Showing posts with label LG&RD. Show all posts
Showing posts with label LG&RD. Show all posts

Sunday, November 14, 2021

Political (LG) Polls: Yet another mistake!

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

.... پھر شہر ’کم نگہ‘ کی بصارت پہ رائے دو

مشکل در مشکل اُور انتخابات در انتخابات مراحل (مقامات ِتفکر) زیادہ فرق نہیں اُور یہی حاصل ِکلام ہے کہ اِس عمل سے وابستہ اُمیدیں پوری نہیں ہو رہیں لیکن بار بار ایک ہی غلطی (تجربہ) دہرانے سے توقع ہے کہ نتیجہ الگ برآمد ہوگا! خبر ہے کہ خیبرپختونخوا میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اُور خیبرپختونخوا کے 17 اضلاع (پشاور‘ نوشہرہ‘ چارسدہ‘ خیبر‘ مہمند‘ مردان‘ صوابی‘ کوہاٹ‘ کرک‘ ہنگو‘ بنوں‘ لکی‘ ٹانک‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ ہری پور‘ باجوڑ اُور بونیر) کے لئے مقرر کردہ ریٹرنگ آفیسرز نے وصول شدہ کاغذات الیکشن کمیشن کو ارسال کر دیئے ہیں۔ یہ کاغذات مجموعی طور پر 66 تحصلیوں کے لئے ہیں جن میں سب سے زیادہ تحصیلیں پشاور میں سات‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ بونیر اُور بنوں میں چھ چھ۔ مردان میں پانچ‘ صوابی‘ کوہاٹ اُور لکی میں چار چار۔ نوشہرہ‘ چارسدہ‘ خیبر‘ مہمند‘ کرک اُور ہری پور میں تین تین جبکہ ہنگو اُور بونیر میں دو دو تحصیلیں ہیں۔ سب سے زیادہ کاغذات نامزدگی بھی پشاور ہی میں جمع ہوئے ہیں جن میں جنرل نشست کے لئے تین ہزار چار‘ خواتین کی نشستوں کے لئے پانچ سو چھپن‘ مزدور کسان نشستوں کے لئے ایک ہزار بیاسی‘ نوجوان (یوتھ) نشستوں کے لئے نو سو چودہ اُور اقلیتی نشستوں کے لئے ایک سو اڑتالیس اُمیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ اِس قدر بڑی تعداد میں کاغذات نامزدگی جمع ہونے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پشاور اُور صوبے کے دیگر اضلاع میں انتخابی گہما گہمی کس قدر برپا ہونے والی ہے اُور کس قدر کانٹے دار (پرہجوم) مقابلے متوقع ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا میں ’16 جنوری دوہزاربائیس‘ تک بلدیاتی انتخابات اُور بلدیاتی کا عمل مکمل کرنا ہے اُور اِس سلسلے میں سترہ مذکورہ اضلاع میں پہلے مرحلے کی پولنگ کے لئے ’اُنیس دسمبر دوہزاراکیس‘ کی تاریخ مقرر ہے۔ اِن بلدیاتی انتخابات کو مؤخر (فی الوقت ملتوی) کرنے کی استدعا کرتے ہوئے خیبرپختونخوا نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا کہ ایک ہی دن تحصیل‘ سٹی کونسل‘ ویلیج کونسل اُور نیبرہڈ کونسلوں کے لئے بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جائیں تاہم الیکشن کمیشن نے اِس رائے سے اتفاق نہیں کیا اُور چار سے آٹھ نومبر کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے لئے تاخیر مقرر کی گئی۔ دس نومبر سے بارہ نومبر کاغذات کی جانچ پڑتال (سکورٹنی) کا عمل مکمل کیا جائے گا جس کے بعد کاغذات نامزدگیوں کی منظوری یا اُنہیں مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف تیرہ سے سولہ نومبر اعتراضات سنے جائیں گے۔ اِس سلسلے میں حتمی فیصلے کی تاریخ اُنیس نومبر مقرر ہے جس کے بعد اُمیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی جائے گی جس کے بعد بائیس نومبر تک اُمیدواروں کے کاغذت نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ ہے۔ اِس کے بعد تیئس نومبر کو انتخابی نشانات جاری کئے جائیں گے اُور اُسی دن اُمیدواروں کے نام بمعہ انتخابی نشانات کی حتمی فہرست جاری ہو جائے گی اُور یوں یہ پورا انتخابی عمل چوبیس دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔ بلدیاتی انتخابات کے لئے ضابطہ اخلاق بھی وضع کیا گیا ہے جو ماضی سے زیادہ مختلف نہیں اُور حسب توقع اِس مرتبہ بھی اِس پر سوفیصدی عمل درآمد نہیں ہوگا جیسا کہ انتخابات میں زیادہ سے زیادہ اخراجات کی حد پر عمل درآمد اُور انتخابی حلقوں میں صوبائی یا وفاقی حکومت کی جانب سے ترقیاتی کام نہ ہونا شامل ہے۔ اِس بات پر بھی پابندی ہے کہ نئے ترقیاتی کاموں کا اعلان (وعدہ) بھی نہیں کیا جائے گا۔ بات واضح ہے کہ صدر مملکت‘ وزیراعظم‘ وزرائے اعلیٰ‘ گورنر‘ وفاقی اُور صوبائی وزرا،انتخابی عمل کے دوران (پولنگ سے قبل) کسی بھی بلدیاتی انتخابی حلقے کا دورہ نہیں کریں گے جس کا مقصد یہ ہے کہ حکومتی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے عوام کی رائے پر اثرانداز نہ ہوا جائے۔

بلدیاتی انتخابات ایک مرتبہ پھر سیاسی بنیادوں پر ہوں گے لیکن حسب ِسابق کاغذات جمع کرانے والوں میں اکثریت غیرسیاسی اُمیدواروں کی ہے اُور اصولاً دیکھا جائے تو بلدیاتی انتخابات غیرسیاسی ہی ہونے چاہیئں۔ کامیاب بلدیاتی نمائندوں کو جس سطح اُور جس درجہ فیصلہ سازی کے عمل میں حصہ لینا ہوتا ہے اُس میں سیاسی ترجیحات اُور سیاسی مفادات عوامی مفادات سے متصادم رہتے ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ خدمت کا حق ادا نہیں ہو پاتا۔ ماضی کے کئی تجربات اُور مثالیں موجود ہیں جس میں بلدیاتی نظام پر سیاسی جماعتوں کا غلبہ ہونے کی وجہ سے باشعور طبقات نے تحفظات کا اظہار کیا اُور اِس سلسلے میں شکایات درج کروائیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک انتخابات سے دوسرے انتخابات تک تیاریوں میں مصروف رہتی ہیں اُور اُن کے پاس انتخابات میں کامیاب ہونے کے لئے درکار وسائل اُور تجربہ بھی ہوتا ہے جس کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ایک عام آدمی اگر آزاد حیثیت سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیتا ہے تو اُس بیچارے کے الیکشن کمیشن دفاتر کے چکر لگانے ہی میں سارا وقت گزر جاتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہوتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے پاس اپنے نامزد اُمیدوار کی تشہیر کے لئے مالی وسائل کسی آزاد اُمیدوار کے مقابلے نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں اُور اُن کے انتخابی نشانات بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہوتے ہیں‘ جن کی بدولت وہ نفسیاتی طور پر برتری رکھتے ہیں۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے لئے ضابطہ اخلاق وضع کرتے ہوئے سوشل میڈیا سے متعلق ضابطہ اخلاق جاری نہیں کیا گیا حالانکہ یہ نہایت ہی ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کے پاس نہایت ہی منظم ”سوشل میڈیا سیل“ پہلے سے موجود ہیں جن کا اِس موقع پر بھرپور استعمال کیا جائے گا جبکہ ایک عام بلدیاتی اُمیدوار اگر دوڑ دھوپ کر کے ووٹروں کی فہرستیں حاصل کر بھی لے تو اُس میں موبائل فون نمبر نہیں ہوتے جن کا وہ استعمال کر سکے لیکن سیاسی جماعتیں سالہا سال کے تجربات کی بنیاد پر ایسے کوائف اپنے طور پر جمع رکھتی ہیں‘ جن سے ووٹروں کی رائے پر اثرانداز ہوا جا سکے اُور سیاسی جماعتیں زیادہ منظم انداز میں انتخابی مہمات مرتب و فعال رکھنے کا ہنر (خواندگی) بھی رکھتی ہیں۔ چوتھی بات سیاسی جماعتیں طاقتور سماجی و مذہبی حلقوں کا مقابلے کرنے کی الگ سے حکمت عملیاں وضع کرتی ہیں اُور ووٹوں کی گنتی اُور تقسیم کے لائحہ عمل کے مطابق اپنے ہی خلاف ایسے اُمیدواروں کو بطور بلدیاتی اُمیدوار لایا جاتا ہے جو مخالف اُمیدوار کے ووٹ تقسیم کر کے کم کر سکے۔ یہ نہایت ہی سوچی سمجھی اُور نپی تلی حکمت عملی ہوتی ہے جس کے پیچھے بہت ساری عوامل سوچ بچار یا ہوم ورک کارفرما ہوتا ہے اُور یوں سارے کا سارا بلدیاتی انتخابی عمل سیاسی جماعتوں کے نام رہتا ہے‘ جو آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والوں کی حمایت بھی واجبی یا وقتی مراعات یا وعدوں کے عوض حاصل کر لیتی ہیں۔ ماضی میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں‘ جن میں آزاد اُمیدواروں کو گلے شکوے رہے۔ اِس بات کا تصور کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ الیکشن کمیشن کا ضابطہ¿ اخلاق پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے جس کے بعد آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والوں سے بلواسطہ اُور بلاواسطہ صوبائی فیصلہ سازوں کی ملاقاتوں کا اہتمام کروایا جاتا ہے جو اُن سے ترقیاتی فنڈز اُور دیگر مراعات کے وعدے کرتے ہیں اُور یوں پانسہ اُن کے حق میں پلٹ جاتا ہے جن کا منشور انتخابات میں عوام کی اکثریت مسترد کر چکی ہوتی ہے۔ عام آدمی کے لئے اِس قسم کا انتخابی بندوبست اُور انتخابی اتحادی حکمت عملیاں ناقابل سمجھ ہیں کہ جن سیاسی مخالفین کو وہ مسترد کرتے ہیں لیکن اُن کی جماعت اُنہی کی اتحادی بن کر عددی اکثریت کی بنیاد پر ضلعی یا تحصیل میں حکومت بنا لیتی ہے۔ بہرحال انتخابی نظام کے یہ پہلو الگ موضوع ہیں۔

موجودہ حالات میں مہنگائی کے سبب پیدا ہوئی معاشی مشکلات بلدیاتی انتخابی مہمات کا خاص نکتہ رہے گا‘ جو حزب اختلاف اُور آزاد حیثیت سے اِن انتخابات میں حصہ لینے والے حکومتی جماعت کے نامزد اُمیدواروں کے خلاف عوام کی عدالت میں زور و شور سے پیش کریں گے اُور چونکہ یہ مؤقف زیادہ فلسفیانہ نہیں‘ اِس لئے ووٹروں کو قائل کرنا بھی مشکل نہیں ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کی منصوبہ بندی کون زیادہ بہتر انداز میں کرتا ہے جبکہ امکان یہی ہے کہ اِس مرتبہ بھی انتخابی منصوبہ بندی ہی کامیاب (سرخرو) ٹھہرے گی۔

اِس کی نظر میں پنہاں محبت پہ رائے دو 

 پھر شہر کم نگہ کی بصارت پہ رائے دو (زریں منور)

....

Clipping from Daily Aaj Peshawar Abbottabad dated 14 November 2021

Editorial Page Daily Aaj dated 14 November 2021

Daily Aaj 14 November 2021


Friday, June 9, 2017

June2017: KP Budget for FY 2017-18 & ignored LG System!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سفر رائیگاں!؟
خود کو آج بھی وہیں کا وہیں کھڑا محسوس کرنے والوں کے لئے سال دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل اور بعد کی صورتحال زیادہ مختلف نہیں! کردار (چہرے) بدل گئے ہیں لیکن ’سیاسی تماشا‘ اور ’تماش بینوں‘ کا ایک دوسرے سے (دیکھدا جاندا رے جیسا) تعلق وہیں کا وہیں ہے‘ یہی سبب ہے کہ ’خیبرپختونخوا‘ کے ’وسائل اور مسائل‘ کی الجھن میں ہر ’بجٹ‘ کے ساتھ اِضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے! 

خوداحتسابی کے کم سے کم معیار کے ساتھ بھی اگر مالی و انتظامی نظم وضبط لاگو کرنے کی زحمت گوارہ کی جاتی‘ طرز حکمرانی کی بنیاد ’اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے‘ جیسی صورت اختیار کی جاتی تو ’الفاظ کے گورکھ دھندے‘ پر مبنی صوبائی آمدن و اخراجات کا سالانہ میزانیہ (بجٹ) ہر سال بہتری و تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا۔ یادش بخیر سال 2013ء میں خیبرپختونخوا حکومت نے ’بلدیاتی حکومتوں سے متعلق قانون سازی (لوکل باڈیز ایکٹ)‘ کے ذریعے اِس عزم کا اظہار کیا تھا کہ صوبائی حکومت ہر مالی سال کے آغاز پر 30 فیصد ترقیاتی بجٹ (اینول ڈویلپمنٹ پروگرام) عوام کے منتخب بلدیاتی نمائندوں (ضلعی ترقی) کے حوالے کرے گی لیکن سات جون کو صوبائی وزیرخزانہ مظفر سید نے مالی سال دوہزار سترہ و اٹھارہ کا بجٹ پیش کیا‘ جس سے قبل اُمید تھی کہ اپنی آئینی مدت کے آخری سال مقامی سطح پر ترقی کے لئے زیادہ مالی وسائل مختص کئے جائیں گے جس سے ایک ایسا مضبوط و توانا بلدیاتی نظام تشکیل پائے گا‘ جو نہ صرف دوسرے صوبوں کے لئے فقیلد المثال ہو گا بلکہ اس کے ذریعے خیبرپختونخوا میں ’’ترقیاتی عمل کی پیاس‘‘ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ بناء تمہید قابل مذمت قرار دینا چاہئے کہ ’’ترقی کے عمل کو ایک مرتبہ پھر خیبرپختونخوا قانون ساز اسمبلی کے اراکین اور تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے اراکین کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے‘‘ جو اِس سے قبل بھی ’سیاسی‘ انتخابی اور ذاتی‘ ترجیحات کی بنیاد پر اپنے اپنے علاقوں میں ترقی کے نام پر جوکچھ بھی سرانجام دیتے آ رہے ہیں اُس پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی ’تبدیلی‘ کے بارے میں عمومی رائے (تاثر) اگر یہ ہے کہ اِس کا معیار اور مقدار دونوں ہی تسلی بخش نہیں تو بلدیاتی نمائندوں کی اجتماعی فہم و فراست اور مقامی حکومتوں کے ذریعے مقامی مسائل کے حل کو زیادہ بڑا اور وسیع المعانی موقع دینا چاہئے تھا لیکن اگر ایسا نہیں کیا گیا تو درحقیقت تحریک انصاف نے موقع نہ دے کر اپنے آپ کو ملنے والا وہ موقع ضائع کر دیا ہے‘ جو آئندہ عام انتخابات کے نتائج کو اِس کے حق میں تبدیل کرنے کی صلاحیت (قدرت) رکھتا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت نے نئے مالی سال کے لئے مجوزہ بجٹ ’سات جون‘ کو صوبائی اسمبلی اجلاس میں پیش کیا جس کا کل حجم 603 ارب روپے ہے اور اِس میں صوبائی خزانے سے ترقیاتی کاموں کے لئے 126 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں‘ جس میں بیرون ملک سے حاصل ہونے والی 82 ارب روپے کی مالی امداد شامل نہیں۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ (اپنے ہی تخلیق کردہ قانون) کے تحت صوبائی اِس بات کی پابند تھی کہ وہ بلدیاتی حکومتوں کو تعمیروترقی کے لئے مختص مالی وسائل کا 30فیصد منتقل کر دیتی لیکن مجوزہ بجٹ میں بلدیاتی اداروں کا ترقیاتی حکمت عملی کے لئے مختص مالی وسائل میں حصہ 22.2 فیصد رہے گا یعنی ایک سو چھبیس ارب روپے میں سے قریب 28 ارب روپے اضلاع کی ترقیاتی حکمت عملیوں کے لئے مخصوص ہوں گے! کیا اِسے خیبرپختونخوا کے تین سطحی بلدیاتی نظام سے اِنصاف قرار دیا جاسکتا ہے؟

صوبائی بجٹ دستاویز (ڈاکیومنٹ) کئی لحاظ سے دلچسپ ہے لیکن اگر موضوع کو ’بلدیاتی اداروں‘ کی حد تک محدود کر کے اِسے پڑھا جائے تو صوبائی حکومت نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ ’’خیبرپختونخوا میں بلدیاتی ادارے اہم مقام رکھتے ہیں اور اِن کی اہمیت مسلمہ ہے۔‘‘ ساتھ ہی اِس بات کا بھی ذکر تحریری طور پر موجود ہے کہ صوبائی حکومت کی مالی ذمہ داریوں میں یہ امر شامل ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں کے لئے ترقیاتی بجٹ کا ’30فیصد‘ مختص کرے گی تو پھر کیا وجہ تھی کہ عملی طور پر ایسا نہیں کیا گیا تو اِس قریب ’آٹھ فیصد‘ کمی جیسے ’کھلے تضاد‘ کی وضاحت (حساب) کون دے گا؟ 

خیبرپختونخوا کے زمینی حقائق اِس بات کے متقاضی تھے کہ ’فسکل ائر دوہزار سترہ اٹھارہ‘ کے بجٹ میں کم سے کم 30فیصد کی آئینی حد سے زیادہ (بڑھ کر) مالی وسائل فراہم کئے جاتے لیکن عجب ہے کہ صوبائی حکومت نے تو اِس مرتبہ گذشتہ مالی سال (2016-17ء) کے بجٹ سے بھی کم مالی وسائل مختص کئے ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ مالی سال میں 33.9 ارب روپے اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کو دیئے گئے تھے جو اُس وقت کی کل ایک سو چھبیس ارب روپے کی صوبائی ترقیاتی حکمت عملی کا 27.1 (ستائیس اعشاریہ ایک) فیصد بنتا تھا اُور اُمید تھی کہ آئندہ مالی سال میں کم سے کم اِس تین فیصد کمی کو دور کرتے ہوئے مزید دس فیصد اِضافہ کیا جائے گا تاکہ نہ صرف ایک آئینی ذمہ داری کی ادائیگی ’خوش اسلوبی‘ کے ساتھ ممکن ہو سکے بلکہ کم ترقی یافتہ اضلاع کو زیادہ مالی وسائل فراہم کرکے اُس شعور و پختگی کو خراج تحسین پیش کیا جاسکتا تھا‘ جس نے مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں خیبرپختونخوا پر حکمرانی کرنے والی دیگر روائتی سیاسی جماعتوں کو مسترد کرتے ہوئے ’تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا تھا‘ لیکن آخری سال کے بجٹ اُور بلدیاتی اِداروں کے لئے کم ترین مالی وسائل مختص کرنے کے عمل نے گویا ’اک خواب سہانے‘ ہی کو روند ڈالا ہے!‘
کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن موجودہ خیبرپختونخوا حکومت کو پہلے دن سے ’مالی بحران‘ کا سامنا ہے اور اِس بحران سے نمٹنے کے لئے طرز حکمرانی میں سادگی اختیار کرتے ہوئے غیرترقیاتی اخراجات میں کمی ممکن تھی۔ ہر ایک پائی کو سوچ سمجھ کر خرچ کرنے سے ترقی کے جملہ اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکتا تھا۔ 

مالی سال 2017-18ء کے لئے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ’لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ‘ کو مجموعی طور پر ’175.58ارب روپے‘ دیئے جائیں گے۔ جس میں 28 ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لئے اور 121.37 ارب روپے ملازمین کی تنخواہیں مراعات اور دیگر غیرترقیاتی اخراجات کی نذر ہوں گے لیکن بس یہی نہیں بلکہ تعمیر و ترقی کے لئے 28 ارب روپے اور غیرترقیاتی امور پر 121 ارب روپے کے علاؤہ لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے لئے (مختص ایک سو پچھتہر اعشاریہ اٹھاون ارب روپے میں سے) 20 ارب روپے اُن غیرترقیاتی اخراجات کے لئے رکھے گئے ہیں جو ملازمین کی تنخواہوں کے علاؤہ ہیں! 

بیس ارب روپے معمولی رقم نہیں کہ یوں ہوا میں اُڑا دی جائے! کسی محکمے میں ملازمین کی زیادہ سے زیادہ تعداد کا میزانیہ اِس اصول پر ہونا چاہئے کہ غیرترقیاتی امور کی بجائے زیادہ مالی وسائل ترقی پر خرچ ہوں۔ اگر صوبائی حکومت ’بلدیاتی نمائندوں‘ کے دم کرم سے اِستفادہ کرے تو ’محکمۂ بلدیات‘ کے غیرترقیاتی اخراجات میں بڑی حد تک کمی لا سکتی ہے‘ لیکن اِمکانات و ممکنات کی دلدلی زمین پر پاؤں رکھنے والوں کو اَندیشہ ہے کہ وہ اپنا (سیاسی) توازن یعنی اَراکین اسمبلی اپنی اہمیت ہی کھو بیٹھیں گے! لیکن اگر اپنی ہستی (اَنا اور مفادات) کی قربانی دینے کا حوصلہ (ہمت) کا عملی مظاہرہ نہیں ہوگا‘ تو اُس وقت تک کوئی بھی دانہ خاک میں مل کر ’گل و گلزار‘ نہیں ہوگا۔

Saturday, September 3, 2016

Sept2016: District Peshawar Budget

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمامبلدیاتی نظام: روحانی حیات!
خیبرپختونخوا حکومت نے جس گرمجوشی اور بلندبانگ دعوؤں کے ساتھ ’تین سطحی بلدیاتی نظام‘ متعارف کرایا تھا‘ اُس سے وابستہ منتخب نمائندوں اور عام آدمی (ہم عوام) کی توقعات پوری نہیں ہو رہیں تو کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں کہ نظام کو ناکام بنانے والے عناصر‘ سوچ اور ہتھکنڈوں کا یکساں شاطرانہ انداز سے مقابلہ کیا جائے۔ اِس سلسلے میں تازہ ترین مثال پشاور کی ضلعی حکومت کی دی جاسکتی ہے جس کے منظور کردہ بجٹ کو ’ضلعی انتظامیہ‘ نے ’غیرقانونی (غیرحقیقی)‘ قرار دینے کے علاؤہ مسترد بھی کر دیا ہے۔ صوبائی محکمۂ خزانہ نے تو ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے بجٹ کی تیاری کے مراحل اور اِس کی تکمیل و منظوری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سلسلے میں فنانس ڈیپارٹمنٹ (محکمہ خزانہ) کی جانب سے سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی (لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ) کو تحریر کردہ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ’’ضلعی ناظم نے بجٹ کی تیاری میں قواعد کی خلاف ورزی کی۔‘‘ مکتوب میں اِس بات کی بھی سفارش کی گئی ہے کہ ’لوکل گورنمنٹ کمیشن‘ سے رجوع کرتے ہوئے ضلعی ناظم کے خلاف کاروائی کی جائے۔ یاد رہے کہ ضلع کونسل پشاور میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین پہلے ہی ’پشاور ہائی کورٹ‘ سے رجوع کر چکے ہیں جن کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں بجٹ کی تیاری اور اس کا پیش کرنا درحقیقت قواعد کی خلاف ورزی ہے تاہم اِس سلسلے میں ابھی ’پشاور ہائی کورٹ‘ کا کوئی فیصلہ نہیں آیا۔

بلدیاتی نظام میں کسی بھی ضلع کا ڈپٹی کمشنر وہاں کے بلدیاتی نظام کے مالی امور کا نگران (پرنسپل اکاونٹنگ آفیسر) ہوتا ہے۔ ڈسٹرکٹ بجٹ رولز 2016ء کے مطابق بجٹ کی دستاویزات کی تیاری یا پیش کئے جانے سے قبل اُس سے مشاورت یا اتفاق ضروری ہوتا ہے۔ اِسی طرح ’رولز آف بزنس 2015ء‘ کے تحت ڈپٹی کمشنر صوبائی اسمبلی اور دیگر محکموں کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے اُور انہی قواعد کو جواز بنا کر ضلعی حکومت کے تیارکردہ و منظور شدہ بجٹ کو غیرقانونی قرار دیا جا رہا ہے!

قوانین اُور قواعد کی اہمیت اپنی جگہ لیکن کیا ضلع ناظم پشاور اپنے گھر یا کسی ذاتی کاروبار سے ہونے والی آمدنی و اخراجات کا میزانیہ (بجٹ) پیش کرنے جیسے جرم کا مرتکب ہوا ہے؟ اگر بات پشاور اُور اجتماعی بہبود بطور ترجیح سے متعلق ہے تو اِس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ بجٹ کس طرح اور کس نے بنایا ہے بلکہ زور تو اِس بات پر ہونا چاہئے کہ کیا اِس کی تیاری میں پشاور کے مفادات کو پیش نظر رکھا گیا ہے یا نہیں۔ اگر ہم قواعد کی پٹڑی پر ہی چلتے رہے تو ماضی کی طرح تعمیروترقی کے نام پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بھی خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ 

صوبائی حکومت کو چاہئے کہ بلدیاتی نظام کی سرپرستی کرے اور افسرشاہی کے خدشات ختم کرنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کرے کیونکہ اگر پشاور میں ترقی کا عمل بلدیاتی نظام آنے کے بعد بھی شروع نہ ہوسکا تو خسارہ صوبائی حکومت کا ہوگا جس سے وابستہ توقعات پہلے ہی پوری نہیں ہو رہیں اور رہی سہی کسر بلدیاتی نظام کو مفلوج بنا کر پوری کرنے کی سازش کی جا رہی ہے! بلدیاتی نظام کی ظاہری باطنی اور روحانی حیات کے علاؤہ دیکھ بھال بھی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور جب تک یہ نظام پوری طرح اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہوجاتا اُس وقت تک اِسے ہر قسم کی ’آفات وبلیات‘ سے محفوظ رکھنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کرنا ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, April 16, 2016

APR2016: Complexity to Clarity!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اِبہام سے اِظہار تک!
محکمۂ بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا کے ’کارہائے نمایاں‘ اُجاگر کرنے کے لئے ’مواصلاتی رابطے‘ بڑھانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے‘ جس کے لئے ’اِبہام سے اِظہار تک (Complexity to Clarity)‘ نامی حکمت عملی کے تحت محکمہ اپنے طور پر عوام تک معلومات پہنچانے کے لئے دستیاب وسائل سے اِستفادہ کرے گا۔ خیبرپختونخوا کے ’محکمۂ اطلاعات‘ کی موجودگی میں کسی حکومتی محکمہ کا وقت اُور سرمایہ اپنے طور تشہیر پر خرچ کرنے کا فیصلہ غیرمنطقی ہے اُور اَگرچہ محکمۂ بلدیات و دیہی ترقی کے فیصلہ سازوں کو ’محکمۂ اطلاعات (انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ)‘ کی کارکردگی پر اِطمینان نہیں تو اِس سلسلے میں اِصلاح کی گنجائش موجود ہے اُور کسی ایک محکمے کو ’حسب توقع کارکردگی‘ دکھانے کے لئے اہداف مقرر کئے جاسکتے ہیں لیکن ایک ہی کام کے لئے ایک سے زیادہ ادارے اگر اپنے مالی وسائل خرچ کریں گے تو یہ وقت اُور وسائل کا ضیاع ہوگا۔

صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان صرف اپنی وزارت کے ’گڈ ورک‘ کی تشہیر نہیں چاہتے بلکہ اُن کی نظر میں صوبائی حکومت کی بھی خاطرخواہ تشہیر یا ذرائع ابلاغ میں دفاع نہیں ہورہا تاہم اُن کی توجہ اپنے ذمہ داریوں پر مرکوز ہے۔ اُن کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کے ہر محکمے نے ماضی کے مقابلے اصلاحاتی ایجنڈے کے مطابق تبدیلی کے لئے کام کیا ہے اور خود اُن کے محکمے (بلدیات) نے چالیس سے پچاس ایسے اصلاحاتی اقدامات کئے ہیں جن کے بارے میں عوام کو آگاہی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ محکمے کا اپنا فعال و مضبوط ’تشہیری شعبہ (کیمونیکشن ونگ)‘ تشکیل چاہئے جس کی کمی پوری کر دی گئی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ محکمۂ تعلیم کے بعد خیبرپختونخوا کا بڑا سب سے بڑا محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کا ہے اور اگر حال ہی میں قائم ہونے والے بلدیاتی (مقامی) حکومتوں کا ذکر کیا جائے تو اِس محکمے سے وابستہ منتخب نمائندوں کی تعداد 44 ہزار سے زیادہ ہے۔ تصور کیجئے کہ چوالیس ہزار سے زیادہ بلدیاتی نمائندے وابستہ ہیں جن تک وقتاً فوقتاً معلومات اور محکمے کی جانب سے اطلاعات پہنچانے کا عمل مربوط و فعال ہونا چاہئے۔ سب سے اہم ضرورت تو منتخب بلدیاتی نمائندوں کو بلدیاتی قواعد و ضوابط سے مطلع کرنے کی تھی کیونکہ اکثریت کے لئے انگریزی زبان میں تحریر قانون و قواعد کو سمجھنا آسان نہیں تھا۔ بہرحال یہ کام کسی حد تک ذرائع ابلاغ نے آسان کیا لیکن کوئی ایسا مستند ذریعہ اور وسیلہ بہرحال ہونا چاہئے جہاں بلدیاتی نمائندوں کو اپنے سوالات کے جواب یا وضاحت مل سکے۔ ماضی میں محکمۂ بلدیات و دیہی ترقی کی کارکردگی جو بھی رہی ہو لیکن بلدیاتی (مقامی حکومتوں کا) نظام فعال ہونے کے بعد جو بھی ترقیاتی کام جاری ہیں یا جس انداز میں ترقیاتی حکمت عملی عوام کی توقعات کے مطابق وضع کی جارہی اُس کے خدوخال نہ صرف ریکارڈ پر لانا ضروری ہیں بلکہ اُن سے دیگر اضلاع کے بلدیاتی نمائندوں کوبھی آگاہی ہونی چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ضلع میں صفائی کا نظام بہتر بنانے کے لئے ٹھیکیداری نظام سے استفادہ کیا جارہا ہے تو اِس سے پیدا ہونے والی سہولیات اور پیچیدگیوں کے بارے دیگر اضلاع کو مطلع کرنا اور اُن کے سوالات (اگر ہوں) تو کس طرح بذریعہ محکمہ کئے جا سکتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کے تجربات و کارکردگی سے فائدہ اُٹھایا جا سکے یقیناًیہ کام ’محکمۂ اطلاعات‘ کے وہم و گمان سے بالا اور بہت بڑا ہے‘ جس کے لئے اگر محکمۂ بلدیات ایک الگ ’کیمونیکیشن ونگ‘ بنا لیتا ہے تو اِس کا صدر دفتر ’محکمۂ اطلاعات‘ ہی میں ہونا چاہئے تاکہ معلومات کی تشہیر اُور دیگر محکموں کے ساتھ تبادلہ تیزترین (مستعد) اُور ہرممکن سطح پر ممکن بنایا جاسکے۔

 وزیربلدیات ایک نئے دور کا آغاز کر چکے ہیں جس میں ہر چھوٹے بڑے کام و اقدام کی تشہیر ہوگی بلکہ یہ کام عارضی بندوبست کے تحت نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر کیا جارہا ہے۔ سال 2016ء سے 2020ء تک کے لئے اختیار کی گئی ’مواصلاتی حکمت عملی (کیمونیکشن اسٹریٹجی)‘ کے لئے مستقل لائحہ عمل تشکیل دیا گیا ہے۔ بہت کم ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی محکمے کا وزیر اس قدر سنجیدگی اُور جذباتی لب و لہجے میں احکامات صادر کر رہا ہو یعنی دلچسپی لے رہا ہو۔ قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا میں بلدیات و دیہی ترقی کے محکمے کو مضبوط بنانے کے لئے جرمن حکومت کا اِدارہ ’جی آئی زیڈ (GiZ)‘ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات (موجودہ حکومت) سے قبل ’فراخدلانہ تعاون‘ کر رہا ہے اُور اِس تعاون میں فنی و تکنیکی تربیت بلکہ سازوسامان (ہارڈوئرز) کی فراہمی بھی شامل ہے۔

 جرمن حکومت کا سال 2011ء سے جاری یہ تعاون جن چار شعبوں میں ہے‘ اُن میں گورننس (طرزحکمرانی) کے تحت صوبائی وزیربلدیات سے تعاون جاری ہے۔ ہرسال ایک منصوبہ بندی کی ورکشاپ ہوتی ہے جس میں محکمے کی جانب سے کارکردگی کے اہداف مقرر کئے جاتے ہیں اور جہاں کہیں تکنیکی یا فنی یا آلات بصورت امداد کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ جرمن حکومت کی جانب سے فراہم کئے جاتے ہیں۔ محکمہ بلدیات کی جانب سے ’جی آئی زیڈ‘ کو 2014ء میں درخواست دی گئی تھی کہ ایک ایسی الگ خصوصی مواصلاتی حکمت عملی ہونی چاہئے پھر دو سال اِس حکمت عملی پر کام ہوتا رہا۔ جی آئی زیڈ نے مختلف شعبوں کے ماہرین اور متعلقہ حکام کی مسلسل مشاورت سے فروری 2016ء میں ایک حکمت عملی (دستاویز) مرتب کی‘ جسے مارچ میں محکمۂ بلدیات نے منظور کیا اور چودہ اپریل دوہزار سولہ کو اِس کے لاگو ہونے کا اعلان کردیا گیا اِس سلسلے میں www.lgkpk.gov.pk کو پہلے سے زیادہ جامع بنا دیا گیا ہے۔

قابل ذکر یہ بھی ہے کہ خیبرپختونخوا کا محکمۂ بلدیات ایسا واحد محکمہ ہونے کا منفرد اعزاز حاصل کرگیا ہے جس کی اپنی ’کیمونیکشن حکمت عملی‘ ہے اور اگر جرمن حکومت کا تعاون محکمہ اطلاعات کے شامل ہوتا تو اُن کے لئے بھی اسی طرز کا لائحہ عمل تشکیل دیا جاتا جس کی اَشد ضرورت ہے کیونکہ ’حالات حاضرہ‘ کا تقاضا ہے کہ ’’مواصلات و رابطہ کاری‘‘ صرف تحریری اعلامیے جاری کرنے کی حد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اِلیکٹرانک وسائل بالخصوص سماجی رابطہ کاری کے تیزرفتار وسائل (انٹرنیٹ) کا اِضافہ مستعد کردار اَدا کرنے کا متقاضی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کو ’جی آئی زیڈ‘ کی مرتب کردہ حکمت عملی سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے اِسے نہ صرف محکمۂ اطلاعات بلکہ دیگر محکموں کی حد تک بھی پھیلانا چاہئے کیونکہ معلومات کی فراہمی جس قدر وسیع و بڑے پیمانے پر ممکن بنائی جائے گی اُس کے ثمرات حکومتی ساکھ سے متعلق منفی تاثر کے زائل ہونے کی صورت بھی اُسی قدر تیزی سے ظاہر (اظہرمن الشمس) ہوگا۔
Communication Strategy by LG&RD is a good example to be be adopted by other Govt Departments including the Information Department of KP