“I don't think a tough question is disrespectful.” ― Helen Thomas
Sunday, January 1, 2023
Yearender Internet in 2022
Thursday, February 24, 2022
TRUTH MATTERS or Truth that matter!?
ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
اظہار رائے: گھٹن جو دل کی رہی .... !
دنیا سوشل میڈیا کے ذریعے اظہار رائے اُور معلومات کے آزادانہ پھیلا ؤمسائل کا حل ڈھونڈ رہی ہے۔ کسی موضوع پر مختلف شعبوں کے ماہرین اُور عوام کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی فیصلہ سازی ہو رہی ہے تاکہ طرزحکمرانی میں موجود خرابیاں دور کی جا سکیں لیکن پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ 1: ’سوشل میڈیا‘ صارفین ناکافی معلومات کی بنا پر خبریں اُور تبصرے تخلیق کرتے ہیں۔ 2: ’ناکافی معلومات‘ کو ’غلط معلومات‘ سمجھا جاتا ہے۔ 3: ’غلط معلومات‘ کو ’جعلی خبریں‘ کہا جاتا ہے اُور 4: اِن مبینہ جعلی خبروں کو روک تھام کے لئے قانون سازی جیسا انتہائی اقدام اپنی جگہ تنقید کی زد میں ہے۔ ”پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پی ای سی اے المعروف پیکا)“ کسی پینڈورا باکس جیسا ہے کہ جس میں صرف اختلاف رائے ہی نہیں بلکہ رائے بھی زیرعتاب آ چکی ہے جس کے خلاف عدالت نے حکم امتناعی جاری کیا ہے اُور پیکا کے تحت ہر قسم کی تعزیری کاروائی یا گرفتاریوں پر پابندی عائد کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عام آدمی کی مشکلات اُور توقعات یہ ہیں کہ حکومت اِس کے بنیادی مسائل جیسا کہ مہنگائی اُور بیروزگاری پر توجہ دے اُور معیشت و معاشرت کی فعالیت کے ساتھ کلیدی شعبوں کی بحالی کے لئے کوششیں کی جائیں لیکن ابلاغ سے متعلق امور سے چھیڑچھاڑ ناقابل یقین و ناقابلِ فہم ہے۔
افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ ایسا پہلا مرتبہ نہیں ہو رہا کہ کسی حکومت نے اختلاف رائے اُور رائے کو روکنے کی کوشش کی ہو اُور اِس سلسلے میں ذرائع ابلاغ کے ادارے اِن سے جڑے نمائندے گھٹن‘ چھبن اُور تھکن محسوس کر رہے ہوں! ”گھٹن تو دل کی رہی قصر مرمریں میں بھی .... نہ روشنی سے ہوا کچھ‘ نہ کچھ ہوا سے ہوا (خالد حسن قادری)۔“
پاکستان میں آزادی اظہار سے متعلق جاری بحث و مباحثہ جو قانون سازی کے عمل سے لیکر سوشل میڈیا کی تباہ کاریوں کا احاطہ کرنے جیسی وسیع ہے‘ تو اِس کا مفید پہلو بھی ہے اُور وہ یہ ہے کہ ہر ایک فریق کو اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔ ذرائع ابلاغ کے ادارے اُور صحافی جہاں جہاں غلطی کر رہے ہیں اُور اِن کی غطلیوں یعنی ناکافی معلومات سے فرضی خبریں تخلیق ہو رہی ہیں یا ملک و شخصیات اُور اہم اداروں کا غلط تاثر اُبھر رہا ہے تو وقت ہے کہ ہر فریق اپنے گریبان میں جھانکے اُور اپنی اصلاح (خوداحتسابی) کے جذبے سے کرے۔ یہ بات ہر کوئی دل سے جانتا ہے کہ ”سب اچھا“ نہیں ہے۔ اگر طرزحکمرانی میں خامیاں ہیں تو اِس طرزحکمرانی کے قیام بھی حسب حال (حسب ضرورت کم خرچ بالانشین) نہیں۔ اُنیس سو اَسی کی دہائی میں جب معلومات اُور خبروں پر سرکاری ادارے نظر رکھتے تھے تو اُس سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے غیرملکی نشریاتی ادارے فعال ہوئے جن میں سرفہرست برطانوی نشریاتی ادارہ ’بی بی سی‘ تھا اُور سرشام ہی بی بی سی کی ریڈیو نشریات (میڈیم ویو) پر حاصل کرنے کی تگ و دو شروع ہو جاتی کیونکہ اُس وقت بہت کم لوگوں کے پاس اچھی قسم کے ٹرانسٹرز (شارٹ ویو ریڈیو) ہوا کرتے تھے۔ معلومات جمع کرنے سے اِن کی تقسیم تک کا وہ دور آج کے مقابلے نسبتاً کم پیچیدہ تھا کہ معلومات کسی ایک ذریعے سے آ رہی ہوتی تھیں جبکہ آج کی حقیقت یہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت نے ’سوشل میڈیا سیل‘ بنا رکھے ہیں اُور سوشل میڈیا رضاکاروں کے ساتھ سرعام ملاقاتیں بھی کی جاتی ہیں۔ اگرچہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے سوشل میڈیا سیلز (ٹیموں) کے قول و فعل کی ذمہ داری نہیں لیتیں لیکن اُن کی کارکردگی کی تائید و تعریف کرتی ہیں! سوچنا ہوگا کہ کیا ہم ’سیربین‘ کے دور میں واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں؟
سوشل میڈیا کے دور میں معلومات کے ذرائع محدود نہیں رہے اُور یہی ایک بات فیصلہ سازوں کو سمجھنا ہو گی کہ وہ جس قدر پابندیاں عائد کریں گے‘ یہ سلسلہ اُتنا ہی زیادہ پھیلتا چلا جائے گا اُور اِس سے اُٹھنے والی معلومات کی آندھی طوفان سائبیریا سے آنے والی ہواو¿ں کی طرح‘ غیرملکی ذرائع ابلاغ فائدہ اُٹھائیں گے اُور یہ پاکستان کے سیاسی موسموں پر اثرانداز ہوں گے‘ جو ایسی تبدیلیوں کا باعث ہوگا‘ جس کی فیصلہ ساز خواہش نہیں رکھتے اُور نہ ہی اِس کا درست اندازہ لگا رہے ہیں! کیا واٹس ایپ گروپوں اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر مواد کا تبادلہ (شیئرنگ) روکی جا سکتی ہے اُور بے لگام سوشل میڈیا صرف حکومت ہی نہیں بلکہ ملک کے سنجیدہ طبقات کے لئے بھی کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ سوشل میڈیا کی اصلاح اختلاف رائے پر پابندی سے نہیں بلکہ اختلاف رائے کی زیادہ بڑے پیمانے پر آزادی دینے سے ممکن ہے۔ یہ تصور سننے میں ناقابل ہضم و ناقابل عمل ہے لیکن اگر معلومات کا جواب معلومات سے دینے کے لئے فعال نظام اُور شعور اُجاگر کیا جائے تو ایسی بہت سی قباحتیں ہیں جن کی اصلاح ہو جائے گی کیونکہ وہ لاعلمی یا کم خواندگی کی وجہ سے ظہور پذیر ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کو نصاب ِتعلیم کا حصہ بناتے ہوئے اِس کی اخلاقی حدود و قیود اُور اثرات کے بارے اگر نوجوان نسل کو بتایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ کورونا جرثومے سے زیادہ تیزی سے پھیلنے اُور نسبتاً زیادہ مہلک اِس معلومات کا سیلاب اُنہی حاسدوں کو بہا کر لے جائے جو اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کے لئے نہ صرف قومی شخصیات اُور اہم قومی اداروں کی ساکھ بلکہ ملک کی سلامتی کے بھی درپے (دشمن) دکھائی دیتے ہیں۔
....
| Clipping from Daily Aaj Feb 24th, 2022 Thursday |
Wednesday, May 24, 2017
May2017: Curbing the Social Media!
بنیادی قضیہ یہ ہے کہ تحریک انصاف ہو یا کوئی بھی دوسری سیاسی جماعت‘ فرضی ناموں سے سوشل میڈیا اکاونٹس استعمال ہو رہے ہیں اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ اِن فرضی اکاونٹس کے ذریعے جس نکتۂ نظر کی تشہیر ہو رہی ہے‘ وہ ایک محدود سرکل میں ہونے کے باوجود بھی تاثیر کے لحاظ سے اِس لئے زیادہ ہے کیونکہ خطیب اور مخاطب دونوں ’صائب الرئب‘ بھی ہیں اور اِس بات پر اتفاق بھی رکھتے ہیں کہ اُن کا آپس میں کسی بھی معاملے پر اتفاق نہیں!
سوشل میڈیا پر انفرادی حیثیت میں بھی جو کچھ لکھا جا رہا ہے یا کسی گروہ (تحریک) کی صورت اجتماعی طور پر مقصد و نظریات کا پرچار ’اندھا دھند‘ اور ’تقلید‘ کے سبب ہے‘ جس کی جہتیں نفسیاتی اور سماجی و ثقافتی دباؤ کی مظہر ہیں! اِس پورے ماحول سے الگ وفاقی حکومت کے اداروں نے (شاید حسب حکم) سہل پسندی سے کام لیتے ہوئے ’ضابطۂ اخلاق‘ وضع کرنے بجائے قانون سے فائدہ اٹھانے پر اکتفا کر لیا اور سمجھ لیا کہ جہاں اُور جس کسی پر چاہے گرفت کی جا سکتی ہے وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بات اور کسی بھی فکر و تصور کا کوئی زاویہ نیا نہیں ہوتا۔ جس بات پر کسی ایک ’صارف‘ کی گرفت کی جا رہی ہوتی ہے‘ وہی بات سینکڑوں کی تعداد میں دوسرے صارفین بھی کر رہے ہوتے ہیں! سمجھ داری اِسی میں ہے کہ سوشل میڈیا سے ٹکراؤ کی بجائے پاکستان کو اُس آنے والے ’ہائی ٹیک‘ دور کے لئے تیار کیا جائے‘ جس میں ممالک کی سرحدیں آج کی طرح اہمیت کی حامل نہیں ہوں گی۔
Tuesday, May 23, 2017
May2017: Social Media as Crime!
Saturday, September 10, 2016
Sept2016: Terrorism & Communication as threat!
Sunday, April 24, 2016
APR2016: Cyber Crimes
قانون کی زد۔۔۔!
مختلف مراحل میں سائبر کرائمز بل پر جو تنقید سب سے زیادہ ہوئی ہے‘ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بل ایسے افراد نے تحریر کیا‘ جو خود ’’ڈیجیٹل (سائبر) دنیا‘‘ کی اونچ نیچ اور حقائق سے لاعلم ہیں یا خاطرخواہ گہرائی سے اِس کے بارے میں نہیں جانتے! جیسا کہ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے توجہ دلائی کہ بل کی شق نمبر بائیس کے تحت اسپیمنگ‘ یعنی ’’وصول کنندہ کی مرضی کے بغیر اسے کوئی پیغام بھیجنا‘‘ قانون کی رو سے جرم قرار دیا گیا ہے۔ یوں تو شق میں ترمیم کے بعد کچھ بہتری آئی ہے مگر اب بھی صرف ایک ٹیکسٹ میسج (موبائل فون پر مختصر پیغام جسے عرف عام میں ’ایس ایم ایس‘ کہا جاتا ہے) بھیجنے کی سزا تین ماہ قید تک دی جاسکتی ہے۔ کیا پاکستان کا ہر شخص اِس قدر سخت سزا اُور وہ بھی ایس ایم ایس کی وجہ سے مقرر ہو کے بارے میں جانتا ہے؟ بل میں پیش کی گئی مختلف چیزوں کی تعریفیں مبہم ہیں مگر ان کی سزائیں سخت رکھی گئی ہیں اور یہ بھی کہ اس جملے سے آخر کیا مطلب اخذ کیا جائے کہ ’’منفی مقاصد کے لئے ویب سائٹ قائم کرنے پر‘‘ کسی شخص یا ادارے کی صورت اُس کے سربراہ کو تین سال قید اور بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے۔ آخر یہ ’’منفی مقاصد‘‘ کا مطلب کیا ہے اور اِس میں کون کون سی چیزیں شامل ہیں؟ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نفرت انگیز تقاریر و بیانات چاہے آن لائن ہوں یا آف لائن پاکستان کا سلگتا ہوا (حقیقی) مسئلہ ہے لیکن کیا دیواروں پر وال چاکنگ سے سائبر اور موبائل فون تک اس منفی رجحان کو ختم کرنے کا صرف یہی ایک حل باقی بچا تھا؟ کیا کوئی بھی شخص جو یہ جانتا ہے کہ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں اختلافِ رائے کا گلا کس طرح گھونٹا گیا تھا‘ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ مذہب یا فرقے کی بنیاد پر تنازعات پیدا کرنے اور نفرت پھیلانے کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ کسی چیز کے نفرت انگیز ہونے یا نہ ہونے کی غلط تشریح بھی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کو سائبر سرگرمیوں کو ضوابط میں لانے کے لئے ایک ’’فریم ورک (ضوابط)‘‘ درکار ہے کیونکہ ہم ایسے ملک میں ہیں جہاں ٹیکنالوجی کا غلط استعمال عسکریت پسندی اور دہشت گردی سے لے کر افراد کی نجی زندگی میں مداخلت یعنی ذاتی معلومات کی چوری‘ بلیک میلنگ اور مال و زر تک رسائی (اکاؤنٹ ہیکنگ) تک کئی ایسے عوامل ہیں جن کا راستہ روکنا ہوگا لیکن آن لائن دنیا پر ضوابط عائد کرنے میں پاکستان کا سابقہ ریکارڈ اب تک کچھ خاص نہیں رہا اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکام کی آن لائن دنیا کے بارے میں فہم و فراست واجبی ہے جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ ’’یوٹیوب‘‘ پر پابندی عائدکی گئی اور پھر سالہا سال بعد خاموشی سے پابندی ہٹا بھی دی گئی جبکہ متنازعہ مواد (اصل سبب اور جواز) وہیں کا وہیں موجود ہے! قانون سازوں کو یوں تو ہر شعبے سے متعلق قانون مرتب کرتے ہوئے بہت سوچ بچار کرنی چاہئے لیکن جہاں تک سائبر کرائمز کا تعلق ہے تو یہ قانون سازی کو اتنا آسان نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ اس سے عام لوگوں کی زندگیاں اور بالخصوص ذرائع ابلاغ کے اداروں اور نمائندوں کے لئے پہلے ہی سے موجود مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
