Showing posts with label NAB. Show all posts
Showing posts with label NAB. Show all posts

Wednesday, July 13, 2022

White Collar Criminals, Accountability & the Judicial System!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام (ناقابل اشاعت)

جرم کہانی: اِحتسابی ٹوٹکے

لوکل کونسل بورڈ صوبہ سرحد (حال خیبرپختونخوا) کے سیکرٹری (مالیاتی و انتظامی امور کے سربراہ) لائق خان نے (4 مئی 2002ءکے روز) اپنے آپ کو ’نیشنل اکاو¿نٹی بیلٹی بیورو (NAB)‘ حکام کے سامنے پیش کیا۔ اُن پر مالی بدعنوانی کے الزامات ہیں اُور وہ گرفتاری کے بچنے کے لئے جون سے 2000ءسے ’نیب‘ کو مطلوب تھے لیکن 2 سال روپوش رہے۔ اِس روپوشی کے دوران ’مارچ2002ء‘ میں لائق خان کے صاحبزادوں نے آخری مرتبہ ’پلئی بارگین (plea bargain)‘ کی درخواست کے ذریعے اپنے والد کو گرفتاری سے بچانے کی کوشش کی تاہم نیب حکام نے یہ کہتے ہوئے مذکورہ درخواست مسترد کر دی تھی کہ قانون و قواعد کے مطابق صرف اُسی شخص کو ’پلئی بارگین (نیب کے ساتھ سودے بازی)‘ کا حق (موقع) دیا جاتا ہے جو زیرحراست ہو یعنی جس کا مقدمہ زیرسماعت ہو لیکن چونکہ لائق خان (عرصہ 2 سال سے) روپوش ہے اِس لئے اُن کے دامن پر لگا بدعنوانی کا داغ صرف قانونی کاروائی (حراست و مقدمے) ہی کے ذریعے دُھل سکتا ہے! ذہن نشین رہے کہ ’نیب قانون 1999ئ‘ کی شق (سیکشن) 9 اُور شق 10 کے تحت ’لائق خان‘ پر آمدنی سے زائد یعنی 5 کروڑ 30 لاکھ (53.2ملین) روپے اثاثہ جات رکھنے کا الزام عائد کیا گیا۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ صوابی کے گاؤں کوٹھہ (Kotha) سے تعلق رکھنے والے لائق خان ایک پیش امام کے بیٹے تھے اُور اُنہیں موروثی طور پر صرف 3 کنال 3 مرلہ اراضی ملی تھی۔ آپ 1957ءمیں ’ایگری کلچر اسسٹنٹ‘ کے عہدے پر بھرتی ہوئے۔ 1967ءمیں ’لوکل کونسل سروس‘ اختیار کی اُور 1988ءسے 1997ء(ریٹائرمنٹ) تک بطور ”سیکرٹری لوکل کونسل سروس‘ تعینات رہے۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ ایک انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے لائق خان نے مختلف شہروں میں جائیدادیں خریدیں اُور صرف حیات آباد پشاور میں آپ کے 38 پلاٹس (قطعات اراضی) ہیں‘ جن کی مالیت کروڑوں روپے ہے۔ لائق خان پر یہ بھی الزام ہے کہ اُنہوں نے اپنے نام کے علاؤہ اپنی بیوی‘ بیٹوں‘ داماد اُور دیگر عزیزوں کے نام پر جائیدادیں خریدیں‘ جن میں سے ایک حاضر سروس عزیز ’لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ‘ ہی میں ’سب انجنیئر‘ کے عہدے پر تعینات ہے۔ اِس تفتیش (حقائق) کی روشنی میں لائق خان کے خلاف ”17 جون 2000ئ“ کے روز ’گرفتاری کے وارنٹ‘ جاری کئے گئے لیکن ’پراسرار‘ طریقے سے اُنہیں اپنے خلاف نیب کی تفتیش اُور گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کی خبر ہو گئی اُور وہ روپوش ہو گئے! گرفتاری کے لئے (مبینہ طور پر) کئی مرتبہ کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہ ہوئی اُور بالآخر نیب عدالت نے 26جولائی 2000ءکے روز اُنہیں مفرور قرار دےدیا۔ 

نیب حکام نے لائق خان کے بیٹوں‘ داماد اُور رشتے دار کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا لیکن کوئی بھی حربہ کارگر نہ ہوا۔

 واضح ہوا کہ

پہلی بات: لائق خان پر آمدن سے زائد اراضی (اثاثہ جات) رکھنے کے ناقابل تردید ثبوت (جائیداد کی صورت) موجود ہیں۔

 دوسری بات: لائق خان اُور اِس کے شریک ِجرم کی ملکیت میں جائیداد کے علاو¿ہ بھی ممکنہ اثاثہ جات (اندرون و بیرون ملک بینک اکاؤنٹس‘ بینک لاکرز‘ زیورات‘ گاڑیاں‘ فرنیچر‘ گھروں کی آرائش و زیبائش) جیسے اثاثوں کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجوہات جلدبازی‘ ناکافی تفتیش اُور بدعنوانی کے ملزمان کے ساتھ ہمدردی و نرمی کا رویہ ہے۔

تیسری بات: اگر لائق خان روپوش اُور بعدازاں مفرور ہوا تو اُس کے شریک مجرم پکڑے جا سکتے تھے اُور یہی ’وعدہ معاف‘ گواہ بن کر ’بدعنوانی کی غضب کہانی‘ کے وہ تفصیلات بھی بیان کر دیتے جو نیب حکام کے وہم و گمان میں نہ ہوتیں لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا جس سے ’لائق خان‘ اُور اُن کے شریک مجرموں کو ذہنی یا جسمانی اذیت پہنچتی۔

چوتھی بات: لائق خان کے کل اثاثہ جات (کی گئی بدعنوانی) کا تخمینہ پانچ سے ساڑھے پانچ کروڑ روپے لگایا گیا جبکہ صرف حیات آباد میں اُس کی ملکیت کے 38 پلاٹس کا ذکر کیا گیا اُور اگر اِن قطعات اراضی ہی کی مارکیٹ ویلیو دیکھی جائے تو یہ اربوں روپے بنتی ہے!

لائق خان کی جرم کہانی‘ اُن کی روپوشی‘ مفروری اُور مئی 2002ءمیں رضاکارانہ گرفتاری کے بعد سے آج تک (جولائی 2022ئ) تک کہانی (مقدمہ) جاری ہے لیکن ایک پیسے کی بھی بدعنوانی ثابت نہیں کی جا سکی کیونکہ لائق خان نے وہ سبھی ’ٹوٹکے‘ استعمال کئے ہیں‘ جن سے صرف نیب قانون ہی نہیں بلکہ عدالت بھی اُن کے سامنے ڈھیر ہے۔ آمدنی سے زائد اثاثہ جات کی صورت بدعنوانی کے ناقابل تردید شواہد موجود ہونے کے باوجود بھی قانون و ریاست ’لائق خان‘ اُور اِس شریک جرم ساتھیوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ اِس پوری ’جرم کہانی‘ کا ایک ”دلچسپ پہلو“ یہ بھی ہے کہ لائق خان کی جانب سے گرفتاری اُور عدالتی سماعتوں (زحمت) سے بچنے کے لئے ’پلئی بارگین‘ کی جو درخواستیں دی گئیں اُن پر بعدازاں نیب حکام نے فیصلہ کرتے ہوئے لوٹ مار سے جمع کردہ وسائل کی ایک خاص تناسب سے رضاکارانہ واپسی (جس کی قانون میں گنجائش (سقم) موجود ہے) پر تصفیہ کیا اُور ’لائق خان‘ کو کہا گیا کہ وہ مجموعی طورپر 68 لاکھ (6.815ملین) روپے جمع کروا دے اُور لائق خان نے یہ رقم قسط وار جمع کروانے کی حامی بھری اُور پہلی قسط کے طور پر23 لاکھ (2.317 ملین) روپے ادا کر کے ایک بڑے بوجھ سے رہائی پائی لیکن بعدازاں مکر گیا۔ اربوں کی بدعنوانی قریب ستر لاکھ روپے کے عوض ”معاف (جائز)“ کرنا کسی بھی صورت انصاف نہیں تھا لیکن یہی طرز ِانصاف پاکستان میں بدعنوانی کی جڑ (بنیادی مسئلہ) ہے۔ 

نیب سے سودے بازی ’تکنیکی ٹوٹکا‘ تھا اُور پہلی قسط (23لاکھ روپے) ادا کرنے کے بعد ’لائق خان‘ نے عدالت عالیہ (پشاور ہائی کورٹ) سے رجوع کیا اُور جسٹس مسرت ہلالی اُور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل بینچ کو بتایا کہ

 1: وہ بدعنوان نہیں۔

2: نیب حکام نے زبردستی اُسے ’پلئی بارگین‘ پر مجبور کیا لہٰذا 

3: پلئی بارگین کی صورت نیب کی جانب سے اُس سے وصول کردہ 23 لاکھ (2.317ملین) روپے واپس دلائے جائیں اُور عدالت نے عیدالاضحی کی تعطیلات سے قبل (جولائی 2022ء) ’نیب حکام‘ کو حکم دیا کہ سات سال قبل (16 جنوری2015ءکے روز) ’لائق خان‘ سے جو رقم (23 لاکھ روپے) رضاکارانہ واپسی کے تحت وصول کئے گئے تھے وہ اُسے واپس کر دیئے جائیں! 

تصور کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں احتساب کا عمل‘ قانون کی عمل داری‘ قوانین کا اطلاق اُور خوف کس قدر کمزور ترین سطح پر ہیں اُور مذکورہ عرصے (دو دہائیوں) کے دوران بدعنوانی کے اِس ایک (مذکورہ) قضیے میں کس قدر حقائق و شواہد تبدیل کر دیئے گئے ہوں گے!

 لائق خان پاکستان میں ’کرپشن‘ کی واحد مثال یا اِس جاری سلسلے کی پوری کہانی نہیں بلکہ صرف ایک کردار ہے جبکہ اِس کی مثل کئی ایک کردار (ریٹائرڈ یا حاضر سروس سرکاری ملازمین) ہمارے اردگرد موجود ہیں جن کے لئے لائق خان کا مقدمہ اُور اِس مقدمے میں اب تک ہوئی پیشرفت ”حوصلہ اَفزا¿“ ہے کہ اگر کبھی اُن کے خلاف بھی اِحتساب کا قانون حرکت میں آیا‘ تب بھی یہی ’ٹوٹکے (کارگر مجرب نسخے)‘ پہلے سے موجود ملیں گے! ذہن نشین رہے کہ ’ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل‘ نامی عالمی تنظیم کی جانب سے سال 2022ءکے لئے جاری کردہ جدول کے مطابق ”بدعنوان ترین 180 ممالک میں پاکستان 140ویں منصب پر فائز ہے جبکہ سال 2021ءمیں پاکستان 124ویں نمبر پر تھا یعنی ایک سال (12ماہ) کے دوران پاکستان میں بدعنوانی 16درجے بڑھی ہے!

....


Monday, June 15, 2020

OVER PRICED SUGAR: The Nexus of Govt, Mafia and Court

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
گھاٹے کا سودا
وفاقی کابینہ اجلاس (اکیس مئی) نے ’شوگر کمیشن رپورٹ‘ منظرعام پر لانے کی منظوری دی جس سے قبل کسی بھی اِدارے اُور چینی ساز صنعتوں کو تحقیقات پر اِس قدر اعتراضات نہ ہوئے کہ وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے۔ پھر اِس دوسرا مرحلے پر جبکہ تحقیقاتی رپورٹ صیغہ راز میں نہ رکھنے کا فیصلہ ہوا تو اِس پر شوگر ملز مالکان خاموش رہے کیونکہ وہ ماضی میں بھی اِس قسم کی تحقیقات سے نمٹ چکے تھے اُور یہ بات صرف صنعتکار ہی نہیں بلکہ عام پاکستانی بھی جانتا ہے کہ سرمایہ داروں اُور صنعتکاروں کے خلاف اِس قسم کی تحقیقات ہر دور حکومت میں ہوتی رہتی ہیں لیکن اوّل تو یہ تحقیقات اِس انداز سے کی جاتی ہیں کہ اِس میں فائدہ اُٹھانے والے فریق (نجی کاروباری طبقات کا) فائدہ ہو اُور دوسرا اِس قسم کی رپورٹیں خفیہ رکھی جاتی ہیں جن کے صفحات میں کیا لکھا ہوتا ہے اِس بارے میں عام آدمی (ہم عوام) کو زیادہ معلومات نہیں ہو سکتیں اُور تیسرا تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نامزد اداروں کے خلاف کاروائی نہ کرنا بھی ایک معمول ہے لیکن تحریک انصاف ماضی کی حکومتوں سے قطعی مختلف ثابت ہوئی۔ ملک میں چینی کی قلت‘ قیمت میں اضافے اُور حکومت کی جانب سے شوگر ملوں کو دی جانے والی سبسڈی کے بارے میں تحقیقات کروائی گئیں اُور یہ بنا سیاسی دباو ¿ اپنے مقررہ وقت (تین ماہ میں) مکمل ہوئیں۔ مذکورہ تحقیقات کی روشنی میں سامنے آنے والی جملہ سفارشات منظرعام پر ہیں تو کیا کیونکہ سزا و جزا دیکھنے میں نہیں آ رہی؟

چینی تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات سے متعلق 7 جون کے روز فیصلہ ہوا کہ اِنہیں قومی احتساب بیورو کے حوالے کیا جائے گا تاکہ جو شوگر ملیں دروغ گوئی سے اربوں روپے بطور سبسڈی وصول کرتی رہی ہیں‘ جنہیں ناجائز منافع خوری کی عادت پڑ چکی ہے‘ جن کی ٹیکس چوری اُور غیرقانونی کاروباری دھندوں سے ہر خاص و عام کسی نہ کسی صورت آگاہ ہے لیکن ابھی بدعنوانی کے الزامات کے تحت قانون کے مطابق کاروائی شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ شوگرملز مالکان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا اُور نہ صرف ممکنہ کاروائی اُور مزید بدنامی کا راستہ روک لیا بلکہ اُس پورے تحقیقاتی عمل کو ہی دفن کر دیا ہے‘ جس کے ذریعے سے پہلی مرتبہ یہ اُمید ہو چلی تھی کہ چینی کی آڑ میں عوام کو لوٹنے والوں کا اِحتساب ہوگا اُور بات صرف چینی تک محدود نہیں رہے گی۔ یہ بھی توقع تھی کہ عوام کو چینی جیسی بنیادی اُور ضروری جنس اِس کی اصل قیمت پر ملنا شروع ہو گی لیکن عدالت نے یہاں دخل اندازی کر کے اپنی طرف سے قیمت مقرر کر دی جو عدالت کا اختیار ہی نہیں اُور نہ ہی تحقیقاتی رپورٹ سے مطابقت رکھتا ہے۔ اِس مضحکہ خیز صورتحال نے ’خراب طرز حکمرانی‘ کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے کہ ایک تو حکومت اپنے فیصلوں کو صیغہ ¿ راز میں نہیں رکھ پائی جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے شوگرملز مالکان نے جو ہر مرتبہ حکومت سے ریلیف حاصل کیا کرتے تھے اُور دوسرا اِس مرتبہ اگر حکومت کچھ کرنا چاہتی ہے تو عدالت شوگرملز کے لئے بطور نجات دہندہ سامنے آئی ہے۔ اگر کسی عام آدمی کے خلاف قانونی کاروائی کرنا ہوتی ہے تو اُسے کان کان خبر بھی نہیں ہوتی اُور نامعلوم افراد اُسے اُٹھا لے جاتے ہیں جبکہ (اربوں روپے کی بدعنوانی کے پچاس سالہ دور سے متعلق) شوگر ملز کے معاملے میں حکومت‘ احتساب کا عمل‘ قانون نافذ کرنے والے ادارے اُور عدالت نے کسی نہ کسی مرحلے پر سہولت کاری کر رہے ہیں! اصولاً عدالت کو درخواست واپس کر دینا چاہئے تھا اُور اِس کے لئے ”ایگزیکٹو معاملات میں مداخلت نہ کرنا“ اپنی جگہ مضبوط و کافی دلیل تھی۔

شوگر مل مالکان کی درخواست کے جواب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کچھ سوالات اٹھائے اُور پھر خود ہی اِن سوالات کا جواب بھی کہیں واضح تو کہیں لیکن ’اَن کہے‘ اَنداز میں دیا ہے۔ شوگر انکوائری کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں صنعتی اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا جس کی وجہ سے پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا بلکہ شوگر ملز نے قیمتوں کے تعین کو بھی عملاً اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ اگرچہ عدالت نے 10 دن کے لئے حکم امتناعی جاری کیا لیکن یہ 10دن گویا 10سال جیسا ریلیف دینا ہے کیونکہ اِس دوران کروڑوں روپے فیس وصول کرنے والے وکیل نہ صرف اپنی قانونی مہارت دکھائیں گے بلکہ پس پردہ معاملات بھی طے پانے کے لئے دس دن کی مہلت بہت ہے۔ جن شوگر ملز مالکان کو کم سے کم 29 ارب روپے لی گئی سبسڈی واپس کرنے سے بچانی ہے اگر وہ دس پندرہ ارب خرچ بھی کر دیں اُور سبسڈی لینے کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے چینی کی قیمتوں کے تعین کا اپنا اختیار بھی برقرار رکھیں تو یہ قطعی گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔ خسارہ اگر کسی کا ہوا ہے اُور ہو رہا ہے تو وہ ہم عوام ہیں‘ جن کی نظروں میں حکومت‘ قومی احتساب بیورو‘ خفیہ اُور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ساتھ عدالت بھی ایک ہی صف میں صنعتکاروں کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ یقینا یہ درست تاثر نہیں اُور نہ ہی ایک اسلامی اُور جمہوری مملکت کے شایان ہے!

شوگر ملز نے عدالت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ 70 روپے فی کلوگرام چینی فروخت کریں گے جبکہ شوگر کمیشن کی رپورٹ میں چینی بنانے اُور اُس کی نقل و حمل (منڈیوں کو فراہمی پر اُٹھنے والے اخراجات کے بعد فی کلوگرام چینی کی قیمت 30 سے 40 روپے کے درمیان معلوم ہوتی ہے اگر بہت زیادہ منافع بھی دیا جائے تو اضافی 10 روپے کے ساتھ 50 روپے فی کلوگرام چینی ہونی چاہئے اُور سال 2019ءمیں چینی اِسی قیمت پر فروخت ہوتی تھی تو اب کیوں نہیں؟

معلوم ہوتا ہے کہ انکوائری کمیشن کے خلاف پوری چینی کی صنعت جملہ ہتھیاروں یعنی نوٹوں سے بھری بوریوں کے منہ کھول کر میدان میں اُتر آئی ہے۔ تنازعہ کا بنیادی نکتہ وفاقی حکومت کا منظور کردہ 2017کا قانون ہے جس کے تحت آئینی مینڈیٹ اور تحقیقات کے لئے فیڈرل کمیشن آف انکوائری کے بارے میں اعتراض اُٹھایا گیا ہے۔ شوگر انڈسٹری کا دعویٰ ہے کہ کمیشن نے اُن معاملات میں دخل اندازی کی جو درحقیقت صوبوں کے ایگزیکٹو اور قانون سازی سے متعلق اختیارات ہیں۔

غورطلب ہے اعتراض کا نکتہ کیا ہے اُور یہ نہیں کہا جا رہا کہ جو کچھ تحقیقاتی کمیشن نے لکھا ہے وہ غلط ہے لیکن یہ کہا جا رہا ہے کہ تحقیقات کرنے کا اختیار نہیں تھا! شروع دن سے تشنگی محسوس ہو رہی ہے اُور واضح ہے کہ کمیشن کی 324صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ابھی بہت سارے نکات اُور پہلوو ¿ں کو شامل نہیں کیا گیا جو شامل ہونے چاہیئں اُور اگر عدالت عوام کے حق میں ہوتی تو اُن سبھی پہلوو ¿ں پر بھی تحقیقات کا حکم صادر کر سکتی تھی۔ بہرحال شوگر تحقیقاتی کمیشن نے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کر دی ہے اُور تجویز کیا ہے کہ وہ شوگر ملز مالکان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے لیکن یہ کاروائی کون کرے گا اُور کیسے ممکن ہوگی‘ یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی!؟
............
Clipping from Daily Aaj - June 15, 2020
Editorial Page - Daily Aaj - June 15, 2020

Sunday, October 14, 2018

TRANSLATION: White-collar crime by Dr. Farrukh Saleem

White-collar crime
جرم کہانی: خاص لوگوں کے کرتوت!
اَنگریزی زبان میں ’وائٹ کالر کرائم‘ کی اِصطلاح ایسے جرائم کے لئے استعمال کی جاتی ہے‘ جن کا اِرتکاب معاشرے کے معززین کرتے ہیں۔ خاص لوگ جب خصوصی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں تو اِس سے معاشرے میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں جن میں یہ منفی تاثر بھی شامل ہوتا ہے کہ عام آدمی کا قانون‘ قانون کے ذریعے انصاف تک رسائی کے عمل اُور بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار و کارکردگی سے اعتماد اُٹھ جاتا ہے۔ ’وائٹ کالر کرائم‘ کرنے والے اپنی سماجی اور قانونی حیثیت سے غلط (ناجائز) فائدہ اٹھاتے ہوئے اجتماعی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ اِس طریقۂ واردات کی تین نمایاں خصوصیات ہوتی ہیں اور اِس میں دیگر جرائم کی طرح تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا جاتا۔ اِس قسم کے جرائم کا تعلق زیادہ تر مالی معاملات (خردبرد یا بدعنوانی) سے ہوتا ہے اُور اِس کا ارتکاب کرنے والی سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز یا کاروباری شخصیات ہوتی ہیں لیکن یہ عمومی تاثر کہ خصوصی افراد کی جانب سے جرائم پرتشدد نہیں ہوتے‘ سوفیصد درست نہیں کیونکہ تشدد کی تعریف محدود پیمانے پر مختصر کی جاتی ہے۔ اگر ہم تشدد کی اصطلاح کو کھول کر بیان کریں تو صورتحال واضح ہو جائے گی۔ برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال 2لاکھ90 ہزار ’’نومولود بچے‘‘ دنیا میں آنے کے پہلے ہی مہینے مر جاتے ہیں۔ اس کے علاؤہ 1 لاکھ 75 ہزار پاکستانی بچے ہر سال اِس لئے مر جاتے ہیں کیونکہ اُن کی پیدائش وقت سے پہلے ہو جاتی ہے اُور 53 ہزار پاکستانی بچوں کی ہلاکت ایسی بیماریوں سے ہوتی ہے جو پینے کا صاف پانی میسر نہ آنے کے سبب ہوتا ہے۔ یہ حقیقت نہایت ہی تکلیف دہ ہے کہ پاکستان دنیا میں ’نومولود بچوں‘ کے لئے نہایت ہی پرخطر ملک ہے۔

کیا ’وائٹ کالر کرائم‘ واقعی پُرتشدد نہیں ہوتے؟ اسلام آباد ائرپورٹ کی مثال لیں۔ اِس ترقیاتی منصوبے کی لاگت کا کل تخمینہ 23 ارب روپے لگایا گیا تھا لیکن جب اِس کی تکمیل ہوئی تو 100 ارب خرچ ہو چکے تھے یعنی ’’77 ارب روپے‘‘ زیادہ خرچ ہوئے۔ اب سوال یہ ہے کہ ’’77 ارب روپے‘‘ کتنے ہوتے ہیں؟ سرطان (کینسر) کا علاج کرنے کے لئے ایک شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال تعمیر کرنے کے لئے ’’4 ارب روپے‘‘ درکار ہوتے ہیں یعنی ’’77 ارب روپے‘‘ سے پاکستان کے طول و عرض میں 19 ایسے ہسپتال قائم ہو سکتے تھے‘ جہاں کینسر سے متاثرہ مریضوں کا علاج معالجہ ممکن ہوتا۔

سوال یہ ہے کہ ’’77 ارب روپے‘‘ کتنے ہوتے ہیں؟ سٹیزن فاؤنڈیشن نامی ایک غیرسرکاری‘ غیرمنافع بخش تنظیم پاکستان میں تعلیمی ادارے قائم کرتی ہے۔ اِس تنظیم کے زیرانتظام پاکستان کے کسی بھی حصے میں ایک ’’پرائمری سکول‘‘ کی تعمیر کے لئے کل ’1 کروڑ 70 لاکھ‘ روپے درکار ہوتے ہیں یوں ’’77 ارب روپے‘‘ سے پاکستان کے طول و عرض میں ’’4500 پرائمری سکول‘‘ قائم کئے جا سکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ’’77 ارب روپے‘‘ کتنے ہوتے ہیں؟ سال 2016-17ء مرتب کردہ سرکاری اَعدادوشمار (پاکستان ایجوکیشن اِسٹے ٹسٹکس رپورٹ) کے مطابق ’’پاکستان میں 2 کروڑ 28 لاکھ (22.84 ملین) سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ’’ 77ارب روپے‘‘ سے 50 لاکھ بچوں کو تعلیم دی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں ’ایف آئی اے‘ اور ’نیب‘ نامی وفاقی ادارے ملک سے ’وائٹ کالر جرائم‘ کا خاتمہ (انسداد بدعنوانی) کرنے کے لئے ذمہ دار ہیں لیکن اگر ہم اِن اداروں کے تفتیشی اور تحقیقی طریقۂ کار (کارکردگی) کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ’ایف آئی اے‘ کا جرائم کی تہہ تک پہنچ کر ملزموں کو کیفرکردار تک پہنچانے میں حاصل ہونے والی کامیابی کی شرح صرف 6.6 فیصد ہے۔ سال2017ء میں ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو 26 ہزار 551 بدعنوانی کی شکایات موصول ہوئیں‘ جن میں سے 456 شکایات پر کاروائی کی گئی جو کہ کل موصول ہونے والی شکایات کا 2 فیصد بنتا ہے۔ جن 456 شکایات پر کاروائی کی گئی اُن میں سے بھی صرف 215 کے حوالے سے تحقیقات ممکن ہوئیں اُور اِن 215 میں سے صرف 112 کو سزا ہو سکی!

سوال: کیا نیب کا ادارہ اپنے ’بنیادی مقصد‘ کے مطابق (خاطرخواہ) کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے؟ جواب: شاید نہیں۔ نیب کی کارکردگی محدود ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اِس ادارے کی صلاحیت محدود ہے اور اِسے زیادہ افرادی مالی اور تکنیکی وسائل کی ضرورت ہے۔ ’نیب‘ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے اِس کے فیصلہ سازوں کی نیت (ارادہ) اور صلاحیت (عمل) دونوں ہی ضروری ہیں۔ مجھے نیب یا ’ایف آئی اے‘ حکام کی نیت میں تو کوئی شک نہیں لیکن اِنہیں حاصل وسائل اور اِن اداروں کی صلاحیت ضرور ایک ایسی رکاوٹ ہے‘ جس کی وجہ سے کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں ’وائٹ کالر کرائم‘ کرنے والوں کو سزائیں دلوانا آسان نہیں اور جب ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں تو یہ عمل زیادہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
’وائٹ کالر جرائم‘ قاتل ہیں اور یہ پاکستان میں ترقی و تبدیلی کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ قوانین کے مطابق سزائیں دلوانے کے لئے جس عمل سے گزرنا پڑتا ہے اُس میں بااثر عناصر مختلف وسائل کا استعمال کرتے ہوئے یا تو صاف بچ نکلتے ہیں یا پھر اپنے جرائم کے تمام پہلوؤں کا احاطہ ہونے نہیں دیتے۔ اِس مسئلے سے نمٹنے کے لئے نیب اور ایف آئی اے کی صلاحیت و استعداد میں اضافہ ناگزیر ہے جو قلیل اور طویل مدتی اصلاحات کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ قلیل مدتی حل کے لئے عمومی اُور روائتی سے ہٹ کر کوئی متبادل (آؤٹ آف باکس) حل ڈھونڈنا ہوگا۔ وائٹ کالر کرائم (خصوصی جرائم) ہیں جن کا ارتکاب کرنے والے خاص افراد سے نمٹنے کے لئے ’خاص حکمت عملی‘ وضع کرنا ہوگی۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)

Tuesday, September 13, 2016

Sept2016: Eid but when?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عید: نجانے کب!؟

پولیس کا ایک سینیئر تفتیشی اہلکار ایبٹ آباد سے گرفتار ہوتا ہے۔ الزام ہے کہ سال 2008ء میں جائیداد کی خریدوفروخت کا دھندا کرنے والے (پراپرٹی ڈیلر) کو قانون شکنی پر گرفتار کرنے کی بجائے اُس کی بدعنوانیوں کے ثبوت نظرانداز کئے گئے جس کے عوض بطور رشوت وہ ’غازی کوٹ ٹاؤن شپ مانسہرہ‘ میں ایک عدد ’عالیشان مکان‘ کا مالک بنا جس کی قیمت ڈیرھ کروڑ روپے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اُس کا ’پہلا یا آخری کارنامہ‘ تھا اُور کیا خیبرپختونخوا کے پورے پولیس ڈیپارٹمنٹ اور محکمۂ مال (پٹوار خانے) میں وہ واحد ایسا شخص ہے‘ جو اپنی معلوم مالی حیثیت سے زیادہ بڑے مکان کا مالک ہونے کی وجہ سے نظروں میں آگیا؟ پشاور کی احتساب عدالت کے محترم جج ’عاصم امام‘ نے دس ستمبر کے روز مذکورہ سپرٹنڈنٹ آف پولیس (انویسٹی گیشن) ’ساجد خان‘ کو اُسی ’قومی احتساب بیورو‘ کے حوالے کر دیا‘ جس نے اُنہیں گرفتار کیا اُور صرف ڈیڑھ کروڑ کے ایک گھر کا الزام لگایا جس سے خلاصی پانے کے لئے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ’چور دروازہ‘ موجود ہے۔ 

قومی خزانے میں چند لاکھ روپے ڈال کر ’پلی بارگین‘ کی جاسکتی ہے اور پھر جہاں قومی حافظہ ہی کمزور ہو‘ وہاں نہ تو وارداتیں کی آڑ میں وارداتیں کرنے والوں کا ’نام و نشان‘ یاد رہتا ہے اُور نہ ہی دوسرے ہم عصر جو عام آدمی (ہم عوام) کو لوٹ رہے ہیں وہ ’اِس قسم کے (واجبی) احتساب سے عبرت حاصل کرتے ہوئے توبہ تائب یا ضمیر کی عدالت میں پیش ہوتے ہیں!‘

گدھ کی طرح عام آدمی (ہم عوام) کی بوٹی بوٹی نوچنے والے عمائدین کہلاتے ہیں۔ غلامی سے بدتر محرومیوں اور استحصال بھری زندگی بسر کرنے والوں کو کس منہ (جواز) سے ’عید مبارک‘ کہا جائے جبکہ گردوپیش میں خوشیوں اُور سُکھ کا نام و نشان (شائبہ) تک نہیں؟ 

عہدوں سے جڑے اِختیارت کے ذریعے عام آدمی (ہم عوام) کا استحصال ہو یا مالی و انتظامی بدعنوانیوں کا ارتکاب‘ ہر دن عام آدمی کی کھال اُتارنے والوں کا شمار انگلیوں پر ممکن ہی نہیں رہا۔ قومی یا صوبائی سطح پر ہونے والے احتساب کی اِکا دُکا ’نمائشی کاروائیاں‘ کسی بھی طرح کافی قرار نہیں دی جاسکتیں۔ اندھی لوٹ مار کا بازار کل بھی گرم تھا اُور آج بھی جائز کام کروانے سمیت قانون کی گرفت سے بچنے کے لئے کہیں سرکاری دفاتر تو کہیں احتساب کے مراحل میں وکلأ کی بھاری فیسوں یا ’لین دین (پلی بارگین)‘ کے قواعد (چور دروازے) موجود ہیں جن کے ذریعے معاملات ’رفع دفع‘ ہو رہے ہیں! عجب غضب نہیں تو کیا ہے کہ نہ تو قومی وسائل یا سرکاری اِداروں کو لوٹنے اُور عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کی لالچ و حرص ختم ہو رہی ہے اُور نہ ہی قومی اداروں سے مراعات‘ تنخواہیں اُور اعزازات پانے والے سرکاری ملازمین کو ’زندہ درگور‘ اپنے ہی ’ہم وطنوں‘ کی بڑھتی غربت و انتہاء کی بے بسی پر ترس آ رہا ہے! کوشش کی حد تک یقیناًیہ ایک اچھا اقدام ہے کہ ’وارداتوں پر وارداتیں‘ کرنے والوں کا گنا چنا‘ اُور نپا تلا ’نمائشی احتساب‘ کرکے ہم عوام کو ’قانون کی موجودگی و حکمرانی‘ کا یقین دلایا جائے لیکن یہ منظرنامہ اُس کی صبح (جلال) کا نہیں‘ جس کے لئے (مملکت خداداد) ایک الگ ملک کا قیام عمل میں لایا گیا تھا! 

’’پاکستان میں عید کا ظہور‘‘ اُس دن ہوگا‘ جب قانون شکنوں کی پشت پناہی کرنے والے سرپرستوں اُور اُن کے سہولت کاروں کا بھی بیک وقت‘ سرعام‘ بے رحم و بلاامتیاز احتساب ہو۔ جس دن عزیز از جان مفاد کی ’قربانی‘ پر آمادگی پائی جائے‘ وہی دن عید کہلائے۔ وہ گھڑی ’عید‘ ہو‘ جب ’’لازم کہ ہم بھی دیکھیں‘ اور ہم سب دیکھیں‘‘ کہ گھر گھر دستک دے کر مالی حیثیت کے بارے استفسار کیا جائے۔ جب ظاہری مالی حیثیت اُور آمدنی کے دستاویزی ثبوتوں یا اَدا کردہ ٹیکس گوشواروں سے زیادہ تمام اثاثہ جات بحق سرکار ضبط کر لئے جائیں اُور احتساب کا عمل نچلے طبقات سے نہیں بلکہ اوپری منزل پر رہنے والوں سے شروع ہو۔ 

’احتسابی زلزلے‘ کا مرکز ’اسلام آباد‘ ہونا چاہئے‘ جہاں قانون ساز اداروں ایوان بالا‘ ایوان زریں اُور قانون کی تشریح کرنے والی ’سپرئم کورٹ آف پاکستان‘ کی عملاً توہین کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ’رہائش پذیر‘ ہے!! 

بدعنوانی کے پھیلتے ہوئے ناسور کا علاج دریافت کرنے والے معروف افریقن امریکن سماجی اصلاح کار فریڈرک ڈوگلس کا تجویزکردہ علاج ’پاکستان کے تناظر‘ میں سمجھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے جو لکھتے ہیں کہ ’’ہمیں روشنی (اُمید) کی نہیں آگ (یقین) کی ضرورت ہے۔ ہمیں (نمائشی اقدامات) پھوار کی نہیں بادوباراں (برق رفتار معالجے) کی ضرورت ہے۔ ہمیں (اِمتیازات پھیلانے والوں کے محاسبے کا) طوفان چاہئے۔ (قانون کے بلاامتیاز اطلاق کی) آندھیاں چاہیءں۔ (احتساب کرنے والوں کو تہس نہس کرنے والے) زلزلوں کی ضرورت ہے!‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, October 4, 2015

Oct2015: TRANSLATION: Rs8,500,000,000,000

Rs8,500,000,000,000
ساڑھے آٹھ کھرب روپے!
پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں خردبرد کئے جانے والے سرکاری مالی وسائل کا حجم ساڑھے آٹھ کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ یہ اندازہ کم سے کم مالی بدعنوانی جاننے کے لئے ایک عالمی فارمولے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اِس فارمولے کے خالق ڈاکٹر رابرٹ کلٹگارڈ (Dr. Robert Klitgaad) ہیں جس کے مطابق اختیارات کے عوض برسرحکومت سیاسی شخصیات فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ ڈاکٹر رابرٹ دنیا بھر میں مالی بدعنوانیوں کی کھوج لگانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اُن کے وضع کردہ طریقۂ کار سائنسی اعتبار سے مستند تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی منتخب عوامی نمائندے یا چنیدہ افراد کو فیصلہ سازی یا حکومت کا منصب دیا جاتا ہے اور اُنہیں صوابدیدی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں تو اس کا نتیجہ بدعنوانی کی صورت ہی برآمد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ یہ نظریہ بھی پیش کرتے ہیں کہ جہاں کہیں احتساب کا ادارہ تو موجود ہو لیکن اس کے ذریعے احتساب کا عمل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کیا جائے وہاں مالی بدعنوانیاں کرنے والے ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ طاقتور اور حکومتی معاملات پر حاوی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس عالمی درجہ بندی میں امریکہ‘ جاپان‘ جنوبی کوریا اُور پاکستان کا شمار کیا گیا ہے جہاں اختیارات کے ذریعے سیاسی و غیرسیاسی حکمران اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ اور ذاتی مالی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہیں! نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک اور عوام کی اکثریت غریب جبکہ گنتی کے چند خاندان امیر ہو جاتے ہیں!

پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان میں کل 100کھرب روپے کے مساوی پیداوار ہوئی اور اگر اِس کا صرف 8.5 فیصد ہی کے حصے میں خردبرد کی گئی تو یہ کم سے کم اور محتاط اندازے کے مطابق 8.5کھرب روپے کی بدعنوانی بنتی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے آٹھ کھرب سے زیادہ کی مالی بدعنوانی کیسے کی ہو گی لیکن پانچ برس کا عرصہ اور کم سے کم ساڑھے آٹھ فیصد کے تناسب سے اوسط بدعنوانی کی گئی ہے۔ اِس ساڑھے آٹھ کھرب روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کو مزید آسان بنا کر بھی سمجھایا جاسکتا ہے اور وہ کچھ یوں ہے کہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی مردوعورت‘ بوڑھے و جوان اور بچے سے 50 ہزار روپے چھینے گئے۔ اعدادوشمار کو مزید آسان کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ ہر پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی خاندان سے 3لاکھ 50 ہزار روپے جیسی خطیر رقم لوٹی گئی ہے!

پاکستان میں نہ تو انسداد بدعنوانی اور احتساب کے قوانین و قواعد کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لئے مخصوص ادارے ہی تعداد میں کم ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک بڑا ادارہ موجود ہے لیکن اگر آپ اِن اداروں کی سالانہ کارکردگی پر نظر ڈالیں تو مایوسی ہوگی کہ انہوں نے نہایت ہی کم شرح سے مالی بدعنوانوں کو انجام تک پہنچایا ہے اور لوٹا ہوا سرکاری مال واپس خزانے میں جمع کرایا ہے۔ ہمارے سامنے مغربی ممالک کی کئی ایک ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے احتساب و انسداد بدعنوانی کے سخت قوانین بنانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد بھی کیا گیا جس کے نتائج اُن کی ترقی کی صورت پوری دنیا دیکھ بھی رہی ہے اور اُن معاشروں میں ہونے والی علمی و فکری ترقی سے فائدہ بھی اُٹھا رہی ہے۔

سال 2014ء کے دوران پاکستان کے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو مالی بدعنوانیوں کی 18 ہزار 818 شکایات موصول ہوئیں جن کی جانچ کے بعد 887 درخواستوں پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور سال 2014ء میں نیب نے بدعنوانوں کے خلاف 819 مقدمات درج کرائے جن میں سے صرف 44 مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف بدعنوانی کا جرم ثابت کیا جاسکا! اگر ہم سنگاپور کی مثال لیں تو وہاں کا ’نیب‘ ہر سال موصول ہونے والی شکایات پر کاروائی کرتا ہے اور 95فیصد کی شرح سے ملوث ملزمان کو سزائیں ہوتی ہیں۔ ہانگ کانگ میں یہی شرح 85فیصد ہے۔ ملائیشیا میں 80فیصد جبکہ بھارت کی ایک ریاست مہاراشٹر میں نیب حکام نے مالی بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں سالانہ 30فیصد کے تناسب سے کامیابی حاصل کی ہے!

میرے یہ الفاظ یاد رکھئے گا کہ ہمارے ہاں انسداد بدعنوانی اور قومی احتساب بیورو سمیت جملہ انتظامی ڈھانچہ ’بدعنوان عناصر‘ کو ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اُنہیں تحفظ دینے کے لئے تشکیل و مرتب کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈاکٹر عاصم حسین سے بھی کچھ حاصل وصول ہونے کی توقع نہیں!

سال 2008ء میں جب آصف علی زرداری کا دورِ اقتدار شروع ہوا تو اُس وقت حکومت کا قرض 6 کھرب روپے تھا۔ 2013ء میں جب اُن کا دور حکومت ختم ہوا تو حکومت کا قرض 8 کھرب روپے یعنی اس میں 2 کھرب روپے کا اضافہ ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مالی نظم و ضبط اور احتساب و انسداد بدعنوانی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں قرض لیکر پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو کھڑا رکھنا پڑتا ہے۔ اگر مالی نظم و ضبط نافذ ہو جائے‘ مالی بدعنوانی کے امکانات تک باقی نہ ہوں اور بدعنوانوں کو قرار واقعی سزائیں دے کر نشان عبرت بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے ہی وسائل کو ترقی کے ذریعے اقتصادی طور پر مستحکم ہوتا چلا جائے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں سال بہ سال اضافے کی بجائے کمی ہوتی چلی جائے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)Rs8,500,000,000,000
ساڑھے آٹھ کھرب روپے!

پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں خردبرد کئے جانے والے سرکاری مالی وسائل کا حجم ساڑھے آٹھ کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ یہ اندازہ کم سے کم مالی بدعنوانی جاننے کے لئے ایک عالمی فارمولے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اِس فارمولے کے خالق ڈاکٹر رابرٹ کلٹگارڈ (Dr. Robert Klitgaad) ہیں جس کے مطابق اختیارات کے عوض برسرحکومت سیاسی شخصیات فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ ڈاکٹر رابرٹ دنیا بھر میں مالی بدعنوانیوں کی کھوج لگانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اُن کے وضع کردہ طریقۂ کار سائنسی اعتبار سے مستند تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی منتخب عوامی نمائندے یا چنیدہ افراد کو فیصلہ سازی یا حکومت کا منصب دیا جاتا ہے اور اُنہیں صوابدیدی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں تو اس کا نتیجہ بدعنوانی کی صورت ہی برآمد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ یہ نظریہ بھی پیش کرتے ہیں کہ جہاں کہیں احتساب کا ادارہ تو موجود ہو لیکن اس کے ذریعے احتساب کا عمل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کیا جائے وہاں مالی بدعنوانیاں کرنے والے ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ طاقتور اور حکومتی معاملات پر حاوی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس عالمی درجہ بندی میں امریکہ‘ جاپان‘ جنوبی کوریا اُور پاکستان کا شمار کیا گیا ہے جہاں اختیارات کے ذریعے سیاسی و غیرسیاسی حکمران اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ اور ذاتی مالی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہیں! نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک اور عوام کی اکثریت غریب جبکہ گنتی کے چند خاندان امیر ہو جاتے ہیں!

پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان میں کل 100کھرب روپے کے مساوی پیداوار ہوئی اور اگر اِس کا صرف 8.5 فیصد ہی کے حصے میں خردبرد کی گئی تو یہ کم سے کم اور محتاط اندازے کے مطابق 8.5کھرب روپے کی بدعنوانی بنتی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے آٹھ کھرب سے زیادہ کی مالی بدعنوانی کیسے کی ہو گی لیکن پانچ برس کا عرصہ اور کم سے کم ساڑھے آٹھ فیصد کے تناسب سے اوسط بدعنوانی کی گئی ہے۔ اِس ساڑھے آٹھ کھرب روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کو مزید آسان بنا کر بھی سمجھایا جاسکتا ہے اور وہ کچھ یوں ہے کہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی مردوعورت‘ بوڑھے و جوان اور بچے سے 50 ہزار روپے چھینے گئے۔ اعدادوشمار کو مزید آسان کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ ہر پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی خاندان سے 3لاکھ 50 ہزار روپے جیسی خطیر رقم لوٹی گئی ہے!
پاکستان میں نہ تو انسداد بدعنوانی اور احتساب کے قوانین و قواعد کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لئے مخصوص ادارے ہی تعداد میں کم ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک بڑا ادارہ موجود ہے لیکن اگر آپ اِن اداروں کی سالانہ کارکردگی پر نظر ڈالیں تو مایوسی ہوگی کہ انہوں نے نہایت ہی کم شرح سے مالی بدعنوانوں کو انجام تک پہنچایا ہے اور لوٹا ہوا سرکاری مال واپس خزانے میں جمع کرایا ہے۔ ہمارے سامنے مغربی ممالک کی کئی ایک ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے احتساب و انسداد بدعنوانی کے سخت قوانین بنانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد بھی کیا گیا جس کے نتائج اُن کی ترقی کی صورت پوری دنیا دیکھ بھی رہی ہے اور اُن معاشروں میں ہونے والی علمی و فکری ترقی سے فائدہ بھی اُٹھا رہی ہے۔

سال 2014ء کے دوران پاکستان کے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو مالی بدعنوانیوں کی 18 ہزار 818 شکایات موصول ہوئیں جن کی جانچ کے بعد 887 درخواستوں پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور سال 2014ء میں نیب نے بدعنوانوں کے خلاف 819 مقدمات درج کرائے جن میں سے صرف 44 مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف بدعنوانی کا جرم ثابت کیا جاسکا! اگر ہم سنگاپور کی مثال لیں تو وہاں کا ’نیب‘ ہر سال موصول ہونے والی شکایات پر کاروائی کرتا ہے اور 95فیصد کی شرح سے ملوث ملزمان کو سزائیں ہوتی ہیں۔ ہانگ کانگ میں یہی شرح 85فیصد ہے۔ ملائیشیا میں 80فیصد جبکہ بھارت کی ایک ریاست مہاراشٹر میں نیب حکام نے مالی بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں سالانہ 30فیصد کے تناسب سے کامیابی حاصل کی ہے!

میرے یہ الفاظ یاد رکھئے گا کہ ہمارے ہاں انسداد بدعنوانی اور قومی احتساب بیورو سمیت جملہ انتظامی ڈھانچہ ’بدعنوان عناصر‘ کو ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اُنہیں تحفظ دینے کے لئے تشکیل و مرتب کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈاکٹر عاصم حسین سے بھی کچھ حاصل وصول ہونے کی توقع نہیں!

سال 2008ء میں جب آصف علی زرداری کا دورِ اقتدار شروع ہوا تو اُس وقت حکومت کا قرض 6 کھرب روپے تھا۔ 2013ء میں جب اُن کا دور حکومت ختم ہوا تو حکومت کا قرض 8 کھرب روپے یعنی اس میں 2 کھرب روپے کا اضافہ ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مالی نظم و ضبط اور احتساب و انسداد بدعنوانی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں قرض لیکر پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو کھڑا رکھنا پڑتا ہے۔ اگر مالی نظم و ضبط نافذ ہو جائے‘ مالی بدعنوانی کے امکانات تک باقی نہ ہوں اور بدعنوانوں کو قرار واقعی سزائیں دے کر نشان عبرت بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے ہی وسائل کو ترقی کے ذریعے اقتصادی طور پر مستحکم ہوتا چلا جائے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں سال بہ سال اضافے کی بجائے کمی ہوتی چلی جائے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین  اِمام)