Showing posts with label GHQ. Show all posts
Showing posts with label GHQ. Show all posts

Thursday, June 28, 2018

Jun2018: Election Engineering for July 2018 polls!

مہمان کالم:شبیرحسین امام
الیکشن انجنیئرنگ
عام انتخابات کی بہار میں نجی و سرکاری ٹیلی ویژن چینلوں پر جاری بحث کا زاویہ اور زور (focus) جن موضوعات پر ہے اُن میں حیرت انگیز طور پر مماثلت پائی جاتی ہے تو کیا یہ حسن اِتفاق ہے؟ اِس مرتبہ الیکشن کمشن کی جانب سے انتخابی حلقہ بندیاں ازسرنو مرتب کرنے کا دعوی کیا گیا ہے لیکن نئی حلقہ بندیوں کی حدود اور ماضی کی حلقہ بندیوں میں بنیادی ردوبدل کے بارے میں معلومات جاری نہیں کی جا رہیں تو کیا یہ بھی حسن اتفاق ہے؟ 

الیکشن کمشن آف پاکستان کے پاس ’جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس)‘ کے تحت مرتب شدہ جغرافیائی اعدادوشمار سے متعلق ڈیٹا‘‘ نہیں‘ کیا یہ حسن اتفاق ہی کا اعجاز ہے؟ طویل تاخیر کے بعد غیرضروری جلدبازی میں بناء ’GiS‘ مردم و خانہ شماری کرنا بھی حسن اتفاق ہے؟ بہت بڑے پیمانے پر ’اِنتخابی نتائج‘ پہلے ہی سے تیار کر لئے گئے ہیں‘ جنہیں عملی جامہ پہنانے کے لئے ’پچیس جولائی‘ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ قارئین سے التماس ہے کہ اُس بااختیار ’درپردہ قوت‘ کے بارے میں نہ پوچھیں جو اِس پوری کہانی کی تخلیق کار ہے اور اگر کوئی اپنے ذہن سے‘ اپنے رسک پر‘ نتیجہ اخذ کرنا چاہے تو دیکھ لے کہ پاکستان میں وہ طاقت کونسی ہے جس کے بارے میں اظہار خیال کرنے کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے!؟

الیکشن انجنیئرنگ کا سارا کمال ’انتخابی حلقہ بندیوں‘ میں چھپا ہوا ہے!

نئی اِنتخابی حلقہ بندیوں کے ’اَثرات بصورت نتائج‘ ظاہر ہونے کے بعد دو طرح کے ممکنہ ردعمل دیکھنے میں آئیں گے۔ عوام کی حیرانی و پریشانی ظاہر ہو سکتی ہے‘ کیونکہ بڑی تعداد میں غیرمقبول افراد منتخب ہو جائیں گے اور دوسرا ممکنہ ردعمل سیاسی جماعتوں اور نامور سیاسی کرداروں کی طرف سے ’احتجاجی تحریک‘ کی صورت دیکھنے میں آ سکتا ہے‘ جس کے بعد امن و امان کی صورتحال اِس حد تک خراب ہو جائے گی کہ (بہ امر مجبوری) چند برس یا برس ہا برس کے لئے جمہوریت معطل کر دی جائے۔ مئی 2013ء کے (دسویں) عام انتخابات اِس لحاظ سے منفرد تھے کہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابی نتائج کے بعد چاروں صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتیں اکثریتی جماعتیں بن کر سامنے آئیں۔ خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف‘ پنجاب میں مسلم لیگ نواز‘ سندھ میں پیپلز پارٹی پارلیمینٹرینز جبکہ بلوچستان میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ پاکستان میں براہِ راست انتخاب والے حلقوں کی کل تعداد 849 ہے۔ قومی اسمبلی کے 272حلقوں کی تعداد کو منہا کردیا جائے تو ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لئے‘ براہِ راست انتخابی حلقوں کی تعداد 577ہے‘ جن میں پنجاب کے 297‘ سندھ کے 130‘ خیبر پختونخوا کے 99اور بلوچستان کے 51 انتخابی حلقے شامل ہیں۔

سائنسی تجزیہ یہ ہو سکتا ہے کہ نواز لیگ نے پنجاب اسمبلی کی 297نشستوں میں سے 212 حاصل کیں جو 71فیصد تھیں۔ پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی کی 130نشستوں میں سے 70حاصل کیں جو 54فیصد تھیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے خیبر پختونخوا اسمبلی کی 99 میں سے 35 نشستیں حاصل کیں‘ جو 34فیصد تھا۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے 51میں سے 10نشستیں حاصل کیں جو 20فیصد بنتی تھیں۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پنجاب میں نواز لیگ کے مدمقابل سیاسی حریفوں کو صرف 29فیصد‘ سندھ میں پیپلز پارٹی کے مدِمقابل سیاسی حریفوں کو 46فیصد جبکہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے مدِمقابل سیاسی حریفوں کو 66فیصد ووٹ ملے تھے۔ یوں پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں (نواز لیگ‘ پییپلزپارٹی اور تحریکِ انصاف) کو صوبائی اسمبلیوں میں ملنے والی نشستوں کی تعداد سے تھا کہ نواز لیگ اپنے انتخابی ’’بیس کیمپ پنجاب‘‘ میں تینوں سیاسی جماعتوں کی نسبت زیادہ مضبوط جبکہ تحریکِ انصاف اپنے انتخابی ’’بیس کیمپ خیبر پختونخوا‘‘ میں تینوں سیاسی جماعتوں کی نسبت سب سے کمزور تھی۔ لائق توجہ ہے کہ نواز لیگ نے پنجاب میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ‘ پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں سادہ اکثریت کے ساتھ جبکہ خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کو سادہ اکثریت کے ساتھ‘ جماعت اسلامی‘ قومی وطن پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے ساتھ ’غیرفطری اتحاد‘ کرنا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ ’’عام انتخابات جولائی 2018ء‘‘ میں کیا ہونے جارہا ہے؟ 

مئی 2013ء کے مقابلے (متوقع) عام انتخابات میں سوائے تحریک انصاف ہر سیاسی جماعت خود کو مشکل میں تصور کر رہی ہے اور اِس سے زیادہ موافق (آسان) سیاسی و انتخابی حالات ’غنیمت‘ سے کم نہیں تو کیا اِسے ’حسن اتفاق‘ قرار دیا جائے!؟ نئے انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے والوں کے انتخابی کامیابی ناممکن حد تک دشوار بنا دی گئی ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آزاد اُمیدوار محدود مالی وسائل اور انتخابی تجربے کی بنیاد پر ٹھوکریں کھاتے ہوئے یہ تک معلوم نہیں کر سکیں گے کہ اُن کے حلقے کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہو رہے ہیں! 

الیکشن کمشن اگر 28 جون کو حسب اعلان انتخابی حلقہ بندیوں کے اعدادوشمار اور پولنگ مراکز کے نام جاری کر دیتا ہے تو بھی تین ہفتوں میں پولنگ اسٹیشنوں کو ڈھونڈنا اور اِس بات کا موازنہ کرنا کہ متعلقہ ووٹرز کے لئے یہ پولنگ اسٹیشن کتنے قابل رسائی (نزدیک) ہیں اور کیا پولنگ مراکز پر درج کی گئی ووٹروں کی تعداد (شمار) منطقی ہے کہ وہ مقررہ پولنگ اوقات میں اپنا ووٹ سہولت سے ڈال سکیں گے۔ یاد رہے کہ الیکشن کمشن پولنگ کے وقت پر نظرثانی کرنے کی درخواست پہلے ہی مسترد کر چکا ہے تو کہیں موسم گرما کی شدت کو نظرانداز کرتے ہوئے ووٹروں کو انتخاب نہیں بلکہ امتحان میں مبتلا کر دیا گیا ہے؟ پولنگ مراکز پر سایہ دار جگہیں‘ پینے کے صاف اور ٹھنڈے پانی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنانا ایک الگ ضرورت ہے۔ 

خیبر پختونخوا کے تناظر میں ’’تبدیلی‘‘ کا مطلب یہ بنتا ہے کہ عوام کی اکثریت ہر پانچ برس بعد ’سیاسی جماعت بدل‘ لیتی ہے اور پانچ برس بمشکل اتحادی حکومت چلانے والی ’تحریک انصاف‘ کو اگلے پانچ برس کے لئے مضبوط مینڈیٹ ملنے کی اُمید تو ہے لیکن وہ عوامی نیشنل پارٹی‘ قومی وطن پارٹی‘ جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن) اور جماعت اسلامی کی قیادت میں ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ جیسے چیلنجز کو خاطر میں نہیں لا رہی! تو اِس کی وجہ وہ ’’الیکشن انجنیئرنگ‘‘ ہے‘ جو بظاہر دکھائی نہیں دے رہی لیکن اِس کی موجودگی نہ تو ’خارج اَز امکان‘ ہے بلکہ ایک ایسی حقیقت‘ جس میں تہہ در تہہ سچائیاں چھپی ہوئی ہیں! ’’مخالف ہو گئے مرکز کے لیکن ۔۔۔ اگر ٹوٹا نہ ہم سے دائرہ تو؟ (وکاس شرما رازؔ )۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, July 5, 2015

TRANSLATION: Chessboard

Chessboard
سیاسی شطرنج
وزیراعظم نواز شریف جانتے ہیں کہ وہ سیاسی شطرنج کا کھیل دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ اِس سیاسی شطرنج کی بساط کے مہروں میں سیاسی حکومت کے مدمقابل فوج کا ادارہ بھی ہے جبکہ سیاسی حکمرانوں کے سامنے ’میثاق جمہوریت‘ کے اہداف بھی ہیں۔ یہ وہی سیاسی معاہدہ ہے جس کی رو سے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ اپنے قول و فعل سے ایسی کوئی غلطی سرزد نہیں کریں گے جس سے فوج کے ادارے کو حکومت میں آنے کا موقع یا بہانہ مل جائے اور جمہوریت کا پانسہ پلٹ جائے۔

جون کی 23 تاریخ کو وزیراعظم نے پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات کی۔ 24جون کو سابق صدر زرداری کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی اور وہ متحدہ عرب امارات میں اپنے پرآسائش محل نشین ہوگئے۔ یہ وہی وقت ہے جبکہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے ’ایف آئی اے‘ کے اختیارات میں اضافہ کیا ہے جس کے بعد وہ کسی بھی صوبے میں سماج دشمنوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کر سکیں گے۔ ان اختیارات کے ملنے کو سندھ حکومت سمجھتی ہے کہ یہ اُس کی صوبائی خودمختاری پر ایک وار ہے۔

سندھ رینجرز کے ڈائریکتر جنرل میجر جنرل بلال اکبر نے تین ہزار پانچ سو کلومیٹر پر پھیلے اُس شہر کا تقریباً کنٹرول سنبھال لیا ہے جسے ہم کراچی کے نام سے جانتے ہیں لیکن پاک فوج کا ادارہ اِس کنٹرول کو ریاستی قوانین کے تابع سیاسی حکمرانوں کے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ’ایف آئی اے‘ اور ’نیب‘ جیسے اداروں کو اپنی موجودگی کا ثبوت دینا ہے تاکہ کراچی کو منظم جرائم پیشہ عناصر کے چنگل سے ہمیشہ کے لئے نجات دلائی جا سکے۔

ملک کی سیاسی شطرنج کی بساط پر ہونے والا کھیل سب کے سامنے ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی دانست کے مطابق چال چل رہا ہے۔ سندھ کی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جو کہ سونے کی کان جیسی ہے کے مرکزی دفاتر پر 15جون کے روز سندھ رینجرز نے چھاپہ مارا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے (سندھ رینجرز) کی جانب سے اقتصادی بدعنوانوں کے خلاف یہ اپنی نوعیت کی منفرد کاروائی تھی جس سے یہ ثابت ہوا کہ رینجرز نے دیگر جرائم کے ساتھ اُس اقتصادی شہ رگ پر بھی ہاتھ ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے جرائم پیشہ تقویت حاصل کرتے ہیں۔

سولہ جون کا دن خاموشی سے گزرا۔ 17جون کو وزیراعلیٰ سندھ نے ڈائریکٹر جنرل رینجرز کو ایک خط لکھا جس میں سندھ بلڈنگ اتھارٹی کے دفتر پر چھاپہ مارنے کو اپنے اختیارت سے تجاوز قرار دیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے اس بات کو ضروری نہیں سمجھا کہ وہ وزیراعلیٰ کی طرف سے بھیجے گئے خط کا جواب دیں۔

یہ دن پیپلزپارٹی کے لئے اچھے نہیں۔ وفاقی حکومت نے کراچی الیکٹرک کے ادارے پر بھی ہاتھ ڈالا جس کا اجازت نامہ زرداری نے ابراز کو دیا تھا۔ 30جون کو ’ائر انڈس‘ نامی جہاز راں ادارے کو بھی کام کرنے سے روک دیا گیا اور یہ حکم ائرمارشل (ریٹائرڈ) محمد یوسف کی طرف سے آیا لیکن اگلے ہی ائرمارشل کو عہدے سے الگ کر دیا گیا۔ کیا سندھ حکومت کی جانب سے ماضی میں کئے گئے بہت سے دیگر معاہدے بھی خطرے میں ہیں؟

پاک فوج کے ادارے نے بہت بڑا محاذ کھول لیا ہے۔ زرداری ملک سے باہر چلے گئے ہیں جس سے دو طبقات کو غلط پیغام جا رہا ہے۔ ایک تو سیاسی حکومت اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہی اور دوسرا فوج کا ادارہ جانتا ہے کہ اُس کے پاس زیادہ وقت نہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی نہ صرف کمزور ہے بلکہ منظرنامے سے غائب بھی ہے۔ زرداری نے پیپلزپارٹی کے ساتھ وہ سب کچھ کر دیا ہے جو فوج کا ادارہ باوجود کوشش بھی تین دہائیوں میں نہیں کرسکا۔ راولپنڈی اور ملتان کے درمیان رہنے والے ووٹر جو کہ ایک سو قومی اسمبلی کی نشستوں میں پھیلے ہوئے ہیں پیپلزپارٹی سے متاثر نہیں۔ اُن کے لئے پیپلزپارٹی کا ماضی‘ اس کے قائدین کی شہادت و قربانیاں اور جیل میں بسر کیا ہوا وقت کوئی معنی نہیں رکھتا جبکہ ملتان اور رحیم یار خان کے درمیان قومی اسمبلی کی چار درجن نشستیں ہیں اور یہ خطہ ایک وقت میں پیپلزپارٹی کا گڑھ ہوا کرتا تھا لیکن یہاں بھی پیپلزپارٹی سے دلی ہمدردی رکھنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کے لئے اگر کوئی علاقہ ایسا ہے کہ جہاں وہ اپنی جماعت کے لئے ووٹ حاصل کر سکتے ہیں تو وہ سکھر اور ٹھٹھہ کے درمیان کا خطہ ہے جہاں قومی اسمبلی کی تین درجن نشستیں ہیں اور ان علاقوں کی خاص شناخت یہ ہے کہ آپ کو یہاں انتہائی زیادہ غربت اور انتہائی کم شرح خواندگی نظر آئے گی۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ پیپلزپارٹی نواز لیگ کے مقابلے ملک میں مقبولیت کی کم ترین سطح کو چھو رہی ہے۔

دریں اثناء حکومت پاکستان نے 19 مزید افراد کے ڈوب کر مر جانے کا تماشا کیا ہے یہ حادثہ جو کہ ریلوے کے ادارے کی مجرمانہ غفلت اور سو سالہ پرانے ریلوے کے ڈھانچے (انفراسٹکچر) سے استفادہ کی وجہ سے پیش آیا کوئی انوکھا نہیں۔ ہر سال ایسے ہی محرکات کی وجہ سے پیش آنے والے ٹریفک حادثات کا شکار ہونے والوں کی تعداد پانچ ہزار ہے۔ سالانہ پانچ ہزار افراد ہی دہشت گردی کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ دو ہزار ہرسال سیلاب و قدرتی آات جبکہ پندرہ سو سالانہ گرمی کی لہر اور ایک ہزار فیکٹریوں میں لگنے والی آگ کے سبب مرجاتے ہیں۔ یہ سبھی وہ ہلاکتیں ہیں جو فطری نہیں اور اگر حکومت اپنا کردار ادا کرے تو اِن اموات کو باآسانی روکا جا سکتا ہے۔

مالی سال 2015-16ء کے بجٹ میں 326 ارب روپے سیاسی حکومت (سول گورنمنٹ) چلانے کے لئے مختص کئے گئے لیکن حکومت اس قدر مالی وسائل عوام کی حادثات و دیگر غیرفطری محرکات میں اموات کے لئے مختص نہیں کر رہی اور اپنے ہی عوام کو ہر روز مرتے ہوئے دیکھ رہی ہے اور اس کے لئے قدرت کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔ اگر حکومت پاکستان کے اعمال کے لئے قدرت ہی ذمہ دار ہے اور سب کچھ قدرت ہی کی مبینہ بے رحمی کے سبب وقوع پذیر ہو رہا ہے جسے روکا نہیں جاسکتا تو پھر ایک سیاسی حکومت کے انتظامی اخراجات پر 326 ارب روپے خرچ کرنے کی ضرورت یا منطق ہی کیا ہے؟ کسی دانا کا قول ہے کہ ’’میں مزاحیہ باتیں (لطیفے) نہیں لکھتا بلکہ میں تو صرف حکومتی اقدامات پر نظر رکھتا ہوں اور اُن سے متعلق حقائق عوام کے سامنے پیش کردیتا ہوں۔‘‘

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ شبیر حسین امام )

Thursday, March 19, 2015

Mar2015: TRANSLATION Politics, Crimes & GHQ

Zardari having difficulty reading new GHQ
سیاست ‘جرائم ‘کاروبار اُور فوج حکمت عملی
پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف دیگر فوجی جرنیلوں جیسے نہیں کہ جنہیں سیاست سے لگاؤ ہو۔ اُن کے بارے میں فوج کے سابق جرنیلوں کا خیال ہے کہ وہ بناء کسی دباؤ یا سیاسی وابستگی اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ جس خاندان میں دو عدد ’نشان امتیاز‘ جیسے اعزازات ہوں وہ کسی بھی صورت عمومی سوچ رکھنے والا روایت پسند نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں جنرل راحیل شریف کی ذات میں بردباری‘ سنجیدگی‘ خاموشی‘ خوداعتمادی‘ مستقل مزاجی اور بیرونی دباؤ قبول نہ کرنے کی صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری دکھائی دیتی ہے۔

پاک فوج میں کئی ایسے سابق جرنیل ہیں جو روایت پسندی (اسٹیٹس کو) کے دلدادہ ہیں لیکن جنرل راحیل شریف مشکل فیصلے کرنے والے ایک آسان شخصیت کے مالک ہیں جنہوں نے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا آغاز کر کے نہ صرف پاکستان میں امن و امان کی داخلی صورتحال کو بہتر بنایا بلکہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر باہمی تعلقات اور خطے کی عمومی و خصوصی صورتحال میں بہتری لائی ہے۔ پاکستان اور افغانستان اُور پاکستان و امریکہ کے درمیان تعلقات جس روائتی ڈگر پر چل رہے ہیں‘ اُن میں نمایاں تبدیلی کا سہرا بھی جنرل راحیل شریف ہی کے سر جاتا ہے۔ گیارہ مارچ کے روز ملک کی سیاسی روایت پسندی اور مصلحتوں کا خاتمہ کرنا بھی جنرل راحیل شریف ہی کا کارنامہ ہے۔ کیا کراچی میں ہوئی ایک سیاسی جماعت کے خلاف کاروائی کا اِس سے قبل تصور ممکن تھا؟

کراچی کے حالات (اسٹیس کو) کا تعلق سیاست اور جرائم کے درمیان ملی بھگت اور تعاون سے ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف کراچی میں اُس روائتی طریق کا خاتمہ کیا ہے بلکہ وہ ملک گیر سطح پر سیاست و جرائم کے درمیان تعلق و تعاون ختم کرنے کی حکمت عملی بھی وضع کر لی ہے۔ کراچی کے برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ ریاست کا عمل دخل اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے تمام تروسائل کے باوجود مفلوج ہوچکے تھے۔ کراچی کی تینوں بڑی سیاسی قوتوں پاکستان پیپلزپارٹی‘ متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کا اِس ایک نکتے پر اتفاق ہے کہ حالات کی بہتری کے لئے حکومت کے پاس نہ تو خاطرخواہ صلاحیت موجود ہے اور نہ ہی وہ حملہ آوروں کے عزائم خاک میں ملاسکتی ہے۔ حکومت کی اِس غیرفعالیت کی وجہ سے مختلف سیاسی گروہوں نے اپنے آپ کو دوسروں سے محفوظ کرنے کے لئے مسلح کرنا شروع کیا اور پھر یہ مسلح گروہ سیاسی جماعتوں کا ایسا جز بن گئے جن کی طاقت کے بل بوتے پر کراچی حکومت کے ہاتھ سے نکل کر سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی میں فعال مسلح گروہوں کے ہاتھ کھلونا بن گیا۔ سیاست اور جرائم کے درمیان تمیز باقی نہیں رہی۔

اِس صورتحال میں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے بناء دباؤ و مصلحت فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا‘ جس کا یہ قطعی مقصد یا مطلب نہیں کہ یہ اِدارہ جمہوریت یا سیاسی وابستگیوں یا سرگرمیوں کے خلاف ہیں اور انہیں پسند نہیں کرتا لیکن سیاست کا جرائم کے ساتھ تعلق کسی بھی صورت مزید برداشت نہ کرنے کا اصولی فیصلہ موجودہ حالات کی اشد ضرورت تھی‘ جس سے بہتری کے آثار و نتائج برآمد ہونایقینی دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی ملک گیر جماعت ہے جس نے دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں 69 لاکھ ووٹ حاصل کئے۔ متحدہ قومی موومنٹ بھی سندھ کے شہری علاقوں میں اپنا کثیر ووٹ بینک رکھتا ہے جس نے دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں 24 لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سے وابستہ افراد کی اکثریت یہی چاہتی ہے کہ سیاست اور جرائم کے درمیان تعلق ختم ہونا چاہئے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرپرسن (صدر) آصف علی زرداری کو اِس حقیقت کا ادراک کرنا چاہئے کہ اُن کی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت سیاست و جرائم کے درمیان تعلق سے بیزار ہے اور چاہتی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوں اور اگر سیاسی جماعتیں اِس عمل کی حمایت نہیں کریں گے تو اِس سے خاطرخواہ و پائیدار نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ اس بات کے بھی امکانات موجود ہیں کہ سیاست و جرائم کے درمیان تعلق کو ختم کرنے کے ساتھ پاک فوج سیاست و کاروبار کے درمیان تفریق کرنے کے لئے بھی کاروائی کا آغاز کرے کیونکہ سیاستدانوں کو ملنے والے اختیارات سے ناجائز استفادہ کرنے کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اگر کسی کو سیاست کرنی ہے تو اُسے اپنے ذاتی و کاروباری مفادات کو الگ کرنا ہوگا اُور منتخب نمائندے کی حیثیت سے ملنے والے اختیارات اجتماعی مفادات کے لئے مختص رکھنا ہوں گے۔ کسی دانا کا قول ہے کہ ’’جرائم اور سیاست میں قدر مشترک اُور حاصل یہ ہے کہ اِن سے (کل وقتی یا جز وقتی‘ عملی یا فکری طور پر) وابستہ ہونے والے کرداروں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔‘‘
 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
Article by Dr Farrukh Saleem regarding Karachi