Showing posts with label Media. Show all posts
Showing posts with label Media. Show all posts

Thursday, February 24, 2022

TRUTH MATTERS or Truth that matter!?

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

اظہار رائے: گھٹن جو دل کی رہی .... !

دنیا سوشل میڈیا کے ذریعے اظہار رائے اُور معلومات کے آزادانہ پھیلا ؤمسائل کا حل ڈھونڈ رہی ہے۔ کسی موضوع پر مختلف شعبوں کے ماہرین اُور عوام کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی فیصلہ سازی ہو رہی ہے تاکہ طرزحکمرانی میں موجود خرابیاں دور کی جا سکیں لیکن پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ 1: ’سوشل میڈیا‘ صارفین ناکافی معلومات کی بنا پر خبریں اُور تبصرے تخلیق کرتے ہیں۔ 2: ’ناکافی معلومات‘ کو ’غلط معلومات‘ سمجھا جاتا ہے۔ 3: ’غلط معلومات‘ کو ’جعلی خبریں‘ کہا جاتا ہے اُور 4: اِن مبینہ جعلی خبروں کو روک تھام کے لئے قانون سازی جیسا انتہائی اقدام اپنی جگہ تنقید کی زد میں ہے۔ ”پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پی ای سی اے المعروف پیکا)“ کسی پینڈورا باکس جیسا ہے کہ جس میں صرف اختلاف رائے ہی نہیں بلکہ رائے بھی زیرعتاب آ چکی ہے جس کے خلاف عدالت نے حکم امتناعی جاری کیا ہے اُور پیکا کے تحت ہر قسم کی تعزیری کاروائی یا گرفتاریوں پر پابندی عائد کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عام آدمی کی مشکلات اُور توقعات یہ ہیں کہ حکومت اِس کے بنیادی مسائل جیسا کہ مہنگائی اُور بیروزگاری پر توجہ دے اُور معیشت و معاشرت کی فعالیت کے ساتھ کلیدی شعبوں کی بحالی کے لئے کوششیں کی جائیں لیکن ابلاغ سے متعلق امور سے چھیڑچھاڑ ناقابل یقین و ناقابلِ فہم ہے۔

 افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ ایسا پہلا مرتبہ نہیں ہو رہا کہ کسی حکومت نے اختلاف رائے اُور رائے کو روکنے کی کوشش کی ہو اُور اِس سلسلے میں ذرائع ابلاغ کے ادارے اِن سے جڑے نمائندے گھٹن‘ چھبن اُور تھکن محسوس کر رہے ہوں! ”گھٹن تو دل کی رہی قصر مرمریں میں بھی .... نہ روشنی سے ہوا کچھ‘ نہ کچھ ہوا سے ہوا (خالد حسن قادری)۔“

پاکستان میں آزادی اظہار سے متعلق جاری بحث و مباحثہ جو قانون سازی کے عمل سے لیکر سوشل میڈیا کی تباہ کاریوں کا احاطہ کرنے جیسی وسیع ہے‘ تو اِس کا مفید پہلو بھی ہے اُور وہ یہ ہے کہ ہر ایک فریق کو اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔ ذرائع ابلاغ کے ادارے اُور صحافی جہاں جہاں غلطی کر رہے ہیں اُور اِن کی غطلیوں یعنی ناکافی معلومات سے فرضی خبریں تخلیق ہو رہی ہیں یا ملک و شخصیات اُور اہم اداروں کا غلط تاثر اُبھر رہا ہے تو وقت ہے کہ ہر فریق اپنے گریبان میں جھانکے اُور اپنی اصلاح (خوداحتسابی) کے جذبے سے کرے۔ یہ بات ہر کوئی دل سے جانتا ہے کہ ”سب اچھا“ نہیں ہے۔ اگر طرزحکمرانی میں خامیاں ہیں تو اِس طرزحکمرانی کے قیام بھی حسب حال (حسب ضرورت کم خرچ بالانشین) نہیں۔ اُنیس سو اَسی کی دہائی میں جب معلومات اُور خبروں پر سرکاری ادارے نظر رکھتے تھے تو اُس سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے غیرملکی نشریاتی ادارے فعال ہوئے جن میں سرفہرست برطانوی نشریاتی ادارہ ’بی بی سی‘ تھا اُور سرشام ہی بی بی سی کی ریڈیو نشریات (میڈیم ویو) پر حاصل کرنے کی تگ و دو شروع ہو جاتی کیونکہ اُس وقت بہت کم لوگوں کے پاس اچھی قسم کے ٹرانسٹرز (شارٹ ویو ریڈیو) ہوا کرتے تھے۔ معلومات جمع کرنے سے اِن کی تقسیم تک کا وہ دور آج کے مقابلے نسبتاً کم پیچیدہ تھا کہ معلومات کسی ایک ذریعے سے آ رہی ہوتی تھیں جبکہ آج کی حقیقت یہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت نے ’سوشل میڈیا سیل‘ بنا رکھے ہیں اُور سوشل میڈیا رضاکاروں کے ساتھ سرعام ملاقاتیں بھی کی جاتی ہیں۔ اگرچہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے سوشل میڈیا سیلز (ٹیموں) کے قول و فعل کی ذمہ داری نہیں لیتیں لیکن اُن کی کارکردگی کی تائید و تعریف کرتی ہیں! سوچنا ہوگا کہ کیا ہم ’سیربین‘ کے دور میں واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں؟ 

سوشل میڈیا کے دور میں معلومات کے ذرائع محدود نہیں رہے اُور یہی ایک بات فیصلہ سازوں کو سمجھنا ہو گی کہ وہ جس قدر پابندیاں عائد کریں گے‘ یہ سلسلہ اُتنا ہی زیادہ پھیلتا چلا جائے گا اُور اِس سے اُٹھنے والی معلومات کی آندھی طوفان سائبیریا سے آنے والی ہواو¿ں کی طرح‘ غیرملکی ذرائع ابلاغ فائدہ اُٹھائیں گے اُور یہ پاکستان کے سیاسی موسموں پر اثرانداز ہوں گے‘ جو ایسی تبدیلیوں کا باعث ہوگا‘ جس کی فیصلہ ساز خواہش نہیں رکھتے اُور نہ ہی اِس کا درست اندازہ لگا رہے ہیں! کیا واٹس ایپ گروپوں اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر مواد کا تبادلہ (شیئرنگ) روکی جا سکتی ہے اُور بے لگام سوشل میڈیا صرف حکومت ہی نہیں بلکہ ملک کے سنجیدہ طبقات کے لئے بھی کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ سوشل میڈیا کی اصلاح اختلاف رائے پر پابندی سے نہیں بلکہ اختلاف رائے کی زیادہ بڑے پیمانے پر آزادی دینے سے ممکن ہے۔ یہ تصور سننے میں ناقابل ہضم و ناقابل عمل ہے لیکن اگر معلومات کا جواب معلومات سے دینے کے لئے فعال نظام اُور شعور اُجاگر کیا جائے تو ایسی بہت سی قباحتیں ہیں جن کی اصلاح ہو جائے گی کیونکہ وہ لاعلمی یا کم خواندگی کی وجہ سے ظہور پذیر ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کو نصاب ِتعلیم کا حصہ بناتے ہوئے اِس کی اخلاقی حدود و قیود اُور اثرات کے بارے اگر نوجوان نسل کو بتایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ کورونا جرثومے سے زیادہ تیزی سے پھیلنے اُور نسبتاً زیادہ مہلک اِس معلومات کا سیلاب اُنہی حاسدوں کو بہا کر لے جائے جو اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کے لئے نہ صرف قومی شخصیات اُور اہم قومی اداروں کی ساکھ بلکہ ملک کی سلامتی کے بھی درپے (دشمن) دکھائی دیتے ہیں۔ 

....

Clipping from Daily Aaj Feb 24th, 2022 Thursday


Thursday, October 29, 2015

Oct2015: Disasters & our handling!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قدرتی آفت: سیاسی و نمائشی تقاضے!
لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کی پارکنگ میں گاڑی کھڑا کرنے کی جگہ نہیں رہی‘ کیونکہ اِن دنوں وہاں ایک تو ٹیلی ویژن چینلوں کی اُو بی وینز (ڈی ایس این جی گاڑیاں) مستقل ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور دوسرا سبب یہ ہے کہ اہم شخصیات (وی وی آئی پیز) کی آمدورفت کی وجہ سے سخت حفاظتی انتظامات کرنا پڑے ہیں۔عجب ہے کہ سیاسی رہنما تو اپنی جگہ بیچارے مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن اُن کی بیگمات بھی اس ’نادر موقع‘ پر گھروں سے نکل آئیں ہیں اور ضروری سمجھتی ہیں کہ پہلے رش زدہ ہسپتالوں کی رونقوں میں اضافہ کریں! یقیناًسیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں سے بہتر کون جانتا ہے کہ کسی آفت کے موقع پر یہ بات کتنی ضروری ہوتی ہے کہ وہ عملی طور پر کچھ کریں یا نہ کریں لیکن ذرائع ابلاغ میں اُن کی موجودگی برقرار رہنی چاہئے۔ ہر مرتبہ کی طرح اس دفعہ بھی ڈاکٹروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ’’زخمیوں کو ہرممکن علاج کی سہولیات فراہم کریں‘‘ جیسا کہ اگر وہ ایسا نہ کہتے تو ڈاکٹر زیرعلاج مریضوں کی نگہداشت کی بجائے اُنہیں ہسپتالوں سے باہر پھینک دیتے! خدارا دکھوں کی ماری قوم سے مذاق بند کیا جائے۔ درد سے کراہتے ہوئے مریضوں کے سراہانے کھڑے ہوکر تصاویر اور فلمیں بناے والوں کو خوف خدا بھی نہیں رہا! کسی مریض پر جھک کر قوم کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ کتنے دردمند ہیں حالانکہ اُنہوں نے سانس روک رکھی ہوگی کہ مبادا بدبو اُن کے نتھنوں سے نہ ٹکرائے۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ حضور آپ جس وارڈ میں کھڑے ہیں کیا کبھی یہاں علاج کے لئے آنا پسند کریں گے؟ ہسپتال انتظامیہ بھی معاون بنی ہوئی ہے جو ہاتھ باندھے منتظر رہتی ہے اور چند ایسے مریضوں کوصاف ستھرے بیڈوں اور سلیقے سے رکھی ہوئی ادویات والے ایک وارڈ کو سجا کر رکھا جاتا ہے تاکہ سیاست دان تصاویر بنانے کا اپنا شوق اور ایک سیاسی ضرورت پوری کرسکیں۔

کسی سرکاری ہسپتال کے لئے انتظامی نگران اور مختلف شعبہ جات کی سربراہی کا فیصلہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاست دان کرتے ہیں۔ اگر قابلیت اور اہلیت کوئی معنی رکھتی تو ہمیں سرکاری ہسپتالوں کی اکثریت میں میڈیکل ڈاکٹر بطور نگران تعینات نہ ملتے بلکہ وہ تو اپنے تجربے اور طب پر دسترس کا فائدہ مریضوں کوپہنچا رہے ہوتے لیکن ہمارے ہاں عجب ہے کہ سرکاری ہسپتال میں بطور نگران بن کر وسیع و عریض کمرہ‘ مراعات و اختیارات جن میں حکومت سے ملنے والے کروڑوں روپے کی گرانٹ‘ ہسپتال کی اپنی آمدنی‘ ہزاروں کروڑوں روپے کی ادویات اور آلات کی خریداری وغیرہ جیسے امور شامل ہوتے ہیں پر حاکمیت برقرار رکھی جائے۔ یہ معاملہ صرف سرکاری ہسپتالوں ہی کا نہیں بلکہ ہر حکومتی ادارے کے انتظامی معاملات کو ایک ایسے نظام سے جوڑ دیا گیا ہے جس میں حکمراں سیاسی جماعت کا عمل دخل ضرور ہوتا ہے لیکن کسی ادارے کی ناقص کارکردگی کی ذمہ داری نہ تو انتظامیہ قبول کرتی ہے اور نہ اُن کا انتخاب کرنے والے۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں ایک ایسے ہسپتال کا جہاں جدید ڈیجیٹل ایکسرے مشینیں اور تشخیص میں معاون آلات نہ ہوں۔ چھبیس اکتوبر کے زلزلے نے ایک مرتبہ پھر ہماری علاج گاہوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جہاں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ مریضوں کاعلاج ہوتا ہے اور کسی ہنگامی صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر وہ مریض ہوتے ہیں جن کے طبی عملے کا رخ دیگر مریضوں کی جانب موڑ دیا جاتا ہے!

چھبیس اکتوبر کے زلزلے کے بعد ہر کوئی ذرائع ابلاغ میں اپنی اپنی ساکھ بنانے کے چکر میں ایک دوسرے پر برتری لیجانے کی کوشش میں ہے۔ عجب ہے کہ اگر کسی کو امداد دینی ہے تو یہ عمل رازداری اور ’’مبنی بر نمائش‘‘ نہیں ہونا چاہئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر پاک فوج کا ادارہ فوری ردعمل کا مظاہرہ نہ کرتا تو زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ جانی نقصان ہوتا اور یہ نقصان کسی عمارت کے ملبے تلے دبنے یا اس قدرتی آفت کی وجہ سے نہیں بلکہ موسم کی شدت اور بھوک و پیاس سے ہوتا۔ خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں زلزلہ متاثرین بے سروسامانی کی حالت میں ہیں۔ انہیں گرم کپڑوں سمیت سر چھپانے کے لئے چھت کی ضرورت ہے۔امدادی اداروں کی جانب سے فراہم کئے جانے والے خیمے برفباری اور بارش جیسے شدید موسم کو ذہن میں رکھتے ہوئے نہیں خریدے گئے۔ پالیسی سازوں کی فہم و فراست کا اندازہ صرف اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ موسمی شدت والے علاقوں کے لئے الگ قسم کے خیمے خرید کر نہیں رکھے گئے۔ پاک فوج جیسے منظم ادارے کے پاس ملبہ ہٹانے‘ عارضی پل‘ ملبے تلے دبے ہوئے افراد کی تلاش کے لئے الیکٹرانک آلات‘ ہیلی کاپٹر‘ ترسیل کے لئے طاقتور گاڑیاں (ٹرک) اور کیمونیکشن (رابطہ کاری) کا ایک ایسا مستعد و مؤثر نظام ہے‘ جو کسی بھی موسم اور درجۂ حرارت میں کام کر سکتا ہے۔ اس قسم کی تکنیکی صلاحیت امدادی اداروں بالخصوص ریسکیو 1122 کے پاس بھی ہونی چاہئے تھی۔ خیبرپختونخوا حکومت کو سوچنا چاہئے کہ انہیں ترجیح بنیادوں پر ’ریسکیو 1122‘ کی خدمات کو کم از کم اضلاع کی سطح تک توسیع دے۔ چند بڑے شہروں کی حد تک ’ریسکیو کا ادارہ‘ کافی نہیں۔

قدرتی آفت چھوٹی ہو یا بڑے پیمانے پر اس کے وسیع منظرنامے اور پہلوؤں پر غور کرنے سے پہلے سیاسی و نمائشی تقاضوں کو الگ رکھنا ہوگا۔ جہاں دس برس بعد بھی زلزلے سے متاثرہ سکول تعمیر نہیں ہوسکے۔ جہاں 2005ء کے زلزلہ متاثرین کو بحالی کے لئے امداد ملنے کا سلسلہ پانچ برس بعد شروع کرنا ممکن ہوا ہو‘ وہاں اُنہی حکومتی اداروں سے یہ توقع کرنا کہ ایک مرتبہ پھر خیبرپختونخوا کے دکھوں پر مرہم رکھیں گے‘ یہ بات اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ چھبیس اکتوبر کا زلزلہ نہ تو آخری تھا اور نہ ہی اس کے بعد قدرت کے مقرر کردہ ماحولیاتی توازن میں بگاڑ کی وجہ سے تغیرات کا سلسلہ رک جائے گا۔ جس ملک میں ’ماحولیات‘ کے محکمے کو ’ماخولیات‘ سمجھا جائے۔ جہاں انتخابات میں کامیاب ہونے کے ماہرین کو فیصلہ سازی سونپ دی جائے وہاں ذاتی و سیاسی ترجیحات کے تحفظ پر حیرت کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔ زلزلہ متاثرین کی امداد اور متاثرہ علاقوں میں معیشت و معاشرت کی بحالی کے لئے اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کو زحمت کرنے کی قطعی ضرورت نہیں بلکہ یہ کام زیادہ بہتر انداز میں بلدیاتی نمائندے کر سکتے ہیں کیونکہ اُن کی موجودگی ہر گاؤں‘ تحصیل اور ضلع کی سطح پر موجود ہے۔ نہایت مناسب وقت ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں بلدیاتی نمائندوں کی شرکت اور تعمیروترقی کے حوالے سے ترجیحات کے تعین میں اُن کی رائے کو خاطرخواہ اہمیت دی جائے۔

Sunday, September 20, 2015

Sep2015: Muslims in the west

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ملتی جلتی کہانیاں
مسلمانوں کے خلاف تعصب آمیز روئیوں نے جدت پسند‘ تعلیم یافتہ‘ نسلی و لسانی تعصبات کے خلاف بظاہر آواز اُٹھانے اور انسانی حقوق جیسی اصطلاح کا غلط اطلاق و استعمال کرنے والے مغربی معاشرے کی آزادی‘ سوچ اور عمل کا پول کھول دیا ہے لیکن مشہور اخباروں کے کونوں کھدروں میں بھی ایسی خبریں کم ہی دکھائی دیں گئیں کہ کسی بس میں داخل ہو کر سفر سے متعلق سوال پوچھنے پر بس ڈرائیور نے مسلمان خاتون کے اسکارف (حجاب) پر طنز کیا اور اس کو کھینچنے کی کوشش کی۔ چند ماہ پہلے کوپن ہیگن کی ایک یہودی عبادت گاہ پر حملے کے بعد اس قسم کی سرگرمیوں میں کافی تیزی آئی ہے جب کسی راہگیر نے کسی مسلمان عورت کے سر سے اسکارف اتارنے کی کوشش کی ہو۔ ابھی چند دن پہلے مشہور امریکی برانڈ ایبرکومی میں اسکارف پہننے کی وجہ سے نوکری نہ ملنے والی خاتون کے مقدمہ جیتنے کی کہانی بھی دوستوں کی نظر سے گذری ہوگی۔ کچھ عرصہ پہلے ایک امریکی شہر میں مسجد کے سامنے اسلحہ بردار لوگوں نے پیغمبرِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرضی و طنزیہ انداز میں خاکے بنوانے کے مقابلے کا اہتمام کیا۔کچھ دن پہلے ہی ایک مسلمان جوڑے کو اس وقت سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ اپنے بیٹے کو لینے کے لئے اس کے دوست کے دروازے کے سامنے کھڑے تھے کہ ایک بندوق بردار عورت نے ان کو وہاں سے بھاگ جانے کا کہا۔ جب انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کو لینے کے لئے آئے ہیں تو وہ بندوق بردار خاتون بندوق کی نوک پر ان کو اس گھر کے اندر لے کر گئی جہاں ان کا بیٹا موجود تھا۔ چند ماہ پہلے ہی ایک مسلمان خاتون کو یونائیٹڈ ائرلائن میں کھلا ہوا کوک کا کین دیا گیا تو انہوں نے بند کین طلب کیا جس پر ائر ہوسٹس نے مسلمان ہونے کے ناطے ان کو بند کین کو بطور اسلحہ استعمال کر لینے کے ڈر سے بند کین دینے سے انکار کر دیا۔ ٹھیک ان کے برابر میں بیٹھے مسافر کو بیئر (آب جو) کا بند کین دیا گیا جس پر مسلمان خاتون نے اعتراض کیا تو جہاز میں موجود ایک دو مسافروں نے مسلمانوں کے متعلق نفرت آمیز جملوں کی بوچھاڑ کر دی۔ ایک مسلمان نوجوان جوڑا جو امریکہ ہی کے کسی شہر میں بستا تھا اور پارکنگ کے معمولی جھگڑے پر ان کو گولی مار دی گئی تھی۔تازہ ترین واقعہ سترہ اگست دوہزار پندرہ کو کوپن ہیگن میں پیش آیا ہے کہ جہاں ایک اسلامی مرکز (جس میں مسجد بھی شامل تھی) کو نامعلوم افراد نے نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے اس شخص کو گرفتار کر لیا لیکن اُسے ذہنی مریض ثابت کرنے کی کوشش کی گئی‘ تقریباً دو تین ماہ پہلے کوپن ہیگن میں مسلمانوں کے قبرستان کی بے حرمتی کی گئی اور کئی قبروں کے کتبے اکھاڑ دیئے گئے۔ اگر اِس قسم کے واقعات پاکستان میں ہوئے ہوتے تو نجانے کتنے ہی صحافیوں کی لاٹری نکل آئی ہوتی۔ وہ راتوں رات امیر کبیر ہو چکے ہوتے! اگر آپ کو اِس بات پر یقین نہ آئے تو کسی خفیہ ادارے کے اہلکار سے رازداری میں پوچھیں کہ خیبرپختونخوا کے اُن 10بڑے صاحب جائیداد افراد کے نام بتائیں جن کی قسمت ’نائن الیون‘ کے بعد جاگ اُٹھی تو آپ کو ’این جی اوز‘ اُور امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کے لئے اشیاء خوردونوش کی فراہمی یا آمدورفت میں معاونت کرنے والوں کے علاؤہ تین سرکردہ صحافیوں کے بھی نام دکھائی دیں گے۔ بہتی گنگا میں کس کس نے ہاتھ دھوئے‘ کون کون نہایا لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ مغربی ممالک کی افواج کو افغانستان پر حملے کا صرف ایک جواز ’نائن الیون‘ تھا لیکن ایسے درجنوں نہیں سینکڑوں جواز پشاور اُور قبائلی علاقوں سے آڈیو ویڈیو تصویری (دستاویزی) ثبوتوں کے ساتھ فراہم کئے گئے‘ جنہیں مغربی ذرائع ابلاغ میں خوب اُچھالا گیا اور یہی وجہ ہے کہ آج کے مغربی معاشرے کی عمومی سطح پر اگر مسلمانوں کو بالعموم دہشت گرد سمجھا جاتا ہے تو اِس جرم میں شریک ہمارے اپنے بھی ہیں‘ جنہوں نے الفاظ نہیں بلکہ اُن کی حرمت کو پائمال کیا!

مسلمانوں کی ساکھ اور شہرت کو نقصان کسی ایک مغربی ملک کی حد تک محدود نہیں بلکہ اِس کا اثر کہیں کم تو کہیں زیادہ دکھائی دیتا ہے اور مذہب یا بظاہر حلیے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے واقعات میں ایک مماثلت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اکسانے والے ’دہشت گرد‘ نہیں کہلائے جاتے بلکہ انہیں ذہنی و نفسیاتی امراض کا شکار قرار دے دیا جاتا ہے۔ امریکی ریاست ٹیکساس میں سوڈان سے تعلق رکھنے والے گھرانے کے فرد ’احمد محمد‘ نامی چودہ سالہ مسلمان بچے کو ’بم بنانے کی کوشش‘ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو سائنس پراجیکٹ کے لئے ایک کلاک (ڈیجیٹل گھڑیال) بنانے کی کوشش میں تھا اور وہ اپنی کوشش کی ستائش کے لئے اسے سکول لے آیا تھا۔ اس واقعے کے متعلق اب تک 10 لاکھ سے زائد افراد نے سماجی رابطہ کاری کی مختلف ویب سائٹس (سوشل میڈیا) پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور یہ عمل تادم تحریر جاری تھا۔ درحقیقت اس بچے کا نام ہی سکیورٹی اہلکاروں کے کان کھڑے کرنے کا سبب بنا۔ اگر یہی کام کسی غیر مسلم یا سفید فام امریکی بچے نے کیا ہوتا تو اس کو انعام و اکرام سے نوازا جاتا۔ دوسری طرف اس واقعے کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بعد میں اس قسم کے واقعات پر کفِ افسوس ملنے سے بہتر تھا کہ ایسا ہوا۔ انہوں نے سکول کی تعریف بھی کی کہ انہوں نے اس قدر فرض شناسی کا ثبوت دیا اور یہ کہ اسلام کا نام مسلمانوں نے ہی خراب کر رکھا ہے وغیرہ وغیرہ! غور کیجئے کہ اِن سب واقعات میں کردار بدل رہے ہیں لیکن کہانی ملتی جلتی ہے۔ مسلمانوں سے ایسی کیا خطا ہوئی ہے کہ ایک دنیا ان کی دشمن بنی پھرتی ہے؟ صرف اتنی خطا ہے کہ گیارہ ستمبر (نائن الیون) کے واقعے میں ملوث ہائی جیکرز کے نام اسلامی تھے؟ یا پھر یہ کہ چند ہزار افراد کا گروہ خود کو طالبان اور دولت اسلامیہ کہلوا کر بندوق کے زور پر دنیا بھر میں اسلام نافذ کرنا چاہتا ہے!؟

آخر یہ کیوں نہیں دیکھا جاتا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر خود مسلمان اور اسلامی ممالک ہیں۔ امریکہ‘ برطانیہ‘ کینیڈا اُور دیگر مغربی ممالک میں مقیم مسلمان وہاں کی ترقی کے لئے ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن یہ حقیقت کسی کی نظر سے کیوں نہیں گزرتی۔ اگر یہی رویہ جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب اہل مغرب مسلمان بچوں کے بستے (سکول بیگز) کی تلاشی داخلی دروازوں پر لیا کریں گے یا پھر شاید اُنہیں الگ سکولوں تک محدود کر دیا جائے۔ وہ دنیا جو خود کو مہذب اور پر امن کہتی ہے، اپنے جیسے پرامن لوگوں سے اس قدر خوف زدہ کیوں ہے؟ کیا ان سے مختلف رنگ اور مذہب رکھنے والے انسان نہیں؟ ذہین لیکن امریکی مسلمان بچے ’احمد محمد‘ کے ساتھ پیش آنے والے امتیازی سلوک کی چند بیمار ذہن افراد کے علاؤہ سب ہی نے مذہب‘ رنگ‘ نسل اور ملکوں کی قید سے بالاتر ہو کر حمایت کی ہے۔ فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ سے لے کر ہلری کلنٹن اور امریکی صدر باراک اوباما تک اس کی حمایت اور ستائش میں بول پڑے ہیں‘ جو خوش آئند و حوصلہ افزأ بات ہے لیکن آخر یہ واقعہ پیش ہی کیوں آیا‘ اور کیا یہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا آخری واقعہ ثابت ہوگا؟

Saturday, August 22, 2015

Aug2015: REFRESHING PEMRA Code of Conduct

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ضابطۂ اخلاق
وفاقی حکومت کی جانب سے ’الیکٹرانک میڈیا (ٹیلی ویژن چینلوں)‘ کے لئے ضابطۂ اخلاق (کوڈ آف کنڈکٹ) جاری کیا گیا ہے‘ جس کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ نجی اِداروں کو ٹیلی ویژن اسٹیشنوں‘ اَیف اَیم ریڈیو چینلز (نشریاتی اداروں) اُور کیبل آپریٹروں کو اِجازت نامے (لائسینس) جاری کرنے سے قبل تحریری ’قواعد وضوابط‘ پر دستخط لئے جاتے ہیں لیکن یہ تسلی قابل تشفی نہیں کیونکہ قواعد تو موجود ہیں لیکن اُن پر سرکاری ادارے عمل درآمد کرانے کا حوصلہ نہیں رکھتے جس کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ ’سیاسی مداخلت‘ ہے۔ جب تک سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت اور سیاسی فیصلہ سازوں کے اپنے ذاتی و کاروباری مفادات الگ الگ نہیں ہو جاتے‘ اُس وقت تک صورتحال بہتر نہیں بنائی جا سکے گی۔

سردست صورتحال یہ ہے کہ نیوز اور تفریحی ٹیلی ویژن چینلوں جو مواد نشر کرتے ہیں‘ اس میں غیرملکی پروگراموں کا تناسب مقررہ حد سے زیادہ ہے اور الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) قواعد کی رو سے یہ ایک خلاف ورزی ہے جس کے مرتکب چینلوں کے لائسینس تک منسوخ ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح فی گھنٹہ اشتہارات نشر کرنے کے زیادہ سے زیادہ اوقات بھی مقرر ہیں جن پر عمل درآمد نہیں ہوتا اور جرائم کو ڈرامائی تشکیل کے ساتھ پیش کرنے کی ’بھیڑ چال‘ اپنی جگہ قابل مذمت ہے جسے نئے ضابطۂ اخلاق کے تحت اگرچہ رات گیارہ بجے کے بعد نشر کیا جائے گا لیکن چونکہ ایسے پروگراموں کی نشر مکرر بھی ہوتی ہے اور چینلز انہیں انٹرنیٹ پر ڈال دیتے ہیں‘ جہاں اِنہیں کسی بھی وقت دیکھا جا سکتا ہے اُور عمر کی جس حد کی نظروں سے اِسے دور رکھنا مقصود ہے وہ کئی ذرائع سے اس خطرناک مواد تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ عجب ہے کہ ٹیلی ویژن چینلوں نے ’واٹس ایپ‘ کے گروپس بنا رکھے ہیں جہاں پروگراموں بشمول بلیٹنز کی لمحہ بہ لمحہ تشہیر کی جاتی ہے۔ پیمرا حکام کو سمجھنا ہوگا کہ صرف سیٹلائٹ کے ذریعے نشریات میں پروگراموں کے اوقات کار ہی اہم نہیں بلکہ ان کی تیاری میں جس احتیاط اور اخلاقی قدروں کا احساس کرنے کی ضرورت ہے‘ وہ ہر شے پر مقدم ہونی چاہئے۔ عالمی سطح پر پائے جانے والے ’میڈیا کے رجحانات‘ کو من و عن پیچھا کرنا یا اشتہاری اداروں کی ضروریات کے مطابق مورننگ شوز سے لیکر نیوز بلٹین تک ترتیب دینے والے اِداروں کا ’کڑا احتساب‘ضروری ہے۔

کیا ہم یہ حقیقت فراموش کر سکتے ہیں کہ ’’پاکستان میں حکمران جمہوری ہوں یا آمر وہ خود کو احتساب سے بالا تر توسمجھتے ہی ہیں ساتھ ہی اپنے اوپر تنقید بھی برداشت نہیں کرتے۔‘‘ کوئی بھی ادارہ اسلامی اقدار‘ نظریہ پاکستان اور آئین کے خلاف پروگرام نشر نہیں کر سکتا اور اس معاملے میں اسے اپنی ذمہ داری کا بخوبی ادراک ہے۔ اگر کوئی میڈیا گروپ اس کے باوجود بھی بے لگام ہوتا ہے تو اس کا احتساب حکومت کی طرف سے بنائے گئے یکطرفہ ضابطۂ اخلاق سے نہیں آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہئے۔ اکثر میڈیا گروپس اسلامی اقدار‘ نظریۂ پاکستان اُور آئین کی پاسداری کرتے ہیں۔ حکومت اگر ’کوڈ آف کنڈکٹ‘ جاری کرنا چاہتی ہے تو میڈیا گروپس کو اعتماد میں لے تاکہ کل کسی کے خلاف کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کا الزام لگے تو اسے انتقامی کاروائی قرار دے کر واویلا نہ کیا جائے۔ ٹریفک سے لیکر ٹیلی ویژن چینلوں تک قواعد پر عمل درآمد کرانے اُس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتا جب تک فیصلہ ساز اپنی اِصلاح نہیں کر لیتے کہ آئین و قواعد کا اُن پر بھی یکساں بلکہ ترجیحاً اطلاق ہوتا ہے۔

پیمرا کو ایک نظر بھارت کے ’ڈائریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ)‘ سروسیز پر بھی رکھنا ہوگی جو پاکستانی مارکیٹ سے ماہانہ اربوں روپے کما رہے ہیں۔ ایک وقت تک پاکستان کے اپنے ٹیلی فون ادارے کو موبائل فون سروس شروع کرنے کی اجازت نہیں تھی اور غیرملکی اداروں کو پاکستان میں پاؤں جمانے اور منافع کمانے کے لئے ہرممکنہ سہولیات فراہم کی گئیں۔ جس سے فائدہ اُٹھانے والے بھی سیاست دان ہی تھے۔ آج بالکل ویسی ہی صورتحال ’ڈی ٹی ایچ‘ کے حوالے سے درپیش ہے کہ اس شعبے میں نہ تو نجی اور نہ ہی سرکاری شعبہ سرمایہ کاری کر رہا ہے اگرچہ اس کا لائسینس بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ نشریاتی ٹیکنالوجی وائرلیس ہو چکی ہے لیکن ہمارے ہاں آج بھی کیبل آپریٹر ’اینالاگ (analog)‘ نشریاتی وسائل کا استعمال کر رہے ہیں جس میں نشر کئے جانے والے چینلوں کی تعداد محدود بھی ہوتی ہے اور اُن کا معیار بھی تسلی بخش نہیں ہوتا۔ پیمرا حکام کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ سال 2015ء کے آخر تک کیبل آپریٹروں کو ڈیجیٹل آلات نصب کرنے کی جو ڈیڈلائن دی گئی ہے‘ اُس پر عمل درآمد کا مرحلہ وار جائزہ ابھی سے لیا جائے اور اِس ڈیڈ لائن کی مدت میں کسی بھی صورت اور کسی بھی دباؤ کے تحت توسیع نہ کی جائے۔

ٹیلی ویژن چینلز ہوں یا کیبل آپریٹرز‘ ناظرین و سامعین اُور صارفین کے حقوق کا سب سے کم خیال رکھا جاتا ہے۔ کسی کیبل آپریٹر کے بارے میں شکایت ہو بھی تو اس سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔ پیمرا کے صوبائی دفاتر اور سیاسی بنیادوں پر اراکین کا چناؤ ایک ایسی روایت ہے جس کا خاتمہ کئے بناء قواعد و ضوابط اور کسی بھی قسم کے ضابطۂ اخلاق پر عمل درآمد عملاً ممکن نہیں ہو پائے گا۔
Govt chalked out new CODE OF CONDUCT for electronic media but it would not be fruitful as implementation is need rather more rules and regulations

Monday, July 13, 2015

Jul2015: Media Management in Pakistan

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
دانائی کے تقاضے
اجتماعی ’جلد بازی‘ کا شاخسانہ ہے کہ ہم دوسروں کی تقلید پہلے اُور اپنے سماج کی اقدار و روایات کے بارے میں صرف اُس وقت سوچنے کی زحمت گوارہ کرتے ہیں‘ جب حد‘ حد نہیں رہتی اُور ’ابلتا ہوا پانی‘ سر سے گزر چکا ہوتا ہے! الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کو نجی شعبے کے حوالے کرنے سے پہلے جو غوروخوض ہونا چاہئے تھا‘ وہ اب ہو رہا ہے کہ یہ کس طرح ایک ایسے معاشرے پر اثرانداز ہورہا ہے جہاں تعمیر و ترقی اور سہولیات کا معیار یکساں نہیں۔ جہاں صاف ستھری کشادہ شاہراہیں ہیں تو دوسری طرف کچی گلیاں کوچے‘ ٹوٹی ہوئی نالیاں۔ سکولوں کی خستہ حال عمارتوں کو نظرانداز جبکہ نمائشی و آسائشی تعمیراتی منصوبوں پر توجہات مرکوز ہیں۔ سرکاری خزانے کے خرچ سے شاندار عمارتیں کھڑی نظر آتی ہیں۔ حکومت اِس لئے پریشان نہیں کہ اُس کے ہاں پچاس فیصد سے زائد بچے سکول نہیں جارہے اور نہ ہی معیاری تعلیم و علاج کی سہولیات میسر ہیں جبکہ غربت‘ جہالت اور سب سے بڑھ کر غیرہموار سماجی ترقی نے رہی سہی کسر نکال رکھی ہے!

اِس موڑ پر ذرا تحمل کیجئے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ اگر نجی اداروں کو ٹیلی ویژن چینل قائم کرنے کی اجازت دینا ہی تھی تو اجازت نامے کے ساتھ ’جامع ضابطۂ اخلاق‘ شروع دن سے مشروط ہونا چاہئے تھا۔ کئی ایسے معاشروں کی مثالیں ہمارے سامنے موجود تھیں جہاں کے کم و بیش ہم جیسے ہی حالات میں ذرائع ابلاغ زیادہ مثبت و تعمیری کردار اَدا کر رہے ہیں۔ دوسری بنیادی بات ’کیبل نیٹ ورکس‘ کے قیام کی اجازت تھی‘ جسے مصلحت کی وجہ سے چند برس تاخیر سے شروع کیا جاتا اور نگرانی کی جاتی کہ ’ذرائع ابلاغ‘ ضابطۂ اخلاق کی پابندیوں پر کس طرح کے ردعمل کا اظہار کرتا ہے اور تیسری بنیادی بات یہ تھی کہ نجی اِداروں کو ٹیلی ویژن یا ایف ایم ریڈیو کے ’کراس میڈیا اجازت نامے‘ اُس وقت نہ دیئے جاتے جب تک اس شعبے میں خاطرخواہ ’نئی سرمایہ کاری‘ نہ آ جاتی۔ اب ہوا یہ ہے کہ پہلے سے صحافت یا انٹرٹینمنٹ کا تجربہ رکھنے والوں کی ایک ایسی اجارہ داری بن گئی ہے کہ وہ اب نہ تو کسی ’غیرمتعلقہ‘ سرمایہ کار کو اِس شعبے میں آنے دیتے ہیں اور علاؤہ ازیں اُنہوں نے ہر کھڑکی‘ دروازے‘ حتیٰ کہ روشندان تک پر ’پہرے‘ بٹھا دیئے ہیں! معیار کو متاثر کرنے والی یہ مقابلے کی ایک ’صحت مند فضا‘ ہے‘ جس کے منفی اثرات اپنی جگہ انتہائی تخریبی تاثیر رکھتے ہیں۔ کسی اُور لمحۂ فکر کے پر اِس حوالے سے دیگر پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔ سردست قضیہ حکومت اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے درمیان معرکۂ انگیز مشاورتی عمل کا ہے جس سے متعلق یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا کے لئے ایک وسیع ضابطۂ اخلاق پر اتفاق کر لیا گیا ہے تاہم جس بات کو قدرے اِختصار سے بیان کیا جاتا ہے وہ ’اختلافی نوٹ‘ ہے یعنی ’ضابطۂ اخلاق‘ پر اتفاق تو ہوا ہے لیکن تین اہم مسائل پر ’اختلاف‘ طے ہونا اَبھی باقی ہے! اگر دونوں فریقین ان مسائل کے حل میں کامیاب ہوگئے تو ’پاکستان الیکٹرانک میڈیا اَتھارٹی (پیمرا)‘ کی جانب سے ایک قانونی ریگولیٹری آرڈر (ایس آر اُو) کے ذریعے اِس ’ضابطۂ اخلاق‘ کا اعلان کردیا جائے گا۔ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا یعنی ’عمل درآمد‘ کون کرائے گا؟ ذرائع کے مطابق یہ اختلافات فحاشی کی تعریف‘ مجرمانہ واقعات کی نشریات اور غیرملکی مواد کا مقامی میڈیا نیٹ ورک میں استعمال اور اس کا کنٹرول کے معاملات پر ہیں! یہ تینوں انتہائی حساس معاملات ہیں اور تینوں کا تعلق پاکستان کے داخلی و خارجی استحکام سے بھی ہے!

ایک رپورٹ کے مطابق ایسے مواد کے لئے جنہیں نشر (ٹیلی کاسٹ) کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘ ان سے متعلق نجی اداروں کے نمائندوں کو لفظ ’فحش‘ کی ’’وسیع تعریف‘‘ پر تحفظات ہیں۔ اصرار ہے کہ نشریات سے روکے جانے والے مواد کے لئے ’فحاشی‘ کی ’وسیع تعریف‘ متفقہ طور پر طے ہونی چاہئے‘ جو مختلف بڑے شہروں میں رہنے والوں کے لئے مختلف ہوسکتی ہے۔ نجی میڈیا اداروں کا مطالبہ ہے کہ فحاشی کو ضابطۂ اخلاق کا حصہ نہیں ہونا چاہئے۔(اِنّاَلِلّہِ وَاِنّاَ اِلَیہِ رَاجِعْون)۔

حکومت ’مجرمانہ واقعات‘ کی ڈرامائی تشکیل و نشریات کی مخالف ہے لیکن یہ کہا گیا کہ جرائم پر مبنی کہانیوں کو صرف اس صورت میں نشر کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ جب وہ مطلوبہ کسوٹی پر پورا اُترتا ہوا‘ اُور پاکستان کے اُوقات کے مطابق ’علی الصبح‘ کے بعد اور ’آدھی رات‘ سے قبل نشر نہ کئے جائیں۔ نجی نشریاتی ادارے خواہش رکھتے ہیں کہ اس طرح کے پروگرام صرف گیارہ بجے رات اور صبح سات بجے کے درمیان نشر کیے جائیں۔ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن اپنی طاقت اور تعلقات سے بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہتی ہے کہ مسودے سے سیکشن اُنیس کو خارج کردیا جائے اور ایسا کرنے کی دلیل یہ ہے کہ میڈیا کے مفادات کا تحفظ ضابطۂ اخلاق کا موضوع نہیں ہونا چاہئے! اِس متفقہ مسودے کے تحت ایسا کوئی بھی مواد جو اسلامی اقدار‘ نظریۂ پاکستان اُور بانیان پاکستان (قائداعظم اور علامہ اقبال) کے خلاف ہو یا وفاق یا اس کی سالمیت‘ سیکیورٹی اور دفاع کے خلاف اسلحہ اُٹھانے کا اعلان یا کسی مذہب‘ فرقے یا برادری کی توہین اُور انتشار پیدا کرنے سے متعلق ہو تو ایسا مواد نشر نہیں کیا جائے گا۔ ٹی وی چینلز ایسا مواد نشر نہ کرنے کے بھی پابند ہوں گے‘ جن کے ذریعے عدلیہ یا مسلح افواج کی توہین ہوتی ہو! اب یہ طے کرنا بھی باقی ہے کہ کوئی ادارہ اپنی توہین کے معاملے میں کتنا حساس ہے اور وہ کس بات کو توہین کے زمرے میں شمار کرنے لگتا ہے۔

نشہ آور مشروبات‘ تمباکو نوشی یا اس کی مصنوعات‘ غیرقانونی ادویات یا منشیات کے اشتہارات نشر نہ کرنا بھی نئے ضابطۂ اخلاق کا حصہ ہے اور مشتہرین کو یہ اجازت بھی نہیں ہوگی کہ وہ براہِ راست بچوں کو کسی چیز کے خریدنے کی ترغیب دیں! نئے ضابطۂ اخلاق کے تحت لاٹری‘ جوا‘ کالا جادو‘ توہم پرستی اور نیم حکیموں کے اشتہارات ممنوع ہوں گے۔ ہر ایک لائسینس ہولڈر ’پیمرا‘ کو مطلع کرتے ہوئے ایک اندرونی نگران کمیٹی مقرر کرے گا‘ جو ضابطۂ اخلاق کے احترام کی نگرانی اور نفاذ کو یقینی بنائے گی کیا ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت مذکورہ کمیٹی کے اراکین گرفت میں آئیں گے جبکہ مالکان کو تحفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے؟
یہ تو ہوا وہ ضابطۂ اخلاق جو طے ہوا لیکن ابھی لاگو ہونا باقی ہے لیکن سردست اُس ’ڈائریکٹ ٹو ہوم (DTH)‘ سروسیز کے بارے میں کوئی بات کرنا پسند نہیں کر رہا جو بھارت سے نشر ہوتی ہیں اور پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ پچاس لاکھ صارف بھارت کے تین معروف اداروں کی نشریات دیکھنے کے لئے ہر ماہ اوسطاً ایک ہزار روپے ادا کر رہے ہیں! تصور کیجئے کہ (150,000,000) یہ کس قدر بڑی رقم ہے اور اِس میں کتنے فیصلہ سازوں کی ’حصہ داری‘ ہوگی۔

مضحکہ خیز ہے کہ ایک طرف پاکستان کے اپنے ذرائع ابلاغ کے لئے ضابطۂ اخلاق کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اُور انہیں غیرملکی نشریات کم سے کم دکھانے کا پابند بنایا جا رہا ہے اور دوسری طرف بھارت جیسے ملک کو اربوں روپے ماہانہ منتقل ہو رہے ہیں لیکن یہی آمدنی اگر پاکستان کے اپنے نجی ٹیلی ویژن چینل حاصل کرنا چاہیءں تو نئے ضابطہ اخلاق کے مطابق اُنہیں محدود وقت کے لئے ایسا کرنے کی اجازت ہوگی! اصلاح اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک پابندی کا معیار ایک جیسا مقرر نہیں کیا جاتا۔ ایک جیسا‘ بلکہ بالکل ایک جیسا۔’’پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا دل کو۔۔۔ حسن والوں کی سادگی نہ گئی!‘‘
Media management through mismanagement is root cuase of many evils in #Pakistan