Showing posts with label Local Government. Show all posts
Showing posts with label Local Government. Show all posts

Friday, August 12, 2022

Is Peshawar developing the success from failures?

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: ترقیئ معکوس

نئے مالی سال (دوہزاربائیس تیئس) کے دوران پشاور کی مقامی حکومتوں (بلدیاتی اداروں) کو 19ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ تفصیلات کے مطابق اِس خطیر رقم میں سے ترقیاتی (تعمیراتی) عمل کے جو کچھ باقی بچے گا‘ وہ اُونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے! کیونکہ تنخواہوں کی ادائیگی کے بعد صرف 3.47 ارب روپے ترقیاتی عمل کے لئے باقی بچیں گے اُور تصور کیا جا سکتا ہے کہ سیاسی ہو یا بلدیاتی طرزحکمرانی کس قدر مہنگا ہو چکا ہے! رواں مالی سال کے دوران تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز (ٹی ایم ایز) کو 68ملین (6 کروڑ 80 لاکھ) روپے جاری کئے جائیں گے۔ اِس تقسیم میں پشاور شہر کو اکتیس کروڑ ساٹھ لاکھ (316 ملین) روپے‘ ٹی ایم اے پشتخرہ کو 80ملین (8 کروڑ) روپے‘ ٹی ایم اے شاہ عالم کو 72ملین (7 کروڑ 20لاکھ) روپے‘ ٹی ایم اے چمکنی کو 83ملین (8 کروڑ 30لاکھ) روپے‘ بڈھ بیر کو 71ملین (7 کروڑ 10لاکھ روپے) اور ٹی ایم اے متھرا کو 72 ملین (7کروڑ 20لاکھ) روپے جاری کئے جائیں گے۔ ترقیاتی فنڈز کی مد میں پشاور شہر کے لئے مجموعی طور پر 918ملین (91 کروڑ 80 لاکھ) روپے اور شہر کے گاؤں اور محلہ کونسلوں کے لئے 612ملین (61 کروڑ 20 لاکھ) روپے دیئے جائں گے۔ اِس پوری تمہید کا خلاصہ یہ ہے کہ 7 تحصیلوں (پشاور شہر‘ شاہ عالم‘ متھرا‘ چمکنی‘ بڈھ بیر‘ پشتخرہ اُور حسن خیل) پر مشتمل (مبنی) ضلع پشاور کے لئے مختص مالی وسائل کا بڑا حصہ سرکاری (بلدیاتی) ملازمین کی تنخواہوں کی نذر ہو جاتا ہے جبکہ باقی ماندہ مالی وسائل میں بیس سے تیس فیصد دفتری (روزمرہ) اخراجات اُور اجلاسوں کے لئے چائے پانی یا اراکین و ملازمین کی آمدورفت پر خرچ ہو جاتا ہے۔ باقی ماندہ ستر فیصد ترقیاتی فنڈز کا نصف تعمیراتی کاموں کے عمل میں پائی جانے والی مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے باعث ذاتی اثاثوں میں گھل مل جاتا ہے اُور اِس پوری ترقیاتی حکمت ِعملی (بندوبست) کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر سال اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ضلع پشاور کے طول و عرض میں ترقیاتی عمل ’ترقیئ معکوس‘ کا نمونہ بنا ہوا ہے۔

پشاور کی ترقیاتی ضروریات شہری و دیہی علاقوں کے لئے الگ الگ ہیں اُور اِنہیں ایک جیسی نظر سے دیکھنا بھی مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پر اندرون شہر (تحصیل پشاور سٹی) کی حدود میں قریب نوے فیصد گلیاں کوچے‘ سڑکیں اُور نکاسیئ آب کی نالیاں نالے پختہ ہیں جنہیں ہر چند برس بعد اُکھاڑ کر دوبارہ تعمیر کیا جاتا ہے جبکہ پشاور شہر کی ضرورت نکاسیئ آب کے نظام کی توسیع اُور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے ٹیوب ویلوں پر انحصار کم کرنا ہے۔ اِس سلسلے میں پشاور کے اطراف میں بنے پانی کے ذخائز (ڈیموں) سے کشش ثقل (گریوٹی فلو) پر پانی کی فراہمی ترجیح ہونی چاہئے جس کا ایک تجربہ جاپان حکومت کے مالی و تکنیکی تعاون سے ایبٹ آباد شہر میں کیا گیا اُور یہ کامیابی سے جاری ہے۔ پشاور کے ضلعی فیصلہ سازوں کو پہلی فرصت میں ایبٹ آباد کی ’گریوٹی فلو اسکیم‘ کا مطالعہ کرنا چاہئے جو اپنی مثال آپ ہے اُور اگرچہ اِس منصوبے کو چند یونین کونسلوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تخلیق کیا گیا تھا لیکن بعدازاں توسیع اُور وقفوں سے پانی فراہمی کے ذریعے اِسے نصف سے زیادہ ایبٹ آباد شہر کو پانی فراہم کیا جا رہا ہے تاہم گریوٹی فلو اسکیم میں چند تکنیکی خرابیاں بھی ہیں جو پانی کو ذخیرہ کرنے اُور اِس کی تطہیر کے عمل سے متعلق ہیں اُور جب بلدیاتی نمائندے اِس کا مطالعہ کرنے جائیں گے تو اُنہیں خود وہ سبھی غلطیاں (خامیاں) نظر آ جائیں گی جس کی وجہ سے پانی کا اخراج اُور معیار متاثر ہیں۔

پشاور شہر اُور پشاور کی دیگر 6 تحصیلوں کی ترقیاتی ضروریات میں زمین آسمان کا فرق ہے اُور یہ فرق آمدنی کا بھی ہے اُور اگر صوبائی حکومت بلدیاتی فیصلہ سازوں کے ساتھ مل کر ترقیاتی وسائل کی تقسیم کے لئے آمدنی کا پیمانہ وضع کرے یعنی جس تحصیل کی آمدنی زیادہ ہے وہاں ترقیاتی کام بھی اُسی تناسب سے زیادہ ہونے چاہیئں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پشاور شہر کی تحصیل سے حاصل ہونے والی آمدنی زیادہ لیکن یہاں ترقیاتی کاموں کے لئے مختص وسائل نسبتاً کم شرح سے جاری کئے جاتے ہیں۔ اِسی طرح ہر تحصیل میں بلدیاتی ملازمین کی تعداد پر نظرثانی ہونی چاہئے اُور دیہی علاقوں پر مشتمل تحصیلیوں کی آمدنی زیادہ لیکن وہاں ترقیاتی ضروریات زیادہ ہیں تو دانشمندی اِسی میں ہے کہ دستیاب مالی وسائل کو غیرترقیاتی اخراجات (ملازمین کی تنخواہوں اُور مراعات) کی بجائے ترقیاتی عمل اُور بالخصوص ایسے ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونا چاہئے جن سے آمدنی ممکن ہو۔ پائیدار ترقی کا تصور یہی ہے کہ اِس میں ترقیاتی عمل آمدنی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ بلدیاتی فیصلہ سازوں ہر تحصیل کے لئے الگ الگ شرح سے پیشہ ور ٹیکس وضع کرنا چاہئے۔ اندرون شہر جہاں کاروباری سرگرمیاں زیادہ ہیں اُور تاجروں دکانداروں کی آمدنی زیادہ ہے تو اُن پر پیشہ ور ٹیکس کی شرح اُور صفائی و دیگر شہری سہولیات کے عوض ٹیکس کی شرح کا تعین دیہی علاقوں پر مشتمل تحصیل سے مختلف ہونا چاہئے۔ بلدیاتی نظام اپنی ذات میں خیر و برکات کا مجموعہ ہے لیکن یہ نظام صرف نمائندوں کے انتخاب سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ اِس کی تکمیل و جامعیت کے لئے دستیاب مالی وسائل کا زیادہ سمجھ بوجھ‘ زیادہ ہوشیاری و ہمدردی اُور زیادہ امانت و دیانت (شفافیت) سے استعمال ہونا چاہئے۔

Clipping from Daily Aaj Peshawar Dated 12 August 2022 Friday


Friday, June 9, 2017

June2017: KP Budget for FY 2017-18 & ignored LG System!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سفر رائیگاں!؟
خود کو آج بھی وہیں کا وہیں کھڑا محسوس کرنے والوں کے لئے سال دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل اور بعد کی صورتحال زیادہ مختلف نہیں! کردار (چہرے) بدل گئے ہیں لیکن ’سیاسی تماشا‘ اور ’تماش بینوں‘ کا ایک دوسرے سے (دیکھدا جاندا رے جیسا) تعلق وہیں کا وہیں ہے‘ یہی سبب ہے کہ ’خیبرپختونخوا‘ کے ’وسائل اور مسائل‘ کی الجھن میں ہر ’بجٹ‘ کے ساتھ اِضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے! 

خوداحتسابی کے کم سے کم معیار کے ساتھ بھی اگر مالی و انتظامی نظم وضبط لاگو کرنے کی زحمت گوارہ کی جاتی‘ طرز حکمرانی کی بنیاد ’اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے‘ جیسی صورت اختیار کی جاتی تو ’الفاظ کے گورکھ دھندے‘ پر مبنی صوبائی آمدن و اخراجات کا سالانہ میزانیہ (بجٹ) ہر سال بہتری و تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا۔ یادش بخیر سال 2013ء میں خیبرپختونخوا حکومت نے ’بلدیاتی حکومتوں سے متعلق قانون سازی (لوکل باڈیز ایکٹ)‘ کے ذریعے اِس عزم کا اظہار کیا تھا کہ صوبائی حکومت ہر مالی سال کے آغاز پر 30 فیصد ترقیاتی بجٹ (اینول ڈویلپمنٹ پروگرام) عوام کے منتخب بلدیاتی نمائندوں (ضلعی ترقی) کے حوالے کرے گی لیکن سات جون کو صوبائی وزیرخزانہ مظفر سید نے مالی سال دوہزار سترہ و اٹھارہ کا بجٹ پیش کیا‘ جس سے قبل اُمید تھی کہ اپنی آئینی مدت کے آخری سال مقامی سطح پر ترقی کے لئے زیادہ مالی وسائل مختص کئے جائیں گے جس سے ایک ایسا مضبوط و توانا بلدیاتی نظام تشکیل پائے گا‘ جو نہ صرف دوسرے صوبوں کے لئے فقیلد المثال ہو گا بلکہ اس کے ذریعے خیبرپختونخوا میں ’’ترقیاتی عمل کی پیاس‘‘ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ بناء تمہید قابل مذمت قرار دینا چاہئے کہ ’’ترقی کے عمل کو ایک مرتبہ پھر خیبرپختونخوا قانون ساز اسمبلی کے اراکین اور تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے اراکین کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے‘‘ جو اِس سے قبل بھی ’سیاسی‘ انتخابی اور ذاتی‘ ترجیحات کی بنیاد پر اپنے اپنے علاقوں میں ترقی کے نام پر جوکچھ بھی سرانجام دیتے آ رہے ہیں اُس پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی ’تبدیلی‘ کے بارے میں عمومی رائے (تاثر) اگر یہ ہے کہ اِس کا معیار اور مقدار دونوں ہی تسلی بخش نہیں تو بلدیاتی نمائندوں کی اجتماعی فہم و فراست اور مقامی حکومتوں کے ذریعے مقامی مسائل کے حل کو زیادہ بڑا اور وسیع المعانی موقع دینا چاہئے تھا لیکن اگر ایسا نہیں کیا گیا تو درحقیقت تحریک انصاف نے موقع نہ دے کر اپنے آپ کو ملنے والا وہ موقع ضائع کر دیا ہے‘ جو آئندہ عام انتخابات کے نتائج کو اِس کے حق میں تبدیل کرنے کی صلاحیت (قدرت) رکھتا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت نے نئے مالی سال کے لئے مجوزہ بجٹ ’سات جون‘ کو صوبائی اسمبلی اجلاس میں پیش کیا جس کا کل حجم 603 ارب روپے ہے اور اِس میں صوبائی خزانے سے ترقیاتی کاموں کے لئے 126 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں‘ جس میں بیرون ملک سے حاصل ہونے والی 82 ارب روپے کی مالی امداد شامل نہیں۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ (اپنے ہی تخلیق کردہ قانون) کے تحت صوبائی اِس بات کی پابند تھی کہ وہ بلدیاتی حکومتوں کو تعمیروترقی کے لئے مختص مالی وسائل کا 30فیصد منتقل کر دیتی لیکن مجوزہ بجٹ میں بلدیاتی اداروں کا ترقیاتی حکمت عملی کے لئے مختص مالی وسائل میں حصہ 22.2 فیصد رہے گا یعنی ایک سو چھبیس ارب روپے میں سے قریب 28 ارب روپے اضلاع کی ترقیاتی حکمت عملیوں کے لئے مخصوص ہوں گے! کیا اِسے خیبرپختونخوا کے تین سطحی بلدیاتی نظام سے اِنصاف قرار دیا جاسکتا ہے؟

صوبائی بجٹ دستاویز (ڈاکیومنٹ) کئی لحاظ سے دلچسپ ہے لیکن اگر موضوع کو ’بلدیاتی اداروں‘ کی حد تک محدود کر کے اِسے پڑھا جائے تو صوبائی حکومت نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ ’’خیبرپختونخوا میں بلدیاتی ادارے اہم مقام رکھتے ہیں اور اِن کی اہمیت مسلمہ ہے۔‘‘ ساتھ ہی اِس بات کا بھی ذکر تحریری طور پر موجود ہے کہ صوبائی حکومت کی مالی ذمہ داریوں میں یہ امر شامل ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں کے لئے ترقیاتی بجٹ کا ’30فیصد‘ مختص کرے گی تو پھر کیا وجہ تھی کہ عملی طور پر ایسا نہیں کیا گیا تو اِس قریب ’آٹھ فیصد‘ کمی جیسے ’کھلے تضاد‘ کی وضاحت (حساب) کون دے گا؟ 

خیبرپختونخوا کے زمینی حقائق اِس بات کے متقاضی تھے کہ ’فسکل ائر دوہزار سترہ اٹھارہ‘ کے بجٹ میں کم سے کم 30فیصد کی آئینی حد سے زیادہ (بڑھ کر) مالی وسائل فراہم کئے جاتے لیکن عجب ہے کہ صوبائی حکومت نے تو اِس مرتبہ گذشتہ مالی سال (2016-17ء) کے بجٹ سے بھی کم مالی وسائل مختص کئے ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ مالی سال میں 33.9 ارب روپے اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کو دیئے گئے تھے جو اُس وقت کی کل ایک سو چھبیس ارب روپے کی صوبائی ترقیاتی حکمت عملی کا 27.1 (ستائیس اعشاریہ ایک) فیصد بنتا تھا اُور اُمید تھی کہ آئندہ مالی سال میں کم سے کم اِس تین فیصد کمی کو دور کرتے ہوئے مزید دس فیصد اِضافہ کیا جائے گا تاکہ نہ صرف ایک آئینی ذمہ داری کی ادائیگی ’خوش اسلوبی‘ کے ساتھ ممکن ہو سکے بلکہ کم ترقی یافتہ اضلاع کو زیادہ مالی وسائل فراہم کرکے اُس شعور و پختگی کو خراج تحسین پیش کیا جاسکتا تھا‘ جس نے مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں خیبرپختونخوا پر حکمرانی کرنے والی دیگر روائتی سیاسی جماعتوں کو مسترد کرتے ہوئے ’تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا تھا‘ لیکن آخری سال کے بجٹ اُور بلدیاتی اِداروں کے لئے کم ترین مالی وسائل مختص کرنے کے عمل نے گویا ’اک خواب سہانے‘ ہی کو روند ڈالا ہے!‘
کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن موجودہ خیبرپختونخوا حکومت کو پہلے دن سے ’مالی بحران‘ کا سامنا ہے اور اِس بحران سے نمٹنے کے لئے طرز حکمرانی میں سادگی اختیار کرتے ہوئے غیرترقیاتی اخراجات میں کمی ممکن تھی۔ ہر ایک پائی کو سوچ سمجھ کر خرچ کرنے سے ترقی کے جملہ اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکتا تھا۔ 

مالی سال 2017-18ء کے لئے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ’لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ‘ کو مجموعی طور پر ’175.58ارب روپے‘ دیئے جائیں گے۔ جس میں 28 ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لئے اور 121.37 ارب روپے ملازمین کی تنخواہیں مراعات اور دیگر غیرترقیاتی اخراجات کی نذر ہوں گے لیکن بس یہی نہیں بلکہ تعمیر و ترقی کے لئے 28 ارب روپے اور غیرترقیاتی امور پر 121 ارب روپے کے علاؤہ لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے لئے (مختص ایک سو پچھتہر اعشاریہ اٹھاون ارب روپے میں سے) 20 ارب روپے اُن غیرترقیاتی اخراجات کے لئے رکھے گئے ہیں جو ملازمین کی تنخواہوں کے علاؤہ ہیں! 

بیس ارب روپے معمولی رقم نہیں کہ یوں ہوا میں اُڑا دی جائے! کسی محکمے میں ملازمین کی زیادہ سے زیادہ تعداد کا میزانیہ اِس اصول پر ہونا چاہئے کہ غیرترقیاتی امور کی بجائے زیادہ مالی وسائل ترقی پر خرچ ہوں۔ اگر صوبائی حکومت ’بلدیاتی نمائندوں‘ کے دم کرم سے اِستفادہ کرے تو ’محکمۂ بلدیات‘ کے غیرترقیاتی اخراجات میں بڑی حد تک کمی لا سکتی ہے‘ لیکن اِمکانات و ممکنات کی دلدلی زمین پر پاؤں رکھنے والوں کو اَندیشہ ہے کہ وہ اپنا (سیاسی) توازن یعنی اَراکین اسمبلی اپنی اہمیت ہی کھو بیٹھیں گے! لیکن اگر اپنی ہستی (اَنا اور مفادات) کی قربانی دینے کا حوصلہ (ہمت) کا عملی مظاہرہ نہیں ہوگا‘ تو اُس وقت تک کوئی بھی دانہ خاک میں مل کر ’گل و گلزار‘ نہیں ہوگا۔

Monday, May 22, 2017

May2017: The input without output!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
اختیارات کی جنگ!
خیبرپختونخوا میں بلدیاتی حکومتوں کے اِنتخاب و قیام کو دو سال جبکہ تین سطحی نظام کی تشکیل کے تین برس مکمل ہونے پر ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہر مرحلے پر درپیش مشکلات اور بالخصوص بدنیتی پر مبنی اُن اقدامات کا جائزہ لیا جائے‘ جن کی وجہ سے (بہ امر مجبوری) ’مقامی حکومتیں باوجود اپنے قیام‘ بھی خاطرخواہ فعالیت (آزادی) سے کام نہیں کر پا رہیں اور اِس حقیقت کو بھی سمجھا اور زیرغور لایا جائے کہ صرف دنیا کی بہترین اور تیزرفتار قانون سازی کرلینا ہی کافی نہیں بلکہ قوانین اور قواعد پر عمل درآمد بھی یکساں اہم و ضروری ہوتا ہے۔

عملی مثالیں موجود ہیں کہ جہاں کہیں بھی جمہوری نظام حکومت سے جڑی عوام کی توقعات پوری ہو رہی ہیں تو وہ صرف جامع قانون سازی کی وجہ سے نہیں بلکہ ’’تبدیلی‘‘ کا ایک تعلق قوانین کے اطلاق اور اُس عمومی ماحول سے بھی ہے جس میں قانون ساز ایوانوں کی دانش کے سامنے خود فیصلہ سازوں نے سرتسلیم خم کیا۔ اکیس مئی کو ’شریک اقتدار‘ کے عنوان سے چند ایسی باریکیاں (رکاوٹیں) بیان کی گئیں‘ جن کے باعث ضلعی حکومتوں کے نمائندے ’شریک اقتدار‘ تو ہیں لیکن اُن کی فعالیت اِس حد تک محدود کر دی گئی ہے کہ اُن کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اپنی مثال آپ ہیں کہ ہمارے ہاں حکمرانوں کی کبھی بھی کمی نہیں رہی اور اگر اُن کی تعداد میں مزید اضافہ کر بھی دیا جائے تو اِس سے مسائل حل نہیں ہوں گے (جیسا کہ نہیں ہوئے) بلکہ عام آدمی (ہم عوام) کو درپیش بحران کی صورت مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسی ضروریات کی قیمت بڑھتی چلی گئیں۔ سالانہ آمدن و اخراجات کا میزانیہ (بجٹ) مرتب کرتے ہوئے جو مالی وسائل مختص ہوں گے اُن کا بڑا حصّہ تنخواہوں‘ مراعات اُور انتظامی امور (غیرترقیاتی اَخراجات) کی نذر ہو جائیں گے اور یہی خیبرپختونخوا سمیت پاکستان کی کہانی ہے‘ کہ حکومتیں سیاسی ہوں یا غیرسیاسی‘ سادگی(اپنے وسائل پر بھروسہ کرنے) کی بجائے شاہانہ طور طریقوں سے ’اَمور مملکت‘ چلانے کے لئے قومی خزانے بشمول قرض مانگ مانگ کر نمودونمائش پر غیرضروری اخراجات اَدا کئے جاتے ہیں۔

ضرورت اِس طرزفکروعمل کے تبدیل کرنے کی ہے‘ جس میں ایک غریب ملک کے حکمران اور غریبوں کے بارے میں سوچنے والوں کا رہن سہن‘ بودوباش اور طورطریقے سادگی کی عملی تصویر ہوں۔ بصورت دیگر اربوں روپے ترقی اور ترقیاتی عمل کے نام پر خرچ کے باوجود بھی جو کچھ حاصل ہوگا‘ وہ ہمیشہ ناکافی اور نامکمل ہی رہے گا۔

سال دوہزار تیرہ میں جب خیبرپختونخوا حکومت نے ’لوکل گورنمنٹ ایکٹ (قانون)‘ منظور کیا تو ہر طرف سے ’واہ واہ‘ کی صدائیں آئیں۔ اقوام متحدہ بھی تعریف کئے بناء نہ رہ سکا‘ جس کے ایک ذیلی ادارے یونائٹیڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) نے اِسے ترقی کا ایک جامع لائحہ عمل قرار دیا اور اِس اُمید کا اظہار بھی کیا کہ اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی سے نہ صرف ’’ترقی کا معیار‘‘ بہتر ہوگا بلکہ ’فیصلہ سازی میں عوام کی شرکت کے ثمرات سے جمہوریت مضبوط ہوگی لیکن اقتدار برائے نام نچلی سطح پر منتقل ہوا اُور اختیارات جزوی طور پر بلدیاتی نمائندوں کے حصے میں آئے! صوبائی اسمبلی سے منظوری کے کے بعد سے آج تک کے عرصے میں بلدیاتی نظام کی ’نوک پلک سنوارنے‘ کے نام پر اِس کی ’فعالیت‘ کم سے کم اُس درجے تک پہنچانا ہی مقصود و مطلوب دکھائی دیتا ہے جہاں یہ نظام مفلوج (اپاہج) ہو کر اپنی موت آپ مر جائے! یعنی عوام کی دلچسپی ’مقامی حکومتوں کے نظام سے ختم ہو جائے۔‘ آئین پاکستان کے آرٹیکل ’چالیس اے‘ کے تحت وفاق پاکستان کی ہر ایک اکائی (صوبے) کے لئے لازمی قرار ہے کہ وہ اپنے ہاں نہ صرف مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرے بلکہ عوام کے اِن براہ راست منتخب نمائندوں کو سیاسی و انتظامی اور اقتصادی اختیارات بھی منتقل کئے جائیں‘‘ لیکن کیا مقامی حکومتوں کی قانون سازی (خوبصورت الفاظ) سے زیادہ اِس سلسلے میں کوئی پیشرفت ہو پائی ہے؟

صوبائی حکومت کے ترجمان اور خیبرپختونخوا کابینہ کے اراکین ’اقوام متحدہ‘ کے ذیلی ادارے ’یو این ڈی پی‘ کی جانب سے تعریف و توصیف کا حوالہ تو دیتے ہیں لیکن اُن تفصیلات کے بیان سے گریز کرتے ہیں جس میں ’یو این ڈی پی‘ نے نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی مقامی حکومتوں کو اختیارات منتقل نہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔ اگر ہم خیبرپختونخوا کی حد تک بات کریں تو صوبائی حکومت نے حال ہی میں ایسی ترامیم کی ہیں جن کے ذریعے کیمونیکشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو)‘ ضلعی سڑکوں‘ عمارتیں اور پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کا محکمہ صوبائی حکومت کو واپس مل گئے ہیں! اِس ’کھینچا تانی‘ کے سبب نہ صرف اِن محکموں کی کارکردگی بلکہ وقت اُور مالی وسائل بھی خرچ ہوئے ہیں۔ ضلعی سطح پر سڑکیں اور دیگر تعمیرات سمیت اگر سرکاری عمارتوں کی دیکھ بھال کی نگرانی اگر مقامی حکومتوں کے پاس رہتی تو اِس میں مضائقہ ہی کیا تھا؟ ’صوبائی خزانے‘ سے مقامی حکومتوں کو نمائندوں کو تنخواہیں اور مراعات دی جاتی ہیں اُن کے لئے عملہ اور دفاتر کی ضروریات بھی حکومت ہی ادا کرتی ہے لیکن جب اُن سے کام لینے کا مرحلہ آیا تو اختیارات محدود کر دیئے گئے! تعجب خیز امر یہ ہے کہ جب صوبائی قانون ساز اسمبلی مقامی حکومتوں کے اختیارات کم کر رہی تھی تو اِس ’ترمیمی قانون سازی‘ کے عمل میں صرف حکومتی ہی نہیں بلکہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین کی اکثریت بھی پیش پیش رہی‘ گویا اِس سے زیادہ ضروری اور ثواب کا کوئی دوسرا کام باقی ہی نہ رہا ہو! المیہ نہیں تو کیا ہے کہ صوبائی قانون سازوں کو تعمیراتی ٹھیکیداروں کے مفادات تو عزیز اور اُن کی مشکلات کا احساس ہے لیکن اِن تعمیرات کے معیار‘ پائیداری اور سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والی ہر ایک پائی کے درست مصرف اور نگرانی کے تہہ دار نظام پر اعتماد (یقین) نہیں۔ درحقیقت فیصلہ ساز نہیں چاہتے کہ اُن کے اختیارات کم ہوتے چلے جائیں اور وہ اپنے بنیادی کام یعنی قانون سازی کے عمل یا قوانین میں موجود سقم دور کرنے اور سرکاری محکموں کے معاملات کی اصلاح جیسے امور پر غور کرنے تک محدود ہو جائیں!

انتخابی حلقوں کی سیاست کرنے والوں کی ذاتی و سیاسی ترجیحات مقامی حکومتوں کی فعالیت و اختیارات کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اصولی طور پر ایک غیرسیاسی نظام اگر سیاست سے الگ ہی رہتا تو اِس کے زیادہ مفید نتائج حاصل ہو سکتے تھے لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی‘ اگر ہمارے شاہانہ مزاج رکھنے والے سیاسی فیصلہ ساز اپنی غلطیوں کا اِحساس اُور برسرزمین حقائق (مالی و اِنتظامی بدعنوانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے) ضروریات کا ادراک کرلیں!

Saturday, April 16, 2016

APR2016: Complexity to Clarity!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اِبہام سے اِظہار تک!
محکمۂ بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا کے ’کارہائے نمایاں‘ اُجاگر کرنے کے لئے ’مواصلاتی رابطے‘ بڑھانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے‘ جس کے لئے ’اِبہام سے اِظہار تک (Complexity to Clarity)‘ نامی حکمت عملی کے تحت محکمہ اپنے طور پر عوام تک معلومات پہنچانے کے لئے دستیاب وسائل سے اِستفادہ کرے گا۔ خیبرپختونخوا کے ’محکمۂ اطلاعات‘ کی موجودگی میں کسی حکومتی محکمہ کا وقت اُور سرمایہ اپنے طور تشہیر پر خرچ کرنے کا فیصلہ غیرمنطقی ہے اُور اَگرچہ محکمۂ بلدیات و دیہی ترقی کے فیصلہ سازوں کو ’محکمۂ اطلاعات (انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ)‘ کی کارکردگی پر اِطمینان نہیں تو اِس سلسلے میں اِصلاح کی گنجائش موجود ہے اُور کسی ایک محکمے کو ’حسب توقع کارکردگی‘ دکھانے کے لئے اہداف مقرر کئے جاسکتے ہیں لیکن ایک ہی کام کے لئے ایک سے زیادہ ادارے اگر اپنے مالی وسائل خرچ کریں گے تو یہ وقت اُور وسائل کا ضیاع ہوگا۔

صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان صرف اپنی وزارت کے ’گڈ ورک‘ کی تشہیر نہیں چاہتے بلکہ اُن کی نظر میں صوبائی حکومت کی بھی خاطرخواہ تشہیر یا ذرائع ابلاغ میں دفاع نہیں ہورہا تاہم اُن کی توجہ اپنے ذمہ داریوں پر مرکوز ہے۔ اُن کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کے ہر محکمے نے ماضی کے مقابلے اصلاحاتی ایجنڈے کے مطابق تبدیلی کے لئے کام کیا ہے اور خود اُن کے محکمے (بلدیات) نے چالیس سے پچاس ایسے اصلاحاتی اقدامات کئے ہیں جن کے بارے میں عوام کو آگاہی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ محکمے کا اپنا فعال و مضبوط ’تشہیری شعبہ (کیمونیکشن ونگ)‘ تشکیل چاہئے جس کی کمی پوری کر دی گئی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ محکمۂ تعلیم کے بعد خیبرپختونخوا کا بڑا سب سے بڑا محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کا ہے اور اگر حال ہی میں قائم ہونے والے بلدیاتی (مقامی) حکومتوں کا ذکر کیا جائے تو اِس محکمے سے وابستہ منتخب نمائندوں کی تعداد 44 ہزار سے زیادہ ہے۔ تصور کیجئے کہ چوالیس ہزار سے زیادہ بلدیاتی نمائندے وابستہ ہیں جن تک وقتاً فوقتاً معلومات اور محکمے کی جانب سے اطلاعات پہنچانے کا عمل مربوط و فعال ہونا چاہئے۔ سب سے اہم ضرورت تو منتخب بلدیاتی نمائندوں کو بلدیاتی قواعد و ضوابط سے مطلع کرنے کی تھی کیونکہ اکثریت کے لئے انگریزی زبان میں تحریر قانون و قواعد کو سمجھنا آسان نہیں تھا۔ بہرحال یہ کام کسی حد تک ذرائع ابلاغ نے آسان کیا لیکن کوئی ایسا مستند ذریعہ اور وسیلہ بہرحال ہونا چاہئے جہاں بلدیاتی نمائندوں کو اپنے سوالات کے جواب یا وضاحت مل سکے۔ ماضی میں محکمۂ بلدیات و دیہی ترقی کی کارکردگی جو بھی رہی ہو لیکن بلدیاتی (مقامی حکومتوں کا) نظام فعال ہونے کے بعد جو بھی ترقیاتی کام جاری ہیں یا جس انداز میں ترقیاتی حکمت عملی عوام کی توقعات کے مطابق وضع کی جارہی اُس کے خدوخال نہ صرف ریکارڈ پر لانا ضروری ہیں بلکہ اُن سے دیگر اضلاع کے بلدیاتی نمائندوں کوبھی آگاہی ہونی چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ضلع میں صفائی کا نظام بہتر بنانے کے لئے ٹھیکیداری نظام سے استفادہ کیا جارہا ہے تو اِس سے پیدا ہونے والی سہولیات اور پیچیدگیوں کے بارے دیگر اضلاع کو مطلع کرنا اور اُن کے سوالات (اگر ہوں) تو کس طرح بذریعہ محکمہ کئے جا سکتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کے تجربات و کارکردگی سے فائدہ اُٹھایا جا سکے یقیناًیہ کام ’محکمۂ اطلاعات‘ کے وہم و گمان سے بالا اور بہت بڑا ہے‘ جس کے لئے اگر محکمۂ بلدیات ایک الگ ’کیمونیکیشن ونگ‘ بنا لیتا ہے تو اِس کا صدر دفتر ’محکمۂ اطلاعات‘ ہی میں ہونا چاہئے تاکہ معلومات کی تشہیر اُور دیگر محکموں کے ساتھ تبادلہ تیزترین (مستعد) اُور ہرممکن سطح پر ممکن بنایا جاسکے۔

 وزیربلدیات ایک نئے دور کا آغاز کر چکے ہیں جس میں ہر چھوٹے بڑے کام و اقدام کی تشہیر ہوگی بلکہ یہ کام عارضی بندوبست کے تحت نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر کیا جارہا ہے۔ سال 2016ء سے 2020ء تک کے لئے اختیار کی گئی ’مواصلاتی حکمت عملی (کیمونیکشن اسٹریٹجی)‘ کے لئے مستقل لائحہ عمل تشکیل دیا گیا ہے۔ بہت کم ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی محکمے کا وزیر اس قدر سنجیدگی اُور جذباتی لب و لہجے میں احکامات صادر کر رہا ہو یعنی دلچسپی لے رہا ہو۔ قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا میں بلدیات و دیہی ترقی کے محکمے کو مضبوط بنانے کے لئے جرمن حکومت کا اِدارہ ’جی آئی زیڈ (GiZ)‘ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات (موجودہ حکومت) سے قبل ’فراخدلانہ تعاون‘ کر رہا ہے اُور اِس تعاون میں فنی و تکنیکی تربیت بلکہ سازوسامان (ہارڈوئرز) کی فراہمی بھی شامل ہے۔

 جرمن حکومت کا سال 2011ء سے جاری یہ تعاون جن چار شعبوں میں ہے‘ اُن میں گورننس (طرزحکمرانی) کے تحت صوبائی وزیربلدیات سے تعاون جاری ہے۔ ہرسال ایک منصوبہ بندی کی ورکشاپ ہوتی ہے جس میں محکمے کی جانب سے کارکردگی کے اہداف مقرر کئے جاتے ہیں اور جہاں کہیں تکنیکی یا فنی یا آلات بصورت امداد کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ جرمن حکومت کی جانب سے فراہم کئے جاتے ہیں۔ محکمہ بلدیات کی جانب سے ’جی آئی زیڈ‘ کو 2014ء میں درخواست دی گئی تھی کہ ایک ایسی الگ خصوصی مواصلاتی حکمت عملی ہونی چاہئے پھر دو سال اِس حکمت عملی پر کام ہوتا رہا۔ جی آئی زیڈ نے مختلف شعبوں کے ماہرین اور متعلقہ حکام کی مسلسل مشاورت سے فروری 2016ء میں ایک حکمت عملی (دستاویز) مرتب کی‘ جسے مارچ میں محکمۂ بلدیات نے منظور کیا اور چودہ اپریل دوہزار سولہ کو اِس کے لاگو ہونے کا اعلان کردیا گیا اِس سلسلے میں www.lgkpk.gov.pk کو پہلے سے زیادہ جامع بنا دیا گیا ہے۔

قابل ذکر یہ بھی ہے کہ خیبرپختونخوا کا محکمۂ بلدیات ایسا واحد محکمہ ہونے کا منفرد اعزاز حاصل کرگیا ہے جس کی اپنی ’کیمونیکشن حکمت عملی‘ ہے اور اگر جرمن حکومت کا تعاون محکمہ اطلاعات کے شامل ہوتا تو اُن کے لئے بھی اسی طرز کا لائحہ عمل تشکیل دیا جاتا جس کی اَشد ضرورت ہے کیونکہ ’حالات حاضرہ‘ کا تقاضا ہے کہ ’’مواصلات و رابطہ کاری‘‘ صرف تحریری اعلامیے جاری کرنے کی حد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اِلیکٹرانک وسائل بالخصوص سماجی رابطہ کاری کے تیزرفتار وسائل (انٹرنیٹ) کا اِضافہ مستعد کردار اَدا کرنے کا متقاضی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کو ’جی آئی زیڈ‘ کی مرتب کردہ حکمت عملی سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے اِسے نہ صرف محکمۂ اطلاعات بلکہ دیگر محکموں کی حد تک بھی پھیلانا چاہئے کیونکہ معلومات کی فراہمی جس قدر وسیع و بڑے پیمانے پر ممکن بنائی جائے گی اُس کے ثمرات حکومتی ساکھ سے متعلق منفی تاثر کے زائل ہونے کی صورت بھی اُسی قدر تیزی سے ظاہر (اظہرمن الشمس) ہوگا۔
Communication Strategy by LG&RD is a good example to be be adopted by other Govt Departments including the Information Department of KP