Showing posts with label Hospital. Show all posts
Showing posts with label Hospital. Show all posts

Saturday, January 6, 2018

Jan 2018: Lack of Burn Unit in KP, priorities exposed!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
جلے‘ اَن جلے: سکھ دُکھ!
خیبرپختونخوا میں طبی سہولیات کے معیار اُور دستیابی کا اَندازہ اِس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ دہشت گرد حملوں‘ آتشزدگی یا گھریلو و دیگر تنازعات کی وجہ سے آگ کے زخمی یا خودسوزی کرنے والوں کے علاج معالجے کے لئے صوبے میں ایک بھی خصوصی طبی سہولت (ہسپتال) موجود نہیں۔ زیادہ آسان یہی تھا کہ موجودہ ہسپتالوں میں ’برن یونٹ‘ قائم کئے جاتے اور ایسا کیا بھی گیا لیکن سب کچھ ’خانہ پری‘ کی حد تک محدود پیمانے پر ہے۔ 

صوبائی فیصلہ سازوں کی ترجیحات کا اندازہ لگانا بھی قطعی مشکل نہیں کہ جنہیں اِس بارے میں سوچنے اور حالات کی سنگینی کا اندازہ لگانے کی فرصت نہیں۔ عجب ہے کہ ہمیں ’موٹروے‘ میٹرو اور تیز رفتار (ریپیڈ بس) کی ضرورت تو ہے بھلے ہی پینے کے صاف پانی سے لیکر علاج معالجے کی سہولیات تک کچھ بھی نہ تو معیاری ہو اور نہ ہی عمومی ضروریات کے مطابق پورا اُترے۔ چار جنوری کے روز اَندرون پشاور کے ’تھانہ کوتوالی‘ میں انوکھا واقعہ پیش آیا جب ایک خاتون تیز قدموں سے چلتے ہوئے تھانے میں داخل ہوئی اور اُس نے آن کی آن خود کو آگ لگا لی۔ پولیس کے مطابق ’’اٹھائیس سالہ مسماۃ سلمیٰ کو اُس کے شوہر نے چار سال قبل طلاق دی تھی‘ جس کے بعد اُس نے دوسری شادی کر لی لیکن مسماۃ سلمیٰ اُسی گھر میں مقیم تھی اور جب اُس کے سابق شوہر نے کرائے کا مطالبہ کیا تو اِس پر آئے روز جھگڑوں کے بعد جرگہ میں فیصلہ ہوا کہ مسماۃ سلمیٰ سات ہزار روپے ماہانہ کرایہ ادا کرے گی اور جلد کسی دوسرے گھر منتقل ہو جائے گی۔ اِس حل کے بعد مسماۃ سلمیٰ جب ایک سے زائد مرتبہ اپنا سامان لینے سابق شوہر کے گھر گئی تو اُس کی بیوی نے جھگڑا کر کے واپس کر دیا اور کہا کہ وہ پولیس تھانے سے اپنا سامان وصول کرے۔ یہ بات پہلے ہی سے دل برداشتہ سلمیٰ کے لئے صدمے کا باعث بنی اور اُس نے خود پر آتش گیر محلول چھڑکنے کے بعد تھانے کے اندر پہنچ کر آگ لگا لی۔‘‘ 

پولیس یہ بقول یہ سب اِس قدر اچانک ہوا کہ موقع پر موجود ایک سے زیادہ پولیس اہلکار کچھ نہ کر سکے اور اُس کا جسم 98 فیصد دیکھتے ہی دیکھتے جل گیا۔ پولیس کی بیان کردہ اگر اِس کہانی کو ’سوفیصد‘ درست بھی تسلیم کر لیا جائے تب بھی کئی سوال اُٹھتے ہیں۔ چیخ و پکار کرتی خاتون پولیس تھانے کے اندر جل کر خاکستر ہو گئی‘ جہاں آگ بجھانے والے کیمیائی آلات موجود نہیں تھے۔ گھریلو تنازع میں باخبر پولیس (متعلقہ تھانے کے اہلکاروں) کا اِس پورے معاملے میں کردار کیا رہا‘ جس کی الگ سے تحقیقات ہونی چاہئے۔ مسماۃ سلمیٰ کو طبی امداد کے لئے اسلام آباد منتقل کرنا پڑا‘ تاہم ڈاکٹروں کے مطابق اُس کے صحت یاب ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں‘ جس کی کئی وجوہات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اُسے مخصوص طبی امداد کئی گھنٹوں کے بعد ملی۔ المیہ در المیہ یہ ہے کہ پشاور میں انتہائی جلے ہوئے مریضوں کے علاج معالجے کی سہولیات دستیاب نہیں اور مختلف ہسپتالوں میں کئے گئے عارضی بندوبست بھی اِس ناکافی ہیں جہاں فوری طور پر انتہائی نگہداشت کی ضرورت والے مریضوں کا علاج معالجہ ممکن نہیں ہے!

تصور کیجئے ایک ایسے پشاور کا جہاں صحت کے شعبے میں تبدیلی کے وعدوں کو اُن کی روح کے مطابق عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ آگ سے جلے یا جھلسے ہوئے مریضوں کو جب قریبی یا مرکزی ہسپتالوں میں پہنچایا جاتا ہے تو اُنہیں خبر دی جاتی ہے کہ وہ بڑے بڑے ناموں والی اِن علاج گاہوں اور ایک سے بڑھ کر ایک ماہر ڈاکٹر کی تعلیمی اسناد اور تجربے سے مرعوب نہ ہوں او رنہ ہی کروڑوں روپے سالانہ حکومتی اِمداد رکھنے والے اِن ہسپتالوں سے توقع کریں کہ وہاں ’برن یونٹ‘ موجود ہیں بلکہ ’برن یونٹ‘ کے نام پر فراہم کی جانے والی سہولیات سطحی ہیں! حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں تعمیر ہونے والا ’برن یونٹ‘ کا تعمیراتی کام تین برس سے مکمل ہے لیکن اُس کے فعال نہ ہونے کی وجہ درکار مالی وسائل کی کمی ہے۔ اِس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ ایک دوسرے پر ڈال رہی ہیں تو ’’کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں!؟‘‘ 

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہر سال پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں آگ سے جلے یا جھلسے ’8 ہزار‘ سے زائد مریضوں کو لایا جاتا ہے لیکن ناکافی سہولیات کی وجہ سے اُن کی اکثریت کو وفاق یا پنجاب بھیج (ریفر کر) دیا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے چار (برن یونٹ ایوب ٹیچنگ ایبٹ آباد‘ برن یونٹ خلیفہ گل نواز بنوں‘ برن یونٹ خیبرٹیچنگ پشاور اور برن یونٹ حیات کمپلیکس پشاور) میں سے کوئی ایک بھی ’برن یونٹ‘ ایسا نہیں جہاں 40فیصد سے زائد جلے ہوئے مریضوں کا علاج ہو سکے۔ ایسے مریضوں کو ’سی ایم ایچ کھاریاں یا واہ کینٹ بھیج دیا جاتا ہے جہاں زیرعلاج کل مریضوں میں سے 80 فیصد کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہوتا ہے۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ’برن یونٹ‘ 60 بستروں پر مشتمل ہے جس کی تعمیر پر ڈیرھ ارب روپے لاگت آئی لیکن آلات و دیگر سازوسامان کی خریداری کے لئے درکار مزید رقم فراہم نہیں کی جا رہی! یہ امر لائق توجہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں جدید سہولیات سے آراسہ ’برن یونٹ‘ کے نہ ہونے سے صرف اِس صوبے کے مریض ہی نہیں بلکہ قبائلی علاقہ جات سے آنے والوں مریضوں اور اُن کے تیمارداروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور اکثر مریض دور دراز ہسپتالوں تک پہنچنے میں وہ ’’قیمتی عرصہ‘‘ گزار دیتے ہیں‘ جو نہایت ہی اہم ہوتا ہے اور اگر اُن کا فوری علاج معالجہ شروع ہو جائے تو مریض کے بچنے کی اُمید (چانس) زیادہ ہوتے ہیں۔ 

خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں آگ سے جلے یا جھلسے ہوئے مریضوں کے علاج معالجے کی فراہم کردہ سہولیات ’مرہم پٹی‘ کی حد تک محدود کیوں ہیں‘ جہاں متاثرہ مریض کی نہیں بلکہ اُس کے تیمارداروں اور عزیزوں کی تسلی و تشفی سے زیادہ کچھ حاصل نہیں ہوتا‘ آخر کیوں!؟ 

دہشت گردی سے نمٹنے اور صف اوّل کا کردار ادا کرنے والے خیبرپختونخوا میں ’برن یونٹ‘ کی فوری ضرورت اور اِس ضرورت کی فراہمی میں غیرضروری تاخیر ’مجرمانہ غفلت‘ میں شمار ہوتی ہے۔ تصور کیجئے کہ چوبیس نومبر دوہزار سترہ کے روز ’حیات آباد میڈیکل کمپلیکس‘ کے قریب ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کے قافلے کو دہشت گرد حملے میں نشانہ بنایا گیا لیکن اِس بارودی دھماکہ کے نتیجے میں جلے ہوئے زخمیوں کو چند منٹ کے فاصلے پر قریبی ہسپتال کی بجائے گھنٹوں کی مسافت پر دوسرے صوبے کے ’برن یونٹ‘ لیجانا پڑا۔ اگر حساسیت ہو تو ہمارے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز اُس دکھ اور جلن کی شدت محسوس کر سکتے ہیں جن سے زخمیوں گزرتے ہوں گے اور جسے برداشت کرنے کی سکت نصف سے زائد ایسے مریضوں میں نہیں ہوتی اور وہ علاج گاہوں تک پہنچنے سے پہلے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں!
۔

Thursday, June 1, 2017

Jun01: Doctors strike & criminal ignorance!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
صداقت کا معیار!
حقیقت کے کئی رخ ہوتے ہیں۔ کسی ایک زاویئے سے حالات کے کسی ایک ہی پہلو کا جائزہ لیکر حتمی رائے قائم کرنے والوں کو حیرت و شرمندگی کے علاؤہ اپنے مؤقف سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور ایسی ہی صورتحال صوبائی فیصلہ سازوں کو درپیش ہے‘ جنہیں سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ ڈاکٹروں کی جاری ہڑتال کے آتش فشاں کو کیسے سرد کیا جائے! 

عمومی منظرنامہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں سے بطور مریض رجوع کرنے والوں کو مشکلات بہرصورت درپیش رہتی ہیں تاہم ’تئیس مئی‘ سے جاری ’ینگ ڈاکٹروں‘ کی حالیہ احتجاجی تحریک اور ’کام چھوڑ ہڑتال‘ کے باعث رہی سہی کسر بھی نکل گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ ہڑتال شروع ہونے سے قبل اور بعدازاں خبردار کرتے رہے لیکن صوبائی کابینہ کے کسی ایک بھی معزز رکن نے نوٹس نہیں لیا اور جب ہسپتالوں میں بروقت اور علاج کی خاطرخواہ سہولیات نہ ملنے کے سبب ہلاکتیں رپورٹ ہونے لگیں تو گویا سب جاگ اُٹھے۔ پشاور کے ’لیڈی ریڈنگ‘ اور ایبٹ آباد کے ’ایوب ٹیچنگ ہسپتال‘ میں ’ینگ ڈاکٹروں‘ کا علاج معالجے میں خلل پیدا کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزارت صحت کی جانب سے نوٹسیز جاری کئے‘ جن پر وزیرصحت شہرام خان تراکئی کا نام اور دستخط ثبت ہے اور احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کو اپنی روش تبدیل کرنے کے بارے نرمی سے تلقین کرتے ہوئے التجائیں لہجے میں (جان کی امان چاہتے ہوئے) کہا گیا ہے کہ ’’اگر جاری ہڑتال ختم نہ کی گئی تو اُن کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے گی۔‘‘ سوال یہ ہے کہ آخر یہ محکمانہ کاروائی کس چیز کا نام ہے اور اب تک کیوں نہیں ہو سکی؟ 

نوٹس میں ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنرز اور انتظامیہ کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ہسپتال کے انتظامی امور بشمول علاج معالجے کے بارے میں ’صوبائی وزارت صحت‘ کو یومیہ رپورٹ باقاعدگی سے ارسال کریں۔ نوٹس کے لب و لہجہ سے صاف محسوس کیا جا سکتا ہے کہ حکومت ڈاکٹروں کے آگے بے بس ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کو معاملات افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا ’مفت مشورہ‘ بھی تحریر کر دیا گیا ہے حالانکہ ڈاکٹروں کے ہڑتال اور احتجاج کی بنیادی وجوہات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بورڈ آف گورنرز اور ہسپتال انتظامیہ مالی بدعنوانیوں میں ملوث ہیں‘ جس پر صوبائی وزیر صحت سمیت محکمۂ صحت کا کوئی بھی ذمہ دار بات کرنا نہیں چاہتا۔ 

سیکرٹری صحت کے دفتر سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ’’سرکاری ہسپتالوں میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا انتخاب ’بنی گالہ‘ کی منظوری سے ہوتا ہے‘ اور اِس میں ردوبدل یا بورڈ کے کسی رکن کے خلاف کاروائی کا اختیار نہ تو صوبائی وزیرصحت کے پاس ہے اور نہ ہی سیکرٹری اپنے طور پر سیاسی حکومت کے انتظامی امور میں مداخلت کر سکتا ہے۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے جس پر جب تک تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے کان پر جوں نہیں رینگے گی‘ اُس وقت تک ’بورڈ آف گورنرز‘ کے عہدیداروں کی تبدیلی یا اُن کے خلاف کسی بھی درجے کی تحقیقات نہیں کی جا سکیں گی۔ ‘‘ لمحۂ فکریہ ہے کہ سرکاری علاج گاہوں میں چونکہ عام لوگ (ہم عوام) ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں‘ اِس لئے خواص (وی وی آئی پیز) پر مشتمل حکمرانوں کو اِس سے زیادہ سروکار بھی نہیں!

’ینگ ڈاکٹروں‘ کا مؤقف ہے کہ ’’وہ بے حس نہیں لیکن اپنے جائز حقوق کی جانب فیصلہ سازوں کی توجہ مبذول کروا رہے ہیں۔‘‘ ایک برقی مکتوب (ای میل) میں قدرے تفصیل سے جن وجوہات اور برسرزمین حقائق کا ذکر کیا گیا‘ اُن کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’حکومت کا کوئی بھی دوسرا محکمہ ایسا نہیں جس کے اہلکار سارا سال‘ دن رات (چوبیس گھنٹے)‘ حتی کہ قومی تعطیلات بشمول عید و محرم کے ایام میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیتے ہوں۔ جب ہفتہ وار تعطیل کے نام پر معزز سیکرٹری صاحبان اپنے اہل وعیال کے ہمراہ سکون قلبی سے آرام و آسائش کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں تو ڈاکٹر ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔ جب عدالتیں اور بینک ایک مقررہ وقت پر بند ہوتے ہیں لیکن ہسپتالوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا عدالتوں میں زیرالتوأ مقدمات کی تعداد ہزاروں میں نہیں اور اگر ہے تو جس طرح مریضوں کے رش کی وجہ سے ہسپتال بند نہیں کئے جا سکتے تو پھر عدالتیں کیوں مقررہ وقت اور دو ہفتہ وار تعطیلات کے علاؤہ موسم گرما و سرما کی تعطیلات کرتی ہیں۔ آخر کیوں ہپستالوں کی طرح عدالتیں سال کے تین سو پینسٹھ دن فعال نہیں رہ سکتیں؟ آدھی رات کے وقت بھی اگر آپ کسی ہسپتال کا دورہ کریں گے تو وہاں ڈیوٹی پر ڈاکٹر اور معاون عملے کو حاضر و بیدار پائیں گے لیکن اِس کے باوجود حکومت کی نظر میں ڈاکٹروں کا کردار اور اُن کا ایثار و قربانی کی کوئی وقعت نہیں۔ ہسپتالوں کو خودمختاری دے کر ایک ایسے من پسند طبقے کو فیصلہ سازی کا اختیار دیا گیا ہے اور انہیں باقاعدہ طور پر مسلط کر دیا گیا ہے کہ وہ ڈاکٹر نہ ہوتے ہوئے بھی ہسپتال کے معاملات پر اپنے فیصلے مسلط کریں۔ جب ڈاکٹروں سے آٹھ گھنٹے کی عمومی ڈیوٹی سے زیادہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے تو پھر ’بائیومیٹرک‘ کی پابندی کا جواز یا ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ 

ڈاکٹر حاضری کے لئے بائیومیٹرک تصدیق کی پابندی کرنے کو تیار ہیں لیکن ایسی صورت میں دیگر صوبائی حکومت کے ملازمین کی طرح انہیں ہفتہ وار اور تمام قومی تعطیلات کے علاؤہ آٹھ یا نو گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی پر حاضر رہنے کا پابند نہیں بنایا جائے گا۔ ہسپتالوں کے انتظامی نگران اور بورڈ آف گورنرز کے اراکین کی تعیناتیوں میں متعلقہ شعبے کے ماہرین کا تقرر کیا جائے۔ 

کیا یہ امر لائق افسوسناک نہیں کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بورڈ آف گورنر کا چیئرمین ایک ایسے عزیزم کو تعینات کیا گیا ہے جو سات لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ بھی لیتا ہے اور مہینے کے بیس دن امریکہ میں رہتا ہے جہاں (مبینہ طور پر) اُس کی نجی پریکٹس اور دلچسپیاں ہیں۔ عام آدمی کی آنکھوں میں تبدیلی کا خواب سرمے کی طرح ڈالنے والوں کو آج نہیں تو کل بدعنوانی پر مبنی طرزحکمرانی کی مثالوں کا جواز عوام کی عدالت میں پیش کرنا ہوگا۔ حق و صداقت اور سچائی کی تعریف یہ ہوتی ہے کہ اِس کے ذریعے دوسروں کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکا جائے!

Thursday, March 30, 2017

Mar2017: Protest against Corruption!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مسلط عذاب!
’خیبرپختونخوا میڈیکل انسٹی ٹیوشن ریفارمز ایکٹ 2015‘ کے تحت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں صوبائی حکومت نے سرکاری علاج گاہوں کو ایک ایسی ’خودمختاری‘ دی ہے‘ جس سے وابستہ بہتری کی توقعات پوری ہی نہیں ہوئیں بلکہ سرکاری علاج گاہوں کے مسائل پہلے سے زیادہ اُلجھ گئے ہیں۔ اصلاح احوال (بہتری لانے کی غرض سے کئے گئے قانون سازی پر مبنی اقدام) کا بنیادی خیال (مقصد) یہ تھا کہ سرکاری علاج گاہوں سے جڑی عوام کی مشکلات بصورت مسلط عذاب کم ہوں‘ یہ ہسپتال مالی طور پر اپنے فیصلے‘ اپنی ضروریات (حاجات) کے مطابق خود کریں اور مالی وسائل کا ترقیاتی امور پر زیادہ مالی وسائل خرچ ہوں لیکن جو کچھ حاصل ہوا وہ اِس کے برعکس رہا یعنی سرکاری ہسپتالوں کو دیئے جانے والے مالی وسائل یا اُن کی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ غیرترقیاتی امور (چنیدہ انتظامی عہدیداروں کی تنخواہوں اُور مراعات) پر خرچ ہونے لگے اور یہیں سے وہ خرابی شروع ہوئی‘ جس کی وجہ سے علاج معالجے کا معیار روز بہ روز گرتا چلا گیا! برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ اصلاحات کے عرصہ تین سال بعد بھی سرکاری علاج گاہیں وہیں کی وہیں بھی کھڑی ہوتیں تو کوئی بات نہیں تھی لیکن مالی و انتظامی خودمختاری ملنے کے بعد اُلجھنیں ہر ’گزرتے دن‘ بڑھتی چلی گئیں۔ 

سرکاری علاج گاہوں کے انتظامی مسائل اور سرکاری ملازمین کے شاہانہ مزاج اپنی جگہ ناقابل تردید حقیقت ہیں۔ ضلع ایبٹ آباد کے ’ایوب ٹیچنگ ہسپتال‘ کی مثال لیں تو معالجین اُور معاونین پر مشتمل عملے نے ’خودمختار (مادرپدر آزاد) انتظامیہ‘ کے خلاف پہلا باضابطہ احتجاج 28 جولائی 2015ء کو کیا تھا‘ جس میں سوائے ایمرجنسی علاج معالجے کی تمام سہولیات معطل کر دی گئیں تھیں اور اُس وقت جن خدشات کا اظہار کیا گیا‘ وہ وقت کے ساتھ ایک ایک کرکے درست ثابت ہوتی چلی گئیں اُور اُن کی اِصلاح باوجود یقین دہانی بھی نہیں کی گئی جس کے وجہ سے یہ نوبت آئی کہ ’28 مارچ کے روز ڈاکٹروں نے انوکھا احتجاج شروع کرتے ہوئے ایوب ٹیچنگ ہسپتال (کمپلیکس) کی عمارت کے اندر مریضوں کا معائنہ کرنے کی بجائے عمارت کے احاطے میں شامیانے لگا کر ’اُو پی ڈی‘ قائم کی‘ اور یوں کھلے آسمان تلے مریضوں کا معائنہ تمام دن جاری رہا جس میں دوہزار سے زائد مریض آئے۔ تصور کیجئے کہ ہسپتال آنے والے مریضوں نے ’کتنا اَچھا‘ محسوس کیا ہوگا‘ جب تمام دن ’’طبی معائنہ اُور اِحتجاج‘‘ ساتھ ساتھ چلتے رہے اور اُنتیس مارچ کے روز دوسرے دن بھی ڈاکٹروں نے ’اُو پی ڈی‘ کے تحت مریضوں کا معائنہ موسم بہار کی کھلی کھلی دھوپ میں کیا!

اَیوب ٹیچنگ ہسپتال کی خودمختاری کے بعد قائم ہونے والے ’بورڈ آف گورنرز (خودمختار انتظامیہ)‘ کے سات اراکین میں جاوید پنی‘ ڈاکٹر عاصم یوسف‘ کرنل ریٹائرڈ صلاح الدین‘ طارق خان‘ بریگیڈئر (ریٹائرڈ) ڈاکٹر خالد حسین‘ میجر جنرل (ریٹائرڈ) پروفیسر ڈاکٹر آصف علی خان‘ سابق ڈائریکٹر جنرل وفاقی وزارت خزنہ ڈاکٹر نجیب عباسی شامل ہیں‘ جن سے باوجود کوشش بھی رابطہ ممکن نہیں ہوسکا تاہم ’آف دِی ریکارڈ‘ ڈاکٹروں کی ہڑتال اُور بدعنوانی کی نشاندہی کو بے بنیاد الزامات قرار دیا لیکن ’پروانشیل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (پی ڈی اے) کے صوبائی صدر ڈاکٹر امین آفریدی کا مؤقف اور دلائل ’نظرانداز‘ کرنا ممکن نہیں! اُن کے تلخی بھرے (تندوتیز) لب و لہجے میں موجود سچائی ’سیاسی یا غیرسیاسی مخالفت یا انتظامی امور میں مداخلت‘ قرار دے کر نظراَنداز نہیں کی جا سکتی کیونکہ سچائی الفاظ کو معطر بھی کر دیتی ہے۔ 

ڈاکٹر امین آفریدی کا کہنا ہے کہ ایوب ٹیچنک ہسپتال میں جاری احتجاج کے ’تین بنیادی محرکات‘ ہیں۔1: ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ڈاکٹروں کو فراہم کی گئیں ’رہائشگاہیں (ہاسٹلز)‘ میں صرف بنیادی سہولیات ہی نہیں ناکافی سیکورٹی (حفاظتی امور) کی وجہ سے اب تک ایک ڈاکٹر کی ہلاکت اور کئی ایک افسوسناک واقعات پیش آ چکے ہیں۔ بدعنوانی کے غالب امکان کی وجہ سے سرکاری ہسپتال کے اپنے ہاسٹل کی تعمیر کا منصوبہ التوأ (سردخانے) کی نذر کر دیا گیا ہے اور ایک نجی ہاسٹل کو سال 2008ء سے سالانہ ایک کروڑ تیس لاکھ روپے کرائے کی مد میں ادا کیا جا رہا ہے۔ اگر ہسپتال کی انتظامیہ مخلص و ایماندار ہوتی تو اتنی بڑی رقم کسی نجی مالک مکان کو دینے کی بجائے اِسی پیسے سے وسیع و عریض ہسپتال کے اندر کسی کونے میں ’ہاسٹل تعمیر کر سکتی تھی!‘ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ہاسٹل کی تعمیر کا منصوبہ ’پی سی ون (ابتدائی منصوبہ بندی)‘ کے باوجود بھی کیوں منسوخ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کے احتجاج کی دوسری وجہ ہسپتال میں غیرقانونی بھرتیاں ہوئی ہیں اور تیسری وجہ من پسند ریٹائر افراد کی خدمات تین سے پانچ لاکھ روپے ماہانہ کے عوض حاصل کی گئیں ہیں‘ جس سے مریضوں کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوا لیکن بھاری تنخواہیں اور مراعات پانے والوں کے ’وارے نیارے‘ ہیں! 

تصور کیجئے کہ ایوب ڈیٹنسٹری اور ایوب پیڈز گائنی (خواتین کے لئے مخصوص) 300بیڈز جیسے اہم منصوبوں (شعبوں)کو فعال کرنے کے لئے تو مالی وسائل دستیاب نہیں اُور ہسپتال میں موجود سہولیات میں اضافے کے اِن ’کلیدی منصوبوں‘ میں مالی بدعنوانیاں بعدازتحقیقات ثابت ہونے کے باوجود بھی ذمہ دار (بدعنوان) عناصر کا نہ تو احتساب عملاً ممکن ہوا‘ اُور نہ ہی اُنہیں سرکاری وسائل کی لوٹ مار کرنے کی پاداش میں اِنتظامی عہدوں سے علیحدہ کیا گیا‘ تو جب اِنصاف و اِحتساب (سزا و جزأ) کے تصورات اور فکروعمل کے معیار اِس قدر دھندلے (مقروض محکوم و مجبور) ہوں گے تو ایسی صورتحال کو ’نئے خیبرپختونخوا کی تشکیل‘ یا کسی ایسی ’تبدیلی‘ سے تعبیر (منطبق) نہیں کیا جاسکتا‘ جس کا مقصد عوام کی فلاح (اِجتماعی بہبود) ہو۔ زمینی حقیقت ہے کہ جب سے ’ایم ٹی آئی‘ نافذ ہوا ہے‘ کم وبیش 3 سال کے عرصے کے دوران ’’12 کروڑ روپے‘‘ ہسپتال کے چند انتظامی عہدوں پر فائز ’’بااثر افراد‘‘ کو تنخواہوں‘ دیگر مراعات اور مختلف شہروں میں آمدورفت (قیام و طعام) کی مد میں ادا کئے گئے ہیں۔ کسی ہسپتال پر اوسطاً ’4کروڑ روپے‘ سالانہ کا مالی بوجھ معمولی قرار دے کر نظرانداز کر دیا جائے جبکہ اِس خطیر رقم سے نہ صرف سینکڑوں ہزاروں مریضوں کو مفت اَدویات اور پیچیدہ امراض کے آپریشنز (جراحتی عمل مکمل) کئے جا سکتے ہیں! بلکہ ایک پورا ہسپتال چلایا بھی جا سکتا ہے! 

سوال یہ ہے کہ ضلع ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی نمائندے اپنے معنوی وجود کے ہونے کا ثبوت کیوں نہیں دے رہے؟ عوام کے منتخب نمائندوں نے کیوں ’تجاہل عارفانہ‘ اِختیار کر رکھا ہے جبکہ اُن کی ناک تلے ہونے والی بدعنوانیوں‘ بے ضابطگیوں‘ بے قاعدگیوں اُور بدانتظامیوں کی ’حشرسامانیاں) دیکھنے کے باوجود بھی نہیں دیکھ رہے! (خدانخواستہ‘ خاکم بدہن) کہیں ایسا تو نہیں کہ ’بنی گالہ‘ سے مسلط ہونے والے فیصلوں کا سحر (جادو منتر) کی تاثیر کچھ ایسی ہے کہ منتخب نمائندوں کی سوچنے سمجھنے اُور بولنے کی صلاحیتوں سلب ہو چکی ہیں؟ 
’’میرے چاروں طرف ایک سیلاب خوں کس اذیت میں ہوں۔۔۔ 
کس قدر خوف ہے میرے اعصاب پر‘ شعر کیسے لکھوں؟ (احمد امتیاز)۔‘‘
Doctors of Ayub Teaching Hospital Abbottabad on Protest against corruption

Thursday, March 9, 2017

Mar2017: Lack of treatment facilities in Ayub Teaching!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
علاج معالجہ اُور معالجین!
بارہ سو ایکڑ رقبے پر پھیلے گیارہ سو بستروں سے زائد کے ’ایوب ٹیچنگ ہسپتال (ایبٹ آباد)‘ کا سالانہ بجٹ ’ایک سو دس کروڑ روپے‘ سے زیادہ لیکن پچاس کروڑ روپے سے زائد پر مشتمل حصہ عملے کی تنخواہوں (غیرترقیاتی اخراجات) کی نذر ہو جاتا ہے۔ علاؤہ ازیں ہسپتال کے مختلف شعبوں سے حاصل ہونے والی سالانہ کروڑوں روپے کی آمدنی الگ ہے لیکن اِس ہسپتال کے انتظامی امور کی ’خستہ حالی‘ کا اندازہ کئی مثالوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جیسا کہ سال دوہزار دس گیارہ سے تعمیراتی کام مکمل ہونے کے باوجود بھی ہسپتال کے احاطے میں کثیرالمنزلہ ’گائنی وارڈ‘ تاحال فعال نہیں ہو سکا جس کی بظاہر وجہ یہی سمجھ آتی ہے کہ ہسپتال کے ڈاکٹرز اور فیصلہ ساز جن کے مالی مفادات ’نجی علاج گاہوں سے بھی وابستہ ہیں‘ اگر سرکاری علاج گاہ کا معیار بلند کر دیں گے تو پھر نجی شعبے کی علاج گاہیں سنسان ہو جائیں گی! 

دوسری مثال ہسپتال کے تین داخلی دروازوں کی موجودگی میں چوتھے دروازے کا اضافہ ہے‘ جس کے لئے سبزہ زار کی زرخیز مٹی پر منوں سیمنٹ ڈال دیا گیا۔ ایک طرف تحریک انصاف شجرکاری مہمات کی تبلیغ کر رہی ہے اور دوسری طرف ہسپتال کے اطراف میں سبزہ زار کو غیرضروری راہداری کی نذر کر دیا گیا! حالانکہ سیکورٹی حالات اِس بات کے متقاضی تھے کہ ہسپتال اور ملحقہ میڈیکل کالج کا صرف ایک داخلی دروازہ رکھا جاتا تاکہ آمدروفت پر نظر رکھنے کے علاؤہ پارکنگ ایریاز ہسپتال کی عمارت سے الگ اور فاصلے پر رکھے جاتے‘ جو صفائی کے نکتۂ نظر سے بھی ضرورت تھی لیکن فیصلہ ساز جس ’بے حسیکا مظاہرہ‘ کرتے آئے ہیں اُس سے نہ صرف مالی وسائل کا ضیاع ہوا ہے بلکہ ہسپتال کی سیکورٹی‘ صفائی کی صورتحال اور علاج معالجے کی سہولیات کا معیار بہتر ہونے کی بجائے بتدریج کم ہوا ہے۔ اُجلے ملبوسات اُور ’فر فر اَنگریزی‘ بولنے اُور اَعلیٰ تعلیم یافتہ سمجھنے کا زعم رکھنے والوں کا قول و فعل دیکھ کر جہالت کا سر بھی شرم سے جھک جاتا ہوگا‘ کیونکہ علم و شعور کے دعویداروں نے ناقابل تسکین حرص و طمع کے سامنے ہار مان لی ہے! اَیوب ٹیچنگ صرف ایبٹ آباد یا ہزارہ ڈویژن ہی کا بڑا اُور مرکزی ہسپتال نہیں بلکہ اِس سے رجوع کرنے والوں میں ملحقہ دیہی علاقوں تا آزاد کشمیر اُور شمالی علاقہ جات کے رہنے والے اُن ’بیچارگان‘ کی اکثریت شامل ہے‘ جو عمومی حالات میں نجی اِداروں سے مہنگے داموں علاج معالجہ کرانے کی مالی سکت (اِستطاعت) نہیں رکھتے!

خیبرپختونخوا میں ’سرکاری علاج گاہوں کو مالی و انتظامی خودمختاری دینے کا مقصد‘ اُس نظام کی اصلاح تھی‘ جس سے عام آدمی (ہم عوام) کی وابستہ توقعات پوری نہیں ہو رہی تھیں۔ سرکاری ہسپتالوں کے انتظامی نگرانوں (ایم سیز) کو ’بورڈ آف گورنرز (بی اُو جیز)‘ سے تبدیل کرنے کے بھی خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے بلکہ بھاری تنخواہوں اور غیرمعمولی مراعات کے عوض ایسے منظورنظر افراد کی تعیناتیاں بطور نگران کر دی گئیں‘ جنہیں نہ تو بڑی علاج گاہوں کے معاملات دیکھنے کا ماضی میں کوئی عملی تجربہ تھا اور وہ نہ ہی اِس شعبے میں بناء تجربے اپنے علم کی بنیاد پر ایسا نظام وضع کرنے کی اہلیت رکھتے تھے جس سے مالی بچت یا علاج معالجے کے دستیاب وسائل سے بہتر استفادہ ممکن ہو سکتا۔ سرکاری علاج گاہوں کو قانون سازی کے ذریعے خودمختاری اور ’میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیویشنز (ایم ٹی آئی)‘ کا درجہ دینے کے روشن پہلو ایک ایک کر کے تاریک ہوتے چلے گئے تو اِس کی بھاری قیمت صرف اور صرف عام آدمی (ہم عوام) کو ادا کرنا پڑ رہی ہے!

ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے انتظامی معاملات اُس وقت تک درست (فعال) نہیں ہوں گے جب تک قواعد و ضوابط کا اطلاق ہر اعلیٰ و ادنیٰ کارکن پر یکساں نہیں کر دیا جاتا۔ ملازمین کی حاضری کے لئے ’بائیومیٹرک (انگوٹھے کے نشان سے) تصدیق‘ کے بیش قیمت الیکٹرانک آلات و نیٹ ورک نصب کر دیا گیا ہے لیکن اِن کے ذریعے صرف درجہ چہارم (ادنیٰ) ملازمین ہی حاضری لگانے کے پابند ہیں‘ ایسا کیوں!؟ ہسپتال اور محلقہ کالج کے اعلیٰ ملازمین نے ہڑتالوں اور احتجاج کے ذریعے خود کو ’بائیومیٹرک حاضری‘ سے مستثنیٰ قرار دیا ہوا ہے تو حکومت نے اِس ’سراسر ناجائز مطالبے‘ کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے تو کیا یہ اقدام مفاد عامہ کے لئے کیا گیا؟ وہ تمام ڈاکٹرز (مرد و خواتین) جو نجی کلینکس یا نجی میڈیکل کالجوں میں اُوقات کی سختی سے پابندی کرتے دکھائی ہیں لیکن سرکاری علاج گاہ اور درسگاہ میں حاضری کے ’ٹائم ٹیبل‘ کے تابع نہیں تو کیا کام چوری کا کوئی بھی جواز مطنقی (قابل قبول) ہو سکتاہے؟ کسی ادارے اور بالخصوص ایک مرکزی علاج معالجے کی سہولت‘ میں درجہ بہ درجہ ’نظم و ضبط‘ کیونکر لاگو ہوسکتا ہے جبکہ اُس کے نگران اور روح رواں خود کو جسمانی اور فکری طور پر ’وقف‘ ہی نہ سمجھتے ہوں؟ ایوب ٹیچنگ کے ’بورڈ آف گورنرز‘ کی اب تک کارکردگی میں ماسوائے سلیکشن اور پروموشن جتنے فیصلے بھی کئے گئے ہیں‘ اُن کی سطحی و انفرادی حیثیت اِس بات کی گواہ ہے کہ وہ سیاہ و سفید کے مالک بنے‘ خود کو کسی کے آگے جوابدہ تصور نہیں کر رہے! متعلقہ انتخابی حلقوں سے منتخب ہونے والے اراکین صوبائی و قومی اسمبلی اور بلدیاتی نمائندے کہاں ہیں‘ جن کی موجودگی معنوی نہیں اور اُنہیں آئندہ عام انتخابات سے زیادہ اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہئے جبکہ اُن کی ناک و اختیار کے نیچے ہونے والی بے قاعدگیوں کے بارے سخت سرزنش ہوگی‘ تو اُس وقت کیا جواب بن پائے گا؟

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلہ ساز روائتی طرزعمل اور سب اچھا کی خوشامدی رپورٹوں کی بجائے برسرزمین حقائق کا ’خفیہ معلومات‘ کی بنیاد پر جائزہ لیں کیونکہ ’’تبدیلی کی راہ میں حائل جملہ رکاوٹیں‘‘ دور ہونی چاہیءں۔ ذاتی مفادات کی سوچ اُور حرص کے اسیروں کا صفایا بھی ترجیحی بنیادوں پر یکساں ضروری ہے۔ 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خان خٹک روایت شکن ہیں اُور انہوں نے خود کو عوام سے الگ نہیں رکھا۔ یہی وجہ تھی کہ ’ایوب ٹیچنگ ہسپتال‘ سے متعلق عوامی شکایات پر انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ انتظامی نگرانوں ’بورڈ آف گورنرز‘ تبدیل کرنے کا وعدہ کیا لیکن تاحال اِس وعدے کی عملی تکمیل نہیں ہو پائی ہے اُور شاید ایسا اُس وقت تک عملاً ممکن نہیں ہو پائے گا جب تک خیبرپختونخوا قانون ساز اسمبلی ’’مفادات سے متصادم‘‘ قانون منظور نہیں کر لیتی کیونکہ ’ایم ٹی آئی ایکٹ (قانون)‘ کے تحت بھاری تنخواہیں اِس بات سے مشروط تھیں کہ انتظامی ذمہ داریاں رکھنے والے کسی دوسرے ذریعے سے مالی مفادات وابستہ نہیں کریں گے لیکن ڈین اور میڈیکل ڈائریکٹرز جیسے عہدوں پر تعینات‘ تین سے پانچ روپے تک ماہانہ تنخواہیں اور اضافی مراعات حاصل کرنے والوں نے حلفیہ ملازمتی شرائط کی پابندی (پاسداری) نہیں کی! عام آدمی (ہم عوام) کے نکتۂ نظر سے سرکاری علاج گاہوں بالخصوص ’ایوب میڈیکل کمپلیکس (ایبٹ آباد)‘ میں اِصلاح اور بہتری کی موجود گنجائش سے فائدہ اُٹھانے میں ’’مزید تاخیر‘‘ کی بجائے ’’سخت گیر راست عملی اقدامات‘‘ کئے جائیں کیونکہ یہ انسانی زندگی و موت کا مسئلہ ہے!

Sunday, September 18, 2016

Sept2016: Health facilities & Protocols

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
شعبۂ صحت: علاج اُور پروٹوکولز! 
سرکاری ہسپتالوں میں علاج ’پرٹوکول‘ کے مطابق کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے معائنہ کرنے والا طبی عملہ اپنے علم و تجربے کی بنیاد پر مریض یا مریضہ کی شفایابی کے لئے کوشش کرتا ہے۔ اگر بات نہ بنے تو دوسرے مرحلے میں معاملہ ’اسسٹنٹ رجسٹرار‘ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے‘ جہاں سے مرض برقرار رہنے کی صورت تیسرے مرحلے میں ’رجسٹرار‘ کو مدعو کیا جاتا ہے اور چوتھے مرحلے میں ’سینیئر رجسٹرار‘ زحمت کرتے ہیں! اِس کے بعد پانچویں اور چھٹے مرحلے میں ’اسسٹنٹ پروفیسر‘ اور ’ایسوسی ایٹ پروفیسر طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ساتویں مرحلے میں ’پردھان منتری‘ یعنی پروفیسر کو طلب کیا جاتا ہے جو سرکاری ہسپتالوں میں رائج اِن 7مراحل کے طریقۂ علاج کی آخری کڑی ہے۔ تصور کیجئے کہ ایک طرف ’زندگی اور موت کی کشمکش‘ ہے اور دوسری طرف ’پروٹوکولز (حفظ مراتب) ہیں! ایک طرف معاون طبی عملے سے لیکر اسسٹنٹ رجسٹرار‘ رجسٹرار‘ سینیئر رجسٹرار‘ اسسٹنٹ پروفیسر‘ ایسوسی ایٹ پروفیسر اُور پروفیسر ہیں اور دوسری طرف مالی وسائل نہ رکھنے کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں سے ’بہ امر مجبوری‘ رجوع کرنے والی عام آدمی (ہم عوام) بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی میں گھٹن بھری زندگی سے تڑپتے تڑپتے ’موت‘ دائمی حقیقت سے جا ملتا ہے۔ اگر ہمارے فیصلہ ساز علاج معالجے کے نام پر صحت کی ’’بنیادی و معیاری سہولیات‘‘ کی فراہمی ممکن نہیں بنا سکتے تو کیا قانون سازی کے ذریعے یہ اختیار دے سکتے ہیں کہ ہسپتال کے بستروں پر اذیت کا شکار جب چاہیں اپنے لئے موت کا انتخاب کر لیں اور انہیں انجکشن لگا کر تکلیف سے نجات دلا دی جائے؟ 

عجب ہے کہ مالی وسائل رکھنے والے فیس ادا کر کے کسی بھی پروفیسر کے نجی کلینک پر بناء ’حفظ مراتب (پرٹوکولز)‘ اپنا معائنہ (تشخیص) اور علاج کروا سکتے ہیں لیکن اربوں روپے سالانہ صحت پر خرچ ہونے کے باوجود بھی پروفیسر ’شودروں (نچلے طبقات)‘ کو ’سرکاری علاج گاہوں میں‘ ہاتھ لگانا تو دور کی بات اُس وقت تک چھونا بھی پسند نہیں کرتے جب تک ایسا ’بہ امر مجبوری ضروری‘ نہیں ہوجاتا! طب کے شعبے سے جڑے ماہرین کی اکثریت کے ہاں ’انسانیت کا احترام‘ کا تصور جس قدر دھندلا اور کم ترین ترجیح پر ہے‘ اُس کی بنیادی وجہ ہمارا ’نظام تعلیم و تربیت‘ ہے‘ جس کی وجہ سے انسانیت‘ انسانی حقوق‘ رحم‘ اخلاقی اقدار اور عمومی و خصوصی فرائض کے ساتھ جڑی ذمہ داریوں کی بجائے ’مادیت پسندی‘ نے ’عام آدمی‘ کی زندگی مصائب و مشکلات سے بھر دی ہے!


شعبۂ صحت میں صرف علاج معالجہ ہی ’پروٹوکولز‘ کی زد میں نہیں بلکہ انتظامی معاملات بھی فیصلہ سازوں کی ذات (اَنا) اُور خودپسندی کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں۔ ’نیچے سے اُوپر‘ اُور ’اُوپر سے نیچے‘ اختیارات کی ’تہہ داریوں‘ کے سبب ایسے فیصلوں کی مثالیں عام ہیں‘ جس سے سرکاری وسائل کا استعمال نہایت ہی بیدردی سے کیا جا رہا ہے اور ماضی کی طرح ’سرکاری وسائل‘ کی لوٹ مار (وائٹ کالر کرائم) کا سورج سوا نیزے پر دھک رہا ہے۔ ’’پھولوں کا ڈھیر صحن میں رکھنے کے باوجود۔۔۔ خوشبو کا قحط ویسے کا ویسا پڑا رہا!‘‘ سرکاری علاج گاہوں میں کروڑوں روپے کے آلات اَربوں میں خریدے جاتے تھے آج بھی خریدے جا رہے ہیں اُور باوجود مہنگے داموں اور بناء ضرورت خریداری اِن سہولیات کی ’طبعی عمر‘ نجی علاج گاہوں کے مقابلے ماضی میں بھی کم ہوتی تھی‘ آج بھی کم ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں کسی ڈاکٹر کے چہرے پر مسکراہٹ‘ خوش اخلاقی‘ اُور خندہ پیشانی کے آثار بمشکل ہی نظر آتے تھے‘ آج بھی تناؤ بھرا ناک نقشہ (خدوخال) وہی کے وہی ہیں لیکن اگر موازنہ نجی علاج گاہوں سے کیا جائے تو یکایک یہی ڈاکٹر من مانی فیسوں کے عوض ’انسانیت کی معراج‘ پر فائز دکھائی دیں گے۔ مسیحاؤں کا وہ رویہ جو عمومی ہونا چاہئے‘ خصوصی ہے آخر کیوں؟ 

سرکاری ہسپتالوں کی پہچان (شناختی علامت) خاص بدبو بن چکی ہے آخر کیوں؟ سرکاری علاج گاہوں میں صفائی کی ابتر صورتحال اور درودیوار سے ٹپکنے والی وحشت مریض کو یقین دلانے کے لئے کافی ہوتی ہے کہ اب اُن کا سفر اختتام کے قریب ہے لیکن نجی علاج گاہوں میں تعمیراتی خوبیوں کی وجہ سے کشادگی کا احساس‘ صفائی اور خوشگوار ماحول میں طبی اور معاون طبی عملہ صاف ستھرے کپڑے پہنے رہنمائی و سہولت کاری کرتا دکھائی دے گا تو ’نجی علاج گاہوں‘ جیسا ماحول سرکاری ہسپتالوں میں کیوں رائج نہیں کیا جاسکتا؟ ایک طرف حکومت ہر سال اربوں کی سرمایہ کاری کرکے بھی صحت کے اِنتظامی و عملی شعبے میں ’حسب ضرورت (خاطرخواہ)‘ بہتری نہیں لاسکی اُور دوسری طرف نجی علاج گاہیں چند کروڑ کی سرمایہ کاری سے اربوں روپے کما رہے ہیں! تو ایک جیسا ہی کردار ادا کرنے والوں کے دو الگ الگ روپ کیسے ہو سکتے ہیں جبکہ وہ حکومت سے بھاری تنخواہیں اور مراعات کا طلبگار و حقدار بھی ہو لیکن اُس کی بہترین صلاحیتوں کا عملی استعمال (ظاہری نتائج) نجی علاج گاہوں میں دکھائی دیں؟ 

یہ صورتحال‘ یہ تجاہل عارفانہ‘ یہ خیانت بھرے رویئے ناقابل معافی ہیں اُور انہیں کسی بھی جواز کے تحت نظراَنداز نہیں کیا جاسکتا۔ عام آدمی عملی بہتری و نتائج کا منتظر ہے۔ تین برس سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ’تبدیلی کے نام‘ پر ’جنون‘ کی صورت خاموش انقلاب کی راہ دیکھ رہا ہے!‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, January 13, 2015

Jan2015: Hazards of Hospital Waste

۔۔۔جان ہے تو جہان ہے!۔۔۔
ہسپتال موت بانٹ رہے ہیں؟
لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ہر روز اوسطاً ایک لاکھ سے سرنجیں استعمال ہوتی ہیں لیکن کیا اتنی ہی بڑی تعداد میں انہیں تلف بھی کیا جاتا ہے
پلاسٹک کی ایسی سرنجیں دستیاب ہیں جنہیں صرف ایک ہی مرتبہ استعمال کیا جاسکتا ہے اور دوسری مرتبہ استعمال کے قابل نہیں رہتیں

شبیرحسین اِمام
کیا آپ پلاسٹک کے برتن استعمال کرنے کو محفوظ سمجھتے ہیں؟ سستا نعم البدل ہونے کی وجہ سے کھلونے‘ آرائشی اشیاء‘ جوتے‘ چپل‘ حتیٰ کہ کھانے پینے کے لئے استعمال ہونے والے برتن بھی پلاسٹک سے تیار ہونے لگے ہیں لیکن ایسی تمام پلاسٹک کی اَشیاء ’اِنسانی صحت‘ کے لئے ’مستقل خطرہ‘ ثابت ہو سکتیں ہیں‘ جو ادویات ذخیرہ کرنے یا علاج معالجے میں کام آنے کے بعد پلاسٹک یا شیشے جیسی جنس کی صورت فروخت کر دی جائیں‘ کسی جگہ سے چن لی جائیں اور اُنہیں دوبارہ قابل استعمال بنا کر پلاسٹک کے برتنوں میں استعمال کیا جائے! تو ہوشیار رہیں کہ کہیں آپ ایسی خطرناک پلاسٹک سے بنے ہوئے برتن یا جوتے یا کھلونے تو نہیں خرید رہے‘ جس سے آپ یا آپ کے عزیز واقارب کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے؟

سرکاری ہسپتالوں میں گندگی تلف کرنے کے لئے پھر بھی کچھ نہ کچھ قواعد و ضوابط کا لحاظ کیا جاتا ہے لیکن نجی ہسپتالوں اور بالخصوص ماہر ڈاکٹروں کے کلینکس میں یومیہ جمع ہونے والی گندگی کے نہ تو اعدادوشمار دستیاب ہیں اور نہ ہی اِس سلسلے میں متعلقہ حکومتی ادارے مستقبل قریب میں تحقیق کرنے کاارادہ رکھتے ہیں۔ ایک مثال ملاحظہ کیجئے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ٹھوس گندگی تلف کرنے کے لئے جو آلات نصب ہیں وہ گیس کی مدد سے چلتے ہیں۔ موسم سرما کے دوران گیس کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جبکہ ڈیوٹی کے اُوقات میں گیس پریشر اِس قدر نہیں ہوتا کہ ادویات جلا کر تلف کی جا سکیں! نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایک انتظامی نگران نے کہا کہ ’’لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں صرف پشاور شہر کے مریض نہیں آتے بلکہ مضافاتی دیہی علاقوں اور دیگر اضلاع سے بھی مریضوں کو یہاں لایا جاتا ہے۔ اوسطاً تین ہزار اُو پی ڈی جبکہ دو ہزار حادثات اتفاقیہ و ہنگامی علاج معالجے کے شعبوں میں مریضوں کو لایا جاتا ہے‘ یہی علاج معالجے کے وہ شعبے ہیں جہاں بڑی مقدار میں گندگی پیدا ہوتی ہے لیکن کیا وہ حسب قواعد چوبیس گھنٹوں میں تلف بھی ہوتی ہے؟

ہسپتالوں سے جمع کی جانے والی گندگی میں پلاسٹک اور شیشے کی بوتلیں شامل ہوتی ہیں جن میں محلول یا خشک حالت میں ادویات رکھی جاتی ہیں۔ ایسی دونوں حالتوں میں ادویات کی بوتلیں کسی بھی صورت صحت مند انسانوں کو استعمال نہیں کرنی چاہیءں۔ اِس سلسلے میں توجہ طلب امر تازہ دودھ کے نام پر کیمیائی مادوں سے بنایا جانے و الا دودھ بھی ہے‘ جس میں خشک دودھ کے اجزأ‘ پانی اور مختلف کیمیائی مادے استعمال کئے جاتے ہیں‘ جس سے دودھ کی ’شیلف لائف‘ بڑھا دی جاتی ہے۔ علاؤہ ازیں دودھ نما کیمیائی محلول کو ذخیرہ کرنے کے لئے نیلے رنگ کے جو ڈرم استعمال کئے جاتے ہیں وہ بھی کیمیائی مادوں کے لئے بنائے جاتے ہیں‘ اور اِن کا استعمال کسی بھی صورت انسانی استعمال کے لئے نہیں ہونا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک سنگین و انتہائی خطرناک دور سے گزر رہے ہیں‘ جس میں ہر ایک کسی نہ کسی مرض کا شکار ہے۔ آخر کیا سبب ہے کہ ہمارے ہاں ملاوٹ سے پاک دودھ فروخت نہیں ہوتا؟ کیا متعلقہ حکومتی ادارے اور سخت قواعد موجود نہیں یا پھر ان پر عمل درآمد کرنے والے اپنے مفاد کے لئے پورے معاشرے کی صحت اور جان داؤ پر لگائے ہوئے ہیں! اِس سلسلے میں منتخب عوامی نمائندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں حالات کا جائزہ لیں اور ایسی قانون ساز کریں جس میں ملاوٹ کرنے والوں کو بھی دہشت گردی کی دفعات کے تحت گرفتار کیا جاسکے۔ بھلا اِس سے بڑھ کر کوئی دوسری دہشت گردی اور کیا ہوسکتی ہے کہ غیرمعیاری اشیاء کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں!

کیا آپ جانتے ہیں؟
سرکاری و نجی ہسپتالوں میں گندگی تلف کرنے کا خاطرخواہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے انسانی زندگیاں خطرات سے دوچار ہیں۔ ایک نجی ادارے کی جانب سے کئے گئے سروے کے مطابق پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں یومیہ 2 ہزار کلوگرام ایسی مہلک قسم کی گندگی اکٹھا ہوتی ہے‘ جسے سائنسی طریقوں سے تلف نہیں کیاجاتا اور ایسا نہ ہونے کی وجہ مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ اِس معاملے کے حوالے سے متعلقہ حکام کا حساس نہ ہونا ہے! ماہرین کا کہنا ہے کہ ہسپتال کا ایک بستر یومیہ اوسطاً آدھ کلوگرام ایسی گندگی پیدا کرتا ہے‘ جو اگر انتہائی درجہ حرارت کے ذریعے تلف نہ کی جائے تو اس سے مہلک بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں بستروں کی کل تعداد 4ہزار سے زیادہ ہے جن سے مجموعی طور پر 2 ہزار کلوگرام سے زائد گندگی یکجا ہوتی ہے لیکن اگر تمام ہسپتالوں میں گندگی تلف کرنے کے نظام کا جائزہ لیا جائے تو یہ اعتبار کرنا مشکل ہے ہر روز ایک ہزار کلوگرام گندگی بھی بمشکل تلف ہوتی ہوگی۔ سرکاری دفاتر ایسے اعدادوشمار دستیاب نہیں لیکن محکمۂ صحت کے ایک انتظامی نگران نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر کہا کہ ’’لیڈی ریڈنگ ہسپتال کم و بیش دو ہزار بستروں پر مشتمل ہے‘ جہاں سے بارہ سو کلوگرام‘ خیبرٹیچنگ پندرہ سو بستروں سے پانچ سو کلوگرام‘ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے سات سو بستروں سے تین سو کلوگرام‘ سٹی ہسپتال کے ڈھائی سو بستروں سے ڈیڑھ سو کلوگرام یومیہ گندگی اکٹھا ہوتی ہے جبکہ یہ اعدادوشمار آخری مرتبہ دو ہزار سات میں اکٹھا کئے گئے تھے‘ سات برس بعد جبکہ ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ تین گنا بڑھ چکا ہے جس سے لامحالہ مریضوں کے زیراستعمال ادویات و دیگر اشیاء گندگی کی صورت پھینک دی جاتی ہیں چونکہ یہ گندگی اِس قدر بڑے پیمانے پر ہر روز اکٹھا ہوتی ہے اِس لئے ارباب اختیار اِس بارے میں زیادہ بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ ایک امریکی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں اِس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہسپتالوں کا ایک کام تو علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات وہاں کی صفائی اور ایسا ماحول ہے جس میں بیماریاں معاشرے کے صحت مند افراد یا مریضوں کی عیادت کے لئے آنے والوں کو منتقل نہ ہوں۔ ہسپتال ہوا دار ہونے چاہئے۔ مریضوں کے وارڈ کی چھتیں عمومی کمروں سے بلند ہونی چاہئیں جہاں قدرتی روشنی کا خاطرخواہ بندوبست ہونا چاہئے۔ غیرسرکاری تنظیم کے جائزے میں پشاور کے سات نیم سرکاری ہسپتالوں کا بھی جائزہ لیا گیا جہاں کم و بیش چھ سو مریضوں کے علاج کی سہولیات موجود تھیں اور اِن ہسپتالوں سے یومیہ تین سو کلوگرام گندگی اکٹھا ہوتی ہے۔ یہ صورتحال صرف پشاور کی حد تک ہی تشویشناک نہیں بلکہ نوشہرہ‘ کوہاٹ‘ مردان اور دیگر گنجان آباد اضلاع میں تو کئی ایک سرکاری و نجی ہسپتال اِس بات پر شکر ادا کرتے ہیں کہ کوئی آئے اُور ہر روز ہزاروں کلوگرام گندگی اٹھا کر لے جائے‘ انہیں اِس بات سے قطعی کوئی غرض نہیں کہ وہی گندگی بعدازاں خود اُنہیں یا اُن کے اہل خانہ کو مہنگی پڑ سکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہسپتالوں سے گندگی اکٹھا کرنے کے لئے کوئی قانون بھی موجود ہے جس کے تحت ان کی یہ ذمہ داری قرار پائے کہ وہ سائنسی طریقوں سے گندگی تلف کریں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم ’انوائرمینٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997ء‘ ہے‘ جس میں یہ بات واضح طور پر درج کی گئی ہے کہ ہسپتال اس بات کے لئے پابند ہیں کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر جمع ہونے والی گندگی چاہے وہ کتنی ہی مقدار میں کیوں نہ ہو جلا کر تلف کریں۔ اِس قانون کے تحت ایک ایسی کمیٹی کی تشکیل بھی ہونی چاہئے جس کی سربراہی ہیلتھ سیکرٹری ہو‘ اور وہ وقتاً فوقتاً گندگی تلف کرنے سے متعلق قواعد و ضوابط پر نظرثانی کریں۔ اس سلسلے میں ایک اور قانون ’Hazardous Substance Rules 2000‘ بھی لائق توجہ ہے جس کے تحت کسی بھی ہسپتال چاہے وہ وفاق کی زیرنگرانی ہو یا صوبائی محکمہ ماحولیات کے‘ وہ اپنے اپنے ہاں ایسے انتظامات کریں گے جس سے اردگرد کے ماحول کے لئے خطرہ نہ ہو۔

گندگی تلف کرنے کا معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ اِسے جلا کر کام چلا لیا جائے۔ اگر ہسپتال کی گندگی جلانے کا عمل کسی عمومی طریقے سے کیا جائے جس سے دھواں پیدا ہو‘ تو ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا دھواں صحت مند افراد کے لئے ’ٹی بی‘ سینے کی بیماریوں‘ معدے کی بیماریوں اور جلدی امراض کاسبب بن سکتا ہے۔ سب سے زیادہ خطرہ ہسپتال کے اندر ہی کام کرنے طبی یا معاون طبی عملے کی صحت کے لئے ہوسکتا ہے‘ جنہیں مستقل بنیادوں پر ہسپتال کے اندر رہنا ہوتا ہے۔

چونکہ ہمارے ہاں ہر آنے والے مریض کا علاج کرنے سے قبل اُس کے خون کا تجزیہ کرنے کی روایت موجود نہیں اِس لئے ایمرجنسی (ہنگامی حالات) کی صورت علاج معالجے میں استعمال ہونے والے آلات سے بیک وقت ایک سے زیادہ مریضوں کی مرہم پٹی یا جراحت کی جاتی ہے۔ ایسی کوئی صورتحال یرقان‘ ایڈز وغیرہ جیسی فوری منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلنے کا بڑا سبب ہے۔ ماضی میں پشاور کے تین تدریسی ہسپتالوں (خیبرٹیچنگ‘ لیڈی ریڈنگ اُور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس) میں 32 لاکھ روپے کی لاگت سے گندگی تلف کرنے کے آلات نصب کئے گئے تھے لیکن مقام حیرت ہے کہ اُن سے خارج ہونے والا دھواں فلٹر کرنے کی فکر نہیں کی گئی‘ جو یکساں طور پر خطرناک ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مریضوں کے زیراستعمال رہنے والی ادویات یا جراحت سے بچنے والی خون آلود گندگی کو جلانے سے ایسی مہلک گیسیں ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہیں جو یکساں طور پر خطرہ ہوتی ہیں۔ ان میں Dioxin‘ Sulphur oxide‘ Nitrogen oxide اور Furanمادے شامل ہوتے ہیں۔

فروری 2013ء کے تیسرے ہفتے میں ’پشاور ہائی کورٹ‘ کے ’گرین بینچ‘ نے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے ہاں ٹھوس گندگی تلف کرنے کے آلات نصب کریں کیونکہ ایسا نہ کرنے کی وجہ ماحول آلودہ ہو رہا ہے۔ عدالت نے محکمۂ ماحولیات کو بھی حکم دیا کہ وہ ایسے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں کے خلاف کارروائی کرے‘ جو اِن احکامات پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔ کیا یہ امر حیرت انگیز نہیں کہ وہ بات جو پوری دنیا میں مسلمہ ہے کہ ہسپتالوں کی گندگی مکمل طریقے سے تلف ہونی چاہئے‘ وہ ہمارے اداروں کو بذریعہ عدالتی حکم سمجھائی جا رہی ہے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد سرکاری ہسپتالوں نے تو خاطرخواہ انتظامات کر لئے لیکن نجی ہسپتالوں نے اپنے طور گندگی تلف کرنے کے نظام کو خفیہ کردیا‘ یعنی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور عوام کی نظروں سے دور ایک ایسا نظام بنایا گیا‘ جس میں رات کے اندھیرے میں گندگی اُٹھانے والے ’نامعلوم ٹھیکیدار‘ واردات کرجاتے۔ ایک نجی ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر سے جب پوچھا گیا کہ آپ کے ایک سو بستروں پر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں‘ اِس کے علاؤہ یومیہ اُو پی ڈی الگ ہے‘ تو اِس پورے عمل میں پیدا ہونے والی گندگی تلف کرنے کے لئے کیا انتظامات کئے گئے ہیں‘ تو وہ ہکا بکا رہ گئے اور کہنے لگے ’’یہ کیسا سوال ہے؟‘‘