Showing posts with label unpblished. Show all posts
Showing posts with label unpblished. Show all posts

Wednesday, February 1, 2023

Peshawar Bleeding: New wave of terrorism

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

دہشت گردی‘ نئی لہر : پشاور لہو لہو

پہلا تجزیہ: خیبرپختونخوا پولیس کے صوبائی مرکز (پولیس لائنز) پر دہشت گرد حملہ اِس لحاظ سے خطرناک ترین ہے کہ اِس میں حملہ آور پولیس کے حفاظتی حصار کو ناکام بنانے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں اُور مستقبل میں اِس قسم کے حملوں کو روکنے کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس کے لئے خفیہ معلومات پر مبنی کاروائیوں کو زیادہ اہمیت ملنی چاہئے۔ دوسرا تجزیہ: پاکستان کے طول و عرض میں ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے بیرون ملک تیار ہوتے ہیں لہٰذا سرحدی سیکورٹی نقل و حرکت سخت کرنے کے علاؤہ جب تک ہمسایہ ممالک پاکستان کی داخلی سلامتی کے درپے رہیں گے اُس وقت تک پائیدار قیام امن ممکن نہیں ہوگا۔ تیسرا تجزیہ: خیبرپختونخوا (فرنٹ لائن صوبے) میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے زیادہ مالی و افرادی وسائل بشمول تربیت اُور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ چوتھا تجزیہ: پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہر کے مقابلے پشاور کی معیشت و معاشرت دہشت گردی سے نسبتاً زیادہ متاثر ہے اِس لئے پشاور کے لئے ’سیف سٹی پراجیکٹ‘ کی ترجیحی بنیادوں پر (جلد) تکمیل سمیت معاشی بحالی کے خصوصی امدادی پیکج کا اعلان ہونا چاہئے۔ پانچواں تجزیہ: دہشت گردی بنا مقامی سہولت کاری ممکن نہیں ہوتی۔ گیارہ جون دوہزار اکیس سے صوبائی پولیس سربراہ (انسپکٹر جنرل پولیس) معظم جاہ انصاری کے بقول تفتیش کار اِس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ پولیس لائنز حملے کا مرکزی کردار (خودکش حملہ آور) پہلے ہی سے پولیس لائنز میں مقیم تھا۔ چھٹا تجزیہ: پولیس لائنز حملے کے بعد سے دہشت گردوں کی منصوبہ بندی عیاں ہو چکی ہے جو اِس مرتبہ اہم سرکاری تنصیبات اُور دفاتر کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اِس امکان کے پیش نظر پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے جملہ سرکاری دفاتر کے حفاظتی اِنتظامات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ساتواں تجزیہ: پولیس لائنز حملے کے بعد ’ریسکیو‘ ادارے کی جانب سے امدادی کاروائیاں ’حواص باختگی‘ کا شکار دکھائی دیں جبکہ یہ ادارہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ ریسکیو کی کارکردگی کا جائزہ اُور تربیت و تیاری سے متعلق امور کا جائزہ (نظرثانی ضروری ہے۔ آٹھواں تجزیہ: خیبرپختونخوا پولیس کے سربراہ پولیس لائنز حملے سے چند گز کے فاصلے پر اپنے دفتر میں موجود تھے لیکن اُنہیں دھماکے کی جگہ تک پہنچنے میں 100 منٹ سے زائد کا عرصہ لگا اُور اُنہوں نے اپنے دفتر اُور موقع پر موجود صحافیوں (ذرائع ابلاغ کے نمائندوں) سے بار بار کی درخواست کے باوجود بھی بات چیت بھی نہیں۔ خودکش حملے کے حقائق کمشنر پشاور کی جانب سے پہلے‘ پشاور پولیس کے سربراہ (سی سی پی اُو) اُور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ’پبلک ریلیشنز‘ کی جانب سے بعدازاں (بالترتیب) گھنٹوں بعد جاری کئے گئے جس کی وجہ سے قیاس آرائیاں ہوتی رہیں کیونکہ جملہ اعدادوشمار میں فرق تھا۔ کسی ہنگامی صورتحال میں جبکہ پورا ملک اُور بالخصوص پولیس لائنز میں تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ حقائق جاننے کے لئے بے چین تھا لیکن شہدا،اُور زخمیوں کے ناموں کی تفصیلات منظرعام پر آنے میں کئی گھنٹے لگے جبکہ پولیس کی موبائل فون ایپس اُور سوشل میڈیا (فیس بک‘ ٹوئیٹر وغیرہ) کے ذریعے حقائق و محرکات کی وضاحت ممکن تھی۔ نواں تجزیہ: سرکاری دفاتر کے کام کاج ’آن لائن‘ سرانجام دینے کے لئے اِنفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا چاہئے تاکہ سرکاری دفاتر سے رجوع کرنے والوں میں کمی لائے اُور صارفین کو سہولیات و خدمات کی آن لائن فراہمی ہو سکے۔ اِس سلسلے میں بھارت کے کئی شہروں بالخصوص نئی دہلی میں سرکاری دفاتر کی تعداد کم کرنے اُور دفاتر کی خدمات آن لائن فراہم کرنے کے تجربے اُور اُس کے نتائج کا مطالعہ کیا جانا چاہئے۔

دہشت گردی کی حالیہ ”نئی لہر“ کے دوران رونما ہونے والے پے در پے واقعات (ٹائم لائن) سے پتہ چلتا ہے کہ عسکریت پسند گروہ دوہزاربائیس کے ماہ نومبر سے فعال ہے جب اِس نے ماہ جون میں حکومت کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں تقریبا ایک درجن سنگین دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں جن میں صرف کم از کم 27 سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں جبکہ تیس جنوری کے روز پولیس لائنز پر حملہ گزشتہ تین ماہ میں ہوئے سبھی حملوں سے الگ اُور زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے۔ ملک بھر میں مسلح افواج کے ساتھ ساتھ سویلین اہداف پر لگاتار دہشت گردانہ حملے پریشان کن ہیں۔ خاص طور پر اس حقیقت کے پیش نظر کہ ضرب عضب اور ردالفساد جیسی فوجی کاروائیوں کے ذریعے دہشت گرد عناصر کو ان کی محفوظ پناہ گاہوں سے تقریبا ختم کر دیا گیا تھا لیکن دہشت گردی کے خلاف عزم تو برقرار رہا لیکن اِس کے انسداد کی کوششوں میں کمی اُور افغانستان کی جانب سے پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کی اجازت سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے نتیجتاً شمال مغربی اور جنوب مغربی سرحدوں پر پاکستان دشمن تاک لگائے بیٹھے نظر آتے ہیں اُور موقع ملتے ہیں انتہائی بیدردی و بے رحمی سے وار کرتے ہیں۔ افغانستان حکومت کی سرپرستی میں مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پانے کی کوشش بھی تاحال یا خاطرخواہ کامیاب نہیں ہو سکی ہے اُور یقینا اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان مخالف جہاں کہیں بھی ہوں اُور چاہے سرحد پار ہی کیوں نہ ہوں‘ اُن کے خلاف کاروائی کی جائے۔ اِس سے پہلے انسداد دہشت گردی سے متعلق ’قومی اتفاق رائے‘ کی تجدید ہونی چاہئے جیسا کہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) حملے کے بعد ہوا تھا اور پھر ملک سے دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے تک ریاست کی پوری طاقت کے ساتھ کاروائی کی گئی تھی۔

پاکستان کی انسداد دہشت گرد حکمت عملی میں موجود لچک اُور مصلحتوں یا الجھنوں کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔ قومی سطح پر طے کرنا ہوگا کہ عسکریت پسند کبھی بھی اچھا یا بُرا نہیں ہوتا بلکہ عسکریت پسندی ہمیشہ ہی سے ’امن دشمن‘ ہوتی ہے اُور اِس نکتہ نظر سے شہروں کو اسلحے سے پاک کرنے کے لئے خصوصی مہمات کا آغاز ہونا چاہئے۔ ضروری ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔ اگر ہم افغان حکومت اور عسکریت پسندوں کو خوش کرنے کو ضروری سمجھیں گے تو دہشت گرد حملوں کی صورت ناقابل تلافی جانی و مالی نقصانات اُٹھاتے رہیں گے۔ وقت ہے کہ ملک کے تمام طبقوں بالخصوص سیاسی جماعتیں اور سکیورٹی فورسز کو مل بیٹھ کر دہشت گردوں کو شکست دینے کے لئے مشترکہ منصوبہ (لائحہ عمل) تیار کریں تاکہ پاکستان کو مزید تباہی اور اموات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بلاشک و شبہ قومی سلامتی خطرات و بحران سے دوچار ہے اُور اگر اِس نازک مرحلے پر ریاست کو سلامتی کے حوالے سے ’قومی پالیسی‘ کی ضرورت ہے جو وفاقی اور صوبائی سطح پر مشترکہ طور پر نافذ کی جائے اُور یہ پالیسی صرف سیکورٹی اداروں ہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ اِس کی ملکیت ہر پاکستانی فرد تک ہونی چاہئے۔ وقت ہے کہ حوصلہ مند قومی قیادت‘ جرات مندانہ اور مشکل فیصلوں پر عمل درآمد کرے اُور اُس غیر یقینی کی صورتحال کا خاتمہ کیا جائے جو تکلیف دہ حقیقتوں (خوف‘ دہشت‘ تباہی و بربادی کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات) کی صورت ظاہر ہو رہی ہے۔


Wednesday, July 13, 2022

White Collar Criminals, Accountability & the Judicial System!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام (ناقابل اشاعت)

جرم کہانی: اِحتسابی ٹوٹکے

لوکل کونسل بورڈ صوبہ سرحد (حال خیبرپختونخوا) کے سیکرٹری (مالیاتی و انتظامی امور کے سربراہ) لائق خان نے (4 مئی 2002ءکے روز) اپنے آپ کو ’نیشنل اکاو¿نٹی بیلٹی بیورو (NAB)‘ حکام کے سامنے پیش کیا۔ اُن پر مالی بدعنوانی کے الزامات ہیں اُور وہ گرفتاری کے بچنے کے لئے جون سے 2000ءسے ’نیب‘ کو مطلوب تھے لیکن 2 سال روپوش رہے۔ اِس روپوشی کے دوران ’مارچ2002ء‘ میں لائق خان کے صاحبزادوں نے آخری مرتبہ ’پلئی بارگین (plea bargain)‘ کی درخواست کے ذریعے اپنے والد کو گرفتاری سے بچانے کی کوشش کی تاہم نیب حکام نے یہ کہتے ہوئے مذکورہ درخواست مسترد کر دی تھی کہ قانون و قواعد کے مطابق صرف اُسی شخص کو ’پلئی بارگین (نیب کے ساتھ سودے بازی)‘ کا حق (موقع) دیا جاتا ہے جو زیرحراست ہو یعنی جس کا مقدمہ زیرسماعت ہو لیکن چونکہ لائق خان (عرصہ 2 سال سے) روپوش ہے اِس لئے اُن کے دامن پر لگا بدعنوانی کا داغ صرف قانونی کاروائی (حراست و مقدمے) ہی کے ذریعے دُھل سکتا ہے! ذہن نشین رہے کہ ’نیب قانون 1999ئ‘ کی شق (سیکشن) 9 اُور شق 10 کے تحت ’لائق خان‘ پر آمدنی سے زائد یعنی 5 کروڑ 30 لاکھ (53.2ملین) روپے اثاثہ جات رکھنے کا الزام عائد کیا گیا۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ صوابی کے گاؤں کوٹھہ (Kotha) سے تعلق رکھنے والے لائق خان ایک پیش امام کے بیٹے تھے اُور اُنہیں موروثی طور پر صرف 3 کنال 3 مرلہ اراضی ملی تھی۔ آپ 1957ءمیں ’ایگری کلچر اسسٹنٹ‘ کے عہدے پر بھرتی ہوئے۔ 1967ءمیں ’لوکل کونسل سروس‘ اختیار کی اُور 1988ءسے 1997ء(ریٹائرمنٹ) تک بطور ”سیکرٹری لوکل کونسل سروس‘ تعینات رہے۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ ایک انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے لائق خان نے مختلف شہروں میں جائیدادیں خریدیں اُور صرف حیات آباد پشاور میں آپ کے 38 پلاٹس (قطعات اراضی) ہیں‘ جن کی مالیت کروڑوں روپے ہے۔ لائق خان پر یہ بھی الزام ہے کہ اُنہوں نے اپنے نام کے علاؤہ اپنی بیوی‘ بیٹوں‘ داماد اُور دیگر عزیزوں کے نام پر جائیدادیں خریدیں‘ جن میں سے ایک حاضر سروس عزیز ’لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ‘ ہی میں ’سب انجنیئر‘ کے عہدے پر تعینات ہے۔ اِس تفتیش (حقائق) کی روشنی میں لائق خان کے خلاف ”17 جون 2000ئ“ کے روز ’گرفتاری کے وارنٹ‘ جاری کئے گئے لیکن ’پراسرار‘ طریقے سے اُنہیں اپنے خلاف نیب کی تفتیش اُور گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کی خبر ہو گئی اُور وہ روپوش ہو گئے! گرفتاری کے لئے (مبینہ طور پر) کئی مرتبہ کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہ ہوئی اُور بالآخر نیب عدالت نے 26جولائی 2000ءکے روز اُنہیں مفرور قرار دےدیا۔ 

نیب حکام نے لائق خان کے بیٹوں‘ داماد اُور رشتے دار کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا لیکن کوئی بھی حربہ کارگر نہ ہوا۔

 واضح ہوا کہ

پہلی بات: لائق خان پر آمدن سے زائد اراضی (اثاثہ جات) رکھنے کے ناقابل تردید ثبوت (جائیداد کی صورت) موجود ہیں۔

 دوسری بات: لائق خان اُور اِس کے شریک ِجرم کی ملکیت میں جائیداد کے علاو¿ہ بھی ممکنہ اثاثہ جات (اندرون و بیرون ملک بینک اکاؤنٹس‘ بینک لاکرز‘ زیورات‘ گاڑیاں‘ فرنیچر‘ گھروں کی آرائش و زیبائش) جیسے اثاثوں کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجوہات جلدبازی‘ ناکافی تفتیش اُور بدعنوانی کے ملزمان کے ساتھ ہمدردی و نرمی کا رویہ ہے۔

تیسری بات: اگر لائق خان روپوش اُور بعدازاں مفرور ہوا تو اُس کے شریک مجرم پکڑے جا سکتے تھے اُور یہی ’وعدہ معاف‘ گواہ بن کر ’بدعنوانی کی غضب کہانی‘ کے وہ تفصیلات بھی بیان کر دیتے جو نیب حکام کے وہم و گمان میں نہ ہوتیں لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا جس سے ’لائق خان‘ اُور اُن کے شریک مجرموں کو ذہنی یا جسمانی اذیت پہنچتی۔

چوتھی بات: لائق خان کے کل اثاثہ جات (کی گئی بدعنوانی) کا تخمینہ پانچ سے ساڑھے پانچ کروڑ روپے لگایا گیا جبکہ صرف حیات آباد میں اُس کی ملکیت کے 38 پلاٹس کا ذکر کیا گیا اُور اگر اِن قطعات اراضی ہی کی مارکیٹ ویلیو دیکھی جائے تو یہ اربوں روپے بنتی ہے!

لائق خان کی جرم کہانی‘ اُن کی روپوشی‘ مفروری اُور مئی 2002ءمیں رضاکارانہ گرفتاری کے بعد سے آج تک (جولائی 2022ئ) تک کہانی (مقدمہ) جاری ہے لیکن ایک پیسے کی بھی بدعنوانی ثابت نہیں کی جا سکی کیونکہ لائق خان نے وہ سبھی ’ٹوٹکے‘ استعمال کئے ہیں‘ جن سے صرف نیب قانون ہی نہیں بلکہ عدالت بھی اُن کے سامنے ڈھیر ہے۔ آمدنی سے زائد اثاثہ جات کی صورت بدعنوانی کے ناقابل تردید شواہد موجود ہونے کے باوجود بھی قانون و ریاست ’لائق خان‘ اُور اِس شریک جرم ساتھیوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ اِس پوری ’جرم کہانی‘ کا ایک ”دلچسپ پہلو“ یہ بھی ہے کہ لائق خان کی جانب سے گرفتاری اُور عدالتی سماعتوں (زحمت) سے بچنے کے لئے ’پلئی بارگین‘ کی جو درخواستیں دی گئیں اُن پر بعدازاں نیب حکام نے فیصلہ کرتے ہوئے لوٹ مار سے جمع کردہ وسائل کی ایک خاص تناسب سے رضاکارانہ واپسی (جس کی قانون میں گنجائش (سقم) موجود ہے) پر تصفیہ کیا اُور ’لائق خان‘ کو کہا گیا کہ وہ مجموعی طورپر 68 لاکھ (6.815ملین) روپے جمع کروا دے اُور لائق خان نے یہ رقم قسط وار جمع کروانے کی حامی بھری اُور پہلی قسط کے طور پر23 لاکھ (2.317 ملین) روپے ادا کر کے ایک بڑے بوجھ سے رہائی پائی لیکن بعدازاں مکر گیا۔ اربوں کی بدعنوانی قریب ستر لاکھ روپے کے عوض ”معاف (جائز)“ کرنا کسی بھی صورت انصاف نہیں تھا لیکن یہی طرز ِانصاف پاکستان میں بدعنوانی کی جڑ (بنیادی مسئلہ) ہے۔ 

نیب سے سودے بازی ’تکنیکی ٹوٹکا‘ تھا اُور پہلی قسط (23لاکھ روپے) ادا کرنے کے بعد ’لائق خان‘ نے عدالت عالیہ (پشاور ہائی کورٹ) سے رجوع کیا اُور جسٹس مسرت ہلالی اُور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل بینچ کو بتایا کہ

 1: وہ بدعنوان نہیں۔

2: نیب حکام نے زبردستی اُسے ’پلئی بارگین‘ پر مجبور کیا لہٰذا 

3: پلئی بارگین کی صورت نیب کی جانب سے اُس سے وصول کردہ 23 لاکھ (2.317ملین) روپے واپس دلائے جائیں اُور عدالت نے عیدالاضحی کی تعطیلات سے قبل (جولائی 2022ء) ’نیب حکام‘ کو حکم دیا کہ سات سال قبل (16 جنوری2015ءکے روز) ’لائق خان‘ سے جو رقم (23 لاکھ روپے) رضاکارانہ واپسی کے تحت وصول کئے گئے تھے وہ اُسے واپس کر دیئے جائیں! 

تصور کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں احتساب کا عمل‘ قانون کی عمل داری‘ قوانین کا اطلاق اُور خوف کس قدر کمزور ترین سطح پر ہیں اُور مذکورہ عرصے (دو دہائیوں) کے دوران بدعنوانی کے اِس ایک (مذکورہ) قضیے میں کس قدر حقائق و شواہد تبدیل کر دیئے گئے ہوں گے!

 لائق خان پاکستان میں ’کرپشن‘ کی واحد مثال یا اِس جاری سلسلے کی پوری کہانی نہیں بلکہ صرف ایک کردار ہے جبکہ اِس کی مثل کئی ایک کردار (ریٹائرڈ یا حاضر سروس سرکاری ملازمین) ہمارے اردگرد موجود ہیں جن کے لئے لائق خان کا مقدمہ اُور اِس مقدمے میں اب تک ہوئی پیشرفت ”حوصلہ اَفزا¿“ ہے کہ اگر کبھی اُن کے خلاف بھی اِحتساب کا قانون حرکت میں آیا‘ تب بھی یہی ’ٹوٹکے (کارگر مجرب نسخے)‘ پہلے سے موجود ملیں گے! ذہن نشین رہے کہ ’ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل‘ نامی عالمی تنظیم کی جانب سے سال 2022ءکے لئے جاری کردہ جدول کے مطابق ”بدعنوان ترین 180 ممالک میں پاکستان 140ویں منصب پر فائز ہے جبکہ سال 2021ءمیں پاکستان 124ویں نمبر پر تھا یعنی ایک سال (12ماہ) کے دوران پاکستان میں بدعنوانی 16درجے بڑھی ہے!

....


Wednesday, October 6, 2021

Peshawar: coping with Street Crimes!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: آرزو جرم ہے‘ مدعا جرم ہے

پشاور میں بڑھتے ہوئے عمومی جرائم (سٹریٹ کرائمز) کی کہانیاں گلی گلی اُور بازار بازار پھیلی ہوئی ہے۔ تازہ ترین واردات جس نے گل بہار میں بالعموم اُور اندرون شہر میں بالخصوص سنسنی و تشویش پھیلا رکھی ہے وہ چار اکتوبر دوہزاراکیس کی رات نو بجکر پینتیس منٹ پر ’گل بہار نمبر ایک‘ گلی نمبر ایک‘ میں پیش آنے والا واقعہ ہے جس کے بارے میں متعلقہ تھانے (گل بہار) کو مطلع کیا گیا‘ جہاں اِس قسم کی وارداتیں رپورٹ ہونا چونکہ معمول بن چکا ہے اِس لئے ابتدا میں روزنامچہ درج کر لیا گیا جو کسی واردات کا بیان اُور پولیس کے مطلع ہونے کی سند ہوتی ہے۔ پولیس فوری طور پر ’ایف آئی آر‘ درج نہیں کرتی کیونکہ اِس سے کسی تھانے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اُور یوں اپنی ساکھ بچانے کے چکر میں پشاور کو جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا جبکہ عمومی و خصوصی جرائم سے انکار اپنی جگہ قابل ِمذمت ہے۔ جرائم کے حوالے سے پشاور شہر کی صورتحال اِس حد تک بگڑ چکی ہے کہ اب پولیس کے پاس سائلین (متاثرہ شہریوں) سے ہمدردی و دلاسے کے الفاظ بھی نہیں رہے۔ کسی عام شخص کا پولیس تھانے سے واسطہ پڑنے کی صورت اُسے جس قسم کے روئیوں کا سامنا ہوتا ہے اُور جس انداز میں اُسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے یہ کہانی پھر سہی! چار اکتوبر کی شب بھی یہی ہوا لیکن اتفاق سے مذکورہ گلی میں جہاں راہزنی کی واردات رونما ہوئی وہاں کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمرہ لگا ہوا تھا‘ جس نے پوری واردات محفوظ کر لی اُور یوں پولیس کے ہاتھ راہزنی کرنے والے تین نوجوان لڑکوں کا حلیہ اُور اختیار کیا جانے والا دلیرانہ طریقہ واردات عیاں ہو گیا جس کے بعد مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں رہی اُور جرم رونما ہونے سے انکار کی گنجائش بھی جاتی رہی۔ پھر یہ ”ستم“ بھی ہوا کہ واردات کی کلوزسرکٹ ویڈیو کی سوشل میڈیا پر تشہیر ہوگئی جو پولیس کے پہنچنے اُور واردات کے اِن ثبوتوں تک رسائی محدود کرنے سے قبل ویڈیو جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اہل پشاور ایک عرصے سے جن ’سٹریٹ کرائمز‘ سے پریشان تھے اُس کا انتہائی بھیانک چہرہ سب کے سامنے تھا! ظاہر تھا کہ راہزنی میں دکھائی دینے والے تینوں لڑکوں کی ’باڈی لینگویج‘ سے عیاں تھا کہ وہ پہلی مرتبہ واردات نہیں کر رہے تھے اُور دوسری بات اُن کو علاقے کی پوری خبر تھی کہ کونسی گلی کہاں نکلتی ہے اُور کن گلیوں میں سے ہوتے ہوئے باآسانی روپوش ہوا جا سکتا ہے۔ گل بہار میں پیش آنے والی یہ واردات رات کے ایک ایسے وقت میں ہوئی جب اہل پشاور کی اکثریت عشایئے کے معمول میں مصروف ہوتی ہے اُور نو سے دس بجے کے درمیان آمدورفت کم ہو جاتی ہے۔ یہ ایک نہایت ہی سوچی سمجھی واردات تھی جس میں صرف محل وقوع ہی کو نہیں بلکہ مجرم دن کے اختتام پر شہریوں کے معمولات سے بھی آگاہی رکھتے تھے۔

سٹریٹ کرائمز جیسے عمومی و خصوصی جرائم پر قابو پانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ملک کے کئی شہروں میں ہو رہا ہے۔ رواں ہفتے ہیں راول پنڈی پولیس نے 86 مقامات پر ’ہائی ڈیفینیشن (HD)‘ کیمرے نصب کرنے کے علاو¿ہ پولیس کی آن لائن شکایات کو گوگل ارتھ کے ساتھ منسلک کر رکھا ہے‘ جو اپنی نوعیت کا منفرد اقدام ہے۔ پشاور کے لئے ’سیف سٹی پراجیکٹ (Safe City Project)‘ کا تصور پیش کئے ہوئے پندرہ برس (ڈیڑھ دہائی) سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن اِس پر عمل درآمد کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ تحریک انصاف کے پہلے دور حکومت (2013ءسے 2018ئ) کے دوران وزیراعلیٰ پرویز خٹک اُور 2018ءسے جاری تحریک انصاف کے دوسرے دور حکومت میں وزیراعلیٰ محمود خان ’سیف سٹی پراجیکٹ‘ کے حوالے سے متعدد اجلاسوں کی سربراہی کر چکے ہیں لیکن بات جہاں سے چلی تھی وہیں رُکی ہوئی ہے۔ کسی شہر کو نگرانی کے ذریعے محفوظ بنانے کی حکمت ِعملی کے پہلے مرحلے میں تین شہروں (لاہور‘ اسلام آباد اُور پشاور) کا انتخاب کیا گیا تھا لیکن ماسوائے پشاور باقی دونوں شہروں دارالحکومت اسلام آباد اُور لاہور میں نہ صرف مذکورہ منصوبے مکمل کر لئے گئے بلکہ سال 2015ءسے پنجاب میں ایک خصوصی ادارہ بنام ”سیف سٹی اتھارٹیز“ بنا کر اِس کا دائرہ صوبے کے دیگر شہروں تک وسیع کر دیا گیا ہے لیکن نہیں بدلی تو پشاور کی قسمت نہیں بدلی اُور حسب اعلان پشاور کے 800 مقامات پر 6 ہزار کیمرے نصب نہ ہو سکے۔ قابل ذکر ہے کہ اِس مقصد کے لئے مالی سال 2013-14ءکے بجٹ میں خطیر رقم بھی مختص کی گئی تھی لیکن پندرہ برس بعد بھی پشاور ’سیف سٹی‘ نہیں بن سکا۔ یہ نکتہ اپنی جگہ اہم ہے کہ جن شہروں کو ’سیف سٹی‘ کے نام سے محفوظ بنایا گیا ہے وہاں بالخصوص سٹریٹ کرائمز اُور گاڑیوں یا موٹرسائیکلوں کی چوری کی وارداتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

گل بہار پشاور میں سٹریٹ کرائمز واحد ایسا مسئلہ اُور ’لمحہ فکریہ‘ نہیں جس پر اہل علاقہ کو تشویش ہو اُور جسے حل کرنے کے لئے بار بار مطالبات نہ دہرائے جاتے ہوں۔

گلبہار کو بہار چاہئے۔ 

یہاں کے سبزہ زاروں پر تعمیرات کا جاری سلسلہ اِس حد تک طول پکڑ چکا ہے کہ کئی باغات سبزہ زاروں اُور سبزہ زار سکڑ کر راہداریوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ تجاوزات کے باعث فٹ پاتھ تلاش کرنے پڑتے ہیں جبکہ شاہراؤں اُور گلی کوچوں کی ٹوٹ پھوٹ کے باعث آمدورفت باسہولت نہیں رہی۔ نکاسی آب کا پانی یہاں وہاں سڑک پر بہتا نظر آتا ہے۔

گل بہار کا حسن اُور کشش ماند پڑ چکی ہے کیونکہ یہاں کے رہائشی اُور تجارتی علاقے میں تمیز باقی نہیں رہی۔ گلی کوچوں میں کثیرالمنزلہ کمرشل عمارتیں بن رہی ہیں‘ جن کے نقشے منظور کرنے والوں نے پشاور سے بڑا ظلم کیا ہے۔ سڑک کنارے تجارتی مراکز کے سبب پارکنگ سرراہ ہوتی ہے اُور نکاسی¿ آب کا نظام ایسا ہے کہ بارش ہو یا نہ ہو‘ عشرت سینما روڈ اُور اِس سے ملحقہ گلی کوچوں پر پانی کھڑا رہتا ہے جہاں پانی کھڑا رہنے کی وجہ سے گڑھے پڑ چکے ہیں اُور گندے پانی کی چھینٹوں سے بچ کر گزرنا آسان نہیں رہا۔

 گل بہار کے باسیوں نے خیبرپختونخوا پولیس کے سربراہ (انسپکٹر جنرل) سے سٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے لئے گشت بڑھانے اُور گل بہار کے لئے الگ سیکورٹی پلان تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے نصب کر کے اہم چوراہوں کی ہمہ وقت نگرانی ممکن ہے لیکن ایسا کرنے کے لئے قوت ِارادی اُور شہریوں کی شکایات کو درخوراعتنا (لائق توجہ) سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ”آرزو جرم ہے‘ مدعا جرم ہے .... اِس فضا میں اُمید و وفا جرم ہے (رشی پٹیالوی)۔“