Showing posts with label Election Commission of Pakistan. Show all posts
Showing posts with label Election Commission of Pakistan. Show all posts

Sunday, November 14, 2021

Political (LG) Polls: Yet another mistake!

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

.... پھر شہر ’کم نگہ‘ کی بصارت پہ رائے دو

مشکل در مشکل اُور انتخابات در انتخابات مراحل (مقامات ِتفکر) زیادہ فرق نہیں اُور یہی حاصل ِکلام ہے کہ اِس عمل سے وابستہ اُمیدیں پوری نہیں ہو رہیں لیکن بار بار ایک ہی غلطی (تجربہ) دہرانے سے توقع ہے کہ نتیجہ الگ برآمد ہوگا! خبر ہے کہ خیبرپختونخوا میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اُور خیبرپختونخوا کے 17 اضلاع (پشاور‘ نوشہرہ‘ چارسدہ‘ خیبر‘ مہمند‘ مردان‘ صوابی‘ کوہاٹ‘ کرک‘ ہنگو‘ بنوں‘ لکی‘ ٹانک‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ ہری پور‘ باجوڑ اُور بونیر) کے لئے مقرر کردہ ریٹرنگ آفیسرز نے وصول شدہ کاغذات الیکشن کمیشن کو ارسال کر دیئے ہیں۔ یہ کاغذات مجموعی طور پر 66 تحصلیوں کے لئے ہیں جن میں سب سے زیادہ تحصیلیں پشاور میں سات‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ بونیر اُور بنوں میں چھ چھ۔ مردان میں پانچ‘ صوابی‘ کوہاٹ اُور لکی میں چار چار۔ نوشہرہ‘ چارسدہ‘ خیبر‘ مہمند‘ کرک اُور ہری پور میں تین تین جبکہ ہنگو اُور بونیر میں دو دو تحصیلیں ہیں۔ سب سے زیادہ کاغذات نامزدگی بھی پشاور ہی میں جمع ہوئے ہیں جن میں جنرل نشست کے لئے تین ہزار چار‘ خواتین کی نشستوں کے لئے پانچ سو چھپن‘ مزدور کسان نشستوں کے لئے ایک ہزار بیاسی‘ نوجوان (یوتھ) نشستوں کے لئے نو سو چودہ اُور اقلیتی نشستوں کے لئے ایک سو اڑتالیس اُمیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ اِس قدر بڑی تعداد میں کاغذات نامزدگی جمع ہونے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پشاور اُور صوبے کے دیگر اضلاع میں انتخابی گہما گہمی کس قدر برپا ہونے والی ہے اُور کس قدر کانٹے دار (پرہجوم) مقابلے متوقع ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا میں ’16 جنوری دوہزاربائیس‘ تک بلدیاتی انتخابات اُور بلدیاتی کا عمل مکمل کرنا ہے اُور اِس سلسلے میں سترہ مذکورہ اضلاع میں پہلے مرحلے کی پولنگ کے لئے ’اُنیس دسمبر دوہزاراکیس‘ کی تاریخ مقرر ہے۔ اِن بلدیاتی انتخابات کو مؤخر (فی الوقت ملتوی) کرنے کی استدعا کرتے ہوئے خیبرپختونخوا نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا کہ ایک ہی دن تحصیل‘ سٹی کونسل‘ ویلیج کونسل اُور نیبرہڈ کونسلوں کے لئے بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جائیں تاہم الیکشن کمیشن نے اِس رائے سے اتفاق نہیں کیا اُور چار سے آٹھ نومبر کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے لئے تاخیر مقرر کی گئی۔ دس نومبر سے بارہ نومبر کاغذات کی جانچ پڑتال (سکورٹنی) کا عمل مکمل کیا جائے گا جس کے بعد کاغذات نامزدگیوں کی منظوری یا اُنہیں مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف تیرہ سے سولہ نومبر اعتراضات سنے جائیں گے۔ اِس سلسلے میں حتمی فیصلے کی تاریخ اُنیس نومبر مقرر ہے جس کے بعد اُمیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی جائے گی جس کے بعد بائیس نومبر تک اُمیدواروں کے کاغذت نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ ہے۔ اِس کے بعد تیئس نومبر کو انتخابی نشانات جاری کئے جائیں گے اُور اُسی دن اُمیدواروں کے نام بمعہ انتخابی نشانات کی حتمی فہرست جاری ہو جائے گی اُور یوں یہ پورا انتخابی عمل چوبیس دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔ بلدیاتی انتخابات کے لئے ضابطہ اخلاق بھی وضع کیا گیا ہے جو ماضی سے زیادہ مختلف نہیں اُور حسب توقع اِس مرتبہ بھی اِس پر سوفیصدی عمل درآمد نہیں ہوگا جیسا کہ انتخابات میں زیادہ سے زیادہ اخراجات کی حد پر عمل درآمد اُور انتخابی حلقوں میں صوبائی یا وفاقی حکومت کی جانب سے ترقیاتی کام نہ ہونا شامل ہے۔ اِس بات پر بھی پابندی ہے کہ نئے ترقیاتی کاموں کا اعلان (وعدہ) بھی نہیں کیا جائے گا۔ بات واضح ہے کہ صدر مملکت‘ وزیراعظم‘ وزرائے اعلیٰ‘ گورنر‘ وفاقی اُور صوبائی وزرا،انتخابی عمل کے دوران (پولنگ سے قبل) کسی بھی بلدیاتی انتخابی حلقے کا دورہ نہیں کریں گے جس کا مقصد یہ ہے کہ حکومتی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے عوام کی رائے پر اثرانداز نہ ہوا جائے۔

بلدیاتی انتخابات ایک مرتبہ پھر سیاسی بنیادوں پر ہوں گے لیکن حسب ِسابق کاغذات جمع کرانے والوں میں اکثریت غیرسیاسی اُمیدواروں کی ہے اُور اصولاً دیکھا جائے تو بلدیاتی انتخابات غیرسیاسی ہی ہونے چاہیئں۔ کامیاب بلدیاتی نمائندوں کو جس سطح اُور جس درجہ فیصلہ سازی کے عمل میں حصہ لینا ہوتا ہے اُس میں سیاسی ترجیحات اُور سیاسی مفادات عوامی مفادات سے متصادم رہتے ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ خدمت کا حق ادا نہیں ہو پاتا۔ ماضی کے کئی تجربات اُور مثالیں موجود ہیں جس میں بلدیاتی نظام پر سیاسی جماعتوں کا غلبہ ہونے کی وجہ سے باشعور طبقات نے تحفظات کا اظہار کیا اُور اِس سلسلے میں شکایات درج کروائیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک انتخابات سے دوسرے انتخابات تک تیاریوں میں مصروف رہتی ہیں اُور اُن کے پاس انتخابات میں کامیاب ہونے کے لئے درکار وسائل اُور تجربہ بھی ہوتا ہے جس کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ایک عام آدمی اگر آزاد حیثیت سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیتا ہے تو اُس بیچارے کے الیکشن کمیشن دفاتر کے چکر لگانے ہی میں سارا وقت گزر جاتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہوتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے پاس اپنے نامزد اُمیدوار کی تشہیر کے لئے مالی وسائل کسی آزاد اُمیدوار کے مقابلے نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں اُور اُن کے انتخابی نشانات بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہوتے ہیں‘ جن کی بدولت وہ نفسیاتی طور پر برتری رکھتے ہیں۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے لئے ضابطہ اخلاق وضع کرتے ہوئے سوشل میڈیا سے متعلق ضابطہ اخلاق جاری نہیں کیا گیا حالانکہ یہ نہایت ہی ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کے پاس نہایت ہی منظم ”سوشل میڈیا سیل“ پہلے سے موجود ہیں جن کا اِس موقع پر بھرپور استعمال کیا جائے گا جبکہ ایک عام بلدیاتی اُمیدوار اگر دوڑ دھوپ کر کے ووٹروں کی فہرستیں حاصل کر بھی لے تو اُس میں موبائل فون نمبر نہیں ہوتے جن کا وہ استعمال کر سکے لیکن سیاسی جماعتیں سالہا سال کے تجربات کی بنیاد پر ایسے کوائف اپنے طور پر جمع رکھتی ہیں‘ جن سے ووٹروں کی رائے پر اثرانداز ہوا جا سکے اُور سیاسی جماعتیں زیادہ منظم انداز میں انتخابی مہمات مرتب و فعال رکھنے کا ہنر (خواندگی) بھی رکھتی ہیں۔ چوتھی بات سیاسی جماعتیں طاقتور سماجی و مذہبی حلقوں کا مقابلے کرنے کی الگ سے حکمت عملیاں وضع کرتی ہیں اُور ووٹوں کی گنتی اُور تقسیم کے لائحہ عمل کے مطابق اپنے ہی خلاف ایسے اُمیدواروں کو بطور بلدیاتی اُمیدوار لایا جاتا ہے جو مخالف اُمیدوار کے ووٹ تقسیم کر کے کم کر سکے۔ یہ نہایت ہی سوچی سمجھی اُور نپی تلی حکمت عملی ہوتی ہے جس کے پیچھے بہت ساری عوامل سوچ بچار یا ہوم ورک کارفرما ہوتا ہے اُور یوں سارے کا سارا بلدیاتی انتخابی عمل سیاسی جماعتوں کے نام رہتا ہے‘ جو آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والوں کی حمایت بھی واجبی یا وقتی مراعات یا وعدوں کے عوض حاصل کر لیتی ہیں۔ ماضی میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں‘ جن میں آزاد اُمیدواروں کو گلے شکوے رہے۔ اِس بات کا تصور کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ الیکشن کمیشن کا ضابطہ¿ اخلاق پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے جس کے بعد آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والوں سے بلواسطہ اُور بلاواسطہ صوبائی فیصلہ سازوں کی ملاقاتوں کا اہتمام کروایا جاتا ہے جو اُن سے ترقیاتی فنڈز اُور دیگر مراعات کے وعدے کرتے ہیں اُور یوں پانسہ اُن کے حق میں پلٹ جاتا ہے جن کا منشور انتخابات میں عوام کی اکثریت مسترد کر چکی ہوتی ہے۔ عام آدمی کے لئے اِس قسم کا انتخابی بندوبست اُور انتخابی اتحادی حکمت عملیاں ناقابل سمجھ ہیں کہ جن سیاسی مخالفین کو وہ مسترد کرتے ہیں لیکن اُن کی جماعت اُنہی کی اتحادی بن کر عددی اکثریت کی بنیاد پر ضلعی یا تحصیل میں حکومت بنا لیتی ہے۔ بہرحال انتخابی نظام کے یہ پہلو الگ موضوع ہیں۔

موجودہ حالات میں مہنگائی کے سبب پیدا ہوئی معاشی مشکلات بلدیاتی انتخابی مہمات کا خاص نکتہ رہے گا‘ جو حزب اختلاف اُور آزاد حیثیت سے اِن انتخابات میں حصہ لینے والے حکومتی جماعت کے نامزد اُمیدواروں کے خلاف عوام کی عدالت میں زور و شور سے پیش کریں گے اُور چونکہ یہ مؤقف زیادہ فلسفیانہ نہیں‘ اِس لئے ووٹروں کو قائل کرنا بھی مشکل نہیں ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کی منصوبہ بندی کون زیادہ بہتر انداز میں کرتا ہے جبکہ امکان یہی ہے کہ اِس مرتبہ بھی انتخابی منصوبہ بندی ہی کامیاب (سرخرو) ٹھہرے گی۔

اِس کی نظر میں پنہاں محبت پہ رائے دو 

 پھر شہر کم نگہ کی بصارت پہ رائے دو (زریں منور)

....

Clipping from Daily Aaj Peshawar Abbottabad dated 14 November 2021

Editorial Page Daily Aaj dated 14 November 2021

Daily Aaj 14 November 2021


Tuesday, July 17, 2018

July 2018: What we need? Elections, Politics and [POLITICAL] Reconciliation!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
انتخابات: سیاست اُور مفاہمت!
پاکستان کی ’70 سالہ‘ سیاسی تاریخ میں جن ’مشکل اَدوار‘ کا ذکر ملتا ہے‘ اُن کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ’قومی اِداروں‘ کے درمیان ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ’اِختلاف رائے‘ پایا جاتا ہے اُور جب تک یہ ’’اِختلاف رائے‘ اِتفاق رائے‘‘ میں تبدیل نہیں ہوتا‘ اُس وقت تک قومی مسائل کے حل کے لئے ترجیحات کے تعین اور اِن ترجیحات کو عملی جامہ پہنانا ممکن نہیں ہوگا۔ سردست پاکستان کی ضروریات میں شامل ہے 1: عدالتی اِصلاحات (جوڈیشل ریفارمز) کے ذریعے کم سے کم وقت اُور خرچ میں اِنصاف تک رسائیاور بلاامتیاز احتساب کا عمل۔ 3: اِنتخابی اِصلاحات (اِلیکٹورل ریفارمز) جن کے ذریعے عملاً غیرمتنازعہ‘ شفاف اُور آزادانہ اِنتخابات کا اِنعقاد ممکن ہو۔ 3: مؤثر خارجہ اَمور (فارن پالیسی) جس کے ذریعے خطے اُور عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کو سفارتی طور پر اُجاگر کیا جائے۔ 4: دفاع (ڈیفنس)‘ دفاعی پیداوار و صلاحیت میں اِضافہ اُور داخلہ حفاظتی اَمور (ہوم لینڈ سیکورٹی) جن کے ذریعے اِنتہاء پسندی اُور دہشت گردی جیسے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔5: سیاسی قیادت جو ایک دوسرے کے پاؤں کھینچنے کی بجائے عوام کی ’نبض آشنا‘ ہو اُور 6: اِحساس ذمہ داری کے ساتھ ذرائع ابلاغ (الیکٹرانک اُور پرنٹ میڈیا) کا مثبت کردار۔ ہمیں اُس ’مستقل اِنکاری کیفیت‘ سے بھی باہر آنا ہے‘ جس میں فوج‘ عدلیہ بشمول اِنسداد بدعنوانی اسٹیبلشمنٹ‘سیاست دانوں‘ افسرشاہی اور ذرائع ابلاغ کے وجودکو تسلیم نہیں کیا جاتا اور جب تک اِن 6 شعبوں کے فیصلہ سازوں کے درمیان ’’قومی مفاہمت‘‘ نہیں ہوتی‘ جس میں مل بیٹھ کر ہر طاقت اپنے اپنے کردار اُور ذمہ داریوں کا تعین نہیں کر لیتے اُس وقت تک وقفوں سے ’عام اِنتخابات‘ کا اِنعقاد کروانا کافی نہیں ہوگا۔

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن پاکستان کے ’’سیاسی کلچر‘‘ میں فوج کی حکمرانی اب ایک ’زندہ روایت‘ جیسی حقیقت حاصل کر چکی ہے۔ دوسری طرف سیاسی جماعتیں باہم بر سرِ پیکار ہوتی ہیں‘ سیاست دان ایک دوسرے کے وجود کو برداشت کرنے سے انکاری ہیں‘ سول حکومتیں بدانتظامی‘ عدمِ استحکام اور اخلاقی انحطاط کا بدترین نمونہ پیش کر رہی ہیں۔ عوام الناس حکمرانوں کے آگے اپنے مسائل حل نہ ہونے کا رونا روتے ہیں۔ غیر مقبول مذہبی اور سیاسی گروہ فوج کو حکومت سنبھالنے کی پیشکش کرتے ہیں اور فوجی پوری آمادگیِ دل کے ساتھ اس صداے خوش نوا پر لبیک کہتے اور قوم کے مسیحا کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ وہ آئین کو بالائے طاق رکھ کر مسندِ اقتدار پر نہ صرف فائز ہوتے ہیں بلکہ اقتدار کے زیادہ سے زیادہ مظاہر کو اپنی ذات میں مرتکز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ استحکام حاصل کر لینے کے بعد اپنے اقتدار کے آئینی جواز کے لئے سرگرمِ عمل ہو جاتے ہیں۔ اقتدار کو طول دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور بالآخر عوام کی ناپسندیدگی کا داغ اپنے دامن پر سجا کر رخصت ہو جاتے ہیں۔

اس روایت کا آغاز ’27 اکتوبر 1958ء‘ میں جنرل ایوب خان صاحب کے مارشل لاء سے ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سکندر مرزا نے سیاست دانوں کے پر زور ایماء پر ’مارچ 1959ء‘ میں عام انتخابات کے انعقاد کا وعدہ کر رکھا تھا۔ سیاسی سرگرمیاں زور پکڑ رہی تھیں۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ اب سکندر مرزا کے لئے عام انتخابات سے گریز ممکن نہیں ہو گا اور عام انتخابات کے نتیجے میں اسے لازماً کرسیِ صدارت سے محروم ہونا پڑے گا۔ محرومی کے اس خدشے کے پیشِ نظر اُس نے جنرل ایوب خان کے ذریعے سے مارشل لاء نافذ کر دیا اور اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی اعتبار سے تین بڑے اقدامات کئے۔ 1: انہوں نے سکندر مرزا کو منصبِ صدارت سے اتارا اور خوداس پر فائز ہو گئے۔2: 1956ء کے آئین کو منسوخ کیا۔3: ایک موقع پرسیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی اور سیاست دانوں ہی کو سیاست کے لئے نااہل قرار دے دیا۔ ایوب خان ’25 مارچ 1969ء‘ کے روز رخصت ہوئے تو اس دوران میں انہوں نے جمہوریت کا نعرہ بھی لگایا‘ عام انتخابات بھی کرائے اور آئین بھی تشکیل دیا مگرتاریخ میں وہ ایک آمراورمخالفِ جمہوریت ہی کی حیثیت سے جانے گئے۔ 

عوام کی زور دار احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ایوب خان کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔اس موقع پر انہی کے وضع کردہ آئین کا تقاضا تھا کہ اقتدار قومی اسمبلی کے اسپیکر کو منتقل کیا جائے مگر انہوں نے حکومت چیف آف آرمی سٹاف جنرل یحییٰ خان کے سپرد کی۔ جنرل یحییٰ نے دو سال حکومت کی‘ اس دوران میں ان کے اہم سیاسی اقدامات یہ تھے:1: مارشل لاء نافذ کیا۔2: عوام سے رائے لئے بغیر ’ون یونٹ‘ کو توڑ دیا۔3: انتخابات کے بعد اقتدار میں اپنی شرکت کی تگ و دو‘ منتخب نمائندوں کو انتقالِ اقتدار میں اِلتوأ اور مشرقی حصے میں فوجی کاروائی جیسے بعض ایسے معاملات کئے کہ جنہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک کوکامیاب بنانے میں حتمی کردار ادا کیا۔ یحییٰ خان کے بعد کچھ عرصہ تک جناب ذوالفقار علی بھٹو کی سول حکومت قائم رہی۔1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی بنیاد پر بھٹو حکومت کے خلاف ایک زوردار عوامی تحریک شروع ہوئی اور ملک سیاسی خلفشار کا شکار ہو گیا۔ اِس صورتحال کو بنیاد بنا کر’16 ستمبر 1978ء‘ کے روز جنرل ضیاء الحق نے عنانِ حکومت سنبھالی۔ اور اعلان کیا کہ وہ ’90 روز‘کے اندر انتخابات کرا کے رخصت ہو جائیں گے مگر وہ 10سال تک حکمرانی کے منصب پر فائز رہے اُور ’17 اگست 1988ء‘ فرشتۂ اجل ہی اُنہیں مسندِ اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہوا۔ اس دوران میں وہ بتدریج اپنے فوجی تشخص کو کم کرتے چلے گئے اور آہستہ آہستہ جمہوری اداروں کو بھی کسی حد تک بحال کر دیا مگر اقتدار سے علیحدگی کو وہ کسی لمحے بھی گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔

ضیاء الحق کے سیاسی اقدامات میں 1: آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارشل لاء کا نفاذ۔ 2: ریفرنڈم کے ذریعے سے اپنے اقتدار کو آئینی تحفظ دینے کی کوشش۔ 3: غیر جماعتی انتخابات کا انعقاد۔4: گروہی‘ انتہاء پسندانہ اور فرقہ ورانہ سیاست (کلاشنکوف کلچر) کا فروغ شامل تھا۔ اُس وقت کی عدالت عظمیٰ نے حسبِ سابق انہیں سندِ جواز فراہم کر دی ہے۔ لب لباب یہ ہے کہ جب کبھی اور جس کسی بھی ضرورت کے تحت فوج اقتدار پر قابض ہوتی ہے تو اِس سے پیدا ہونے والے چند مسائل میں سرفہرست ’دین کے مسلمات‘ کا مجروح ہونا شامل ہوتا ہے۔ اسلام نے اصول طے کردیا ہے کہ: ’وامرہم شوریٰ بینہم‘ یعنی ’’مسلمانوں کا نظام ان کے باہمی مشورے پر مبنی ہے۔‘‘ مسلمان جب بھی کوئی اجتماعی نظام قائم کریں گے‘ اس کا اصلِ اصول یہی قاعدہ ہو گا۔ اس کامطلب یہ ہے کہ ریاست کی سطح پر اجتماعی نوعیت کا کوئی فیصلہ مسلمانوں کی مشاورت کے بغیر نہیں ہوگا اور اس ضمن میں ان کی رائے کو حتمی حیثیت حاصل ہو گی۔ جب یہ اصول طے ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی نظام کی اساس ’امرہم شوریٰ بینھم‘ ہے‘ اس لئے ان کے امرا و حکام کا انتخاب اور حکومت و امارت کا انعقاد مشورے ہی سے ہو گا اور امارت کا منصب سنبھال لینے کے بعد بھی وہ یہ اختیار نہیں رکھتے کہ اجتماعی معاملات میں مسلمانوں کے اجماع یا اکثریت کی رائے کو رد کر دیں۔ فوج کے بلواسطہ یا بلاواسطہ حکمرانی سے دوسرا مسئلہ ایسے اقدامات کی صورت ظاہرہوتا ہے‘ جو آئین کی خلاف ورزی پر منتج ہوتے ہیں۔ 

ہمارا آئین درحقیقت وہ دستور العمل ہے جس کے بارے میں قوم نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ اپنے اجتماعی امور کو اس کی روشنی میں انجام دے گی۔ اس میں ہم نے قومی سطح پر یہ طے کیا ہے کہ ہمارانظامِ حکومت کیا ہو گا؟ حکومت کس طریقے سے وجود میں آئے گی اور کس طریقے سے اسے تبدیل کیا جا سکے گا؟ سربراہانِ ریاست و حکومت کس طریقے سے منتخب ہوں گے‘ ان کے کیا ا ختیارات ہوں گے اور کس طرح ان کا مواخذہ کیا جا سکے گا؟ یہ اور اس نوعیت کے بے شمار امور جزئیات کی حد تک دستور میں طے ہیں صرف قومی مفاہمت کے ذریعے اُن کی حدود (دائرہ کار) وضع کرنا ہے۔ کسی بھی قوم کا سیاسی استحکام اس بات میں مضمر ہوتا ہے کہ وہاں کی تمام قوتیں (فوج‘ عدلیہ‘ انسداد بدعنوانی کے ادارے‘ سیاست دان‘ افسرشاہی اور ذرائع ابلاغ) آئین کے ہر ایک لفظ پر پوری دیانت داری سے عمل کریں‘ بصورت دیگر مسائل اور بحرانوں سے نکلنے کی کوئی دوسری صورت نہیں!

Tuesday, July 10, 2018

July 2018: The bunch of lies and liars!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
انتخابات: سب جھوٹ ہے!؟

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہنماؤں کی مثال ’ہاتھی‘ جیسی ہے‘ جس کے کھانے اُور دِکھانے کے دانت الگ الگ ہوتے ہیں۔ اگر یقین نہ آئے تو عام اِنتخابات کے لئے جمع کروائے گئے ’اثاثہ جات‘ کی تفصیلات پر نظر کریں‘ جہاں جھوٹ ہی جھوٹ تحریر ملے گا کہ کس طرح اَربوں کی جائیدادوں کی قیمت کروڑوں نہیں بلکہ لاکھوں میں ظاہر کی گئی ہے!

پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے مرکزی صدر‘ شہباز شریف نے اپنی ’’مری روڈ رہائشگاہ‘‘ پر واقع 9 مرلے گھر کی قیمت 34ہزار اور اِسی مقام پر دوسرے گھر کی قیمت 27ہزار روپے ظاہر کی ہے۔ شہباز شریف 38 لاکھ روپے کے مقروض بھی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ملکیت میں ’طلائی زیورات‘ کا نہ ہونا قابل فہم ہے لیکن اگر عمران خان یہ کہتے ہیں کہ اُن کے پاس ذاتی کوئی گاڑی بھی نہیں تو اِس بات پر کوئی ’’اَندھا پاکستانی‘‘ ہی یقین کر سکتا ہے کیونکہ لینڈکروزر (V8) گاڑیوں کے سبھی جدید اور نئے ماڈل سیاستدانوں کے زیراستعمال ہیں۔ ظاہر ہے کہ کاغذات نامزدگیوں کی جانچ پڑتال کے عمل میں کوئی (ناشائستہ) سوال نہیں پوچھا جاتا جیسا کہ آپ جناب کی ملکیت اور زیراستعمال گاڑیوں کی تفصیلات کیا ہیں؟ ایسی تفصیلات طلب کی جائیں تو صرف تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ ملک کی سبھی سیاسی جماعتیں مشکل میں پھنس جائیں جنہیں اپنے اپنے مالی سرپرستوں (اے ٹی ایم مشینوں) کے نام ظاہر کرنا پڑیں جو دراصل سیاسی جماعتوں کے ذریعے انتخابات میں سالہا سال سے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ بہرحال تحریک انصاف کے سربراہ کے پاس ذاتی گاڑی نہ ہونے پر اُن کے حامی پریشان نہ ہوں کیونکہ عنقریب ’’جیپ گروپ‘‘ کے ذریعے ’سیاسی زندگی‘ کا باقی ماندہ سفر آرام و سہولت سے گزر جائے گا۔ 

جان لیجئے کہ عمران خان کے اثاثوں میں 2 لاکھ روپے مالیت کے جانور شامل ہیں اور وہ ایسے واحد سیاسی جماعتوں کے قائد ہیں جنہیں تفریح طبع کے لئے پالتو جانوروں سے لگاؤ ہے لیکن الیکشن کمشن کو 2 لاکھ روپے کے جانوروں کے نام اور تفصیلات نہیں دی گئیں یقیناًیہ قیمت اُن کی خریداری کے وقت کی تھی اور اب جبکہ ان جانوروں کو پال پوس کر بڑا کر دیا گیا ہے تو اُن کی قیمت کسی بھی طرح دس لاکھ سے کم نہیں ہوگی۔ کیا عمران خان کے پاس ’’سونے کا انڈہ‘‘ دینے والی مرغی بھی ہے؟ اِس سوال کا جواب وہ خود ہی بہتر دے سکتے ہیں‘ لیکن بہرحال عمران خان کے پاس جو بھی جانور ہیں اُن کی خوراک معمولی اور عمومی نہیں ہوگی۔ الیکشن کمشن اگر باریک بینی سے جانچ پڑتال کرتا تو عمران خان کی آمدنی نہ سہی لیکن اُن کے اخراجات کے ذریعے حقیقت کی بڑی حد تک کھوج نکالی جا سکتی تھی! پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی شہباز شریف کی طرح مقروض ہیں‘ جن کے اثاثہ جات کی تفیصلات میں 35 لاکھ روپے کا قرض بھی شامل ہے لیکن 6 لگژری گاڑیاں جن کی مالیت اربوں روپے ہے تو یہ گاڑیاں شمسی توانائی سے چلتی ہیں؟ ایندھن کی مد میں اِن گاڑیوں کا ماہانہ اُور سالانہ خرچ کتنا ہے‘ اگر یہ معلوم ہو جائے تو سب پر بھاری ’قائد‘ کی آمدن کا ایک پہلو تو معلوم ہو سکتا ہے!؟ 

دنیا جانتی ہے کہ زرداری کو صرف جانور پالنے کا ہی نہیں بلکہ اُن کے مقابلوں کا بھی شوق ہے اور اُن کے اعلی نسل گھوڑے تو عالمی سطح پر مقبول ہیں۔ یہاں بھی الیکشن کمشن کی جانچ پڑتال کافی ثابت نہ ہوئی‘ ورنہ زرداری کے پسینے چھوٹ سکتے تھے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئے جن کے تمام اثاثہ جات اُنہیں تحائف کی صورت ملے ہیں! تحفے دینے والوں میں والد (آصف علی زرداری)‘ والدہ (بینظیر بھٹو) اُور دادا (حاکم علی زرداری) کے ساتھ بلاول کی پیدائش سے قریب 9 سال قبل پھانسی ہونے والے نانا جان (ذوالفقار علی بھٹو) بھی شامل ہیں جنہیں معلوم تھا کہ مستقبل میں ایک ہی نواسہ اس قدر ذہین ثابت ہوگا کہ وہ اُن کی ’سیاست‘ اور ’جائیداد کا وارث‘ ہونا چاہئے۔ 

مقام حیرت ہے کہ کراچی کے بلاول ہاؤس کی کل قیمت 30لاکھ روپے بتائی گئی ہے جبکہ اُس کے احاطے میں لگے ہوئے درختوں کی قیمت اِس سے کئی گنا زیادہ ہے! 

پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز نے بھی الیکشن کمشن کو ملنے والے تحائف کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کی بجائے صرف اُن کی مالیت ظاہر کرنے پر اکتفا کیا جو کہ مجموعی طور پر ’’4کروڑ 92 لاکھ 77 ہزار روپے‘‘ ہے! اتنی مالیت کے تحائف تو کسی عام آدمی (ہم عوام) کو چار شادیاں کر کے اور تمام عمر ہر دن سالگرہ منا کر مجموعی طور پر بھی نہیں ملتے! بہرحال یہاں بات عام پاکستانیوں کی نہیں ہو رہی! مریم نواز خوش قسمت ہیں کہ اُنہیں اپنے بھائی (حسن نواز) نے 2 کروڑ 89 لاکھ روپے دیئے اور پھر وہ یہ خطیر رقم واپس لینا بھول گئے۔ کاش ہر پاکستانی بہن کو ایسے ہی بھائی میسر ہوں۔ 

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا شمار بھی ملک کے غریبوں میں ہونا چاہئے جن کے بینک اکاونٹ میں صرف 20لاکھ روپے ہیں جبکہ اُن کے معلوم کاروبار اور سیاسی جماعت کے علاؤہ ’’کشمیر کمیٹی‘‘ سے حاصل آمدن کے مقابلے یہ رقم ’ناقابل یقین بچت‘ ہے۔ الغرض کیس بھی سیاست دان اور کسی بھی انتخابی اُمیدوار کے اثاثوں پر نظر کریں‘ وہ ایسی ہی ’حیرت انگیز معلومات‘ کا مجموعہ ہے۔ اگر کسی شخص کو اِس بات پر تعجب ہے کہ پاکستان میں ووٹ کا تقدس اور شرح پولنگ کیوں کم ہوتی ہے تو اُس کا بنیادی سبب یہی حلیفہ دروغ گوئی ہے جس کا زمینی حقائق سے تعلق نہیں۔

’’اہل بصیرت اب نہیں دیکھیں گے کھوٹ کو ۔۔۔ حاصل کریں گے لاکھ طریقوں سے ووٹ کو (سیّد جعفری)۔‘‘ پاکستان کی سیاست میں ووٹوں کی خریداری کا عنصر بھی اِسی وجہ سے در آیا ہے کہ سیاست دانوں کی آمدنی‘ اثاثہ جات اور رہن سہن سے متعلق حلفیہ بیانات ناقابل یقین نہیں۔ رواں ہفتے پنجاب کے شہر رحیم یار خان کے ایک شہری نے سرعام اعلان ’’ووٹ برائے فروخت‘‘ کا اعلان آویزاں کر کے پورے انتخابی نظام اور جمہوریت کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا ہے۔ 

(محلہ) ’’اسلام نگر‘‘ نئی آبادی کے رہائشی صادق نے ایک یا دو نہیں بلکہ پورے 400ووٹ فروخت کے لئے پیش کر دیئے کہ جو چاہے وہ رابطہ کرے! سوشل میڈیا پر اُن کا اعلان مقبول (وائرل) ہونے کے بعد مقامی پولیس نے صادق کو گرفتار کر لیا‘ جو ووٹ بیچنا چاہتا ہے (یعنی ابھی اُس نے جرم کا ارتکاب نہیں کیا)۔ پاکستان میں ووٹ خریدنے والا مجرم نہیں‘ جس نے انتخابی عمل کو بے معنی‘ بے سود اور بے روح بنا کر رکھ دیا ہے! جنس ہے ووٹ۔ بیچنے والا ہے تاجر جبکہ ووٹ کا خریدار سزا کا مستحق نہیں! 

’’یا تو سورج جھوٹ ہے‘ یا پھر سایہ جھوٹ ہے ۔۔۔ 
آنکھ تو اِس پر بھی حیراں ہے کہ‘ کیا کیا جھوٹ ہے۔ (اَختر شمار)‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, July 1, 2018

TRANSLATION "Deceased voters" by Dr. Farrukh Saleem

Deceased voters
متوفی ووٹرز

عام انتخابات 2018ء کے موقع پر ووٹ دینے کی اہلیت اُن پاکستانیوں کو بھی حاصل ہے‘ جو اَب اِس دنیا میں نہیں رہے۔ وہ تمام پاکستانی ووٹرز جو کسی بھی وجہ سے دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں اور اب ہمارے درمیان نہیں لیکن اُن کے نام ’ووٹروں کی فہرست‘ میں موجود ہیں تو اِن متوفی ووٹرز کے بارے میں غور ہونا چاہئے۔

مئی 2013ء کے عام انتخابات کے لئے ’’8 کروڑ 57 لاکھ افراد‘‘ ووٹ دینے کے اہل تھے جبکہ 2018ء کے عام انتخابات کے لئے ’’2 کروڑ 20 لاکھ نئے ووٹرز‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ اِس عرصے (مئی دوہزار تیرہ سے مئی دوہزار اٹھارہ) کے دوران 25 لاکھ ایسے افراد کے نام ووٹر لسٹوں سے نکالے گئے جو مر چکے تھے۔ اِس تبدیلی کے بعد مرتب کی گئی ووٹرز فہرست میں کل ووٹروں کی تعداد 10 کروڑ 59 لاکھ سے زیادہ تھی۔

ذہن نشین رہے کہ پاکستان میں آبادی بڑھنے کی سالانہ اوسط شرح آبادی 2.4 فیصد ہے۔ پہلا سوال: جن 2کروڑ 20 لاکھ نئے ووٹرز کا اضافہ کیا گیا یہ پانچ سال کے عرصے میں کہاں سے آئے؟ کیونکہ پاکستان کی سالانہ اوسط شرح آبادی تو قریب ڈھائی فیصد ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے دو کروڑ سے زائد ووٹرز کا اضافہ کیسے ممکن ہے؟

متوفی ووٹرز کے بارے میں غور ہونا چاہئے۔ پاکستان میں سالانہ شرح اموات 7.5 فیصد ہے یعنی ہر سال ہر ایک ہزار افراد میں سے 7.5 افراد فوت ہو جاتے ہیں۔ ووٹروں کی فہرست سے ’پچیس لاکھ‘ مرحومین کے نام منہا کئے گئے جو سرکاری طور پر فراہم کی جانے والی سالانہ شرح اموات کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ اگر سالانہ شرح اموات کو پیش نظر رکھیں تو پانچ سال کے عرصے میں 70 لاکھ سے زائد پاکستانی مر چکے ہیں جن کے نام ووٹر فہرستوں سے منہا ہونے چاہیءں تھے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ 50 لاکھ ایسے مرحومین ہیں جن کے نام 2018ء کی ووٹر فہرستوں میں درج ہیں۔ کیا مرحوم افراد کے نام ووٹر فہرستوں میں جان بوجھ کر رکھے گئے ہیں یا یہ ایک غیردانستہ غلطی ہے؟ کیا ہمارے ہاں قبرستانوں میں تدفین اور ہسپتالوں میں مرنے والوں کے اعدادوشمار رکھے جاتے ہیں؟

مرنے والے ووٹروں کے نام سے ووٹ بذریعہ ’پوسٹل بیلٹ‘ ڈالے جا سکتے ہیں اور یہ بھی اندیشہ نہیں کہ کوئی مرنے والا اپنی قبر سے اُٹھ کر کہہ سکے یا اعتراض کر سکے کہ اُس کا ووٹ جعل سازی سے ڈالا گیا ہے!

2018ء کے عام انتخابات کے لئے ووٹ دینے کے اہل افراد میں غیرملکی پاکستانی بھی شامل ہیں جن کی تعداد قریب 75لاکھ ہے۔ اپریل 2013ء میں چیئرمین ’نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)‘ طارق ملک نے سپرئم کورٹ آف پاکستان کے سامنے ووٹ ڈالنے کا ایسا عملی تجربہ کیا تھا جس میں ووٹ ڈالنا‘ اُنگلیوں کے نشان کی فوری ’آن لائن‘ اُور حاضر وقت (real-time) تصدیق (بائیومیٹرک) کے ہی ممکن ہو سکتا تھا۔ اِس نظام کو وضع کرنے کا مقصد بیرون ملک پاکستانیوں کو اپنا حق رائے دہی کے استعمال کی صورت نکالنا تھی۔ نادرا کی جانب سے سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ برطانیہ‘ امریکہ اور کینیڈا میں تجرباتی ووٹر مراکز قائم کئے گئے۔ سال 2018ء میں سپرئم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا حق آئندہ عام انتخابات (پچیس جولائی دوہزاراٹھارہ کے روز) حاصل نہیں ہوگا۔
حالیہ مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 10 کروڑ ساٹھ لاکھ مردوں اور 10 کروڑ دس لاکھ خواتین پر مشتمل ہے۔ حالیہ ووٹر فہرستوں میں 5 کروڑ92لاکھ مرد اور 4 کروڑ 67لاکھ خواتین ووٹرز ہیں جس کا مطلب ہے کہ چند لاکھ خواتین کے ووٹ رجسٹر نہیں۔

رواں ماہ (جولائی 2018ء) ہونے والے عام انتخابات میں ووٹروں کی تصدیق الیکٹرانک آلات و ذرائع (بائیومیٹرک) سے نہیں ہو سکے گی۔ پاکستان میں موبائل فون کنکشن (SIM) جاری کرنے کے لئے کوائف کی بائیومیٹرک تصدیق کی جاتی ہے اور یہ عمل اگست 2014ء سے جاری ہے۔

تصور کیجئے کہ 22لاکھ نئے ووٹروں کے نام ووٹرز فہرستوں میں درج کئے گئے ہیں۔

تصور کیجئے کہ کم سے کم 50 لاکھ ایسے افراد کے نام ووٹر فہرستوں میں درج ہیں‘ جو وفات پا چکے ہیں۔
تصور کیجئے کہ 75 لاکھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے نام ووٹر فہرستوں میں تو درج ہیں لیکن اُنہیں ووٹ دینے کا حق نہیں دیا گیا۔

یہ سبھی ووٹرز جن کے نام ووٹر فہرستوں میں تو درج ہیں لیکن وہ ووٹ دینے کے لئے موجود نہیں تو درحقیقت یہ دھاندلی کا ایک ایسا امکان ہے‘ جس کا استعمال ہو سکتا ہے۔ علاؤہ ازیں ووٹر فہرستوں میں اِس قسم کی سنجیدہ غلطیوں کی وجہ سے ووٹروں کا اعتماد عام انتخاب جیسے جمہوری عمل سے اُٹھ سکتا ہے اور ووٹروں کی نظر میں انتخابی عمل مشکوک ہو سکتا ہے۔

تصور کیجئے کہ لاکھوں کی تعداد میں خواتین کے نام ووٹر فہرستوں میں درج نہیں۔ جس کی دیگر کئی وجوہات میں وہ سماجی رجحانات اور دباؤ بھی ہیں کہ جن میں خواتین کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے الگ رکھا جاتا ہے لیکن عمومی اور روائتی فرق کے مقابلے لاکھوں کی تعداد میں خواتین کے ووٹ درج نہ ہونا غیرمعمولی ہے جبکہ خواتین کو یکساں مواقع فراہم کرنے کی تحاریک اور کوششیں بھی ماضی کے مقابلے کئی گنا بڑے پیمانے پر دیکھنے میں آتی رہیں ہیں۔ 

(بشکریہ: دِی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Thursday, June 28, 2018

Jun2018: Election Engineering for July 2018 polls!

مہمان کالم:شبیرحسین امام
الیکشن انجنیئرنگ
عام انتخابات کی بہار میں نجی و سرکاری ٹیلی ویژن چینلوں پر جاری بحث کا زاویہ اور زور (focus) جن موضوعات پر ہے اُن میں حیرت انگیز طور پر مماثلت پائی جاتی ہے تو کیا یہ حسن اِتفاق ہے؟ اِس مرتبہ الیکشن کمشن کی جانب سے انتخابی حلقہ بندیاں ازسرنو مرتب کرنے کا دعوی کیا گیا ہے لیکن نئی حلقہ بندیوں کی حدود اور ماضی کی حلقہ بندیوں میں بنیادی ردوبدل کے بارے میں معلومات جاری نہیں کی جا رہیں تو کیا یہ بھی حسن اتفاق ہے؟ 

الیکشن کمشن آف پاکستان کے پاس ’جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس)‘ کے تحت مرتب شدہ جغرافیائی اعدادوشمار سے متعلق ڈیٹا‘‘ نہیں‘ کیا یہ حسن اتفاق ہی کا اعجاز ہے؟ طویل تاخیر کے بعد غیرضروری جلدبازی میں بناء ’GiS‘ مردم و خانہ شماری کرنا بھی حسن اتفاق ہے؟ بہت بڑے پیمانے پر ’اِنتخابی نتائج‘ پہلے ہی سے تیار کر لئے گئے ہیں‘ جنہیں عملی جامہ پہنانے کے لئے ’پچیس جولائی‘ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ قارئین سے التماس ہے کہ اُس بااختیار ’درپردہ قوت‘ کے بارے میں نہ پوچھیں جو اِس پوری کہانی کی تخلیق کار ہے اور اگر کوئی اپنے ذہن سے‘ اپنے رسک پر‘ نتیجہ اخذ کرنا چاہے تو دیکھ لے کہ پاکستان میں وہ طاقت کونسی ہے جس کے بارے میں اظہار خیال کرنے کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے!؟

الیکشن انجنیئرنگ کا سارا کمال ’انتخابی حلقہ بندیوں‘ میں چھپا ہوا ہے!

نئی اِنتخابی حلقہ بندیوں کے ’اَثرات بصورت نتائج‘ ظاہر ہونے کے بعد دو طرح کے ممکنہ ردعمل دیکھنے میں آئیں گے۔ عوام کی حیرانی و پریشانی ظاہر ہو سکتی ہے‘ کیونکہ بڑی تعداد میں غیرمقبول افراد منتخب ہو جائیں گے اور دوسرا ممکنہ ردعمل سیاسی جماعتوں اور نامور سیاسی کرداروں کی طرف سے ’احتجاجی تحریک‘ کی صورت دیکھنے میں آ سکتا ہے‘ جس کے بعد امن و امان کی صورتحال اِس حد تک خراب ہو جائے گی کہ (بہ امر مجبوری) چند برس یا برس ہا برس کے لئے جمہوریت معطل کر دی جائے۔ مئی 2013ء کے (دسویں) عام انتخابات اِس لحاظ سے منفرد تھے کہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابی نتائج کے بعد چاروں صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتیں اکثریتی جماعتیں بن کر سامنے آئیں۔ خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف‘ پنجاب میں مسلم لیگ نواز‘ سندھ میں پیپلز پارٹی پارلیمینٹرینز جبکہ بلوچستان میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ پاکستان میں براہِ راست انتخاب والے حلقوں کی کل تعداد 849 ہے۔ قومی اسمبلی کے 272حلقوں کی تعداد کو منہا کردیا جائے تو ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لئے‘ براہِ راست انتخابی حلقوں کی تعداد 577ہے‘ جن میں پنجاب کے 297‘ سندھ کے 130‘ خیبر پختونخوا کے 99اور بلوچستان کے 51 انتخابی حلقے شامل ہیں۔

سائنسی تجزیہ یہ ہو سکتا ہے کہ نواز لیگ نے پنجاب اسمبلی کی 297نشستوں میں سے 212 حاصل کیں جو 71فیصد تھیں۔ پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی کی 130نشستوں میں سے 70حاصل کیں جو 54فیصد تھیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے خیبر پختونخوا اسمبلی کی 99 میں سے 35 نشستیں حاصل کیں‘ جو 34فیصد تھا۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے 51میں سے 10نشستیں حاصل کیں جو 20فیصد بنتی تھیں۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پنجاب میں نواز لیگ کے مدمقابل سیاسی حریفوں کو صرف 29فیصد‘ سندھ میں پیپلز پارٹی کے مدِمقابل سیاسی حریفوں کو 46فیصد جبکہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے مدِمقابل سیاسی حریفوں کو 66فیصد ووٹ ملے تھے۔ یوں پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں (نواز لیگ‘ پییپلزپارٹی اور تحریکِ انصاف) کو صوبائی اسمبلیوں میں ملنے والی نشستوں کی تعداد سے تھا کہ نواز لیگ اپنے انتخابی ’’بیس کیمپ پنجاب‘‘ میں تینوں سیاسی جماعتوں کی نسبت زیادہ مضبوط جبکہ تحریکِ انصاف اپنے انتخابی ’’بیس کیمپ خیبر پختونخوا‘‘ میں تینوں سیاسی جماعتوں کی نسبت سب سے کمزور تھی۔ لائق توجہ ہے کہ نواز لیگ نے پنجاب میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ‘ پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں سادہ اکثریت کے ساتھ جبکہ خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کو سادہ اکثریت کے ساتھ‘ جماعت اسلامی‘ قومی وطن پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے ساتھ ’غیرفطری اتحاد‘ کرنا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ ’’عام انتخابات جولائی 2018ء‘‘ میں کیا ہونے جارہا ہے؟ 

مئی 2013ء کے مقابلے (متوقع) عام انتخابات میں سوائے تحریک انصاف ہر سیاسی جماعت خود کو مشکل میں تصور کر رہی ہے اور اِس سے زیادہ موافق (آسان) سیاسی و انتخابی حالات ’غنیمت‘ سے کم نہیں تو کیا اِسے ’حسن اتفاق‘ قرار دیا جائے!؟ نئے انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے والوں کے انتخابی کامیابی ناممکن حد تک دشوار بنا دی گئی ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آزاد اُمیدوار محدود مالی وسائل اور انتخابی تجربے کی بنیاد پر ٹھوکریں کھاتے ہوئے یہ تک معلوم نہیں کر سکیں گے کہ اُن کے حلقے کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہو رہے ہیں! 

الیکشن کمشن اگر 28 جون کو حسب اعلان انتخابی حلقہ بندیوں کے اعدادوشمار اور پولنگ مراکز کے نام جاری کر دیتا ہے تو بھی تین ہفتوں میں پولنگ اسٹیشنوں کو ڈھونڈنا اور اِس بات کا موازنہ کرنا کہ متعلقہ ووٹرز کے لئے یہ پولنگ اسٹیشن کتنے قابل رسائی (نزدیک) ہیں اور کیا پولنگ مراکز پر درج کی گئی ووٹروں کی تعداد (شمار) منطقی ہے کہ وہ مقررہ پولنگ اوقات میں اپنا ووٹ سہولت سے ڈال سکیں گے۔ یاد رہے کہ الیکشن کمشن پولنگ کے وقت پر نظرثانی کرنے کی درخواست پہلے ہی مسترد کر چکا ہے تو کہیں موسم گرما کی شدت کو نظرانداز کرتے ہوئے ووٹروں کو انتخاب نہیں بلکہ امتحان میں مبتلا کر دیا گیا ہے؟ پولنگ مراکز پر سایہ دار جگہیں‘ پینے کے صاف اور ٹھنڈے پانی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنانا ایک الگ ضرورت ہے۔ 

خیبر پختونخوا کے تناظر میں ’’تبدیلی‘‘ کا مطلب یہ بنتا ہے کہ عوام کی اکثریت ہر پانچ برس بعد ’سیاسی جماعت بدل‘ لیتی ہے اور پانچ برس بمشکل اتحادی حکومت چلانے والی ’تحریک انصاف‘ کو اگلے پانچ برس کے لئے مضبوط مینڈیٹ ملنے کی اُمید تو ہے لیکن وہ عوامی نیشنل پارٹی‘ قومی وطن پارٹی‘ جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن) اور جماعت اسلامی کی قیادت میں ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ جیسے چیلنجز کو خاطر میں نہیں لا رہی! تو اِس کی وجہ وہ ’’الیکشن انجنیئرنگ‘‘ ہے‘ جو بظاہر دکھائی نہیں دے رہی لیکن اِس کی موجودگی نہ تو ’خارج اَز امکان‘ ہے بلکہ ایک ایسی حقیقت‘ جس میں تہہ در تہہ سچائیاں چھپی ہوئی ہیں! ’’مخالف ہو گئے مرکز کے لیکن ۔۔۔ اگر ٹوٹا نہ ہم سے دائرہ تو؟ (وکاس شرما رازؔ )۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, April 21, 2018

APR 2018: Vote registration. Be part of the change!

مہمان کالم
ایسے ویسے ووٹ: کیسے کیسے ووٹ!
’الیکشن کمشن‘ نے آئندہ عام انتخابات (دوہزاراٹھارہ) کے لئے ووٹروں کی رجسٹریشن اور ووٹرز فہرستوں میں تبدیلی کے لئے ’چوبیس اپریل‘ تک کی حتمی تاریخ (ڈیڈلائن) مقرر کر رکھی ہے لیکن ووٹ درج کرنے کے مراکز پر خاطرخواہ رش (جوش وخروش) دیکھنے میں نہیں آ رہا‘ کیونکہ سیاسی جماعتوں کو جس ’ووٹ بینک‘ سے دلچسپی ہے‘ وہ پہلے ہی رجسٹر (محفوظ) کیا جا چکا ہے اور ہر انتخابی حلقے کی سیاست میں ’روائتی ووٹ بینک‘ ہی فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ 

پاکستان میں قریب 10کروڑ 43 لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں اور ’نیا قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی)‘ بنوانے والا ہر فرد کے ووٹ کا اندراج آئندہ سے خودبخود ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ عام انتخابات (دوہزارتیرہ) سے رواں برس (دوہزاراٹھارہ) میں متوقع آئندہ عام انتخابات کے درمیانی عرصہ میں ’کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز بنوانے والے 81 لاکھ ’’نئے ووٹرز‘‘ کے کوائف کا اندراج خودکار طریقے سے ہو چکا ہے لیکن ووٹوں کا ازخود اندراج ہونا کافی نہیں بلکہ سب سے پہلے تو ہر پاکستانی کو معلوم ہونا چاہئے کہ اُس کا ووٹ کس انتخابی حلقے میں درج ہے اور دوسرا اگر وہ اِسے کسی دوسرے عارضی یا مستقل پتے پر تبدیل (درج) کرنا چاہتا ہے تو اُس کا طریقۂ کار کیا ہے۔ ووٹ درج کرانے کے ساتھ اِس کا استعمال بھی ضروری اور لازمی سمجھنا چاہئے۔ ’الیکشن کمشن‘ مقررہ مدت کے علاؤہ ووٹوں کا اندراج‘ تصیح یا تبدیلی نہیں کرتا‘ اِس لئے ’جمہوری عمل میں حصہ لینے اُور ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ۔۔۔ چوبیس اپریل (دوہزاراٹھارہ) مقررہ مدت تک ۔۔۔ ہر پاکستانی کو اپنے ووٹ کا اندراج‘ تصیح اور کوائف معلوم کر لینے چاہیءں کیونکہ اِسی ایک ایک ووٹ سے ملک و قوم کے مستقبل کا تعین ہوگا۔

ووٹ کی رجسٹریشن معلوم کرنے کے لئے موبائل فون سے ’8300‘ پر مختصر پیغام (ایس ایم ایس) ارسال کرنا پڑتا ہے‘ جس سے مردم شماری کی تفصیلات اور ووٹ کے اندراج کے بارے معلومات حاصل ہو جاتی ہیں‘ اِس مقصد کے لئے متعلقہ (قریبی) ضلعی الیکشن کمشنر کے دفاتر بھی مدد کے لئے موجود ہیں‘ تاہم اُن کے اوقات کار عمومی دفتری اوقات سے زیادہ یا مختلف ہونے چاہیءں تھے تاکہ جو لوگ نجی ملازم ہیں وہ بعدازاں بھی اپنے ووٹوں کا اَندراج کروا سکتے یا آن لائن (online) جہاں انتخابی حتمی فہرستیں موجود ہوتی ہیں اور دفتری اوقات کے بعد (دیر شام گئے تک) یا تعطیلات کے روز بھی الیکشن کمشن دفاتر سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ووٹوں کا اندراج ’الیکشن کمشن‘ کی ایپ (app) کے ذریعے بھی ممکن کی جاتی تو شفاف انتخابات کے لئے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیمیں (این جی اُوز)‘ سماجی کارکن اُور سیاسی جماعتیں گھر گھر جا کر ووٹوں کی رجسٹریشن کروانے میں مدد دیتیں۔

الیکشن کمشن نے ملک بھر میں 14ہزار487 ایسے مراکز قائم کئے ہیں‘ جہاں بلاقیمت ووٹ کی رجسٹریشن‘ کوائف کی درستگی یا ووٹرز فہرستوں سے ناموں کا اخراج کیا جا سکتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایسے مراکز کی تعداد ’ڈھائی ہزار سے زیادہ‘ ہے جہاں بمعہ اصل شناختی کارڈ بمعہ نقل (فوٹوکاپی) رجوع کرنے پر ووٹ کے بارے کوائف میں تبدیلی مقررہ تاریخ تک ممکن ہے اُور اِس مقصد کے لئے ’فارم نمبر 15‘ خصوصی طور پر تیار کیا گیا ہے جو الیکشن کمشن کی ویب سائٹ (ecp.gov.pk) سے بھی مفت حاصل (download) کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ فارم کے ذریعے قومی شناختی کارڈ پر درج ’رہائش گاہ کے مقام اور شہر کی مناسبت سے ووٹ کی مناسبت منسلک کی جا سکتی ہے اور یہ عمل چند منٹ کی فرصت و توجہ چاہتا ہے۔ 

جو لوگ آئندہ عام انتخاب میں ’پوسٹل بیلٹ (بذریعہ ڈاک)‘ ووٹ ڈالنا چاہتے ہوں تو اُن کے لئے عرض ہے کہ عمومی طور پر سرکاری ملازمین اِس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ’پوسٹل بیلٹ آپشن‘ کا انتخاب الیکشن ڈیوٹی کے عملے کے ارکان بھی کر سکتے ہیں اور الیکشن کمشن کی مقررہ کردہ تاریخوں میں ’پوسٹل بیلٹ‘ کے ذریعے ووٹ دیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاؤہ جسمانی معذوری جو سفر کرنے سے قاصر ہو اور وہ ایک ایسے قومی شناختی کارڈ کا حامل ہو کہ جس پر ’جسمانی معذوری‘ کا نشان (logo) موجود ہو‘ تو وہ بھی ’پوسٹل بیلٹ‘ استعمال کر سکیں گے۔ زیرحراست اُور سزا کاٹنے والے اَفراد بھی ’پوسٹل بیلٹ‘ اِستعمال کرنے کے اہل ہیں۔ ووٹ ہر اُس شخص کا حق ہے جو پاکستان کا شہری ہو۔ جس کی عمر اٹھارہ سال سے زیادہ ہو اُور جس کا نام ’انتخابی (ووٹر) فہرست‘ میں درج ہو۔ ووٹ ایک ایسا حق ہے جس کے حصول کی دستاویزی ضروریات اگر ایک مرتبہ پوری کر دی جائیں‘ تو یہ حق ہمیشہ کے حاصل ہو جاتا ہے اور کوئی بھی پاکستانی اپنا ووٹ کسی دوسرے شخص کے نام منتقل نہیں کرسکتا۔ 

آگاہی کے ساتھ ’سہولت کاری‘ یکساں اہم‘ ضروری و لازمی ہے۔ الیکشن کمشن کی جانب سے امور خانہ داری کرنے والی بالخصوص کم خواندہ یا ناخواندہ خواتین (house wives) کے لئے ووٹوں کے اندراج کا خصوصی انتظام و اہتمام کرنا چاہئے تھا کیونکہ امور خانہ داری کے دباؤ کی وجہ سے خواتین (کمزور طبقے) کی ایک بڑی تعداد ہر مرتبہ عام انتخابات میں بھی ’حق رائے دہی‘ سے محروم رہ جاتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا فرض (بنیادی ذمہ داری) ہے کہ وہ خواتین کے ووٹ کے اندراج میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لیں۔ اگر عام انتخاب (پولنگ) کے دن ووٹرز (مرد و خواتین) کے لئے ٹرانسپورٹ و دیگر سہولیات کا بندوبست ہوتا ہے تو یہ انتظام ووٹ کے اندراج کے لئے کیوں نہیں ہو سکتا اُور کیوں نہیں کیا جاتا؟

حرف آخر: بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنا حق رائے دہی کیسے استعمال کریں اور اگر اُن کے ووٹ درج نہیں‘ تو کس طرح انتخابی فہرستوں کا حصہ بن سکتے ہیں؟ سیاسی فیصلہ ساز تاحال اِس بات پر متفق نہیں ہو سکے ہیں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی ووٹ کا حق دیا جائے۔ عجیب مرحلہ ہے کہ ہماری حکومتوں کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ’ترسیلات زر‘ چاہیءں تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لائے جا سکے لیکن وہ اُنہیں ووٹ جیسا بنیادی حق دینا نہیں چاہتے! اِس ماحول میں انتخابی اصلاحات کی سب سے بڑی داعی‘ پاکستان تحریک انصاف چاہتی ہے کہ اندرون و بیرون ہر پاکستانی کو ’بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ دینا چاہئے‘ لیکن تحریک انصاف کے اِس مطالبے کی حمایت کرنے والوں کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ میں کوئی کشش محسوس نہیں ہو رہی‘ جو جانتے ہیں کہ وہ کسی بھی پاکستانی کی توقعات پر پورا نہیں اُترے‘ تو ووٹ کس منہ سے مانگیں گے اُور بیرون ملک ڈالے گئے ایسے ووٹ اندرون ملک مرتب ہونے والے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہو سکتے ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Wednesday, March 28, 2018

Mar 2018: The PTI vs PTI in District Abbottabad

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تحریک اِنصاف بمقابلہ تحریک اِنصاف
خیبرپختونخوا کی تاریخ میں سب سے زیادہ اُور دنیا کی بہترین قانون سازی کس کے دور حکومت میں ہوئی؟ سرکاری سرپرستی میں اِدارہ جاتی اِصلاحات‘ بے مثل و بے مثال ترقیاتی ترجیحات اُور صحت و تعلیم جیسے شعبوں کی بہتری کے لئے سب سے زیادہ سالانہ مالی وسائل کس سیاسی جماعت نے مختص کئے؟ لیکن قومی و صوبائی سطح پر مختلف محاذوں پر ڈٹ کر مالی و انتظامی ’بدعنوانیوں‘ کا مقابلہ کرنے والی ’پاکستان تحریک انصاف‘ کی قیادت سے ’تنظیمی ڈھانچے‘ کی مضبوطی جیسا اہم پہلو مسلسل نظرانداز رہا ہے جس کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے کسی بھی ضلع میں تحریک کی صفوں میں ’مثالی نظم وضبط‘ دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وجہ رہی ہے کہ تحریک انصاف کے ’اچھے (تعمیری) کاموں کا گلی گلی چرچا نہیں ہو سکا جبکہ سیاسی مخالفین تحریک انصاف کی صفوں میں پائے جانے والے اِختلافات کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ اِس سلسلے میں سب سے ’عمدہ مثال‘ ضلع ایبٹ آباد کی دی جاسکتی ہے جہاں ’جولائی دوہزارپندرہ‘ میں ہوئے بلدیاتی اِنتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے باوجود بھی تحریک انصاف اب تک ’ضلعی حکومت‘ بنانے میں ناکام رہی ہے اُور بنی گالہ سے نامزد ضلعی ناظم (علی خان جدون) کے خلاف تحریک کے اپنے ہی کارکنوں کی بغاوت کے سبب معاملہ الیکشن کمیشن سے ہوتے ہوئے عدالت اُور عدالت سے ہوتے ہوئے دوبارہ الیکشن کمیشن جا پہنچا‘ جہاں ’پارٹی ڈسپلن‘ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ’ڈی سیٹ‘ کردیا گیا اُور اِس سارے قضیے میں قیمتی دو برس ضائع ہوگئے۔ 

منحرف اَراکین کی ضلعی اسمبلی رکنیت ختم ہونے کے بعد تین نشستوں پر رواں ماہ (مارچ دوہزاراٹھارہ) ضمنی انتخاب ہوا تو (ایبٹ آباد کے شہری علاقوں پر مشتمل دو نشستوں پر) تحریک انصاف کے نامزد اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کرکے ثابت کردیا کہ ’باوجود اِختلافات اور داخلی سازشوں کے‘ اب بھی‘ ہزارہ ڈویژن کے صدر مقام اور طول و عرض میں تحریک انصاف ہی کا سکہ چلتا ہے۔‘ لیکن منظرنامہ تبدیل نہ ہوا۔ آج بھی ضلع ایبٹ آباد میں ’تحریک اِنصاف بمقابلہ تحریک اِنصاف‘ دکھائی دیتی ہے!

چھبیس مارچ کے روز عمران خان نے ’رکن سازی مہم‘ کے سلسلے میں ایبٹ آباد کا ایک روزہ مختصر دورہ کیا اُور اِس موقع پر دو الگ الگ مقامات پر‘ کارکنوں کے دو الگ دھڑوں کی جانب سے لگائے گئے ’رکن سازی کیمپوں‘ میں خطاب کرتے ہوئے ’نظم و ضبط‘ کی اہمیت پر زور دیا۔ ’’موقع‘ محل اُور وقت‘ باتوں اور تلقین کا نہیں رہا بلکہ فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا ہے۔ عمران خان کے پاس ’اصلاح احوال‘ کے دو راستے (آپشنز) اب بھی موجودہ ہیں۔ پہلا آپشن یہ کہ وہ اپنے ’ایبٹ آباد‘ دورے کو اِس بات سے مشروط کر دیتے کہ جب تک پارٹی کے مقامی رہنما اور کارکن بناء ’پارٹی کی مرکزی یا صوبائی مداخلت‘ اپنے اختلافات (رنجشیں) آپس میں مل بیٹھ کر ختم نہیں کر لیتے اُس وقت تک وہ ایبٹ آباد کا دورہ نہیں کریں گے‘ تب تک رکن سازی مہم ملتوی کی جاسکتی تھی لیکن عمران خان نے دو الگ الگ مقامات پر الگ الگ کیمپوں میں شرکت اور ایک ہی شہر میں چند گز کے فاصلے پر اپنی ہی جماعت کے کارکنوں کے الگ الگ اجتماعات سے خطاب کرکے درحقیقت یہ تاثر دیا ہے کہ اُنہیں (بشمول تحریک کی مرکزی قیادت) کو ایبٹ آباد میں ’دھڑے بندیوں‘ سے کوئی فرق نہیں پڑتا حالانکہ ’فرق پڑتا ہے۔‘ 

آئندہ عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں (نامزدگیوں) کو بھی تنظیمی نظم و ضبط سے مشروط کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان کے پاس دوسرا آپشن ہے کہ اگر مقامی رہنما اور کارکن اختلافات ختم کرنے میں ’باوجود کوشش‘ بھی (کسی ڈیڈ لائن تک) کامیاب نہیں ہوتے تو پھر بلحاظ پارٹی سربراہ ’ایگزیکٹو آرڈر‘ سے وہ دونوں دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کا حکم دیں۔ جس دھڑے کے رہنما اور کارکن حکم عدولی کریں‘ اُن کی ’بنیادی پارٹی رکنیت‘ معطل کر دی جائے تاوقتیکہ وہ (توبہ تائب ہو کر) پارٹی کے نظم و ضبط پر سرتسلیم خم نہیں کر لیتے یوں مسئلہ چٹکی بجاتے حل ہو سکتا ہے لیکن عمران خان نے اِن دونوں اور دیگر ممکنہ طریقوں (آپشنز) کو درخوراعتناء (لائق توجہ یا قابل عمل) نہیں سمجھا! جس سے اُن بے لوث کارکنوں کی بڑی تعداد میں مایوسی پائی جاتی ہے‘ جو تحریک انصاف کو تبدیلی کا علمبردار سمجھتے ہیں اور تحریک انصاف ’نئے پاکستان کی تشکیل‘ کے لئے اُن کی اُمیدوں کا مرکز ہے۔ ضلع ایبٹ آباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں طور پر دھڑے بندیوں میں تقسیم ’تحریک انصاف‘ کو اگر کوئی بچا سکتا ہے تو وہ خود تحریک انصاف ہی ہے جو موجودہ ’کمزور ترین تنظیمی ڈھانچے‘ کے ساتھ اگر عام انتخابات میں حصہ لیتی ہے تو اِس کا ووٹ بینک تقسیم ہو جائے گا اور اِس حقیقت کا دانستہ انکار کرنا خود فریبی کی انتہاء ہوگی۔

ٹوئیٹر (twitter) (سوشل میڈیا اکاؤنٹ @peshavar) کے ذریعے ’پانچ سوالات‘ پوچھے گئے تاکہ اِس نتیجے پر پہنچا جائے کہ ایبٹ آباد اور اندرون و بیرون ملک مقیم ’تحریک انصاف‘ کے کارکن‘ تجزیہ کار اور فیصلہ ساز اِس صورتحال (منظرنامے) کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں! 

پہلا سوال: مضبوط تنظیمی ڈھانچہ ہی کسی سیاسی جماعت کی انتخابی و سیاسی کامیابی کی ضمانت اُور اثاثہ ہوتا ہے؟ 92 فیصد نے کہا ’ہاں‘ جبکہ 8 فیصد نے ’نہیں‘ میں جواب دیا۔ 

دوسرا سوال: پاکستان تحریک انصاف ضلع ایبٹ آباد کے داخلی اختلافات اور تنظیمی کمزوریوں کا بنیادی محرک کیا ہے؟ 25فیصد نے نسل پرستی‘ 25 فیصد نے سرمایہ دارانہ آمرانہ سوچ‘ 38فیصد نے بنی گالہ کی عدم دلچپسی اور 12 فیصد نے کہا کہ اُنہیں ایبٹ آباد کے تنظیمی ڈھانچے میں اختلافات اور اِس کی شدت کے بارے میں حقائق معلوم نہیں۔ 

تیسرا سوال کارکنوں کے باہمی اختلافات سے سیاسی فائدہ اُٹھانے والی سیاسی جماعت سے متعلق تھا تو 75 فیصد کارکنوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ نواز‘ اُور ’17 فیصد‘ نے کہا کہ پیپلزپارٹی تحریک انصاف کی تنظیمی کمزوریوں (خلاء) کا فائدہ اُٹھا رہی ہے جبکہ ’8 فیصد‘ نے کہا کہ اُنہیں برسرزمین حقائق کا علم نہیں۔ 

چوتھا سوال دھڑے بندیوں کے ’رُکن سازی مہم‘ پر منفی اَثرات سے متعلق پوچھا گیا جس کے جواب میں ’13فیصد‘ نے اِسے ’جاری رکن سازی مہم‘ کے لئے خطرہ قرار دیا۔ 60فیصد نے کہا اِس سے فرق نہیں پڑے گا جبکہ 27فیصد نے کسی بھی قسم کی رائے دینے سے معذرت کی۔ 

پانچواں اور آخری سوال آئندہ عام انتخابات سے متعلق تھا جس سے قبل ’تحریک انصاف‘ ضلع ایبٹ آباد کے کارکنوں کی دھڑے بندیاں بہرصورت ختم ہونی چاہیءں؟ اِس سوال کا جواب (حسب توقع) بالکل واضح سامنے آیا۔ ’92 فیصد‘ کارکنوں نے تائید کی کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل ’دھڑے بندیاں ’بہرصورت‘ ختم ہونی چاہیئں۔‘ 

اِصلاحاتی منشور کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں اعدادوشمار بھلے ہی ’تحریک انصاف‘ کے حق میں ہوں لیکن اگر ایبٹ آباد سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی تنظیموں میں در آئی خرابی اور غیردانشمند خیرخواہ اپنے قول و فعل کی حسب ضرورت اصلاح کرتے ہوئے اپنے اپنے مؤقف سے رجوع نہیں کرتے‘ اپنی ذات اُور اَنا کی قربانی نہیں دیتے تو اِس سے ’تحریک اِنصاف‘ کی صفوں میں پایا جانے والا انتشار‘ خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی (آئندہ انتخابی کامیابیوں) پر حاوی و طاری رہے گا۔
۔

http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2018-03-28

Friday, March 9, 2018

Mar 2018: Delimitation: What's in the number?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
این اے ون : اعزاز کی حقیقت !
تاثر عام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ’’مردم و خانہ شماری 2017ء‘‘ سے حاصل کردہ نتائج کی روشنی میں ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ نے جو ’قومی و صوبائی اسمبلیوں‘ کی مجوزہ (نئی) حلقہ بندیوں پیش کی ہیں اُس ابتدائی خاکہ سے ’پشاور کو حاصل یہ منفرد اعزاز‘ چھن گیا ہے کہ یہاں سے کبھی قومی اسمبلی کے انتخابی حلقوں کا آغاز ہوا کرتا تھا یعنی پشاور کے شہری علاقوں پر مشتمل ’این اے ون: پشاور ون‘ کا ذکر ہمیشہ سرفہرست رہتا لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیونکہ پشاور کو دیئے جانے والے قومی اسمبلی کے حلقے ’27 سے 31‘ نمبروں پر مشتمل ہیں اور اگرچہ نئے قومی و صوبائی حلقوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے لیکن نوشہرہ سے پشاور (مشرق سے مغرب) کی طرف شمار کے موجودہ طریقۂ کار سے پشاور کا احساس محرومی بڑھا ہے۔ 

تنقید برائے تنقید کرنے والے حلقہ بندیوں کے عمل کو ’جنوبی سمت‘ سے شروع کرنے کی بجائے اِسے وسطی علاقوں (پشاور) سے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا کی نئی (مجوزہ) انتخابی حلقہ بندیاں شمال (چترال) سے جنوب (ڈیرہ اسماعیل خان) کی جانب سفر کرتی ہیں۔ یوں ’این اے ون‘ چترال جبکہ خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کا آخری انتخابی حلقہ ’’این اے 39 (ڈیرہ اسماعیل خان ٹو)‘‘ کہلائے گا۔ 

تعجب خیز امر ہے کہ سیاست میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے والی ’پاکستان تحریک انصاف‘ کی سربراہی میں خیبرپختونخوا حکومت کا حصہ کئی سرکردہ رہنما اور قوم پرست سیاست کرنے والی حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں بھی جذبات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’این اے ون کا اعزاز‘ چھن جانے پر اظہار افسوس اور مذمت کر رہی ہیں اُور انہوں نے ’الیکشن کمیشن‘ سے رجوع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے‘ جہاں پہلے ہی ’اعتراضات وصول کرنے کے لئے‘ پانچ مارچ سے پانچ اپریل تک (ایک ماہ) کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ عوام کی رہنمائی کرنے کی بجائے اُنہیں جذبات کے حوالے کرنے والی سیاسی جماعتوں کی ’ذہنی حالت‘ کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں اور نہ ہی سیاسی جماعتوں میں سوچ بچار کے عمل اور سیاسی پختگی کے معیار سے متعلق رائے قائم کرنا دشوار رہا ہے!

پشاور جنوب مشرقی ایشیاء کا قدیم ترین اور زندہ تاریخی شہر ہے۔ اِس شہر کی ہم عصر تہذیبیں کھنڈر بن چکی ہیں لیکن پشاور میں آج بھی زندگی رواں دواں ہے اور چاہے اِسے ’این اے ون‘ کہا جائے یا کسی بھی انتخابی حلقے کے نمبر سے شناخت کیا جائے‘ پشاور تو اُس پھول کی پشاور ہی رہے گا‘ جس کے بارے میں برطانوی شاعر ولیم شیکسپیئر نے کہا تھا کہ ’’گلاب کا پھول تو گلاب کا پھول ہی رہتا ہے چاہے اُسے کسی بھی دوسرے نام سے مخاطب کیا جانے لگے۔‘‘ 

این اے ون کے شمار میں تبدیلی سے اِس حلقے کی نہ تو تاریخی اہمیت و افادیت کم ہو گی اور نہ ہی پشاور کے سیاسی قدکاٹھ میں کوئی ’منفی تبدیلی‘ آئے گی۔ یاد رہے کہ مجوزہ (نئی) انتخابی بندیاں اگر من و عن یا 10فیصد تبدیلی کی گنجائش کے بعد لاگو ہو جاتی ہیں تو مجموعی طور پر پشاور سے’’قومی اسمبلی کی پانچ‘‘ اور ’’خیبرپختونخوا (صوبائی) اسمبلی کی چودہ‘‘ نشستیں (پی کے 66 سے پی کے 79) تخلیق ہوں گی اور اِن میں ’این اے ون‘ سمیت اندرون پشاور کے علاقوں کی نئی انتخابی حدود مقرر ہو جائیں گی‘ جس کی تین ’ترجیحات‘ عالمی معیار کے مطابق مقرر کی گئیں ہیں‘ جو قانون گو حلقہ‘ پٹوار خانہ اُور آبادی (مردم شماری سرکلز) پر مبنی ہیں۔ اگر ’این اے ون‘ کے انتخابی حلقے کی کوئی خاص (جادوئی یا کرشماتی) اہمیت (خاصیت) ہوتی اور ’ون (ایک)‘ کا عدد پشاور کے لئے یا یہاں سے ماضی میں منتخب ہونے والے کے لئے ’خوش بختی‘ کی علامت ہوتا۔ 

مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں ’پاکستان تحریک انصاف‘ کے سربراہ عمران خان (این اے ون) پشاور سے ’’90 ہزار 434 ووٹ‘‘ جیسے غیرمعمولی ووٹ حاصل کئے لیکن انہوں نے پشاور سے ملنے والی محبت کی قدر نہیں کی اور دستبردار ہونے کے بعد ’بصد احترام ’این اے ون‘ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کو دے دی۔ تحریک انصاف کی قیادت ’این اے ون‘ کے ’’مبینہ اعزاز‘‘ کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن اگر وہ اپنی توانائیاں اور وسائل ’تحریک کے داخلی اختلافات‘ ختم کرنے پر خرچ کرے تو اِس سے مستقبل میں ’این اے ون‘ پر شکست جیسی شرمندگی نہیں دیکھنا پڑے گی۔ 

حقیقت یہ ہے کہ صوبائی حکومت کی آئینی مدت (پانچ سال) اختتام کے قریب ہے اور اِس تمام عرصے میں ضلع پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے کسی ایک بھی ضلع میں ’تحریک انصاف‘ کا تنظیمی ڈھانچہ مثالی صورت میں دکھائی نہیں دیتا۔ پارٹی سے دیرینہ‘ مخلص اور نظریاتی (سفیدپوش) کارکنوں نے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے اور انتخابی سیاست میں سرمایہ کاری والے (منظم جرائم پیشہ عناصر کی طرح) ہر انتخابی حلقے میں اپنے اپنے گروہوں کی سرپرستی کر رہے ہیں! یادش بخیر ایک وقت وہ بھی ہوتا تھا جب پشاور میں صرف چند لوگوں کے پاس موٹرگاڑی ہوتی تھیں لیکن قیام پاکستان کے بعد جس تیزی سے سرمایہ داروں میں اضافہ ہوا‘ اور جس طرح اُوقاف کی اراضی‘ قومی وسائل کی لوٹ مار اور آمروں کا ساتھ دینے والے ٹیکس چور‘ راتوں رات سرمایہ دار بنتے چلے گئے تو اُس کے بعد موٹرگاڑی کی ملکیت کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ تب چھوٹے نمبروں کی رجسٹریشن کا رواج چل نکلا اُور معاشرے کے سیاسی بااثر و سرمایہ داروں کی پہچان ابتدائی نمبروں (سنگل ڈیجیٹ) کی گاڑیاں ہونے لگیں۔ گاڑیوں کی کمپیوٹرائزڈ رجسٹریشن متعارف ہونے کے بعد یہ رجحان بھی رفتہ رفتہ کم ہوتا چلا گیا جس کی جگہ موبائل فونز کے ’گولڈن نمبروں‘ نے لے رکھی ہے۔ بہرحال وقت بدل گیا لیکن ممتاز دکھائی دینے کے لئے ’روائتی انداز (پرانی) سوچ‘ نہیں بدلی اور یہی وجہ ہے کہ ’این اے ون‘ جیسے ’خیر محض نمبر‘ کو پشاور کے لئے ’اعزاز‘ قرار دیا جا رہا ہے‘ جنہیں اِس بات پر زور دینا چاہئے کہ ’’نمبر‘‘ کوئی بھی ہو اِس سے کیا فرق پڑتا ہے بلکہ اصل چیز تو پشاور کے مسائل کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2018-03-09

Thursday, November 16, 2017

Nov 2017: The count of negative impacts on (Free & Fair) Elections!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
عام اِنتخابات: قومی ذمہ داری!
پاکستانی سیاست کا یہ پہلو فہم سے بالاتر ہے کہ قومی امور پر ’اتفاق رائے‘ نہ ہونے کے باوجود بھی مختلف النظریات سیاسی جماعتیں ’’اچانک‘‘ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے متحد ہو سکتی ہیں۔ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا معاملہ ہو یا صداقت و امانت کے اصولوں پر پورا نہ اُترنے والوں کو سیاسی جماعتوں کی سربراہی کے لئے اہل قرار دینے سے لیکر ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی جیسا انتہائی سنگین‘ متنازعہ و حساس معاملہ‘ آئین سازی اور آئینی ترامیم کرتے ہوئے ’غیرمعمولی جلدبازی‘ سے کام لیا جاتا ہے جس میں قوم کے جذبات و احساسات اور رائے عامہ جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی اور نہ ہی ذرائع ابلاغ کے ذریعے اُبھرنے والے کسی عمومی تاثر کو خاطر میں لایا جاتا ہے۔ 

عام آدمی (ہم عوام) کو ہر گھڑی ’’سرپرائز‘‘ دینے والے قانون سازوں کے کھانے اُور دکھانے کے ’دانت الگ الگ‘ ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ ہر دن سیاست ’ناممکنات‘ میں ’اِمکانات‘ اُور اختلافات کی تہہ میں ’اتفاق‘ کے پہلو تلاش کر رہی ہے۔ 

آئندہ برس (دوہزار اٹھارہ) کے پہلے چھ ماہ موجودہ قانون ساز اسمبلیاں اپنی وہ آئینی مدت پورا کریں گی جس کے اختتام یا قبل از وقت عام انتخابات کے چرچے عام ہیں‘ اِس سلسلے میں کس حد تک تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں؟‘ اِس بارے میں جب قانونی موشگافیوں سے آگاہ‘ روزنامہ ڈان کے رپورٹر وسیم اَحمد خان نے بنیادی سوال ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کے ترجمان ’ہارون خان شینواری‘ سے پوچھا تو اِس کا جواب قومی مفاد میں طویل ہوسکتا تھا‘ جس میں قانون ساز ایوانوں کی کارکردگی پر تنقید سامنے آتی لیکن احتیاط سے کام لیتے ہوئے ترجمان نے بات سمیٹتے ہوئے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن ایک قومی ادارہ ہے‘ جو اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔‘‘ پندرہ نومبر کو ’پرل کانٹیننٹل ہوٹل پشاور کے ’زیور ہال (Zaver Hall)‘ میں ایک روزہ ’میڈیا ورکشاپ‘ کا انعقاد خوش آئند تھا‘ جس میں عام انتخابات کے حوالے سے نئے قانون اور انتخابی تیاریوں (حکمت عملی) کے بارے میں تکنیکی امور سے متعلق پانچ مقررین (ایڈیشنل سیکرٹری ظفراقبال حسین‘ ڈائریکٹر جنرل الیکشنز محمد یوسف خٹک‘ ڈائریکٹر آئی ٹی بابر ملک‘ ڈائریکٹر ’آئی ایم ایس‘ حیدر علی اُور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل جینڈر محترمہ نگہت صادق) نے سیرحاصل معلومات کا ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے تبادلہ کیا تاہم اگر ڈیڑھ سو منٹ دورانیئے کی ایک ہی مسلسل نشست کو کم سے کم تین حصوں (سیشنز) میں تقسیم کرتے ہوئے ’’آئینی‘ تکنیکی و خصوصی امور‘‘ کے حوالے سے موضوعات کا الگ الگ احاطہ کیا جاتا تو یہ عمل (کوشش) زیادہ مفید ثابت ہو سکتی تھی۔ 

الیکشن کمیشن اِس قسم کی ’میڈیا ورکشاپوں‘ کا انعقاد چاروں صوبائی اور وفاقی دارالحکومت میں کر رہا ہے اور اِس سلسلے میں اب تک اسلام آباد و لاہور کے بعد تیسری ورکشاپ پشاور میں منعقد ہوئی جبکہ ’بائیس نومبر‘ کراچی اور ’چودہ دسمبر‘ کوئٹہ میں ’ذرائع ابلاغ‘ کے چنیدہ نمائندوں کو مدعو کیا جائے گا تو اِس تربیتی و معلوماتی کوشش (میڈیا ورکشاپ) کے لئے کتابی شکل میں ’مینول (manual)‘ ازبس ضروری (لازمی) تھا‘ جس میں متعلقہ شعبے کے ماہرین کی اپنی اپنی ’پریزینٹیشنز‘ سے متعلق (اُردو اور انگریزی زبانوں میں) مقالہ جات شامل ہوتے۔ اِسی طرح دو اکتوبر دوہزار سترہ سے رائج‘ الیکشن کے متعلقہ قانون (الیکشن ایکٹ 2017ء) کے 130 صفحات کے اُردو ترجمہ کا اہتمام بھی اگر کر دیا جاتا تو اِس سے قومی و علاقائی سطح پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی انتخابی قواعدوضوابط کے بارے سمجھ بوجھ میں زیادہ اضافہ ہوتا۔ بہرحال اِس تاخیر کا ازالہ ممکن ہے۔ کراچی اور کوئٹہ کی ’میڈیا ورکشاپوں‘ سے قبل یا بعدازاں اِن نشستوں سے متعلق جامع رپورٹ تیار کر کے انہیں ’ہارڈ یا سافٹ کاپیز‘ کی صورت ورکشاپ کے شرکاء میں تقسیم کیا جاسکتا ہے کیونکہ یکے بعد دیگرے الگ الگ موضوعات کا تیزی سے احاطہ اور سوال و جواب کو ظہرانے سے قبل جلدی جلدی سمیٹنے کی کوشش میں سب سے اہم حصے (تبادلۂ خیال اُور سوال و جواب) کو صرف ’تیس منٹ‘ تک محدود کرنے سے تشنگی کا احساس بہرحال برقرار رہا!

الیکشن کمیشن ’قانون سازی‘ کی حد تک تو ’بے بس (معذور)‘ ہے لیکن وہ اپنے طور (آئندہ) عام انتخابات کے آزادانہ اُور شفاف انعقاد کو ممکن بنانے کے لئے ایسی ’قواعد سازی‘ کرنے میں ’مکمل بااختیار‘ بنا دیا گیا ہے‘ جس سے انتخابی عمل زیادہ بامعنی (بامقصد) نتائج کا حامل ہو۔ 

نئے قانون (الیکشن ایکٹ دوہزار سترہ) کے تحت انتخابی فہرستوں میں ووٹرز بالخصوص خواتین کی تصاویر شامل کرنے اُور اِن کی محدود اشاعت کی بجائے ہر سیاسی جماعت‘ انتخابی اُمیدوار یا طلب کرنے والے کو فراہم کرنے کے یقیناًمنفی نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ بات صرف قبائلی علاقہ جات‘ خیبرپختونخوا اُور بلوچستان کی حد تک محدود نہیں جہاں پہلے ہی مستورات کو گھروں تک محدود رکھا جاتا ہے اور جہاں کی اکثریت سماجی و ثقافتی یا قبائلی و خاندانی دباؤ کے تحت حق رائے دہی سے محروم ہے تو جب باپردہ خواتین کی ’’بے حجاب تصاویر‘‘ ووٹر لسٹوں میں گردش کریں گی تو عین ممکن ہے کہ ’روشن خیال و تعلیم یافتہ‘ سمجھے جانے والے معاشروں میں بھی اِس بات کو معیوب سمجھتے ہوئے بہت سے خاندان اپنے ناموں کو انتخابی فہرستوں سے منہا (delete) کروا دیں۔ عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی قومی شرح اگر اوسطاً چالیس فیصد سے کم ہے تو اِس میں اضافے کی بجائے غیرمعمولی کمی سے انتخابی عمل کی معنویت و مقصدیت پر حرف آئے گا اُور اِس سلسلے میں ’الیکشن کمیشن‘ کو برسرزمین حقائق ’سیاسی فیصلہ سازوں‘ کے سامنے نہ صرف پیش (گوش گزار) کرنے چاہیءں بلکہ سیاسی مخالفت برائے مخالفت کے تناؤ بھرے ماحول میں مختلف وسائل بالخصوص ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے قانون سازوں کو اِس بات پر قائل کرنا چاہئے کہ وہ خواتین کی ووٹر فہرستوں میں تصاویر کی اشاعت اور ان کی فراہمی (عام تشہیر) کے اپنے مؤقف سے رجوع کرتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ اختیار کریں۔ 

نئی قانون سازی کی رو سے جس کی کسی انتخابی حلقے میں خواتین کے ڈالے گئے ووٹوں کا شمار 10فیصد سے کم ہوگا‘ وہاں پولنگ کا عمل دوبارہ ہوگا لیکن کیا ’وی وی آئی پیز‘ قانون سازوں کے سامنے یہ زمینی حقائق بھی پیش کئے گئے کہ ملک کی ’ساٹھ فیصد‘ سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے جن کے لئے ’دو وقت کی روٹی‘ کا حصول ایک روزہ انتخابی عمل سے زیادہ بڑی ترجیح ہے اور جس معاشرے میں شرح خواندگی اِس لئے متاثر ہو رہی ہو کہ وہاں تعلیمی اداروں کا فاصلہ آبادی کے مراکز سے دور ہے تو وہاں کس طرح اُمید کی جا سکتی ہے کہ عام لوگ (ہم عوام) جوق در جوق‘ گھنٹوں پیدل سفر کے بعد (دور دراز) پولنگ اسٹیشنوں تک ہمراہ خواتین پہنچیں گے!؟ 

قانون کے تحت انتخابی اُمیدواروں کے لئے ٹرانسپورٹ کی فراہمی پر پابندی عائد ہے‘ انتخابی مہم پر زیادہ سے زیادہ اخراجات کی حد بھی مقرر کر دی گئی ہے اور جو خواتین اپنا چہرہ عیاں نہیں کرنا چاہتیں اُن کی تصاویر بھی مشتہر کر دی گئیں ہیں تو کیا اِس کا منفی ردعمل سامنے نہیں آئے گا؟ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے (حصہ لینے والوں) کی کم ہوتی شرح (پولنگ) فیصلہ سازوں کے لئے پریشانی کا باعث ہی نہیں۔ ووٹ بذریعہ پرچی ہو یا بائیومیٹرک تصدیق کے بعد الیکٹرانک وسائل سے‘ بہرصورت ہر ووٹر کو انتخابی عمل میں شامل کرنا اوّلین ترجیح ہونی چاہئے اور معروضی حالات‘ سماج و روایات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ’انتخابی قوانین و قواعد‘ کے بارے میں قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنا بھی الیکشن کمیشن ہی کی ذمہ داری بنتی ہے۔ الیکشن کمیشن حکام خود کو ’بے بس‘ سمجھنے کی بجائے‘ قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے جرأت مندی سے‘ ڈٹ کر اور ’باآواز بلند‘ اُن قانونی و آئینی غلطیوں (سقم) کی نشاندہی کریں‘ جن کی وجہ سے آئندہ عام انتخابات پر منفی اثرات مرتب ہونے کے واضح آثار ہیں۔
۔

Sunday, November 12, 2017

TRANSLATION: Drawing board by Dr. Farrukh Saleem

Drawing board
سفر ہے شرط!
پاکستان کو آج جن گوناگوں مسائل کا سامنا ہے‘ اُن کا خلاصہ تین وجوہات کی صورت کرنا پڑے تو ’’سیاسی کلچر‘ طرزحکمرانی اور ادارہ جاتی بدعنوانی‘‘ ذمہ دار قرار پائیں گے۔ ہمارا سیاسی کلچر موروثی اور شاہانہ ہے اور جہاں کہیں بھی اِس قسم کا سیاسی ماڈل ہوتا ہے وہاں پانچ نمایاں چیزیں ہوتی ہیں۔ انتہاء کی غربت‘ صحت و تعلیم میں کم سرمایہ کاری‘ پانی بجلی اور انصاف کی عدم فراہمی‘ سیاسی جماعتیں جن میں داخلی سطح پر جمہوریت نہیں ہوتی اور سیاست سے جڑے موروثی شاہانہ سیاستدان جو انتہاء کے مالی فوائد حاصل کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں ایسی سیاست کی داغ بیل ڈالنے کی ضرورت ہے‘ جس میں بہترین اور موزوں افراد سیاسی عمل میں حصہ لیں۔ جو کچھ سردست ہمارے پاس ہے وہ سیاست دانوں سے ہرحال میں وفاداری کا اظہار کرنے والے گروہ ہیں جو اہلیت (میرٹ) کی بجائے شاہانہ مزاج رکھنے والی موروثی سیاست سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ہمیں سیاست میں ’سوچ بچار کرنے والے ایسے اہل افراد‘ کی ضرورت ہے جو ملک و قوم کی ترقی کے تصورات کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ فلپائن کی قانون ساز اسمبلی میں ایک مسودہ قانون (نمبر 3587) زیربحث ہے‘ تاکہ ملک سے موروثی سیاست کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اِس سلسلے میں ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کے پاس قواعد و ضوابط کی صورت اختیارات ہیں جن کا استعمال کرتے ہوئے وہ ملک میں سیاسی کلچر تبدیل کرنے میں ’حسب ضرورت‘ کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔

پاکستان میں طرزحکمرانی بھی اصلاح چاہتا ہے۔ گذشتہ 47برس میں ہمارے ہاں 10مرتبہ عام انتخابات کا انعقاد ہو چکا ہے۔ حالیہ مردم شماری (2017ء) کے عبوری نتائج کے مطابق پاکستان میں تین کروڑ (30.2 ملین) خاندان ہیں جن میں سے صرف ایک ہزار ایک سو چوہتر (1,174) ایسے خاندان بھی شامل ہیں جن سے تعلق رکھنے والے افراد ہر عام انتخاب میں منتخب ہوتے آ رہے ہیں اور یہ اِن ’سیاست پر مسلط‘ اِن گیارسو چوہتر خاندانوں کی پاکستان کے قانون ساز ایوانوں قومی اسمبلی صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ پر حکمرانی ہے۔
یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ گذشتہ 47 برس میں منتخب ہونے والے ہمارے سیاست دان اقتصادی ماہر ثابت نہیں ہوئے اور اُن کے غلط فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کی اقتصادی مشکلات کم ہونے کی بجائے ہر گزرتے دن بڑھتی ہی چلی گئیں۔ یاد رہے کہ 47 برس میں منتخب ہونے والے ہمارے قانون ساز خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے۔ ہمیں ایسے پیشہ وروں اور بالخصوص متعلقہ شعبے کے ایسے ماہرین کی ضرورت ہے جو نظام اور اداروں کی اصلاح کرسکیں۔ اگرچہ سینتالیس برس میں ہم نے دس مرتبہ عام انتخابات کا تجربہ کیا لیکن اِس عرصے میں احتساب اور جمہوری حکومتوں کی عوام کے سامنے جوابدہی ممکن نہیں بنا سکے۔ عام انتخابات کے پے درپے تجربات سے ہم نے جو کچھ حاصل کیا وہ ایک تہائی جمہوریت ہے جبکہ ہماری ضرورت سوفیصد جمہوریت کی ہے کہ جس سے کچھ بھی کم ہمارے لئے کافی نہیں ہوسکتا۔

پاکستان میں احتساب کے اداروں کی کمی نہیں اور پاکستان دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جہاں انسداد بدعنوانی کا ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے۔ جن میں نیشنل اکاونٹی بیلٹی بیورو (نیب)‘ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اُور صوبائی سطح پر بھی انسداد بدعنوانی کے ادارے بھی شامل ہیں جن میں خیبرپختونخوا احتساب کمیشن‘ وفاقی محتسب‘ فیڈرل ٹیکس محتسب‘ محتسب اعلیٰ پنجاب‘ بلوچستان اور سندھ‘ بینکنگ محتسب‘ وفاقی انشورنس محتسب‘ خواتین کے خلاف ہراساں کرنے کے واقعات کے سدباب اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لئے وفاقی محتسب کا ادارہ موجود ہے۔ جب ہم ادارہ جاتی احتساب کی بات کرتے ہیں تو یہ عمل قانون سازی‘ قانون پر عمل درآمد کرنے والے اداروں (فزیکل انفراسٹکچر) اور ایک ایسی قیادت کا مجموعہ ہوتا ہے جو احتساب کو یقینی بناتے ہیں لیکن ہمارے ہاں احتساب کا عمل قانون سازی اور اداروں کی حد تک تو دکھائی دیتا ہے لیکن اِس کے عملی و بلاامتیاز اطلاق کو ممکن بنانے کے لئے قائدانہ سرپرستی (قوت ارادی) موجود نہیں۔ 

مؤثر سیاسی قیادت سے مقصود اجتماعی مفادات کا تحفظ اور سیاسی قوت ارادی ہوتی ہے۔

علوم و فنون کے ترقی یافتہ دور میں کسی بھی ملک کو عروج کی راہ پر گامزن کرنا قطعی مشکل نہیں رہا۔ ضرورت اِس امر کی ہوتی ہے کہ کسی ملک میں جمہوریت ہر سطح پر فعال ہو۔ سیاسی جماعتوں کے داخلی معاملات بھی جمہوری انداز میں طے پائیں۔ قانون سازی کرنے والوں کی ذات میں اختیارات محدود نہ ہوں۔ اقتدار صرف اور صرف اختیارات حاصل کرنے کا نام نہ رہے۔ اقتدار کرنے والے قانون و احتساب سے بالاتر نہ ہوں۔ ادارے اپنے وجود کا ثبوت عملی فعالیت سے دیں۔ 

پاکستان کے تناظر میں کیا یہ سب کچھ ممکن نہیں؟

کسی ملک کے عروج کے لئے سیاسی قوت ارادی‘ متعلقہ شعبوں کے ماہرین‘ ایک لائحہ عمل اور اُس کے اطلاق کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر پاکستان کے تناظر میں کسی ایک چیز کی کمی دکھائی دیتی ہے تو وہ ’سیاسی قوت ارادی‘ ہے۔ کیا آپ اِس سیدھے سادے نتیجۂ خیال سے اِتفاق کرتے ہیں؟ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Monday, September 11, 2017

Sept 2017: Next General Elections delayed for obvious reasons!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
وقت کم: مقابلہ سخت!
دوہزار اَٹھارہ کے عام انتخابات کا ماحول بنتا ہوا دکھائی تو دے رہا ہے لیکن آئندہ عام انتخابات مقررہ وقت پر نہیں ہو سکتے جس کی کئی ایک وجوہات صاف دکھائی دے رہی ہیں۔ 

سب سے پہلے تو مردم شماری کے نتائج پر کم و بیش سبھی سیاسی جماعتوں کے کچھ نہ کچھ تحفظات سامنے آ چکے ہیں اور ایسی صورت میں ’خانہ و مردم شماری‘ کو کس طرح تمام سیاسی جماعتوں کے لئے قابل قبول بنانا ممکن نہیں ہے اور یہ عمل کس قدر جلد مکمل ہوتا ہے‘ اِس کی رفتار آئندہ عام انتخابات کے بروقت انعقاد پر انداز ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ سپرئم کورٹ آف پاکستان (عدالت عظمیٰ) کی جانب سے واضح احکامات ہیں کہ آئندہ عام انتخابات نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہونے چاہیءں یعنی آبادی کے تناسب سے نئی حلقہ بندیاں لیکن کیا ایسا ہو پائے گا جبکہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے تحفظات پر دلیل سے بات کرنے کو تیار ہی نہیں! دوسری بڑی رکاوٹ انتخابی اصلاحات کا قانون (بل) ہے جس پر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے بڑھ کر اختلافی نکتۂ نظر رکھتی ہیں بلکہ پیپلزپارٹی کی تو کوشش ہے کہ وہ اِس قانون کی منظوری میں حصہ دار صرف اُسی صورت بنے جب کہ اُسے آئندہ سیاسی حکومت بنانے میں غیرمشروط تعاون کی یقین دہانی کرائی جائے اور مسلم لیگ نواز اِنہی انتخابی اصلاحات کے ذریعے صادق و امین پر مبنی آئین کی دو شقوں (تشریحات) باسٹھ و تریسٹھ میں تاحیات نااہلی کی شرط کا دورانیہ (سزا کی مدت) کم کرنے میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتی ہے تاکہ نوازشریف کو دوبارہ قانون ساز ایوان اور حکومت میں لایا جا سکے! 

عام اِنتخابات کو ہر سیاسی جماعت اپنے اپنے سیاسی مفادات کی عینک لگا کر دیکھ رہی ہیں اور تجربہ کار سیاسی جماعتیں رازداری سے درپردہ بھی ایسا بہت کچھ کر رہی ہیں‘ جن کی تفصیلات کے بارے میں عام آدمی (ہم عوام) کی معلومات یا تو بہت کم (سرسری ہیں) یا وہ اِسے ایک آئینی اور پیچیدہ تکنیکی مسئلہ سمجھ کر خود کو الگ رکھے ہوئے ہیں۔ چوبیس گھنٹے بول بول کر توانائی پانے والے نجی ذرائع ابلاغ بھی اگر کسی ایک موضوع پر سب سے کم روشنی ڈالتے ہیں تو وہ ہے ’انتخابی اصلاحات‘ جسے ’اندھیرے‘ میں رکھنے کے محرکات وہی ہیں‘ جو اَٹھارہویں آئینی ترمیم کی پیچھے چھپی ’’نیک نیتی‘‘ تھی اور جس میں ’الیکشن کمیشن‘ کے ادارے کو بھی نہیں بخشا گیا۔ مقام افسوس ہے کہ عام آدمی (ہم عوام) کو قانون ساز اداروں کی کارکردگی اور حقیقت کا اُس وقت پتہ چلتا ہے جب قوانین سے عملاً واسطہ پڑتا ہے۔ انتخابی عمل میں اصلاحات کا مطالبہ (تقاضا) ’تحریک انصاف‘ نے مئی دوہزارتیرہ کے عام انتخابات سے پہلے اور فوراً بعد عوام کی عدالت میں دائر کر رکھا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا موجودہ ’انتخابی اصلاحات کا قانون‘ تحریک انصاف کے اصولی مؤقف کا نتیجہ ہے تو غلط نہیں ہوگا لیکن اِس میں تحریک انصاف کی تمام تجاویز کو شامل کرکے ’سیاسی پوائنٹ سکورنگ‘ کی گئی ہے۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ مجوزہ مسودہ قانون (بل) اب ایوان بالا (سینیٹ) کے سامنے زیرغور ہے جہاں ایک پارلیمانی (ذیلی) کمیٹی برائے قانون و انصاف‘ اِس کا جائزہ لے رہی ہے اور اُمید ہے کہ مجوزہ اصلاحات میں موجود بہتری کی گنجائش کو ’ملک و قوم کا اجتماعی مفاد‘ مدنظر رکھتے ہوئے پورا کیا جائے گا لیکن ’وقت کی پابندی‘ اہم ہے کیونکہ ’الیکشن کمیشن‘ کی جانب سے پہلے ہی یہ عندیہ دے دیا گیا ہے کہ ’’اگر ایوان بالا (سینیٹ دن رات کام کرکے) انتخابی اصلاحات کی فوری منظوری نہیں دیتی تو مئی دوہزار تیرہ کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہی آئندہ عام انتخابات کا انعقاد کرانے کے بغیر کوئی صورت نہیں رہے گی! انتخابی اصلاحات کا بل قومی اسمبلی سے سینیٹ تک تو جا پہنچا ہے لیکن اگر سینیٹ اِس کی کسی ایک بھی شق میں تبدیلی کرتی ہے اور اِسے من و عن منظور نہیں کرتی تو یہ قانون واپس ’قومی اسمبلی ایوان‘ میں منظوری کے لئے پیش ہوگا‘ جس کی بناء مطالعہ اور غوروخوض کوئی بھی سیاسی جماعت منظوری دینا پسند نہیں کرے گی اور ایسا ہونے میں مزید کتنا وقت لگے گا جبکہ وقت پہلے ہی کم اور مقابلہ سخت ہے!؟

اندرون ملک کی طرح بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے انتخابی اصلاحات کی جامعیت میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ مجوزہ قانون پر تعلیمی اداروں سے لیکر علاقائی اور قومی ذرائع ابلاغ تک ہر سطح پر مباحثے (ڈائیلاگ)‘ دھاندلی کے امکانات ختم کرنے کے لئے بائیومیٹرک و انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال اور انتخابی عمل میں ماضی کی غلطیوں سے حاصل اسباق کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ آئندہ عام انتخابات وقت مقررہ پر نہیں ہوں گے‘ اِس کی دو بنیادی وجوہات میں شامل ہے کہ مردم شماری نتائج اور انتخابی اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان ’’بناء مزید تاخیر (وقت ضائع کئے بغیر)‘‘ اتفاق رائے پیدا ہو‘ جو موجودہ حالات میں نہایت ہی مشکل بلکہ ناممکن دکھائی دے رہا ہے اورپاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسی بہت ہی کم مثالیں ملتی ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں نے قومی اہمیت کے کسی مسئلے پر اپنے مفادات کی قربانی دی ہو۔ بنیادی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کی کوئی ایک سیاسی جماعت بھی اِس موقع پر عام انتخابات کے لئے تیار نظر نہیں آتی۔ 

تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا میں کارکردگی کا ثمر ابھی تیار نہیں اور صاف گو چیئرمین تو اِس بات پر شکر کا اظہار تک کرچکے ہیں کہ اُنہیں دوہزارتیرہ کے عام انتخابات میں محدود پیمانے پر کامیابی ملی۔ دوسری طرف نواز لیگ چاہتی ہے کہ وہ پانامہ کیس فیصلے کی روشنی میں ’نیب مقدمات‘ سے نمٹنے کے بعد عام انتخابات میں حصہ لے اور اُس کی کوشش ہے کہ عدالتوں سے سرخرو قرار پائے۔ پیپلزپارٹی ڈاکٹرعاصم اُور ایان علی کے مستقبل بارے زیادہ فکرمند ہے جنہوں نے اِحتساب عدالت سے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی بریت کے فیصلے کو اپنی کامیابی تو قرار دیا ہے لیکن ہرکس و ناکس کو معلوم ہے کہ اِن دنوں عدالت عظمیٰ کا مزاج برہم ہے اُور اِنصاف اگر پیپلزپارٹی کی قیادت کے قریب سے بھی گزرا‘ تو نوازشریف کی طرح وہ تاحیات نااہلی جیسی ذلت آمیز سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔ ملک کی سبھی بڑی اور ’’پریشان حال سیاسی جماعتیں‘‘ قطعی طور پر ایک ایسے وقت اور ایک ایسے ماحول میں انتخابی مہم جوئی کرنا پسند نہیں کریں گی اور نہ ہی کسی ایسے انتخابی تجربے (عمل) سے گزرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار (آمادہ) ہیں جبکہ عدالت عظمی کے ابرآلود تیور (مزاج) روز روشن کی طرح کھلی حقیقت ہے۔ 

’’منصب شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہا: ہوئی معزولئ اَنداز و اَدا میرے بعد ۔۔۔ 
آئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالبؔ : کس کے گھر جائے گا‘ سیلاب بلا میرے بعد! (میرزا اَسداللہ خان غالبؔ )۔


Friday, July 28, 2017

July 2017: The surprising element in the politics of Pakistan!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پراسرار سیاست!
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق تو نہیں دیا جارہا لیکن پاکستان کی سبھی سیاسی جماعتیں اور قومی خزانے کا انحصار ’غیرملکی پاکستانیوں‘ کی طرف سے ترسیل زر پر رہتا ہے جس سے پاکستانی کرنسی پر دباؤ کم ہوتا ہے‘ زرمبادلہ کے ذخائر معتدل رہتے ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کی جملہ سیاسی جماعتیں اپنے تنظیمی اور بالخصوص عام انتخابات کے موقع پر جملہ اخراجات پورا کرنے کے لئے ’غیرملکی پاکستانیوں‘ ہی کے سامنے دست سوال دراز (انحصار) کرتی ہیں۔ 

رواں ہفتے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 688 صفحات پر مشتمل تفصیلات عدالت کے روبرو پیش کی گئیں ہیں جو ’بیرون ملک سے وصول ہونے والے عطیات‘ سے متعلق ہیں لیکن اِن میں پارٹی بینک اکاونٹ میں آنے والی جملہ رقوم کا میزانیہ (بینک اسٹیٹمنٹ) شامل نہیں جس سے معلوم ہو سکے کہ معلوم کے علاؤہ ’نامعلوم ذرائع‘ سے کس قدر اور کتنی بڑی مقدار میں سرمایہ تحریک انصاف کو حاصل ہوا۔ پاکستان کی سبھی سیاسی جماعتیں ’پراسرار‘ طور پر کام کرتی ہیں کہ اِن کی آمدنی و اخراجات کے بارے میں آج تک پورے یقین سے کوئی بات نہیں کہی جا سکتی نہ ہی آج سے قبل اِس بارے میں ذرائع ابلاغ اور سماجی حلقوں میں یہ بحث سننے کو ملی کہ کوئی سیاسی جماعت بھی آمدنی کا ذریعہ ہو سکتی ہے! تحریک انصاف اعتراف کرتی ہے کہ اُس نے بیرون ملک سے پارٹی سرگرمیوں کے لئے باقاعدہ عطیات وصول کئے۔ دیگر سیاسی جماعتیں ایسا نہیں کرتیں کیونکہ اِس سے ’پینڈورا باکس‘ کھل جاتا ہے اور پھر یہ بھی ثابت کرنا پڑتا ہے کہ جو لوگ عطیات دے رہے ہیں اُن کی شناخت اور پاکستان کی سیاست میں دلچسپی کیا ہے اور کیوں ہے۔ 

بہت سی سیاسی جماعتیں تو خود کو فارن فنڈنگ سے الگ رکھے ہوئے ہیں اور بالخصوص نواز لیگ تو بیرون ملک کیا اندرون ملک بھی کارکنوں سے پارٹی فنڈ اکٹھا کرنے کی مہمات نہیں چلاتی اور نہ ہی اِس قسم کی ’باقاعدہ فنڈ ریزنگ‘ کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے مشکوک اور بالخصوص عام انتخابات میں سرمایہ کاری کرنے والے ’پیش پیش‘ رہتے ہیں اور رہنماؤں کے کچن اخراجات سے لیکر سیاسی سرگرمیوں کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ ہمیں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں جن میں سرمایہ دار درآمد شدہ بیش قیمت گاڑیاں اُور ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آن کی آن آمدورفت کے لئے ہیلی کاپٹر جیسی آسائش فراہم کرتے ہیں‘ ظاہر سی بات ہے کہ کاروباری شخصیات ہر ایک پائی بمعہ سود واپس وصول کرنے کی منصوبہ بندی رکھتے ہوں گے! بصورت دیگر دنیا میں ایسا کوئی شخص شاید ہی ہو جو اپنی دولت سے تنگ ہو‘ اُور اُسے یہاں وہاں یوں بانٹتا پھرے!

پاکستان میں کل 345 سیاسی جماعتیں ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کے پاس رجسٹرڈ ہیں‘ جن کی فہرست 15 صفحات پر مشتمل ہے اور کسی عام تو کیا خاص الخاص پاکستانی کے بھی ممکن نہیں ہوگا کہ وہ سوائے انگلیوں پر شمار ہونے والی چند سیاسی جماعتوں کے علاؤہ کسی دوسری سیاسی جماعت کا نام یا اُس کے سربراہ کا نام یا اُس کے منشور سے آگاہ ہو۔ تو معلوم ہوا کہ سیاست کی طرح سیاسی جماعتیں بنانا اور اِن کے معاملات چلانا بھی منافع بخش کاروبار بن چکا ہے! الیکشن کمیشن جو کہ سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن اُور اُن مالی امور کا بھی نگران ادارہ ہے اور اپنے قواعد کا بطور لازمی اطلاق ممکن بناتا ہے کی جانب سے شرط ہے کہ ہر سیاسی جماعت اپنے سالانہ حسابات سے اُسے تحریری اور حلفاً آگاہ کرے لیکن الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کے حسابات کا ’پوسٹمارٹم (جانچ پڑتال)‘ بس اس قدر ہی کرتی ہے جس سے کام چلتا رہے! 

سردست تحریک انصاف کو ’روایت شکنی‘ مہنگی پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر یہ دیگر سیاسی جماعتوں ہی کی طرح رازداری اور پراسراریت کو برقرار رکھتی تو اِس پر مشکوک ذرائع سے حاصل ہونے والی ’فارن فنڈنگ‘ کا الزام یوں عائد نہ ہوتا۔ تحریک کی آمدنی اور حسابات کو حتی الوسع شفاف رکھنے کی ضرورت و اہمیت کو سمجھتے ہوئے اِس معاملے میں ضرورت سے زیادہ حساس ہونے کی قیمت تو بہرحال ادا کرنا ہی پڑے گی لیکن اِس سے ایک اچھی عملی مثال قائم ہوگی۔ 

عدالت میں تحریک انصاف کو بیرون ملک سے حاصل ہونے والے آمدنی کا حساب دینا پڑ رہا ہے اور ممکن ہے کہ کسی مرحلے پر عدالت یہ بھی پوچھ لے کہ جو سیاسی جماعتیں اگر اندرون یا بیرون ملک سے ’آن دی ریکارڈ‘ مالی وسائل اکٹھا نہیں کر رہیں تو اُن کی آمدنی کے وسائل کیا ہیں؟ کیا بیرون ملک سے کسی سیاسی جماعت کی فنڈنگ کے بھی کچھ اصول ہیں یا اِس سلسلے میں قوانین و قواعد موجود ہیں؟ کیا صرف پاکستانی شہریت رکھنے والا کوئی شخص ہی کسی سیاسی جماعت کو چندہ یا عطیہ دے سکتا ہے؟ 

بیرون ملک سے پارٹی فنڈنگ لیتے ہوئے کیا اِس کے استعمال (مصرف) سے متعلق بھی چندہ دینے والوں کو بتایا جاتا ہے یا یہ چندہ اپنی مرضی سے خرچ کرنے کا اختیار صوابدید پر ہوتا ہے!؟ تحریک انصاف کو ’فارن فنڈنگ کیس‘ کا سامنا ہے لیکن اِس کے علاؤہ نواز لیگ بھی مشکل میں پھنسی ہوئی ہے‘ جسے ’پانامہ‘ اور ’اقامہ‘ کیسیز جیسی زیادہ سنگین الزامات کے جواب میں عدالت کو مطمئن کرنا ہے جس میں تاحال وہ کامیاب نہیں ہو سکے ہیں اور ایک ایسا فیصلہ محفوظ ہے‘ جس کا پوری قوم کو انتظار ہے۔ 27 جولائی کے روز سپرئم کورٹ نے اپنی ہفتہ وار مصروفیات کا شیڈول جاری کیا تو اُس میں پانامہ کیس کے فیصلے کا کہیں ذکر نہیں جس کا مطلب ہے کہ اگر آج 28 جولائی (بروز جمعہ) پانامہ کیس کا فیصلہ نہیں آتا اور عدالتی مصروفیات معمول کے مطابق جاری رہتی ہیں تو پھر فیصلہ 11 اگست کے بعد آئے گا۔

پانامہ کیس کی سماعت کے دوران ایک مرحلے پر یہ بات بھی زیرغور آئی کہ نواز لیگ کے سربراہ نے اپنی ہی جماعت کے اکاونٹ میں کروڑوں روپے جمع کروائے اور پھر اپنی صوابدید پر اُنہیں واپس وصول کیا۔ آمدن کا ذریعہ تحفہ تھا لیکن اِسے خرچ کرنے کی وجوہات و تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں! صاف عیاں ہے کہ پاکستان کی کسی ایک بھی سیاسی جماعت کے مالی معاملات ’حسب آئین و ضرورت‘ شفاف نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہ ’خصوصی اِختیارات‘ رکھتے ہیں کہ وہ پارٹی فنڈنگ کا اپنی صوابدید پر جس طرح اور جس قدر چاہیں استعمال کریں اور مالی یا انتظامی امور سے متعلق کوئی بھی اُن کے فیصلوں کو چیلنج نہ کرے اور نہ ہی اس متعلق سوال کیا جائے لیکن ’پوسٹ پانامہ لیکس‘ پاکستان مختلف ہے بالخصوص عدالت عظمیٰ کی جانب سے چھ رُکنی تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) کے بعد‘ مختلف حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ دہرایا جا رہا ہے کہ ’جے آئی ٹی‘ کو ایک ایسے ’مستقل اِدارے‘ کی شکل دی جائے‘ جو عدالت کے ماتحت وسائل لوٹنے اور اندرون و بیرون ملک ظاہری و پوشیدہ اثاثوں کے بارے میں تحقیقات کا عمل جاری رکھے تاکہ ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کے لئے بھی آسانی رہے کیونکہ جب تک سیاسی فیصلہ سازوں کے ’ذاتی مالی امور‘ شفاف نہیں ہوں گے اور جب تک قوانین و قواعد میں موجود سقم (خامیوں) کا فائدہ اُٹھایا جاتا رہے گا‘ اُس وقت تک سیاسی جماعتوں کے پراسرار داخلی معاملات‘ ملک سے غربت کا خاتمہ اُور قومی وسائل کا امانت ودیانت کے اصولوں پر استعمال عملاً ممکن نہیں ہو گا۔