Showing posts with label ZarfeNigh. Show all posts
Showing posts with label ZarfeNigh. Show all posts

Friday, July 21, 2023

Muharram ul Harram 2023 - 1445 Hijri - Security Plan

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی : محرم سیکورٹی : خطرات و خدشات

حالیہ چند روز یعنی محرم الحرام (1445 ہجری) کے آغاز سے قبل اُور بالخصوص یکم محرم الحرام (بیس جولائی کے روز) پیش آئے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگرچہ ’پشاور پولیس‘ سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مستعد و چوکنا اُور پہلے سے زیادہ پرعزم دکھائی دیتی ہے لیکن غیرمعمولی حالات‘ غیرمعمولی اقدامات و انتظامات کے متقاضی ہیں۔ اِس سلسلے میں ’امامیہ کونسل‘ نے تجویز دی ہے کہ دو اُور گیارہ محرم الحرام (جمعة المبارک) کے ایام میں نماز جمعة المبارک کے اجتماعات کی سیکورٹی کے لئے صرف پولیس کے افرادی وسائل پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ عبادت گاہوں کے لئے متبادل سیکورٹی انتظامات بھی ہونی چاہئے جبکہ کونسل کی جانب سے پشاور پولیس کے فیصلہ سازوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ ’حفاظتی حکمت عملی (محرم کنٹیجینسی پلان)‘ پر نظرثانی کریں کیونکہ سیکورٹی خطرات و خدشات حقیقی ہیں تاہم حفاظتی انتظامات خوف و دہشت پھیلانے کا باعث نہیں ہونے چاہیئں۔ قابل ذکر ہے کہ پشاور پولیس نے مختلف مسالک کی عبادتگاہوں‘ اجتماعات اُور جلوسوں کو حفاظت فراہم کرنے کے لئے ’تین سطحی حفاظتی انتظامات‘ کر رکھے ہیں جس کے لئے ساڑھے تیرہ ہزار پولیس اہلکاروں‘ دو سو کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن کیمروں‘ خفیہ اطلاعات کے مربوط نظام اُور کرائے کے گھروں و ہوٹلوں‘ سرائے خانوں میں مقیم افراد پر بھی نظر رکھی گئی ہے جبکہ افغان مہاجرین کے پشاور میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تاہم پشاور شہر اُور اِس کے مضافات میں افغان مہاجرین مستقل مقیم ہیں یعنی وہ پہلے ہی شہر کی حدود میں داخل ہیں جبکہ ایسے افغان مہاجرین بھی ہیں جنہوں نے جعل سازی سے پاکستان کی شہریت حاصل کر رکھی ہے اُور اُنہیں صرف بول چال و رہن سہن کی عادات سے پہچانا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی شناختی دستاویزات کسی بھی غلط طریقے (بذریعہ رشوت اُور قبائلی اضلاع سے دستاویزات بنوا کر حاصل کرنا) جرم ہے لیکن چونکہ اِس جرم میں ’افغان مہاجرین‘ کی معاونت کرنے میں پاکستان کے اپنے سرکاری اہلکار ملوث پائے گئے ہیں‘ اِس لئے دوسروں سے گلہ کرنے کی بجائے اپنے گھر (داخلی امور) کی اصلاح کی جانی چاہئے۔ افغان مہاجرین چاہے قانونی ہوں یا غیرقانونی اُن کی باعزت اُور رضاکارانہ وطن واپسی کے لئے دی جانے والی رعایت و سہولت کا خاطرخواہ ہمدردی سے جواب نہیں دیا گیا۔ 

افغان مہاجرین یہ بات سمجھنے کے باوجود نہیں سمجھ رہے کہ اُن کی آڑ میں منظم جرائم پیشہ عناصر اُور پاکستان دشمن کاروائیاں کر رہے ہیں اُور اِس مسئلے کے صرف دو ہی حل ہیں۔ ایک تو یہ کہ افغان مہاجرین کو پاک افغان سرحد سے متصل (شہروں سے دور) خیمہ بستیاں قائم کر کے اِن کی نقل و حرکت محدود کر دی جائے لیکن ظاہر ہے کہ اِس کے لئے پاکستان کے پاس نہ تو درکار مالی و افرادی وسائل ہیں اُور نہ ہی وقت۔ دوسرا حل اِن مہاجرین کی رضاکارانہ یا غیررضاکارانہ وطن واپسی کا ہے جو قابل عمل حل ہے اُور اِس میں افغان مہاجرین کی بھی بہبود شامل ہے کیونکہ کم آبادی اُور قومی ترجیحات کے درست تعین کی وجہ سے افغانستان کے معاشی حالات میں ہر دن بہتری آ رہی ہے‘ جس کا افغان مہاجرین اُور افغان امور کے تجزیہ کار اکثر پاکستان کی معاشی صورتحال کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو اگر واقعی ایسا ہی ہے تو افغان مہاجرین کو فوراً سے پہلے اپنے ملک واپس چلے جانا چاہئے اُور اِس سے بڑھ کر کوئی دوسری خوش قسمتی اُور کیا ہوگی کہ اگر کسی شخص کو اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں ہاتھ بٹانے کا موقع مل جائے؟

پشاور کو لاحق امن و امان کے خطرات اُور اِن خطرات سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے شہر کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہیں‘ جو پہلے ہی مختلف وجوہات کی بنا پر بحران سے گزر رہی تھیں لیکن ظاہر ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی پہلی (at-most) ذمہ داری ہوتی اِس لئے سوچ بچار سے لیکر عملی اقدامات تک ہر پہلو سے غور و خوض اُور اِس سلسلے میں ہر فریق (اسٹیک ہولڈر) سے مشاورت کی گئی ہے اُور گیارہ اضلاع (پشاور‘ کوہاٹ‘ ہنگو‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ کرم‘ اورکزئی‘ ٹانک‘ مردان‘ نوشہرہ‘ ہری پور اُور ایبٹ آباد) کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ ضلع پشاور کی بات کریں تو محرم الحرام کا آغاز ہونے سے قبل ’دفعہ 144‘ نافذ کر کے افغان مہاجرین کے پشاور میں داخلے‘ اسلحے کی نمائش اُور موٹرسائیکل پر ایک سے زیادہ (ڈبل سواری) پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ موٹرسائیکل کم آمدنی رکھنے والوں کی سواری ہے اُور پشاور شہر کے گنجان آباد (پرہجوم) قدیمی حصوں میں آمدورفت کے لئے موٹرسائیکل سواری کا واحد ذریعہ بھی ہے تو ایسی صورت میں اُن علاقوں سے رعایت ہونی چاہئے جہاں محرم الحرام کی مناسبت سے اجتماعات یا جلوس نہیں ہوتے۔ پشاور میں لگائی گئی ’دفعہ 144‘ کے تحت موٹرگاڑی اُور موٹرسائیکل کے کرائے پر دینے یا حاصل کرنے‘ بغیر نمبرپلیٹ موٹرگاڑی یا موٹرسائیکل اُور دیگر گاڑیوں کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اِسی طرح اُن علاقوں میں چھت پر کھڑے ہونے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جہاں محرم الحرام کی مناسبت سے مذہبی اجتماعات یا جلوس گزرتے ہیں۔ پشاور شہر و مضافات اُور چھاؤنی کی حدود میں آتش بازی کے سامان کی خرید و فروخت بھی اِس پابندی کا حصہ ہے۔ 

مجموعی طور پر 25 پابندیاں 15 روز کے لئے نافذ کی گئی ہیں لیکن اِن میں کئی ایسی پابندیاں بھی شامل ہیں جو مستقل ہونی چاہیئں جیسا کہ آتش گیر مادے کی خریدوفروخت‘ جو بچوں اُور بڑوں کے لئے یکساں خطرہ اُور مالی وسائل کا ضیاع بھی ہے۔

 توجہ طلب ہے کہ محرم الحرام کے موقع پر جبکہ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی حرکت میں نہیں آتے بلکہ ضلعی انتظامیہ اُور بنام مقامی حکومتوں عوام کے منتخب (بلدیاتی) نمائندے بھی حرکت میں آ جاتے ہیں تو اِس نادر موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے پشاور شہر کے بازاروں کا سروے کر لیا جائے کہ کن کن بازاروں میں دکانداروں نے اپنی اپنی حدود سے تجاوز کر رکھا ہے اُور تجاوزات کے لئے استعمال ہونے والی اشیا دکانوں کے باہر ہی ڈھانپ کر رکھی جاتی ہیں یا ایک ایسی صورتحال میں جبکہ بازاروں میں آمدورفت کم ہو اُور کاروباری سرگرمیاں بھی بند کروا دی گئی ہوں تو دکانوں کے پختہ تعمیر شدہ یا غیرپختہ (مستقل و عارضی) اضافی حصے باآسانی شناخت اُور ہٹائے جا سکتے ہیں اُور اگر حکام کی جانب سے اپیل کی جائے تو محب الوطن تاجر از خود ’انسداد تجاوزات‘ کے سلسلے میں تعاون کریں گے کیونکہ دہشت گردی کا خطرہ کسی ایک مذہب و مسلک کو لاحق نہیں اُور نہ ہی اِس کے خاتمے کی ذمہ داری صرف اُور صرف حکومت اُور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے بلکہ یہ پورے پشاور کو لاحق خطرہ اُور ایک اجتماعی مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لئے ’اجتماعی (مربوط) محنت و کوشش کی پہلے سے زیادہ آج ضرورت ہے۔‘

....

Editorial Page Daily Aaj 21 July 2023

Clipping from Editorial Page Daily Aaj 21 July 2023


Monday, July 17, 2023

Paigham e Karbala Conference (Zarf e Nigha English Version)

Paigham e Karbala Conference : 

Strengthens Unity and Promotes Peace.


Shabbir Hussain Imam

(Peshawar - 16 July 2023)

Under the joint efforts of the Imamia Council for the Unity of the Muslims (Rejection of Sectarianism) Khyber Pakhtunkhwa and the Qoumi Aman Jirga, a significant event called the "Paigham e Karbala Conference" took place in Peshawar on Saturday night. The conference aimed to foster unity and harmony among Muslims, with a specific focus on the importance of prayer and early prayer as the core message of Karbala.


The effort saw the presence of esteemed individuals, including Director General of Iranian Culture Centre in Peshawar Mr. Asghar Khosrow'abadi, who emphasized the significance of prayer and its place in both ceremonies and daily life. Iqbal Haidari, Chairman of the Qoumi Aman Jirga, highlighted significant events in Muharram ul Harram and other Islamic months, underlining their importance in Islamic history.


Hajjat-ul-Islam wa Muslimeen Khatib Allama Syed Zafar Naqvi emphasized the responsibility of mosques and pulpits in accurately representing the true essence of Muharram. Allama Abid Hussain Shakri, the Principal of Madrasa Arif Hussain Al-Hussaini Shaheed, shed light on the unwavering commitment of Imam Al-Maqam, emphasizing the visible and hidden aspects of martyrdom.


The ceremony witnessed the participation of numerous custodians of Imam Bargahs, Taiziadars, founders of Majlis, Salars of Matami Sangats, and their representatives from Peshawar District. Notably, this unique event successfully brought together Shia and Sunni Muslims under one roof, promoting unity, understanding, and brotherhood.


Speakers at the conference highlighted commonalities, values, tolerance, and brotherhood, with a particular focus on strengthening the bonds of Islamic brotherhood through a deeper understanding of Karbala. By emphasizing shared aspects rather than differences, the aim was to thwart the ambitions of those who perpetuate sectarian tensions and conspiracies against Islam.


The choice of venue, the "Waheed Banquet (Wedding) Hall near Yakatoot Gate," instead of a mosque or an Imambargah, was a symbolic representation of inclusivity. It signified the unity of purpose and the participation of a predominantly youthful audience. However, it is regrettable that decision-makers from the provincial and district governments, district administration, and law enforcement agencies did not participated in the event. Their involvement could have led to better peace and order arrangements, eliminating the need for separate meetings with different sects every year and dispelling the notion of religious monopoly over Muharram.


Worth knowing that in anticipation of upcoming Muharram-e-Haram, extensive security measures have been put in place, with the Provincial Department of Home Affairs designating 4,500 locations in 11 districts of Khyber Pakhtunkhwa as highly sensitive. As necessary, mobile phone services may be temporarily suspended in certain areas of the said districts. However, it is crucial to recognize that terrorists can target any location, not just those designated as sensitive. Therefore, comprehensive security measures are essential.


The representative body "Qoumi Muharram Committee (QMC)" has expressed some concerns over unjust restrictions imposed on Imambargahs and interference in mourning rituals. Such actions infringe upon constitutional and human rights, contradicting decisions made at higher levels. It is imperative for the police to implement security arrangements seriously, taking into account the suggestions and concerns of all stakeholders, to ensure peace and order prevail. Overall, the Paigham e Karbala Conference served as an important platform for promoting unity, harmony, and mutual understanding among Muslims. It aimed to alleviate sectarian tensions and create an atmosphere of cooperation and respect. By fostering a deeper understanding of Karbala and embracing shared values, not only Muharram but also the remaining eleven months can be characterized by peace and order.


Ends.

Paigham e Karbala Conference by Imamia Council & Qoumi Aman Jirga to Strengthens Unity and Promotes Peace.

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

استقبال محرم الحرام

اِمامیہ کونسل برائے اتحاد بین المسلمین (رد ِفرقہ واریت) خیبرپختونخوا اُور ’قومی امن جرگہ‘ کے زیراہتمام ’استقبال محرم الحرام‘ کے حوالے سے خصوصی نشست بعنوان ”پیغام کربلا کانفرنس“ کا اہتمام کیا گیا جس سے خانہ فرہنگ جمہوری اِسلامی ایران کے پشاور میں تعینات ڈائریکٹر جنرل اصغر خسرو آبادی نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”کربلا کا پیغام‘ نماز کی پابندی اُور اوّل وقت میں نماز کی ادائیگی ہے‘ جسے مراسم و معمولات اُور مصروفیات میں فراموش (گم) نہیں کرنا چاہئے۔“ تقریب کے دیگر مقررین میں قومی امن جرگہ کے چیئرمین اقبال حیدری نے محرم الحرام اُور دیگر اسلامی مہینوں میں پیش آئے اہم واقعات کا تذکرہ کیا اُور کہا کہ اسلامی سال کی اہمیت اُور اِن میں پیش آئے واقعات خاص اہمیت کے حامل ہیں اُور اسلامی تاریخ کے اِن تمام درخشاں ابواب کا ذکر ہونا چاہئے۔ اُنہوں نے اِس بات پر بھی زور دیا کہ اسلامی مہینوں کے بارے میں نوجوان نسل کو بالخصوص آگاہ کیا جائے۔

حجة الاسلام و المسلمین خطیب علامہ سیّد ظفر نقوی نے محرم الحرام کے حقیقی تشخص کو اُجاگر کرنے سے متعلق ’مسجد و منبر کی ذمہ داریوں‘ پر روشنی ڈالی جبکہ مدرسہ عارف حسین الحسینی شہید کے پرنسپل علامہ عابد حسین شاکری نے اِمام عالی مقامؓ کی استقامت و شہادت کے ظاہری و پوشیدہ پہلوؤں کو اُجاگر کیا اُور اپنے مدلل خطاب کے آغاز پر یہ شعر پڑھا کہ ”آنکھوں کے ساحلوں پہ ہے اشکوں کا اِک ہجوم .... شاید غم ِحسین (ع) کا موسم قریب ہے۔“ پروقار تقریب میں ضلع پشاور کی امام بارگاہوں کے متولیان‘ تعزیہ دار‘ بانیان مجالس اُور ماتمی سنگتوں کے سالار یا اُن کی نمائندگی کرنے والوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

 پہلی مرتبہ محرم الحرام کے آغاز پر اپنی نوعیت کی اِس منفرد تقریب کی خاص بات یہ نہیں تھی کہ اہل تشیع اُور اہل سنت والجماعت (مختلف مسالک) سے تعلق رکھنے والے ایک چھت کے تلے ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوئے بلکہ بظاہر الگ الگ مسالک کے طور پر نشاندہی ہونے والے اِن مسالک نے محرم الحرام کے حوالے سے جو نکات پیش کئے اُن میں مشترکات‘ اقدار‘ رواداری‘ بھائی چارے اُور اخوت پر زور دیا گیا اُور یہی وہ خاص نکات تھے جس کا تمام مقررین نے احاطہ کیا۔ بطور خاص علامہ سیّد ظفر نقوی نے کہا کہ رواں برس ’رہبر معظم آیت اللہ سیّد خامنہ ای حفظہ اللہ‘ کی جانب سے جاری ہونے والے محرم الحرام کے حوالے سے پیغام میں علمائے کرام و ذاکرین اُور نوحہ خوانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ محرم الحرام کے دوران اسلام کے حقیقی تشخص اُور توحید کو اُجاگر کریں اُور فروعی مسائل اُور اختلافات کا تذکرہ کرنے کی بجائے مشترکات کا ذکر کریں تاکہ ’کربلا شناسی‘ کے ساتھ اسلامی اخوت میں اضافہ ہو اُور یہی ’کربلا کا پیغام‘ بھی ہے کہ عالم اسلام اِس ایک نکتہ حریت پر متفق ہو جائے کہ امام عالی مقام اُور کربلا میں اِمام عالی مقام اُور آپ کے جانثار ساتھیوں (رضوان اللہ اجمعین) کی استقامت و قربانی کا مقصد یہی تھا کہ اسلام کا حقیقی تشخص اُجاگر ہو اُور اسلام کے اِس حقیقی تشخص کو اُجاگر کر کے شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینے والوں کے عزائم خاک میں ملائے جا سکتے ہیں اُور بالخصوص اِسلام کے خلاف جاری منظم و مربوط سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔“

 اِستقبال ِمحرم الحرام کے حوالے سے منعقدہ مذکورہ نشست کا عنوان ”پیغام کربلا کانفرنس“ رکھا گیا جو انتہائی موزوں تھا اُور اِس سے بھی زیادہ موزوں انتخاب تقریب کے لئے مقام کا انتخاب تھا جو کسی مسجد یا امام بارگاہ کی بجائے ’وحید بینکویٹ (شادی) ہال نزد یکہ توت گیٹ‘ تھا جہاں شرکا میں شیعہ و سنی مسالک سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی۔ قریب دو گھنٹے جاری رہنے والے اِس تقریب کے اختتام (عشایئے) تک حاضرین نشستوں پر جمے رہے اُور بلند آواز میں درود شریف پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہوئے مقررین کے مو¿قف کی تائید بھی کی جاتی رہی‘ جس سے روحانی محفل کی رونق میں مزید اضافہ ہوا۔

اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے اِس غیرمعمولی تقریب میں اگر صوبائی حکومت‘ ضلعی حکومت‘ ضلعی اِنتظامیہ اُور بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اِداروں کے فیصلہ سازوں بھی شریک ہوتے تو امن و امان کے انتظامات و تیاریاں (محرم کنٹی جینسی پلان) کے تحت الگ الگ مسالک سے الگ الگ ملاقاتیں کرنے جیسی حسب روایت سالانہ مشق کی محتاج نہ رہتیں اُور نہ ہی محرم الحرام پر کسی مسلک کی اجارہ داری اُور چھاپ کا تاثر پیدا ہوتا۔ متعلقہ تھانے کو اطلاع دے دی گئی تھی لیکن اِس کے باوجود خاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی۔ بہرحال احساس کر لیا گیا ہے کہ بنیادی ضرورت ’کربلا شناسی‘ کے فروغ اُور استقامت و قربانیوں کے مقاصد عالیہ کو مدنظر رکھنے کی ہے‘ جس کے لئے مسالک کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے اُور اگر اِس ’بابرکت اتفاق رائے (مشترکات)‘ کو فروغ دیا جائے تو صرف محرم الحرام ہی نہیں بلکہ دیگر گیارہ مہینے بھی امن و امان سے گزر سکتے ہیں جن کے لئے عمومی حفاظتی انتظامات کے علاؤہ خصوصی انتظامات (محرم کانٹی جَینسی (سیکورٹی) پلان) کی ضرورت نہیں پڑے گی اُور نہ ہی کسی ایک مسلک کے ہاتھوں دوسرے کی دل شکنی ہو گی جس سے اختلافات بڑھتے ہیں اُور مسالک ایک دوسرے کو اپنے لئے خطرہ سمجھنے لگتے ہیں حالانکہ مشترکات موجود ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ محرم الحرام کے لئے رواں برس سال گزشتہ کے مقابلے زیادہ بڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات وضع کئے گئے ہیں۔

صوبائی محکمہ داخلہ (ہوم ڈیپارٹمنٹ) نے خیبرپختونخوا کے 11 اضلاع میں 4500 مقامات کو انتہائی حساس قرار دیا ہے تاہم ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ہوئے اعلامیہ کے مطابق پشاور‘ کوہاٹ‘ ہنگو‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ کرم‘ اورکزئی‘ ٹانک‘ بنوں‘ لکی مروت‘ مردان‘ ہری پور‘ ایبٹ آباد اُور مانسہرہ میں موبائل فونز سروسیز حسب ضرورت (اجتماعات کے موقع پر) بند رکھی جائیں گی لیکن اِس طرح کے انتظام کو مسئلے کا پائیدار حل سمجھنا خام خیالی ہو گی اُور دوسری اہم بات یہ ہے کہ دہشت گردوں کے نشانے پر صرف وہی ساڑھے چار ہزار مقامات ہونا بھی درست اندازہ نہیں بلکہ کوئی بھی دوسرا مقام (جسے فی الوقت غیرحساس سمجھ لیا گیا ہے) وہ بھی دہشت گردی کا نشانہ بن سکتا ہے اِسی لئے وسیع اُور غیرلچکدار حفاظتی انتظامات کئے جاتے ہیں اُور ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی مذکورہ شہروں میں شہری زندگی کے معمولات شدید متاثر ہوں گے لیکن اگر فرقہ ورانہ ہم آہنگی اُور مسالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی شامل ہو جائیں تو اِس سے مالی و افرادی وسائل کی بچت کے علاؤہ معمولات ِزندگی کے متاثر ہونے کے امکانات بھی کم اُور مرحلہ وار ختم ہوتے چلے جائیں گے اُور یہی حفاظتی انتظامات کا بنیادی نکتہ ہونا چاہئے۔ فکرانگیز ہے کہ ایک طرف امن کوششیں ہو رہی ہیں اُور دوسری طرف پولیس ایسے اقدامات کر رہی ہے جس کے بارے میں قومی محرم کمیٹی کو تحفظات ہیں۔

سولہ جولائی دوہزارتیئس کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں قومی محرم کمیٹی نے اِس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ رواں برس محرم الحرام کے آغاز سے قبل ’عزاداری سیّد الشہدا‘ بلاجواز پابندی اُور قدغن لگانے کے لئے امام بارگاہوں کے متولیان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اُور متولیان سے ایسے نوٹسیز پر دستخط لینے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کے مطابق وہ پولیس کی مرضی سے اپنے ہاں عزاداری کا آغاز و اختتام کریں گے جو انتہائی غیرمناسب رویہ ہے اُور اِس کوشش کو محرم کمیٹی نے مسترد کیا ہے کیونکہ یہ بنیادی آئینی و انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے یقین دہانی کے باوجود بھی اگر تھانہ جات کی سطح پر قدغنیں لگانے کی کوشش ہو رہی ہے تو اِس کا مطلب یہی ہے کہ پولیس کے اعلیٰ سطحی فیصلے‘ جو جملہ فریقین (مختلف مسالک) کی آرا و تجاویز اُور تحفظات و شکایات سننے کے بعد کئے گئے اگر اِن پر سنجیدگی سے عمل درآمد نہیں کیا جاتا تو اِس سے حفاظتی انتظامات کی کامیاب بھی ممکن نہیں ہوگی اُور خدانخواستہ ایسا ہونے کی صورت میں امن و امان کو نقصان پہنچانے کے لئے تاک میں بیٹھے ’دشمن (دہشت گردوں)‘ کو وار (حملہ) کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ 

....

Imamia Council organizes Paigham-e-Karbala Conference (app.com.pk)

Imamia Council organizes Paigham-e-Karbala Conference

Sun, 16 Jul 2023, 4:33 PM

PESHAWAR, Jul 16 (APP):Imamia Council for the Unity of the Muslims (Rejection of Sectarianism) Khyber Pakhtunkhwa in collaboration with Qoumi Aman Jirga organized ‘Paigham e Karbala Conference’ here the other day, said a press release issued here on Sunday.

Director General (DG), Iranian Cultural Centre, Peshawar Asghar Khusro Abadi attended the conference as the chief guest.

Addressing the participants of the conference, Asghar Khusro Abadi said that the message of Karbala was offering timely and early prayers, which could not be forgotten due to engagements relating to customs, traditions and other routine matters.

Chairman, Qoumi Aman Jirga, Iqbal Haidri highlighted the significant events organized in Muharram ul Harram and other holy Islamic months underlining their importance in Islamic history and stressed for highlighting these golden chapters. He further stressed for creation of awareness amongst the youth about Islamic calendar.

Allama Syed Zafar Naqvi highlighted the responsibility of masajid and emphasized presentation of the importance of Muharram-ul-Haram in true sense.

Allama Abid Hussain Shakri, the Principal of Madrasa Arif Hussain Al-Hussaini Shaheed, shed light on the unwavering commitment of Imam Aali-e-Maqam, emphasizing the visible and hidden aspects of martyrdom.

Custodians of numerous Imam Bargahs, Taiziadars, founders of Majalis, Salars of Matami Sangats and their representatives from Peshawar turned over to the conference.

The unique event successfully brought together Shia and Sunni Muslims under one roof, promoting unity, understanding, and brotherhood.

The speakers at the conference highlighted commonalities, values, tolerance and brotherhood, with a particular focus on strengthening the bonds of Islamic brotherhood through a deeper understanding of Karbala. By emphasizing shared aspects rather than differences, the aim was to thwart the ambitions of those who perpetuate sectarian tensions and conspiracies against Islam.

APP/aqk


Editorial Page - Daily Aaj - 17th July 2023.

Clipping from Daily Aaj - 17th July 2023







Saturday, July 15, 2023

Development in Peshawar - At a glance

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی .... شہری منصوبہ بندی

صوبائی دارالحکومت پشاور کا کوئی ایک بھی رہائشی یا کاروباری علاقہ ایسا نہیں جہاں بنیادی سہولیات کا نظام مثالی شکل و صورت میں موجود ہو اگرچہ عوامی اجتماعی مسائل کے حل کے لئے فیصلہ سازی کا عمل وسیع کر دیا گیا ہے اُور مقامی حکومتیں (بلدیاتی نظام) اِسی لئے وضع کیا گیا ہے کہ اِس کے ذریعے علاقائی سطح پر عوام کی نمائندگی ہو اُور علاقائی سطح پر ہی بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اِس مقصد کے لئے ضلع پشاور میں 216 تحصیل کونسلز‘ 1438 ویلیج کونسلز‘ 1076 نیبرہڈ کونسلیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اِس نظام میں ویلیج کونسلوں کے علاؤہ نیبرہڈ کونسلیں اُور اِن سے منتخب خواتین‘ مزدور کسان‘ یوتھ اُور اقلیتی اراکین خصوصی اضافی نمائندگی رکھتے ہیں۔ اِن بلدیاتی نمائندوں کی کل تعداد ’4 ہزار 244‘ بنتی ہے جن میں جنرل نشستوں پر (ویلیج اُور نیبرہڈ کونسلوں کی صورت متعلقہ علاقوں کی) نمائندگی کرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 514 کونسلر بھی شامل ہیں اُور یہی ڈھائی ہزار سے زیادہ منتخب بلدیاتی نمائندے وہ ہیں جنہیں کی منظوری سے پشاور کی ترقیاتی فیصلہ سازی کا تعین ہوتا ہے۔ اِس نتیجہ خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے پشاور کے مشرق میں واقع 4 نیبرہڈ کونسلوں (این سیز) کا جائزہ لیں جنہیں سرکاری دستاویزات میں ’گل بہار نمبر ون‘ گل بہار نمبر ٹو‘ رشید ٹاؤن اُور گل بہار نمبر فور‘ کا نام دیا گیا ہے اُور اِن چار نیبرہڈ‘ ویلیج کونسلوں سے منتخب ہونے والے جنرل کونسلروں کی کل تعداد 58 ہے جن میں 16خواتین کے لئے‘ آٹھ مزدور کسان نمائندوں کے لئے‘ آٹھ یوتھ (نوجوانوں) کے لئے اُور آٹھ نشستیں اقلیتوں کے لئے مختص کی گئی ہیں۔ غور ہونا چاہئے کہ بلدیاتی نظام کی صورت اِس پوری کوشش (مشق) کا مقصد کیا ہے اُور کیا وہ بنیادی مقصد حاصل ہو رہا ہے؟ گل بہار نمبر ون کے 25‘ گل بہار نمبر ٹو کے 24‘ رشید ٹاؤن کے 25 اُور ’گل بہار نمبر فور‘ کے 24 بلدیاتی نمائندوں کا انتخاب و تقرری کیوں کی گئی اُور اگرچہ اِن میں سے اکثر سیٹوں پر انتخاب بھی مکمل ہو چکا ہے تو کیا وجہ ہے کہ پھر بھی ’شہری مسائل‘ جوں کے توں برقرار ہیں اُور ترقیاتی ترجیحات کا تعین کرنے میں وہی ’دانستہ غلطیاں‘ آج بھی دُہرائی جا رہی ہیں جو ماضی میں کی جاتی تھیں جبکہ بلدیاتی نمائندے نہیں ہوتے تھے؟

پشاور کو سیاست دیمک کی طرح صرف اندر ہی اندر سے نہیں بلکہ باہر سے بھی کھا گئی ہے! مقامی حکومتوں کے نام سے وہ بلدیاتی نظام جو ’بلاامتیاز و تفرقہ خدمت‘ کے لئے وضع کیا گیا تھا اُسے سیاسی جماعتوں نے یرغمال (ہائی جیک) کر لیا ہے اُور ’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘ یعنی ’جس سیاسی جماعت کی حکومت اُس کی من مانی‘ کے اصول پر پشاور کے ترقیاتی فیصلے ہو رہے ہیں‘ جو سیاست سے بالاتر نہیں بلکہ سیاست پشاور کے ہر فیصلے پر حاوی ہو چکی ہے۔ اگر پشاور اُور اِس کے موجودہ مسائل پر غور کیا جائے تو یکساں توجہ طلب امر (یہ پہلو) بھی سامنے آتا ہے کہ بنیادی طور پر پشاور کے مسائل کی وجہ اُور اِس کے وسائل پر ’2 قسم‘ کے بوجھ ہیں۔ ایک اِس کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے کہ خیبرپختونخوا کے دور دراز دیگر اضلاع سے بہتر معاشی مستقبل (روزگار و ملازمت)‘ حفاظت‘ تعلیم اُور حتیٰ کہ علاج معالجے کے لئے بھی پشاور کا رخ کیا جاتا ہے اُور یہ بھی پشاور کی تاریخ رہی ہے کہ یہاں جب بھی کوئی ’وارد‘ ہوا تو اُن کی ایک تعداد پشاور ہی کی ہو کر رہ گئی۔ شاید اِسی لئے تاریخ کی کتب میں ”پشاور“ کی وجہ تسمیہ ’پیش آورد‘ بھی ملتی ہے۔ بہرحال پشاور کا انتخاب کرنے والوں کی نظر میں فوری طور پر یہاں کی سہولیات جم جاتی ہیں اُور اِس کا محرک سرسری و فطری بھی ہے جس کا ایک تعلق پشاور کی آب و ہوا سے ہے اُور اگرچہ اب ماضی کی طرح مثالی نہیں رہی لیکن دیگر اضلاع سے پھر بھی نسبتاً بہتر ہے۔ جب ہم سہولیات کے تناظر میں پشاور کا جائزہ لیتے ہوئے موازنہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع سے کرتے ہیں تو پشاور کی صورتحال نسبتاً زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہے اُور یہی کشش یہاں کے مسائل میں اضافے کا ’کلیدی محرک‘ ہے جس کا ”بوجھ“ پشاور کی زرخیز زرعی (قابل کاشت) اراضی پر رہائشی کالونیاں بننے کی صورت دیکھا جا سکتا ہے۔ پشاور کا نہری نظام گندگی و غلاظت کا مجموعہ بن چکا ہے۔ شاہی کٹھہ اُور بازار تجاوزات سے بھر گئے ہیں۔ اکثر علاقوں میں نہری نظام نکاسی آب کا بنیادی ذریعہ ہے جس میں گھریلو و کاروباری اُور صنعتی کوڑا کرکٹ‘ فضلہ اُور کیمیائی مادے بنا روک ٹوک اُور بنا تطہیر بہائے جا رہے ہیں۔ پوچھنے والے تو ہیں اُور پوچھنے والوں کا عوام نے بلدیاتی نمائندوں کی صورت انتخاب بھی کر دیا ہے لیکن پشاور سے دلی تعلق کی بجائے سیاسی تعلق نے صورتحال کو اجتماعی مفاد سے ذاتی و جماعتی مفاد کا اسیر بنا دیا ہے۔ 

توجہ طلب ہے کہ پشاور کا وہ نہری نظام جو کبھی آبنوشی کے لئے استعمال ہوتا تھا چند دہائیوں میں نکاسی آب کا ذریعہ بن گیا ہے اُور یہی ’آلودہ پانی‘ ضلع و تحصیل پشاور کی باقی ماندہ زراعت و باغبانی کے لئے استعمال ہونے کی وجہ سے نت نئی اُور پیچیدہ بیماریوں کو جنم دے رہا ہے۔ پشاور کا اِسی آلودہ پانی میں ’پولیو‘ و دیگر خطرناک بیماریوں کے جرثومے بھی پائے گئے ہیں! ایک ایسا صدر مقام‘ جو پھولوں کا شہر کہلاتا ہو اُور اُس کی مثالی آب و ہوا‘ اگر مثالی نہیں رہی تو قصور وار کون ہے؟جہاں رہائشی و تجارتی علاقوں کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہو چکا ہے اُور جہاں دانستہ و غیردانستہ سرزد ہونے والی غلطیوں سے سبق سیکھنے یعنی اصلاح احوال کا جذبہ بھی نہیں پایا جاتا تو اُس طول و عرض میں پھیلتے شہر کے ساتھ بڑھتے مسائل اگر مربوط و جامع حکمت عملی کے ساتھ حل نہیں کئے جاتے تو مبینہ ترقیاتی عمل کی صورت مالی وسائل کا ضیاع جاری رہے گا۔

منتخب نمائندوں پر مبنی مقامی حکومتوں کے نظام اُور پشاور کے مسائل کی عمومی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے توجہات ’گل بہار‘ کی جانب مبذول کرتے ہیں جس کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اُور یہ تقسیم وقت کے ساتھ ’گل بہار‘ کی آبادی بڑھنے کی وجہ سے خودبخود ہوتی چلی گئی اُور ’گل بہار‘ کی ابتدائی آبادی (پہلے حصے یعنی گل بہار نمبر ون) کے بعد کسی بھی دوسرے حصے (گل بہار نمبر دو‘ رشید ٹاؤن اُور گل بہار نمبر چار) میں خاطرخواہ شہری منصوبہ بندی کا عمل دخل نظر نہیں آتا بلکہ کھیتی باڑی کے لئے استعمال ہونے والی یہ اراضی ٹکڑوں میں فروخت ہوتی رہی اُور یوں راستے (گلیاں اُور سڑکیں) تخلیق پاتے رہے‘ جن پر تعمیر ہونے والے بے ترتیب گھروں کی اکثریت اُن تعمیراتی نقشوں کے مطابق نہیں جن کی متعلقہ میونسپلٹی (بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی) سے منظوری لی گئی تھی۔ بہرحال ’گل بہار‘ پشاور شہر کا پہلا توسیعی منصوبہ بصورت رہائشی بستی قرار دی جا سکتی ہے جس کے اکثر حصوں میں شہری منصوبہ بندی کا فقدان نظر آتا ہے اُور چار سے پانچ دہائیوں میں ’گل بہار‘ کا کوئی ایک بھی حصہ ایسا نہیں رہا‘ جہاں اینٹ رکھنے (نئی آبادی) کی گنجائش باقی رہی ہو اُور یہ وہ وقت ہے جب گل بہار کے رہنے والے ’نیند سے بیدار‘ ہوئے ہیں اُور آنکھیں مل کر اپنے گردوپیش کو دیکھنے پر اُنہیں معلوم ہوتا ہے کہ فٹ پاتھ تجاوزات سے بڑھ چکے ہیں۔ فٹ پاتھ کے ساتھ بنی ہوئی نالے نالیوں پر بھی قبضہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اُن کی صفائی پندرہ بیس برس سے نہیں ہوئی اُور معمولی سی بارش بھی گل بہار کے نشینی و نسبتاً بالائی حصوں کے لئے طغیانی کا باعث بنتی ہے یا سڑکوں پر کئی کئی دن تک بارش کا پانی کھڑا رہتا ہے جس سے تعلیمی اداروں‘ دفاتر اُور مساجد کو باقاعدگی سے جانے والوں کو مشکلات رہتی ہیں! میئر پشاور نے حال ہی میں انم صنم چوک سے عشرت سینما چوک اُور عشرت سینما چوک سے آفریدی گڑھی تک سڑک کی تعمیر و مرمت کے لئے فراخ دلی سے مالی وسائل فراہم کئے ہیں لیکن یہ مالی وسائل اگر سڑک کے اُن چند حصوں کی مرمت پر خرچ کئے جاتے جو توڑ پھوڑ کا شکار تھے۔ گل بہار کے 3 مسائل انتہائی ضروری ہیں۔ نکاسی آب کا نظام گلیوں سے متصل نہیں۔ گلیاں نیچے اُور سڑک کی سطح ہر ترقیاتی کام کے بعد بلند ہو رہی ہے۔ کئی گلیوں کی فرش بندی چاہئے جو عرصہ بیس سال پہلے بنائی گئی تھیں اُور بجلی کی فراہمی کا بوسیدہ (ناکافی) نظام کی اصلاح و توسیع ہونی چاہئے کیونکہ گل بہار کی آبادی میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن اِس کے ساتھ بجلی پانی و گیس جیسی سہولیات کی فراہمی کو مربوط توسیع نہیں دی گئی! 

اگر ’مکھی پر مکھی مارنا‘ مقصود نہیں اُور گل بہار کی ترقی سے کوئی سیاسی‘ جماعتی و سیاسی فائدہ بھی نہیں جڑا ہوا تو نمائشی اقدامات پر ’مالی وسائل‘ ضائع کرنے کی بجائے حسب ِحال (حسب ِضرورت) ترقیاتی حکمت عملی وضع کی جانی چاہئے۔

....

Editorial Page - Daily Aaj - 15th July 2023

Clipping from Editorial Page - Daily Aaj - 15th July 2023


Wednesday, June 28, 2023

Preserving Peshawar's Cultural Legacy

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی : غروب ِآفتاب 

گنجان آباد پشاور کے اندرونی علاقوں (مرکزی شہر) کی پہچان و شناخت خطرے میں ہیں۔ دوسری طرف شہر کے رہنے والوں کو جن انواع و اقسام کے مسائل و مشکلات کا سامنا ہے اُن کی ’بحرانی شکل و صورت‘ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ”رہائشی و کاروباری علاقوں“ میں تمیز نہیں رہی۔ 

گلی کوچوں میں دکانیں اُور کثیرالمنزلہ تجارتی مراکز تعمیر ہونے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے رہائشی مکانات کے منہ مانگے دام مل رہے ہیں اُور یہی سبب ہے کہ اندرون شہر سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ لمحہ¿ فکریہ ہے کہ وہ محلے جن کی رونقیں اُور خصوصیت ’ایک خاندان‘ کی طرح رہنے والوں کی مشترک زبان و ثقافت ہوا کرتی تھی‘ آج اُن کی در و دیوار سے ’اَجنبیت‘ سے چھلک و جھلک رہی ہیں۔ پشاور کا سورج تو ابھی غروب نہیں ہوا لیکن اِس کے رہنے والوں نے منہ موڑ لیا ہے اُور کم رقبے کے مکانات زیادہ قیمت کے عوض فروخت کر کے نئی بستیاں آباد کر رہے ہیں۔ وہ ہستیاں اُور گھرانے جن میں پشاور آباد (مزین) تھا‘ جن سے پشاور آباد (معطر) تھا اُنہوں نے گمنامی کا انتخاب بہ امر مجبوری کیا ہے تو اِس کے ذمہ دار صرف معاشی مسائل نہیں بلکہ وہ سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جس کے تحت پشاور کو ایک ایک کر کے اِس کی خوبیوں سے الگ کیا جا رہا ہے جیسا کہ پشاور کا تعارف آج بھی ’پھولوں کے شہر‘ کے طور پر کیا جاتا ہے جبکہ اِس کے سبھی چھوٹے بڑے باغات اُور سبزہ زاروں کی اراضی یا تو قبضہ ہو چکی ہے یا پھر تجاوزات کی زد میں ہے اُور کئی ایسی بدنما مثالیں بھی موجود ہیں جن میں باغات کی اراضی پر سرکاری دفاتر قائم کئے گئے ہیں اُور باغات کی اراضی کو ’لامتناہی عرصے کے لئے‘ اجارے (لیز) پر دیدیا گیا ہے! 

پشاور سے دشمنی (مفاد پرستی) کا یہ طویل سلسلہ باغات سے قبرستانوں (شہر ِخاموشاں) تک پھیلنے کے بعد اُن تعمیراتی نشانیوں کو بھی مٹانے پر تُلا ہوا ہے جو پشاور کی مرحلہ وار تعمیروترقی (ارتقائی مراحل) کے گواہ اُور ثبوت ہیں۔ صدیوں پر محیط پشاور کے اِس سفر میں ’ماضی کی یادگاروں‘ کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہے‘ جس کے لئے خصوصی اِدارہ (محکمہ آثار قدیمہ اُور عجائب گھر) اُور سیاحت و ضلعی انتظامیہ و مقامی حکومت شامل ہیں اُور اِن سبھی الگ الگ ناموں سے حکومتی اداروں کے قیام کا مقصد پشاور کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں جیسی طاقت اُور حاصل قانونی اختیارات کے باوجود ’پشاور کے مفادات‘ کا خاطرخواہ تحفظ نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے ہر دن پشاور کے نقشے سے کسی ایک عمارت کے منہدم ہونے کی صورت کسی ایک تاریخی باب کا اختتام ہو رہا ہے! 

جس رفتار سے پشاور کے نقوش مٹ رہے ہیں‘ اُنہیں مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ چند دہائیوں بعد پشاور شہر کی شکل و صورت یکسر مختلف ہوگی۔ اِس کی آب و ہوا پر آبادی کا بڑھتا ہوا بوجھ اُور اِس کے وسائل کے دیدہ دلیرانہ استحصال کی وجہ سے ’وادی پشاور‘ کی شناختی علامت تبدیل ہو جائیں گی۔ اِس ظالمانہ سلوک کو روکنے کی ضرورت ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پشاور کی تاریخ و ثقافت سے جڑی‘ باقی ماندہ نشانیوں کی حفاظت اُور بالخصوص تھانے اُور پٹوارخانے کی ملی بھگت سے قبضہ مافیا کا ہر قانونی و سماجی محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر اِتفاق رائے سامنے آیا ہے۔ ’پشاور شہر‘ کے حقیقی (فطری) وارثوں میں شامل 2 معروف خاندانوں (سیٹھی اُور خواجگان) کے نمائندوں نے تنظیم سازی کے ذریعے ضلعی انتظامیہ‘ مقامی و صوبائی حکومت‘ پشاور سے قومی و صوبائی اسمبلی اُور سینیٹ اراکین و دیگر بااثر افراد سے بالمشافہ اُور بذریعہ سوشل میڈیا رابطے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پشاور کے بارے میں اِس منفی تاثر کو زائل کیا جا سکے کہ ”پشاور کا کوئی بھی والی وارث نہیں رہا۔“

’پشاور جاگ اُٹھا‘ تو اِس کے سیاسی اثرات (و مضمرات) بھی ہوں گے اُور وہ انتخابی سیاست جو پشاور کے چودہ صوبائی اُور پانچ قومی اسمبلی کے حلقوں سے ہوتی ہوئی 92 یونین کونسلوں میں تقسیم ہے اُس کے نتائج سیاسی‘ خاندانی و گروہی وابستگیوں سے بالاتر‘ توقعات سے قطعی مختلف (اندازوں سے برخلاف) برآمد ہوں گے اُور یہ نکتہ بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ سیٹھی و خواجہ خاندان کی جانب سے پشاور کے لئے دردمند مؤقف کی وجہ سے سیاسی دباؤ بھی آئے گا جو اِس خاندان کے نمائندوں کے لئے ایک امتحان ثابت ہوگا کہ وہ یہ دامے درہمے سخنے خود کو پشاور کے کس حد تک وقف کرتے ہیں۔ 

پیش نظر رہنا چاہئے کہ مدمقابل ’پشاور کو غروب‘ دیکھنے کی خواہش رکھنے والے اُور ’پشاور شناسی‘ کی صورت ’نئی سحر‘ کے متلاشی ہیں جو فی الوقت اگرچہ تعداد میں کم ہیں لیکن اہل پشاور کا اتحاد ناممکن نہیں اُور اِس اتفاق میں برکت کے وسیع (لامحدود) امکانات موجود ہیں۔ یہ پہلو بھی لائق توجہ ہے کہ پشاور صرف مقامی لوگوں کے ’قابل فخر ورثہ‘ اُور ’اثاثہ‘ نہیں بلکہ پشاوری دنیا کے ہر ملک میں آباد ہیں اُور پھر پاکستان کا وہ کونسا بڑا شہر ہو گا جہاں ’پیشوری‘ آباد نہ ہوں۔ 

’ستائیس جون دوہزارتیئس‘ کے روز شروع ہونے والی مجوزہ ’تحفظ ِپشاور تحریک (ٹی پی ٹی)‘ کے دور رس نتائج و اثرات پہلا قدم اُٹھاتے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اُور ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ اِس میں صرف سیٹھی و خواجگان ہی نہیں بلکہ پشاور کی دیگر اقوام (برادریوں) کو بھی رنگ‘ نسل اُور مذہب و مسلک جیسے حوالوں سے بالاتر ہو کر ’شریک ِسفر‘ کیا جائے بالخصوص اُس نوجوان نسل کو پشاور شناس بنایا جائے جس کے ہاتھ میں ’سوشل میڈیا‘ کے ہتھیار ہیں اُور جو سماجی رابطہ کاری کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے پشاور کے مسائل اُور اِس کے ماضی و حال کو زیادہ بہتر و مربوط انداز میں مقامی اُور عالمی سطح پر اُجاگر کر سکتے ہیں۔

....




Sunday, June 25, 2023

With each step at dawn, nature's secrets unfold

ژرف نگاہ        شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: چہل قدمی

تندرستی ہزار نعمت ہے۔ طب کے نکتہئ نظر سے ہفتے کے زیادہ تر دنوں میں یعنی ہر دن کم سے کم ’تیس منٹ‘ یا اِس سے زیادہ ’چہل قدمی‘ جسمانی اعضا کی فعالیت‘ خون کی گردش‘ جسم سے فاسد مادوں کے اخراج‘ بھوک پیاس کے احساس کو بڑھانے‘ نظام ہضم کی درستگی‘ ذہنی تناؤ اُور دباؤ (ڈپریشن) سے نجات الغرض مجموعی صحت کی بہتری یا اِسے برقرار رکھنے کا ایک بہترین طریقہ (ذریعہ) ہے‘ جسے ’تیر بہ ہدف نسخہ‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ مصروفیات کی صورت ہر دن کم سے کم نصف گھنٹہ ’واک‘ اگر کسی جانے انجانے شخص کے ہمراہ کی جائے تو یہ ’آسان کسرت (ورزش)‘ ایک خوشگوار اُور حیرت انگیز اثرات رکھنے والی سماجی سرگرمی میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے کیونکہ اِس (چلتے چلتے) مختلف موضوعات پر تبادلہئ خیال سے بہت کچھ سیکھا اُور گردوپیش میں مشاہدہ کے بارے میں ہم عصروں کی رائے معلوم کی جا سکتی ہے۔ 

پیدل چلنے کی کم سے کم حد ’4 سے 6 ہزار قدم‘ مقرر ہے جبکہ معالجین تجویز کرتے ہیں کہ تیز اُور ہلکے قدموں سے ہر روز ’10 ہزار‘ قدم چلنے والے نسبتاً زیادہ صحت مند زندگی بسر کرتے ہیں۔ 

پیدل چلنے کے لئے بہترین مقام سبزہ زار‘ باغ یا ایسی ہموار سطحیں ہوتی ہیں جو پُرپیچ اُور اُونچی نیچی ہوں‘ جہاں علی الصبح تازہ ہوا میں گہرے سانس لینے سے حاصل ہونے والے خوشگوار احساس کا نعم البدل ممکن نہیں۔

 ’اہل پشاور‘ کے لئے پیدل چلنے کے تلخ و شریں تجربات پر شہری زندگی کے کچھ اِس انداز سے مسائل حاوی ہو چکے ہیں کہ ہر قدم ایک الگ کوفت سے واسطہ پڑتا ہے اُور یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ صبح ہو یا شام‘ ماسوائے چند ایک علاقوں کے‘ خواتین کے لئے پیدل چلنے کے مواقع انتہائی محدود اُور پُرخطر ہیں۔ ایک ایسا شخص (مرد یا عورت) جو اپنے گھر اُور کام کاج کی جگہ (دفتر یا دکان) کے درمیان روزانہ تیس سے چالیس منٹ پیدل چلتا ہے اُسے تندرست رہنے کے لئے کسی اضافی مشقت کی ضرورت نہیں رہتی لیکن اِس دوران وہ جن حقائق کا براہ راست مشاہدہ کرتا ہے اُنہیں باآسانی خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔

 ’صبح کی سیر کا پہلا نظارہ‘ جا بجا ڈھیروں ڈھیر گندگی (کوڑا کرکٹ) نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ کوڑاکرکٹ سے اُٹھنے والا تعفن اُور مکھیاں مچھر ہر راہ گیر کا پیچھا کرتی ہیں! پشاور کی کل 92 یونین کونسلوں میں سے بمشکل نصف میں گندگی اُٹھانے کا باقاعدہ انتظام موجود ہے جس میں اندرون شہر کے گنجان آباد علاقے بھی شامل ہیں لیکن ہر صبح گلی کوچوں میں گھر گھر سے گندگی اکٹھا کرنے اُور جھاڑو لگانے کے چند گھنٹے بعد صفائی برقرار نہیں رہتی اُور مقررہ مقامات اُور مقررہ اوقات کے علاؤہ کوڑا کرکٹ پھینکنے کا سلسلہ دن کے آغاز سے رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ ایک ایسی صورتحال جس میں گندگی پھینکنے‘ گندگی اُٹھانے اُور گندگی تلف کرنے جیسے تینوں طریق و فریق مربوط و منظم نہیں اُور یہی وجہ ہے کہ شہری زندگی کا نظارہ ”گندگی و تعفن“ کی وجہ سے ناخوشگوار تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ صبح کا دوسرا نظارہ بے ہنگم ٹریفک کا نظام ہے جو شہر کے جاگنے کے ساتھ ہی گرد اُڑاتے فعال ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پشاور کی سڑکوں پر 1960 اُور 1970ء کی دہائیوں میں ساختہ بسیں فراٹے بھرتی نظر آتی ہیں‘ جن کے اِنجنوں سے اُگلتا ہوا کثیف دھواں مٹی اُور گردوغبار کے بادلوں کو یہاں سے وہاں اُور وہاں سے یہاں لئے پھرتا ہے اُور اِس آلودگی بھری ہوا میں سانس لینا‘ کسی بھی طرح صحت مند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ توجہ طلب ہے کہ پیدل چلنے کا رجحان دن بہ دن کم ہو رہا ہے اُور اِس کی وجوہات میں تیسری بڑی وجہ ’سٹریٹ کرائمز‘ ہیں۔

پشاور کی صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ الصبح سے رات گئے تک کوئی ایک بھی وقت اُور کوئی ایک بھی علاقہ ایسا نہیں رہا جہاں کے رہنے والے گھروں سے باہر خود کو محفوظ سمجھتے ہوں! پشاور پولیس کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق سال 2023ء کے پہلے دو ماہ کے دوران پشاور میں 74 راہزنی کی وارداتیں ہوئیں جن میں 41 وارداتوں کے دوران راہزنوں نے فائرنگ بھی کی۔ اِس دوران 34 موٹرسائیکل چھینی گئیں اُور 25 موٹرسائیکل چوری ہوئے۔“ چہل قدمی کسی بھی طرح مفلسی کی علامت نہیں البتہ بچت کا ذریعہ ہے اُور اِس بامقصد سرگرمی کے فرد‘ افراد اور سماج کے لئے متعدد فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن سبھی محرکات کی اِصلاح ضروری ہے جو پیدل چلنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ چہل قدمی کے لئے مناسب ماحول فراہم کرنے کے لئے پشاور کے اُن سبھی باغات کو تجاوزات سے واگزار کرنا ضروری ہے جنہیں بنام ترقی غصب کیا گیا ہے اُور پشاور سے دشمنی رکھنے والی ’ایک خاص سوچ‘ اُور ’نظریئے‘ نے یہاں کے تاریخی و ثقافتی اَثاثوں اُور سماجی خوبیوں کے نقوش ایک ایک کر کے مٹانے شروع کر رکھے ہیں۔

چہل قدمی کے ذریعے ’پشاور شناسی‘ کو اِس صورت فروغ دیا جا سکتا ہے کہ اِس سے وہ خودغرضی اُور لاتعلقی پر مبنی رویئے عیاں ہو جائیں گے جن کی اِصلاح ضروری ہے۔ پشاور کے حقوق اَدا کرنے سے متعلق اِتفاق رائے اُور خوداِحتسابی ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہئ خیال میں بڑھتی چلی جائے گی‘ جو وقت کی ضرورت ہے۔ 

چہل قدمی کی وجہ سے ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی اضافی ثمر اُور باآسانی ممکن ہے جس سے پشاور کے ’کاربن فٹ پرنٹ (فضائی آلودگی)‘ میں خاطرخواہ کمی آ سکتی ہے اُور جس کا نتیجہ صاف آب و ہوا کی صورت برآمد ہو سکتا ہے۔ پشاور جو کبھی پھولوں کا شہر کہلاتا تھا لیکن اِس کے کچھ حصوں میں فضائی آلودگی کی شرح‘ اُس خطرناک سطح کو بھی عبور کر چکی ہے جو انسانی صحت کے لئے خطرناک و برداشت کی آخری حد ہے۔ ضروری ہے کہ کم فاصلے کے لئے گاڑی یا کسی سواری کا انتخاب کرنے کی بجائے پیدل چلنے کا انتخاب کیا جائے‘ اِسی میں صحت کی صورت انفرادی اُور پشاور کے مسائل پر غور کرنے جیسی اجتماعی بھلائی پوشیدہ ہے۔ 

  • With each step at dawn, nature's secrets unfold
  • Morning walk's embrace, a tranquil story untold



Wednesday, February 8, 2023

Economic crisis, worries & unsafe border!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

معاشی بوجھ : غیرمحفوظ سرحد

امریکہ اور یورپ کی جانب سے طالبان حکومت کو اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر تک رسائی دینے سے انکار کے بعد پاکستان سے روزانہ لاکھوں ڈالر افغانستان اسمگل کئے جا رہے ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پاکستان کو درپیش معاشی بحران کے اسباب و محرکات کا ذکر کرتے ہوئے افغانستان سمگل ہونے والے امریکی ڈالرز کا حوالہ دیتے ہوئے تحقیق کا یہ نتیجہ پیش کیا گیا ہے پاکستان سے ڈالروں کی افغانستان منتقلی ملک کے معاشی بحران کو مزید بڑھا رہی ہے۔ ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق روزانہ چھبیس لاکھ ڈالر سرحد پار جا رہے ہیں۔ افغانستان کا مرکزی بینک ہر ہفتے اپنی کرنسی مارکیٹ کے لئے سترہ ملین (ایک کروڑ ستر لاکھ) ڈالر جاری کرتا ہے۔ پاکستان سے ڈالروں کے غیر قانونی بہاو¿ کی وجہ سے ’اگست دوہزاراکیس‘ میں برسراقتدار آئی افغان حکومت عالمی تنہائی کے باوجود اگر قائم ہے تو اِس کی بڑی وجہ پاکستان کا سہارا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے لئے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ایک بڑا مسئلہ ہے اُور اِس کی وجہ سے پاکستانی روپے پر دباو¿ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے لیکن ذاتی منافع کے لئے کرنسی کی غیرقانونی کا منافع بخش کاروبار پورے جوبن پر ہے۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان کی مغرب سرحد 2640 کلومیٹر (سولہ سو چالیس میل) طویل اُور افغانستان سے جڑی ہوئی ہے۔ اِس پاک افغان ’غیرمحفوظ سرحد‘ میں افراد کی آمدورفت اُور اشیا و اجناس کی نقل و حمل کے لئے پانچ فعال مقامات (کراسنگ پوائنٹس) میں چمن‘ طورختم‘ خرلاچی‘ غلام خان اُور انگور اڈا شامل ہیں۔ جن کے ذریعے ہر ماہ قریب تین لاکھ پچاسی ہزار سے زائد افغانوں کی آمدورفت ہوتی ہے اُور اِس مقصد کے لئے 100 سہولیاتی مراکز قائم ہیں جن میں سب سے زیادہ چمن میں 79 ہیں۔ افغانوں کی اکثریت کو سفری دستاویزات یعنی افغان پاسپورٹ پر لگے پاکستان کا ویزہ ہونے کی صورت پاکستان میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ’بنا سفری دستاویزات (افغان شہریت کے کاغذات جسے تذکرہ کہا جاتا ہے)‘ بھی مریضوں‘ خواتین‘ صحافیوں اُور تاجروں کو پاکستان آمدورفت کی اجازت دی جاتی ہے اُور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بنا سفری دستاویزات پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہری (مرد و خواتین) اگر چاہیں تو وہ پاکستان میں اپنے قیام کا دورانیہ بڑھا بھی سکتے ہیں جس کے لئے ایک الگ بندوبست کے تحت شعبے قائم کئے گئے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی دوسرا ملک اپنے کسی ہمسائے ملک کو اِس قدر بڑے پیمانے پر سہولیات فراہم نہیں کرتا۔ افغانستان نے گزشتہ دو دہائیوں کی طویل جنگ کے بعد اقتدار حاصل کرنے حکومت کو دنیا تسلیم نہیں کر رہی اُور اِسے افغان عوام کی ترجمان (منتخب) حکومت نہ ہونے کا طعنہ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپ نے افغان مرکزی بینک کے ”9 ارب ڈالر“ سے زائد کے ذخائر (اثاثے) روک (منجمند کر) رکھے ہیں تاکہ یہ رقم عسکریت پسندی کے فروغ یا کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہوں۔ بعدازاں اقوام متحدہ کے دباو¿ پر امریکہ نے افغانستان کے خراب معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے اِس 9 ارب ڈالر کا آدھا حصہ جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہی تھی کہ افغان حکومت کی جانب سے افغان خواتین پر تعلیم اُور کام کاج پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد اِس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا گیا۔ افغانستان میں نئی حکومت کو قریب ’سترہ ماہ‘ مکمل ہو چکے ہیں اُور اِس عرصے کے دوران افغانستان کی معاشی حالت اُور انسانی حقوق کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ آدھی سے زیادہ افغان آبادی کو سخت سردی میں شدید بھوک کا سامنا ہے اُور اِس مشکل میں افغانستان کی معیشت کا کچھ بوجھ پاکستان کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ معروف مالیاتی مشاورتی ادارے ”الفا بیٹا کور سلوشنز پرائیویٹ لمٹیڈ“ کے مطابق ”افغانستان کو روزانہ کی بنیاد پر تقریبا دس سے پندرہ ملین (ایک سے ڈیڑھ کروڑ) ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کا نصف حصہ پاکستان (غیرقانونی طور پر) جا رہا ہے۔“ افغان حکومت کے زیر انتظام مرکزی بینک (دا افغانستان بینک) کے پاس معیشت کو سہارا دینے کے لئے ڈالر موجود ہیں جو اقوام متحدہ کی طرف سے ہر ہفتے 4 کروڑ (چالیس ملین) ڈالر دیئے جاتے ہیں تاکہ انسانی امدادی سرگرمیاں جاری رکھی جا سکیں چونکہ افغانستان عالمی بینکاری نظام سے کٹ چکا ہے‘ اس لئے یہ رقم نقدی کی صورت افغان حکومت کو دی جاتی ہے اور اس کے آنے کے بعد اسے مقامی کرنسی مارکیٹ‘ افغانی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا اگرچہ اس امداد سے طالبان کو براہ راست کوئی فائدہ نہیں پہنچتا لیکن ڈالر آخر کار مرکزی بینک کے خزانے میں چلے جاتے ہیں۔ اِس کے علاو¿ہ افغان حکومت کو کسٹم ٹیرف سے بھی ڈالروں میں آمدنی ہوتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق ”اقوام متحدہ دراصل مارکیٹوں میں ڈالر کی فراہمی اور بدلے میں افغانیوں کو خرید کر افغانی کرنسی کو مستحکم رکھے ہوئے ہے تاہم اقوام متحدہ تن تنہا افغانستان نہیں چلا رہا بلکہ اِس میں پاکستان سے غیرقانونی ڈالروں کی ترسیل (اسمگلنگ) کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران افغانی میں امریکہ ڈالر (گرین بیک) کے مقابلے میں تقریبا پانچ اعشاریہ چھ فیصد اضافہ ہوا ہے‘ جو دنیا میں کسی بھی کرنسی کی اچھی (مضبوط) کارکردگی کا مظاہرہ ہے۔ موجودہ حکومت کے برسر اقتدار میں آنے کے وقت افغان کرنسی کی قدر میں کمی ہوئی تھی اُور ایک ڈالر کے عوض 121.18 افغانی ملتے تھے لیکن بعدازاں افغانی مستحکم ہوئی اُور امریکی ڈالر کے مقابلے اِس کی موجودہ قدر 90 افغانی ہے جبکہ گزشتہ روز (8 فروری) پاکستانی روپے کی قدر 275 روپے تھی۔ اگر گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کو دیکھا جائے تو یہ 37 فیصد بنتی ہے۔ توجہ طلب ہے کہ ایک سال کے دوران افغان کرنسی کی قدر 5.6 فیصد مضبوط جبکہ پاکستانی روپے کی قدر 37 فیصد کم ہوئی ہے جو بڑی گراوٹ ہے! صرف جنوری دوہزارتیئس کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں 10فیصد کمی ہوئی ہے اُور اِس سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال میں حکومت ’آئی ایم ایف‘ سے انتہائی ضروری قرض حاصل کرنے کے لئے شرح تبادلہ پر اپنی گرفت نرم کئے ہوئے ہے اُور اِس کے زرمبادلہ کے ذخائر سال کی کم ترین سطح پر ہیں۔ وقت ہے کہ افغان معیشت کو سہارا دینے کا بوجھ اُتار کر پاکستان کے معاشی مفاد اُور مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جائے۔ 

افغانستان کی وزارت ِخزانہ کے حکام کا یہ بیان ’آن دی ریکارڈ‘ ہے کہ ”پاکستان سے ڈالروں کی اسمگلنگ گزشتہ سال کے وسط میں اُس وقت شروع ہوئی جب پاکستان نے افغانستان سے کوئلہ درآمد کرنے کا فیصلہ کیا (حالانکہ پاکستان کے پاس افغانستان سے زیادہ کوئلے کے ذخائر موجود ہیں!) چونکہ افغان و پاکستان مقامی کرنسیوں (روپے و افغانی) میں تجارت نہیں کرتے اُور یہ پابندی افغان حکومت کی طرف سے عائد ہے اِس کی وجہ سے کوئلے کے افغان برآمد کنندگان ڈالروں میں تجارت (وصولیاں) کرتے ہیں۔ افغان ڈالروں کی ترسیل کا ذکر 23 جنوری کے روز گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پریس کانفرنس میں بھی سننے میں آیا جب اُنہوں نے کہا کہ ”افغان تاجر مقامی مارکیٹ سے ڈالر خریدتے ہیں تو اِس سے پاکستانی کرنسی مارکیٹ متاثر ہوتی ہے۔“

کوئلہ افغانستان کی برآمدات میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ افغان سرمایہ کار ”تجارتی شراکت داری“ کے تحت افغان کرنسی میں کوئلہ خرید کر اسے اپنے منافع کے ساتھ روپے میں فروخت کرتے ہیں اُور پھر اِس روپے کو ڈالر میں تبدیل کر کے افغانستان کسی بینکنگ چینل سے نہیں بلکہ روائتی ہنڈی حوالہ (غیرقانونی ترسیلات زر) کے ذریعے سے لیجاتے ہیں چونکہ پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالروں کی کمی (قلت) ہے اِس لئے ڈالر پشاور جیسی سرحد سے قریب جگہوں سے خریدے جاتے ہیں جہاں ”گرے مارکیٹوں“ قائم ہیں اُور افغان تاجر سرکاری نرخ سے دس پندرہ فیصد زیادہ ادا کرنے کو بھی تیار ہوتے ہیں اِس لئے پاکستان کے کرنسی ڈیلروں اُور افغان تاجروں کے درمیان گہرے کاروباری مراسم (ہم آہنگی) دیکھنے میں آ رہی ہے۔ دوسری طرف افغان حکومت کی جانب سے کسی بھی مقدار میں ڈالر لانے پر کوئی پابندی نہیں بلکہ ڈالر لانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے لیکن افغانستان سے بیرون ملک ڈالر جانے کی زیادہ سے زیادہ حد کو نصف کرتے ہوئے 5 ہزار مقرر کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر افغان حکومت اپنی کرنسی و معاشی استحکام کے لئے ڈالروں کی خریدوفروخت (نقل و حمل) پر سخت گیر کنٹرول رکھ سکتی ہے تو ایسا پاکستان کے لئے کیوں مشکل ہے جبکہ ہمارے پاس تکنیکی و افرادی وسائل افغانستان کے مقابلے زیادہ ہیں؟ وقت ہے کہ صرف ناقص و کمزور امیگریشن پالیسی ہی نہیں بلکہ تجارت اور سرحدی کنٹرول“ میں اضافہ کیا جائے اُور بہتری لائی جائے۔ ایک ایسی سرحد جہاں روزانہ ہزاروں افراد بغیر ویزے کے سرحد پار کر رہے ہوں اُور سرحدی کراسنگ پر کسی میلے جیسا سماں ہو‘ وہاں (تجاہل عارفانہ کرتے ہوئے) ڈالروں کی غیرقانونی ترسیل پر تعجب یا تشویش کا اظہار نہیں ہونا چاہئے۔

....


Thursday, February 2, 2023

Environmetal friendly roaming

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

ماحول دوست نقل و حرکت

امریکی جامعہ (یونیورسٹی آف کیلیفورنیا) کی ’کلائمنٹ اینڈ کیمونٹی‘ نامی تحریر و تحقیق سے متعلق حکمت عملی نے ’ماحول دوست نقل و حرکت (ایچیونگ زیرو ایمیشن ود مور موبیلٹی اینڈ لیس مائنگ)‘ کے عنوان سے جائزہ جاری کیا ہے جس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کم فاصلوں کی مسافت کے لئے گاڑیوں کا استعمال نہ کیا جائے۔ پیدل چلنے کی عادت اپنائی جائے اُور آبادی کے مراکز (شہروں قصبوں) میں فراہم کردہ سہولیات پر نظرثانی کی جائے تاکہ نقل و حرکت کے رجحانات تبدیل کئے جا سکیں۔ دنیا ’ماحولیاتی انحطاط‘ سے پریشان ہے جس کی وجہ سے نہ صرف غربت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ کرہ¿ ارض پر انسان کا مستقبل بھی غیریقینی سے دوچار ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لئے کرہ ارض کا درجہ حرارت ’ڈیڑھ ڈگری سنٹی گریڈ‘ کم کرنے پر عالمی اتفاق رائے ’پیرس معاہدہ‘ کہلاتی ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے مذکورہ معاہدے پر خاطرخواہ عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ 

امریکہ میں ہوئی مذکورہ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ایسی موٹرگاڑیاں بھی ماحول دشمن ہیں جن میں ایندھن ذخیرہ کرنے کے لئے بیٹریاں نصب کی جاتی ہیں کیونکہ اِن بیٹریوں کو بنانے اُور تلف کرنے سے ماحول کا نقصان ہو رہا ہے اُور بہتر یہی ہے کہ اہل زمین ماحول کی بہتری کے لئے ہر قسم کی گاڑیوں کا استعمال کم سے کم کر دیں۔ آمدورفت کے لئے حتی الوسع پیدل چلنے کی کوشش کی جائے تاکہ کم سے کم دھواں پیدا ہو۔ کرہ¿ ارض پر رہنے والوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے جن اثرات کا سامنا ہے اُن سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے مختلف (آؤٹ آف باکس) تدابیر اختیار کرنا ہو گی جیسا کہ ایک کہانی ہے کہ کسی شخص کو شیر‘ بکری اور گھاس کو دریا کے پار سلامت حالت میں اِس طرح پہنچانا تھا کہ کوئی فریق دوسرے کو نہ کھائے۔ اگر وہ وہ شیر اور بکری کو ایک ساتھ کشتی میں لے جائے تو اندیشہ ہے کہ شیر بکری کو کھا جائے گا۔ اگر بکری اور گھاس کو کشتی پر سوار کرے تو اندیشہ ہے کہ بکری گھاس کھا جائے گی۔ اگر پہلے گھاس کو دوسرے کنارے پر پہنچائے تو اندیشہ ہے کہ ندی کنارے اکیلا رہ جانے والا شیر بکری کھا جائے گا اُور اگر شیر کو اکیلا چھوڑ کر بکری اُور گھاس دوسرے کنارے پر لے جائے تو اندیشہ ہے کہ بکری گھاس کھا جائے گی لیکن اِس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ شیر اور گھاس کو پہلے دوسرے کنارے پر پہنچایا جائے اُور اِس کے بعد دوسرے پھیرے میں بکری لے جائی جائے تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ کرہ ارض پر رہنے والوں کو بھی بالکل اِسی نوعیت کا کوئی حل تلاش کرنا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں میں کمی لانے کے لئے اپنے معمولات زندگی پر نظرثانی کریں کہ کن امور کی مرحلہ وار انجام دہی سے وہ مطلوبہ نتائج (بہتری) حاصل کر سکتے ہیں۔ امریکہ کی جامعہ نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لئے تجویز کیا ہے کہ شیر و بکری کو اکٹھا نہیں چھوڑا جا سکتا کہ ہم زیادہ ایندھن بھی استعمال کریں اُور ماحول دوستی کا خواب بھی دیکھیں۔ کہانی کا شیر ’ایندھن‘ ہے جبکہ بکری ایندھن کی بچت کے لئے یکساں ماحول دشمنی ایسی گاڑیوں کی تخلیق ہے جو لیتھیئم کا استعمال کرتی ہیں۔ کم مسافت کے لئے کسی بھی قسم کی (چھوٹی بڑی) گاڑی استعمال کرنے کی بجائے اگر پیدل چلنے کوترجیح دی جائے تو ماحول کی بہتری کے اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اِس سلسلے میں تجارتی مراکز کے قریب ’کار پارکنگ‘ بنا کر بازاروں میں گاڑیوں کی تعداد کم کی جاسکتی ہے اِس طرح رہن سہن کی لاگت میں بھی کمی آئے گی اُور ایندھن (پیٹرول ڈیزل یا سی این جی) کی بچت ممکن ہوگی۔ مذکورہ رپورٹ میں دلیل دی گئی ہے کہ لیتھیم کی مانگ کم کرنے کے لئے نئی ایجادات کی ضرورت ہے بالخصوص ایسی بیٹریاں بنائی جائیں جن میں توانائی ذخیرہ (اسٹوریج) کرنے کی صلاحیت زیادہ ہو اُور وہ ماحول دوست بھی ہوں لہٰذا الیکٹرانک گاڑیوں پر منتقلی کے تصور کی بجائے اگر انفرادی طور پر گاڑیوں کا استعمال کم کیا جائے اور مسافت کے لئے اجتماعی گاڑیاں استعمال کی جائیں یا پیدل چلنے اور سائیکل چلانا پھر سے رواج بن جائیں تو یہ خیال (تصور) بُرا نہیں ہے۔ اس سے قطع نظر کہ امریکی رپورٹ میں صرف یہی تجویز کیا گیا ہے کہ شیر (ایندھن)] بکری (بیٹریاں) اُور گھاس (الیکٹرانک گاڑیوں) سے چھٹکارا حاصل کیا جائے لیکن اصل مسئلہ وہ چھوتی بڑی صنعتیں بھی ہیں جو گاڑیوں کے بعد ماحول میں دھواں اگلنے والا دوسرا بڑا ذریعہ (سورس) ہیں۔

....


Wednesday, February 1, 2023

Peshawar Bleeding: New wave of terrorism

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

دہشت گردی‘ نئی لہر : پشاور لہو لہو

پہلا تجزیہ: خیبرپختونخوا پولیس کے صوبائی مرکز (پولیس لائنز) پر دہشت گرد حملہ اِس لحاظ سے خطرناک ترین ہے کہ اِس میں حملہ آور پولیس کے حفاظتی حصار کو ناکام بنانے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں اُور مستقبل میں اِس قسم کے حملوں کو روکنے کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس کے لئے خفیہ معلومات پر مبنی کاروائیوں کو زیادہ اہمیت ملنی چاہئے۔ دوسرا تجزیہ: پاکستان کے طول و عرض میں ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے بیرون ملک تیار ہوتے ہیں لہٰذا سرحدی سیکورٹی نقل و حرکت سخت کرنے کے علاؤہ جب تک ہمسایہ ممالک پاکستان کی داخلی سلامتی کے درپے رہیں گے اُس وقت تک پائیدار قیام امن ممکن نہیں ہوگا۔ تیسرا تجزیہ: خیبرپختونخوا (فرنٹ لائن صوبے) میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے زیادہ مالی و افرادی وسائل بشمول تربیت اُور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ چوتھا تجزیہ: پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہر کے مقابلے پشاور کی معیشت و معاشرت دہشت گردی سے نسبتاً زیادہ متاثر ہے اِس لئے پشاور کے لئے ’سیف سٹی پراجیکٹ‘ کی ترجیحی بنیادوں پر (جلد) تکمیل سمیت معاشی بحالی کے خصوصی امدادی پیکج کا اعلان ہونا چاہئے۔ پانچواں تجزیہ: دہشت گردی بنا مقامی سہولت کاری ممکن نہیں ہوتی۔ گیارہ جون دوہزار اکیس سے صوبائی پولیس سربراہ (انسپکٹر جنرل پولیس) معظم جاہ انصاری کے بقول تفتیش کار اِس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ پولیس لائنز حملے کا مرکزی کردار (خودکش حملہ آور) پہلے ہی سے پولیس لائنز میں مقیم تھا۔ چھٹا تجزیہ: پولیس لائنز حملے کے بعد سے دہشت گردوں کی منصوبہ بندی عیاں ہو چکی ہے جو اِس مرتبہ اہم سرکاری تنصیبات اُور دفاتر کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اِس امکان کے پیش نظر پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے جملہ سرکاری دفاتر کے حفاظتی اِنتظامات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ساتواں تجزیہ: پولیس لائنز حملے کے بعد ’ریسکیو‘ ادارے کی جانب سے امدادی کاروائیاں ’حواص باختگی‘ کا شکار دکھائی دیں جبکہ یہ ادارہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ ریسکیو کی کارکردگی کا جائزہ اُور تربیت و تیاری سے متعلق امور کا جائزہ (نظرثانی ضروری ہے۔ آٹھواں تجزیہ: خیبرپختونخوا پولیس کے سربراہ پولیس لائنز حملے سے چند گز کے فاصلے پر اپنے دفتر میں موجود تھے لیکن اُنہیں دھماکے کی جگہ تک پہنچنے میں 100 منٹ سے زائد کا عرصہ لگا اُور اُنہوں نے اپنے دفتر اُور موقع پر موجود صحافیوں (ذرائع ابلاغ کے نمائندوں) سے بار بار کی درخواست کے باوجود بھی بات چیت بھی نہیں۔ خودکش حملے کے حقائق کمشنر پشاور کی جانب سے پہلے‘ پشاور پولیس کے سربراہ (سی سی پی اُو) اُور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ’پبلک ریلیشنز‘ کی جانب سے بعدازاں (بالترتیب) گھنٹوں بعد جاری کئے گئے جس کی وجہ سے قیاس آرائیاں ہوتی رہیں کیونکہ جملہ اعدادوشمار میں فرق تھا۔ کسی ہنگامی صورتحال میں جبکہ پورا ملک اُور بالخصوص پولیس لائنز میں تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ حقائق جاننے کے لئے بے چین تھا لیکن شہدا،اُور زخمیوں کے ناموں کی تفصیلات منظرعام پر آنے میں کئی گھنٹے لگے جبکہ پولیس کی موبائل فون ایپس اُور سوشل میڈیا (فیس بک‘ ٹوئیٹر وغیرہ) کے ذریعے حقائق و محرکات کی وضاحت ممکن تھی۔ نواں تجزیہ: سرکاری دفاتر کے کام کاج ’آن لائن‘ سرانجام دینے کے لئے اِنفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا چاہئے تاکہ سرکاری دفاتر سے رجوع کرنے والوں میں کمی لائے اُور صارفین کو سہولیات و خدمات کی آن لائن فراہمی ہو سکے۔ اِس سلسلے میں بھارت کے کئی شہروں بالخصوص نئی دہلی میں سرکاری دفاتر کی تعداد کم کرنے اُور دفاتر کی خدمات آن لائن فراہم کرنے کے تجربے اُور اُس کے نتائج کا مطالعہ کیا جانا چاہئے۔

دہشت گردی کی حالیہ ”نئی لہر“ کے دوران رونما ہونے والے پے در پے واقعات (ٹائم لائن) سے پتہ چلتا ہے کہ عسکریت پسند گروہ دوہزاربائیس کے ماہ نومبر سے فعال ہے جب اِس نے ماہ جون میں حکومت کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں تقریبا ایک درجن سنگین دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں جن میں صرف کم از کم 27 سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں جبکہ تیس جنوری کے روز پولیس لائنز پر حملہ گزشتہ تین ماہ میں ہوئے سبھی حملوں سے الگ اُور زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے۔ ملک بھر میں مسلح افواج کے ساتھ ساتھ سویلین اہداف پر لگاتار دہشت گردانہ حملے پریشان کن ہیں۔ خاص طور پر اس حقیقت کے پیش نظر کہ ضرب عضب اور ردالفساد جیسی فوجی کاروائیوں کے ذریعے دہشت گرد عناصر کو ان کی محفوظ پناہ گاہوں سے تقریبا ختم کر دیا گیا تھا لیکن دہشت گردی کے خلاف عزم تو برقرار رہا لیکن اِس کے انسداد کی کوششوں میں کمی اُور افغانستان کی جانب سے پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کی اجازت سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے نتیجتاً شمال مغربی اور جنوب مغربی سرحدوں پر پاکستان دشمن تاک لگائے بیٹھے نظر آتے ہیں اُور موقع ملتے ہیں انتہائی بیدردی و بے رحمی سے وار کرتے ہیں۔ افغانستان حکومت کی سرپرستی میں مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پانے کی کوشش بھی تاحال یا خاطرخواہ کامیاب نہیں ہو سکی ہے اُور یقینا اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان مخالف جہاں کہیں بھی ہوں اُور چاہے سرحد پار ہی کیوں نہ ہوں‘ اُن کے خلاف کاروائی کی جائے۔ اِس سے پہلے انسداد دہشت گردی سے متعلق ’قومی اتفاق رائے‘ کی تجدید ہونی چاہئے جیسا کہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) حملے کے بعد ہوا تھا اور پھر ملک سے دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے تک ریاست کی پوری طاقت کے ساتھ کاروائی کی گئی تھی۔

پاکستان کی انسداد دہشت گرد حکمت عملی میں موجود لچک اُور مصلحتوں یا الجھنوں کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔ قومی سطح پر طے کرنا ہوگا کہ عسکریت پسند کبھی بھی اچھا یا بُرا نہیں ہوتا بلکہ عسکریت پسندی ہمیشہ ہی سے ’امن دشمن‘ ہوتی ہے اُور اِس نکتہ نظر سے شہروں کو اسلحے سے پاک کرنے کے لئے خصوصی مہمات کا آغاز ہونا چاہئے۔ ضروری ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔ اگر ہم افغان حکومت اور عسکریت پسندوں کو خوش کرنے کو ضروری سمجھیں گے تو دہشت گرد حملوں کی صورت ناقابل تلافی جانی و مالی نقصانات اُٹھاتے رہیں گے۔ وقت ہے کہ ملک کے تمام طبقوں بالخصوص سیاسی جماعتیں اور سکیورٹی فورسز کو مل بیٹھ کر دہشت گردوں کو شکست دینے کے لئے مشترکہ منصوبہ (لائحہ عمل) تیار کریں تاکہ پاکستان کو مزید تباہی اور اموات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بلاشک و شبہ قومی سلامتی خطرات و بحران سے دوچار ہے اُور اگر اِس نازک مرحلے پر ریاست کو سلامتی کے حوالے سے ’قومی پالیسی‘ کی ضرورت ہے جو وفاقی اور صوبائی سطح پر مشترکہ طور پر نافذ کی جائے اُور یہ پالیسی صرف سیکورٹی اداروں ہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ اِس کی ملکیت ہر پاکستانی فرد تک ہونی چاہئے۔ وقت ہے کہ حوصلہ مند قومی قیادت‘ جرات مندانہ اور مشکل فیصلوں پر عمل درآمد کرے اُور اُس غیر یقینی کی صورتحال کا خاتمہ کیا جائے جو تکلیف دہ حقیقتوں (خوف‘ دہشت‘ تباہی و بربادی کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات) کی صورت ظاہر ہو رہی ہے۔


Saturday, January 28, 2023

Motorways: the unsafe journey experiences.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

موٹرویز : سہولیات و حفاظت کا معیار

پاکستان میں موٹروے سال 1997ءمیں متعارف ہوئی‘ جس کے بعد سے اِس کی توسیع جاری ہے۔ فی الوقت کثیر رویہ ’موٹرویز (شاہراہیں)‘ 2 ہزار 816 کلومیٹر طویل ہیں جبکہ 1 ہزار 213 کلومیٹر توسیعی منصوبے زیرغور یا زیرتعمیر ہیں۔ یہی موٹروے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کا بھی حصہ ہے جو چین کی سرحد (درہ خنجراب) سے شروع ہو کر گوادر (بندرگاہ) تک تجارتی راہداری ہے۔ پاکستان میں کل 16موٹرویز کا خاکہ تیار کیا گیا جن میں سے 11 کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اِنہیں فعال کر دیا گیا ہے۔ موٹروے کے ہر حصے (سیکشن) کو انگریزی زبان کے حرف ’ایم (M)‘ سے شناخت کیا جاتا ہے جبکہ ’ایم‘ کے ساتھ کسی عدد (نمبر) کا اضافہ اُس کی انفرادیت کو ظاہر کرتا ہے جیسا کہ پشاور سے اسلام آباد (155 کلومیٹر) طویل موٹروے کو ’ایم ون (M-1)‘ کہا جاتا ہے اُور یہ سال 2007ءسے فعال ہے۔

موٹروے کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے ’ہائی وے سیفٹی ٹرانسپورٹیشن انجینئرنگ‘ کو دیکھا جاتا ہے جو کسی بھی شاہراہ یا موٹر وے کا سب سے اہم پہلو ہوتا ہے کیونکہ اگر بناوٹ میں نقص نہ ہو تو ٹریفک حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں بنا رکاوٹ اُور تیزرفتار سفر کے لئے موٹرویز کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے لیکن ’ہائی ویز‘ کو درپیش ’سیفٹی چیلنجز‘ خاطرخواہ توجہ سے حل نہیں کئے گئے۔ اِس منظرنامے سے متعلق یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ موٹروےز کے ساتھ حفاظتی امور سے جڑے مسائل (سیفٹی چیلنجز) کی ایک نئی جہت سامنے آئی ہے۔ موٹرویز کے سیفٹی مینجمنٹ کا تقاضا یہ ہے کہ حرکت کی رفتار برقرار رکھتے ہوئے حفاظتی مسائل کو زیادہ محتاط طریقے سے حل کیا جائے۔ موٹروے ہو یا کوئی عمومی شاہراہ‘ جن مقامات پر عموماً ٹریفک حادثات ہوتے ہیں‘ اُنہیں ”حادثاتی بلیک سپاٹس“ کہا جاتا ہے۔ یہ ’بلیک سپاٹس‘ تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے تخلیق پاتے ہیں جبکہ اِن کے دیگر محرکات (وجوہات) میں ڈرائیونگ میں مہارت کی کمی‘ ٹریفک قواعد سے متعلق خواندگی کی کمی‘ تیزرفتاری اُور بے صبری کا عمومی قومی رجحان‘ ٹریفک سائن بورڈز کی کمی‘ جیومیٹرک ڈیزائن کے مسائل اور پیدل چلنے والوں یا موٹرویز کے اردگرد کھیتوں سے مال مویشوں اُور جانوروں کا موٹرویز عبور کرنا جو اِس کے نامناسب ڈیزائن کا عکاس ہے چند ایسے پہلو ہیں‘ جنہیں خاطرخواہ توجہ حاصل نہیں اُور اگرچہ صارفین اِن کے بارے میں متعلقہ شعبوں کو شکایات درج کرواتے بھی ہیں لیکن غلطیوں کی اصلاح بہت ہی کم دیکھنے میں آتی ہے اُور پُرخطر موٹرویز پر سفری سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے۔ انسانی جان کی اہمیت کا احساس فیصلہ سازی کی جس سطح پر ہونا چاہئے وہ دیکھنے میں نہیں آ رہا اُور یہی وجہ ہے کہ ایسے عوامل موجود ہیں جو آئے روز موٹرویز پر ہونے والے حادثات یا حادثات سے بال بال بچنے میں براہ راست یا بالواسطہ کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اِن عوامل میں موسمیاتی تبدیلیاں اُور ماحولیاتی اثرات جیسا کہ دھند‘ سموگ وغیرہ کا بھی کافی عمل دخل ہے۔ اب تک کے موٹرویز تجربے یعنی عمومی مشاہدے اُور تجزئیات کو یکجا کیا جائے تو معلوم ہوتا کہ موٹرویز پر حادثات کی بڑی وجہ لاپرواہی سے گاڑی چلانا (2 فیصد)‘ تیز رفتاری (25 فیصد)‘ ٹائر پھٹنے سے حادثات (23فیصد)‘ بریک فیل ہونا (18فیصد) اور موٹرویز کو پیدل عبور کرنے کی کوشش میں (9فیصد) حادثات ہوئے ہیں۔ یہ اعدادوشمار سالہا سال سے کم و بیش ایک جیسے ہی ہیں جبکہ ضرورت یہ ہے کہ موٹروے سے استفادہ کرنے والے مسافروں کی آرا بھی اِس میں شامل ہونی چاہئے کہ خوش قسمتی سے زندہ بچ جانے والے موٹرویز کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اُور اُن کا سفری تجربہ کیسا رہا یا بار بار سفر کرنے میں اُنہیں کون کون سے ایک جیسے مسائل و مشکلات سے واسطہ پڑتا ہے یا مسائل و مشکلات اُن کی نظروں سے گزرتے ہیں؟ موٹرویز قومی اثاثہ ہیں جنہیں بہتر سے بہتر بنانے کے ساتھ اِن کے انتظامی امور (مینجمنٹ) میں وقت کے ساتھ اصلاحات ضروری ہیں تاکہ مسافروں کو معیاری سہولیات میسر آئیں۔ اُنہیں اپنی حفاظت کا احساس ہو۔ اِس مقصد کے لئے رہنمائی کا مناسب ”ٹریفک گائیڈنس اینڈ کنٹرول سسٹم“ ہونا چاہئے تاکہ گاڑیوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ جن دیہی یا شہری علاقوں کے آس پاس سے موٹرویز گزرتی ہے وہاں کے رہنے والے کسی نہ کسی مجبوری کی وجہ سے موٹروے پیدل عبور کرنے جیسا خطرہ مول لیتے ہیں جبکہ ایسے خطرات کو انڈر پاسیز بنا کر کم یا ختم کیا جا سکتا ہے۔ گاڑیوں بالخصوص پبلک ٹرانسپورٹ کو حد رفتار کا لحاظ پاس رکھنے کے لئے اُن کی رفتار ایک ٹول پلازے سے دوسرے ٹول پلازے تک دیکھی جانی چاہئے اُور پبلک ٹرانسپورٹ کے جو ڈرائیور تیزرفتار یا گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کریں اُنہیں سخت جرمانے ہونے چاہیئں۔ ٹائر پھٹنے کی وجہ سے ہونے والے حادثات کی روک تھام ’ٹائر چیکنگ گیج‘ اُور بریک فیل ہونے کی صورت حادثے سے بچنے کی تربیت کے لئے ذرائع ابلاغ (پرنٹ‘ الیکٹرانک میڈیا اُور سوشل میڈیا) کے ذریعے آگاہی مہمات چلائی جانی چاہیئں۔ شاہراؤں پر سفر محفوظ اُور قابل محظوظ بنانے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

موٹرویز اُور گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ سے سفر کرنے میں دو بنیادی فرق ہیں۔ سب سے پہلا اُور نمایاں اُور انتہائی اہم فرق یہ ہے کہ موٹرویز پر ’جی ٹی روڈ‘ کے مقابلے فی گاڑی زیادہ ’ٹول ٹیکس‘ وصول کیا جاتا ہے۔ دوسرا فرق موٹرویز پر بنائے گئے قیام و طعام کے مقامات (ریسٹ ایریاز) میں خدمات کی قیمت نسبتاً زیادہ وصول کی جاتی ہے جبکہ تیسری عمومی شکایت قیام و طعام کے مقامات (ریسٹ ایریاز) میں بنائے گئے ’عوامی واش رومز‘ کی خراب حالت اُور صفائی کا انتہائی ناقص انتظام سے متعلق ہے۔ موٹرویز کو پیدل عبور کرنے کی کوشش عمومی حادثات کا باعث بنتی ہے جس میں انسانوں یا جانوروں کو بچانے کی کوشش میں جانی و مالی نقصانات معمول کی بات ہیں۔ ایسی کسی ہنگامی صورت میں اگر موٹرویز کے متعلقہ شعبے کو بذریعہ ”ہیلپ لائن فون نمبر 130“ اطلاع دی جائے تو یہ بات یقینی نہیں ہوتی کہ فوری مدد پہنچے گی۔ اگر ہنگامی حالات میں کی گئی کسی فون کال کو کئی منٹ تک انتظار کروانے کے بعد جواب دیا جائے تو اِس سے ’ہنگامی حالت (ایمرجنسی)‘ میں مدد کا تصور مجروح ہوتا ہے۔ موٹرویز پر سفر کا تجربہ مسافروں کے لئے کتنا شاندار اُور پُرخطر ہے اِس حوالے سے اگر تحقیق کی جائے تو موٹروے سے زیادہ محفوظ اُور ماحول دوست آمدورفت کا تصور تیز رفتار ریل گاڑی (بلٹ ٹرین) کا سامنے آئے گا جو کئی ہمسایہ ممالک میں انتہائی ترقی یافتہ اُور زیرزمین سرنگوں کی شکل میں فعال ملتا ہے۔

....


Sunday, January 1, 2023

Yearender Internet in 2022

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
سالنامہ: انٹرنیٹ و سوشل میڈیا
سال 2022ءکے دوران انٹرنیٹ اُور سماجی رابطہ کاری (سوشل میڈیا) کی دنیا میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ سال دوہزاراکیس کی طرح دوہزاربائیس میں بھی سب سے زیادہ استفادہ ’گوگل (Google)‘ سے کیا گیا جبکہ سوشل میڈیا کی دنیا پر حکمرانی کرنے والی ٹوئیٹر (Twitter) کا زوال دیکھا گیا اُور ٹوئیٹر کی جگہ ’انسٹاگرام (Instagram)‘ نے لی۔ سال 2022ءکے دوران دنیا کی آبادی 8 ارب کے عندسے کو عبور کر گئی اُور اِس ایک سال کے عرصے میں دنیا بھر میں ’5 ارب‘ صارفین نے انٹرنیٹ سے استفادہ کیا۔ کلاو¿ڈ فلیئر (CloudFlare) نامی ادارے کی مرتب کردہ رپورٹ کے دیگر اعدادوشمار میں کہا گیا ہے کہ سال 2022ءکے دوران انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں مجموعی طور پر 23 فیصد اضافہ ہوا اُور یہ اعزاز عالمی تاریخ میں کسی بھی دوسری ایجاد کو حاصل نہیں کہ وہ سالانہ اِس قدر تیزی سے پذیرائی حاصل کرے۔
 اِنٹرنیٹ پر دنیا کے بڑھتے ہوئے انحصار کو دیکھتے ہوئے پیشنگوئی کی گئی ہے کہ آئندہ چند برس کے دوران انٹرنیٹ امور مملکت سے لیکر نجی زندگی کے معمولات تک ہر ضرورت پر حاوی ہوگا تاہم ٹیکنالوجی کے اِس اندھا دھند طوفان میں اخلاقی و ثقافتی اقدار کا مستقبل کیا ہو گا یہ بات اہل مغرب (ترقی یافتہ دنیا) کے لئے اہمیت نہیں رکھتی لیکن ایشیائی خطے بالخصوص جنوب مغربی ایشیائی ممالک اُور خلیجی (عرب) ممالک کے علاو¿ہ چین‘ جاپان اُور جنوبی و شمالی کوریا جیسے ممالک اپنی تاریخ و ثقافت اُور زبان کو بہت اہمیت دیتے ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ جہاں انٹرنیٹ صارفین مقامی و علاقائی زبانوں میں تبادلہ خیال کر رہے ہیں وہیں انٹرنیٹ خواندگی کے سلسلے بھی پہلے سے کئی زیادہ دراز دکھائی دیتے ہیں۔ اِس پوری صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے پاکستان کے فیصلہ سازوں کو چاہئے کہ وہ نئے عیسوی سال (دوہزارتیئس) کے دوران انٹرنیٹ سے متعلق خواندگی کو نصاب تعلیم کا حصہ بنائیں تاکہ انٹرنیٹ کے عمومی استعمال سے ”مصنوعی ذہانت“ اُور ’ڈیٹا سائنس“ جیسی وسعت پا لینے کے بعد اِس ٹیکنالوجی سے خاطرخواہ فائدہ اُٹھایا جا سکے۔

سال دوہزار بائیس کے دوران دنیا کی 10 مقبول ترین ویب سائٹس میں پہلے نمبر پر گوگل‘ دوسرے نمبر پر فیس بک جبکہ تیسرے اُور چوتھے نمبر پر 2 ویب سائٹس (ٹک ٹاک اُور ایپل) فائز ہیں۔ پانچویں سے نویں نمبر تک بالترتیب یوٹیوب‘ مائیکروسافٹ‘ ایمازون ویب‘ انسٹاگرام‘ ایماوزن جبکہ دسویں نمبر پر 4 ویب سائٹس (آئی کلاؤڈ‘ نیٹ فلیکس‘ ٹوئیٹر اُور یاہو) ایک ہی درجے پر مساوی فائز ہیں لیکن انٹرنیٹ کی مقبولیت اُور فعالیت سے متعلق اِن اعدادوشمار پر اندھا دھند یقین کرنا درست نہیں ہوگا کیونکہ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ عالمی سطح پر پہلے 10 نمبروں پر آنے والی ویب سائٹس میں اکثریت امریکی سرمایہ کاروں کی ہیں جبکہ اِن کی مقبولیت کے بارے میں سالانہ اعدادوشمار مرتب کرنے والی کمپنیاں بھی امریکی ہی ہیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا پر امریکہ جس حکمرانی کا خواب دیکھ رہا ہے اُس کے صرف چین اُور روس ہی نہیں بلکہ جمہوری اسلامی ایران بھی شدید خطرے کے طور پر دیکھا اُور ذکر کیا جاتا ہے۔

ایران نے سال 2022ءکے دوران روس کو ڈرون طیارے فراہم کئے جو ایک کمزور انٹرنیٹ سیکورٹی رکھتے تھے لیکن وہ اِس لحاظ سے کامیاب رہے کہ دنیا نے پہلی مرتبہ ’خودکش ڈرون طیاروں‘ کو دیکھا۔ اِس سے قبل اسرائیل اُور امریکہ کے تحقیق کاروں نے اربوں ڈالر خرچ کر کے ایسے ڈرون طیارے بنائے جو ایک اُڑان میں کئی روز تک فضا میں رہ سکتے ہیں۔ جو زیادہ بم یعنی وزن اُٹھا کر لیجا سکتے ہیں اُور جن میں یہ پوشیدہ رہنے کی صلاحیت بھی ہے تاکہ دشمن کے ریڈار اُنہیں نہ دیکھ سکیں۔ ایران نے نہایت ہی کم وسائل سے ایسے ڈرون طیارے بنائے جو نچلی پرواز کرنے کی وجہ سے ریڈار کی شعاؤں کو دھوکہ دیتے ہیں اُور جنہیں کسی ایک مشن (حملے) پر صرف ایک ہی مرتبہ بھیجا جا سکتا ہے۔ روس یوکرائن جنگ نے صرف ایرانی ڈرونز ہی نہیں بلکہ روس‘ امریکہ اُور نیٹو تنظیم کے رکن ممالک کی بنائی ہوئی تباہ کن جنگی ٹیکنالوجی بھی ظاہر کی جس سے کرۂ ارض پر عالمی جوہری جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں! حقیقت یہی ہے کہ ٹیکنالوجی نے انسانوں کی زندگیوں میں سہولیات سے زیادہ مشکلات پیدا کی ہیں اُور سال 2023ءکے دوران اُمید کی جا سکتی ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسان دوست اُور ماحول دوست بنانے پر زیادہ سوچ بچار (تحقیق) اُور کام کیا جائے گا۔

اگر سال 2022ءکے دوران ’کرپٹوکرنسی‘ کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو قواعد و ضوابط (ریگولیشنز) کی کمی اور غیر مرکزیت کی وجہ سے کرپٹو کرنسیز کی دنیا خطرات سے دوچار رہی لیکن ہیکس (دھوکہ دہی اُور فریب) کے درمیان کرپٹو کرنسیز کا کاروبار چلتا رہا۔ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں دھوکہ دہی کے حوالے سے دنیا دو واضح حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک حصہ ہر دھوکے کے لئے چین کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے جبکہ دوسرا گروہ امریکی Hackers کی جانب اُنگلیاں اُٹھاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کی کھوج‘ بندوبست اُور تخلیق کے بارے معلومات (پروٹوکولز) سے آشنا اِس کی خامیوں کا فائدہ اُٹھانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سال 2022ءکے پہلے تین مہینوں میں کرپٹو کرنسی کی چوری کے واقعات زیادہ پیش آئے جن کا مجموعی حجم 1.3 ارب ڈالر کے مساوی تھا جبکہ سال دوہزاربائیس کے اختتام پر ’سائبر کرائمز‘ کے عادی مجرموں نے مجموعی طور پر کرپٹو کرنسی پر اعتماد کرنے والوں کے 3 ارب ڈالر چوری کئے ہیں اُور ظاہر ہے کہ سال 2023ءکے دوران کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے کے رجحان میں کمی دیکھنے میں آئے گی کیونکہ جہاں اِس قدر چوری اُور دھوکہ دہی کا خطرہ ہو‘ وہاں کوئی بھی ذی شعور سرمایہ کاری کرنا پسند نہیں کرے گا۔

سال دوہزاربائیس کے دوران انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں 23 فیصد اضافے پر خوش ہونے کی بجائے اِس بات کو بھی دیکھنا چاہئے کہ انٹرنیٹ‘ سوشل میڈیا اُور بالخصوص کرپٹوکرنسی کے صارفین کیا خود کو زیادہ محفوظ سمجھ رہے ہیں؟ اگر نہیں تو دنیا کو ’عالمی انٹرنیٹ‘ کی بجائے ’ملکی سطح پر محدود انٹرنیٹ‘ کی ضرورت ہے جو آن لائن سرگرمیوں کے لئے زیادہ محفوظ‘ قابل بھروسہ اُور زیادہ کارآمد ثابت ہو‘ یہی وہ ضروریات تھیں جن کے لئے انٹرنیٹ کو ترقی دیتے ہوئے ’ویب تھری پوائنٹ زیرو‘ متعارف کرایا گیا لیکن شاید ابھی انٹرنیٹ کے وسائل اِی گورننس اُور اِی لائف سٹائل جیسی پُرکشش مراعات کی شکل میں مشکلات کا ’یقینی حل‘ پیش کرنے سے بہت دور ہیں۔ ....

Friday, September 16, 2022

Water Distribution issues in Peshawar City.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: خوابوں کی دُنیا

صوبائی دارالحکومت پشاور میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اُور نکاسی آب سمیت کوڑا کرکٹ کی تلفی و صفائی کے لئے ذمہ دار ”واٹر اینڈ سینٹی ٹیشن سروسیز پشاور (WSSP)“ نامی ادارہ ”جنوری دوہزارچودہ“ میں قائم ہوا۔ اِس سے قبل پشاور شہر اُور ضلع پشاور میں ’میونسپل سروسیز‘ میونسپلٹی فراہم کرتی تھی‘ جسے تحلیل کر کے چار ٹاؤنز اُور ایک ضلعی نگران و منتظم ادارہ بنایا گیا تاہم بعدازاں چاروں ٹاؤنز اُور ضلعی ادارے سے صفائی ستھرائی‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اُور کوڑا کرکٹ کی تلفی جیسے بنیادی کام (متعلقہ امور بھی) ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کو اِس اعلان کے ساتھ سونپ دیئے گئے کہ یہ ادارہ پشاور کی تمام 92 یونین کونسلوں میں فعال کیا جائے گا اُور اُمید یہ بھی تھی کہ میونسپلٹی اُور بعدازاں چار ٹاؤنز سے جن میونسپل خدمات کو ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے سپرد کیا گیا ہے مذکورہ خدمات کا معیار بہتر ہوگا لیکن عملاً ایسا نہیں ہو سکا اُور یہ نتیجہ¿ خیال صرف عوامی رائے نہیں بلکہ یہی مؤقف پشاور سے منتخب اراکین صوبائی اسمبلی کا بھی ہے۔ رواں ہفتے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی‘ فوکل پرسن برائے میگا پراجیکٹس اور احیائے پشاور نامی حکمت ِعملی کے شریک نگران (ایم پی اے) آصف خان نے ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز پشاور‘ کو پشاور شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال‘ مسدود نکاسی آب اُور جا بجا کچرے (کوڑا کرکٹ) کے ڈھیروں کا حوالہ دیتے ہوئے ’کڑی تنقید‘ کا نشانہ بنایا تاہم یہ واضح نہیں کہ صوبائی حکومت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے قیام کو ”سنگین غلطی“ تسلیم کرتے ہوئے اِسے تحلیل کرتی ہے یا نہیں اُور کیا میونسپل خدمات دوبارہ چاروں ٹاؤنز اُور ضلعی بلدیاتی ادارے کو سونپ دی جائیں گی؟ لمحۂ فکریہ ہے کہ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے قیام سے پہلے پشاور میں مذکورہ تین میونسپل خدمات (پینے کے پانی کی فراہمی‘ نکاسی آب کو فعال رکھنے اُور کوڑا کرکٹ کی تلفی) پر اُٹھنے والے اخراجات میں کئی سو نہیں بلکہ کئی ہزار گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ پشاور کو مختلف علاقوں (زونز) میں تقسیم کر کے ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے انتظامی دفاتر کرائے کی عمارتوں میں قائم کئے گئے ہیں جبکہ ملازمین کو مراعات کی مد میں ایسی سہولیات بھی فراہم ہیں‘ جو اُن کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر واپس لے لینی چاہیئں!

جون دوہزار بائیس میں پیش کئے گئے رواں مالی سال 2022-23ءکے صوبائی ترقیاتی بجٹ میں ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ اُور ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی (ڈبلیو ایس ایس سی) کے لئے 6 ارب روپے مختص کئے گئے۔ اِن چھ ارب روپے سے اگر ملازمین کی تنخواہیں اُور مراعات ادا نہ کی جائیں تو پشاور کے کئی ایک مسائل حل ہو سکتے ہیں جبکہ تمام یونین کونسلوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ پشاور میں پینے کے پانی کی فراہمی کا انحصار زیرزمین آبی ذخیرے پر ہے‘ جس سے شہریوں کو 7 گھنٹے یومیہ پانی فراہم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن پشاور شہر کے کئی ایسے حصے بھی ہیں جہاں یومیہ ایک سے دو گھنٹے بمشکل پانی فراہم ہو رہا ہے اُور ایسا ہی ایک بدقسمت علاقہ ’یونین کونسل گنج‘ ہے۔ پشاور شہر کی اِس بالائی یونین کونسل گنج کے مختلف مقامات پر ایک درجن سے زائد ٹیوب ویل نصب ہیں لیکن پانی کی ترسیل کا غیرمنظم نظام ہونے کی وجہ سے گنج‘ یکہ توت‘ لاہوری اُور کریم پورہ کے کئی حصوں میں پینے کا پانی حسب ِاعلان یومیہ 7 گھنٹے فراہم نہیں ہو رہا۔ پانی کی قلت بالخصوص اُن علاقوں میں زیادہ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جو ڈھلوان پر ہیں جیسا کہ کوچہ بی بی ذکری‘ محلہ تیلیان‘ محلہ شیخ الاسلام‘ محلہ دفتر بندان اُور اِن سے ملحقہ دیگر محلہ جات کے صارفین کو بمشکل ایک سے دو گھنٹہ پانی فراہم کیا جاتا ہے جو اہل علاقہ کی ضرورت کے مطابق کفالت نہیں کرتا کیونکہ پانی کے ترسیلی نظام کی خرابی کے باعث زیرڈھلوان علاقے اپنے حصے سے زائد پانی لیجاتے ہیں! اندرون پشاور مذکورہ علاقوں میں پانی کی قلت کی 2 بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ’ٹیوب ویلوں‘ کے لئے جگہ کا انتخاب کرتے ہوئے غلط فیصلے ہیں جبکہ دوسری وجہ پانی کے ترسیلی نظام کی خرابیاں ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کسی علاقے میں ایک درجن ٹیوب ویل نصب ہونے کے باوجود بھی وہاں پانی کی قلت سے متعلق شکایات سننے کو نہ ملتیں۔ 

پہلی ضرورت: صوبائی حکومت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ اُور ’ڈبلیو ایس ایس سی‘ سے پشاور کے ٹیوب ویلوں کے منجملہ کوائف طلب کرے‘ جس سے معلوم ہو جائے گا کہ پشاور میں کس طرح پانی کی فراہمی پر سیاسی کاروبار کیا جا رہا ہے۔ اِس سلسلے میں وزیراعلیٰ پبلک ہیلتھ سے رپورٹ طلب کر چکے ہیں‘ جسے فراہم کرنے میں غیرضروری طور پر تاخیر کی جا رہی ہے۔ دوسری ضرورت: پشاور شہر کی حدود میں پانی کے ترسیلی نظام کے نقشہ جات مرتب کئے جائیں اُور پانی کے ترسیلی پائپ لائن زیر زمین بچھانے کی بجائے اُنہیں ظاہر رکھا جائے تاکہ چوری کے پانی کنکشنوں کا خاتمہ ہو اُور کسی ایک ٹیوب ویل سے پانی کا ترسیلی درست خطوط پر استوار ہو۔ ذہن نشین رہے کہ ایک ٹیوب ویل کم سے کم ایک ہزار خاندانوں کی یومیہ کفالت ممکن ہوتی ہے اُور اِس تناسب سے دیکھا جائے تو پشاور کی 92 میں سے 43 یونین کونسلوں میں ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے کل 524 ٹیوب ویل فعال اُور کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے زیراستعمال 40 ٹیوب ویل‘ گیارہ پانی ذخیرہ کرنے کی بڑی ٹینکیاں اُور 39 فلٹریشن پلانٹس نصب ہیں۔ مجموعی طور پر پشاور میں سرکاری و نجی ٹیوب ویلوں کی تعداد 1400 سے زیادہ ہے جن سے ”یومیہ 800 ملین گیلن پانی“ حاصل کیا جا رہا ہے اُور یہ مقدار پشاور کی کل آبادی کی ضرورت سے کئی زیادہ ہے۔ توجہ طلب ہے کہ زیادہ تعداد میں ٹیوب ویلوں کی وجہ سے نہ صرف بجلی اُور پانی ضائع ہو رہا ہے بلکہ زیرزمین پانی کی سطح بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے لیکن اِس بارے میں بہت کم خوروخوض کیا جاتا ہے۔

’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے فیصلہ ساز ”خوابوں کی دنیا“ میں رہتے ہیں‘ جہاں ہمیشہ سب کچھ مثالی (سب اچھا) دکھائی دیتا ہے۔ سمجھنا ہوگا کہ ترقی اُور پائیدار ترقی کے نت نئے تصورات‘ نت نئے پرکشش ناموں سے متعارف کرنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ رواں ہفتے نئے جوش و جذبے سے ’ماڈل نیبرہڈ کونسلز‘ نامی حکمت ِعملی کا اعلان کرتے ہوئے ”ڈبلیو ایس ایس پی“ کے فیصلہ سازوں کو یقین ہے کہ وہ مقامی افراد کی شمولیت سے چنیدہ یونین کونسلوں میں صفائی کی صورتحال بہتر بنائی جائے گی اُور اِس سلسلے عوام کے تعاون سے پینے کے پانی کی بچت اُور حفظان صحت کے اصولوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ اِس حکمت ِعملی کے لئے اقوام متحدہ کے ذیلی عالمی امدادی ادارے ”یونیسیف (یونائٹیڈ نینشنز انٹرنیشنل چلڈرنز ایمرجنسی فنڈ)“ اُور ”اسلامک ریلیف پاکستان“ نامی دنیا کے پانچویں بڑے امدادی ادارے کے اشتراک سے عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ’اِسلامک ریلیف‘ نامی ادارہ 1992ءسے پاکستان میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اُور یہ پاکستان سمیت 29 ممالک میں کام کرنے والا شاید واحد مسلمان امدادی ادارہ ہے۔ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ نے پانچ یونین کونسلوں (قائد آباد کاکشال ٹو‘ زون اے میں یوسف آباد‘ زون بی میں رشید ٹاؤن‘ زون سی میں نوتھیہ قدیم اُور زون ڈی میں راحت آباد) کو مثالی (ماڈل) بنانے کے لئے ’یونیسیف‘ اُور ’اسلامک ریلیف‘ کے مالی تعاون سے تجرباتی جن اقدامات کا فیصلہ کیا ہے‘ اُن میں شجرکاری اُور صفائی ستھرائی شامل ہیں لیکن ماضی میں بھی اِسی قسم کی (ملتی جلتی) کوششوں کے اگر خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے تو فیصلہ سازی کی سطح پر غوروخوض ہونا چاہئے تاکہ وقت و مالی وسائل ضائع نہ ہوں اُور ماضی کی وہ غلطیاں بھی نہ دُہرائی جائیں جن کی وجہ سے کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بھی حاصل وصول صفر رہا ہے‘ البتہ ذرائع ابلاغ اُور سوشل میڈیا کے صفحات ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے اعلیٰ و ادنیٰ عہدوں پر کام کرنے والے اہلکاروں کی تصاویر اُور بیانات سے ہرے بھرے دکھائی دے رہے ہیں!

 منیر اِس ملک پر آسیب کا سایہ ہے کہ کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اُور سفر‘ آہستہ آہستہ (منیر نیازی)۔

....


Tuesday, September 6, 2022

Peshawar Kahani - Epidemics.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: بڑے شہر کا خواب

خیبرپختونخوا کے سب سے زیادہ آبادی والا ضلع ’پشاور‘ بدستور ”وبائی امراض“ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ پشاور میں صوبے کے دیگر اضلاع سے عارضی و مستقل نقل مکانی کرنے والوں کا سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے جبکہ حالیہ سیلاب نے اِس نقل مکانی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اِس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پشاور میں علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کا نظام مزید علاج گاہوں اُور تجزیہ گاہوں (لیبارٹریز) کے قیام کے ذریعے توسیع چاہتا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ صوبائی دارالحکومت دیگر اضلاع کی نسبت کورونا وبا کے بھی سب سے زیادہ کیسز اُور اموات ہوئی ہیں جبکہ ڈینگی ہیمرجک بخار کے علاؤہ پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والوں کی تعداد کے حوالے سے بھی پشاور سرفہرست ہے۔ 

پشاور میں صوبے کے دیگر حصوں سے لوگ سرکاری و نجی کام کاج‘ کاروبار یا ہسپتالوں میں علاج کے سلسلے میں آتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں وبائی امراض (انفیکشنز) نسبتاً زیادہ ہے۔ پشاور میں وبائی وبائی امراض کی زیادہ تعداد کا تعلق تجزیہ گاہوں (لیبارٹریز) سے بھی ہے جہاں پشاور کے علاؤہ دیگر اضلاع سے نمونے ارسال کئے جاتے ہیں اُور اُن کے نتائج پشاور میں وبائی امراض کے طور پر درج ہوتے ہیں۔ لمحہ¿ فکریہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں کورونا وبا سے مجموعی طور پر 6 ہزار 354 ہلاکتیں ہوئی جبکہ اِن میں 3ہزار 140اموات کا تعلق پشاور سے ہے۔ اِسی طرح صوبے بھر میں 2 لاکھ 23ہزار 630 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی جن میں سے 84 ہزار 569 مریضوں کا تعلق ضلع پشاور سے رہا۔ پشاور میں کورونا وبا سے ہونے والی زیادہ اموات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیگر اضلاع کی نسبت پشاور میں صحت کی سہولیات نسبتاً بہتر شکل و صورت میں دستیاب ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ تیمارداروں کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مریضوں کو جلدازجلد پشاور کے مرکزی ہسپتالوں تک پہنچائیں۔ دوسرا محرک ضلعی سطح پر ہسپتالوں سے مریضوں کو پشاور بھیجنا (ریفر کرنا) بھی ایک معمول ہے اُور اِس کی وجہ سے پشاور کے تینوں بڑے سرکاری ہسپتالوں (لیڈی ریڈنگ‘ خیبر ٹیچنگ اُور حیات آباد کمپلیکس) پر غیرمقامی مریضوں کا دباؤ   رہتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں صحت کا نظام جب تک اضلاع کی سطح پر مضبوط‘ وسیع اُور فعال نہیں کیا جائے گا اُس وقت پشاور کے وسائل پر دباؤ رہے گا۔ اِس سلسلے میں ایک ضمنی پہلو بھی فیصلہ سازوں کے زیرغور رہے اُور وہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی نسبت پشاور میں مختلف امراض کے ماہر معالجین زیادہ تعداد میں موجود ہیں اُور چونکہ اِن معالجین کی اکثریت نجی علاج گاہوں کے علاؤہ سرکاری ہسپتالوں سے بھی ملازمتی وابستگی رکھتے ہیں جو مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں ریفر کرتے ہیں اُور وہیں اُن کا علاج اُور جراحت (سرجریز) کی جاتی ہیں لہٰذا علاج معالجے کے نظام کو جس قدر بھی وسعت دی جائے‘ اگر معالجین کا تعاون شامل حال نہیں ہوگا تو اُس وقت تک بہتری (اصلاح) ممکن نہیں ہے۔ پشاور میں کورونا وبا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ماضی کی طرح حال میں بھی زیادہ ہے۔ فی الوقت پشاور میں کورونا سے 689 مریض متاثر ہیں اِن میں 309 فعال کورونا کیسز ہیں جن کا باقاعدگی سے علاج معالجہ ہو رہا ہے۔ اِسی طرح پشاور میں 19 ایسی تجزیہ گاہیں (لیبارٹریز) ہیں جہاں کورونا وبا کی ٹیسٹنگ کی جاتی ہے اُور اِن لیبارٹریز میں صرف پشاور نہیں بلکہ دیگر اضلاع سے نمونے ٹیسٹنگ کے لئے ارسال کئے جاتے ہیں۔ صرف خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری نے صوبے میں ہوئے کل 50لاکھ 35 ہزار 49 ٹیسٹوں میں سے ’نوے فیصد‘ سرانجام دیئے۔ 

کورونا وبا کے علاؤہ پشاور میں پائی جانے والی دوسری خطرناک بیماری پولیو ہے اُور یہ بیماری (پولیو میلائٹس) صحت عامہ کے فیصلہ سازوں کے لئے کسی درد سر سے کم نہیں۔ پولیو کے انسداد کے حوالے سے گزشتہ بیس برس (دو دہائیوں) کے دوران کی جانے والی کوششوں (مہمات) اُور اِن کی کامیابی سے متعلق محکمہ¿ صحت کے حکام کے دعوو¿ں کو دیکھا جائے تو آج برسرزمین نتائج قطعی مختلف ہونے چاہیئں تھے لیکن ضلع پشاور سے پولیو کا خاتمہ نہیں ہو رہا جس کی ایک وجہ یہاں نقل مکانی اُور جا بجا نئی رہائشی بستیوں کا بنا منصوبہ بندی و سہولیات قیام ہے۔ پشاور میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کی تعداد بھی صوبے کے کسی بھی دوسرے ضلع کی نسبت زیادہ رہی ہے! حال ہی میں ختم ہونے والی پولیو مہم کے حوالے سے ایک رپورٹ میں جو اعدادوشمار دیئے گئے اُن کے مطابق پشاور میں 20 ہزار 274 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے جن میں 7 ہزار 204 ایسے بچے بھی شامل ہیں جن کے والدین نے اپنے بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے روک دیا جبکہ مذکورہ رپورٹ میں پشاور کے 13ہزار 70 ایسے بچوں کا ذکر بھی کیا گیا جو انسداد پولیو مہم کے دوران اپنے گھروں پر موجود نہیں تھے اُور ایسے ’غائب‘ بچوں کی تعداد کے لحاظ سے بھی پشاور دیگر اضلاع کے مقابلے سرفہرست ہے! پولیو کے غیر ویکسین شدہ بچے یوں تو ہر ضلع میں موجود ہیں لیکن اِن کی سب سے بڑی تعداد کا تعلق پشاور سے ہونا اِس لحاظ سے بھی تشویشناک ہے کہ ایک تو پولیو کا وائرس پھلتا رہتا ہے اُور دوسرا چونکہ دیگر اضلاع سے پشاور آمدورفت کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اِس لئے پولیو وائرس کی پشاور آمد اُور یہاں سے دیگر اضلاع منتقلی کا عمل جاری ہے! 

پشاور کے وبائی امراض میں کورونا اُور پولیو کے بعد ’ڈینگی بخار‘ کا نمبر آتا ہے۔ اِس وبا نے بھی محکمہ¿ صحت کے صوبائی اُور ضلعی فیصلہ سازوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ضلع پشاور ’ڈینگی‘ کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے زیادہ متاثر ہے۔ سال 2017ءمیں ڈینگی وبا پھیلنے سے پشاور میں بیس ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے اُور اِن کے ’ڈینگی ٹیسٹ‘ مثبت آئے تھے جن میں سے کم از کم 70 افراد کی موت بھی ڈینگی ہی سے ہوئی تھی جبکہ رواں سال (دوہزار بائیس کے دوران) خیبرپختونخوا میں اگرچہ مچھروں سے پھیلنے والی کسی بھی بیماری سے اموات ریکارڈ نہیں ہوئی تاہم کل 1972کیسز میں سے پشاور کا حصہ 111 ہے جبکہ دیگر زیادہ متاثرہ اضلاع میں مردان (783)‘ (قبائلی ضلع) خیبر (420)‘ نوشہرہ (193) اُور ہری پور (182) شامل ہیں۔ وبائی امراض کا مقابلہ کرتے ہوئے پشاور میں فضائی آلودگی کی بلند (خطرناک) سطح پر بھی غور ہونا چاہئے جس کی وجہ سے مختلف وبائی امراض پیچیدہ شکل اختیار کرتی ہیں جبکہ گلے‘ سانس‘ آنکھوں اُور جلد (اسکن) کے امراض بھی پشاور میں دیگر اضلاع کی نسبت زیادہ ہیں۔ لمحہ¿ فکریہ ہے کہ ایک وقت پشاور پھولوں کا شہر کہلاتا تھا جو ’وبائی امراض کا مرکز‘ بن چکا ہے اُور یہ صورتحال جامع منصوبہ بندی اُور عملی اقدامات پر مبنی حکمت عملی کی متقاضی ہے۔ شاعر پرویز شہریار نے ”بڑے شہر کا خواب“ کے عنوان سے ایک طویل نظم لکھی تھی جس کا اقتباس ’پشاور کی موجودہ حالت ِزار‘ کا عکاس ہے۔

لمحہ لمحہ الجھتے رہے 

سچے جھوٹے سپنوں سے 

بڑے شہر کا خواب لئے

ہر پل نیا عذاب لئے

بھاگتے رہے تمام عمر 

پیش نظر سراب لئے

لا حاصلی کا خواب لئے 

گھوڑے کے آگے گھاس ہو جیسے 

ہر سانس نئی آس ہو جیسے 

جینے کی امنگ میں 

مرتے رہے‘ مرتے رہے!

.... 

Editorial Page = Daily Aaj Peshawar = September 06, 2022