Showing posts with label Doctors Strike. Show all posts
Showing posts with label Doctors Strike. Show all posts

Thursday, June 1, 2017

Jun01: Doctors strike & criminal ignorance!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
صداقت کا معیار!
حقیقت کے کئی رخ ہوتے ہیں۔ کسی ایک زاویئے سے حالات کے کسی ایک ہی پہلو کا جائزہ لیکر حتمی رائے قائم کرنے والوں کو حیرت و شرمندگی کے علاؤہ اپنے مؤقف سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور ایسی ہی صورتحال صوبائی فیصلہ سازوں کو درپیش ہے‘ جنہیں سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ ڈاکٹروں کی جاری ہڑتال کے آتش فشاں کو کیسے سرد کیا جائے! 

عمومی منظرنامہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں سے بطور مریض رجوع کرنے والوں کو مشکلات بہرصورت درپیش رہتی ہیں تاہم ’تئیس مئی‘ سے جاری ’ینگ ڈاکٹروں‘ کی حالیہ احتجاجی تحریک اور ’کام چھوڑ ہڑتال‘ کے باعث رہی سہی کسر بھی نکل گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ ہڑتال شروع ہونے سے قبل اور بعدازاں خبردار کرتے رہے لیکن صوبائی کابینہ کے کسی ایک بھی معزز رکن نے نوٹس نہیں لیا اور جب ہسپتالوں میں بروقت اور علاج کی خاطرخواہ سہولیات نہ ملنے کے سبب ہلاکتیں رپورٹ ہونے لگیں تو گویا سب جاگ اُٹھے۔ پشاور کے ’لیڈی ریڈنگ‘ اور ایبٹ آباد کے ’ایوب ٹیچنگ ہسپتال‘ میں ’ینگ ڈاکٹروں‘ کا علاج معالجے میں خلل پیدا کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزارت صحت کی جانب سے نوٹسیز جاری کئے‘ جن پر وزیرصحت شہرام خان تراکئی کا نام اور دستخط ثبت ہے اور احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کو اپنی روش تبدیل کرنے کے بارے نرمی سے تلقین کرتے ہوئے التجائیں لہجے میں (جان کی امان چاہتے ہوئے) کہا گیا ہے کہ ’’اگر جاری ہڑتال ختم نہ کی گئی تو اُن کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے گی۔‘‘ سوال یہ ہے کہ آخر یہ محکمانہ کاروائی کس چیز کا نام ہے اور اب تک کیوں نہیں ہو سکی؟ 

نوٹس میں ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنرز اور انتظامیہ کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ہسپتال کے انتظامی امور بشمول علاج معالجے کے بارے میں ’صوبائی وزارت صحت‘ کو یومیہ رپورٹ باقاعدگی سے ارسال کریں۔ نوٹس کے لب و لہجہ سے صاف محسوس کیا جا سکتا ہے کہ حکومت ڈاکٹروں کے آگے بے بس ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کو معاملات افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا ’مفت مشورہ‘ بھی تحریر کر دیا گیا ہے حالانکہ ڈاکٹروں کے ہڑتال اور احتجاج کی بنیادی وجوہات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بورڈ آف گورنرز اور ہسپتال انتظامیہ مالی بدعنوانیوں میں ملوث ہیں‘ جس پر صوبائی وزیر صحت سمیت محکمۂ صحت کا کوئی بھی ذمہ دار بات کرنا نہیں چاہتا۔ 

سیکرٹری صحت کے دفتر سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ’’سرکاری ہسپتالوں میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا انتخاب ’بنی گالہ‘ کی منظوری سے ہوتا ہے‘ اور اِس میں ردوبدل یا بورڈ کے کسی رکن کے خلاف کاروائی کا اختیار نہ تو صوبائی وزیرصحت کے پاس ہے اور نہ ہی سیکرٹری اپنے طور پر سیاسی حکومت کے انتظامی امور میں مداخلت کر سکتا ہے۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے جس پر جب تک تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے کان پر جوں نہیں رینگے گی‘ اُس وقت تک ’بورڈ آف گورنرز‘ کے عہدیداروں کی تبدیلی یا اُن کے خلاف کسی بھی درجے کی تحقیقات نہیں کی جا سکیں گی۔ ‘‘ لمحۂ فکریہ ہے کہ سرکاری علاج گاہوں میں چونکہ عام لوگ (ہم عوام) ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں‘ اِس لئے خواص (وی وی آئی پیز) پر مشتمل حکمرانوں کو اِس سے زیادہ سروکار بھی نہیں!

’ینگ ڈاکٹروں‘ کا مؤقف ہے کہ ’’وہ بے حس نہیں لیکن اپنے جائز حقوق کی جانب فیصلہ سازوں کی توجہ مبذول کروا رہے ہیں۔‘‘ ایک برقی مکتوب (ای میل) میں قدرے تفصیل سے جن وجوہات اور برسرزمین حقائق کا ذکر کیا گیا‘ اُن کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’حکومت کا کوئی بھی دوسرا محکمہ ایسا نہیں جس کے اہلکار سارا سال‘ دن رات (چوبیس گھنٹے)‘ حتی کہ قومی تعطیلات بشمول عید و محرم کے ایام میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیتے ہوں۔ جب ہفتہ وار تعطیل کے نام پر معزز سیکرٹری صاحبان اپنے اہل وعیال کے ہمراہ سکون قلبی سے آرام و آسائش کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں تو ڈاکٹر ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔ جب عدالتیں اور بینک ایک مقررہ وقت پر بند ہوتے ہیں لیکن ہسپتالوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا عدالتوں میں زیرالتوأ مقدمات کی تعداد ہزاروں میں نہیں اور اگر ہے تو جس طرح مریضوں کے رش کی وجہ سے ہسپتال بند نہیں کئے جا سکتے تو پھر عدالتیں کیوں مقررہ وقت اور دو ہفتہ وار تعطیلات کے علاؤہ موسم گرما و سرما کی تعطیلات کرتی ہیں۔ آخر کیوں ہپستالوں کی طرح عدالتیں سال کے تین سو پینسٹھ دن فعال نہیں رہ سکتیں؟ آدھی رات کے وقت بھی اگر آپ کسی ہسپتال کا دورہ کریں گے تو وہاں ڈیوٹی پر ڈاکٹر اور معاون عملے کو حاضر و بیدار پائیں گے لیکن اِس کے باوجود حکومت کی نظر میں ڈاکٹروں کا کردار اور اُن کا ایثار و قربانی کی کوئی وقعت نہیں۔ ہسپتالوں کو خودمختاری دے کر ایک ایسے من پسند طبقے کو فیصلہ سازی کا اختیار دیا گیا ہے اور انہیں باقاعدہ طور پر مسلط کر دیا گیا ہے کہ وہ ڈاکٹر نہ ہوتے ہوئے بھی ہسپتال کے معاملات پر اپنے فیصلے مسلط کریں۔ جب ڈاکٹروں سے آٹھ گھنٹے کی عمومی ڈیوٹی سے زیادہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے تو پھر ’بائیومیٹرک‘ کی پابندی کا جواز یا ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ 

ڈاکٹر حاضری کے لئے بائیومیٹرک تصدیق کی پابندی کرنے کو تیار ہیں لیکن ایسی صورت میں دیگر صوبائی حکومت کے ملازمین کی طرح انہیں ہفتہ وار اور تمام قومی تعطیلات کے علاؤہ آٹھ یا نو گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی پر حاضر رہنے کا پابند نہیں بنایا جائے گا۔ ہسپتالوں کے انتظامی نگران اور بورڈ آف گورنرز کے اراکین کی تعیناتیوں میں متعلقہ شعبے کے ماہرین کا تقرر کیا جائے۔ 

کیا یہ امر لائق افسوسناک نہیں کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بورڈ آف گورنر کا چیئرمین ایک ایسے عزیزم کو تعینات کیا گیا ہے جو سات لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ بھی لیتا ہے اور مہینے کے بیس دن امریکہ میں رہتا ہے جہاں (مبینہ طور پر) اُس کی نجی پریکٹس اور دلچسپیاں ہیں۔ عام آدمی کی آنکھوں میں تبدیلی کا خواب سرمے کی طرح ڈالنے والوں کو آج نہیں تو کل بدعنوانی پر مبنی طرزحکمرانی کی مثالوں کا جواز عوام کی عدالت میں پیش کرنا ہوگا۔ حق و صداقت اور سچائی کی تعریف یہ ہوتی ہے کہ اِس کے ذریعے دوسروں کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکا جائے!

Tuesday, May 30, 2017

May2017: Strike of Doctors in Ayub Medical Institute Abbottabad


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
منتظر ساعتیں!

خیبرپختونخوا میں ڈاکٹروں اُور محکمۂ صحت کے درمیان ’اختلافات و تنازعات‘ کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کا نظام بُری طرح متاثر ہو رہا ہے اُور اگر بالخصوص ایبٹ آباد کے ’ایوب میڈیکل اِنسٹی ٹیوٹ‘ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو چھ روز سے جاری ہڑتال 29 مئی کو ساتویں روز میں داخل ہوئی اور ہسپتال انتظامیہ کے مطابق اِس عرصے میں ’علاج معالجہ معطل‘ ہونے کے سبب 75 سے زیادہ اموات ہوئیں جبکہ عمومی طور پر اِس عرصے میں اوسطاً بیس سے پچیس اموات ریکارڈ ہوتی تھیں۔ جہاں سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ‘ سرکاری سکولوں میں تعلیم معیاری نہ ہو اور جہاں کے حکمرانوں کو اِن ’بحرانی مسائل‘ کے حل کی فرصت (توفیق) بھی نہ ہو تو اِس طرزحکمرانی کو کیا نام دیا جائے؟ 


تیئس مئی سے ایبٹ آباد کے ڈاکٹرز اپنی کیمونٹی سے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبائی سطح پر جاری احتجاجی تحریک کا حصہ ہیں اور اضافی طور پر مطالبات پیش کئے بیٹھے ہیں کہ ’ایوب میڈیکل انسٹی ٹیوٹ‘ کے انتظامی نگرانوں (بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین اور سیکرٹری) کو برطرف کیا جائے‘ جن پر مبینہ طور پر مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے سنگین الزامات ایک عرصے سے عائد کئے جا رہے ہیں لیکن اُن کا نوٹس نہ تو صوبائی حکومت لے رہی ہے اور نہ ہی ’بدعنوانی سے پاک اور احتساب کی علمبردار‘ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اِس سلسلے میں دلچسپی لے رہی ہے کہ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے؟! ’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری‘‘ نہ ہوتی تو اب تک ایک سے زیادہ تحقیقاتی کمیٹیاں بنا کر حقائق عوام کے سامنے پیش کر دیئے جاتے لیکن ایک طرف ’’مردہ باد‘‘ کے نعرے لگانے والے ’علی الاعلان‘ الزامات عائد کر رہے ہیں تو یقیناًاُن کے پاس ثبوت بھی ہوں گے اور دوسری طرف سرکاری ہسپتالوں کے معاملات کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑنے والوں کے پاس مالی و انتظامی بدعنوانیوں کا کوئی بھی جواز ’معقول‘ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ کسی جمہوری معاشرے میں اگر حکومت عام آدمی (ہم عوام) کو درپیش مسائل و مشکلات کا سبب بننے والے کرداروں اور محرکات سے نمٹنا نہیں جانتی تو اِس سے زیادہ قابل مذمت طرزعمل کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔

ہر منصب عالیہ کی اپنی اخلاقی و آئینی ذمہ داریاں اور فرائض ہوتے ہیں۔ منصب جتنا بڑا ہوگا‘ واجب الادأ ذمہ داریاں بھی اُسی قدر زیادہ ہوں گی۔ اگر ہمارے تعلیمی اداروں سے صرف اعلیٰ تعلیم کی اسناد (ڈگریاں) جاری کرنے کا معمول نہ ہوتا تو ہمارے اردگرد صرف پڑھے لکھے نہیں بلکہ فرض شناس (تعلیم یافتہ) انسانوں کی کثرت ہوتی۔ ایسے انسانوں کی کثرت جو اپنی طرح دوسروں کو بھی انسان سمجھتے اور جنہیں اپنی ذات سے زیادہ دوسروں کی مشکلات و تکالیف کا احساس ہوتا۔ ڈاکٹر مسیحا ہیں‘ باشعور ہیں اور منصب مسیحائی کے تقاضے اُن سے زیادہ بہتر انداز میں کون سمجھ سکتا ہے۔ ڈاکٹر جانتے ہیں کہ سرکاری علاج گاہوں سے ملک کے سیاسی و غیرسیاسی بااثر طبقات اور سرمایہ دار رجوع نہیں کرتے بلکہ وہ عام آدمی (ہم عوام) صحت و زندگی کی تمنا لیکر اُن کے در پر آتا ہے جو مالی وسائل یا رہنمائی کے لئے محتاج ہوتا ہے۔ دوسری جانب حکمرانوں کو اپنے منصب سے جڑی ذمہ داریوں اور فرائض پر نظر کرنی چاہئے کہ آخر ڈاکٹروں اور معاون طبی عملے کو احتجاج کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ اگر اِحتجاج کے درپردہ کوئی مخالف سیاسی قوت تحریک انصاف حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنا چاہتی ہے تو کیا اِس سازش کو بے نقاب (ناکام) کرنا صوبائی حکومت ہی کی ذمہ داری نہیں؟


اجتماعی طور پر خیبرپختونخوا کے (ینگ) ڈاکٹروں نے دو بنیادی مطالبات پیش کئے ہیں اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ شاطرانہ انداز میں ایک جائز مطالبے کی آڑ میں دوسرا ناجائز (غیراخلاقی اور غیرآئینی) مطالبے کے لئے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے‘ جسے من و عن تسلیم کرنا صوبائی حکومت کے لئے ناممکن حد تک دشوار ہے اور اگر وہ بادلنخواستہ تسلیم کر بھی لیتی ہے تو اِس سے (ماضی کی طرح) سرکاری علاج گاہوں میں ڈاکٹروں کی کم سے کم ’بروقت حاضری‘ یقینی بنانا ممکن نہیں رہے گا۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت وفات پانے والے ڈاکٹروں کے لواحقین کو مالی امداد دے‘ دوران ملازمت وفات پانے والے ڈاکٹروں کے اہل خانہ کا سہارا بنے اور ڈاکٹروں کو جانی و مالی تحفظ فراہم کیا جائے۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ انگوٹھے کے نشان سے ڈاکٹروں کی حاضری (بائیومیٹرک تصدیق) رجسٹر کرنے کی بجائے انہیں رعائت دی جائے کہ وہ ماضی کی طرح جب چاہیں اور جس وقت چاہیں‘ ہسپتال قدم رنجہ فرمائیں‘ یا خود ہی اِس بات کا تعین کریں کہ اُن کی ’آمدورفت‘ کے اوقات کیا ہوں گے۔ (توجہ برقرار رہے کہ یہاں لفظ ’آمدورفت‘ کا استعمال کیا گیا کیونکہ ڈاکٹروں کی سرکاری ہسپتالوں میں موجودگی اِس بات کی ضمانت نہیں ہوتی کہ وہ اِس دوران مریضوں کا معائنہ کریں گے یا اپنی تعلیمی قابلیت‘ اہلیت اور مہارت پر مبنی جنس کی قیمت کا ازخود تعین کریں گے۔) دیکھا جائے تو کسی بھی سرکاری ملازم کو ملازمت یا عوام کے منتخب نمائندوں کو فیصلہ سازی و حکمرانی کا اختیار ملنے کے بعد انہیں نہ تو اوقات کار کی پابندی پسند ہوتی ہے اور نہ ہی یہ اپنی کارکردگی کے لئے خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں۔ درحقیقت اِس منفی و عمومی معاشرتی رویئے کی بڑی وجہ وہ خاص ’طرزفکروعمل (مائنڈسیٹ)‘ ہے جس کی دیکھا دیکھی پیروی کرنے والوں کو درحقیقت ملک و قوم کی جانب سے دی جانے والی ’’عزت راس نہیں آتی!‘‘ ہر سرکاری ملازم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اُس کی کارکردگی پر کم سے کم نگرانی ہو اور باقاعدگی سے حاضری کے اوقات تو مقرر نہیں ہونے چاہیءں یا اُن پر سختی سے عمل درآمد تو بالکل بھی قابل قبول نہیں ہوتا! 


خیبرپختونخوا میں صرف ڈاکٹر ہی سراپا احتجاج نہیں بلکہ ملازمتی حالات کار اُور اُوقات کار کے بارے میں اِسی قسم کے مطالبات سرکاری ہسپتالوں کے معاون طبی عملے کی جانب سے بھی پیش ہیں۔ قصوروار نہ ہونے کے باوجود عام آدمی (ہم عوام) کی نہ تو کوئی عزت ہے اور نہ ہی حقوق و استحقاق۔ جس کی تمام زندگی دکھوں اور موت بیماریوں کی اذیت جھیلنے کا نام ہو‘ اُس کے لئے ’استحصالی نظام کب ’تبدیل‘ ہوگا؟ تضاد یہ ہے کہ جب یہی اور اِن جیسے احتجاج پر آمادہ ڈاکٹر اور اِن کے معاونین نجی ہسپتالوں سے اپنی خدمات کا معاہدہ کرتے ہیں تو اُن کے قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن سرکاری ہسپتالوں میں جہاں بروقت اور ہر سال ماہانہ تنخواہوں میں اضافے کے علاؤہ ڈاکٹروں کو دیگر مساوی گریڈ کے ملازمین سے زیادہ مراعات اور بعدازملازمت تاحیات مالی سپورٹ (پینشن) کی ضمانت اور معاشرہ عزت نچھاوڑ کرتا ہے تو کیا یہ سب تعظیم (آؤ بھگت) ناکافی (بے معنی) ہے؟