Showing posts with label LGPolls 2021. Show all posts
Showing posts with label LGPolls 2021. Show all posts

Saturday, December 25, 2021

The Damage by Damage Control Measures

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

.... نہ جانے محبت کا انجام کیا ہے!

اُنیس دسمبر دوہزار اکیس: خیبرپختونخوا کے 17اضلاع کی 63 تحصیلوں میں مقامی حکومتوں کے قیام کے سلسلے میں انتخابات کے پہلے مرحلے میں 47 تحصیلوں کے سرکاری نتائج کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) نے سترہ جبکہ تحریک انصاف نے بارہ تحصیلوں میں ’چیئرمین شپ‘ کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ تحریک کے لئے شکست کا صدمہ ’تحصیل پشاور‘ میں ناکامی کی وجہ سے زیادہ محسوس ہو رہا ہے جہاں حاجی زبیر علی (جے یو آئی ف) کو باسٹھ ہزار تین سو اٹھاسی جبکہ رضوان بنگش (تحریک انصاف) کو پچاس ہزار چھ سو اُنسٹھ ووٹ ملے اگرچہ 6 پولنگ مراکز پر تشدد کاروائیوں (نقص امن) کے باعث الیکشن کمیشن نے انتخابی نتیجے کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن گیارہ ہزار سے زائد ووٹوں کی فیصلہ برتری سے جمعیت کی انتخابی کامیابی شک و شبے سے بالاتر یقینی ہے۔ پشاور کی باقی ماندہ چھ تحصیل چیئرمین کی نشستوں میں سے جے یو آئی (ف) نے چار نشستیں جبکہ پی ٹی آئی اور اے این پی نے ایک‘ ایک نشست جیتیں جبکہ آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے والوں نے سات تحصیلوں کی چیئرمین شپ حاصل کی۔ مجموعی طور پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے تحصیل کونسل چیئرمین کی چھ‘ مسلم لیگ (ن) نے تین‘ جماعت اسلامی‘ پیپلز پارٹی اور تحریک اصلاحات پاکستان نے ایک‘ ایک نشست جیتی۔

بیس دسمبر دوہزاراکیس: وزیر اعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں امیدواروں کے غلط انتخاب کو تحریک انصاف کی خراب کارکردگی کی ”بنیادی وجہ“ قرار دیا اُور کہا کہ پہلے مرحلے میں غلطیاں کیں اور اس کی قیمت ادا کی۔ دوسرے مرحلے اور ملک بھر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لئے حکمت عملی کی نگرانی خود کروں گا۔ 

چوبیس دسمبر دوہزار اکیس: وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں اہلیت کے برعکس خاندانوں میں ٹکٹ دیئے جانے کی شکایات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف کی ملک بھر میں تنظیموں تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔ وفاقی وزیراطلاعات و نشریات کے بقول ”اگر تحریک انصاف کی سیاست متاثر ہوتی ہے تو دراصل یہ پاکستان کی سیاست متاثر ہونے کے مترادف ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اُور کہا کہ پی ٹی آئی خاندانی سیاست والی جماعت نہیں۔

اُمید یہی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کی بھٹی سے گزرنے کے بعد ’تحریک انصاف‘ زیادہ چمک دمک اُور کارکنوں کے حمایت کے سبب زیادہ پروقار و پراعتماد انداز سے دوسرے انتخابی مرحلے میں اُن سیاسی مخالفین کا سامنا کرے گی جن میں بہت کم نظریاتی ہیں اُور یہی بات تحریک انصاف کو عصری جماعتوں سے ممتاز بناتی ہے کہ شروع دن سے کا نعرہ ’موروثیت اُور مفادات‘ سے پاک سیاست کا رہا ہے تاہم اِس خواب کو عملی جامہ پہنانا آسان نہیں اُور یہی وجہ ہے کہ جماعت کی قیادت سے بار بار ’عالمانہ غلطیاں‘ سرزد ہو رہی ہیں لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تحریک اپنی غلطیوں کو تسلیم کر رہی ہے اُور مرکزی قیادت کا کھلے دل سے حقیقت و شکست کو تسلیم کرنا بھی اِس اَمر کی عکاسی کرتا ہے کہ تحریک واحد ایسی جماعت ہے جس میں 1: ’خوداحتسابی‘ عملاً زندہ ہے اُور 2: تحریک خاندانی (موروثی) سیاست کو اپنے نظریئے کی موت سمجھتی ہے۔ اگر خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے نتائج کی تہہ میں دیکھا جائے تو بال کی کھال اُتارنے سے معلوم ہوتا ہے کہ 1: تنظیمیں تحلیل کرنا مرض کا علاج نہیں ہے کیونکہ پارٹی ٹکٹ تنظیموں کی سفارشات پر نہیں دیئے گئے تھے۔ 2: تنظیمیں تحلیل کرنے کا یہ وقت انتہائی نامناسب ہے کیونکہ تحریک انصاف کی تاریخ رہی ہے کہ جب کبھی بھی اِس کے جماعتی انتخابات ہوئے اُس سے کئی دھڑوں نے جنم لیا اُور وہ سبھی کردار جو پہلے ہی پارٹی کی فیصلہ سازی کو ہائی جیک کر چکے ہیں اگر دوبارہ تنظیم سازی بھی کی گئی تو اُنہی کے ہم خیال منتخب ہو جائیں گے۔ 3: توانائی‘ وقت اُور دیگر وسائل تنظیم سازی کی نذر کرنے کی بجائے اگر تحریک ِانصاف ”آن لائن رکن سازی مہم“ کا آغاز کرے تو اِس کے زیادہ مفید نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ 4: وزیراعظم سٹیزن پورٹل کی طرز پر ’کارکن پورٹل‘ کا آغاز کیا جائے جس کے ذریعے پارٹی کے کارکن کسی انتخابی حلقے یا اپنے حلقوں سے منتخب ہوئے یا متعلقہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اُور سینیٹرز کی کارکردگی کے بارے خیالات و شکایات کا اندراج کر سکیں۔ شاید بنی گالہ کے سامنے منتخب اراکین اسمبلی کی کارکردگی کا یہ پہلو پیش نہیں کیا گیا کہ تحریک کی نامزدگی حاصل کر کے اُور غیرمقامی ہونے کے باوجود جو اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں اُور سینیٹ تک پہنچے ہیں‘ وہ اپنے متعلقہ حلقوں کو خاطرخواہ اہمیت اُور توجہ نہیں دے رہے۔ اِس سلسلے میں پشاور شہر کے چودہ صوبائی اُور پانچ قومی اسمبلی کے حلقوں کی مثال پیش کی جاسکتی ہے جس میں تحریک انصاف کو بالترتیب گیارہ اُور پانچ کا بلند ترین تناسب حاصل ہے لیکن اِس کے باوجود بھی اراکین اسمبلی بالخصوص وفاقی و صوبائی کابینہ کے اراکین اُور کارکنوں کے درمیان روابط مستحکم و مربوط نہیں ہیں۔ خیبرپختونخوا کی سیاسی تاریخ میں تحریک ِانصاف کا جواب تلاش کرنے والوں کو اگر کوئی جواب مل سکتا ہے تو وہ بھی تحریک ِانصاف ہی ہوگا لیکن اِس سیاسی متبادل کو نظریاتی متبادل بنانے کے لئے اُن سبھی کمزور پہلوو¿ں پر غور کرنا ہوگا جو حالیہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں شکست کا باعث بنے۔

جمہوریت کی بنیاد انتخابات اُور انتخابات کا مقصد حزب اختلاف اُور حزب اقتدار کی صورت ’چیک اینڈ بیلنس‘ کا نظام قائم کرنا ہوتا ہے۔ اگر تحصیل پشاور سمیت خیبرپختونخوا کی اکثر تحصیلوں پر ’حزب اختلاف‘ کی جماعتیں کامیاب ہوئی ہیں تو یہ نتیجہ اِس لحاظ سے باعث ِخیروبرکت ہے کہ مقامی حکومتوں کو مالی وسائل کی فراہمی اُور اِن کی کارکردگی پر صوبائی حکومت کڑی نظر رکھے گی اُور کسی بے قاعدگی کو جماعتی مصلحت کی وجہ سے درگزر نہیں کیا جائے گا۔ اِسی طرح حزب اختلاف پر مبنی مقامی حکومت (بلدیاتی نظام) بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دانستہ غلطیوں (تجاہل عارفانہ) سے ہر ممکنہ حد تک گریز کرے گی تاکہ حزب اقتدار کے ہاتھ اُس کی کوئی کمزوری نہ لگے۔ جمہوریت کا دوسرا نام ایک ایسا نظام ہے جس میں عام آدمی (ہم عوام) کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں اُور اگر آسانیاں ہی مطلوب و مقصود ہیں تو پھر اِس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کون جیتا اُور کون ہارا البتہ انتخابی کارکردگی کو متاثر کرنے والے صرف عوامل ہی نہیں بلکہ اُن عناصر (نادان و مفادپرست ساتھیوں) کی نشاندہی اُور احتساب بھی ضروری ہے‘ جنہوں نے تحریک پر پشت سے وار کیا ہے۔ ”نہ جانے محبت کا انجام کیا ہے .... میں اب ہر تسلی سے گھبرا رہا ہوں (اِحسان دانش)۔“

....


Tuesday, December 7, 2021

Vote for Peshawar, this time.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

.... پھر پشاور کی یاد آئی ہے

محبت غیرمشروط نہ ہو تو بے معنی ہوتی ہے۔ مقصد محبت کا انجام بن جاتا ہے اُور یہی وہ مرحلہ فکر ہے جہاں اہل پشاور کو جذبات‘ وابستگیوں اُور ذاتی‘ لسانی یا گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر وہ فیصلے کرنا ہوں گے‘ جن کا تعلق مستقبل سے ہے۔ مرحلہ ’میئر پشاور‘ یعنی نظامت کے لئے ’درست شخصیت‘ کے انتخاب کا ہے‘ جس کے لئے حسب سابق و توفیق سیاسی جماعتیں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ اِس سلسلے میں کچھ روایات دہرائی جا رہی ہیں جو مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے جاری کردہ ’اِنتخابی منشورات‘ کی صورت سامنے آئی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اِس مرتبہ مذکورہ انتخابی منشورات تحریر کرتے ہوئے زیادہ ہوشیاری سے کام لیا گیا ہے اُور تقریباً سبھی شقوں (وعدوں) کے ساتھ ’کوشش‘ کا سابقہ یا لاحقہ کسی نہ کسی صورت جوڑ دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں یہی منشور طعنہ نہ بن جائیں اُور چونکہ یہ دور سوشل میڈیا کا ہے اِس لئے سیاسی جماعتوں نے انتخابی منشور کا ہر لفظ سوچ سمجھ کر تحریر کیا ہے۔ یہاں ایک علمی ادبی (لطیف) نکتہ بھی پیش نظر رہے کہ عربی زبان کے لفظ ’منشور‘ کا استعمال اگر بطور اسم کیا جائے تو اِس سے مراد کتاب یا کتابچہ جبکہ بطور فعل منشور کا مطلب ’مردوں کو زندہ کر کے اٹھانے‘ یا ’(لکڑی کاٹنے کے لئے) آرا چلانے‘ کے عمل کو بیان کرے گا۔ معلوم نہیں کہ انتخابات کے موقع پر کئے جانے والے وعدوں کے لئے ’منشور‘ کا لفظ کب سے استعمال ہونے لگا جبکہ انگریزی زبان کے لفظ manifesto کے لئے اُردو ترجمہ ’محضَر‘ یا ’منادیِ عام‘ زیادہ موزوں (قریب المعانی) اصطلاحات ہیں کیونکہ قومی ہوں یا ضمنی اُور بلدیاتی انتخابات ہر سیاسی و غیرسیاسی اُمیدوار کی جانب سے جو وعدے کئے جاتے ہیں اُن کی تکمیل انتخابی کامیابی سے مشروط ہوتی ہے یعنی جب تک کوئی انتخابی اُمیدوار کامیاب نہیں ہوگا‘ اُس وقت تک وہ اپنے وعدوں کی تکمیل کے لئے ذمہ دار بھی نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہوا کہ جس کسی سیاسی یا غیرسیاسی انتخابی اُمیدوار نے اگر سماجی خدمت کرنی ہے تو اُس کے لئے شرط یہ رکھی گئی ہے کہ اُسے انتخابی کامیابی دلائی جائے۔ سوچئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ سماجی خدمت بنا کسی شرط نہیں ہو سکتی یا نہیں ہونی چاہئے؟

حسن ظن یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے عام انتخابات کے موقع پر جو وعدے کئے جاتے ہیں اُنہیں کتابی (دستاویزی) صورت میں ’منشور‘ کہہ کر ایک لائحہ عمل مرتب کیا جاتا ہے‘ جس پر عمل درآمد کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا اُور نہ ہی آج تک کسی ایک بھی سیاسی جماعت کا احتساب اِس کے انتخابی منشور پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ جن معاشروں میں جمہوریت پروان چڑھی اُور جن اقوام نے جمہوریت کے ثمرات حاصل کئے وہاں رہنماو¿ں کے ہر ایک لفظ اُور بالخصوص انتخابی منشور کی خاص اہمیت ہوتی ہے اُور سیاسی جماعتوں کے منشور ایک دوسرے کی نقل سے نہیں بلکہ اپنی سوچ اُور ماضی‘ حال و مستقبل کی ترجیحات مدنظر رکھتے سے بنائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں یہ انتخابی منشور ایک رسم سے زیادہ نہیں رہے اُور یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کے لئے منشور سے زیادہ انتخابی نشان اہم ہو چکا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ 19 دسمبر کے روز بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 17 اضلاع میں پولنگ ہوگی جس کے لئے 37ہزار752 اُمیدوار سٹی‘ تحصیل‘ ویلیج اُور نیبرہڈ کونسلوں کے لئے میدان میں ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں دوسرے مرحلے کے انتخابات اگلے ماہ (جنوری دوہزاربائیس) میں ہوں گے۔

بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ’ضلع پشاور‘ کی نظامت (میئرشپ) کے لئے اگر مختلف انتخابی منشورات کو جمع کیا جائے تو سترہ مختلف سیاسی و غیرسیاسی میئر شپ کے اُمیدواروں نے پشاور کے جن مسائل کی فہرست عوامی عدالت میں پیش کی ہے اُس کے مطابق 1: پشاور کے دیہی علاقوں میں رہنے والوں کو پینے کے پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ 2: پھیلتے ہوئے پشاور کے لئے قبرستانوں کی ضرورت ہے۔ 3: قبرستانوں کے لئے جنازہ مساجد کی ضرورت ہے بلکہ اِیک سیاسی جماعت نے قبرستان مساجد واگزار کرانے کا وعدہ کیا ہے‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ قبرستانوں کی اراضی پر جنازہ مساجد تعمیر کی جائیں گی اُور یہی وہ طرزعمل ہے جس سے قبرستان کی اراضی پر قبضے کا آغاز ہوتا ہے اُور ایک جنازہ مسجد بنانے کے بعد اُس کے ساتھ تعمیرات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اِس بات کو سمجھنے کے لئے وزیرباغ سے متصل سبزہ زار کو دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں سب سے پہلے وزیرباغ کی چاردیواری کو پیچھے دھکیلا گیا۔ اِس کے بعد سبز راہداری بنائی گئی اُور پھر کچھ عرصہ بعد اُس کی دیکھ بھال سے ہاتھ کھینچ لیا گیا۔ جب پودے اُور درخت دیکھ بھال اُور پانی نہ ملنے کے نتیجے میں مرجھا گئے اُور گرد نے پتوں کا سبز رنگ سفیدی سے بدل دیا تو چونکہ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی جس کے تحت علاقے کی گندگی وہاں پھینکنا شروع کر دی گئی اُور یوں کوڑا کرکٹ (ٹھوس گندگی) کے ڈھیر لگتے چلے گئے اُور اِس کے بعد سرکاری ’آٹو ورکشاپ‘ بنائی گئی۔ ایک سرکاری گودام بنایا گیا جس کے ساتھ جنازہ مسجد‘ پرائمری سکول اُور وزیرباغ کے چوکیداروں کے کمرے اُور بعد میں رہائشگاہیں بن گئیں جبکہ وزیرباغ کی چاردیواری سے متصل قبروں کا نام و نشان نہیں رہا۔ اِس منظرنامے کا سب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ پشاور کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب کا سب سیاست کی وجہ سے ہے اُور یہ سیاست ہی ہے کہ جس کی طرف دیکھتے ہوئے اہل پشاور ماضی میں ہوئی غلطیوں کی اصلاح ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے لئے سیاسی جماعتوں کے منشور کم و بیش ایک جیسے ہی ہیں‘ جن میں پشاور کا تذکرہ اُور پشاور کے چرچوں کی دھوم ہے۔ درحقیقت ہر کوئی پشاور کے مسائل کا حل چاہتا ہے۔ ایسے مسائل جو دیرینہ صورت اختیار کر گئے ہیں اُور یہ اُس وقت تک حل نہیں ہوں گے جب تک انتخابی اُمیدواروں کی پسند و ناپسند میں اہل پشاور ”ایک ووٹ ’صرف پشاور“ کے نام پر نہ دیں۔ یقینی امر ہے کہ جب پشاور‘ اہل پشاور کی ترجیح نہیں بنے گا اُس وقت کوئی ایک بھی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ پشاور کی محبت عملی اِظہار کی متقاضی ہے اُور بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ اِس سلسلے میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ پشاور کی یاد مسلسل رہنے اُور اِس یاد کے اِحترام میں ”ایک ووٹ‘ صرف پشاور“ سے ہمہ جہت تبدیلی کا آغاز کیا جاسکتا ہے ورنہ انتخابات کے موسم آنے جانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ”یہی تقاضا ہے اِس بار بھی محبت کا .... بدن پہ گرد سفر کو جو مل سکو‘ تو چلو (نبیل احمد نبیل)۔“

....



Editorial Page of Daily Aaj Peshawar Abbottabad dated December 07, 2021

Sunday, November 14, 2021

Political (LG) Polls: Yet another mistake!

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

.... پھر شہر ’کم نگہ‘ کی بصارت پہ رائے دو

مشکل در مشکل اُور انتخابات در انتخابات مراحل (مقامات ِتفکر) زیادہ فرق نہیں اُور یہی حاصل ِکلام ہے کہ اِس عمل سے وابستہ اُمیدیں پوری نہیں ہو رہیں لیکن بار بار ایک ہی غلطی (تجربہ) دہرانے سے توقع ہے کہ نتیجہ الگ برآمد ہوگا! خبر ہے کہ خیبرپختونخوا میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اُور خیبرپختونخوا کے 17 اضلاع (پشاور‘ نوشہرہ‘ چارسدہ‘ خیبر‘ مہمند‘ مردان‘ صوابی‘ کوہاٹ‘ کرک‘ ہنگو‘ بنوں‘ لکی‘ ٹانک‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ ہری پور‘ باجوڑ اُور بونیر) کے لئے مقرر کردہ ریٹرنگ آفیسرز نے وصول شدہ کاغذات الیکشن کمیشن کو ارسال کر دیئے ہیں۔ یہ کاغذات مجموعی طور پر 66 تحصلیوں کے لئے ہیں جن میں سب سے زیادہ تحصیلیں پشاور میں سات‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ بونیر اُور بنوں میں چھ چھ۔ مردان میں پانچ‘ صوابی‘ کوہاٹ اُور لکی میں چار چار۔ نوشہرہ‘ چارسدہ‘ خیبر‘ مہمند‘ کرک اُور ہری پور میں تین تین جبکہ ہنگو اُور بونیر میں دو دو تحصیلیں ہیں۔ سب سے زیادہ کاغذات نامزدگی بھی پشاور ہی میں جمع ہوئے ہیں جن میں جنرل نشست کے لئے تین ہزار چار‘ خواتین کی نشستوں کے لئے پانچ سو چھپن‘ مزدور کسان نشستوں کے لئے ایک ہزار بیاسی‘ نوجوان (یوتھ) نشستوں کے لئے نو سو چودہ اُور اقلیتی نشستوں کے لئے ایک سو اڑتالیس اُمیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ اِس قدر بڑی تعداد میں کاغذات نامزدگی جمع ہونے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پشاور اُور صوبے کے دیگر اضلاع میں انتخابی گہما گہمی کس قدر برپا ہونے والی ہے اُور کس قدر کانٹے دار (پرہجوم) مقابلے متوقع ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا میں ’16 جنوری دوہزاربائیس‘ تک بلدیاتی انتخابات اُور بلدیاتی کا عمل مکمل کرنا ہے اُور اِس سلسلے میں سترہ مذکورہ اضلاع میں پہلے مرحلے کی پولنگ کے لئے ’اُنیس دسمبر دوہزاراکیس‘ کی تاریخ مقرر ہے۔ اِن بلدیاتی انتخابات کو مؤخر (فی الوقت ملتوی) کرنے کی استدعا کرتے ہوئے خیبرپختونخوا نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا کہ ایک ہی دن تحصیل‘ سٹی کونسل‘ ویلیج کونسل اُور نیبرہڈ کونسلوں کے لئے بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جائیں تاہم الیکشن کمیشن نے اِس رائے سے اتفاق نہیں کیا اُور چار سے آٹھ نومبر کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے لئے تاخیر مقرر کی گئی۔ دس نومبر سے بارہ نومبر کاغذات کی جانچ پڑتال (سکورٹنی) کا عمل مکمل کیا جائے گا جس کے بعد کاغذات نامزدگیوں کی منظوری یا اُنہیں مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف تیرہ سے سولہ نومبر اعتراضات سنے جائیں گے۔ اِس سلسلے میں حتمی فیصلے کی تاریخ اُنیس نومبر مقرر ہے جس کے بعد اُمیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی جائے گی جس کے بعد بائیس نومبر تک اُمیدواروں کے کاغذت نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ ہے۔ اِس کے بعد تیئس نومبر کو انتخابی نشانات جاری کئے جائیں گے اُور اُسی دن اُمیدواروں کے نام بمعہ انتخابی نشانات کی حتمی فہرست جاری ہو جائے گی اُور یوں یہ پورا انتخابی عمل چوبیس دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔ بلدیاتی انتخابات کے لئے ضابطہ اخلاق بھی وضع کیا گیا ہے جو ماضی سے زیادہ مختلف نہیں اُور حسب توقع اِس مرتبہ بھی اِس پر سوفیصدی عمل درآمد نہیں ہوگا جیسا کہ انتخابات میں زیادہ سے زیادہ اخراجات کی حد پر عمل درآمد اُور انتخابی حلقوں میں صوبائی یا وفاقی حکومت کی جانب سے ترقیاتی کام نہ ہونا شامل ہے۔ اِس بات پر بھی پابندی ہے کہ نئے ترقیاتی کاموں کا اعلان (وعدہ) بھی نہیں کیا جائے گا۔ بات واضح ہے کہ صدر مملکت‘ وزیراعظم‘ وزرائے اعلیٰ‘ گورنر‘ وفاقی اُور صوبائی وزرا،انتخابی عمل کے دوران (پولنگ سے قبل) کسی بھی بلدیاتی انتخابی حلقے کا دورہ نہیں کریں گے جس کا مقصد یہ ہے کہ حکومتی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے عوام کی رائے پر اثرانداز نہ ہوا جائے۔

بلدیاتی انتخابات ایک مرتبہ پھر سیاسی بنیادوں پر ہوں گے لیکن حسب ِسابق کاغذات جمع کرانے والوں میں اکثریت غیرسیاسی اُمیدواروں کی ہے اُور اصولاً دیکھا جائے تو بلدیاتی انتخابات غیرسیاسی ہی ہونے چاہیئں۔ کامیاب بلدیاتی نمائندوں کو جس سطح اُور جس درجہ فیصلہ سازی کے عمل میں حصہ لینا ہوتا ہے اُس میں سیاسی ترجیحات اُور سیاسی مفادات عوامی مفادات سے متصادم رہتے ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ خدمت کا حق ادا نہیں ہو پاتا۔ ماضی کے کئی تجربات اُور مثالیں موجود ہیں جس میں بلدیاتی نظام پر سیاسی جماعتوں کا غلبہ ہونے کی وجہ سے باشعور طبقات نے تحفظات کا اظہار کیا اُور اِس سلسلے میں شکایات درج کروائیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک انتخابات سے دوسرے انتخابات تک تیاریوں میں مصروف رہتی ہیں اُور اُن کے پاس انتخابات میں کامیاب ہونے کے لئے درکار وسائل اُور تجربہ بھی ہوتا ہے جس کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ایک عام آدمی اگر آزاد حیثیت سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیتا ہے تو اُس بیچارے کے الیکشن کمیشن دفاتر کے چکر لگانے ہی میں سارا وقت گزر جاتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہوتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے پاس اپنے نامزد اُمیدوار کی تشہیر کے لئے مالی وسائل کسی آزاد اُمیدوار کے مقابلے نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں اُور اُن کے انتخابی نشانات بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہوتے ہیں‘ جن کی بدولت وہ نفسیاتی طور پر برتری رکھتے ہیں۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے لئے ضابطہ اخلاق وضع کرتے ہوئے سوشل میڈیا سے متعلق ضابطہ اخلاق جاری نہیں کیا گیا حالانکہ یہ نہایت ہی ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کے پاس نہایت ہی منظم ”سوشل میڈیا سیل“ پہلے سے موجود ہیں جن کا اِس موقع پر بھرپور استعمال کیا جائے گا جبکہ ایک عام بلدیاتی اُمیدوار اگر دوڑ دھوپ کر کے ووٹروں کی فہرستیں حاصل کر بھی لے تو اُس میں موبائل فون نمبر نہیں ہوتے جن کا وہ استعمال کر سکے لیکن سیاسی جماعتیں سالہا سال کے تجربات کی بنیاد پر ایسے کوائف اپنے طور پر جمع رکھتی ہیں‘ جن سے ووٹروں کی رائے پر اثرانداز ہوا جا سکے اُور سیاسی جماعتیں زیادہ منظم انداز میں انتخابی مہمات مرتب و فعال رکھنے کا ہنر (خواندگی) بھی رکھتی ہیں۔ چوتھی بات سیاسی جماعتیں طاقتور سماجی و مذہبی حلقوں کا مقابلے کرنے کی الگ سے حکمت عملیاں وضع کرتی ہیں اُور ووٹوں کی گنتی اُور تقسیم کے لائحہ عمل کے مطابق اپنے ہی خلاف ایسے اُمیدواروں کو بطور بلدیاتی اُمیدوار لایا جاتا ہے جو مخالف اُمیدوار کے ووٹ تقسیم کر کے کم کر سکے۔ یہ نہایت ہی سوچی سمجھی اُور نپی تلی حکمت عملی ہوتی ہے جس کے پیچھے بہت ساری عوامل سوچ بچار یا ہوم ورک کارفرما ہوتا ہے اُور یوں سارے کا سارا بلدیاتی انتخابی عمل سیاسی جماعتوں کے نام رہتا ہے‘ جو آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والوں کی حمایت بھی واجبی یا وقتی مراعات یا وعدوں کے عوض حاصل کر لیتی ہیں۔ ماضی میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں‘ جن میں آزاد اُمیدواروں کو گلے شکوے رہے۔ اِس بات کا تصور کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ الیکشن کمیشن کا ضابطہ¿ اخلاق پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے جس کے بعد آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والوں سے بلواسطہ اُور بلاواسطہ صوبائی فیصلہ سازوں کی ملاقاتوں کا اہتمام کروایا جاتا ہے جو اُن سے ترقیاتی فنڈز اُور دیگر مراعات کے وعدے کرتے ہیں اُور یوں پانسہ اُن کے حق میں پلٹ جاتا ہے جن کا منشور انتخابات میں عوام کی اکثریت مسترد کر چکی ہوتی ہے۔ عام آدمی کے لئے اِس قسم کا انتخابی بندوبست اُور انتخابی اتحادی حکمت عملیاں ناقابل سمجھ ہیں کہ جن سیاسی مخالفین کو وہ مسترد کرتے ہیں لیکن اُن کی جماعت اُنہی کی اتحادی بن کر عددی اکثریت کی بنیاد پر ضلعی یا تحصیل میں حکومت بنا لیتی ہے۔ بہرحال انتخابی نظام کے یہ پہلو الگ موضوع ہیں۔

موجودہ حالات میں مہنگائی کے سبب پیدا ہوئی معاشی مشکلات بلدیاتی انتخابی مہمات کا خاص نکتہ رہے گا‘ جو حزب اختلاف اُور آزاد حیثیت سے اِن انتخابات میں حصہ لینے والے حکومتی جماعت کے نامزد اُمیدواروں کے خلاف عوام کی عدالت میں زور و شور سے پیش کریں گے اُور چونکہ یہ مؤقف زیادہ فلسفیانہ نہیں‘ اِس لئے ووٹروں کو قائل کرنا بھی مشکل نہیں ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کی منصوبہ بندی کون زیادہ بہتر انداز میں کرتا ہے جبکہ امکان یہی ہے کہ اِس مرتبہ بھی انتخابی منصوبہ بندی ہی کامیاب (سرخرو) ٹھہرے گی۔

اِس کی نظر میں پنہاں محبت پہ رائے دو 

 پھر شہر کم نگہ کی بصارت پہ رائے دو (زریں منور)

....

Clipping from Daily Aaj Peshawar Abbottabad dated 14 November 2021

Editorial Page Daily Aaj dated 14 November 2021

Daily Aaj 14 November 2021