Showing posts with label Health in KP. Show all posts
Showing posts with label Health in KP. Show all posts

Tuesday, September 6, 2022

Peshawar Kahani - Epidemics.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: بڑے شہر کا خواب

خیبرپختونخوا کے سب سے زیادہ آبادی والا ضلع ’پشاور‘ بدستور ”وبائی امراض“ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ پشاور میں صوبے کے دیگر اضلاع سے عارضی و مستقل نقل مکانی کرنے والوں کا سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے جبکہ حالیہ سیلاب نے اِس نقل مکانی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اِس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پشاور میں علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کا نظام مزید علاج گاہوں اُور تجزیہ گاہوں (لیبارٹریز) کے قیام کے ذریعے توسیع چاہتا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ صوبائی دارالحکومت دیگر اضلاع کی نسبت کورونا وبا کے بھی سب سے زیادہ کیسز اُور اموات ہوئی ہیں جبکہ ڈینگی ہیمرجک بخار کے علاؤہ پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والوں کی تعداد کے حوالے سے بھی پشاور سرفہرست ہے۔ 

پشاور میں صوبے کے دیگر حصوں سے لوگ سرکاری و نجی کام کاج‘ کاروبار یا ہسپتالوں میں علاج کے سلسلے میں آتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں وبائی امراض (انفیکشنز) نسبتاً زیادہ ہے۔ پشاور میں وبائی وبائی امراض کی زیادہ تعداد کا تعلق تجزیہ گاہوں (لیبارٹریز) سے بھی ہے جہاں پشاور کے علاؤہ دیگر اضلاع سے نمونے ارسال کئے جاتے ہیں اُور اُن کے نتائج پشاور میں وبائی امراض کے طور پر درج ہوتے ہیں۔ لمحہ¿ فکریہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں کورونا وبا سے مجموعی طور پر 6 ہزار 354 ہلاکتیں ہوئی جبکہ اِن میں 3ہزار 140اموات کا تعلق پشاور سے ہے۔ اِسی طرح صوبے بھر میں 2 لاکھ 23ہزار 630 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی جن میں سے 84 ہزار 569 مریضوں کا تعلق ضلع پشاور سے رہا۔ پشاور میں کورونا وبا سے ہونے والی زیادہ اموات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیگر اضلاع کی نسبت پشاور میں صحت کی سہولیات نسبتاً بہتر شکل و صورت میں دستیاب ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ تیمارداروں کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مریضوں کو جلدازجلد پشاور کے مرکزی ہسپتالوں تک پہنچائیں۔ دوسرا محرک ضلعی سطح پر ہسپتالوں سے مریضوں کو پشاور بھیجنا (ریفر کرنا) بھی ایک معمول ہے اُور اِس کی وجہ سے پشاور کے تینوں بڑے سرکاری ہسپتالوں (لیڈی ریڈنگ‘ خیبر ٹیچنگ اُور حیات آباد کمپلیکس) پر غیرمقامی مریضوں کا دباؤ   رہتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں صحت کا نظام جب تک اضلاع کی سطح پر مضبوط‘ وسیع اُور فعال نہیں کیا جائے گا اُس وقت پشاور کے وسائل پر دباؤ رہے گا۔ اِس سلسلے میں ایک ضمنی پہلو بھی فیصلہ سازوں کے زیرغور رہے اُور وہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی نسبت پشاور میں مختلف امراض کے ماہر معالجین زیادہ تعداد میں موجود ہیں اُور چونکہ اِن معالجین کی اکثریت نجی علاج گاہوں کے علاؤہ سرکاری ہسپتالوں سے بھی ملازمتی وابستگی رکھتے ہیں جو مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں ریفر کرتے ہیں اُور وہیں اُن کا علاج اُور جراحت (سرجریز) کی جاتی ہیں لہٰذا علاج معالجے کے نظام کو جس قدر بھی وسعت دی جائے‘ اگر معالجین کا تعاون شامل حال نہیں ہوگا تو اُس وقت تک بہتری (اصلاح) ممکن نہیں ہے۔ پشاور میں کورونا وبا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ماضی کی طرح حال میں بھی زیادہ ہے۔ فی الوقت پشاور میں کورونا سے 689 مریض متاثر ہیں اِن میں 309 فعال کورونا کیسز ہیں جن کا باقاعدگی سے علاج معالجہ ہو رہا ہے۔ اِسی طرح پشاور میں 19 ایسی تجزیہ گاہیں (لیبارٹریز) ہیں جہاں کورونا وبا کی ٹیسٹنگ کی جاتی ہے اُور اِن لیبارٹریز میں صرف پشاور نہیں بلکہ دیگر اضلاع سے نمونے ٹیسٹنگ کے لئے ارسال کئے جاتے ہیں۔ صرف خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری نے صوبے میں ہوئے کل 50لاکھ 35 ہزار 49 ٹیسٹوں میں سے ’نوے فیصد‘ سرانجام دیئے۔ 

کورونا وبا کے علاؤہ پشاور میں پائی جانے والی دوسری خطرناک بیماری پولیو ہے اُور یہ بیماری (پولیو میلائٹس) صحت عامہ کے فیصلہ سازوں کے لئے کسی درد سر سے کم نہیں۔ پولیو کے انسداد کے حوالے سے گزشتہ بیس برس (دو دہائیوں) کے دوران کی جانے والی کوششوں (مہمات) اُور اِن کی کامیابی سے متعلق محکمہ¿ صحت کے حکام کے دعوو¿ں کو دیکھا جائے تو آج برسرزمین نتائج قطعی مختلف ہونے چاہیئں تھے لیکن ضلع پشاور سے پولیو کا خاتمہ نہیں ہو رہا جس کی ایک وجہ یہاں نقل مکانی اُور جا بجا نئی رہائشی بستیوں کا بنا منصوبہ بندی و سہولیات قیام ہے۔ پشاور میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کی تعداد بھی صوبے کے کسی بھی دوسرے ضلع کی نسبت زیادہ رہی ہے! حال ہی میں ختم ہونے والی پولیو مہم کے حوالے سے ایک رپورٹ میں جو اعدادوشمار دیئے گئے اُن کے مطابق پشاور میں 20 ہزار 274 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے جن میں 7 ہزار 204 ایسے بچے بھی شامل ہیں جن کے والدین نے اپنے بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے روک دیا جبکہ مذکورہ رپورٹ میں پشاور کے 13ہزار 70 ایسے بچوں کا ذکر بھی کیا گیا جو انسداد پولیو مہم کے دوران اپنے گھروں پر موجود نہیں تھے اُور ایسے ’غائب‘ بچوں کی تعداد کے لحاظ سے بھی پشاور دیگر اضلاع کے مقابلے سرفہرست ہے! پولیو کے غیر ویکسین شدہ بچے یوں تو ہر ضلع میں موجود ہیں لیکن اِن کی سب سے بڑی تعداد کا تعلق پشاور سے ہونا اِس لحاظ سے بھی تشویشناک ہے کہ ایک تو پولیو کا وائرس پھلتا رہتا ہے اُور دوسرا چونکہ دیگر اضلاع سے پشاور آمدورفت کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اِس لئے پولیو وائرس کی پشاور آمد اُور یہاں سے دیگر اضلاع منتقلی کا عمل جاری ہے! 

پشاور کے وبائی امراض میں کورونا اُور پولیو کے بعد ’ڈینگی بخار‘ کا نمبر آتا ہے۔ اِس وبا نے بھی محکمہ¿ صحت کے صوبائی اُور ضلعی فیصلہ سازوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ضلع پشاور ’ڈینگی‘ کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے زیادہ متاثر ہے۔ سال 2017ءمیں ڈینگی وبا پھیلنے سے پشاور میں بیس ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے اُور اِن کے ’ڈینگی ٹیسٹ‘ مثبت آئے تھے جن میں سے کم از کم 70 افراد کی موت بھی ڈینگی ہی سے ہوئی تھی جبکہ رواں سال (دوہزار بائیس کے دوران) خیبرپختونخوا میں اگرچہ مچھروں سے پھیلنے والی کسی بھی بیماری سے اموات ریکارڈ نہیں ہوئی تاہم کل 1972کیسز میں سے پشاور کا حصہ 111 ہے جبکہ دیگر زیادہ متاثرہ اضلاع میں مردان (783)‘ (قبائلی ضلع) خیبر (420)‘ نوشہرہ (193) اُور ہری پور (182) شامل ہیں۔ وبائی امراض کا مقابلہ کرتے ہوئے پشاور میں فضائی آلودگی کی بلند (خطرناک) سطح پر بھی غور ہونا چاہئے جس کی وجہ سے مختلف وبائی امراض پیچیدہ شکل اختیار کرتی ہیں جبکہ گلے‘ سانس‘ آنکھوں اُور جلد (اسکن) کے امراض بھی پشاور میں دیگر اضلاع کی نسبت زیادہ ہیں۔ لمحہ¿ فکریہ ہے کہ ایک وقت پشاور پھولوں کا شہر کہلاتا تھا جو ’وبائی امراض کا مرکز‘ بن چکا ہے اُور یہ صورتحال جامع منصوبہ بندی اُور عملی اقدامات پر مبنی حکمت عملی کی متقاضی ہے۔ شاعر پرویز شہریار نے ”بڑے شہر کا خواب“ کے عنوان سے ایک طویل نظم لکھی تھی جس کا اقتباس ’پشاور کی موجودہ حالت ِزار‘ کا عکاس ہے۔

لمحہ لمحہ الجھتے رہے 

سچے جھوٹے سپنوں سے 

بڑے شہر کا خواب لئے

ہر پل نیا عذاب لئے

بھاگتے رہے تمام عمر 

پیش نظر سراب لئے

لا حاصلی کا خواب لئے 

گھوڑے کے آگے گھاس ہو جیسے 

ہر سانس نئی آس ہو جیسے 

جینے کی امنگ میں 

مرتے رہے‘ مرتے رہے!

.... 

Editorial Page = Daily Aaj Peshawar = September 06, 2022



Saturday, May 7, 2022

Dos and Donts of the Social Media uses for Health Department

شبیرحسین اِمام

  سوشل میڈیا پالیسی: موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ

    غیرذمہ دارانہ اظہار رائے اُور بالخصوص اِس مقصد کے لئے سوشل میڈیا کا غلط استعمال باعث تشویش ہے‘ جس کی اصلاح کی کوشش ایک ایسے مرحلے پر کی جا رہی ہے جبکہ خرابی کی جڑیں بہت دور تک پھیل چکی ہیں۔ بہرحال اطلاعات کے مطابق ”محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے اپنے ملازمین کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا کا وسائل استعمال کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ یا مخالفانہ انداز میں تبصرے کرتے ہیں۔ ایسے ملازمین کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے اُور ’سوشل میڈیا‘ پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔“ 

بنیادی طور پر یہ ضرورت اِس لئے پیش آئی کیونکہ ایک تو محکمے کی حکمت عملیوں کی رازداری نہیں رہتی اُور دوسرا جو ملازمین کسی بھی وجہ سے حکومتی حکمت عملیوں پر تنقید کرتے ہیں وہ اپنے دلائل میں سرکاری دستاویزات بنا سیاق و سباق پیش کرتے ہیں جن کی وجہ سے عوام الناس میں تشویش پھیلتی ہے اُور حکومت پر دباؤ بنتا ہے اُور کوئی بھی حکمت عملی نافذ ہونے سے پہلے ہی واپس لینا پڑ جاتی ہے اُور حقیقت یہی ہے کہ اِس قسم کا طرزعمل ’سوشل میڈیا‘ کا غلط استعمال ہے۔ ایسے ملازمین کے خلاف کاروائی ملازمتی قانون کے تحت کی جائے گی جو محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کہلاتا ہے اُور اِس قانون کے مطابق صحت کی سہولیات اور دفاتر میں اپنی سوشل میڈیا پالیسی کی ”موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اور نفاذ“ یقینی بنانے کے لئے ”سوشل میڈیا مانیٹرنگ یونٹ(SMMU)“ قائم کیا گیا ہے۔ ایس ایم ایم یو (اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ) کی نگرانی (منتظم) ایڈیشنل سیکرٹری ہوں گے جبکہ اِس کے دیگر اراکین میں ڈپٹی سیکرٹری انتظامیہ‘ ڈپٹی سیکرٹری (قانونی چارہ جوئی)‘ ڈائریکٹر (انتظامیہ) اور ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیومن ریسورس) اور ڈپٹی ڈائریکٹر (آئی ٹی) سمیت محکمہ صحت کے سیکشن آفیسر (جنرل) بھی شامل ہوں گے۔

سیکرٹری صحت کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں ’ایس ایم ایم یو‘ سے متعلق کہا گیا ہے کہ ”نوتشکیل شدہ یونٹ محکمہ صحت کے ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا اُور یہ بنیادی طور پر سرکاری ملازمین کی اُن سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا‘ جو محکمہ صحت سے متعلق اُن کے تبصرے یا پیغامات کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ’ایم ایم ایم یو‘ سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قواعد کی پاسداری کے لئے ضلعی صحت افسران‘ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس‘ مختلف ڈائریکٹرز اور دیگر فیلڈ دفاتر کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کئے گئے پیغام کے مندرجات کا جائزہ باقاعدگی سے لیا جائے گا اور اس بات کا تعین بھی کیا جائے گا کہ کون کون سے ملازمین نے حکومتی اقدامات یا صحت سے متعلق اصلاحات پر تنقید کی اُور حکومت مخالف سیاسی بیانیئے کا حصہ بنے۔

صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ سرکاری ملازمین سیاسی سوچ اُور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے محکمے کے مفاد بارے سوچیں۔

ملازمین کی تمام تر توجہ اُور وسائل محکمہ صحت کی بہتری کے بارے میں مرکوز ہونے چاہیئں اُور یہ کہ وہ بالخصوص افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔ اِن اہداف کے حصول کے لئے ’محکمہ صحت‘ کا ایک خط بعنوان ”ایم ٹی آئیز“ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی کارکردگی اور ڈیپوٹیشن“ سے متعلق جاری کیا گیا ہے جس میں خیبرپختونخوا کے تمام گیارہ ’ایم ٹی آئیز‘ کو تحریراً مطلع کیا گیا ہے اُور انتظامی نگرانوں کو تاکیدو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زیرنگرانی میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی سختی سے نگرانی کریں۔ مذکورہ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایم ٹی آئی‘ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کے پابند ہیں اُور اِنہی قواعد کے تحت اُنہیں ملازمت دی گئی ہے اُور یہ مذکورہ متعلقہ قوانین‘ قواعد و ضوابط پر لازماً عمل درآمد کریں چونکہ سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد متعلقہ ایم ٹی آئی میں بورڈ آف گورنرز کے براہ راست کنٹرول کے تحت ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر کام کرتی ہے‘ اِس لئے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال میں ان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کے پیشہ ورانہ طرز عمل کی بھی سختی سے نگرانی کی جائے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے حوالے سے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو عمومی ہدایات دی گئی ہیں جبکہ ایم ٹی آئیز (خودمختار طبی سہولیات کے مراکز) کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ان ہدایات اور قواعد کی سراسر خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے سرکاری ملازمین کے ناموں کی پشاور کے مرکزی دفتر کو اطلاع دیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ شکایات موصول ہونے کے بعد ایم ٹی آئی سے ایسے ملازمین کی خدمات واپس لے سکتا ہے۔ ایک علیحدہ اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں محکمہ نے ایم ٹی آئی کے تمام ڈائریکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سرکاری ملازمین کے ذریعہ سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی کریں۔

وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومتوں نے سوشل میڈیا کے محتاط استعمال کے بارے میں اِس سے پہلے بھی سرکاری ملازمین کو رہنما اصول جاری کئے تھے اُور اُنہیں بتایا گیا تھا کہ وہ محکمے کی نیک نامی پر حرف نہ آنے دیں اُور نہ ہی ایسی مخالف مہمات کا حصہ بنیں لیکن ملازمین نے قلمی و فرضی ناموں سے اکاؤنٹس بنا لئے معلوم نہیں کہ اِس مرتبہ مشکل سے کیسے نمٹا جائے گا کیونکہ ملازمین کی ایک بڑی تعداد بغاوت پر آمادہ ہے جن کے سیاسی عزائم کسی سے پوشیدہ بھی نہیں۔ محکمہء صحت پہلے ہی اپنے ملازمین کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرنے سے منع کر چکا ہے اُور اِس سلسلے میں کڑی پابندیاں عائد ہیں‘ جنہیں ملازمین غیرضروری لیکن حکومت ضروری پابندی قرار دیتی ہے۔ بنیادی ضرورت اِس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا پالیسی کی مؤثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ کسی ایک صوبائی (حکومتی) محکمے کی حد تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ اِس کا اطلاق ایک مرکزی و بنیادی اصولی حکمت عملی کے طور پر کیا جانا چاہئے تاکہ ’سماجی رابطہ کاری‘ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے بے بنیاد الزام تراشی اُور اِن الزام تراشیوں کے جواب دینے میں قیمتی وقت اُور وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔


Tuesday, May 3, 2022

UNJUSTIFIED: Social Media Policy for Health Dept employees

 تحریک …… آل یاسین

سوشل میڈیا پالیسی: موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ

غیرذمہ دارانہ اظہار رائے اُور بالخصوص اِس مقصد کے لئے سوشل میڈیا کا غلط استعمال باعث تشویش ہے‘ جس کی اصلاح کی کوشش ایک ایسے مرحلے پر کی جا رہی ہے جبکہ خرابی کی جڑیں بہت دور تک پھیل چکی ہیں۔ بہرحال اطلاعات کے مطابق ”محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے اپنے ملازمین کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا کا وسائل استعمال کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ یا مخالفانہ انداز میں تبصرے کرتے ہیں۔ ایسے ملازمین کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے اُور ’سوشل میڈیا‘ پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔“ بنیادی طور پر یہ ضرورت اِس لئے پیش آئی کیونکہ ایک تو محکمے کی حکمت عملیوں کی رازداری نہیں رہتی اُور دوسرا جو ملازمین کسی بھی وجہ سے حکومتی حکمت عملیوں پر تنقید کرتے ہیں وہ اپنے دلائل میں سرکاری دستاویزات بنا سیاق و سباق پیش کرتے ہیں جن کی وجہ سے عوام الناس میں تشویش پھیلتی ہے اُور حکومت پر دباؤ بنتا ہے اُور کوئی بھی حکمت عملی نافذ ہونے سے پہلے ہی واپس لینا پڑ جاتی ہے اُور حقیقت یہی ہے کہ اِس قسم کا طرزعمل ’سوشل میڈیا‘ کا غلط استعمال ہے۔ ایسے ملازمین کے خلاف کاروائی ملازمتی قانون کے تحت کی جائے گی جو محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کہلاتا ہے اُور اِس قانون کے مطابق صحت کی سہولیات اور دفاتر میں اپنی سوشل میڈیا پالیسی کی ”موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اور نفاذ“ یقینی بنانے کے لئے ”سوشل میڈیا مانیٹرنگ یونٹ(SMMU)“ قائم کیا گیا ہے۔ ایس ایم ایم یو (اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ) کی نگرانی (منتظم) ایڈیشنل سیکرٹری ہوں گے جبکہ اِس کے دیگر اراکین میں ڈپٹی سیکرٹری انتظامیہ‘ ڈپٹی سیکرٹری (قانونی چارہ جوئی)‘ ڈائریکٹر (انتظامیہ) اور ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیومن ریسورس) اور ڈپٹی ڈائریکٹر (آئی ٹی) سمیت محکمہ صحت کے سیکشن آفیسر (جنرل) بھی شامل ہوں گے۔

سیکرٹری صحت کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں ’ایس ایم ایم یو‘ سے متعلق کہا گیا ہے کہ ”نوتشکیل شدہ یونٹ محکمہ صحت کے ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا اُور یہ بنیادی طور پر سرکاری ملازمین کی اُن سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا‘ جو محکمہ صحت سے متعلق اُن کے تبصرے یا پیغامات کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ’ایم ایم ایم یو‘ سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قواعد کی پاسداری کے لئے ضلعی صحت افسران‘ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس‘ مختلف ڈائریکٹرز اور دیگر فیلڈ دفاتر کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کئے گئے پیغام کے مندرجات کا جائزہ باقاعدگی سے لیا جائے گا اور اس بات کا تعین بھی کیا جائے گا کہ کون کون سے ملازمین نے حکومتی اقدامات یا صحت سے متعلق اصلاحات پر تنقید کی اُور حکومت مخالف سیاسی بیانیئے کا حصہ بنے۔ 

صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ سرکاری ملازمین سیاسی سوچ اُور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے محکمے کے مفاد بارے سوچیں۔

 ملازمین کی تمام تر توجہ اُور وسائل محکمہ صحت کی بہتری کے بارے میں مرکوز ہونے چاہیئں اُور یہ کہ وہ بالخصوص افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔ اِن اہداف کے حصول کے لئے ’محکمہ صحت‘ کا ایک خط بعنوان ”ایم ٹی آئیز“ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی کارکردگی اور ڈیپوٹیشن“ سے متعلق جاری کیا گیا ہے جس میں خیبرپختونخوا کے تمام گیارہ ’ایم ٹی آئیز‘ کو تحریراً مطلع کیا گیا ہے اُور انتظامی نگرانوں کو تاکیدو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زیرنگرانی میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی سختی سے نگرانی کریں۔ مذکورہ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایم ٹی آئی‘ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کے پابند ہیں اُور اِنہی قواعد کے تحت اُنہیں ملازمت دی گئی ہے اُور یہ مذکورہ متعلقہ قوانین‘ قواعد و ضوابط پر لازماً عمل درآمد کریں چونکہ سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد متعلقہ ایم ٹی آئی میں بورڈ آف گورنرز کے براہ راست کنٹرول کے تحت ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر کام کرتی ہے‘ اِس لئے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال میں ان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کے پیشہ ورانہ طرز عمل کی بھی سختی سے نگرانی کی جائے۔

 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے حوالے سے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو عمومی ہدایات دی گئی ہیں جبکہ ایم ٹی آئیز (خودمختار طبی سہولیات کے مراکز) کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ان ہدایات اور قواعد کی سراسر خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے سرکاری ملازمین کے ناموں کی پشاور کے مرکزی دفتر کو اطلاع دیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ شکایات موصول ہونے کے بعد ایم ٹی آئی سے ایسے ملازمین کی خدمات واپس لے سکتا ہے۔ ایک علیحدہ اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں محکمہ نے ایم ٹی آئی کے تمام ڈائریکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سرکاری ملازمین کے ذریعہ سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی کریں۔

وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومتوں نے سوشل میڈیا کے محتاط استعمال کے بارے میں اِس سے پہلے بھی سرکاری ملازمین کو رہنما اصول جاری کئے تھے اُور اُنہیں بتایا گیا تھا کہ وہ محکمے کی نیک نامی پر حرف نہ آنے دیں اُور نہ ہی ایسی مخالف مہمات کا حصہ بنیں لیکن ملازمین نے قلمی و فرضی ناموں سے اکاؤنٹس بنا لئے معلوم نہیں کہ اِس مرتبہ مشکل سے کیسے نمٹا جائے گا کیونکہ ملازمین کی ایک بڑی تعداد بغاوت پر آمادہ ہے جن کے سیاسی عزائم کسی سے پوشیدہ بھی نہیں۔ محکمہء صحت پہلے ہی اپنے ملازمین کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرنے سے منع کر چکا ہے اُور اِس سلسلے میں کڑی پابندیاں عائد ہیں‘ جنہیں ملازمین غیرضروری لیکن حکومت ضروری پابندی قرار دیتی ہے۔ بنیادی ضرورت اِس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا پالیسی کی مؤثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ کسی ایک صوبائی (حکومتی) محکمے کی حد تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ اِس کا اطلاق ایک مرکزی و بنیادی اصولی حکمت عملی کے طور پر کیا جانا چاہئے تاکہ ’سماجی رابطہ کاری‘ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے بے بنیاد الزام تراشی اُور اِن الزام تراشیوں کے جواب دینے میں قیمتی وقت اُور وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔

……


Thursday, February 27, 2020

KP Response to Corona Virus!

ستائیس فروری دوہزار بیس

....کورونا وائرس: حفظ ماتقدم....
محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی جانب سے ’کورونا وائرس‘ سے بچاو کے لئے 8 نکاتی ’ہدایات نامہ‘ (چھبیس فروری کی شب‘ سیکرٹری صحت کے دستخطوں سے) جاری ہوا‘ جس کا عنوان ’کورونا وائرس: حفظ ماتقدم (Precaustions - Corona Virus)‘ رکھا گیا ہے اُور اِس کے ذریعے صوبائی سطح پر علاج معالجے کے تمام مراکز اُور ماتحت اداروں کے منتظمین کو آگاہ (خبردار) کر دیا گیا ہے لیکن ایک ضرورت یہ بھی ہے کہ طب سے تعلیم سے جڑے نجی تعلیمی اِداروں کو بھی مخاطب کیا جائے اُور اِس سلسلے میں الگ سے غوروخوض کیا جائے۔ حکومت ذرائع ابلاغ کا استعمال کب کرے گی جبکہ ’کورونا وائرس‘ کے اکا دکا کیسیز ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ توجہات مرکوز رہیں کہ ایسے تدریسی مراکز جہاں طلباءو طالبات مقیم (ہاسٹل) رہتے ہیں اُور چاہے اُن کا تعلق طب یا کسی بھی دوسرے اعلیٰ و ادنیٰ تعلیمی نظم وضبط سے ہے‘ ضروری ہو گیا ہے کہ وہاں کورونا وائرس سے بچاو اُور اِس کے ممکنہ ظہور کی صورت الگ الگ حکمت عملیاں وضع اُور لاگو کی جائیں۔

کورونا وائرس کے پاکستان میں ظاہر ہونے کے بعد سے صورتحال عوامی تشویش کی حد تک تو سنگین دکھائی دیتی ہے لیکن اِس سلسلے میں وفاقی اُور صوبائی حکومتوں کی جانب سے تاحال ’یومیہ حالات نامہ (daily-briefing)‘ کا اہتمام نہیں کیا گیا ہے۔ تصور محال نہیں کہ ایک ایسی حکومت کہ جو آٹے‘ چینی اُور دیگر خوردنی اجناس جیسی نظر آنے والی چیزوں کی قیمت‘ غیرقانونی ذخیرہ اندوزی‘ گراں فروشی (ناجائز منافع خوری اُور اِن کی غیرقانونی نقل و حمل کنٹرول کرنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر چکی ہو‘ اُس سے یہ توقع رکھی جائے کہ وہ ’کورونا وائرس‘ جیسے نہ نظر آنے والے خطرے کے خدانخواستہ وبا کی صورت پھیلانے (پھوٹ پڑنے) کی صورت خاطرخواہ بڑے پیمانے پر اقدامات کرے گی یقینا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ بہرحال سوائے عام آدمی (ہم عوام) کے پاس اِس کے علاو ¿ہ کوئی دوسری صورت (آپشن) نہیں رہا لیکن ’حفظ ماتقدم‘ کے طور پر سامنے آنے والی خیبرپختونخوا حکومت کے محکمہ ¿ صحت کی ہدایات (نصیحتوں) پر عمل کیا جائے جو کہتا ہے کہ
1: دفاتر اُور سماجی سطح پر ایک دوسرے بغل گیر ہونے اُور ہاتھ ملانے (معانقہ و مصافحہ) جیسے روایتی روزمرہ اقدامات (معمولات) سے اجتناب برتا جائے۔
2: تمام دفاتر میں ’بائیو میٹرک شناخت (انگوٹھے کی مدد سے) حاضری لگانے کا طریقہ کار (تاحکم ثانی) معطل رکھا جائے۔
3: سیڑھیوں اُور در و دیوار پر لگے ہوئے آلات‘ ریلنگز‘ کھڑکیوں کے دستوں (ہینڈلز) کو بلاضرورت نہ چھو جائے اُور ضرورت پڑنے پر اِنہیں ننگے ہاتھوں سے نہ چھوا جائے۔ دفاتر کے اوقات میں دروازے کھلے رکھے جائیں تاکہ دفتری ملازمین اُور رجوع کرنے والے سائلین کو بار بار اِنہیں کھولنے یا بند کرنے (چھونے) کی ضرورت نہ پڑے۔
4: اِسی طرح کے حفاظتی اقدامات و انتظامات اُن آلات کے لئے بھی اختیار کئے جائیں جن کا استعمال انتہائی ضروری ہے جیسا کہ کمپیوٹرز‘ فیکس مشین‘ ٹیلی فون وغیرہ لیکن اِنہیں چھونے سے اوّل الذکر احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھا جائے۔ وہ سبھی ملازمین جن کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے الیکٹرانک آلات کا استعمال کرتے ہیں‘ اُنہیں چاہئے کہ وہ کپڑے یا ربڑ کے ایسے دستانے (gloves) کا استعمال کریں جنہیں ایک بار استعمال کے بعد پھینکنا ممکن ہو۔ ایسے ڈسپوزبل دستانے (disposible-gloves) مارکیٹ میں باآسانی اُور ارزاں دستیاب ہوتے ہیں (جن کی قیمت یقینا انسانی جان سے زیادہ نہیں ہے)۔
5: اپنے گردوپیش پر نظر رکھی جائے۔ اگر کسی شخص کا جسمانی درجہ ¿ حرارت اچانک بڑھ جائے۔ اُسے متواتر کھانسی ہو۔ اُسے سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو رہا ہو یا ہونے لگے اُور یہ علامات اچانک ظاہر ہو کر بڑھ رہی ہوں تو ایسے فرد (مرد یا عورت یا بچے) کو فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت ہو گی‘ تاہم کسی بھی قسم کی ابتدائی طبی امداد سے پہلے ضرورت ہوگی کہ مشتبہ علیل شخص (مرد یا عورت) کو صحت مند افراد سے الگ رکھا جائے۔ گردوپیش میں زکام یا کھانسی کی علامات رکھنے والے افراد کو تمام وقت چہرے پر ماسک (Mask) پہننے کا مشورہ دیا جائے اُور اِس پابندی کو لازماً و عملا ممکن بنایا جائے کہ وہ ہر وقت اپنے چہرے کو ڈھانپے رہے۔ ایک ماسک زیادہ سے زیادہ ایک ہی دن استعمال ہونا چاہئے۔
6: کپڑے سے بنے ہوئے تولیے (towel) جہاں کہیں بھی زیراستعمال ہیں‘ اُن کی جگہ کاغذ کے ٹشو رکھے جائیں (جنہیں ایک مرتبہ استعمال کرنے کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔)
7: جہاں کہیں نزلہ‘ زکام‘ کھانسی اُور بخار جیسی علامات ظاہر ہوں یا معلوم ہوں تو ایسے شخص کو فوری طور پر اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہئے یا ایسے شخص کو لازماً طبی معاینے کے لئے قریبی ہسپتال لیجایا جائے۔
8: ہاتھ دھونے کی عادت اپنائی جائے۔ ہاتھ دھوتے وقت صابن کا استعمال کیا جائے۔ ہر تین سے چار گھنٹے کے بعد ایک مرتبہ صابن سے ہاتھ دھوئے جائیں۔ ہاتھ دھونے کا دورانیہ کم سے کم20 سیکنڈ ہونا چاہئے۔ (عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ ہاتھوں کو پانی سے بھگونے کے فوراً بعد خشک کر لیا جاتا ہے لیکن بہتے ہوئے پانی کے نیچے یا ہاتھوں کو تر کر کے اُور صابن لگا کر چند منٹ اُنگلیوں کا خلال کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے جبکہ یہی وضو کرنے کا شرعی طریقہ بھی ہے‘ جس کی تعلیم و ترغیب مسجد و منبر اُور حجرے کے علاوہ سماجی رابطہ کاری کی وسائل (سوشل میڈیا) پر مشتہر ہونی چاہئے۔)

محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی جانب سے مذکورہ ’8 ہدایات‘ جاری کرتے ہوئے سیکرٹری عابد مجید کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر ضروری ہوا‘ تو اِس سلسلے میں مزید ہدایات جاری کی جائیں گی۔

تعجب خیز ہے کہ
خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت نے 8 نکاتی ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے اُن تفصیلات و انتظامات (حکمت عملی) کا کہیں ذکر نہیں کیا جو ’کورونا وائرس‘ کے پھیلنے یا خیبرپختونخوا کے بڑے شہروں بشمول صوبائی دارالحکومت پشاور کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ اِس قسم کی عمومی ہدایات عالمی ادارہ صحت پہلے ہی جاری کر چکا ہے اُور سوشل میڈیا کے ذریعے اِس سے کہیں زیادہ اُور بہتر حفاظتی تدابیر سے متعلق عمومی خواندگی کی سطح کو ایک درجہ بلند کیا گیا ہے۔ وفاقی اُور صوبائی حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ عوام کو حفظ ماتقدم کے طور پر خبردار کرنے کی بجائے اپنی اُن ذمہ داریوں (فرائض) کا کماحقہ احساس کریں جن کے ذریعے وہ بیماری کے پھیلاو اُور اِس سے متاثرہ افراد کی تسلی و تشفی اُور خوف سے رہائی کے لئے کر سکتے ہیں!

دنیا کے 38 ممالک ’کورونا وائرس‘ (ایک لاعلاج مرض) سے نمٹ رہے ہیں اُور پاکستان اکیلا ایسا ملک نہیں کہ جہاں کورونا نامی جرثومے سے متاثرہ پہلے چند افراد (کیسیز) سامنے آ چکے ہیں لیکن دیگر سبھی ممالک اُور پاکستان میں فرق یہ ہے کہ وہاں وفاقی اُور صوبائی متعلقہ محکمے علاج معالجے کی سہولیات میں اضافے اُور ہنگامی بنیادوں پر الگ سے انتظامات کر رہے ہیں۔ ادارے متحرک ہیں۔ حکمرانوں کی نیند اُڑی ہوئی ہے۔ راتوں رات نئے ہسپتال بنا دیئے گئے ہیں۔ آبادیوں سے دور خیمہ بستیوں میں ہسپتال بنا کر متاثرہ مریضوں کو شہروں سے دور لیجایا جا رہا ہے۔ طبی عملے کی تعداد اُور علاج معالجے کے وسائل میں ہنگامی بنیادوں پر اضافہ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں زبانی کلامی باتوں اُور گھریلو ٹوٹکوں سے ایک ایسے ’وائرس‘ کو شکست دینے کی سوچ پائی جاتی ہے‘ جو شاید بطور قومی یا صوبائی حکمت عملی کافی نہیں!

لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان اپنی زمینی سرحدیں بند کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پاکستان اُن ممالک سے آنے والی پروازوں کو بھی تاحال بند کر سکا ہے جہاں کورونا وائرس کی موجودگی اُور بڑے پیمانے پر پھیلنے کا عمل جاری ہے اُور پاکستان نے بحری راستے سے ہونے والی اُس نقل و حمل اُور نقل و حرکت کو روکنا تاحال ضروری نہیں سمجھا ہے‘ جو ملک میں کورونا کے پہنچنے کا باعث بن سکتی ہے۔ کیا یہ مناسب وقت نہیں کہ چھوٹے بڑے عوامی (و عمومی) اجتماعات‘ حتیٰ کہ شادی بیاہ کی تقاریب کی صورت بہت سے لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے سے پیدا ہونے والے خطرات کے بارے عوام کو مطلع کیا جائے۔ سعودی عرب نے کورونا سے متاثرہ ممالک سے عمرہ زائرین پر پابندی عائد کر دی ہے اُور وہاں کے علماءاِس مطالبے کا بھی جائزہ لے رہے کہ کورونا وائرس جیسے ہنگامی حالات میں کیا حج کی سالانہ اِس سال عبادت منسوخ کر دینی چاہئے!



....

Tuesday, April 17, 2018

Apr 2018: Investment in HEALTH is actually investment is in future!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سرمایہ کاری برائے مستقبل!
کسی ملک یا معاشرے کے رہنے والوں کی صحت کا معیار جانچنے کا عالمی معیار (پیمانہ) ’ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس‘ ہے جس کے مطابق دنیا کے ’188 ممالک‘ میں پاکستان ’147ویں‘ نمبر پر ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی صورت مثالی نہیں بالخصوص ایک ایسے ملک میں جہاں تعمیروترقی پر صحت سے زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ پختہ سڑکیں‘ موٹروے‘ آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں‘ درآمد شدہ آسائشیں ایک طرف اور دوسری طرف اگر آبادی کے نصف سے زائد اگر غذائی قلت کا شکار ہیں یا اُنہیں حسب ضرورت غذا نہیں مل رہی تو قصوروار کون ہے؟ 

ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس کے مطابق پاکستان میں فی کس خوراک ملنے کا تناسب اور حسب آبادی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں اسلام آباد سرفہرست (ویری ہائی لیول) ہے جبکہ اِیبٹ آباد اُور لاہور دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں‘ جن کا شمار اُن اضلاع میں ہوتا ہے کہ جہاں صورتحال نسبتاً بہتر (ہائی لیول) ہے لیکن بدقسمتی سے تین صوبوں (سندھ‘ بلوچستان اور خیبرپختونخوا) کے کئی ایسے اضلاع ہیں جن کا شمار انگلیوں پر گننا تک ممکن نہیں کہ جہاں ’غربت نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے!‘

پاکستان میں 58 فیصد خاندان ’غذائی عدم اِستحکام (فوڈ اِن سیکورٹی)‘کا شکار ہیں جن میں سے قریب 10فیصد (9.8%) ایسے ہیں‘ جنہیں یومیہ ایک وقت کا کھانا تک میسر نہیں اُور یہ اعدادوشمار سال دوہزار گیارہ کے سروے (جائزے) سے معلوم ہوئے تھے جس کے بعد سے تاحال ’نیشنل نیوٹریشن سروے‘ نہیں ہو سکا ہے‘ جس پر اِظہار اَفسوس کرتے ہوئے ماہرین نے ’قومی صحت کو ترجیح‘ بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ایبٹ آباد میں ’صحت سے متعلق عمومی شعور اُجاگر کرنے کی غیررسمی نشست میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے ’دوہزارسترہ‘ میں ہوئی مردم شماری میں صحت سے متعلق اعدادوشمار اکٹھا نہ کرنے پر بھی دکھ کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ سات سالہ پرانے اعدادوشمار کی بنیاد پر قومی اور صوبائی حکمت عملیاں مرتب کرنے کی بجائے بلاتاخیر سروے کروایا جائے‘ قومی وسائل کا بڑا حصہ کم آمدنی والے طبقات کو خوردنی اشیاء کی فراہمی پر خرچ ہونا چاہئے کیونکہ آبادی میں اضافے کا سیدھا سادا مطلب یہی ہے کہ غربت کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ نشست میں ’فوڈ سیکورٹی اینڈ ٹیوٹریشن اسٹریٹجک ریویو فار پاکستان 2017ء‘ نامی حکمت عملی کا بھی سرسری جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کی کل آبادی کا 18فیصد ’خوراک کی کمی‘ کا شکار ہے۔ بچوں کی اکثریت کا وزن اُن کی عمروں کے تناسب سے کم ہے اور جب تک ’تعلیمی پالیسی‘ میں خوراک کو شامل نہیں کیا جاتا‘ اُس وقت تک بچوں کو لاحق ہونے والے امراض میں کمی نہیں آئے گی۔ حاملہ خواتین کی صحت و خوراک اور بچے کی بعداز پیدائش سے نشوونما کے مختلف مراحل سے متعلق ایک ایسی قومی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں سرکاری طور پر کم آمدنی رکھنے والے طبقات کی مالی سرپرستی کی جائے۔ اِس سلسلے میں مغربی (ترقی یافتہ) ممالک کی مثالیں موجود ہیں جہاں عوام کی قوت خرید ہونے کے باوجود بھی حاملہ خواتین اور نومود بچوں کو حکومت کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے اور اُن کی خوردنی ضروریات پوری کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں نہ صرف بچوں کی جسمانی نشوونما بہتر ہوتی ہے بلکہ اُن کی ذہانت کا معیار بھی پاکستان سے کئی درجے بلند ہوتا ہے۔ ماں اور بچے کی صحت میں سرمایہ کاری درحقیقت مستقبل میں سرمایہ کاری کرنے کے مترادف عمل ہے لیکن افسوس کہ صحت کے حوالے سے بالخصوص ہمارے سیاسی و غیرسیاسی پالیسی سازوں نے قوم کو سوائے بیماریوں اور مشکلات کے اُور کچھ نہیں دیا۔

مقام صد افسوس ہے کہ خیبرپختونخوا میں حاملہ خواتین کی پچاس فیصد سے زائد تعداد جبکہ عمومی طور پر تیئس فیصد آبادی ’فولاد کی کمی‘ کا شکار ہے۔ ’آئرن‘ کی کمی دور کرنے کے لئے عالمی ادارے خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں مفت ادویات تقسیم کرنے کی حکمت عملی بنائے ہوئے ہیں جس میں ’آئرن کی کمی‘ کے بارے شعور اُجاگر کرنے کی مہمات بھی شامل ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ صرف شعور اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے توجہ دلانے سے کام نہیں چلے گا کیونکہ عام آدمی (ہم عوام) کی اکثریت اِس بات کی سکت ہی نہیں رکھتی کہ وہ فولاد سے بھرپور خوراک یا ادویات خرید سکیں! حکومت اگر بچوں کو ملنے والے ملاوٹ شدہ دودھ ہی کی خبر لے تو صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے بارے میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ زرعی معیشت و معاشرت رکھنے والے علاقوں کے رہنے والے یہاں کے لوگ بھی فولاد کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے! وجہ یہ ہے کہ ہمارے شہروں کی طرح دیہی علاقوں میں بھی لوگوں نے ’صحت مند رہن سہن ترک کر دیا ہے۔‘ کاربونیٹیڈ ڈرنکس اور خطرناک کیمیائی مادوں سے بھرپور اشیاء کی بھرمار ہے اور یوں ہمارے بڑے اور بچے صحت جیسی دولت سے محروم ہو رہے ہیں۔ کیمیائی مادوں سے بھرپور غیرصحت مند اشیائے خوردونوش کھانے سے قوت مدافعت کم ہو رہی ہے‘ جس کی وجہ سے لاحق ہونے والے کسی معمولی مرض کا علاج بھی نہایت ہی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ سرشام ماہر ڈاکٹروں کے کلینکس پر تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی کیونکہ مناسب خوراک اور صحت مند طرز زندگی ترک کرنے کی وجہ سے بیماریاں نہ صرف پھیل رہی ہیں‘ بلکہ وہ ہمارے گھروں میں گھر کر چکی ہیں۔ 

خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں مختلف قسم کے ساگ اُور سبزی بڑی مقدار میں پیدا ہو سکتی ہے لیکن زرعی پیداوار کی سرکاری سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے موافق آب و ہوا اور زرخیز مٹی سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ تعجب خیزہے کہ خیبرپختونخوا میں غربت اِس انتہاء تک جا پہنچی ہے کہ خوراک کی کمی سے حاملہ خواتین کی پچاس فیصد اور عمومی سطح پر تیئس فیصد افراد فولاد کی کمی کا شکار ہیں۔ فولاد کی اِس کمی کے باعث بچوں کی جسمانی نشوونما اور ذہانت بالعموم متاثر ہے جبکہ بالغ افراد (مرد و خواتین) میں فولاد کی کمی باآسانی دور کی جا سکتی ہے کیونکہ قدرتی طور پر موجود یہ عنصر عام دستیاب ہے۔ 

آئرن ڈیفیشینسی بذات خود کسی بیماری کا نام نہیں لیکن اِس کمی کی وجہ سے کئی اقسام کے عارضے لاحق ہو سکتے ہیں اور ہمارے اردگرد پھیلی نمودونمائش پر مبنی ترقی بے معنی ہو کر رہ جائے گی اگر ہم جسمانی اور ذہنی طور پر لاغر اُور قوت مدافعت کے لحاظ سے صحت مند اعصاب کے مالک نہیں بن جاتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Sunday, January 14, 2018

Jan 2018: Priority health without priorities!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سبز باغ!
’پارو‘ اُور ’آرزو‘ کا تعلق پشاور کے اُن چنیدہ ’خوش نصیب‘ خواجہ سراؤں میں ہوتا ہے‘ جنہیں صوبائی حکومت کی جانب سے ’’صحت اِنصاف کارڈ‘‘ فراہم کئے گئے ہیں اُور اب وہ مخصوص سرکاری و نجی ہسپتالوں سے ’سالانہ‘ پانچ لاکھ چالیس ہزار روپے تک ’علاج معالجے کی سہولیات‘ مفت حاصل کر سکتے ہیں۔ 

خواجہ سراؤں کو ’صحت اِنصاف کارڈز‘ کی فراہمی کا عمل مرحلہ وار انداز میں مکمل کیا جائے گا جبکہ پہلے مرحلے میں پشاور سے تعلق رکھنے والے خواجہ سراؤں کو کارڈز فراہم کر دیئے گئے ہیں اور بعدازاں اِس منصوبے کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے دیگر تمام ’خواجہ سراء‘ بھی صوبائی حکومت کی جانب سے ’صحت کا بیمہ‘ حاصل کر لیں گے۔ 

انصاف صحت کارڈ حاصل کرنے کا طریقۂ کار کسی عام فرد کے لئے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن حد تک دشوار ہے‘ جس میں اُس کی ضرورت اور مالی حیثیت کا تعین وفاقی حکومت کی جانب سے کئے گئے سروے (جائزے) کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ اصولی طور پر صوبائی حکومت کو اپنے وسائل سے ’غربت کا سروے‘ کرنا چاہئے تھا اور یہ عمل اضلاع یا ڈویژنز کی سطح پر مکمل ہونے کے بعد ’صحت انصاف کارڈز‘ کا اجرأ عمل میں لایا جاتا لیکن چونکہ سیاسی حکومتوں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور سرکاری افسروں کو ’برق رفتار کارکردگی‘ دکھانے کا شوق ہوتا ہے تاکہ وہ اعلیٰ و ادنی انتظامی عہدوں پر فائز رہیں اور اُنہیں ملنے والی مراعات میں اضافے کا سلسلہ بھی جاری رہے اِس لئے کامیابی اِسی میں ہے کہ سیاسی حکمرانوں کے مزاج کے مطابق اُنہیں ’’سبز باغ‘‘ دکھائے جائیں۔ یہی طریقۂ واردات ’صحت انصاف کارڈ‘ نامی اُس حکمت عملی سے بھی روا رکھا گیا‘ جسے اگر سوچ سمجھ اور منصوبہ بندی سے عملی جامہ پہنایا جاتا تو بھلے ہی یہ حکمت عملی عام انتخابات کے قریب منظرعام پر آتی لیکن اِس سے زیادہ بڑے پیمانے پر مستحقین مستفید ہو سکتے تھے۔ بہرحال دنیا کی نظروں میں آنے کے لئے‘ عام مستحقین کے مقابلے ’صحت انصاف کارڈ‘ کی رجسٹریشن کا عمل ’خواجہ سراؤں‘ کے لئے ’آسان تر‘ رکھا گیا ہے اور اِس پوری کوشش کے پیچھے ’بلیووینز‘ نامی اُس غیرسرکاری تنظیم کی کوششوں کا بڑا عمل دخل ہے‘ جو ’خواجہ سراؤں‘ کے حقوق کے تحفظ اور انہیں سماجی و آئینی انصاف کی فراہمی ممکن بنانے کے لئے غیرملکی (بیرونی مالی) امداد حاصل کرتی ہے۔ یوں خواجہ سراؤں کے دم کرم سے خیبرپختونخوا میں کئی ’این جی اُوز‘ اُور اِن تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کے چولہے جل رہے ہیں! خواجہ سراؤں کو دھوم دھام اور پورے اہتمام سے ’صحت انصاف کارڈ‘ دیئے گئے اور وہ سرکاری اہلکار جنہیں دفتری کاموں سے فرصت نہیں ہوتی اور جن کے دفتروں اُن کے منتظر رہتے ہیں! ایک ایسی تقریب کی زینت بنے رہے‘ جس کی کئی ایک وجوہات کی بناء پر ضرورت نہیں تھی۔ تصور کیجئے کہ خیبرپختونخوا میں مکحمۂ صحت کے نگران ’ڈائریکٹر جنرل‘ ڈاکٹر ایوب روز‘ سوشل ویلفیئر کے ڈائریکٹر عابداللہ کاکا خیل‘ پراجیکٹ ڈائریکٹر امتیاز تنولی‘ بلیو وینز کے پروگرام کوآرڈینیٹر قمر نسیم اور خواجہ سراؤں کی تنظیم کے صوبائی صدر فرزانہ جان حاضر جناب رہے۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کے بقول ’’پاکستان میں خواجہ سراؤں کی کل تعداد بیس ہزار ہے جن میں سے دو ہزار کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔ پشاور میں رہنے والے 229 خواجہ سراؤں کو پہلے مرحلے میں ’صحت انصاف کارڈز‘ فراہم کئے گئے ہیں جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں رہنے والوں کو بھی اِن کارڈز کی فراہمی کا سلسلہ جلد شروع ہو جائے گا۔‘‘

’صحت انصاف کارڈ‘ نامی ’ہیلتھ انشورنس‘ اکتیس اگست دوہزارسولہ روز کو جاری کی گئی تھی۔ اِس دوسالہ حکمت عملی کے لئے مالی وسائل (پانچ ارب‘ چھتیس کروڑ بائیس لاکھ روپے) جرمنی کے مالیاتی ادارے ’کے ایف ڈبلیو‘ نے فراہم کئے تھے اور طے یہ ہوا تھا کہ اِس کے ذریعے خیبرپختونخوا کے 18لاکھ گھرانوں (فی گھرانہ آٹھ افراد) کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اندازہ تھا کہ اس سے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو فائدہ ہوگا تاہم جلد ہی اِس منصوبے میں لاکھوں سرکاری ملازمین کو بھی شامل کر لیا گیا جو پہلے ہی آمدنی کا مستقل اور پائیدار ذریعہ رکھتے تھے اور وہ کسی بھی صورت اہل (مستحق) نہیں تھے۔ اب خواجہ سراؤں کو شامل کرنے کے بعد باقی ماندہ خیبرپختونخوا کو بھی شامل کر ہی لیا جائے کیونکہ ویسے بھی سرمایہ دار اور خود سیاست دان اپنا علاج معالجہ اپنے صوبے یا ملک میں علاج کروانا پسند نہیں کرتے اور جن کے پاس تھوڑے بہت مالی وسائل ہوتے ہیں وہ اپنا یا اپنے پیاروں کا علاج نجی ہسپتالوں سے کرانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں سے بہ اَمر مجبوری رجوع کرنے والوں کی حالت زار کسی بھی ضلعی یا پشاور کے مرکزی ہسپتالوں میں مشاہدہ کی جاسکتی ہے! 

انصاف صحت کارڈ کوئی تعویذ نہیں کہ اِسے حاصل کرنے والے کی شفایابی یقینی ہوگی‘ حکومت اگر سرکاری ہسپتالوں کا قبلہ درست کرنے پر توجہ مرکوز کرتی تو ایسے کسی کارڈ (اضافی اخراجات) کی ضرورت ہی پیش نہ آتی! 

بہرحال اِس مرحلے پر صرف یہی مقصود ہے کہ ’انصاف صحت کارڈ‘ سے متعلق خیبرپختونخوا حکومت کی کوششیں اصلاحات کی متقاضی ہیں۔ اِس حکمت عملی کے تحت سیاسی بنیادوں پر کئی نجی ہسپتالوں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ یہ بات آج کی تاریخ میں کوئی تسلیم نہیں کرے گا لیکن مستقبل میں جب بدعنوانی کے مقدمات قائم ہوں گے تو کئی معززین کے نام آئیں گے جن کی عدالتوں کے باہر قطاریں لگی دکھائی دیں گی‘ یہ وہی ہوں گے جنہوں نے تجاہل عارفانہ اختیار کیا اور ایسے نجی ہسپتالوں کو پینل پر لیا‘ یا اُن کے پینل پر لانے کی غیرتحریری سفارش کی یا پینل پر لانے کے بعد اُن پر اعتراض نہیں اٹھایا‘ جس کا اُنہیں اختیار نہ بھی ہوتا لیکن غریبوں کے علاج معالجے کے لئے مختص وسائل کی یوں لوٹ مار پر خاموش تماشائی رہنے والوں کو بھی جرم میں یکساں (برابر کا) شریک سمجھا جائے گا۔ وہ وقت زیادہ دور نہیں!

Friday, January 12, 2018

Jan 2018: Health facilities in KP, discussed in court!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
برن یونٹ: آخر کب تک؟
خیبرپختونخوا میں طرزِحکمرانی کا خلاصہ (لب لباب) یہ ہے کہ علاج معالجے جیسی بنیادی ضروریات بھی اب ’عدالت (کورٹ) احکامات‘ کی تعمیل میں فراہم کی جائیں گی! چھ جنوری ’’برن یونٹ‘ ہنوز ندارد‘‘ کے عنوان سے خیبرپختونخوا میں آگ سے جلے ہوئے مریضوں کے لئے ناکافی سہولیات اور جس معیار و مقدار کا ذکر کیا گیا‘ وہ معاملہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ تک جا پہنچا ہے! محرک یہ ہے کہ گھریلو تنازعہ سے دل برداشتہ ایک خاتون اندرون شہر ’تھانہ کوتوالی‘ میں داخل ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اُس نے مبینہ طور پر خود کو آگ لگا دی‘ اِس سے قبل کہ موقع پر موجود پولیس اہلکار اُسے روک پاتے مذکورہ خاتون کے جسم کا 98 فیصد جل چکا تھا‘ چونکہ پشاور میں ’آگ سے جلے ہوئے ایسے مریضوں کے علاج کا خاطرخواہ بندوبست نہیں‘ اِس لئے اُسے کئی گھٹنوں (کم و بیش 200 کلومیٹر) کی مسافت پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچایا گیا۔ تاہم لمحۂ فکریہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں صرف چالیس فیصد تک آگ سے جلے مریضوں کا علاج ممکن ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ خیبرپختونخوا میں ’جدید سہولیات پر مبنی برن یونٹ یا ہسپتال‘ کا نہ ہونا مجرمانہ غفلت اور سیاسی فیصلہ سازوں کی غلط ترجیحات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پشاور کی عدالت عالیہ نے اِس صورتحال پر برہمی کے لہجے میں تعجب کا اظہار بھی کیا ہے جس سے اُمید پیدا ہو گئی ہے کہ صوبائی حکمران فوری طور پر اپنی تمام تر توجہ اور مالی وسائل ’برن ہسپتال‘ کی تعمیر کے لئے مختص کر دیں گے!

پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ (جسٹس قیصر رشید اور جسٹس غضنفر خان) نے (دس جنوری کے روز) ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ’برن یونٹ کی عدم دستیابی‘ کے حوالے سے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ درحقیقت زیرسماعت مقدمہ (قضیہ) ’برن یونٹ‘ کا نہیں بلکہ خیبرٹیچنگ ہسپتال (المعروف شیرپاؤ ہسپتال) میں ’نیوروسرجری وارڈ‘ کی سست رفتار تعمیرات سے متعلق ہے‘ لیکن جب متعلقہ اعلیٰ حکام عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو جسٹس قیصر نے ضمنی طور پر یہ بات بھی پوچھ لی کہ ’’پشاور میں ’برن ہسپتال‘ کب تک (آخر کب تک) مکمل ہو جائے گا؟‘‘ وہ ایک تلخ حقیقت جس سے سالانہ سینکڑوں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے آگ سے جلے اَفراد کی اَموات کا تناسب بھی اِسی وجہ سے زیادہ ہے کہ اِنہیں علاج معالجے کے لئے سہولیات فوری طور پر میسر نہیں آتیں۔ مقام تشکر ہے کہ عدالت عالیہ نے محسوس کیا ہے کہ ’’خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے مریضوں کو صوبہ پنجاب کے مختلف ہسپتالوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور سفری و دیگر علاج معالجے کے اخراجات کے علاؤہ بہت سے مریض مسافت کے دورانیئے کو برداشت نہیں کر پاتے اور راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں!‘‘ 

عدالت کے روبرو گریڈ بیس کے اہلکار ’’محمد عابد مجید‘‘ حاضر تھے‘ جو سولہ مارچ دوہزار سولہ (665 دنوں) سے بطور ’سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا‘ تعینات ہیں اُور انہوں نے پورے اعتماد سے (بناء ہانپتے کانپتے یا شرمندگی و معذرت کے اظہار) عدالت کو بتایا کہ ’جون دوہزار اٹھارہ‘ تک پشاور میں ’برن ہسپتال‘ فعال ہو جائے گا‘ جس کی ’ائرکنڈیشنگ‘ میں تکنیکی مسئلے کی وجہ سے یہ منصوبہ ایک ماہ کی تاخیر سے مکمل ہونے جا رہا ہے۔

خیبرپختونخوا میں جدید سہولیات سے آراستہ ’برن یونٹ‘ کی عدم دستیابی کا معاملہ پہلی مرتبہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ کے سامنے زیرغور نہیں آیا بلکہ اِس سے قبل جولائی 2017ء میں عدالت عالیہ نے سیکرٹری ہیلتھ سے استفسار کیا تھا کہ وہ حکومتی کوششوں سے عدالت کو آگاہ کریں۔ یاد رہے کہ اُس وقت عدالت نے ہر ضلعی ہیڈکواٹر کی سطح پر ایک ایک برن یونٹ قائم کرنے کا حکم دیا تھا جس پر سیکرٹری ہیلتھ نے عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے کہا تھا کہ اِس سلسلے میں کام کا آغاز پہلے ہی سے جاری ہے اور ضلعی ہیڈکواٹر ہسپتالوں سے بستروں کی تعداد اور دستیاب سہولیات طلب کر لی گئیں ہیں۔ تصور کیجئے کہ جولائی دوہزار سترہ سے جنوری دوہزار اٹھارہ تک پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی تاحال اعدادوشمار ہی اکٹھا نہیں ہوسکے ہیں حالانکہ ٹیلی فون اور دیگر برق رفتار مواصلاتی رابطوں کی موجودگی میں دو درجن ٹیلی فون کالز کے ذریعے بھی یہ کام باآسانی سرانجام پا سکتا تھا اور اگر سیکرٹری ہیلتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مخلص ہوتے تو اب تک پچیس ہفتوں میں پچیس اضلاع کے خود بھی دورے کر کے معلومات اکٹھا کر چکے ہوتے۔ عجب ہے کہ جہاں کہیں سرکاری ملازمین کے اپنے مفادات‘ سہولیات اور مراعات حاصل کرنے کی بات ہوتی ہے تو یہ ’بابو‘ مہینوں کا کام منٹوں میں نمٹا دیتے ہیں لیکن جہاں عام آدمی (ہم عوام) کے مفاد کے لئے کام کرنا ہوتا ہے وہاں مصلحتیں اور تاخیری حربے آڑے آ جاتے ہیں۔

سیکرٹری صحت نے دس جنوری کے روز عدالت عالیہ میں ’آن دی ریکارڈ‘ جو بیان دیا‘ اُس کے مطابق سیدوشریف (سوات) میں چار بستروں پر مشتمل برن یونٹ موجود ہے۔ کوہاٹ میں مقامی رکن قومی اسمبلی کی جانب سے دوکروڑ ساٹھ لاکھ روپے دینے سے ’برن یونٹ‘ بنایا جا رہا ہے جس کا تعمیراتی کام آخری مراحل میں ہے۔ بنوں میں 18 بستروں کا ’برن یونٹ‘ فعال ہے جبکہ مردان میں ’برن یونٹ‘ کے قیام کے لئے غور ہو رہا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ’برن یونٹ‘ نہیں۔ تیمرگرھ میں ’برن یونٹ‘ تو ہے لیکن عملہ نہیں۔ بقول سیکرٹری ہیلتھ چھوٹے پیمانے پر ایک ’برن یونٹ‘ کے قیام پر 20سے 30 کروڑ روپے لاگت آتی ہے۔ اگر رواں مالی سال کے دوران مالی وسائل دستیاب نہ ہوئے تو آئندہ مالی سال میں ہر ضلعی ہیڈکواٹر کی سطح پر ’برن یونٹ‘ قائم کرنے کے لئے لازمی طور پر مالی وسائل مختص کئے جائیں گے۔‘‘

سیکرٹری ہیلتھ نے جب اپنی فرض شناسی پر مبنی کہانی عدالت کے روبرو سنا رہے تھے تو ججوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں‘ اُنہیں ایک منٹ کے لئے یہ بھی بھول گیا کہ جس ’برن یونٹ‘ کے قیام میں جس قدر بھی تاخیر (مجرمانہ غفلت) ہوئی ہے‘ اُس کے لئے ذمہ داروں میں یہی موصوف سیکرٹری ہیلتھ بہ نفس نفیس شمل ہیں‘ جنہوں نے اپنے گھر اور دفاتر کی ضروریات پوری کرنے پر ’برن یونٹ‘ سے زیادہ مالی وسائل خرچ کئے ہیں لیکن عام آدمی (ہم عوام) کے دُکھ کا اِنہیں احساس نہیں۔ دیگر سرکاری اِداروں کی طرح محکمۂ صحت میں بھی ملازمین کی فوج ظفر موج ہے‘ جن کی ماہانہ تنخواہوں اور مراعات پر خیبرپختونخوا میں علاج فراہم کرنے سے زیادہ اخراجات اُٹھ رہے ہیں! عدالت عالیہ نے کمال سادگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ کو ’برن یونٹ‘ منصوبوں کا تاحیات نگران مقرر کردیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اگر انہیں ’سیکرٹری ہیلتھ‘ کے عہدے سے ہٹا بھی دیا جائے تب بھی وہی اِن منصوبوں کے نگران بن کر کام کی رفتار کا جائزہ لیتے رہیں! ’’ترے عشق کی اِنتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں‘ سزا چاہتا ہوں۔ (علامہ اِقبالؒ )

Saturday, January 6, 2018

Jan 2018: Lack of Burn Unit in KP, priorities exposed!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
جلے‘ اَن جلے: سکھ دُکھ!
خیبرپختونخوا میں طبی سہولیات کے معیار اُور دستیابی کا اَندازہ اِس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ دہشت گرد حملوں‘ آتشزدگی یا گھریلو و دیگر تنازعات کی وجہ سے آگ کے زخمی یا خودسوزی کرنے والوں کے علاج معالجے کے لئے صوبے میں ایک بھی خصوصی طبی سہولت (ہسپتال) موجود نہیں۔ زیادہ آسان یہی تھا کہ موجودہ ہسپتالوں میں ’برن یونٹ‘ قائم کئے جاتے اور ایسا کیا بھی گیا لیکن سب کچھ ’خانہ پری‘ کی حد تک محدود پیمانے پر ہے۔ 

صوبائی فیصلہ سازوں کی ترجیحات کا اندازہ لگانا بھی قطعی مشکل نہیں کہ جنہیں اِس بارے میں سوچنے اور حالات کی سنگینی کا اندازہ لگانے کی فرصت نہیں۔ عجب ہے کہ ہمیں ’موٹروے‘ میٹرو اور تیز رفتار (ریپیڈ بس) کی ضرورت تو ہے بھلے ہی پینے کے صاف پانی سے لیکر علاج معالجے کی سہولیات تک کچھ بھی نہ تو معیاری ہو اور نہ ہی عمومی ضروریات کے مطابق پورا اُترے۔ چار جنوری کے روز اَندرون پشاور کے ’تھانہ کوتوالی‘ میں انوکھا واقعہ پیش آیا جب ایک خاتون تیز قدموں سے چلتے ہوئے تھانے میں داخل ہوئی اور اُس نے آن کی آن خود کو آگ لگا لی۔ پولیس کے مطابق ’’اٹھائیس سالہ مسماۃ سلمیٰ کو اُس کے شوہر نے چار سال قبل طلاق دی تھی‘ جس کے بعد اُس نے دوسری شادی کر لی لیکن مسماۃ سلمیٰ اُسی گھر میں مقیم تھی اور جب اُس کے سابق شوہر نے کرائے کا مطالبہ کیا تو اِس پر آئے روز جھگڑوں کے بعد جرگہ میں فیصلہ ہوا کہ مسماۃ سلمیٰ سات ہزار روپے ماہانہ کرایہ ادا کرے گی اور جلد کسی دوسرے گھر منتقل ہو جائے گی۔ اِس حل کے بعد مسماۃ سلمیٰ جب ایک سے زائد مرتبہ اپنا سامان لینے سابق شوہر کے گھر گئی تو اُس کی بیوی نے جھگڑا کر کے واپس کر دیا اور کہا کہ وہ پولیس تھانے سے اپنا سامان وصول کرے۔ یہ بات پہلے ہی سے دل برداشتہ سلمیٰ کے لئے صدمے کا باعث بنی اور اُس نے خود پر آتش گیر محلول چھڑکنے کے بعد تھانے کے اندر پہنچ کر آگ لگا لی۔‘‘ 

پولیس یہ بقول یہ سب اِس قدر اچانک ہوا کہ موقع پر موجود ایک سے زیادہ پولیس اہلکار کچھ نہ کر سکے اور اُس کا جسم 98 فیصد دیکھتے ہی دیکھتے جل گیا۔ پولیس کی بیان کردہ اگر اِس کہانی کو ’سوفیصد‘ درست بھی تسلیم کر لیا جائے تب بھی کئی سوال اُٹھتے ہیں۔ چیخ و پکار کرتی خاتون پولیس تھانے کے اندر جل کر خاکستر ہو گئی‘ جہاں آگ بجھانے والے کیمیائی آلات موجود نہیں تھے۔ گھریلو تنازع میں باخبر پولیس (متعلقہ تھانے کے اہلکاروں) کا اِس پورے معاملے میں کردار کیا رہا‘ جس کی الگ سے تحقیقات ہونی چاہئے۔ مسماۃ سلمیٰ کو طبی امداد کے لئے اسلام آباد منتقل کرنا پڑا‘ تاہم ڈاکٹروں کے مطابق اُس کے صحت یاب ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں‘ جس کی کئی وجوہات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اُسے مخصوص طبی امداد کئی گھنٹوں کے بعد ملی۔ المیہ در المیہ یہ ہے کہ پشاور میں انتہائی جلے ہوئے مریضوں کے علاج معالجے کی سہولیات دستیاب نہیں اور مختلف ہسپتالوں میں کئے گئے عارضی بندوبست بھی اِس ناکافی ہیں جہاں فوری طور پر انتہائی نگہداشت کی ضرورت والے مریضوں کا علاج معالجہ ممکن نہیں ہے!

تصور کیجئے ایک ایسے پشاور کا جہاں صحت کے شعبے میں تبدیلی کے وعدوں کو اُن کی روح کے مطابق عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ آگ سے جلے یا جھلسے ہوئے مریضوں کو جب قریبی یا مرکزی ہسپتالوں میں پہنچایا جاتا ہے تو اُنہیں خبر دی جاتی ہے کہ وہ بڑے بڑے ناموں والی اِن علاج گاہوں اور ایک سے بڑھ کر ایک ماہر ڈاکٹر کی تعلیمی اسناد اور تجربے سے مرعوب نہ ہوں او رنہ ہی کروڑوں روپے سالانہ حکومتی اِمداد رکھنے والے اِن ہسپتالوں سے توقع کریں کہ وہاں ’برن یونٹ‘ موجود ہیں بلکہ ’برن یونٹ‘ کے نام پر فراہم کی جانے والی سہولیات سطحی ہیں! حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں تعمیر ہونے والا ’برن یونٹ‘ کا تعمیراتی کام تین برس سے مکمل ہے لیکن اُس کے فعال نہ ہونے کی وجہ درکار مالی وسائل کی کمی ہے۔ اِس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ ایک دوسرے پر ڈال رہی ہیں تو ’’کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں!؟‘‘ 

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہر سال پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں آگ سے جلے یا جھلسے ’8 ہزار‘ سے زائد مریضوں کو لایا جاتا ہے لیکن ناکافی سہولیات کی وجہ سے اُن کی اکثریت کو وفاق یا پنجاب بھیج (ریفر کر) دیا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے چار (برن یونٹ ایوب ٹیچنگ ایبٹ آباد‘ برن یونٹ خلیفہ گل نواز بنوں‘ برن یونٹ خیبرٹیچنگ پشاور اور برن یونٹ حیات کمپلیکس پشاور) میں سے کوئی ایک بھی ’برن یونٹ‘ ایسا نہیں جہاں 40فیصد سے زائد جلے ہوئے مریضوں کا علاج ہو سکے۔ ایسے مریضوں کو ’سی ایم ایچ کھاریاں یا واہ کینٹ بھیج دیا جاتا ہے جہاں زیرعلاج کل مریضوں میں سے 80 فیصد کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہوتا ہے۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ’برن یونٹ‘ 60 بستروں پر مشتمل ہے جس کی تعمیر پر ڈیرھ ارب روپے لاگت آئی لیکن آلات و دیگر سازوسامان کی خریداری کے لئے درکار مزید رقم فراہم نہیں کی جا رہی! یہ امر لائق توجہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں جدید سہولیات سے آراسہ ’برن یونٹ‘ کے نہ ہونے سے صرف اِس صوبے کے مریض ہی نہیں بلکہ قبائلی علاقہ جات سے آنے والوں مریضوں اور اُن کے تیمارداروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور اکثر مریض دور دراز ہسپتالوں تک پہنچنے میں وہ ’’قیمتی عرصہ‘‘ گزار دیتے ہیں‘ جو نہایت ہی اہم ہوتا ہے اور اگر اُن کا فوری علاج معالجہ شروع ہو جائے تو مریض کے بچنے کی اُمید (چانس) زیادہ ہوتے ہیں۔ 

خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں آگ سے جلے یا جھلسے ہوئے مریضوں کے علاج معالجے کی فراہم کردہ سہولیات ’مرہم پٹی‘ کی حد تک محدود کیوں ہیں‘ جہاں متاثرہ مریض کی نہیں بلکہ اُس کے تیمارداروں اور عزیزوں کی تسلی و تشفی سے زیادہ کچھ حاصل نہیں ہوتا‘ آخر کیوں!؟ 

دہشت گردی سے نمٹنے اور صف اوّل کا کردار ادا کرنے والے خیبرپختونخوا میں ’برن یونٹ‘ کی فوری ضرورت اور اِس ضرورت کی فراہمی میں غیرضروری تاخیر ’مجرمانہ غفلت‘ میں شمار ہوتی ہے۔ تصور کیجئے کہ چوبیس نومبر دوہزار سترہ کے روز ’حیات آباد میڈیکل کمپلیکس‘ کے قریب ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کے قافلے کو دہشت گرد حملے میں نشانہ بنایا گیا لیکن اِس بارودی دھماکہ کے نتیجے میں جلے ہوئے زخمیوں کو چند منٹ کے فاصلے پر قریبی ہسپتال کی بجائے گھنٹوں کی مسافت پر دوسرے صوبے کے ’برن یونٹ‘ لیجانا پڑا۔ اگر حساسیت ہو تو ہمارے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز اُس دکھ اور جلن کی شدت محسوس کر سکتے ہیں جن سے زخمیوں گزرتے ہوں گے اور جسے برداشت کرنے کی سکت نصف سے زائد ایسے مریضوں میں نہیں ہوتی اور وہ علاج گاہوں تک پہنچنے سے پہلے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں!
۔