

امریکہ نے ایران پر عائد پابندیاں اُٹھا لیں۔ اس کے اربوں ڈالر کے اثاثے واگزار کر دیئے مگر ہم ایران کے ساتھ معاہدوں کی تکمیل سے قاصر رہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں آج بھی ہے لیکن اگر اِس وسیع ترمفاد (ضرورت) کو (قومی ضرورت کے تناظر میں) سمجھا جائے مگر ایران سے بجلی و گیس اور سستے داموں پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کو پس پشت ڈال کر’’تاپی منصوبے‘‘ کی تکمیل جیسے سراب میں حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ تاجکستان‘ افغانستان‘ پاکستان‘ بھارت ’’تاپی منصوبے‘‘ کا حصہ ہیں اور جہاں بھارت ہوگا‘ وہاں پاکستان کے لئے خیرخواہی کی توقع کرنا ہی گمراہی ہے۔ امن و امان اور بھارت دوستی میں آخری حد تک جانے والے افغانستان کے مخدوش داخلی حالات کی وجہ سے ’’تاپی پائپ لائن منصوبہ‘‘ کبھی بھی محفوظ نہیں ہوگا تو کسی ایسے منصوبے میں کیونکر اُمیدوں اور توقعات کی بھی سرمایہ کاری کرکے خود کو دھوکہ دیا جارہا ہے جو عملاً ممکن ہی نہیں۔ ہم سب دل سے جانتے ہیں کہ افغانستان سے گزرنے والی ’’تاپی پائپ لائن‘‘ کبھی محفوظ نہیں رہ سکے گی اور پھر بھارت کا اس منصوبے میں شامل ہونا منصوبے کے ناقابل عمل ہونے کی بڑی دلیل ہے۔ پاکستان کی بہتری اور فوری طورپر توانائی ضروریات ایران کے ساتھ ’’گیس پائپ لائن معاہدے‘‘ کو بلاتاخیر انجام تک پہنچانا ہے اور جہاں ایران کی جانب سے سستی بجلی کی فراہمی کی پیشکش کی جا رہی ہے تو ایسی کسی پیشکش سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا جا رہا؟ ایسا صرف اُسی صورت ممکن ہے جب ہماری داخلہ اور خارجی پالیسیاں قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کی جائیں اور ایسا کرنا صرف مشکل نہیں بلکہ ایک ایسی حکومت کے لئے ناممکن ہے جو عدالتوں میں بدعنوانی کے ’پے در پے‘ الزامات کا سامنا کر رہی ہو۔ 

قوم کو آخر کس بات کی سزا دی جارہی ہے کہ ایک حکمراں خاندان کے مشکوک ذرائع آمدنی اُور اثاثہ جات کی ملکیت ثابت کرنے کو سیاسی انتقام اور سازش بنا دیا گیا ہے۔ کیا جمہوریت ایک ایسے نظام کو کہتے ہیں جس میں ایک مرتبہ منتخب ہونے والے عوام کے نمائندے تاحیات قانون سے بالاتر تصور کئے جائیں؟ اگر احتساب کے قوانین اور قواعد کا اطلاق عام آدمی پر ہوتا ہے تو اِس سے حکمراں جماعت کے اَراکین کیسے (کس اَصول و منطق کی بنیاد پر) مستثنیٰ قرار دیئے جا سکتے ہیں!؟
۔