Showing posts with label Information Department. Show all posts
Showing posts with label Information Department. Show all posts

Wednesday, May 24, 2017

May2017: Curbing the Social Media!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام

وارداتیں!

پاکستان تحریک اِنصاف خیبرپختونخوا کے ’سوشل میڈیا‘ دفتر (ڈینز سنٹر‘ پشاور) میں چوری کی ’اَنوکھی واردات‘ ہوئی ہے‘ جس پر ’اِنٹرنیٹ‘ کے ذریعے اِظہار خیال (سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس سے استفادہ) کرنے والے حلقوں کی جانب سے ’آن لائن اور آف لائن‘ تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ 

سوال یہ ہے کہ چوری کے لئے آنے کسی بیش قیمت کمپیوٹر آلات کی بجائے صرف وہی آلات (ہارڈوئرز) ’نہایت مہارت‘ سے کیوں اُتار لے گئے جن کی ’فرانزک جانچ‘ ممکن ہے؟ اگر یہ چوری کی ’عمومی واردات‘ ہوتی تو اِس میں نفاست کا اِس قدر عملی مظاہرہ دیکھنے کو نہ ملتا۔ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے اِس واردات کو ’وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)‘ کی کارستانی (خفیہ کاروائی) بیان کیا گیا ہے‘ جبکہ ’ایف آئی اے‘ کی جانب سے تردید اور مقامی پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہیں کیا گیا! یوں لگتا ہے کہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں حکمران ہی نہ ہو کہ اُس کے ایک دفتر پر کاروائی سے متعلق اگر وضاحت آئی بھی تو مرکزی عہدیداروں کی جانب سے! کیا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اِس قسم کے حوصلے (برادشت) کی کوئی دوسری مثال پیش کی جا سکتی ہے؟ 

بنیادی قضیہ یہ ہے کہ تحریک انصاف ہو یا کوئی بھی دوسری سیاسی جماعت‘ فرضی ناموں سے سوشل میڈیا اکاونٹس استعمال ہو رہے ہیں اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ اِن فرضی اکاونٹس کے ذریعے جس نکتۂ نظر کی تشہیر ہو رہی ہے‘ وہ ایک محدود سرکل میں ہونے کے باوجود بھی تاثیر کے لحاظ سے اِس لئے زیادہ ہے کیونکہ خطیب اور مخاطب دونوں ’صائب الرئب‘ بھی ہیں اور اِس بات پر اتفاق بھی رکھتے ہیں کہ اُن کا آپس میں کسی بھی معاملے پر اتفاق نہیں! 

سوشل میڈیا پر انفرادی حیثیت میں بھی جو کچھ لکھا جا رہا ہے یا کسی گروہ (تحریک) کی صورت اجتماعی طور پر مقصد و نظریات کا پرچار ’اندھا دھند‘ اور ’تقلید‘ کے سبب ہے‘ جس کی جہتیں نفسیاتی اور سماجی و ثقافتی دباؤ کی مظہر ہیں! اِس پورے ماحول سے الگ وفاقی حکومت کے اداروں نے (شاید حسب حکم) سہل پسندی سے کام لیتے ہوئے ’ضابطۂ اخلاق‘ وضع کرنے بجائے قانون سے فائدہ اٹھانے پر اکتفا کر لیا اور سمجھ لیا کہ جہاں اُور جس کسی پر چاہے گرفت کی جا سکتی ہے وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بات اور کسی بھی فکر و تصور کا کوئی زاویہ نیا نہیں ہوتا۔ جس بات پر کسی ایک ’صارف‘ کی گرفت کی جا رہی ہوتی ہے‘ وہی بات سینکڑوں کی تعداد میں دوسرے صارفین بھی کر رہے ہوتے ہیں! سمجھ داری اِسی میں ہے کہ سوشل میڈیا سے ٹکراؤ کی بجائے پاکستان کو اُس آنے والے ’ہائی ٹیک‘ دور کے لئے تیار کیا جائے‘ جس میں ممالک کی سرحدیں آج کی طرح اہمیت کی حامل نہیں ہوں گی۔ 

کیا ہمارے فیصلہ سازوں نے ’بٹ کوائن (Bitcoin)‘ کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں جو انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی کرنسی ہے؟ یاد رہے کہ 23 اپریل (دوہزارسترہ) کے روز عالمی مارکیٹ میں ایک ’بٹ کوائن‘ کا شرح تبادلہ پاکستانی کرنسی میں 2 لاکھ 35 ہزار 981 روپے اور آٹھ پیسے مقرر ہوئی! اور یہ دنیا کی سب سے زیادہ تیزی سے بڑھتی اور استعمال ہونے والی کرنسی ہے۔



’بٹ کوائن‘ کو سمجھنے کے لئے انسانی معاشرے کے ارتقائی مراحل اور معاشی واقتصادی اصولوں پر نظر کرنا ہوگی‘ جس میں سرمائے کی اہمیت ہمیشہ سے رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں نئے انداز کے سکے سامنے آتے رہے‘ اب چاہے وہ سونے کی اشرفی کی صورت میں ہو یا کانسی کا سکہ مگر موجودہ عہد ٹیکنالوجی کا قرار دیا جاتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا بھی اپنی کرنسی سے محروم رہے؟  یہی کمی ’بٹ کوائن‘ نے پوری کی‘ جو حالیہ عرصے میں تیزی سے اُبھرنے والی ’ڈیجیٹل ورچوئل کرنسی‘ ہے اور اِس کے ذریعے لوگ آن لائن کمپنیوں سے مصنوعات اور خدمات حاصل کر رہے ہیں تاہم کسی حقیقی کرنسی کے مقابلے میں بٹ کوائنز ہر طرح کے ضابطوں یا حکومتی کنٹرول سے آزاد ہے۔ 

بٹ کوائنز متعدد ممالک جیسے کینیڈا‘ چین اور امریکہ میں استعمال ہورہے ہیں تاہم دنیا میں انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والا ہر شخص یہ کرنسی خرید سکتا ہے‘ جس کے لئے ’بٹ کوائن والٹ اکاؤنٹ‘ چاہئے ہوتا ہے جو بذریعہ ’اپلیکشن‘ ڈاؤن لوڈ (حاصل) تخلیق کیا جا سکتا ہے اور ’والٹ اکاؤنٹ‘ کو پے پال‘ کریڈ کارڈز یا کسی بینک اکاؤنٹ کے ذریعے بٹ کوائنز خریدنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹر کمپنی ’مائیکروسافٹ‘ سمیت انٹرنیٹ پر کاروبار کرنے والے سینکڑوں دیگر ادارے ’بٹ کوائنز‘ قبول کر رہی ہیں اور بالخصوص سوشل گیمنگ سائٹس جیسے زینگا‘ بلاگ ہوسٹنگ ویب سائٹس جیسے ورڈ پریس اور آن لائن اسٹورز جیسے ریڈیٹ اور ’اوور اسٹاک ڈاٹ کام‘ بھی ’بٹ کوائنز‘ قابل ذکر ہیں اور دنیا میں قریب ’ایک کروڑ بیس لاکھ (بارہ ملین بٹ کوائنز)‘ گردش کررہے ہیں جس کی قیمت سو ڈالر کی نفسیاتی حد پر پہنچنے کے بعد دوہزار دوسو ڈالر فی بٹ کوائن سے تجاوز کر گئی ہے! عالمی سطح پر ’بٹ کوائنز‘ کی ’اے ٹی ایم‘ مشینیں قائم کرنے کی بات ہو رہی ہے! 

کیا ہمارے فیصلہ سازوں کو کچھ اندازہ ہے کہ پاکستان سے کتنا سرمایہ ’بٹ کوائنز‘ کے ذریعے بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے؟ بڑے شہروں میں ’انٹرنیٹ گیمنگ کلبس‘ عالمی مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد اِن ایک ایسے نشے کی عادی ہو رہی ہے جس سے جانی (صحت) و مالی نقصانات ہو رہے ہیں لیکن نہ تو وفاقی اور نہ ہی صوبائی حکومتوں کی اِس جانب توجہ مبذول ہے! جنگ جاری ہے۔ ممالک کے درمیان ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوششیں عروج پر ہیں اور ’انٹرنیٹ کی دنیا‘ میں زیادہ سے زیادہ حکمرانی میں حصہ داری کے لئے جہاں ہر ملک بطور حکمت عملی کوشش کر رہا ہے‘ وہیں پاکستان میں انٹرنیٹ ہی کے استعمال پر خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں! ’بٹ کوائنز‘ کی قدر بڑھنے کی ممکنہ وجہ امریکہ‘ یورپ اور چین میں اس کرنسی کی بڑھتی ہوئی قبولیت ہے جبکہ جاپان میں بٹ کوائنز کے حوالے سے ایک خرابی (بگ) سامنے آنے کے بعد سے لوگوں نے اسے ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے بھی بٹ کوائنز کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ ابھی تو ’انٹرنیٹ‘ کے ممکنہ اطلاق بارے بہت کچھ سمجھنا اور سمجھانا ہے۔ ریاست اپنی ذمہ داریوں سے یوں الگ نہیں ہو سکتی! 

پاکستان میں سائبر قوانین کا پوری طاقت (شدت) سے اطلاق اور اِس کی ’باپردہ کاروائیوں‘ کی بجائے اُس توانائی سے بھرپور افرادی قوت اور جوان ذہانت کا تعمیری مقاصد کے لئے استعمال ہونا چاہئے جسے دباؤ اور طاقت سے بغاوت پر اکسانا کسی بھی صورت دانشمندی نہیں۔

Saturday, April 16, 2016

APR2016: Complexity to Clarity!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اِبہام سے اِظہار تک!
محکمۂ بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا کے ’کارہائے نمایاں‘ اُجاگر کرنے کے لئے ’مواصلاتی رابطے‘ بڑھانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے‘ جس کے لئے ’اِبہام سے اِظہار تک (Complexity to Clarity)‘ نامی حکمت عملی کے تحت محکمہ اپنے طور پر عوام تک معلومات پہنچانے کے لئے دستیاب وسائل سے اِستفادہ کرے گا۔ خیبرپختونخوا کے ’محکمۂ اطلاعات‘ کی موجودگی میں کسی حکومتی محکمہ کا وقت اُور سرمایہ اپنے طور تشہیر پر خرچ کرنے کا فیصلہ غیرمنطقی ہے اُور اَگرچہ محکمۂ بلدیات و دیہی ترقی کے فیصلہ سازوں کو ’محکمۂ اطلاعات (انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ)‘ کی کارکردگی پر اِطمینان نہیں تو اِس سلسلے میں اِصلاح کی گنجائش موجود ہے اُور کسی ایک محکمے کو ’حسب توقع کارکردگی‘ دکھانے کے لئے اہداف مقرر کئے جاسکتے ہیں لیکن ایک ہی کام کے لئے ایک سے زیادہ ادارے اگر اپنے مالی وسائل خرچ کریں گے تو یہ وقت اُور وسائل کا ضیاع ہوگا۔

صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان صرف اپنی وزارت کے ’گڈ ورک‘ کی تشہیر نہیں چاہتے بلکہ اُن کی نظر میں صوبائی حکومت کی بھی خاطرخواہ تشہیر یا ذرائع ابلاغ میں دفاع نہیں ہورہا تاہم اُن کی توجہ اپنے ذمہ داریوں پر مرکوز ہے۔ اُن کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کے ہر محکمے نے ماضی کے مقابلے اصلاحاتی ایجنڈے کے مطابق تبدیلی کے لئے کام کیا ہے اور خود اُن کے محکمے (بلدیات) نے چالیس سے پچاس ایسے اصلاحاتی اقدامات کئے ہیں جن کے بارے میں عوام کو آگاہی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ محکمے کا اپنا فعال و مضبوط ’تشہیری شعبہ (کیمونیکشن ونگ)‘ تشکیل چاہئے جس کی کمی پوری کر دی گئی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ محکمۂ تعلیم کے بعد خیبرپختونخوا کا بڑا سب سے بڑا محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کا ہے اور اگر حال ہی میں قائم ہونے والے بلدیاتی (مقامی) حکومتوں کا ذکر کیا جائے تو اِس محکمے سے وابستہ منتخب نمائندوں کی تعداد 44 ہزار سے زیادہ ہے۔ تصور کیجئے کہ چوالیس ہزار سے زیادہ بلدیاتی نمائندے وابستہ ہیں جن تک وقتاً فوقتاً معلومات اور محکمے کی جانب سے اطلاعات پہنچانے کا عمل مربوط و فعال ہونا چاہئے۔ سب سے اہم ضرورت تو منتخب بلدیاتی نمائندوں کو بلدیاتی قواعد و ضوابط سے مطلع کرنے کی تھی کیونکہ اکثریت کے لئے انگریزی زبان میں تحریر قانون و قواعد کو سمجھنا آسان نہیں تھا۔ بہرحال یہ کام کسی حد تک ذرائع ابلاغ نے آسان کیا لیکن کوئی ایسا مستند ذریعہ اور وسیلہ بہرحال ہونا چاہئے جہاں بلدیاتی نمائندوں کو اپنے سوالات کے جواب یا وضاحت مل سکے۔ ماضی میں محکمۂ بلدیات و دیہی ترقی کی کارکردگی جو بھی رہی ہو لیکن بلدیاتی (مقامی حکومتوں کا) نظام فعال ہونے کے بعد جو بھی ترقیاتی کام جاری ہیں یا جس انداز میں ترقیاتی حکمت عملی عوام کی توقعات کے مطابق وضع کی جارہی اُس کے خدوخال نہ صرف ریکارڈ پر لانا ضروری ہیں بلکہ اُن سے دیگر اضلاع کے بلدیاتی نمائندوں کوبھی آگاہی ہونی چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ضلع میں صفائی کا نظام بہتر بنانے کے لئے ٹھیکیداری نظام سے استفادہ کیا جارہا ہے تو اِس سے پیدا ہونے والی سہولیات اور پیچیدگیوں کے بارے دیگر اضلاع کو مطلع کرنا اور اُن کے سوالات (اگر ہوں) تو کس طرح بذریعہ محکمہ کئے جا سکتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کے تجربات و کارکردگی سے فائدہ اُٹھایا جا سکے یقیناًیہ کام ’محکمۂ اطلاعات‘ کے وہم و گمان سے بالا اور بہت بڑا ہے‘ جس کے لئے اگر محکمۂ بلدیات ایک الگ ’کیمونیکیشن ونگ‘ بنا لیتا ہے تو اِس کا صدر دفتر ’محکمۂ اطلاعات‘ ہی میں ہونا چاہئے تاکہ معلومات کی تشہیر اُور دیگر محکموں کے ساتھ تبادلہ تیزترین (مستعد) اُور ہرممکن سطح پر ممکن بنایا جاسکے۔

 وزیربلدیات ایک نئے دور کا آغاز کر چکے ہیں جس میں ہر چھوٹے بڑے کام و اقدام کی تشہیر ہوگی بلکہ یہ کام عارضی بندوبست کے تحت نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر کیا جارہا ہے۔ سال 2016ء سے 2020ء تک کے لئے اختیار کی گئی ’مواصلاتی حکمت عملی (کیمونیکشن اسٹریٹجی)‘ کے لئے مستقل لائحہ عمل تشکیل دیا گیا ہے۔ بہت کم ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی محکمے کا وزیر اس قدر سنجیدگی اُور جذباتی لب و لہجے میں احکامات صادر کر رہا ہو یعنی دلچسپی لے رہا ہو۔ قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا میں بلدیات و دیہی ترقی کے محکمے کو مضبوط بنانے کے لئے جرمن حکومت کا اِدارہ ’جی آئی زیڈ (GiZ)‘ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات (موجودہ حکومت) سے قبل ’فراخدلانہ تعاون‘ کر رہا ہے اُور اِس تعاون میں فنی و تکنیکی تربیت بلکہ سازوسامان (ہارڈوئرز) کی فراہمی بھی شامل ہے۔

 جرمن حکومت کا سال 2011ء سے جاری یہ تعاون جن چار شعبوں میں ہے‘ اُن میں گورننس (طرزحکمرانی) کے تحت صوبائی وزیربلدیات سے تعاون جاری ہے۔ ہرسال ایک منصوبہ بندی کی ورکشاپ ہوتی ہے جس میں محکمے کی جانب سے کارکردگی کے اہداف مقرر کئے جاتے ہیں اور جہاں کہیں تکنیکی یا فنی یا آلات بصورت امداد کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ جرمن حکومت کی جانب سے فراہم کئے جاتے ہیں۔ محکمہ بلدیات کی جانب سے ’جی آئی زیڈ‘ کو 2014ء میں درخواست دی گئی تھی کہ ایک ایسی الگ خصوصی مواصلاتی حکمت عملی ہونی چاہئے پھر دو سال اِس حکمت عملی پر کام ہوتا رہا۔ جی آئی زیڈ نے مختلف شعبوں کے ماہرین اور متعلقہ حکام کی مسلسل مشاورت سے فروری 2016ء میں ایک حکمت عملی (دستاویز) مرتب کی‘ جسے مارچ میں محکمۂ بلدیات نے منظور کیا اور چودہ اپریل دوہزار سولہ کو اِس کے لاگو ہونے کا اعلان کردیا گیا اِس سلسلے میں www.lgkpk.gov.pk کو پہلے سے زیادہ جامع بنا دیا گیا ہے۔

قابل ذکر یہ بھی ہے کہ خیبرپختونخوا کا محکمۂ بلدیات ایسا واحد محکمہ ہونے کا منفرد اعزاز حاصل کرگیا ہے جس کی اپنی ’کیمونیکشن حکمت عملی‘ ہے اور اگر جرمن حکومت کا تعاون محکمہ اطلاعات کے شامل ہوتا تو اُن کے لئے بھی اسی طرز کا لائحہ عمل تشکیل دیا جاتا جس کی اَشد ضرورت ہے کیونکہ ’حالات حاضرہ‘ کا تقاضا ہے کہ ’’مواصلات و رابطہ کاری‘‘ صرف تحریری اعلامیے جاری کرنے کی حد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اِلیکٹرانک وسائل بالخصوص سماجی رابطہ کاری کے تیزرفتار وسائل (انٹرنیٹ) کا اِضافہ مستعد کردار اَدا کرنے کا متقاضی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کو ’جی آئی زیڈ‘ کی مرتب کردہ حکمت عملی سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے اِسے نہ صرف محکمۂ اطلاعات بلکہ دیگر محکموں کی حد تک بھی پھیلانا چاہئے کیونکہ معلومات کی فراہمی جس قدر وسیع و بڑے پیمانے پر ممکن بنائی جائے گی اُس کے ثمرات حکومتی ساکھ سے متعلق منفی تاثر کے زائل ہونے کی صورت بھی اُسی قدر تیزی سے ظاہر (اظہرمن الشمس) ہوگا۔
Communication Strategy by LG&RD is a good example to be be adopted by other Govt Departments including the Information Department of KP

Saturday, February 20, 2016

ٖFeb2016: Corrupt by nature!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بہ اَمر مجبوری مصلحتیں!
خیبرپختونخوا میں حکومت کرنا کبھی بھی آسان نہیں رہا بالخصوص سال 2001ء کے ماہ ستمبر کی گیارہ تاریخ نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اُس ایک دہشت گرد ’نائن الیون‘ حملوں کے منفی اثرات سے خیبرپختونخوا محفوظ نہ رہ سکا تاہم صرف یہی ایک منفی محرک نہیں تھا بلکہ 2002ء کے عالمی اقتصادی بحران نے بھی رہی سہی کسر نکال دی اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کا اگر جائزہ لینا ہے تو اِس کے لئے ماضی کی اُن دو حکومتوں کی کارکردگی کو بھی دیکھنا ہوگا‘ جنہوں نے بدترین امن و امان اور سیاسی و اقتصادی حالات کا سامنا کیا لیکن جو ایک قدر اِن مختلف اور سبھی سیاسی جماعتوں میں مشترک دکھائی دے گی وہ انتخابی وعدوں اور بیانات کو عملی جامہ پہنانے میں ناکامی ہے۔

مختلف سیاسی جماعتیں اُور مختلف نظریات لیکن طرزعمل سب کا ایک‘ رنگ الگ لیکن ایک جیسا دکھائی دینے والی اِس حیرت انگیز مشابہت کی بنیاد وہ معلوم ’سیاسی مجبوریاں‘ ہیں جن کی وجہ سے ’مصلحت‘ اختیار کی جاتی ہے اور جہاں کہیں ’سیاسی فیصلہ سازی‘ کی دیوار میں مصلحت کی ایک اینٹ چن دی جائے وہیں سے دیوار ٹیڑھی ہونا شروع ہو جاتی ہے!

بہ امر مجبوری اِن سیاسی مصلحتوں ہی کا نتیجہ ہے کہ خیبرپختونخوا کو اُس کا جائز حق نہیں مل رہا۔ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کی بات ہو یا پن بجلی کے خالص منافع کا رونا‘ امن و امان کی مخدوش صورتحال سے نمٹنا ہو یا مالی مسائل و مشکلات برسرزمین ’سیاسی افراتفری کا ماحول‘ ہر حکومت کا خاصہ رہا ہے کہ اُس کے پاس اپنی کارکردگی پر پردہ ڈالنے کے لئے جواز کی کمی نہیں ہوتی۔ یادش بخیر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) سے مل کر حکومت بنائی اور تب ’پی پی پی‘ کی مرکز میں بھی حکومت تھی۔ اصولی طور پر خیبرپختونخوا میں اتحادی ہونے کی وجہ سے وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے حقوق کی ادائیگی یا قدرتی وسائل کی ترقی سے اِس کی آمدنی و اقتصادیات کو بڑھا چڑھا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ سیاسی مصلحت آڑے آ گئیں۔ اب جبکہ ’پاکستان تحریک انصاف‘ ایک ایسے سیاسی اِتحاد کی سربراہی کر رہا ہے جس کے وفاقی حکمراں جماعت کے اراکین سے ظاہری مثالی تعلقات نہیں اور دونوں ہی جماعتیں اپنا قیمتی وقت ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی یا سازشوں کے جال بننے میں خرچ کر رہی ہیں تو صورتحال آج بھی وہیں کی وہیں کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

 المیہ تو یہ ہے کہ جب خیبرپختونخوا کے عوام مذہبی جماعتوں کے اتحاد ’متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کو ووٹ دے رہے تھے تو ’عرفاء‘ نے بھی عوام کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو قوم پرست اور سیکولر نظریات رکھنے والی ’اے این پی‘ کا تھا۔ ایک سے بڑھ کر ایک وعدہ۔ ایک سے بڑھ کر ایک سنجیدہ بیان اُور ایک سے بڑھ کر ایک بدعنوانی کی مثالیں! آخر کب ہمارا طرز حکمرانی مسائل کا حل ثابت ہوگا؟

خیبرپختونخوا اُور وفاق کے درمیان جاری سرد جنگ کا نقصان جہاں تحریک انصاف کو ہو رہا ہے جسے اپنے انتخابی منشور کو عملی جامہ پہنانے کی جلدی ہے لیکن وقت پر گرفت نہ تھی اور نہ ہی اِس کے قیمتی ہونے کا احساس کیا گیا۔ خیبرپختونخوا میں حکومت ملنا کسی نعمت سے کم نہیں تھا افسوس کہ خاطرخواہ قدر نہیں کی گئی۔ اصولی طور پر تحریک انصاف کو دو محاذوں پر جدوجہد کرنا چاہئے تھی ایک بطور فعال حزب اختلاف کے طور پر مرکز میں اور دوسرا بطور بہترین طرز حکمرانی کے ذریعے خیبرپختونخوا کے دیرینہ مسائل کے پائیدار حل پر توجہ دی جاتی۔ اِس غفلت کی ایک وجہ راتوں رات سیاستدان اور حد سے زیادہ سمجھ بوجھ کے مالک بننے والوں کے ہم نوالہ ہوئے وہ غیرسیاسی دانشور ہیں جنہیں سیاسی طرزحکمرانی کا تجربہ نہیں۔ معالج محض نیک تمناؤں سے نہیں بلکہ دوا کے ذریعے بھی علاج تجویز کرتا ہے اور کسی مرض سے چھٹکارہ پانے کے لئے ’نیک نیتی‘ کے ساتھ عملی کوششوں میں ’سزا و جزأ‘ کی کڑوی گولی کیساتھ جراحت (سرجری) کی بھی ضرورت بہرحال رہتی ہے۔ بدعنوانی کے مریض عشق پر خدا کی رحمت خدا (اِس قدر ہے کہ) ’’دوا کے ساتھ مرض بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے!‘‘

Feb2016: Technical Corruption in KP

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تکنیکی مسائل!
ٹیکنالوجی کے اِستعمال اُور اِستفادہ کرنے کے ’نشوونما‘ پاتے رجحان نے جہاں روزمرہ زندگی کو آسان لیکن اِس قدر مصروف بنا دیا ہے کہ ایک ہی گھر‘ خاندان‘ محلے‘ علاقے یا شہر کے لوگوں کو آپس میں بالمشافہ تبادلۂ خیال کی فرصت نہیں رہی تو دوسری جانب ایک جیسی دلچسپیاں یا مشاغل رکھنے والوں کو ایسا پلیٹ فارم بھی فراہم کردیا ہے جہاں اظہار کی اِس قدر آزادی ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ یہی وہ محل ہے جہاں ٹیکنالوجی کے حسب حال و ضرورت استعمال کا مشورہ ضرورت بن جاتی ہے۔ نئی نسل کے لئے چمکتی دمکتی ٹیکنالوجی میں کشش کو فکری سمت (قبلہ) دینا وقت کا تقاضا ہے اُور سب سے بڑھ کر ٹیکنالوجی کو ’بہتر طرز حکمرانی‘ کی داغ بیل ڈالنے جیسے عظیم مقصد اُور اِس کے ذریعے ’طرز حکمرانی‘ پر آنے والے اخراجات کم کرنے جیسا ہدف بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کی جملہ سیاسی جماعتوں میں ’پاکستان تحریک انصاف‘ کی قیادت سب سے زیادہ ’ٹیکنالوجی دوست‘ ہے اور اسی وجہ سے توقعات بھی تحریک انصاف ہی سے وابستہ ہیں کہ وہ ٹیکنالوجی کی آڑ میں ہونے والی بدعنوانی کے امکانات ختم نہیں تو کم ضرور کرے گی۔ حکمرانی کی اصلاح سے لیکر عام انتخابات کے شفاف انعقاد اور سرکاری اداروں کا قبلہ درست کرنے کے لئے مشینوں پر زیادہ بھروسہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ ماضی کی سیاسی جماعتوں نے اصلاح کرنے کی کوشش نہ کی ہو‘ بلکہ ہوا یہ ہے کہ اصلاح کی کوششیں ناکام بنانے والے زیادہ شاطر نکلے! چونکہ ٹیکنالوجی کا اپنا کوئی دماغ نہیں ہوتا لیکن اگر اِس سے کوئی مثبت کام لینے کی خوٓہش ہو تو بس یہی پائیدار حل ہے۔ ’کم خرچ بالا نشین‘ ہونے کی بجائے ہمارے ہاں ٹیکنالوجی غیرضروری طور پر مہنگے داموں خریدی جاتی ہے۔ سرکاری محکموں کا مزاج بن چکا ہے کہ وہ کسی معمولی سی ضرورت کے لئے اس قدر تیزرفتار کمپیوٹر اُور اُس سے متعلق دیگر آلات خریدتے ہیں جس سے سوائے پیسے کے ضیاع کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

سیاسی حکومتوں کی اپنی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔ اُن کے انتخابی منشور گلے کا پھندہ نہ بنیں‘ ایسی کسی شرمندگی سے بچنے کے لئے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ’نیک نامی‘ کمانے کے علاؤہ ایسے اقدامات سے بھی حتی الوسع گریز کیا جاتا ہے جو بددیانتی و بدعنوانی کے زمرے میں شمار ہوں۔ خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت کا ٹیکنالوجی کی جانب رجحان دیکھتے ہوئے ’خالصتاً کاروباری سوچ رکھنے والے طبقات‘ ایسے سرکاری آفیسرز کو اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں‘ جنہیں فیصلہ سازی کا منصب تو عطاہو جاتا ہے لیکن انہیں یہ بات تسلیم کرنے میں عار ہوتی ہے کہ ’’وہ یہ جانتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے!‘‘ سردست فوری ضرورت اِس امر کی ہے کہ ٹیکنالوجی کی خریداری کے لئے ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ کے موجود محکمے پر چند کالی بھیڑوں کی اِجارہ داری ختم کی جائے اُور اِس کے بعد ٹیکنالوجی کی ہرضرورت چاہے وہ کسی بھی صوبائی محکمے کی ہو‘ اِسی محکمے کے ذریعے ہو تو کروڑوں نہیں بلکہ سالانہ اربوں روپے کی بچت کی جاسکتی ہے۔

کسی سرکاری محکمے کی ٹیکنالوجی ضروریات کا تعین بھی ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ کے محکمے ہی کو کرنی چاہئے تاکہ غیرضروری الیکٹرانک آلات کی خریداری میں عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ضائع نہ ہو۔ اس سلسلے میں ایک مثال دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ چند برس قبل پشاور یونیورسٹی کے ایک ڈیپارٹمنٹ نے کمپیوٹرز کی خریداری کا ٹینڈر دیا۔ جس کی کاغذی کاروائی اور آلات کی فراہمی میں چھ مہینے کا وقت لگ گیا۔ ٹینڈر جاری کرتے ہوئے آلات کی قیمت چھ ماہ بعد کم و بیش پچاس فیصد کم ہو چکی تھی لیکن چونکہ سرکاری فائلوں میں ایک قیمت درج تھی اِس لئے مارکیٹ ریٹ سے مہنگے داموں کمپیوٹر خریدے گئے اور اِس سودے میں خزانے کو کم سے کم ایک کروڑ روپے کا ٹیکہ لگا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک کروڑ روپے آلات فراہم کرنے والے نجی ادارے نے اکیلے ہضم نہیں کئے بلکہ کئی کردار اِس سے مستفید ہوئے اور یہ طریقۂ واردات (سلسلہ) آج بھی جاری ہے کہ 1: سرکاری محکمے اپنی حقیقی ضرورت کے مطابق ٹیکنالوجی کا انتخاب نہیں کرتے۔ 2: ٹیکنالوجی خریدنے کے لئے جاری ہونے والے ٹینڈر اور آلات کی فراہمی کے عمل میں ایک سے تین ماہ کا وقت لگ جاتا ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں پچاس فیصد تک کم ہو جاتی ہیں۔ 3: مقامی طور پر تیار ہونے والے آلات پر غیرملکی ہونے کے لیبل لگا کر اُنہیں فراہم کرنے کا معمول ایک الگ نوعیت کی بدعنوانی ہے‘ جو دھوکہ دہی کے زمرے میں بھی آتی ہے اُور اِسی کی بنیاد پر پشاور میں کئی ایک ایسے ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے کاروباری ادارے ہیں جن کے مالکان راتوں رات کروڑ پتی بن گئے ہیں! 4: ٹیکنالوجی کی خریداری اور دیگر ضروریات کے لئے الگ الگ قواعد و ضوابط تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ 5: ٹیکنالوجی خریدنے سے قبل اُس کے استعمال و دیکھ بھال کے لئے تربیت یافتہ عملہ یا عملے کی تربیت کا انتظام لازمی طورپر ہونا چاہئے۔ 6: ٹیکنالوجی کی گارنٹی (بعدازفروخت سروس) رکھنے والے نجی اداروں سے خریداری کی جائے۔7: ٹیکنالوجی کی فراہمی کرنے والے اداروں کی رجسٹریشن کا طریقۂ کار نظرثانی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیرنگرانی ہونا چاہئے۔

مثال ملاحظہ کیجئے کہ ’’کور آئی سیون‘ فورتھ جنریشن کے تھری پوائنٹ سیکس (3.6) رفتار والے پراسیسر کی مارکیٹ میں فی لیپ ٹاپ قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے ہے جبکہ تھری پوائنٹ ٹو (3.2) رفتار والے پراسیسر کا لیپ ٹاپ صرف پچانوے ہزار روپے میں مل جاتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص ’سٹاپ واچ‘ لگا کر بھی جائزہ لے تو تین اعشاریہ چھ اور تین اعشاریہ دو والے لیپ ٹاپ کی رفتار میں فرق معلوم یا ثابت نہیں کرسکے گا۔ دونوں کی رفتار میں پوائنٹس کا ردوبدل لیکن قیمت میں تیس سے چالیس فیصد اضافی فرق لائق توجہ ہے اور ایسی کئی ایک تکنیکی باریکیوں کے بارے میں نہ تو اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو خاطرخواہ علم ہوتا ہے اور نہ ہی وہ دردمندی کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ پیسہ قومی خزانے سے ادا ہو رہا ہوتا ہے کسی کی ذاتی جیب سے نہیں۔ امانت و دیانت کے دھندلے تصورات والے معاشرے میں جہاں سرمائے‘ اختیارات اُور سرمائے کی بنیاد پر سماجی حیثیت کو دل سے قبول کر لیا گیا ہو‘ وہاں سرکاری وسائل کے غیرمحتاط استعمال یا مالی و انتظامی بدعنوانیوں جیسی خرابیوں کی گنجائش پر تعجب کے اظہار سے زیادہ تعجب اُس سوچ پر ہونا چاہئے جو بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی بجائے آلودگیوں سے کراہت کی تبلیغ کر رہی ہے!