Showing posts with label LRH. Show all posts
Showing posts with label LRH. Show all posts

Thursday, June 1, 2017

Jun01: Doctors strike & criminal ignorance!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
صداقت کا معیار!
حقیقت کے کئی رخ ہوتے ہیں۔ کسی ایک زاویئے سے حالات کے کسی ایک ہی پہلو کا جائزہ لیکر حتمی رائے قائم کرنے والوں کو حیرت و شرمندگی کے علاؤہ اپنے مؤقف سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور ایسی ہی صورتحال صوبائی فیصلہ سازوں کو درپیش ہے‘ جنہیں سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ ڈاکٹروں کی جاری ہڑتال کے آتش فشاں کو کیسے سرد کیا جائے! 

عمومی منظرنامہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں سے بطور مریض رجوع کرنے والوں کو مشکلات بہرصورت درپیش رہتی ہیں تاہم ’تئیس مئی‘ سے جاری ’ینگ ڈاکٹروں‘ کی حالیہ احتجاجی تحریک اور ’کام چھوڑ ہڑتال‘ کے باعث رہی سہی کسر بھی نکل گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ ہڑتال شروع ہونے سے قبل اور بعدازاں خبردار کرتے رہے لیکن صوبائی کابینہ کے کسی ایک بھی معزز رکن نے نوٹس نہیں لیا اور جب ہسپتالوں میں بروقت اور علاج کی خاطرخواہ سہولیات نہ ملنے کے سبب ہلاکتیں رپورٹ ہونے لگیں تو گویا سب جاگ اُٹھے۔ پشاور کے ’لیڈی ریڈنگ‘ اور ایبٹ آباد کے ’ایوب ٹیچنگ ہسپتال‘ میں ’ینگ ڈاکٹروں‘ کا علاج معالجے میں خلل پیدا کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزارت صحت کی جانب سے نوٹسیز جاری کئے‘ جن پر وزیرصحت شہرام خان تراکئی کا نام اور دستخط ثبت ہے اور احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کو اپنی روش تبدیل کرنے کے بارے نرمی سے تلقین کرتے ہوئے التجائیں لہجے میں (جان کی امان چاہتے ہوئے) کہا گیا ہے کہ ’’اگر جاری ہڑتال ختم نہ کی گئی تو اُن کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے گی۔‘‘ سوال یہ ہے کہ آخر یہ محکمانہ کاروائی کس چیز کا نام ہے اور اب تک کیوں نہیں ہو سکی؟ 

نوٹس میں ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنرز اور انتظامیہ کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ہسپتال کے انتظامی امور بشمول علاج معالجے کے بارے میں ’صوبائی وزارت صحت‘ کو یومیہ رپورٹ باقاعدگی سے ارسال کریں۔ نوٹس کے لب و لہجہ سے صاف محسوس کیا جا سکتا ہے کہ حکومت ڈاکٹروں کے آگے بے بس ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کو معاملات افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا ’مفت مشورہ‘ بھی تحریر کر دیا گیا ہے حالانکہ ڈاکٹروں کے ہڑتال اور احتجاج کی بنیادی وجوہات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بورڈ آف گورنرز اور ہسپتال انتظامیہ مالی بدعنوانیوں میں ملوث ہیں‘ جس پر صوبائی وزیر صحت سمیت محکمۂ صحت کا کوئی بھی ذمہ دار بات کرنا نہیں چاہتا۔ 

سیکرٹری صحت کے دفتر سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ’’سرکاری ہسپتالوں میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا انتخاب ’بنی گالہ‘ کی منظوری سے ہوتا ہے‘ اور اِس میں ردوبدل یا بورڈ کے کسی رکن کے خلاف کاروائی کا اختیار نہ تو صوبائی وزیرصحت کے پاس ہے اور نہ ہی سیکرٹری اپنے طور پر سیاسی حکومت کے انتظامی امور میں مداخلت کر سکتا ہے۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے جس پر جب تک تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے کان پر جوں نہیں رینگے گی‘ اُس وقت تک ’بورڈ آف گورنرز‘ کے عہدیداروں کی تبدیلی یا اُن کے خلاف کسی بھی درجے کی تحقیقات نہیں کی جا سکیں گی۔ ‘‘ لمحۂ فکریہ ہے کہ سرکاری علاج گاہوں میں چونکہ عام لوگ (ہم عوام) ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں‘ اِس لئے خواص (وی وی آئی پیز) پر مشتمل حکمرانوں کو اِس سے زیادہ سروکار بھی نہیں!

’ینگ ڈاکٹروں‘ کا مؤقف ہے کہ ’’وہ بے حس نہیں لیکن اپنے جائز حقوق کی جانب فیصلہ سازوں کی توجہ مبذول کروا رہے ہیں۔‘‘ ایک برقی مکتوب (ای میل) میں قدرے تفصیل سے جن وجوہات اور برسرزمین حقائق کا ذکر کیا گیا‘ اُن کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’حکومت کا کوئی بھی دوسرا محکمہ ایسا نہیں جس کے اہلکار سارا سال‘ دن رات (چوبیس گھنٹے)‘ حتی کہ قومی تعطیلات بشمول عید و محرم کے ایام میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیتے ہوں۔ جب ہفتہ وار تعطیل کے نام پر معزز سیکرٹری صاحبان اپنے اہل وعیال کے ہمراہ سکون قلبی سے آرام و آسائش کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں تو ڈاکٹر ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔ جب عدالتیں اور بینک ایک مقررہ وقت پر بند ہوتے ہیں لیکن ہسپتالوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا عدالتوں میں زیرالتوأ مقدمات کی تعداد ہزاروں میں نہیں اور اگر ہے تو جس طرح مریضوں کے رش کی وجہ سے ہسپتال بند نہیں کئے جا سکتے تو پھر عدالتیں کیوں مقررہ وقت اور دو ہفتہ وار تعطیلات کے علاؤہ موسم گرما و سرما کی تعطیلات کرتی ہیں۔ آخر کیوں ہپستالوں کی طرح عدالتیں سال کے تین سو پینسٹھ دن فعال نہیں رہ سکتیں؟ آدھی رات کے وقت بھی اگر آپ کسی ہسپتال کا دورہ کریں گے تو وہاں ڈیوٹی پر ڈاکٹر اور معاون عملے کو حاضر و بیدار پائیں گے لیکن اِس کے باوجود حکومت کی نظر میں ڈاکٹروں کا کردار اور اُن کا ایثار و قربانی کی کوئی وقعت نہیں۔ ہسپتالوں کو خودمختاری دے کر ایک ایسے من پسند طبقے کو فیصلہ سازی کا اختیار دیا گیا ہے اور انہیں باقاعدہ طور پر مسلط کر دیا گیا ہے کہ وہ ڈاکٹر نہ ہوتے ہوئے بھی ہسپتال کے معاملات پر اپنے فیصلے مسلط کریں۔ جب ڈاکٹروں سے آٹھ گھنٹے کی عمومی ڈیوٹی سے زیادہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے تو پھر ’بائیومیٹرک‘ کی پابندی کا جواز یا ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ 

ڈاکٹر حاضری کے لئے بائیومیٹرک تصدیق کی پابندی کرنے کو تیار ہیں لیکن ایسی صورت میں دیگر صوبائی حکومت کے ملازمین کی طرح انہیں ہفتہ وار اور تمام قومی تعطیلات کے علاؤہ آٹھ یا نو گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی پر حاضر رہنے کا پابند نہیں بنایا جائے گا۔ ہسپتالوں کے انتظامی نگران اور بورڈ آف گورنرز کے اراکین کی تعیناتیوں میں متعلقہ شعبے کے ماہرین کا تقرر کیا جائے۔ 

کیا یہ امر لائق افسوسناک نہیں کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بورڈ آف گورنر کا چیئرمین ایک ایسے عزیزم کو تعینات کیا گیا ہے جو سات لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ بھی لیتا ہے اور مہینے کے بیس دن امریکہ میں رہتا ہے جہاں (مبینہ طور پر) اُس کی نجی پریکٹس اور دلچسپیاں ہیں۔ عام آدمی کی آنکھوں میں تبدیلی کا خواب سرمے کی طرح ڈالنے والوں کو آج نہیں تو کل بدعنوانی پر مبنی طرزحکمرانی کی مثالوں کا جواز عوام کی عدالت میں پیش کرنا ہوگا۔ حق و صداقت اور سچائی کی تعریف یہ ہوتی ہے کہ اِس کے ذریعے دوسروں کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکا جائے!

Thursday, October 29, 2015

Oct2015: Disasters & our handling!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قدرتی آفت: سیاسی و نمائشی تقاضے!
لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کی پارکنگ میں گاڑی کھڑا کرنے کی جگہ نہیں رہی‘ کیونکہ اِن دنوں وہاں ایک تو ٹیلی ویژن چینلوں کی اُو بی وینز (ڈی ایس این جی گاڑیاں) مستقل ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور دوسرا سبب یہ ہے کہ اہم شخصیات (وی وی آئی پیز) کی آمدورفت کی وجہ سے سخت حفاظتی انتظامات کرنا پڑے ہیں۔عجب ہے کہ سیاسی رہنما تو اپنی جگہ بیچارے مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن اُن کی بیگمات بھی اس ’نادر موقع‘ پر گھروں سے نکل آئیں ہیں اور ضروری سمجھتی ہیں کہ پہلے رش زدہ ہسپتالوں کی رونقوں میں اضافہ کریں! یقیناًسیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں سے بہتر کون جانتا ہے کہ کسی آفت کے موقع پر یہ بات کتنی ضروری ہوتی ہے کہ وہ عملی طور پر کچھ کریں یا نہ کریں لیکن ذرائع ابلاغ میں اُن کی موجودگی برقرار رہنی چاہئے۔ ہر مرتبہ کی طرح اس دفعہ بھی ڈاکٹروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ’’زخمیوں کو ہرممکن علاج کی سہولیات فراہم کریں‘‘ جیسا کہ اگر وہ ایسا نہ کہتے تو ڈاکٹر زیرعلاج مریضوں کی نگہداشت کی بجائے اُنہیں ہسپتالوں سے باہر پھینک دیتے! خدارا دکھوں کی ماری قوم سے مذاق بند کیا جائے۔ درد سے کراہتے ہوئے مریضوں کے سراہانے کھڑے ہوکر تصاویر اور فلمیں بناے والوں کو خوف خدا بھی نہیں رہا! کسی مریض پر جھک کر قوم کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ کتنے دردمند ہیں حالانکہ اُنہوں نے سانس روک رکھی ہوگی کہ مبادا بدبو اُن کے نتھنوں سے نہ ٹکرائے۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ حضور آپ جس وارڈ میں کھڑے ہیں کیا کبھی یہاں علاج کے لئے آنا پسند کریں گے؟ ہسپتال انتظامیہ بھی معاون بنی ہوئی ہے جو ہاتھ باندھے منتظر رہتی ہے اور چند ایسے مریضوں کوصاف ستھرے بیڈوں اور سلیقے سے رکھی ہوئی ادویات والے ایک وارڈ کو سجا کر رکھا جاتا ہے تاکہ سیاست دان تصاویر بنانے کا اپنا شوق اور ایک سیاسی ضرورت پوری کرسکیں۔

کسی سرکاری ہسپتال کے لئے انتظامی نگران اور مختلف شعبہ جات کی سربراہی کا فیصلہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاست دان کرتے ہیں۔ اگر قابلیت اور اہلیت کوئی معنی رکھتی تو ہمیں سرکاری ہسپتالوں کی اکثریت میں میڈیکل ڈاکٹر بطور نگران تعینات نہ ملتے بلکہ وہ تو اپنے تجربے اور طب پر دسترس کا فائدہ مریضوں کوپہنچا رہے ہوتے لیکن ہمارے ہاں عجب ہے کہ سرکاری ہسپتال میں بطور نگران بن کر وسیع و عریض کمرہ‘ مراعات و اختیارات جن میں حکومت سے ملنے والے کروڑوں روپے کی گرانٹ‘ ہسپتال کی اپنی آمدنی‘ ہزاروں کروڑوں روپے کی ادویات اور آلات کی خریداری وغیرہ جیسے امور شامل ہوتے ہیں پر حاکمیت برقرار رکھی جائے۔ یہ معاملہ صرف سرکاری ہسپتالوں ہی کا نہیں بلکہ ہر حکومتی ادارے کے انتظامی معاملات کو ایک ایسے نظام سے جوڑ دیا گیا ہے جس میں حکمراں سیاسی جماعت کا عمل دخل ضرور ہوتا ہے لیکن کسی ادارے کی ناقص کارکردگی کی ذمہ داری نہ تو انتظامیہ قبول کرتی ہے اور نہ اُن کا انتخاب کرنے والے۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں ایک ایسے ہسپتال کا جہاں جدید ڈیجیٹل ایکسرے مشینیں اور تشخیص میں معاون آلات نہ ہوں۔ چھبیس اکتوبر کے زلزلے نے ایک مرتبہ پھر ہماری علاج گاہوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جہاں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ مریضوں کاعلاج ہوتا ہے اور کسی ہنگامی صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر وہ مریض ہوتے ہیں جن کے طبی عملے کا رخ دیگر مریضوں کی جانب موڑ دیا جاتا ہے!

چھبیس اکتوبر کے زلزلے کے بعد ہر کوئی ذرائع ابلاغ میں اپنی اپنی ساکھ بنانے کے چکر میں ایک دوسرے پر برتری لیجانے کی کوشش میں ہے۔ عجب ہے کہ اگر کسی کو امداد دینی ہے تو یہ عمل رازداری اور ’’مبنی بر نمائش‘‘ نہیں ہونا چاہئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر پاک فوج کا ادارہ فوری ردعمل کا مظاہرہ نہ کرتا تو زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ جانی نقصان ہوتا اور یہ نقصان کسی عمارت کے ملبے تلے دبنے یا اس قدرتی آفت کی وجہ سے نہیں بلکہ موسم کی شدت اور بھوک و پیاس سے ہوتا۔ خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں زلزلہ متاثرین بے سروسامانی کی حالت میں ہیں۔ انہیں گرم کپڑوں سمیت سر چھپانے کے لئے چھت کی ضرورت ہے۔امدادی اداروں کی جانب سے فراہم کئے جانے والے خیمے برفباری اور بارش جیسے شدید موسم کو ذہن میں رکھتے ہوئے نہیں خریدے گئے۔ پالیسی سازوں کی فہم و فراست کا اندازہ صرف اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ موسمی شدت والے علاقوں کے لئے الگ قسم کے خیمے خرید کر نہیں رکھے گئے۔ پاک فوج جیسے منظم ادارے کے پاس ملبہ ہٹانے‘ عارضی پل‘ ملبے تلے دبے ہوئے افراد کی تلاش کے لئے الیکٹرانک آلات‘ ہیلی کاپٹر‘ ترسیل کے لئے طاقتور گاڑیاں (ٹرک) اور کیمونیکشن (رابطہ کاری) کا ایک ایسا مستعد و مؤثر نظام ہے‘ جو کسی بھی موسم اور درجۂ حرارت میں کام کر سکتا ہے۔ اس قسم کی تکنیکی صلاحیت امدادی اداروں بالخصوص ریسکیو 1122 کے پاس بھی ہونی چاہئے تھی۔ خیبرپختونخوا حکومت کو سوچنا چاہئے کہ انہیں ترجیح بنیادوں پر ’ریسکیو 1122‘ کی خدمات کو کم از کم اضلاع کی سطح تک توسیع دے۔ چند بڑے شہروں کی حد تک ’ریسکیو کا ادارہ‘ کافی نہیں۔

قدرتی آفت چھوٹی ہو یا بڑے پیمانے پر اس کے وسیع منظرنامے اور پہلوؤں پر غور کرنے سے پہلے سیاسی و نمائشی تقاضوں کو الگ رکھنا ہوگا۔ جہاں دس برس بعد بھی زلزلے سے متاثرہ سکول تعمیر نہیں ہوسکے۔ جہاں 2005ء کے زلزلہ متاثرین کو بحالی کے لئے امداد ملنے کا سلسلہ پانچ برس بعد شروع کرنا ممکن ہوا ہو‘ وہاں اُنہی حکومتی اداروں سے یہ توقع کرنا کہ ایک مرتبہ پھر خیبرپختونخوا کے دکھوں پر مرہم رکھیں گے‘ یہ بات اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ چھبیس اکتوبر کا زلزلہ نہ تو آخری تھا اور نہ ہی اس کے بعد قدرت کے مقرر کردہ ماحولیاتی توازن میں بگاڑ کی وجہ سے تغیرات کا سلسلہ رک جائے گا۔ جس ملک میں ’ماحولیات‘ کے محکمے کو ’ماخولیات‘ سمجھا جائے۔ جہاں انتخابات میں کامیاب ہونے کے ماہرین کو فیصلہ سازی سونپ دی جائے وہاں ذاتی و سیاسی ترجیحات کے تحفظ پر حیرت کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔ زلزلہ متاثرین کی امداد اور متاثرہ علاقوں میں معیشت و معاشرت کی بحالی کے لئے اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کو زحمت کرنے کی قطعی ضرورت نہیں بلکہ یہ کام زیادہ بہتر انداز میں بلدیاتی نمائندے کر سکتے ہیں کیونکہ اُن کی موجودگی ہر گاؤں‘ تحصیل اور ضلع کی سطح پر موجود ہے۔ نہایت مناسب وقت ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں بلدیاتی نمائندوں کی شرکت اور تعمیروترقی کے حوالے سے ترجیحات کے تعین میں اُن کی رائے کو خاطرخواہ اہمیت دی جائے۔

Tuesday, January 13, 2015

Jan2015: Hazards of Hospital Waste

۔۔۔جان ہے تو جہان ہے!۔۔۔
ہسپتال موت بانٹ رہے ہیں؟
لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ہر روز اوسطاً ایک لاکھ سے سرنجیں استعمال ہوتی ہیں لیکن کیا اتنی ہی بڑی تعداد میں انہیں تلف بھی کیا جاتا ہے
پلاسٹک کی ایسی سرنجیں دستیاب ہیں جنہیں صرف ایک ہی مرتبہ استعمال کیا جاسکتا ہے اور دوسری مرتبہ استعمال کے قابل نہیں رہتیں

شبیرحسین اِمام
کیا آپ پلاسٹک کے برتن استعمال کرنے کو محفوظ سمجھتے ہیں؟ سستا نعم البدل ہونے کی وجہ سے کھلونے‘ آرائشی اشیاء‘ جوتے‘ چپل‘ حتیٰ کہ کھانے پینے کے لئے استعمال ہونے والے برتن بھی پلاسٹک سے تیار ہونے لگے ہیں لیکن ایسی تمام پلاسٹک کی اَشیاء ’اِنسانی صحت‘ کے لئے ’مستقل خطرہ‘ ثابت ہو سکتیں ہیں‘ جو ادویات ذخیرہ کرنے یا علاج معالجے میں کام آنے کے بعد پلاسٹک یا شیشے جیسی جنس کی صورت فروخت کر دی جائیں‘ کسی جگہ سے چن لی جائیں اور اُنہیں دوبارہ قابل استعمال بنا کر پلاسٹک کے برتنوں میں استعمال کیا جائے! تو ہوشیار رہیں کہ کہیں آپ ایسی خطرناک پلاسٹک سے بنے ہوئے برتن یا جوتے یا کھلونے تو نہیں خرید رہے‘ جس سے آپ یا آپ کے عزیز واقارب کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے؟

سرکاری ہسپتالوں میں گندگی تلف کرنے کے لئے پھر بھی کچھ نہ کچھ قواعد و ضوابط کا لحاظ کیا جاتا ہے لیکن نجی ہسپتالوں اور بالخصوص ماہر ڈاکٹروں کے کلینکس میں یومیہ جمع ہونے والی گندگی کے نہ تو اعدادوشمار دستیاب ہیں اور نہ ہی اِس سلسلے میں متعلقہ حکومتی ادارے مستقبل قریب میں تحقیق کرنے کاارادہ رکھتے ہیں۔ ایک مثال ملاحظہ کیجئے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ٹھوس گندگی تلف کرنے کے لئے جو آلات نصب ہیں وہ گیس کی مدد سے چلتے ہیں۔ موسم سرما کے دوران گیس کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جبکہ ڈیوٹی کے اُوقات میں گیس پریشر اِس قدر نہیں ہوتا کہ ادویات جلا کر تلف کی جا سکیں! نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایک انتظامی نگران نے کہا کہ ’’لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں صرف پشاور شہر کے مریض نہیں آتے بلکہ مضافاتی دیہی علاقوں اور دیگر اضلاع سے بھی مریضوں کو یہاں لایا جاتا ہے۔ اوسطاً تین ہزار اُو پی ڈی جبکہ دو ہزار حادثات اتفاقیہ و ہنگامی علاج معالجے کے شعبوں میں مریضوں کو لایا جاتا ہے‘ یہی علاج معالجے کے وہ شعبے ہیں جہاں بڑی مقدار میں گندگی پیدا ہوتی ہے لیکن کیا وہ حسب قواعد چوبیس گھنٹوں میں تلف بھی ہوتی ہے؟

ہسپتالوں سے جمع کی جانے والی گندگی میں پلاسٹک اور شیشے کی بوتلیں شامل ہوتی ہیں جن میں محلول یا خشک حالت میں ادویات رکھی جاتی ہیں۔ ایسی دونوں حالتوں میں ادویات کی بوتلیں کسی بھی صورت صحت مند انسانوں کو استعمال نہیں کرنی چاہیءں۔ اِس سلسلے میں توجہ طلب امر تازہ دودھ کے نام پر کیمیائی مادوں سے بنایا جانے و الا دودھ بھی ہے‘ جس میں خشک دودھ کے اجزأ‘ پانی اور مختلف کیمیائی مادے استعمال کئے جاتے ہیں‘ جس سے دودھ کی ’شیلف لائف‘ بڑھا دی جاتی ہے۔ علاؤہ ازیں دودھ نما کیمیائی محلول کو ذخیرہ کرنے کے لئے نیلے رنگ کے جو ڈرم استعمال کئے جاتے ہیں وہ بھی کیمیائی مادوں کے لئے بنائے جاتے ہیں‘ اور اِن کا استعمال کسی بھی صورت انسانی استعمال کے لئے نہیں ہونا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک سنگین و انتہائی خطرناک دور سے گزر رہے ہیں‘ جس میں ہر ایک کسی نہ کسی مرض کا شکار ہے۔ آخر کیا سبب ہے کہ ہمارے ہاں ملاوٹ سے پاک دودھ فروخت نہیں ہوتا؟ کیا متعلقہ حکومتی ادارے اور سخت قواعد موجود نہیں یا پھر ان پر عمل درآمد کرنے والے اپنے مفاد کے لئے پورے معاشرے کی صحت اور جان داؤ پر لگائے ہوئے ہیں! اِس سلسلے میں منتخب عوامی نمائندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں حالات کا جائزہ لیں اور ایسی قانون ساز کریں جس میں ملاوٹ کرنے والوں کو بھی دہشت گردی کی دفعات کے تحت گرفتار کیا جاسکے۔ بھلا اِس سے بڑھ کر کوئی دوسری دہشت گردی اور کیا ہوسکتی ہے کہ غیرمعیاری اشیاء کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں!

کیا آپ جانتے ہیں؟
سرکاری و نجی ہسپتالوں میں گندگی تلف کرنے کا خاطرخواہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے انسانی زندگیاں خطرات سے دوچار ہیں۔ ایک نجی ادارے کی جانب سے کئے گئے سروے کے مطابق پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں یومیہ 2 ہزار کلوگرام ایسی مہلک قسم کی گندگی اکٹھا ہوتی ہے‘ جسے سائنسی طریقوں سے تلف نہیں کیاجاتا اور ایسا نہ ہونے کی وجہ مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ اِس معاملے کے حوالے سے متعلقہ حکام کا حساس نہ ہونا ہے! ماہرین کا کہنا ہے کہ ہسپتال کا ایک بستر یومیہ اوسطاً آدھ کلوگرام ایسی گندگی پیدا کرتا ہے‘ جو اگر انتہائی درجہ حرارت کے ذریعے تلف نہ کی جائے تو اس سے مہلک بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں بستروں کی کل تعداد 4ہزار سے زیادہ ہے جن سے مجموعی طور پر 2 ہزار کلوگرام سے زائد گندگی یکجا ہوتی ہے لیکن اگر تمام ہسپتالوں میں گندگی تلف کرنے کے نظام کا جائزہ لیا جائے تو یہ اعتبار کرنا مشکل ہے ہر روز ایک ہزار کلوگرام گندگی بھی بمشکل تلف ہوتی ہوگی۔ سرکاری دفاتر ایسے اعدادوشمار دستیاب نہیں لیکن محکمۂ صحت کے ایک انتظامی نگران نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر کہا کہ ’’لیڈی ریڈنگ ہسپتال کم و بیش دو ہزار بستروں پر مشتمل ہے‘ جہاں سے بارہ سو کلوگرام‘ خیبرٹیچنگ پندرہ سو بستروں سے پانچ سو کلوگرام‘ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے سات سو بستروں سے تین سو کلوگرام‘ سٹی ہسپتال کے ڈھائی سو بستروں سے ڈیڑھ سو کلوگرام یومیہ گندگی اکٹھا ہوتی ہے جبکہ یہ اعدادوشمار آخری مرتبہ دو ہزار سات میں اکٹھا کئے گئے تھے‘ سات برس بعد جبکہ ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ تین گنا بڑھ چکا ہے جس سے لامحالہ مریضوں کے زیراستعمال ادویات و دیگر اشیاء گندگی کی صورت پھینک دی جاتی ہیں چونکہ یہ گندگی اِس قدر بڑے پیمانے پر ہر روز اکٹھا ہوتی ہے اِس لئے ارباب اختیار اِس بارے میں زیادہ بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ ایک امریکی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں اِس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہسپتالوں کا ایک کام تو علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات وہاں کی صفائی اور ایسا ماحول ہے جس میں بیماریاں معاشرے کے صحت مند افراد یا مریضوں کی عیادت کے لئے آنے والوں کو منتقل نہ ہوں۔ ہسپتال ہوا دار ہونے چاہئے۔ مریضوں کے وارڈ کی چھتیں عمومی کمروں سے بلند ہونی چاہئیں جہاں قدرتی روشنی کا خاطرخواہ بندوبست ہونا چاہئے۔ غیرسرکاری تنظیم کے جائزے میں پشاور کے سات نیم سرکاری ہسپتالوں کا بھی جائزہ لیا گیا جہاں کم و بیش چھ سو مریضوں کے علاج کی سہولیات موجود تھیں اور اِن ہسپتالوں سے یومیہ تین سو کلوگرام گندگی اکٹھا ہوتی ہے۔ یہ صورتحال صرف پشاور کی حد تک ہی تشویشناک نہیں بلکہ نوشہرہ‘ کوہاٹ‘ مردان اور دیگر گنجان آباد اضلاع میں تو کئی ایک سرکاری و نجی ہسپتال اِس بات پر شکر ادا کرتے ہیں کہ کوئی آئے اُور ہر روز ہزاروں کلوگرام گندگی اٹھا کر لے جائے‘ انہیں اِس بات سے قطعی کوئی غرض نہیں کہ وہی گندگی بعدازاں خود اُنہیں یا اُن کے اہل خانہ کو مہنگی پڑ سکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہسپتالوں سے گندگی اکٹھا کرنے کے لئے کوئی قانون بھی موجود ہے جس کے تحت ان کی یہ ذمہ داری قرار پائے کہ وہ سائنسی طریقوں سے گندگی تلف کریں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم ’انوائرمینٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997ء‘ ہے‘ جس میں یہ بات واضح طور پر درج کی گئی ہے کہ ہسپتال اس بات کے لئے پابند ہیں کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر جمع ہونے والی گندگی چاہے وہ کتنی ہی مقدار میں کیوں نہ ہو جلا کر تلف کریں۔ اِس قانون کے تحت ایک ایسی کمیٹی کی تشکیل بھی ہونی چاہئے جس کی سربراہی ہیلتھ سیکرٹری ہو‘ اور وہ وقتاً فوقتاً گندگی تلف کرنے سے متعلق قواعد و ضوابط پر نظرثانی کریں۔ اس سلسلے میں ایک اور قانون ’Hazardous Substance Rules 2000‘ بھی لائق توجہ ہے جس کے تحت کسی بھی ہسپتال چاہے وہ وفاق کی زیرنگرانی ہو یا صوبائی محکمہ ماحولیات کے‘ وہ اپنے اپنے ہاں ایسے انتظامات کریں گے جس سے اردگرد کے ماحول کے لئے خطرہ نہ ہو۔

گندگی تلف کرنے کا معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ اِسے جلا کر کام چلا لیا جائے۔ اگر ہسپتال کی گندگی جلانے کا عمل کسی عمومی طریقے سے کیا جائے جس سے دھواں پیدا ہو‘ تو ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا دھواں صحت مند افراد کے لئے ’ٹی بی‘ سینے کی بیماریوں‘ معدے کی بیماریوں اور جلدی امراض کاسبب بن سکتا ہے۔ سب سے زیادہ خطرہ ہسپتال کے اندر ہی کام کرنے طبی یا معاون طبی عملے کی صحت کے لئے ہوسکتا ہے‘ جنہیں مستقل بنیادوں پر ہسپتال کے اندر رہنا ہوتا ہے۔

چونکہ ہمارے ہاں ہر آنے والے مریض کا علاج کرنے سے قبل اُس کے خون کا تجزیہ کرنے کی روایت موجود نہیں اِس لئے ایمرجنسی (ہنگامی حالات) کی صورت علاج معالجے میں استعمال ہونے والے آلات سے بیک وقت ایک سے زیادہ مریضوں کی مرہم پٹی یا جراحت کی جاتی ہے۔ ایسی کوئی صورتحال یرقان‘ ایڈز وغیرہ جیسی فوری منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلنے کا بڑا سبب ہے۔ ماضی میں پشاور کے تین تدریسی ہسپتالوں (خیبرٹیچنگ‘ لیڈی ریڈنگ اُور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس) میں 32 لاکھ روپے کی لاگت سے گندگی تلف کرنے کے آلات نصب کئے گئے تھے لیکن مقام حیرت ہے کہ اُن سے خارج ہونے والا دھواں فلٹر کرنے کی فکر نہیں کی گئی‘ جو یکساں طور پر خطرناک ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مریضوں کے زیراستعمال رہنے والی ادویات یا جراحت سے بچنے والی خون آلود گندگی کو جلانے سے ایسی مہلک گیسیں ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہیں جو یکساں طور پر خطرہ ہوتی ہیں۔ ان میں Dioxin‘ Sulphur oxide‘ Nitrogen oxide اور Furanمادے شامل ہوتے ہیں۔

فروری 2013ء کے تیسرے ہفتے میں ’پشاور ہائی کورٹ‘ کے ’گرین بینچ‘ نے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے ہاں ٹھوس گندگی تلف کرنے کے آلات نصب کریں کیونکہ ایسا نہ کرنے کی وجہ ماحول آلودہ ہو رہا ہے۔ عدالت نے محکمۂ ماحولیات کو بھی حکم دیا کہ وہ ایسے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں کے خلاف کارروائی کرے‘ جو اِن احکامات پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔ کیا یہ امر حیرت انگیز نہیں کہ وہ بات جو پوری دنیا میں مسلمہ ہے کہ ہسپتالوں کی گندگی مکمل طریقے سے تلف ہونی چاہئے‘ وہ ہمارے اداروں کو بذریعہ عدالتی حکم سمجھائی جا رہی ہے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد سرکاری ہسپتالوں نے تو خاطرخواہ انتظامات کر لئے لیکن نجی ہسپتالوں نے اپنے طور گندگی تلف کرنے کے نظام کو خفیہ کردیا‘ یعنی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور عوام کی نظروں سے دور ایک ایسا نظام بنایا گیا‘ جس میں رات کے اندھیرے میں گندگی اُٹھانے والے ’نامعلوم ٹھیکیدار‘ واردات کرجاتے۔ ایک نجی ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر سے جب پوچھا گیا کہ آپ کے ایک سو بستروں پر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں‘ اِس کے علاؤہ یومیہ اُو پی ڈی الگ ہے‘ تو اِس پورے عمل میں پیدا ہونے والی گندگی تلف کرنے کے لئے کیا انتظامات کئے گئے ہیں‘ تو وہ ہکا بکا رہ گئے اور کہنے لگے ’’یہ کیسا سوال ہے؟‘‘