Showing posts with label Ayub Teaching. Show all posts
Showing posts with label Ayub Teaching. Show all posts

Thursday, June 1, 2017

Jun01: Doctors strike & criminal ignorance!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
صداقت کا معیار!
حقیقت کے کئی رخ ہوتے ہیں۔ کسی ایک زاویئے سے حالات کے کسی ایک ہی پہلو کا جائزہ لیکر حتمی رائے قائم کرنے والوں کو حیرت و شرمندگی کے علاؤہ اپنے مؤقف سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور ایسی ہی صورتحال صوبائی فیصلہ سازوں کو درپیش ہے‘ جنہیں سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ ڈاکٹروں کی جاری ہڑتال کے آتش فشاں کو کیسے سرد کیا جائے! 

عمومی منظرنامہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں سے بطور مریض رجوع کرنے والوں کو مشکلات بہرصورت درپیش رہتی ہیں تاہم ’تئیس مئی‘ سے جاری ’ینگ ڈاکٹروں‘ کی حالیہ احتجاجی تحریک اور ’کام چھوڑ ہڑتال‘ کے باعث رہی سہی کسر بھی نکل گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ ہڑتال شروع ہونے سے قبل اور بعدازاں خبردار کرتے رہے لیکن صوبائی کابینہ کے کسی ایک بھی معزز رکن نے نوٹس نہیں لیا اور جب ہسپتالوں میں بروقت اور علاج کی خاطرخواہ سہولیات نہ ملنے کے سبب ہلاکتیں رپورٹ ہونے لگیں تو گویا سب جاگ اُٹھے۔ پشاور کے ’لیڈی ریڈنگ‘ اور ایبٹ آباد کے ’ایوب ٹیچنگ ہسپتال‘ میں ’ینگ ڈاکٹروں‘ کا علاج معالجے میں خلل پیدا کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزارت صحت کی جانب سے نوٹسیز جاری کئے‘ جن پر وزیرصحت شہرام خان تراکئی کا نام اور دستخط ثبت ہے اور احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کو اپنی روش تبدیل کرنے کے بارے نرمی سے تلقین کرتے ہوئے التجائیں لہجے میں (جان کی امان چاہتے ہوئے) کہا گیا ہے کہ ’’اگر جاری ہڑتال ختم نہ کی گئی تو اُن کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے گی۔‘‘ سوال یہ ہے کہ آخر یہ محکمانہ کاروائی کس چیز کا نام ہے اور اب تک کیوں نہیں ہو سکی؟ 

نوٹس میں ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنرز اور انتظامیہ کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ہسپتال کے انتظامی امور بشمول علاج معالجے کے بارے میں ’صوبائی وزارت صحت‘ کو یومیہ رپورٹ باقاعدگی سے ارسال کریں۔ نوٹس کے لب و لہجہ سے صاف محسوس کیا جا سکتا ہے کہ حکومت ڈاکٹروں کے آگے بے بس ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کو معاملات افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا ’مفت مشورہ‘ بھی تحریر کر دیا گیا ہے حالانکہ ڈاکٹروں کے ہڑتال اور احتجاج کی بنیادی وجوہات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بورڈ آف گورنرز اور ہسپتال انتظامیہ مالی بدعنوانیوں میں ملوث ہیں‘ جس پر صوبائی وزیر صحت سمیت محکمۂ صحت کا کوئی بھی ذمہ دار بات کرنا نہیں چاہتا۔ 

سیکرٹری صحت کے دفتر سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ’’سرکاری ہسپتالوں میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا انتخاب ’بنی گالہ‘ کی منظوری سے ہوتا ہے‘ اور اِس میں ردوبدل یا بورڈ کے کسی رکن کے خلاف کاروائی کا اختیار نہ تو صوبائی وزیرصحت کے پاس ہے اور نہ ہی سیکرٹری اپنے طور پر سیاسی حکومت کے انتظامی امور میں مداخلت کر سکتا ہے۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے جس پر جب تک تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے کان پر جوں نہیں رینگے گی‘ اُس وقت تک ’بورڈ آف گورنرز‘ کے عہدیداروں کی تبدیلی یا اُن کے خلاف کسی بھی درجے کی تحقیقات نہیں کی جا سکیں گی۔ ‘‘ لمحۂ فکریہ ہے کہ سرکاری علاج گاہوں میں چونکہ عام لوگ (ہم عوام) ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں‘ اِس لئے خواص (وی وی آئی پیز) پر مشتمل حکمرانوں کو اِس سے زیادہ سروکار بھی نہیں!

’ینگ ڈاکٹروں‘ کا مؤقف ہے کہ ’’وہ بے حس نہیں لیکن اپنے جائز حقوق کی جانب فیصلہ سازوں کی توجہ مبذول کروا رہے ہیں۔‘‘ ایک برقی مکتوب (ای میل) میں قدرے تفصیل سے جن وجوہات اور برسرزمین حقائق کا ذکر کیا گیا‘ اُن کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’حکومت کا کوئی بھی دوسرا محکمہ ایسا نہیں جس کے اہلکار سارا سال‘ دن رات (چوبیس گھنٹے)‘ حتی کہ قومی تعطیلات بشمول عید و محرم کے ایام میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیتے ہوں۔ جب ہفتہ وار تعطیل کے نام پر معزز سیکرٹری صاحبان اپنے اہل وعیال کے ہمراہ سکون قلبی سے آرام و آسائش کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں تو ڈاکٹر ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔ جب عدالتیں اور بینک ایک مقررہ وقت پر بند ہوتے ہیں لیکن ہسپتالوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا عدالتوں میں زیرالتوأ مقدمات کی تعداد ہزاروں میں نہیں اور اگر ہے تو جس طرح مریضوں کے رش کی وجہ سے ہسپتال بند نہیں کئے جا سکتے تو پھر عدالتیں کیوں مقررہ وقت اور دو ہفتہ وار تعطیلات کے علاؤہ موسم گرما و سرما کی تعطیلات کرتی ہیں۔ آخر کیوں ہپستالوں کی طرح عدالتیں سال کے تین سو پینسٹھ دن فعال نہیں رہ سکتیں؟ آدھی رات کے وقت بھی اگر آپ کسی ہسپتال کا دورہ کریں گے تو وہاں ڈیوٹی پر ڈاکٹر اور معاون عملے کو حاضر و بیدار پائیں گے لیکن اِس کے باوجود حکومت کی نظر میں ڈاکٹروں کا کردار اور اُن کا ایثار و قربانی کی کوئی وقعت نہیں۔ ہسپتالوں کو خودمختاری دے کر ایک ایسے من پسند طبقے کو فیصلہ سازی کا اختیار دیا گیا ہے اور انہیں باقاعدہ طور پر مسلط کر دیا گیا ہے کہ وہ ڈاکٹر نہ ہوتے ہوئے بھی ہسپتال کے معاملات پر اپنے فیصلے مسلط کریں۔ جب ڈاکٹروں سے آٹھ گھنٹے کی عمومی ڈیوٹی سے زیادہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے تو پھر ’بائیومیٹرک‘ کی پابندی کا جواز یا ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ 

ڈاکٹر حاضری کے لئے بائیومیٹرک تصدیق کی پابندی کرنے کو تیار ہیں لیکن ایسی صورت میں دیگر صوبائی حکومت کے ملازمین کی طرح انہیں ہفتہ وار اور تمام قومی تعطیلات کے علاؤہ آٹھ یا نو گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی پر حاضر رہنے کا پابند نہیں بنایا جائے گا۔ ہسپتالوں کے انتظامی نگران اور بورڈ آف گورنرز کے اراکین کی تعیناتیوں میں متعلقہ شعبے کے ماہرین کا تقرر کیا جائے۔ 

کیا یہ امر لائق افسوسناک نہیں کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بورڈ آف گورنر کا چیئرمین ایک ایسے عزیزم کو تعینات کیا گیا ہے جو سات لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ بھی لیتا ہے اور مہینے کے بیس دن امریکہ میں رہتا ہے جہاں (مبینہ طور پر) اُس کی نجی پریکٹس اور دلچسپیاں ہیں۔ عام آدمی کی آنکھوں میں تبدیلی کا خواب سرمے کی طرح ڈالنے والوں کو آج نہیں تو کل بدعنوانی پر مبنی طرزحکمرانی کی مثالوں کا جواز عوام کی عدالت میں پیش کرنا ہوگا۔ حق و صداقت اور سچائی کی تعریف یہ ہوتی ہے کہ اِس کے ذریعے دوسروں کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکا جائے!

Tuesday, May 30, 2017

May2017: Strike of Doctors in Ayub Medical Institute Abbottabad


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
منتظر ساعتیں!

خیبرپختونخوا میں ڈاکٹروں اُور محکمۂ صحت کے درمیان ’اختلافات و تنازعات‘ کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کا نظام بُری طرح متاثر ہو رہا ہے اُور اگر بالخصوص ایبٹ آباد کے ’ایوب میڈیکل اِنسٹی ٹیوٹ‘ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو چھ روز سے جاری ہڑتال 29 مئی کو ساتویں روز میں داخل ہوئی اور ہسپتال انتظامیہ کے مطابق اِس عرصے میں ’علاج معالجہ معطل‘ ہونے کے سبب 75 سے زیادہ اموات ہوئیں جبکہ عمومی طور پر اِس عرصے میں اوسطاً بیس سے پچیس اموات ریکارڈ ہوتی تھیں۔ جہاں سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ‘ سرکاری سکولوں میں تعلیم معیاری نہ ہو اور جہاں کے حکمرانوں کو اِن ’بحرانی مسائل‘ کے حل کی فرصت (توفیق) بھی نہ ہو تو اِس طرزحکمرانی کو کیا نام دیا جائے؟ 


تیئس مئی سے ایبٹ آباد کے ڈاکٹرز اپنی کیمونٹی سے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبائی سطح پر جاری احتجاجی تحریک کا حصہ ہیں اور اضافی طور پر مطالبات پیش کئے بیٹھے ہیں کہ ’ایوب میڈیکل انسٹی ٹیوٹ‘ کے انتظامی نگرانوں (بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین اور سیکرٹری) کو برطرف کیا جائے‘ جن پر مبینہ طور پر مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے سنگین الزامات ایک عرصے سے عائد کئے جا رہے ہیں لیکن اُن کا نوٹس نہ تو صوبائی حکومت لے رہی ہے اور نہ ہی ’بدعنوانی سے پاک اور احتساب کی علمبردار‘ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اِس سلسلے میں دلچسپی لے رہی ہے کہ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے؟! ’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری‘‘ نہ ہوتی تو اب تک ایک سے زیادہ تحقیقاتی کمیٹیاں بنا کر حقائق عوام کے سامنے پیش کر دیئے جاتے لیکن ایک طرف ’’مردہ باد‘‘ کے نعرے لگانے والے ’علی الاعلان‘ الزامات عائد کر رہے ہیں تو یقیناًاُن کے پاس ثبوت بھی ہوں گے اور دوسری طرف سرکاری ہسپتالوں کے معاملات کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑنے والوں کے پاس مالی و انتظامی بدعنوانیوں کا کوئی بھی جواز ’معقول‘ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ کسی جمہوری معاشرے میں اگر حکومت عام آدمی (ہم عوام) کو درپیش مسائل و مشکلات کا سبب بننے والے کرداروں اور محرکات سے نمٹنا نہیں جانتی تو اِس سے زیادہ قابل مذمت طرزعمل کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔

ہر منصب عالیہ کی اپنی اخلاقی و آئینی ذمہ داریاں اور فرائض ہوتے ہیں۔ منصب جتنا بڑا ہوگا‘ واجب الادأ ذمہ داریاں بھی اُسی قدر زیادہ ہوں گی۔ اگر ہمارے تعلیمی اداروں سے صرف اعلیٰ تعلیم کی اسناد (ڈگریاں) جاری کرنے کا معمول نہ ہوتا تو ہمارے اردگرد صرف پڑھے لکھے نہیں بلکہ فرض شناس (تعلیم یافتہ) انسانوں کی کثرت ہوتی۔ ایسے انسانوں کی کثرت جو اپنی طرح دوسروں کو بھی انسان سمجھتے اور جنہیں اپنی ذات سے زیادہ دوسروں کی مشکلات و تکالیف کا احساس ہوتا۔ ڈاکٹر مسیحا ہیں‘ باشعور ہیں اور منصب مسیحائی کے تقاضے اُن سے زیادہ بہتر انداز میں کون سمجھ سکتا ہے۔ ڈاکٹر جانتے ہیں کہ سرکاری علاج گاہوں سے ملک کے سیاسی و غیرسیاسی بااثر طبقات اور سرمایہ دار رجوع نہیں کرتے بلکہ وہ عام آدمی (ہم عوام) صحت و زندگی کی تمنا لیکر اُن کے در پر آتا ہے جو مالی وسائل یا رہنمائی کے لئے محتاج ہوتا ہے۔ دوسری جانب حکمرانوں کو اپنے منصب سے جڑی ذمہ داریوں اور فرائض پر نظر کرنی چاہئے کہ آخر ڈاکٹروں اور معاون طبی عملے کو احتجاج کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ اگر اِحتجاج کے درپردہ کوئی مخالف سیاسی قوت تحریک انصاف حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنا چاہتی ہے تو کیا اِس سازش کو بے نقاب (ناکام) کرنا صوبائی حکومت ہی کی ذمہ داری نہیں؟


اجتماعی طور پر خیبرپختونخوا کے (ینگ) ڈاکٹروں نے دو بنیادی مطالبات پیش کئے ہیں اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ شاطرانہ انداز میں ایک جائز مطالبے کی آڑ میں دوسرا ناجائز (غیراخلاقی اور غیرآئینی) مطالبے کے لئے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے‘ جسے من و عن تسلیم کرنا صوبائی حکومت کے لئے ناممکن حد تک دشوار ہے اور اگر وہ بادلنخواستہ تسلیم کر بھی لیتی ہے تو اِس سے (ماضی کی طرح) سرکاری علاج گاہوں میں ڈاکٹروں کی کم سے کم ’بروقت حاضری‘ یقینی بنانا ممکن نہیں رہے گا۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت وفات پانے والے ڈاکٹروں کے لواحقین کو مالی امداد دے‘ دوران ملازمت وفات پانے والے ڈاکٹروں کے اہل خانہ کا سہارا بنے اور ڈاکٹروں کو جانی و مالی تحفظ فراہم کیا جائے۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ انگوٹھے کے نشان سے ڈاکٹروں کی حاضری (بائیومیٹرک تصدیق) رجسٹر کرنے کی بجائے انہیں رعائت دی جائے کہ وہ ماضی کی طرح جب چاہیں اور جس وقت چاہیں‘ ہسپتال قدم رنجہ فرمائیں‘ یا خود ہی اِس بات کا تعین کریں کہ اُن کی ’آمدورفت‘ کے اوقات کیا ہوں گے۔ (توجہ برقرار رہے کہ یہاں لفظ ’آمدورفت‘ کا استعمال کیا گیا کیونکہ ڈاکٹروں کی سرکاری ہسپتالوں میں موجودگی اِس بات کی ضمانت نہیں ہوتی کہ وہ اِس دوران مریضوں کا معائنہ کریں گے یا اپنی تعلیمی قابلیت‘ اہلیت اور مہارت پر مبنی جنس کی قیمت کا ازخود تعین کریں گے۔) دیکھا جائے تو کسی بھی سرکاری ملازم کو ملازمت یا عوام کے منتخب نمائندوں کو فیصلہ سازی و حکمرانی کا اختیار ملنے کے بعد انہیں نہ تو اوقات کار کی پابندی پسند ہوتی ہے اور نہ ہی یہ اپنی کارکردگی کے لئے خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں۔ درحقیقت اِس منفی و عمومی معاشرتی رویئے کی بڑی وجہ وہ خاص ’طرزفکروعمل (مائنڈسیٹ)‘ ہے جس کی دیکھا دیکھی پیروی کرنے والوں کو درحقیقت ملک و قوم کی جانب سے دی جانے والی ’’عزت راس نہیں آتی!‘‘ ہر سرکاری ملازم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اُس کی کارکردگی پر کم سے کم نگرانی ہو اور باقاعدگی سے حاضری کے اوقات تو مقرر نہیں ہونے چاہیءں یا اُن پر سختی سے عمل درآمد تو بالکل بھی قابل قبول نہیں ہوتا! 


خیبرپختونخوا میں صرف ڈاکٹر ہی سراپا احتجاج نہیں بلکہ ملازمتی حالات کار اُور اُوقات کار کے بارے میں اِسی قسم کے مطالبات سرکاری ہسپتالوں کے معاون طبی عملے کی جانب سے بھی پیش ہیں۔ قصوروار نہ ہونے کے باوجود عام آدمی (ہم عوام) کی نہ تو کوئی عزت ہے اور نہ ہی حقوق و استحقاق۔ جس کی تمام زندگی دکھوں اور موت بیماریوں کی اذیت جھیلنے کا نام ہو‘ اُس کے لئے ’استحصالی نظام کب ’تبدیل‘ ہوگا؟ تضاد یہ ہے کہ جب یہی اور اِن جیسے احتجاج پر آمادہ ڈاکٹر اور اِن کے معاونین نجی ہسپتالوں سے اپنی خدمات کا معاہدہ کرتے ہیں تو اُن کے قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن سرکاری ہسپتالوں میں جہاں بروقت اور ہر سال ماہانہ تنخواہوں میں اضافے کے علاؤہ ڈاکٹروں کو دیگر مساوی گریڈ کے ملازمین سے زیادہ مراعات اور بعدازملازمت تاحیات مالی سپورٹ (پینشن) کی ضمانت اور معاشرہ عزت نچھاوڑ کرتا ہے تو کیا یہ سب تعظیم (آؤ بھگت) ناکافی (بے معنی) ہے؟

Thursday, March 30, 2017

Mar2017: Protest against Corruption!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مسلط عذاب!
’خیبرپختونخوا میڈیکل انسٹی ٹیوشن ریفارمز ایکٹ 2015‘ کے تحت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں صوبائی حکومت نے سرکاری علاج گاہوں کو ایک ایسی ’خودمختاری‘ دی ہے‘ جس سے وابستہ بہتری کی توقعات پوری ہی نہیں ہوئیں بلکہ سرکاری علاج گاہوں کے مسائل پہلے سے زیادہ اُلجھ گئے ہیں۔ اصلاح احوال (بہتری لانے کی غرض سے کئے گئے قانون سازی پر مبنی اقدام) کا بنیادی خیال (مقصد) یہ تھا کہ سرکاری علاج گاہوں سے جڑی عوام کی مشکلات بصورت مسلط عذاب کم ہوں‘ یہ ہسپتال مالی طور پر اپنے فیصلے‘ اپنی ضروریات (حاجات) کے مطابق خود کریں اور مالی وسائل کا ترقیاتی امور پر زیادہ مالی وسائل خرچ ہوں لیکن جو کچھ حاصل ہوا وہ اِس کے برعکس رہا یعنی سرکاری ہسپتالوں کو دیئے جانے والے مالی وسائل یا اُن کی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ غیرترقیاتی امور (چنیدہ انتظامی عہدیداروں کی تنخواہوں اُور مراعات) پر خرچ ہونے لگے اور یہیں سے وہ خرابی شروع ہوئی‘ جس کی وجہ سے علاج معالجے کا معیار روز بہ روز گرتا چلا گیا! برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ اصلاحات کے عرصہ تین سال بعد بھی سرکاری علاج گاہیں وہیں کی وہیں بھی کھڑی ہوتیں تو کوئی بات نہیں تھی لیکن مالی و انتظامی خودمختاری ملنے کے بعد اُلجھنیں ہر ’گزرتے دن‘ بڑھتی چلی گئیں۔ 

سرکاری علاج گاہوں کے انتظامی مسائل اور سرکاری ملازمین کے شاہانہ مزاج اپنی جگہ ناقابل تردید حقیقت ہیں۔ ضلع ایبٹ آباد کے ’ایوب ٹیچنگ ہسپتال‘ کی مثال لیں تو معالجین اُور معاونین پر مشتمل عملے نے ’خودمختار (مادرپدر آزاد) انتظامیہ‘ کے خلاف پہلا باضابطہ احتجاج 28 جولائی 2015ء کو کیا تھا‘ جس میں سوائے ایمرجنسی علاج معالجے کی تمام سہولیات معطل کر دی گئیں تھیں اور اُس وقت جن خدشات کا اظہار کیا گیا‘ وہ وقت کے ساتھ ایک ایک کرکے درست ثابت ہوتی چلی گئیں اُور اُن کی اِصلاح باوجود یقین دہانی بھی نہیں کی گئی جس کے وجہ سے یہ نوبت آئی کہ ’28 مارچ کے روز ڈاکٹروں نے انوکھا احتجاج شروع کرتے ہوئے ایوب ٹیچنگ ہسپتال (کمپلیکس) کی عمارت کے اندر مریضوں کا معائنہ کرنے کی بجائے عمارت کے احاطے میں شامیانے لگا کر ’اُو پی ڈی‘ قائم کی‘ اور یوں کھلے آسمان تلے مریضوں کا معائنہ تمام دن جاری رہا جس میں دوہزار سے زائد مریض آئے۔ تصور کیجئے کہ ہسپتال آنے والے مریضوں نے ’کتنا اَچھا‘ محسوس کیا ہوگا‘ جب تمام دن ’’طبی معائنہ اُور اِحتجاج‘‘ ساتھ ساتھ چلتے رہے اور اُنتیس مارچ کے روز دوسرے دن بھی ڈاکٹروں نے ’اُو پی ڈی‘ کے تحت مریضوں کا معائنہ موسم بہار کی کھلی کھلی دھوپ میں کیا!

اَیوب ٹیچنگ ہسپتال کی خودمختاری کے بعد قائم ہونے والے ’بورڈ آف گورنرز (خودمختار انتظامیہ)‘ کے سات اراکین میں جاوید پنی‘ ڈاکٹر عاصم یوسف‘ کرنل ریٹائرڈ صلاح الدین‘ طارق خان‘ بریگیڈئر (ریٹائرڈ) ڈاکٹر خالد حسین‘ میجر جنرل (ریٹائرڈ) پروفیسر ڈاکٹر آصف علی خان‘ سابق ڈائریکٹر جنرل وفاقی وزارت خزنہ ڈاکٹر نجیب عباسی شامل ہیں‘ جن سے باوجود کوشش بھی رابطہ ممکن نہیں ہوسکا تاہم ’آف دِی ریکارڈ‘ ڈاکٹروں کی ہڑتال اُور بدعنوانی کی نشاندہی کو بے بنیاد الزامات قرار دیا لیکن ’پروانشیل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (پی ڈی اے) کے صوبائی صدر ڈاکٹر امین آفریدی کا مؤقف اور دلائل ’نظرانداز‘ کرنا ممکن نہیں! اُن کے تلخی بھرے (تندوتیز) لب و لہجے میں موجود سچائی ’سیاسی یا غیرسیاسی مخالفت یا انتظامی امور میں مداخلت‘ قرار دے کر نظراَنداز نہیں کی جا سکتی کیونکہ سچائی الفاظ کو معطر بھی کر دیتی ہے۔ 

ڈاکٹر امین آفریدی کا کہنا ہے کہ ایوب ٹیچنک ہسپتال میں جاری احتجاج کے ’تین بنیادی محرکات‘ ہیں۔1: ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ڈاکٹروں کو فراہم کی گئیں ’رہائشگاہیں (ہاسٹلز)‘ میں صرف بنیادی سہولیات ہی نہیں ناکافی سیکورٹی (حفاظتی امور) کی وجہ سے اب تک ایک ڈاکٹر کی ہلاکت اور کئی ایک افسوسناک واقعات پیش آ چکے ہیں۔ بدعنوانی کے غالب امکان کی وجہ سے سرکاری ہسپتال کے اپنے ہاسٹل کی تعمیر کا منصوبہ التوأ (سردخانے) کی نذر کر دیا گیا ہے اور ایک نجی ہاسٹل کو سال 2008ء سے سالانہ ایک کروڑ تیس لاکھ روپے کرائے کی مد میں ادا کیا جا رہا ہے۔ اگر ہسپتال کی انتظامیہ مخلص و ایماندار ہوتی تو اتنی بڑی رقم کسی نجی مالک مکان کو دینے کی بجائے اِسی پیسے سے وسیع و عریض ہسپتال کے اندر کسی کونے میں ’ہاسٹل تعمیر کر سکتی تھی!‘ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ہاسٹل کی تعمیر کا منصوبہ ’پی سی ون (ابتدائی منصوبہ بندی)‘ کے باوجود بھی کیوں منسوخ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کے احتجاج کی دوسری وجہ ہسپتال میں غیرقانونی بھرتیاں ہوئی ہیں اور تیسری وجہ من پسند ریٹائر افراد کی خدمات تین سے پانچ لاکھ روپے ماہانہ کے عوض حاصل کی گئیں ہیں‘ جس سے مریضوں کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوا لیکن بھاری تنخواہیں اور مراعات پانے والوں کے ’وارے نیارے‘ ہیں! 

تصور کیجئے کہ ایوب ڈیٹنسٹری اور ایوب پیڈز گائنی (خواتین کے لئے مخصوص) 300بیڈز جیسے اہم منصوبوں (شعبوں)کو فعال کرنے کے لئے تو مالی وسائل دستیاب نہیں اُور ہسپتال میں موجود سہولیات میں اضافے کے اِن ’کلیدی منصوبوں‘ میں مالی بدعنوانیاں بعدازتحقیقات ثابت ہونے کے باوجود بھی ذمہ دار (بدعنوان) عناصر کا نہ تو احتساب عملاً ممکن ہوا‘ اُور نہ ہی اُنہیں سرکاری وسائل کی لوٹ مار کرنے کی پاداش میں اِنتظامی عہدوں سے علیحدہ کیا گیا‘ تو جب اِنصاف و اِحتساب (سزا و جزأ) کے تصورات اور فکروعمل کے معیار اِس قدر دھندلے (مقروض محکوم و مجبور) ہوں گے تو ایسی صورتحال کو ’نئے خیبرپختونخوا کی تشکیل‘ یا کسی ایسی ’تبدیلی‘ سے تعبیر (منطبق) نہیں کیا جاسکتا‘ جس کا مقصد عوام کی فلاح (اِجتماعی بہبود) ہو۔ زمینی حقیقت ہے کہ جب سے ’ایم ٹی آئی‘ نافذ ہوا ہے‘ کم وبیش 3 سال کے عرصے کے دوران ’’12 کروڑ روپے‘‘ ہسپتال کے چند انتظامی عہدوں پر فائز ’’بااثر افراد‘‘ کو تنخواہوں‘ دیگر مراعات اور مختلف شہروں میں آمدورفت (قیام و طعام) کی مد میں ادا کئے گئے ہیں۔ کسی ہسپتال پر اوسطاً ’4کروڑ روپے‘ سالانہ کا مالی بوجھ معمولی قرار دے کر نظرانداز کر دیا جائے جبکہ اِس خطیر رقم سے نہ صرف سینکڑوں ہزاروں مریضوں کو مفت اَدویات اور پیچیدہ امراض کے آپریشنز (جراحتی عمل مکمل) کئے جا سکتے ہیں! بلکہ ایک پورا ہسپتال چلایا بھی جا سکتا ہے! 

سوال یہ ہے کہ ضلع ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی نمائندے اپنے معنوی وجود کے ہونے کا ثبوت کیوں نہیں دے رہے؟ عوام کے منتخب نمائندوں نے کیوں ’تجاہل عارفانہ‘ اِختیار کر رکھا ہے جبکہ اُن کی ناک تلے ہونے والی بدعنوانیوں‘ بے ضابطگیوں‘ بے قاعدگیوں اُور بدانتظامیوں کی ’حشرسامانیاں) دیکھنے کے باوجود بھی نہیں دیکھ رہے! (خدانخواستہ‘ خاکم بدہن) کہیں ایسا تو نہیں کہ ’بنی گالہ‘ سے مسلط ہونے والے فیصلوں کا سحر (جادو منتر) کی تاثیر کچھ ایسی ہے کہ منتخب نمائندوں کی سوچنے سمجھنے اُور بولنے کی صلاحیتوں سلب ہو چکی ہیں؟ 
’’میرے چاروں طرف ایک سیلاب خوں کس اذیت میں ہوں۔۔۔ 
کس قدر خوف ہے میرے اعصاب پر‘ شعر کیسے لکھوں؟ (احمد امتیاز)۔‘‘
Doctors of Ayub Teaching Hospital Abbottabad on Protest against corruption

Thursday, March 9, 2017

Mar2017: Lack of treatment facilities in Ayub Teaching!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
علاج معالجہ اُور معالجین!
بارہ سو ایکڑ رقبے پر پھیلے گیارہ سو بستروں سے زائد کے ’ایوب ٹیچنگ ہسپتال (ایبٹ آباد)‘ کا سالانہ بجٹ ’ایک سو دس کروڑ روپے‘ سے زیادہ لیکن پچاس کروڑ روپے سے زائد پر مشتمل حصہ عملے کی تنخواہوں (غیرترقیاتی اخراجات) کی نذر ہو جاتا ہے۔ علاؤہ ازیں ہسپتال کے مختلف شعبوں سے حاصل ہونے والی سالانہ کروڑوں روپے کی آمدنی الگ ہے لیکن اِس ہسپتال کے انتظامی امور کی ’خستہ حالی‘ کا اندازہ کئی مثالوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جیسا کہ سال دوہزار دس گیارہ سے تعمیراتی کام مکمل ہونے کے باوجود بھی ہسپتال کے احاطے میں کثیرالمنزلہ ’گائنی وارڈ‘ تاحال فعال نہیں ہو سکا جس کی بظاہر وجہ یہی سمجھ آتی ہے کہ ہسپتال کے ڈاکٹرز اور فیصلہ ساز جن کے مالی مفادات ’نجی علاج گاہوں سے بھی وابستہ ہیں‘ اگر سرکاری علاج گاہ کا معیار بلند کر دیں گے تو پھر نجی شعبے کی علاج گاہیں سنسان ہو جائیں گی! 

دوسری مثال ہسپتال کے تین داخلی دروازوں کی موجودگی میں چوتھے دروازے کا اضافہ ہے‘ جس کے لئے سبزہ زار کی زرخیز مٹی پر منوں سیمنٹ ڈال دیا گیا۔ ایک طرف تحریک انصاف شجرکاری مہمات کی تبلیغ کر رہی ہے اور دوسری طرف ہسپتال کے اطراف میں سبزہ زار کو غیرضروری راہداری کی نذر کر دیا گیا! حالانکہ سیکورٹی حالات اِس بات کے متقاضی تھے کہ ہسپتال اور ملحقہ میڈیکل کالج کا صرف ایک داخلی دروازہ رکھا جاتا تاکہ آمدروفت پر نظر رکھنے کے علاؤہ پارکنگ ایریاز ہسپتال کی عمارت سے الگ اور فاصلے پر رکھے جاتے‘ جو صفائی کے نکتۂ نظر سے بھی ضرورت تھی لیکن فیصلہ ساز جس ’بے حسیکا مظاہرہ‘ کرتے آئے ہیں اُس سے نہ صرف مالی وسائل کا ضیاع ہوا ہے بلکہ ہسپتال کی سیکورٹی‘ صفائی کی صورتحال اور علاج معالجے کی سہولیات کا معیار بہتر ہونے کی بجائے بتدریج کم ہوا ہے۔ اُجلے ملبوسات اُور ’فر فر اَنگریزی‘ بولنے اُور اَعلیٰ تعلیم یافتہ سمجھنے کا زعم رکھنے والوں کا قول و فعل دیکھ کر جہالت کا سر بھی شرم سے جھک جاتا ہوگا‘ کیونکہ علم و شعور کے دعویداروں نے ناقابل تسکین حرص و طمع کے سامنے ہار مان لی ہے! اَیوب ٹیچنگ صرف ایبٹ آباد یا ہزارہ ڈویژن ہی کا بڑا اُور مرکزی ہسپتال نہیں بلکہ اِس سے رجوع کرنے والوں میں ملحقہ دیہی علاقوں تا آزاد کشمیر اُور شمالی علاقہ جات کے رہنے والے اُن ’بیچارگان‘ کی اکثریت شامل ہے‘ جو عمومی حالات میں نجی اِداروں سے مہنگے داموں علاج معالجہ کرانے کی مالی سکت (اِستطاعت) نہیں رکھتے!

خیبرپختونخوا میں ’سرکاری علاج گاہوں کو مالی و انتظامی خودمختاری دینے کا مقصد‘ اُس نظام کی اصلاح تھی‘ جس سے عام آدمی (ہم عوام) کی وابستہ توقعات پوری نہیں ہو رہی تھیں۔ سرکاری ہسپتالوں کے انتظامی نگرانوں (ایم سیز) کو ’بورڈ آف گورنرز (بی اُو جیز)‘ سے تبدیل کرنے کے بھی خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے بلکہ بھاری تنخواہوں اور غیرمعمولی مراعات کے عوض ایسے منظورنظر افراد کی تعیناتیاں بطور نگران کر دی گئیں‘ جنہیں نہ تو بڑی علاج گاہوں کے معاملات دیکھنے کا ماضی میں کوئی عملی تجربہ تھا اور وہ نہ ہی اِس شعبے میں بناء تجربے اپنے علم کی بنیاد پر ایسا نظام وضع کرنے کی اہلیت رکھتے تھے جس سے مالی بچت یا علاج معالجے کے دستیاب وسائل سے بہتر استفادہ ممکن ہو سکتا۔ سرکاری علاج گاہوں کو قانون سازی کے ذریعے خودمختاری اور ’میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیویشنز (ایم ٹی آئی)‘ کا درجہ دینے کے روشن پہلو ایک ایک کر کے تاریک ہوتے چلے گئے تو اِس کی بھاری قیمت صرف اور صرف عام آدمی (ہم عوام) کو ادا کرنا پڑ رہی ہے!

ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے انتظامی معاملات اُس وقت تک درست (فعال) نہیں ہوں گے جب تک قواعد و ضوابط کا اطلاق ہر اعلیٰ و ادنیٰ کارکن پر یکساں نہیں کر دیا جاتا۔ ملازمین کی حاضری کے لئے ’بائیومیٹرک (انگوٹھے کے نشان سے) تصدیق‘ کے بیش قیمت الیکٹرانک آلات و نیٹ ورک نصب کر دیا گیا ہے لیکن اِن کے ذریعے صرف درجہ چہارم (ادنیٰ) ملازمین ہی حاضری لگانے کے پابند ہیں‘ ایسا کیوں!؟ ہسپتال اور محلقہ کالج کے اعلیٰ ملازمین نے ہڑتالوں اور احتجاج کے ذریعے خود کو ’بائیومیٹرک حاضری‘ سے مستثنیٰ قرار دیا ہوا ہے تو حکومت نے اِس ’سراسر ناجائز مطالبے‘ کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے تو کیا یہ اقدام مفاد عامہ کے لئے کیا گیا؟ وہ تمام ڈاکٹرز (مرد و خواتین) جو نجی کلینکس یا نجی میڈیکل کالجوں میں اُوقات کی سختی سے پابندی کرتے دکھائی ہیں لیکن سرکاری علاج گاہ اور درسگاہ میں حاضری کے ’ٹائم ٹیبل‘ کے تابع نہیں تو کیا کام چوری کا کوئی بھی جواز مطنقی (قابل قبول) ہو سکتاہے؟ کسی ادارے اور بالخصوص ایک مرکزی علاج معالجے کی سہولت‘ میں درجہ بہ درجہ ’نظم و ضبط‘ کیونکر لاگو ہوسکتا ہے جبکہ اُس کے نگران اور روح رواں خود کو جسمانی اور فکری طور پر ’وقف‘ ہی نہ سمجھتے ہوں؟ ایوب ٹیچنگ کے ’بورڈ آف گورنرز‘ کی اب تک کارکردگی میں ماسوائے سلیکشن اور پروموشن جتنے فیصلے بھی کئے گئے ہیں‘ اُن کی سطحی و انفرادی حیثیت اِس بات کی گواہ ہے کہ وہ سیاہ و سفید کے مالک بنے‘ خود کو کسی کے آگے جوابدہ تصور نہیں کر رہے! متعلقہ انتخابی حلقوں سے منتخب ہونے والے اراکین صوبائی و قومی اسمبلی اور بلدیاتی نمائندے کہاں ہیں‘ جن کی موجودگی معنوی نہیں اور اُنہیں آئندہ عام انتخابات سے زیادہ اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہئے جبکہ اُن کی ناک و اختیار کے نیچے ہونے والی بے قاعدگیوں کے بارے سخت سرزنش ہوگی‘ تو اُس وقت کیا جواب بن پائے گا؟

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلہ ساز روائتی طرزعمل اور سب اچھا کی خوشامدی رپورٹوں کی بجائے برسرزمین حقائق کا ’خفیہ معلومات‘ کی بنیاد پر جائزہ لیں کیونکہ ’’تبدیلی کی راہ میں حائل جملہ رکاوٹیں‘‘ دور ہونی چاہیءں۔ ذاتی مفادات کی سوچ اُور حرص کے اسیروں کا صفایا بھی ترجیحی بنیادوں پر یکساں ضروری ہے۔ 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خان خٹک روایت شکن ہیں اُور انہوں نے خود کو عوام سے الگ نہیں رکھا۔ یہی وجہ تھی کہ ’ایوب ٹیچنگ ہسپتال‘ سے متعلق عوامی شکایات پر انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ انتظامی نگرانوں ’بورڈ آف گورنرز‘ تبدیل کرنے کا وعدہ کیا لیکن تاحال اِس وعدے کی عملی تکمیل نہیں ہو پائی ہے اُور شاید ایسا اُس وقت تک عملاً ممکن نہیں ہو پائے گا جب تک خیبرپختونخوا قانون ساز اسمبلی ’’مفادات سے متصادم‘‘ قانون منظور نہیں کر لیتی کیونکہ ’ایم ٹی آئی ایکٹ (قانون)‘ کے تحت بھاری تنخواہیں اِس بات سے مشروط تھیں کہ انتظامی ذمہ داریاں رکھنے والے کسی دوسرے ذریعے سے مالی مفادات وابستہ نہیں کریں گے لیکن ڈین اور میڈیکل ڈائریکٹرز جیسے عہدوں پر تعینات‘ تین سے پانچ روپے تک ماہانہ تنخواہیں اور اضافی مراعات حاصل کرنے والوں نے حلفیہ ملازمتی شرائط کی پابندی (پاسداری) نہیں کی! عام آدمی (ہم عوام) کے نکتۂ نظر سے سرکاری علاج گاہوں بالخصوص ’ایوب میڈیکل کمپلیکس (ایبٹ آباد)‘ میں اِصلاح اور بہتری کی موجود گنجائش سے فائدہ اُٹھانے میں ’’مزید تاخیر‘‘ کی بجائے ’’سخت گیر راست عملی اقدامات‘‘ کئے جائیں کیونکہ یہ انسانی زندگی و موت کا مسئلہ ہے!