Is the civil-military hybrid sustainable
فوجی و سیاسی حکومت: پائیدار حل؟
فوجی و سیاسی حکومت: پائیدار حل؟
پاکستان کی دس فیصد آبادی ملک کے سب سے بڑے صنعتی و تجارتی مرکز ’کراچی‘
میں آباد ہے‘ جہاں طرز حکمرانی کا ایک نیا انداز اپنایا گیا ہے جس میں پاک
فوج کی تخلیق کردہ ایک حکمت عملی کے تحت ایسی انتظامیہ کو کلیدی فیصلوں کے
لئے ذمہ داری سونپی گئی ہے جو سول اور فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہے اور اِس
مخلوط قسم کی انتظامیہ کی سربراہی وزیراعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ کے
سپرد ہے جن کے ساتھ فوج کی پانچویں کور کے کمانڈر لفٹیننٹ جنرل نوید مختار
اُس کمیٹی کا حصہ ہے‘ جو اپنے فیصلوں میں باہم مشاورت کے علاؤہ سیاسی و
غیرسیاسی دباؤ سے آزاد ہے۔ برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ اِس سول و فوجی طرز
حکمرانی کے متعارف کرائے جانے کی وجہ سے کلیدی فیصلوں کا اختیار پاکستان
پیپلزپارٹی کے صدر دفتر ’بلاول ہاؤس‘ سے کراچی میں فوج کے اُس مرکزی دفتر
منتقل ہو گیا ہے جہاں کورکمانڈر تشریف رکھتے ہیں۔ اِس پورے منظرنامے میں
قانون ساز سندھ کی صوبائی اسمبلی کی حیثیت غیرمتعلقہ ہو گئی ہے اور صوبائی
وزراء بھی اگرچہ وجود رکھتے ہیں لیکن اُنہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شریک
نہیں کیا جاتا۔ ہوسکتا ہے کہ اصل حقیقت ایسا نہ ہو لیکن بظاہر سیاسی و فوجی
حکام پر مشتمل خصوصی کمیٹی نگران کے طور پر کام کر رہی ہے۔
کراچی کی صورتحال ابتر ہوئے طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں (بیس برس) میں ہوئے واقعات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں‘ منظم جرائم کے گروہوں اور عسکریت پسندوں نے پاکستان کی دس فیصد آبادی کو نہ صرف نفسیاتی طور پر ایک مستقل دباؤ میں رکھا ہوا ہے بلکہ اِن عناصر کی وجہ سے پاکستان کی مجموعی قومی آمدنی کا پچیس فیصد حصہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔
بدقسمتی سے کراچی سے تعلق رکھنے والا سیاسی طبقہ بھی یہی چاہتا ہے کہ موجودہ حالات جوں کے توں (اسٹیٹس کو) برقرار رہے اور اِس میں تبدیلی نہ آئے کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا اصول بااثر اور سرمایہ دار طبقات کے لئے ہرلحاظ سے سودمند ہے۔ سیاسی و فوجی قیادت پر مبنی خصوصی اعلی سطحی کمیٹی کے قیام کا پہلا مقصد یہی تھا کہ سیاسی اشرافیہ کو یہ پیغام دے دیا جائے کہ اب سیاست اور جرائم کو ایک دوسرے سے الگ الگ کرکے جائزہ لیا جائے گا اور چاہے کوئی کردار سیاسی طور پر کتنا ہی سرگرم کیوں نہ لیکن اگر وہ جرائم میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہے تو آئین کے مطابق اُس سے معاملہ کرنے میں مزید رعائت نہیں برتی جائے گی۔
کیا سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی کمیٹی سیاست و جرائم کے درمیان اصطلاحی تمیز کو عملی طور پر الگ الگ کرتے ہوئے کامیاب ہو پائے گی؟ یا پھر سیاست و جرائم کے درمیان پایا جانے والا تانا بانا اُور تعاون جوں کا توں برقرار رہے گا؟ کراچی میں امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے لئے اِن جاری کوششوں کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوپائیں گے جبکہ دونوں قوتیں اپنی اپنی جگہ طاقتور بھی ہیں اور نہ تو کسی کے لئے فتح آسان ہوگی اور نہ ہی اُس حاکمیت سے دستبرداری کہ جس کا تعلق مالی فوائد سے بھی ہے۔
سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سربراہی وزیراعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ کو سونپی گئی ہے جو سیاست و جرائم کے درمیان تعلق کو توڑنے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے سے متعلق فیصلہ سازی میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کراچی میں رونما ہونے والے جرائم کی شرح بدستور بلند ترین سطحوں کو چھو رہی ہے۔ اِس دعوے کا ثبوت یہ ہے کہ گیارہ مارچ کو متحدہ قومی موومنٹ کے صدر دفتر ’نائن زیرو‘ اُور اُس کے اطراف میں مکانات پر اچانک چھاپہ مارا گیا جہاں سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور انتہائی مطلوب و خطرناک ملزم گرفتار ہوئے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے صدر دفتر پر چھاپے کی کاروائی کی نگرانی فوجی دستے کر رہے تھے۔ ایک سیاسی جماعت کے صدر دفتر پر اِس قسم کی کاروائی کا مطلب یہی تھا کہ سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی حکمراں کمیٹی پائیدار حل نہیں ہوگی‘ کیونکہ سیاسی متحدہ کی طرح دیگر جماعتیں بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور یہ اَمر بھی عیاں ہے کہ کراچی غیراعلانیہ طور پر فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
پاک فوج کے کراچی میں حالات کو جوں کا توں رکھنے کی روش اور روائتی طرزحکمرانی کو جاری و ساری رکھنے کی سوچ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اِن کے علاؤہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح صوبہ سندھ کے صدر مقام کراچی میں بھی فوجی عدالتیں قائم کی گئیں ہیں جو دہشت گردی جیسی وارداتوں میں ملوث کرداروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے اِس بات کا فوری فیصلہ کریں گی کہ اُن سے کیا معاملہ کیا جائے۔ اِس کے علاؤہ خصوصی اہداف کے خلاف کراچی میں ’ٹارگیٹیڈ آپریشن (فوجی کاروائیاں)‘ بھی اُسی منصوبہ بندی کا جز ہے‘ جس میں کراچی کا امن بحال کرنے کے ساتھ روشنیوں کے اِس شہر کی رونقیں اور اطمینان واپس دلانا ہے۔
پاک فوج نے ایک ایسی ذمہ داری اپنے سر لی ہے جس میں اُسے داخلی حلقوں کے علاؤہ عام آدمی کو بھی اپنی پرخلوص کوششوں کے بارے میں اطمینان دلانا ہے اور رائے عامہ ہموار رکھنی ہے جو پہلے ہی کراچی کی ہولناک صورتحال کی وجہ سے سہمی ہوئی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ کراچی میں حالات معمول پر لانے کے لئے فوج کے ادارے سے صرف بڑی توقعات ہی وابستہ نہیں بلکہ یہ توقعات انتہاؤں کو چھو رہی ہیں۔ ہم میں سے ہر کسی نے جادوگروں کو دیکھا ہے جو آن کی آن میں ٹوپی سے خرگوش نکال کر داد وصول کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کراچی کے تناظر میں‘ طرز حکمرانی کا تجربہ کس حد تک کامیاب و کامران اور جاری غیرمعمولی‘ غیرروائتی اور جادوئی عمل کس طرح نتیجہ خیز ثابت ہوگا کہ جو سب کو حیران بھی کردے اور ہر ناظر سے (جادوگر) کی طرح داد و اکرام بھی وصول پائے۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
کراچی کی صورتحال ابتر ہوئے طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں (بیس برس) میں ہوئے واقعات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں‘ منظم جرائم کے گروہوں اور عسکریت پسندوں نے پاکستان کی دس فیصد آبادی کو نہ صرف نفسیاتی طور پر ایک مستقل دباؤ میں رکھا ہوا ہے بلکہ اِن عناصر کی وجہ سے پاکستان کی مجموعی قومی آمدنی کا پچیس فیصد حصہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔
بدقسمتی سے کراچی سے تعلق رکھنے والا سیاسی طبقہ بھی یہی چاہتا ہے کہ موجودہ حالات جوں کے توں (اسٹیٹس کو) برقرار رہے اور اِس میں تبدیلی نہ آئے کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا اصول بااثر اور سرمایہ دار طبقات کے لئے ہرلحاظ سے سودمند ہے۔ سیاسی و فوجی قیادت پر مبنی خصوصی اعلی سطحی کمیٹی کے قیام کا پہلا مقصد یہی تھا کہ سیاسی اشرافیہ کو یہ پیغام دے دیا جائے کہ اب سیاست اور جرائم کو ایک دوسرے سے الگ الگ کرکے جائزہ لیا جائے گا اور چاہے کوئی کردار سیاسی طور پر کتنا ہی سرگرم کیوں نہ لیکن اگر وہ جرائم میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہے تو آئین کے مطابق اُس سے معاملہ کرنے میں مزید رعائت نہیں برتی جائے گی۔
کیا سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی کمیٹی سیاست و جرائم کے درمیان اصطلاحی تمیز کو عملی طور پر الگ الگ کرتے ہوئے کامیاب ہو پائے گی؟ یا پھر سیاست و جرائم کے درمیان پایا جانے والا تانا بانا اُور تعاون جوں کا توں برقرار رہے گا؟ کراچی میں امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے لئے اِن جاری کوششوں کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوپائیں گے جبکہ دونوں قوتیں اپنی اپنی جگہ طاقتور بھی ہیں اور نہ تو کسی کے لئے فتح آسان ہوگی اور نہ ہی اُس حاکمیت سے دستبرداری کہ جس کا تعلق مالی فوائد سے بھی ہے۔
سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سربراہی وزیراعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ کو سونپی گئی ہے جو سیاست و جرائم کے درمیان تعلق کو توڑنے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے سے متعلق فیصلہ سازی میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کراچی میں رونما ہونے والے جرائم کی شرح بدستور بلند ترین سطحوں کو چھو رہی ہے۔ اِس دعوے کا ثبوت یہ ہے کہ گیارہ مارچ کو متحدہ قومی موومنٹ کے صدر دفتر ’نائن زیرو‘ اُور اُس کے اطراف میں مکانات پر اچانک چھاپہ مارا گیا جہاں سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور انتہائی مطلوب و خطرناک ملزم گرفتار ہوئے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے صدر دفتر پر چھاپے کی کاروائی کی نگرانی فوجی دستے کر رہے تھے۔ ایک سیاسی جماعت کے صدر دفتر پر اِس قسم کی کاروائی کا مطلب یہی تھا کہ سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی حکمراں کمیٹی پائیدار حل نہیں ہوگی‘ کیونکہ سیاسی متحدہ کی طرح دیگر جماعتیں بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور یہ اَمر بھی عیاں ہے کہ کراچی غیراعلانیہ طور پر فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
پاک فوج کے کراچی میں حالات کو جوں کا توں رکھنے کی روش اور روائتی طرزحکمرانی کو جاری و ساری رکھنے کی سوچ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اِن کے علاؤہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح صوبہ سندھ کے صدر مقام کراچی میں بھی فوجی عدالتیں قائم کی گئیں ہیں جو دہشت گردی جیسی وارداتوں میں ملوث کرداروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے اِس بات کا فوری فیصلہ کریں گی کہ اُن سے کیا معاملہ کیا جائے۔ اِس کے علاؤہ خصوصی اہداف کے خلاف کراچی میں ’ٹارگیٹیڈ آپریشن (فوجی کاروائیاں)‘ بھی اُسی منصوبہ بندی کا جز ہے‘ جس میں کراچی کا امن بحال کرنے کے ساتھ روشنیوں کے اِس شہر کی رونقیں اور اطمینان واپس دلانا ہے۔
پاک فوج نے ایک ایسی ذمہ داری اپنے سر لی ہے جس میں اُسے داخلی حلقوں کے علاؤہ عام آدمی کو بھی اپنی پرخلوص کوششوں کے بارے میں اطمینان دلانا ہے اور رائے عامہ ہموار رکھنی ہے جو پہلے ہی کراچی کی ہولناک صورتحال کی وجہ سے سہمی ہوئی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ کراچی میں حالات معمول پر لانے کے لئے فوج کے ادارے سے صرف بڑی توقعات ہی وابستہ نہیں بلکہ یہ توقعات انتہاؤں کو چھو رہی ہیں۔ ہم میں سے ہر کسی نے جادوگروں کو دیکھا ہے جو آن کی آن میں ٹوپی سے خرگوش نکال کر داد وصول کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کراچی کے تناظر میں‘ طرز حکمرانی کا تجربہ کس حد تک کامیاب و کامران اور جاری غیرمعمولی‘ غیرروائتی اور جادوئی عمل کس طرح نتیجہ خیز ثابت ہوگا کہ جو سب کو حیران بھی کردے اور ہر ناظر سے (جادوگر) کی طرح داد و اکرام بھی وصول پائے۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
![]() |
| Is the civil-military hybrid sustainable article by Dr Farrukh Saleem published in The News on March 18, 2015 |

No comments:
Post a Comment