Showing posts with label MQM. Show all posts
Showing posts with label MQM. Show all posts

Wednesday, July 22, 2015

Jul2015: Politics of MQM

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تماشا
متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے برطانوی حکومت سے ’تادم مرگ بھوک ہڑتال‘ کرنے کی اجازت مانگی ہے اور بقول اُن کے اگر یہ اجازت مل گئی تو وہ پہلے سے جاری انتظامات کے تحت کھانا پینا ترک کر دیں گے۔ پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کی یہ ’’پہلی‘‘ ایسی بھوک ہڑتال ہو گی جس کے لئے انہوں نے کسی دوسرے ملک سے اجازت طلب کی گئی ہے! دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہمارے سیاست دانوں بالخصوص سیاسی قائدین کے تن بدن پر جس قدر تہہ در تہہ چربی پائی جاتی ہے تو اگر وہ ’تادم مرگ‘ تو کیا تاقیامت بھی کچھ نہ کھائیں تو اس سے اُن کی صحت پر کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا لیکن عوام کی یہ خوشی دیگر بہت سی مسرتوں کی طرح عارضی ثابت ہوئی کیونکہ الطاف بھائی ماضی میں بھی ایک سے زیادہ مرتبہ ایسی ہی ہڑتالوں کا اعلان کر چکے ہیں لیکن پھر موت آنے کی نوبت نہیں آنے دی گئی!

اگر کوئی یہ جاننے کا متمنی ہو کہ ’الطاف بھائی‘ نے کب کب بھوک ہڑتال کی اور کیا وہ ماضی ہی طرح اِس مرتبہ بھی بھوک ہڑتال میں اتنے ہی سنجیدہ رہے یا پھر محضشہ سرخیوں کی زینت بننے کے ماہر ہیں کیونکہ ابھی ہڑتال کا اعلان ہی ہوا تھا کہ حسب توقع کراچی میں رابطہ کمیٹی کے اراکین اور وہی جانے پہچانے کارکن نائن زیرو پر جمع ہو کر آنسو بہا بہا کر واویلا کرنے لگے! یاد رہے کہ الطاف بھائی اکیس جولائی سے قبل تین مرتبہ بھوک ہڑتال کر چکے ہیں۔ اُن کی پہلی بھوک ہڑتال 1974ء میں سامنے آئی جب وہ اکیس برس کے تھے اور جامعہ کراچی کے شعبہ ’بی فارمیسی‘ میں اُنہیں داخلہ (ایڈمیشن) نہیں دیا گیا۔ اُس وقت ’آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن‘ کا قیام ابھی عمل میں نہیں آیا تھا۔ یہ وہی تنظیم تھی جس کی ارتقائی شکل ’متحدہ قومی موومنٹ‘ کی صورت میں ابھری۔ بہرکیف پہلی بھوک ہڑتال کامیاب رہی اور الطاف بھائی کو کراچی یونیورسٹی میں ’بی ایس سی‘ کی بنیاد پر داخلہ مل گیا۔ اِس مرحلۂ فکر پر یہ بھی یاد رہے کہ مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا قیام 1978ء جبکہ بعدازاں مہاجر قومی موومنٹ کی تشکیل 1984ء میں ہوئی۔ الطاف حسین کی دوسری بھوک ہڑتال سیاسی تھی جس کی زحمت 1990ء میں فرمائی گئی جب سندھ میں ان کی جماعت کو حکمراں پیپلز پارٹی کی جانب سے مبینہ طورپر نشانہ بنایا گیا۔ الطاف بھائی کی ’تیسری بھوک ہڑتال‘ 1998ء میں ہوئی جب اُن کے پینسٹھ سالہ بھائی ناصر اُور اٹھائیس سالہ بھتیجے عارف کو کراچی میں قتل کر دیا گیا۔ یہ ہڑتال جولائی 1998ء کے دوران لندن میں کی گئی جس میں کارکن بھی شریک ہوئے۔ چوتھی بھوک ہڑتال ابھی ہوئی تو نہیں لیکن اُس کا اعلان بیس جولائی کو کرتے ہوئے کراچی میں جاری فوجی کاروائی کو یکطرفہ قرار دیا گیا ہے حالانکہ یہ کاروائی نہ تو مکمل ہوئی ہے اور نہ ہی اس کا نشانہ کوئی ایک سیاسی جماعت ہے! کہیں نہ کہیں سے بات شروع کرنا تھی اور پھر جب ایم کیو ایم خود مطالبہ کرتی رہی کہ کراچی میں فوجی آپریشن کیا جائے تو اب اُسی کو اپنے خلاف دائرہ تنگ ہوتا محسوس ہو رہا ہے!

الطاف بھائی سمیت پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین بھوک ہڑتال تو کیا چاہے اُلٹا بھی لٹک جائیں تو اِس مرتبہ پاک فوج کے اِرادے نیک ہیں اُور وہ کراچی سے سیاست و جرائم کے درمیان تعلق کو بہرصورت ختم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ یہ بات کراچی کی دوسری بڑی سیاسی جماعت پیپلزپارٹی کی قیادت نے ’بخوبی‘ اور ’بروقت‘ سمجھ لی ہے‘ جس کے قائدین دھمکیوں کے بعد متحدہ عرب امارات جا بیٹھے ہیں اور وہیں پارٹی کے اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ کس قدر شرمناک حقیقت ہے کہ روٹی کپڑا اُور ایان ۔۔۔ معاف کیجئے گا ’روٹی کپڑا اور مکان‘ دینے کا وعدہ کرنے والے دبئی سے جبکہ اپنی ذات کے لئے برطانیہ کی شہریت اُور کارکنوں کے لئے مہاجر کی حیثیت پسند کرنے والے اپنے اپنے مفادات کا تحفظ بیرون ملک سے کر رہے ہیں‘ کیا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں حکمرانی اور سیاست اِس طرح ہو رہی ہے؟ چونکہ ہمارا آئین اِس بات کی اجازت دیتا ہے کہ بیرون ملک مالی سرمایہ کاری‘ مستقل و غیرمستقل رہائش اور مفادات رکھنے والے سیاست کرنے کے اہل ہیں‘ اِس لئے ضرورت کئی ایک آئینی ترامیم کی ہے جس کے لئے اسٹیبلشمنٹ ’تحریک انصاف‘ کو کم از کم ایک مرتبہ موقع دینے (آزمانے) کا تہیہ کئے دکھائی دیتی ہے۔ سندھ سے متحدہ اور پیپلزپارٹی کا صفایا تقریبا مکمل ہو چکا ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت مرتضی بھٹو کی اہلیہ کے ہاتھ جاتے جاتے ایک مرتبہ پھر رہ گئی ہے جبکہ پنجاب میں احتساب کی زد میں کون کون آئے گا اُور ’جنگل کا بادشاہ‘ کب بھوک ہڑتال کا اِعلان کرے گا‘ یہ بات بہت جلد شہ سرخیوں کی زینت بن کر خوشگوار حیرت میں اضافے کا باعث بننے والی ہے! سوچ کا مقام نہیں تو کیا ہے کہ صاحبان علم اختلافات کا شکار ہیں۔ چند کتابچوں سے معلومات اَخذکرنے والے واعظ بن گئے ہیں۔ موسیقی کے دلدادہ خود کو مبلغ سمجھ رہے ہیں۔ قانون ساز قانون توڑ رہے ہیں۔ ماڈلز اِسمگلنگ کر رہی ہیں۔ اِسمگلرز عبادات میں مشغول دکھائی دیتے ہیں۔ مساجد میں تل دھرنے کی جگہ نہیں اور معاشرے میں اجتماعی طور پر ’عبادات کے عملی ثمرات‘ دکھائی نہیں دیتے۔ حکمرانی ظاہری نہیں بلکہ مخفی کرداروں کے ہاتھ میں ہے۔ دن دگنی ترقی کرنے والے کاروباری لوگ وہی ہیں‘ جنہوں نے دامے درہمے سخنے سیاست میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ جہاں آوے کا آوہ بگڑا ہو‘ جہاں عام آدمی (ہم عوام) کو طویل اور کبھی نہ ختم ہونے والی تعطیلات میں مشغول کر دیا گیا ہو! وہاں قومی سطح پر جاری عوام کی ’بھوک ہڑتال‘ کا دور بھی ختم ہونا چاہئے۔

Thursday, March 19, 2015

Mar2015: TRANSLATION Politics, Crimes & GHQ

Zardari having difficulty reading new GHQ
سیاست ‘جرائم ‘کاروبار اُور فوج حکمت عملی
پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف دیگر فوجی جرنیلوں جیسے نہیں کہ جنہیں سیاست سے لگاؤ ہو۔ اُن کے بارے میں فوج کے سابق جرنیلوں کا خیال ہے کہ وہ بناء کسی دباؤ یا سیاسی وابستگی اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ جس خاندان میں دو عدد ’نشان امتیاز‘ جیسے اعزازات ہوں وہ کسی بھی صورت عمومی سوچ رکھنے والا روایت پسند نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں جنرل راحیل شریف کی ذات میں بردباری‘ سنجیدگی‘ خاموشی‘ خوداعتمادی‘ مستقل مزاجی اور بیرونی دباؤ قبول نہ کرنے کی صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری دکھائی دیتی ہے۔

پاک فوج میں کئی ایسے سابق جرنیل ہیں جو روایت پسندی (اسٹیٹس کو) کے دلدادہ ہیں لیکن جنرل راحیل شریف مشکل فیصلے کرنے والے ایک آسان شخصیت کے مالک ہیں جنہوں نے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا آغاز کر کے نہ صرف پاکستان میں امن و امان کی داخلی صورتحال کو بہتر بنایا بلکہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر باہمی تعلقات اور خطے کی عمومی و خصوصی صورتحال میں بہتری لائی ہے۔ پاکستان اور افغانستان اُور پاکستان و امریکہ کے درمیان تعلقات جس روائتی ڈگر پر چل رہے ہیں‘ اُن میں نمایاں تبدیلی کا سہرا بھی جنرل راحیل شریف ہی کے سر جاتا ہے۔ گیارہ مارچ کے روز ملک کی سیاسی روایت پسندی اور مصلحتوں کا خاتمہ کرنا بھی جنرل راحیل شریف ہی کا کارنامہ ہے۔ کیا کراچی میں ہوئی ایک سیاسی جماعت کے خلاف کاروائی کا اِس سے قبل تصور ممکن تھا؟

کراچی کے حالات (اسٹیس کو) کا تعلق سیاست اور جرائم کے درمیان ملی بھگت اور تعاون سے ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف کراچی میں اُس روائتی طریق کا خاتمہ کیا ہے بلکہ وہ ملک گیر سطح پر سیاست و جرائم کے درمیان تعلق و تعاون ختم کرنے کی حکمت عملی بھی وضع کر لی ہے۔ کراچی کے برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ ریاست کا عمل دخل اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے تمام تروسائل کے باوجود مفلوج ہوچکے تھے۔ کراچی کی تینوں بڑی سیاسی قوتوں پاکستان پیپلزپارٹی‘ متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کا اِس ایک نکتے پر اتفاق ہے کہ حالات کی بہتری کے لئے حکومت کے پاس نہ تو خاطرخواہ صلاحیت موجود ہے اور نہ ہی وہ حملہ آوروں کے عزائم خاک میں ملاسکتی ہے۔ حکومت کی اِس غیرفعالیت کی وجہ سے مختلف سیاسی گروہوں نے اپنے آپ کو دوسروں سے محفوظ کرنے کے لئے مسلح کرنا شروع کیا اور پھر یہ مسلح گروہ سیاسی جماعتوں کا ایسا جز بن گئے جن کی طاقت کے بل بوتے پر کراچی حکومت کے ہاتھ سے نکل کر سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی میں فعال مسلح گروہوں کے ہاتھ کھلونا بن گیا۔ سیاست اور جرائم کے درمیان تمیز باقی نہیں رہی۔

اِس صورتحال میں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے بناء دباؤ و مصلحت فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا‘ جس کا یہ قطعی مقصد یا مطلب نہیں کہ یہ اِدارہ جمہوریت یا سیاسی وابستگیوں یا سرگرمیوں کے خلاف ہیں اور انہیں پسند نہیں کرتا لیکن سیاست کا جرائم کے ساتھ تعلق کسی بھی صورت مزید برداشت نہ کرنے کا اصولی فیصلہ موجودہ حالات کی اشد ضرورت تھی‘ جس سے بہتری کے آثار و نتائج برآمد ہونایقینی دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی ملک گیر جماعت ہے جس نے دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں 69 لاکھ ووٹ حاصل کئے۔ متحدہ قومی موومنٹ بھی سندھ کے شہری علاقوں میں اپنا کثیر ووٹ بینک رکھتا ہے جس نے دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں 24 لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سے وابستہ افراد کی اکثریت یہی چاہتی ہے کہ سیاست اور جرائم کے درمیان تعلق ختم ہونا چاہئے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرپرسن (صدر) آصف علی زرداری کو اِس حقیقت کا ادراک کرنا چاہئے کہ اُن کی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت سیاست و جرائم کے درمیان تعلق سے بیزار ہے اور چاہتی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوں اور اگر سیاسی جماعتیں اِس عمل کی حمایت نہیں کریں گے تو اِس سے خاطرخواہ و پائیدار نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ اس بات کے بھی امکانات موجود ہیں کہ سیاست و جرائم کے درمیان تعلق کو ختم کرنے کے ساتھ پاک فوج سیاست و کاروبار کے درمیان تفریق کرنے کے لئے بھی کاروائی کا آغاز کرے کیونکہ سیاستدانوں کو ملنے والے اختیارات سے ناجائز استفادہ کرنے کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اگر کسی کو سیاست کرنی ہے تو اُسے اپنے ذاتی و کاروباری مفادات کو الگ کرنا ہوگا اُور منتخب نمائندے کی حیثیت سے ملنے والے اختیارات اجتماعی مفادات کے لئے مختص رکھنا ہوں گے۔ کسی دانا کا قول ہے کہ ’’جرائم اور سیاست میں قدر مشترک اُور حاصل یہ ہے کہ اِن سے (کل وقتی یا جز وقتی‘ عملی یا فکری طور پر) وابستہ ہونے والے کرداروں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔‘‘
 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
Article by Dr Farrukh Saleem regarding Karachi

Wednesday, March 18, 2015

Mar2015: Translation Civil Military Hybrid

Is the civil-military hybrid sustainable
فوجی و سیاسی حکومت: پائیدار حل؟
پاکستان کی دس فیصد آبادی ملک کے سب سے بڑے صنعتی و تجارتی مرکز ’کراچی‘ میں آباد ہے‘ جہاں طرز حکمرانی کا ایک نیا انداز اپنایا گیا ہے جس میں پاک فوج کی تخلیق کردہ ایک حکمت عملی کے تحت ایسی انتظامیہ کو کلیدی فیصلوں کے لئے ذمہ داری سونپی گئی ہے جو سول اور فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہے اور اِس مخلوط قسم کی انتظامیہ کی سربراہی وزیراعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ کے سپرد ہے جن کے ساتھ فوج کی پانچویں کور کے کمانڈر لفٹیننٹ جنرل نوید مختار اُس کمیٹی کا حصہ ہے‘ جو اپنے فیصلوں میں باہم مشاورت کے علاؤہ سیاسی و غیرسیاسی دباؤ سے آزاد ہے۔ برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ اِس سول و فوجی طرز حکمرانی کے متعارف کرائے جانے کی وجہ سے کلیدی فیصلوں کا اختیار پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر دفتر ’بلاول ہاؤس‘ سے کراچی میں فوج کے اُس مرکزی دفتر منتقل ہو گیا ہے جہاں کورکمانڈر تشریف رکھتے ہیں۔ اِس پورے منظرنامے میں قانون ساز سندھ کی صوبائی اسمبلی کی حیثیت غیرمتعلقہ ہو گئی ہے اور صوبائی وزراء بھی اگرچہ وجود رکھتے ہیں لیکن اُنہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شریک نہیں کیا جاتا۔ ہوسکتا ہے کہ اصل حقیقت ایسا نہ ہو لیکن بظاہر سیاسی و فوجی حکام پر مشتمل خصوصی کمیٹی نگران کے طور پر کام کر رہی ہے۔

کراچی کی صورتحال ابتر ہوئے طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں (بیس برس) میں ہوئے واقعات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں‘ منظم جرائم کے گروہوں اور عسکریت پسندوں نے پاکستان کی دس فیصد آبادی کو نہ صرف نفسیاتی طور پر ایک مستقل دباؤ میں رکھا ہوا ہے بلکہ اِن عناصر کی وجہ سے پاکستان کی مجموعی قومی آمدنی کا پچیس فیصد حصہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔

بدقسمتی سے کراچی سے تعلق رکھنے والا سیاسی طبقہ بھی یہی چاہتا ہے کہ موجودہ حالات جوں کے توں (اسٹیٹس کو) برقرار رہے اور اِس میں تبدیلی نہ آئے کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا اصول بااثر اور سرمایہ دار طبقات کے لئے ہرلحاظ سے سودمند ہے۔ سیاسی و فوجی قیادت پر مبنی خصوصی اعلی سطحی کمیٹی کے قیام کا پہلا مقصد یہی تھا کہ سیاسی اشرافیہ کو یہ پیغام دے دیا جائے کہ اب سیاست اور جرائم کو ایک دوسرے سے الگ الگ کرکے جائزہ لیا جائے گا اور چاہے کوئی کردار سیاسی طور پر کتنا ہی سرگرم کیوں نہ لیکن اگر وہ جرائم میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہے تو آئین کے مطابق اُس سے معاملہ کرنے میں مزید رعائت نہیں برتی جائے گی۔

کیا سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی کمیٹی سیاست و جرائم کے درمیان اصطلاحی تمیز کو عملی طور پر الگ الگ کرتے ہوئے کامیاب ہو پائے گی؟ یا پھر سیاست و جرائم کے درمیان پایا جانے والا تانا بانا اُور تعاون جوں کا توں برقرار رہے گا؟ کراچی میں امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے لئے اِن جاری کوششوں کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوپائیں گے جبکہ دونوں قوتیں اپنی اپنی جگہ طاقتور بھی ہیں اور نہ تو کسی کے لئے فتح آسان ہوگی اور نہ ہی اُس حاکمیت سے دستبرداری کہ جس کا تعلق مالی فوائد سے بھی ہے۔

سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سربراہی وزیراعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ کو سونپی گئی ہے جو سیاست و جرائم کے درمیان تعلق کو توڑنے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے سے متعلق فیصلہ سازی میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کراچی میں رونما ہونے والے جرائم کی شرح بدستور بلند ترین سطحوں کو چھو رہی ہے۔ اِس دعوے کا ثبوت یہ ہے کہ گیارہ مارچ کو متحدہ قومی موومنٹ کے صدر دفتر ’نائن زیرو‘ اُور اُس کے اطراف میں مکانات پر اچانک چھاپہ مارا گیا جہاں سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور انتہائی مطلوب و خطرناک ملزم گرفتار ہوئے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے صدر دفتر پر چھاپے کی کاروائی کی نگرانی فوجی دستے کر رہے تھے۔ ایک سیاسی جماعت کے صدر دفتر پر اِس قسم کی کاروائی کا مطلب یہی تھا کہ سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی حکمراں کمیٹی پائیدار حل نہیں ہوگی‘ کیونکہ سیاسی متحدہ کی طرح دیگر جماعتیں بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور یہ اَمر بھی عیاں ہے کہ کراچی غیراعلانیہ طور پر فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

پاک فوج کے کراچی میں حالات کو جوں کا توں رکھنے کی روش اور روائتی طرزحکمرانی کو جاری و ساری رکھنے کی سوچ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اِن کے علاؤہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح صوبہ سندھ کے صدر مقام کراچی میں بھی فوجی عدالتیں قائم کی گئیں ہیں جو دہشت گردی جیسی وارداتوں میں ملوث کرداروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے اِس بات کا فوری فیصلہ کریں گی کہ اُن سے کیا معاملہ کیا جائے۔ اِس کے علاؤہ خصوصی اہداف کے خلاف کراچی میں ’ٹارگیٹیڈ آپریشن (فوجی کاروائیاں)‘ بھی اُسی منصوبہ بندی کا جز ہے‘ جس میں کراچی کا امن بحال کرنے کے ساتھ روشنیوں کے اِس شہر کی رونقیں اور اطمینان واپس دلانا ہے۔

پاک فوج نے ایک ایسی ذمہ داری اپنے سر لی ہے جس میں اُسے داخلی حلقوں کے علاؤہ عام آدمی کو بھی اپنی پرخلوص کوششوں کے بارے میں اطمینان دلانا ہے اور رائے عامہ ہموار رکھنی ہے جو پہلے ہی کراچی کی ہولناک صورتحال کی وجہ سے سہمی ہوئی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ کراچی میں حالات معمول پر لانے کے لئے فوج کے ادارے سے صرف بڑی توقعات ہی وابستہ نہیں بلکہ یہ توقعات انتہاؤں کو چھو رہی ہیں۔ ہم میں سے ہر کسی نے جادوگروں کو دیکھا ہے جو آن کی آن میں ٹوپی سے خرگوش نکال کر داد وصول کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کراچی کے تناظر میں‘ طرز حکمرانی کا تجربہ کس حد تک کامیاب و کامران اور جاری غیرمعمولی‘ غیرروائتی اور جادوئی عمل کس طرح نتیجہ خیز ثابت ہوگا کہ جو سب کو حیران بھی کردے اور ہر ناظر سے (جادوگر) کی طرح داد و اکرام بھی وصول پائے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔  تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
Is the civil-military hybrid sustainable article by Dr Farrukh Saleem published in The News on March 18, 2015