Showing posts with label Sugar Mafia. Show all posts
Showing posts with label Sugar Mafia. Show all posts

Sunday, June 21, 2020

IN-OBSERVANCE: May I know why?

بے خبری
ماضی کی طرح موجودہ وفاقی اُور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ہر روز‘ بلاناغہ‘ مہنگائی کی شرح پر تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے پاس روائتی بیانات کو نئے اَنداز میں پیش کرنے کے لئے الفاظ ختم ہو گئے ہیں۔ دعویٰ ہے کہ گراں فروشی کی اِجازت نہیں دی جائے گی۔ ذخیرہ اَندوزوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیراعظم نے مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے۔ خصوصی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ .... صورتحال یہ ہے کہ حکمراں برہم اُور عوام پریشان ہیں لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اِس پوری صورتحال سے فائدہ کون اُٹھا رہا ہے؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عام آدمی (ہم عوام) تک کب پہنچیں گے؟ 
چینی کمیشن رپورٹ اُور گندم کی ذخیرہ اندوزی سے متعلق حکومتی تحقیقات کے ثمرات کب ظاہر ہوں گے؟ 

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر ملز مالکان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات دائر کرنے پر حکم امتناعی (سٹے آرڈر) جاری کر کے جس انداز سے عوام کی نظروں میں اپنا مقام بلند کیا ہے‘ وہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کے سیاہ ابواب میں رقم ہو چکا ہے۔ کیا اب بھی ہم عوام نہیں سمجھ سکے کہ جمہوریت اُور جمہوریت کے نام قائم ہونے والی سیاسی جماعتیں اُور یہ حکمران اُن کے مسائل کا حل نہیں بلکہ بذات خود مسئلہ ہیں!؟ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو اُس کا فوری اطلاق ہوتا ہے لیکن اِس میں کمی کا ایک مہینہ گزرنے کے باوجود بھی نہ صرف پیٹرول ناپید ہے بلکہ اِس کی گرانفروشی بھی جاری ہے۔ 

عجیب صورتحال ہے کہ پیٹرول پمپوں پر سرکاری نرخ کے مطابق پیٹرول دستیاب نہیں لیکن سڑک کنارے پلاسٹک کے ڈرم میں غیرمحفوظ انداز سے انتہائی جلد آگ پکڑنے والا محلول سرعام فروخت ہو رہا ہے۔ اگر پیٹرول کی قلت ہے تو غیرقانونی طور پر فروخت کرنے والے پیٹرول کہاں سے حاصل کر رہے ہیں؟ کیا اُنہوں نے اپنے گھروں میں تیل کے کنویں کھود رکھے ہیں اُور اپنی آئل ریفائنریز بنا رکھی ہیں؟

ماضی کی طرح حال کے حکمرانوں کی بے خبری اُور تغافل عیاں ہے‘جن کے پاس عوام کو دی جانے والی طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں۔ عام آدمی (ہم عوام) کو خبر ہے کہ عالمی منڈی میں صرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہی کم نہیں ہوئیں بلکہ خوردنی تیل پام آئل اُور دیگر روغنیات کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں لیکن پاکستان میں صارفین مہنگے داموں گھی اُور خوردنی تیل خرید رہے ہیں۔ چاول دال چائے اُور خشک مصالحہ جات کی قیمتیں بھی کم ہونی چاہیئں لیکن چینی سے لیکر سبزی اُور دال چاول تک ہر جنس نہ صرف مہنگی بلکہ اِن کی قیمتوں میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے اُور اِس پورے منظرنامے کی عینی شاہد (تماشائی) حکومت کی نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) کے ایک حالیہ اجلاس سے متعلق سرکاری خبررساں ادارے نے خبر جاری کی ہے کہ ملک میں مرغیوں اُور انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا گیا ہے اُور عوام کو ریلیف پہنچانے کے لئے صوبائی حکومتوں کو منافع خوروں کے خلاف کاروائی اور قیمتوں میں کمی لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ کیا اِس کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی ہے یا ہوگی؟ یادش بخیر یکم رمضان المبارک سے ایک دن قبل مرغی کی فی کلوگرام قیمت 120 روپے تھی جو پورے رمضان المبارک اُور شوال المکرم کے اختتام کے قریب 200 روپے کی اوسط سے فروخت ہو رہی ہے لیکن این پی ایم سی اچانک جاگ اُٹھی ہے اُور پچاس دن سے زائد فروخت ہونے والی پولٹری مصنوعات کی قیمتوں پر حیرت کا اظہار کر رہی ہے! نجانے یہ حکمران کسے دھوکہ دے رہے ہیں!؟

تفصیلات اہم ہیں اُور اِن تفصیلات سے اُن سبھی کرداروں کی کارکردگی کو سمجھا جا سکتا ہے جنہوں نے ایک طرف مہنگائی کی غیرتحریری اجازت دے رکھی ہے اُور دوسری طرف اِن کی آنکھوں میں مگرمچھ کے آنسوو ¿ں جیسی موسلادھار بارش بھی برس رہی ہے۔ ظلم اُور صبر کی بھی آخر کوئی نہ کوئی تو انتہا ہوتی ہے۔ ہم عوام اِس بات پر کتنا فخر کریں کہ پاکستان کا وزیراعظم ایک ایسا شخص ہے جو بدعنوان نہیں۔ جس کی بیرون ملک سرمایہ کاری اُور جائیدادیں نہیں۔ جس کے کاروباری مفادات اُس کے عہدے سے متصادم نہیں لیکن اگر اِس قدر شریف النفس اُور ایماندار وزیراعظم تمام تر اختیارات اُور حکومتی وسائل کے باوجود عوام کو ناجائز منافع خوری جیسے ظلم سے نہیں بچا سکتا تو محض ایمانداری اُور صداقت و امانت جیسی اہلیت کافی تصور نہیں کی جا سکتیں۔ 

توجہ مبذول رہے کہ حالیہ ’این پی ایم سی‘ اجلاس کی سربراہی (غیرمنتخب سرکاری عہدیدار) وفاقی سیکرٹری برائے خزانہ نوید کامران بلوچ نے کی‘ جس میں ضروری اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔ کیا کوئی پوچھ سکتا ہے کہ عوام کا منتخب نمائندہ اُور متعلقہ وزیر کہاں مصروف تھے؟ 

مہنگائی جیسا سنجیدہ اُور اہم مسئلہ متقاضی ہے کہ این پی ایم سی اجلاس کی سربراہی وزیراعظم خود کریں اُور سب سے پہلے اُن فیصلہ سازوں کو جیل بھجوائیں جو مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے تنخواہیں اُور مراعات وصول کر رہے ہیں! مذکورہ اجلاس میں کمیٹی نے صوبائی حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ کو منافع خوروں کے خلاف سخت کاروائی اُور مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی میں آسانی اور اِن کی قیمتوں میں کمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ جیسا کہ اگر کمیٹی یہ ہدایات جاری نہ کرتی تو اسلام آباد اُور کے دیگر حصوں میں ضلعی انتظامیہ مہنگائی جاری رکھنے کی اجازت برقرار رکھتیں۔ کیا مہنگائی حکومت سے اجازت لیکر کی گئی ہے جو اِسے ختم کرنے کے لئے باقاعدہ اجلاس اُور ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ سیاسی و غیرسیاسی‘ منتخب اُور غیرمنتخب‘ ضلعی‘ صوبائی اُور وفاقی حکمرانوں سے التماس ہے ہم عوام کو مزید دھوکہ اُور دلاسہ دینے سے گریز کریں کیونکہ گزشتہ دو سال سے قائم تحریک انصاف حکومت کے گزشتہ دو ماہ کی انتہائی خراب کارکردگی سے یہ حقیقت ظاہر (بخوبی عیاں) ہو چکی ہے کہ حکمرانی میں ناتجربہ کاری کا فائدہ سرمایہ دار طبقات ہی نہیں بلکہ حکمراں (خاندان و طبقات) بھی کسی نہ کسی صورت اُٹھا رہے ہیں!
........
Clipping from Daily Aaj - 21 June 2020 Sunday
Editorial Page of Daily Aaj - June 21, 2020 Sunday


Monday, June 15, 2020

OVER PRICED SUGAR: The Nexus of Govt, Mafia and Court

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
گھاٹے کا سودا
وفاقی کابینہ اجلاس (اکیس مئی) نے ’شوگر کمیشن رپورٹ‘ منظرعام پر لانے کی منظوری دی جس سے قبل کسی بھی اِدارے اُور چینی ساز صنعتوں کو تحقیقات پر اِس قدر اعتراضات نہ ہوئے کہ وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے۔ پھر اِس دوسرا مرحلے پر جبکہ تحقیقاتی رپورٹ صیغہ راز میں نہ رکھنے کا فیصلہ ہوا تو اِس پر شوگر ملز مالکان خاموش رہے کیونکہ وہ ماضی میں بھی اِس قسم کی تحقیقات سے نمٹ چکے تھے اُور یہ بات صرف صنعتکار ہی نہیں بلکہ عام پاکستانی بھی جانتا ہے کہ سرمایہ داروں اُور صنعتکاروں کے خلاف اِس قسم کی تحقیقات ہر دور حکومت میں ہوتی رہتی ہیں لیکن اوّل تو یہ تحقیقات اِس انداز سے کی جاتی ہیں کہ اِس میں فائدہ اُٹھانے والے فریق (نجی کاروباری طبقات کا) فائدہ ہو اُور دوسرا اِس قسم کی رپورٹیں خفیہ رکھی جاتی ہیں جن کے صفحات میں کیا لکھا ہوتا ہے اِس بارے میں عام آدمی (ہم عوام) کو زیادہ معلومات نہیں ہو سکتیں اُور تیسرا تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نامزد اداروں کے خلاف کاروائی نہ کرنا بھی ایک معمول ہے لیکن تحریک انصاف ماضی کی حکومتوں سے قطعی مختلف ثابت ہوئی۔ ملک میں چینی کی قلت‘ قیمت میں اضافے اُور حکومت کی جانب سے شوگر ملوں کو دی جانے والی سبسڈی کے بارے میں تحقیقات کروائی گئیں اُور یہ بنا سیاسی دباو ¿ اپنے مقررہ وقت (تین ماہ میں) مکمل ہوئیں۔ مذکورہ تحقیقات کی روشنی میں سامنے آنے والی جملہ سفارشات منظرعام پر ہیں تو کیا کیونکہ سزا و جزا دیکھنے میں نہیں آ رہی؟

چینی تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات سے متعلق 7 جون کے روز فیصلہ ہوا کہ اِنہیں قومی احتساب بیورو کے حوالے کیا جائے گا تاکہ جو شوگر ملیں دروغ گوئی سے اربوں روپے بطور سبسڈی وصول کرتی رہی ہیں‘ جنہیں ناجائز منافع خوری کی عادت پڑ چکی ہے‘ جن کی ٹیکس چوری اُور غیرقانونی کاروباری دھندوں سے ہر خاص و عام کسی نہ کسی صورت آگاہ ہے لیکن ابھی بدعنوانی کے الزامات کے تحت قانون کے مطابق کاروائی شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ شوگرملز مالکان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا اُور نہ صرف ممکنہ کاروائی اُور مزید بدنامی کا راستہ روک لیا بلکہ اُس پورے تحقیقاتی عمل کو ہی دفن کر دیا ہے‘ جس کے ذریعے سے پہلی مرتبہ یہ اُمید ہو چلی تھی کہ چینی کی آڑ میں عوام کو لوٹنے والوں کا اِحتساب ہوگا اُور بات صرف چینی تک محدود نہیں رہے گی۔ یہ بھی توقع تھی کہ عوام کو چینی جیسی بنیادی اُور ضروری جنس اِس کی اصل قیمت پر ملنا شروع ہو گی لیکن عدالت نے یہاں دخل اندازی کر کے اپنی طرف سے قیمت مقرر کر دی جو عدالت کا اختیار ہی نہیں اُور نہ ہی تحقیقاتی رپورٹ سے مطابقت رکھتا ہے۔ اِس مضحکہ خیز صورتحال نے ’خراب طرز حکمرانی‘ کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے کہ ایک تو حکومت اپنے فیصلوں کو صیغہ ¿ راز میں نہیں رکھ پائی جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے شوگرملز مالکان نے جو ہر مرتبہ حکومت سے ریلیف حاصل کیا کرتے تھے اُور دوسرا اِس مرتبہ اگر حکومت کچھ کرنا چاہتی ہے تو عدالت شوگرملز کے لئے بطور نجات دہندہ سامنے آئی ہے۔ اگر کسی عام آدمی کے خلاف قانونی کاروائی کرنا ہوتی ہے تو اُسے کان کان خبر بھی نہیں ہوتی اُور نامعلوم افراد اُسے اُٹھا لے جاتے ہیں جبکہ (اربوں روپے کی بدعنوانی کے پچاس سالہ دور سے متعلق) شوگر ملز کے معاملے میں حکومت‘ احتساب کا عمل‘ قانون نافذ کرنے والے ادارے اُور عدالت نے کسی نہ کسی مرحلے پر سہولت کاری کر رہے ہیں! اصولاً عدالت کو درخواست واپس کر دینا چاہئے تھا اُور اِس کے لئے ”ایگزیکٹو معاملات میں مداخلت نہ کرنا“ اپنی جگہ مضبوط و کافی دلیل تھی۔

شوگر مل مالکان کی درخواست کے جواب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کچھ سوالات اٹھائے اُور پھر خود ہی اِن سوالات کا جواب بھی کہیں واضح تو کہیں لیکن ’اَن کہے‘ اَنداز میں دیا ہے۔ شوگر انکوائری کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں صنعتی اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا جس کی وجہ سے پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا بلکہ شوگر ملز نے قیمتوں کے تعین کو بھی عملاً اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ اگرچہ عدالت نے 10 دن کے لئے حکم امتناعی جاری کیا لیکن یہ 10دن گویا 10سال جیسا ریلیف دینا ہے کیونکہ اِس دوران کروڑوں روپے فیس وصول کرنے والے وکیل نہ صرف اپنی قانونی مہارت دکھائیں گے بلکہ پس پردہ معاملات بھی طے پانے کے لئے دس دن کی مہلت بہت ہے۔ جن شوگر ملز مالکان کو کم سے کم 29 ارب روپے لی گئی سبسڈی واپس کرنے سے بچانی ہے اگر وہ دس پندرہ ارب خرچ بھی کر دیں اُور سبسڈی لینے کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے چینی کی قیمتوں کے تعین کا اپنا اختیار بھی برقرار رکھیں تو یہ قطعی گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔ خسارہ اگر کسی کا ہوا ہے اُور ہو رہا ہے تو وہ ہم عوام ہیں‘ جن کی نظروں میں حکومت‘ قومی احتساب بیورو‘ خفیہ اُور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ساتھ عدالت بھی ایک ہی صف میں صنعتکاروں کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ یقینا یہ درست تاثر نہیں اُور نہ ہی ایک اسلامی اُور جمہوری مملکت کے شایان ہے!

شوگر ملز نے عدالت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ 70 روپے فی کلوگرام چینی فروخت کریں گے جبکہ شوگر کمیشن کی رپورٹ میں چینی بنانے اُور اُس کی نقل و حمل (منڈیوں کو فراہمی پر اُٹھنے والے اخراجات کے بعد فی کلوگرام چینی کی قیمت 30 سے 40 روپے کے درمیان معلوم ہوتی ہے اگر بہت زیادہ منافع بھی دیا جائے تو اضافی 10 روپے کے ساتھ 50 روپے فی کلوگرام چینی ہونی چاہئے اُور سال 2019ءمیں چینی اِسی قیمت پر فروخت ہوتی تھی تو اب کیوں نہیں؟

معلوم ہوتا ہے کہ انکوائری کمیشن کے خلاف پوری چینی کی صنعت جملہ ہتھیاروں یعنی نوٹوں سے بھری بوریوں کے منہ کھول کر میدان میں اُتر آئی ہے۔ تنازعہ کا بنیادی نکتہ وفاقی حکومت کا منظور کردہ 2017کا قانون ہے جس کے تحت آئینی مینڈیٹ اور تحقیقات کے لئے فیڈرل کمیشن آف انکوائری کے بارے میں اعتراض اُٹھایا گیا ہے۔ شوگر انڈسٹری کا دعویٰ ہے کہ کمیشن نے اُن معاملات میں دخل اندازی کی جو درحقیقت صوبوں کے ایگزیکٹو اور قانون سازی سے متعلق اختیارات ہیں۔

غورطلب ہے اعتراض کا نکتہ کیا ہے اُور یہ نہیں کہا جا رہا کہ جو کچھ تحقیقاتی کمیشن نے لکھا ہے وہ غلط ہے لیکن یہ کہا جا رہا ہے کہ تحقیقات کرنے کا اختیار نہیں تھا! شروع دن سے تشنگی محسوس ہو رہی ہے اُور واضح ہے کہ کمیشن کی 324صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ابھی بہت سارے نکات اُور پہلوو ¿ں کو شامل نہیں کیا گیا جو شامل ہونے چاہیئں اُور اگر عدالت عوام کے حق میں ہوتی تو اُن سبھی پہلوو ¿ں پر بھی تحقیقات کا حکم صادر کر سکتی تھی۔ بہرحال شوگر تحقیقاتی کمیشن نے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کر دی ہے اُور تجویز کیا ہے کہ وہ شوگر ملز مالکان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے لیکن یہ کاروائی کون کرے گا اُور کیسے ممکن ہوگی‘ یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی!؟
............
Clipping from Daily Aaj - June 15, 2020
Editorial Page - Daily Aaj - June 15, 2020

Saturday, March 3, 2018

Feb 2018: Unresolved issues of the KP's "Sugar Cane Farmers!"

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
محروم توجہ زراعت!
خیبرپختونخوا حکومت کی عملداری کہاں ہے؟ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخنامے کی اگر کوئی بھی پابندی نہیں کرتا تو ایسے قانون شکنوں سے ’’قانون کے مطابق معاملہ‘‘ کون کرے گا؟ زراعت کی سرپرستی اور کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کس کی ذمہ داری ہے؟ 

حکومت کی جانب سے فی من گنے کی قیمت 180 روپے مقرر کی گئی ہے لیکن شوگر ملز کی جانب سے گنا 140 روپے فی من کی قیمت پر خریدا جا رہا ہے اور اِس ’’کھلم کھلا قانون شکنی‘‘ پر سراپا احتجاج ’گنے کے کاشتکاروں‘ نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت کے مقرر کردہ نرخوں کے مطابق کاشتکاروں کو ادائیگیاں ممکن نہ بنائیں اور گنے کے کاشتکاروں کی شکایات کا ازالہ کرتے ہوئے اُس اقرباء پروری کی پالیسی کا بھی خاتمہ بھی نہ کیا گیا‘ جس کی وجہ سے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والوں کو فائدہ ہو رہا ہے تو سوائے احتجاج کرنے کوئی دوسری صورت باقی نہیں رہے گا۔ 

پشاور کے ٹاؤن ٹو ناظم ’فرید اللہ خان کافورڈھیری‘ گنے کے کاشتکاروں کی آواز بنے ہوئے ہیں جن کی زیرصدارت اجلاس میں اگرچہ صرف ’ٹاؤن ٹو‘ کی حدود میں گنے کے کاشتکاروں نے شرکت کی لیکن اگر وہ اپنے اصولی مؤقف کو منوانے اور حکومت پر دباؤ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اِس سے خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں بھی چھوٹے بڑے کاشتکاروں کو فائدہ ہوگا‘ جن کی آنکھیں انصاف کی راہ دیکھتے پتھرا چکی ہیں۔ ’’پھرے تو پھرے جیسے آفت زدہ ۔۔۔ رہے تو رہے جیسے محنت زدہ (میر تقی میرؔ )۔ 

لمحۂ فکریہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ’گنے کی سپورٹ پرائس‘ مقرر کرنے اور زمینداروں کو حسب قیمت ادائیگیاں کرنے کی یقین دہانی ’کین کمشنر‘ کی جانب سے کروائی گئی تھی‘ جس کی وجہ سے کاشتکاروں نے اپنا احتجاج مؤخر کردیا تھا لیکن صورتحال جوں کی توں ہے۔ جب معاملہ گرم تھا اور کاشتکاروں کا غم و غصہ عروج پر تھا‘ تب درجۂ حرارت کو ٹھنڈا کرنے کے لئے شوگرملز مالکان نے ابتدأ میں گنے کی پوری ’سپورٹ پرائس‘ ادا کی لیکن بعدازاں 180کی بجائے 140 روپے اور اِس سے بھی کم کی ادائیگیاں کی جانے لگیں کیونکہ ایک تو شوگر ملز مالکان سیاسی اثرورسوخ رکھتے ہیں اور دوسرا کاشتکاروں کے مقابلے سرمایہ دار ہونے کی وجہ سے وہ کسی قانون اور عدالت سے خوفزدہ نہیں کیونکہ اگر کاشتکار عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے یا عدالت ازخود نوٹس لے گی تو دونوں ہی صورتوں میں شوگرملز بذریعہ مہنگے ترین نامور وکلاء کی خدمات حاصل کر لیں گے‘ جو عدالتی کاروائی (مقدمے اور سماعتوں) کو اتنا طول دیں گے کہ فوری طور پر کسی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے گنے کا کاشتکاروں کی اُمیدیں گنے کے ریشوں میں چھپے رس کی طرح خشک ہو چکا ہوگا۔ 

عجیب بات تو یہ ہے کہ ایک یا دو روپے مہنگی جنس فروخت کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کے چرچے کئے جاتے ہیں لیکن کھلے عام کاشتکاروں کو استحصال کرنے والوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حکومت کی ’رٹ (عملداری)‘ قائم کرنے کے لئے متعلقہ محکمہ (سرکاری اہلکار) ماضی کی طرح آج بھی ’’مصلحتوں کے شکار (ذاتی مفادات کے اسیر)‘‘ دکھائی دیتے ہیں!

درحقیقت کسی معاشرے کے سب سے اہم افراد (VVIPs) وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی محنت اور خون پسینے سے پیداواری عمل کو آگے بڑھاتے ہیں‘ جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے بلکہ اپنے تجربے سے دوسروں کے لئے بھی روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ زراعت سے وابستہ 70فیصد افراد کا روزگار اور بالخصوص خیبرپختونخوا کی معیشت کو زرعی پیداوار (سبزی و پھل) اور لائیوسٹاک ہی نے سہارا دیا‘ بصورت دیگر دہشت گردی کے سبب امن و امان کی خراب صورتحال نے تباہی و بربادی میں کوئی کسر چھوڑ نہیں رکھی تھی لیکن افسوس کہ بالخصوس کاشتکاروں اور زمینداروں و باغبانوں کے مسائل کی جانب توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے بعد مذکورہ ’خون پسینہ ایک کرنے والے‘ طبقات کی خدمات اور ہمت کا عملاً اعتراف کیا جا رہا ہے! 

خیبرپختونخوا حکومت کو سوچنا چاہئے کہ جن ’شوگر ملز‘ نے گنے کی مقررہ سپورٹ پرائس پر خریداری سے انکار کر رکھا ہے یا جنہوں نے حکومت کے مقرر کردہ نرخنامے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے گنے کی قیمت خرید بھی تاحال مقرر کی نہیں کی تو ایسے ناجائز منافع خوروں (مفادپرستوں) سے نمٹنے کی حکمت عملی کیاہونی چاہئے اور اگر اِس ’مستقل مسئلے‘ کا کوئی ’پائیدار عملی حل‘ تلاش کرنے کی نیت ہے تو اُس کے لئے قانون سازی کے سوأ راستہ نہیں۔ حد سے زیادہ گنے کی کاشت نہ ہو اور شوگر ملز اپنی استعداد (پیداواری صلاحیت) کے مطابق گنے کی فوری خریداری کریں‘ تو زرعی پیداوار سے لیکر شوگرملز کی خریداری تک پورے نظام کی اصلاح ہو سکتی ہے۔ یادش بخیر اراکین صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی تنخواہوں اور میں مراعات میں اضافے کی ترمیم اگر ’آن کی آن (کھڑے کھڑے)‘ منظور ہو سکتی ہے اور سبھی سیاسی جماعتیں کسی ایک نکتے پر متفق ہو سکتی ہیں تو زمینداروں اور کاشتکاروں کے مسائل حل کرنے کے لئے قانون ساز کیوں متحد نہیں ہو سکتے؟ 

عام آدمی (ہم عوام) کو بھی سوچنا چاہئے کہ جن سیاسی جماعتوں کو وہ اب تک اپنے ووٹ (نمائندگی) کا حقدار سمجھتے رہے ہیں درحقیقت وہ عوام کے نہیں بلکہ خواص کے ترجمان ہیں اور اُن سے خیر کی ہر توقع کا ہمیشہ خون ہوا ہے اور آئندہ بھی ہوگا! 

کیا خیبرپختونخوا‘ ایک مرتبہ پھر اُنہی آزمودہ (بار بار آزمائی ہوئی) سیاسی جماعتوں اُور دھڑوں (عوامی نیشنل پارٹی‘ پیپلزپارٹی‘ پاکستان مسلم لیگ (نواز)‘ پاکستان تحریک انصاف یا پھر دینی و سیاسی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن)‘ جماعت اسلامی اور دیگر بشمول دینی جماعتوں کے اتحاد ’متحدہ مجلس عمل‘) کو ووٹ دینے جیسی ’دانستہ غلطی کا ارتکاب‘ گا‘ جنہوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کو عزیز (پیش نظر) رکھا؟
اَمر واقعہ یہ ہے کہ ’کین کمشنر‘غریب کاشتکاروں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے جبکہ (صاحب بہادر) ڈپٹی کمشنر پشاور بھی اپنے فرائض سے پہلوتہی کے مرتکب ہو رہے ہیں‘ ایسی صورت میں اَگر کاشتکار ’بہ اَمر مجبوری‘ اِحتجاج کرتے ہیں اُور اِس سے امن و امان کی کوئی صورتحال پیدا ہوتی ہے جس سے پشاور میں پہلے سے متاثرہ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے تو اِس کے لئے ذمہ دار کون ہوگا؟ 

کیا ڈپٹی کمشنر پشاور سمیت سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں کو ’رَتی بر اِحساس‘ ہے کہ کاشتکار کتنی محنت اور پیٹ کاٹ کر کوئی ایک فصل تیار کرتے ہیں‘ جس کی اُنہیں پیداواری لاگت تک نہیں ملتی تو اُن بیچاروں کی بڑھتی ہوئی غربت و پسماندگی بھی فیصلہ سازوں کے پیش نظر نہیں؟ ’محروم توجہ زراعت‘ کو خاطرخواہ توجہ دیئے بغیر ’غذائی خودکفالت‘ کے مقررہ اہداف حاصل نہیں ہو پائیں گے۔ زرخیز ’زرعی اراضیوں (قطعات) کو اگر ہمیشہ کے لئے تباہ ہونے سے بچانا ہے اور اگر زراعت کو لاحق ’ہاوسنگ سوسائٹیز‘ جیسے جاری ’ناقابل تلافی نقصانات‘ پر حکومتی سطح تشویش پائی جاتی ہے تو کاشتکاروں اور کاشتکاری کے مسائل حل کرنا ہوں گے‘ کیونکہ خستہ حال کاشتکاروں کی حالت زار تبدیل کرنے کی دوسری کوئی ’پائیدار عملی صورت‘ باقی نہیں رہی!
۔

Thursday, December 28, 2017

Dec 2017: Sugar Mafia hold over the commodity & farming!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
’ ۔۔۔’مالیاتی دہشت گرد!‘
نصاب تعلیم کا حصہ ہے کہ ’’پاکستان ایک زرعی ملک ہے‘‘ لیکن اِس حقیقت پر خاطرخواہ یقین اور اعتماد تو دور کی بات ’زرعی شعبے کی ترقی‘ میں پنہاں اِمکانات اُور غذائی خودکفالت جیسے کثیرالجہتی ثمرات بھی پیش نظر نہیں رہے۔ 

زرعی ملک‘ زرعی معیشت ومعاشرت‘ زرعی اقتصادی نظام‘ زرعی انحصار‘ زرعی منڈیاں‘ زرعی پیداواری عوامل‘ زرعی روزگار کے مواقع اور زرعی توسیع و تحقیق جیسے جملہ متعلقہ شعبے خاطرخواہ توجہ چاہتے ہیں۔ زراعت کے بارے ہمیں کسی مظالطے یا خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ اِس حقیقت کے کماحقہ ادراک کے لئے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں کا تجاہل عارفانہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے‘ جو دل کے اندھے ہیں‘ جنہیں توانائی بحران کی موجودگی میں ماحولیاتی و موسمیاتی منفی تبدیلیوں کا باعث بننے والی ’صنعتی ترقی‘ زیادہ پائیدار دکھائی دیتی ہے۔ 

زراعت کی سرپرستی چھوٹے کاشتکاروں اور زمینداروں کے لئے مراعات دینے سے ممکن ہے لیکن حکومت سطح پر رعائت (سبسڈی) کا بڑا حصہ صنعتوں جیسا کہ ’شوگرملز‘ کے لئے مخصوص کر دیا جاتا ہے لیکن اُن محنت کشوں کا ضامن اور سرپرست بننے کے کوئی تیار نہیں‘ جنہیں بلاسود یا آسان شرائط پر قرضہ جات اِس لئے نہیں ملتے کہ اُن کی جان پہچان نہیں ہوتی۔ آج کھیتوں میں کام کرنے والوں کو اگر روزگار میسر نہیں تو اِس کا سبب وسائل کی غلط تقسیم اور سرکاری سطح پر غلط فیصلے ہیں کیونکہ جس محنت کش کو اعزاز ملنا چاہئے وہ راندۂ درگار ہے۔ جنہوں نے غذائی خودکفالت عملاً ممکن بنانے کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کر رکھا ہے‘ اُسی کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا جارہا تو یاد رہے کہ ’’حکومتیں کفر سے تو قائم رہ سکتی ہیں لیکن ظلم سے نہیں!‘‘

کراچی سے پشاور تک ’گنے کے کاشتکار‘ سراپا احتجاج ہیں کیونکہ شوگر ملوں نے پہلے گنے کی فصل خریدنے سے انکار کیا اور بعدازاں اُس کی قیمت بھی خود ہی مقرر کی‘ جن سے فصل کی کاشت (پیداواری) اور نقل و حمل پر اُٹھنے والے اخراجات ہی کی ادائیگی بمشکل ممکن ہو پاتی ہے۔ ’پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن‘ کا مؤقف ہے کہ اُن کے پاس پہلے ہی پچاس فیصد سے زائد گنے کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ ملک کی سالانہ ضروریات کے لئے درکار گنے کی مقدار 120 روپے فی 40 کلوگرام سے زیادہ نہیں خریدی جائے گی۔‘‘ یاد رہے کہ مالی سال 2017ء کے پنجاب‘ سندھ اور خیبرپختونخوا (صوبائی) حکومتوں نے گنے کی اُس امدادی ’قیمت خرید‘ کو برقرار رکھا تھا‘ جو مالی سال 2015ء میں طے (مقرر) کی گئی تھی۔ یہ قیمت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے لئے 180 روپے‘ سندھ کے لئے 182 روپے فی چالیس کلوگرام تھی جبکہ حکومت نے شوگرملز کے لئے دس روپے ستر پیسے فی کلوگرام سبسڈی (رعائت) دینے کا بھی اعلان کیا تھا‘ جو تین مراحل میں ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے والوں کو دی جائے گی تاکہ وہ عالمی منڈی میں چینی کی قیمتوں کا مقابلہ کر سکیں۔

پاکستان میں کاشتکاروں کی قسمت اُس وقت تک تبدیل نہیں ہوسکتی‘ جب تک ہر شعبے کی طرح شوگر ملوں کی ملکیت اُن بااثر شخصیات کے نام رہے گی‘ جن کی فیصلہ سازی اور کاروباری و ذاتی مفادات آپس میں متصادم ہیں۔ شریف اور زرداری (بھٹو) خاندان بالترتیب پنجاب اور سندھ کی پچاس فیصد سے زائد شوگر ملوں کے مالک ہیں جبکہ باقی ماندہ شوگر ملوں میں سے بھی اکثر سیاست دانوں یا اُن کے اہل خانہ کی ملکیت ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ کاروباری طبقات کی طرح شوگر ملز مالکان اپنی آمدن کا ایک خاص حصہ قومی سیاست کے لئے مختص رکھتے ہیں اور عام انتخابات میں سرمایہ کاری کے ذریعے فیصلہ سازی کے اُس عمل کو یرغمال (ہائی جیک) کئے ہوئے ہیں‘ جس کے ذریعے چھوٹے کاشتکاروں‘ زمینداروں‘ مزدوروں‘ محنت کشوں اور صارفین کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہئے۔ المیہ ہے کہ بہرصورت برسراقتدار حکمراں خاندانوں کی کھلم کھلا ’مالیاتی اجارہ داری‘ درحقیقت ’مالیاتی دہشت گردی‘ ہے‘ جس کا ادراک ہونے کے باوجود بھی عام آدمی (ہم عوام) اُنہی سیاست دانوں کو مرکز نگاہ و یقین بنائے ہوئے ہیں‘ جن کے ’قول و فعل‘ تضادات کا مجموعہ ہیں۔ بھلا ایسے حکمران پاکستان اور پاکستانیوں کے کیا کام آ سکتے ہیں جنہوں نے اپنے اثاثے‘ اہل و عیال اور سرمایہ کاری بیرون ملک محفوظ کر رکھے ہوں!؟ 

معلوم آمدن سے بڑھ کر اثاثہ جات کے علاؤہ مالی بدعنوانی میں ملوث ہمارے حکمرانوں کے کرتوت صرف پانامہ پیپرز ہی کے ذریعے منظرعام پر نہیں آئے بلکہ یورپ‘ اَمریکہ‘ خلیجی ریاستوں بشمول متحدہ عرب اَمارات میں جائیدادوں (ریئل اسٹیٹ) کی خریدوفروخت کرنے والوں میں بھی (الحمدوللہ) سرفہرست پاکستانی ہی ہیں‘ جو یہاں سے کمانے اور ٹیکس چوری کے عادی ہیں لیکن نہ تو پاکستانی قوانین و قواعد کے مطابق (حسب آمدن) ٹیکس اَدا کرتے ہیں اور نہ ہی پاکستانی قوانین کا احترام کرتے ہیں!

انسداد دہشت گردی کے خلاف قومی حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ ہر سطح پر ’’سیاسی و غیرسیاسی‘‘ حکمران‘ تجزیہ کار‘ محقق‘ دانشور اور سرکاری اہلکار عام آدمی (ہم عوام) کو یقین دلاتے ہیں کہ داخلی و خارجی محاذوں پر پاکستان کو درپیش چیلنجز زیادہ گھمبیر ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاشی و اِقتصادی دہشت گرد‘ جو پاکستان کے زرعی شعبے کو مسلسل ڈس رہے ہیں‘ اُن کا سر کچلے بغیر کسی بھی محاذ اور مرحلے پر کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ پاکستان کے ’’اَن دیکھے‘‘ دشمنوں کے عزائم تو معلوم ہیں لیکن دوستوں کے بھیس میں دشمنوں (آستین کے سانپوں) سے زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے‘ جو مسلسل ڈس بھی رہے ہیں اور احسان بھی کر رہے ہیں۔ ’’عذاب دے گا تو پھر مجھ کو خواب بھی دے گا ۔۔۔ میں مطمئن ہوں‘ میرا دل تیری پناہ میں ہے!‘‘
۔